ڈاکٹر محمد حمید اللہ

1 1 1 1 1 1 1 1 1 1
ڈاکٹر محمد حمید اللہ
    pages-from-islam-keya-hai
    ڈاکٹر محمد حمید اللہ

    اسلام اللہ کے آخری نبی سیدنا محمد مصطفیﷺ کی طرف اللہ تعالیٰ کا بھیجا ہوا دین یعنی نظام زندگی ہے جس کا آئین قرآن حکیم ہے، اُس پر مکمل ایمان اور اس کے سامنے سر تسلیم خم کرتے ہوئے اس کے مطابق زندگی بسر کرنا اسلام ہے۔ یا دوسرے الفاظ میں اسلام مسلمانوں کا دین یا نظام زندگی ہے جس میں اللہ کی توحید کا اقرار کرتے ہوئے اس کی حاکمیت اعلیٰ کے سامنے سر تسلیم خم کرنا اور حضرت محمد مصطفی ﷺ کو آخری نبی ماننا ہے۔ اسلام وہ دین یا نظام حیات ہے جس میں حضور ختم المرسلینﷺ کی وساطت سے انسانیت کے نام اللہ کے آخری پیغام یعنی قرآن مجید کی روشنی میں زندگی بسر کی جائے۔ ہمارا دعویٰ ہے کہ اسلام اللہ کی طرف سے آخری اور مکمل دین ہے جو انسانیت کے تمام مسائل کا حل پیش کرتاہے اور آج کی سسکتی ہوئی انسانیت کو امن اور سکون کی دولت عطا کرتے ہوئے دنیاوی کامیابی کے ساتھ اخروی نجات کا باعث بن سکتا ہے۔ زیر تبصرہ کتاب ’’اسلام کیا ہے؟‘‘ عالم اسلام کے معروف بین الاقوامی مفکر ڈاکٹر محمدحمید اللہ کی انگریزی زبان میں تحریرشدہ کتاب INTRODUCTION TO ISLAM کا اردو ترجمہ ہے۔ اس کتاب میں انہوں نے پیغمبر اسلام، اسلام کی حقیقی تعلیمات کا تحفظ، اسلام کا نظریۂ زندگی، عقیدہ اور ایمان، اسلامی زندگی اور عبادات، اسلام اور روحانیت، اسلام کا نظام اخلاقیات، اسلام کا سیاسی نظام، اسلام کا عدالتی نظام، اسلام کا معاشی نظام، مسلمان عورت، اسلام میں غیر مسلموں کی حیثیت، علوم وفنون کی ترقی کے لیے مسلمانوں کی خدمات، اسلام کی عمومی تاریخ، مسلمان کی روزمرہ زندگی جیسے 15 اہم عنوانات کو قائم کرکے اسلامی تعلیمات اوراسلام کی حقیقت کو واضح کیا ہے۔ اس انگریزی کتاب کو جناب سید خالد جاوید مشہدی نے اردو دان طبقہ کے لیے اردوقالب میں ڈھالا ہے۔ (م۔ا)

