حافظ محمد اسلم شاہدروی

1 1 1 1 1 1 1 1 1 1
حافظ محمد اسلم شاہدروی
    pages-from-hafiz-muhammad-abdullah-sheikhupuri-hayaat-khidmaat-tableegh
    حافظ محمد اسلم شاہدروی

    مناظر اسلام حافظ محمد عبداللہ شیخوپوری﷫ اہل حدیث کے نامور مناظر اور مرکزی جمعیت اہلحدیث پاکستان کے نائب امیر تھے۔ وہ اپنے خطابات میں مسلک اور جماعت کی ترجمانی کا حق ادا کر دیتے تھے۔ اللہ تعالیٰ نے انہیں بہت سی خوبیوں اور صلاحیتوں سے نوازا تھا۔ ان کی وعظ و تبلیغ سے بے شمار لوگ مسلک اہلحدیث سے وابستہ ہو گئے۔ توحید، سیرۃ النبیﷺاور شان صحابہ ﷜ان کے خاص موضوع تھے۔انہوں نے اپنی پوری زندگی مسلک اور جماعت کے لئے وقف کر رکھی تھی۔  حافظ صاحب مرحوم یہ بھی کہا کرتے تھے کہ جب تک زندہ رہوں گا مرکزی جمعیت اہلحدیث کا خادم رہوں گا اور اس کا پیغام قریہ قریہ اور بستی بستی پہنچاتا رہوں گا۔ افسوس کہ وہ بعارضہ دل کے ہاتھوں زندگی کی بازی ہار گئے اور اور 23فروری 2004ء کو اپنے خالق حقیقی سے جا ملے۔ شیخوپورہ میں مرحوم کی نماز جنازہ امیر محترم پروفیسر ساجد میر نے بڑے حزن و ملال کی حالت میں پڑھائی۔ ملک کے کونے کونے سے لوگ کمپنی باغ پہنچ گئے۔ اخبارات کے مطابق یہ شیخوپورہ کی تاریخ کا سب سے بڑا جنازہ تھا۔ لوگوں نے بادیدہ نم مرحوم کو سپرد رحمت باری کیا۔ان کی وفات پر وطن عزیز کے کئی نامور مضمون نگاروں اور سوانح نگاروں نے حافظ عبد اللہ شیخوپوری ﷫ کے متعلق مضامین تحریر کیے جو اخبارات، رسائل وجرائد کی زینت بنے۔ زیر تبصرہ کتاب ’’حافظ محمد عبد اللہ شیخوپوری حیات وخدمات‘‘ حافظ صاحب مرحوم پر لکھے گئے مختلف اہل علم کے رشحات قلم کا مجموعہ ہے جسے محترم جناب حافظ محمد اسلم شاہدروی﷾ (مصنف ومترجم کتب کثیرہ ،مرکزی رہنما مرکزی جمعیت اہل پاکستان) نے بڑی حسن ترتیب سے مرتب کیا ہے۔ فاضل مرتب نے اس کتاب کو چار ابواب میں تقسیم کیا ہے باب اول حافظ عبد اللہ شیخوپوری مرحوم کی حیات و خدمات کے متعلق مختلف شخصیات کے تحریر شدہ 13 مضامین پر مشتمل ہے۔ مضمون اول فاضل مرتب کا تحریر کردہ ہے جو اولاً ہفت روزہ ہل حدیث میں تین اقساط میں شائع ہوا تھا۔مذکور مجلہ میں اس مضمون کی اشاعت پر مضمون نگار جناب مولانا حافظ محمد اسلم شاہدروی﷾ کو حافظ صاحب مرحوم کی اہلیہ محترمہ نے مختلف تحائف سے نوازا۔ دوسرا باب میں مختلف اہل علم کے حافظ صاحب مرحوم کے بارے میں تاثرات کے متعلق ہے۔ تیسرا باب حافظ عبد اللہ مرحوم کے متعلق شائع شدہ اخباری کالموں اور ادارتی صفحات کےمضامین پر مشتمل ہے۔ چوتھے باب میں حافظ صاحب مرحوم کا نظموں او راشعار کی صورت میں تعارف و تذکرہ پیش کیاگیا ہے۔ اس باب میں محدث العصر مولانا حافظ عبد المنان نورپوری﷫ کی عربی زبان میں تحریر شدہ نظم بالخصوص قابل ذکر ہے جس میں انہوں نےعربی اشعار کی صورت میں حافظ عبد اللہ شیخوپوری﷫ کا مکمل تعارف پیش کیا ہے۔ اللہ تعالیٰ حافظ صاحب مرحوم کو جنت الفردوس میں اعلی وارفع مقام عطا فرمائے اور اللہ تعالیٰ اجر عظیم سے نوازے(آمین) فاضل مرتب کہ انہوں نے اپنی قیمتی مصروفیات سے کچھ وقت نکال کر   بڑی محنت سے کتاب ہذا کو مرتب کیا ہے۔ مرتب موصوف اس کتاب کے علاوہ بھی کئی کتب کے مصنف ومترجم ہیں۔ اور طویل عرصہ سے مرکزی جمعیت اہل حدیث ،پاکستان سے وابستہ ہیں اور دار المعارف مبارک مسجد ،لاہور میں ریسرچ کےشعبہ میں بطور مدیر خدمات انجام دے رہے ہیں۔ (م۔ا)

