حافظ عبد الستار حماد

1 1 1 1 1 1 1 1 1 1
حافظ عبد الستار حماد
    pages-from-anwaar-e-hadees
    حافظ عبد الستار حماد

    اسلام کے دوبنیادی اور صافی سرچشمے قرآن وحدیث ہیں جن کی تعلیمات وہدایات پر عمل کرنا ہر مسلمان کے لیے ضروری ہے۔ قرآن مجید کی طرح حدیث بھی دینِ اسلام میں ایک قطعی حجت ہے۔ کیونکہ اس کی بنیاد بھی وحی الٰہی ہے۔ احادیث رسول ﷺ کو محفوظ کرنے کے لیے کئی پہلوؤں اور اعتبارات سے اہل علم نے خدمات انجام دیں۔ تدوینِ حدیث کا آغاز عہد نبوی سے ہوا او ر صحابہ وتابعین کے دور میں پروان چڑھا۔ ائمہ محدثین کےدور میں خوب پھلا پھولا ۔مختلف ائمہ محدثین نے احادیث کے کئی مجموعے مرتب کئے۔ان ضخیم مجموعہ جات سے استفتادہ عامۃ الناس کےلیے انتہائی دشوار ہے ۔عامۃ الناس کی ضرورت کے پیش نظر کئی اہل علم نے مختصر مجموعات حدیث تیار کیے ہیں ۔اربعین کے نام سے کئی علماء نے حدیث کے مجموعے مرتب کیے۔ اور اسی طرح 100 احادیث پر مشتمل ایک مجموعہ عارف با اللہ مولانا سید محمد داؤد غزنوی ﷫ نے ا نتہائی مختصراور جامع رسالہ ’’نخبۃ الاحادیث‘‘ کے نام سے مرتب کیا جس میں عبادات معاملات، اخلاق وآداب وغیرہ سے متعلق کامل رااہنمائی موجود ہے۔ موصوف کے کمال حسنِ انتخاب کی وجہ سے یہ کتاب اکثر دینی مدارس کے نصاب میں شامل ہے۔عصر حاضر میں بھی کئی مزید مجموعات ِحدیث منظر عام پر آئے ہیں۔ زیر تبصرہ کتاب ’’انوار حدیث ‘‘بھی اسی سلسلہ کی کڑی ہے۔ یہ کتاب پاکستان کے جید عالم دین مفتی جماعت شارح بخاری شیخ الحدیث ابو محمد حافظ عبد الستار حماد﷾(فاضل مدینہ یونیورسٹی )کی کاوش ہے۔ جسے انہوں نے   ہفت روزہ اہل حدیث،لاہور کے مدیر مولانا محمدبشیر انصاری﷾ کی کاوش پر بڑے عمدہ انداز سے مرتب کیا ہے ۔موصوف نے صحیح بخاری اور صحیح مسلم سے 100 احادیث کا انتخاب کرکے پانچ حصوں (عقائد وعبادات، حقوق ومعامالات، اخلاق وکردار، احکام ومسائل ، دعوات اذکار) میں تقسیم کیا ہے اور پھر اختصار کے ساتھ ان کی تشریح میں صحیح احادیث کو پیش کیا ہے۔ ابتدائی طلباء وطالبات کے لیے یہ کتاب بیش قیمت خزانہ ہے۔ اللہ تعالیٰ محترم حافظ کی اس کاوش کو شرفِ قبولیت سے نوازے اور قبول عام کا درجہ عطا فرمائے۔ آمین( م۔ا)

    title-page-hujiyt-hadees
    حافظ عبد الستار حماد
    حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے اقوال، افعال اور آپ کے سامنے پیش آنے والے واقعات کو حدیث کا نام دیا جاتا ہے جو اصلاً اس کتاب کی توضیح وتشریح ہی ہے جو اللہ تعالی نے محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر قرآن کریم کی صورت میں نازل فرمائی ہے- کتاب ہذا میں شیخ الحدیث حافظ عبدالستار حماد نے انکار حدیث کا فتنہ بے نقاب کرنے کی کوشش کی ہے- فاضل مصنف نے کتاب کی دو ابواب میں تقسیم کی ہے  پہلے باب میں حجیت حدیث اور دوسرے باب میں انکار حدیث کے عوامل ومحرکات بیان کرتے ہوئے ایسے تمام عناصر کا قلع قمع کیا ہے جو حدیث وسنت کے متعلق شبہات واعتراضات وارد کر کے اس کی تشریعی حیثیت کو ختم کرنے کی کوشش کرتے ہیں تا کہ قرآن کی من مانی اور خانہ زاد تشریحات کے ذریعے اسلام کی اپنی خواہشات کے عین مطابق تشریح پیش کی جا سکے-

    title-pages-fatawa-ashab-ul-hadith-copy
    حافظ عبد الستار حماد

    اسلام میں  فتویٰ نویسی کی تاریخ  اتنی  ہی پرانی  ہے جتنا  کہ  بذات  خود اسلام۔ فتویٰ سے  مراد پیش  آمدہ مسائل اور مشکلات سےمتعلق دلائل کی  روشنی  میں شریعت کا وہ  حکم  ہے  جو کسی سائل کےجواب  میں کوئی عالم دین  اور احکام شریعت کےاندر بصیرت رکھنے والاشخص بیان کرے۔فتویٰ پوچھنے اور فتویٰ دینے  کاسلسلہ رسول ﷺکےمبارک دور سے  چلا آرہا ہے  برصغیر پاک وہند میں  قرآن  کی تفاسیر شروح حدیث، حواشی وتراجم کےساتھ فتویٰ نویسی میں  بھی  علمائے اہل  کی کاوشیں لائق تحسین ہیں  تقریبا  چالیس کے قریب   علمائے حدیث کے فتاویٰ جات    کتابی صورت میں   شائع ہو چکے  ہیں ۔زیر تبصرہ  کتاب ’’ فتاویٰ اصحاب الحدیث‘‘ جید عالم  دین  مفتی جماعت اہل  حدیث  ،شارح   صحیح بخاری    شیخ  الحدیث مولانا حافظ عبد الستار حماد﷾ کے  ان  فتاوی ٰ جات کا مجموعہ ہے  جو    کئی سالوں  سے  مرکزی  جمعیت  اہل  حدیث  کے ترجمان  مجلہ  ہفت روزہ  اہل حدیث میں  شائع ہورہے ہیں۔جنہیں مکتبہ اسلامیہ   کے  مدیر  محترم سرور عاصم صاحب نے جدید فقہی ترتیب کے  مطابق  مرتب کروا کر  نہایت سے عمدہ طریقے سے  تین  مجلدات میں شائع کیاہے  ۔جن میں  ترجمہ کے ساتھ  قرآنی  آیات کا عربی متن ،تمام آیات واحادیث کے حوالہ جات  نیچے  حاشیہ میں  درج کردئیے گئے ہیں ۔ اورہر سوال پر ایک مختصر مگر جامع عنوان قائم کیا گیا ہے  تاکہ  سوال کی نوعیت کا اندازہ  ہوسکے ۔فتاوی ٰ اصحاب الحدیث کی جلد سوم  دراصل  ہفت روزہ  اہل حدیث  (سال 2008تاسال 2010ء)میں شائع ہونے والے  فتاویٰ جات کا مجموعہ ہے ۔اور اس کی چوتھی جلد زیرترتیب  ہے جلدہی زیر طباعت سے آراستہ ہوجاگی (ان شاء اللہ )اللہ تعالیٰ   محترم  حافظ عبد الستار حماد﷾  کے علم وعمل اور عمر میں برکت فرمائے  ۔(آمین) (م۔ ا)

     
    نوٹ:
    محدث فورم میں اس کتاب پر تبصرہ کرنے کے لیے یہاں کلک کریں
    مکمل جلدیں ڈاؤن لوڈ کرنے کے لیے یہاں کلک کریں
    title-pages-fataawa-ashaab-ul-hadees-1
    حافظ عبد الستار حماد
    اللہ رب العزت نے انسانوں اور جنوں کو اس لیے پیدا فرمایا ہے کہ وہ اس کی عبادت کریں۔عبادت کے معنی محض چیز ظاہری اعمال و مراسم ہی تک محدود نہیں بلکہ اپنی پوری زندگی کو خدا کے احکامات کے مطابق بسر کرنا عبادت ہے۔لہذا ایک مسلمان ہونے کی حیثیت سے ہماری ذمہ داری ہے کہ ہم اپنی زندگی کے ہر معاملے میں خدا کی مرضی معلوم کریں۔اس سلسلہ میں ہمیں حکم دیا گیا ہے کہ اگر کوئی یہ نہ جانتا ہو کہ خدا کا حکم کیا ہے تو اسے ’اہل الذکر‘ یعنی علمائے کتاب وسنت سے معلوم کر لینا چاہیے ۔شرعی اصطلاح میں اسی کو استفتاء و افتاء سے تعبیر کیا جاتا ہے ۔فی زمانہ جب کہ دین سے لا علمی اور جہالت کا دور دورہ ہے ،یہ ضروری ہو گیا ہے ک علمائے حق سے شرعی رہنمائی حاصل کی جائے۔زیر نظر فتاویٰ بھی اس سلسلے کی ایک کڑی ہے جس میں زندگی کے مختلف گوشوں سے متعلق مسائل کا حل پیش کیا گیا ہے ۔اس کی امتیازی خوبی یہ ہے کہ سوالات کا جواب کسی خاص فقہی مکتب فکر کی روشنی میں نہیں بلکہ خالصتاً کتاب وسنت کی روشنی میں دیا گیا ہے ۔نیز جدید مسائل خصوصاً معاشی مسائل پر بھی رہنمائی موجود ہے۔ہر مسلمان کو لازماً اس کتاب کا مطالعہ کرنا چاہیے تاکہ وہ قرآن وحدیث کے مطابق اپنی زندگی بسر کر سکے۔
     
    نوٹ:
    محدث فورم میں اس کتاب پر تبصرہ کرنے کے لیے یہاں کلک کریں
    مکمل جلدیں ڈاؤن لوڈ کرنے کے لیے یہاں کلک کریں
    title-pages-fataawa-ashaab-ul-hadees-2
    حافظ عبد الستار حماد
    اللہ رب العزت نے انسانوں اور جنوں کو اس لیے پیدا فرمایا ہے کہ وہ اس کی عبادت کریں۔عبادت کے معنی محض چیز ظاہری اعمال و مراسم ہی تک محدود نہیں بلکہ اپنی پوری زندگی کو خدا کے احکامات کے مطابق بسر کرنا عبادت ہے۔لہذا ایک مسلمان ہونے کی حیثیت سے ہماری ذمہ داری ہے کہ ہم اپنی زندگی کے ہر معاملے میں خدا کی مرضی معلوم کریں۔اس سلسلہ میں ہمیں حکم دیا گیا ہے کہ اگر کوئی یہ نہ جانتا ہو کہ خدا کا حکم کیا ہے تو اسے ’اہل الذکر‘ یعنی علمائے کتاب وسنت سے معلوم کر لینا چاہیے ۔شرعی اصطلاح میں اسی کو استفتاء و افتاء سے تعبیر کیا جاتا ہے ۔فی زمانہ جب کہ دین سے لا علمی اور جہالت کا دور دورہ ہے ،یہ ضروری ہو گیا ہے ک علمائے حق سے شرعی رہنمائی حاصل کی جائے۔زیر نظر فتاویٰ بھی اس سلسلے کی ایک کڑی ہے جس میں زندگی کے مختلف گوشوں سے متعلق مسائل کا حل پیش کیا گیا ہے ۔اس کی امتیازی خوبی یہ ہے کہ سوالات کا جواب کسی خاص فقہی مکتب فکر کی روشنی میں نہیں بلکہ خالصتاً کتاب وسنت کی روشنی میں دیا گیا ہے ۔نیز جدید مسائل خصوصاً معاشی مسائل پر بھی رہنمائی موجود ہے۔ہر مسلمان کو لازماً اس کتاب کا مطالعہ کرنا چاہیے تاکہ وہ قرآن وحدیث کے مطابق اپنی زندگی بسر کر سکے۔
     
    نوٹ:
    محدث فورم میں اس کتاب پر تبصرہ کرنے کے لیے یہاں کلک کریں
    مکمل جلدیں ڈاؤن لوڈ کرنے کے لیے یہاں کلک کریں
    title-pages-laanat-ka-mustahiq-thehraney-walay-chalees-amaal
    حافظ عبد الستار حماد
    قرآن و سنت میں بہت سے مقامات پر ایسے لوگوں کا تذکرہ موجود ہے جن پر اللہ تعالیٰ نے لعنت فرمائی۔ مفسرین نے اللہ تعالیٰ کی لعنت کا مطلب یہ بتایا ہے کہ ایسا بد نصیب شخص دنیا اور آخرت میں اللہ تعالیٰ کی رحمت سے محروم ہوگیا۔ فلہٰذا ہر مسلمان کو چاہیے کہ وہ شعوری طور پر ایسے کاموں اور اعمال سے گریز کرے جو اللہ تعالیٰ کی لعنت کا مستحق ٹھیراتے ہوں۔ زیر نظر کتابچہ مولانا عبدالستار حماد نے اسی  مقصد کو سامنے رکھتے ہوئے ترتیب دیا ہے۔ انہوں نے کتاب و سنت کی نصوص سے ایسے اعمال کی فہرست مرتب کر دی ہے جن کی وجہ سے کوئی انسان اللہ تعالیٰ کی لعنت کا سزاوار ہو سکتا ہے۔ تاکہ ایسے اعمال سے کنارہ کیا جائے اور ایسے اعمال اختیار کیے جائیں جو اللہ کی رحمت کا مستحق بناتے ہوں۔ جب انسان اللہ کی لعنت پانے والے اعمال سے اجتناب کرتا ہے تو اللہ تعالیٰ چھوٹے چھوٹے گناہوں کو معاف فرما دیتے ہیں۔ کتابچہ 61 صفحات پر مشتمل ہے۔ اسلوب نہایت واضح اور سادہ ہے۔ کوئی بھی عام فہم شخص اس کا مطالعہ کر کے اپنے آپ کو ایسے قبیح اعمال سے بچانے میں کامیاب ہو سکتا ہے۔ (ع۔م)

