حافظ عبد الرحمٰن مدنی

1 1 1 1 1 1 1 1 1 1
حافظ عبد الرحمٰن مدنی
    title-2
    حافظ عبد الرحمٰن مدنی

    اجتہاد ہر دور کی اہم ضرورت رہا ہے اور اس کی اہمیت بھی ہمیشہ اہل علم کے ہاںمسلم رہی ہے۔ اجتہاد اسلام کا ایک ایسا تصور ہے جو اسے نت نئی نیرنگیوں سے آشنا کر کے فکری جمود سے آزادی بخشتا ہے۔ اللہ کے رسول ﷺ کے زمانہ میں آپﷺ کی حیثیت اللہ احکم الحاکمین کی طرف سے صدق و وفا کے علمبردار مرشد الٰہی کی تھی۔ صحابہ اکرام ﷢ کو جو بھی مسئلہ درپیش آتا تو اس سے متعلق الہامی رہنمائی حاصل کرنے کے لیے وہ اللہ کے رسول ﷺ کی طرف رجوع کرتے تھے اور کتاب وسنت کی روشنی سےپوری طرح مطمئن ہو جاتے، بعض اوقات اگر وحی نازل نہ ہوتی توآپ شریعت الٰہی کی تعلیمات میں غور وفکر کرتے اور یہ فکر ونظر آپﷺ کے ملکہ نبوت کے حامل ہونے کے باوصف ہر طرح کے مسائل کی عقدہ کشائی کرتا، جسے لغوی طور پر تو 'اجتہاد ' کہا جا سکتا ہے، لیکن ہوائے نفس سے پاک ہونے اور ملکہ نبوت کی ممارست کی بدولت یہ سنت رسولﷺ ہی کہلاتا۔ کیونکہ یہ اللہ تعالیٰ کی عطا کردہ عصمت اور الہامی تصویب کا نتیجہ ہوتا تھا۔ چونکہ خلفاے راشدین کے دور میں اسلامی خلافت کی حدود اس قدر وسیع ہو گئی تھیں کہ اس دور کی سپر پاورز 'روم وفارس ' بھی زیر نگیں ہو کر خلافت اسلامیہ تین براعظموں ایشیاء، افریقہ اور یورپ تک پھیل چکی تھی ۔تو ہزاروں نئے مسائل بھی سامنے آتے رہے جن کو حل کرنے کے لیے اجتہاد کی اہمیت روز برروز بڑھنے لگی تو تابعین میں اجتہاد کے دو مکاتب فکر 'اہل الاثر' اور 'اہل الرائے' کے نام سے معروف ہوئے۔ اہل الاثر کے سرخیل مشہور محدث اور فقیہ تابعی سعید بن مسیب کو قرار دیا جاتا ہے جن کا حلقہ اثر زیادہ تر حرمین شریفین تھا۔ ۔ دوسری طرف حدیث وفقہ کے ایک بڑے امام ، ابراہیم نخعی تھے۔جو کچھ نئے اسالیب اجتہاد کے حامل ہونے کی بنا پر 'اہل الرائے' کے امام بن گئے۔ اس کے بعد امام شافعینے اجتہادی اسالیب کو منضبط کرنے کے لیے اصول حدیث وفقہ کے موضوع پر معرکۃ الآراء کتاب 'الرسالۃ' لکھ کر اجتہادی اسالیب کو پختہ بنیادوں پر استوار کرنے کی کوشش کی۔ امام شافعی دونوں حلقوں کے اکابرین سے استفادہ کے باوجود بنیادی طور پر 'اہل الاثر' مکتب فکر پر ہی گامزن رہے ۔تیسری صدی ہجری کے حدیث وفقہ کے اجل امام بخاری کا تعلق بنیادی طور پر 'اہل الاثر' مکتب فکر سے ہے، تاہم انہوں نے اپنی تصنیف 'الجامع الصحیح' میں جہاں روایت و درایت کے اعتبار سے اعلیٰ درجہ کی صحیح احادیث پر استدلال کی بنیاد رکھی وہاں صحیح بخاری کی ترتیب وتدوین میں اجتہاد وفقہ کو اتنی اہمیت دی کہ ان کی کتاب کے بارے میں یہ مشہور ہو گیا : "فقه البخاري في تراجم أبوابه" (امام بخاری کی فقاہت ان کے ابواب کی ترجمانی میں ہے۔)بلاشبہ امام بخاری متقدمین ائمہ سلف کےاس دور کا ایک منارہ نور ہیں جس کی ضیا پاشی نہ صرف اس دور میں چہارسو پھیلی بلکہ ان کی جامع صحیح کو اتنی مقبولیت اور ہردل عزیزی ملی کہ اب تک اسلامی مشرق و مغرب میں اسے جملہ اسلامی مکاتبِ فکر کےہاں نہایت اعلیٰ مقام کی حامل کتاب تسلیم کیا جاتا ہے ۔ کیا یہ اعزاز کم ہے کہ اسے اُسوہ حسنہ کی مبارک نقشہ کشی کرنےوالی تالیفات میں سے 'أصح الکتب بعد کتاب الله' کےلقب سے یاد کیاجاتاہے؟