    title-pages-from-molana-faiz-ur-rehman-souri-copy
    حافظ محمد اسلم شاہدروی

    مولانا فیض الرحمان ثوری ﷫ ﷫ بہاولپور کے معروف تاریخی مقام "اچ" کے قریب آباد ہونے والے کسرانی یا قیصرانی بلوچ قبیلے کے ایک فرد تھے۔آپ اپنے وقت کے جلیل القدر عالم دین تھے۔آپ کو علم رجال پر خاص عبور حاصل تھا۔آپ ایک خاموش طبع اور انتہائی سادہ مزاج انسان تھے۔کسرانی قبیلے میں سب سے پہلے علم دین حاصل کرنے اور علم حدیث کی خدمت کرنے والی شخصیت" مولانا سلطان محمود محدث ﷫ '' کی تھی۔آپ ان کے قریبی عزیز اور لائق شاگرد تھے۔مولانا فیض الرحمان ثوری ﷫ نے تحقیق حدیث خصوصا علم الرجال کے میدان کو چنا اور زندگی کا ایک ایک لمحہ اسی کے لئے وقف کر دیا۔ آپ نے جب اس میدان میں کام شروع کیا تو  پورے برصغیر میں حدیث کے حوالے سے تحقیقی کام کی اشاعت کا سلسلہ نہ ہونے کے برابر تھا۔ زیر تبصرہ کتاب " مولانا فیض الرحمان ثوری ﷫ ، ماھر علم الرجال وممتاز نقاد " دار المعارف اسلامیہ کالج ریلوے روڈ، لاہور کے سینئر ریسرچ سکالر حافظ محمد اسلم شاہدروی صاحب ﷾ کی  کاوش ہے، جس میں انہوں نے مولانا فیض الرحمان ثوری صاح ﷫ ب کی زندگی کے نمایاں پہلوؤں اور انکی علمی خدمات کو مرتب فرما دیا ہے۔ یہ کتاب دراصل ان کی ایم فل کی اسائنمنٹ تھی، جسے زیور طباعت سے آراستہ کر کے منظر عام پر لایا گیا ہے۔ اللہ تعالی سے دعا ہے کہ وہ مرتب موصو ف کی اس محنت کو اپنی بارگاہ میں قبول فرمائے اور ان کے میزان حسنات میں اضافہ فرمائے۔آمین(راسخ)

