حافظ عبد اللہ محدث روپڑی

1 1 1 1 1 1 1 1 1 1
حافظ عبد اللہ محدث روپڑی
    title-pages-aala-jahaiz-al-sout-wagera-ki-sharie-haisiyat-copy
    حافظ عبد اللہ محدث روپڑی

    دین اسلام کے فروغ کے لئےجدید ذرائع ابلاغ کو استعمال کرنا وقت کی اہم ترین ضرورت ہے ۔زیر نظر تحریر" لاوڈ سپیکر اور نماز " آ ج سے پچھتر سال قبل ۱۹۴۰ ء میں اس وقت شائع ہوئی جب لاوڈ سپیکر اور ریڈیو نیا نیا ایجاد ہو کر عام استعمال میں آیا،اور اسے نماز ،جمعہ اور عیدین میں استعمال کرنے کی ضرورت پیش آئی۔لاوڈ سپیکر ایک جدید ایجاد تھی ،جس کے نماز میں جائز وناجائز اور استعمال یا عدم استعمال  کے بارے میں اہل علم  نے غور وفکر کرنا شروع کیا تو مختلف طبقات میں تقسیم ہو گئے۔بعض اس کے  مطلقا استعما ل کے قائل تھے تو بعض مطلقا حرمت کے علمبردارتھےاور اسے آلہ لہو ولعب قرار دے رہے تھے۔اہل علم کے اس  شدید اختلاف کو دیکھ کر عامۃ الناس  حیران وپریشان ہوگئے کہ اب اس کا کیا حل نکالا جائے۔یہ بحث اس زمانے میں سب سے زیادہ بنگلور میں اٹھی ۔چنانچہ اہل بنگلور نے ایک استفتاء معروف علماء کرام کےنام بھیجا ،اور ان سے فتوی طلب کیا۔جن علماء کی طرف یہ مراسلہ بھیجا گیا ان میں سے ایک مراسلہ مدیر تنظیم محترم مولانا حافظ عبد اللہ محدث روپڑی ﷫کے نام روپڑ آیا۔آپ نے مکالمے کی شکل میں  اس مراسلے کا ایسا زبر دست اور شاندار جواب دیا کہ اس پرسب  عش عش کر اٹھے۔آپ کا وہ جواب اس وقت آپ کے سامنے ہے،کہ نماز میں لاوڈ سپیکر کا استعمال بالکل جائز اور درست ہے۔اللہ تعالی سے دعا ہے کہ وہ مولف کی اس محنت کو قبول فرمائے اور ان کے میزان حسنات میں اضافہ فرمائے۔آمین(راسخ)

    title-pages-itfa-al-shama-fi-zuhar-al-jummat--abdullah-ropri--copy
    حافظ عبد اللہ محدث روپڑی

    دیہاتوں میں نماز جمعہ کی ادائیگی کے حوالے سے علماء احناف ہمیشہ سے تردد کا شکار رہے ہیں اورمختلف شرائط بیان کرتے چلے آئے ہیں۔اسی طرح بعض لوگوں کا یہ طریقہ کار ہے کہ وہ شہروں میں نماز جمعہ کے بعد ظہر احتیاطی پڑھتے ہیں۔ان کی نظر میں اگرچہ جمعہ کی کچھ اہمیت نہیں ہے ،لیکن حقیقت یہ ہے کہ جیسےجمعہ کے دن کی فضیلت باقی دنوں پر ہے،لیلۃ القدر کی فضیلت باقی راتوں پر ہے،اسی طرح نماز جمعہ کو باقی نمازوں پر فضیلت حاصل ہے۔اس کو اہمیت نہ دینا اور معمولی شبہات کی بناء پر اس میں سستی کرنا یا بالکل ترک کر دینا بلکہ پڑھنے والوں سے چھڑانے کی کوشش کرنا یہ ڈبل غلطی ہے۔ زیر تبصرہ کتاب " اطفاء الشمعہ فی ظہر الجمعہ بجواب نور الشمعہ فی ظہر الجمعہ " مجلس التحقیق الاسلامی کے رئیس ڈاکٹر حافظ عبد الرحمن مدنی ﷾کے تایا جان اورہندوستان کے معروف عالم دین حافظ عبداللہ محدث روپڑی﷫ کی تصنیف ہے ،جو مولوی احمد علی صاحب بٹالوی﷫ پروفیسر دینیات اسلامیہ کالج لاہور کی کتاب ""نور الشمعہ فی ظہر الجمعہ"کے جواب میں لکھی ہے۔مولوی احمد علی صاحب﷫ نے اپنی اس کتاب میں ظہر احتیاطی پڑھنے  کی ترغیب دیتے ہوئے فرضیت جمعہ سے خوب ہاتھ صاف کیا ہے اور اس کو اتنا کمزور دکھایا ہے کہ وہ اس میں نفل کی جھلک بھی نظر نہ آئے۔مولف موصوف نے اس کتاب میں شرائط جمعہ پر بحث کرتے ہوئے علماء احناف کے تمام رسائل جو ہندوستان میں شائع ہو چکے تھے ۔قرآن وسنت کی روشنی میں ان کا مکمل جواب دیا ہے۔اللہ  تعالی سے دعا ہے کہ وہ  ان کی اس خدمت کو اپنی بارگاہ میں قبول فرمائے اور ان کے میزان حسنات میں اضافہ فرمائے۔آمین(راسخ)

    pages-from-al-kitab-ul-mustataab-fi-jawab-e-fasalil-khattab
    حافظ عبد اللہ محدث روپڑی

    الحمدلله رب العالمين والصلاة والسلام على المبعوث رحمة للعالمين، أما بعد فالصراع العلمي والنضال المذهبي بين أهل الحديث والحنفية في القارة الباكندية (باكستان والهند ) أمر معروف و مشهور، و من المسائل المهمة التى كثر حولها الكلام والجدال مسئلة قراءة فاتحة الكتاب في الصلاة خلف الإمام " فوضعوا فيه التأليفات الكبار و سعوا فيما ادعوا من الإثبات والإنكار، ولكن المقلدين قد أكثروا الاستدلال بالرأي والقياس، وظنوا أنه يروج عند كثير من الناس، ثم إذا علموا كساده في سوق الدرايات والروايات، أرادوا أن يلبسوه لباس السنن والآيات، فتكلفوا بل حرفوا. و لم يعرفوا أن هذين العلمين، التكلف فيهما عين الشين وأيضا ليس فرسان هذا الميدان إلا من رزق الفهم في كتاب الله و نال الثريا للإيمان، و هم أهل الحديث الذين ساروا سيرا حثيثا، وأما أولئك فاشتغالهم بعلم الحديث قليل قديما و حديثا فلذا تراهم في كل مسئلة يناظرون فيها أهل الحديث قاصرين، وأهل الحديث عليهم ظاهرين، وكيف يدرك الظالع شأو الضليع، وهل يستوى الخالع والخليع، ومن حمل وزرا فوق طاقته، يهلك أو يسقط من ساعته" و على هذا المنوال ألف شيخ الحنفية العلامة أنور شاه الكشميري كتابه "فصل الخطاب" ودافع عن مذهبه و رد على مخالفه و اشتهر أو شُهِّر عند  بعض الناس بأن كتاب الشيخ المذكور ليس هناك من يستطيع الجواب عليه من أهل الحديث، بل" تحدى به متعصبةُ الحنفية أهلَ الحديث، بل أعلن مؤلفه أن لا يمكن للسلفيين أن يفهموا الكتاب!" حتى وصل الخبر إلى الشيخ الحافظ عبدالله الروبري، فتصدى للرد عليه وألف كتابا ماتعا و سماه "الكتاب المستطاب في جواب فصل الخطاب" فأجاد فيه و أفاد "وقدّم فصلاً في أخطاء الكشميري في العربية نحو الستين غلطاً بعد إسقاط ما يمكن أن يكون من الطابع، وجعل كتاب الكشميري كله على الهامش، لئلا يُقال ترك منه شيئا، فلم يترك جزئية إلا وردّ عليها رداً محكما، وذلك في حياته، وتحدى الحنفية أن يردوا عليه ردًّا علميا، وأعطاهم مهلة أربعين سنة لذلك كما ذكر في الكتاب! وتوفي العلامة الكشميري ولم يرد، وبعد مدة جيء به إلى تلميذه العلامة البنوري ليرد عليه وينتصر لشيخه، ونُقل عنه أنه أبقى الكتاب أياماً عنده، ثم قال: إن الرد عليه يحتاج إلى استيعاب تفهمه أولاً، وقد تعذر عليّ ذلك. فالكتاب دَيْنٌ عليهم إلى الآن. رحم الله الجميع، طُبع الكتاب الطبعة الأولى سنة 1348، والثانية سنة 1396. " ثم لم يتيسر طبعه إلى الآن، ولما كثر السؤال عن هذا الكتاب القيم من الإخوة من العرب والعجم على الشبكات العنكوتية وغيرها ولم يكن هناك مجال لطباعة الكتاب، و كانت نسخ من الكتاب محفوظة في بعض المكتبات العامة والخاصة منها مكتبة "مجلة المحدث" وهي مجلة علمية دعوية ثقافية تصدر شهريا برئاسة الشيخ عبدالرحمن المدني، ابن أخي الشيخ الروبري، تشرف المجلس المعلمي لموقع الكتاب والسنة - وهم أبناء الشيخ المدني و أحفادالشيخ الروبرى – بأمر من فضيلة الشيخ المدني بتصوير هذا الكتاب و رفعه على الشبكة لكي يعم النفع و يستفيد منه القاصي والداني. و تم تصوير الكتاب بمهارة تامة بأرقى أنواع المصورات ، ولكن يعصب قراءة بعض المواضع لكون الكتاب طباعة حجرية كما هو الحال في الكتب القديمة قبل ظهور الطباعة الحديثة. و هذا مما يؤكد على ضرورة إعادة طبع الكتاب مع الخدمة التى تليق بمكانة الكتاب و مصنفه. و إذ نقدم لأهل العلم هذا السفر الجليل نرجو من الله التوفيق والسداد والقبول والإخلاص، وهو المستعان و عليه التكلان. (خ۔ح)

