ڈاکٹر محمود احمد غازی

1 1 1 1 1 1 1 1 1 1
ڈاکٹر محمود احمد غازی
    title-pages-adab-al-qazi-copy
    ڈاکٹر محمود احمد غازی

    کسی بھی قوم کی نشوونما اور تعمیر وترقی کےلیے عدل وانصاف ایک بنیادی ضرورت ہے ۔جس سے مظلوم کی نصرت ،ظالم کا قلع قمع اور جھگڑوں کا فیصلہ کیا جاتا ہے اورحقوق کو ان کےمستحقین تک پہنچایا جاتاہے اور دنگا فساد کرنے والوں کو سزائیں دی جاتی ہیں ۔تاکہ معاشرے کے ہرفرد کی جان ومال ،عزت وحرمت اور مال واولاد کی حفاظت کی جا سکے ۔ یہی وجہ ہے اسلام نے ’’قضا‘‘یعنی قیام عدل کاانتہا درجہ اہتمام کیا ہے۔اوراسے انبیاء ﷩ کی سنت بتایا ہے۔اور نبی کریم ﷺ کو اللہ تعالیٰ نے لوگوں میں فیصلہ کرنے کا حکم دیتےہوئے فرمایا:’’اے نبی کریم ! آپ لوگوں کےدرمیان اللہ کی نازل کردہ ہدایت کے مطابق فیصلہ کریں۔‘‘نبی کریمﷺ کی حیات مبارکہ مسلمانوں کے لیے دین ودنیا کے تمام امور میں مرجع کی حیثیت رکھتی ہے۔ آپ کی تنہا ذات میں حاکم،قائد،مربی،مرشد اور منصف اعلیٰ کی تمام خصوصیات جمع تھیں۔جو لوگ آپ کے فیصلے پر راضی نہیں ہوئے ا ن کے بارے میں اللہ تعالیٰ نے قرآن کریم میں سنگین وعید نازل فرمائی اور اپنی ذات کی قسم کھا کر کہا کہ آپ کے فیصلے تسلیم نہ کرنے والوں کو اسلام سے خارج قرار دیا ہے۔نبی کریمﷺ کےبعد خلفاء راشدین سیاسی قیادت ،عسکری سپہ سالاری اور دیگر ذمہ داریوں کے ساتھ منصف وقاضی کے مناصب پر بھی فائزر ہے اور خلفاءراشدین نےاپنے دور ِخلافت میں دور دراز شہروں میں متعدد قاضی بناکر بھیجے ۔ائمہ محدثین نےنبی ﷺ اور صحابہ کرام کے فیصلہ جات کو کتبِ احادیث میں نقل کیا ہے۔اوربعض اہل علم نے نبی کریم ﷺ اور صحابہ کرام کے فیصلہ جات قضا کےاصول آداب اور طریق کار پر متعد د کتب تصنیف کی ہیں۔ زیر تبصرہ کتاب’’ادب القاضی ‘‘ ڈاکٹر محمود احمد غازی ی‎﷫ کی مرتب شدہ ہے ۔یہ کتاب عدالتی نظام اورعدالتی طریق کار کےاہم پہلوؤں کا احاطہ کرتی ہے ۔موضوع سےمتعلق قرآنی آیات ،احادیث نبویہ اور آثار صحابہ مربوط شکل میں پیش کرنے کے بعد فاضل مصنف نےاہم عدالتی دستاویزات ، نظام قضاء ،سماعت مقدمہ اور فیصلے لکھنے کا اسلامی طریق کار عمدہ طریقے سے بیان کیا ہے۔ کتاب کا آخری حصہ مسلمانوں کے عدالتی نظام کےمعاون اداروں سے متعلق ہے۔یہ کتاب شبعہ قانون سے وابستہ جج صاحبان ،وکلاء کرام طلبہ قانون اور اسلامی شریعت کےمیدان میں کام کرنے والوں کولیے ایک عمدہ تحقہ ہے۔(م۔ا)