    نوٹ:
    محدث فورم میں اس کتاب پر تبصرہ کرنے کے لیے یہاں کلک کریں

    pages-from-masala-eman-o-kufar
    حافظ عبد الستار حماد

    اسلام ایک ضابطہ حیات اور بہترین انقلابی دین ہے، جس نے عرب کے خانہ بدوش قبیلوں کو دنیا کی مہذب ترین قوم بنا دیا۔ اسلام نے لوگوں کے ظاہری و باطنی اعمال کی اصلاح کرتے ہوئے باہمی محبت، حسنِ خلق اور بامقصد زندگی گزارنے کا سبق دیا۔ یہی وجہ تھی کہ لوگ اسلام کی دعوت پر' لبیک' کہتے ہوئے گروہ در گروہ دائرہ اسلام میں داخل ہوتے گئے۔ مگر طاغوت اس انقلابی دین سے نالاں رہا، ہمیشہ اسلام کو ختم کرنے کے لیے سازشیں ہوتی رہیں، کبھی مسلمانوں کو خلقِ قرآن جیسی بے فائدہ مباحث میں الجھایا گیا، تو کبھی ختم نبوت جیسے بے بنیاد مسائل میں پھسلایا گیا، اسی طرح دور حاضر میں ایک معرکۃ الآراء مسئلہ جو کہ جنگل میں آگ کی طرح امت مسلمہ کو اپنی لپیٹ میں لے رہا ہے وہ ہے' مسئلہ تکفیر'۔ شریعت کی نظر میں ایمان کی تعریف یہ کہ رسول اللہ ﷺ اپنے رب کی طرف سے جو اصول و ارکان اور احکام و مسائل لے کر آئے ان کی تصدیق کرنا ان کی سچائی کو دل میں بٹھانا، پھر اس تصدیق کا زبان سے اظہار کرنا، پھر دیگر اعضاء سے اس کا عملی ثبوت دینا ایمان ہے۔ یہ تینوں زاویے ایسے لازم ملزوم ہیں اگر ان میں سے کسی ایک کو الگ کر دیا جائے تو ایسا حقیقی ایمان باقی نہیں رہتا جس سے اخروی نجات کا حصول ممکن ہو، البتہ اس کے کچھ اجزاء اساسی اور کچھ تکمیلی ہیں۔ زیر تبصرہ کتاب"مسئلہ ایمان و کفر" محقق العصر حضرت مولانا ابو محمد عبد الستار حماد حفظہ اللہ تعالیٰ کی ایک تحقیقی و علمی کاوش ہے۔ محترم مولانا کی شخصیت اور علمی کارنامے کسی تعارف کے محتاج نہیں، آپ نے کتاب ہذا میں ایمان کی وضاحت اور فتنہ تکفیر کے متعلق بڑے احسن انداز سے قرآن و سنت کی روشنی میں دلائل کا اہتمام کیا ہے۔ اللہ تعالیٰ سے دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ ان کو ہمت و استقامت سے نوازے اور اپنے دین حنیف کی سر بلندی کا کام لیتا رہے۔ آمین(عمیر)

    title-pages-masla-iman-o-kufar
    حافظ عبد الستار حماد
    ایمان کے لیے تین چیزوں کا ہونا ضروری ہے: دل سے تصدیق، زبان سے اقرار اور دیگر اعضا سے التزام عمل ۔ ان تین چیزوں کے اجتماع کا نام ایمان ہے۔ تصدیق میں کوتاہی کا مرتکب منافق، اقرار سے پہلو تہی باعث کفر اور عملاً کوتاہی کا مرتکب فاسق ہے اگر انکار کی وجہ سے بدعملی کا شکار ہے تو ایسے شخص کے کفر میں کوئی شک نہیں ہے۔ علمائے سلف مسئلہ ایمان و کفر کو بالبداہت بیان کرتے آئے ہیں۔ امام بخاری نے اپنی تالیف الجامع الصحیح کے کتاب الایمان میں ایمان کے عملی اور اخلاقی پہلوؤں پر بالتفصیل روشنی ڈالی ہے۔ زیر تبصرہ کتاب میں مولانا عبدالستار حماد نے بھی ایمان کے فکری اورعملی پہلوؤں کو اجاگر کرنے کی کوشش کی ہے۔ یہ تالیف دراصل ماہنمامہ شہادت میں ایمان و عقیدہ کے نام سے شائع ہونے والے سلسلہ وار مضامین کا مجموعہ ہے جسے معمولی حک و اضافہ کے بعد کتابی شکل میں پیش کیا جا رہا ہے۔ مولانا موصوف نے مسئلہ تکفیر، جو موجودہ جہادی تناظر میں بہت زیادہ اہمیت اختیار کر گیا ہے، پر بھی شرح و وضاحت کے ساتھ روشنی ڈالی ہے اور اس حوالے پائے جانے والے اشکالات کو رفع کرنے کی کوشش کی ہے۔ اگرچہ یہ بحث صرف 35 کے قریب صفحات پر محیط ہے جو دوسری کتاب کے مقابلہ میں کافی کم ہیں، لیکن پھر بھی افادیت کے اعتبار سےبہت زیادہ اہمیت کے حامل ہیں۔ کتاب کے آخر میں ’امام بخاری اور فتنہ تکفیر‘ کے عنوان سے تکفیر سے متعلق امام بخاری کے موقف کو ان کی تالیف الجامع الصحیح کی روشنی میں بیان کیا گیا ہے۔(ع۔م)

    نوٹ:
    محدث فورم میں اس کتاب پر تبصرہ کرنے کے لیے یہاں کلک کریں
    pages-from-maasharey-key-muhlak-gunah
    حافظ عبد الستار حماد

    اسلام ایک ضابطہ حیات اور بہترین انقلابی دین ہے، جس نے عرب کے خانہ بدوش قبیلوں کو دنیا کی مہذب ترین قوم بنا دیا۔ اسلام نے لوگوں کے ظاہری و باطنی اعمال کی اصلاح کرتے ہوئے باہمی محبت، حسنِ خلق اور بامقصد زندگی گزارنے کا سبق دیا۔ یہی وجہ تھی کہ لوگ اسلام کی دعوت پر' لبیک' کہتے ہوئے گروہ در گروہ دائرہ اسلام میں داخل ہوتے گئے۔ مگر طاغوت اس انقلابی دین سے نالاں رہا، ہمیشہ اسلام کو ختم کرنے کے لیے سازشیں ہوتی رہیں، کبھی مسلمانوں کو خلقِ قرآن جیسی بے فائدہ مباحث میں الجھایا گیا، تو کبھی ختم نبوت جیسے بے بنیاد مسائل میں پھسلایا گیا، اسی طرح دور حاضر میں ایک معرکۃ الآراء مسئلہ جو کہ جنگل میں آگ کی طرح امت مسلمہ کو اپنی لپیٹ میں لے رہا ہے وہ ہے' مسئلہ تکفیر'۔ شریعت کی نظر میں ایمان کی تعریف یہ کہ رسول اللہ ﷺ اپنے رب کی طرف سے جو اصول و ارکان اور احکام و مسائل لے کر آئے ان کی تصدیق کرنا ان کی سچائی کو دل میں بٹھانا، پھر اس تصدیق کا زبان سے اظہار کرنا، پھر دیگر اعضاء سے اس کا عملی ثبوت دینا ایمان ہے۔ یہ تینوں زاویے ایسے لازم ملزوم ہیں اگر ان میں سے کسی ایک کو الگ کر دیا جائے تو ایسا حقیقی ایمان باقی نہیں رہتا جس سے اخروی نجات کا حصول ممکن ہو، البتہ اس کے کچھ اجزاء اساسی اور کچھ تکمیلی ہیں۔ زیر تبصرہ کتاب"معاشرے کے مہلک گناہ" محقق العصر حضرت مولانا ابو محمد عبد الستار حماد حفظہ اللہ تعالیٰ کی ایک تحقیقی و علمی کاوش ہے۔ محترم مولانا کی شخصیت اور علمی کارنامے کسی تعارف کے محتاج نہیں۔ موصوف نے خوارج، مرجیہ، اور دیگر افراط تفریط کے شکار فرقے جو راہ اعتدال سے پھسل چکے ہیں قرآن و سنت کی روشنی میں ان کا محققانہ جائزہ لیا ہے۔ اللہ تعالیٰ ان کو ہمت و استقامت سے نوازے۔ آمین(عمیر)

    title-page-aiyna-jamal-e-nabowat
    ابراہیم بن عبد اللہ الحازمی
    حضور نبی کریم ﷺکی حیات مبارکہ اور سیر وسوانح پر اب تک بے شمار کتب لکھی جا چکی ہیں مگر آپ کے جسمانی حسن و جمال پر اب تک بہت کم کتب سامنے آئی ہیں- زیر نظر کتاب اسی کمی کو پورا کرنے کی ایک بھرپور  اور انتہائی عمدہ کوشش ہےجس میں مصنف  نے دلکش انداز میں آپ ﷺکے حسن و جمال کی ایک جھلک دکھائی ہے- یہ کتاب در اصل ''الرسول کأنک تراہ'' کا اردو ترجمہ ہے  اردو قالب میں ڈھالنے کا کام حافظ عبدالستار حماد نے بخوبی انجام دیا ہے- جب آپ حضور نبی کریم ﷺکی دلنشیں آنکھوں، حسیں رخساروں، کسرتی پنڈلیوں اور خوبصورت ہتھیلیوں کے بارے میں پڑھیں گے تو آپ کو ایسا محسوس ہوگا جیسے آپ سرور کائنات ﷺکو اپنے سامنے دیکھ رہے ہیں- کتاب کی ایک خاصیت یہ  بھی ہے کہ اس کا تمام تر مواد صحت اسناد کے لحاظ سے مستند اور صحیح احادیث پر مشتمل ہے-

    title-pages-islami-aqeeda-sawalan-jawaban
    محمد بن جمیل زینو
    زیر تبصرہ رسالہ فضیلۃ الشیخ محمد بن جمیل زینو کے اسلامی عقائد بارے لکھے گئے نہایت جامع کتابچے ’خذ عقیدتک من الکتاب والسنۃ الصحیحۃ‘ کا ترجمہ ہے۔ جسے شیخ الحدیث عبدالستار حماد نے اردو قالب میں ڈھالا ہے۔ رسالہ میں توحید اور دیگر عقائد نہایت عام فہم انداز میں بیان کیے گئے ہیں۔ رسالے کا اسلوب سوالاً جواباً ہے جو خاصا مفید اور دلچسپ ہے۔ ہر جواب کے ساتھ قرآن مجید اور احادیث صحیحہ سے دلیل دی گئی ہے تاکہ پڑھنے والے کو جواب کے صحیح ہونے کا اطمینان ہو جائے، اس لیے کہ ’عقیدہ توحید‘ ہی انسان کی دنیوی اور اخروی کامیابی و سعادت کی بنیاد ہے۔ رسالہ کے آخر میں موضوع کی مناسبت سے عقیدہ توحید سے متعلق علامہ عبدالرزاق ملیح آبادی رحمۃ اللہ علیہ کا نہایت جامع مضمون، جو انہوں نے 1925ء میں ’کتاب الوسیلۃ‘ اردو ایڈیشن کے مقدمے کے طور پر لکھا تھا، شامل کیا گیا ہے۔(ع۔م)

    نوٹ:
    محدث فورم میں اس کتاب پر تبصرہ کرنے کے لیے یہاں کلک کریں
    title-pages-sunan-darmi-urdu-1
    ابو محمد عبد اللہ بن عبد الرحمٰن التمیمی الدارمی
    اللہ رب العزت نے انسانوں کے لیے زندگی گزارنے کا جو طریق و عمل مقرر  فرمایا ہے ،اسے ’دین اسلام‘کا عنوان دیا گیا ہے۔دین اسلام کی بنیاد وحی الہیٰ پر ہے ۔وحی کی دو صورتیں ہیں :اول ،وجی جلی یا وحی متلو یہ قرآن کریم کی صورت میں ہمارے ہاتھوں میں موجود ہے ۔دوم ،حدیث و سنت جو رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے اقوال و افعال اور تقریرات سے عبارت ہے ۔وحی کے یہ دونوں حصے لازم و ملزوم ہیں اور ایک کو نظر انداز کر کے دوسرے کو سمجھنا ممکن نہیں ہے ۔چنانچہ حدیث و سنت کی اہمیت کے پیش نظر محدثین کرام نے اس کی تدوین و ترتیب اور جمع و حفاظت کا کام بے حد لگن اور محنت سے سر انجام دیا۔اخذ و روایت حدیث میں ایسی احتیاط و اہتمام کا ثبوت دیا کہ امت مسلمہ سے قبل اس کی مثال نہیں ملتی ۔اس کے نتیجے میں بے شمار کتب حدیث منظر عام پر آئیں ،جن میں سے ایک سنن دارمی بھی ہے جو کہ امام ابو محمد عبداللہ بن عبدالرحمن ابن الفضل  بن بہرام الدارمی کی تالیف ہے ۔امام صاحب کی جلالت قدر کا اندازہ اس سے لگایا جا سکتا ہے کہ امام مسلم،امام ترمذی،امام ابو داؤد،بقی بن مخلد اور حافظ ابو زرعہ رازی ایسے اساطین فن آپ کے تلامذہ میں شامل ہیں ۔آپ کی سنن ،علم حدیث کا شان دار مجموعہ ہے ،جسے تحقیق و تخریج کے ساتھ پیش کیا جارہا ہے ۔


    title-pages-sunan-darmi-urdu-2
    ابو محمد عبد اللہ بن عبد الرحمٰن التمیمی الدارمی
    اللہ رب العزت نے انسانوں کے لیے زندگی گزارنے کا جو طریق و عمل مقرر  فرمایا ہے ،اسے ’دین اسلام‘کا عنوان دیا گیا ہے۔دین اسلام کی بنیاد وحی الہیٰ پر ہے ۔وحی کی دو صورتیں ہیں :اول ،وجی جلی یا وحی متلو یہ قرآن کریم کی صورت میں ہمارے ہاتھوں میں موجود ہے ۔دوم ،حدیث و سنت جو رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے اقوال و افعال اور تقریرات سے عبارت ہے ۔وحی کے یہ دونوں حصے لازم و ملزوم ہیں اور ایک کو نظر انداز کر کے دوسرے کو سمجھنا ممکن نہیں ہے ۔چنانچہ حدیث و سنت کی اہمیت کے پیش نظر محدثین کرام نے اس کی تدوین و ترتیب اور جمع و حفاظت کا کام بے حد لگن اور محنت سے سر انجام دیا۔اخذ و روایت حدیث میں ایسی احتیاط و اہتمام کا ثبوت دیا کہ امت مسلمہ سے قبل اس کی مثال نہیں ملتی ۔اس کے نتیجے میں بے شمار کتب حدیث منظر عام پر آئیں ،جن میں سے ایک سنن دارمی بھی ہے جو کہ امام ابو محمد عبداللہ بن عبدالرحمن ابن الفضل  بن بہرام الدارمی کی تالیف ہے ۔امام صاحب کی جلالت قدر کا اندازہ اس سے لگایا جا سکتا ہے کہ امام مسلم،امام ترمذی،امام ابو داؤد،بقی بن مخلد اور حافظ ابو زرعہ رازی ایسے اساطین فن آپ کے تلامذہ میں شامل ہیں ۔آپ کی سنن ،علم حدیث کا شان دار مجموعہ ہے ،جسے تحقیق و تخریج کے ساتھ پیش کیا جارہا ہے یہ اس کی دوسری جلد ہے۔