    حافظ عبد اللہ محدث روپڑی

    مسلمانوں کی فرقہ بندیوں کا افسانہ بڑا طویل اورالمناک ہے۔ مسلمان پہلے صرف ایک امت تھے۔ پہلے لا الہ الا اللہ محمد رسول اللہ کہہ کر ایک شخص مسلمان ہوسکتا تھا لیکن اب اس کلمہ کے اقرار کے ساتھ اسے حنفی یا شافعی یا مالکی یا حنبلی بھی ہونے کا اقرار کرنا ضروری ہوگیا ہے۔ ضرورت اس امر کی   مسلمانوں کو اس تقلیدی گروہ بندی سے نجات دلائی جائے اور انہیں براہ راست کتاب وسنت کی تعلیمات پر عمل کرنے کی دعوت دی جائے۔ مسلک اہل حدیث در اصل مسلمانوں کوکتاب وسنت کی بنیاد پر اتحاد کی ایک حقیقی دعوت پیش کرنے والا مسلک ہے۔ اہل حدیث کے لغوی معنی حدیث والے اوراس سے مراد وہ افراد ہیں جن کے لیل و نہار، شب و روز، محض قرآن وسنت کےتعلق میں بسر ہوں او رجن کا کوئی قول وفعل اور علم، طور طریقہ اور رسم ورواج قرآن وحدیث سے الگ نہ ہو۔ گویامسلک اہل حدیث سے مراد وہ دستورِ حیات ہے جو صرف قرآن وحدیث سے عبارت، جس پر رسول اللہﷺ کی مہرثبت ہو۔ زیر تبصرہ کتاب ’’اہل حدیث کےامتیاز ی مسائل‘‘ محدث العصر شیخ الحدیث و التفسیر حضرت العلام حافظ عبداللہ محدث روپڑی﷫ کی تالیف ہے۔ اس کتاب میں انہوں نے ایک حنفی مولوی اشرف علی تھانوی کے تحریر کردہ رسالہ ’’ الاقتصاد فی التقلید والاجتہاد‘‘ میں ذکر کردہ پندرہ مسائل پر دلائل صحیحہ کی روشنی میں بحث کی ہے۔ یہ رسالہ مسلک اہل حدیث کی پوری دستاویز ہے جس کے اندر دو باتیں ہیں ایک تو مذہب اہل حدیث کے مسائل دوسرا مخالفین کے جوابات۔یہ رسالہ پہلی مرتبہ 1925ء میں طبع ہوا تھا۔ موجودہ ایڈیشن 1972ء کاطبع شدہ اس میں محدث روپڑی کا مختصر تعارف بھی شامل اشاعت ہے۔ (م۔ا)

    title-pages-tehqiq-al-taraweeh-copy
    حافظ عبد اللہ محدث روپڑی

    صحیح احادیث کے مطابق رکعاتِ تراویح کی مسنون تعداد آٹھ ہے ۔مسنون تعداد کا مطلب وہ تعداد ہےجو اللہ کے نبی ﷺ سے بسند صحیح ثابت ہے ۔ رکعات تراویح کی مسنون تعداد اوررکعات تراویح کی اختیاری تعداد میں فرق ہے ۔ مسنون تعداد کا مطلب یہ ہے کہ جو تعداد اللہ کےنبی ﷺ سے ثابت ہے او راختیاری تعداد کا مطلب یہ ہے کہ وہ تعداد جو بعض امتیوں نے اپنی طرف سے اپنے لیے منتخب کی ہے یہ سمجھتے ہوئے کہ یہ ایک نفل نماز ہے اس لیے جتنی رکعات چاہیں پڑھ سکتے ہیں۔ زیر تبصرہ کتاب ’’ تحقیق التراویح فی جواب تنویر المصابیح ‘‘محدث العصر حافظ عبد اللہ محدث روپڑی ﷫ کی نماز تراویح کے متعلق علمی وتحقیقی تصنیف ہے ۔ یہ کتاب انہوں نے سیٹھ ابراہیم حسین آف بنگلور کی فرمائش پر تنویر المصابیح فی تحقیق التراویح کے جواب میں تحریر کی ۔مذکورہ کتاب ابوالناصر عبیدی الحنفی کی تصنیف ہے جس میں انہوں نے چونتیس دلائل قاطعہ سے ثابت کیا کہ بیس رکعت نماز تراویح باجماعت مسنون ہیں اور آٹھ ر کعت تراویح کسی صحیح حدیث سے ثابت نہیں ۔تو محدث روپڑی ﷫ نےاس کےجواب میں اس کتاب میں احادیث صحیحہ وآثار قویہ سے آٹھ تراویح کا ثبوت پیش کیا ۔نیز اس میں تراویح اور تہجد کےایک یادو ہونے کی مکمل بحث بھی ہے ۔ حضرت عائشہ صدیقہؓ کی بخاری والی حدیث حضورﷺ رمضان غیررمضان میں گیارہ رکعت پڑھتے اس کی پوری تشریح ہے اور آٹھ رکعات تراویح کےمخالفین کامسکت جواب ہے ۔(م۔ا)

    title-pages-taleem-al-salat-copy
    حافظ عبد اللہ محدث روپڑی

    نماز دین کا ستون ہے۔نماز جنت کی کنجی ہے۔نماز مومن کی معراج ہے۔ نمازمومن  کی آنکھوں کی ٹھنڈک ہے۔نماز قرب الٰہی کا بہترین ذریعہ ہے۔ نماز اﷲ تعالیٰ کی رضا کاباعث ہے۔نماز پریشانیوں اور بیماریوں سے نجات کا ذریعہ ہے۔نماز بے حیائی سے روکتی ہے۔نماز مومن اور کافر میں فرق ہے۔ہر انسان جب کلمہ پڑھ کر اللہ تعالیٰ کے سامنے اپنے ایمان کی شہادت دیتا ہے اور جنت کے بدلے اپنی جان ومال کا سودا کرتا ہے، اس وقت سے وہ اللہ تعالیٰ کا غلام ہے اور اس کی جان ومال اللہ تعالیٰ کی امانت ہے۔ اب اس پر زندگی کے آخری سانس تک اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول حضرت محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی اطاعت واجب ہوجاتی ہے۔ اس معاہدہ کے بعد جو سب سے پہلا حکم اللہ تعالیٰ کا اس پر عائد ہوتا ہے، وہ پانچ وقت کی نماز قائم کرنا ہے۔قیامت کے دن سب سے پہلے نماز کا حساب وکتاب لیا جائے گا،اگر کوئی شخص اس میں کامیاب ہو گیا تو وہ تمام سوالوں میں کامیاب ہے اور اگر کوئی اس میں ناکام ہو گیا تو وہ تمام سوالوں میں ناکام ہے۔ زیر تبصرہ کتاب" تعلیم الصلاۃ" پاکستان کے معروف اہل حدیث عالم دین روپڑی خاندان کے جد امجد اور جامعہ لاہور الاسلامیہ کے مدیر اعلیٰ  ڈاکٹر حافظ عبد الرحمن مدنی صاحب﷾کے تایا جان مجتہد العصر علامہ حافظ محمد عبد اللہ محدث روپڑی صاحب ﷫ کی تصنیف ہے ،جس میں انہوں نےنماز کی اہمیت وفضیلت اور مقام ومرتبے کو قرآن و حدیث کی روشنی میں بیان کرتے ہوءے نماز کا مکمل طریقہ بیان کیا ہے۔اللہ تعالی مولف کی اس کاوش کو اپنی بارگاہ میں قبول فرمائے،اور تمام مسلمانوں کو نماز کا پابند بنائے۔آمین(راسخ)

    title-pages-taqleed-aur-ulmae-deoband-copy
    حافظ عبد اللہ محدث روپڑی

    کسی آدمی کی وہ بات ماننا،جس کی  نص حجت ِشریعہ،قرآن و حدیث میں نہ  ہو،نہ ہی اُس پر اجماع ہو اور نہ وہ مسئلہ اجتہادی ہو تقلید کہلاتا ہے ۔ تقلید اورعمل  بالحدیث کے مباحث صدیوں  پرانے  ہیں ۔زمانہ قدیم سے  اہل رائے اور اہل  الحدیث باہمی رسہ کشی کی بنیاد ’’ تقلید‘‘ رہی ہے  موجودہ دور میں بھی  عوام وخواص کے درمیان مسئلہ تقلید ہی موضوعِ بحث بنا ہوا ہے۔ حالانکہ گزشتہ چندد ہائیوں میں  تقلیدی رجحانات کے علاوہ جذبۂ  اطاعت کو بھی قدرےفروغ حاصل ہوا  ہے۔ امت کا در د رکھنے والے مصلحین نے  اس موضوع پر سیر حاصل بحثیں کی ہیں ۔اور کئی کتب  تصنیف کیں ہیں۔لیکن تقلیدی افکار ونظریات پر تعب وعناد کی چڑھتی ہوئی دبیز چادر کے سامنے جتنی بھی ہوں وہ کم ہی ہیں۔ زیر نظر کتاب " تقلید اور علماء دیو بند "رئیس جامعہ لاہور الاسلامیہ ڈاکٹر حافظ عبد الرحمن مدنی صاحب کے تایا جان شیخ الحدیث مولانا حافظ عبد اللہ محدث روپڑی صاحب﷫ کی تصنیف ہے، جس میں انہوں نے مولانا رشید احمد گنگوہی ﷫، مولانا مفتی محمد شفیع صاحب ﷫، مولانا محمود الحسن﷫، مولانا مرتضی حسن ﷫وغیرہ علماء  دیو بند کی تحریرات(جو انہوں نے اثبات تقلید میں مختلف پیرایہ میں لکھی ہیں)کے محققانہ ومنصفانہ جوابات دئیے ہیں۔ مولف موصوف ﷫ اس کتاب کے ذریعے لوگوں کو تقلید شخصی کے بدترین  نتائج سے آگاہ  کرنے کے  ساتھ ساتھ  انہیں کتاب وسنت کی طرف  رجوع کرنے  کی  ترغیب دلائی ہے ۔اللہ تعالیٰ سے دعا ہے کہ وہ ہمیں کتاب وسنت پر زندہ  رہنے اوراللہ ا ور اس کے رسولﷺ کی اطاعت  کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔آمین(راسخ)

    title-pages-touheed-al-rehman-copy
    حافظ عبد اللہ محدث روپڑی

    اللہ تبارک وتعالیٰ کے تنہالائقِ عبادت ہونے ، عظمت وجلال اورصفاتِ کمال میں واحد اور بے مثال ہونے اوراسمائے حسنیٰ میں منفرد ہونے کا علم رکھنے اور پختہ اعتقاد کےساتھ اعتراف کرنے کانام توحید ہے ۔توحید کے اثبات پر کتاب اللہ اور سنت رسول ﷺ میں روشن براہین اور بے شمار واضح دلائل ہیں ۔ اور شرک کا معنیٰ یہ کہ ہم اللہ کے ساتھ کسی کو شریک ٹھرائیں جبکہ اس نےہی ہمیں پیدا کیا ہے ۔ شرک ایک ایسی لعنت ہے جو انسان کوجہنم کے گڑھے میں پھینک دیتی ہے قرآن کریم میں شرک کوبہت بڑا ظلم قرار دیا گیا ہے اور شرک ایسا گناہ ہے کہ اللہ تعالیٰ انسان کے تمام گناہوں کو معاف کردیں گے لیکن شرک جیسے عظیم گناہ کو معاف نہیں کریں گے ۔شرک اس طرح انسانی عقل کوماؤف کردیتا ہےکہ انسان کوہدایت گمراہی اور گمراہی ہدایت نظر آتی ہے ۔نیز شرک اعمال کو ضائع وبرباد کرنے والا اور ثواب سے محروم کرنے والا عمل ہے ۔ پہلی قوموں کی تباہی وبربادی کاسبب شرک ہی تھا۔ چنانچہ جس کسی نے بھی محبت یا تعظیم میں اللہ کے علاوہ کسی کواللہ کے برابر قرار دیا یا ملت ابراہیمی کے مخالف نقوش کی پیروی کی وہ مشرک ہے۔ زیر تبصرہ کتاب’’ توحید الرحمان بجواب استمداد از عبادالرحمٰن‘‘ حضرت العلام محدث العصر حافظ عبداللہ محدث روپڑی ﷫ کی تصنیف ہے جو انہوں نے 1959ء میں انجمن حزب الاحناف ،لاہور کی طرف سے شائع کردہ کتاب ’’ استمداد ازعبادالرحمٰن‘‘ کےجواب میں تحریرکی ۔حافظ صاحب مرحوم کی یہ کتاب ان کی زندگی میں تبویب وتصویب جدید سے شائع نہ ہوسکی۔بعد ازاں ان کے اخلاف حافظ عبد الوہاب روپڑی ﷾ نےاس کتاب کو تبویب وترتیب کےساتھ شائع کیا ہے تاکہ عوام الناس ان علمی جواہرپاروں سے استفادہ کرسکیں اور شرکیہ ظلمات سےباہر آکر نجات اخروی حاصل کرسکیں۔محدث روپڑی اکیڈمی نے اس کتاب کےعلاوہ بھی محدث روپڑی بعض کتب(انسانی زندگی کامقصد، زیارت قبر نبویﷺ، ارسال الیدین بعدالرکوع، تحقیق التراویح، تقلید اور علماء دیوبند، وسیلہ بزرگان ، رد بدعات ) کو دوبارہ شائع کیا ہے ۔(م۔ا)

    pages-from-hajj-e-masnoon
    حافظ عبد اللہ محدث روپڑی

    حج عبادات کا مرقع دین کی اصلیت اور اس کی روح کا ترجمان ہے۔ یہ مسلمانوں کی اجتماعی تربیت اور ملت کے معاملات کا ہمہ گیر جائزہ لینے کا وسیع وعریض پلیٹ فارم ہے شریعت نے امت مسلمہ کواپنے او ردنیا بھر کے تعلقات ومعاملات کا تجزیہ کرنے کے لیے سالانہ بین الاقوامی سٹیج مہیا کیا ہے تاکہ وہ حقوق اللہ اور حقوق العباد کے معاملہ میں اپنی کمی بیشی کا احساس کرتے ہوئے توبہ استغفار اور حالات کی درستگی کےلیے عملی اقدامات اٹھائیں ۔حج بیت اللہ ارکانِ اسلام میں ایک اہم رکن ہے بیت اللہ کی زیارت او رفریضۂ حج کی ادائیگی ہر صاحب ایمان کی تمنا اور آرزو ہے ہر صاحب استطاعت اہل ایمان کے لیے زندگی میں  ایک دفعہ فریضہ حج کی ادائیگی فرض ہے اور اس کے انکار ی کا ایمان کامل نہیں ہے اور وہ دائرہ اسلام سےخارج ہے۔حج زندگی میں ایک دفعہ ہر اس شخص پر فرض ہے حوزادِ راہ رکھتا ہو۔ کسی ایسی بیماری میں مبتلا نہ ہو جو مانع سفر ہو اور راستہ میں ایسی رکاوٹ نہ ہو جس میں ہلاکت کا اندیشہ ہو ۔ایسی تمام رکاوٹیں موجود نہ ہونے کے باوجود اگر کوئی شخص بغیر حج کے مرجائے تو اس کی موت یہودی اور عیسائی کی طرح ہے۔ اجر وثواب کے لحاظ سے یہ رکن بہت زیادہ اہمیت کاحامل ہے۔نماز روزہ صر ف بدنی عبادتیں ہیں اور زکوٰۃ فقط مالی عبادت ہے۔ مگر حج کی یہ خصوصیت ہے کہ وہ بدنی اورمالی دونوں طرح کی عبادت کامجموعہ ہے۔ تمام كتب حديث وفقہ میں اس کی فضیلت اور احکام ومسائل کے متعلق ابو اب قائم کیے گئے ہیں اور تفصیلی مباحث موجود ہیں ۔حدیث نبویﷺ ہے کہ آپ نےفرمایا الحج المبرور لیس له جزاء إلا الجنة’’حج مبرور کا ثواب جنت سوا کچھ اور نہیں ۔اگر حج کے تمام احکام وفرائض سنت نبوی کےمطابق ادا نہ جائیں تو ان کی قبولیت نہ ہوگی۔اور نہ ان کے لیے کوئی اجر ہوگا بلکہ وہ ضائع اور برباد ہوجائیں گے ۔اس لیے ضروری ہےکہ حج جیسا اہم فریضہ سنت نبوی ﷺ کےمطابق ادا کیا جائے۔ اس موضوع پر اب تک اردو و عربی زبان میں چھوٹی بڑی بیسیوں کتب لکھی جاچکی ہیں اور ہنوذ یہ سلسلہ جاری وساری ہے۔ زیر تبصرہ کتاب ’’ حج مسنون‘‘ مجتہد العصر حافظ عبداللہ محدث روپڑی﷫ کی تصنیف ہے۔اس کتاب میں انہوں نے اس بات کوپیش نظر رکھا ہےکہ حاجی حج کےلیے گھر سے روانہ ہو کر واپسی تک فریضۂ حج کی تکمیل کےتمام مراحل عین سنت کےمطابق ادا کرے۔ اس کتاب کے چار ایڈیشن محدث روپڑی  کی زندگی میں پاکستان بننے سے قبل اور بعد میں شائع ہوئے اور موجودہ ایڈیشن انکی وفات کے بعد شائع ہونےوالا پہلا ایڈیشن ہے۔جسے بلال گروپ آف انڈسٹریز نے   فی سبیل اللہ تقسیم کی خاطر شائع کیا۔ اللہ تعالیٰ محدث روپڑی ﷫ کی تمام خدمات کو قبول فرمائے اوران کےلیے آخرت میں نجات کا ذریعہ بنائے ۔ آمین( م۔ا)

    title-pages-hakomat-aur-ulmae-rabbani-copy
    حافظ عبد اللہ محدث روپڑی

    اللہ تعالیٰ نے ہمیں جو دین عطا کیا ہے، یہ محض رسوم عبادت یا چند اخلاقی نصائح کا مجموعہ نہیں ہے بلکہ یہ زندگی کے تمام پہلوؤں میں رہنمائی فراہم کرتا ہے۔ اس دین کو ماننے والوں کے لئے صرف یہی ضروری نہیں کہ وہ اس دین کو نظریاتی طور پر مان لیں بلکہ ا س کا عملی زندگی میں اطلاق بھی ان کی ذمہ داری ہے۔دین کا عملی زندگی میں اطلاق صرف یہی تقاضانہیں کرتا کہ اس پر خود عمل کیا جائے بلکہ یہ بات بھی دین کے تقاضے میں شامل ہے کہ اس دین کو دوسروں تک پہنچایا بھی جائے اور ایک دوسرے کی اصلاح کی جائے۔ جہاں کہیں بھی کوئی شرعی یا اخلاقی خرابی نظر آئے، ا س کی اصلاح کرنے کی کوشش کی جائے۔دنیا کا کوئی بھی کام احسن انداز میں کرنے کے لئے ضروری ہے کہ اس کام میں پہلے اچھی طرح مہارت حاصل کی جائے اور پھر اس کی مناسب منصوبہ بندی کرکے اس پر عمل درآمد کیا جائے۔ جو لوگ اللہ کے دین کی دعوت کا کام سوچ سمجھ کر کرنا چاہتے ہوں ، ان کے لئے بھی یہ ضروری ہے کہ وہ خود میں وہ صلاحیتیں پیدا کریں جو دعوت دین کے لئے ضروری ہیں اور پھر اس کام کو مناسب حکمت عملی اور منصوبہ بندی سے انجام دیں۔ زیر تبصرہ کتاب" حکومت اور علماء ربانی " پاکستان کے معروف اہل حدیث عالم دین، روپڑی خاندان کے جد امجد اور جامعہ لاہور الاسلامیہ کے مدیر اعلیٰ  ڈاکٹر حافظ عبد الرحمن مدنی صاحب﷾کے تایا جان مجتہد العصر علامہ حافظ محمد عبد اللہ محدث روپڑی صاحب ﷫ کی تصنیف ہے ، جس میں انہوں نے علماء ربانی کی طرف سے حکمرانوں کی دی گئی دعوت دین اور ان کی اصلاح کی کوششوں کے تذکرے بیان کئے ہیں۔اللہ تعالی سے دعا ہے کہ وہ ان کی اس کاوش کو اپنی بارگاہ میں قبول فرمائے اور ان کے میزان حسنات میں اضافہ فرمائے۔آمین(راسخ)