    title-page-huramt-e-riba-aur-ghair-soodi-maliyati-nizam
    ڈاکٹر محمود احمد غازی
    حرمت سود ایک بدیہی حقیقت ہے۔ لیکن یہ بھی حقیقت ہے کہ مغربی فکر کے غلبہ کے اس دور میں ہزاروں اذہان ہیں جو پروپیگنڈے کی قوت سے متاثر اور نتیجتاً ذہنی پریشانی اور روحانی اضطراب میں مبتلا ہو جاتے ہیں۔ ہمارے ملک میں بھی کچھ طبقات سود کے مسئلہ پر غلط فہمیاں پیدا کر رہے ہیں اور ربا اور سود میں تفریق کر کے گمراہی کا دن رات پرچار کر رہے ہیں۔ حالانکہ کتاب و سنت میں سود یعنی ربا کو واضح طور پر ، قطعیت کے ساتھ، بغیر کسی شک و شبہ کے اور بغیر کسی اختلاف رائے کی گنجائش کے حرام قرار دیا  گیا ہے اور یہ حرمت ان ضروریات دین میں سے ہے جس کے بارے میں کسی قسم کا شک  وشبہ انسان کو اسلام ہی سے خارج کر سکتا ہے۔ لہٰذا یہ اتنا نازک معاملہ ہے کہ اس پر اظہار رائے بڑی احتیاط کا متقاضی ہے۔ زیر تبصرہ کتاب میں معروف محقق ڈاکٹر محمود احمد غازی نے ایک طرف سود کے تصور کو بڑی صحت اور علمی دیانت کے ساتھ بڑے مؤثر دلائل کے ذریعہ پیش کیا ہے اور دوسری طرف اسلامی خطوط پر بچت، قرض اور سرمایہ کاری کا ایک واضح نقشہ پیش کیا ہے۔ طالبان حق کیلئے اس  مختصر و جامع کتاب میں یقیناً بڑی روشنی اور راہنمائی ہے۔

    title-pages-khutbat-e-bahawal-pur-2-copy
    ڈاکٹر محمود احمد غازی

    فقہ اسلامی کا  عظیم  الشان ذخیرہ صدیوں پر محیط ہے ۔ انسان  کی اقتصادی ،سیاسی معاشرتی ، ثقافتی اور تمدنی  زندگی کا شاید ہی کوئی  شبعہ ہو جس کے بارے میں قرآن وحدیث سےاستفادہ واستنباط رکرتے  ہوئے  فقہائے اسلام نے ان شعبوں میں اسلامی منہج کو منضبط نہ کیا ہو۔ فقہ اسلامی  کی عظیم  میراث میں اسلام کے قانون بین الممالک کے   یا بین الاقوامی قانون کو’’سِیَر‘‘ کے عنوان کے تحت مدون کیا گیا ہے ’’سِیَر‘‘ سے  مراد مسلمانوں کا  وہ طرزِ عمل یا رویہ  ہے جوانہیں غیر مسلموں سے تعلقات ،جنگ وصلح ، دوسروں ریاستوں سے   میل جو ل اور دیگر بین  الاقوامی یا بین الممالک اداروں اورافراد سے معاملہ کرنے میں  اپنانا چاہیے۔ماضی میں  کئی  اہل  علم نےاس کو  اپنا موضوع بحث بنایا۔ اور ماضی  قریب میں  ڈاکٹر  محمد حمید  کی اس  موضوع پر مفید مباحث اور ڈاکٹر ابو سلیمان   انگریزی کتاب   قابل ذکر  ہے ۔زیر  نظر کتاب ’’خطبات بہاولپور ۔2(اسلام  کا قانو ن بین الممالک) اس  موضوع عالم ِاسلام  کی معروف شخصیت  ڈاکٹر محمود احمد غازی کے ان 12 خطبات  ومحاضرات کامجموعہ ہے جسے  انہوں نے 1995ء میں   اسلامیہ یونیورسٹی  بہاولپور میں پیش کیا ۔یونیورسٹی کے  ذمہ دران نے اسے  بعد میں   خطبات بہاولپور ۔2 کے نام  سے  کتابی صورت میں شائع کیا ۔زیر تبصرہ ایڈیشن سات سال قبل شریعہ اکیڈمی ،اسلام آباد کی طرف سے شائع کیا گیا ۔ڈاکٹر محمود احمد غازی  ادراہ  تحقیقات اسلامی اور بین الاقوامی اسلامی  یونورسٹی  میں طویل عرصہ  تحقیقی  وتدریسی  خدمات  سرانجام دیتے رہے ۔ اور  کئی کتب کے مصنف ہیں ۔حکومت پاکستان کے وزیر مذہبی امور اور بین  الاقوامی یونیورسٹی اسلام آباد کے رئیس الجامعہ جیسے مناصب پر بھی فائزرہے ۔اللہ تعالی ٰ دین اسلام کے لیےان کی کاوشوں  کوقبول فرمائے (آمین) ( م ۔ ا)

     

