ابو الفوزان کفایت اللہ سنابلی

1 1 1 1 1 1 1 1 1 1
ابو الفوزان کفایت اللہ سنابلی
    title-pages-isbat-al-daleed-ala-touseek-muamal-bin-ismaiel-copy
    ابو الفوزان کفایت اللہ سنابلی

    حدیث کو نقل کرنے والے راویوں کو پرکھنے کے فن کو "جرح و تعدیل" کہا جاتا ہے۔ اگر کسی راوی کو پرکھنے کے نتیجے میں اس کی مثبت صفات سامنے آئیں اور وہ شخص قابل اعتماد قرار پائے تو اسے "تعدیل" یعنی 'قابل اعتماد قرار دینا' کہا جاتا ہے۔ اگر راوی کی منفی شہرت سامنے آئے اور اس پر الزامات موجود ہوں تو اسے "جرح" یعنی 'ناقابل اعتماد قرار دینا' کہا جاتا ہے۔نبی کریم ﷺ کی احادیث ہم تک راویوں کی وساطت سے پہنچی ہیں۔ ان راویوں کے بارے میں علم ہی حدیث کے درست ہونے یا نہ ہونے کی بنیاد ہے۔ اسی وجہ سے حدیث کے ماہرین نے راویوں کے حالات اور ان سے روایات قبول کرنے کی شرائط بیان کرنے کا اہتمام کیا ہے۔ یہ شرائط نہایت ہی گہری حکمت پر مبنی ہیں اور ان شرائط سے ان ماہرین حدیث کے گہرے غور و خوض اور ان کے طریقے کی اہمیت کا اندازہ ہوتا ہے۔ان میں سے کچھ شرائط کا تعلق راوی کی ذات سے ہے اور کچھ شرائط کا تعلق کسی راوی سے حدیث اور خبریں قبول کرنے سے ہے۔ دور قدیم سے لے کر آج تک کوئی ایسی قوم نہیں گزری جس نے اپنے افراد کے بارے میں اس درجے کی معلومات مہیا کرنے کا اہتمام کیا ہو۔ کوئی قوم بھی اپنے لوگوں سے خبریں منتقل کرنے سے متعلق ایسی شرائط عائد نہیں کر سکی جیسی ہمارے علمائے حدیث نے ایجاد کی ہیں۔ ایسی روایات جن کے منتقل کرنے والے راویوں کے ناموں کا علم نہ ہو سکے کے بارے میں یہ خطرہ ہے کہ کسی غلط خبر کو صحیح سمجھ لیا جائے۔ اس وجہ سے ایسی روایات کے سچے یا جھوٹے ہونے کی تصدیق نہیں کی جا سکتی۔ زیر تبصرہ کتاب" اثبات الدلیل علی توثیق مؤمل بن اسماعیل "انڈیا کے معروف عالم دین، محقق محترم ابو الفوزان کفایت اللہ السنابلی صاحب کی تصنیف ہے ،جس میں انہوں نے راوی حدیث مؤمل بن اسماعیل کے بارے میں پچیس(25) محدثین سے توثیق ثابت کرتے ہوئے ان پر جرح کے اقوال کا جائزہ لیا ہے۔اللہ تعالی سے دعا ہے کہ وہ  مولف موصوف کی اس محنت کو اپنی بارگاہ میں قبول فرمائے اور ان کے میزان حسنات میں اضافہ فرمائے۔۔آمین(راسخ)

    title-pages-izalatu-al-karab-un-tousek-samak-bin-harab-copy
    ابو الفوزان کفایت اللہ سنابلی

