ڈاکٹر حافظ محمد اسحاق زاہد

1 1 1 1 1 1 1 1 1 1
ڈاکٹر حافظ محمد اسحاق زاہد
    title-pages-arkane-islam-aik-ajmali-jaiza
    ڈاکٹر حافظ محمد اسحاق زاہد
    حدیث جبریل میں اسلام اور ایمان کے ارکان الگ الگ بیان ہوئے ہیں جو اصل دین اور اسلام کے بنیادی اجزاء ہیں،دونوں ارکان کا چولی دامن کا ساتھ ہے کہ ایک یا دونوں کے انکار سے انسان دائرہ اسلام سے خارج ہو جاتا ہے۔اس جز میں اسلام کے وہ بنیادی ارکان کا بیان ہے۔جن کا جوارح سے تعلق ہے اور ان کا اہتمام ہر مسلمان پر لازم ہے۔اسلامی تعلیمات اور اسلام کے بنیادی اساس سے تعارف کے لحاظ سے یہ عقیدہ کی ابتدائی بہترین کتاب ہے ۔جس میں
    1-توحید کی اقسام
    2-ایمان بالرسول
    3-نما ز کی پابندی اور اس کے احکام
    4-زکوٰۃ کی ادائیگی اور اس کے بنیادی مسائل
    5-رمضان کے روزوں کی فرضیت اور اس کے احکام
    6-فرضیت حج اور اس کے احکام کا تفصیلی بیان ہے۔
    یہ کتاب عوام الناس کی اصلاح اور عقیدہ کی درستگی کے اعتبار سے جامع کتاب ہے ،اس کا مطالعہ قارئین کے ایمان میں رسوخ اور اضافہ کا باعث ہوگا۔(ف۔ر)

    نوٹ:
    محدث فورم میں اس کتاب پر تبصرہ کرنے کے لیے یہاں کلک کریں

    untitled-1
    ڈاکٹر حافظ محمد اسحاق زاہد
    عقیدہ توحید اسلام کی اساس ہے اور اس کے بغیر نجات ناممکن ہے اسی لیے شریعت میں عقیدہ توحید کی اصلاح پر بہت زور دیا گیا ہے –بطور مسلمان ہر ایک فرد کو اپنے ایمان کے بارے میں ضروری ضروری باتوں کا علم ضرور ہونا چاہیے تاکہ وہ ایمان  اور توحید کے معاملے میں غلط فہمی کا شکار نہ ہو-اسی سلسلے کی ایک کڑی یہ کتاب ہے  جس میں ایمانیات سے متعلقہ ابتدائی چیزوں کو عام فہم انداز میں بیان کیا ہے جو کہ ہر مسلما ن کی ضرورت ہیں اور ان سے آشنائی لازمی ہے-جس میں ایمان کا معنی ومفہوم ،ایمان کی اہمیت اور عقائد سے متعلقہ لازمی امورمثلاً ایمان باللہ،ایمان بالرسل،ایمان بالملائکہ ،ایمان بالکتب اور ایمان بالآخرت کو عام فہم اور مدلل انداز میں بیان کیا گیا ہے-اس کے علاوہ ایمان کے ان ارکان کے بارے میں عوام کے ہاں جو غلط فہمیاں اور شکوک و شبہات پائے جاتے ہیں ان کو بیان کر کے کتاب وسنت کے دلائل کے ساتھ ان کا کافی وشافی جواب دیا گیا ہے-
    title-pages-islam-ka-qanone-talaq
    ڈاکٹر حافظ محمد اسحاق زاہد
    اسلامی  خاندان کی ابتداء ’نکاح ‘ سے ہوتی ہے ۔ جس میں منسلک ہوجانے کے بعدایک مسلمان مرد اور عورت ایک دوسرے کے زندگی بھر کے ساتھی بن جاتےہیں ۔ ان کا باہمی تعلق اِس قدر لطیف ہوتا ہے کہ قرآن مجید نے دونوں کو ایک دوسرے کا لباس قرار دیا ہے ۔’نکاح ‘ کے ذریعے ان دونوں کے درمیان ایک مقدس رشتہ قائم ہو جاتا ہے ۔ ان کے مابین پاکیزہ محبت اور حقیقی الفت پر مبنی ایک عظیم رشتہ معرضِ وجود میں آجاتا ہے ۔ اور  وہ مفادات سے بالا تر ہوکر ایک دوسرے کے دکھ درد کے ساتھی بن جاتے ہیں۔ ان میں سے ایک کی خوشی دوسرے کی خوشی اور ایک کی تکلیف دوسرے کی تکلیف شمار  ہوتی ہے ۔ وہ ایک دوسرے کے ہمدرد وغم گساربن کر باہم مل کر زندگی کی گاڑی کو کھینچتے رہتے ہیں ۔ مرد اپنی جدوجہد کے ذریعے پیسہ کما کراپنی ، اپنی شریک حیات اور اپنے بچوں کی ضرورتوں کا کفیل ہوتا ہے ۔ اور بیوی گھریلو امور کی ذمہ دار ، اپنے خاوند کی خدمت گذار اور اسے سکون فراہم کرنے اور بچوں کی پرورش کرنے جیسے اہم فرائض ادا  کرتی ہے ۔تاہم بعض اوقات یہ عظیم رشتہ مکدر ہو جاتاہے ، اس میں دراڑیں پڑجاتی ہیں، اور الفت ومحبت کی جگہ نفرت وکدورت آجاتی ہے ۔اور معاملات اس قدر بگڑ جاتے ہیں کہ طلاق تک کی نوبت آجاتی ہے۔ اس کتاب میں ’طلاق ‘ کے بڑھتے ہوئے واقعات کے اسباب کو تلاش کرنے اور ان کا حل ڈھونڈنے کی کوشش کی گئی ہے ۔ اس کے علاوہ اسلام کے قانونِ طلاق کو قرآن وحدیث کی روشنی میں واضح کرنے کی سعی بھی کی گئی ہے تاکہ اس کا ناجائز استعمال روکا جا سکے اوراسے اس کی شرعی حدود میں ہی استعمال کیا جاسکے ۔اللہ تعالی سے دعا ہے کہ وہ ہمیں پاکیزہ اورخوشگوار ازدواجی زندگی نصیب کرے اور ہم سب کو دنیا وآخرت کی ہر بھلائی عطا کرے ۔ آمین(ک۔ح)

    نوٹ:
    محدث فورم میں اس کتاب پر تبصرہ کرنے کے لیے یہاں کلک کریں
    title-page-ahle-hades-aur-ulema-haramain-ka-ittifaq-e-ray-copy
    ڈاکٹر حافظ محمد اسحاق زاہد
    دنیا جہان میں مختلف نقطہ نگاہ رکھنے والوں کی کسی طور بھی کمی نہیں ہے – انسانوں کا باہمی اختلاف ایک فطری امر ہے لیکن اس اختلاف کو بنیاد بنا کر جھگڑے اور فساد کی راہ ہموار کرنا قابل نفرین عمل ہے-زیر نظر کتاب ''اہل حدیث اور علمائے حرمین کا اتفاق رائے''رنگونی صاحب کی کتاب'' غیر مقلدین سعودی عرب کے آئمہ ومشائخ کے مسلک سے شدید اختلاف ''کا نہایت ہی مدلل اور سنجیدہ جواب ہے-رنگونی صاحب نے جن مسائل کوبنیاد بنا کر غیر مقلدین اور سعودی علماء ومشائخ اور علماء کے مابین شدید اختلاف دکھانے کی کوشش کی ہے مؤلف نے کتاب وسنت اور آئمہ سلف کے اقوال کی روشنی میں نہایت اختصار کے ساتھ ان موضوعات پر محققانہ بحث کی ہے-اس کتاب کی خوبی یہ ہے کہ فاضل مؤلف نے خالص علمی اسلوب اختیار کیا ہے اور ز بان انتہائی آسان اور عام فہم استعمال کی ہے-

    title-pages-from-khushgawar-zindagi-k-12-usool
    ڈاکٹر حافظ محمد اسحاق زاہد
    آج کے مادی دور میں ہر شخص ایک خوشگوار زندگی گزارنے کا خواہش مند ہے ۔لیکن زیادہ تر لوگوں کا نقطہ نگاہ یہ ہے کہ ایک اچھی اور خوش گوار زندگی دنیوی آسائشوں اور مال ودولت ہی سے حاصل ہو سکتی ہے،لیکن افسوس کہ ہم نے اس باب میں قرآن وحدیث سے یہ معلوم کرنے کی کوشش نہیں کی کہ خوش گوار زندگی کے اصول کیا ہیں؟یہی وجہ ہے کہ دنیا کی بے شمار آسائشوں کے حصول کے  بعد بھی بے سکونی و بے اطمینانی رہتی ہے۔جناب ڈاکٹر حافظ اسحٰق زاہد نے زیر نظر کتابچے میں کتاب وسنت کی روشنی میں 12 ایسے اصول ذکر کیے ہیں جو خوش گوار زندگی کے ضامن ہیں اور سچ یہ ہے کہ ان کو نظر انداز کر کے کبھی بھی مطمئن وسرور زندگی نہیں گزاری جاسکتی۔ہر مسلمان کو چاہیے کہ ان اصولوں کو اپنائے تاکہ وہ دنیا میں ایک خوش گوار زندگی گزار سکے اور آخرت میں بھی اچھی زندگی کا مستحق ہو سکے۔(ط۔ا)