    pages-from-sahi-bukhari-jilad-1
    محمد بن اسماعیل بخاری

    احکام الٰہی کےمتن کا نام قرآن کریم ہے اور اس متن کی شرح وتفصیل کانام حدیث ِرسول ہے اور رسول اللہ ﷺ کی عملی زندگی اس متن کی عملی تفسیر ہے رسول ﷺ کی زندگی کے بعد صحابہ کرام   نے احادیث نبویہ   کو آگے پہنچا کر اور پھر ان کے بعد ائمہ محدثین نے احادیث کومدوّن او ر علماء امت نے کتبِ احادیث کے تراجم وشروح کے ذریعے حدیث رسول کی عظیم خدمت کی   ہنوز یہ سلسلہ جاری ہے۔ اس سلسلے میں علمائے اہل حدیث کی تدریسی وتصنیفی خدمات بھی قابل قد رہیں پچھلے عہد میں نواب صدیق حسن خاں کے قلم اورمولانا سید نذیر حسین محدث دہلوی کی تدریس سے بڑا فیض پہنچا پھر ان کے شاگردوں اور کبار علماء نے فیض الباری شرح صحیح بخاری عون، المعبود، تحفۃ الاحوذی، التعلیقات السلفیہ، انجاز الحاجۃ جیسی عظیم شروح لکھیں اور مولانا وحید الزمان نے کتبِ حدیث کااردو زبان میں ترجمہ کر کےبرصغیر میں حدیث کو عام کرنے کا عظیم کام سرانجام دیا۔ تقریبا ایک صدی سے یہ تراجم متداول ہیں لیکن اب ان کی زبان کافی پرانی ہوگئی ہے اس لیے ایک عرصے سےیہ ضرورت محسوس کی جارہی ہے تھی کااردو زبان کے جدید اسلوب میں نئے سرے سے یہ ترجمے کرکے شائع کیے جائیں۔اور اسی طرح شیخ البانی  اور ان کے تلامذہ کی   کوششوں سےتحقیقِ حدیث کاجو ذوق پورے عالمِ اسلام میں عام ہوا ۔اس کے پیش نظر بجار طور پر لوگوں کے اندر یہ تڑپ پیدا ہوئی کہ کاش سننِ اربعہ میں جوضعیف روایات ہیں ا ن کی نشاندہی کر کےاو ر ان ضعیف روایات کی بنیادپر جو احکام ومسائل مسلمانوں میں پھیلے ہوئے ہیں ان کی تردید وضاحت بھی کردی جائے۔ ماشاء اللہ یہ سعادت اور شرف دار السلام کو حاصل ہوا کہ انہوں نے مذکوروہ ضرورتوں کااحساس کرتے ہوئے ایک صدی کے بعد نئےسرے سےکتب ستہ کے تراجم وفوائد اردوزبان کے جدید اور معیاری اسلوب میں کراکر ان کو طباعت کے اعلی معیارپر شائع کرنے کا پروگرام بنایا تاکہ قارئین کے لیے ان کا مطالعہ اور ان سے استفادہ آسان ہوجائے اور یوں ان کا حلقۂ قارئین بھی زیادہ سے زیادہ وسیع ہوسکے کیونکہ ان تمام کاوشوں کا مقصد احادیث ِرسول کو زیادہ سے زیادہ لوگوں تک پہنچانا ہے۔ تحقیق وتخریج ،ترجمہ وفوائد سے مزین دار السلام کی تین کتابیں (سنن ابو داؤد ،سنن ابن ماجہ،سنن نسائی) منظر عام آچکی ہیں ان کے بعد اب6 جلدوں پر مشتمل   صحیح بخاری کا ترجمہ اور مختصر فوائد آپ کے زیر مطالعہ ہیں ۔اور عنقریب صحیح بخاری کی مفصل اردو شرح بھی منظر عام پر آجائے گی ۔اور اسی طرح صحیح مسلم کی بھی ترجمہ ومختصر فوائد کے ساتھ تین جلدیں شائع ہوچکی ہیں۔ زیر تبصرہ صحیح بخاری کا ترجمہ و فوائد شیخ الحدیث مفتی جماعت حافظ عبدالستار حماد ﷾(فاضل مدینہ یونیورسٹی ) نے تحریر فرمائے ہیں۔جبکہ نظرثانی اور تصحیح وتنقیح کافریضہ عصر حاضر کے ادیب ِ نجیب فاضل مفسر ومترجم اور مؤلف کتب کثیرہ حافظ صلاح الدین یوسف ﷾ (مدیر شعبہ تحقیق وتصنیف دارالسلام،لاہور ) اور ان کےرفقاء نے نہایت دیانت اور استقامت اور باریک باریک بینی سے سرانجام دیاہے۔ اللہ تعالیٰ کتاب کی تیاری و طباعت میں   شامل تمام احباب کی کاوشوں کو قبول فرمائے(آمین)(م۔ا)

    pages-from-sahi-bukhari-jilad-2
    محمد بن اسماعیل بخاری

    احکام الٰہی کےمتن کا نام قرآن کریم ہے اور اس متن کی شرح وتفصیل کانام حدیث ِرسول ہے اور رسول اللہ ﷺ کی عملی زندگی اس متن کی عملی تفسیر ہے رسول ﷺ کی زندگی کے بعد صحابہ کرام   نے احادیث نبویہ   کو آگے پہنچا کر اور پھر ان کے بعد ائمہ محدثین نے احادیث کومدوّن او ر علماء امت نے کتبِ احادیث کے تراجم وشروح کے ذریعے حدیث رسول کی عظیم خدمت کی   ہنوز یہ سلسلہ جاری ہے۔ اس سلسلے میں علمائے اہل حدیث کی تدریسی وتصنیفی خدمات بھی قابل قد رہیں پچھلے عہد میں نواب صدیق حسن خاں کے قلم اورمولانا سید نذیر حسین محدث دہلوی کی تدریس سے بڑا فیض پہنچا پھر ان کے شاگردوں اور کبار علماء نے فیض الباری شرح صحیح بخاری عون، المعبود، تحفۃ الاحوذی، التعلیقات السلفیہ، انجاز الحاجۃ جیسی عظیم شروح لکھیں اور مولانا وحید الزمان نے کتبِ حدیث کااردو زبان میں ترجمہ کر کےبرصغیر میں حدیث کو عام کرنے کا عظیم کام سرانجام دیا۔ تقریبا ایک صدی سے یہ تراجم متداول ہیں لیکن اب ان کی زبان کافی پرانی ہوگئی ہے اس لیے ایک عرصے سےیہ ضرورت محسوس کی جارہی ہے تھی کااردو زبان کے جدید اسلوب میں نئے سرے سے یہ ترجمے کرکے شائع کیے جائیں۔اور اسی طرح شیخ البانی  اور ان کے تلامذہ کی   کوششوں سےتحقیقِ حدیث کاجو ذوق پورے عالمِ اسلام میں عام ہوا ۔اس کے پیش نظر بجار طور پر لوگوں کے اندر یہ تڑپ پیدا ہوئی کہ کاش سننِ اربعہ میں جوضعیف روایات ہیں ا ن کی نشاندہی کر کےاو ر ان ضعیف روایات کی بنیادپر جو احکام ومسائل مسلمانوں میں پھیلے ہوئے ہیں ان کی تردید وضاحت بھی کردی جائے۔ ماشاء اللہ یہ سعادت اور شرف دار السلام کو حاصل ہوا کہ انہوں نے مذکوروہ ضرورتوں کااحساس کرتے ہوئے ایک صدی کے بعد نئےسرے سےکتب ستہ کے تراجم وفوائد اردوزبان کے جدید اور معیاری اسلوب میں کراکر ان کو طباعت کے اعلی معیارپر شائع کرنے کا پروگرام بنایا تاکہ قارئین کے لیے ان کا مطالعہ اور ان سے استفادہ آسان ہوجائے اور یوں ان کا حلقۂ قارئین بھی زیادہ سے زیادہ وسیع ہوسکے کیونکہ ان تمام کاوشوں کا مقصد احادیث ِرسول کو زیادہ سے زیادہ لوگوں تک پہنچانا ہے۔ تحقیق وتخریج ،ترجمہ وفوائد سے مزین دار السلام کی تین کتابیں (سنن ابو داؤد ،سنن ابن ماجہ،سنن نسائی) منظر عام آچکی ہیں ان کے بعد اب6 جلدوں پر مشتمل   صحیح بخاری کا ترجمہ اور مختصر فوائد آپ کے زیر مطالعہ ہیں ۔اور عنقریب صحیح بخاری کی مفصل اردو شرح بھی منظر عام پر آجائے گی ۔اور اسی طرح صحیح مسلم کی بھی ترجمہ ومختصر فوائد کے ساتھ تین جلدیں شائع ہوچکی ہیں۔ زیر تبصرہ صحیح بخاری کا ترجمہ و فوائد شیخ الحدیث مفتی جماعت حافظ عبدالستار حماد ﷾(فاضل مدینہ یونیورسٹی ) نے تحریر فرمائے ہیں۔جبکہ نظرثانی اور تصحیح وتنقیح کافریضہ عصر حاضر کے ادیب ِ نجیب فاضل مفسر ومترجم اور مؤلف کتب کثیرہ حافظ صلاح الدین یوسف ﷾ (مدیر شعبہ تحقیق وتصنیف دارالسلام،لاہور ) اور ان کےرفقاء نے نہایت دیانت اور استقامت اور باریک باریک بینی سے سرانجام دیاہے۔ اللہ تعالیٰ کتاب کی تیاری و طباعت میں   شامل تمام احباب کی کاوشوں کو قبول فرمائے(آمین)(م۔ا)

    pages-from-sahi-bukhari-jilad-3
    محمد بن اسماعیل بخاری

    احکام الٰہی کےمتن کا نام قرآن کریم ہے اور اس متن کی شرح وتفصیل کانام حدیث ِرسول ہے اور رسول اللہ ﷺ کی عملی زندگی اس متن کی عملی تفسیر ہے رسول ﷺ کی زندگی کے بعد صحابہ کرام   نے احادیث نبویہ   کو آگے پہنچا کر اور پھر ان کے بعد ائمہ محدثین نے احادیث کومدوّن او ر علماء امت نے کتبِ احادیث کے تراجم وشروح کے ذریعے حدیث رسول کی عظیم خدمت کی   ہنوز یہ سلسلہ جاری ہے۔ اس سلسلے میں علمائے اہل حدیث کی تدریسی وتصنیفی خدمات بھی قابل قد رہیں پچھلے عہد میں نواب صدیق حسن خاں کے قلم اورمولانا سید نذیر حسین محدث دہلوی کی تدریس سے بڑا فیض پہنچا پھر ان کے شاگردوں اور کبار علماء نے فیض الباری شرح صحیح بخاری عون، المعبود، تحفۃ الاحوذی، التعلیقات السلفیہ، انجاز الحاجۃ جیسی عظیم شروح لکھیں اور مولانا وحید الزمان نے کتبِ حدیث کااردو زبان میں ترجمہ کر کےبرصغیر میں حدیث کو عام کرنے کا عظیم کام سرانجام دیا۔ تقریبا ایک صدی سے یہ تراجم متداول ہیں لیکن اب ان کی زبان کافی پرانی ہوگئی ہے اس لیے ایک عرصے سےیہ ضرورت محسوس کی جارہی ہے تھی کااردو زبان کے جدید اسلوب میں نئے سرے سے یہ ترجمے کرکے شائع کیے جائیں۔اور اسی طرح شیخ البانی  اور ان کے تلامذہ کی   کوششوں سےتحقیقِ حدیث کاجو ذوق پورے عالمِ اسلام میں عام ہوا ۔اس کے پیش نظر بجار طور پر لوگوں کے اندر یہ تڑپ پیدا ہوئی کہ کاش سننِ اربعہ میں جوضعیف روایات ہیں ا ن کی نشاندہی کر کےاو ر ان ضعیف روایات کی بنیادپر جو احکام ومسائل مسلمانوں میں پھیلے ہوئے ہیں ان کی تردید وضاحت بھی کردی جائے۔ ماشاء اللہ یہ سعادت اور شرف دار السلام کو حاصل ہوا کہ انہوں نے مذکوروہ ضرورتوں کااحساس کرتے ہوئے ایک صدی کے بعد نئےسرے سےکتب ستہ کے تراجم وفوائد اردوزبان کے جدید اور معیاری اسلوب میں کراکر ان کو طباعت کے اعلی معیارپر شائع کرنے کا پروگرام بنایا تاکہ قارئین کے لیے ان کا مطالعہ اور ان سے استفادہ آسان ہوجائے اور یوں ان کا حلقۂ قارئین بھی زیادہ سے زیادہ وسیع ہوسکے کیونکہ ان تمام کاوشوں کا مقصد احادیث ِرسول کو زیادہ سے زیادہ لوگوں تک پہنچانا ہے۔ تحقیق وتخریج ،ترجمہ وفوائد سے مزین دار السلام کی تین کتابیں (سنن ابو داؤد ،سنن ابن ماجہ،سنن نسائی) منظر عام آچکی ہیں ان کے بعد اب6 جلدوں پر مشتمل   صحیح بخاری کا ترجمہ اور مختصر فوائد آپ کے زیر مطالعہ ہیں ۔اور عنقریب صحیح بخاری کی مفصل اردو شرح بھی منظر عام پر آجائے گی ۔اور اسی طرح صحیح مسلم کی بھی ترجمہ ومختصر فوائد کے ساتھ تین جلدیں شائع ہوچکی ہیں۔ زیر تبصرہ صحیح بخاری کا ترجمہ و فوائد شیخ الحدیث مفتی جماعت حافظ عبدالستار حماد ﷾(فاضل مدینہ یونیورسٹی ) نے تحریر فرمائے ہیں۔جبکہ نظرثانی اور تصحیح وتنقیح کافریضہ عصر حاضر کے ادیب ِ نجیب فاضل مفسر ومترجم اور مؤلف کتب کثیرہ حافظ صلاح الدین یوسف ﷾ (مدیر شعبہ تحقیق وتصنیف دارالسلام،لاہور ) اور ان کےرفقاء نے نہایت دیانت اور استقامت اور باریک باریک بینی سے سرانجام دیاہے۔ اللہ تعالیٰ کتاب کی تیاری و طباعت میں   شامل تمام احباب کی کاوشوں کو قبول فرمائے(آمین)(م۔ا)

    pages-from-sahi-bukhari-jilad-4
    محمد بن اسماعیل بخاری

    احکام الٰہی کےمتن کا نام قرآن کریم ہے اور اس متن کی شرح وتفصیل کانام حدیث ِرسول ہے اور رسول اللہ ﷺ کی عملی زندگی اس متن کی عملی تفسیر ہے رسول ﷺ کی زندگی کے بعد صحابہ کرام   نے احادیث نبویہ   کو آگے پہنچا کر اور پھر ان کے بعد ائمہ محدثین نے احادیث کومدوّن او ر علماء امت نے کتبِ احادیث کے تراجم وشروح کے ذریعے حدیث رسول کی عظیم خدمت کی   ہنوز یہ سلسلہ جاری ہے۔ اس سلسلے میں علمائے اہل حدیث کی تدریسی وتصنیفی خدمات بھی قابل قد رہیں پچھلے عہد میں نواب صدیق حسن خاں کے قلم اورمولانا سید نذیر حسین محدث دہلوی کی تدریس سے بڑا فیض پہنچا پھر ان کے شاگردوں اور کبار علماء نے فیض الباری شرح صحیح بخاری عون، المعبود، تحفۃ الاحوذی، التعلیقات السلفیہ، انجاز الحاجۃ جیسی عظیم شروح لکھیں اور مولانا وحید الزمان نے کتبِ حدیث کااردو زبان میں ترجمہ کر کےبرصغیر میں حدیث کو عام کرنے کا عظیم کام سرانجام دیا۔ تقریبا ایک صدی سے یہ تراجم متداول ہیں لیکن اب ان کی زبان کافی پرانی ہوگئی ہے اس لیے ایک عرصے سےیہ ضرورت محسوس کی جارہی ہے تھی کااردو زبان کے جدید اسلوب میں نئے سرے سے یہ ترجمے کرکے شائع کیے جائیں۔اور اسی طرح شیخ البانی  اور ان کے تلامذہ کی   کوششوں سےتحقیقِ حدیث کاجو ذوق پورے عالمِ اسلام میں عام ہوا ۔اس کے پیش نظر بجار طور پر لوگوں کے اندر یہ تڑپ پیدا ہوئی کہ کاش سننِ اربعہ میں جوضعیف روایات ہیں ا ن کی نشاندہی کر کےاو ر ان ضعیف روایات کی بنیادپر جو احکام ومسائل مسلمانوں میں پھیلے ہوئے ہیں ان کی تردید وضاحت بھی کردی جائے۔ ماشاء اللہ یہ سعادت اور شرف دار السلام کو حاصل ہوا کہ انہوں نے مذکوروہ ضرورتوں کااحساس کرتے ہوئے ایک صدی کے بعد نئےسرے سےکتب ستہ کے تراجم وفوائد اردوزبان کے جدید اور معیاری اسلوب میں کراکر ان کو طباعت کے اعلی معیارپر شائع کرنے کا پروگرام بنایا تاکہ قارئین کے لیے ان کا مطالعہ اور ان سے استفادہ آسان ہوجائے اور یوں ان کا حلقۂ قارئین بھی زیادہ سے زیادہ وسیع ہوسکے کیونکہ ان تمام کاوشوں کا مقصد احادیث ِرسول کو زیادہ سے زیادہ لوگوں تک پہنچانا ہے۔ تحقیق وتخریج ،ترجمہ وفوائد سے مزین دار السلام کی تین کتابیں (سنن ابو داؤد ،سنن ابن ماجہ،سنن نسائی) منظر عام آچکی ہیں ان کے بعد اب6 جلدوں پر مشتمل   صحیح بخاری کا ترجمہ اور مختصر فوائد آپ کے زیر مطالعہ ہیں ۔اور عنقریب صحیح بخاری کی مفصل اردو شرح بھی منظر عام پر آجائے گی ۔اور اسی طرح صحیح مسلم کی بھی ترجمہ ومختصر فوائد کے ساتھ تین جلدیں شائع ہوچکی ہیں۔ زیر تبصرہ صحیح بخاری کا ترجمہ و فوائد شیخ الحدیث مفتی جماعت حافظ عبدالستار حماد ﷾(فاضل مدینہ یونیورسٹی ) نے تحریر فرمائے ہیں۔جبکہ نظرثانی اور تصحیح وتنقیح کافریضہ عصر حاضر کے ادیب ِ نجیب فاضل مفسر ومترجم اور مؤلف کتب کثیرہ حافظ صلاح الدین یوسف ﷾ (مدیر شعبہ تحقیق وتصنیف دارالسلام،لاہور ) اور ان کےرفقاء نے نہایت دیانت اور استقامت اور باریک باریک بینی سے سرانجام دیاہے۔ اللہ تعالیٰ کتاب کی تیاری و طباعت میں   شامل تمام احباب کی کاوشوں کو قبول فرمائے(آمین)(م۔ا)