    title-pages-quran-e-majeed-aik-taruf-copy
    ڈاکٹر محمود احمد غازی

    قرآن مجید  واحد ایسی کتاب کے  جو پوری انسانیت  کےلیے رشد وہدایت کا ذریعہ ہے  اللہ تعالی نے اس کتاب ِہدایت میں  انسان کو پیش   آنے والےتما م مسائل کو   تفصیل سے  بیان کردیا ہے  جیسے کہ ارشادگرامی ہے کہ   و نزلنا عليك الكتاب تبيانا لكل شيء قرآن مجید سیکڑوں موضوعا ت   پرمشتمل ہے۔مسلمانوں کی دینی  زندگی کا انحصار  اس مقدس  کتاب سے  وابستگی پر ہے  اور یہ اس وقت  تک ممکن نہیں جب تک اسے پڑ ھا اور سمجھا نہ  جائے۔اسے  پڑھنے اور سمجھنے کا شعور اس  وقت تک  پیدار نہیں ہوتا جب تک اس  کی اہمیت کا احساس نہ ہو۔قرآن مجید کے تعارف اوراس کے  مضامین  کے سلسلے میں   مختلف اہل علم  نے كئی    کتب تصنیف کی   ہیں علامہ وحید الزمان   کی ’’تبویب  القرآن فی مضامین  الفرقان ‘‘ اور  شمس العلماء مولانا سید ممتاز علی کی ’’ اشاریہ مضامین قرآن ‘‘ قابل  ذکر ہیں ۔زیر نظر  کتاب ’’ قرآن مجید  ایک تعارف‘‘ڈاکٹر محمود احمد غازی ٰ کے قرآن  پاک کے تعارف پر مشتمل  مضامین کا مجموعہ  ہے    جسے دعوۃ اکیڈمی نے   افادۂ عام کےلیے  کتابی صورت میں شائع کیا ہے ۔یہ مضامین قرآن  پاک کے تعارف کےسلسلے میں  انتہائی سہل انداز میں  مستند معلومات پر مبنی  ہیں۔ اللہ تعالی اسے  عوام الناس کے  لیے  نفع بخش بنائے  (آمین)  (م۔ا)

     

    title-pages-qawaid-e-kuliya-aur-unka-aaghaz-w-irtiqa-copy
    ڈاکٹر محمود احمد غازی

    اسلامی علوم میں فقہ کو غیر معمولی اہمیت حاصل ہے۔ اسلامی فقہ اسلام کا نظام قانون ہے‘ جو اپنی جامعیت ووسعت اور دائر کار کے لحاظ سے تمام معاصر اور قدیم نظم ہائے قانون سے فائق وبرتر ہے جس کا کئی مغربی ماہرینِ قانون نے بھی برملاء اعتراف کیا ہے۔ البتہ یہ واضح ہے کہ اس نظام قانون کی ترتیب وتدوین اور انطباق وتطبیق کا عمل انسانی کاوش ہے‘ جس کی تیاری میں انسانی تاریخ کی بہترین ذہانتیں اور دماغ کارفرما رہے ہیں۔ ہر انسانی عمل کی طرح اس کی تفصیلات‘ جزئیات کے استنباط اور انطباق وتشریح میں بھی بہتری پیدا کرنے کی ضرورت محسوس کی جاتی رہی ہے اور مختلف ادوار میں اس کے نئے گوشوں اور کم نمایاں پہلوؤں کو نمایاں کرنے‘ بدلتے زمانے کے تقاضوں اور ضروریات کے مطابق اضافے کرنے اور تبدیلی لانے کا عمل جاری رہا ہے۔اور آج یہ احساس شدت سے بیدار ہے کہ مسلم معاشرے میں اسلامی احکام وقوانین کا نفاذ ہو اور اس حوالے سے علماء نے بہت سے کتب بھی لکھ دی ہیں جن میں سے ایک زیر تبصرہ کتاب بھی ہے جس میں اسلامی فقہ کے ایک اہم موضوع قواعد کلیہ اور ان کے آغاز وارتقاء اور اس پر لکھی گئی کتب کا تفصیلی تعارف پیش کیا گیا ہے اور مختلف فقہی مذاہب کے قواعد کلیہ کی‘ مثالوں کے ساتھ مختصر تشریح کی گئی ہے۔ حوالہ جات سے کتاب کو مزین کیا گیا ہے۔ کتاب کا اسلوب نہایت عمدہ‘سادہ اور عام فہم ہے۔ یہ کتاب’’ قواعد کلیہ اور اُن کا آغاز وارتقاء ‘‘ ڈاکٹر محمود احمد غازی کی مرتب کردہ ہے۔آپ تصنیف وتالیف کا عمدہ شوق رکھتے ہیں‘ اس کتاب کے علاوہ آپ کی درجنوں  کتب اور  بھی ہیں۔ دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ مؤلف وجملہ معاونین ومساعدین کو اجر جزیل سے نوازے اور اس کتاب کو ان کی میزان میں حسنات کا ذخیرہ بنا دے اور اس کا نفع عام فرما دے۔(آمین)( ح۔م۔ا )