    حدیث کو نقل کرنے والے راویوں کو پرکھنے کے فن کو "جرح و تعدیل" کہا جاتا ہے۔ اگر کسی راوی کو پرکھنے کے نتیجے میں اس کی مثبت صفات سامنے آئیں اور وہ شخص قابل اعتماد قرار پائے تو اسے "تعدیل" یعنی 'قابل اعتماد قرار دینا' کہا جاتا ہے۔ اگر راوی کی منفی شہرت سامنے آئے اور اس پر الزامات موجود ہوں تو اسے "جرح" یعنی 'ناقابل اعتماد قرار دینا' کہا جاتا ہے۔نبی کریم ﷺ کی احادیث ہم تک راویوں کی وساطت سے پہنچی ہیں۔ ان راویوں کے بارے میں علم ہی حدیث کے درست ہونے یا نہ ہونے کی بنیاد ہے۔ اسی وجہ سے حدیث کے ماہرین نے راویوں کے حالات اور ان سے روایات قبول کرنے کی شرائط بیان کرنے کا اہتمام کیا ہے۔ یہ شرائط نہایت ہی گہری حکمت پر مبنی ہیں اور ان شرائط سے ان ماہرین حدیث کے گہرے غور و خوض اور ان کے طریقے کی اہمیت کا اندازہ ہوتا ہے۔ان میں سے کچھ شرائط کا تعلق راوی کی ذات سے ہے اور کچھ شرائط کا تعلق کسی راوی سے حدیث اور خبریں قبول کرنے سے ہے۔ دور قدیم سے لے کر آج تک کوئی ایسی قوم نہیں گزری جس نے اپنے افراد کے بارے میں اس درجے کی معلومات مہیا کرنے کا اہتمام کیا ہو۔ کوئی قوم بھی اپنے لوگوں سے خبریں منتقل کرنے سے متعلق ایسی شرائط عائد نہیں کر سکی جیسی ہمارے علمائے حدیث نے ایجاد کی ہیں۔ ایسی روایات جن کے منتقل کرنے والے راویوں کے ناموں کا علم نہ ہو سکے کے بارے میں یہ خطرہ ہے کہ کسی غلط خبر کو صحیح سمجھ لیا جائے۔ اس وجہ سے ایسی روایات کے سچے یا جھوٹے ہونے کی تصدیق نہیں کی جا سکتی۔ زیر تبصرہ کتاب"ازالۃ الکرب عن توثیق سماک بن حرب"انڈیا کے معروف عالم دین، محقق محترم ابو الفوزان کفایت اللہ السنابلی صاحب کی تصنیف ہے ،جس میں انہوں نے راوی حدیث سماک بن حرب کے بارے میں پینتیس محدثین سے توثیق ثابت کرتے ہوئے ان پر جرح کے اقوال کا جائزہ لیا ہے۔اللہ تعالی سے دعا ہے کہ وہ  مولف موصوف کی اس محنت کو اپنی بارگاہ میں قبول فرمائے اور ان کے میزان حسنات میں اضافہ فرمائے۔۔آمین(راسخ)

    pages-from-anwaar-ul-badar-namaz-mein-seeney-par-hath-bandhna
    ابو الفوزان کفایت اللہ سنابلی

    نماز دین اسلام کے بنیادی پانچ ارکان میں سے کلمہ توحید کے بعد ایک اہم ترین رکن ہے۔ اس کی فرضیت قرآن و سنت اور اجماعِ امت سے ثابت ہے۔ یہ شب معراج کے موقع پر فرض کی گئی، اور امت کو اس تحفہ خداوندی سے نوازا گیا۔ اس کو دن اور رات میں پانچ وقت پابندی کے ساتھ باجماعت ادا کرنا ہر مسلمان پر فرض اور واجب ہے۔ نماز دین کا ستون ہے۔ نماز جنت کی کنجی ہے۔ نماز مومن کی معراج ہے۔ نماز نبی کریمﷺ کی آنکھوں کی ٹھنڈک ہے۔ نماز قرب الٰہی کا بہترین ذریعہ ہے۔ نماز اﷲ تعالیٰ کی رضا کاباعث ہے۔ نماز جنت کا راستہ ہے۔ نماز پریشانیوں اور بیماریوں سے نجات کا ذریعہ ہے۔ نماز بے حیائی سے روکتی ہے۔ نماز برے کاموں سے روکتی ہے۔ نماز مومن اور کافر میں فرق کرتی ہے۔ نماز بندے کو اﷲ تعالیٰ کے ذکر میں مشغول رکھتی ہے۔ لیکن اللہ کے ہاں وہ نماز قابل قبول ہے جو نبی کریمﷺ کے معروف طریقے کے مطابق پڑھی جائے۔آپ نے فرمایا: تم ایسے نماز پڑھو جس طرح مجھے پڑھتے ہوئے دیکھتے ہو۔ نماز کے اختلافی مسائل میں سے ایک اہم مسئلہ سینے پر ہاتھ باندھنے کے بارے میں ہے۔ زیر نظر کتاب "انوار البدر فی وضع الیدین علی الصدر" انڈیا سے تعلق رکھنے والے عالم دین ابو الفوزان کفایت اللہ سنابلی صاحب کی تصنیف ہے، جس میں انہوں نے احادیث مبارکہ کی روشنی میں سینے پر ہاتھ باندھنے کو ثابت کیا ہے، تاکہ تما م مسلمان اپنی نماز یں نبی کریمﷺ کے طریقے کے مطابق پڑھ سکیں۔ کتاب کے شروع میں معروف عالم دین مولانا ارشاد الحق اثری صاحب﷾ کا علمى مقدمہ بھی موجود ہے۔ اللہ تعالی سے دعا ہے کہ وہ مولف کی اس کاوش کو اپنی بارگاہ میں قبول فرمائے اور ان کے میزان حسنات میں اضافہ فرمائے۔ آمین۔ (راسخ)