موصوف کی تالیف کی عظمت کا یہ مظہربھی منہ بولتا ثبوت ہے کہ اس کے بے شمار پہلوؤں پرہزاروں جلدوں پر مشتمل سیکڑوں شروحات لکھی گئیں اور اب تک لکھی جارہی ہیں او راسلامی جامعات کے آخر ی مرحلوں میں اس کی تدریس کرنے والے کو 'شیخ الحدیث' کےاعلیٰ ترین منصب کاحامل سمجھا جاتا ہے۔اجتہاد کے بار ے میں امت مسلمہ نئے دور میں افراط وتفریط کا شکار ہے۔اگرچہ کتاب وسنت کی جامعیت اور اجتہاد کی وسعتوں کی بدولت ہر قسم کے قدیم وجدید مسائل کا بہترین حل پیش کیا جا سکتا ہے زیر نظر مقالہ أصول الاجتهاد في الجامع المسند الصحیح المختصر من أمور رسول الله ﷺ وسُننه وأیامه''وہ اہم علمی وتحقیقی کاوش ہے جسے مولانا حافظ عبدالرحمن مدنی ﷾ (رئیس جامعہ لاہورالاسلامیہ) نے جامعہ کراچی میں پی ایچ ڈی کے لیے پیش کیا ۔ امام بخاری  کی کتاب کا نام 'الجامع الصحیح' ہے جو اس کی جامعیت کی طرف اشارہ کر رہا ہے۔ امام صاحب نے اس کتاب میں اپنے دور کے ہر قسم کے شعبہ زندگی سے متعلقہ مسائل کو متنوع ابواب قائم کر کے ائمہ سلف کی تائید کے ساتھ صحیح ترین احادیث سے پیش فرمایا ہے۔ امام بخاری نے مقاصد شریعت کی روشنی میں کتاب وسنت کے اطلاق کے متنوع اسالیب کو اجتہاد قرار دیا ہے اور ان مناہج کی نسبت صحابہ﷢ اور سلف صالحین کی طرف کی ہے۔ پس اگر ہم خلفائے راشدین کی اجتہادی بصیرت سے مستفید ہونا چاہتے ہیں اور ان بنیادوں پر اہل علم کی اجتہادی تربیت کرنا چاہتے ہیں کہ جن بنیادوں پر صحابہ کی اجتہادی تربیت ہوئی تھی اور اس اجتہادی ذوق وملکہ کو بیدار کرنا چاہتے ہیں جو صحابہ میں موجود تھا تو اس کے لیے صحیح بخاری کا امام بخاری کے اصول اجتہاد کی روشنی میں ایک علمی مطالعہ از بس ضروری ہے۔ مقالہ ہٰذا کلیۃً ہرگزکوئی بدیعی شے نہیں ہے بلکہ امام بخاریکے 'اُصولِ اجتہاد' کے پہلو سے اس میں جو کچھ مواد جمع کیاگیاہے وہ اس جامع صحیح کی سابقہ سینکڑوں شروحات کی خوشہ چینی کےعلاوہ جابجا ان خصوصی تبصروں پر بھی مشتمل ہے جو مقالہ نگار کی اپنی تدریسی وتحقیقی زندگی کےدوران اس کےسامنے آتےر ہے۔ انگلینڈ سے ایک صاحب کی فرمائش پر اسے کتاب وسنت ویب سائٹ پرآن لائن کیا گیا ہے۔ موصوف مقالہ نگار محترم ڈاکٹر حافظ عبد الرحمن مدنی ﷾ مجتہد العصر حافظ عبد اللہ محدث روپڑی او ر شيخ التفسير حافظ محمد حسین روپڑی (والد مقالہ نگار)کے تربیت یافتہ صاحب بصیرت جید عالم دین ہیں( موصوف كو محدث روپڑی کے علاوہ شیخ ابن باز ،علامہ ناصر الدین البانی، شیخ حماد الانصاری ، شیخ عطیہ سالم ،مولانا عبد الغفار حسن ﷭ وغیرہ جیسی عظیم شخصیات سے شرفِ تلمذ حاصل ہے ۔)او راپنے خاندان کے علم وعمل کی روایات کو بر قرار رکھے ہوئے ہیں اور اسی لیے ان کا احترام ا ن کے اکابر کی طرح لوگوں کے دلوں میں موجود ہے ۔ موصوف حافظ عبد اللہ محدث روپڑی کی وفات کے بعد حصول تعلیم کےلیے مدینہ یونیورسٹی جانے سےقبل جامعہ اہل حدیث (مسجد قدس)چوک دالگراں کے ناظم اورہفت روزہ تنظیم ا ہل حدیث کے مدیر رہے ۔سعودی عرب سے واپس آکر 1970ء میں ایک علمی وتحقیقی مجلہ ماہنامہ محدث کا اجراء کیا جوکہ اہل علم کے ہاں مقبول ترین رسالہ ہے ۔اور مدرسہ رحمانیہ وجامعہ لاہور الاسلامیہ کے نام سے دینی درسگاہ قائم کی ۔