    pages-from-muhaziraat-e-hadees
    ڈاکٹر محمود احمد غازی

    خدمت ِحدیث وسنت ایک عظیم الشان اور بابرکت کام ہے۔ جس میں ہر مسلمان کو کسی نہ کسی سطح پر ضرور حصہ ڈالنا چاہیے ،تاکہ اس کا شمار کل قیامت کےدن خدامِ سنت نبوی میں سے ہو۔اور یہ ایک ایسا اعزاز ہے کہ جس کی قدر وقیمت کااندازہ اللہ تعالیٰ کے حضور پیش ہونے پر ہی ہوسکتا ہے۔ احادیثِ رسول ﷺ کو محفوظ کرنے کے لیے کئی پہلوؤں اور اعتبارات سے اہل علم نے خدمات انجام دی ہیں۔ تدوینِ حدیث کا آغاز عہد نبوی سے ہوا او ر صحابہ وتابعین کے دور میں پروان چڑھا ۔ائمہ محدثین کےدور میں خوب پھلا پھولا ۔مختلف ائمہ محدثین نے احادیث کے کئی مجموعے مرتب کئے۔محدثین کرام نے احادیث کی جمع وتدوین تک ہی اپنی مساعی کو محدود نہیں رکھا ،بلکہ فنی حیثیت سے ان کی جانچ پڑتال بھی کی ،اور اس کے اصول بھی مرتب فرمائے۔اس کے ساتھ ساتھ ہی انہوں نے کتب حدیث کو بھی مختلف طبقات میں تقسیم کر دیا اور اس کی خاص اصطلاحات مقرر کر دیں۔ زیر تبصرہ کتاب " محاضرات حدیث" محترم ڈاکٹر محمود احمد غازی صاحب﷫ کی تصنیف ہے۔جو درحقیقت ان کے ان دروس اور لیکچرز پر مشتمل ہے جو انہوں نےراولپنڈی اور اسلام آباد میں درس قرآن کے حلقات سے وابستہ مدرسات قرآن کے سامنے پیش کئے۔یہ محاضرات مختصر نوٹس اور اشاروں کو سامنے رکھ کر زبانی ہی دیئے گئے تھے۔لیکن احباب کے اصرار پر بعد میں انہیں کتابی شکل دے دی گئی۔جو مختلف طباعتی مراحل طے کرنے کے بعد کتابی شکل میں سامنے آ گئے۔مولف موصوف﷫ نے اس کتاب میں حدیث وعلوم حدیث سے متعلقہ بارہ محاضرات کو جمع کیا ہے،جو حدیث کا تعارف،علم حدیث کی ضرورت اور اہمیت،حدیث اور سنت بطور ماخذ شریعت،روایت حدیث اور اقسام حدیث،علم اسنا دورجال،جرح وتعدیل،تدوین حدیث،رحلۃ اور محدثین کی خدمات،علوم حدیث،کتب حدیث وشروح حدیث،برصغیر میں علم حدیث،اور علوم حدیث دور جدید میں جیسے عنوانات پر مبنی ہیں۔ یہ ان کے سلسلہ محاضرات کی دوسری کڑی ہے۔اگرچہ ادارہ محدث کا ڈاکٹر صاحب کی فکر اور موقف سے کلی اتفاق ضروری نہیں ہے،لیکن اجتہادی اختلاف رائے کو قبول کرنے کا مظاہرہ کرتے ہوئے ان محاضرات کو قارئین کی خدمت میں پیش کیا جارہا ہے۔تاکہ یونیورسٹیز اور کالجز کے طلباء اس سے استفادہ کر سکیں۔(راسخ)