    title-pages-islami-riasat-copy
    ڈاکٹر محمد حمید اللہ

    اسلام ایک کامل دین اور مکمل دستور حیات ہے اسلام جہاں انفرادی زندگی میں فردکی اصلاح پر زور دیتا ہے وہیں اجتماعی زندگی کے زرین اصول وضع کرتا ہے جوزندگی کے تمام شعبوں میں انسانیت کی راہ نمائی کرتا ہے اسلام کا نظامِ سیاست وحکمرانی موجودہ جمہوری نظام سے مختلف اوراس کے نقائص ومفاسد سے بالکلیہ پاک ہے اسلامی نظامِ حیات میں جہاں عبادت کی اہمیت ہے وہیں معاملات ومعاشرت اور اخلاقیات کو بھی اولین درجہ حاصل ہے، اسلام کا جس طرح اپنا نظامِ معیشت ہے اور اپنے اقتصادی اصول ہیں اسی طرح اسلام کا اپنا نظامِ سیاست وحکومت ہےاسلامی نظام میں ریاست اور دین مذہب اور سلطنت دونوں ساتھ ساتھ چلتے ہیں، دونوں ایک دوسرے کی تکمیل کرتے ہیں دونوں ایک دوسرے کے مددگار ہیں، دونوں کے تقاضے ایک دوسرے سے پورے ہوتے ہیں، چنانچہ ماوردی کہتے ہیں کہ جب دین کمزور پڑتا ہے تو حکومت بھی کمزور پڑ جاتی ہے اورجب دین کی پشت پناہ حکومت ختم ہوتی ہے تو دین بھی کمزور پڑ جاتا ہے، اس کے نشانات مٹنے لگتے ہیں۔اسلام نے اپنی پوری تاریخ میں ریاست کی اہمیت کوکبھی بھی نظر انداز نہیں کیا۔انبیاء کرام﷩ وقت کی اجتماعی قوت کواسلام کےتابع کرنے کی جدوجہد کرتے رہے۔ ان کی دعوت کا مرکزی تخیل ہی یہ تھا کہ اقتدار صرف اللہ تعالیٰ کےلیے خالص ہو جائے اور شرک اپنی ہر جلی اور خفی شکل میں ختم کردیا جائے ۔قرآن کےمطالعہ سے معلوم ہوتا ہے کہ حضرت یوسف ،حضرت موسی، حضرت داؤد،﷩ اور نبی کریم ﷺ نے باقاعدہ اسلامی ریاست قائم بھی کی اور اسے معیاری شکل میں چلایا بھی۔اسلامی فکر میں دین اورسیاست کی دوری کاکوئی تصور نہیں پایا جاتا اور کا اسی کانتیجہ ہے کہ مسلمان ہمیشہ اپنی ریاست کواسلامی اصولوں پر قائم کرنے کی جدوجہد کرتے رہے۔ یہ جدوجہد ان کے دین وایمان کاتقاضہ ہے ۔قرآن پاک اور احادیث نبویہ میں جس طرح اخلاق اور حسنِ کردار کی تعلیمات موجود ہیں۔اسی طرح معاشرت،تمدن اور سیاست کے بارے میں واضح احکامات بھی موجود ہیں۔ زیر تبصرہ کتاب ’’اسلامی ریاست ‘‘ معروف اسلامی سکالر ڈاکٹر محمد حمید اللہ﷫ کی تصنیف ہے اس کتاب میں مملکت کےنظم ونسق ، مالیاتی نظام ، قانون سازی عدالتی نظام، نظام تعلیم، تبلیغ اور بین الاقوامی قانون سے تعلق رکھنے والے متعدد مسائل پرعہد رسالت کےطرز عمل سے استشہاد کیا گیا ۔اس کتاب کے بعض مضامین مصنف موصوف کےبعض فی البدیہہ خطبات اور ان کےضمن میں اٹھنے والے فکر انگیز سوالوں کے عالمانہ جوابات پر مشمتل ہیں۔(آمین)(م۔ا)