حافظ صاحب کی کوششوں سے جامعہ لاہور الاسلامیہ ،لاہور اب ماشاء اللہ یونیورسٹی کا درجہ اختیار کر چکا ہے۔اب تک سیکڑوں طلباء اس درسگاہ سے فیض یاب ہو چکے ہیں جن میں مولانا خالدسیف شہید ،مولانا عطاء الرحمن ثاقب شہید ، مولانا قاری عبد العلیم بلال ،مولانا محمد شفیق مدنی، ڈاکٹر حافظ محمداسحاق زاہد(مؤلف زاد الخطیب)، مولانا عبد القوی لقمان ، ڈاکٹر حافظ محمد انو ر(اسلامی یونیورسٹی اسلام آباد )، ڈاکٹر نصیر اختر(جامعہ کراچی) سید توصیف الرحمن راشد ی(معروف خطیب واعظ) وغیر ہم قابل ذکر ہیں ۔اسی طرح حافظ صاحب نے 1982میں عصر ی یونیورسٹیوں کے فاضلین اوروکلاء او رجج حضرات کی تربیت کے لیے المعہد العالی للشریعۃ والقضاء کےنام سے ایک ادارہ قائم کیا جس سے ہائی کورٹ وسپریم کورٹ کے بیسیوں وکلاء اور ججز کے علاوہ علماء حضرا ت نے بھی تربیت حاصل کی ان میں پروفیسر ظفر اقبال ، حافظ محمد سعید(امیر جماعۃ الدعوۃ،پاکستان ) ، جسٹس خلیل الرحمن خاں(سابق چیف جسٹس لاہور ہائی کورٹ، جسٹس رفیق تارڈ(سابق صدر پاکستان )،جسٹس منیر مغل وغیرہ قابل ذکر ہیں ۔تقریبا 25 سال قبل حافظ صاحب نےخواتین کی تعلیم وتربیت کے لیے اسلامک انسٹیٹیوٹ کا آغاز کیا اب ماشاء اللہ لاہور بھر میں اسلامک انسٹیٹیوٹ کی کئی شاخیں موجود ہیں جس سےہزاروں خواتین مستفید ہوچکی ہیں انسٹی ٹیوٹ کے تمام امور کی نگر انی حافظ صاحب کی اہلیہ محترمہ کے ذمے ہیں ۔1992 میں حافظ صاحب نے جامعہ لاہور الاسلامیہ کے تحت شیخ القراء محترم قاری محمد ابراہیم میر محمدی ﷾(فاضل مدینہ یونیورسٹی )کی معیت میں کلیۃ القرآن والعلوم الاسلامیہ کا آغاز کیاماشاء آج ملک بھر کے اہم مدارس ومساجد میں اس کلیہ کے فاضل تجویدوقراءات کی تعلیم دینے میں مصروف ہیں اور اسی طرح ملک کے مایہ ناز نواجوان قراء قاری ابراہیم صاحب کے شاگرد اور اسی کلیۃ القرآن کے فاضل ہیں مثلا قاری صہیب احمد میر محمدی، قاری حمزہ مدنی ،قاری عبد السلام عزیزی ،قاری محمد عارف بشیر وغیرہ ۔محدث فور م ، کتاب وسنت اور دیگر ویب سائٹس بھی حافظ کی زیر پرستی چل رہی ہیں جس کی نگرانی موصوف کے بیٹے ڈاکٹر حافظ انس نضر (فاضل مدینہ یونیورسٹی ) کرتے ہیں ۔6 سال قبل اس ویب سائٹ کا آغاز ہوا ۔ دنیا بھر میں صحیح اسلامی منہج پر کام کرنے والی اردو ویب سائٹس میں مقبول ترین ویب سائٹ ہے ہر روز بلا ناغہ اس میں ایک کتا ب اپ لوڈ کی جاتی ہے اب تک تقریبا 2000کتب آن لائن ہوچکی ہیں دنیا بھر سے تقریبا 10000 یومیہ لوگ اس سے مستفید ہوتے ہیں۔ (ولله الحمد) محترم حافظ صاحب کے چاروں بیٹے علم قدیم وعلم جدید کا حسین امتزاج ہیں ۔چاروں نے باقاعدہ درس ِنظامی کی مکمل تعلیم حاصل کی اور اسلامی علوم اور دینی اداروں کی خدمت کے ذریعے ماشاء اللہ خاندان کی علمی ودینی روایات کے امین بن گئے ہیں اور سب نے اہم موضوعات پر پی ایچ ڈی کر کے عصری جامعات سے ڈاکٹریٹ کی اسناد بھی حاصل کر رکھی ہیں ۔اور دین اسلام کی ترویج واشاعت میں مصروف عمل ہیں ۔ دین اسلام کی اشاعت وترویج کے سلسلے میں اللہ تعالی حافظ صاحب اور ان کے خاندان کی مساعی جمیلہ کو شرف قبولیت سے نوازے اور انہیں تندرستی وصحت عطا فرمائے (آمین)(م۔ا)