    pages-from-muhaziraat-e-seerat
    ڈاکٹر محمود احمد غازی

    کریم ﷺ کی سیرت کا مطالعہ کرنا ہمارے ایمان کا حصہ بھی ہے اور حکم ربانی بھی ہے۔قرآن مجید نبی کریم ﷺ کی حیات طیبہ کو ہمارے لئے ایک کامل نمونہ قرار دیتا ہے۔اخلاق وآداب کا کونسا ایسا معیار ہے ،جو آپ ﷺ کی حیات مبارکہ سے نہ ملتا ہو۔اللہ تعالی نے نبی کریم ﷺ کے ذریعہ دین اسلام کی تکمیل ہی نہیں ،بلکہ نبوت اور راہنمائی کے سلسلہ کو آپ کی ذات اقدس پر ختم کر کےنبوت کے خاتمہ کے ساتھ ساتھ سیرت انسانیت کی بھی تکمیل فرما دی کہ آج کے بعد اس سے بہتر ،ارفع واعلی اور اچھے وخوبصورت نمونہ وکردار کا تصور بھی ناممکن اور محال ہے۔آپ ﷺ کی سیرت طیبہ پر متعدد زبانوں میں بے شمار کتب لکھی جا چکی ہیں،جو ان مولفین کی طرف سے آپ کے ساتھ محبت کا ایک بہترین اظہار ہے۔ہر مولف نے سیرت لکھتے وقت کچھ نہ کچھ اصول سامنے رکھے ہیں،جنہیں علم سیرت بھی کہا جا سکتا ہے۔ زیر تبصرہ کتاب " محاضرات سیرت ﷺ" محترم ڈاکٹر محمود احمد غازی صاحب﷫ کی تصنیف ہے۔جو درحقیقت ان کے ان دروس اور لیکچرز پر مشتمل ہے جو انہوں نےراولپنڈی اور اسلام آباد میں درس قرآن کے حلقات سے وابستہ مدرسات قرآن کے سامنے پیش کئے۔ یہ محاضرات مختصر نوٹس اور اشاروں کو سامنے رکھ کر زبانی ہی دیئے گئے تھے۔لیکن احباب کے اصرار پر بعد میں انہیں کتابی شکل دے دی گئی۔جو مختلف طباعتی مراحل طے کرنے کے بعد کتابی شکل میں سامنے آ گئے۔مولف موصوف﷫ نے اس کتاب میں علم سیرت سے متعلقہ بارہ محاضرات کو جمع کیا ہے،جو مطالعہ سیرت کی ضرورت واہمیت،سیرت اور علوم سیرت ایک تعارف ایک جائزہ،علم سیرت آغاز ارتقاء تدوین اور توسیع،مناہج سیرت،چند نامور سیرت نگار اور ان کے امتیازی خصائص،ریاست مدینہ دستور اور نظام حکومت،ریاست مدینہ معاشرت ومعیشت،کلامیات سیرت،فقہیات سیرت،مطالعہ سیرت پاک وہند میں،مطالعہ سیرت دور جدید میں اور مطالعہ سیرت مستقبل کی ممکنہ جہتیں جیسے عنوانات پر مبنی ہیں۔ یہ ان کے سلسلہ محاضرات کی چوتھی کڑی ہے ۔اگرچہ ادارہ محدث کا ڈاکٹر صاحب کی فکر اور موقف سے کلی اتفاق ضروری نہیں ہے،لیکن اجتہادی اختلاف رائے کو قبول کرنے کا مظاہرہ کرتے ہوئے ان محاضرات کو قارئین کی خدمت میں پیش کیا جارہا ہے۔تاکہ یونیورسٹیز اور کالجز کے طلباء اس سے استفادہ کر سکیں۔(راسخ)

    pages-from-muhaziraat-e-shariat
    ڈاکٹر محمود احمد غازی

    دور حاضر کے لا مذہب طبقہ میں شریعت اسلامیہ کے حوالے سے کچھ غلط فہمیاں پائی جاتی ہیں۔یہ طبقہ اگرچہ تعداد میں بہت محدود ہے لیکن اپنے اثر ورسوخ کے اعتبار سے بہت طاقتور اور موثر ہے۔اس طبقہ کے خیال میں شریعت اسلامیہ دور وسطی کا ایک قدیم مذہبی نظا م ہے،جو عصر حاضر کے تقاضوں پر پورا نہی اترتا ہے۔ایسی فکر کا جواب دینے والوں میں سے ایک نام اس کتاب کے مولف کا بھی ہے۔جنہوں نے اپنے کے ذریعے ایسی سوچ رکھنے والوں پر واضح کیا ہے کہ شریعت اسلامیہ ہر دور اور ہر زمانے کے لئے کارآمد ہے۔ زیر تبصرہ کتاب " محاضرات شریعت" محترم ڈاکٹر محمود احمد غازی صاحب﷫ کی تصنیف ہے۔جو درحقیقت ان کے ان دروس اور لیکچرز پر مشتمل ہے جو انہوں نےراولپنڈی اور اسلام آباد میں درس قرآن کے حلقات سے وابستہ مدرسات قرآن کے سامنے پیش کئے۔ یہ محاضرات مختصر نوٹس اور اشاروں کو سامنے رکھ کر زبانی ہی دیئے گئے تھے۔لیکن احباب کے اصرار پر بعد میں انہیں کتابی شکل دے دی گئی۔جو مختلف طباعتی مراحل طے کرنے کے بعد کتابی شکل میں سامنے آ گئے۔مولف موصوف﷫ نے اس کتاب میں شریعت اسلامیہ سے متعلقہ بارہ محاضرات کو جمع کیا ہے،جو اسلامی شریعت ایک تعارف،اسلامی شریعت خصائص مقاصد اور حکمت،امت مسلمہ اور مسلم معاشرہ،اخلاق اور تہذیب اخلاق،شریعت کا فرد مطلوب،تدبیر منزل،تدبیر مدن،تزکیہ اور احسان،عقیدہ وایمانیات،علم کلام عقیدہ وایمانیات کی علمی تشریح وتدوین،اسلامی شریعت دور جدید میں اور اسلامی شریعت کا مستقبل اور ملت اسلامیہ کا تہذیبی ہدف جیسے عنوانات پر مبنی ہیں۔یہ ان کے سلسلہ محاضرات کی پانچویں کڑی ہے۔اگرچہ ادارہ محدث کا ڈاکٹر صاحب کی فکر اور موقف سے کلی اتفاق ضروری نہیں ہے،لیکن اجتہادی اختلاف رائے کو قبول کرنے کا مظاہرہ کرتے ہوئے ان محاضرات کو قارئین کی خدمت میں پیش کیا جارہا ہے۔تاکہ یونیورسٹیز اور کالجز کے طلباء اس سے استفادہ کر سکیں۔(راسخ)

