ڈاکٹر عبد الغنی فاروق

  • ڈاکٹر عبد الغنی فاروق

    موجودہ دنیا خدا کی صفات کا ایک اظہار ہے۔یہاں مخلوقات کے آئینے میں آدمی اس کے خالق کو پاتا ہے۔وہ اس پر غور وفکر کر کے خدا کی قدرت اور عظمت کا مشاہدہ کرتا ہے۔مگر قدیم مشرکانہ افکار نے دنیا کی چیزوں (مثلا سورج ،چاند ،ستاروں) کو پر اسرار طور پر مقدس بنا رکھا ہے۔ہر چیز کے بارے میں کچھ توہماتی عقائد بن گئے ہیں۔اور یہ توہمات ان چیزوں کی تحقیق وجستجو میں مانع تھے۔توحید کے انقلاب کے بعد جب ساری دنیا خدا کی مخلوق قرار پائی تو اس کے بارے میں تقدس کا ذہن ختم ہوگیا۔اب دنیا کی ہر چیز کا بے لاگ مطالعہ کیا جانے لگا اور اس کی تحقیق شروع ہو گئی۔ان دریافت شدہ حقائق سے بیک وقت دو فائدے حاصل ہوئے ہیں۔ایک تو یہ کہ دینی حقائق اب محض مدعیانہ عقائد نہیں رہے بلکہ خود علم انسانی کے ریعے ان کا برحق ہونا ایک ثابت شدہ چیز بن گیا ہے۔دوسرا فائدہ یہ ہوا ہے کہ یہ معلومات ایک مومن کے لئے اضافہ ایمان کا بے پناہ خزانہ ہیں۔یہ حقائق اگرچہ ایک جزئی ہیں ،تاہم وہ اتنے حیرت ناک ہیں کہ ان کو پڑھ کر اور جان کر  انسان کے رونگٹے کھڑے ہوجاتے ہیں۔اور انسان کا ذہن معرفت رب کی طرف متوجہ ہوتا ہے۔لیکن سائنس کی اس بے مثال  اور محیر العقول ترقی کے باوجود  کرہ ارضی اور کائنات کے حوالے سے  چند سوالات ایسے ہیں کہ سائنس دان اپنی تمام تر کوششوں کے باوجود ان کے جواب تلاش نہیں کر سکے اور سال ہا سال کی تلاش وجستجو کے باوجود ان کی کوئی وضاحت اور توجیہہ سامنے نہیں آ سکی ہے۔مثلا برمودا مثلث کا راز کیا ہے؟اڑن طشتریوں کی حقیقت کیا ہے؟امریکی خلائی ادارے ناسا نے کائنات کے دور دراز گوشوں کی جو تصاویر فراہم کی ہیں ان کی حقیقت کیا ہے؟بلیک ہولز کیا ہیں؟اور دنیا میں گرمی کا تناسب کیوں بڑھ رہا ہے؟ وغیرہ وغیرہ۔زیر تبصرہ کتاب" کائنات کے پانچ راز "محترم ڈاکتر عبد الغنی فاروق صاحب کی تصنیف ہے ،جس میں انہوں نے کائنات کے انہی رازوں کے حوالے سے کچھ معلوماتی قسم کی بات کی ہے۔جو سائنس کے طلباء کے لئے ایک گرانقدر تحفہ ہے۔(راسخ)

     