    pages-from-sahi-bukhari-jilad-5
    محمد بن اسماعیل بخاری

    احکام الٰہی کےمتن کا نام قرآن کریم ہے اور اس متن کی شرح وتفصیل کانام حدیث ِرسول ہے اور رسول اللہ ﷺ کی عملی زندگی اس متن کی عملی تفسیر ہے رسول ﷺ کی زندگی کے بعد صحابہ کرام   نے احادیث نبویہ   کو آگے پہنچا کر اور پھر ان کے بعد ائمہ محدثین نے احادیث کومدوّن او ر علماء امت نے کتبِ احادیث کے تراجم وشروح کے ذریعے حدیث رسول کی عظیم خدمت کی   ہنوز یہ سلسلہ جاری ہے۔ اس سلسلے میں علمائے اہل حدیث کی تدریسی وتصنیفی خدمات بھی قابل قد رہیں پچھلے عہد میں نواب صدیق حسن خاں کے قلم اورمولانا سید نذیر حسین محدث دہلوی کی تدریس سے بڑا فیض پہنچا پھر ان کے شاگردوں اور کبار علماء نے فیض الباری شرح صحیح بخاری عون، المعبود، تحفۃ الاحوذی، التعلیقات السلفیہ، انجاز الحاجۃ جیسی عظیم شروح لکھیں اور مولانا وحید الزمان نے کتبِ حدیث کااردو زبان میں ترجمہ کر کےبرصغیر میں حدیث کو عام کرنے کا عظیم کام سرانجام دیا۔ تقریبا ایک صدی سے یہ تراجم متداول ہیں لیکن اب ان کی زبان کافی پرانی ہوگئی ہے اس لیے ایک عرصے سےیہ ضرورت محسوس کی جارہی ہے تھی کااردو زبان کے جدید اسلوب میں نئے سرے سے یہ ترجمے کرکے شائع کیے جائیں۔اور اسی طرح شیخ البانی  اور ان کے تلامذہ کی   کوششوں سےتحقیقِ حدیث کاجو ذوق پورے عالمِ اسلام میں عام ہوا ۔اس کے پیش نظر بجار طور پر لوگوں کے اندر یہ تڑپ پیدا ہوئی کہ کاش سننِ اربعہ میں جوضعیف روایات ہیں ا ن کی نشاندہی کر کےاو ر ان ضعیف روایات کی بنیادپر جو احکام ومسائل مسلمانوں میں پھیلے ہوئے ہیں ان کی تردید وضاحت بھی کردی جائے۔ ماشاء اللہ یہ سعادت اور شرف دار السلام کو حاصل ہوا کہ انہوں نے مذکوروہ ضرورتوں کااحساس کرتے ہوئے ایک صدی کے بعد نئےسرے سےکتب ستہ کے تراجم وفوائد اردوزبان کے جدید اور معیاری اسلوب میں کراکر ان کو طباعت کے اعلی معیارپر شائع کرنے کا پروگرام بنایا تاکہ قارئین کے لیے ان کا مطالعہ اور ان سے استفادہ آسان ہوجائے اور یوں ان کا حلقۂ قارئین بھی زیادہ سے زیادہ وسیع ہوسکے کیونکہ ان تمام کاوشوں کا مقصد احادیث ِرسول کو زیادہ سے زیادہ لوگوں تک پہنچانا ہے۔ تحقیق وتخریج ،ترجمہ وفوائد سے مزین دار السلام کی تین کتابیں (سنن ابو داؤد ،سنن ابن ماجہ،سنن نسائی) منظر عام آچکی ہیں ان کے بعد اب6 جلدوں پر مشتمل   صحیح بخاری کا ترجمہ اور مختصر فوائد آپ کے زیر مطالعہ ہیں ۔اور عنقریب صحیح بخاری کی مفصل اردو شرح بھی منظر عام پر آجائے گی ۔اور اسی طرح صحیح مسلم کی بھی ترجمہ ومختصر فوائد کے ساتھ تین جلدیں شائع ہوچکی ہیں۔ زیر تبصرہ صحیح بخاری کا ترجمہ و فوائد شیخ الحدیث مفتی جماعت حافظ عبدالستار حماد ﷾(فاضل مدینہ یونیورسٹی ) نے تحریر فرمائے ہیں۔جبکہ نظرثانی اور تصحیح وتنقیح کافریضہ عصر حاضر کے ادیب ِ نجیب فاضل مفسر ومترجم اور مؤلف کتب کثیرہ حافظ صلاح الدین یوسف ﷾ (مدیر شعبہ تحقیق وتصنیف دارالسلام،لاہور ) اور ان کےرفقاء نے نہایت دیانت اور استقامت اور باریک باریک بینی سے سرانجام دیاہے۔ اللہ تعالیٰ کتاب کی تیاری و طباعت میں   شامل تمام احباب کی کاوشوں کو قبول فرمائے(آمین)(م۔ا)

    pages-from-sahi-bukhari-jilad-6
    محمد بن اسماعیل بخاری

    احکام الٰہی کےمتن کا نام قرآن کریم ہے اور اس متن کی شرح وتفصیل کانام حدیث ِرسول ہے اور رسول اللہ ﷺ کی عملی زندگی اس متن کی عملی تفسیر ہے رسول ﷺ کی زندگی کے بعد صحابہ کرام   نے احادیث نبویہ   کو آگے پہنچا کر اور پھر ان کے بعد ائمہ محدثین نے احادیث کومدوّن او ر علماء امت نے کتبِ احادیث کے تراجم وشروح کے ذریعے حدیث رسول کی عظیم خدمت کی   ہنوز یہ سلسلہ جاری ہے۔ اس سلسلے میں علمائے اہل حدیث کی تدریسی وتصنیفی خدمات بھی قابل قد رہیں پچھلے عہد میں نواب صدیق حسن خاں کے قلم اورمولانا سید نذیر حسین محدث دہلوی کی تدریس سے بڑا فیض پہنچا پھر ان کے شاگردوں اور کبار علماء نے فیض الباری شرح صحیح بخاری عون، المعبود، تحفۃ الاحوذی، التعلیقات السلفیہ، انجاز الحاجۃ جیسی عظیم شروح لکھیں اور مولانا وحید الزمان نے کتبِ حدیث کااردو زبان میں ترجمہ کر کےبرصغیر میں حدیث کو عام کرنے کا عظیم کام سرانجام دیا۔ تقریبا ایک صدی سے یہ تراجم متداول ہیں لیکن اب ان کی زبان کافی پرانی ہوگئی ہے اس لیے ایک عرصے سےیہ ضرورت محسوس کی جارہی ہے تھی کااردو زبان کے جدید اسلوب میں نئے سرے سے یہ ترجمے کرکے شائع کیے جائیں۔اور اسی طرح شیخ البانی  اور ان کے تلامذہ کی   کوششوں سےتحقیقِ حدیث کاجو ذوق پورے عالمِ اسلام میں عام ہوا ۔اس کے پیش نظر بجار طور پر لوگوں کے اندر یہ تڑپ پیدا ہوئی کہ کاش سننِ اربعہ میں جوضعیف روایات ہیں ا ن کی نشاندہی کر کےاو ر ان ضعیف روایات کی بنیادپر جو احکام ومسائل مسلمانوں میں پھیلے ہوئے ہیں ان کی تردید وضاحت بھی کردی جائے۔ ماشاء اللہ یہ سعادت اور شرف دار السلام کو حاصل ہوا کہ انہوں نے مذکوروہ ضرورتوں کااحساس کرتے ہوئے ایک صدی کے بعد نئےسرے سےکتب ستہ کے تراجم وفوائد اردوزبان کے جدید اور معیاری اسلوب میں کراکر ان کو طباعت کے اعلی معیارپر شائع کرنے کا پروگرام بنایا تاکہ قارئین کے لیے ان کا مطالعہ اور ان سے استفادہ آسان ہوجائے اور یوں ان کا حلقۂ قارئین بھی زیادہ سے زیادہ وسیع ہوسکے کیونکہ ان تمام کاوشوں کا مقصد احادیث ِرسول کو زیادہ سے زیادہ لوگوں تک پہنچانا ہے۔ تحقیق وتخریج ،ترجمہ وفوائد سے مزین دار السلام کی تین کتابیں (سنن ابو داؤد ،سنن ابن ماجہ،سنن نسائی) منظر عام آچکی ہیں ان کے بعد اب6 جلدوں پر مشتمل   صحیح بخاری کا ترجمہ اور مختصر فوائد آپ کے زیر مطالعہ ہیں ۔اور عنقریب صحیح بخاری کی مفصل اردو شرح بھی منظر عام پر آجائے گی ۔اور اسی طرح صحیح مسلم کی بھی ترجمہ ومختصر فوائد کے ساتھ تین جلدیں شائع ہوچکی ہیں۔ زیر تبصرہ صحیح بخاری کا ترجمہ و فوائد شیخ الحدیث مفتی جماعت حافظ عبدالستار حماد ﷾(فاضل مدینہ یونیورسٹی ) نے تحریر فرمائے ہیں۔جبکہ نظرثانی اور تصحیح وتنقیح کافریضہ عصر حاضر کے ادیب ِ نجیب فاضل مفسر ومترجم اور مؤلف کتب کثیرہ حافظ صلاح الدین یوسف ﷾ (مدیر شعبہ تحقیق وتصنیف دارالسلام،لاہور ) اور ان کےرفقاء نے نہایت دیانت اور استقامت اور باریک باریک بینی سے سرانجام دیاہے۔ اللہ تعالیٰ کتاب کی تیاری و طباعت میں   شامل تمام احباب کی کاوشوں کو قبول فرمائے(آمین)(م۔ا)

    title
    احمد بن عبد اللطیف الزبیدی

    ’صحیح بخاری‘ امام بخاری کی وہ شہرہ آفاق تصنیف ہے جسےاجماعی طور پر قرآن کریم کے بعد سب سے افضل کتاب ہونے کا شرف حاصل ہے۔ صحیح بخاری کی اہمیت اور قدر و منزلت کا اندازہ اس سے لگائیے کہ صحیح بخاری پر اب تک جتنا کام ہو چکا ہے اس کو شمار کرنے کا صرف تصور ہی کیا جاسکتا ہے ۔ صحیح بخاری میں فقہی مسائل کے اثبات اور ترتیب کے اعتبار سے عوام کو ذرا مشکل کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ دراصل امام صاحب فقہی مسائل کے استنباط کی خاطر ایک ایک حدیث  بعض دفعہ دس دس جگہ لئے آئے ہیں۔ امام زبیدی نے ’ تجرید التصریح لاحادیث الجامع الصحیح‘ میں اس کا نہایت عام فہم اور قابل تحسین حل پیش کرتے ہوئے تمام تر تکرار کو ختم کیا ہے۔ انہوں نے حدیث کو صرف ایک ایسے باب کے تحت ذکر کیا ہے جس کے ساتھ اس کی مطابقت بالکل واضح اور نمایاں ہے۔ حافظ عبدالستار حماد صاحب نے اس کتاب کا ’مختصر صحیح بخاری‘ کے نام سے رواں، شگفتہ اور جاندار  ترجمہ کیا ہے۔نہایت اہم مقامات پر جامع اور مختصر فوائد نے کتاب کی افادیت کو بڑھا دیا ہے۔

    title
    احمد بن عبد اللطیف الزبیدی

    ’صحیح بخاری‘ امام بخاری کی وہ شہرہ آفاق تصنیف ہے جسےاجماعی طور پر قرآن کریم کے بعد سب سے افضل کتاب ہونے کا شرف حاصل ہے۔ صحیح بخاری کی اہمیت اور قدر و منزلت کا اندازہ اس سے لگائیے کہ صحیح بخاری پر اب تک جتنا کام ہو چکا ہے اس کو شمار کرنے کا صرف تصور ہی کیا جاسکتا ہے ۔ صحیح بخاری میں فقہی مسائل کے اثبات اور ترتیب کے اعتبار سے عوام کو ذرا مشکل کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ دراصل امام صاحب فقہی مسائل کے استنباط کی خاطر ایک ایک حدیث  بعض دفعہ دس دس جگہ لئے آئے ہیں۔ امام زبیدی نے ’ تجرید التصریح لاحادیث الجامع الصحیح‘ میں اس کا نہایت عام فہم اور قابل تحسین حل پیش کرتے ہوئے تمام تر تکرار کو ختم کیا ہے۔ انہوں نے حدیث کو صرف ایک ایسے باب کے تحت ذکر کیا ہے جس کے ساتھ اس کی مطابقت بالکل واضح اور نمایاں ہے۔ حافظ عبدالستار حماد صاحب نے اس کتاب کا ’مختصر صحیح بخاری‘ کے نام سے رواں، شگفتہ اور جاندار  ترجمہ کیا ہے۔نہایت اہم مقامات پر جامع اور مختصر فوائد نے کتاب کی افادیت کو بڑھا دیا ہے۔