    pages-from-muhaziraat-e-fiqha
    ڈاکٹر محمود احمد غازی

    جب کوئی معاشرہ مذہب کو اپنے قانون کا ماخذ بنا لیتا ہے تو اس کے نتیجے میں علم فقہ وجود پذیر ہوتا ہے۔ علم فقہ، دین کے بنیادی ماخذوں سے حاصل شدہ قوانین کے ذخیرے کا نام ہے۔ چونکہ دین اسلام میں قانون کا ماخذ قرآن مجید اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم کی سنت ہے اس وجہ سے تمام قوانین انہی سے اخذ کیے جاتے ہیں۔ جب قرآن و سنت کی بنیاد پر قانون سازی کا عمل شروع کیا جائے تو اس کے نتیجے میں متعدد سوالات پیدا ہو جاتے ہیں۔قرآن مجید کو کیسے سمجھا جائے؟قرآن مجید کو سمجھنے کے لئے کس کس چیز کی ضرورت ہے؟ سنت کو سمجھنے کے لئے کس کس چیز کی ضرورت ہے؟ سنت کہاں سے اخذ کی جائے گی وغیرہ وغیرہ۔ ان سوالوں کا جواب دینے کے لئے جو فن وجود پذیر ہوتا ہے، اسے اصول فقہ کہا جاتا ہے۔اور تمام قدیم مسالک (احناف،شوافع،حنابلہ اور مالکیہ)نے قرآن وسنت سے احکام شرعیہ مستنبط کرنے کے لئے اپنے اپنے اصول وضع کئے ہیں۔بعض اصول تو تمام مکاتب فکر میں متفق علیہ ہیں جبکہ بعض میں اختلاف بھی پایا جاتا ہے۔ زیر تبصرہ کتاب " محاضرات فقہ" محترم ڈاکٹر محمود احمد غازی صاحب﷫ کی تصنیف ہے۔جو درحقیقت ان کے ان دروس اور لیکچرز پر مشتمل ہے جو انہوں نےراولپنڈی اور اسلام آباد میں درس قرآن کے حلقات سے وابستہ مدرسات قرآن کے سامنے پیش کئے۔ یہ محاضرات مختصر نوٹس اور اشاروں کو سامنے رکھ کر زبانی ہی دیئے گئے تھے۔لیکن احباب کے اصرار پر بعد میں انہیں کتابی شکل دے دی گئی۔جو مختلف طباعتی مراحل طے کرنے کے بعد کتابی شکل میں سامنے آ گئے۔مولف موصوف﷫ نے اس کتاب میں فقہ واصول فقہ سے متعلقہ بارہ محاضرات کو جمع کیا ہے،جو فقہ اسلامی،علم اصول فقہ،فقہ اسلامی کے امتیازی خصائص،اہم فقہی علوم اور مضامین ایک تعارف،تدوین فقہ اور مناہج فقہاء،اسلامی قانون کے بنیادی تصورات،مقاصد شریعت اور اجتہاد،اسلام کا دستوری اور انتظامی قانون،اسلام کا قانون جرم وسزا،اسلام کا قانون تجارت ومالیات،مسلمانوں کا بے مثال فقہی ذخیرہ ایک جائزہ،اور فقہ اسلامی دور جدید میں جیسے عنوانات پر مبنی ہیں۔ یہ ان کے سلسلہ محاضرات کی تیسری کڑی ہے ۔اگرچہ ادارہ محدث کا ڈاکٹر صاحب کی فکر اور موقف سے کلی اتفاق ضروری نہیں ہے،لیکن اجتہادی اختلاف رائے کو قبول کرنے کا مظاہرہ کرتے ہوئے ان محاضرات کو قارئین کی خدمت میں پیش کیا جارہا ہے۔تاکہ یونیورسٹیز اور کالجز کے طلباء اس سے استفادہ کر سکیں۔(راسخ)