    title-pages-bees-rakat-trawih-se-mutaliq-rawayat-ka-jaiza-copy
    ابو الفوزان کفایت اللہ سنابلی

    صحیح احادیث  کے مطابق  نبی کریم ﷺ کا  رمضان او رغیر رمضان میں  رات کا قیام  بالعموم گیارہ رکعات سے  زیادہ نہیں ہوتا تھااور حضرت جابر﷜  کی روایت کے مطابق رسول اللہ ﷺ نے صحابہ کرام﷢  کوتین  رات جو نماز پڑہائی وہ گیارہ رکعات  ہی تھیں  او ر حضرت عمر ﷜ نے  بھی مدینے  کے قاریوں کو گیارہ رکعات پڑہانے  کا حکم دیاتھا اور  گیارہ  رکعات پڑھنا ہی  مسنون عمل ہے ۔امیر المومنین حضر ت عمر بن خطاب ،  حضرت علی بن  ابی طالب، حضرت ابی بن کعب اور حضرت عبد اللہ بن مسعود سے 20 رکعات قیام اللیل کی تمام روایات سنداً ضعیف ہیں ۔زیر نظر کتابچہ میں شیخ کفایت اللہ السنابلی  نے  بیس رکعات سے متعلق جو روایات پیش کی جاتی ہیں  دلائل کی روشنی میں ان کا جائزہ پیش کرکے  ثابت کیا ہے کہ بیس رکعات تراویح پڑہنا نہ تو نبی ًﷺ سے  اور نہ ہی کسی صحابی سے ثابت  ہے  اس کے برعکس نبیﷺ اور صحابہ کرام ﷢ سے آٹھ رکعات تراویح ہی ثابت ہے  ۔(م۔ا)

    نوٹ:

    محدث فورم میں اس کتاب پر تبصرہ کرنے کے لیے یہاں کلک کریں

    title-pages-hadasa-karbla-aur-sabai-sazish
    ابو الفوزان کفایت اللہ سنابلی
    دور حاضرمیں حادثہ کربلا  کے  موضوع پر کچھ  لکھنا یابولنا بڑا  نازک او ر مشکل  کام ہے، کیوں کہ اس  بارے  بہت افراط وتفریط پایا جاتا   ہے ۔سانحۂ کربلا اسلامی تاریخ کا ایک انتہائی المناک باب ہے۔  اس  سانحۂ کے بعد ایک گروہ یزید بن معاویہ کو لگاتار برا بھلاکہنے پر مصر ہے۔جبکہ دوسری جانب یزید کے جنتی ہونے کےبارے میں نبی ﷺ کی اس  بشارت کا تذکرہ کیا جاتاہے، جس میں  شہر قیصرکی طرف  سب سے پہلے حملہ آور لشکر کےمغفور لہم ہونے  کی  خوشخبری دی گئی ہے۔  ائمہ اسلا ف  میں  سےامام ابن تیمیہ،حافظ ابن حجر ،علامہ قسطلانی ، ابن کثیر﷭ وغیرہ نے  یزید ین معاویہ کو  اس پہلے لشکر کا سالار قرار دیا ہے،  جس نے تاریخ اسلامی میں سب سے  پہلے  قسطنطنیہ پر حملہ کیا ہے تھا۔زیر تبصرہ کتاب   مؤلف  کا وہ خطاب ہے،  جوانہوں نے  جامع مسجد اہل حدیث ممبئ میں ارشاد فرمایا تھا۔جسے احباب کے اصرار پر کتابی شکل میں شائع کر دیا گیا ہے۔ اس کتاب میں  مصنف نے  تاریخی لحاظ سے اس موضوع پر بحث کی ہے ، اور مختلف  اہل علم کی تحریروں او رمستند تاریخی روایات سے  یہ ثابت کیا ہے کہ  قسطنطنیہ پر پہلا حملہ  یزید ہی نےکیا تھا، او رحادثہ کربلا سے  قبل امت مسلمہ کے خلاف جو سازشیں کی گئیں،  اور متعددعظیم شخصیات شہید ہوئیں۔ ان کے پیچھے جس گروہ کا  ہاتھ تھا، وہی  گروہ میدان  کربلا میں بھی  اہل  حق  کا دشمن تھا۔ جس نے کربلا کے  بعد اہل بیت کی محبت کا سہارہ لے کر  خو د کو روپوش کر لیا ہے۔فاضل مصنف نے  آیات قرآنیہ،  احادیث نبویہ ﷺ او ر آثار صحابہ   کی  روشنی میں    یزید بن معاویہ کی شخصیت وسیرت کوبھی بیان کیاہے ۔اللہ تعالی مؤلف کی اس کاوش کو اپنی بارگاہ میں قبول فرمائے۔آمین(م۔ا)

    نوٹ:
    محدث فورم میں اس کتاب پر تبصرہ کرنے کے لیے یہاں کلک کریں
    title-pages-rabbana-lakal-hamad-ahista-prrain-ya-ounchi-awaz-main
    ابو الفوزان کفایت اللہ سنابلی

    نماز دین ِ اسلام کا دوسرا رکن ِ عظیم ہے جوکہ بہت زیادہ اہمیت کا حامل ہے قرآن وحدیث میں نماز کو بر وقت اور باجماعت اداکرنے کی بہت زیاد ہ تلقین کی گئی ہے نماز کی ادائیگی اور اس کی اہمیت اور فضلیت اس قد ر اہم ہے کہ سفر وحضر اور میدان ِجنگ اور بیماری میں بھی نماز ادا کرنا ضروری ہے نماز کی اہمیت وفضیلت کے متعلق بے شمار احادیث ذخیرۂ حدیث میں موجود ہیں او ر بیسیوں اہل علم نے مختلف انداز میں اس پر کتب تالیف کی ہیں نماز کی ادائیگی کا طریقہ جاننا ہر مسلمان مرد وزن کےلیے ازحد ضروری ہے کیونکہ اللہ عزوجل کے ہاں وہی نماز قابل قبول ہوگی جو رسول اللہ ﷺ کے طریقے کے مطابق ادا کی جائے گی اسی لیے آپ ﷺ نے فرمایا صلو كما رأيتموني اصلي لہذا ہر مسلمان کےلیے رسول للہ ﷺ کے طریقۂ نماز کو جاننا بہت ضروری ہے نماز سےمتعلق بہت سے مسائل(رفع الیدین ،آمین بالجہر یا بالسر،قراءت فاتحہ خلف الامام ، بسم اللہ الرحمن الرحیم بالجہر یا بالسر ) میں اختلاف زمانہ قدیم سے چلا آرہا ہے لیکن عصر میں اسی نوعیت کے ایک مسئلے کا اضافہ ہوگیا ہے او ر وہ ہے امام ومقتدی کا دعاء قومہ یعنی ربنا لک الحمد بالجہر یا بالسر پڑہنا۔زیر نظر کتابچہ اسی موضوع پر مولانا کفایت اللہ السنابلی ﷾(انڈیا) کی ایک علمی وتحقیقی کاوش ہے جس میں انہوں نے قرآنی آیات ،احادیث صحیحہ اور اجماع امت سے ثابت کیا ہے کہ ربنا لک الحمد کو آہستہ پڑہنا ہی راحج ہے اور سلف صالحین صحابہ وتابعین،متقدمین محدثین وفقہاء اس مسئلے میں کوئی اختلاف نہ تھا بلکہ یہ عصر کے علماء کی پیدا وار ہے ۔اللہ تعالی اس کتاب کو قرآن وحدیث کو سمجھنے اور اس سے صحیح استدلال کرنے کا ذریعہ بنائے (آمین)(م۔ا)