    pages-from-molana-faiz-ur-rehman-sauri
    حافظ محمد اسلم شاہدروی

    مولانا فیض الرحمان ثوری﷫ بہاولپور کے معروف تاریخی مقام "اچ" کے قریب آباد ہونے والے کسرانی یا قیصرانی بلوچ قبیلے کے ایک فرد تھے۔ آپ اپنے وقت کے جلیل القدر عالم دین تھے۔ آپ کو علم رجال پر خاص عبور حاصل تھا۔ آپ ایک خاموش طبع اور انتہائی سادہ مزاج انسان تھے۔ کسرانی قبیلے میں سب سے پہلے علم دین حاصل کرنے اور علم حدیث کی خدمت کرنے والی شخصیت"مولانا سلطان محمود محدث﷫'' کی تھی۔ آپ ان کے قریبی عزیز اور لائق شاگرد تھے۔ مولانا فیض الرحمان ثوری﷫ نے تحقیق حدیث خصوصا علم الرجال کے میدان کو چنا اور زندگی کا ایک ایک لمحہ اسی کے لئے وقف کر دیا۔ آپ نے جب اس میدان میں کام شروع کیا تو پورے برصغیر میں حدیث کے حوالے سے تحقیقی کام کی اشاعت کا سلسلہ نہ ہونے کے برابر تھا۔ زیر تبصرہ کتاب "مولانا فیض الرحمان ثوری﷫، ماھر علم الرجال وممتاز نقاد" دار المعارف اسلامیہ کالج ریلوے روڈ، لاہور کے سینئر ریسرچ سکالر حافظ محمد اسلم شاہدروی صاحب﷾ کی کاوش ہے، جس میں انہوں نے مولانا فیض الرحمان ثوری صاحب کی زندگی کے نمایاں پہلوؤں اور انکی علمی خدمات کو مرتب فرما دیا ہے۔ یہ کتاب دراصل ان کی ایم فل کی اسائنمنٹ تھی، جسے زیور طباعت سے آراستہ کر کے منظر عام پر لایا گیا ہے۔ اللہ تعالی سے دعا ہے کہ وہ مولف موصو ف کی اس محنت کو اپنی بارگاہ میں قبول فرمائے اور ان کے میزان حسنات میں اضافہ فرمائے۔ آمین(راسخ)

    pages-from-al-wajeez-fi-asoolil-fiqha
    عبد الکریم زیدان

    وہ علم جس میں احکام کے مصادر ،ان کے دلائل کے، استدلال کے مراتب اور استدلال کی شرائط سے بحث کی جائے او راستنباط کے طریقوں کووضع کر کے معین قواعد کا استخراج کیا جائے کہ جن قواعد کی پابندی کرتے ہوئے مجتہد تفصیلی دلائل سے احکام معلوم کرے، اس علم کا نام اصول فقہ ہے۔ علامہ ابن خلدون کے بقول اس وجہ سے یہ علم علوم شریعت میں سے سب سے عظیم، مرتبے میں سب سے بلند اور فائدے کے اعتبار سے سب سے زیادہ معتبرہے (مقدمہ ابن خلدون ص: 452) جس طرح کسی بھی زبان کو جاننے کےلیے اس زبان کے قواعد و اصول کو سمجھنا ضروری ہے اسی طر ح فقہ میں مہارت حاصل کرنےکے لیے اصول فقہ میں دسترس اور اس پر عبور حاصل کرناضروری ہے اس علم کی اہمیت کے پیش نظر ائمہ فقہاء و محدثین نے اس موضوع پر کئی کتب تصنیف کی ہیں اولاً امام شافعی نے الرسالہ کے نام سے کتاب تحریرکی پھر اس کی روشنی میں دیگر اہل علم نے کتب مرتب کیں۔ اصول فقہ کی تاریخ میں بیسویں صدی کو خصوصی اہمیت حاصل ہے۔ اس دور میں علم اصول فقہ نےایک نئی اٹھان لی اوراس پر کئی جہتوں سے کام کاآغاز ہوا: مثلاً اصول کاتقابلی مطالعہ، راجح مرجوح کاتعین اور مختلف کتب میں بکھری مباحث کو یک جا پیش کرنےکے ساتھ ساتھ موجودہ قانونی اسلوب اور سہل زبان میں پیش کرناوغیرہ ۔اس میدان میں کام کرنے والے اہل علم میں ایک نمایاں نام ڈاکٹر عبد الکریم زیدان کا بھی ہے۔ اصول فقہ پران کی مایۂ کتاب ’’الوجیز فی اصول الفقہ‘‘ اسی اسلوب کی نمائندہ کتاب ہے اور اکثر مدارس دینیہ میں شامل نصاب ہے۔ زیر نظر کتاب ’’الوجیز فی اصول الفقہ‘‘ سید عبدالکریم زیدا ن کی اصول فقہ کے موضوع پر جامع عربی کتاب کا ترجمہ ہے۔ فاضل مصنف نے اس کتاب کو چارابو اب میں تقسیم کرکے مثالوں کے ساتھ تفصیلی مباحث پیش کی ہیں۔ باب اول :حکم کی مباحث۔ باب دوم: احکام کے دلائل کی بحث میں۔ باب ثالث: احکام کے استنباط کے طریقہ اور قواعد اور ان کے ساتھ ملحق قواعد ترجیح اور ناسخ ومنسوخ۔ باب چہارم: اجتہاد او راس کی شرائط ،مجتہد،تقلید اور اس کے تعریف کے متعلق ہے۔ مصنف نے اس میں ہر مسئلے کے بارے میں بنیادی اوراہم اصول اختصار و جامعیت کے ساتھ بیان کیے ہیں۔ اس کتاب کی بڑی خصوصیت یہ ہے کہ مؤلف نے کسی ایک مکتب فکر کے اصول پیش نہیں کیے اور نہ کسی خاص مکتب فقہ کی تقلید وحمایت کی ہے۔ اختلافی مسائل میں مصنف نے مختلف آراء کا محاکمہ کیا ہے اور آخر میں اپنی رائے پیش کی ہے۔ عربی کتاب کو اردو قالب میں ڈھالنے کا کام محترم جناب حافظ شعیب مدنی﷾ (فاضل مدینہ یونیورسٹی) اور مولانا حافظ اسلم شاہدروی﷾ کی مشترکہ کاوش ہے۔ اس ترجمہ کی خصوصیت یہ ہے کہ اس میں مصنف کتاب کی طرف سے اضافہ کی گئی فصل کا ترجمہ بھی شامل کردیاگیا ہے۔ جبکہ دیگر تراجم میں یہ اضافہ شامل نہیں ہے نیز مترجمین نے چند مقامات پر توضیحی نوٹ بھی تحریر کیے ہیں۔ امید ہے یہ کاوش اصول فقہ کے طلبہ اور علمائے کرام کے لیے مفید ثابت ہوگی۔ یہ کتاب اپنے موضوع میں افادیت اور جامعیت کے پیش نظر وفاق المدارس سلفیہ اور اکثر مدارس دینیہ کے نصاب میں شامل ہے۔ مترجم کتاب مولانا حافظ محمد اسلم شاہدروی﷾ اس کتاب کے علاوہ بھی کئی کتب کے مصنف و مترجم ہیں۔ اور طویل عرصہ سے مرکزی جمعیت اہل حدیث، پاکستان سے وابستہ ہیں اور دار المعارف مبارک مسجد، لاہور میں ریسرچ کے شعبہ میں بطور مدیر خدمات انجام دے رہے ہیں۔ اللہ تعالیٰ ان کے علم وعمل اور زورِ قلم میں مزید اضافہ فرمائے اور ان کی تدریسی ، تصنیفی وتحقیقی، تبلیغی خدمات کو شرفِ قبولیت سے نوازے۔ (آمین)