    title-page-khush-gawar-zindagi-k-usool
    ڈاکٹر حافظ محمد اسحاق زاہد
    ہر انسان اپنی دنیاوی زندگی کو بہترین اور حسین انداز میں گزارنا چاہتا ہے جس میں نہ معاشی پریشانیاں ہوں اور نہ ہی معاشرتی اور بداخلاقی پر مبنی برائیاں ہوں-ہر طرف سے سکون واطمینان کے ساتھ اس کے شب وروز بسر ہوں-مصنف نے ایسی ہی مطمئن اور باسلیقہ زندگی گزارنے کے لیے ان شرعی اصولوں کا تذکرہ کیا ہے جن کا تعلق انسانی زندگی کی خوشحالی کے ساتھ ہے-مصنف نے جن اصولوں کو بیان کیا ہے ان میں سے چند ایک یہ ہیں کہ ایمان وعمل ، صبر وشکر،تقوی،نمازکی پابندی،ذکر الہی،قناعت اور توکل جیسی وہ عظیم الشان صفات ہیں کہ جن کو اختیار کرنے کے بعد انسان اپنی دنیوی زندگی کے ساتھ ساتھ آخرت میں بھی بہت بڑے اجر کا مستحق بن سکتا ہے-اور اس کے ساتھ ساتھ دعا جیسا ایک ایسا اہم فعل کا بھی تذکرہ کیا ہے کہ جس سے انسان پر آنے والی مصبیتیں اور پریشانیاں بھی ٹل جاتی ہیں اور اس کے ساتھ ساتھ مصنف نے چند ایک انبیاء کی مشکل حالات کے وقت مانگی جانے والی دعاؤں کو بھی بیان کیا ہے جس کا مقصد یہ ہے کہ کسی بھی انسان پر کوئی تکلیف ومصیبت آ جاتی ہے تو وہ بھی یہی دعا مانگے اللہ تعالی کے فضل سے انسان پریشانیوں اور مصیبتوں سے محفوظ رہے گا-
    title-pages-zaad-ul-khateeb-1
    ڈاکٹر حافظ محمد اسحاق زاہد
    زادالخطیب معروف مذہبی اسکالر ڈاکٹر حافظ محمد اسحاق زاہد کی معرکہ آر اء تالیف ہے۔جس میں انہوں نے علماء وخطباء کے لیے بیش قیمت تقریری مواد جمع کر دیا ہے اور حتی الامکان احادیث صحیحہ کا اہتمام کیا ہے تاکہ عوام الناس تک صحیح وٹھوس احکام کی رسائی ہو۔عام خطبات موضوع وضعیف قصوں سے مزین ہوتے ہیں لیکن اس کتاب کے مصنف نے ایک جدا گانہ طرز عمل اختیار کیا ہے کہ موضوع وضعیف روایات سے قطعی گریز کیا ہے ۔الغرض ان خطبات میں علمی کتابت اور جلالت بیان کی جھلک نمایاں ہے۔کیونکہ ہربات حوالہ سے مزین اور ہر دعویٰ دلیل سے مزین ہے،یہ ایک ایسی خصوصیت ہے جس کا عام طور پر تالیفات میں خیال نہیں رکھا جاتا۔بلکہ رطب وباس سب کچھ جمع کر کے کتاب کا پیٹ بھر دیا ہے۔شعر گوئی اور قافیہ بندی سے گریز کرتے ہوئے انداز بیاں سادہ مگر انتہائی پر مغر،اسلوب تحریر میں روانی ،آسان محاورات اور سہل عبارات سے اپنا مدعا بیان کرنے کی بھرپور کوشش کی گئی ہے۔تاکہ دل سے نکلنے والی بات دل میں جاگزیں ہو جائے۔الغرض یہ خطبات نہ صرف خطباء وواعظین ہی کے لیے مفید ہیں ،بلکہ ہمارے نزدیک ہر لائبریری اور ہر گھر کی بھی ضرورت ہیں ان سے ہر ممکن استفادہ کرنا چاہیے ۔(فاروق)

    نوٹ:
    محدث فورم میں اس کتاب پر تبصرہ کرنے کے لیے یہاں کلک کریں

    title-pages-zaad-ul-khateeb-1
    ڈاکٹر حافظ محمد اسحاق زاہد
    زادالخطیب معروف مذہبی اسکالر ڈاکٹر حافظ محمد اسحاق زاہد کی معرکہ آر اء تالیف ہے۔جس میں انہوں نے علماء وخطباء کے لیے بیش قیمت تقریری مواد جمع کر دیا ہے اور حتی الامکان احادیث صحیحہ کا اہتمام کیا ہے تاکہ عوام الناس تک صحیح وٹھوس احکام کی رسائی ہو۔عام خطبات موضوع وضعیف قصوں سے مزین ہوتے ہیں لیکن اس کتاب کے مصنف نے ایک جدا گانہ طرز عمل اختیار کیا ہے کہ موضوع وضعیف روایات سے قطعی گریز کیا ہے ۔الغرض ان خطبات میں علمی کتابت اور جلالت بیان کی جھلک نمایاں ہے۔کیونکہ ہربات حوالہ سے مزین اور ہر دعویٰ دلیل سے مزین ہے،یہ ایک ایسی خصوصیت ہے جس کا عام طور پر تالیفات میں خیال نہیں رکھا جاتا۔بلکہ رطب وباس سب کچھ جمع کر کے کتاب کا پیٹ بھر دیا ہے۔شعر گوئی اور قافیہ بندی سے گریز کرتے ہوئے انداز بیاں سادہ مگر انتہائی پر مغر،اسلوب تحریر میں روانی ،آسان محاورات اور سہل عبارات سے اپنا مدعا بیان کرنے کی بھرپور کوشش کی گئی ہے۔تاکہ دل سے نکلنے والی بات دل میں جاگزیں ہو جائے۔الغرض یہ خطبات نہ صرف خطباء وواعظین ہی کے لیے مفید ہیں ،بلکہ ہمارے نزدیک ہر لائبریری اور ہر گھر کی بھی ضرورت ہیں ان سے ہر ممکن استفادہ کرنا چاہیے ۔(فاروق)

    نوٹ:
    محدث فورم میں اس کتاب پر تبصرہ کرنے کے لیے یہاں کلک کریں


    title-pages-zaad-al-khateeb-1
    ڈاکٹر حافظ محمد اسحاق زاہد

    خطابت اللہ تعالیٰ کی عطاکردہ،خاص استعداد وصلاحیت کا نام ہے جس کےذریعے ایک مبلغ اپنے مافی الضمیر کے اظہار ،اپنے جذبات واحساسات دوسروں تک منتقل کرنے اور عوام الناس کو اپنے افکار ونظریات کا قائل بنانے کے لیے استعمال کرتا ہے ۔ایک قادر الکلام خطیب اور شاندار مقرر مختصر وقت میں ہزاروں ،لاکھوں افراد تک اپنا پیغام پہنچا سکتا ہے اوراپنے عقائد ونظریات ان تک منتقل کرسکتا ہے۔خطابت صرف فن ہی نہیں ہے بلکہ اسلام میں خطابت اعلیٰ درجہ کی عبادت اورعظیم الشان سعادت ہے ۔خوش نصیب ہیں وہ ہستیاں جن کومیدانِ خطابت کے لیے پسند کیا جاتا ہے۔شعلہ نوا خطباء حالات کادھارا بدل دیتے ہیں،ہواؤں کےرخ تبدیل کردیتے ،معاشروں میں انقلاب بپا کردیتے ہیں ۔تاریخ کےہر دورمیں خطابت کو مہتم بالشان اور قابل فخر فن کی حیثیت حاصل رہی ہے اور اقوام وملل او رقبائل کے امراء وزعما کے لیے فصیح اللسان خطیب ہونا لازمی امرتھا۔قبل از اسلام زمانہ جاہلیت کی تاریخ پر سرسری نگاہ ڈالیں تو اس دور میں بھی ہمیں کئی معروف ِ زمانہ فصیح اللسان اور سحر بیان خطباء اس فن کی بلندیوں کو چھوتے ہوئے نظرآتے ہیں۔دورِ اسلام میں فنِ خطابت اپنے اوج کمال تک پہنچ گیا تھا ۔نبی کریم ﷺ خود سحرآفرین اور دلنشیں اندازِ خطابت اور حسنِ خطابت کی تمام خوبیوں سے متصف تھے ۔اللہ تعالیٰ نے ہر دور میں وراثتِ نبوی کے تحفظ اور تبلیغِ دین کےلیے ایسی نابغۂ روز گار اور فرید العصر شخصیات کو پیدا فرمایا کہ جنہوں نے اللہ تعالی کی عطا کردہ صلاحیتوں اور اس کے ودیعت کردہ ملکۂ خطابت سے بھر پور استفادہ کرتے ہوئے پر زور انداز میں دعوت حق کوپیش کیا اور لوگوں کے قلوب واذہان کو کتاب وسنت کے نور سے منور کیا ۔ ماضی قریب میں امام الہند مولانا ابو الکلام آزاد، سیدابو بکر غزنوی، آغا شورش کاشمیری، سید عطاء اللہ بخاری ، حافظ محمد اسماعیل روپڑی،مولانا محمد جونا گڑھی ﷭ وغیرہم کا شمار میدان خطابت کے شہسواروں میں ہوتا ہے ۔اور خطیبِ ملت علامہ احسان الٰہی ظہیر شہید﷫ میدان ِ خطابت کے وہ شہسوار ہیں جنہوں نے اللہ کی توفیق سے ایک نیا طرزِ خطابت ایجاد کیا ۔اور شیخ القرآن مولانا محمدحسین شیخوپوری گلستانِ کتاب وسنت کے وہ بلبل شیدا ہیں کہ دنیا انہیں خطیبِ پاکستان کے لقب سے یاد کرتی ہے۔خطباء ومبلغین اور دعاۃِ اسلام کےلیے زادِراہ ،علمی مواد اور منہج سلف صالحین کےمطابق معلومات کاذخیرہ فراہم کرنا یقیناً عظیم عمل اوردینِ حق کی بہت بڑی خدمت ہے اور واعظین ومبلغین کا بطریق احسن علمی تعاون ہے ۔اس لیے علماء نے ہر دور میں یہ رزیں کارنامہ سرانجام دینے کی کوشش کی ہے تاکہ وہ خطباء ودعاۃ جن کے پاس مصادر ومراجع میسر نہیں یا جن کے پاس وقت کی قلت ہے ان کے لیے خطباء کی تیاری کےلیے آسانی ہوسکے ۔ماضی قریب میں اردوزبان میں خطبات کے مجموعہ جات میں اسلامی خطبات از مولانا عبدالسلام بستوی  ، خطباتِ محمدی از مولانا محمد جونا گڑھی ،خطبات ِنبوی از مولانا محمد داؤد راز اور بعض اہل علم کے ذاتی نام سے (خطبات آزاد ،خطبات علامہ احسان الٰہی ظہیر ، خطبات یزدانی ،مواعظ طارق وغیرہ ) خطبات کے مجموعات قابلِ ذکر ہیں ۔اور عربی زبان میں خطباء واعظین حضرات کے لیے 12 ضخیم مجلدات پر مشتمل ''نضرۃ النعیم ''انتہائی عمدہ کتاب ہے ۔زیر نظر کتاب ''زاد الخطیب''ڈاکٹر حافظ محمد اسحاق زاہد ﷾( فاضل وسابق استاذِ حدیث جامعہ لاہور الاسلامیہ،لاہور؍فاضل مدینہ یونیورسٹی ) کی وہ عظیم الشان تصنیف ہے جو اپنی جملہ خوبیوں(ہر خطبہ کے آغاز میں متعین موضوع کے اہم عناصر کا ذکر۔متعین موضوع اور مواد کے لیے صر ف صحیح احادیث کا انتخاب او رضعیف ،خود ساختہ اور بناوٹی احادیث سے قطعی اجتناب۔ خطبات کی ترتیب میں ترتیبی پہلو۔خطبہ کے شروع میں تمہید کابیان ۔خطبات میں علمی ثقاہت اورجلالت ِبیان کی نمایاں جھلک ۔آیات واحادیث کےمکمل حوالہ جات او رہر دعوی ٰ دلیل سے مزین۔انداز ِ بیان سادہ مگر انتہائی پر مغز ۔آسان محاورات اورسہل عبارات سے اپنا مدعا بیان کر نے کی بھر پور کوشش) کی بناپر تین مجلدات میں 75 علمی موضوعات پر مشتمل خطباتِ جمعہ اپنی نوعیت کا منفرد مجموعہ ہے ۔جس کا دار مدار اورانحصار موضوع ،من گھڑت روایات اور قصہ گوئی کےبجاے کتاب وسنت کی صحیح نصوص پر ہے ۔ فاضل مصنف نے ایسا امتیازی اور منفرد اندازِ نگارش اختیار کیا ہے جو اسے تمام دیگر مجموعہ ہائے خطبات سے ممتاز کرتا ہے ۔یہ خطبات جامع بھی ہیں او رمفصل بھی۔ہر موضوع کا مناسب حق ادا کیا گیا ہے ،ان میں کوئی اہم پہلو تشنہ نہیں چھوڑا گیا ۔ایک ایک موضوع پر اتنا علمی مواد مناسب ترتیب کے ساتھ جمع کردیا ہے گیا ہے کہ ایک موضوع دودو تین تین خطبوں کےلیے کافی ہے۔ان اعتبارات سے یہ مجموعۂ خطبات علماء وخطباء اور اہل علم کےلیے بلاشبہ بیش قیمت علمی تحفہ او رآیاتِ قرآنیہ اور احادیث ِصحیحہ کا ایک خزینہ ہے ۔اس کتاب کی جلد اول اور دو م جمعیۃ احیاء التراث الاسلامی کویت کی جانب سے 2008ء میں سب سے پہلے پاکستان میں طبع ہوئیں اور پھر ہندوستان میں ۔برصغیر پاک وہندکے ہزاروں خطباء اور واعظین حضرات میں اس کو تقسیم کیاگیا۔ جمعیت احیاء الترث کی اشاعت کے علاوہ پاک وہند کے بعض اہم مکتبات نے بھی اس کتاب کو شائع کیا اب تک کئی ایڈیشن شائع ہوکر ہزاروں دعاۃ ،واعظین اوراہل علم کےہاتھوں میں پہنچ چکے ہیں جن سے وہ مستفید ہور ہے ہیں ۔دورِ حاضر میں عالمِ اسلام میں اردو زبان میں سلفی منہج وفکرپر مرتب کے جانے والے خطبات میں سب سے زیادہ جن خطبات سے استفادہ کیا جاتا ہے وہ اعزاز ماشاء اللہ زاد الخطیب کو حاصل ہے (اللهم زد فزد)الحمد للہ زاد الخطیب کی مقبولیت کا یہ عالم ہے کہ اس کی افادیت کے پیش نظر اس کے مختلف زبانوں میں ترجمہ کا کام بڑی تیزی سے جاری ہے ۔ پہلی دو جلدوں کا سندھی زبان میں ترجمہ مکمل ہوچکا ہے ۔فارسی اور پشتو زبان میں بھی ترجمہ ہورہا ہے ۔اسی طرح ہندوستان کی بعض علاقائی زبانوں اور بنگالی زبان میں بھی ترجمہ کروانےکا منصوبہ ہے۔فاضل مصنف استاد محترم ڈاکٹر حافظ محمد اسحاق زاہد﷾ زاد الخطیب کے علاوہ تقریبا ایک درجن چھوٹی بڑی کتب کے مصنف ومترجم ہیں ۔محترم حافظ صاحب دینی تعلیم کے حصول کے لیے 1982میں جامعہ لاہور الاسلامیہ،لاہور ( جامعہ رحمانیہ )میں داخل ہوئے اور یہاں ثانوی کے امتحان میں امتیازی نمبر حاصل کرکے اول آنے پر انہیں1986 میں مدینہ یونیورسٹی میں داخلہ کا شرف حاصل ہوا۔مدینہ یونیورسٹی کے کلیۃ الحدیث سے فراغت سے کے بعد 1991ء میں اپنے مادرِ علمی جامعہ لاہور الاسلامیہ میں تدریس کا آغازکیا اور پھر کچھ عرصہ بعدکویت تشریف لے گے قیامِ کویت کے دوران 2007ء میں جامعہ کراچی سے پی ایچ ڈی کی ڈگری حاصل کی ۔پی ایچ ڈی میں تحقیقی مقالہ کاعنوان ''حدیثِ مو ضو ع ، تا ر یخ ، اسباب،علامت اورمشہور موضوع احادیث کاتحقیقی جائزہ'' ہے مقالہ نگار نے یہ مقالہ عربی زبان میں پیش کیا۔موصوف کی تدریسی وتصنیفی خدمات اور مزید تعارف کےلیے زاد الخطیب جلد3 ص5۔10 ملاحظہ فرمائیں۔ زاد االخطیب کی تینوں جلدیں پہلے بھی کتاب وسنت ویب سائٹ موجود ہیں لیکن زیر تبصرہ نئے ایڈیشن میں اس کی پہلی دوجلدوں میں تیسری جلدکی طرح مواد کی سیٹنگ اورحوالہ جات کوجدید اسلوب کے مطابق درج کیا گیا ہے اس لیے جلد اول اور دو م کو دوبارہ کتاب وسنت ویب سائٹ پر اپ ڈیٹ کیا گیا ہے ۔اشاعتِ دین کے لیے اللہ تعالیٰ محترم حافظ صاحب کی تمام مساعی جمیلہ کوشرفِ قبولیت سے نوازے اورزاد الخطیب کی مقبولیت میں مزید اضافہ فرمائے ۔خطباء ومبلغین کو اس نادر علمی ذخیرہ سے مستفید ہونے کی توفیق مرحمت فرمائے اور مصنف موصوف کے علم وعمل میں برکت اور زورِقلم میں اضافہ فرمائے (آمین)(م۔ا)