    title-pages-khutbat-e-bahawal-puri
    ڈاکٹر محمد حمید اللہ

    ڈاکٹر محمد حمید اللہ (پیدائش: 9فروری 1908ء، انتقال : 17 دسمبر 2002ء) معروف محدث، فقیہ، محقق، قانون دان اور اسلامی دانشور تھے اور بین الاقوامی قوانین کے ماہر سمجھے جاتے تھے۔ تاریخ حدیث پر اعلٰی تحقیق، فرانسیسی میں ترجمہ قرآن اور مغرب کے قلب میں ترویج اسلام کا اہم فریضہ نبھانے پر آپ کو عالمگیر شہرت ملی۔ آپ جامعہ عثمانیہ سے ایم۔اے، ایل ایل۔بی کی ڈگریاں حاصل کرنے کے بعد اعلیٰ تعلیم و تحقیق کے لیے یورپ پہنچے۔ بون یونیورسٹی (جرمنی) سے ڈی فل اور سوربون یونیورسٹی (پیرس)سے ڈاکٹریٹ کی ڈگری حاصل کی ۔ ڈاکٹر صاحب کچھ عرصے تک جامعہ عثمانیہ حیدر آباد میں پروفیسر رہے۔ یورپ جانے کے بعد جرمنی اور فرانس کی یونیورسٹیوں میں بھی تدریسی خدمات انجام دیں۔ فرانس کے نیشنل سنٹر آف سائینٹیفک ریسرچ سے تقریباً بیس سال تک وابستہ رہے۔ علاوہ ازیں یورپ اور ایشیا کی کئی یونیورسٹیوں میں آپ کے توسیعی خطبات کا سلسلہ بھی جاری رہا۔زیر نظر کتاب خطبات بہاولپور دراصل مارچ 1980ءمیں جامعہ عباسیہ(اسلامیہ یونیورسٹی بھاولپور،پاکستان) کی دعوت پر یونیورسٹی میں ججز، علماءاور یونیورسٹیوں کے چانسلرز او رڈین حضرات کی زیر صدارت ڈاکٹر حمیداللہ  کے مختلف علمی موضوعات پر بارہ خطبات کا مجموعہ ہے جو علمی حلقوں ، قانون دان او ر دانشور طبقے کے درمیان خطبات بہاولپور کے نا م سے معروف ہے ۔یہ خطبات 8مارچ 1980 ء سے 20 ماچ 1980ءتک مسلسل جاری رہے۔ان خطبات کوسننے کےلیے اسلامیہ یونیورسٹی بہاولپور کے اساتذہ،طلباء وطالبات کےعلاوہ شہر کے علمائے کرام اوراہل ذوق و طلب خواتین وحضرات کی ایک کثیر تعدادتشریف لاتی جن میں ملک کے دوسرے شہروں سے آنے والے مہمانانِ گرامی بھی شامل ہوتے۔ان خطبات کاپہلا ایڈیشن اپریل 1981ءمیں شائع ہوا اور اسے بڑا قبول عا م حاصل ہوا ۔ زیر نظر خطبات بہاولپور کی گیارویں اشاعت ہے جسے ادارہ تحقیقات اسلامی،اسلام آباد نے اچھے کاغذ پر بڑی عمدگی سے شائع کیا ہے اللہ تعالی ڈاکٹر حمید اللہ مرحوم کی اشاعت اسلام کےلیے کوششوں کو قبول فرمائے (آمین)(م۔ا)

     

    نوٹ:

    محدث فورم میں اس کتاب پر تبصرہ کرنے کے لیے یہاں کلک  کریں

     