    مزید مطالعہ۔۔۔

  • ڈاکٹر عبد الغنی فاروق

    اسلام کی نعمت عطا فرماکر اللہ تعالی ٰ نے یقیناً اپنے بندوں پر بڑا انعام فرمایا ہے۔ لیکن اسلام کو مکمل صورت اختیار کرنا جتنا مشکل ہے اس سے کہیں دشوار اپنے آبائی مذہب کو ترک کر کے اسلام کی آغوش میں آنا ہے یہ ہرگز معمولی بات نہیں کہ ایک شخص اپنے ماحول خاندان اور والدین کے خلاف بغاوت کرتا ہے اور تلاشِ حق میں اس راستے پر گامزن ہوتاہے جوہزاروں گھاٹیوں اور دشواریوں سے بھرا ہوتا ہے مگر وہ ہر مصیبت کا مقابلہ کرتا ہے اور ہر آزمائش پر پورا اترتا ہے یہ کام یقیناً انھی لوگوں کا جن کے حوصلے بلند اور ہمتیں غیر   متزلزل ہوتی ہیں اہل عزیمت کایہ قافلہ قابل صد مبارک باد اور قابل تحسین ہے۔ زیر نظر کتاب’’ ہم کیو ں مسلمان ہوئے ؟‘‘ معروف سوانح نگار پروفیسر عبدالغنی   کی تالیف ہے۔اپنے موضوع پر یہ بڑی ہی بے مثال کتاب ہے۔ اس میں دنیا بھر کےنوے نامور نو مسلم ان مراحل کی کہانی سناتے ہیں جن سے گزر کر یہ خوش نصیب حضرات اسلام کے چشمۂ صافی تک پہنچے۔ بلا شبہ یہ داستانیں بے حد دلچسپ اور ایمان پرور ہیں۔ ان کے مطالعے سے ایک طرف مختلف مذاہب کا کھوکھلا پن ظاہر ہوتا ہے دوسری جانب اسلام کی صداقت نکھر کر عیاں ہوتی ہے ۔اور ان نو مسلم حضرات کی سلامت ِ طبع ،جرأت مندی اور دینِ حق کے لیے ان کے اخلاص او راستقامت کا   انداز ہوتا ہے ۔اللہ تعالی ٰ اس کتاب کو عوام الناس کے نفع بخش بنائے۔ آمین(م۔ا)

    مزید مطالعہ۔۔۔

  • ڈاکٹر عبد الغنی فاروق

    مسلمان ہونا یہ اللہ تعالیٰ کی اتنی بڑی نعمت ہے اس نعمت کے مقابلہ میں دنیا جہاں کی تمام نعمتیں ہیچ او ر بے حیثیت ہیں۔اسلام کتنی عظیم نعمت ہے اسکا احساس یہودیت اور عیسائیت سے توبہ تائب ہوکر اسلام لانے والو ں کے حالات پڑ ھ کر ہوتا ہے۔اسلام کی نعمت عطا فرماکر اللہ تعالی ٰ نے یقیناً اپنے بندوں پر بڑا انعام فرمایا ہے۔ لیکن اسلام کو مکمل صورت اختیار کرنا جتنا مشکل ہے اس سے کہیں دشوار اپنے آبائی مذہب کو ترک کر کے اسلام کی آغوش میں آنا ہے یہ ہرگز معمولی بات نہیں کہ ایک شخص اپنے ماحول خاندان اور والدین کے خلاف بغاوت کرتا ہے اور تلاشِ حق میں اس راستے پر گامزن ہوتاہے جوہزاروں گھاٹیوں اور دشواریوں سے بھرا ہوتا ہے مگر وہ ہر مصیبت کا مقابلہ کرتا ہے اور ہر آزمائش پر پورا اترتا ہے یہ کام یقیناً انھی لوگوں کا جن کے حوصلے بلند اور ہمتیں غیر   متزلزل ہوتی ہیں اہل عزیمت کایہ قافلہ قابل صد مبارک باد اور قابل تحسین ہے۔ زیر نظر کتاب ’’ہمیں خدا کیسے ملا‘‘معروف سوانح نگار پروفیسر عبدالغنی   کی تالیف ہے جو کہ دنیا بھر کی81 نو مسلم خواتین کے   قبول اسلام کے حالات واقعات بے حد دلچسپ ،ایمان افروز اور وح پر ور تذکروں   پر مشتمل ہے۔ نو مسلم خواتین کی سچی ایمان افروز داستانیں،افسانے ، ناول سےبڑھ کر دلچسپ او ردلکش ہیں۔ساتھ ہی ایمان میں اضافہ کرنے والی ،یقین کو تازہ اور ولولوں کوبڑھا دینے والی ہیں۔فاضل مصنف نے اس کتاب کے ذریعے یہ واضح کیا ہے کہ دعوت وعزیمت کے میدان میں عورتیں مردوں سے پیچھے نہیں۔اللہ تعالیٰ دنیابھر میں اسلام کو اختیار کرنے والے نومسلموں کے ایمان ویقین میں اضافہ فرمائےاور انہیں صراط مستقیم پر قائم ودائم رہنے کی توفیق عطاء فرمائے اور اس کتاب کو اسلام کی عظمت کاذریعہ بنائے ۔ آمین(م۔ا)

