حافظ صلاح الدین یوسف

1 1 1 1 1 1 1 1 1 1
حافظ صلاح الدین یوسف
    title-pages-aadabe-namaz-aur-khushu-w-khuzu-ki-ahmiyat-w-wajob-copy
    حافظ صلاح الدین یوسف

    نماز دین ِ اسلام کا   دوسرا رکن ِ عظیم ہے جوکہ بہت زیادہ اہمیت کا حامل  ہے   قرآن  وحدیث میں  نماز کو بر وقت  اور باجماعت  اداکرنے  کی  بہت زیاد ہ تلقین کی گئی ہے  نماز کی ادائیگی  اور  اس کی اہمیت اور فضلیت اس قد ر  اہم ہے   کہ  سفر وحضر  اور میدان ِجنگ اور بیماری میں بھی  نماز ادا کرنا ضروری  ہے نماز کی اہمیت  وفضیلت کے  متعلق بے شمار  احادیث ذخیرۂ  حدیث میں موجود  ہیں او ر  بیسیوں اہل  علم نے  مختلف  انداز میں اس پر  کتب تالیف کی ہیں  نماز کی ادائیگی کا طریقہ جاننا ہر مسلمان مرد وزن کےلیے  ازحد ضروری ہے  کیونکہ اللہ عزوجل کے  ہاں وہی نماز قابل قبول  ہوگی جو رسول اللہ ﷺ کے طریقے کے مطابق  ادا کی جائے گی  اسی لیے آپ ﷺ نے  فرمایا  صلو كما رأيتموني اصلي  لہذا   ہر مسلمان کےلیے  رسول للہ ﷺ کے طریقۂ نماز کو جاننا بہت ضروری  ہے ۔نماز ایک ایسی اہم عبادت  ہے کہ جس کی ادائیگی اس انداز اورطریقے سے کی جائے  کہ نماز پڑھنے والا  یہ سمجھے کہ وہ نماز میں اللہ تعالیٰ کواپنی  آنکھوں سے دیکھ رہا ہے  اوراگر یہ کیفیت پیدا نہیں ہوتی توکم از کم یہ خیال ضرور رہے کہ  اللہ تعالیٰ اسے دیکھ رہا رہے ۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ جب تم  میں سے  کوئی کھڑا نماز پڑھ رہا ہو تو درحقیقت وہ اپنے رب  سے باتیں  کررہا  ہوتاہے۔اسے  خیال رکھنا چاہیے  کہ وہ کس انداز سےباتیں کررہاہے۔‘‘ اس سے واضح ہوتا ہے کہ نماز میں خشوع او رخضوع بہت ضروری ہے ۔زیرتبصرہ کتابچہ آداب نماز اور خشوع  وخضوع کی اہمیت ‘‘  مفسر قرآن  حافظ صلاح الدین یوسف﷾نے   شیخ الاسلام امام ابن تیمیہ﷫ کےفتاویٰ کی روشنی میں  مرتب کیا ہے ۔ جووقت کی اہم ضرورت ہے۔ امید ہے یہ ان نمازیوں کےلیے جو نماز میں سستی کرتے ہیں  او رنماز کےآداب کاخیال نہیں رکھتے  بہت مفید ہوگا۔( ان شاء اللہ )اللہ تعالیٰ  اس کے مرتب اور ناشر کی اس کاوش   کوقبول فرمائے (آمین)(م۔ا)

     نوٹ:

    محدث فورم میں اس کتاب پر تبصرہ کرنے کے لیے یہاں کلک کریں

    Title Page---Islami Adaab e Muasharat
    حافظ صلاح الدین یوسف
    زیر نظر کتاب میں مولانا صلاح الدین یوسف صاحب نے اسلام کا پیش کردہ  دستور حیات سادہ اور سلیس انداز میں پیش کیا ہے تا کہ ایک معمولی پڑھا لکھا مسلمان بھی آسانی سے اس کا مطالعہ کر سکے اور سچے دل سے دینی تعلیمات پر عمل کر سکے- مصنف نے کتاب میں مستند احادیث سے اللہ رب العزت پر پکے ایمان اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی سیرت مطہرہ کی پیروی کے وہ تمام اصول یکجا کر دیے ہیں جن کی ہر مسلمان کو فوری اور اشد ضرورت ہے- کتاب کی بارہ ابواب میں تقسیم کی گئی ہے ابتدائی ابواب میں خشیت الہی اور اتباع رسول کا درس دیا گیا ہے جبکہ دیگر ابواب میں فضیلت قرآن، حسن معاشرت، اخلاق حسنہ اور  صفات المؤمن کا تذکرہ کرتے ہوئے نیکی وبدی میں امتیاز کی تعلیم کے ساتھ ساتھ حسن عمل کی تعلیم اور ترغیب پرروشنی ڈالی گئی ہے-فی الجملہ یہ کتاب مستند احادیث کی روشنی میں صحیح اسلامی زندگی کی جامع دستاویز ہے-
    pages-from-islami-khulfaa-se-mutallaq-chand-ghalat-fehmiyon-ka-azala
    حافظ صلاح الدین یوسف

    ایک نکتہ داں شخص نے کسی قدر سچ کہا ہے کہ "ہم کو صرف یہی رونا نہیں ہے کہ ہمارے زندوں کو یورپ کے زندوں نے مغلوب کر لیا ہے، بلکہ یہ رونا بھی ہے کہ ہمارے مردوں پر یورپ کے مردوں نے فتح پا لی ہے۔"ہر موقع اور ہر محل پر جب شجاعت،ہمت،غیرت،علم وفن الغرض کسی کمال کا ذکر آتا ہے تو اسلامی ناموروں کی بجائے یورپ کے ناموروں کا نام لیا جاتا ہے۔ اس کی وجہ یہ نہیں کہ قوم سے قومی حمیت کا مادہ بالکل جاتا رہا، بلکہ اس کی وجہ یہ ہے کہ جدید ےعلیم میں ابتداء سے انتہاء تک اس بات کا موقع ہی نہیں ملتا کہ اسلاف کے کارناموں سے واقفیت حاصل کی جائے۔ اس لئے جب خصائل انسانی کا ذکر آتا ہے تو خواہ مخواہ انہی لوگوں کا نام زبان پر آجاتا ہےجن کے واقعات کی آوازیں کانوں میں گونج رہی ہیں اور یہ وہی یورپ کے نامور ہیں۔ زیر تبصرہ کتاب "اسلامی خلفاء وملوک اور تاریخ اسلام سے متعلق چند غلط فہمیوں کا ازالہ" جماعت اہل حدیث کے معروف اور نامورمفسر مولف محترم مولانا حافظ صلاح الدین یوسف صاحب کی تصنیف ہے، جس میں انہوں نے اسی کمی کو پورا کرنے کی سعی مشکور کی ہے۔ مولف موصوف نے اس کتاب میں "اسلامی ریاست کے تصور" کو اجاگر کرنے اور اسلامی کے نامور حکمرانوں اور مشاہیر کی سوانح حیات کو قلم بند کرتے ہوئے ہمیں اپنے اسلاف کے نمونے کو اپنانے کی جدوجہد کی ہے۔ اللہ تعالی سے دعا ہے کہ وہ مولف کی اس محنت کو اپنی بارگاہ میں قبول فرمائے اور ان کے میزان حسنات میں اضافہ فرمائے۔ آمین(راسخ)

    title-pages-ahle-hadith-aur-ahle-taqleed-copy
    حافظ صلاح الدین یوسف

    کسی آدمی کی وہ بات ماننا،جس کی نص حجت ِشریعہ،قرآن و حدیث میں نہ ہو،نہ ہی اُس پر اجماع ہو اور نہ وہ مسئلہ اجتہادی ہو تقلید کہلاتا ہے ۔ تقلید اورعمل بالحدیث کے مباحث صدیوں پرانے ہیں ۔زمانہ قدیم سے اہل رائے اور ہل الحدیث باہمی رسہ کشی کی بنیاد ’’ تقلید‘‘ رہی ہے موجودہ دور میں بھی عوام وخواص کے درمیان مسئلہ تقلید ہی موضوعِ بحث بنا ہوا ہے۔ حالانکہ گزشتہ چند ہائیوں میں تقلیدی رجحانات کے علاوہ جذبۂ اطاعت کو بھی قدرے فروغ حاصل ہوا ہے ۔ امت کا در د رکھنے والے مصلحین نے اس موضوع پر سیر حاصل بحثیں کی ہیں ۔اور کئی کتب تصنیف کیں ہیں ۔  زیرتبصرہ کتا ب’’اہل حدیث اوراہل تقلید‘‘ مفسر قرآن حافظ صلاح الدین یوسف ﷾ کے رد تقلید کے موضوع اگست 1937ء تافروری 1974ء سولہ اقساط میں ہفت روزہ الاعتصام میں شائع ہونے والے مضامین کی کتابی صورت ہے ۔ان مضامین کی افادیت اورکئی اہل علم کےاصرار پر 1976ء میں شارح سنن نسائی شیخ الحدیث مولانا عطاء اللہ حنیف بھوجیانی ﷫ نے ان مضامین کو مرتب کروا کر کتابی صورت میں شائع کیا ۔اس مختصر سی کتاب میں مصنف کتاب نے اہل حدیث اور اہل تقلید کے نقطۂ نظر کے مابین فرق کی خوب توضیح کی ہے اور جماعت اہل حدیث اور مسلک اہل حدیث پر بے سروپا الزامات کی حقیقت کو بھی خو ب آشکار ا کیا ہے اور اہل حدیث اور مسلک اہل حدیث پر بعض اعتراضات کا دلائل کے ساتھ تنقیدی جائزہ پیش کیا ہے ۔ ۔(م۔ا)

    title-pages-ahle-hadees-ka-manhaj-aur-ihnaf-se-ikhtilaf-ki-haqiqat-o-noiyat
    حافظ صلاح الدین یوسف
    زیر تبصرہ کتاب محترم حافظ صلاح الدین یوسف اور چند دیگر صاحبانِ علم کے مضامین و مقالات کا مجموعہ ہے۔ شروع میں بطور مقدمہ مولانا حنیف ندوی کا مضمون کتاب کا حصہ بنایا ہے گیا ہے جس میں انہوں نے اہلحدیث اور ان کے مسلک کے تعارف کے حوالے سے بحث کی ہے۔ اس کے باقاعدہ مضامین کا سلسلہ شروع ہوتا ہے۔ پہلا مضمون حافظ صاحب کی وہ تحریر ہے جو انہوں نے حافظ محمد گوندلوی کی کتاب ’الاصلاح‘ کے مقدمہ کے طور پر لکھی تھی۔ اس کے بعد ’عقائد علمائے دیوبند‘ کے عنوان سے دوسرا مقالہ شروع ہوتا ہے جس میں آل دیوبند کی مشہور و معروف کتاب ’المہند علی المفند‘ میں سے ان کے بعض اعقتادات ان ہی کی زبانی بیان کیے گئے ہیں اور ساتھ ساتھ فاضلانہ تبصرہ بھی پیش کی گیا ہے۔ تیسرا مضمون ’شخصیت پرستی اور مشیخیت کے دینی و اخلاقی مفاسد‘ کے عنوان سے ہے جو دراصل ایک دیوبندی عالم دین ہی کی تحریر ہے جس میں انہوں نے نہایت اخلاص اور دردِ دل سے اپنے مشاہدات اور ان کے دینی رجحانات کا تذکرہ کیا ہے۔ چوتھا مقالہ مولانا ابراہیم میر سیالکوٹی کا شامل کیا گیا ہے جس میں مولانا نے نہایت شدو مد کے ساتھ اہل تقلید کے تقلیدی جمود کو تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔ اسی مناسبت سے مولانا عبدالرحمٰن ضیا کے مضمون کو بھی کتاب کا حصہ بنایا ہے جو اس سے قبل سہ ماہی ’نداء الجامعہ‘ میں بھی شائع ہو چکا ہے۔ سب سے آخر میں علامہ البانی کا اپنے دوست کے ساتھ ہونے والے مکالمہ ’ہم سلفی کیوں کہلائیں؟‘ کے عنوان سے شامل اشاعت ہے۔ یہ مضمون علامہ البانی کی کتاب ’سلفی منہج‘ کا بھی حصہ ہے اور یہ کتاب کتاب و سنت ڈاٹ کام پر موجود ہے۔(ع۔م)

    نوٹ:
    محدث فورم میں اس کتاب پر تبصرہ کرنے کے لیے یہاں کلک کریں
    title-pages-aik-majlas-me-3-tlaakain-aur-us-ka-shari-hal
    حافظ صلاح الدین یوسف
    خاندان اسلامی معاشرے کی ایک بنیادی اکائی شمار ہوتا ہے۔ اگر خاندان کا ادارہ مضبوط ہو گا تو اس پر قائم اسلامی معاشرہ بھی قوی اور مستحکم ہو گا اور اگر خاندان کا ادارہ ہی کمزور ہو تو اس پر قائم معاشرہ بھی کمزور ہو گا۔نکاح وطلاق خاندان کے قیام و انتشار کے دو پہلو ہیں۔ شریعت اسلامیہ میں نکاح وطلاق کے مسائل کو تفصیل سے بیان کیا گیاہے۔ پاکستان میں ا س فقہ حنفی اور اہل الحدیث کے نام سے دو مکاتب فکر پائے جاتے ہیں۔ یہ ایک امر واقعہ ہے کہ فقہ حنفی میں نکاح وطلاق کے اکثر مسائل شریعت اسلامیہ کی صریح نصوص کے خلاف تو ہیں ہی، علاوہ ازیں عقل ومنطق سے بھی بالاتر ہیں جیسا کہ بغیر ولی کے نکاح کو جائز قرار دینا، پہلے سے طے شدہ حلالہ کو جائز قرار دینا، مفقود الخبر کی بیوی کا تقریبا ایک صدی تک اپنے شوہر کا انتظار کرنا، عورت کا خاوند کے طلاق دیے بغیر خلع حاصل نہ کر سکنا اورایک مجلس کی تین طلاقوں کوتین شمار کرنا وغیرہ۔اہل الحدیث کے نزدیک ایک مجلس کی تین طلاقیں ایک ہی شمار ہوتی ہیں جبکہ حنفی مفتیان کرام  ایک مجلس کی تین طلاقوں کا حل حلالہ بتلاتے ہیں جس کے لیے کئی ایک حنفی جامعات اور دارالعلوم اپنی خدمات اس معاشرے میں پیش کر رہے ہیں ۔

    بعض حنفی علماء نے حلالہ کی اس قبیح رسم کی بجائے حنفی علماء اور عوام کو اس مسئلے میں اہل الحدیث کے مسلک پر عمل کرنے کا مشورہ دیا ہے کیونکہ وہ کتاب وسنت کے دلائل پر مبنی ہے ۔ حنفی علماء میں سے مولانا سعید احمد اکبر آبادی، مولانا عبد الحلیم قاسمی، مولانا پیر کرم شاہ ازہری اور مولانا حسین علی واں وغیرہ کاموقف یہ ہے کہ ایک مجلس کی تین طلاقوں کو ایک ہی شمار کرنا چاہیے۔ علاوہ ازیں عالم عرب کے جید علماء میں سے سید رشید رضا، شیخ جمال الدین قاسمی، ڈاکٹر وہبہ الزحیلی، ڈاکٹر یوسف القرضاوی، شیخ الأزہر محمود شلتوت اور  سید سابق مصری وغیرہ کا بھی یہی موقف ہے۔بلکہ کئی ایک مسلمان ممالک میں تو تین طلاقوں کو ایک طلاق شمار کرنے کے بارے قوانین بھی نافذ ہوئے ہیں مثلاًمصر میں ۱۹۲۹ء ، سوڈان میں ۱۹۳۵ء، اردن میں ۱۹۵۱ء، شام میں ۱۹۵۳ء، مراکش میں ۱۹۵۸ء، پاکستان میں ۱۹۶۱ء اور عراق میں ۱۹۰۹ء اس بارے کچھ قوانین نافذ ہوئے ہیں۔بعض حنفی علماء یہ دعوی کرتے ہیں کہ ایک مجلس کی تین طلاقوں کو تین ہی شمار کرنے پر اجماع ہے۔ اس اعتراض کا جواب بھی تفصیل سے اس کتاب میں دیاگیا ہے۔ یہ بات درست ہے کہ جمہور علماء کا موقف یہی رہا ہے کہ ایک مجلس کی تین طلاقیں تین ہی شمار ہوں گی لیکن صحابہ، تابعین، تبع تابعین اور ائمہ سلف کے دور میں ہر صدی میں ایسے جید علماء اور فقہاء موجود رہے ہیں جو ایک مجلس کی تین طلاقوں کوایک ہی شمار کرتے رہے ہیں۔ اس کتاب میں مولانا صلاح الدین یوسف حفظہ اللہ تعالیٰ نے نہایت خوبصورتی سے اس مسئلے کا شرعی حل اور اس پر کیے جانے والے اعتراضات کا جواب دیا ہے۔امر واقعہ یہ ہے کہ اب حنفی عوام اپنے مفتیان کرام پر چیخ رہے ہیں اور ببانگ دہل یہ کہتے نظر آتے ہیں کہ حلالے کا حل بتلانے سے بہتر ہے ہمارا سر پھوڑ دو لیکن خدا راہ ہمیں حلالے کی طرف نہ ڈالو۔ ایسے میں اس طرح کے پریشان حنفی عوام کے سامنے کتاب وسنت کی روشنی پر مبنی یہ تحقیقات رکھنی چاہییں تاکہ وہ اپنی زندگی کتاب وسنت کے مطابق کر تے ہوئے فقہی جمود پر مبنی بوجھوں سے اپنی گردنیں آزاد کروا سکیں۔
    title-pages-barat-aur-jahaiz-ka-tasawar-mafasad-aur-hall
    حافظ صلاح الدین یوسف

    عہد  رسالت اور عہد صحابہ وتابعین  ،یہ تینوں دور رسول اللہ  ﷺ کے فرمان کی رو سےخیر القرون (بہترین زمانے ) ہیں اسلام کے ان  بہترین  زمانوں میں  شادی بیاہ  کا  مسئلہ بالکل سادہ اور نہایت آسان تھا ۔رشتہ طے  ہونے کےبعد کے جب نکاح  کاپروگرام بنتا  تو تاریخ  تعین کرکے لڑکے والے گھر کے چند افراد کو ساتھ لے کر لڑکی  والوں  کے گھر جاتے اورنکاح پڑھ کر  لڑکی کو اپنے گھر لے آتے ۔ اس کے لیے  نہ برات کا کوئی سلسلہ تھا اور نہ جہیز ،بری اور  زیورات کا  اور نہ دیگر تکلفات ۔ اس سے نہ لڑکے والوں پر کوئی  بوجھ پڑتا اور نہ لڑکی والوں پر ۔دونو ہی سکھی رہتے۔ یہی اسلامی  تعلیمات اور اسوۂ رسول کا تقاضا  تھا جس پر خیر القرون  کےمسلمانوں نے عمل کر کے دنیا  کو اسلامی  تمدن ومعاشرت کا بہترین نمونہ دکھلایا اور اپنی عظمت کا سکہ منوایا۔آج اس کےبرعکس ہم اپنے  اسلام اوراس کی تعلیمات سے دور ہوگئے   تو  ہماری عظمت بھی ایک قصہ پارینہ بن گئی ہے  اور رسوم ورواج کی وہ بیڑیاں بھی ہم نے اپنے  گلوں  کا ہار بنا لی ہیں جن کو ہمارے پیارے  نبیﷺ نے  کاٹ کر پھینک دیا تھا ۔نتیجۃً ہماری شادیاں  بھی ایک عذاب بن  گئی ہیں  ۔زیر نظر ’’کتابچہ  ‘‘بارات اور جہیز کا تصور مفاسد اور حل‘‘ مفسر قرآن   مولانا  حافظ صلاح الدین یوسف ﷾ کی  مذکورہ موضوع پر نہایت عمدہ تحریر ہے جس میں انہوں نے     دور حاضر میں  شادی نکاح کے مواقع  پر پائے  جانے  والے  رسم ورواج  بالخصوص  بارات  اور جہیز کے نقصانات اور ان  کی شرعی حیثیت کو قرآن  وحدیث کی روشنی میں  واضح کیا ہے ۔ جوکہ تمام اہل اسلام کے لیے     انتہائی مفید اور قابل مطالعہ  اور ایک دوسرے کو  بطور تحفہ  دینے  کےلائق ہے  ۔تاکہ  اس سے  معاشرہ     میں  رواج پا جانے  والے  رسم ورواج کا خاتمہ ہوسکے  او ر شادی بیاہ کی تقریبات   کو    سنت نبوی کے مطابق  ادا کیا جاسکے ۔اللہ تعالی حافظ  صاحب کی اس کاوش کو  قبول فرمائے  اور  اسے لوگوں کی اصلاح کا ذریعہ بنائے (آمین) (م۔ا)

     نوٹ:

    محدث فورم میں اس کتاب پر تبصرہ کرنے کے لیے یہاں کلک کریں

    pages-from-tehreek-e-jihad-jamat-ahle-hadees-aur-ulma-e-ahnaf
    حافظ صلاح الدین یوسف

    دار العلوم دیو بند اور اس کے فیض یافتگان کی علمی ودینی خدمات برصغیر پاک وہند کی تاریخ کا ایک اہم باب ہےاور ان دوائر میں اپنے مخصوص فقہی نقطہ نظر کے مطابق انہوں نے جو کام کئے ہیں،اختلاف کے باوجود ان سے مجال انکار نہیں ہے۔لیکن تعلیمی ،تدریسی،تبلیغی اور تصنیفی خدمات کا دائرہ قومی وسیاسی خدمات سے مختلف ہے۔ضروری نہیں کہ تعلیم وتدریس اور تبلیغ سے شغف اور وابستگی رکھنے والا سیاست کا مرد میدان بھی ہو۔افسوسناک بات یہ ہے کہ وابستگان دیو بند نے اپنے اکابر کی سوانح وخدمات بیان کرنے میں اسی غلطی کا ارتکاب کیا ہے۔انہوں نے یہ سمجھ لیا ہے کہ جن تک وہ اپنے اکابر کو میدان سیاست کا رستم وسہراب ثابت نہ کر دیں ،ان کی علمی عظمت اور تاریخی اہمیت ثابت نہیں ہو سکتی ہے۔لہذا انہوں نے تاریخ نگاری کی بجائے تاریخ سازی کا راستہ اختیار کیا اور متعدد ایسے فضائل اپنے نام کرنے کی کوشش کی جن کا ان کے ساتھ دور کا بھی واسطہ نہیں ہے۔ زیر تبصرہ کتاب " تحریک جہاد ،جماعت اہل حدیث اور علمائے احناف " جماعت اہل حدیث کے معروف عالم دین، عظیم مفسر قرآن اور انٹر نیشنل مکتبہ دار السلام کے شعبہ تحقیق کے مدیر محترم مولانا حافظ صلاح الدین یوسف﷾ کی تصنیف ہے ۔جس میں انہوں نے دیوبندی اہل قلم کے افتراءات والزامات اور ان کی تاریخ سازی کی حقیقت سے پردہ اٹھایا ہے اور دلائل کے ساتھ ثابت کیا ہے کہ تحریک جہاد میں سب سے زیادہ حصہ ڈالنے والے اہل حدیث علماء کرام تھے ،جنہوں نے سب سے زیادہ قربانیاں پیش کیں اور تختہ دار پر جھول گئے۔(راسخ)

    title-pages-tarjuma-w-tafseer-teeswan-para
    حافظ صلاح الدین یوسف
    قرآن حکیم سرچشمہ رشدوہدایت اور منبع خیر وبرکت ہے،یوں تو دینی راہنمائی ،دین اسلام کی حقانیت ،توحیدکے بیان اور کفر و شرک کے ابطال کےلیے پورا قرآن ہی مجسم ہدایت ہے،لیکن عقائد کی اصلاح، جنت کی ترغیب ،روز قیامت کی ہولناکیوں اور جہنم سے ترہیب تیسویں پارے میں زیادہ بیان ہوئی ہے ۔نیزاس پارہ میں تزکیہ نفس اور اصلاح نفس پر زیادہ زور دیا گیاہے ۔اختصاروجامعیت کے اعتبار سے بھی یہ پارہ خاص اہمیت کا حامل ہے ،اس اہمیت کے پیش نظر ادارہ دار السلام نے اس پارہ کو الگ جلد میں شائع کیاہے تاکہ عوام الناس میں قرآن پڑھنے کاذوق اجاگر ہو اور وہ قرآنی تعلیمات سے کما حقہ بہرہ مند ہوسکیں۔(ف۔ر)