    title-pages-darayat-tafseri-copy
    حافظ عبد اللہ محدث روپڑی

    متحدہ پنجاب کے جن اہل  حدیث خاندانوں نے تدریس  وتبلیغ اور مناظرات ومباحث  میں شہرت پائی ان میں  روپڑی خاندان کےعلماء کرام کو بڑی اہمیت حاصل ہے  ۔روپڑی خاندان میں علم وفضل کے اعتبار سے سب سے برگزیدہ شخصیت حافظ عبد اللہ محدث  روپڑی(1887ء۔1964) کی تھی، جو ایک عظیم  محدث ،مجتہد مفتی اور  محقق تھے ان کے فتاویٰ، ان کی فقاہت اور مجتہدانہ صلاحیتوں کے غماز او ر ان کی تصانیف ان کی محققانہ ژرف نگاہی کی مظہر ہیں۔ تقسیمِ ملک سے قبل روپڑ شہر (مشرقی پنجاب) سے ان کی زیر ادارت ایک ہفتہ وار پرچہ ’’تنظیم اہلحدیث‘‘ نکلتا رہا، جو پاکستان بننے کے بعد اب تک لاہور سے شائع ہو رہا ہے۔ محدث روپڑی تدریس سے بھی وابستہ رہے، قیامِ پاکستان کے بعد مسجد قدس (چوک دالگراں، لاہور) میں جامعہ اہلحدیث کے نام سے درس گاہ قائم فرمائی۔ جس کے شیخ الحدیث اور صدر مدرّس اور ’’تنظیم اہلحدیث‘‘ کے مدیر وغیرہ سب کچھ وہ خود ہی تھے، علاوہ ازیں جماعت کے عظیم مفتی اور محقق بھی۔اس اعتبار سے محدث روپڑی کی علمی و دینی خدمات کا دائرہ بہت وسیع ہے، وہ تدریس کے شعبے سے بھی وابستہ رہے اور کئی نامور علماء تیار کئے، جیسے حافظ عبدالقادر روپڑی ،حافظ اسمٰعیل روپڑی ، مولانا ابوالسلام محمد صدیق سرگودھوی ، مولانا عبدالسلام کیلانی﷭ ، حافظ عبد الرحمن مدنی ،مولانا حافظ ثناء اللہ مدنی حفظہما اللہ  وغیرہم۔ ’’تنظیم اہلحدیث‘‘کے ذریعے سے سلفی فکر اور اہلحدیث مسلک کو فروغ دیا اور فرقِ باطلہ کی تردید کی۔ اللہ تعالیٰ نے ان کو اجتہاد و تحقیق کی اعلیٰ صلاحیتوں سے نوازا تھا، فتویٰ و تحقیق کے لئے وہ عوام و خواص کے مرجع تھے۔ ۔ چنانچہ اس میدان میں بھی انہوں نے خوب کام کیا۔ ان کے فتاویٰ آج بھی علماء اور عوام دونوں کے لئے یکساں مفید اور رہنمائی کا بہترین ذریعہ ہیں۔ مذکورہ خدمات کے علاوہ  مختلف موضوعات  پر  تقریبا  80تالیفات علمی یادگار کے طور پر چھوڑیں، عوام ہی نہیں، علماء بھی ان کی طرف رجوع کرتے تھے او ران کی اجتہادی صلاحیتوں کے معترف تھے ۔مولانا عبدالرحمن مبارکپور ی  (صاحب تحفۃ الاحوذی  )فرماتے ہیں  حافظ عبد اللہ  روپڑی  جیسا ذی علم اور  لائق استاد تمام  ہندوستان میں کہیں  نہیں ملےگا۔ہندوستان  میں ان کی نظیر نہیں۔زیر تبصرہ کتاب ’’ درایت تفسیری‘‘ مجتہد العصر  حافظ عبد اللہ محدث روپڑی﷫ کی اصول  تفسیر کے موضوع پرایک اہم اور بے مثال تالیف ہے ۔یہ کتاب محدث روپڑی کی تعلیمی دور  سے فراغت کے بعد پہلی کتاب ہے ۔ یہ کتاب دراصل  محدث روپڑی نے   فاتح قادیان  مولانا  ثناء اللہ امرتسری ﷫ کی  کتاب کے رد میں لکھی تھی ۔  اس کتاب کا تعارف  کراتے ہوئے  مینجر اخبار ’’تنظیم اہلحدیث ‘‘ روپڑ ضلع ابنالہ لکھتے ہیں :’’آج کا خصوصیت کے ساتھ کچھ ایسی آزادی ہوگئی ہے کہ ہرفرقہ قرآن مجید سے استدلال کرتا ہے  اور تروڑ مروڑ کر اپنے موافق کرلیتا ہے ۔ اس رسالہ میں بتلایا گیا ہے کہ کن اصولوں پر تفسیر کرنی چاہیے اور صحیح تفسیر کونسی  ہے  ‘‘اللہ تعالیٰ محدث روپڑی  کی  مرقد پر  اپنی رحمتوں کا نزول فرمائے اور انہیں جنت الفردوس میں اعلٰی مقام عطافرمائے (آمین) (م۔ا)

     نوٹ:

    محدث فورم میں اس کتاب پر تبصرہ کرنے کے لیے یہاں کلک کریں

    title-pages-radde-bidat-abdullah-ropri-copy
    حافظ عبد اللہ محدث روپڑی

    اللہ تعالی نے جن وانس کو صر ف اپنی عبادت کے لیے پیدا کیا ہے ۔جیسا کہ ارشاد باری تعالیٰ ہے : وَمَا خَلَقْتُ الْجِنَّ وَالْإِنْسَ إِلَّا لِيَعْبُدُونِ (الذاریات:56) ’’میں نے  جنوں اور انسانوں کو محض اس لیے  پیدا کیا وہ  صرف میری عبادت کریں‘‘ او ر عبادت کےلیے    اللہ تعالیٰ   نے  زندگی کا کو ئی خاص زمانہ یا سال کا کوئی مہینہ  یا ہفتے کا کو ئی  خاص  دن  یا کوئی خاص رات متعین  نہیں کی  کہ بس اسی میں اللہ تعالیٰ کی  عبادت کی جائے اور باقی زمانہ عبادت سے  غفلت میں گزار دیا جائے بلکہ انسان کی تخلیق  کا اصل  مقصد ہی یہ ہے کہ وہ اللہ تعالیٰ کی عبادت کرے ۔ سنِ بلوغ سے لے کر زندگی کے آخری دم تک   اسے ہر لمحہ عبادت  میں  گزارنا چاہیے ۔ لیکن اس وقت   مسلمانوں کی اکثریت اللہ تعالیٰ کی عبادت سے غافل ہے  اور بعض مسلمانوں  نے  سال  کے  مختلف مہینوں میں صرف مخصوص دنوں کو  ہی عبادت کےلیے خاص کررکھا ہے اور ان میں  طرح طرح کی   عبادات کو  دین   میں شامل کر رکھا ہے  جن کا کتاب وسنت سے   کوئی ثبوت نہیں ہے  ۔اور جس کا ثبوت کتاب اللہ  اور سنت رسول  ﷺ سے  نہ ملتا ہو وہ بدعت  ہے اور ہر بدعت گمراہی  ہے   بدعت اور شرک ایسے جرم ہیں جو توبہ کے  بغیر معاف نہیں ہوتے ۔ شرک تو لیے  کہ مشرک اللہ کے علاوہ کسی اور کو مالک الملک کی وحدانیت کےبرابر لانے کی ناکام کوشش کرتا ہے اور بدعت اس لیے کہ بدعتی اپنے عمل سےیہ تاثر دیتا ہے کہ دین نامکمل تھا اور اس نے دین میں یہ اضافہ کر کے اسے مکمل کیا ہے ۔یعنی  شریعت سازی کی مساعی ناتمام کادوسرا نام بدعت ہے ۔  اس  وقت بدعات وخرافات  اور علماء سوء نے پورے  دین کو  اپنی  لپیٹ میں لے رکھا ہے ۔وقت کے  راہبوں ،صوفیوں،  نفس پرستوں او رنام نہاد دعوتِ اسلامی کے دعوے داروں نے  قال اللہ وقال الرسول کے مقابلے میں اپنے خود ساختہ افکار وخیالات اور   طرح طرح کی بدعات وخرافات  نے اسلام کے صاف وشفاف چہرے کو داغدار بنا دیا ہے جس سے  اسلام کی اصل  شکل گم ہوتی جارہی ہے ۔اور مسلمانوں کی اکثریت ان بدعات کو عین اسلام سمجھتی  ہے۔دن کی بدعات  الگ  ہیں ، ہفتے کی بدعات الگ ،مہینے کی بدعات الگ،عبادات کی بدعات الگ ،ولادت اور فوتگی کے موقع پر بدعات الگ غرض کہ ہر ہر موقع کی بدعات الگ الگ ایجاد کررکھی ہیں۔بدعات وخرافات کی تردید  اور اتباع سنت کواجاگر کرنے کے لیے  ہر دور میں   اہل علم نے گراں قدر خدمات انجام دی ہیں ۔ زیر تبصرہ کتابچہ ’’ ردِّ بدعات ‘‘ مجتہد العصر  حافظ عبد اللہ  محدث روپڑی ﷫ کا تصنیف شدہ ہے ۔ جس میں انہوں نے   مندرجہ ذیل مسائل کی  پوری تحقیق پیش کی ہے ۔اسقاط میت ،  میت کودفن کر کے چالیس قدم پر دعا کرنا ، اہل میت  کے گھر فاتحہ کےلیے  جمع ہونا ، اہل  میت کا دریا پر نہانا ، اہل میت کے گھر کچھ روز  تک گوشت نہ آنے دینا ، بچہ کے ختنہ کے وقت تلوار لے کر کھڑے  ہونا او ربچہ کوٹوکری میں  رکھ  بکری کے سر پر بٹھانا ، خطبہ  میں سنتیں پڑہنا ، مسئلہ توسل ، ذکر لا الہٰ الا اللہ جمع ہو کر تمام رات  پڑھنا،  اذان میں محمد ﷺ کے نام  پر انگوٹھے  چوم کر آنکھوں پر ملنا، ظہر احطتیاطی پڑہنا ،  انگریزی بال رکھنا ، ڈاڑہی منڈانا ، گیارہویں  کا ختم ،  سماع موتی،  قبوں کاگرانا، حدیث  قرن شیطان، اہل نجد کاذکر  معنیٰ بدعت ، مسئلہ تقلید (م۔ا)