     

    نوٹ:

    محدث فورم میں اس کتاب پر تبصرہ کرنے کے لیے یہاں کلک کریں

    مکمل مقالہ ڈاؤن لوڈ کرنے کے لیے یہاں کلک کریں

    title-page-usool-al-ijtihad-fil-jamia-al-sahih-lil-imam-al-bukhari-1
    حافظ عبد الرحمٰن مدنی

    اجتہاد ہر دور کی اہم ضرورت رہا ہے اور اس کی اہمیت بھی ہمیشہ اہل علم کے ہاںمسلم رہی ہے۔ اجتہاد اسلام کا ایک ایسا تصور ہے جو اسے نت نئی نیرنگیوں سے آشنا کر کے فکری جمود سے آزادی بخشتا ہے۔ اللہ کے رسول ﷺ کے زمانہ میں آپﷺ کی حیثیت اللہ احکم الحاکمین کی طرف سے صدق و وفا کے علمبردار مرشد الٰہی کی تھی۔ صحابہ اکرام ﷢ کو جو بھی مسئلہ درپیش آتا تو اس سے متعلق الہامی رہنمائی حاصل کرنے کے لیے وہ اللہ کے رسول ﷺ کی طرف رجوع کرتے تھے اور کتاب وسنت کی روشنی سےپوری طرح مطمئن ہو جاتے، بعض اوقات اگر وحی نازل نہ ہوتی توآپ شریعت الٰہی کی تعلیمات میں غور وفکر کرتے اور یہ فکر ونظر آپﷺ کے ملکہ نبوت کے حامل ہونے کے باوصف ہر طرح کے مسائل کی عقدہ کشائی کرتا، جسے لغوی طور پر تو 'اجتہاد ' کہا جا سکتا ہے، لیکن ہوائے نفس سے پاک ہونے اور ملکہ نبوت کی ممارست کی بدولت یہ سنت رسولﷺ ہی کہلاتا۔ کیونکہ یہ اللہ تعالیٰ کی عطا کردہ عصمت اور الہامی تصویب کا نتیجہ ہوتا تھا۔ چونکہ خلفاے راشدین کے دور میں اسلامی خلافت کی حدود اس قدر وسیع ہو گئی تھیں کہ اس دور کی سپر پاورز 'روم وفارس ' بھی زیر نگیں ہو کر خلافت اسلامیہ تین براعظموں ایشیاء، افریقہ اور یورپ تک پھیل چکی تھی ۔تو ہزاروں نئے مسائل بھی سامنے آتے رہے جن کو حل کرنے کے لیے اجتہاد کی اہمیت روز برروز بڑھنے لگی تو تابعین میں اجتہاد کے دو مکاتب فکر 'اہل الاثر' اور 'اہل الرائے' کے نام سے معروف ہوئے۔ اہل الاثر کے سرخیل مشہور محدث اور فقیہ تابعی سعید بن مسیب کو قرار دیا جاتا ہے جن کا حلقہ اثر زیادہ تر حرمین شریفین تھا۔ ۔ دوسری طرف حدیث وفقہ کے ایک بڑے امام ، ابراہیم نخعی تھے۔جو کچھ نئے اسالیب اجتہاد کے حامل ہونے کی بنا پر 'اہل الرائے' کے امام بن گئے۔ اس کے بعد امام شافعینے اجتہادی اسالیب کو منضبط کرنے کے لیے اصول حدیث وفقہ کے موضوع پر معرکۃ الآراء کتاب 'الرسالۃ' لکھ کر اجتہادی اسالیب کو پختہ بنیادوں پر استوار کرنے کی کوشش کی۔ امام شافعی دونوں حلقوں کے اکابرین سے استفادہ کے باوجود بنیادی طور پر 'اہل الاثر' مکتب فکر پر ہی گامزن رہے ۔تیسری صدی ہجری کے حدیث وفقہ کے اجل امام بخاری کا تعلق بنیادی طور پر 'اہل الاثر' مکتب فکر سے ہے، تاہم انہوں نے اپنی تصنیف 'الجامع الصحیح' میں جہاں روایت و درایت کے اعتبار سے اعلیٰ درجہ کی صحیح احادیث پر استدلال کی بنیاد رکھی وہاں صحیح بخاری کی ترتیب وتدوین میں اجتہاد وفقہ کو اتنی اہمیت دی کہ ان کی کتاب کے بارے میں یہ مشہور ہو گیا : "فقه البخاري في تراجم أبوابه" (امام بخاری کی فقاہت ان کے ابواب کی ترجمانی میں ہے۔)بلاشبہ امام بخاری متقدمین ائمہ سلف کےاس دور کا ایک منارہ نور ہیں جس کی ضیا پاشی نہ صرف اس دور میں چہارسو پھیلی بلکہ ان کی جامع صحیح کو اتنی مقبولیت اور ہردل عزیزی ملی کہ اب تک اسلامی مشرق و مغرب میں اسے جملہ اسلامی مکاتبِ فکر کےہاں نہایت اعلیٰ مقام کی حامل کتاب تسلیم کیا جاتا ہے ۔ کیا یہ اعزاز کم ہے کہ اسے اُسوہ حسنہ کی مبارک نقشہ کشی کرنےوالی تالیفات میں سے 'أصح الکتب بعد کتاب الله' کےلقب سے یاد کیاجاتاہے؟موصوف کی تالیف کی عظمت کا یہ مظہربھی منہ بولتا ثبوت ہے کہ اس کے بے شمار پہلوؤں پرہزاروں جلدوں پر مشتمل سیکڑوں شروحات لکھی گئیں اور اب تک لکھی جارہی ہیں او راسلامی جامعات کے آخر ی مرحلوں میں اس کی تدریس کرنے والے کو 'شیخ الحدیث' کےاعلیٰ ترین منصب کاحامل سمجھا جاتا ہے۔اجتہاد کے بار ے میں امت مسلمہ نئے دور میں افراط وتفریط کا شکار ہے۔اگرچہ کتاب وسنت کی جامعیت اور اجتہاد کی وسعتوں کی بدولت ہر قسم کے قدیم وجدید مسائل کا بہترین حل پیش کیا جا سکتا ہے زیر نظر مقالہ أصول الاجتهاد في الجامع المسند الصحیح المختصر من أمور رسول الله ﷺ وسُننه وأیامه''وہ اہم علمی وتحقیقی کاوش ہے جسے مولانا حافظ عبدالرحمن مدنی ﷾ (رئیس جامعہ لاہورالاسلامیہ) نے جامعہ کراچی میں پی ایچ ڈی کے لیے پیش کیا ۔ امام بخاری  کی کتاب کا نام 'الجامع الصحیح' ہے جو اس کی جامعیت کی طرف اشارہ کر رہا ہے۔ امام صاحب نے اس کتاب میں اپنے دور کے ہر قسم کے شعبہ زندگی سے متعلقہ مسائل کو متنوع ابواب قائم کر کے ائمہ سلف کی تائید کے ساتھ صحیح ترین احادیث سے پیش فرمایا ہے۔ امام بخاری نے مقاصد شریعت کی روشنی میں کتاب وسنت کے اطلاق کے متنوع اسالیب کو اجتہاد قرار دیا ہے اور ان مناہج کی نسبت صحابہ﷢ اور سلف صالحین کی طرف کی ہے۔ پس اگر ہم خلفائے راشدین کی اجتہادی بصیرت سے مستفید ہونا چاہتے ہیں اور ان بنیادوں پر اہل علم کی اجتہادی تربیت کرنا چاہتے ہیں کہ جن بنیادوں پر صحابہ کی اجتہادی تربیت ہوئی تھی اور اس اجتہادی ذوق وملکہ کو بیدار کرنا چاہتے ہیں جو صحابہ میں موجود تھا تو اس کے لیے صحیح بخاری کا امام بخاری کے اصول اجتہاد کی روشنی میں ایک علمی مطالعہ از بس ضروری ہے۔ مقالہ ہٰذا کلیۃً ہرگزکوئی بدیعی شے نہیں ہے بلکہ امام بخاریکے 'اُصولِ اجتہاد' کے پہلو سے اس میں جو کچھ مواد جمع کیاگیاہے وہ اس جامع صحیح کی سابقہ سینکڑوں شروحات کی خوشہ چینی کےعلاوہ جابجا ان خصوصی تبصروں پر بھی مشتمل ہے جو مقالہ نگار کی اپنی تدریسی وتحقیقی زندگی کےدوران اس کےسامنے آتےر ہے۔ انگلینڈ سے ایک صاحب کی فرمائش پر اسے کتاب وسنت ویب سائٹ پرآن لائن کیا گیا ہے۔ موصوف مقالہ نگار محترم ڈاکٹر حافظ عبد الرحمن مدنی ﷾ مجتہد العصر حافظ عبد اللہ محدث روپڑی او ر شيخ التفسير حافظ محمد حسین روپڑی (والد مقالہ نگار)کے تربیت یافتہ صاحب بصیرت جید عالم دین ہیں( موصوف كو محدث روپڑی کے علاوہ شیخ ابن باز ،علامہ ناصر الدین البانی، شیخ حماد الانصاری ، شیخ عطیہ سالم ،مولانا عبد الغفار حسن ﷭ وغیرہ جیسی عظیم شخصیات سے شرفِ تلمذ حاصل ہے ۔)او راپنے خاندان کے علم وعمل کی روایات کو بر قرار رکھے ہوئے ہیں اور اسی لیے ان کا احترام ا ن کے اکابر کی طرح لوگوں کے دلوں میں موجود ہے ۔ موصوف حافظ عبد اللہ محدث روپڑی کی وفات کے بعد حصول تعلیم کےلیے مدینہ یونیورسٹی جانے سےقبل جامعہ اہل حدیث (مسجد قدس)چوک دالگراں کے ناظم اورہفت روزہ تنظیم ا ہل حدیث کے مدیر رہے ۔سعودی عرب سے واپس آکر 1970ء میں ایک علمی وتحقیقی مجلہ ماہنامہ محدث کا اجراء کیا جوکہ اہل علم کے ہاں مقبول ترین رسالہ ہے ۔