    نوٹ:
    محدث فورم میں اس کتاب پر تبصرہ کرنے کے لیے یہاں کلک کریں

    copy-of-title-pages-tafseer-ahsan-ul-biyan
    حافظ صلاح الدین یوسف
    امت مسلمہ کی ذلت ورسوائی کا ایک بڑا سبب ،صب تصریح حدیث پاک ،قرآن حکیم سے منہ موڑنا ہے ۔اگر کچھ لوگ قرآن پڑھتے بھی ہیں تو اس کے معانی ومفاہیم سے بے خبر ہیں۔ضرورت ہے کہ ہر مسلمان خدا کی آخری کتاب کو سمجھنے کو شش کرے ۔اس کے لیے کسی ایسی مختصر تفسیر کی ضرورت تھی جس کا مطالعہ آسان ہو اور اس کی عبارت عام فہم ہو۔اس ضرورت کو ’تفسیر احسن البیان‘نے بہ خوبی پورا کیا ہے ۔یہ معروف عالم دین جناب حافظ صلاح الدین یوسف کی تفسیر ہے۔جس میں منہج سلف کے مطابق قرآنی مطالب کی تشریح کی گئی ہے۔اسی بناء پر سعودی حکومت اسے شائع کر کے حجاج کرام میں تقسیم کرتی ہے ۔زیر نظر نسخہ بھی سعودیہ کا چھپا ہوا ہے ۔خدا کرے کہ مسلمان قرآن کی طرف لوٹ آئیں تاکہ فلاح وکامرانی ان کا مقدر بن سکے۔(ط۔ا)

    title-pages-tafseer-ahsanul-bayan-tafseer-makki
    حافظ صلاح الدین یوسف

    امت مسلمہ کی ذلت ورسوائی کا ایک بڑا سبب ،صب تصریح حدیث پاک ،قرآن حکیم سے منہ موڑنا ہے ۔اگر کچھ لوگ قرآن پڑھتے بھی ہیں تو اس کے معانی ومفاہیم سے بے خبر ہیں۔ضرورت ہے کہ ہر مسلمان خدا کی آخری کتاب کو سمجھنے کو شش کرے ۔اس کے لیے کسی ایسی مختصر تفسیر کی ضرورت تھی جس کا مطالعہ آسان ہو اور اس کی عبارت عام فہم ہو۔اس ضرورت کو 'تفسیر احسن البیان'نے بہ خوبی پورا کیا ہے ۔یہ معروف عالم دین جناب حافظ صلاح الدین یوسف کی تفسیر ہے۔جس میں منہج سلف کے مطابق قرآنی مطالب کی تشریح کی گئی ہے۔اسی بناء پر سعودی حکومت اسے شائع کر کے حجاج کرام میں تقسیم کرتی ہے ۔زیر نظر نسخہ بھی سعودیہ کا چھپا ہوا ہے ۔خدا کرے کہ مسلمان قرآن کی طرف لوٹ آئیں تاکہ فلاح وکامرانی ان کا مقدر بن سکے۔(ط۔ا)

     

    title-pages-tafseer-ahsan-al-kalaam-arbi-urdu-english
    حافظ صلاح الدین یوسف
    عرصہ دراز سے اس بات کی ضرورت محسوس کی جا رہی تھی کہ قرآن مجید کا انگریزی اور اردو زبان میں اکٹھا ترجمے کا ایڈیشن شائع کیا جائے۔ ادارہ دارالسلام نے اس سلسلہ میں زیر نظر ’تفسیر احسن الکلام‘ کی صورت میں ایک مستحسن قدم اٹھایا ہے۔ انگریزی میں اس مختصر ترجمہ و حواشی کی تکمیل کی سعادت ’دی نوبل قرآن‘ کے نام سے اللہ تعالیٰ نے ڈاکٹر تقی الدین الھلالیؒ اور ڈاکٹر محمد محسن خاں کو عطا فرمائی ہے جو اس وقت دنیا بھر میں مستند اور مقبول ترین ترجمہ ہے۔ ’احسن الکلام‘ انھیں انگریزی حواشی کا آسان اور عام فہم اردو ترجمہ ہے جسے الامام محمد بن سعود الاسلامیہ ریاض کے ایک فاضل ڈاکٹر محمد امین نے مکمل کیا۔ اردو زبان میں سلیس اور رواں ترجمے کی اہم ترین اور گرانبار ذمہ داری محترم حافظ صلاح الدین یوسف اور مولانا محمد عبدالجبارنے انجام دی ہے۔ ادارہ دارالسلام نے ان دونوں تراجم اور حواشی کو اکٹھا شائع کرنے کی سعادت حاصل کی ہے جس پر ادارہ ہدیہ تبریک کا مستحق ہے۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ مسلمان قرآن کریم کو حرزِ جان بنائیں اور اس کے معانی و مفاہیم کو سمجھ کر اپنی زندگی میں لاگو کرنے کی کوشش کریں۔(ع۔م)

    نوٹ:
    محدث فورم میں اس کتاب پر تبصرہ کرنے کے لیے یہاں کلک کریں
    pages-from-tafseer-soorat-ul-faateha
    حافظ صلاح الدین یوسف

    سورۂ فاتحہ قرآن مجید کی پہلی اور مضامین کے اعتبار سے جامع ترین سورۃ ہے جو پورے قرآن مجید کا مقدمہ ،تمہید اور خلاصہ ہے ۔ اس سورت کی عربی اور اردو میں کئی ایک تفسیریں الگ سے شائع ہوچکی ہیں۔ زیر تبصرہ تفسیر سورۂ فاتحہ مفسر قرآن حافظ صلاح الدین یوسف﷾ کی اس سورت کی تفصیلی تفسیر ہے ۔ حافظ صاحب کی مرقوم جامع اور مختصر تفسیر ’’احسن البیان‘‘ کے قبول عام پر   حافظ صاحب کے مقربین نے محسوس کیا کہ انہیں قرآن مجید کی ایک تفصیلی تفسیر بھی لکھنی چاہیے تو حافظ صاحب نے سورۂ فاتحہ کے بعد سورۂ بقرہ کی تفسیر شروع کی ہی تھی کہ یہ کام دیگر علمی مصروفیات کے باعث رک گیا۔اللہ تعالیٰ حافظ صاحب کواسے پایۂ تکمیل تک پہنچانے کی توفیق واسباب عنایت کردے ۔(آمین)حافظ   صاحب نے سورۃ الفاتحہ کے تفسیر ی نکات صحیح احادیث کی روشنی میں شرح وبسط کےساتھ بیان کیے ہیں۔ ان کا استدلال بہت دلنشیں ہے ۔یہ تفسیر اس تفسیر سورۃ الفاتحہ سے الگ ایک نئی تفسیر ہے جو تفسیر’’ احسن البیان ‘‘ میں شامل ہے یہ تفسیرخاص وعام بالخصوص طلبہ ،علماء اور واعظین کےلیے   بے حد مفید ہے (م۔ا)

    title-pages-toheed-aur-shirk-ki-haqeeqat
    حافظ صلاح الدین یوسف
    خدا وند عالم نے اپنی آخری کتاب میں شرک کو ظلم عظیم قرار دیا ہے ۔آج کلمہ مسلمانوں کی ایک بڑی تعداد اس ظلم کی مرتکب ہو رہی ہے ۔اس کی ایک وجہ تو  یہ ہے کہ عوام الناس دینی تعلیمات کے حوالے سے جہالت او رلاعلمی کا شکار ہیں وہ جانتے ہی نہیں ہیں کہ دین کیا اور اس کی اصل حقیقت کیا ہے ؟توحید کیا اور اس کے تقاضے کیا ہیں؟شرک کیا اور کن کن باتوں میں  شرک کی آمیزش ہے ؟اور ان کے ارتکاب سے آدمی مشرک ہو جاتا ہے؟دوسری وجہ ،ان کے نام نہاد علما کے وہ مغالطے ہیں،جن کے ذریعے سے انہوں نے عوام کو مختلف عنوانات سے شرکیہ عقائد و اعمال میں مبتلا کیا ہوا ہے ۔کبھی اسے ’عشق رسول‘اور ’محبت اولیاء‘ کا عنوان دیا جاتا ہے اور کبھی شرک کو صرف پتھر کی مورتیوں کے ساتھ مخصوص کر دیا جاتا ہے اور کبھی یہ کہہ دیا جاتا ہے کہ مسلمان سے شرک کا ارتکاب ہی نہیں ہو سکتا۔زیر نظر کتاب  میں توحید اور شرک کے حوالے سے مختلف مغالطوں کی حقیقت کو واضح کیا گیا ہے،جس سے انسان شرک سے بچ کر جادہ توحید پر گامزن ہو سکتا ہے ۔لہذا ہر مسلمان کو اس کتاب کا مطالعہ کرنا چاہیے ۔

    pages-from-haqooq-ul-aulaad
    حافظ صلاح الدین یوسف

    انسان چونکہ اشرف المخلوقات اور کائنات میں اللہ تعالیٰ کا نائب ہے۔ اس لیے اسے بہت سے فرائض سونپے گئے ہیں۔ ان میں اولاد کی تربیت سب سے اہم فریضہ ہے۔ اللہ رب العزت قیامت کےدن اولاد سےوالدین کے متعلق سوال کرنے سےپہلے والدین سےاولاد کےمتعلق سوال کرے گا۔ کیونکہ جس طرح والدین کے اولاد پر حقوق ہیں اسی طرح اولاد کےوالدین پر حقوق ہیں اور جیسے اللہ تعالیٰ نے ہمیں والدین کےساتھ نیکی کرنے کا حکم دیا ہے ایسے ہی اس نے ہمیں اولاد کےساتھ احسان کرنے کا بھی حکم دیا ہے ۔اولاد کی اچھی تربیت میں کوتاہی کے بہت سنگین نتائج سامنے آتے ہیں ۔شیر خوارگی سےلڑکپن اور جوانی کےمراحل میں اسے مکمل رہنمائی اور تربیت درکار ہوتی ہےاس تربیت کا آغاز والدین کی   اپنی ذات سے ہوتاہے۔اولادکے لیے پاک اور حلال غذا کی فراہمی والدین کے ذمے ہے ۔ یہ تب ہی ممکن ہے جب وہ رزقِ حلال کمائیں۔والدین جھوٹ بولنے کےعادی ہیں تو بچہ بھی جھوٹ بولے گا۔ والدین کی خرابیاں نہ صرف ظاہری طور پر بچے کی شخصیت پر اثر انداز ہوتی ہیں بلکہ باطنی طور پر یہ خرابیاں اس کےاندر رچ بس جاتی ہیں۔ والدین کےجسم میں گردش کرنے والےخون میں اگر حرام ،جھوٹ، فریب، حسد، اور دوسری خرابیوں کےجراثیم موجود ہیں تویہ جراثیم بچے کوبھی وراثت میں ملیں گے۔بچوں کے ساتھ احسان اور ان کی بہترین تربیت کرنا دراصل امانت صحیح طریقے سے ادا کرنا ہے اورانکو آزاد چھوڑنا اور ان کے حقوق میں کوتاہی کرنا دھوکہ اور خیانت ہے۔ کتاب وسنت کے دلائل میں اس بات کا واضح حکم ہے کہ اولاد کے ساتھ احسان کیا جائے ۔ ان کی امانت کوادا کیا جائے ، ان کوآزاد چھوڑنے اوران کےحقوق میں کتاہیوں سے بچا جائے ۔کیونکہ اللہ تعالیٰ کی بے شمار نعمتوں میں سے ایک بہت بڑی نعمت اولاد بھی ہے ۔ اور اس بات میں کوشک نہیں کہ اگر اولاد کی صحیح تربیت کی جائے تو وہ آنکھوں کا نور اور دل کا سرور بھی ہوتی ہے۔ لیکن اگر اولاد بگڑ جائے اور اس کی صحیح تربیت نہ کی جائے تو وہی اولاد آزمائش بن جاتی ہے۔ زیر تبصرہ کتاب ’’ حقوق الاولاد‘‘ مفسر قرآن حافظ صلاح الدین یوسف﷾ کی اولاد کی اچھی تربیت کے حوالے سے اہم تصنیف ہے۔ اس کتاب میں اولاد کے حقوق کے حوالے سے مکمل رہنمائی فراہم کی گئی ہے۔والدین اس مختصر کتاب کا مطالعہ کریں ان شاء بہت مفید ثابت ہوگی۔(م۔ا)

    pages-from-haqooq-ul-zaujain
    حافظ صلاح الدین یوسف

    آج ہر شخص پریشان ہے کسی کوسکون میسر نہیں ۔ اس کی وجہ محض یہ ہے کہ ہم اپنے مسائل حل کرنے کے لیے دین قیم سے رہنمائی کی روشنی نہیں لیتے بلکہ ان مادہ پرست لوگوں کے ٹمٹماتے چراغوں کے گردیدہ ہیں جو اسلام کے دشمن اور مسلمانوں کے قاتل ہیں۔ اگر ہمیں اپنے موجودہ مصائب ومکروہات سے نجات پانی ہے اور ترقی کی شاہراہ پر آگے برھنا ہے تو ہمیں صرف قرآن وسنت ہی کے دار الشفاء سے وابستہ ہونا پڑے گا۔ اسلام نے فرد اور معاشرے کی اصلاح ، استحکام، فلاح وبہبود اورامن وسکون کےلیے ہر شخص کے حقوق وفرائض مقرر کردیے ہیں۔اسلام کے بیان کردہ حقوق وفرائض میں سے ایک مسئلہ حقوق الزوجین کا ہے ۔ اسلام کی رو سے شادی چونکہ ایک ذمہ داری کانام ہےاس لیے شادی کےبعد خاوند پر بیوی اور بیوی پر خاوند کے کچھ حقوق عائد ہوتے ہیں جنہیں پورا کرنا دونوں پر فرض ہے ۔ میاں بیوی ایک دوسرے کالباس ہیں ایک دوسرے کی عزت ہیں ایک کی عزت میں کمی دونوں کےلیے نقصان کا باعث ہے ہمارا دین ہمیں یہی سکھاتا ہے۔زوجین اگر دینی تعلیمات کے مطابق ایک دوسرے کےحقوق خوش دلی سے پور ے کرنے لگیں تونہ صرف بہت سےمفسدات اور خرابیوں کا خاتمہ ہوجائے گا بلکہ ہمارا معاشرہ سکون وطمانیت کی پیاسی مادہ پرست دنیا کے لیےبھی امید اورآرام کی سبق آموز بشارت بن جائے ۔حقوق الزوجین کےسلسلے میں قرآن وسنت میں واضح احکام موجود ہیں اور اس موضوع پر کئی اہل علم نے مستقل کتب بھی تصنیف کی ہیں۔ زیر تبصرہ کتابچہ ’’حقوق الزوجین‘‘ دینی کتب کے طباعت کے عالمی ادارے دارالسلام کی طرف سے شائع شدہ حقوق سیریز میں ایک ہے جسے مفسر قرآن جناب مولانا حافظ صلاح الدین یوسف ﷾ نے بڑے احسن انداز سے مرتب کیا ۔ایک شوہر ہونے کےناطے بیوی پر اس کے کیا حقوق ہیں ؟ ایک بیوی کی صورت میں شوہر پر اس کے کیا حقوق ہیں؟ اللہ اوراس کے رسولﷺً نےانہیں کیاحقوق دیے ہیں۔ان تمام سوالوں کے جواب قرآن وحدیث کی روشنی میں اس کتاب میں موجود ہیں ۔ اللہ تعالیٰ اس کتاب کو عوام الناس کےلیے نفع بخش بنائے اور مصنف موصوف کی تمام تحقیقی وتصنیفی،دعوتی وتبلیغی خدمات کو قبول فرمائے۔ آمین(م۔ا)

    title-pages-haqooq-ul-ibaad
    حافظ صلاح الدین یوسف
    آج کے دور میں کوئی ایسا بھی ہے جسے کسی دوسرے سے گلہ نہ ہو، کوئی رنجش  یا شکایت نہ ہو۔ ان شکووں سے رشتوں کی مضبوط دیواروں میں دراڑیں پڑ رہی  ہیں۔باہمی تعلق کے گلستان اجڑ رہے ہیں، بندھن کمزور ہو رہے ہیں۔ رویوں میں سرد مہری کی برف جمتی جارہی ہے۔ پیشانیاں شکنوں سے بھرتی جارہی ہیں۔آپ نے کبھی یہ جاننے کی کوشش کی کہ آخر ان ساری کیفیات کا سبب کیا ہے؟ محبت کی مٹھاس کی جگہ تلخی کا زہر کیوں رگوں میں اتر رہا ہے؟  خوشیاں بانٹنے والے اب دکھ کا باعث کیوں بن رہے ہیں؟اگر معاشرے پر غور کریں تو ایسے تمام معاملات کی ایک ہی بڑی وجہ سامنے آتی ہے۔اور وہ  ہے کہ کسی  کے حق کی ادئیگی نہ کرنا  یا کسی کا حق چھین لینا۔کیونکہ آج کے دور میں یہ فلسفہ ہر کسی کےذہن میں جگہ بنا چکا ہے کہ دوسروں کا حق دینا نہیں اور اپنا حق چھوڑنا نہیں۔یہی فساد کی بنیادی جڑ ہے۔ تاہم  باہمی حقوق و فرائض کا شعوری فقدان  بھی  اس طرح کے مسائل کو جنم دیتا ہے۔زیرنظر کتاب میں حقوق و فرائض کا  تعارف اور تعین کیا گیا ہے۔تاکہ شعور و آگاہی کی راہ ہموار ہوسکے۔(ع۔ح)

    نوٹ:
    محدث فورم میں اس کتاب پر تبصرہ کرنے کے لیے یہاں کلک کریں
    pages-from-haqooqullah
    حافظ صلاح الدین یوسف

    اللہ نے ہمیں پیدا کیا ،بے شمار نعمتیں دیں ہمیں زندگی گزارنے کاسلیقہ سکھایا،احکام دیے تاکہ ہم زندگی کو صراط مستقیم پر چلاسکیں ان احکام پر عمل کرنا ہم پر اللہ کا حق ہے اورانہیں ہی حقوق اللہ کہا جاتا ہے۔ اللہ کے ان حکام کوصحیح طریقے سے اور بھرپور انداز میں ماننے کانام ہی بندگی ہے ۔ بندگی کاسلیقہ ہمیں تب ہی آسکتا ہےجب ہم یہ جانیں کے حقوق اللہ کیا ہیں اور ان کو کیسے پورا کیاجاسکتا ہے۔ زیر تبصرہ کتابچہ’’حقوق اللہ ‘‘ مفسر قرآن جناب حافظ صلاح الدین یوسف﷾ کی مرتب شدہ ہے۔ ا س میں انہوں نے حقوق اللہ کو عام فہم آسان انداز میں مختصر پیش کیاہے۔ حقوق اللہ کی معرفت اور اس کے تقاضوں کوسمجھنے کے لیے اس کتاب میں   مکمل رہنمائی موجود ہے ۔اللہ تعالیٰ اس کتاب کو عوام الناس کےلیے نفع بخش بنائے اور مصنف موصوف کی تمام تحقیقی وتصنیفی،دعوتی وتبلیغی خدمات کو قبول فرمائے۔ آمین(م۔ا)

    title-pages-haqooq-al-walidainhafiz-salahuddin-yousaf-copy
    حافظ صلاح الدین یوسف