     

    نوٹ:

    محدث فورم میں اس کتاب پر تبصرہ کرنے کے لیے یہاں کلک کریں

    title-pages-zaad-al-khateeb-2
    ڈاکٹر حافظ محمد اسحاق زاہد

    خطابت اللہ تعالیٰ کی عطاکردہ،خاص استعداد وصلاحیت کا نام ہے جس کےذریعے ایک مبلغ اپنے مافی الضمیر کے اظہار ،اپنے جذبات واحساسات دوسروں تک منتقل کرنے اور عوام الناس کو اپنے افکار ونظریات کا قائل بنانے کے لیے استعمال کرتا ہے ۔ایک قادر الکلام خطیب اور شاندار مقرر مختصر وقت میں ہزاروں ،لاکھوں افراد تک اپنا پیغام پہنچا سکتا ہے اوراپنے عقائد ونظریات ان تک منتقل کرسکتا ہے۔خطابت صرف فن ہی نہیں ہے بلکہ اسلام میں خطابت اعلیٰ درجہ کی عبادت اورعظیم الشان سعادت ہے ۔خوش نصیب ہیں وہ ہستیاں جن کومیدانِ خطابت کے لیے پسند کیا جاتا ہے۔شعلہ نوا خطباء حالات کادھارا بدل دیتے ہیں،ہواؤں کےرخ تبدیل کردیتے ،معاشروں میں انقلاب بپا کردیتے ہیں ۔تاریخ کےہر دورمیں خطابت کو مہتم بالشان اور قابل فخر فن کی حیثیت حاصل رہی ہے اور اقوام وملل او رقبائل کے امراء وزعما کے لیے فصیح اللسان خطیب ہونا لازمی امرتھا۔قبل از اسلام زمانہ جاہلیت کی تاریخ پر سرسری نگاہ ڈالیں تو اس دور میں بھی ہمیں کئی معروف ِ زمانہ فصیح اللسان اور سحر بیان خطباء اس فن کی بلندیوں کو چھوتے ہوئے نظرآتے ہیں۔دورِ اسلام میں فنِ خطابت اپنے اوج کمال تک پہنچ گیا تھا ۔نبی کریم ﷺ خود سحرآفرین اور دلنشیں اندازِ خطابت اور حسنِ خطابت کی تمام خوبیوں سے متصف تھے ۔اللہ تعالیٰ نے ہر دور میں وراثتِ نبوی کے تحفظ اور تبلیغِ دین کےلیے ایسی نابغۂ روز گار اور فرید العصر شخصیات کو پیدا فرمایا کہ جنہوں نے اللہ تعالی کی عطا کردہ صلاحیتوں اور اس کے ودیعت کردہ ملکۂ خطابت سے بھر پور استفادہ کرتے ہوئے پر زور انداز میں دعوت حق کوپیش کیا اور لوگوں کے قلوب واذہان کو کتاب وسنت کے نور سے منور کیا ۔ ماضی قریب میں امام الہند مولانا ابو الکلام آزاد، سیدابو بکر غزنوی، آغا شورش کاشمیری، سید عطاء اللہ بخاری ، حافظ محمد اسماعیل روپڑی،مولانا محمد جونا گڑھی ﷭ وغیرہم کا شمار میدان خطابت کے شہسواروں میں ہوتا ہے ۔اور خطیبِ ملت علامہ احسان الٰہی ظہیر شہید﷫ میدان ِ خطابت کے وہ شہسوار ہیں جنہوں نے اللہ کی توفیق سے ایک نیا طرزِ خطابت ایجاد کیا ۔اور شیخ القرآن مولانا محمدحسین شیخوپوری گلستانِ کتاب وسنت کے وہ بلبل شیدا ہیں کہ دنیا انہیں خطیبِ پاکستان کے لقب سے یاد کرتی ہے۔خطباء ومبلغین اور دعاۃِ اسلام کےلیے زادِراہ ،علمی مواد اور منہج سلف صالحین کےمطابق معلومات کاذخیرہ فراہم کرنا یقیناً عظیم عمل اوردینِ حق کی بہت بڑی خدمت ہے اور واعظین ومبلغین کا بطریق احسن علمی تعاون ہے ۔اس لیے علماء نے ہر دور میں یہ رزیں کارنامہ سرانجام دینے کی کوشش کی ہے تاکہ وہ خطباء ودعاۃ جن کے پاس مصادر ومراجع میسر نہیں یا جن کے پاس وقت کی قلت ہے ان کے لیے خطباء کی تیاری کےلیے آسانی ہوسکے ۔ماضی قریب میں اردوزبان میں خطبات کے مجموعہ جات میں اسلامی خطبات از مولانا عبدالسلام بستوی  ، خطباتِ محمدی از مولانا محمد جونا گڑھی ،خطبات ِنبوی از مولانا محمد داؤد راز اور بعض اہل علم کے ذاتی نام سے (خطبات آزاد ،خطبات علامہ احسان الٰہی ظہیر ، خطبات یزدانی ،مواعظ طارق وغیرہ ) خطبات کے مجموعات قابلِ ذکر ہیں ۔اور عربی زبان میں خطباء واعظین حضرات کے لیے 12 ضخیم مجلدات پر مشتمل ''نضرۃ النعیم ''انتہائی عمدہ کتاب ہے ۔زیر نظر کتاب ''زاد الخطیب''ڈاکٹر حافظ محمد اسحاق زاہد ﷾( فاضل وسابق استاذِ حدیث جامعہ لاہور الاسلامیہ،لاہور؍فاضل مدینہ یونیورسٹی ) کی وہ عظیم الشان تصنیف ہے جو اپنی جملہ خوبیوں(ہر خطبہ کے آغاز میں متعین موضوع کے اہم عناصر کا ذکر۔متعین موضوع اور مواد کے لیے صر ف صحیح احادیث کا انتخاب او رضعیف ،خود ساختہ اور بناوٹی احادیث سے قطعی اجتناب۔ خطبات کی ترتیب میں ترتیبی پہلو۔خطبہ کے شروع میں تمہید کابیان ۔خطبات میں علمی ثقاہت اورجلالت ِبیان کی نمایاں جھلک ۔آیات واحادیث کےمکمل حوالہ جات او رہر دعوی ٰ دلیل سے مزین۔انداز ِ بیان سادہ مگر انتہائی پر مغز ۔آسان محاورات اورسہل عبارات سے اپنا مدعا بیان کر نے کی بھر پور کوشش) کی بناپر تین مجلدات میں 75 علمی موضوعات پر مشتمل خطباتِ جمعہ اپنی نوعیت کا منفرد مجموعہ ہے ۔جس کا دار مدار اورانحصار موضوع ،من گھڑت روایات اور قصہ گوئی کےبجاے کتاب وسنت کی صحیح نصوص پر ہے ۔ فاضل مصنف نے ایسا امتیازی اور منفرد اندازِ نگارش اختیار کیا ہے جو اسے تمام دیگر مجموعہ ہائے خطبات سے ممتاز کرتا ہے ۔یہ خطبات جامع بھی ہیں او رمفصل بھی۔ہر موضوع کا مناسب حق ادا کیا گیا ہے ،ان میں کوئی اہم پہلو تشنہ نہیں چھوڑا گیا ۔ایک ایک موضوع پر اتنا علمی مواد مناسب ترتیب کے ساتھ جمع کردیا ہے گیا ہے کہ ایک موضوع دودو تین تین خطبوں کےلیے کافی ہے۔ان اعتبارات سے یہ مجموعۂ خطبات علماء وخطباء اور اہل علم کےلیے بلاشبہ بیش قیمت علمی تحفہ او رآیاتِ قرآنیہ اور احادیث ِصحیحہ کا ایک خزینہ ہے ۔اس کتاب کی جلد اول اور دو م جمعیۃ احیاء التراث الاسلامی کویت کی جانب سے 2008ء میں سب سے پہلے پاکستان میں طبع ہوئیں اور پھر ہندوستان میں ۔برصغیر پاک وہندکے ہزاروں خطباء اور واعظین حضرات میں اس کو تقسیم کیاگیا۔ جمعیت احیاء الترث کی اشاعت کے علاوہ پاک وہند کے بعض اہم مکتبات نے بھی اس کتاب کو شائع کیا اب تک کئی ایڈیشن شائع ہوکر ہزاروں دعاۃ ،واعظین اوراہل علم کےہاتھوں میں پہنچ چکے ہیں جن سے وہ مستفید ہور ہے ہیں ۔دورِ حاضر میں عالمِ اسلام میں اردو زبان میں سلفی منہج وفکرپر مرتب کے جانے والے خطبات میں سب سے زیادہ جن خطبات سے استفادہ کیا جاتا ہے وہ اعزاز ماشاء اللہ زاد الخطیب کو حاصل ہے (اللهم زد فزد)الحمد للہ زاد الخطیب کی مقبولیت کا یہ عالم ہے کہ اس کی افادیت کے پیش نظر اس کے مختلف زبانوں میں ترجمہ کا کام بڑی تیزی سے جاری ہے ۔ پہلی دو جلدوں کا سندھی زبان میں ترجمہ مکمل ہوچکا ہے ۔فارسی اور پشتو زبان میں بھی ترجمہ ہورہا ہے ۔اسی طرح ہندوستان کی بعض علاقائی زبانوں اور بنگالی زبان میں بھی ترجمہ کروانےکا منصوبہ ہے۔فاضل مصنف استاد محترم ڈاکٹر حافظ محمد اسحاق زاہد﷾ زاد الخطیب کے علاوہ تقریبا ایک درجن چھوٹی بڑی کتب کے مصنف ومترجم ہیں ۔محترم حافظ صاحب دینی تعلیم کے حصول کے لیے 1982میں جامعہ لاہور الاسلامیہ،لاہور ( جامعہ رحمانیہ )میں داخل ہوئے اور یہاں ثانوی کے امتحان میں امتیازی نمبر حاصل کرکے اول آنے پر انہیں1986 میں مدینہ یونیورسٹی میں داخلہ کا شرف حاصل ہوا۔مدینہ یونیورسٹی کے کلیۃ الحدیث سے فراغت سے کے بعد 1991ء میں اپنے مادرِ علمی جامعہ لاہور الاسلامیہ میں تدریس کا آغازکیا اور پھر کچھ عرصہ بعدکویت تشریف لے گے قیامِ کویت کے دوران 2007ء میں جامعہ کراچی سے پی ایچ ڈی کی ڈگری حاصل کی ۔پی ایچ ڈی میں تحقیقی مقالہ کاعنوان ''حدیثِ مو ضو ع ، تا ر یخ ، اسباب،علامت اورمشہور موضوع احادیث کاتحقیقی جائزہ'' ہے مقالہ نگار نے یہ مقالہ عربی زبان میں پیش کیا۔موصوف کی تدریسی وتصنیفی خدمات اور مزید تعارف کےلیے زاد الخطیب جلد3 ص5۔10 ملاحظہ فرمائیں۔ زاد االخطیب کی تینوں جلدیں پہلے بھی کتاب وسنت ویب سائٹ موجود ہیں لیکن زیر تبصرہ نئے ایڈیشن میں اس کی پہلی دوجلدوں میں تیسری جلدکی طرح مواد کی سیٹنگ اورحوالہ جات کوجدید اسلوب کے مطابق درج کیا گیا ہے اس لیے جلد اول اور دو م کو دوبارہ کتاب وسنت ویب سائٹ پر اپ ڈیٹ کیا گیا ہے ۔اشاعتِ دین کے لیے اللہ تعالیٰ محترم حافظ صاحب کی تمام مساعی جمیلہ کوشرفِ قبولیت سے نوازے اورزاد الخطیب کی مقبولیت میں مزید اضافہ فرمائے ۔خطباء ومبلغین کو اس نادر علمی ذخیرہ سے مستفید ہونے کی توفیق مرحمت فرمائے اور مصنف موصوف کے علم وعمل میں برکت اور زورِقلم میں اضافہ فرمائے (آمین)(م۔ا)

     

    نوٹ:

    محدث فورم میں اس کتاب پر تبصرہ کرنے کے لیے یہاں کلک کریں

    title-pages-zaad-ul-khateeb-3
    ڈاکٹر حافظ محمد اسحاق زاہد

    خطابت اللہ تعالیٰ کی عطاکردہ،خاص استعداد وصلاحیت کا نام ہے جس کےذریعے ایک مبلغ اپنے مافی الضمیر کے اظہار ،اپنے جذبات واحساسات دوسروں تک منتقل کرنے اور عوام الناس کو اپنے افکار ونظریات کا قائل بنانے کے لیے استعمال کرتا ہے ۔ایک قادر الکلام خطیب اور شاندار مقرر مختصر وقت میں ہزاروں ،لاکھوں افراد تک اپنا پیغام پہنچا سکتا ہے اوراپنے عقائد ونظریات ان تک منتقل کرسکتا ہے۔خطابت صرف فن ہی نہیں ہے بلکہ اسلام میں خطابت اعلیٰ درجہ کی عبادت اورعظیم الشان سعادت ہے ۔خوش نصیب ہیں وہ ہستیاں جن کومیدانِ خطابت کے لیے پسند کیا جاتا ہے۔شعلہ نوا خطباء حالات کادھارا بدل دیتے ہیں،ہواؤں کےرخ تبدیل کردیتے ،معاشروں میں انقلاب بپا کردیتے ہیں ۔تاریخ کےہر دورمیں خطابت کو مہتم بالشان اور قابل فخر فن کی حیثیت حاصل رہی ہے اور اقوام وملل او رقبائل کے امراء وزعما کے لیے فصیح اللسان خطیب ہونا لازمی امرتھا۔قبل از اسلام زمانہ جاہلیت کی تاریخ پر سرسری نگاہ ڈالیں تو اس دور میں بھی ہمیں کئی معروف ِ زمانہ فصیح اللسان اور سحر بیان خطباء اس فن کی بلندیوں کو چھوتے ہوئے نظرآتے ہیں۔دورِ اسلام میں فنِ خطابت اپنے اوج کمال تک پہنچ گیا تھا ۔نبی کریم ﷺ خود سحرآفرین اور دلنشیں اندازِ خطابت اور حسنِ خطابت کی تمام خوبیوں سے متصف تھے ۔اللہ تعالیٰ نے ہر دور میں وراثتِ نبوی کے تحفظ اور تبلیغِ دین کےلیے ایسی نابغۂ روز گار اور فرید العصر شخصیات کو پیدا فرمایا کہ جنہوں نے اللہ تعالی کی عطا کردہ صلاحیتوں اور اس کے ودیعت کردہ ملکۂ خطابت سے بھر پور استفادہ کرتے ہوئے پر زور انداز میں دعوت حق کوپیش کیا اور لوگوں کے قلوب واذہان کو کتاب وسنت کے نور سے منور کیا ۔ ماضی قریب میں امام الہند مولانا ابو الکلام آزاد، سیدابو بکر غزنوی، آغا شورش کاشمیری، سید عطاء اللہ بخاری ، حافظ محمد اسماعیل روپڑی،مولانا محمد جونا گڑھی ﷭ وغیرہم کا شمار میدان خطابت کے شہسواروں میں ہوتا ہے ۔اور خطیبِ ملت علامہ احسان الٰہی ظہیر شہید﷫ میدان ِ خطابت کے وہ شہسوار ہیں جنہوں نے اللہ کی توفیق سے ایک نیا طرزِ خطابت ایجاد کیا ۔اور شیخ القرآن مولانا محمدحسین شیخوپوری گلستانِ کتاب وسنت کے وہ بلبل شیدا ہیں کہ دنیا انہیں خطیبِ پاکستان کے لقب سے یاد کرتی ہے۔خطباء ومبلغین اور دعاۃِ اسلام کےلیے زادِراہ ،علمی مواد اور منہج سلف صالحین کےمطابق معلومات کاذخیرہ فراہم کرنا یقیناً عظیم عمل اوردینِ حق کی بہت بڑی خدمت ہے اور واعظین ومبلغین کا بطریق احسن علمی تعاون ہے ۔اس لیے علماء نے ہر دور میں یہ رزیں کارنامہ سرانجام دینے کی کوشش کی ہے تاکہ وہ خطباء ودعاۃ جن کے پاس مصادر ومراجع میسر نہیں یا جن کے پاس وقت کی قلت ہے ان کے لیے خطباء کی تیاری کےلیے آسانی ہوسکے ۔ماضی قریب میں اردوزبان میں خطبات کے مجموعہ جات میں اسلامی خطبات از مولانا عبدالسلام بستوی  ، خطباتِ محمدی از مولانا محمد جونا گڑھی ،خطبات ِنبوی از مولانا محمد داؤد راز اور بعض اہل علم کے ذاتی نام سے (خطبات آزاد ،خطبات علامہ احسان الٰہی ظہیر ، خطبات یزدانی ،مواعظ طارق وغیرہ ) خطبات کے مجموعات قابلِ ذکر ہیں ۔اور عربی زبان میں خطباء واعظین حضرات کے لیے 12 ضخیم مجلدات پر مشتمل ''نضرۃ النعیم ''انتہائی عمدہ کتاب ہے ۔زیر نظر کتاب ''زاد الخطیب''ڈاکٹر حافظ محمد اسحاق زاہد ﷾( فاضل وسابق استاذِ حدیث جامعہ لاہور الاسلامیہ،لاہور؍فاضل مدینہ یونیورسٹی ) کی وہ عظیم الشان تصنیف ہے جو اپنی جملہ خوبیوں(ہر خطبہ کے آغاز میں متعین موضوع کے اہم عناصر کا ذکر۔متعین موضوع اور مواد کے لیے صر ف صحیح احادیث کا انتخاب او رضعیف ،خود ساختہ اور بناوٹی احادیث سے قطعی اجتناب۔ خطبات کی ترتیب میں ترتیبی پہلو۔خطبہ کے شروع میں تمہید کابیان ۔خطبات میں علمی ثقاہت اورجلالت ِبیان کی نمایاں جھلک ۔آیات واحادیث کےمکمل حوالہ جات او رہر دعوی ٰ دلیل سے مزین۔انداز ِ بیان سادہ مگر انتہائی پر مغز ۔آسان محاورات اورسہل عبارات سے اپنا مدعا بیان کر نے کی بھر پور کوشش) کی بناپر تین مجلدات میں 75 علمی موضوعات پر مشتمل خطباتِ جمعہ اپنی نوعیت کا منفرد مجموعہ ہے ۔جس کا دار مدار اورانحصار موضوع ،من گھڑت روایات اور قصہ گوئی کےبجاے کتاب وسنت کی صحیح نصوص پر ہے ۔ فاضل مصنف نے ایسا امتیازی اور منفرد اندازِ نگارش اختیار کیا ہے جو اسے تمام دیگر مجموعہ ہائے خطبات سے ممتاز کرتا ہے ۔یہ خطبات جامع بھی ہیں او رمفصل بھی۔ہر موضوع کا مناسب حق ادا کیا گیا ہے ،ان میں کوئی اہم پہلو تشنہ نہیں چھوڑا گیا ۔ایک ایک موضوع پر اتنا علمی مواد مناسب ترتیب کے ساتھ جمع کردیا ہے گیا ہے کہ ایک موضوع دودو تین تین خطبوں کےلیے کافی ہے۔ان اعتبارات سے یہ مجموعۂ خطبات علماء وخطباء اور اہل علم کےلیے بلاشبہ بیش قیمت علمی تحفہ او رآیاتِ قرآنیہ اور احادیث ِصحیحہ کا ایک خزینہ ہے ۔اس کتاب کی جلد اول اور دو م جمعیۃ احیاء التراث الاسلامی کویت کی جانب سے 2008ء میں سب سے پہلے پاکستان میں طبع ہوئیں اور پھر ہندوستان میں ۔برصغیر پاک وہندکے ہزاروں خطباء اور واعظین حضرات میں اس کو تقسیم کیاگیا۔ جمعیت احیاء الترث کی اشاعت کے علاوہ پاک وہند کے بعض اہم مکتبات نے بھی اس کتاب کو شائع کیا اب تک کئی ایڈیشن شائع ہوکر ہزاروں دعاۃ ،واعظین اوراہل علم کےہاتھوں میں پہنچ چکے ہیں جن سے وہ مستفید ہور ہے ہیں ۔دورِ حاضر میں عالمِ اسلام میں اردو زبان میں سلفی منہج وفکرپر مرتب کے جانے والے خطبات میں سب سے زیادہ جن خطبات سے استفادہ کیا جاتا ہے وہ اعزاز ماشاء اللہ زاد الخطیب کو حاصل ہے (اللهم زد فزد)الحمد للہ زاد الخطیب کی مقبولیت کا یہ عالم ہے کہ اس کی افادیت کے پیش نظر اس کے مختلف زبانوں میں ترجمہ کا کام بڑی تیزی سے جاری ہے ۔ پہلی دو جلدوں کا سندھی زبان میں ترجمہ مکمل ہوچکا ہے ۔فارسی اور پشتو زبان میں بھی ترجمہ ہورہا ہے ۔اسی طرح ہندوستان کی بعض علاقائی زبانوں اور بنگالی زبان میں بھی ترجمہ کروانےکا منصوبہ ہے۔فاضل مصنف استاد محترم ڈاکٹر حافظ محمد اسحاق زاہد﷾ زاد الخطیب کے علاوہ تقریبا ایک درجن چھوٹی بڑی کتب کے مصنف ومترجم ہیں ۔محترم حافظ صاحب دینی تعلیم کے حصول کے لیے 1982میں جامعہ لاہور الاسلامیہ،لاہور ( جامعہ رحمانیہ )میں داخل ہوئے اور یہاں ثانوی کے امتحان میں امتیازی نمبر حاصل کرکے اول آنے پر انہیں1986 میں مدینہ یونیورسٹی میں داخلہ کا شرف حاصل ہوا۔مدینہ یونیورسٹی کے کلیۃ الحدیث سے فراغت سے کے بعد 1991ء میں اپنے مادرِ علمی جامعہ لاہور الاسلامیہ میں تدریس کا آغازکیا اور پھر کچھ عرصہ بعدکویت تشریف لے گے قیامِ کویت کے دوران 2007ء میں جامعہ کراچی سے پی ایچ ڈی کی ڈگری حاصل کی ۔پی ایچ ڈی میں تحقیقی مقالہ کاعنوان ''حدیثِ مو ضو ع ، تا ر یخ ، اسباب،علامت اورمشہور موضوع احادیث کاتحقیقی جائزہ'' ہے مقالہ نگار نے یہ مقالہ عربی زبان میں پیش کیا۔موصوف کی تدریسی وتصنیفی خدمات اور مزید تعارف کےلیے زاد الخطیب جلد3 ص5۔10 ملاحظہ فرمائیں۔ زاد االخطیب کی تینوں جلدیں پہلے بھی کتاب وسنت ویب سائٹ موجود ہیں لیکن زیر تبصرہ نئے ایڈیشن میں اس کی پہلی دوجلدوں میں تیسری جلدکی طرح مواد کی سیٹنگ اورحوالہ جات کوجدید اسلوب کے مطابق درج کیا گیا ہے اس لیے جلد اول اور دو م کو دوبارہ کتاب وسنت ویب سائٹ پر اپ ڈیٹ کیا گیا ہے ۔اشاعتِ دین کے لیے اللہ تعالیٰ محترم حافظ صاحب کی تمام مساعی جمیلہ کوشرفِ قبولیت سے نوازے اورزاد الخطیب کی مقبولیت میں مزید اضافہ فرمائے ۔خطباء ومبلغین کو اس نادر علمی ذخیرہ سے مستفید ہونے کی توفیق مرحمت فرمائے اور مصنف موصوف کے علم وعمل میں برکت اور زورِقلم میں اضافہ فرمائے (آمین)(م۔ا)

     

    نوٹ:

    محدث فورم میں اس کتاب پر تبصرہ کرنے کے لیے یہاں کلک کریں

    title-pages-zaad-ul-khateeb-4-copy
    ڈاکٹر حافظ محمد اسحاق زاہد

    خطابت اللہ تعالیٰ کی عطاکردہ،خاص استعداد وصلاحیت کا نام ہے جس کےذریعے ایک مبلغ اپنے مافی الضمیر کے اظہار ،اپنے جذبات واحساسات دوسروں تک منتقل کرنے اور عوام الناس کو اپنے افکار ونظریات کا قائل بنانے کے لیے استعمال کرتا ہے ۔ایک قادر الکلام خطیب اور شاندار مقرر مختصر وقت میں ہزاروں ،لاکھوں افراد تک اپنا پیغام پہنچا سکتا ہے اوراپنے عقائد ونظریات ان تک منتقل کرسکتا ہے۔خطابت صرف فن ہی نہیں ہے بلکہ اسلام میں خطابت اعلیٰ درجہ کی عبادت اورعظیم الشان سعادت ہے ۔خوش نصیب ہیں وہ ہستیاں جن کومیدانِ خطابت کے لیے پسند کیا جاتا ہے۔شعلہ نوا خطباء حالات کادھارا بدل دیتے ہیں،ہواؤں کےرخ تبدیل کردیتے ،معاشروں میں انقلاب بپا کردیتے ہیں ۔تاریخ کےہر دورمیں خطابت کو مہتم بالشان اور قابل فخر فن کی حیثیت حاصل رہی ہے اور اقوام وملل او رقبائل کے امراء وزعما کے لیے فصیح اللسان خطیب ہونا لازمی امرتھا۔قبل از اسلام زمانہ جاہلیت کی تاریخ پر سرسری نگاہ ڈالیں تو اس دور میں بھی ہمیں کئی معروف ِ زمانہ فصیح اللسان اور سحر بیان خطباء اس فن کی بلندیوں کو چھوتے ہوئے نظرآتے ہیں۔دورِ اسلام میں فنِ خطابت اپنے اوج کمال تک پہنچ گیا تھا ۔نبی کریم ﷺ خود سحرآفرین اور دلنشیں اندازِ خطابت اور حسنِ خطابت کی تمام خوبیوں سے متصف تھے ۔اللہ تعالیٰ نے ہر دور میں وراثتِ نبوی کے تحفظ اور تبلیغِ دین کےلیے ایسی نابغۂ روز گار اور فرید العصر شخصیات کو پیدا فرمایا کہ جنہوں نے اللہ تعالی کی عطا کردہ صلاحیتوں اور اس کے ودیعت کردہ ملکۂ خطابت سے بھر پور استفادہ کرتے ہوئے پر زور انداز میں دعوت حق کوپیش کیا اور لوگوں کے قلوب واذہان کو کتاب وسنت کے نور سے منور کیا ۔ ماضی قریب میں امام الہند مولانا ابو الکلام آزاد، سیدابو بکر غزنوی، آغا شورش کاشمیری، سید عطاء اللہ بخاری ، حافظ محمد اسماعیل روپڑی،مولانا محمد جونا گڑھی ﷭ وغیرہم کا شمار میدان خطابت کے شہسواروں میں ہوتا ہے ۔اور خطیبِ ملت علامہ احسان الٰہی ظہیر شہید﷫ میدان ِ خطابت کے وہ شہسوار ہیں جنہوں نے اللہ کی توفیق سے ایک نیا طرزِ خطابت ایجاد کیا ۔اور شیخ القرآن مولانا محمدحسین شیخوپوری گلستانِ کتاب وسنت کے وہ بلبل شیدا ہیں کہ دنیا انہیں خطیبِ پاکستان کے لقب سے یاد کرتی ہے۔خطباء ومبلغین اور دعاۃِ اسلام کےلیے زادِراہ ،علمی مواد اور منہج سلف صالحین کےمطابق معلومات کاذخیرہ فراہم کرنا یقیناً عظیم عمل اوردینِ حق کی بہت بڑی خدمت ہے اور واعظین ومبلغین کا بطریق احسن علمی تعاون ہے ۔اس لیے علماء نے ہر دور میں یہ رزیں کارنامہ سرانجام دینے کی کوشش کی ہے تاکہ وہ خطباء ودعاۃ جن کے پاس مصادر ومراجع میسر نہیں یا جن کے پاس وقت کی قلت ہے ان کے لیے خطباء کی تیاری کےلیے آسانی ہوسکے ۔ماضی قریب میں اردوزبان میں خطبات کے مجموعہ جات میں اسلامی خطبات از مولانا عبدالسلام بستوی  ، خطباتِ محمدی از مولانا محمد جونا گڑھی ،خطبات ِنبوی از مولانا محمد داؤد راز اور بعض اہل علم کے ذاتی نام سے (خطبات آزاد ،خطبات علامہ احسان الٰہی ظہیر ، خطبات یزدانی ،مواعظ طارق وغیرہ ) خطبات کے مجموعات قابلِ ذکر ہیں ۔اور عربی زبان میں خطباء واعظین حضرات کے لیے 12 ضخیم مجلدات پر مشتمل ’’نضرۃ النعیم ‘‘انتہائی عمدہ کتاب ہے ۔
    زیر نظر کتاب ’’زاد الخطیب‘‘ڈاکٹر حافظ محمد اسحاق زاہد ﷾( فاضل وسابق استاذِ حدیث جامعہ لاہور الاسلامیہ،لاہور؍فاضل مدینہ یونیورسٹی ) کی وہ عظیم الشان تصنیف ہے جو اپنی جملہ خوبیوں(ہر خطبہ کے آغاز میں متعین موضوع کے اہم عناصر کا ذکر۔متعین موضوع اور مواد کے لیے صر ف صحیح احادیث کا انتخاب او رضعیف ،خود ساختہ اور بناوٹی احادیث سے قطعی اجتناب۔ خطبات کی ترتیب میں ترتیبی پہلو۔خطبہ کے شروع میں تمہید کابیان ۔خطبات میں علمی ثقاہت اورجلالت ِبیان کی نمایاں جھلک ۔آیات واحادیث کےمکمل حوالہ جات او رہر دعوی ٰ دلیل سے مزین۔انداز ِ بیان سادہ مگر انتہائی پر مغز ۔آسان محاورات اورسہل عبارات سے اپنا مدعا بیان کر نے کی بھر پور کوشش) کی بناپر چار مجلدات میں 100 علمی موضوعات پر مشتمل خطباتِ جمعہ اپنی نوعیت کا منفرد مجموعہ ہے ۔جس کا دار مدار اورانحصار موضوع ،من گھڑت روایات اور قصہ گوئی کےبجاے کتاب وسنت کی صحیح نصوص پر ہے ۔ فاضل مصنف نے ایسا امتیازی اور منفرد اندازِ نگارش اختیار کیا ہے جو اسے تمام دیگر مجموعہ ہائے خطبات سے ممتاز کرتا ہے ۔یہ خطبات جامع بھی ہیں او رمفصل بھی۔ہر موضوع کا مناسب حق ادا کیا گیا ہے ،ان میں کوئی اہم پہلو تشنہ نہیں چھوڑا گیا ۔ایک ایک موضوع پر اتنا علمی مواد مناسب ترتیب کے ساتھ جمع کردیا ہے گیا ہے کہ ایک موضوع دودو تین تین خطبوں کےلیے کافی ہے۔ان اعتبارات سے یہ مجموعۂ خطبات علماء وخطباء اور اہل علم کےلیے بلاشبہ بیش قیمت علمی تحفہ او رآیاتِ قرآنیہ اور احادیث ِصحیحہ کا ایک خزینہ ہے ۔زاد الخطیب کی جلد اول اور دو م جمعیۃ احیاء التراث الاسلامی کویت کی جانب سے 2008ء میں سب سے پہلے پاکستان میں طبع ہوئیں اور پھر ہندوستان میں ۔برصغیر پاک وہندکے ہزاروں خطباء اور واعظین حضرات میں اس کو تقسیم کیاگیا۔ جمعیت احیاء الترث کی اشاعت کے علاوہ پاک وہند کے بعض اہم مکتبات نے بھی اس کتاب کو شائع کیا اب تک کئی ایڈیشن شائع ہوکر ہزاروں دعاۃ ،واعظین اوراہل علم کےہاتھوں میں پہنچ چکے ہیں جن سے وہ مستفید ہور ہے ہیں ۔دورِ حاضر میں عالمِ اسلام میں اردو زبان میں سلفی منہج وفکرپر مرتب کے جانے والے خطبات میں سب سے زیادہ جن خطبات سے استفادہ کیا جاتا ہے وہ اعزاز ماشاء اللہ زاد الخطیب کو حاصل ہے (اللهم زد فزد)الحمد للہ زاد الخطیب کی مقبولیت کا یہ عالم ہے کہ اس کی افادیت کے پیش نظر اس کے مختلف زبانوں میں ترجمہ کا کام بڑی تیزی سے جاری ہے ۔ پہلی دو جلدوں کا سندھی زبان میں ترجمہ مکمل ہوچکا ہے ۔فارسی اور پشتو زبان میں بھی ترجمہ ہورہا ہے ۔اسی طرح ہندوستان کی بعض علاقائی زبانوں اور بنگالی زبان میں بھی ترجمہ کروانےکا منصوبہ ہے۔فاضل مصنف استاد محترم ڈاکٹر حافظ محمد اسحاق زاہد﷾ زاد الخطیب کے علاوہ تقریبا ایک درجن چھوٹی بڑی کتب کے مصنف ومترجم ہیں ۔محترم حافظ صاحب دینی تعلیم کے حصول کے لیے 1982میں جامعہ لاہور الاسلامیہ،لاہور ( جامعہ رحمانیہ )میں داخل ہوئے اور یہاں ثانوی کے امتحان میں امتیازی نمبر حاصل کرکے اول آنے پر انہیں1986 میں مدینہ یونیورسٹی میں داخلہ کا شرف حاصل ہوا۔مدینہ یونیورسٹی کے کلیۃ الحدیث سے فراغت سے کے بعد 1991ء میں اپنے مادرِ علمی جامعہ لاہور الاسلامیہ میں تدریس کا آغازکیا اور پھر کچھ عرصہ بعدکویت تشریف لے گے قیامِ کویت کے دوران 2007ء میں جامعہ کراچی سے پی ایچ ڈی کی ڈگری حاصل کی ۔پی ایچ ڈی میں تحقیقی مقالہ کاعنوان ’’حدیثِ مو ضو ع ، تا ر یخ ، اسباب،علامت اورمشہور موضوع احادیث کاتحقیقی جائزہ‘‘ ہے مقالہ نگار نے یہ مقالہ عربی زبان میں پیش کیا۔موصوف کی تدریسی وتصنیفی خدمات اور مزید تعارف کےلیے زاد الخطیب جلد3 ص5۔10 ملاحظہ فرمائیں۔ زاد االخطیب کی تین جلدیں پہلے کتاب وسنت ویب سائٹ موجود ہیں اب چوتھی جلد کوویب سائٹ پر پبلش کیا گیا ہے ۔ اس جلد میں بھی پہلی تین جلدوں کی طرح پچیس خطبات ہیں یوں چاروں جلدوںمیں خطبات کی تعداد سو پوری ہوگی ہے۔محترم حافظ صاحب نےاس جلد میں ماشاء اللہ بڑے اہم اور متنوع موضوعات شامل کیے ہیں۔اللہ تعالیٰ حافظ صاحب کو خطبات کے اس مبارک سلسلہ کو جاری رکھنے کی توفیق دے اور حافظ صاحب کو صحت وعافیت والی بابرکت زندگی نصیب فرمائے اور اشاعتِ دین کے لیے اللہ تعالیٰ محترم حافظ صاحب کی تمام مساعی جمیلہ کوشرفِ قبولیت سے نوازے اورزاد الخطیب کی مقبولیت میں مزید اضافہ فرمائے ۔خطباء ومبلغین کو اس نادر علمی ذخیرہ سے مستفید ہونے کی توفیق مرحمت فرمائے اور مصنف موصوف کے علم وعمل میں برکت اور زورِقلم میں اضافہ فرمائے (آمین)(م۔ا)

    title-pages-fazail-e-sahabar
    ڈاکٹر حافظ محمد اسحاق زاہد
    صحابہ کرامؓ وہ نفوس قدسیہ ہیں جن کو ربّ کائنات نے اپنے آخری پیغمبر حضرت محمد ﷺ کی صحبت کے لئے چنا ہے۔ اس بابرکت جماعت کی فضیلت و منقبت کے لئے یہ بات ہی کافی ہے کہ پروردگار، ان سب سے راضی ہو چکا ہے اور وہ اپنے پروردگار سے راضی ہو چکے ہیں۔ وحی الٰہی کے اوّلین مخاطب بھی أصحاب رسولؐ ہیں۔ جنہوں نے دینِ اسلام کے لئے اپنا تن من دھن قربان کر دیا اور شیوۂ فرمانبرداری کی ایسی مثالیں رقم کیں جو رہتی دنیا تک پڑھی اور سنی جاتی رہیں گی۔ زیر نظر کتابچہ میں ڈاکٹر اسحاق زاہد صاحب نے قرآن و سنت کی صریح نصوص کی روشنی میں نہ صرف صحابہ کرام کے فضائل و مناقب کو بیان کیا ہے بلکہ اہل بیت اطہار کے فضائل و مناقب کو بھی بیان کیا ہے۔ ان کے درمیان آپس میں محبت بھرے تعلقات، باہمی رشتے داریاں اور اہل سنت والجماعت کا صحابہ کرام اور اہل بیت کے متعلق عقیدہ جیسے اہم عناوین رسالہ ھٰذا کی زینت ہیں۔ رسالہ ھذا اگرچہ مختصر ہے تاہم دفاع صحابہ کرام و اہل بیت اطہار کے حوالے سے ایک مفید کوشش ہے۔ (آ۔ہ)