     

    نوٹ:

    محدث فورم میں اس کتاب پر تبصرہ کرنے کے لیے یہاں کلک کریں

     

    title-pages-mahe-rabi-ul-awwal-aur-eid-meelad
    ابو الفوزان کفایت اللہ سنابلی
    مسلمانوں کی اصل کامیابی قرآن مجیداور  احادیث نبویہ پر عمل کرنے میں ہے۔  مسلمانوں کوعملی زندگی میں  قرآن وحدیث ہی کو اپنے سامنے رکھنا چاہیے۔ اور دین میں نئی نئی بدعات گھڑ کر اسے دین بنا لینے سے احتراز کرنا چاہئے۔دین میں گھڑی گئی متعدد بدعات میں سے ایک  بدعت بارہ ربیع الاول کو عید  میلاد النبی ﷺ منانےکی ہے۔  بہت سارے  مسلمان ہرسال بارہ ربیع الاول  کو عید  میلادالنبی ﷺ او رجشن مناتے  ہیں ۔عمارتوں پر چراغاں کیا جاتا ہے  ، جھنڈیاں لگائی جاتی ہیں، نعت خوانی کےلیے  محفلیں منعقدکی جاتی  ہیں  اور بعض ملکوں میں سرکاری طور   پر چھٹی کی جاتی  ہے۔ لیکن اگر  قرآن  وحدیث اور قرون اولی کی  تاریخ  کا پوری دیانتداری کے ساتھ مطالعہ کیا جائے  تو  ہمیں پتہ چلتا ہےکہ  قرآن وحدیث  میں جشن عید یا عید میلاد کا کوئی ثبوت نہیں ہے ۔نہ  نبی کریم ﷺ نے اپنا میلاد منایا او رنہ  ہی اسکی  ترغیب دی۔  قرونِ اولیٰ یعنی  صحابہ کرام ﷺ ،تابعین، اورتبع تابعین﷭ کا زمانہ جسے نبی کریم ﷺ نے بہترین زمانہ قرار دیا  ان کے  ہاں  بھی اس  عید کا کوئی تصور نہ  تھا۔ معتبر ائمہ دین کےہاں بھی نہ اس عید  کا کو ئی تصور  تھا اور نہ وہ اسے  مناتے  تھے  او ر نہ ہی  وہ اپنے شاگردوں کو اس  کی تلقین کرتےتھے  ۔ نبی  کریم ﷺ کی ولادت باسعادت کی مناسبت سے جشن منعقد کرنے کا آغاز  نبی ﷺ کی وفات سے تقریبا چھ سو سال بعد کیا گیا ہے ۔زیر نظر کتابچہ   مولانا کفایت  اللہ سنابلی  کی کاوش ہے جس میں انہوں نے عید  میلاد کی تاریخ  ،اس  کی شرعی حیثیت ،عیدِ میلاد   منانے والوں کے دلائل کا کتاب وسنت کی روشنی میں  جائزہ وغیرہ جیسے اہم موضوعات پر قلم اٹھایا ہے، اور ثابت کیا ہے کہ  عہد نبوی ،عہد صحابہ اوربعدکے ادوار میں   اس مروجہ جشن میلا النبی ﷺ  کا کو ئی ثبوت نہیں ملتا،اس کو منانا  بدعت ہے ۔ اللہ تعالی اس کتابچہ کو   عوام  الناس کےلیے نفع بخش بنائے (آمین)(م۔ا)