    pages-from-rafa-yadain-aur-aameen
    حافظ عبد اللہ محدث روپڑی

    شریعتِ اسلامیہ میں نماز بہت بڑا اور اہم رکن ہے اور اس پر مواظبت لازم قرار دی گئی ہے بلکہ کفر وایمان کے درمیان نماز ایک امتیاز ہے۔عقیدہ توحید کے بعد کسی بھی عمل کی قبولیت کےلیے دو چیزوں کاہونا ضروری ہے۔ نیت اور طریقۂ رسول ﷺ ۔لہٰذا نماز کے بارے میں آپ کاﷺ واضح فرمان ہے ’’ نماز اس طرح پڑھو جس طرح تم مجھے پڑھتے ہوئے دیکھتے ہو‘‘ (بخاری) رکوع میں جاتے ہوئے اور رکوع سے کھڑا ہوتے وقت ہاتھوں کو کندھوں یا کانوں تک اٹھانا (یعنی رفع الیدین کرنا) نبی کریم ﷺ کی سنت مبارکہ ہے۔آپ ﷺ نے اپنی زندگی کے آخری ایام تک اس سنت پر عمل کیا ہے۔نماز میں رفع الیدین رسول اللہ ﷺ سے متواتر ثابت ہے۔امام شافعی﷫ فرماتے ہیں کہ رفع الیدین کی حدیث کو صحابہ کرام   کی اس قدر   کثیر تعداد نے روایت کیا ہے کہ شاید اور کسی حدیث کواس سے زیادہ صحابہ   نے روایت نہ کیا ہو۔ او رامام بخاری ﷫ نے جزء رفع الیدین میں لکھا ہے ہے کہ رفع الیدین کی حدیث کوانیس صحابہ   نے روایت کیا ہے ۔ لیکن صد افسوس اس مسئلہ کو مختلف فیہ بنا کر دیگر مسائل کی طرح تقلید اور مسلکی تعصب کی بھینٹ چڑھا دیا گیا ۔اثبا ت رفع الیدین پر امام بخاری   کی جزء رفع الیدین ،حافظ زبیر علی زئی  کی نور العینین فی مسئلۃ رفع الیدین وغیرہ کتب قابل ذکر ہیں۔اثبات رفع الیدین پر   کتا ب ہذا کے علاوہ تقریبا 10 کتابیں کتاب وسنت ویب سائٹ پر بھی موجود ہیں۔ زیر تبصرہ کتاب ’’رفع یدین اورآمین‘‘ محدث العصر مجتہد وفقہی حضرت العلام حافظ عبد اللہ محدث روپڑی ﷫ کے مسئلہ رفع الیدین اور آمین کے حوالے سےتحقیقی وتنقیدی تفصیلی فتاوی پر مشتمل ہے ۔یہ رسالہ اگرچہ بظاہر دومسئلوں میں ہے مگر ضمناً بہت سے مسائل اختلافیہ اس میں آگئے ہیں ۔جیسے بسم اللہ بالجہر، سینہ پر ہاتھ باندھنا، جلسۂ استراحت اور ان کے علاوہ اور بہت سے اصولی فروعی مسائل اس میں شامل ہیں۔یہ رسالہ در اصل محدث روپڑی﷫ کےان فتاوی جات پرمشتمل ہے جوانہوں نےمولوی ارشاد احمددیوبندی تلمیذ مولانا عبد اللہ درخواستی  آف خانپور(ریاست بہاولپور) کے رفع الیدین اورآمین کے فتوی کے جواب پر 1960ء تنقیدتبصرہ فرمایا تھا۔ اللہ تعالیٰ محدث روپڑی  کی مرقد پر اپنی رحمتوں کا نزول فرمائے اور انہیں جنت الفردوس میں اعلٰی مقام عطافرمائے (آمین) م۔ا

    حافظ عبد اللہ محدث روپڑی

    دین اسلام کی اساس عقیدہ توحید پر مبنی ہےلیکن صد افسوس کہ امت محمد یہ میں سے بہت سے لوگ  مختلف انداز میں شرک جیسے قبیح فعل میں مبتلا ہیں- سماع موتٰی یعنی مُردوں کے سننے  کا مسئلہ شرک  کا سب سے بڑا چور دروازہ ہے۔ موجودہ دور میں یہ مسئلہ اس قدر سنگینی اختیار کر گیا ہے کہ قائلین سماع موتٰی نہ صرف مردوں کے سننے کے قائل ہیں بلکہ یہ عقیدہ بھی رکھتے ہیں کہ مردے سن کر جواب بھی دیتے ہیں اور حاجات بھی پوری کرتے ہیں۔ اﷲ تعالیٰ قرآن مجید میں فرماتے ہیں: ( فَاِنَّکَ لاَ تُسْمِعُ الْمَوْتٰی وَ لَا تُسْمِعُ الصُّمَّ الدُّعَآءَ اِذَا وَلَّوْا مُدْبِرِیْنَ )[30:الروم:52] ’’اے نبی! اور تو کوئی مردے کو کیا سنائے گا۔ آپ بھی مردوں کو نہیں سنا سکتے جیسا کہ بہروں کو نہیں سنا سکتے۔‘‘ بہرے کے کان تو ہوتے ہیں‘ لیکن سننے کی طاقت نہیں ہوتی۔ جب وہ نہیں سن سکتا تو مردہ کیا سنے گا جس میں نہ سننے کی طاقت رہی اور نہ سننے کا آلہ۔ ہاں اﷲ تعالیٰ اس حالت میں بھی اس کے ذرات کو سنا سکتا ہے۔ کسی اور کی طاقت نہیں کہ ایسا کر سکے۔ چنانچہ فرمایا: ( اِنَّ ﷲَ یُسْمِعُ مَنْ یَّشَآءُج وَ مَآ اَنْتَ بِمُسْمِعٍ مَّنْ فِی الْقُبُوْرِ)[35:الفاطر:22]’’ اﷲ تو جسے چاہے سنا دے‘ کان ہوں‘ یا نہ ہوں ‘ لیکن اے پیغمبر! آپ ان کو نہیں سنا سکتے جو قبروں میں ہیں‘‘یعنی مردہ ہیں۔ اب اس قدر وضاحت کے بعد کوئی کہہ سکتا ہے کہ مردے سنتے ہیں؟زیر تبصرہ کتاب"سماع موتی"جماعت اہل حدیث کے معروف عالم دین، جامعہ لاہور الاسلامیہ کے رئیس ڈاکٹر حافظ عبد الرحمن مدنی صاحب کے تایا جان شیخ الاسلام حافظ عبد اللہ محدث روپڑی صاحب﷫ کی تصنیف ہے، جس میں انہوں نے مستند دلائل کے ساتھ سماع موتی کے مسئلے پر روشنی ڈالی ہے۔کتاب کی تبویب وتخریج حافظ عبد الوھاب روپڑی صاحب نے فرمائی ہے۔ اللہ تعالی سے دعا کہ وہ مولف موصوف کی اس کاوش کو اپنی بارگاہ میں قبول فرمائے اور ان کے میزان حسنات میں اضافہ فرمائے۔آمین(راسخ)

    pages-from-sayyed-abu-ul-aala-modoodi-ka-makhsoos-nazria-e-hadees
    حافظ عبد اللہ محدث روپڑی