    title-pages-taharat-k-masail--sayyad-sabiq--copy
    سید سابق مصری

    اسلامی نظام حیات میں طہارت وپاکیزگی کے عنصر کوجس شدو مد سے اُجاگر کر نے کی کوشش کی گئی ہے اس طرح سے کسی اور مذہب میں نہیں کی گئی ۔پلیدگی ،گندگی ا ور نجاست سے حاصل کی جانے والی ایسی صفائی وستھرائی جو شرعی اصولوں کے مطابق ہو، اسے طہارت کہتے ہیں۔نجاست خواہ حقیقی ہو، جیسے پیشاب اور پاخانہ، اسے خبث کہتے ہیں یا حکمی اور معنوی ہو، جیسے دبر سے ریح (ہوا) کا خارج ہونا، اسے حدث کہتے ہیں۔ دینِ اسلام ایک پاکیزہ دین ہے اور اسلام نے اپنے ماننے والوں کو بھی طہارت اور پاکیزگی اختیار کرنے کو کہا ہے اور اس کی فضیلت و اہمیت اور وعدووعید کا خوب تذکرہ کیا ہے۔نبی ﷺنے طہارت کی فضیلت بیان کرتے ہوءے فرمایا:الطّھور شطر الایمان (صحیح مسلم 223) طہارت نصف ایمان ہے۔ایک اور حدیث میں طہارت کی فضیلت کے متعلق ہے کہ آپ ﷺنے فرمایا:’’وضو کرنے سے ہاتھ، منہ،اورپاؤں کے تمام (صغیرہ) گناہ معاف ہوجاتے ہیں‘‘۔(سنن النسائی،:103)طہارت سے غفلت برتنے کی بابت نبیﷺ سے مروی ہے: ’’ قبر میں زیادہ عذاب طہارت سے غفلت برتنے پر ہوتا ہے‘‘۔ (صحیح الترغیب و الترھیب: 152)۔مذکورہ احایث کی روشنی میں ایک مسلمان کے لیے واجب ہے کہ وہ اپنے بدن، کپڑے اور مکان کو نجاست سے پاک رکھے- اللہ تعالی نے اپنے نبی کو سب سے پہلے اسی بات کا حکم دیا تھا : ’’ اپنے لباس کو پاکیزہ رکھیے اور گندکی سے دور رہیے‘‘ (المدثر:5،4) مکان اور بالخصوص مقام عبادت کے سلسلہ میں سیدنا ابراھیم اور اسماعیل علیہما السلام کو حکم دیا گیا: " میرے گھر کو طواف کرنے والوں، اعتکاف کرنے والوں اور رکوع و سجود کرنے والوں کے لیے پاک صاف رکھیں-" (البقرۃ:125)۔اللہ تعالی اپنے طاہر اور پاکیزہ بندوں ہی سے محبت کرتا ہے۔ ارشاد باری تعالی ہے کہ: ’’بلاشبہ اللہ توبہ کرنے والوں اور پاک رہنے والوں سے محبت کرتا ہے۔‘‘ (البقرۃ: 222)، نیز اہل قباء کے متعلق فرمایا: "اس میں ایسے آدمی ہیں جو خوب پاک ہونے کو پسند کرتے ہیں اور اللہ تعالی پاک صاف رہنے والوں سے محبت فرماتا ہے‘‘۔ (التوبہ:108)۔لہذا روح کی طہارت کے لیے تزکیہ نفس کے وہ تمام طریقے جن کی تفصیل قرآن وحدیث میں ملتی ہے ان کا اپنے نفس کو پابند بنانا ضروری ہے ۔جب کہ طہارتِ جسمانی کے لیے بھی ان تمام تفصیلات سے اگاہی ضروری ہے جو ہمیں کتاب وسنت مہیا کر تی ہے۔ زیر تبصرہ کتا ب’’ طہارت کےمسائل ‘‘ سیدسابق کی مشہور ومعروف فقہ اسلامی کی عظیم کتاب ’فقہ السنۃ میں سے کتاب الطہارۃ کا اردو ترجمہ ہے ۔یہ کتاب وفاق المدارس کے نصاب میں شامل ہے ۔ لہذا طلبہ اور عام قارئین کی ضرورت کے پیش نظر اس کتاب کو مولانا حافظ محمد اسلم شاہدروی ﷾ نےاردو قالب میں ڈھالا ہے ۔موصوف نےاس کتاب کا عام فہم اور خوبصورت ترجمہ کرنے کے ساتھ ساتھ کتاب میں موجود احادیث مبارکہ کی تخریج کی اور جہاں بات سمجھانے کی ضرورت تھی حاشیہ میں بات کی توضیح بھی کردی ہے۔(م۔ا)

