حافظ عبد الشکور

1 1 1 1 1 1 1 1 1 1
حافظ عبد الشکور
    title-page-70-true-islamic-stories
    حافظ عبد الشکور

    فی زمانہ جبکےبچے بڑے جھوٹے اورلغوافسانوں ،ناولوں اورکہانیوں کے قصوں میں گرفتارنظرآتےہیں ،ایسی کتابوں کی بہت زیادہ ضرورت ہے،جس میں سچےواقعات بیان کئے گئے ہوں ۔جنہیں پڑھ کرعمل کاجذبہ بیدارہو۔زیرنظرکتاب میں سیرت نبوی اورتاریخ اسلام سے ایسے ہی 70واقعات کاانتخاب پیش کیاگیاہے ،جن کےمطالعہ سے ایمان کوتازگی اورروح کوشادابی نصیب ہوتی ہے۔نیزدل میں صحابہ کرام اورسلف صالحین کی عظمت اوران سے محبت کاجذبہ پیداہوتاہے۔ضرورت اس امرکی ہے کہ اس طرح کالٹریچرعام کیاجائے اورگھروں میں خصوصاً بچوں اورخواتین کوان کےمطالعے کی ترغیب دی جائے تاکہ وہ جھوٹے اور فحش ناولوں میں وقت ضائع کرنےکے بجائے سیرت سلف سے روشناس ہوسکیں۔

اس سائٹ پر کوئی ایسی کتاب موجود نہیں جس کا ترجمہ ان صاحب نے کیا ہو۔
    pages-from-musnad-ishaaq-bin-rahviyah
    ابو یعقوب اسحٰق بن ابراہیم راہویہ

    تابعین کے فیضِ تربیت سے جولوگ بہرہ ور ہوئے اور ان کے بعد علومِ دینیہ کی اشاعت وترویج کی انہی میں امام ابو یعقوب اسحاق بن ابراہیم بن راہویہ ﷫ (161ھ۔ 238ھ)بھی ہیں، ان کا شمار ان اساطینِ اُمت میں ہوتا ہے جنہوں نے دینی علوم خصوصاً تفسیر وحدیث کی بے بہا خدمات انجام دی ہیں اور اپنی تحریری یادگاریں بھی چھوڑی ہیں۔ابتدائی تعلیم کے بعد حدیث کی طرف توجہ کی سب سے پہلے امام وقت عبداللہ بن مبارک﷫ کی خدمت میں گئے اور پھردوسرے شیوخ حدیث کی مجالسِ درس میں شریک ہوئے اور ان سے استفادہ کیا، اس وقت ممالکِ اسلامیہ میں دینی علوم کے جتنے مراکز تھے وہ سب ایک دوسرے سے ہزاروں میل دور تھے؛ مگرابنِ راہویہ نے اِن تمام مقامات کا سفر کیا اور وہاں کے تمام ممتاز محدثین وعلماء سے استفادہ کیا۔ان کوابتدا ہی سے علم حدیث سے شغف تھا اور اسی کے حصول میں انہوں نے سب سے زیادہ محنت وکوشش کی؛ مگرتفسیر وفقہ وغیرہ میں بھی ان کو دسترس تھی۔ اللہ تعالیٰ نے انہیں قوتِ حافظہ بھی غیرمعمولی دیا تھا، بے شمار احادیث زبانی یاد تھیں، کئی کئی ہزار احادیث تلامذہ کووہ اپنی یادداشت سے لکھا دیا کرتے تھے اور کبھی کتاب دیکھنے کی ضرورت پیش نہیں آتی تھی خود کہتے تھے کہ میں جوکچھ سنتا ہوں اسے یاد کرلیتا ہوں اور جوکچھ یاد کرلیتا ہوں؛ پھرنہیں بھولتا، فرماتے تھے سترہزار حدیثیں ہروقت میری نظروں کے سامنے رہتی ہیں، ابوذرعہ مشہور محدث کہتے تھے کہ ان کے جیسا قوتِ حفظ رکھنے والا نہیں دیکھا گیا۔ ان سے جن لوگوں نے اکتساب فیض کیا ان میں امام بخاری، امام مسلم، امام ترمذی، ابوداؤد، نسائی اور امام احمد بن حنبل، یحییٰ بن معین رحمہم اللہ وغیرہ کے نام بھی شامل ہیں ان تمام ائمہ نے اپنی اپنی کتابوں میں اسحاق ابن راہویہ کی مرویات نقل کی ہیں۔ امام اسحاق نے حدیث وفقہ کی تدریس کےساتھ ساتھ بہت کتابیں بھی تصنیف کیں۔ زیر نظر کتاب ’’مسند اسحاق بن راھویہ‘‘ بھی انہی کی یادگار تصنیف ہے۔ یہ کتاب مسند کی ترتیب پر تھی جس سے عامی کےلیے استفادہ مشکل تھا اس چیز کومد نظر رکھتے ہوئے اورعوام الناس کے استفادہ کی آسانی کے لیے کتاب کوفقہی ترتیب دی گئی ہے۔ حدیث کی اس اہم کتاب کے ترجمہ کا کام جناب ابو انس محمد سرور گوہر﷾ بطریق احسن انجام دیا ہے۔ ترجمہ میں حتی القدور کوشش کی گئی ہے کہ یہ ن نہایت سلیس اور عام فہم ہو۔محترم جناب حافظ عبد الشکور ترمذی اور حافظ محمد فہد حفظہما اللہ نےشرح اور تخریج کا کام بڑی عرق ریزی کے ساتھ انجام دیا ہے۔ اللہ تعالیٰ ادارہ انصارالسنۃ کی اس کاوش کو قبول فرمائے اور کتاب کو طباعت کےلیے تیارکرنے والے تمام احباب کو اجر عظیم سے نوازے۔ آمین(م۔ا)

ان صاحب کی کوئی بھی کتاب نظرثانی کی گئی موجود نہیں۔

ای میل سبسکرپشن

محدث لائبریری کی اپ ڈیٹس بذریعہ ای میل وصول کرنے کے لئے ای میل درج کر کے سبسکرائب کے بٹن پر کلک کیجئے۔

 

ایڈوانس سرچ

رجسٹرڈ اراکین

آن لائن مہمان

محدث لائبریری پر اس وقت الحمدللہ 1853 مہمان آن لائن ہیں ، لیکن کوئی رکن آن لائن نہیں ہے۔

ایڈریس

       99-جے ماڈل ٹاؤن،
     نزد کلمہ چوک،
     لاہور، 54700 پاکستان

       0092-42-35866396، 35866476، 35839404

       0092-423-5836016، 5837311

      KitaboSunnat@gmail.com

      بنک تفصیلات کے لیے یہاں کلک کریں