    نوٹ:
    محدث فورم میں اس کتاب پر تبصرہ کرنے کے لیے یہاں کلک کریں
    title-pages-fazilat-bait-ul-muqaddas-aur-falasteen-w-shaam-copy
    ڈاکٹر حافظ محمد اسحاق زاہد

    اسلام اور ملتِ اسلامیہ  کے خلاف یہودیوں کی دشمنی تاریخ  کا ایک  مستقل باب ہے ۔یہودِ مدینہ  نے عہد رسالت مآب میں جو شورشیں اور سازشیں کیں ان سے  تاریخِ اسلام کا ہر طالب علم آگاہ ہے ۔ گزشتہ  چودہ صدیوں سے یہود نے مسلمانوں کےخلاف بالخصوص اور دیگر انسانیت کے خلاف بالعموم معادانہ رویہ اپنا رکھا ہے ۔بیسویں صدی کےحادثات وسانحات میں سب سے بڑا سانحہ مسئلہ فلسطین ہے ۔ یہود ونصاریٰ  نےیہ مسئلہ پیدا کر کے  گویا اسلام  کےدل میں خنجر گھونپ رکھا ہے ۔1948ء میں  اسرائیل کے قیام کےبعد  یورپ سے آئے ہو غاصب یہودیوں نے ہزاروں سال سے  فلسطین میں آباد فلسطینیوں کو ان کی زمینوں اور جائدادوں سے بے  دخل کر کے انہیں  کمیپوں  میں نہایت ابتر حالت میں زندگی بسر کرنے  پر مجبور کردیا ہے۔ گزشتہ  نصف صدی سے زائد عرصہ کے دوران اسرائیلی یہودیوں کی جارحانہ  کاروائیوں اور جنگوں میں ہزاروں لاکھوں فلسطینی  مسلمان شہید ، زخمی  یا بے گھر ہوچکے ہیں  اورلاکھوں افراد مقبوضہ فلسطین کے اندر یا آس پاس کےملکوں میں کیمپوں کے اندر  قابلِ رحمت حالت میں زندگی بسر کررہے ہیں۔اوراقوام متحدہ اوراس کے کرتا دھرتا امریکہ اور پورپ کےممالک یہودیوں کے سرپرست اور پشتیبان بنے ہوئے ہیں۔عالمِ اسلام کو خوابِ غفلت سےجگانے اور مسئلہ فلسطین کواجاگر کر نےکےلیے  نومبر2000ء میں ’’ جمعیۃ احیاء التراث الاسلامی‘‘  کویت نے (بیت  المقدس ہمارا ہے ) کے عنوان کے تحت دوسرا’’ہفتہ اقصیٰ ‘‘منایا جس میں  مسجد اقصیٰ کی فضیلت ،تاریخ اور  اس کے خلاف یہودی سازشوں پر متعدد لیکچرز دیے گئے۔نیراس کے بارے  ایک تصویری نمائش کا اہتمام  کیا گیا۔  اور فضائل  بیت المقدس  پر  لڑیچر  تقسیم کیا گیا ۔ زیر تبصرہ  کتاب’’ فضلیت بیت المقدس اور  فلسطین وشام ‘‘اسی عربی لٹریچر کا  ترجمہ ہے ۔محترم ڈاکٹر حافظ محمد اسحاق زاہد﷾ (فاضل جامعہ لاہور الاسلامیہ و مدینہ یونیورسٹی )  نے  اسی موضوع پر مزید کتب  سے استفادہ کرکے اس لٹریچر کو  اردو داں طبقے  کےلیے  اردو زبان میں  منتقل کیا  کیونکہ اردو زبان میں اس نوعیت کالٹریچر موجود نہیں تھا۔تاکہ عربی زبان سے ناآشنا لوگ بھی اس اہم مسئلے کے متعلق آگاہی حاصل کرسکیں۔مولانا شفیق االرحمن فرخ اور  معروف  صحافی  اور تاریخ دان جناب محسن فارانی صاحب نے کتاب کی نظرثانی اور اس میں مزید اضافہ جات کا کام  خاصی محنت سے کیا  جس  سےاس کی افادیت  میں مزید اضافہ ہوگیا ہے ۔  مترجم  کتاب  ہذا  استاد محترم ڈاکٹر  حافظ محمد اسحاق  زاہد﷾ اس  کتاب  کے علاوہ تقریبا ایک درجن چھوٹی بڑی کتب کے مصنف ومترجم ہیں اور برصغیر  پاک  وہند  کےخطباء ومبلغین کے  ہاں مقبولِ عام  تین جلدوں پر مشتمل  کتاب زادالخطیب بھی موصوف ہی کی عظیم تصنیف ہے  ۔محترم  حافظ صاحب   دینی تعلیم کے  حصول  کے لیے  1982میں جامعہ لاہور الاسلامیہ،لاہور ( جامعہ رحمانیہ )میں داخل ہوئے اور یہاں ثانوی کے امتحان میں  امتیازی نمبر حاصل کرکے  اول  آنے پر انہیں1986 میں  مدینہ یونیورسٹی میں داخلہ  کا شرف حاصل  ہوا۔مدینہ یونیورسٹی کے  کلیۃ الحدیث سے فراغت سے   کے بعد  1991ء میں اپنے  مادرِ علمی  جامعہ لاہور الاسلامیہ  میں  تدریس کا آغازکیا اور پھر کچھ عرصہ  بعدکویت تشریف لے گئے قیامِ کویت کے دوران 2007ء میں جامعہ کراچی سے پی ایچ ڈی کی ڈگری حاصل کی ۔پی ایچ ڈی میں تحقیقی مقالہ کاعنوان ’’حدیثِ مو ضو ع ، تا ر یخ ، اسباب،علامت اورمشہور موضوع احادیث کاتحقیقی جائزہ‘‘ ہے مقالہ نگار نے یہ مقالہ عربی زبان میں  پیش کیا۔موصوف کی تدریسی وتصنیفی خدمات اور مزید تعارف کےلیے  زاد الخطیب جلد3 ص5۔10 ملاحظہ فرمائیں۔اللہ تعالیٰ مترجم وناشر اور اس کتاب کو  طباعت  کےلیے تیار کرنےوالے  احباب  کی اس کاوش کو قبول فرمائے اور مسلمانوں کےقبلۂ اول  کو آزاد  اور دنیا بھر کےمظلوم مسلمانوں کی مددفرمائے (م۔ا)
    نوٹ:

    محدث فورم میں اس کتاب پر تبصرہ کرنے کے لیے یہاں کلک کریں

    pages-from-ahl-e-hadees-aur-ulamaa-e-haramain
    ڈاکٹر حافظ محمد اسحاق زاہد

    دنیا جہان میں مختلف نقطہ نگاہ رکھنے والوں کی کسی طور پربھی کمی نہیں ہے ۔انسانوں کا باہمی اختلاف ایک فطری امر ہے لیکن اس اختلاف کو بنیاد بنا کر جھگڑے اور فساد کی راہ ہموار کرنا قابل نفرین عمل ہے۔دین اسلام مین تقلید کی کوئی گنجائش نہیں اسلام ایک کامل اور اکمل دین ہے۔اپنے ائمہ کی تقلید کرنا گویا کہ اپنے عمل سے ظاہر کرنا ہے کہ اسلام ناقص دین ہے۔ زیر نظر کتاب ''اہل حدیث اور علمائے حرمین کا اتفاق رائے''رنگونی صاحب کی کتاب'' غیر مقلدین سعودی عرب کے آئمہ ومشائخ کے مسلک سے شدید اختلاف ''کا نہایت ہی مدلل اور سنجیدہ جواب ہے۔رنگونی صاحب نے جن مسائل کوبنیاد بنا کر غیر مقلدین اور سعودی علماء ومشائخ اور علماء کے مابین شدید اختلاف دکھانے کی کوشش کی ہے مؤلف نے کتاب وسنت اور آئمہ سلف کے اقوال کی روشنی میں نہایت اختصار کے ساتھ ان موضوعات پر محققانہ بحث کی ہے۔اس کتاب کی خوبی یہ ہے کہ فاضل مؤلف نے خالص علمی اسلوب اختیار کیا ہے اور ز بان انتہائی آسان اور عام فہم استعمال کی ہے۔ اللہ تعالیٰ فاضل مؤلف کو اجر عظیم سے نوازے   اور ہم سب کو دین حنیف سمجھنے کی تو فیق عطا فرمائے۔آمین (عمیر)

    title-pages-sawaab-kamane-k-muwake
    نایف بن ممدوح بن عبد العزیز آل سعود
    دنیا کے اس چند روزہ دار  امتحان کو اللہ تعالیٰ نے آخرت کے تیاری او ر نیکیاں کمانے کی مہلت قرار دیا ہے۔  اللہ کا یہ بے پایاں انعام  واحسان ہے کہ اس نے انسان  کو نیکی کی طرف راغب کرنےکے لیے چھوٹے چھوٹے اعمال کے بدلے  عظیم نیکیاں او راجروثواب کا وعد ہ کیا ہے ۔انسان کی  یہ فطرت بھی  ہے کہ  وہ اعمال نامے میں اضافہ کے لیے ان ترغیبات پر انحصار کرتاہے ۔جن میں  اکثر مستند باتوں کی بجائے  بزرگوں کے اقوال اور ضعیف احادیث کا سہار ا لیا جاتا ہے۔ قرآن مجید اور نبی کریم  ﷺ کے مستند فرامین میں ایسے اعمال کاتذکرہ ملتاہے  جو انسان  کو جنت میں لے جانے کا  حقیقی سبب بن  سکتے ہیں۔زیرتبصرہ کتاب  ایک عرب عالم دین نایف بن ممدوح بن عبد العزیز آل سعود کی عربی  کتا ب فرص کسب الثواب کا اردو ترجمہ  ہے   جس میں فاضل مصنف  نے  بڑے احسن انداز میں کتاب  اللہ اورصحیح احادیث   کی  روشنی  میں ایسے  اعمال  و اسباب کو جمع کردیا  ہے  ،جن پر  عمل کر کے  انسان جنت کا  حق دار بن سکتاہے ۔کتاب کے  ترجمےکا کام ’’ زاد الخطیب‘‘ کے  مؤلف ڈاکٹر  حافظ محمد اسحاق  زاہد ﷾ نے سر انجام دیا ہے ۔ حافظ   صاحب اس کتاب کے علاوہ  متعدد کتب کے مترجم ومؤلف  بھی ہیں۔  اللہ    تعالیٰ  اشاعت دین  کے سلسلے  میں ان کی تمام مساعی  جمیلہ کو قبول فرمائے  اور  امت  مسلمہ  کواس کتاب کے ذریعے  اجروثواب کمانےکے  تمام راستوں ، دروازوں اور مواقع سے   فیضیاب ہونے کی  توفیق عطا  فرمائے۔  (آمین)(م۔ا)