    مزید مطالعہ۔۔۔

  • ڈاکٹر عبد الغنی فاروق

    مغربی تہذیب سے مراد وہ تہذیب ہے جو گذشتہ چا ر سو سالوں کے دوران یورپ میں اُبھری اس کا آغاز سولہویں صدی عیسوی میں اُس وقت سے ہوتا ہے جب مشرقی یورپ پر ترکوں نے قبضہ کیا ۔ مغربی تہذیب اور اسلام میں بنیادی فرق یہ ہے کہ مغربی تہذیب فلسفہ کی بنیاد پر قائم ہے اور اسلام وحی کی بنیاد پر قائم ہے۔چنانچہ مغربی تہذیب کسی خاص مذہب کا نام نہیں جو الہامی یا خدائی تعلیمات پر عمل کرنے کامدعی ہو۔مغربی تہذیب اپنے اپنے مذہب پر نجی اور پرائیویٹ زندگی میں عمل کرنے کی اجازت ضرور دیتی ہے۔ لیکن یہ خاص مذہبی طرز فکر، عقائد اور وحی پر مبنی تعلیمات کا نام نہیں۔چنانچہ مغربی تہذیب کی بعض تعلیمات، دنیا کے تمام مذاہب کی مشتر کہ تعلیمات سے ہٹ کر بھی موجود ہیں۔ مثلاً شادی کے بغیر کسی عورت کے ساتھ تعلق تقریباً ہر بڑے مذہب میں شرم وحیا اور اخلاق کے منافی سمجھا گیا۔لیکن مغربی تہذیب اس کو کسی قسم کی ادنیٰ قباحت سمجھنے کو تیار نہیں۔ مادیت ، زرپرستی اور دولت سے انتہاء درجے کی محبت کو تمام مذاہب نے مذموم قرار دیا، لیکن مغربی تہذیب اس کو کسی قسم کا عیب سمجھنے کی روا دار نہیں۔ زیر تبصرہ کتاب " یہ ہے مغربی تہذیب "محترم ڈاکٹر عبد الغنی فاروق صاحب کی تصنیف ہے ۔جس میں انہوں نے 1985ء سے لیکر 2006ء تک  20 سال کے اخبارات کو سامنے رکھ کر  مغربی تہذیب کے عبرت ناک،بصیرت افروز،المناک اور فکر انگیز اعداد وشمار کا چشم کشا تجزیہ پیش کیا ہے۔اس کتاب میں انہوں نے امریکہ اور یورپ میں خاندانی تباہی،امریکہ اور یورپ میں بچوں کی حالت زار، امریکہ اور یورپ میں عورتوں  کی حالت زار،امریکہ اور یورپ میں اخلاقی جرائم اور عمومی جرائم کے باب قائم کئے ہیں اور پھر ہر باب کے تحت مغربی تہذیب کے پسماندگی کی بے شمار مثالیں بیان کی ہیں،اور یہ ثابت کیا ہے کہ جس تہذیب کو ہم حسرت بھری نگاہوں سے دیکھتے ہیں ،اور جس کی چکا چوند ترقی سے ہم مرعوب ہوتے رہتے ہیں ،اس کی کوئی حقیقت نہیں ہے۔وہ سراسر دھوکہ اور فراڈ پر مبنی ہے۔مغربی تہذیب کے دلدادہ لوگوں کی ہدایت اوران کی آنکھیں کھولنے کے لئے اس کتاب کا مطالعہ بے حد مفید ہے۔اللہ تعالی مولف کی اس کاوش کو اپنی بارگاہ میں قبول فرمائے۔آمین(راسخ)