    title-pages-dawat-w-irshad-copy
    ڈاکٹر محمد حمید اللہ

    دعوت سے مراد علماء اور دینی رہنماؤں کا عام لوگوں کی تعلیم وتربیت اس طرح کرنا کہ وہ حتی المقدور دین اور دنیا کے معاملات میں شعور اور بصیرت سے سرفراز ہوں۔یعنی لوگوں کو خیر وبھلائی، ہدایت، نیکی کا حکم دینے اور برائی سے روکنے کی ترغیب دینا تاکہ وہ دنیا وآخرت دونوں جہانوں میں سعادت کے حصول میں کامیاب ہو جائیں۔دین کا عملی زندگی میں اطلاق صرف یہی تقاضانہیں کرتا کہ اس پر خود عمل کیا جائے بلکہ یہ بات بھی دین کے تقاضے میں شامل ہے کہ اس دین کو دوسروں تک پہنچایا بھی جائے اور ایک دوسرے کی اصلاح کی جائے۔ جہاں کہیں بھی کوئی شرعی یا اخلاقی خرابی نظر آئے، ا س کی اصلاح کرنے کی کوشش کی جائے۔ امت مسلمہ کے اس عمومی رویے کے علاوہ اس میں ایک گروہ ایسا ضرور ہونا چاہئے جو دعوت دین ہی کو اپنا فل ٹائم مشغلہ بنائیں ، دین میں پوری طرح تفقہ حاصل کریں اور پھر عوام الناس کو اللہ کے دین کی دعوت دیتے ہوئے آخرت کی زندگی کے بارے میں خبردار کریں ۔ارشاد باری تعالی ہے: اور سب مسلمانوں کے لئے تو یہ ممکن نہ تھاکہ وہ اس کام کے لئے نکل کھڑے ہوتے، لیکن ایسا کیوں نہ ہوا کہ ان کے ہر گروہ میں سے کچھ لوگ نکل کر آتے تاکہ دین میں بصیرت حاصل کرتے اورجب (علم حاصل کرلینے کے بعد) اپنی قوم کی طرف لوٹتے تو ان لوگوں کو انذار کرتے، تاکہ وہ (گناہوں سے ) بچتے۔ ‘‘(توبہ:122) زیر تبصرہ کتاب" دعوت وارشاد "پنجاب یونیورسٹی کے پروفیسر ڈاکٹر حمید اللہ صاحب کی تصنیف ہے جس میں انہوں نے دعوت وارشاد  کا مفہوم، اہمیت وضرورت ، داعی کی صفات اور انبیاء کرام کے دعوتی واقعات کو قلمبند کیا ہے۔ اللہ تعالی سے دعا ہے کہ وہ مولف کی اس عظیم خدمت کو اپنی بارگاہ میں قبول فرمائے اور ان کے میزان حسنات میں اضافہ فرمائے۔ (آمین)(راسخ)

    title-pages-rasool-ullahsawwki-hukamrani-w-janshini
    ڈاکٹر محمد حمید اللہ
    زیرِ نظر کتاب معروف اسکالر ڈاکٹر محمد حمید اللہؒ کی کتاب ’’The Prophet’s Establishing A State & His Succession‘‘ کا اردو ترجمہ ہے اسے اردو قالب میں پروفیسر خالد پرویز نے منتقل کیا ہے۔ کتاب میں کل گیارہ مضامین کو زیر بحث لایا گیا ہے جو در حقیقت نبی کریم ﷺ کی حکمرانی و جانشینی کے نمایاں پہلو ہیں۔ اس کے دو مضامین ’’اسلامی سلطنت کی تنظیم‘‘ اور ’’دنیا کا پہلا تحریری دستور‘‘ ایسے ہیں جنہیں ڈاکٹر موصوف نے انگریزی واردو دونوں زبانوں میں تحریر کیا ہے۔ چنانچہ ان کا ترجمہ نہیں کیا گیا بلکہ ویسے ہی نقل کئے گئے ہیں۔ کتاب کے آخری مضمون ’’حضرت علی المرتضیٰؓ پہلے خلیفہ کیوں نہ ہوئے؟‘‘ ڈاکٹر حمید اللہ کی ایک اور انگریزی کتاب میں شامل تھا جسے موضوع کی مناسبت سے مترجم کی طرف کتاب ھذا میں شامل کر دیا گیا ہے تاکہ مصنف کا نقطۂ نظر قاری تک مکمل شکل میں پہنچ سکے۔ کتاب کے مضامین کی ترتیب میں اسلام میں آئینی مسائل، دنیا کا سب سے پہلا تحریری دستور، پہلے تحریری دستور کی دفعات، اسلام میں ریاست کا تصور، اسلامی سلطنت کی تنظیم (قرآن کے آئینے میں)، مسلم مملکت میں مالیاتی نظم و نسق، رسول اللہ کے دور میں بجٹ سازی اور ٹیکسیشن، رسول اللہ بحیثیت سیاسی مدبر، جنگ جمل اور صفین کے پس پردہ یہودی ہاتھ، رسول اللہ کی طرف سے بستر وصال پر وصیت لکھوانے کا قصہ اور حضرت علی المرتضیٰ پہلے خلیفہ کیوں نہ ہوئے؟ جیسے عنادین شامل ہیں۔ یہ کتاب رسول اکرم ﷺ کی سیاسی بصیرت کا ایک شاہکار ہے۔ جزاہ اللہ امن الجزاء۔(آ۔ہ)