    title-pages-kitab-al-bayou-copy
    محمد بن اسماعیل بخاری

    ہرمسلمان کے لیے اپنے دنیوی واخروی تمام معاملات میں شرعی احکام اور دینی تعلیمات کی پابندی از بس ضروری ہے کیونکہ اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے : َیا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا ادْخُلُوا فِي السِّلْمِ كَافَّةً وَلَا تَتَّبِعُوا خُطُوَاتِ الشَّيْطَانِ إِنَّهُ لَكُمْ عَدُوٌّ مُبِينٌ(سورۃ البقرۃ:208)’’اے اہل ایمان اسلام میں پورے پورے داخل ہوجاؤ اور شیطان کے قدموں کے پیچھے مت چلو ،یقیناً وہ تمہارا کھلا دشمن ہے ‘‘۔کسی مسلمان کے لیے یہ جائز نہیں کہ وہ عبادات میں تو کتاب وسنت پر عمل پیرا ہو او رمعاملات او رمعاشرتی مسائل میں اپنی من مانی کرے او راپنے آپ کوشرعی پابندیوں سے آزاد تصور کرے۔ ہمارے دین کی وسعت وجامعیت ہےکہ اس میں ہر طرح کے تعبدی امور اور کاروباری معاملات ومسائل کا مکمل بیان موجود ہے۔ ان میں معاشی زندگی کے مسائل او ران کے حل کو خصوصی اہمیت کے ساتھ بیان کیاگیا ہے ہر مسلمان بہ آسانی انہیں سمجھ کر ان پر عمل پیرا ہوسکتاہے ۔ نبی کریم ﷺ نے تجارت کو بطور پیشے کے اپنایا او رآپ کے اکثر وبیشتر صحابہ کرام کا محبوب مشغلہ تجارت تھا۔ امت مسلمہ کے لیے حضو ر ﷺ کی حیات طیبہ میں اسوہ حسنہ موجود ہے اورآپ کے بعد آپ کے صحابہ کرام کی پاک زندگیاں ہمارے لیے معیار حق ہیں۔ یہ بات بلاخوفِ تردید کہی جاسکتی ہے کہ اکل حلال اور کسبِ معاش کاعمل آج کے دور میں بھی تجارت کےذریعے پوراکیا جاسکتاہے۔ زیر تبصرہ کتاب’’ کتاب البیوع ‘‘ قرآن مجید کےبعد صحیح ترین کتاب صحیح بخاری سے کتاب البیوع کا اردو ترجمہ ، تشریح وفوائد ہے ۔ امام بخاری ﷫ نے کتاب البیوع میں خرید وفروخت کےمسائل پر مشتمل 247 مرفوع احادیث بیان کی ہیں۔ اور ان احادیث پر 113چھوٹے بڑے عنوان قائم کیے ہیں جو علم معیشت میں اساسی قواعد کی حیثیت رکھتے ہیں ۔ ان قواعد واصول سے پتہ چلتا ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے تجارت کے کےنام پر لوٹ مار کےکھلے راستوں کےساتھ ساتھ ان تمام پوشیدہ راہوں کو بھی مسدود کردیا ہے جو تجارت کوعدل وانصاف اور خیر خواہی سے ہٹا کر ظلم وزیادتی کے ساتھ دولت سمیٹنے کی طرف لے جانے والے ہیں ۔آپ ﷺ نے انتہائی باریک بینی سے نظام تجارت کا جائزہ لیا اور اس کی حدود وقیود کا تعین فرماکر عمل تجارت کو ہر طرح کےظلم اور استحصالی ہتھکنڈوں سےپاک کردیا۔ صحیح البخاری کے کتاب البیوع کا یہ ترجمہ وتشریح جماعت کے معروف مفتی وشارح صحیح بخاری شیخ الحدیث ابو محمد حافظ عبدالستار حماد﷾ نے کیا ہے ۔یہ ترجمہ و تشریح دورِ حاضر کی ضروریات کےمطابق احادیث کی تشریح، حدیث اور عنوان حدیث میں مطابقت ، بظاہر متعارض احادیث میں علمی تطبیق ،منکرین احادیث کےشبہات کا ازالہ اور حدیث سےمتعلقہ دیگر روایات میں آمدہ اضافوں کی صراحت پرمشتمل ہے ۔نیز حافظ عبد الستار حماد﷾ نے کتاب البیوع کی تشریح وفوائد میں صحیح احادیث کا التزام کیا ہے اور احادیث کی تحقیق وتخریج بھی کی ہے ۔خرید وفروخت کے متعلق عصری غلط فہمیوں کا ازالہ کرنے کےساتھ ساتھ تجارت کے بے شمار پہلوؤں پر سیر حاصل بحث کی ہے ۔موضوع کی مناسبت کے پیش نظر کتاب البیوع کےساتھ کتاب السلم کوبھی شامل کردیاکیا ہے ۔اللہ تعالیٰ حافظ صاحب کی اس کاوش کو قبول فرمائےاور اسے کاروباری حضرات اور تاجرین کے لیے نفع بخش بنائے ۔(آمین) (م۔ا)

    title-pages-kitab-al-toheed
    محمد بن اسماعیل بخاری

    امام بخاری ﷺ کی شخصیت کسی تعارف کی محتاج نہیں ان کی تمام تصانیف میں سے سب سے زیادہ مقبولیت اور شہرت الجامع الصحیح المعروف صحیح بخاری کو حاصل ہوئی ۔ جو بیک وقت حدیثِ رسول ﷺ کا سب سے جامع اور صحیح ترین مجموعہ ہے اور فقہ اسلامی کا بھی عظیم الشان ذخیرہ ہے ۔ جسے اللہ تعالیٰ نے صحت کے اعتبار سےامت محمدیہ میں'' اصح الکتب بعد کتاب اللہ'' کادرجہ عطا کیا او ر ندرتِ استباط اور قوت استدلال کے حوالے سے اسے کتابِ اسلام ہونے کاشرف بخشاہے صحیح بخاری کا درس طلبۂ علم حدیث اور اس کی تدریس اساتذہ حدیث کے لیے پورے عالم ِاسلام میں شرف وفضیلت اور تکمیل ِ علم کا نشان قرار پا چکا ہے ۔زیر مطالعہ '' کتاب التوحید ''بھی اس الجامع الصحیح کا آخری جزء ہے جس میں وہ تمام خصائص پائے جاتے ہیں جو صحیح بخاری کا امتیازی وصف ہیں جسے امام صا حب نے اسماء وصفات باری تعالیٰ کے مدلل بیان کے ساتھ خصوصا جہمیہ کے رد کے لیے مرتب فرمایاتھا۔امام بخاری کی کتاب التوحید کی شرح وترجمہ کی سعادت پاکستا ن کے معروف سلفی عالم دین شیخ الحدیث حافظ عبدالستار حماد ﷾ نے حاصل کی ۔ کتاب التوحید کی شرح میں موصوف نے شیخ عبد اللہ غنیمان﷾ کی شرح سے نہایت عمدہ فوائد منتخب فرمائے ہیں ۔موصوف کی شخصیت علمی حلقوں میں کسی تعارف کی محتاج نہیں ۔برس ہابرس سے ان کے فتاوی ٰ دینی وجماعتی مجلات وجرائد میں میں اشاعت پذیر ہورہے ہیں لوگ ان سے بھر پور استفادہ کررہے ہیں ۔ان کاشمار ان معدودے چند اہل علم او رمفتیانِ کرام میں ہوتا ہے جنہیں کتاب وسنت کی روشنی میں توجیہ وارشاد کے لیے مرجع کی حیثیت حاصل ہے ان کے قلم سے اس شرح کےعلاوہ متعدد کتب وتراجم شائع ہوکر دادِ تحسین حاصل کر چکی ہیں ۔مختصر صحیح بخاری کا ترجمہ او رصحیح بخاری کی تفصیلی شرح کا بھی شرف انہیں حاصل ہے اور مکتبہ اسلامیہ نے ان کے فتاوی جات کو خوبصورت تین ضخیم مجلدات میں شائع کیا ہے اور اس پر مزید کام جاری ہے ۔اللهم زدفزد ۔ اس کتا ب کے شروع میں ڈاکٹر حافظ عبد الرشید اظہر ﷫ کا تحریر کردہ مقدمہ انتہائی قیمتی اور لائق مطالعہ ہے ۔ اللہ تعالی کتاب التوحید کے مصنف ،شارح ، مترجم اور ناشرین کی تمام مساعی جمیلہ کوشرف قبولیت بخشے (آمین)(م۔ا)

     

    نوٹ:

    محدث فورم میں اس کتاب پر تبصرہ کرنے کے لیے یہاں کلک کریں

اس سائٹ پر کوئی ایسی کتاب موجود نہیں جس کی ترتیب و تخریج ان صاحب نے کی ہو۔
pages-from-udhaar-key-mamlaat

اسلام میں جس طرح عبادات وفرائض میں زور دیاگیا ہے۔ اسی طرح اس دین نے کسبِ حلال اورطلب معاش کو بھی اہمیت دی ہے ۔ لہذاہرمسلمان کے لیے اپنے دنیوی واخروی تمام معاملات میں شرعی احکام اور دینی تعلیمات کی پابندی از بس ضروری ہے کیونکہ اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے :َیا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا ادْخُلُوا فِي السِّلْمِ كَافَّةً وَلَا تَتَّبِعُوا خُطُوَاتِ الشَّيْطَانِ إِنَّهُ لَكُمْ عَدُوٌّ مُبِينٌ(سورۃ البقرۃ:208)’’اے اہل ایمان اسلام میں پورے پورے داخل ہوجاؤ اور شیطان کے قدموں کے پیچھے مت چلو ،یقیناً وہ تمہارا کھلا دشمن ہے ‘‘۔ کسی مسلمان کے لیے یہ جائز نہیں کہ وہ عبادات میں تو کتاب وسنت پر عمل پیرا ہو او رمعاملات او رمعاشرتی مسائل میں اپنی من مانی کرے او راپنے آپ کوشرعی پابندیوں سے آزاد تصور کرے۔ ہمارے دین کی وسعت وجامعیت ہے کہ اس میں ہر طرح کے تعبدی امور اور کاروباری معاملات ومسائل کا مکمل بیان موجود ہے۔ ان میں معاشی زندگی کے مسائل او ران کے حل کو خصوصی اہمیت کے ساتھ بیان کیاگیا ہے ہر مسلمان بہ آسانی انہیں سمجھ کر ان پر عمل پیرا ہوسکتاہے۔ زیر تبصرہ کتابچہ ’’ادہار کے معاملات‘‘ سعودی عرب کے نامور عالم دین الشیخ محمد الصالح العثیمین﷫ کے ایک گراں قدر عربی کتابچہ ’’ المداینہ‘‘ سلیس اردو ترجمہ ہے۔ اس کتابچہ شیخ موصوف نے ادھار کےلین دین کے متعلق معاملات کو شریعت کی روشنی میں واضح کیا ہے۔ اس کتابچہ کی افادیت کے پیش نظر شیخ الحدیث مفتی جماعت حافظ عبدالستار حماد﷾ نے اپنے صاحبزادے حامد حما سے اردو دان طبقہ کے لیے عربی سے اردو قالب میں منتقل کروایا ہے۔ موصوف نے اس میں ایک اضافی فائد ہ کے طور پر مسند امام احمد سےمنتخب احادیث کی روشنی میں قرض کے حقوق وآداب بھی تحریر کردئیے ہیں۔ اللہ تعالیٰ اس کتابچہ کو قارئین کےنفع بخش بنائے۔ (آمین) (م۔ا)

title-pages-islami-qanoon-e-warasatswalan-jawaban-copy
دیگر معاملات کی طرح تقسیم وراثیت سے متعلقہ اسلام کی تعلیمات نہایت عادلانہ اور منصفانہ ہیں۔ تاکہ مرحومین کے پسماندگان کی مامون و محفوظ اور پر امن دنیوی زندگی کا اہتمام ہو سکے۔ لیکن نہ معلوم کس وجہ سے بہت سے علماے کرام اور اہل علم حضرات بھی تقسیم وراثت کے حوالے سے دینی احکامات سے پوری طرح آگاہ نہیں ہیں۔ زیر تبصرہ کتاب ’اسلامی قانون وراثت‘ جہاں علمائے کرام کے لیے استفادے کا باعث بنے گی وہیں طلبا اور عامۃ المسلمین بھی اس سے فائدہ اٹھا سکیں گے۔ فاضل مصنف ابونعمان بشیر نے وراثت کے مبادیات، موانع، ترکہ کے متعلق امور، مستحقین اور ان کے حصص، عصبات، حجب سے لےکر تقسیم ترکہ، تخارج، خنثیٰ، حمل سمیت تمام موضوعات نہایت جامعیت کے ساتھ روشنی ڈالی ہے۔ یوں سوالاً جواباً انداز میں لکھی گئی یہ کتاب طلبہ کے لیے بالخصوص مفید ثابت ہوگی، اسے مدارس کے نصاب میں شامل کیا جائے تو یہ ابتدائی کلاسوں کے لیے آسان جدید اسلوب میں نہایت مفید اضافہ ثابت ہوگی تاہم اس کا مطالعہ دین کا فہم حاصل کرنے کے متمنی ہر مسلمان مرد اور عورت کو بھی کرنا چاہئے۔(ع۔م)

نوٹ:
محدث فورم میں اس کتاب پر تبصرہ کرنے کے لیے یہاں کلک کریں

title-pages-mukhtasir-sahih-bukhari--dawood-raaz--copy

امام محمد بن اسماعیل بخاری ﷫ کی شخصیت اور ان کی صحیح بخاری محتاجِ تعارف نہیں۔ آپ امیر االمؤمنین فی الحدیث امام المحدثین کے القاب سے ملقب تھے۔ ان کے علم و فضل ، تبحرعلمی اور جامع الکمالات ہونے کا محدثین عظام او رارباب ِسیر نے اعتراف کیا ہے امام بخاری ۱۳ شوال ۱۹۴ھ ، بروز جمعہ بخارا میں پیدا ہوئے۔ دس سال کی عمر ہوئی تو مکتب کا رخ کیا۔ بخارا کے کبار محدثین سے استفادہ کیا۔ جن میں امام محمد بن سلام بیکندی، امام عبداللہ بن محمد بن عبداللہ المسندی، امام محمد بن یوسف بیکندی زیادہ معروف ہیں۔اسی دوران انہوں نے امام عبداللہ بن مبارک امام وکیع بن جراح کی کتابوں کو ازبر کیا اور فقہ اہل الرائے پر پوری دسترس حاصل کر لی۔ طلبِ حدیث کی خاطر حجاز، بصرہ،بغداد شام، مصر، خراسان، مرو بلخ،ہرات،نیشا پور کا سفر کیا ۔ ان کے حفظ و ضبط اور معرفتِ حدیث کا چرچا ہونے لگا۔ ان کے علمی کارناموںم میں سب سے بڑا کارنامہ صحیح بخاری کی تالیف ہے جس کے بارے میں علمائے اسلام کا متفقہ فیصلہ ہے کہ قرآن کریم کے بعد کتب ِحدیث میں صحیح ترین کتاب صحیح بخاری ہے ۔ فن ِحدیث میں اس کتاب کی نظیر نہیں پائی جاتی آپ نے سولہ سال کے طویل عرصہ میں 6 لاکھ احادیث سے اس کا انتخاب کیا اور اس کتاب کے ابواب کی ترتیب روضۃ من ریاض الجنۃ میں بیٹھ کر فرمائی اور اس میں صرف صحیح احادیث کو شامل کیا۔ امام بخاری ﷫ کی صحیح بخاری کے علاوہ بھی متعد د تصانیف ہیں۔حدیث نبوی کے ذخائر میں صحیح بخاری کو گوناگوں فوائد اورمنفرد خصوصیات کی بنا پر اولین مقام اور اصح الکتب بعد کتاب الله کا اعزاز حاصل ہے ۔بلاشبہ قرآن مجید کےبعد کسی اور کتاب کو یہ مقام حاصل نہیں ہوا ۔ صحیح بخاری کو اپنے زمانہ تدوین سے لے کر ہردور میں یکساں مقبولیت حاصل رہی ۔ائمہ معاصرین اور متاخرین نے صحیح بخاری کی اسانید ومتون کی تنقید وتحقیق وتفتیش کرنے کے بعد اسے شرف ِقبولیت سےنوازا اوراس کی صحت پر اجماع کیا ۔ اسی شہرت ومقبولیت کی بناپر ہر دور میں بے شماراہل علم اور ائمہ حدیث ننے مختلف انداز میں صحیح بخاری کی شروحات لکھی ہیں ان میں فتح الباری از ابن حافظ ابن حجر عسقلانی ﷫ کو امتیازی مقام حاصل ہے ۔اوربعض اہل علم تراجم ابواب ، امام بخاری کااجتہادوغیرہ جیسے موضوعات کو زیر بحث لائے ہیں ۔اور بعض نے صحیح بخاری کا اختصار بھی کیا ہے ۔ زیر تبصرہ کتاب’’ مختصرصحیح بخاری ‘‘ نویں صدی ہجری کے معروف عالم امام زبیدی ﷫ کا صحیح بخاری کا مرتب کردہ اختصار’’ التجرید الصریح لاحادیث الجامع الصحیح‘‘ کا اردو ترجمہ ہے ۔یہ کتاب یقیناً ان لوگوں کے لیے انمول تحفہ ہے جو علم کا ذوق تورکھتے ہیں لیکن وقت کی قلت کے پیش نظر ان کےذوق کی بھرپور تسکین نہیں ہوپاتی۔کیونکہ اس میں صحیح بخاری کے اختصار کے ساتھ ساتھ جامعیت کا بھی لحاظ رکھا گیا ہے۔اس مختصر صحیح بخاری کا ترجمہ برصغیر پاک وہند کے معروف عالم دین مولانا محمد داؤد راز دہلوی ﷫ کا ہے جس کی تصحیح اور تخریج مکتبہ اسلامیہ کے ریسرچ اسکالرز نےبڑی مہارت کی ہے نیز شیخ الحدیث حافظ عبد الستار حماد﷾ کی نظرثانی اور اس پر جامع مقدمہ تحریر کرنے اور شیخ احمد زھوۃ ،شیخ احمد عنایۃ کی تخریج سے کتاب کی افادیت میں مزید اضافہ ہوگیا ہے۔اللہ تعالیٰ تمام کی کاوشوں کو قبول فرمائے۔ (آمین) (م۔ا)