    pages-from-muhaziraat-e-qurani
    ڈاکٹر محمود احمد غازی

    قرآن مجید وہ عظیم الشان کتاب ہے ،جسے اللہ تعالی کا کلام ہونے کا شرف حاصل ہے۔اس کو پڑھنا باعث اجر وثواب اور اس پر عمل کرنا باعث نجات ہے۔جو قوم اسے تھام لیتی ہے وہ رفعت وبلندی کے اعلی ترین مقام پر فائز ہو جاتی ہے،اور جو اسے پس پشت ڈال دیتی ہے ،وہ ذلیل وخوار ہو کر رہ جاتی ہے۔یہ کتاب مبین انسانیت کے لئے دستور حیات اور ضابطہ زندگی کی حیثیت رکھتی ہے۔یہ انسانیت کو راہ راست پر لانے والی ،بھٹکے ہووں کو صراط مستقیم پر چلانے والی ،قعر مذلت میں گرے ہووں کو اوج ثریا پر لے جانے والے ،اور شیطان کی بندگی کرنے والوں کو رحمن کی بندگی سکھلانے والی ہے۔ زیر تبصرہ کتاب " محاضرات قرآنی " محترم ڈاکٹر محمود احمد غازی صاحب﷫ کی تصنیف ہے۔جو درحقیقت ان کے ان دروس اور لیکچرز پر مشتمل ہے جو انہوں نےراولپنڈی اور اسلام آباد میں درس قرآن کے حلقات سے وابستہ مدرسات قرآن کے سامنے پیش کئے۔یہ محاضرات مختصر نوٹس اور اشاروں کو سامنے رکھ کر زبانی ہی دیئے گئے تھے۔لیکن احباب کے اصرار پر بعد میں انہیں کتابی شکل دے دی گئی۔جو مختلف طباعتی مراحل طے کرنے کے بعد کتابی شکل میں سامنے آ گئے۔مولف موصوف﷫ نے اس کتاب میں قرآن وعلوم قرآن سے متعلقہ بارہ محاضرات کو جمع کیا ہے،جو تدریس قرآن مجید ایک منہاجی جائزہ،قرآن مجید ایک عمومی تعارف،تاریخ نزول قرآن مجید،جمع وتدوین قرآن مجید،علم تفسیر ایک تعارف،تاریخ اسلام کے چند عظیم مفسرین قرآن،مفسرین قرآن کے تفسیری مناہج،اعجاز القرآن،علوم القرآن ایک جائزہ،نظم قرآن اور اسلوب قرآن،قرآن مجید کا موضوع اور اس کے اہم مضامین،تدریس قرآن مجید دور جدید کی ضروریات اور تقاضے جیسے عنوانات پر مبنی ہیں۔اگرچہ ادارہ محدث کا ڈاکٹر صاحب کی فکر اور موقف سے کلی اتفاق ضروری نہیں ہے،لیکن اجتہادی اختلاف رائے کو قبول کرنے کا مظاہرہ کرتے ہوئے ان محاضرات کو قارئین کی خدمت میں پیش کیا جارہا ہے۔تاکہ یونیورسٹیز اور کالجز کے طلباء اس سے استفادہ کر سکیں۔(راسخ)

    title-pages-muhazirat-maeshat-w-tajarat-copy
    ڈاکٹر محمود احمد غازی

    اسلام ایک مکمل ضابطہ حیات اور دستور زندگی ہے،جس میں تجارت سمیت زندگی کے تمام شعبوں کے حوالے سے مکمل راہنمائی موجود ہے۔اسلام   تجارت کے ان طور طریقوں کی حوصلہ افزائی کرتا ہے ،جس میں بائع اور مشتری دونوں میں سے کسی کو بھی دھوکہ نہ ہو ،اور ایسے طریقوں سے منع کرتا ہے جن میں کسی کے دھوکہ ،فریب یا فراڈ ہونے کا اندیشہ ہو۔یہی وجہ ہے اسلام نے تجارت کے جن جن طریقوں سے منع کیا ہے ،ان میں خسارہ ،دھوکہ اور فراڈ کا خدشہ پایا جاتا ہے۔اسلام کے یہ عظیم الشان تجارتی اصول درحقیقت ہمارے ہی فائدے کے لئے وضع کئے گئے ہیں۔اس وقت دنیا میں دو معاشی نظام اپنی مصنوعی اور غیر فطری بیساکھیوں کے سہارے چل رہے ہیں۔ایک مغرب کا سرمایہ داری نظام ہے ،جس پر آج کل انحطاط واضطراب کا رعشہ طاری ہے۔دوسرا مشرق کا اشتراکی نظام ہے، جو تمام کی مشترکہ ملکیت کا علمبردار ہے۔ایک مادہ پرستی میں جنون  کی حد تک تمام انسانی اور اخلاقی قدروں کو پھلانگ چکا ہے تو دوسرا معاشرہ پرستی  اور اجتماعی ملکیت کا دلدادہ ہے۔لیکن رحم دلی،انسان دوستی اور انسانی ہمدردی کی روح ان دونوں میں ہی مفقود ہے۔دونوں کا ہدف دنیوی مفاد اور مادی ترقی کے علاوہ کچھ نہیں ہے۔اس کے برعکس اسلام ایک متوسط اور منصفانہ معاشی نظریہ پیش کرتا ہے،وہ سب سے پہلے دلوں میں خدا پرستی،انسان دوستی اور رحم دلی کے جذبات پیدا کرتا ہے۔ زیر تبصرہ کتاب " محاضرات معیشت وتجارت" محترم ڈاکٹر محمود احمد غازی صاحب﷫ کی تصنیف ہے۔جو درحقیقت ان کے ان دروس اور لیکچرز پر مشتمل ہے جو انہوں نےدوحہ قطر میں مختلف مقامات پر ارشاد فرمائے۔۔یہ محاضرات مختصر نوٹس اور اشاروں کو سامنے رکھ کر زبانی ہی دیئے گئے تھے۔لیکن احباب کے اصرار پر بعد میں انہیں کتابی شکل دے دی گئی جو مختلف طباعتی مراحل طے کرنے کے بعد کتابی شکل میں سامنے آ گئے۔مولف موصوف﷫ نے اس  کتاب میں معیشت وتجارت سے متعلقہ بارہ محاضرات کو جمع کر دیا ہے۔اگرچہ ادارہ محدث کا ڈاکٹر صاحب کی فکر اور موقف سے کلی اتفاق ضروری نہیں ہے،لیکن اجتہادی اختلاف رائے کو قبول کرنے کا مظاہرہ کرتے ہوئے ان محاضرات کو قارئین کی خدمت میں پیش کیا جارہا ہےتاکہ یونیورسٹیز اور کالجز کے طلباء  اس سے استفادہ کر سکیں۔(راسخ)