    نوٹ:
    محدث فورم میں اس کتاب پر تبصرہ کرنے کے لیے یہاں کلک کریں
    pages-from-rasoolullah-saw-ki-siyasi-zindagi-dr-hameedullah
    ڈاکٹر محمد حمید اللہ

    اللہ کے پاک نبی کریم حضرت محمد مصطفی احمد مجتبیؐ شب اسریٰ کے مہمان تمام دنیا کے انسانوں اور انبیاء کرام علیھم السلام کے سردار مکمل ضابطہ حیات لے کر اس جہان رنگ و بو میں تشریف لائے۔ سرکار دوجہاںﷺ نے انفرادی و اجتماعی زندگی کا مکمل نمونہ بن کر دکھایا۔ آپؐ کی اپنی مبارک حیات کے پہلے سانس سے لے کر آخری سانس تک کے وہ تمام نشیب و فراز ایک ہی سیرت میں یکجا ،مکمل اور قابل اتباع ہیں اور اللہ کا یہ احسان اعظم ہے کہ اس نے اپنے بندوں کی ہدایت کے لئے حضرت محمد ؐ کو مبعوث فرمایا۔ جب آقائے نامدار ؐکو مبعوث کیا گیا تو اس وقت دنیا تاریکی، جہالت، ابتری و ذلت کے انتہائی پر آشوب دور سے گز رہی تھی۔ یونانی فلسفہ اپنی نا پائیدار اقدار کا ماتم کر رہا تھا، رومی سلطنت روبہ زوال تھی، ایران اور چین اپنی اپنی ثقافت و تہذیب کو خانہ جنگی کے ہاتھوں رسوا ہوتا دیکھ رہے تھے۔ ہندوستان میں آریہ قبائل اور گوتم بدھ کی تحریک آخری ہچکیاں لے رہی تھی۔ ترکستان اور حبشہ میں بھی ساری دنیا کی طرح اخلاقی پستی کا دور دورہ تھا اور عرب کی حالت زار تو اس سے بھی دگرگوں تھی ۔سیاسی تہذیب و تمدن کا تو شعور ہی نہ تھا عرب وحدت مرکزیت سے آشنا نہیں تھے، وہاں ہمیشہ لا قانونیت ،باہمی جنگ و جدل کا دور دورہ رہا۔ اتحاد ،تنظیم ،قومیت کا شعور حکم و اطاعت وغیرہ جن پر اجتماعی اور سیاسی زندگی کی راہیں استوار ہوتی ہیں ان کے ہاں کہیں بھی نہ پائی جاتی تھیں۔ قبائل بھی اپنے اندرونی خلفشار کے ہاتھوں تہذیب و تمدن سے نا آشنا تھے۔ سیاسی وحدت یا بیرونی تہذیبوں سے آشنائی و رابطہ دور کی بات تھی۔ نبی پاک ؐ کی الہامی تعلیمات سے عرب ایک رشتہ وحدت میں پرو دئیے گئے اور وہ قوم جو باہمی جنگ و جدل ،ظلم و زیادتی کے علاوہ کسی تہذیب سے آشنا نہ تھی جہاں بانی کے مرتبے پر فائز کر دی گئی یہ سب اس بناء پر تھا کہ اسلام نے دنیاوی بادشاہت کے برعکس حاکمیت اقتدار اعلیٰ کا ایک نیا تصور پیش کیا جس کی بنیاد خدائے لم یزل کی حاکمیت اور جمہور کی خلافت تھی۔ زیر تبصرہ کتاب ’’رسول اللہﷺ کی سیاسی زندگی‘‘ڈاکٹر محمدحمیداللہ کی تصنیف ہے جس میں انہوں نے رسولﷺ کی سیرت طیبہ کونہایت ہی احسن انداز سے بیانن کیا ہے۔ اللہ رب العزت ان کو اس کار خیر پر اجرے عظیم سے بہرا مند فرمائے۔ آمین(شعیب خان)