    متحدہ پنجاب کے جن اہل حدیث خاندانوں نے تدریس وتبلیغ اور مناظرات ومباحث میں شہرت پائی ان میں روپڑی خاندان کےعلماء کرام کو بڑی اہمیت حاصل ہے ۔روپڑی خاندان میں علم وفضل کے اعتبار سے سب سے برگزیدہ شخصیت حافظ عبد اللہ محدث روپڑی(1887ء۔1964) کی تھی، جو ایک عظیم محدث ،مجتہد مفتی اور محقق تھے ان کے فتاویٰ، ان کی فقاہت اور مجتہدانہ صلاحیتوں کے غماز او ر ان کی تصانیف ان کی محققانہ ژرف نگاہی کی مظہر ہیں۔ تقسیمِ ملک سے قبل روپڑ شہر (مشرقی پنجاب) سے ان کی زیر ادارت ایک ہفتہ وار پرچہ ’’تنظیم اہلحدیث‘‘ نکلتا رہا، جو پاکستان بننے کے بعد اب تک لاہور سے شائع ہو رہا ہے۔ محدث روپڑی تدریس سے بھی وابستہ رہے، قیامِ پاکستان کے بعد مسجد قدس (چوک دالگراں، لاہور) میں جامعہ اہلحدیث کے نام سے درس گاہ قائم فرمائی۔ جس کے شیخ الحدیث اور صدر مدرّس اور ’’تنظیم اہلحدیث‘‘ کے مدیر وغیرہ سب کچھ وہ خود ہی تھے، علاوہ ازیں جماعت کے عظیم مفتی اور محقق بھی۔اس اعتبار سے محدث روپڑی کی علمی و دینی خدمات کا دائرہ بہت وسیع ہے، وہ تدریس کے شعبے سے بھی وابستہ رہے اور کئی نامور علماء تیار کئے، جیسے حافظ عبدالقادر روپڑی ،حافظ اسمٰعیل روپڑی ، مولانا ابوالسلام محمد صدیق سرگودھوی ، مولانا عبدالسلام کیلانی ﷭ ، حافظ عبد الرحمن مدنی ،مولانا حافظ ثناء اللہ مدنی حفظہما اللہ وغیرہم۔ ’’تنظیم اہلحدیث‘‘کے ذریعے سے سلفی فکر اور اہلحدیث مسلک کو فروغ دیا اور فرقِ باطلہ کی تردید کی۔ اللہ تعالیٰ نے ان کو اجتہاد و تحقیق کی اعلیٰ صلاحیتوں سے نوازا تھا، فتویٰ و تحقیق کے لئے وہ عوام و خواص کے مرجع تھے۔ ۔ چنانچہ اس میدان میں بھی انہوں نے خوب کام کیا۔ ان کے فتاویٰ آج بھی علماء اور عوام دونوں کے لئے یکساں مفید ہےاور آپ کے فتاویٰ جات کو بطور سند علمی حلقوں میں پیش کیا جاتا ہے۔مذکورہ خدمات کے علاوہ مختلف موضوعات پر تقریبا 80تالیفات علمی یادگار کے طور پر چھوڑیں، عوام ہی نہیں، علماء بھی ان کی طرف رجوع کرتے تھے او ران کی اجتہادی صلاحیتوں کے معترف تھے ۔مولانا عبدالرحمن مبارکپور ی  (صاحب تحفۃ الاحوذی )فرماتے ہیں:’’ حافظ عبد اللہ روپڑی جیسا ذی علم اور لائق استاد تمام ہندوستان میں کہیں نہیں ملےگا۔ہندوستان میں ان کی نظیر نہیں‘‘۔عالم اسلام میں آپ ایک محدث کے طور پر پہچانے جاتے ہیں۔اگر آپ کے سامنے کسی بھی قسم کا الجھا ہوا مسئلہ پیش ہوتا تو آپ فوراً قرآن وسنت کی روشنی میں حل فرمادیتے آپ کو قرآن وسنت سے اس قدر محبت تھی کہ قرآن وسنت کا دفاع آپ کا شعار تھا اور سنت کےمعاملہ میں آپ نے کبھی بھی مداہنت سے کام نہیں لیا۔ زیر تبصرہ کتاب ’’سید ابو الاعلیٰ مودوی﷫ کا مخصوص نظریہ حدیث ‘‘حافظ عبداللہ محدث روپڑی ﷫ کی دفاع شبہات حدیث کے سلسلہ میں ایک علمی تصنیف ہے ۔مولانا مودوی نے انکار حدیث کے فتنہ سےمتاثر ہوکر حدیث کے متعلق دو شبہات (اسماء الرجال کی حیثیت،درایت اور ذوق حدیث کی حیثیت) پیش کیے تواس وقت کے علماء حق نے وقت کی نزاکت کے پیش نظر قلم اٹھایا اوراپنے اپنے انداز میں اس کا رد کیا۔اور پھر احباب جماعت کے اصرارپر 1955ء میں حضرت العلام حافظ عبداللہ مدث روپڑی ﷫نےبڑے احسن اور مدلل پیرائے میں ان شبہات کا جواب لکھا۔ کتاب ہذا انہی جوابات پر مشتمل ہے ۔جماعت اہل حدیث کے سینئر رہنما ،نائب ناظم اعلیٰ جامعہ اہل حدیث چوک دالگراں ،لاہور نے اس کتاب پر تبویب وتخریج کا کام کیا اور اسے محدث روپڑی اکیڈمی کی طرف سے شائع کیا بعد ازاں اس کتاب کو انڈیا میں حدیث پبلی کیشنز،دہلی نے شائع کیا زیرتبصرہ کتاب دہلی سے ہی

    شائع شدہ ہے۔(م۔ا)

    title-pages-fataawa-ahl-e-hadees
    حافظ عبد اللہ محدث روپڑی
    عبداللہ محدث روپڑی یکتائے روز گار محقق اور اپنے دورکے مجتہد ہونے کے علاوہ علم و فضل کے روشن مینار تھے۔ تفسیر اورحدیث میں آپ کو جامع بصیرت حاصل تھی۔ احکام و مسائل اور ان کے اسباب و علل پر گہری نظر رکھتے تھے۔آپ  نے اپنی زندگی میں دین کے ہر شعبہ سے متعلق سوالات کے کتاب و سنت کی روشنی میں جوابات دئیے۔ یہ فتاوی جات عوام و خواص اور طالبان علم کے لیے نہایت قیمتی ہیں ان کی اسی اہمیت کے پیش نظر ان تمام فتاوی جات کو کتابی صورت میں پیش کیا جا رہا ہے۔ کتاب کو ’فتاوی اہل حدیث‘ کا نام اس لیے دیا گیا ہے کیونکہ مولانا کا تمام تر انحصار قرآن اور حدیث پر رہا ہے اور قیاس وعلت و معلول جیسی بحثوں سے اجتناب کیا گیا ہے۔ فتاوی جات تحقیق سے مزین اور تعصب سے پاک ہیں۔ عوام کی استعداد اور خواص کے علمی و فکری معیار پر پورا اترتے ہیں۔ (ع۔ م)

    نوٹ:
    محدث فورم میں اس کتاب پر تبصرہ کرنے کے لیے یہاں کلک کریں

    title-pages-fataawa-ahl-e-hadees
    حافظ عبد اللہ محدث روپڑی
    عبداللہ محدث روپڑی یکتائے روز گار محقق اور اپنے دورکے مجتہد ہونے کے علاوہ علم و فضل کے روشن مینار تھے۔ تفسیر اورحدیث میں آپ کو جامع بصیرت حاصل تھی۔ احکام و مسائل اور ان کے اسباب و علل پر گہری نظر رکھتے تھے۔آپ  نے اپنی زندگی میں دین کے ہر شعبہ سے متعلق سوالات کے کتاب و سنت کی روشنی میں جوابات دئیے۔ یہ فتاوی جات عوام و خواص اور طالبان علم کے لیے نہایت قیمتی ہیں ان کی اسی اہمیت کے پیش نظر ان تمام فتاوی جات کو کتابی صورت میں پیش کیا جا رہا ہے۔ کتاب کو ’فتاوی اہل حدیث‘ کا نام اس لیے دیا گیا ہے کیونکہ مولانا کا تمام تر انحصار قرآن اور حدیث پر رہا ہے اور قیاس وعلت و معلول جیسی بحثوں سے اجتناب کیا گیا ہے۔ فتاوی جات تحقیق سے مزین اور تعصب سے پاک ہیں۔ عوام کی استعداد اور خواص کے علمی و فکری معیار پر پورا اترتے ہیں۔ (ع۔ م)

    نوٹ:
    محدث فورم میں اس کتاب پر تبصرہ کرنے کے لیے یہاں کلک کریں


    title-pages-fataawa-ahl-e-hadees
    حافظ عبد اللہ محدث روپڑی
    عبداللہ محدث روپڑی یکتائے روز گار محقق اور اپنے دورکے مجتہد ہونے کے علاوہ علم و فضل کے روشن مینار تھے۔ تفسیر اورحدیث میں آپ کو جامع بصیرت حاصل تھی۔ احکام و مسائل اور ان کے اسباب و علل پر گہری نظر رکھتے تھے۔آپ  نے اپنی زندگی میں دین کے ہر شعبہ سے متعلق سوالات کے کتاب و سنت کی روشنی میں جوابات دئیے۔ یہ فتاوی جات عوام و خواص اور طالبان علم کے لیے نہایت قیمتی ہیں ان کی اسی اہمیت کے پیش نظر ان تمام فتاوی جات کو کتابی صورت میں پیش کیا جا رہا ہے۔ کتاب کو ’فتاوی اہل حدیث‘ کا نام اس لیے دیا گیا ہے کیونکہ مولانا کا تمام تر انحصار قرآن اور حدیث پر رہا ہے اور قیاس وعلت و معلول جیسی بحثوں سے اجتناب کیا گیا ہے۔ فتاوی جات تحقیق سے مزین اور تعصب سے پاک ہیں۔ عوام کی استعداد اور خواص کے علمی و فکری معیار پر پورا اترتے ہیں۔ (ع۔ م)