title-pages-tafseer-quran-k-usool-w-qawaid-copy

قرآن کریم اللہ کی آخری کتاب ہے،جسے اس نے دنیا کے لیےراہنما بنا کر بھیجا ہے۔اس کے کچھ الفاظ مجمل اور کچھ مطلق ہیں ،جن کی تشریح وتوضیح کے لیے نبی کریمﷺ کو منتخب فرمایا-قرآن کریم کی وضاحت وہی بیان کر سکتا ہے جس پر یہ نازل ہوا۔اس لیے صحابہ کرام کبھی بھی اپنی طرف سے قرآن کی تشریح نہ کرتے تھے،اور اگر کسی چیز کی سمجھ نہ آتی تو خاموشی اختیار کر لیتےتھے۔اللہ کے نبیﷺ نے جس طریقے اور صحابہ نے آپ کے طریقے کو اختیار کرتے ہوئے جس طریقے سے قرآن کی تشریح کی ہے اس کو علما نے تفسیر بالماثور ، اور جن لوگوں نے اپنی مرضی سے تفسیر کی اس کو تفسیر بالرائے کا نام دیا ہے۔ قرآن مجید کی تفسیر میں گمراہی کا اصلی سبب اس حقیقت کو بھول جانا ہے ۔ قرآن کے مطالب وہی درست ہیں ،جو اس کے مخاطب اول نے سمجھے اور سمجھائے ہیں۔قرآن محمدﷺ پر نازل ہوا ،اور قرآن بس وہی ہے جو محمد ﷺنے سمجھا اور سمجھایا ہے۔اس کے علاوہ جو کچھ ہے ،یا تو علمی ،روحانی نکتے ہیں ،جو قلب مومن پر القا ہوں اور یا پھر اقوال وآراء ہیں۔اٹکل پچو باتیں ہیں ،جن کے محتمل کبھی قرآنی لفظ ہوتے ہیں اور کبھی نہیں ہوتے ہیں۔اصول تفسیر ایسے اصول وقواعد کا نام ہے جو مفسرین قرآن کے لیے نشان منزل کی تعیین کرتے ہیں۔ تاکہ کلام اللہ کی تفسیر کرنے والا ان کی راہ نمائی اور روشنی میں ہر طرح کے ممکنہ خطرات سے محفوظ رہے اور اس کےمنشاء ومفہوم کا صحیح ادراک کرسکے ۔ لیکن برصغیرکے جدید مفسرین نے اپنی مرضی سےاپنے ہی اصول تفسیر قائم کر کے اپنی عقل وفکر سے اپنی تفاسیر میں بعض آیات وسور کی ایسی تفسیر پیش کی ہے جو صریحاً مفسر صحابہ کرام ، تابعین عظام ﷭ اور قرون اولیٰ کے مشہور مفسرین ائمہ کرام ﷭ کی تفاسیر مختلف ہے۔ان مفسرین میں سر سید ، حمید الدین فراہی ، امیں احسن اصلاحی ، غلام احمد پرویز ، جاوید احمد غامدی وغیرہ کے اسماء گرامی قابل ذکر ہیں ۔ زیر تبصرہ کتاب’’ تفسیر قرآن کے اصول وقواعد‘‘معروف واعظ ومبلغ شیخ الحدیث مولانا یوسف راجووالوی﷫کے صاحبزادے پروفیسر ڈاکٹر عبید الرحمٰن محسن﷾(مدیر دار الحدیث ،راجووال) کی تصنیف ہے۔جوکہ ڈاکٹر صاحب کے پی ، ایچ ، ڈی کے لیے لکھے گئے تفصیلی علمی وتحقیقی مقالے کاایک حصہ ہےجسے معمولی ترمیم واضافے کےساتھ الگ شائع کیا ہے۔فاضل مؤلف نےاس کتاب میں چاروں مکاتب فکر ( تفسیر بالماثور، تفسیر بالرأی المحمود، فراہی مکتب فکر، تفسیر با لرأی المذموم) کے اصول تفسیر کو سامنے رکھا اور ان کاتنقیدی جائزہ لیا ہےاور خیر القرون میں تفسیر بالماثور کے مسلمہ اصول تفسیر واضح طور پر مرتب کرنے کی بھر پور اور کامیاب کوشش کی ہے ۔ نیز فن تفسیر میں دستیاب عربی اور اردو لٹریچر کا ایک جامع خلاصہ پیش کیا ہے ۔اس کتاب میں بیان کردہ اصول تفسیر کی خصوصیت یہ ہے کہ یہ کسی فرد واحد کےخود ساختہ نہیں ،بلکہ جمہورمفسرین انہی اصولوں کےتحت قرآن کےسعادت حاصل کرتے رہے ہیں ۔یہ کتاب اپنی افادیت کے اعتبار سے قیمتی اور نادر موتیوں کی ایک لڑی ہے جو دینی مدارس کےمنتہی طلبہ ،اساتذہ اوردورات تفسیر کےفاضل طلباء وطالبات کے لیےایک اکسیر اور خاصے کی چیز ہے ۔مفتی جماعت شارح صحیح بخاری شیخ الحدیث حافظ عبد الستار حماد﷾ کی اس کتاب پر نظر ثانی سے کتاب کی اہمیت دو چند ہوگئی ہے ۔ اللہ تعالیٰ ڈاکٹر صاحب کی تدریسی ،دعوتی ، تحقیقی وتصنیفی خدمات کو شرف قبولیت سے نوازے ۔(آمین) (م۔ا)

title-pages-sahih-al-bukhari--mutarjam-w-shareh-dawood-raaz--takhreej-shuda-audition-1-copy

امام بخاری ﷫ کی شخصیت اور ان کی صحیح بخاری کسی تعارف کی محتاج نہیں سولہ سال کے طویل عرصہ میں امام بخاری نے 6 لاکھ احادیث سے اس کا انتخاب کیا اور اس کتاب کے ابواب کی ترتیب روضۃ من ریاض الجنۃ میں بیٹھ کر فرمائی اور اس میں صرف صحیح احادیث کو شامل کیا ۔ جسے اللہ تعالیٰ نے صحت کے اعتبار سےامت محمدیہ میں’’ اصح الکتب بعد کتاب اللہ‘‘ کادرجہ عطا کیا بے شماراہل علم اور ائمہ حدیث ننے مختلف انداز میں مختلف زبانوں میں صحیح بخاری کی شروحات لکھی ہیں ان میں سے فتح الباری از ابن حافظ ابن حجر عسقلانی ﷫ کو امتیازی مقام حاصل ہے ۔اردو زبان میں سب سے پہلے علامہ وحید الزمان ﷫ نے صحیح بخاری کا ترجمہ کیا ہے ان کےبعد کئی شیوخ الحدیث اور اہل علم نے صحیح بخاری کا ترجمہ حواشی اور شروح کا کام سرانجام دیا ۔ان میں سلفی منہج پر لکھی جانے والی فیض الباری ازابو الحسن سیالکوٹی ، توفیق الباری اور حافظ عبدالستار حماد ﷾ کی شرح بخاری قابل ذکر ہیں ۔ زیر تبصرہ صحیح بخاری کا سلیس ترجمہ و تشریح بر صغیر پاک وہند کے مشہور ومعروف عالم دین شیخ الحدیث مولانا محمدداؤد راز﷫ کا ہے جس کا لفظ لفظ قاری کومحظوظ کرتا ہے اور دامن دل کوکھینچتا ہے۔ مولانا نے اپنی زندگی میں ہی 1392ھ میں اسے الگ الگ پاروں کی صورت میں شائع کروایا بعد ازاں 2004 ء میں مکتبہ قدوسیہ نے بڑی محنت شاقہ سے کمپیوٹر ٹائپ کر کے بڑے اہتمام سے آٹھ جلدوں شائع کیا تو اسے بہت قبول عام حاصل ہوا ۔ پھراس کے بعد کئی مکتبات نےبھی شائع کیا زیر تبصرہ نسخہ اولاً مکتبہ اسلامیہ ،لاہور کا طبع شدہ ہے پھر اسی نسخہ کاعکس دار العلم ،ممبئی نے شائع کر کے قارئین کے لیے منہاج السنۃ ویب سائٹ پر پبلش کیا ۔وہاں سے ڈاؤنلوڈ کر کے کتاب وسنت ویب سائٹ پر پبلش کیا گیا۔اس نسخہ کا امتیاز یہ ہے کہ اس میں مولانا داؤد کے تحریر کردہ ترجمہ وتشریح کےساتھ ساتھ فضیلۃ الشیخ احمد زہوۃ اوراحمد عنایۃ کی تخریج اور حافظ زبیر علی زئی ﷫ کا علمی مقدمہ بھی شامل اشاعت ہے ۔نیز شیخ الحدیث حافظ عبد الستار حماد﷾ نےاس کی نظرثانی کرتے ہوئے مشکل مقامات کو آسان فہم کر نے کےساتھ ساتھ نہایت جامع اور تحقیقی مقدمہ بھی تحریر کیا ہے ۔اگرچہ مولانا داؤد راز ﷫ کا یہ ترجمہ پہلے بھی ویب سائٹ پر موجود تھا لیکن مذکورہ امتیازات کی بنا پر نسخہ ہذا کو کتاب وسنت ویب سائٹ پر پبلش کیاگیا ہے ۔ ۔(م۔ا)

title-pages-sahih-al-bukhari--mutarjam-w-shareh-dawood-raaz--takhreej-shuda-audition-1-copy

امام بخاری ﷫ کی شخصیت اور ان کی صحیح بخاری کسی تعارف کی محتاج نہیں سولہ سال کے طویل عرصہ میں امام بخاری نے 6 لاکھ احادیث سے اس کا انتخاب کیا اور اس کتاب کے ابواب کی ترتیب روضۃ من ریاض الجنۃ میں بیٹھ کر فرمائی اور اس میں صرف صحیح احادیث کو شامل کیا ۔ جسے اللہ تعالیٰ نے صحت کے اعتبار سےامت محمدیہ میں’’ اصح الکتب بعد کتاب اللہ‘‘ کادرجہ عطا کیا بے شماراہل علم اور ائمہ حدیث ننے مختلف انداز میں مختلف زبانوں میں صحیح بخاری کی شروحات لکھی ہیں ان میں سے فتح الباری از ابن حافظ ابن حجر عسقلانی ﷫ کو امتیازی مقام حاصل ہے ۔اردو زبان میں سب سے پہلے علامہ وحید الزمان ﷫ نے صحیح بخاری کا ترجمہ کیا ہے ان کےبعد کئی شیوخ الحدیث اور اہل علم نے صحیح بخاری کا ترجمہ حواشی اور شروح کا کام سرانجام دیا ۔ان میں سلفی منہج پر لکھی جانے والی فیض الباری ازابو الحسن سیالکوٹی ، توفیق الباری اور حافظ عبدالستار حماد ﷾ کی شرح بخاری قابل ذکر ہیں ۔ زیر تبصرہ صحیح بخاری کا سلیس ترجمہ و تشریح بر صغیر پاک وہند کے مشہور ومعروف عالم دین شیخ الحدیث مولانا محمدداؤد راز﷫ کا ہے جس کا لفظ لفظ قاری کومحظوظ کرتا ہے اور دامن دل کوکھینچتا ہے۔ مولانا نے اپنی زندگی میں ہی 1392ھ میں اسے الگ الگ پاروں کی صورت میں شائع کروایا بعد ازاں 2004 ء میں مکتبہ قدوسیہ نے بڑی محنت شاقہ سے کمپیوٹر ٹائپ کر کے بڑے اہتمام سے آٹھ جلدوں شائع کیا تو اسے بہت قبول عام حاصل ہوا ۔ پھراس کے بعد کئی مکتبات نےبھی شائع کیا زیر تبصرہ نسخہ اولاً مکتبہ اسلامیہ ،لاہور کا طبع شدہ ہے پھر اسی نسخہ کاعکس دار العلم ،ممبئی نے شائع کر کے قارئین کے لیے منہاج السنۃ ویب سائٹ پر پبلش کیا ۔وہاں سے ڈاؤنلوڈ کر کے کتاب وسنت ویب سائٹ پر پبلش کیا گیا۔اس نسخہ کا امتیاز یہ ہے کہ اس میں مولانا داؤد کے تحریر کردہ ترجمہ وتشریح کےساتھ ساتھ فضیلۃ الشیخ احمد زہوۃ اوراحمد عنایۃ کی تخریج اور حافظ زبیر علی زئی ﷫ کا علمی مقدمہ بھی شامل اشاعت ہے ۔نیز شیخ الحدیث حافظ عبد الستار حماد﷾ نےاس کی نظرثانی کرتے ہوئے مشکل مقامات کو آسان فہم کر نے کےساتھ ساتھ نہایت جامع اور تحقیقی مقدمہ بھی تحریر کیا ہے ۔اگرچہ مولانا داؤد راز ﷫ کا یہ ترجمہ پہلے بھی ویب سائٹ پر موجود تھا لیکن مذکورہ امتیازات کی بنا پر نسخہ ہذا کو کتاب وسنت ویب سائٹ پر پبلش کیاگیا ہے ۔ ۔(م۔ا)

title-pages-sahih-al-bukhari--mutarjam-w-shareh-dawood-raaz--takhreej-shuda-audition-1-copy

امام بخاری ﷫ کی شخصیت اور ان کی صحیح بخاری کسی تعارف کی محتاج نہیں سولہ سال کے طویل عرصہ میں امام بخاری نے 6 لاکھ احادیث سے اس کا انتخاب کیا اور اس کتاب کے ابواب کی ترتیب روضۃ من ریاض الجنۃ میں بیٹھ کر فرمائی اور اس میں صرف صحیح احادیث کو شامل کیا ۔ جسے اللہ تعالیٰ نے صحت کے اعتبار سےامت محمدیہ میں’’ اصح الکتب بعد کتاب اللہ‘‘ کادرجہ عطا کیا بے شماراہل علم اور ائمہ حدیث ننے مختلف انداز میں مختلف زبانوں میں صحیح بخاری کی شروحات لکھی ہیں ان میں سے فتح الباری از ابن حافظ ابن حجر عسقلانی ﷫ کو امتیازی مقام حاصل ہے ۔اردو زبان میں سب سے پہلے علامہ وحید الزمان ﷫ نے صحیح بخاری کا ترجمہ کیا ہے ان کےبعد کئی شیوخ الحدیث اور اہل علم نے صحیح بخاری کا ترجمہ حواشی اور شروح کا کام سرانجام دیا ۔ان میں سلفی منہج پر لکھی جانے والی فیض الباری ازابو الحسن سیالکوٹی ، توفیق الباری اور حافظ عبدالستار حماد ﷾ کی شرح بخاری قابل ذکر ہیں ۔ زیر تبصرہ صحیح بخاری کا سلیس ترجمہ و تشریح بر صغیر پاک وہند کے مشہور ومعروف عالم دین شیخ الحدیث مولانا محمدداؤد راز﷫ کا ہے جس کا لفظ لفظ قاری کومحظوظ کرتا ہے اور دامن دل کوکھینچتا ہے۔ مولانا نے اپنی زندگی میں ہی 1392ھ میں اسے الگ الگ پاروں کی صورت میں شائع کروایا بعد ازاں 2004 ء میں مکتبہ قدوسیہ نے بڑی محنت شاقہ سے کمپیوٹر ٹائپ کر کے بڑے اہتمام سے آٹھ جلدوں شائع کیا تو اسے بہت قبول عام حاصل ہوا ۔ پھراس کے بعد کئی مکتبات نےبھی شائع کیا زیر تبصرہ نسخہ اولاً مکتبہ اسلامیہ ،لاہور کا طبع شدہ ہے پھر اسی نسخہ کاعکس دار العلم ،ممبئی نے شائع کر کے قارئین کے لیے منہاج السنۃ ویب سائٹ پر پبلش کیا ۔وہاں سے ڈاؤنلوڈ کر کے کتاب وسنت ویب سائٹ پر پبلش کیا گیا۔اس نسخہ کا امتیاز یہ ہے کہ اس میں مولانا داؤد کے تحریر کردہ ترجمہ وتشریح کےساتھ ساتھ فضیلۃ الشیخ احمد زہوۃ اوراحمد عنایۃ کی تخریج اور حافظ زبیر علی زئی ﷫ کا علمی مقدمہ بھی شامل اشاعت ہے ۔نیز شیخ الحدیث حافظ عبد الستار حماد﷾ نےاس کی نظرثانی کرتے ہوئے مشکل مقامات کو آسان فہم کر نے کےساتھ ساتھ نہایت جامع اور تحقیقی مقدمہ بھی تحریر کیا ہے ۔اگرچہ مولانا داؤد راز ﷫ کا یہ ترجمہ پہلے بھی ویب سائٹ پر موجود تھا لیکن مذکورہ امتیازات کی بنا پر نسخہ ہذا کو کتاب وسنت ویب سائٹ پر پبلش کیاگیا ہے ۔ ۔(م۔ا)

title-pages-sahih-al-bukhari--mutarjam-w-shareh-dawood-raaz--takhreej-shuda-audition-1-copy