    title-pages-rasool-ullah-sawwbahaisiyat-share-w-muqannan-copy
    ڈاکٹر محمد حمید اللہ

    نبی کریم ﷺ کی ذات ِمبارکہ پور ی انسانیت کےلیے زندگی کے تما م مراحل عبادات ،معاملات، اخلاقیات ، عدل وقضا وغیرہ میں اسوۂ حسنہ کی حیثیت رکھتی ہے اور اسلام میں رسول اللہﷺ کاشارع و مقنن ہونا ایک قطعی اور مسلمہ حقیت ہے ۔آپ ﷺکے حقِّ تشریع وتقنین کو قرآن کریم نے کئی جہتوں سے بیان کیا ہے ۔ لیکن بعض حلقوں کی طرف سے یہ تاثر دیاجاتا ہے کہ قرآن وسنت کی راہنمائی صرف عبادات تک محدود ہے او رجہاں تک دیگر معاملات کا تعلق ہے وہاں انسان اپنے امور خود طے کرسکتا ہے ، اسے وحی کی راہنمائی کی ضرورت نہیں۔زیر نظر کتاب کا بنیادی مقصد اسی غلط فہمی کا ازالہ ہے یہ دراصل ان نامور اسلامی سکالرزاور اہل علم کے مضامین کا مجموعہ ہے جن کی علمی وفکر ی حیثیت مسلمہ ہے ۔ شریعہ اکیڈمی اسلام آبا د نے درج ذیل منتخب مضامین ومقالات میں بعض مقامات پر ضروری حوالہ جات اور تخریج وحواشی کا اضافہ کر کے خوبصورت انداز میں طباعت کے اعلی معیار پر شائع کیا ہے ۔1۔عہد نبوی میں نظام تشریع وعدلیہ؍ڈاکٹر حمید اللہ 2۔رسول اللہﷺ بحیثیت قانون دان؍ جسٹس شیخ عبد الحمید3۔رسول اللہﷺ بحیثیت شارع ومقنن؍ڈاکٹر محمد یوسف فاروقی۔5۔ رسول اللہﷺ اور قانون بین الممالک؍ڈاکٹر محمود غازی ۔امید ہے کہ شریعہ اکیڈمی کی یہ کاوش نہ صرف اہل علم او رقانون دان حضرات کےلیے مفید ہو گی بلکہ عام حضرت بھی اس سے مستفید ہوکر سنتِ رسولﷺ کی دستوری وتشریعی حیثیت کودلائل کی روشنی میں سمجھ سکیں گے ۔(م۔ا)

     

اس سائٹ پر کوئی ایسی کتاب موجود نہیں جس کا ترجمہ ان صاحب نے کیا ہو۔
اس سائٹ پر کوئی ایسی کتاب موجود نہیں جس کی ترتیب و تخریج ان صاحب نے کی ہو۔
ان صاحب کی کوئی بھی کتاب نظرثانی کی گئی موجود نہیں۔

ای میل سبسکرپشن

محدث لائبریری کی اپ ڈیٹس بذریعہ ای میل وصول کرنے کے لئے ای میل درج کر کے سبسکرائب کے بٹن پر کلک کیجئے۔

 

ایڈوانس سرچ

رجسٹرڈ اراکین

آن لائن مہمان

محدث لائبریری پر اس وقت الحمدللہ 285 مہمان آن لائن ہیں ، لیکن کوئی رکن آن لائن نہیں ہے۔

ایڈریس

       99-جے ماڈل ٹاؤن،
     نزد کلمہ چوک،
     لاہور، 54700 پاکستان

       0092-42-35866396، 35866476، 35839404

       0092-423-5836016، 5837311

      KitaboSunnat@gmail.com

      بنک تفصیلات کے لیے یہاں کلک کریں