    نوٹ:
    محدث فورم میں اس کتاب پر تبصرہ کرنے کے لیے یہاں کلک کریں

    title-pages-laoud-speaker-aur-namaz-copy
    حافظ عبد اللہ محدث روپڑی

    دین اسلام کے فروغ کے لئےجدید ذرائع ابلاغ کو استعمال کرنا وقت کی اہم ترین ضرورت ہے۔ زیر نظر تحریر" لاوڈ سپیکر اور نماز " آ ج سے پچھتر سال قبل ۱۹۴۰ ء میں اس وقت شائع ہوئی جب لاوڈ سپیکر اور ریڈیو نیا نیا ایجاد ہو کر عام استعمال میں آیا،اور اسے نماز ،جمعہ اور عیدین میں استعمال کرنے کی ضرورت پیش آئی۔لاوڈ سپیکر ایک جدید ایجاد تھی ،جس کے نماز میں جائز وناجائز اور استعمال یا عدم استعمال  کے بارے میں اہل علم  نے غور وفکر کرنا شروع کیا تو مختلف طبقات میں تقسیم ہو گئے۔بعض اس کے  مطلقا استعما ل کے قائل تھے تو بعض مطلقا حرمت کے علمبردارتھےاور اسے آلہ لہو ولعب قرار دے رہے تھے۔اہل علم کے اس  شدید اختلاف کو دیکھ کر عامۃ الناس  حیران وپریشان ہوگئے کہ اب اس کا کیا حل نکالا جائے۔یہ بحث اس زمانے میں سب سے زیادہ بنگلور میں اٹھی ۔چنانچہ اہل بنگلور نے ایک استفتاء معروف علماء کرام کےنام بھیجا ،اور ان سے فتوی طلب کیا۔جن علماء کی طرف یہ مراسلہ بھیجا گیا ان میں سے ایک مراسلہ مدیر تنظیم محترم مولانا حافظ عبد اللہ محدث روپڑی ﷫کے نام روپڑ آیا۔آپ نے مکالمے کی شکل میں  اس مراسلے کا ایسا زبر دست اور شاندار جواب دیا کہ اس پرسب  عش عش کر اٹھے۔آپ کا وہ جواب اس وقت آپ کے سامنے ہے،کہ نماز میں لاوڈ سپیکر کا استعمال بالکل جائز اور درست ہے۔اللہ تعالی سے دعا ہے کہ وہ مولف کی اس محنت کو قبول فرمائے اور ان کے میزان حسنات میں اضافہ فرمائے۔آمین(راسخ)

    pages-from-larki-shadi-kiyon-karti-hai
    حافظ عبد اللہ محدث روپڑی

    اسلامی نظامِ زندگی کی خصوصیات میں سے سب بڑی خصوصیت اور امتیاز اس کا خاندانی نظام ہے جس کی برکات روزِ روشن کی طرح عیاں ہیں۔ اسلامی تمدن میں نکاح کا تصور ایمان کی حفاظت کا سب سےمؤثر ذریعہ ہے جس سےصالح تمدن کی بنا استوار ہوتی ہے۔ اور نکاح دراصل میاں بیوی کے درمیان وفاداری او رموددت کے ساتھ زندگی گزرانے کا ایک عہدو پیمان ہوتا ہے۔ نیز نسل نو کی تربیت کی ذمہ داری بھی نکاح کے ذریعہ میاں بیوی دونوں پر عائد ہوتی ہے ۔ کتاب وسنت میں حقوق الزوجین کے مسئلے کوبڑی جامعیت کے ساتھ پیش کیا گیا ہے، میاں بیوی کے درمیان تعلقات کے تمام ضروری اور نازک معاملات کوجس شرح وبسط کے ساتھ ادلیہ شرعیہ میں واضح کیا گیا ہے اس کا مقابلہ دنیاکی کوئی تہذیب یا مذہب نہیں کرسکتا۔ اسلام نے عورت کا جو دائرہ کار مقرر کیا ہے وہ نہ صرف عورت کے مقام کو متعین کرتا ہے بلکہ معاشرے میں عورت کو باعزت شخصیت کے روپ میں پیش کرتا ہے۔ زیر نظر کتاب "لڑکی شادی کیوں کرتی ہے؟ "محدث العصر حافظ عبداللہ محدث روپڑیؒ کا ایک جواب نامہ ہے جس کو کتابی قالب میں ڈھالا گیا ہے۔ موصوف حافظ ؒ کسی تعارف کی محتاج شخصیت نہیں عرب وعجم میں ان کی دینی خدمات کو کبھی نظر انداز نہیں کیا جاسکتا۔ موصوفؒ نے قرآن و حدیث کی روشنی میں مکمل شرح و بسط کے ساتھ وضاحت کی ہے۔ اللہ تعالیٰ ان کے درجات اور میزان حسنات میں اضافہ فرمائے اور ان کے لیے صدقہ جاریہ بنائے۔ آمین( عمیر)

    pages-from-masla-arsaal-ul-yadain-bad-ul-rakoo-rakoo-key-bad-hath-chorna
    حافظ عبد اللہ محدث روپڑی

    نماز دین کا ستون ہے۔نماز جنت کی کنجی ہے۔نماز مومن کی معراج ہے۔ نمازمومن کی آنکھوں کی ٹھنڈک ہے۔نماز قرب الٰہی کا بہترین ذریعہ ہے۔ نماز اﷲ تعالیٰ کی رضا کاباعث ہے۔نماز پریشانیوں اور بیماریوں سے نجات کا ذریعہ ہے۔نماز بے حیائی سے روکتی ہے۔ اقرار شہادتین کے بعد جو سب سے پہلا حکم اللہ تعالیٰ کا اس پر عائد ہوتا ہے، وہ پانچ وقت کی نماز قائم کرنا ہے۔اور نماز کی قبولیت کے لئے سب سے پہلی شرط یہ ہے کہ وہ نبی کریم ﷺ کی نماز کے موافق ہو۔نماز کے مختلف فیہ مسا ئل میں سے ایک مسئلہ رکوع کے بعد ہاتھ باندھنےیا چھوڑنے کا ہے۔بعض اہل علم کے خیال ہے کہ رکوع سے پہلے والے قیام کی طرح رکوع کے بعد والے قیام میں بھی ہاتھ باندھے جائیں گے جبکہ بعض کا خیال ہےکہ رکوع کے بعد ہاتھ نہیں باندھے جائیں گے،بلکہ کھلے چھوڑ دئیے جائیں گے۔ زیر تبصرہ کتاب" مسئلہ ارسال الیدین بعد الرکوع (رکوع کے بعد ہاتھ چھوڑنا)" پاکستان کے معروف عالم دین اور مجلس التحقیق الاسلامی کے رئیس حافظ عبد الرحمن مدنی صاحب ﷾کے تایا جان محترم حافظ عبد اللہ محدث روپڑی صاحب﷫ کی تصنیف ہے، جس میں انہوں نے رکوع کے بعد ہاتھ چھوڑنے کا موقف اختیار کیا ہے اور اس پر متعدد دلائل دئیے ہیں۔ اس سے پہلےمحترم مولانا شاہ بدیع الدین راشدی صاحب ﷫کی کتاب "القنوط والیأس لأھل الارسال من نیل الامانی وحصول الآمال" اور قاضی مولوی یوسف حسین خانپوری ﷫ کا رسالہ "اتمام الخشوع بوضع الیمین علی الشمال بعد الرکوع" منظر عام پر آچکے تھے، جن سے لوگوں کے اندر رکوع کے بعد ہاتھ باندھنے یا چھوڑنے کے حوالے سے ایک بحث پیدا ہوچکی تھی۔چنانچہ مولف موصوف ﷫نے اس بحث میں اپنا حصہ ڈالتے ہوئے دلائل کے ساتھ رکوع کے بعد ہاتھ چھوڑنے کا موقف اختیار کیا۔ رکوع کے بعد ہاتھ چھوڑنے کے حوالے سے حافظ عبد اللہ بہاولپوری صاحب ﷫ کی ایک کتاب بھی پہلے اپلوڈ کی جا چکی ہے۔ چونکہ دونوں موقف ہی علمی اور اجتہادی محنت پر مشتمل ہیں،لہذا ہم نے دونوں طرح کے موقف پر مشتمل کتابیں ہیں اپلوڈ کر دی ہیں تاکہ اہل علم دونوں کا مطالعہ کر کے کسی نتیجے پر پہنچ سکیں۔ اللہ تعالی دونوں مولفین کی اس کاوش کو اپنی بارگاہ میں قبول فرمائے اور ان کے میزان حسنات میں اضافہ فرمائے۔ آمین(راسخ)

    title-pages-masla-takberat-e-eidain-copy
    حافظ عبد اللہ محدث روپڑی

    نماز دین کا ستون ہے۔نماز جنت کی کنجی ہے۔نماز مومن کی معراج ہے۔ نمازمومن  کی آنکھوں کی ٹھنڈک ہے۔نماز قرب الٰہی کا بہترین ذریعہ ہے۔ نماز اﷲ تعالیٰ کی رضا کاباعث ہے۔نماز پریشانیوں اور بیماریوں سے نجات کا ذریعہ ہے۔نماز بے حیائی سے روکتی ہے۔نماز مومن اور کافر میں فرق ہے۔ہر انسان جب کلمہ پڑھ کر اللہ تعالیٰ کے سامنے اپنے ایمان کی شہادت دیتا ہے اور جنت کے بدلے اپنی جان ومال کا سودا کرتا ہے، اس وقت سے وہ اللہ تعالیٰ کا غلام ہے اور اس کی جان ومال اللہ تعالیٰ کی امانت ہے۔ اب اس پر زندگی کے آخری سانس تک اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول حضرت محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی اطاعت واجب ہوجاتی ہے۔ اس معاہدہ کے بعد جو سب سے پہلا حکم اللہ تعالیٰ کا اس پر عائد ہوتا ہے، وہ پانچ وقت کی نماز قائم کرنا ہے۔قیامت کے دن سب سے پہلے نماز کا حساب وکتاب لیا جائے گا،اگر کوئی شخص اس میں کامیاب ہو گیا تو وہ تمام سوالوں میں کامیاب ہے اور اگر کوئی اس میں ناکام ہو گیا تو وہ تمام سوالوں میں ناکام ہے۔لیکن نماز وہ مقبول ہے جو نبی کریم ﷺ کے طریقے کے مطابق پڑھی جائے۔نماز کی متعدد انواع ہیں جن میں سے ایک نماز عیدین ہے۔نماز عیدین کی تکبیرات کی تعداد کے حوالے سے اہل علم میں اختلاف پایا جاتا ہے۔اہل حدیث علماء کرام بارہ جبکہ علماء احناف چھ تکبیرات کے قائل ہیں۔ زیر تبصرہ کتاب" مسئلہ تکبیرات عیدین" پاکستان کے معروف عالم دین ،مجلس التحقیق الاسلامی اور جامعہ لاہور الاسلامیہ کے مدیر اعلی ڈاکٹر حافظ عبد الرحمن مدنی صاحب کے تایا جان مولانا حافظ عبد اللہ محدث روپڑی امرتسری صاحب﷫ کی تصنیف ہے ،جس میں انہوں نےنماز عیدین کی بارہ تکبیرات کی تعداد کو احادیث مبارکہ کی روشنی میں بیان کیا ہے۔اللہ تعالی سے دعا ہے کہ وہ مولف موصوف کی اس کاوش کو قبول فرمائے اوران کے میزان حسنات میں اضافہ فرمائے۔آمین(راسخ)

    title-pages-masla-shirkia-dm-jara-pr-faisla-kun-behas-copy
    حافظ عبد اللہ محدث روپڑی