    title-pages-rasool-ullah-sawwbahaisiyat-share-w-muqannan-copy
    ڈاکٹر محمد حمید اللہ

    نبی کریم ﷺ کی ذات ِمبارکہ پور ی انسانیت کےلیے زندگی کے تما م مراحل عبادات ،معاملات، اخلاقیات ، عدل وقضا وغیرہ میں اسوۂ حسنہ کی حیثیت رکھتی ہے اور اسلام میں رسول اللہﷺ کاشارع و مقنن ہونا ایک قطعی اور مسلمہ حقیت ہے ۔آپ ﷺکے حقِّ تشریع وتقنین کو قرآن کریم نے کئی جہتوں سے بیان کیا ہے ۔ لیکن بعض حلقوں کی طرف سے یہ تاثر دیاجاتا ہے کہ قرآن وسنت کی راہنمائی صرف عبادات تک محدود ہے او رجہاں تک دیگر معاملات کا تعلق ہے وہاں انسان اپنے امور خود طے کرسکتا ہے ، اسے وحی کی راہنمائی کی ضرورت نہیں۔زیر نظر کتاب کا بنیادی مقصد اسی غلط فہمی کا ازالہ ہے یہ دراصل ان نامور اسلامی سکالرزاور اہل علم کے مضامین کا مجموعہ ہے جن کی علمی وفکر ی حیثیت مسلمہ ہے ۔ شریعہ اکیڈمی اسلام آبا د نے درج ذیل منتخب مضامین ومقالات میں بعض مقامات پر ضروری حوالہ جات اور تخریج وحواشی کا اضافہ کر کے خوبصورت انداز میں طباعت کے اعلی معیار پر شائع کیا ہے ۔1۔عہد نبوی میں نظام تشریع وعدلیہ؍ڈاکٹر حمید اللہ 2۔رسول اللہﷺ بحیثیت قانون دان؍ جسٹس شیخ عبد الحمید3۔رسول اللہﷺ بحیثیت شارع ومقنن؍ڈاکٹر محمد یوسف فاروقی۔5۔ رسول اللہﷺ اور قانون بین الممالک؍ڈاکٹر محمود غازی ۔امید ہے کہ شریعہ اکیڈمی کی یہ کاوش نہ صرف اہل علم او رقانون دان حضرات کےلیے مفید ہو گی بلکہ عام حضرت بھی اس سے مستفید ہوکر سنتِ رسولﷺ کی دستوری وتشریعی حیثیت کودلائل کی روشنی میں سمجھ سکیں گے ۔(م۔ا)

     