امام بخاری ﷫ کی شخصیت اور ان کی صحیح بخاری کسی تعارف کی محتاج نہیں سولہ سال کے طویل عرصہ میں امام بخاری نے 6 لاکھ احادیث سے اس کا انتخاب کیا اور اس کتاب کے ابواب کی ترتیب روضۃ من ریاض الجنۃ میں بیٹھ کر فرمائی اور اس میں صرف صحیح احادیث کو شامل کیا ۔ جسے اللہ تعالیٰ نے صحت کے اعتبار سےامت محمدیہ میں’’ اصح الکتب بعد کتاب اللہ‘‘ کادرجہ عطا کیا بے شماراہل علم اور ائمہ حدیث ننے مختلف انداز میں مختلف زبانوں میں صحیح بخاری کی شروحات لکھی ہیں ان میں سے فتح الباری از ابن حافظ ابن حجر عسقلانی ﷫ کو امتیازی مقام حاصل ہے ۔اردو زبان میں سب سے پہلے علامہ وحید الزمان ﷫ نے صحیح بخاری کا ترجمہ کیا ہے ان کےبعد کئی شیوخ الحدیث اور اہل علم نے صحیح بخاری کا ترجمہ حواشی اور شروح کا کام سرانجام دیا ۔ان میں سلفی منہج پر لکھی جانے والی فیض الباری ازابو الحسن سیالکوٹی ، توفیق الباری اور حافظ عبدالستار حماد ﷾ کی شرح بخاری قابل ذکر ہیں ۔ زیر تبصرہ صحیح بخاری کا سلیس ترجمہ و تشریح بر صغیر پاک وہند کے مشہور ومعروف عالم دین شیخ الحدیث مولانا محمدداؤد راز﷫ کا ہے جس کا لفظ لفظ قاری کومحظوظ کرتا ہے اور دامن دل کوکھینچتا ہے۔ مولانا نے اپنی زندگی میں ہی 1392ھ میں اسے الگ الگ پاروں کی صورت میں شائع کروایا بعد ازاں 2004 ء میں مکتبہ قدوسیہ نے بڑی محنت شاقہ سے کمپیوٹر ٹائپ کر کے بڑے اہتمام سے آٹھ جلدوں شائع کیا تو اسے بہت قبول عام حاصل ہوا ۔ پھراس کے بعد کئی مکتبات نےبھی شائع کیا زیر تبصرہ نسخہ اولاً مکتبہ اسلامیہ ،لاہور کا طبع شدہ ہے پھر اسی نسخہ کاعکس دار العلم ،ممبئی نے شائع کر کے قارئین کے لیے منہاج السنۃ ویب سائٹ پر پبلش کیا ۔وہاں سے ڈاؤنلوڈ کر کے کتاب وسنت ویب سائٹ پر پبلش کیا گیا۔اس نسخہ کا امتیاز یہ ہے کہ اس میں مولانا داؤد کے تحریر کردہ ترجمہ وتشریح کےساتھ ساتھ فضیلۃ الشیخ احمد زہوۃ اوراحمد عنایۃ کی تخریج اور حافظ زبیر علی زئی ﷫ کا علمی مقدمہ بھی شامل اشاعت ہے ۔نیز شیخ الحدیث حافظ عبد الستار حماد﷾ نےاس کی نظرثانی کرتے ہوئے مشکل مقامات کو آسان فہم کر نے کےساتھ ساتھ نہایت جامع اور تحقیقی مقدمہ بھی تحریر کیا ہے ۔اگرچہ مولانا داؤد راز ﷫ کا یہ ترجمہ پہلے بھی ویب سائٹ پر موجود تھا لیکن مذکورہ امتیازات کی بنا پر نسخہ ہذا کو کتاب وسنت ویب سائٹ پر پبلش کیاگیا ہے ۔(م۔ا)

title-pages-sahih-al-bukhari--mutarjam-w-shareh-dawood-raaz--takhreej-shuda-audition-1-copy

امام بخاری ﷫ کی شخصیت اور ان کی صحیح بخاری کسی تعارف کی محتاج نہیں سولہ سال کے طویل عرصہ میں امام بخاری نے 6 لاکھ احادیث سے اس کا انتخاب کیا اور اس کتاب کے ابواب کی ترتیب روضۃ من ریاض الجنۃ میں بیٹھ کر فرمائی اور اس میں صرف صحیح احادیث کو شامل کیا ۔ جسے اللہ تعالیٰ نے صحت کے اعتبار سےامت محمدیہ میں’’ اصح الکتب بعد کتاب اللہ‘‘ کادرجہ عطا کیا بے شماراہل علم اور ائمہ حدیث ننے مختلف انداز میں مختلف زبانوں میں صحیح بخاری کی شروحات لکھی ہیں ان میں سے فتح الباری از ابن حافظ ابن حجر عسقلانی ﷫ کو امتیازی مقام حاصل ہے ۔اردو زبان میں سب سے پہلے علامہ وحید الزمان ﷫ نے صحیح بخاری کا ترجمہ کیا ہے ان کےبعد کئی شیوخ الحدیث اور اہل علم نے صحیح بخاری کا ترجمہ حواشی اور شروح کا کام سرانجام دیا ۔ان میں سلفی منہج پر لکھی جانے والی فیض الباری ازابو الحسن سیالکوٹی ، توفیق الباری اور حافظ عبدالستار حماد ﷾ کی شرح بخاری قابل ذکر ہیں ۔ زیر تبصرہ صحیح بخاری کا سلیس ترجمہ و تشریح بر صغیر پاک وہند کے مشہور ومعروف عالم دین شیخ الحدیث مولانا محمدداؤد راز﷫ کا ہے جس کا لفظ لفظ قاری کومحظوظ کرتا ہے اور دامن دل کوکھینچتا ہے۔ مولانا نے اپنی زندگی میں ہی 1392ھ میں اسے الگ الگ پاروں کی صورت میں شائع کروایا بعد ازاں 2004 ء میں مکتبہ قدوسیہ نے بڑی محنت شاقہ سے کمپیوٹر ٹائپ کر کے بڑے اہتمام سے آٹھ جلدوں شائع کیا تو اسے بہت قبول عام حاصل ہوا ۔ پھراس کے بعد کئی مکتبات نےبھی شائع کیا زیر تبصرہ نسخہ اولاً مکتبہ اسلامیہ ،لاہور کا طبع شدہ ہے پھر اسی نسخہ کاعکس دار العلم ،ممبئی نے شائع کر کے قارئین کے لیے منہاج السنۃ ویب سائٹ پر پبلش کیا ۔وہاں سے ڈاؤنلوڈ کر کے کتاب وسنت ویب سائٹ پر پبلش کیا گیا۔اس نسخہ کا امتیاز یہ ہے کہ اس میں مولانا داؤد کے تحریر کردہ ترجمہ وتشریح کےساتھ ساتھ فضیلۃ الشیخ احمد زہوۃ اوراحمد عنایۃ کی تخریج اور حافظ زبیر علی زئی ﷫ کا علمی مقدمہ بھی شامل اشاعت ہے ۔نیز شیخ الحدیث حافظ عبد الستار حماد﷾ نےاس کی نظرثانی کرتے ہوئے مشکل مقامات کو آسان فہم کر نے کےساتھ ساتھ نہایت جامع اور تحقیقی مقدمہ بھی تحریر کیا ہے ۔اگرچہ مولانا داؤد راز ﷫ کا یہ ترجمہ پہلے بھی ویب سائٹ پر موجود تھا لیکن مذکورہ امتیازات کی بنا پر نسخہ ہذا کو کتاب وسنت ویب سائٹ پر پبلش کیاگیا ہے ۔ ۔(م۔ا)

title-pages-sahih-al-bukhari--mutarjam-w-shareh-dawood-raaz--takhreej-shuda-audition-1-copy

امام بخاری ﷫ کی شخصیت اور ان کی صحیح بخاری کسی تعارف کی محتاج نہیں سولہ سال کے طویل عرصہ میں امام بخاری نے 6 لاکھ احادیث سے اس کا انتخاب کیا اور اس کتاب کے ابواب کی ترتیب روضۃ من ریاض الجنۃ میں بیٹھ کر فرمائی اور اس میں صرف صحیح احادیث کو شامل کیا ۔ جسے اللہ تعالیٰ نے صحت کے اعتبار سےامت محمدیہ میں’’ اصح الکتب بعد کتاب اللہ‘‘ کادرجہ عطا کیا بے شماراہل علم اور ائمہ حدیث ننے مختلف انداز میں مختلف زبانوں میں صحیح بخاری کی شروحات لکھی ہیں ان میں سے فتح الباری از ابن حافظ ابن حجر عسقلانی ﷫ کو امتیازی مقام حاصل ہے ۔اردو زبان میں سب سے پہلے علامہ وحید الزمان ﷫ نے صحیح بخاری کا ترجمہ کیا ہے ان کےبعد کئی شیوخ الحدیث اور اہل علم نے صحیح بخاری کا ترجمہ حواشی اور شروح کا کام سرانجام دیا ۔ان میں سلفی منہج پر لکھی جانے والی فیض الباری ازابو الحسن سیالکوٹی ، توفیق الباری اور حافظ عبدالستار حماد ﷾ کی شرح بخاری قابل ذکر ہیں ۔ زیر تبصرہ صحیح بخاری کا سلیس ترجمہ و تشریح بر صغیر پاک وہند کے مشہور ومعروف عالم دین شیخ الحدیث مولانا محمدداؤد راز﷫ کا ہے جس کا لفظ لفظ قاری کومحظوظ کرتا ہے اور دامن دل کوکھینچتا ہے۔ مولانا نے اپنی زندگی میں ہی 1392ھ میں اسے الگ الگ پاروں کی صورت میں شائع کروایا بعد ازاں 2004 ء میں مکتبہ قدوسیہ نے بڑی محنت شاقہ سے کمپیوٹر ٹائپ کر کے بڑے اہتمام سے آٹھ جلدوں شائع کیا تو اسے بہت قبول عام حاصل ہوا ۔ پھراس کے بعد کئی مکتبات نےبھی شائع کیا زیر تبصرہ نسخہ اولاً مکتبہ اسلامیہ ،لاہور کا طبع شدہ ہے پھر اسی نسخہ کاعکس دار العلم ،ممبئی نے شائع کر کے قارئین کے لیے منہاج السنۃ ویب سائٹ پر پبلش کیا ۔وہاں سے ڈاؤنلوڈ کر کے کتاب وسنت ویب سائٹ پر پبلش کیا گیا۔اس نسخہ کا امتیاز یہ ہے کہ اس میں مولانا داؤد کے تحریر کردہ ترجمہ وتشریح کےساتھ ساتھ فضیلۃ الشیخ احمد زہوۃ اوراحمد عنایۃ کی تخریج اور حافظ زبیر علی زئی ﷫ کا علمی مقدمہ بھی شامل اشاعت ہے ۔نیز شیخ الحدیث حافظ عبد الستار حماد﷾ نےاس کی نظرثانی کرتے ہوئے مشکل مقامات کو آسان فہم کر نے کےساتھ ساتھ نہایت جامع اور تحقیقی مقدمہ بھی تحریر کیا ہے ۔اگرچہ مولانا داؤد راز ﷫ کا یہ ترجمہ پہلے بھی ویب سائٹ پر موجود تھا لیکن مذکورہ امتیازات کی بنا پر نسخہ ہذا کو کتاب وسنت ویب سائٹ پر پبلش کیاگیا ہے ۔(م۔ا)

title-pages-sahih-al-bukhari--mutarjam-w-shareh-dawood-raaz--takhreej-shuda-audition-1-copy

امام بخاری ﷫ کی شخصیت اور ان کی صحیح بخاری کسی تعارف کی محتاج نہیں سولہ سال کے طویل عرصہ میں امام بخاری نے 6 لاکھ احادیث سے اس کا انتخاب کیا اور اس کتاب کے ابواب کی ترتیب روضۃ من ریاض الجنۃ میں بیٹھ کر فرمائی اور اس میں صرف صحیح احادیث کو شامل کیا ۔ جسے اللہ تعالیٰ نے صحت کے اعتبار سےامت محمدیہ میں’’ اصح الکتب بعد کتاب اللہ‘‘ کادرجہ عطا کیا بے شماراہل علم اور ائمہ حدیث ننے مختلف انداز میں مختلف زبانوں میں صحیح بخاری کی شروحات لکھی ہیں ان میں سے فتح الباری از ابن حافظ ابن حجر عسقلانی ﷫ کو امتیازی مقام حاصل ہے ۔اردو زبان میں سب سے پہلے علامہ وحید الزمان ﷫ نے صحیح بخاری کا ترجمہ کیا ہے ان کےبعد کئی شیوخ الحدیث اور اہل علم نے صحیح بخاری کا ترجمہ حواشی اور شروح کا کام سرانجام دیا ۔ان میں سلفی منہج پر لکھی جانے والی فیض الباری ازابو الحسن سیالکوٹی ، توفیق الباری اور حافظ عبدالستار حماد ﷾ کی شرح بخاری قابل ذکر ہیں ۔ زیر تبصرہ صحیح بخاری کا سلیس ترجمہ و تشریح بر صغیر پاک وہند کے مشہور ومعروف عالم دین شیخ الحدیث مولانا محمدداؤد راز﷫ کا ہے جس کا لفظ لفظ قاری کومحظوظ کرتا ہے اور دامن دل کوکھینچتا ہے۔ مولانا نے اپنی زندگی میں ہی 1392ھ میں اسے الگ الگ پاروں کی صورت میں شائع کروایا بعد ازاں 2004 ء میں مکتبہ قدوسیہ نے بڑی محنت شاقہ سے کمپیوٹر ٹائپ کر کے بڑے اہتمام سے آٹھ جلدوں شائع کیا تو اسے بہت قبول عام حاصل ہوا ۔ پھراس کے بعد کئی مکتبات نےبھی شائع کیا زیر تبصرہ نسخہ اولاً مکتبہ اسلامیہ ،لاہور کا طبع شدہ ہے پھر اسی نسخہ کاعکس دار العلم ،ممبئی نے شائع کر کے قارئین کے لیے منہاج السنۃ ویب سائٹ پر پبلش کیا ۔وہاں سے ڈاؤنلوڈ کر کے کتاب وسنت ویب سائٹ پر پبلش کیا گیا۔اس نسخہ کا امتیاز یہ ہے کہ اس میں مولانا داؤد کے تحریر کردہ ترجمہ وتشریح کےساتھ ساتھ فضیلۃ الشیخ احمد زہوۃ اوراحمد عنایۃ کی تخریج اور حافظ زبیر علی زئی ﷫ کا علمی مقدمہ بھی شامل اشاعت ہے ۔نیز شیخ الحدیث حافظ عبد الستار حماد﷾ نےاس کی نظرثانی کرتے ہوئے مشکل مقامات کو آسان فہم کر نے کےساتھ ساتھ نہایت جامع اور تحقیقی مقدمہ بھی تحریر کیا ہے ۔اگرچہ مولانا داؤد راز ﷫ کا یہ ترجمہ پہلے بھی ویب سائٹ پر موجود تھا لیکن مذکورہ امتیازات کی بنا پر نسخہ ہذا کو کتاب وسنت ویب سائٹ پر پبلش کیاگیا ہے ۔(م۔ا)

title-pages-sahih-al-bukhari--mutarjam-w-shareh-dawood-raaz--takhreej-shuda-audition-1-copy