    حقوق العباد میں سے سب سے مقدم حق والدین کا  ہے ۔  اور یہ  اتنا اہم حق ہے  کہ اللہ تعالیٰ نے اپنے  حق ِعبادت کے جس حق ذکر کیا ہے وہ والدین کا حق ہے ۔والدین کا حق یہ کہ ان کے ساتھ حسنِ سلوک کیا جائے  ان کا  مکمل ادب واحترم کیا جائے  ،نیکی اور بھلائی کے کاموں میں ان کی اطاعت  وفرنبرداری کی جائے اور ہمیشہ ان کے سامنے سرتسلیم خم کیا جائے ۔ قرآں وحدیث سے یہ بات بہت واضح ہو کر سامنے آتی ہے  کہ والدین سے حسنِ سلوک سے رزق میں فراوانی اور عمر میں زیادتی ہوتی ہے ۔ جب کہ والدین کی نافرمانی کرنے والا او ران کے ساتھ حسن سلوک سے پیش نہ آنے والا اللہ کی رحمت سے دور ہوجاتا ہے اور بالآخر جہنم کا ایندھن بن جاتاہے ۔ اللہ تعالیٰ کی عبادت واطاعت کے ساتھ ،والدین سے حسن سلوک نہ کرنے والے سے  اللہ تعالیٰ ناراض ہوتا ہے  اور یہ ناراضگی اس کی دنیا  اور آخرت دونوں برباد کردیتی ہے ۔ اس لیے  یہ انتہائی ضروری ہے کہ اہم والدین کے حقوق کا پورا پورا خیال رکھیں ۔اس معاملے میں  قرآن وسنت سے ہمیں جو رہنمائی ملتی ہے اس  کی روشنی میں اپنے  رویوں کودرست اور کردار کی تعمیر کریں۔ زیر نظر کتابچہ ’’حقوق الوالدین‘‘ مفسر قرآن  مولانا حافظ صلاح یوسف ﷾ کی  اسی موضوع پر ایک رہنما تحریر ہے۔ جس میں  انہوں نے  بڑے احسن انداز میں والدین کے حقوق  کو  پیش کیا ہے ۔  موضوع کی اہمیت کے پیش نظر دارالسلام سٹوڈیو نے اس کتاب کو آڈیو کیسٹ اور سی ڈی کی صورت میں  بھی پیش کیا ہے ۔ اللہ تعالیٰ اس  کتاب کو عوام الناس کے لیے نفع بخش بنائے ۔ اور ہمیں  اپنے والدین کی عزت واحترم کرنے اور ان کے  حقوق  ادا کرنے والابنائے (آمین) (م۔ا)

    pages-from-haqooq-e-mardaan-haqooq-e-niswaan
    حافظ صلاح الدین یوسف

    اللہ تعالیٰ نے عورت کو معظم بنایا لیکن قدیم جاہلیت نے عورت کو جس پستی   کے گھڑے میں پھینک دیا اور جدید جاہلیت نے اسے آزادی کا لالچ دے کر جس ذلت سے دو چار کیا وہ کسی سے ڈھکا چھپا نہیں ہے ایک طرف قدیم جاہلیت نے اسے زندگی کے حق سے محروم کیا تو جدید جاہلیت نے اسے زندگی کے ہر میدان میں دوش بدوش چلنے کی ترغیب دی اور اسے گھر کی چار دیواری سے نکال کر شمع محفل بنادیا۔ جاہل انسانوں نےاسے لہب ولعب کاکھلونا بنا دیا اس کی بدترین توہین کی اور اس پر ظلم وستم کی انتہا کردی تاریخ کے اوراق سے پتہ چلتاہے کہ ہر عہد میں عورت کیسے کیسے مصائب و مکروہات جھیلتی رہی اور کتنی بے دردی سے کیسی کیسی پستیوں میں پھینک دی گئی اور عورت اپنی عزت ووقار کھو بیٹھی آزادی کے نام پر غلامی کا شکار ہوگئی۔ ۔ لیکن جب اسلام کا ابرِ رحمت برسا توعورت کی حیثیت یکدم بدل گئی ۔محسن انسانیت جناب رسول اللہ ﷺ نے انسانی سماج پر احسان ِعظیم فرمایا عورتوں کو ظلم، بے حیائی ، رسوائی اور تباہی کے گڑھے سے نکالا انہیں تحفظ بخشا ان کے حقوق اجاگر کیے ماں،بہن، بیوی اور بیٹی کی حیثیت سےان کےفرائض بتلائے اورانہیں شمع خانہ بناکر عزت واحترام کی سب سےاونچی مسند پر فائز کردیااور عورت و مرد کے شرعی احکامات کو تفصیل سے بیان کردیا ۔آج مغربی اقوام بھی عورت کی غلام بنام آزادی سے تنگ آچکی ہیں۔ کیونکہ مغربی تمدن میں اس بے جا آزادی کے نتائج، زنا کاری اور بے حیائی کی شکل میں ظاہر ہورہے ہیں افسو س اس بات کا ہے کہ مسلمان عورت بھی آج اسی آزادی کے حصول کی کوشش میں سرگرداں نظر آتی ہے جبکہ اسلام قرآن کے ذریعے اس کا قرآن وحدیث کے لیے اس کا مقام ، حیثیت اور حقوق وفرائض متعین کرتا ہے۔ زیر تبصرہ کتاب ’’حقوق مرداں حقوق نسواں‘‘ مفسر قرآن مصنف کتب کثیرہ حافظ صلاح الدین یوسف﷾ کی تصنیف ہے۔ حافظ صاحب نےاس کتاب میں اسلام کے عورت اور مرد کے لیے متعین حقوق کے موضوع پر بہت اعلیٰ تحقیق پیش کی ہے اور حقوق نسواں اور حقوق مرداں کے حوالے سے پیش آمدہ ایک ایک پہلو پر دلائل و براہین سے مزین سیر حاصل اور تشفی بخش بحث کی ہے۔ کتاب کی ایک نمایاں اور امتیازی بات حالیہ دنوں پنجاب اسمبلی میں پیش ہونے والے ’’تحفظ نسواں بل‘‘ پر بھی نقد وتجزیہ شامل ہے۔ نیز محدث العصر فضیلۃ الشیخ علامہ عبداللہ ناصر رحمانی ﷾ نے کتاب پر ایک جامع اور جاندار مقدمہ تحریر کر کے اس کی افادیت کومزید چار چاند لگادیے ہیں۔ اس کتاب کامطالعہ مرد وعورت دونوں کے لیے نہایت ضروری ہے تاکہ ہرایک اپنے ذمے واجب حقوق کی ادائیگی میں کسی طرح کے پس وپیش سے کام نہ لے۔ اور وہ حقوق ادا کر کے اپنے گھر، معاشرے کو خوشیوں کا گہوارہ بنائے اوراپنے لیے ذخیر آخرت جمع کرے۔ نیز اس کتاب کے مطالعہ سےمغربی افکار کے اسیر افراد کے فکری سلاسل بھی کھلیں گے اور مرد و خواتین کے اسلامی احکام سے متعلق اٹھنے والے اعتراضات کی بھی بیخ کنی ہوگی اور مغرب زدہ لوگوں کا اٹھایا ہوا وہ گردوغبار کافور ہوجائے گا جو اسلامی تعلیمات سے لاعلمی وبے خبری کے نتیجے میں پھیلا ہوا ہے۔ اللہ تعالیٰ محترم حافظ صاحب کی صحت وعافیت سے نوازے اور ان کی تحقیقی وتصنیفی، دعوتی اور صحافتی خدمات کو شرف قبولیت سےنوازے۔ (آمین)(م۔ا)

    title-pages-haqoq-w-fraiz-pur-aman-aur-khoubsorat-muasher-ki-bunyad
    حافظ صلاح الدین یوسف
    ہمارے معاشرے کے بگاڑ کا اصل سبب یہ ہے کہ ہر شخص صرف اپنے نفع و نقصان کا ترازو تھامے بیٹھا ہے جس کے نتیجے میں دوسروں کے حقوق پامال ہو رہے ہیں او راپنے فرائض سے غفلت برتی جارہی ہے ۔جب تک یہ صورت حال نہیں بدلتی اور تمام حقداروں کے حقوق بخیر و خوبی ادا کرنے کا احساس پیدا نہیں ہوتا ،معاشرے کی حالت اعتدال پر نہیں آئے گی۔مفسر قرآن حافظ صلاح الدین صاحب یوسف نے  زیر نظر کتاب میں اسی بات کو اجاگر کیا ہے ۔حافظ صاحب موصوف نے حقوق اللہ ،حقوق الوالدین،حقوق الزوجین،حقوق الاولاد اور حقوق العباد کے زیر عنوان ہر فرد کے  حقوق و فرائض کو کتاب وسنت کی روشنی میں بیان کیا ہے ۔اہل اسلام کو اس کتاب کا مطالعہ لازماً کرنا چاہیے تاکہ اپنے فرائض اور دوسروں کے حقوق سے آگاہی ہو سکے اور ایک خوبصورت اور پر امن معاشرے کی بنیاد رکھی جا سکے۔

    title-page-khilafat-o-malokiyat
    حافظ صلاح الدین یوسف

    ملوکیت یعنی بادشاہت کے معائب و نقائص اور اس کی ہلاکت خیزیوں کو ابھار کر، جمہوریت کا "الحمرا" تعمیر کرنےوالوں میں ایک نام مودودی صاحب کا بھی ہے۔ جسے انہوں نے "خلافت و ملوکیت" نامی کتاب لکھ کر خوب واضح کیا ہے۔ جس میں مودودی صاحب نے پہلے تو تاریخی روایات کے متفرق جزئی واقعات کو چن چن کر جمع کیا ، پھر انہیں مربوط فلسفہ بنا کر پیش کیا، جزئیات سے کلیات کو اخذ کر لیا اور پھر ان پر ایسے جلی اور چبھتے ہوئے عنوانات صحابہ کرام کی طرف منسوب کر کے جما دئے کہ جنہیں آج کی صدی کا فاسق ترین شخص بھی اپنی طرف منسوب کرنا پسند نہ کرے۔ یہ نہ تو دین و ملت کی کوئی خدمت ہے، نہ اسے اسلامی تاریخ کا صحیح مطالعہ کہا جا سکتا ہے۔ البتہ اسے تاریخ سازی کہنا بجا ہوگا۔ یہ بات طے ہے کہ جو حضرات اپنے خیال میں بڑی نیک نیتی، اخلاص اور بقول ان کے وقت کے اہم ترین تقاضوں کو پورا کرنے کے لئے قبائح صحابہ کو ایک مرتب فلسفہ کی شکل میں پیش کرتے ہیں اور اسے "تحقیق" کا نام دیتے ہیں، انہیں اس کا احساس ہو یا نہ ہو لیکن واقعہ یہ ہے کہ اس تسویدِ اوراق کا انجام اس کے سوا کچھ نہیں کہ جدید نسل کو دین کے نام پر دین سے بیزار کر دیا جائے۔ اور ہر ایرے غیرے کو صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین پر تنقید کی کھلی چھٹی دے دی جائے۔

    مودودی صاحب کی اس کتاب نے صحابیت کے قصر رفیع میں جو نقب زنی کی ہے خصوصاً حضرت عثمان و معاویہ رضی اللہ عنہم کا جو کردار اس کتاب میں پیش کیا گیا ہے، وہ لائق مذمت ہے۔ ان کی اس کتاب کی تردید میں اگرچہ  متعدد کتابیں اور مضامین شائع ہو چکے ہیں لیکن حافظ صلاح الدین یوسف صاحب کی زیر تبصرہ کاوش بعض حیثیتوں سے انفرادیت کی حامل ہے۔ ایک تو اس کتاب میں مودودی صاحب کے اس مؤقف کا نہایت تفصیلی رد ہے۔ حتی کہ کتاب کے آخر میں موجود ضمیمہ کا بھی جواب فاضل مصنف نے دیا ہے۔ دوسرے اکثر مقامات پر مودودی صاحب کا موقف ان کے اپنے الفاظ میں بیان کر کے اس کا ضعف واضح کیا گیا ہے۔ جس سے طرفین کے دلائل قاری کے سامنے خوب نکھر کر آ جاتے ہیں اور اسے حق بات پہچاننے میں دشواری نہیں ہوتی۔ مودودی صاحب کی کتاب سے جو جو غلط فہمیاں عوام الناس میں پھیل سکتی تھیں، اس کتاب میں ان سب کا باحوالہ، نہایت مفصل اور مدلل رد کیا گیا ہے۔

    pages-from-khawateen-key-imtiazi-masael
    حافظ صلاح الدین یوسف

    اللہ تعالی نے عورت کو معظم بنایا لیکن جاہل انسانوں نےاسے لہب ولعب کاکھلونا بنا دیا اس کی بدترین توہین کی اور اس پر ظلم وستم کی انتہا کردی تاریخ کے اوراق سے پتہ چلتاہے کہ ہر عہد میں عورت کیسے کیسے مصائب ومکروہات جھیلتی رہی اور کتنی بے دردی سے کیسی کیسی پستیوں میں پھینک دی گئی لیکن جب اسلام کا ابرِ رحمت برسا توعورت کی حیثیت یکدم بدل گئی ۔محسن انسانیت جناب رسول اللہ ﷺ نے انسانی سماج پر احسان ِعظیم فرمایا عورتوں کو ظلم ،بے حیائی ، رسوائی اور تباہی کے گڑھے سے نکالا انہیں تحفظ بخشا ان کے حقوق اجاگر کیے ماں،بہن، بیوی اور بیٹی کی حیثیت سےان کےفرائض بتلائے اورانہیں شمع خانہ بناکر عزت واحترام کی سب سےاونچی مسند پر فائز کردیااور عورت و مرد کے شرعی احکامات کو تفصیل سے بیان کردیا ۔اور چودہ صدیاں پہلے خاتم النبیین ﷺ نےعورتوں کے حقوق اوراحترام کے تحفظ کا جو چارٹر عطا، اس کےبغیر ہم ان کے سماجی اورمعاشرتی ربتے میں اضافہ نہیں کرسکتے۔ شریعت نے عورتوں کی صنفی اورمعاشرتی حیثیت کی مناسبت سےان کےجو امتیازی مسائل بیان کیے ہیں۔ ان میں بہت سے حکمتیں اور فوائد شامل ہیں۔ زیر تبصرہ کتاب ’’خواتین کے امتیازی مسائل‘‘ممتاز دینی مفکر مفسر قرآن محترم حافظ صلاح الدین یوسف﷾ کی تصنیف ہے۔عبادت، وراثت، شہادت اور نکاح وطلاق کے علاوہ دیگر مسائل پر عورتوں کےامتیازی حقوق کےسلسلے یہ بلند پایہ تحقیقی کتاب ہے۔ یہ کتاب ایک طرف اسلام کےمعاشرتی نظام میں عورت کی اہمیت اورعظمت پر روشنی ڈالتی ہے اوردوسری طرف ان کےمسائل پر شریعت کی حکمت وافادیت بھی واضح کرتی ہے۔ اس کےبرعکس مغربی تہذیب نے عورت کو جس طرح رُسوا کیا ہے وہ کوئی ڈھکی چھپی بات نہیں ۔ ہم سب کی فلاح اسلام کےدامن میں ہے ہمیں مغربی تہذیب کو یکسر خیر باد کہہ دینا چاہیے اوراسلام کی فلاحی تعلیمات کےمطابق زندگی بسر کرنی چاہیے۔ یہ کتاب اسی دعوت کی آئینہ دار ہے ۔اس کے مطالعہ وعمل سے ہماری محترم خواتین تعظیم وتکریم کی اونچی سے اونچی مسند پر فائز ہوسکتی ہیں ۔یہ کتاب اگرچہ پہلے بھی ویب سائٹ پر موجود تھی ۔لیکن اس ایڈیشن میں حافظ صاحب نے مزید اضافہ جات کیے ہیں اس لیے اسے بھی پبلش کردیا گیا ہے۔ اللہ تعالیٰ حافظ کو صحت وعافیت سے نوازے اوران کی تحقیقی وتصنیفی، صحافتی اوردعوتی خدمات کو شرفِ قبولیت بخشے (آمین)( م۔ا)

    title-page-rusoomat-e-muharramul-haraam-aur-saniha-karbala
    حافظ صلاح الدین یوسف
    نواسہ رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی شہادت ایک عظیم سانحہ ہے جس کی مذمت بہرآئینہ ضروری ہے۔ لیکن اس بنیاد پر ماتم، سینہ کوبی اور سب و شتم کا بازار گرم کرنے کی بھی کسی طور تائید نہیں کی جا سکتی۔ زیر نظر کتاب میں شیخ محترم حافظ صلاح الدین یوسف صاحب نے محرم الحرام کی رسومات کا تفصیلی تذکرہ کرتے ہوئے غیر جانبداری سے سانحہ کربلا پربالدلائل اپنی قیمتی آراء کا اظہار کیا ہے۔ حافظ صاحب نے شیعی رسومات کی تاریخ ایجاد و آغاز پر روشنی ڈالتے ہوئے یزید پر سب و شتم کے مسئلہ کو بھی بڑے احسن انداز سے قلم زد کیا ہے اور ثابت کیا ہے کہ شہادت حسین میں یزید کسی بھی حوالے سے  ملوث نہیں تھے۔ فاضل مؤلف نے نہایت عرق ریزی کے ساتھ سانحہ کربلا کے اسباب سے نقاب کشائی کرنے کے ساتھ ساتھ واقعات شہادت میں مبالغہ آمیزی کی بھی قلعی کھولی ہے۔
    title-pages-ramzan-ul-mubarak-fazai-fawaid-w-samrat-ahkamo-masail-aur-krne-wale-kam
    حافظ صلاح الدین یوسف
    تزکیہ نفس اور تسویہ باطن تمام مذاہب و ادیان کا مقصد  و مدعا رہا ہے۔اسلام نے ایک مکمل ضابطہء حیات ہونے کے باعث اس مقصد کے لیے اذکار و عبادات کا ایک مکمل اور اعلیٰ و ارفع نظام پیش کیا ہے۔یوں تو تمام اسلامی عبادات خالق  و مخلوق کے درمیان ایک مستحکم اور پائیدار رابطہ قائم کرتی ہیں مگر ان میں جو مقام و فضیلت رمضان المبارک کے حوالے سے روزے کو حاصل ہے ۔وہ ایک خصوصی تذکرے کے لائق ہے۔ قرآن مجید میں روزے کو حصول تقویٰ کا ذریعہ بتایاگیا  ہے۔یہ وہ عبادت ہے جو اس مقصد کے لیے سابقہ انبیاء کے زمانہ نبوت میں بھی فرض کی گئی تھی۔اور رمضان المبارک کا ماہ مقدس  نزول قرآن کا مہینہ ہے۔اس کا مقصد انسان کے اندر بہیمی خصائل کو دبا کر ان کی جگہ روحانی و ربانی صفات نشو ونما دینا ہے۔ان  ایام کی گئی نیکی  ستر گناہ زیادہ درجہ رکھتی ہے۔حافظ صلاح الدین یوسف صاحب زمانہ حاضر کے مشہور و معروف قلمکار  ہیں ۔آپ کے قلم میں اللہ تعالیٰ نے سلاست ، وانی اورشگفتگی رکھی ہے ۔ وہ جس موضوع پر بھی قلم اٹھاتے ہیں حتی الوسع اس کا حق ادا کرنے کوشش کرتے ہیں۔ایسے ہی انہوں نے رمضان المبارک کے حوالے کچھ رشحات قلم رقم فرمائے جنہیں دارالسلام نے اشاعتی مراحل سے گزارا۔اور  مصنف موصوف نے بھر پور سعی فرمائی ہے کہ موضوع کے حوالے سے تمام پہلوؤں کا کماحقہ احاطہ ہو جائے۔اللہ ان کی زندگی و آخرت بہتر بنائے۔آمین-(ع۔ح)

    نوٹ:
    محدث فورم میں اس کتاب پر تبصرہ کرنے کے لیے یہاں کلک کریں
    pages-from-zakaat-ushar-aur-sadqatul-fitar
    حافظ صلاح الدین یوسف

    دینِ اسلام کا جمال وکمال یہ ہے کہ یہ ایسے ارکان واحکام پر مشتمل ہے جن کا تعلق ایک طرف خالق ِکائنات اور دوسری جانب مخلوق کےساتھ استوار کیا گیا ہے یعنی اسلام کےپانچ ارکان میں یہ ایک ایسا رکن اور فریضہ ہے جس کا تعلق حقوق اللہ اور حقوق العباد سے ہے ۔ دین فرد کی انفرادیت کا تحفظ کرتے ہوئے اجتماعی زندگی کوہر حال میں قائم رکھنے کاحکم دیتاہے۔اس کے بنیادی ارکان میں کوئی ایسا رکن نہیں جس میں انفرادیت کے ساتھ اجتماعی زندگی کو فراموش کیا گیا ہو ۔انہی بینادی ارکان ِخمسہ میں سے ایک اہم رکن زکوٰۃ ہے۔عربی زبان میں لفظ ’’زکاۃ‘‘ پاکیزگی ،بڑھوتری اور برکت کے معنوں میں استعمال ہوتا ہے۔جبکہ شریعت میں زکاۃ ایک مخصوص مال کے مخصوص حصہ کو کہا جاتا ہے جو مخصوص لوگوں کو دیا جاتا ہے ۔اور اسے   زکاۃ اس لیے کہاجاتا ہے کہ اس سے دینے والے کا تزکیہ نفس ہوتا ہے اور اس کا مال پاک اور بابرکت ہوجاتا ہے۔ نماز کے بعد دین اسلام کا اہم ترین حکم ادائیگی زکاۃ ہے ۔اس کی ادائیگی فر ض ہے اور   دینِ اسلام کے ان پانچ بنیادی ارکان میں سے ایک ہے جن پر دین قائم ہے۔زکاۃ ادا کرنےکے بے شمار فوائد اور ادا نہ کرنے کے نقصانات ہیں ۔قرآن مجید اور احادیث نبویہ میں تفصیل سے اس کے احکام ومسائل بیان ہوئے ۔جو شخص اس کی فرضیت سےانکار کرے وہ یقینا کافر اور واجب القتل ہے ۔یہی وجہ کہ خلیفہ اول حضرت ابو بکر صدیق﷜ نے مانعین ِزکاۃ کے خلاف اعلان جنگ کیا۔اور جو شخص زکاۃ کی فرضیت کا تو قائل ہو لیکن اسے ادا نہ کرتا ہو اسے درد ناک عذاب میں مبتلا کیا جائے گا۔جس کی وضاحت سورہ توبہ کی ایت 34۔35 اور صحیح بخاری شریف کی حدیث نمبر1403 میں موجود ہے ۔ اردو عربی زبان میں زکوٰۃ کے احکام ومسائل کےحوالے سے بیسیوں کتب موجود ہیں۔ زیرتبصرہ کتاب ’’ زکٰوۃ، عشر اور صدقۃ الفطر فضائل واحکام ‘‘ مولانا حافظ صلاح الدین یوسف ﷾ کی تصنیف ہے ۔ جس میں انہوں نے زکاۃ کے تمام ضروری مسائل کی وضاحت قرآن وحدیث کی روشنی میں پیش کرنےکی کوشش کی ہے ۔ کیونکہ اس تعبدی حیثیت کا تقاضا ہے کہ اس کی ادائیگی میں اللہ ورسول کے احکام وہدایات کوملحوظ رکھا جائے۔ تو دوسری طرف اس کے ان پہلوؤں کو نمایاں کیاگیا ہے جن کےذریعے سےزکوٰۃ کے معاشی ومعاشرتی فوائد سامنے آسکیں او رمعاشرے کے ضرورت مند افراد کی فلاح وبہود کےلیےاس زیاد ہ سے زیادہ کام لیاجا سکے ۔اس کےعلاوہ اس کتاب میں ان تمام پہلوؤں کو بھی اجاگر کیاگیا ہے جو علماء کےلیے بھی قابل غور وفکر ہیں ۔ اللہ تعالیٰ اس کتاب کو عوام الناس کےلیے نفع بخش بنائے اور مصنف موصوف کی تمام تحقیقی وتصنیفی،دعوتی وتبلیغی خدمات کو قبول فرمائے۔ آمین(م۔ا)

    pages-from-shadi-biyaah
    حافظ صلاح الدین یوسف

    شادی کی تقریبات میں ولیمہ ایک ایسا عمل ہے جو مسنون ہے۔یعنی نبی کریم ﷺ نے اس کاحکم دیا ہے ۔اور آپ نے خودبھی اپنی شادیوں کا ولیمہ کیا ہے ۔ اس کا سب سے بڑا مقصد اللہ کا شکر ادا کرنا ہے کہ اللہ نے زندگی کےایک نہایت اہم اور نئے موڑ پر مدد فرمائی اور اسے ایک ایسا رفیق حیات اور رفیق سفر دیا جو اس کے لیے تفریح طبع اور تسکین خاطر کاباعث بھی ہوگا او رزندگی کے نشیب وفراز میں اس کاہم دم اورہم درد اور مددگار بھی۔دعوت ولیمہ جب سنت ہے دنیاوی رسم نہیں تو اسے کرنا بھی اسی طرح چاہیے جس میں اسلامی ہدایات سے انحراف نہ ہو جب کہ ہمارے ہاں اس کےبرعکس ولیمہ بھی اس طرح کیا جاتا ہے کہ وہ بھی شادی بیاہ کی دیگر رسموں کی طرح بہت سی خرابیوں کامجموعہ بن کر رہ گیا۔ زیر تبصرہ کتابچہ ’’شادی بیاہ‘‘ نامور عالم دین مفسر قران مولانا حافظ صلاح الدین یوسف﷾ کی ایک اہم تحریری کاوش ہے جس میں انہوں نےولیمہ کامسنون طریقے کو بیان کر کے غیرمسنون طریقوں کی بھی نشاندہی کی ہے اور اسی طرح شادی کے سلسلے میں ہمارے معاشرے میں پائے جانے والے بعض غیر ضروری امور اور رسومات کو بیان کیا ہے۔ اللہ تعالیٰ کتابچہ کو عوام الناس کی اصلاح کاذریعہ بنائے۔ آمین (م۔ا)

    title-pages-azmat-e-hadith
    حافظ صلاح الدین یوسف

    قرآن کے بغیر دین اسلام کے علم کاتصور محال ہے ۔ اسی طرح شارح قرآن کے بغیر قرآن کا علم حاصل نہیں ہوسکتا۔اسی لیے صحابۂ کرام ﷢ نے قرآن وحدیث میں کوئی فرق روا نہیں رکھا ۔ ان نفوس قدسیہ کے نزدیک نہ صرف دونوں واجب الاطاعت تھے بلکہ انہوں نے عملاً یہ ثابت کردیا کہ ان کے نزدیک احادیث ِاحکام قرآن ہی کا تسلسل تھیں۔رسول اللہ ﷺ نے اپنے ان فیصلوں کو جو قرآن کریم میں منصوص نہیں کتاب اللہ کے فیصلے قرار دیا ۔زیر نظر کتاب ''عظمت حدیث ''مفسر قرآن حافظ صلاح الدین یوسف ﷾ کی تصنیف ہے جوکہ حدیث کے حوالے حافظ صاحب کے 6 مضامین کا مجموعہ ہے ۔ منکرین حدیث اس کتاب کے اولین مخاطب ہیں۔مزید اس کتاب میں حافظ صاحب نے حدیث کی تشریعی حیثیت کے منکرین کے علاوہ حدیث کےبارے میں اہل تقلید کے طرزِ عمل کے نقصانات کا جائزہ لیا ہے او رشاہ والی محدث دہلوی کی مسند کے ''جانشین حضرات'' کو شاہ صاحب ہی کی زبان میں تفہیم کی شاندار کاوش کی ہے مصنف کےنزدیک بعض اہل حدیث حضرات کا طرز عمل بھی غیر محدثانہ روش کا آئینہ دار ہے ۔ اس طرز عمل کا جائزہ لینے کے بعد امن وسلامتی کی راہ اپنانےکے رہنما خطوط پیش کرتے ہوئے حدیث کی عظمت اور اس کے تقاضوں کو واضح کیا ہے ۔اللہ تعالیٰ ہم سب کوحدیث کی عظمت اور اس کے تقاضوں کو سمجھنے اور اس کے مطابق عمل کرنے کی توفیق عطا فرمائے (آمین)(م۔ا)