    مزید مطالعہ۔۔۔

  • ڈاکٹر عبد الغنی فاروق

    اسلام ایک پاکیزہ دین اور مذہب ہے ،جو اپنے ماننے والوں کو عفت وعصمت سے بھرپور زندگی گزارنے کی ترغیب دیتا ہے۔ اللہ تعالی ٰنے عورت کو معظم بنایا لیکن جاہل انسانوں نےاسے لہب ولعب کاکھلونا بنا دیا اس کی بدترین توہین کی اور اس پر ظلم وستم کی انتہا کردی تاریخ کے اوراق سے پتہ چلتاہے کہ ہر عہد میں عورت کیسے کیسے مصائب ومکروہات جھیلتی رہی اور کتنی بے دردی سے کیسی کیسی پستیوں میں پھینک دی گئی لیکن جب اسلام کا ابر رحمت برسا توعورت کی حیثیت یکدم بدل گئی ۔محسن انسانیت جناب رسول اللہ ﷺ نے انسانی سماج پر احسان ِعظیم فرمایا عورتوں کو ظلم ،بے حیائی ، رسوائی اور تباہی کے گڑھے سے نکالا انہیں تحفظ بخشا ان کے حقوق اجاگر کیے ماں،بہن ، بیوی اور بیٹی کی حیثیت سےان کےفرائض بتلائے اورانہیں شمع خانہ بناکر عزت واحترام کی سب سےاونچی مسند پر فائز کردیااور عورت و مرد کے شرعی احکامات کو تفصیل سے بیان کردیا ۔لیکن آج امریکہ اور یورپ میں صورت حال مختلف ہے۔وطن عزیز کی بے شمار ماڈرن خواتین امریکہ اور یورپ کوآئیڈیل سمجھتی ہیں لیکن بچوں کےساتھ ساتھ جس مخلوق پر یورپ نےسب سے زیادہ ظلم کیا ہے وہ عورت ہے ۔ مختلف وجوہ کی بنا پر وہاں جنسی بھوک نے ایسی غیر معمولی صورت اختیار کرلی ہے کہ کسی بھی عمر میں عورت کی نہ عزت محفوظ ہ نہ اسے کوئی تحفظ حاصل ہے۔ایک سروے رپورٹ کے مطابق امریکہ کی ساٹھ فیصد لڑکیوں نےبتایا کہ انہیں پہلا حنسی تجربہ باپ یا بھائی سے حاصل ہوا۔ سترہ سال کی نو عمر لڑکی جب عملی زندگی میں داخل ہوتی ہے تو اسے روزگار کے ساتھ ساتھ بیک وقت کئی کئی مردوں سے تعلقات استوار کرنے پڑتے ہیں مگرتحفظ یا سکون نام کی کوئی چیز اسےحاصل نہیں ہوتی۔ زیر تبصرہ کتابچہ’’ امریکہ اور پورپ میں عورتوں کی حالتِ زار‘‘ جناب ڈاکٹر عبد الغنی فاروق صاحب کی کاوش ہے۔ اس کتابچہ میں انہوں نے مستند حوالوں کے ساتھ واضح کیا ہے کہ امریکہ اور یورپ میں خواتین کے طبقے پر جس قدر ظلم کیاگیا ہے اس کی تاریخ میں کوئی مثال نہیں ملتی۔ وہاں ماں ، بیوی، بہن اور بیٹی ہر اعتبار سےمظلوم ہے اور س کووہ عام حقوق بھی حاصل نہیں ہیں جن کامغربی جمہوریت میں چرچا کیا جاتاہے ۔یہ کتابچہ اس لائق ہے کہ اسے پاکستان کے ہر تعلیمی ادارے میں ہر طالبہ تک پہنچایا جائے تاکہ اسے پڑھ حقیقت حال سےاگاہ ہوسکیں۔(م۔ا)

    مزید مطالعہ۔۔۔

اس سائٹ پر کوئی ایسی کتاب موجود نہیں جس کا ترجمہ ان صاحب نے کیا ہو۔

اس سائٹ پر کوئی ایسی کتاب موجود نہیں جس کی ترتیب و تخریج ان صاحب نے کی ہو۔

ای میل سبسکرپشن

محدث لائبریری کی اپ ڈیٹس بذریعہ ای میل وصول کرنے کے لئے ای میل درج کر کے سبسکرائب کے بٹن پر کلک کیجئے۔

ایڈوانس سرچ

رجسٹرڈ اراکین

آن لائن مہمان

محدث لائبریری پر اس وقت الحمدللہ 1885 مہمان آن لائن ہیں ، لیکن کوئی رکن آن لائن نہیں ہے۔

ایڈریس

        99--جے ماڈل ٹاؤن،
        نزد کلمہ چوک،
        لاہور، 54700 پاکستان

       0092-42-35866396، 35866476، 35839404

       0092-423-5836016، 5837311

       library@mohaddis.com

       بنک تفصیلات کے لیے یہاں کلک کریں