    دم کرنے کو عربی زبان میں "رقیہ "کہتے ہیں،جس سے مراد ہے کچھ مخصوص الفاظ پڑھ کر کسی چیز پر اس عقیدے کے تحت پھونک مارنا کہ اس چیز کو استعمال کرنے سے شفا حاصل ہو گی یا مختلف عوراض وحوادثات اور مصائب سے نجات مل جائے گی۔اہل جاہلیت یہ سمجھتے ہیں کہ دم میں تاثیر یا تو ان الفاظ کی وجہ سے ہے جو پڑھ کر دم کیا گیا ہے یا ان الفاظ کی تاثیر ان مخفی یا ظاہری قوتوں کی وجہ سے ہے جن کا نام دم کئے جانے والے الفاظ میں شامل ہے۔اسلام نے جتنے بھی دم سکھائے ہیں اور قرآن وسنت سے جن دم کرنے والی سورتوں،آیتوں اور دعاؤں کا ذکر آیا ہے ان سب میں یہ عقیدہ بنیادی اہمیت کا حامل ہوتا ہے کہ رب اکبر ہی ہر طرح کی شفا عطا کرنے والا ہے۔وہی ہر طرح کی مصیبت سے نجات دینے والا ہے،وہی مطلوبہ چیز کو دینے پر قادر ہے،وہی جادو ،آسیب ،نظر وغیرہ کے اثرات متانے والا ہے۔نیز دم کرنے میں شریعت نے یہ عقیدہ بھی دیا ہے کہ جو الفاظ پڑھ کر دم کیا جا رہا ہے یہ خود موثر نہیں بلکہ انہیں موثر بنانے والی اللہ تعالی کی ذات ہے،جس طرح دوا اثر نہیں کرتی جب تک اللہ نہ چاہے،کھانا فائدہ نہیں دیتا جب تک اللہ نہ چاہے،اسی طرح دم میں تاثیر اللہ کے حکم سے پیدا ہوتی ہے۔۔ زیر تبصرہ کتاب  " شرکیہ دم جھاڑا پر فیصلہ کن بحث"جماعت اہل حدیث کےمعروف عالم دین  مولانا حافظ عبد اللہ مھدث روپڑی صاحب کی  تصنیف ہے ۔ جس  میں انہوں نے  اکراہ کے وقت شرکیہ دم جھاڑے کے جواز وعدم جواز پر تفصیلی بحث کی ہے۔اللہ تعالی سے دعا ہے کہ وہ مولف موصوف کی اس کاوش کو اپنی بارگاہ میں قبول فرمائے اور ان کے میزان حسنات میں اضافہ فرمائے۔آمین(راسخ)

    pages-from-msla-urs-aur-geyaarhvi
    حافظ عبد اللہ محدث روپڑی

    نبی کریمﷺ دین کامل لے کر آئے اور آپ نے اسے کامل و اکمل ترین حالت میں امت تک پہنچا دیا ۔آپ ﷺنے اس میں نہ تو کوئی کمی کی اور نہ ہی زیادتی کی ،بلکہ اللہ نے جو پیغام دیا تھا اسے امانت داری کے ساتھ اللہ کے بندوں تک پہنچا دیا۔اب اگر کوئی شخص دین میں ایسی نئی چیز لاتا ہے جو آپ سے ثابت نہیں ہے تو وہ بدعت ہوگی ،اور ہر بدعت گمراہی ہے اور ہر گمراہی انسان کو جہنم میں لے جانے والی ہے۔امت مسلمہ آج بے شمارسنتوں کو چھوڑ کر من گھڑت رسوم ورواجات اور بدعات میں پڑی ہوئی ہے۔اور اس امر کی بڑی شدید ضرورت ہے کہ بدعات کی جگہ مردہ ہوجانے والی سنتوں کو زندہ کیا جائے،اور لوگوں کی درست طریقے سے راہنمائی کی جائے۔ہمارے معاشرے میں پھیلی بے شمار بدعات میں سے ایک عرس اور گیارہویں کی بدعت بھی ہے۔جس کا اسلام ،شریعت ،نبی کریمﷺ ،صحابہ کرام،تابعین اور تبع تابعین ومحدثین کے ساتھ کوئی تعلق نہیں ہے۔ یہ بعد میں گھڑی جانے والی بدعات میں سے ایک بدعت ہے۔ زیر نظر کتاب "مسئلہ عرس اور گیارہویں" ہندوستان کے معروف عالم دین، جامعہ لاہور الاسلامیہ اور مجلس التحقیق الاسلامی کے رئیس حافظ عبد الرحمن مدنی صاحب﷾ کے تایا جان محترم حافظ عبد اللہ محدث روپڑی صاحب﷫ کی تصنیف ہے، جو مولوی محمد شریف نوری لاہور کے رسالے "مسئلہ گیارہویں" کا جواب ہے۔مولف موصوف﷫ نے اس کتاب میں قرآن وحدیث کی روشنی میں عرسوں اور گیارہویں کے بدعت ہونے پر دلائل پیش کئے ہیں،اور تمام مسلمانوں کو یہ دعوت دی ہے کہ وہ سنت کی اتباع کریں اور بدعات سے اپنے آپ کو بچا کر رکھیں۔ اللہ تعالی سے دعا ہے کہ وہ مولف کی اس محنت کو قبول فرمائے اور ان کے میزان حسنات میں اضافہ فرمائے۔ آمین (راسخ)

    title-pages-warasit-e-islami-copy
    حافظ عبد اللہ محدث روپڑی

    فوت ہونے والا شخص اپنےپیچھے جو اپنا مال ، زمین،زیور وغیرہ چھوڑ جاتاہے اسے ترکہ ،وراثت یا ورثہ کہتے ہیں ۔ کسی مرنے والے مرد یا عورت کی اشیاء اور وسائلِ آمدن وغیرہ کےبارے یہ بحث کہ کب ،کس حالت میں کس وارث کو کتنا ملتا ہے شرعی اصلاح میں اسے علم الفرائض کہتے ہیں ۔ علم الفرائض (اسلامی قانون وراثت) اسلام میں ایک نہایت اہم مقام رکھتا ہے ۔قرآن مجید نے فرائض کےجاری نہ کرنے پر سخت عذاب سے ڈرایا ہے ۔چونکہ احکام وراثت کاتعلق براہ راست روز مرہ کی عملی زندگی کے نہایت اہم پہلو سے ہے ۔ اس لیے نبی اکرمﷺ نےبھی صحابہ کواس علم کےطرف خصوصاً توجہ دلائی اور اسے دین کا نہایت ضروری جزء قرار دیا ۔صحابہ کرام میں سیدنا علی ابن ابی طالب، سیدنا عبد اللہ بن عباس،سیدنا عبد اللہ بن مسعود،سیدنا زیدبن ثابت کا علم الفراض کے ماہرین میں شمار ہوتا ہے ۔صحابہ کےبعد زمانےکی ضروریات نےدیگر علوم شرعیہ کی طرح اس علم کی تدوین پر بھی فقہاء کومتوجہ کیا۔ انہوں نے اسے فن کی حیثیت دی اس کے لیے خاص زبان اور اصلاحات وضع کیں اور اس کے ایک ایک شعبہ پر قرآن وسنت کی روشنی میں غوروفکر کر کے تفصیلی وجزئی قواعد مستخرج کیے۔اہل علم نے اس علم کے متعلق مستقل کتب تصنیف کی ہیں۔ زیر تبصرہ کتاب ’’وراثت اسلامی‘‘ برصغیر کے پاک وہندکے معروف عالم دین بانی جامعہ اہل حدیث ،چوک دالگراں، لاہور روپڑی خاندان کے جد امجد اور جامعہ لاہور الاسلامیہ کے مدیر اعلیٰ ڈاکٹر حافظ عبد الرحمن مدنی صاحب﷾کے تایا جان مجتہد العصر حافظ عبد اللہ محدث روپڑی ﷫ کی تصنیف ہے ۔محدث روپڑی ﷫ نے اس کتاب کو دو حصوں میں تقسیم کیا ہے ۔ حصہ اول میں ترکہ میت ، اصحاب الفروض، مسئلہ تشبیب، حجب، مقاسمۃ الجد اورمسئلہ اکدریہ کوبیان کیا ہے اور دوسرے حصے میں ذوی الارحام، خنثی مشکل، حمل کی وراثت ، مفقود الخبر وغیرہ مسائل کو بیان کیا ہے ۔اللہ تعالیٰ روپڑی مرحوم کو جنت الفردوس میں اعلی ٰ مقام عطا فرمائے ۔(آمین) (م۔ا)

اس سائٹ پر کوئی ایسی کتاب موجود نہیں جس کا ترجمہ ان صاحب نے کیا ہو۔
اس سائٹ پر کوئی ایسی کتاب موجود نہیں جس کی ترتیب و تخریج ان صاحب نے کی ہو۔
ان صاحب کی کوئی بھی کتاب نظرثانی کی گئی موجود نہیں۔

ای میل سبسکرپشن

محدث لائبریری کی اپ ڈیٹس بذریعہ ای میل وصول کرنے کے لئے ای میل درج کر کے سبسکرائب کے بٹن پر کلک کیجئے۔

 

ایڈوانس سرچ

رجسٹرڈ اراکین

آن لائن مہمان

محدث لائبریری پر اس وقت الحمدللہ 2320 مہمان آن لائن ہیں ، لیکن کوئی رکن آن لائن نہیں ہے۔

ایڈریس

       99-جے ماڈل ٹاؤن،
     نزد کلمہ چوک،
     لاہور، 54700 پاکستان

       0092-42-35866396، 35866476، 35839404

       0092-423-5836016، 5837311

      KitaboSunnat@gmail.com

      بنک تفصیلات کے لیے یہاں کلک کریں