اور مدرسہ رحمانیہ وجامعہ لاہور الاسلامیہ کے نام سے دینی درسگاہ قائم کی ۔حافظ صاحب کی کوششوں سے جامعہ لاہور الاسلامیہ ،لاہور اب ماشاء اللہ یونیورسٹی کا درجہ اختیار کر چکا ہے۔اب تک سیکڑوں طلباء اس درسگاہ سے فیض یاب ہو چکے ہیں جن میں مولانا خالدسیف شہید ،مولانا عطاء الرحمن ثاقب شہید ، مولانا قاری عبد العلیم بلال ،مولانا محمد شفیق مدنی، ڈاکٹر حافظ محمداسحاق زاہد(مؤلف زاد الخطیب)، مولانا عبد القوی لقمان ، ڈاکٹر حافظ محمد انو ر(اسلامی یونیورسٹی اسلام آباد )، ڈاکٹر نصیر اختر(جامعہ کراچی) سید توصیف الرحمن راشد ی(معروف خطیب واعظ) وغیر ہم قابل ذکر ہیں ۔اسی طرح حافظ صاحب نے 1982میں عصر ی یونیورسٹیوں کے فاضلین اوروکلاء او رجج حضرات کی تربیت کے لیے المعہد العالی للشریعۃ والقضاء کےنام سے ایک ادارہ قائم کیا جس سے ہائی کورٹ وسپریم کورٹ کے بیسیوں وکلاء اور ججز کے علاوہ علماء حضرا ت نے بھی تربیت حاصل کی ان میں پروفیسر ظفر اقبال ، حافظ محمد سعید(امیر جماعۃ الدعوۃ،پاکستان ) ، جسٹس خلیل الرحمن خاں(سابق چیف جسٹس لاہور ہائی کورٹ، جسٹس رفیق تارڈ(سابق صدر پاکستان )،جسٹس منیر مغل وغیرہ قابل ذکر ہیں ۔تقریبا 25 سال قبل حافظ صاحب نےخواتین کی تعلیم وتربیت کے لیے اسلامک انسٹیٹیوٹ کا آغاز کیا اب ماشاء اللہ لاہور بھر میں اسلامک انسٹیٹیوٹ کی کئی شاخیں موجود ہیں جس سےہزاروں خواتین مستفید ہوچکی ہیں انسٹی ٹیوٹ کے تمام امور کی نگر انی حافظ صاحب کی اہلیہ محترمہ کے ذمے ہیں ۔1992 میں حافظ صاحب نے جامعہ لاہور الاسلامیہ کے تحت شیخ القراء محترم قاری محمد ابراہیم میر محمدی ﷾(فاضل مدینہ یونیورسٹی )کی معیت میں کلیۃ القرآن والعلوم الاسلامیہ کا آغاز کیاماشاء آج ملک بھر کے اہم مدارس ومساجد میں اس کلیہ کے فاضل تجویدوقراءات کی تعلیم دینے میں مصروف ہیں اور اسی طرح ملک کے مایہ ناز نواجوان قراء قاری ابراہیم صاحب کے شاگرد اور اسی کلیۃ القرآن کے فاضل ہیں مثلا قاری صہیب احمد میر محمدی، قاری حمزہ مدنی ،قاری عبد السلام عزیزی ،قاری محمد عارف بشیر وغیرہ ۔محدث فور م ، کتاب وسنت اور دیگر ویب سائٹس بھی حافظ کی زیر پرستی چل رہی ہیں جس کی نگرانی موصوف کے بیٹے ڈاکٹر حافظ انس نضر (فاضل مدینہ یونیورسٹی ) کرتے ہیں ۔6 سال قبل اس ویب سائٹ کا آغاز ہوا ۔ دنیا بھر میں صحیح اسلامی منہج پر کام کرنے والی اردو ویب سائٹس میں مقبول ترین ویب سائٹ ہے ہر روز بلا ناغہ اس میں ایک کتا ب اپ لوڈ کی جاتی ہے اب تک تقریبا 2000کتب آن لائن ہوچکی ہیں دنیا بھر سے تقریبا 10000 یومیہ لوگ اس سے مستفید ہوتے ہیں۔ (ولله الحمد) محترم حافظ صاحب کے چاروں بیٹے علم قدیم وعلم جدید کا حسین امتزاج ہیں ۔چاروں نے باقاعدہ درس ِنظامی کی مکمل تعلیم حاصل کی اور اسلامی علوم اور دینی اداروں کی خدمت کے ذریعے ماشاء اللہ خاندان کی علمی ودینی روایات کے امین بن گئے ہیں اور سب نے اہم موضوعات پر پی ایچ ڈی کر کے عصری جامعات سے ڈاکٹریٹ کی اسناد بھی حاصل کر رکھی ہیں ۔اور دین اسلام کی ترویج واشاعت میں مصروف عمل ہیں ۔ دین اسلام کی اشاعت وترویج کے سلسلے میں اللہ تعالی حافظ صاحب اور ان کے خاندان کی مساعی جمیلہ کو شرف قبولیت سے نوازے اور انہیں تندرستی وصحت عطا فرمائے (آمین)(م۔ا)