    pages-from-namaz-key-masael
    سید سابق مصری

    نماز انتہائی اہم ترین فریضہ اور سلام کا   دوسرا رکن ِ عظیم ہے جو کہ بہت زیادہ اہمیت کا حامل ہے۔ نماز دین کا ستون ہے جس نے اسے قائم کیا اس نے دین کو قائم کیا اور جس نے اسے ترک کردیا ہے اس نے دین کی عمارت کو ڈھادیا۔ نماز مسلمان کے افضل اعمال میں سے ہے۔ نماز ایک ایسا صاف ستھرا سرچشمہ ہے جس کےشفاف پانی سے نمازی اپنے گناہوں اور خطاؤں کو دھوتا ہے۔ کلمہ توحید کے اقرار کے بعد سب سے پہلے جو فریضہ انسان پر عائد ہوتا ہے وہ نماز ہی ہے۔ اسی سے ایک مومن اور کافر میں تمیز ہوتی ہے۔ بے نماز کافر اور دائرۂ اسلام سے خارج ہے۔ قیامت کے دن اعمال میں سب سے پہلے نماز ہی سے متعلق سوال ہوگا۔ فرد ومعاشرہ کی اصلاح کے لیے نماز ازحد ضروری ہے۔ نماز فواحش و منکرات سےانسان کو روکتی ہے ۔بچوں کی صحیح تربیت اسی وقت ممکن ہے جب ان کوبچپن ہی سے نماز کا پابند بنایا جائے۔ قرآن وحدیث میں نماز کو بر وقت اور باجماعت اداکرنے کی بہت زیاد ہ تلقین کی گئی ہے۔ اور نمازکی عدم ادائیگی پر وعید کی گئی ہے۔ نماز کی ادائیگی اور اس کی اہمیت اور فضلیت اس قد ر اہم ہے   کہ سفر وحضر اور میدان ِجنگ اور بیماری میں بھی نماز ادا کرنا ضروری ہے۔ نماز کی اہمیت وفضیلت کے متعلق بے شمار احادیث ذخیرۂ حدیث میں موجود ہیں او ر بیسیوں اہل علم نے مختلف انداز میں اس موضوع پر کتب تالیف کی ہیں۔ نماز کی ادائیگی کا طریقہ جاننا ہر مسلمان مرد وزن کےلیے ازحد ضروری ہے کیونکہ اللہ عزوجل کے ہاں وہی نماز قابل قبول ہوگی جو رسول اللہﷺ کے طریقے کے مطابق ادا کی جائے گی۔ او ر ہمارے لیے نبی اکرم ﷺکی ذات گرامی ہی اسوۂ حسنہ ہے۔ انہیں کے طریقے کےمطابق نماز ادا کی جائے گئی تو اللہ کے ہاں مقبول ہے۔ اسی لیے آپﷺ نے فرمایا صلو كما رأيتموني اصلي لہذا ہر مسلمان کے لیے رسول للہﷺ کے طریقۂ نماز کو جاننا بہت ضروری ہے۔ زیر تبصرہ کتا ب ’’نماز کے مسائل‘‘ سیدسابق کی مشہور و معروف فقہ اسلامی کی عظیم کتاب ’فقہ السنۃ میں سے کتاب االصلاۃ کا اردو ترجمہ ہے۔ یہ کتاب وفاق المدارس کے نصاب میں شامل ہے۔ لہذا طلبہ اور عام قارئین کی ضرورت کے پیش نظر اس کتاب کو مولانا حافظ محمد اسلم شاہدروی﷾ نے اردو قالب میں ڈھالا ہے۔ موصوف نے اس کتاب کا عام فہم اور خوبصورت ترجمہ کرنے کے ساتھ ساتھ کتاب میں موجود احادیث مبارکہ کی تخریج کی اور جہاں بات سمجھانے کی ضرورت تھی حاشیہ میں بات کی توضیح بھی کردی ہے۔ مترجم موصوف ’فقہ السنۃ میں سے کتاب الطہارۃ کا اردو ترجمہ بھی کرچکے ہیں جو حسن طباعت سےآراستہ ہوکر منظر عام پر آچکا ہے۔ اللہ تعالیٰ ان کے علم وعمل اور زورِ قلم میں مزید اضافہ فرمائے اور ان کی تدریسی، تصنیفی وتحقیقی، تبلیغی خدمات کو شرفِ قبولیت سے نوازے۔ (آمین)

اس سائٹ پر کوئی ایسی کتاب موجود نہیں جس کی ترتیب و تخریج ان صاحب نے کی ہو۔
ان صاحب کی کوئی بھی کتاب نظرثانی کی گئی موجود نہیں۔

ای میل سبسکرپشن

محدث لائبریری کی اپ ڈیٹس بذریعہ ای میل وصول کرنے کے لئے ای میل درج کر کے سبسکرائب کے بٹن پر کلک کیجئے۔

 

ایڈوانس سرچ

رجسٹرڈ اراکین

آن لائن مہمان

محدث لائبریری پر اس وقت الحمدللہ 2539 مہمان آن لائن ہیں ، لیکن کوئی رکن آن لائن نہیں ہے۔

ایڈریس

       99-جے ماڈل ٹاؤن،
     نزد کلمہ چوک،
     لاہور، 54700 پاکستان

       0092-42-35866396، 35866476، 35839404

       0092-423-5836016، 5837311

      KitaboSunnat@gmail.com

      بنک تفصیلات کے لیے یہاں کلک کریں