امام بخاری ﷫ کی شخصیت اور ان کی صحیح بخاری کسی تعارف کی محتاج نہیں سولہ سال کے طویل عرصہ میں امام بخاری نے 6 لاکھ احادیث سے اس کا انتخاب کیا اور اس کتاب کے ابواب کی ترتیب روضۃ من ریاض الجنۃ میں بیٹھ کر فرمائی اور اس میں صرف صحیح احادیث کو شامل کیا ۔ جسے اللہ تعالیٰ نے صحت کے اعتبار سےامت محمدیہ میں’’ اصح الکتب بعد کتاب اللہ‘‘ کادرجہ عطا کیا بے شماراہل علم اور ائمہ حدیث ننے مختلف انداز میں مختلف زبانوں میں صحیح بخاری کی شروحات لکھی ہیں ان میں سے فتح الباری از ابن حافظ ابن حجر عسقلانی ﷫ کو امتیازی مقام حاصل ہے ۔اردو زبان میں سب سے پہلے علامہ وحید الزمان ﷫ نے صحیح بخاری کا ترجمہ کیا ہے ان کےبعد کئی شیوخ الحدیث اور اہل علم نے صحیح بخاری کا ترجمہ حواشی اور شروح کا کام سرانجام دیا ۔ان میں سلفی منہج پر لکھی جانے والی فیض الباری ازابو الحسن سیالکوٹی ، توفیق الباری اور حافظ عبدالستار حماد ﷾ کی شرح بخاری قابل ذکر ہیں ۔ زیر تبصرہ صحیح بخاری کا سلیس ترجمہ و تشریح بر صغیر پاک وہند کے مشہور ومعروف عالم دین شیخ الحدیث مولانا محمدداؤد راز﷫ کا ہے جس کا لفظ لفظ قاری کومحظوظ کرتا ہے اور دامن دل کوکھینچتا ہے۔ مولانا نے اپنی زندگی میں ہی 1392ھ میں اسے الگ الگ پاروں کی صورت میں شائع کروایا بعد ازاں 2004 ء میں مکتبہ قدوسیہ نے بڑی محنت شاقہ سے کمپیوٹر ٹائپ کر کے بڑے اہتمام سے آٹھ جلدوں شائع کیا تو اسے بہت قبول عام حاصل ہوا ۔ پھراس کے بعد کئی مکتبات نےبھی شائع کیا زیر تبصرہ نسخہ اولاً مکتبہ اسلامیہ ،لاہور کا طبع شدہ ہے پھر اسی نسخہ کاعکس دار العلم ،ممبئی نے شائع کر کے قارئین کے لیے منہاج السنۃ ویب سائٹ پر پبلش کیا ۔وہاں سے ڈاؤنلوڈ کر کے کتاب وسنت ویب سائٹ پر پبلش کیا گیا۔اس نسخہ کا امتیاز یہ ہے کہ اس میں مولانا داؤد کے تحریر کردہ ترجمہ وتشریح کےساتھ ساتھ فضیلۃ الشیخ احمد زہوۃ اوراحمد عنایۃ کی تخریج اور حافظ زبیر علی زئی ﷫ کا علمی مقدمہ بھی شامل اشاعت ہے ۔نیز شیخ الحدیث حافظ عبد الستار حماد﷾ نےاس کی نظرثانی کرتے ہوئے مشکل مقامات کو آسان فہم کر نے کےساتھ ساتھ نہایت جامع اور تحقیقی مقدمہ بھی تحریر کیا ہے ۔اگرچہ مولانا داؤد راز ﷫ کا یہ ترجمہ پہلے بھی ویب سائٹ پر موجود تھا لیکن مذکورہ امتیازات کی بنا پر نسخہ ہذا کو کتاب وسنت ویب سائٹ پر پبلش کیاگیا ہے۔(م۔ا)

title-pages-sahih-bukhari-k-rawat-sahaba-ka-dil-nasheen-tazkra-copy

صحابہ نام ہے ان نفوس قدسیہ کا جنہوں نے محبوب ومصدوق رسول ﷺ کے روئے مبارک کو دیکھا اور اس خیر القرون کی تجلیات ِایمانی کو اپنے ایمان وعمل میں پوری طرح سمونے کی کوشش کی ۔ صحابی کا مطلب ہے دوست یاساتھی شرعی اصطلاح میں صحابی سے مراد رسول اکرم ﷺکا وہ ساتھی ہے جو آ پ پر ایمان لایا،آپ ﷺ کی زیارت کی اور ایمان کی حالت میں دنیا سے رخصت ہوا ۔ صحابی کالفظ رسول اللہﷺ کے ساتھیوں کے ساتھ کے خاص ہے لہذاب یہ لفظ کوئی دوسراا شخص اپنے ساتھیوں کےلیے استعمال نہیں کرسکتا۔ اسی طرح سیدات صحابیات وہ عظیم خواتین ہیں جنہوں نے نبی کریم ﷺ کودیکھا اور ان پر ایمان لائیں اور ایمان کی حالت میں دنیا سے رخصت ہوئیں۔انبیاء کرام﷩ کے بعد صحابہ کرام کی مقدس جماعت تمام مخلوق سے افضل اور اعلیٰ ہے یہ عظمت اور فضیلت صرف صحابہ کرام کو ہی حاصل ہے کہ اللہ نے انہیں دنیا میں ہی مغفرت،جنت اور اپنی رضا کی ضمانت دی ہے بہت سی قرآنی آیات اور احادیث اس پر شاہد ہیں۔صحابہ کرام وصحابیات سے محبت اور نبی کریم ﷺ نے احادیث مبارکہ میں جوان کی افضلیت بیان کی ہے ان کو تسلیم کرنا ایمان کاحصہ ہے ۔بصورت دیگرایما ن ناقص ہے ۔ صحابہ کرام کے ایمان ووفا کا انداز اللہ کو اس قدر پسند آیا کہ اسے بعد میں آنے والے ہر ایمان لانے والے کے لیے کسوٹی قرار دے دیا۔یو ں تو حیطہ اسلام میں آنے کے بعد صحابہ کرام کی زندگی کاہر گوشہ تاب ناک ہے لیکن بعض پہلو اس قدر درخشاں ،منفرد اور ایمان افروز ہیں کہ ان کو پڑہنے اور سننے والا دنیا کا کوئی بھی شخص متاثر ہوئے بغیر نہیں رہ سکتا۔ صحابہ کرام وصحابیات رضی اللہ عنہن کےایمان افروز تذکرے سوانح حیا ت کے حوالے سے ائمہ محدثین او راہل علم کئی کتب تصنیف کی ہیں۔ زیر تبصرہ کتاب’’ صحیح بخاری کے رواۃ صحابہ کا دلنشین تذکرہ ‘‘ مولانا محمد عظیم حاصلپوری ﷾ (مصنف کتب کثیرہ ) کی ایک منفرد کاوش ہے ۔اس کتاب میں فاضل مصنف نے ہرصحابی کےنام ونسب او رکنیت ولقب کے ساتھ ساتھ ان کے قبول اسلام کی داستاتوں کو تحریرکیا ہے ، ہرصحابی کی حتی الوسع مرویات کی تعداد ،ہرصحابی وصحابیہ کے تذکرے کے آخر میں ان سے مروی ایک حدیث صحیح بخاری سے بطور نمونہ باترجمہ درج کردی ہے ،کتاب کے آخر میں صحابہ کرام کے اسمائے گرامی تحریر کردیے ہیں جو اپنی کنیت سے مشہور ہیں ۔ نیز فاضل مصنف نے شروع میں امام بخاری وصحیح بخاری کے متعلق ضروری اور قیمتی معلوماات درج کردی ہیں ۔فاضل مصنف نے تقریباً یکصد کتب مصادر سے ان صحابہ کرام کے واقعات حیات کشید کر کے درج کیے ہیں کہ جن کی احادیث کو امام بخاری﷫ نے صحیح البخاری میں درج کیا ہے ۔اس کتاب میں ہر صحابی کے نام ونسب اور کنیت ولقب کی تحقیق کی گئی ہے ،ان کے قبول اسلام کی داستانوں کو تحریر کیا گیا ہے ۔ان کی ذہانت ، عظمت علمیہ، ایثار نفسی ، جر أت ، زہد وروع اور شرافت ودیانت کے دلچسپ اور قابل رشک واقعاتِ حیات کو احاطۂ تحریر میں لایا گیا ہے ۔اپنے موضوع میں یہ کتاب صحابہ کرام کے فضائل ومناقب پر منفرد کاوش ہے ۔ مفتی جماعت شیخ الحدیث حافظ عبدالستار حماد ﷾ کی اس کتاب پر نظر ثانی سے کتاب کی افادیت دوچند ہوگئی ہے اللہ تعالیٰ فاضل مصنف کی تمام تحقیقی وتصنیف ،صحافتی ،تدریسی اور تبلیغی خدمات کو شرف قبولیت سے نوازے ۔(آمین) (م۔ا)

title-pages-fiqah-al-sunnah-1-copy

اس میں کوئی شک نہیں ہے کہ دین میں تفقہ سب سے افضل عمل ہے۔جو اللہ کی ذات، اس کے اسماء وصفات، اس کے افعال، اس کے دین وشریعت اور اس کے انبیاء ورسل کی معرفت کانا م ہے،اور اس کے مطابق اپناایمان ،عقیدہ اور قول وعمل درست کرنے کا نام ہے۔نبی کریم ﷺنے فرمایا :اللہ تعالی جس کے ساتھ بھلائی کرنا چاہتا ہے اس کو دین کی سمجھ عطا کر دیتا ہے۔ زیر تبصرہ کتاب "فقہ السنہ" معروف عالم دین محمد عاصم صاحب کی کاوش ہے،جسے انہوں نے  معروف فقہی ترتیب پر مرتب کرتے ہوئے قرآنی آیات ،واحادیث نبویہ سے مزین کر دیا ہے ۔اور فروعی مسائل میں صرف ایک ہی قول راجح وصحیح کوبیان کر دیا ہے تاکہ پڑھنے والوں کے لئے سمجھنا آسان ہو اور مبتدی قاری اپنا مطلوب پا لے۔انہوں نے اس کتاب کو مختصر اور مفید بنانے کی از حد کوشش کی ہے ،تاکہ اس سے عابد اپنی عبادت کے لئے ،واعظ اپنی وعظ کے لئے ،مفتی اپنے فتوی کے لئے ،معلم اپنی تدریس کے لئے قاضی اپنے فیصلے کے لئے ،تاجر اپنی تجارت کے لئے اور داعی اپنی دعوت کے لئے فائدہ اٹھا سکے۔اللہ تعالی ان کی اس کاوش کو اپنی بارگاہ میں قبول فرمائے۔آمین(راسخ)

title-pages-fiqah-al-sunnah-2-copy

اس میں کوئی شک نہیں ہے کہ دین میں تفقہ سب سے افضل عمل ہے۔جو اللہ کی ذات، اس کے اسماء وصفات، اس کے افعال، اس کے دین وشریعت اور اس کے انبیاء ورسل کی معرفت کانا م ہے،اور اس کے مطابق اپناایمان ،عقیدہ اور قول وعمل درست کرنے کا نام ہے۔نبی کریم ﷺنے فرمایا :اللہ تعالی جس کے ساتھ بھلائی کرنا چاہتا ہے اس کو دین کی سمجھ عطا کر دیتا ہے۔زیر تبصرہ کتاب "فقہ السنہ" معروف عالم دین محمد عاصم صاحب کی کاوش ہے،جسے انہوں نے  معروف فقہی ترتیب پر مرتب کرتے ہوئے قرآنی آیات ،واحادیث نبویہ سے مزین کر دیا ہے ۔اور فروعی مسائل میں صرف ایک ہی قول راجح وصحیح کوبیان کر دیا ہے تاکہ پڑھنے والوں کے لئے سمجھنا آسان ہو اور مبتدی قاری اپنا مطلوب پا لے۔انہوں نے اس کتاب کو مختصر اور مفید بنانے کی از حد کوشش کی ہے ،تاکہ اس سے عابد اپنی عبادت کے لئے ،واعظ اپنی وعظ کے لئے ،مفتی اپنے فتوی کے لئے ،معلم اپنی تدریس کے لئے قاضی اپنے فیصلے کے لئے ،تاجر اپنی تجارت کے لئے اور داعی اپنی دعوت کے لئے فائدہ اٹھا سکے۔اللہ تعالی ان کی اس کاوش کو اپنی بارگاہ میں قبول فرمائے۔آمین(راسخ)

title-pages-mian-biwi-aik-dosray-ka-dil-kaisay-jeetein
اللہ تعالیٰ نے نظام کائنات کے ایک اہم کردار یعنی حضرت انسان کو پیدا فرمایا اور اس کی نسل کو آگے بڑھانے کا بندوبست کیا نر اور مادہ کی تخلیق اسی مقصد کے پیش نظر تھی پھر انہی جوڑے کو ایک دوسرے سے مانوس کرکے زمین پر ایک خاندان کی شکل میں پھیلا دیا اور اس طرح پوری دنیا میں معاشرے وجود میں آئے گویا میاں بیوی معاشرے میں وہ پہلاکردار ہیں جو اپنی خوبیوں اور خامیوں کو اگلی نسل میں منتقل کرسکتی ہیں اور انہی اوصاف کی بنا پر صحت مند اور ناقص معاشرے وجود میں آتے ہیں۔ اسلام نے معاشرے کے اس بنیادی یونٹ کو قائم و دائم رکھنے کے لیے سنہری اصولوں سے روشناس کروایا ہے اور ایسی تعلیمات دی ہیں اگر ان کومدنظر رکھا جائے تو میاں بیوی کا رشتہ اچھے انداز میں بندھا رہتا ہے۔زیرنظر کتاب میں مؤلف نے روزمردہ زندگی میں میاں بیوی دونوں کو ایک دوسرے سے محبت کرنے اور جن چیزوں سے نفرت پیدا ہوسکتی ہے ان سے دور رہنے کے اسباب و علل بیان کردیئے ہیں تاکہ وہ تمام قباحتیں جن سے ایک دوسرے کے دل دور ہوسکتے  تھے اور وہ تمام اچھائی والی باتیں کہ جن سے محبت میں اضافہ ہوسکتا تھا قرآن حدیث کےدلائل اور آثار و واقعات کے شواہد سے بڑے دلچسپ اور سہل انداز میں بیان کردیئے گئے ہیں۔ گھروں میں ایسی کتاب کا ہونا ضروری ہے۔(ک۔ط)

نوٹ:
محدث فورم میں اس کتاب پر تبصرہ کرنے کے لیے یہاں کلک کریں

ای میل سبسکرپشن

محدث لائبریری کی اپ ڈیٹس بذریعہ ای میل وصول کرنے کے لئے ای میل درج کر کے سبسکرائب کے بٹن پر کلک کیجئے۔

 

ایڈوانس سرچ

رجسٹرڈ اراکین

آن لائن مہمان

محدث لائبریری پر اس وقت الحمدللہ 485 مہمان آن لائن ہیں ، لیکن کوئی رکن آن لائن نہیں ہے۔

ایڈریس

       99--جے ماڈل ٹاؤن،
     نزد کلمہ چوک،
     لاہور، 54700 پاکستان

       0092-42-35866396، 35866476، 35839404

       0092-423-5836016، 5837311

      KitaboSunnat@gmail.com

      بنک تفصیلات کے لیے یہاں کلک کریں

 :