    title-pages-sayasi-waseka-jaat-copy
    ڈاکٹر محمد حمید اللہ

    بلاشبہ دنیا کی تاریخ میں عہد نبویﷺ  سیاسی  ،دینی اور اقتصادی اعتبار سے ممتاز  ہے  نبی کریم ﷺ کی سیرت طیبہ  کےمختلف گوشوں  پر سیرت نگاروں نے  کاوشیں کی  ۔ کتب احادیث بھی  آپ ﷺہی کے  کردار کا مرقع ہیں ۔عبادات ومعاملات ،عقائدوغزوات اور  محامد وفضائل ،کو نسا  باب اور فصل آپ کےتذکرے سے مزین نہیں۔ حدیث ہی کےسلاسل  کا ایک حلقہ آنحضرت ﷺ کے فرامین ہیں،کچھ تبلیغی،کچھ تادیبی،بعض میں غیر مسلم حلیفوں کےساتھ معاہدوں کا تذکرہ ہے ۔نبی کریم  ﷺ کے بعد  ریاست کے  جملہ  انتظامی امور کی عنان جب حضرت ابو بکر صدیق﷜ کو تفویض ہوئی تو آپ نے  بھی متعلقہ حوادث پر اطراف وجوانب اور ماتحت عمال وسپہ سالاران  کی طرف سے  سرکاری فرامین بھیجے  ۔ نئے  وثیقے بھی لکھے  اور رسول اللہﷺ کے جو وثائق آپ کے سامنے  پیش ہوئے ان کی توثیق بھی  فرمائی۔اسی طرح خلیفۂ دوم ،سوم، چہارم کے عہد میں بھی اس قسم کے فرامین اور وثیقے اور عطایائے  جاگیرات کا سلسلہ جاری رہا ہے ۔نبی کریم ﷺ اور خلفاء اربعہ کے  معاہدات ،مکاتیب  کتب سیرت وتاریخ  میں  موجود ہیں۔زیر نظر کتاب  ’’سیاسی  وثیقہ جات ‘‘ ڈاکٹر حمید اللہ   کی  آنحضرت ﷺ کےفرامین،معاہدات ،مکاتیب اور خلفائے راشدین کے احکام پر مشتمل جامع کتاب ہے  ۔  موصوف نے  رسول  اللہ ﷺ اور آپ کے چاروں جانشینوں کے سرکاری  فرامین کو بڑی  تحقیق اور محنت شاقہ سے  اس کتاب میں  جمع کردیا ہے ۔اللہ تعالی ان کی اس کاوش کو قبول فرمائے (آمین) (م۔ا)

    title-pages-ahde-nabwi-me-nizame-hukamrani-copy
    ڈاکٹر محمد حمید اللہ

    جس طرح اسلام عقائد وایمانیات اورعبادات  یعنی  اللہ تعالیٰ  اوراس کے بندوں کے درمیان تعلقات  کا نظام پیش کرتاہے اسی طرح دنیاوی معاملات یعنی بندوں کے باہمی تعلقات کا نظام بھی عطا کرتا ہے ۔انسانی معاملات وتعلقات اگرچہ باہم مربوط  متحد ہیں تاہم تفہیم وتسہیل کے لیے  ان کو سیاسی،سماجی ،اقتصادی اورتہذیبی نظاموں  کے الگ الگ خانوں میں تقسیم  کیا  جاتا ہے ۔ان میں سے  ہر ایک نظام کے لیے اسلام نے تمام ضروری اور محکم اصول بیان کردیئے  ہیں۔اسوۂ نبوی نے ان کی عملی فروعات  بھی تشکیل دے دی  ہیں او ر صحابہ کرام   اور خلفاء عظام اور ان  کے بعد  اہل  علم نے  ان  پرعمل کر کے بھی دکھایا ہے ۔گزشتہ چودہ صدیوں  میں اس  ہادئ کامل ﷺ کی سیرت پر ہزاروں کتابیں اورلاکھوں مضامین لکھے جا چکے ہیں ۔اورکئی ادارے صرف سیرت نگاری پر کام کرنے کےلیےمعرض وجود میں آئے  ۔یہ سلسلۂ خیر ہنوز  روز اول کی طرح جاری وساری ہے۔ اور بعض سیرت نگاروں نے  سیرت النبویہ  کے الگ الگ گوشوں پر بھی کتب تحریر کی ہیں ۔ زیر نظر کتاب’’ عہد نبوی میں نظام حکمرانی ‘‘ از ڈاکٹر حمید اللہ   بھی ایسی ہی کتب میں سے ایک اہم  کتاب ہے (م۔ا)