     

    نوٹ:

    محدث فورم میں اس کتاب پر تبصرہ کرنے کے لیے یہاں کلک کریں

     

    pages-from-aurat-ki-sarbrahi-ka-masla
    حافظ صلاح الدین یوسف

    اللہ تعالی نے مرد اور عورت کو پیدا فرما کر ان کے دائرہ کار بھی متعین کر دئیے ہیں کہ مرد کی کون کون سی ذمہ داریاں ہیں اور عورت کی کیا ذمہ داریاں ہیں۔مرد چونکہ عورتوں کی نسبت زیادہ طاقتور، حوصلہ مند اور فہم وفراست کا حامل ہوتا ہے، اس لئے اللہ تعالی اسے قیادت وسیادت جیسی ذمہ داریوں سے سرفراز فرمایا ہے جبکہ عورت نازک ،کمزور اور ناقص العقل ہوتی ہے اسلئے اللہ تعالی نے اس کی سیادت وقیادت کو قبول نہیں فرمایا۔نبی کریم ﷺ کا فرمان ہے کہ وہ قوم ہر گز فلاح نہیں پا سکتی جو اپنی سربراہ عورت کو بنا لیتی ہے۔پاکستان میں پیپلز پارٹی کی حکومت کے دوران جن محترمہ بینظیر بھٹو وزیر اعظم بنی تو اہل علم نے اس پر تنقید کی اور حق کو واضح کرنے کی کوشش کی کہ اسلامی نقطہ نظر سے کوئی بھی عورت حکمران یا کسی ملک کی سربراہ نہیں بن سکتی ہے۔ زیر تبصرہ کتاب " عورت کی سربراہی کا مسئلہ اور شبہات ومغالطات کا ایک جائزہ "پاکستان کے معروف عالم دین اور متعدد کتب کے مصنف سابق مدیر ہفت روزہ الاعتصام لاہور محترم حافظ صلاح الدین یوسف صاحب کی تصنیف ہے،جس میں انہوں نے عورت کی سربراہی کے حوالے سے مستند اور مدلل دلائل کے ذریعے ثابت کیا ہے کہ عورت کا سربراہ بننا شرعا ناجائز،حرام اور شریعت اسلامیہ سے بغاوت ہے۔ اور جو قوم کسی عورت کو اپنا سربراہ بنا لیتی ہے وہ کبھی کامیاب نہیں ہوتی ہے۔ اللہ تعالی سے دعا کہ وہ مولف کی اس محنت کو قبول فرمائے اور ان کے میزان حسنات میں اضافہ فرمائے۔آمین(راسخ)

    title-pages-orton-k-imtiyazi-msail-w-qawaaneen
    حافظ صلاح الدین یوسف
    اللہ تعالیٰ نے نسل بنی آدم کو مرد وزن کی دو اصناف میں تقسیم کیا ہے۔ان کے نیک اعمال کا اجر تو  ہر ایک کو برابر ملے گا اور اس اعتبار سے ان میں کوئی فرق نہیں،تاہم چونکہ جسمانی اعتبار سے ان میں بعض امتیازات پائے جاتے ہیں ،اس لیے بعض احکامات میں ان کے مابین فرق روا رکھا گیا ہے۔مثلاً عورت کی وراثت،دیت،گواہی اور سربراہ حکومت بننے کا مسئلہ وغیرہ۔اسی طرح بعض عبادات  کے باب میں بھی ان کے احکامات الگ الگ ہیں۔ان مسائل میں یہ فرق کیوں ہے؟ان میں کیا حکمتیں ہیں؟زیر نظر کتاب میں اسی کو موضوع بحث بنایا گیا ہے۔معروف مفسر قرآن اور عالم دین جناب حافظ صلاح الدین یوسف نے ان شرعی حکمتوں کو انتہائی خوبصورت انداز میں اجاگر کیا ہے،جس کے مطالعہ سے شرعی احکام پر یقین و بصیرت میں اضافہ ہو گا اور مغربی تہذیب کے اعتراضات و شبہات کا بھی ازالہ ہو گا۔ان شاء اللہ۔(ط۔ا)

    title-pages-fitna-e-ghamdiyat-aik-tehqiqi-w-tanqedi-jaiza-copy
    حافظ صلاح الدین یوسف

    دورِ حاضر کے فتنوں میں ایک بڑا فتنہ منکرین حدیث کا ہے۔ مغرب کی چکا چوند سے متاثر ، وضع قطع میں اسلامی شعائر سے عاری، نام نہاد روشن خیالی کے سپورٹر، دینی اصولوں میں جدت و ارتقاء کے نام پر تحریف کے قائل و فاعل ، دینی احکام کی عملی تعبیر کو انتہا پسندی اور دقیانوسیت قرار دینے والے، قرآن مجید کی آڑ میں احادیث رسول ﷺ کی تاویل و تحریف کے ساتھ استہزاء کرنے والے اس گروہ کے دور حاضر کے لیڈر جناب جاوید احمد غامدی صاحب ہیں۔ جو میڈیا کو ہتھیار کے طور پر استعمال کرتے ہوئے اپنے باطل افکار و نظریات کو خوب پھیلا رہے ہیں۔ جن میں معتزلہ کی طرح عقل انسانی کے بجائے فطرت انسانی کو کلی اختیارات عطا کرنا، دین اسلام کی تفہیم و تشریح میں انسانی فطرت و عربی محاورات یا دور جاہلیت کے اشعار کو بنیادی حیثیت دینا اور احادیث کو روایات کہہ کر ثانوی یا ثالثی حیثیت دے کر اوربسا اوقات قرآن سے متصادم کا لیبل چسپاں کر کے اسے پس پشت ڈال دینا، مسئلہ تحلیل و تحریم کو شریعت سے خارج کرنا، علاقائی رسومات کو تواتر عملی کا جامہ پہنا کر اسے دین بنا ڈالنا، قرآن کے نام پر مغرب کے تمام ملحدانہ افکار و نظریات کو امپورٹ کرنا ، سنت کی جدید تعریف کر کے اصلاحات محدثین کو نشانہ ستم بنانا، قرات سبعہ کو فتنہ عجم بتانا وغیرہ وغیرہ۔رد فتنہ غامدیت      کےسلسلے میں ماہنامہ   محدث ،لاہور نے  آغاز  کیا  ۔ محترم   مولانا محمدرفیق چودہری صاحب نے  مسلسل  غامدیت کے رد میں   علمی  وتحقیقی مضمون لکھے  جومحدث کےصفحات پر شائع ہوتے رہے  بعدازاں ان  مضامین کو چودہری   صاحب نے اپنے  ادارہ مکتبہ ’’قرآنیات‘‘ کی طرف سے کتابی صورت میں شائع کیا۔جسے  اہل علم  کے ہاں بڑا قبول عام حاصل  ہوا ۔او ر پھر اس کے  بعد کئی اہل علم  نے  غامدیت کے رد میں  مضامین وکتب   تصنیف  کیں حالیہ  ایام میں مجلہ  ماہنامہ ’’صفدر ‘‘ کی  غامدیت کے رد میں جدوجہد  بھی انتہائی لائق تحسین  ہے۔ زیر تبصرہ کتاب’’ فتنہ غامدیت ایک تحقیقی وتنقید ی جائزہ‘‘ مفسر قرآن   مصنف کتب کثیرہ   محترم حافظ صلاح الدین یوسف ﷾ کی تازہ کاوش  ہے۔اس کتاب میں انہوں نے  علمی دلائل سے فتنۂ غامدیت کی تفنید فرمائی اور یوں منہج محدثین کی ترجمانی کا حق ادا کردیا ہے۔کتاب کا مطالعہ کرنے والوں پر عیاں ہوگا کہ غامدی شبہات تارِ عنکبوت سےبھی زیادہ کمزور ہیں ۔ جو نوجوان لڑکوں اور لڑکیوں کےجھرمٹ میں تو شاید مؤثر ثابت ہوں لیکن علمی حلقوں میں ان کی کوئی حیثیت نہیں۔اللہ تعالیٰ محترم حافظ کی  مساعی حمید ہ کو قبول فرمائے  اور خلقِ کثیر کی ہدایت کا ذریعہ بنائے اوراس مخنت کو ان کے  میزانِ حسنات کاذخیرہ  بنادے ۔ (آمین)  (م۔ا)

    title-pages-fazaile-ashra-zilhajja-aur-ahkam-o-masail-eid-ul-azha
    حافظ صلاح الدین یوسف
    عیدالاضحیٰ اسلامی شعائر میں عید الفطر کی طرح ایک عظیم تہوار ہے، جو سنت ابراہیمی کےعظیم الشان اور فقید المثال واقعے کی یاد دلاتا ہے۔ فضیلۃ الشیخ حافظ صلاح الدین یوسف نے سنت ابراہیمی کے اس روح پرور واقعے کو اپنے محققانہ قلم سے زیب قرطاس کیا ہے۔ فاضل مصنف نے ان تاریخی وقائع کے ضمن میں عشرہ ذوالحجہ کی فضیلت، عرفے کے روزے کا اجر، تکبیرات کی اہمیت، مسائل قربانی اور عیدالاضحیٰ کی ادائیگی جیسے امور کے مسنون طریق کامحققانہ ذکر کیا ہے۔ اپنے انھی اوصاف کے باعث یہ تحریر مختصر ہونے کے باوجود جامعیت کی حامل ہے۔  عید الاضحیٰ کی مناسبت سے درپیش تمام مسائل کا بخوبی احاطہ کیا گیا ہے جس کے مطالعے سے قارئین اپنے اس عمل کو بارگاہ الٰہی میں مقبول کرانے کا شعور حاصل کریں گے۔(ع۔م)

    title-pages-qabar-parasti-aik-haqeqat-pasandana-jaiza-copy
    حافظ صلاح الدین یوسف

    آخرت کی یاد سے دنیوی زندگی کی بے ثباتی اور ناپائیداری کا احساس ہوتا ہے اور آخرت کی حقیقی زندگی کے لئے حسنِ عمل کا جذبہ اور رغبت پیدا ہوتی ہے۔ یادِ آخرت کا اہم ذریعہ زیارتِ قبور ہے۔ شہرِ خاموشاں میں جاکر ہی بدرجۂ اتم یہ احساس ہوتا ہے کہ موت کتنی بڑی حقیقت ہے جس کا مزہ ہر شخص چکھے گا۔ ابتدائے آفرینش سے آج تک یہ سلسلہ جاری ہے اور تا قیامت جاری رہے گا۔ جلیل القدر انبیاء علیہم السلام مبعوث ہوئے اور باری باری موت کا مزہ چکھتے رہے۔ اسی طرح بزعمِ خویش خدائی کا دعویٰ کرنے والے بھی آئے، دارا و سکندر جیسے بادشاہ بھی گزرے لیکن موت کی آہنی گرفت سے کوئی بھی بچ نہ سکا۔ اگر اتنے نامور لوگوں کو بھی موت نے نہ چھوڑا تو ہم اور تم اس کے تصرف سے کیسے چھوٹ سکتے ہیں۔موت کی یاد تازہ کرنے کے لئے قبروں کی زیارت کرنا تو درست ہے لیکن قبر والوں سے جا  کرمدد مانگنا ،قبروں پر چڑھاوے چڑھانا اور وہاں نذر ونیاز تقسیم کرنا  وغیرہ ایسے اعمال جو  شرک کے درجے کو پہنچ جاتے ہیں۔زیر تبصرہ کتاب" قبر پرستی (ایک حقیقت پسندانہ جائزہ)" جماعت اہل حدیث کے معروف عالم دین مفسر قرآن محترم مولانا حافظ صلاح الدین﷾ کی تصنیف ہے۔یہ کتاب درحقیقت رد قبر پرستی کے موضوع پر لکھے گئے ان کے متعدد مضامین کا مجموعہ ہے۔جو مختلف اوقات میں معروف اہل حدیث مجلے الاعتصام میں چھپتے رہے اور احباب کے اصرار پر بعد میں انہیں ایک کتاب کی شکل میں طبع کر دیا گیا ہے۔موصوف کی اس کے علاوہ بھی بے شمار مفید اور علمی کتب ہیں،جن میں سے تفسیر احسن البیان سب سے زیادہ قابل ذکر ہے۔اللہ تعالی مولف کی فروغ دین کی ان تمام خدمات کو قبول فرمائے اور ان کے میزان حسنات میں اضافہ فرمائے۔آمین(راسخ)

     

    pages-from-libaas-aur-parda
    حافظ صلاح الدین یوسف

    اسلام کا ایک اعزاز اورامتیاز یہ ہے کہ یہ ایک مکمل دین ہے ،اس میں دین ودنیا کی جامعیت بھی ہے اورزمانے اور زندگی کےہرشعبے کےلیے مکمل رہنمائی بھی۔اس کا جس طرح ایک نظام ِعبادت ہے اسی طرح ایک نظام زندگی اور دستور العمل بھی ہے ۔اس نظامِ زندگی میں سیاست ومعیشت سے لے کر تہذیب وتمدن اور معاشرت تک سارے ہی معاملات کے لیے ہدایات اور تعلیمات دی گئی ہیں لیکن المیہ یہ ہےکہ مسلمان صرف نام کےمسلمان رہ گئے ہیں ۔ اور انہوں نے اپنے تمام شعبہ ہائے زندگی سے اسلام کو نکال باہر کیا ہے اور غیروں کی نقالی اوران کی دریوزہ گری ہی کو اپنا شعار بنالیا ہےحالانکہ اسلام نے غیروں کی مشابہت اور نقالی سے سختی کےساتھ منع فرمایا ہے ۔ مگر اب نقالی کی یہ عادت اتنی پختہ ہوگئی ہے کہ اسے غلط اور گناہ سمجھنا بھی چھوڑ دیا گیا ہے۔انہی امورِمتروکہ میں ایک مسئلہ لباس، پردہ ومعاشرت کا ہےحالانکہ انسانی معاشرت میں لباس کی بڑی اہمیت ہے ۔ اسی سے کسی قوم یا کسی مذہب کے ماننے والوں کا تشخص قائم ہوتا ہے اور برقرار رہتاہے ۔ زیر نظر کتاب’’ لباس اور پردہ‘‘ کا پہلا حصہ لباس ہی کےاحکام ومسائل اور آداب پر مشتمل ہے جو مفسر قرآن حافظ صلاح الدین یوسف﷾ کامرتب شدہ ہے ۔ اور دوسرا حصہ پردہ کےموضوع پر سعودی عرب   کے جید عالم دین شیخ صالح العثیمین﷫ کا ہے اوراس سلیس ورواں اردو ترجمہ عالمِ اسلام کے ممتاز سکالر محترم جناب ڈاکٹر حافظ عبدالرشید اظہر﷫ نے کیا۔ جسے دار السلام نے یکجا شائع کیا ہے۔یہ کتاب اپنے موضوع پر نہایت مفید کاوش ہے اور ایک منفرد اندازکی حامل ہے۔اللہ تعالیٰ مؤلفین وناشرین کی اس کاوش کو قبول فرمائے اوراسے عالمِ اسلام کی سیدات مومنات کےلیے فائدہ مند بنائے ۔ آمین (م۔ا)

    title-pages-masla-rooet-e-hilal-aur-12-islami-maheene
    حافظ صلاح الدین یوسف
    اسلامی نقطہ نگاہ میں تمام اوقات اور تمام مہینے مقدس ومحترم ہیں۔اور ہر مسلمان پر ان کی تعظیم واحترام واجب ہے۔مختلف اوقات اور مہینوں کو منحوس قرار دینا تعلیمات اسلامیہ سے دوری کا نتیجہ اور باطل نظریات کا شاخسانہ ہے ۔کتاب وسنت میں مختلف مہینوں کے فضائل ومناقب بیان ہیں۔جو کتب احادیث میں منتشر تھے انہیں کسی دستاویزی شکل میں یک جا کرنے کی ضرورت تھی ۔پھر مختلف مہینوں میں مختلف بدعات مروج ہیں اور عامتہ الناس اسے دین سمجھ کر طلب ثواب کی نیت سے ان پر عمل پیرا ہیں۔زیر نظر کتاب میں فاضل مؤلف ماہر محقق ،معروف قلمقار اور جید عالم دین حافظ صلاح الدین یوسف صاحب نے اسلامی مہینوں کے فضائل ومسائل بیان کرنے کے بعد ان مہینوں کی مروجہ بدعات کا اچھے طریقے سے پوسٹ مارٹم کیا ہے ۔یہ کتاب خطبا ،علما اور عوام الناس کے لیے انتہائی مفید ہے اور اسلامی مہینوں کے حوالے سے عوام میں پھیلی مختلف بدعات کا تریاک بھی ہیں۔کتاب کی اشاعت وطباعت اور سرورق کا حسن دارالسلام ادارہ کے ذوق طباعت کا آئینہ دار ہے ۔(ف۔ر)

    نوٹ:
    محدث فورم میں اس کتاب پر تبصرہ کرنے کے لیے یہاں کلک کریں

    title-pages-masnoon-nimaz-aur-roz-marrah-ki-duaen-copy
    حافظ صلاح الدین یوسف

    اسلامی  تعلیمات کی اساس عقائد وعبادات ہیں ۔ عقائد کی پختگی اور عبادات کے ذوق وشوق سےاسلامی سیرت پیدا ہوتی ہے۔ تمام عبادات اپنے اپنے مقام پر ایمانی جلا اور تعلق باللہ کی استواری اور پائیداری کا  باعث ہیں مگر ان میں  سے  نماز  کو دین کا ستون اورآنکھوں کی ٹھنڈک قرار دیاگیا ہے ۔ قرآن مجید میں مسلمانوں کی زندگی  کی ہمہ نوع اور تمام ترکامیابیوں کی اساس نماز کو قرار دیا گیا ہے  ۔ یہ  نصرت الٰہی  کے حصول کامؤثر ذریعہ ہے مگرافسوس صد افسوس کہ  مسلمان کہلانے  والوں کی ایک کثیر تعداد نماز سے میسر آنے والی نعمتوں سے محروم زندگی  گزارہی ہے  اور جن  کو حق تعالیٰ نے نماز ادا کرنے کی توفیق دی ہے ان کی ایک خاص  تعداد اسے  مسنون طور پر ادا  کرنے سے قاصر ہے ۔  زیر نظر کتاب ’’ مسنون نماز  او روزہ مرہ کی کی دعائیں ‘‘  مفسر قرآن حافظ صلاح الدین یوسف ﷾ کی  مرتب شدہ  ہے ۔ جسے  انہوں نے آسان اسلوب میں ترتیب دیا ہے ۔جس کی سب سے بڑی خوبی ان کا صحیح احادیث سے استدلال ہے ۔ اس میں قارئین کی سہولت کے لیے تمام ضروری مسائل کو اختصار سے پیش  کیا گیا ہے ۔ نماز اور دعاؤں کا ترجمہ  لفظی کیا گیا ہے تاکہ  ہر لفظ کاترجمہ سمجھ میں آجائے ۔ یہ متوسط درجے کی کتاب ہے  جس میں زیادہ تفصیل ہے نہ  زیادہ اختصار بلکہ  ان کےبین بین ہے ۔ تاکہ ہر شخص اسے آسانی سے خرید سکے اور مختصر وقت میں پڑھ کر اس سے  پورا فائدہ بھی اٹھاسکے ۔ علاوہ ازیں طہارت، وضو، اذکار مسنونہ  او رمختلف مواقع کی مسنون دعاؤں کی شمولیت سے یہ کتاب نماز کے آداب ومسائل کامختصر انسائیکلوپیڈیا کی حیثیت رکھتی ہے ۔یہ بات واضح رہے کہ اللہ تعالیٰ نے  کامیابی کی نوید انہی اہل ایمان کے لیے  بیان کی  ہے جو  اپنی نمازوں میں خشوع کا  اہتمام کرتے ہیں ۔ اور نماز میں خشو ع اس وقت تک پیدا نہیں ہوسکتا جب تک سنت نبوی  کے مطابق نماز نہ پڑھی جائے ۔ اس کتاب میں  نماز کاطریقہ بھی اوراس کے دیگر احکام ومسائل بھی ، سب سنت رسول ہی کی روشنی  میں بیان کیے گئے ہیں ۔اللہ تعالیٰ حافظ صاحب کی تمام  تحقیقی وتصنیفی  اور دعوتی وتبلیغی  خدمات کو قبول فرمائے  اور  انہیں صحت وعافیت  سے نوازے ۔اوراس کتاب کو عوام الناس کےلیے نفع بخش بنائے (آمین)  (م۔ ا)

    title-pages-masnoon-nikah-aur-shadi-biyah-ki-rasoomat
    حافظ صلاح الدین یوسف
    اسلامی معاشرت میں نکاح جس قدر سادہ تقریب تھی، امتدادِ زمانہ کے ساتھ یہ اسی قدر تکلفات سے بھرپور اور بد اخلاقی کا گہوارہ بنتی چلی جا رہی ہے۔ اسلام میں نکاح کے متعلق کیا ہی عمدہ احکامات اور تعلیمات ہیں لیکن ہم نے اپنی جہالت، جذبہ نمائش دولت اور رسوم و رواج کی پرستش کے باعث اس کی شکل بگاڑ دی ہے۔ اس موضوع پر معروف عالم دین اور محقق شہیر حافظ صلاح الدین یوسف نے مختلف اوقات میں جو مضامین لکھے یا استفسارات کے جواب تحریر کیے، انھیں اب ایک خاص علمی ترتیب سے اس کتاب میں جمع کر دیا گیا ہے۔ ان مضامین کا مطالعہ جہاں ایک طرف ہمیں سنت کے مطابق شادی اور نکاح کے مسائل سے آگاہ کرے گا وہاں ہمیں اس معاشرتی اور جاہلانہ رسوم سے چھٹکارے کا راستہ بھی دکھائے گا۔ اس اعتبار سے یہ کتاب معاشرے کے ہر فرد کی ضرورت اور اہل حکومت کی بے حسی پر ایک تازیانہ ہے۔ کتاب کے آخر میں گھریلو ماحول اور ازدواجی زندگی  پرمسرت اور خوش گوار بنانے کے لیے چند اصول اور نصیحتیں کی گئی ہیں اس کے علاوہ شادی سے متعلق چند ضروری اور مسنون دعائیں بھی کتاب کا حصہ ہیں۔ (ع۔م)