     

    نوٹ:

    محدث فورم میں اس کتاب پر تبصرہ کرنے کے لیے یہاں کلک کریں

    مکمل مقالہ ڈاؤن لوڈ کرنے کے لیے یہاں کلک کریں

    title-pages-monthly-rushad
    حافظ عبد الرحمٰن مدنی

    سید الانبیاء  حضرت  محمد مصطفی ﷺ مسلمانوں  کے لیے  مرکزِ ملت کی حیثیت رکھتے ہیں  اور آپ ﷺسے محبت وعقیدت  مسلمان کے ایمان کا بنیادی حزو ہے اور کسی بھی شخص  کاایمان اس  وقت تک مکمل قرار نہیں دیا  جاسکتا  جب تک رسول اللہ ﷺ کو تمام رشتوں سے بڑھ کر محبوب ومقرب نہ جانا جائے۔فرمانِ نبویﷺ ہے تم میں سے  کوئی شخص مومن نہیں ہوسکتا جب تک اسے  رسول اللہﷺ کے ساتھ ماں،باپ ،اولاد اور باقی سب اشخاص سے  بڑھ  کر محبت نہ ہو۔یہی وجہ ہے کہ  امتِ مسلمہ کاشروع دن سے ہی یہ عقیدہ ہےکہ نبی کریم  ﷺ کی ذات گرامی سے محبت وتعلق کےبغیر ایمان کا دعویٰ باطل اور غلط  ہے۔ دورِ  نبوی ﷺ میں  صحابہ  کرام ﷢ اور بعد کے ادوار میں اہل ایمان نے آپ ﷺ کی شخصیت کے  ساتھ تعلق ومحبت کی لازوال داستانیں رقم کیں۔اور اگر کسی بد بخت نے  آپﷺ کی  شان میں کسی بھی قسم کی گستاخی کرنے کی کوشش کی تو مسلمانوں کے اجتماعی ضمیر نے  شتم رسولﷺ کے مرتکبین کو کیفر کردار تک پہنچایا ۔ نبی کریم ﷺ کی توہین کرنے والے کی سز ا  قتل کے  حوالے  سے کتبِ احادیث اورتاریخ وسیرت  میں  بے  شمار واقعات موجود ہیں  ۔اور اہل  علم  نے  تحریر وتقریر کے ذریعے  بھی  ناموس رسالت  کا حق اداکیا ہے  شیخ االاسلام اما م ابن تیمیہ ﷫نے اس  موضوع پر  ’’الصارم المسلول  علی شاتم الرسول ﷺ ‘‘کے  نام سے  مستقل کتاب  تصنیف فرمائی جس کا  ترجمہ  کتاب  وسنت ویب سائٹ پر موجود ہے ۔  اوائل اسلام  سے  ہی ہر دو ر کی باطل قوتوں نے آپ ﷺکی بڑھتی ہوئی دعوت کو  روکنے کے لیے  ہزار جتن کیے  لیکن ہر محاذ پر  دشمنان ِرسول  کو شکست کا سامنا کرنا پڑا۔زمانۂ قریب میں سلمان  رشدی ،تسلیمہ نسرین جیسے  ملعون بد باطنوں کی نبی رحمت ﷺ کی شان میں ہرزہ سرائی اسی مکروہ سلسلہ کی کڑی ہے ۔ابھی ان دریدہ ذہنوں کی بکواسات کی بازگشت ختم نہ ہوئی تھی کہ  30 ستمبر 2005ء کوڈنمارک  ناروے وغیرہ کے بعض آرٹسٹوں نے آپ ﷺ کی ذات گرامی کے بارے میں خاکے بنا کر آپﷺ کامذاق  اڑایا۔جس سے  پورا عالم ِاسلام مضطرب اور دل گرفتہ  ہوا تونبی کریم ﷺ سے عقیدت ومحبت کے  تقاضا کو سامنے رکھتے ہواہل ایما ن سراپا احتجاج بن گئے ۔  سعودی عرب  نے جن ملکوں میں یہ نازیبا حرکت  ہوئی ان کی مصنوعات کا بائیکاٹ کیا ۔  علماء  ،خطباء  حضرات او ر قلمکاروں  نے  بھر انداز میں  اپنی تقریروں اور تحریروں کےذریعے  نبی کریمﷺ کے  ساتھ  عقیدت ومحبت کا اظہار کیا ۔اور بعض  رسائل وجرائد کے  حرمت رسول کے  حوالے سے  خاص نمبر بھی شائع ہوئے  اور  کئی نئی کتب  بھی  شائع  ہوکر عوام کے ہاتھوں میں پہنچ چکی  ہیں۔جامعہ لاہور الاسلامیہ کے ترجمان رسالہ  ماہنامہ ’’رشد ‘‘کا  زیر تبصرہ  حرمت رسول  نمبر بھی اسی  سلسلہ کی  کڑی ہے ۔ ماہنامہ  ’’رشد ‘‘اگرچہ حافظ عبدالرحمن مدنی ﷾ کی زیر سرپرستی  شائع ہونا والا جامعہ کے طلباء کا ترجمان رسالہ ہے ۔ لیکن  اس اشاعت خاص میں  ڈاکٹر حافظ انس نضر صاحب کی ادارت میں  جامعہ کے طلباء  کے علاوہ مجلس التحقیق الاسلامی ،لاہورکے  سکالرز  نے بھی  بھر پور حصہ لیا  ۔اس اشاعت خاص میں  ڈاکٹر خالد علوی ، مولانا محمد رمصان سلفی، مولانا حافظ  صلاح الدین یوسف،مولانا رفیق اثری، مولانا  ڈاکٹرابو جابر دامانوی حظہم اللہ اور عطاء اللہ  صدیقی  جیسےدانشور  کی تحریر یں بھی شامل اشاعت  ہیں ۔ اور اس  حرمت رسول  نمبرکی خوبیوں میں سے  ایک  امتیازی خوبی یہ ہے  اس میں  حرمت رسول ﷺ کے متعلق  1973 سے  2008ء  تک رسائل وجرائد میں  شائع  ہونے والے تقریبا 400 مضامین کا جامع اشاریہ بھی شامل  ہے  جسے مجلس التحقیق الاسلامی  میں  قائم شعبہ رسائل  کے معاون  محمد زاہد حنیف نے  بڑی  عرق ریزی  سے تیار کیا ۔ اس خاص  نمبر کو  اشاعت کے قابل  بنانے  کے لیے  جناب کامران طاہر صاحب (نائب مدیر  رشد) کی شب وروز  کی  خدمات بھی  ناقابل فراموش ہیں ۔اللہ تعالی  اس اشاعت خاص کی تیاری اور  طباعت میں  حصہ  لینے  والے  تمام  احباب کی  کاوشوں کو قبول فرمائے  اور اسے  دشمنانِ رسول کی سازشوں کے  خاتمہ کا ذریعہ بنائے (آمین) (م-ا)