    title-pages-ahde-nabwi-k-medane-jang-copy
    ڈاکٹر محمد حمید اللہ

    حالیہ چند صدیوں میں علوم وفنون کی ترقی سے جنگ کے طریقوں اور اصولوں میں اتنا کچھ انقلاب آ گیا ہے کہ قدیم زمانے کی لڑائیاں ،چاہے اپنے زمانے میں کتنی ہی عہد آفرین کیوں نہ رہی ہوں اب بچوں کا کھیل معلوم ہوتی ہیں۔آج کل بڑی بڑی سلطنتوں کے لئے ایک ایک کروڑ کی فوج کو بیک جنبش قلم حرکت میں لانا معمولی سے بات ہے۔اسلحے میں اتنی کچھ ترقی ہو گئی ہے کہ قدیم ہتھیار عجائب خانوں میں رکھنے کے سوا کسی کام کے نہیں ہیں۔ایک عام آدمی یہ خیال کرتا ہوگا کہ قدیم زمانے کی جنگوں کا تذکرہ چاہے مؤرخ کے لئے  کتنا ہی اہم کیوں نہ ہو۔ان کا عملی فائدہ آج کچھ نہیں ہے۔لیکن انگلستان میں طلبائے حربیات کو آج بھی آغاز تعلیم وتربیت پر پہلے ہی دن سنا دیا جاتا ہے کہ:جملہ افسروں کو یہ جان لینا چاہئے کہ ان کی انفرادی تربیت کا سب سے اہم جزو وہ کام ہے جو وہ خود انجام دیں۔عہد نبوی ﷺ کی جنگیں تاریخ انسانی میں غیر معمولی طور سے ممتاز ہیں،جن میں مسلمانوں کا اندازا ماہانہ ایک سپاہی شہید ہوتا رہا۔انسانی خون کی یہ عزت تاریخ عالم میں ایک منفرد حیثیت رکھتی ہے۔لیکن عصر حاضر کی جنگوں میں انسانی خون کی کوئی عزت اور مقام باقی نہیں رہا ہے۔ زیر تبصرہ کتاب" عہد نبوی  کے میدان جنگ "عالم اسلام کے معروف  سکالر مؤرخ  اور دانشور ڈاکٹر محمد حمید اللہ  صاحب کی تصنیف ہے ،جس میں انہوں نے عہد نبوی ﷺ میں وقوع پذیر ہونے والی جنگوں اور ان کے نتیجے میں ہونے والی انسانی ہلاکتوں اور تقصانات کی تفصیلات جمع فرما دی ہیں۔اللہ تعالی سے دعا ہے کہ وہ مولف کی اس محنت کو قبول فرمائے اور ان کے میزان حسنات میں اضافہ فرمائے۔آمین(راسخ)

اس سائٹ پر کوئی ایسی کتاب موجود نہیں جس کا ترجمہ ان صاحب نے کیا ہو۔
اس سائٹ پر کوئی ایسی کتاب موجود نہیں جس کی ترتیب و تخریج ان صاحب نے کی ہو۔
ان صاحب کی کوئی بھی کتاب نظرثانی کی گئی موجود نہیں۔

ای میل سبسکرپشن

محدث لائبریری کی اپ ڈیٹس بذریعہ ای میل وصول کرنے کے لئے ای میل درج کر کے سبسکرائب کے بٹن پر کلک کیجئے۔

 

ایڈوانس سرچ

رجسٹرڈ اراکین

آن لائن مہمان

محدث لائبریری پر اس وقت الحمدللہ 2237 مہمان آن لائن ہیں ، لیکن کوئی رکن آن لائن نہیں ہے۔

ایڈریس

       99-جے ماڈل ٹاؤن،
     نزد کلمہ چوک،
     لاہور، 54700 پاکستان

       0092-42-35866396، 35866476، 35839404

       0092-423-5836016، 5837311

      KitaboSunnat@gmail.com

      بنک تفصیلات کے لیے یہاں کلک کریں