    نوٹ:
    محدث فورم میں اس کتاب پر تبصرہ کرنے کے لیے یہاں کلک کریں

    title-pages-maani-ul-quran-al-kareem
    حافظ صلاح الدین یوسف
    یہ ایک ناقابل انکار حقیقت ہے کہ آج اس کائنات میں قرآن شریف کے سوا کوئی ایسی کتاب موجود نہیں ہے ،جسے پوری قطعیت اور یقین کے ساتھ الہامی قرار دیا جاسکےیہ شرف محض قرآن مقدس ہی کو حاصل ہے ۔قرآن مجید کی تعلیمات پر عمل سے امت کو بلندی حاصل ہوئی ہے اور اس سے غفلت برتنے سے پستی کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔امت مسلمہ کی موجودہ ذلت ورسوائی کا سبب بھی یہی ہے کہ آج افراد امت نے قرآن حکیم کو پس پشت ڈال رکھا ہے۔قرآن سے اعراض اور بے التفاتی ہی کا ایک مظہر یہ ہے کہ اسے سمجھنے کو کوشش نہیں کی جاتی بلکہ محض الفاظ کی تلاوت پر ہی اکتفا کیا جاتا ہے یوں یہ قرآن سے دوری کا مظہر بھی ہے اور سبب بھی کہ جب تک قرآن کے معانی سے واقفیت نہیں ہو گی اس سے تعلق بھی استوار نہیں ہو سکتا۔المختصر تعلق بالقرآن  کے لیے اس کے مفاہیم سے با خبر ہونا ضروری ہے ۔اس کے لیے جناب حافظ صلاح الدین یوسف حفظہ اللہ کے زیر نظر ترجمہ قرآن کا مطالعہ بہت مفید ثابت ہو گا جو معانی القرآن الکریم کے نام سے پیش کیا گیا ہے۔اس میں لفظی ترجمے کا انداز اختیار کیا گیا ہے ،جس سے الفاظ قرآنی کا مفہوم سمجھنے میں آسانی رہتی ہے۔(ط۔ا)
    title-pages-mafroor-larkiyon-ka-nikah-aur-hmari-adaltain
    حافظ صلاح الدین یوسف

    ولایت ِنکاح کا مسئلہ یعنی جوان لڑکی کے نکاح کے لیے ولی کی اجازت او ررضامندی ضروری ہے قرآن وحدیث کی نصوص سے واضح ہے کہ کسی نوجوان لڑکی کو یہ اجازت حاصل نہیں ہے کہ وہ والدین کی اجازت اور رضامندی کے بغیر گھر سے راہ ِفرار اختیار کرکے کسی عدالت میں یا کسی اور جگہ جاکر از خود کسی سے نکاح رچالے ۔ایسا نکاح باطل ہوگا نکاح کی صحت کے لیے ولی کی اجازت ،رضامندی اور موجودگی ضروری ہے ۔ لیکن موجودہ دور میں مسلمانوں کے اسلام سے عملی انحراف نے جہاں شریعت کے بہت سے مسائل کوغیر اہم بنادیا ہے ،اس مسئلے سے بھی اغماض واعراض اختیار کیا جاتاہے علاوہ ازیں ایک فقہی مکتب فکر کے غیر واضح موقف کو بھی اپنی بے راہ روی کے جواز کےلیے بنیاد بنایا جاتاہے ۔زیر نظر کتابچہ ''مفرورلڑکیوں کا نکا ح او رہمار ی عدالتیں''(از معروف عالم دین ، مفسر قرآن،محقق شہیر ،مصنف کتب کثیرہ حافظ صلاح الدین یوسف ﷾) گھر سے فرار ہوکر نوجوان لڑکیوں کے عدالتی نکاح اور مسئلہ ولایت نکاح کے حوالے سے ایک اہم کتاب ہے جس میں حافظ صاحب نے قرآن وحدیث کی روشنی میں اس مسئلے کی صحیح نوعیت وحقیقت کوواضح کرتے ہوئے اس کاتحقیقی جائزہ پیش کیا ہے اللہ تعالی سے دعا ہے کہ اللہ تعالی حافظ صاحب کو صحت وتندرستی والی زندگی عطا فرمائے اور اشاعتِ اسلام کے لیے ان کی دعوتی ،تحقیقی و تصنیفی کی خدمات کو شرف قبولیت بخشے او ر اس کتاب کو عوام الناس کی اصلاح کاذریعہ بنائے (آمین) (م۔ ا)

     

    نوٹ:

    محدث فورم میں اس کتاب پر تبصرہ کرنے کے لیے یہاں کلک کریں

    title-pages-nifaz-e-shariyat-kiyon-aur-kaise-copy
    حافظ صلاح الدین یوسف

    ارشاد ربانی  کےمطابق دین اسلام ایک ایسا دین  ہے کہ جو شخص بھی اسلام کے علاوہ  کوئی اور دین تلاش کرتا ہے  تو اس سے ہر گزقبول نہیں کیا جائے گا۔ او روہ آخرت میں خسارہ پانے والوں میں سے ہوگا۔اور نبی کریم ﷺ کا  فرمان ہے ’’ قسم اس ذات کی جس کے ہاتھ  میں میری جان ہے اس امت میں جو شخص بھی میری بابت سن لے  کہ وہ یہودی ہویا عیسائی پھر وہ مجھ پر ایمان نہ لائے تو وہ جہنم میں جائے گا۔‘‘ اس اعتبار سے امت مسلمہ کی بھی یہ ذمہ داری ہے کہ وہ اسلا م کا پیغام ہر جگہ پہنچائیں اور کراہتی سسکتی انسانیت اکو امن وسکون اور نجات سے ہمکنار کریں جیسے پیغمبر اسلام  سید نا حضرت محمد ﷺً اوران کے اولین پیروکاروں نے دنیا سے ظلم وستم کا خاتمہ کر کے عدل وانصاف کا نظام قائم کیا، کفر وشرک کی تاریکیوں کو مٹاکر توحید وسنت کی شمعیں روشن کیں اور اخلاقی زوال کی اتھاہ گہرائیوں سے نکال کر انسانیت کوسیرت وکردار کی بلندیوں سے آشنا کیا ۔ ٖآج انسانیت پھر سے ظلم وستم کا  شکار ہے وہ دوبارہ کفر وشرک کی تاریکیوں میں گھری ہوئی اور اخلاقی پستی میں پھنسی  ہوئی ہے ۔ پاکستان اسلام کے نام پر حاصل کیا گیا ،لیکن افسوس کہ آج تک کسی بھی حکومت نے پاکستان میں اسلام نافذ کرنے کی سنجیدہ کوشش نہیں کی۔جبکہ  قیام پاکستان  کاسب سےبڑا مقصد یہی تھا کہ ہندوستان کے مسلمان ایک  طرف تو ہندی تہذیب اور ہندی صنم پرستی سے بچ کر اپنی اسلامی تہذیب کو اپنائیں گے اورایک اللہ کی عبادت کریں گے  وہاں دوسری طرف پاکستان میں مکمل طور پر شریعت کو نافذ کر کے اور ہر شعبۂ زندگی میں اسلامی  تعلیمات کی ترویج کر کےپاکستان کو اسلام کی تجربہ گاہ اوراس کے حسن وجمال کی جلوہ گاہ بنائیں گے۔ تاکہ دنیا کے سامنے صحیح فکر وعمل ا ور امن وسکون سے آشنا زندگی  کا  ایک بہترین نمونہ آسکےجسے دنیائے انسانیت اپنانے ا ور اختیار کرنے کی لیے لپکے اور اس کی طرف پلٹے۔ تحریک پاکستان کےلیڈروں نے  بھی قوم سے یہی  وعدہ کیاتھا اور بابار اسی کااعادہ کیاتھا ،بانی پاکستان نےبھی یہ کہاتھا جسے وہ قیام پاکستان کے بعد  بھی دہراتے رہے۔ اللہ تعالیٰ اوراس کی مخلوق سے کئے ہوئے اس عہد کا تقاضا  ہےکہ پاکستان میں اسلام کی علم برداری  قائم ہو اور اسلامی شریعت کاسکہ یہاں چلےجس  طرح پاکستان  کاقیام اس وعدے کا مرہون منت ہے اس کااستحکام  وبقاء بھی اس عہد کی تکمیل اور اس وعدے کے ایفاء میں مضمر ہے لیکن وطن عزیز پاکستان   کو ’’لاالہ ...‘‘ کی  بنیاد پر قائم  ہوئے نصف صدی سےزائد عرصہ بیت چکا ہے  جس میں اسلام کو نافذ کرنے  کے وعدہ کوپوراکرنے کی سنجیدہ  کوشش ابھی تک نہیں کی گئی۔ زیرتبصرہ کتاب’’نفاذ شریعت کیوں اور کیسے‘‘ میں مفسر قرآن حافظ صلاح الدین ﷾  نے حکمرانوں کو ایسی بات کی طرف توجہ دلائی ہے  اور یہ بتایا  ہے کہ  پاکستان میں  کانفاذ کیوں ضروری ہے اور دوسرے جز میں شریعت کو نافذ کرنےکے طریقہ کار کو  بیان کیا ہے ۔ اللہ تعالیٰ ہمیں ایسا حکمران عطا فرمائے  جو  قیام پاکستان کے  مقصد کو پورا کرے ۔(آمین) (م۔ا)

    pages-from-namaz-muhammadi-salahuddin-yousaf
    حافظ صلاح الدین یوسف

    نماز دین ِ اسلام کا   دوسرا رکن ِ عظیم ہے جوکہ بہت زیادہ اہمیت کا حامل ہے ۔نماز دین کاستون اور ہمارے پیارے نبی ﷺ کی آنکھوں کی ٹھنڈک ہے ۔ روزِ حساب سب سےپہلے نماز ہی کی باز پرس ہوگی۔ یہ معراج کا سب سے عظیم تحفہ ہے جس کی حفاظت اور مسنون ادائیگی کے بارے میں سیکڑوں احادیث ملتی ہیں۔ قرآن وحدیث میں نماز کو بر وقت اور باجماعت اداکرنے کی بہت زیاد ہ تلقین کی گئی ہے نماز کی ادائیگی اور اس کی اہمیت اور فضلیت اس قد ر اہم ہے   کہ سفر وحضر اور میدان ِجنگ اور بیماری میں بھی نماز ادا کرنا ضروری ہے نماز کی اہمیت وفضیلت کے متعلق بے شمار احادیث ذخیرۂ حدیث میں موجود ہیں او ر بیسیوں اہل علم نے مختلف انداز میں اس پر کتب تالیف کی ہیں نماز کی ادائیگی کا طریقہ جاننا ہر مسلمان مرد وزن کےلیے ازحد ضروری ہے کیونکہ اللہ عزوجل کے ہاں وہی نماز قابل قبول ہوگی جو رسول اللہ ﷺ کے طریقے کے مطابق ادا کی جائے گی اسی لیے آپ ﷺ نے فرمایا صلو كما رأيتموني اصلي۔ لہذا ہر مسلمان کےلیے رسول للہ ﷺ کے طریقۂ نماز کو جاننا بہت ضروری ہے۔ زیر تبصرہ کتاب ’’نماز محمد ی او رمسنون دعائیں صحیح احادیث کی روشنی میں ‘‘ پاکٹ سائز مفسر قرآن مولانا حافظ صلاح الدین یوسف ﷾ کی کاوش ہے جس میں انہو ں آپ ﷺ کی نماز کا مستند ،صحیح اور مسنون نقشہ بڑی تحقیق اور شرعی ذمہ دار ی کے ساتھ پیش کیا ہے۔ہمیں خود اپنی نمازوں کومسنون بنانا چاہیے اور دوسروں کوبھی اس کی طرف متوجہ کرنا چاہیے۔ محترم حافظ صاحب کی اس کاوش کو ماء اللہ بڑا قبول عام حاصل ہے مساجد میں بچوں کویہ نماز باترجمہ حفظ کرائی جاتی ہے ۔اللہ تعالیٰ اس کو مزید فائد مند بنائے اورحافظ صاحب کو صحت وتندرستی سے نوازے (آمین) (م۔ا)

    pages-from-namaz-key-baaz-ahm-masaael
    حافظ صلاح الدین یوسف

    نماز دین ِ اسلام کا دوسرا رکن ِ عظیم ہے جوکہ بہت زیادہ اہمیت کا حامل ہے قرآن وحدیث میں نماز کو بر وقت اور باجماعت اداکرنے کی بہت زیاد ہ تلقین کی گئی ہے نماز کی ادائیگی اور اس کی اہمیت اور فضلیت اس قد ر اہم ہے کہ سفر وحضر اور میدان ِجنگ اور بیماری میں بھی نماز ادا کرنا ضروری ہے نماز کی اہمیت وفضیلت کے متعلق بے شمار احادیث ذخیرۂ حدیث میں موجود ہیں او ر بیسیوں اہل علم نے مختلف انداز میں اس پر کتب تالیف کی ہیں نماز کی ادائیگی کا طریقہ جاننا ہر مسلمان مرد وزن کےلیے ازحد ضروری ہے کیونکہ اللہ عزوجل کے ہاں وہی نماز قابل قبول ہوگی جو رسول اللہ ﷺ کے طریقے کے مطابق ادا کی جائے گی اسی لیے آپ ﷺ نے فرمایا صلو كما رأيتموني اصلي۔ لہذا ہر مسلمان کےلیے رسول للہ ﷺ کے طریقۂ نماز کو جاننا بہت ضروری ہے۔ نماز کے بعض مسائل پر مختلف علمائے کرام نے مستقل رسالے او رکتابچہ تحریر کیے ہیں زیر تبصرہ کتابچہ بھی اسی سلسلے کی کڑی ہے۔ یہ مختصر رسالہ نماز کےحسب ذیل مسائل پر مشتمل ہے ۔1۔ موزوں اور جرابوں پر مسح ؍از مولانا حافظ صلاح الدین یوسف﷾ 2۔کرسی پر بیٹھ کر نماز پڑھنا اور اس کاشرعی حکم؍ شیخ فہد بن عبد الرحمن الشویب 3۔سجدۂ سہو کا بیان؍ شیخ عبد الرحمٰن عزیز 4۔جماعت میں شریک ہونےکا بیان؍ شیخ عبد الرحمٰن عزیز۔اس کتابچہ میں مذرکو ہ ان چاروں مسائل کو احادیث نبویہ، اقوال صحابہ وائمہ کی روشنی میں اختصار کے ساتھ پیش کیا گیا ہے۔ اللہ تعالیٰ قارئین کے لیے اسے نفع بخش بنائے (آمین)

    title-page-waqia-meraj-aur-uss-k-mushahidat
    حافظ صلاح الدین یوسف

    واقعۂ معراج نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا عظیم معجزہ ہے جس کا ثبوت قرآن کریم اور احادیث صحیحہ دونوں میں ہے۔ لیکن نام نہاد مسلمانوں کا ایک گروہ ایسا ہے جو اسے ایک کشفی و روحانی یا منامی (خواب کے)مشاہدے سے تعبیر کر کے اس کی معجزانہ حیثیت کا انکار کرتا ہے۔ ایک دوسرا گروہ ہے جو اس میں زیب داستاں کے طور پر بہت سی بے سروپا روایات شامل کر کے اسے کچھ کا کچھ بنا دیتا ہے۔ ظاہر ہے کہ یہ دونوں ہی گروہ افراط و تفریط کا شکار ہیں۔ صحیح بات کیا ہے؟ یہی اس کتاب کا اصل موضوع ہے۔ اس میں قرآن و حدیث کے دلائل سےپہلے مؤقف کی بھی تغلیط و تردید کی گئی ہے اور روایات کی تحقیق کر کے دوسرے گروہ کی بے اصل باتوں کی توضیح بھی۔ اس اعتبار سے یہ اردو کی پہلی کتاب ہے جو واقعۂ معراج کو اس کے صحیح تناظر میں پیش کرتی ہے اور اس کے واقعاتی مشاہدات کو غیر مستند روایات سے ممیّز کرتی ہے۔

    title-page-kiaaurtokatareeqaenamazmardosaymukhtalifhay-copy
    حافظ صلاح الدین یوسف
    ہمارے ہاں بغیر کسی صریح دلیل کے علی الاعلان کہاجاتا ہے کہ عورت کی نماز کا طریقہ مردوں سےمختلف ہےجبکہ اس موقف کے ثبوت کے لیے کوئی حتمی اور یقننی دلیل بھی فراہم نہیں کی جاتی-دین اسلام اللہ تعالی کی طرف سے نازل کردہ ہے اور اس میں کسی بھی قسم کی کمی وبیش کا اختیار نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس بھی نہیں تھا تو ایک عام آدمی کو دین کے معاملے میں گفتگو کرتے وقت محتاط رویہ اختیار کرنا چاہیے-عورت اور مرد کی نماز کی ادائیگی میں بہت سارے فرق بیان کیے جاتے ہیں مثال کے طور پر عورت قیام کی حالت میں اپنے ہاتھ سینے پر باندھے کی جبکہ مرد سینے سے نیچے باندھے کأ اور اس کی دلیل کیا ہے؟یہ کوئی بھی پیش نہیں کرتا-اسی طرح عورت رکوع ،سجدے اور تشہد میں بیٹھنے میں فرق ہے لیکن اس کے ثبوت کے لیے قرآن وسنت سے کوئی صریح دلیل پیش نہیں کی جاتی-اس حوالے سے پائے جانے شبہات کا ازالے کے لیے حافظ صلاح الدین یوسف صاحب نے زیر نظر کتاب میں قلم اٹھایا ہے- انہوں نے اس حوالے سے چھپنے والے مضامین اور کتابچوں کا تفصیلی جواب دیتے ہوئے کتاب و سنت، آثار صحابہ اور اقوال تابعین کی روشنی میں ثابت کیاہے کہ مرد وعورت کی نماز میں کوئی فرق نہیں ہے- انہوں نے آئمہ اربعہ اور دیگر علماء کرام کی رائے کو سامنے رکھتے ہوئے اپنے موقف کو پیش کیا ہے-

    title-pages-riaz-al-saliheen--urdu--1-copy
    یحیٰ بن شرف النووی

    "ریاض الصالحین" ساتویں صدی ہجری کے امام ابو زکریا یحییٰ بن شرف النووی﷫ کی ایسی عظیم الشان تالیف ہے جسے حسن قبول حاصل ہے۔اس میں عام آدمی کودرپیش تمام مسائل کا حل قرآن کریم کی آیات اور منتخب صحیح احادیث کی روشنی میں پیش کیا گیا ہے عبادات سے لے کر معاملات تک اور معاشرت سے لے کر سیاسیات تک، زندگی کے تمام اہم شعبوں کے لیے قرآن و حدیث سے جس طرح رہنمائی مہیا فرمائی گئی ہے، اس نے اسے اسلامی لٹریچر میں ایک نمایاں اور ممتاز مقام عطا کیا ہے اور اسی وجہ سے اسے ہر طبقے میں یکساں مقبولیت حاصل ہے۔ یہ ایک بہترین تبلیغی نصاب ہے جو قرآنی آیات اور صحیح احادیث سے مزین ہے اور ضعیف و موضوع روایات اور من گھڑت قصے کہانیوں سے پاک، جو اس لائق ہے کہ عوام اسے حرز جاں اور آویزۂ گوش بنائیں۔ یہ ایک ضابطہ حیات ہے جس کی روشنی میں ایک مسلمان اپنے شب و روز کے معمولات مرتب کر سکتا ہے اور ایک ایسا آئینہ ہے جس کو سامنے رکھ کر اپنے اخلاق و کردار کی کوتاہیوں کو دور کیا جا سکتا ہے۔ اس کتاب کی اسی اہمیت کی وجہ سےعربی زبان میں اس کی متعدد شروع لکھی گئی ہیں اور اردو زبان میں بھی اس کے متعدد تراجم ہوئے ہیں۔ان میں سے زیر تبصرہ مفسر قرآن حافظ صلاح الدین ﷾ کا ترجمہ بمع مختصر فوائد انتہائی اہم ہے۔ یہ اردو ترجمہ نہایت آسان ، دلکش اور عام فہم ہے ۔ہر حدیث کا ٹھیک ٹھیک مفہوم اجاگر کرنے کےلیے اس کی جامع شرح بھی لکھی گئی ہے۔اس عظیم کتاب کےزیر نظر جدید ایڈیشن میں احادیث کے فوائد میں مزید اضافے ،تخریج وتحقیق اورراویوں کےمختصر حالات زندگی بھی درج ہیں جس سے کتاب کی افادیت میں مزید اضافہ ہوگیاہے۔یہ کتاب احادیث نبویہ پرمشتمل بیش قیمت خوبصور ت تحفہ ہے۔ علمائے کرام خطباء اور واعظوں کے ساتھ ساتھ طالبانِ حدیث نبوی اور عام قارئین اس سے مستفیدہوکر ہر قدم پر رہنمائی حاصل کرسکتے ہیں ۔اللہ تعالی ٰ اس کو اس قدر عمدگی سے تیار کرنے والوں او رناشرین کی اس کاوش کوقبول فرمائے (آمین) (م۔ا)