    untitled-1
    حافظ عبد الرحمٰن مدنی
    ادارہ تحقیقات اسلامی نے اسلام آباد انٹرنیشنل یونیورسٹی میں ایک سہ روزہ پروگرام کاانعقاد کیا۔ جس کا موضوع ’اجتماعی اجتہاد، تصور، ارتقاء اور عملی صورتیں‘ تجویز ہوا۔ اس سیمینار میں حافظ حافظ عبدالرحمٰن مدنی حفظہ اللہ نے ’پارلیمنٹ اور تعبیر شریعت‘ کے نام سے مقالہ پیش کیا۔ یہی مقالہ اس وقت کتابی صورت میں آپ کے سامنے ہے۔ جس میں حافظ صاحب نے نفاذ شریعت سے متعلق امت کے چار مشہور نظریات پر تبصرہ کیا ہے۔ سب پہلے علامہ اقبال کے نظریہ پر روشنی ڈالی گئی ہے۔ اس حوالہ سے دوسرے نظریہ کے طور پر انہوں نے انقلاب ایران اور طالبانی طرز فکر کو لیا ہے۔ تیسرا نظریہ پاکستان کے آزاد خیال اہل علم اور دینی سیاسی جماعتوں کا ہے، اس پر بھی حافظ صاحب نے سیر حاصل اور مدلل بحث پیش کی ہے۔ چوتھا اور آخری نظریہ وہ ہے جو عالم اسلام کے بعض ممالک میں شریعت کی عمل دار ی کی حد تک عرصہ سے رائج ہے۔ تعبیر شریعت کے حوالے سے یہ کتابچہ ایک علمی دستاویز ہے۔ (ع۔م)

    نوٹ:
    محدث فورم میں اس کتاب پر تبصرہ کرنے کے لیے یہاں کلک کریں
اس سائٹ پر کوئی ایسی کتاب موجود نہیں جس کا ترجمہ ان صاحب نے کیا ہو۔
اس سائٹ پر کوئی ایسی کتاب موجود نہیں جس کی ترتیب و تخریج ان صاحب نے کی ہو۔
ان صاحب کی کوئی بھی کتاب نظرثانی کی گئی موجود نہیں۔

ای میل سبسکرپشن

محدث لائبریری کی اپ ڈیٹس بذریعہ ای میل وصول کرنے کے لئے ای میل درج کر کے سبسکرائب کے بٹن پر کلک کیجئے۔

 

ایڈوانس سرچ

رجسٹرڈ اراکین

آن لائن مہمان

محدث لائبریری پر اس وقت الحمدللہ 331 مہمان آن لائن ہیں ، لیکن کوئی رکن آن لائن نہیں ہے۔

ایڈریس

       99--جے ماڈل ٹاؤن،
     نزد کلمہ چوک،
     لاہور، 54700 پاکستان

       0092-42-35866396، 35866476، 35839404

       0092-423-5836016، 5837311

      KitaboSunnat@gmail.com

      بنک تفصیلات کے لیے یہاں کلک کریں

 :