    نوٹ:
    محدث فورم میں اس کتاب پر تبصرہ کرنے کے لیے یہاں کلک کریں
    title-page-jadoo-ka-ilaaj
    وحید بن عبد السلام بالی
    دین اسلام میں جادو کے حوالے سے جس قدر شدید وعید آئی ہے مسلم معاشرے میں اسی قدر شدو مد کے ساتھ یہ اپنے پنجے گاڑنے میں روبہ عمل ہے۔ بہت سے صحیح العقیدہ مسلمان جادوگروں اور شعبدہ بازوں کے ہاتھوں اپنی ایمانی دولت گنوانے میں لگے ہیں۔ یہ کتاب ہمیں بتائے گی کہ دین اسلام میں تمام ٹونوں ٹوٹکوں کا حل انتہائی آسان انداز میں دستیاب ہے ۔ کتاب میں جادوگروں کا تقرب حاصل کرنے کے لیے جادوگروں کے بعض وسائل، اور جادواور جنات کے وجود کو قرآن وسنت سے ثابت کرتے ہوئے جادو کی اقسام پر روشنی ڈالی گئی ہے۔اس کے علاوہ شریعت میں جادو کا حکم اور جادو کے اثر سے بچنے کے لیے چند احتیاطی تدابیر ذکر کرنے کے ساتھ ساتھ نظر بد کی تاثیر اور علاج پر سیر حاصل اور علمی گفتگو کی گئی ہے۔ ہمیں یقین ہے کہ اس کتاب کے مطالعے کے بعد ہر فرد اپنے عقیدہ وایمان کی حفاظت کرتے ہوئے جادو، نظر بد اور ان سے پیدا شدہ امراض کا علاج قرآن کریم اور ماثور دعاؤں کے ذریعے کر سکے گا۔
    untitled-1
    خالد الحسینان
    قرآن مجید میں اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی کو اہل ایمان کے لیے اسوہ حسنہ قرار دیا گیا ہے۔ دنیا میں ہر مذہب، فکر وفلسفہ اور قوم سے تعلق رکھنے والے اپنے مذہب، فکر وفلسفہ اور قوم کے بانیان کے رہن سہن، طرز بودو باش ، نشست وبرخاست اور قیام وطعام کی نقل کرتے ہیںمثلاً اہل ہندوستان گاندھی جی کے لباس اور وضع قطع کی پیروی کرتے ہیں جبکہ اہل چین اپنے رہنما ماؤزے تنگ کو کاپی کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ پاکستان میں قائداعظم کی جناح کیپ اور شیروانی کے ذریعے ان کے لباس کو فروغ دیا جاتا ہے تو سکھ پگڑی، کرپان،کڑا وغیرہ کے ذریعے اپنے گرونانک کے ساتھ اپنی عقیدت کا اظہار کرتے ہیں۔ ہر مسلمان کی یہ خواہش ہوتی ہے کہ وہ اپنی زندگی کو اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے اعمال وافعال سے مزین کرے اور اپنی صبح سے لے کر شام تک کی زندگی اور شام سے لے کے صبح تک کی زندگی کو احادیث وسنن کی روشنی میںبسر کرے۔ شیخ خالد الحسینان نے اس موضوع پر ایک نہایت ہی مفیدکتابچہ مرتب کیا ہے جس میں انہوں نے ۲۴ گھنٹے میں اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی طہارت، نماز،نشست وبرخاست، قیام وطعام ، سفر وحضر، حرکات وسکنات، رہن سہن اور سونے وجاگنے سے متعلق ایک ہزار سے زائد سنن جمع کی ہیں ۔ اس کتابچے کی یہ امتیازی خصوصیت ہے کہ اس میں صحیح اور مستند روایات سے استفادہ کیا گیا ہے۔ اللہ تعالیٰ ہم سب کو اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی کو نمونہ بنانے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین!

    untitled-1
    وحید بن عبد السلام بالی
    موجودہ دور میں بہت سے عامل، نجومی اور جادوگر اپنا جال پورے معاشرے میں پھیلائے بیٹھے ہیں اور بہت سے معصوم لوگوں کے عقائد و ایمان کے ساتھ کھیل رہے ہیں۔ جادو اور جادوگروں کے حوالہ سے دینی تعلیمات بہت واضح اور دوٹوک ہیں۔ فلہٰذا اہل ایمان کو چاہیے کہ اگر انھیں اس قسم کی کسی مصیبت کا سامنا ہو تو وہ ایسے شخص کی طرف رجوع کریں جو قرآن و سنت کی روشنی میں علاج کرتا ہو اور قرآنی آیات اور دیگر اوراد و وظائف پڑھنے کا معمول بنائیں۔ زیر مطالعہ کتاب اسی تناظر میں ترتیب دی گئی ہے جس میں قرآن وسنت سے استنباط کرتے ہوئے جادو کا کامل علاج رقم کر دیا گبا ہے۔ کتاب کا اسلوب عوامی ہے کوئی بھی عام فہم شخص اس کا مطالعہ کر کے اوراد و وظائف کو عمل میں لا سکتا ہے۔ کتاب اصل میں عربی میں تھی جس کے مصنف شیخ وحید عبدالسلام بالی ہیں اس کی افادیت کو دیکھتے ہوئے مجلس التحقیق الاسلامی نے اس کا حافظ محمد اسحاق زاہد سے اردو ترجمہ کرایا۔ مصنف نے جنات کی نشانیوں اور انھیں حاضر کرنے سے متعلق معلومات فراہم کرتے ہوئے جادو کی تمام اقسام کو بالتفصیل بیان کیا ہے۔ اس کے علاوہ نظر بد کا علاج بھی کتاب کا حصہ ہے۔ (ع۔ م)

    نوٹ:
    محدث فورم میں اس کتاب پر تبصرہ کرنے کے لیے یہاں کلک کریں
    title-pages-shrir-jado-gharon-ka-qila-qama-krne-wali-talwarjadeed-edition
    وحید بن عبد السلام بالی
    جادوکا موضوع ان اہم موضوعات میں سے  ہے  جن کا بحث وتحقیق اور تصنیف وتالیف کے  ذریعے  تعاقب کرنا علماء کےلیے ضروری ہے  کیونکہ جادو عملی طور پر ہمارے  معاشروں میں بھر پور انداز سے موجود ہے اور جادوگرچند روپوں کے بدلے  دن رات فساد پھیلانے  پر تلے  ہوئے ہیں  جنہیں وہ کمزور ایمان والے  اور ان کینہ پرور لوگوں سے  وصو ل کرتے ہیں  جو اپنے  مسلمان بھائیوں سے بغض رکھتے ہیں  او رانہیں جادو کے عذاب میں مبتلا دیکھ کر خوشی محسوس کرتےہیں  لہذا علماء کے لیے ضروری ہے کہ جادو کے خطرے او راس کے  نقصانات کے متعلق لوگوں کوخبر دارکریں  اور جادو کا شرعی  طریقے  سے علاج کریں تاکہ  لوگ اس کے  توڑ اور علاج  کے لیے  نام نہادجادوگروں عاملوں کی طرف رخ نہ کریں۔ زیرنظر کتاب  مشہور عالمِ دین  اور جادو وغیرہ کے شرعی  علاج کے  ماہر   شیخ  وحید عبدالسلام بالی﷾ کے  کی عربی تصنیف الصارم البتار فى التصدى للسحرة الأشرار كاترجمہ ہے جس میں انہوں نے  جادو کی حقیقت،کتاب وسنت میں جادوگری کا حکم ، جادوکی مختلف  صورتیں او رجادوگروں کے مختلف طریقے ہائےواردات ،جادو کاشرعی  علاج او راس سے بچاؤ کے طریقے،  نظربد کی حقیقت اوراس کا علاج وغیرہ جیسے اہم موضوعا ت  سیر حاصل بحث کی ہے ۔ کتاب کے  ترجمےکا کام ’’ زاد الخطیب‘‘ کے  مؤلف ڈاکٹر  حافظ محمد اسحاق  زاہد ﷾ نے سر انجام دیا ہے۔  حافظ   صاحب اس کتاب کے علاوہ  متعدد کتب کے مترجم ومؤلف  بھی ہیں۔ سب سے  پہلے اس کتاب کا اردوترجمہ   شائع کرنے کااعزاز ادارہ  محدث ،لاہور  کو  حاصل ہوا ۔کتاب کی افادیت کےپیش نظر  اب تک  اس کتاب کے  پاک وہند  او رسعودی عرب  میں کئی  ایڈیشن چھپ  چکے ہیں ۔ جس کو  بہت  زیادہ قبول عام  حاصل ہوا۔   الحمد للہ  بے  شمارلوگ اس  سے مستفید ہوچکے ہیں  اور اس کتاب کوپڑھ انہوں نے خود اپنا علاج کیا او ر وہ شفا  یاب ہوئے ۔  زیر تبصرہ ایڈیشن  مکتبہ اسلامیہ ،لاہور  کا  شائع شدہ ہے  جس کا  شمار پاکستان  میں منہج سلف پر  معیاری کتب  شائع کرنے والے    صف اول کے ناشرین میں ہوتا ہے۔  اللہ    تعالیٰ  اشاعت دین  کے سلسلے  میں مصنف ومترجم  او ر ناشرین کی تمام مساعی  جمیلہ کو قبول فرمائے  اور عوام الناس  کواس کتاب سے  مزید راہنمائی  حاصل  کرنے کی توفیق   عطا فرمائے۔(آمین)(م۔ا)

    نوٹ:
    محدث فورم میں اس کتاب پر تبصرہ کرنے کے لیے یہاں کلک کریں
اس سائٹ پر کوئی ایسی کتاب موجود نہیں جس کی ترتیب و تخریج ان صاحب نے کی ہو۔
ان صاحب کی کوئی بھی کتاب نظرثانی کی گئی موجود نہیں۔

ای میل سبسکرپشن

محدث لائبریری کی اپ ڈیٹس بذریعہ ای میل وصول کرنے کے لئے ای میل درج کر کے سبسکرائب کے بٹن پر کلک کیجئے۔

 

ایڈوانس سرچ

رجسٹرڈ اراکین

آن لائن مہمان

محدث لائبریری پر اس وقت الحمدللہ 1988 مہمان آن لائن ہیں ، لیکن کوئی رکن آن لائن نہیں ہے۔

ایڈریس

       99-جے ماڈل ٹاؤن،
     نزد کلمہ چوک،
     لاہور، 54700 پاکستان

       0092-42-35866396، 35866476، 35839404

       0092-423-5836016، 5837311

      KitaboSunnat@gmail.com

      بنک تفصیلات کے لیے یہاں کلک کریں