    title-pages-riaz-al-saliheen--urdu--2-copy
    یحیٰ بن شرف النووی

    "ریاض الصالحین" ساتویں صدی ہجری کے امام ابو زکریا یحییٰ بن شرف النووی﷫ کی ایسی عظیم الشان تالیف ہے جسے حسن قبول حاصل ہے۔اس میں عام آدمی کودرپیش تمام مسائل کا حل قرآن کریم کی آیات اور منتخب صحیح احادیث کی روشنی میں پیش کیا گیا ہے عبادات سے لے کر معاملات تک اور معاشرت سے لے کر سیاسیات تک، زندگی کے تمام اہم شعبوں کے لیے قرآن و حدیث سے جس طرح رہنمائی مہیا فرمائی گئی ہے، اس نے اسے اسلامی لٹریچر میں ایک نمایاں اور ممتاز مقام عطا کیا ہے اور اسی وجہ سے اسے ہر طبقے میں یکساں مقبولیت حاصل ہے۔ یہ ایک بہترین تبلیغی نصاب ہے جو قرآنی آیات اور صحیح احادیث سے مزین ہے اور ضعیف و موضوع روایات اور من گھڑت قصے کہانیوں سے پاک، جو اس لائق ہے کہ عوام اسے حرز جاں اور آویزۂ گوش بنائیں۔ یہ ایک ضابطہ حیات ہے جس کی روشنی میں ایک مسلمان اپنے شب و روز کے معمولات مرتب کر سکتا ہے اور ایک ایسا آئینہ ہے جس کو سامنے رکھ کر اپنے اخلاق و کردار کی کوتاہیوں کو دور کیا جا سکتا ہے۔ اس کتاب کی اسی اہمیت کی وجہ سےعربی زبان میں اس کی متعدد شروع لکھی گئی ہیں اور اردو زبان میں بھی اس کے متعدد تراجم ہوئے ہیں۔ان میں سے زیر تبصرہ مفسر قرآن حافظ صلاح الدین ﷾ کا ترجمہ بمع مختصر فوائد انتہائی اہم ہے۔ یہ اردو ترجمہ نہایت آسان ، دلکش اور عام فہم ہے ۔ہر حدیث کا ٹھیک ٹھیک مفہوم اجاگر کرنے کےلیے اس کی جامع شرح بھی لکھی گئی ہے۔اس عظیم کتاب کےزیر نظر جدید ایڈیشن میں احادیث کے فوائد میں مزید اضافے ،تخریج وتحقیق اورراویوں کےمختصر حالات زندگی بھی درج ہیں جس سے کتاب کی افادیت میں مزید اضافہ ہوگیاہے۔یہ کتاب احادیث نبویہ پرمشتمل بیش قیمت خوبصور ت تحفہ ہے۔ علمائے کرام خطباء اور واعظوں کے ساتھ ساتھ طالبانِ حدیث نبوی اور عام قارئین اس سے مستفیدہوکر ہر قدم پر رہنمائی حاصل کرسکتے ہیں ۔اللہ تعالی ٰ اس کو اس قدر عمدگی سے تیار کرنے والوں او رناشرین کی اس کاوش کوقبول فرمائے (آمین) (م۔ا)

    untitled-1
    یحیٰ بن شرف النووی

    "ریاض الصالحین" ساتویں صدی ہجری کے امام نووی ؒ کی ایسی تالیف ہے جسے حسن قبول حاصل ہے۔ عبادات سے لے کر معاملات تک اور معاشرت سے لے کر سیاسیات تک، زندگی کے تمام اہم شعبوں کے لیے قرآن و حدیث سے جس طرح رہنمائی  مہیا فرمائی گئی ہے، اس نے اسے اسلامی لٹریچر میں ایک نمایاں اور ممتاز مقام عطا کیا ہے اور اسی وجہ سے اسے ہر طبقے میں یکساں مقبولیت حاصل ہے۔ یہ ایک بہترین تبلیغی نصاب ہے جو قرآنی آیات اور صحیح احادیث سے مزین ہے اور ضعیف و موضوع روایات اور من گھڑت قصے کہانیوں سے پاک، جو اس لائق ہے کہ عوام اسے حرز جاں اور آویزۂ گوش بنائیں۔ یہ ایک ضابطہ حیات ہے جس کی روشنی میں ایک مسلمان اپنے شب و روز کے معمولات مرتب کر سکتا ہے اور ایک ایسا آئینہ ہے جس کو سامنے رکھ کر اپنے اخلاق و کردار کی کوتاہیوں کو دور کیا جا سکتا ہے۔

    اس کتاب کی اسی اہمیت کی وجہ سے اردو میں اس کے متعدد تراجم ہوئے ہیں۔ لیکن عوام ان سے پوری طرح فیض یاب نہیں ہو سکتے کیوں کہ محدود علم اور غور و فہم کی کم استعداد  کی بناء پر بہت سے مقامات ان کے لئے الجھن کا سبب بنتے ہیں۔ لہٰذا اس عظیم الشان کتاب میں ترجمے کے ساتھ مختصر تشریح اور فوائد کا بھی اضافہ کیا گیا ہے، تاکہ ایک تو حدیث کا صحیح مفہوم واضح ہو جائے۔ دوسرے، پیدا ہو سکنے والے اشکالات کا ازالہ ہو جائے اور تیسرے حدیث سے جو اسباق اور فوائد حاصل ہوتے ہیں، وہ نمایاں اور اجاگر ہو کر سامنے آجائیں۔ چنانچہ ہر حدیث کے بعد فوائد کا اس میں اضافہ ہے اور اسی طرح بہت سے مقامات پر فوائد آیات بھی۔ دوسری امتیازی خوبی یہ ہے کہ اس میں تخریج کے عنوان سے ہر حدیث کا مکمل حوالہ نقل کر دیا گیا ہے۔

    اس کتاب کی اکثر احادیث صحیح بخاری و صحیح مسلم کی ہیں، اس لیے صحت کے اعتبار سے وہ مستند ترین ہیں۔ تاہم کچھ روایات سنن اربعہ (ابو داؤد، ترمذی، نسائی اور ابن ماجہ) اور کچھ مؤطا امام مالک ، مستدرک حاکم اور بیہقی وغیرہ کی بھی ہیں۔ ان میں بعض روایات سنداً ضیف ہیں ۔ اس کتاب میں ایسی روایات کے ضعف کو واضح کر دیا گیا ہے۔ ضعف کے علل و اسباب تو بیان نہیں کئے گئے ہیں تاہم اس کا حکم بیان کر دیا گیا ہے اور اس میں زیادہ تر اعتماد شیخ ناصر الدین البانی رحمہ اللہ کی تحقیق پر کیا گیا ہے۔

    Title Page---Riaz us Saliheen Jild 1
    یحیٰ بن شرف النووی

    "ریاض الصالحین" ساتویں صدی ہجری کے امام نووی ؒ کی ایسی تالیف ہے جسے حسن قبول حاصل ہے۔ عبادات سے لے کر معاملات تک اور معاشرت سے لے کر سیاسیات تک، زندگی کے تمام اہم شعبوں کے لیے قرآن و حدیث سے جس طرح رہنمائی  مہیا فرمائی گئی ہے، اس نے اسے اسلامی لٹریچر میں ایک نمایاں اور ممتاز مقام عطا کیا ہے اور اسی وجہ سے اسے ہر طبقے میں یکساں مقبولیت حاصل ہے۔ یہ ایک بہترین تبلیغی نصاب ہے جو قرآنی آیات اور صحیح احادیث سے مزین ہے اور ضعیف و موضوع روایات اور من گھڑت قصے کہانیوں سے پاک، جو اس لائق ہے کہ عوام اسے حرز جاں اور آویزۂ گوش بنائیں۔ یہ ایک ضابطہ حیات ہے جس کی روشنی میں ایک مسلمان اپنے شب و روز کے معمولات مرتب کر سکتا ہے اور ایک ایسا آئینہ ہے جس کو سامنے رکھ کر اپنے اخلاق و کردار کی کوتاہیوں کو دور کیا جا سکتا ہے۔

    اس کتاب کی اسی اہمیت کی وجہ سے اردو میں اس کے متعدد تراجم ہوئے ہیں۔ لیکن عوام ان سے پوری طرح فیض یاب نہیں ہو سکتے کیوں کہ محدود علم اور غور و فہم کی کم استعداد  کی بناء پر بہت سے مقامات ان کے لئے الجھن کا سبب بنتے ہیں۔ لہٰذا اس عظیم الشان کتاب میں ترجمے کے ساتھ مختصر تشریح اور فوائد کا بھی اضافہ کیا گیا ہے، تاکہ ایک تو حدیث کا صحیح مفہوم واضح ہو جائے۔ دوسرے، پیدا ہو سکنے والے اشکالات کا ازالہ ہو جائے اور تیسرے حدیث سے جو اسباق اور فوائد حاصل ہوتے ہیں، وہ نمایاں اور اجاگر ہو کر سامنے آجائیں۔ چنانچہ ہر حدیث کے بعد فوائد کا اس میں اضافہ ہے اور اسی طرح بہت سے مقامات پر فوائد آیات بھی۔ دوسری امتیازی خوبی یہ ہے کہ اس میں تخریج کے عنوان سے ہر حدیث کا مکمل حوالہ نقل کر دیا گیا ہے۔

    اس کتاب کی اکثر احادیث صحیح بخاری و صحیح مسلم کی ہیں، اس لیے صحت کے اعتبار سے وہ مستند ترین ہیں۔ تاہم کچھ روایات سنن اربعہ (ابو داؤد، ترمذی، نسائی اور ابن ماجہ) اور کچھ مؤطا امام مالک ، مستدرک حاکم اور بیہقی وغیرہ کی بھی ہیں۔ ان میں بعض روایات سنداً ضیف ہیں ۔ اس کتاب میں ایسی روایات کے ضعف کو واضح کر دیا گیا ہے۔ ضعف کے علل و اسباب تو بیان نہیں کئے گئے ہیں تاہم اس کا حکم بیان کر دیا گیا ہے اور اس میں زیادہ تر اعتماد شیخ ناصر الدین البانی رحمہ اللہ کی تحقیق پر کیا گیا ہے۔

اس سائٹ پر کوئی ایسی کتاب موجود نہیں جس کی ترتیب و تخریج ان صاحب نے کی ہو۔
title-pages-aao-la-ilaha-illallah-ki-tarf
عقیدہ توحید کی بنیاد لا الہ الا اللہ پر ہے۔ جس نے صدق دل سے اس کو پڑھا، سمجھا اور عمل کیا دنیا و عاقبت میں اس کی کامیابی پر شک کی گنجائش نہیں رہتی۔ زیر نظر مختصر سے رسالہ میں اس مبارک کلمہ کے ضمن میں عقیدہ توحید کی وضاحت کرتے ہوئے تمام مسلمانوں کو ایک جھنڈے تلے جمع ہونے کا درس دیا گیا ہے۔ توحید و شرک کے موضوع پر بہت سی ضخیم کتب لکھی جاچکی ہیں لیکن افادہ عام کے لیے یہ مختصر سی کتاب بے نظیر ہے۔












title-pages-islam-me-bachon-ki-taleem-w-tarbiyat-copy

اولاد کی تربیت صالح ہوتو ایک نعمت ہے وگرنہ یہ ایک فتنہ اور وبال بن جاتی ہے ۔ دین وشریعت میں اولاد کی تربیت کے لیے ایک فریضہ کی حیثیت رکھتی ہے ۔ کیونکہ جس طرح والدین کے اولاد پر حقوق ہیں اسی طرح اولاد کےوالدین پر حقوق ہیں اور جیسے اللہ تعالیٰ نے ہمیں والدین کےساتھ نیکی کرنے کا حکم دیا ہے ایسے ہی اس نے ہمیں اولاد کےساتھ احسان کرنے کا بھی حکم دیا ہے ۔ان کے ساتھ احسان اور ان کی بہترین تربیت کرنا دراصل امانت صحیح طریقے سے ادا کرنا ہے اورانکو آزاد چھوڑنا اور ان کے حقوق میں کوتاہی کرنا دھوکہ اور خیانت ہے۔ کتاب وسنت کے دلائل میں اس بات کا واضح حکم ہے کہ اولاد کے ساتھ احسان کیا جائے ۔ ان کی امانت کوادا کیا جائے ، ان کوآزاد چھوڑنے اوران کےحقوق میں کتاہیوں سے بچا جائے ۔کیونکہ اللہ تعالیٰ کی بے شمار نعمتوں میں سے ایک بہت بڑی نعمت اولاد بھی ہے ۔ اور اس بات میں کوئی شک نہیں کہ اگر اولاد کی صحیح تربیت کی جائے تو وہ آنکھوں کا نور اور دل کا سرور بھی ہوتی ہے ۔ لیکن اگر اولاد بگڑ جائے اور اس کی صحیح تربیت نہ کی جائے تو وہی اولاد آزمائش بن جاتی ہے ۔ زیر تبصرہ کتاب’’اسلام میں بچوں کی تعلیم و تربیت والدین اور اساتذہ کی ذمہ داریاں ‘‘سعودی عرب کے معروف عالم دین شیخ محمد بن جمیل زینو ﷾ کی تربیت اولاد کے موضوع پر ایک عربی تصنیف کا ترجمہ ہے۔اس کتاب میں شیخ موصوف نے مستقبل کےمعمار امت کی امیدوں کےمرکز اور حسین خوابوں کی تعبیر ،نونہالان ملت کی تعلیم وتربیت کو موضوع بنایا ہے اور اس کی قدر واہمیت کو اجاگر کیا ہے ۔اور تقریباً ان تمام باتوں کا احاطہ کر نےکی کوشش کی ہے جن سے معلوم ہوسکے کہ مسلمان بچوں کی تربیت کےلیے کون سے امور ضروری ہیں اوران کی مکمل تہذیب کے لیے کن باتوں سے پرہیز لازم ہے۔مربی اورمعلم خواہ والدین ہوں یا اساتذہ ،وہ بچوں کی تربیت کیسے کریں؟ اوران میں اسلامی صفات کا شعور کیسے بیدار کریں؟ اس کتاب کا سب سے اہم حصہ ہے ۔یہ کتاب اپنےبچوں کے مستقبل کوسنوارنے او راسلامی منہج پر صحیح تربیت کرنےکے لیےبہترین کتاب ہے ۔طلبہ ، اساتذہ اور والدین سب کےلیے بہترین اور یکساں افادیت کی حامل ہے ۔ شیخ جمیل زینو ﷾اس کتاب کے علاوہ متعدد مفید علمی کتب کے مؤلف ہیں ان میں سے کئی کتب کے اردو تراجم بھی ہوچکے ہیں۔ ۔ اللہ تعالیٰ اسے مؤلف،مترجم، ناشر اوراس کی طباعت میں معاونت کرنے والوں کے لیے ذریعہ نجات بنائے اور امت مسلمہ کے بچوں کو حسن اخلاق او رتعلیم اسلام کی دولت سے مالا مال کرے۔(آمین) (م۔ا)

title-pages-touheed-aur-humm-copy

اخروی  نجات ہر مسلمان کا مقصد زندگی  ہے  جو صرف اور صرف توحید خالص پرعمل پیرا ہونے سے پورا ہوسکتا ہے۔ جبکہ مشرکانہ عقائد واعمال انسان کو تباہی کی راہ پر ڈالتے ہیں جیسا کہ قرآن کریم نے  مشرکوں کے لیے  وعید سنائی ہے ’’ اللہ تعالیٰ شرک کو ہرگز معاف نہیں کرے گا او اس کے سوا جسے  چاہے معاف کردے گا۔‘‘ (النساء:48) لہذا شرک کی الائشوں سے بچنا  ایک مسلمان کے لیے ضروری  ہے ۔اس کے بغیر آخرت کی نجات ممکن ہی نہیں ۔ حضرت  نوح   نے ساڑے نوسوسال کلمۂ توحید کی  طرف لوگوں کودعوت دی ۔ اور   اللہ کے آخری  رسول سید الانبیاء خاتم النبین حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ نےبھی عقید ۂ  توحید کی دعوت کے لیے کس قدر محنت کی اور اس  فریضہ کو سر انجام دیا  کہ جس کے بدلے   آپ ﷺ کو طرح طرح کی تکالیف ومصائب سے دوچار ہوناپڑا۔ عقیدہ توحید کی تعلیم وتفہیم کے لیے   جہاں نبی  کریم ﷺ او رآپ  کے صحابہ کرا م   نے بے شمار قربانیاں دیں اور تکالیف کو برداشت کیا  وہاں  علمائے اسلام نےبھی عوام الناس کوتوحید اور شرک کی حقیقت سےآشنا کرنے کےلیے  دن رات اپنی  تحریروں اور تقریروں میں اس کی اہمیت کو  خوب واضح کیا ۔ہنوز یہ  سلسلہ جاری  وساری ہے۔زیر تبصرہ کتاب بھی اسی سلسلہ کی ایک کڑی ہے ۔اس کتاب  میں مصنف نے  توحید وشرک  کی حقیقت کو سادہ اور دل نشیں الفاظ میں بیان کردیا ہے ۔ اس کھلے دل ودماغ سے پڑھنے  والا شرک اوراس کے تمام مظاہر سے بچ کر خلوص دل سے توحید الٰہی کوحرزِ جاں بنائے گا  تو دنیا اورآخرت میں یقیناً فوز وفلاح کا مستحق ٹھرے گا ۔اس میں قرآنی حقائق اور نبی کریم ﷺ کی پاکیزہ سیرت کی روشنی میں توحید کا اثبات اور شرک کا رد کرنے کے علاوہ سفارش ، وسیلہ، معجزہ اور کرامت کے متعلق مسلمانوں میں پھیلی ہوئی غلط فہمیوں کا مدلل طریقے سے ازالہ کیا گیا ہے۔اللہ تعالیٰ مصنف وناشرین کی کاوش کو قبول فرمائے (آمین) (م۔ا)

title-pages-touheed-aur-humm--jadeed-audition--copy

اخروی  نجات ہر مسلمان کا مقصد زندگی  ہے  جو صرف اور صرف توحید خالص پرعمل پیرا ہونے سے پورا ہوسکتا ہے۔ جبکہ مشرکانہ عقائد واعمال انسان کو تباہی کی راہ پر ڈالتے ہیں جیسا کہ قرآن کریم نے  مشرکوں کے لیے  وعید سنائی ہے ’’ اللہ تعالیٰ شرک کو ہرگز معاف نہیں کرے گا او اس کے سوا جسے  چاہے معاف کردے گا۔‘‘ (النساء:48) لہذا شرک کی الائشوں سے بچنا  ایک مسلمان کے لیے ضروری  ہے ۔اس کے بغیر آخرت کی نجات ممکن ہی نہیں ۔ حضرت  نوح   نے ساڑے نوسوسال کلمۂ توحید کی  طرف لوگوں کودعوت دی ۔ اور   اللہ کے آخری  رسول سید الانبیاء خاتم النبین حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ نےبھی عقید ۂ  توحید کی دعوت کے لیے کس قدر محنت کی اور اس  فریضہ کو سر انجام دیا  کہ جس کے بدلے   آپ ﷺ کو طرح طرح کی تکالیف ومصائب سے دوچار ہوناپڑا۔ عقیدہ توحید کی تعلیم وتفہیم کے لیے   جہاں نبی  کریم ﷺ او رآپ  کے صحابہ کرا م   نے بے شمار قربانیاں دیں اور تکالیف کو برداشت کیا  وہاں  علمائے اسلام نےبھی عوام الناس کوتوحید اور شرک کی حقیقت سےآشنا کرنے کےلیے  دن رات اپنی  تحریروں اور تقریروں میں اس کی اہمیت کو  خوب واضح کیا ۔ہنوز یہ  سلسلہ جاری  وساری ہے۔ زیر تبصرہ کتاب بھی اسی سلسلہ کی ایک کڑی ہے ۔اس کتاب  میں مصنف نے  توحید وشرک  کی حقیقت کو سادہ اور دل نشیں الفاظ میں بیان کردیا ہے ۔   اوراللہ تعالیٰ کے بارے میں مذاہب باطلہ کا تصور پیش کرنے کےبعد سفارش کی حقیقت بیان کی ہے او راس ضمن میں قرآنی حقائق سے استشہاد کیا ہے ۔ حضرت نوح  ، اصحاب کہف اور عزیر   کے قصوں اور ﷩قرآنی آیات سے خالص توحید کو اجاگر کیا ہے ۔ انہوں نے وسیلے کی حقیقت اوراسے  اختیار کرنےکا طریقہ انبیائے کرام ﷩ کی پاکیزہ سیرت کی پیروی میں دکھایا ہے ، نیز قرآن کریم  کی روشنی میں  معجزہ اور کرامات کی حقیقت کھول کر بیان کردی ہے ۔اسے کھلے دل ودماغ سے پڑھنے  والا شرک اوراس کے تمام مظاہر سے بچ کر خلوص دل سے توحید الٰہی کوحرزِ جاں بنائے گا  تو دنیا اورآخرت میں یقیناً فوز وفلاح کا مستحق ٹھرے گا ۔ زیر  نظر ایڈیشن کتاب ’’ توحید او رہم ‘‘  کا نیو ایڈیشن ہے  اسے  دورنگوں میں قرآنی  آیات کی خوبصورت کتابت کےساتھ شائع کیاگیا ہے ۔نیز تخریج اور تنقیح کا اہتمام کرنےک ساتھ ساتھ  چند ایک ضعیف احادیث  خارج کر کے ان کی بجائے صحیح احادیث درج کی گئی ہیں ۔اللہ تعالیٰ مصنف وناشرین کی کاوش کو قبول فرمائے (آمین) (م۔ا)

title-pages-jinnati-aur-shaitani-chalon-ka-torr
جادو کرنا یعنی سفلی اور کالے  علم کے ذریعہ سے لوگوں کے ذہنوں او رصلاحیتوں کو مفلوج کرنا  او ران کو آلام ومصائب سے دوچار کرنے کی مذموم سعی کرنا  ایک کافرانہ عمل  ہے  یعنی  اس کا  کرنے والا دائرہ اسلام سے نکل جاتا  اورکافر ہوجاتا ہے  یہ مکروہ عمل  کرنے والے  تھوڑے  سے نفع کے لیے  لوگوں کی زندگیوں سے کھیلتے  اور ان کے امن وسکون کوبرباد کرتے ہیں  جولوگ  ان مذموم کاروائیوں کا شکار ہوتے ہیں  وہ عام طور پر اللہ کی یاد سے غافل ہوتے ہیں  اس لیے  ان موقعوں پربھی  وہ اللہ کی طرف رجوع کرنے  کی بجائے انہی عاملوں اورنجومیوں کی طرف رجوع کرتے ہیں   جناتی  وشیطانی  چالوں اور جادوکے  توڑ اور شرعی علاج کے  حوالے سے  بازار میں کئی کتب موجود ہیں۔زیر نظر کتاب بھی  انہی مشکلات کے حل ،جادو  اور کہانت کے توڑ کےلیے  تحریرکی  گئی  ہے یہ   کتاب  میں بازار میں  موجود دیگر کتب کی نسبت  درج ذیل امتیازی  خوبیوں کی حامل ہے 1۔یہ کتاب سعودی عرب کے مفتی ٔ اعظم اورعالم اسلام کی عظیم شخصیت  شیخ ابن باز ﷫ کی خواہش اور ایما پر لکھی  گئی ہے جس  کی وجہ سے اسے  استناد کا  بلند درجہ حاصل ہے 2۔ اس میں قران وحدیث کی تعلیمات او راسلاف کے عملی تجربات سے  انحراف نہیں کیا گیا3۔ اس میں کوئی بات بلا حوالہ نہیں  ہے 4۔جادو کےتوڑ کے لیے شرعی تدبیریں ،دعائیں اور طریقے  مع حوالہ ذکر کرکے غیر شرعی طریقوں کی وضاحت کر کے  ان  سے اجتناب کی تلقین بھی کی گئی ہے ۔ان اعتبارات سےیہ کتاب اپنے موضوع  کی جامع ترین کتاب ہے  اللہ  تعالی اس کو عوام الناس کے لیے نفع بخش بنائے اور  اس کتاب پر کام کرنے والی ٹیم کے جملہ اراکین وعلماء ومحققین کی کوششوں کو شرف  قبولیت بخشے  (آمین)(م۔ا)
pages-from-khawateen-ka-masjad-mein-namaz-ba-jamaat-parhney-ka-masla

اسلام نے جہاں خواتین کوبے شمار حقوق عطا کیے ہیں وہاں نیک کام کرنے اور عبادات انجام دینے کے بھر پور مواقع بھی فراہم کیے ہیں ۔ بلاشبہ خواتین کےلیے پانچ وقت کی نمازوں کی ادائیگی گھر کی چاردیواری میں افضل ہے مگر اسے مسجد میں حاضر ہوکر نماز ادا کرنے کی اجازت دی گئی ہے اور صحابیات کا مسجدِ نبوی ﷺمیں نماز پڑھنا ثابت ہے ۔مگر بعض لوگ خواتین کی مسجد میں حاضری اور نماز عیدین میں شرکت کوفتنہ سمجھتے ہیں   اور اپنے اختیار کردہ نظریئے کو صحیح ثابت کرنے کے لیے احادیثِ صحیحہ کی بے جا تاویلات کر کے انہیں ردکرنے کی ناکام کوشش کرتے ہیں۔ زیر تبصرہ کتاب ’’ خواتین کامسجد میں نماز باجماعت پڑھنے کا مسئلہ ‘‘ محترم جناب محمد ایوب سپرا ﷾کی کاوش ہے۔ جس میں نہایت سنجیدگی کے ساتھ دلائل کی روشنی میں ثابت کیا ہےکہ شریعتِ اسلامیہ نے خواتین کو مسجد میں آکر نماز ادا کرنے اور نماز عیدین میں شرکت کی اجازت دی ہے۔ اس کتابچہ میں خواتین سے متعلق تین موضوعات کو زیر بحث لایا گیا ہے۔ خواتین کاطریقہ نماز،خواتین کے لیے نماز باجماعت کےلیے مسجد میں آنے کا حکم، خواتین کےلیےمسجد جانے کی آداب۔ مفسر قرآن حافظ صلاح الدین یوسف ﷾ کی کتاب ہذا پر نظر ثانی سے کتاب کی افادیت میں مزید اضافہ ہوگیاہے۔ اللہ تعالیٰ مرتب وناشرین کی اس کاوش کو قبول فرمائے اور اسے عوام الناس کےلیے نفع بخش بنائے۔ آمین( م۔ا)

title-pages-rahe-hadayat-copy

قرآن مجید اللہ تعالی  نے   نبی کریم ﷺ پر لوگوں کی  ہدایت ونصیحت کے لیے   نازل فرمایا کہ انسان کو اس دنیا میں کس طرح زندگی بسر کرنا ہے۔اورزندگی  گزارنے کے لیے  دین ِاسلام کے قوانین کیا اوران کی  خلاف ورزی پر کیا سزائیں ہیں۔  قرآن میں بیان  کردہ  احکا م   سے تبہی واقف ہو اجاسکتا کہ جب  اس کو   ترجمہ  وتفسیر سے  پڑھا جائے اور اس   کی تعلیم وتفہیم کی  کوشش کی جائے ۔زیر نظر کتاب ’’راہ ہدایت ‘‘ چوہدری جواد سلیم  صاحب کی مرتب شدہ ہے اس میں  انہوں نےمنتخب   قرآنی  آیات کو موضوعات کے لحاظ سے  ترتیب دے  کر  ان کا ترجمہ وتشریح معتبر اور مستند تفاسیر سے  نقل کی ہے ۔جن لوگوں کے پاس  پورا قرآن مجید کا ترجمہ وتفسیر کے پڑہنے کی فرصت  نہیں ان کےلیے   یہ   کتاب انتہائی اہم ہے ۔مفسر  قرآن  حافظ صلاح الدین  یوسف ﷾ کی  اس کتاب پر  نظر ثانی  سےاس  کی   افادیت میں مزید اضافہ ہوگیا ہے ۔اللہ تعالی ٰ ان کی  اس کاوش کوقبول فرمائے اوراسے  عوام االناس کےلیے  مفید بنائے (آمین) (م۔ا)  

 نوٹ:

محدث فورم میں اس کتاب پر تبصرہ کرنے کے لیے یہاں کلک کریں

title-page-sunan-ibne-maja-1

اس وقت آپ کے سامنے صحاح ستہ کی آخری کتاب ’سنن ابن ماجہ‘ کا سلیس اور رواں اردو ترجمہ ہے۔ صحاح ستہ میں سے بخاری و مسلم کی تمام احادیث کی صحت پر محدثین متفق ہیں لیکن بقیہ چار کتب ایسی ہیں جن میں صحیح احادیث کے ساتھ ساتھ ضعیف احادیث بھی شامل ہیں۔سنن ابن ماجہ کو پانچویں صدی ہجری کے آخر میں کتب ستہ میں شمار کیا جانے لگا۔اس کے بعد ہر دور میں یہ  کتاب اپنی حیثیت منواتی گئی ۔ صحت و قوت کے لحاظ سے صحیح ابن حبان، سنن دار قطنی اور دوسری کئی کتب سنن ابن ماجہ سے برتر تھیں لیکن ان کتب کو وہ پذیرائی اور قبول عام حاصل نہ ہوسکا جو سنن ابن ماجہ کو حاصل ہوا۔’سنن ابن ماجہ‘ کا اسلوب نہایت شاندار ہے اور تراجم ابواب کی احادیث کی مطابقت نہایت واضح ہے۔ کتاب مختصر ہونے کے باوجود احکام و مسائل میں نہایت جامع ہے۔ امام ابن ماجہ نے اپنی سنن میں 482 ایسی صحیح احادیث کا اضافہ کیا ہے جو باقی کتب خمسہ میں نہیں ہیں۔ ’سنن ابن ماجہ‘ کی اسی اہمیت کےپیش نظر مولانا عطاء اللہ ساجد نے افادہ عام کے لیے اسے اردو میں منتقل کرنے کا بیڑہ اٹھایا۔ مولانا نے کتاب کا عمدہ ترجمہ کرنے کے ساتھ ساتھ ہر حدیث سے ثابت ہونے والے فوائد کا بھی متصل تذکرہ کیا ہے۔ حافظ صلاح الدین یوسف صاحب کی نظر ثانی اور تصحیح و اضافات نے کتاب کی افادیت کو بڑھا دیا ہے۔ تخریج و تحقیق کے لیے حافظ زبیر علی زئی کی خدمات حاصل کی گئی ہیں انہوں نے ہر حدیث پر اپنی تحقیق کے مطابق حکم لگایا ہے کہ وہ صحیح، حسن یا ضعیف ہے۔

 

title-pages-sunan-ibne-maja-2

اس وقت آپ کے سامنے صحاح ستہ کی آخری کتاب ’سنن ابن ماجہ‘ کا سلیس اور رواں اردو ترجمہ ہے۔ صحاح ستہ میں سے بخاری و مسلم کی تمام احادیث کی صحت پر محدثین متفق ہیں لیکن بقیہ چار کتب ایسی ہیں جن میں صحیح احادیث کے ساتھ ساتھ ضعیف احادیث بھی شامل ہیں۔سنن ابن ماجہ کو پانچویں صدی ہجری کے آخر میں کتب ستہ میں شمار کیا جانے لگا۔اس کے بعد ہر دور میں یہ  کتاب اپنی حیثیت منواتی گئی ۔ صحت و قوت کے لحاظ سے صحیح ابن حبان، سنن دار قطنی اور دوسری کئی کتب سنن ابن ماجہ سے برتر تھیں لیکن ان کتب کو وہ پذیرائی اور قبول عام حاصل نہ ہوسکا جو سنن ابن ماجہ کو حاصل ہوا۔’سنن ابن ماجہ‘ کا اسلوب نہایت شاندار ہے اور تراجم ابواب کی احادیث کی مطابقت نہایت واضح ہے۔ کتاب مختصر ہونے کے باوجود احکام و مسائل میں نہایت جامع ہے۔ امام ابن ماجہ نے اپنی سنن میں 482 ایسی صحیح احادیث کا اضافہ کیا ہے جو باقی کتب خمسہ میں نہیں ہیں۔ ’سنن ابن ماجہ‘ کی اسی اہمیت کےپیش نظر مولانا عطاء اللہ ساجد نے افادہ عام کے لیے اسے اردو میں منتقل کرنے کا بیڑہ اٹھایا۔ مولانا نے کتاب کا عمدہ ترجمہ کرنے کے ساتھ ساتھ ہر حدیث سے ثابت ہونے والے فوائد کا بھی متصل تذکرہ کیا ہے۔ حافظ صلاح الدین یوسف صاحب کی نظر ثانی اور تصحیح و اضافات نے کتاب کی افادیت کو بڑھا دیا ہے۔ تخریج و تحقیق کے لیے حافظ زبیر علی زئی کی خدمات حاصل کی گئی ہیں انہوں نے ہر حدیث پر اپنی تحقیق کے مطابق حکم لگایا ہے کہ وہ صحیح، حسن یا ضعیف ہے۔

 

title-pages-sunan-ebn-e-maja-3

اس وقت آپ کے سامنے صحاح ستہ کی آخری کتاب ’سنن ابن ماجہ‘ کا سلیس اور رواں اردو ترجمہ ہے۔ صحاح ستہ میں سے بخاری و مسلم کی تمام احادیث کی صحت پر محدثین متفق ہیں لیکن بقیہ چار کتب ایسی ہیں جن میں صحیح احادیث کے ساتھ ساتھ ضعیف احادیث بھی شامل ہیں۔سنن ابن ماجہ کو پانچویں صدی ہجری کے آخر میں کتب ستہ میں شمار کیا جانے لگا۔اس کے بعد ہر دور میں یہ  کتاب اپنی حیثیت منواتی گئی ۔ صحت و قوت کے لحاظ سے صحیح ابن حبان، سنن دار قطنی اور دوسری کئی کتب سنن ابن ماجہ سے برتر تھیں لیکن ان کتب کو وہ پذیرائی اور قبول عام حاصل نہ ہوسکا جو سنن ابن ماجہ کو حاصل ہوا۔’سنن ابن ماجہ‘ کا اسلوب نہایت شاندار ہے اور تراجم ابواب کی احادیث کی مطابقت نہایت واضح ہے۔ کتاب مختصر ہونے کے باوجود احکام و مسائل میں نہایت جامع ہے۔ امام ابن ماجہ نے اپنی سنن میں 482 ایسی صحیح احادیث کا اضافہ کیا ہے جو باقی کتب خمسہ میں نہیں ہیں۔ ’سنن ابن ماجہ‘ کی اسی اہمیت کےپیش نظر مولانا عطاء اللہ ساجد نے افادہ عام کے لیے اسے اردو میں منتقل کرنے کا بیڑہ اٹھایا۔ مولانا نے کتاب کا عمدہ ترجمہ کرنے کے ساتھ ساتھ ہر حدیث سے ثابت ہونے والے فوائد کا بھی متصل تذکرہ کیا ہے۔ حافظ صلاح الدین یوسف صاحب کی نظر ثانی اور تصحیح و اضافات نے کتاب کی افادیت کو بڑھا دیا ہے۔ تخریج و تحقیق کے لیے حافظ زبیر علی زئی کی خدمات حاصل کی گئی ہیں انہوں نے ہر حدیث پر اپنی تحقیق کے مطابق حکم لگایا ہے کہ وہ صحیح، حسن یا ضعیف ہے۔

 

title-pages-sunan-ebn-e-maja-4

اس وقت آپ کے سامنے صحاح ستہ کی آخری کتاب ’سنن ابن ماجہ‘ کا سلیس اور رواں اردو ترجمہ ہے۔ صحاح ستہ میں سے بخاری و مسلم کی تمام احادیث کی صحت پر محدثین متفق ہیں لیکن بقیہ چار کتب ایسی ہیں جن میں صحیح احادیث کے ساتھ ساتھ ضعیف احادیث بھی شامل ہیں۔سنن ابن ماجہ کو پانچویں صدی ہجری کے آخر میں کتب ستہ میں شمار کیا جانے لگا۔اس کے بعد ہر دور میں یہ  کتاب اپنی حیثیت منواتی گئی ۔ صحت و قوت کے لحاظ سے صحیح ابن حبان، سنن دار قطنی اور دوسری کئی کتب سنن ابن ماجہ سے برتر تھیں لیکن ان کتب کو وہ پذیرائی اور قبول عام حاصل نہ ہوسکا جو سنن ابن ماجہ کو حاصل ہوا۔’سنن ابن ماجہ‘ کا اسلوب نہایت شاندار ہے اور تراجم ابواب کی احادیث کی مطابقت نہایت واضح ہے۔ کتاب مختصر ہونے کے باوجود احکام و مسائل میں نہایت جامع ہے۔ امام ابن ماجہ نے اپنی سنن میں 482 ایسی صحیح احادیث کا اضافہ کیا ہے جو باقی کتب خمسہ میں نہیں ہیں۔ ’سنن ابن ماجہ‘ کی اسی اہمیت کےپیش نظر مولانا عطاء اللہ ساجد نے افادہ عام کے لیے اسے اردو میں منتقل کرنے کا بیڑہ اٹھایا۔ مولانا نے کتاب کا عمدہ ترجمہ کرنے کے ساتھ ساتھ ہر حدیث سے ثابت ہونے والے فوائد کا بھی متصل تذکرہ کیا ہے۔ حافظ صلاح الدین یوسف صاحب کی نظر ثانی اور تصحیح و اضافات نے کتاب کی افادیت کو بڑھا دیا ہے۔ تخریج و تحقیق کے لیے حافظ زبیر علی زئی کی خدمات حاصل کی گئی ہیں انہوں نے ہر حدیث پر اپنی تحقیق کے مطابق حکم لگایا ہے کہ وہ صحیح، حسن یا ضعیف ہے۔

 

title-pages-sunan-ebn-e-maja-5

اس وقت آپ کے سامنے صحاح ستہ کی آخری کتاب ’سنن ابن ماجہ‘ کا سلیس اور رواں اردو ترجمہ ہے۔ صحاح ستہ میں سے بخاری و مسلم کی تمام احادیث کی صحت پر محدثین متفق ہیں لیکن بقیہ چار کتب ایسی ہیں جن میں صحیح احادیث کے ساتھ ساتھ ضعیف احادیث بھی شامل ہیں۔سنن ابن ماجہ کو پانچویں صدی ہجری کے آخر میں کتب ستہ میں شمار کیا جانے لگا۔اس کے بعد ہر دور میں یہ  کتاب اپنی حیثیت منواتی گئی ۔ صحت و قوت کے لحاظ سے صحیح ابن حبان، سنن دار قطنی اور دوسری کئی کتب سنن ابن ماجہ سے برتر تھیں لیکن ان کتب کو وہ پذیرائی اور قبول عام حاصل نہ ہوسکا جو سنن ابن ماجہ کو حاصل ہوا۔’سنن ابن ماجہ‘ کا اسلوب نہایت شاندار ہے اور تراجم ابواب کی احادیث کی مطابقت نہایت واضح ہے۔ کتاب مختصر ہونے کے باوجود احکام و مسائل میں نہایت جامع ہے۔ امام ابن ماجہ نے اپنی سنن میں 482 ایسی صحیح احادیث کا اضافہ کیا ہے جو باقی کتب خمسہ میں نہیں ہیں۔ ’سنن ابن ماجہ‘ کی اسی اہمیت کےپیش نظر مولانا عطاء اللہ ساجد نے افادہ عام کے لیے اسے اردو میں منتقل کرنے کا بیڑہ اٹھایا۔ مولانا نے کتاب کا عمدہ ترجمہ کرنے کے ساتھ ساتھ ہر حدیث سے ثابت ہونے والے فوائد کا بھی متصل تذکرہ کیا ہے۔ حافظ صلاح الدین یوسف صاحب کی نظر ثانی اور تصحیح و اضافات نے کتاب کی افادیت کو بڑھا دیا ہے۔ تخریج و تحقیق کے لیے حافظ زبیر علی زئی کی خدمات حاصل کی گئی ہیں انہوں نے ہر حدیث پر اپنی تحقیق کے مطابق حکم لگایا ہے کہ وہ صحیح، حسن یا ضعیف ہے۔

 

title-page-abo-dawood-1

اس وقت آپ کے سامنے ’سنن ابو داؤد‘ کا اردو قالب ہے۔ ’ سنن ابو داؤد‘  احادیث نبویہ کا وہ عظیم دیوان ہے جسے ایک بندہ مسلم نہایت قدر کی نگاہ سے دیکھتا ہے اس میں فقہائے امت اور مفتیان شرع متین کے لیے وہ تمام حدیثی دلائل جمع کر دئیے گئے ہیں جو فقہائے اسلام نے اختیار کیے ہیں۔ اس امر کی ضرورت محسوس کی جا رہی تھی کہ اس کتاب کا ایک آسان ترجمہ مع فوائد و مسائل کے اردو دان طبقے کے سامنے پیش کی جائے جو ان کی روحانی غذا کا کام دے۔ لہذا اس ذمہ داری کو نبھانے کے لیے ابو عمار عمر فاروق سعیدی کا خدمات حاصل کی گئیں جنہوں نے احادیث کا سلیس اردو ترجمہ کرتے ہوئے ہر حدیث کے ساتھ مناسب فوائد کا تذکرہ کیا ہے۔ اس ترجمہ کی ایک خصوصیت یہ بھی ہے کہ احادیث کی تخریج و تحقیق کے فرائض حافظ زبیر زئی نے انجام دئیے ہیں جو لا ریب اس فن کے ماہرو شہسوار ہیں۔

 

title-page-abo-dawood2

اس وقت آپ کے سامنے ’سنن ابو داؤد‘ کا اردو قالب ہے۔ ’ سنن ابو داؤد‘  احادیث نبویہ کا وہ عظیم دیوان ہے جسے ایک بندہ مسلم نہایت قدر کی نگاہ سے دیکھتا ہے اس میں فقہائے امت اور مفتیان شرع متین کے لیے وہ تمام حدیثی دلائل جمع کر دئیے گئے ہیں جو فقہائے اسلام نے اختیار کیے ہیں۔ اس امر کی ضرورت محسوس کی جا رہی تھی کہ اس کتاب کا ایک آسان ترجمہ مع فوائد و مسائل کے اردو دان طبقے کے سامنے پیش کی جائے جو ان کی روحانی غذا کا کام دے۔ لہذا اس ذمہ داری کو نبھانے کے لیے ابو عمار عمر فاروق سعیدی کا خدمات حاصل کی گئیں جنہوں نے احادیث کا سلیس اردو ترجمہ کرتے ہوئے ہر حدیث کے ساتھ مناسب فوائد کا تذکرہ کیا ہے۔ اس ترجمہ کی ایک خصوصیت یہ بھی ہے کہ احادیث کی تخریج و تحقیق کے فرائض حافظ زبیر زئی نے انجام دئیے ہیں جو لا ریب اس فن کے ماہرو شہسوار ہیں۔

 

title-page-abo-dawood-jild-3

اس وقت آپ کے سامنے ’سنن ابو داؤد‘ کا اردو قالب ہے۔ ’ سنن ابو داؤد‘  احادیث نبویہ کا وہ عظیم دیوان ہے جسے ایک بندہ مسلم نہایت قدر کی نگاہ سے دیکھتا ہے اس میں فقہائے امت اور مفتیان شرع متین کے لیے وہ تمام حدیثی دلائل جمع کر دئیے گئے ہیں جو فقہائے اسلام نے اختیار کیے ہیں۔ اس امر کی ضرورت محسوس کی جا رہی تھی کہ اس کتاب کا ایک آسان ترجمہ مع فوائد و مسائل کے اردو دان طبقے کے سامنے پیش کی جائے جو ان کی روحانی غذا کا کام دے۔ لہذا اس ذمہ داری کو نبھانے کے لیے ابو عمار عمر فاروق سعیدی کا خدمات حاصل کی گئیں جنہوں نے احادیث کا سلیس اردو ترجمہ کرتے ہوئے ہر حدیث کے ساتھ مناسب فوائد کا تذکرہ کیا ہے۔ اس ترجمہ کی ایک خصوصیت یہ بھی ہے کہ احادیث کی تخریج و تحقیق کے فرائض حافظ زبیر زئی نے انجام دئیے ہیں جو لا ریب اس فن کے ماہرو شہسوار ہیں۔

 

title-pages-abo-dawood-jilad-4

اس وقت آپ کے سامنے ’سنن ابو داؤد‘ کا اردو قالب ہے۔ ’ سنن ابو داؤد‘  احادیث نبویہ کا وہ عظیم دیوان ہے جسے ایک بندہ مسلم نہایت قدر کی نگاہ سے دیکھتا ہے اس میں فقہائے امت اور مفتیان شرع متین کے لیے وہ تمام حدیثی دلائل جمع کر دئیے گئے ہیں جو فقہائے اسلام نے اختیار کیے ہیں۔ اس امر کی ضرورت محسوس کی جا رہی تھی کہ اس کتاب کا ایک آسان ترجمہ مع فوائد و مسائل کے اردو دان طبقے کے سامنے پیش کی جائے جو ان کی روحانی غذا کا کام دے۔ لہذا اس ذمہ داری کو نبھانے کے لیے ابو عمار عمر فاروق سعیدی کا خدمات حاصل کی گئیں جنہوں نے احادیث کا سلیس اردو ترجمہ کرتے ہوئے ہر حدیث کے ساتھ مناسب فوائد کا تذکرہ کیا ہے۔ اس ترجمہ کی ایک خصوصیت یہ بھی ہے کہ احادیث کی تخریج و تحقیق کے فرائض حافظ زبیر زئی نے انجام دئیے ہیں جو لا ریب اس فن کے ماہرو شہسوار ہیں۔

 

title-1
احکام الٰہی کےمتن کانام قرآن مجید ہے،  اور اس کی شرح وتفصیل کانام حدیث رسول ہے۔آپ ﷺ کی  زندگی اس  متن کی عملی تفسیر ہے ۔ رسول ﷺ کی زندگی کے بعد  صحابہ کرام    نے  احادیث  نبویہ   کو  آگے  پہنچا یا، پھر  ان  کے   بعد ائمہ محدثین  نے  ان کومدون کیا او ر  علماء امت  نے ان  کے تراجم وشروح  کے ذریعے   حدیث رسول کی  عظیم خدمت  کی   ۔خدمت حدیث کے سلسلے میں علمائے اہل حدیث کی تدریسی وتصنیفی  خدمات بھی قابل قد رہیں۔  عہد قریب میں نواب صدیق حسن خاں کے قلم اورمولانا سید نذیر حسین محدث دہلوی کی تدریسی خدمات سےہندوستا ن میں حدیث نبویہ کو بڑا فروغ ملا، پھر ان کے  شاگردوں  اور  کبار علماء نے عون المعبود، تحفۃ الاحوذی، التعلیقات السلفیہ، انجاز الحاجۃ جیسی عظیم شروح لکھیں اور مولانا وحید الزمان نے کتب حدیث کااردو زبان میں ترجمہ کر کےبرصغیر میں حدیث کو عام کرنے  عظیم کارنامہ سرانجام دیا۔ یہ تراجم تقریبا ایک صدی سے ہندوستان میں متداول ہیں۔ لیکن اب ان کی  زبان کافی پرانی ہوگئی  تھی، اور ایک عرصے سےیہ ضرورت محسوس کی جارہی ہے تھی کہ ان کتب کو اردو زبان کے جدید اسلوب میں  دوبارہ ترجمہ کروا کر شائع کیا جائے۔نیز سننِ اربعہ میں ضعیف روایات کی نشاندہی کردی جائے۔مکتبہ دار السلام کو یہ شرف حاصل ہے کہ انہوں نے  مذکورہ ضرورتوں کااحساس کرتے ہوئے کتب  ستہ کے  تراجم  مع فوائد اردوزبان  کے جدید اور معیاری اسلوب میں شائع کرنے کا  پروگرام بنایا، تاکہ قارئین کے  لیے ان کا مطالعہ او ر ان سے استفادہ آسان ہوجائے ۔  دوکتابیں (سنن ابو داؤد ،سنن ابن ماجہ)  کافی عرصہ پہلے ہی منظر عام  آچکی تھیں، اوراب  زیر تبصرہ تیسری کتاب سنن نسائی بھی چھپ کر منظر عام پر آ گئی  ہے۔اس  میں تخریج وتحقیق کاکام مولانا حافظ زبیر علی زئی حفظہ اللہ،جبکہ ترجمہ وفوائد  شیخ الحدیث مولانا حافظ محمدامین حفظہ اللہ کی محنت وکاوش کانتیجہ ہے۔اللہ ان سب کے محنتوں کو قبول ومنظور فرمائے۔آمین(م۔ا)

نوٹ:
محدث فورم میں اس کتاب پر تبصرہ کرنے کے لیے یہاں کلک کریں
مکمل جلدوں میں کتاب ڈاؤن لوڈ کرنے کے لیے یہاں کلک کریں

title-pages-sirat-e-mustaqeem-aur-ikhtafe-ummat-copy

تقلید اور عمل بالحدیث کے اختلافی مباحث صدیوں  پرانے ہیں،تقلید جامد کے رسیا اور قرآن وحدیث کے علمبردار علماء ومصلحین اس موضوع پر سیر حاصل بحث کر کے خو ب خوب داد تحقیق  دے چکے ہیں۔خیر القرون کے سیدھے سادھے دور کے مدتوں بعد ایجاد ہونے والے مذاہب اربعہ کے جامد مقلد فقہاء نے اپنے اپنے مذہب کی ترجیح میں کیا کیا گل نہیں کھلائے ۔حتی کہ اپنے مذہب کے جنون میں اپنے مخالف امام تک کو نیچا دکھانے  سے بھی دریغ نہیں کیا گیا جیسا کہ اہل علم اس سے بخوبی واقف ہیں۔ایسا ہی کچھ طرز عمل ماہنامہ "بینات"کراچی کے مدیر مولانا محمد یوسف لدھیانوی نے اختیار کیا ہے۔موصوف سے کسی صاحب نے چند سوالات پوچھے ،جن کا جواب مولانا نے بڑی تفصیل سے دیا ۔حتی کہ اسے "بینات" کا ایک خاص نمبر بعنوان "اختلاف امت اور صراط مستقیم "شائع کر دیا۔مگر افسوس کہ اس میں اہل حدیث کو بھی خوا ہ مخواہ گھسیٹ  لیا گیا۔اس رسالے کی پذیرائی کو دیکھتے ہوئے مولانا نے "اختلاف امت اور صراط مستقیم " کا نمبر دوم بھی شائع کر دیا۔یہ دونوں نمبر پہلے پاکستان میں چھپے اور پھر دیو بند ہندوستان سے شائع کئے گئے۔جب یہ دونوں رسالے معروف اہل حدیث عالم دین مولانا صغیر احمد بہاری ﷾کی نظر سے گزرے تو انہوں نے ایک مفصل تنقیدی مضمون لکھ کر "الاعتصام" میں اشاعت کے لئے بھج دیا۔جو اس میں 34 قسطوں میں شائع ہوا۔احباب کا اصرار تھا کہ اسے کتابی شکل میں شائع کیا جائے تاکہ "بینات" کا تریاق ہو سکے۔چنانچہ اسے کتابی شکل میں چھاپ دیا گیا ۔اس پر محترم الاستاذ مولانا عطاء اللہ حنیف بھوجیانی ﷫کی نظر ثانی اور اس زمانے کے مدیر الاعتصام مولانا صلاح الدین یوسف ﷾کی تقدیم موجود ہے۔اللہ تعالی ان بزرگوں کی تمام خدمات کو قبول فرمائے اور ان کے میزان حسنات میں اضافہ فرمائے۔آمین(راسخ)

 

siratemustaqeem-copy
مشہور دیوبندی عالم یوسف لدھیانوی صاحب کی کتاب "اختلاف امت اور صراط مستقیم" کے جواب میں فاضل مؤلف نے نہایت محنت اور دیدہ ریزی سے مدلل اور محققانہ جواب لکھا ہے۔ چونکہ اس کتاب میں فریقین کے موقف سامنے آ گئے ہیں لہٰذا گم گشتان بادہ تقلید کیلئے یہ کتاب اب ایک مینارہ نور کی حیثیت  رکھتی ہے۔ اگرمسلکی تعصب کی عینک اتار کر للّٰہیت اور خلوص قلب سے اصلاح نفس کی خاطر مطالعہ کیا جائے تو کوئی وجہ نہیں کہ مسلکی موشگافیوں میں صراط مستقیم کو کھو دینے والا شخص دوبارہ اس شاہراہ روشن کا مسافر بن جائے۔ مسلکی اختلافات پر ایک چشم کشا اور عمدہ ترین تصنیف

title-pages-fiqhul-islam-sharah-baloogh-ul-maram-copy

کتاب اللہ اور سنت رسول ﷺدینِ اسلامی کے بنیادی مآخذ ہیں۔ احادیث رسول ﷺ کو محفوظ کرنے کے لیے کئی پہلوؤں اور اعتبارات سے اہل علم نے خدمات انجام دیں۔ تدوینِ حدیث کا آغاز عہد نبوی سے ہوا صحابہ وتابعین کے دور میں پروان چڑھا او ر ائمہ محدثین کےدور میں خوب پھلا پھولا ۔مختلف ائمہ محدثین نے احادیث کے کئی مجموعے مرتب کئے او رپھر بعدمیں اہل علم نے ان مجموعات کے اختصار اور شروح ،تحقیق وتخریج او رحواشی کا کام کیا۔او ربعض محدثین نے احوال ظروف کے مطابق مختلف عناوین کےتحت احادیث کوجمع کیا۔انہی عناوین میں سے ایک موضوع ’’احادیثِ احکام‘‘ کوجمع کرنا ہے۔اس سلسلے میں امام عبد الحق اشبیلی کی کتاب ’’احکام الکبریٰ‘‘امام عبد الغنی المقدسی کی ’’عمدۃ الاحکام ‘‘علامہ ابن دقیق العید  کی ’’الالمام فی احادیث الاحکام ‘‘او رحافظ ابن احجر عسقلانی کی ’’بلوغ المرام من الاحادیث الاحکام ‘‘ قابل ذکر ہیں۔ آخر الذکر کتاب مختصر اور ایک جامع مجموعۂ احادیث ہے۔ جس میں طہارت، نماز، روزہ، حج، زکاۃ، خرید و فروخت، جہاد و قتال غرض تمام ضروری احکام و مسائل پر احادیث کو فقہی انداز پر جمع کر دیا گیا ہے کتاب کی اہمیت وافادیت اور جامعیت کے پیش نظر کئی اہل علم نے اس کی شروحات لکھیں اور ترجمے بھی کیے ۔ شروحات میں بدر التمام،سبل السلام ،فتح العلام وغیرہ قابل ذکر ہیں۔ اردو زبان میں علامہ عبد التواب ملتانی  ،مولانا محمد سلیمان کیلانی کا ترجمہ وحاشیہ بھی اہل علم کے ہاں متعارف ہیں اور اسی طرح عصرکے معروف سیرت نگار اور نامور عالم دین مولانا صفی الرحمن مبارکپوری﷫ نے بھی نے اس کی عربی میں ا’تحاف الکرام ‘‘کے نام سے مختصر شرح لکھی اور پھر خود اس کا ترجمہ بھی کیا۔دارالسلام نےاسے طباعت کےعمدہ معیار پر شائع کیا ہے اور اسے بڑا قبول عام حاصل ہے ۔ اور شیخ الحدیث حافظ عبدالسلام بھٹوی ﷾ کی کتاب الجامع کی شرح بھی بڑی اہم ہے یہ تینوں کتب کتاب وسنت ویب سائٹ پر بھی موجود ہے۔ زیرتبصرہ کتاب ’’ فقہ الاسلام شرح بلوغ المرام ‘‘ عصر ِحاصرکے نوجوان محقق مصنف کتب کثیرہ جناب ڈاکٹر حافظ عمران ایوب لاہوری﷾ کی انتہائی اہم کاوش ہے ۔ موصوف نے متعددشروحاتِ بلوغ المرام سے استفادہ کرتے ہوئے بلوغ المرام کی ایک جدید اور مفید شرع تیار کی ہے ۔ اپنے اسلوب اور منہج کے لحاظ سے بلوغ المرام کی یہ شرح ایک ایسے معیار کو پیش کرتی ہے جس سے اہل علم اور مدارس کےشیوخ کے علاوہ عامۃ المسلمین بھی بخوبی استفادہ کرسکتے ہیں ۔یہ کتاب شروحاتِ بلوغ المرام میں اس لحاظ سے ایک نہایت مفید اضافہ ہے کہ اسے سلفی علماء کی تحقیقات کی روشنی میں مرتب کیا گیا ہے ۔ہر حدیث کےتحت پہلے اس کے مشکل الفاظ کی وضاحت کی گئی ہے اور پھر اس کے مسائل وفوائد پر بحث کی گئی ہے ۔ بلاشبہ یہ کتاب اپنی جامعیت ، تحقیق وتخریج کے اعلیٰ معیار اور عام فہم اسلوب کی وجہ سے جہا ں علماء و طلباء کے لیے مفید ہےوہاں عوام الناس کےلیے بھی مشعل راہ کی حثیت رکھتی ہے ۔ اللہ تعالیٰ اس کتاب کوعوام الناس کے لیے فائدہ مند بنائے اورمصنف کی تمام تصنیفی وتحقیقی خدمات کو قبول فرماکرانہیں مزید توفیق سے نوازے (آمین) (م۔ا)

title-pages-muhabbat-e-rasool-farziyat-ahmiyat-aur-taqaze-copy

حبِ رسول ﷺ اہل ایمان کے لیے ایک روح افزاءباب کی حیثیت رکھتا ہے۔ حبِ رسول ﷺ کے بروئے شریعت کچھ تقاضے ہیں۔ خود نبی ﷺ کا ارشاد گرامی ہے: ’’تم میں سے کوئی شخص اس وقت تک مومن نہیں ہو سکتا جب تک وہ مجھے اپنی جان، مال، اولاد، ماں باپ غرض جمیع انسانیت سے بڑھ کر محبوب نہ سمجھے‘‘۔ محبت رسول ﷺ کا مظہر اطاعتِ رسول ہے ۔ رسول اللہ ﷺ سے سچی محبت کےبغیر مومن ہونے کا دعویٰ منافقت کی بیّن دلیل ہے اور حب رسول ﷺ ہی وہ پیمانہ ہےجس سے کسی مسلمان کے ایمان کوماپا جاسکتا ہے۔ دعوائے محبت ہو اوراطاعت مفقود ہو تو دعویٰ کی سچائی پر حرف آتاہے۔ حب رسولﷺ کےتقاضوں میں سے ایک تقاضا تو نبی ﷺ کا ادب و احترام کرنا، آپ سے محبت رکھنا ہے۔ ۔پیغمبر اعظم وآخر الزمان ﷺ کا یہ اعجاز بھی منفرد ہے ہک آپ کے جان نثاروں کی زندگیاں جہاں محبتِ رسول کی شاہکار ہیں وہاں ہر ایک کی زندگی سنت رسولﷺ کی آئینہ دار ہے۔ ان نفوس قدسہ نے دونوں جہتوں میں راہنمائی کا عظیم الشان معیار قائم فرمایا ہے۔ زیر تبصرہ کتاب ’’محبت رسولﷺ کی فرضیت ،اہمیت اور تقاضے ‘‘ دار السلام ،لاہور کے شبعہ تحقیق وتالیف کے ریسرچ سکالر حافظ عبد اللہ ناصر مدنی﷾ کی کاوش ہے ۔انہوں نے نہایت اختصار اور جامعیت سے موضوع کا حق ادا کیا ہے ان کی یہ تحریر اولاً ماہنامہ ضیائے حدیث میں شائع ہوئی تھی بعد ازاں اسے کتابچے کی صورت میں شائع کیا گیا ہے۔(م۔ا)

قرآن کریم اللہ کہ وہ مقدس کتاب ہے جس کی خدمت باعثِ خیر وبرکت اور ذریعۂ بخشش ونجات ہے ۔یہی وجہ ہےکہ قرونِ اولیٰ سے عصر حاضر تک علماء ومشائخ کے علاوہ مسلم معاشرہ کے مختلف طبقات سے تعلق رکھنے والے اصحاب بصیرت نے حصول برکت کی خاطر اس کی کسی نہ کسی صورت خدمت کی کوشش کی ہے ۔اہل علم نے اگر اس کے الفاظ ومعانی ،مفاہیم ومطالب ،تفسیر وتاویل ،قراءات ولہجات اور علوم قرآن کی صورت میں کام کیا ہے تو دانشوروں نے اس کے مختلف زبانوں میں تراجم ،کاتبوں نے مختلف خطوط میں اس کی کتابت کی ،ادیبوں اور شاعروں نےاس کے محامد ومحاسن کواپنے الفاظ میں بیان کر کے اس کی خدمت کی اور واعظوں اور خطیبوں نے اپنے وعظوں اور خطبات سے اس کی تعریف اس شان سے بیان کی کہ ہر مسلمان کا دل ا س کی تلاوت ومطالعہ   کی جانب مائل ہواا ور امت مسلمہ ہی نہیں غیر مسلم بھی اس کی جانب راغب ہوکر اس سے منسلک ہوگئے۔ بعض اہل علم وقلم نے اس کے موضوعات ومضامین پر قلم اٹھایا ااور بعض نے اس کی انڈیکسنگ اور اشاریہ بندی کی جانب توجہ کی ۔ مختلف اہل علم نے اس حوالے سے كئی کتب تصنیف کی ہیں علامہ وحید الزمان  کی ’’تبویب القرآن فی مضامین الفرقان ‘‘، شمس العلماء مولانا سید ممتاز علی کی ’’ اشاریہ مضامین قرآن ‘‘ اور ’’مضامین قرآن‘‘از زاہد ملک قابل ذکر ہیں۔ زیر تبصرہ کتاب’’ نورالقرآن‘‘ ڈاکٹر سہیل انجم صاحب اور ان کی اہلیہ محترمہ کی مشترکہ ایک منفرد کاوش ہے ۔ یہ کتاب ہر شعبۂ زندگی کےلیے قرآنی تعلیمات کابڑا آسان اور جامع مجموعہ ہے۔فاضل مصنف نے صحیح دینی زندگی کےعنوانات ترتیب وار چنے ہیں ایمانیات، عبادات،اخلاقیات او رجملہ معاملات کےتحت 61 ابواب مقرر کیے ہیں اور ہرباب کی مناسبت سےقرآن کریم کی آیات درج کر کےان کی دلنشیں تشریح کی ہے۔یہ کتاب قرآنی مضامین اور حوالوں پر مشتمل ایک جامع کتاب ہے۔ مفسر قرآن حافظ صلاح الدین یوسف ﷾ کی نظرثانی سے اس کتاب کی اہمیت وافادیت مزید دو چند ہوگئی ہے۔ (م۔ا)

title-pages-ghunahon-se-kaise-bachain-copy

اسلام ایک  مکمل ضابطہ حیات ہے اور زندگی کے ہر شعبےمیں مکمل راہنمائی فراہم کرتاہے ۔  اسلام میں جس طرح مردوں کے لیے تزکیہ وتطہیر کاطریقہ کار دیاگیا  اسی طرح عورتوں کی عفت وعصمت اور پاکدامنی کی طرف بھی توجہ دی گئی ہے ۔ اسلام نے طہارت وپاکیزگی کا ایسا گراں مایہ گوہر عطاء  کیا کہ جس کے باعث اسے قدروقیمت کی نگاہ سےدیکھا جانے لگا۔ اور اسے اخلاقی ودینی اعتبار سے اوجِ ثریا  تک پہنچا دیا  اور گھر کی چار دیواری میں محصور کر کے  ایک انمول موتی اور ہیرا بنادیا ۔ زمانہ جاہلیت کی  طرح آج مغربیت  اور اس کے  دلدادہ افراد عورت کوپھر سے  بازاروں ،چوکوں، چوراہوں،تفریح گاہوں ، فائیوسٹار ہوٹلوں اور  ہواؤں میں اڑا کر شرمناک مناظر دکھانا  چاہتے ہیں ۔اور اس کوانسانیت کے عظیم منصب سےنکال کر حیوانیت کا لبادہ پہنانا چاہتے ہیں ۔تحریک نسوانیت اور تحریک آزادی جیسے  خوشنما اور دل فریب نعروں کے سائے تلے  اسے حیا باختگی اور ایمان سوز مناظر کارسیا بنانا چاہتے ہیں ۔ایسے حالات میں  اسلام کے نظام عفت وعصمت اور پاکیزگی وپاکدامنی کو اجاگر کرنا بہت ضروری ہے  تاکہ بنتِ آدم  قرونِ اولیٰ کی عورتوں کی طرح صاف ستھری اور ایمان کی بلندیوں کو چھونے والی عورت بن سکے ۔ اور ماں بہن ،بیٹی اور بیوی کے مرتبہ عالیہ پر فائز رہتے ہوئے   صالحیت اور نیک نامی سے کنارہ کش نہ ہو۔ زیر نظر کتاب ’’گناہوں سے کیسے بچیں‘‘مولانا محمد ظفیر الدین﷫  کی تصنیف ہے ۔ انہوں نے  موضوع کے تمام گوشوں کوتشنہ نہیں چھوڑا البتہ بعض  مقامات پر کمزور اور ضعیف روایات بھی بیان کردی تھی۔ لیکن  محترم  طاہر نقاش ﷾ نے  اس ایڈیشن  میں کتاب کی تہذیب وتنقیح اور کمزور روایات کو  نکالنے کی بھر پور سعی کی  ہے اور قارئین کو عمدہ اور تشکیک واعتراض سے پا ک مواد فراہم کیا ہے  کتاب ہذا پہلے متعد د بار ’’اسلام کا  نظام عفت وعصمت ‘‘ کے نام سے شائع ہوئی ۔محترم  طاہر نقاش صاحب نے  اس کتاب پر اس انداز سے  تحقیقی وتوضیحی نوعیت کا کام کیا ہے کہ  پاک وہند  میں اس کتاب پر اس طرح کا  کام اس قبل نہیں ہوا تھا ۔کتاب ہر اعتبار سے  اپنی مثال آپ ہے  اور پاکستان وہندوستان میں شائع ہونے والی تمام اشاعتوں پر اپنی افادیت اور اثر پذیری کے اعتبار سے فوقیت حاصل کر گئی ہے ۔ اور اپنے  معیار ،تحقیق وتدقیق کےاعتبار سے سب سے آگے نکل گئی ہے ۔ کتاب  میں  موصوف نے تقریبا 70 صفحات پر مشتمل مفید توضیحی فٹ نوٹ لکھے ہیں ۔ یوں یہ کتاب اب تک شائع ہونے والی اشاعتوں میں سب سے مفصل محقق جامع اور معیاری ہے ۔اللہ تعالیٰ اس کتاب کو تمام خواتینِ اسلام کےلیے نفع بخش بنائے اور اسے ہر خاتون کےلیے  مشعلِ راہ اور نجات کاذریعہ بنائے ۔ اورخواتین کو بے حجابی  وبے پردگی ، عریانی وفحاشی کے قعر مذلت سے نکار منہاج سدید پر گامزن کردے ۔اور  اللہ تعالیٰ جزائے خیر عطافرمائےمحترم   محمد طاہر نقاش ﷾ کو اور ان کے علم وعمل ،کاروبار میں برکت او ران کو صحت وتندرستی والی زندگی عطائے  فرمائے  کہ  وہ  اصلاحی وتبلیغی کتب  کی اشاعت کے ذریعے   دین ِاسلام کی اشاعت وترویج کے لیے  کوشاں ہیں ۔ انہوں نے   اپنے ادارے’’ دار الابلاغ‘‘ کی مطبوعات  مجلس التحقیق الاسلامی   کی لائبریری اور کتاب وسنت  ویب سائٹ پر پبلش کرنے کے لیے   ہدیۃً عنائت کی ہیں (آمین)  (م۔ا)

نوٹ:

محدث فورم میں اس کتاب پر تبصرہ کرنے کے لیے یہاں کلک کریں

ای میل سبسکرپشن

محدث لائبریری کی اپ ڈیٹس بذریعہ ای میل وصول کرنے کے لئے ای میل درج کر کے سبسکرائب کے بٹن پر کلک کیجئے۔

 

ایڈوانس سرچ

رجسٹرڈ اراکین

آن لائن مہمان

محدث لائبریری پر اس وقت الحمدللہ 149 مہمان آن لائن ہیں ، لیکن کوئی رکن آن لائن نہیں ہے۔

ایڈریس

       99-جے ماڈل ٹاؤن،
     نزد کلمہ چوک،
     لاہور، 54700 پاکستان

       0092-42-35866396، 35866476، 35839404

       0092-423-5836016، 5837311

      KitaboSunnat@gmail.com

      بنک تفصیلات کے لیے یہاں کلک کریں