    نوٹ:
    محدث فورم میں اس کتاب پر تبصرہ کرنے کے لیے یہاں کلک کریں
    pages-from-masnoon-rakaat-e-traveeh-dalael-ki-roshni-mein
    ابو الفوزان کفایت اللہ سنابلی

    صحیح احادیث کے مطابق رکعاتِ تراویح کی مسنون تعداد آٹھ ہے ۔مسنون تعداد کا مطلب وہ تعداد ہےجو اللہ کے نبی ﷺ سے بسند صحیح ثابت ہے ۔ رکعات تراویح کی مسنون تعداد اوررکعات تراویح کی اختیاری تعداد میں فرق ہے ۔ مسنون تعداد کا مطلب یہ ہے کہ جو تعداد اللہ کےنبی ﷺ سے ثابت ہے او راختیاری تعداد کا مطلب یہ ہے کہ وہ تعداد جو بعض امتیوں نے اپنی طرف سے اپنے لیے منتخب کی ہے یہ سمجھتے ہوئے کہ یہ ایک نفل نماز ہے اس لیے جتنی رکعات چاہیں پڑھ سکتے ہیں۔ زیر نظر کتاب ’’مسنون رکعات تراویح دلائل کی روشنی میں ‘‘انڈیا   جید عالم دین مولانا ابو الفوزان کفایت اللہ السنابلی﷾ کی تصنیف ہے جس میں انہو ں رکعات تراویح کے سلسلے میں وارد   احادیث کی مکمل تحقیق پیش کرتے ہوئے ثابت کیا ہے کہ تعداد رکعات تراویج بشمول وتر کل گیارہ رکعات ہیں اور صحابہ کرام ﷢کا عمل بھی اسی پر تھا نبی کریم ﷺ کا رمضان او رغیر رمضان میں رات کا قیام بالعموم گیارہ رکعات سے زیادہ نہیں ہوتا تھااور حضرت جابر﷜ کی روایت کے مطابق رسول اللہ ﷺ نے صحابہ کرام﷢ کوتین رات جو نماز پڑہائی وہ گیارہ رکعات ہی تھیں او ر حضرت عمر ﷜ نے   بھی مدینے کے قاریوں کو گیارہ رکعات پڑہانے کا حکم دیاتھا اور گیارہ رکعات پڑھنا ہی   مسنون عمل ہے ۔امیر المومنین حضر ت عمر بن خطاب ، حضرت علی بن ابی طالب، حضرت ابی بن کعب اور حضرت عبد اللہ بن مسعود سے 20 رکعات قیام اللیل کی تمام روایات سنداً ضعیف ہیں ۔(م۔ا)

    chaar-din-qurbani-ki-mashroiyat
    ابو الفوزان کفایت اللہ سنابلی
    عیدالاضحیٰ کے ایام میں اللہ تعالی کا تقرب حاصل کرنے کے لیے بہیمۃ الانعام میں سے کوئی جانور ذبح کرنے کو قربانی کہا جاتا ہے۔ قربانی دین اسلام کے شعائر میں سے ایک شعار ہے اس کی مشروعیت کتاب اللہ اور سنت نبویہ صلی اللہ علیہ وسلم  اور مسلمانوں کے اجماع سے ثابت ہے۔ قربانی کرنے کے دنوں  کی تعداد کے حوالے سے فقہاء  کے مابین اختلاف پایا جاتا ہے۔ بعض کے نزدیک تین اور بعض  کے نزدیک چار دن ہیں۔ جبکہ صحیح بات یہ ہے کہ قربانی  کرنے کے کل ایّام  چار ہیں۔ یوم النحر(عیدالاضحیٰ کا دن، دس تاریخ) اور ایام تشریق( یعنی گیارہ، بارہ اور تیرہواں دن) جس کا ثبوت قرآن اور صحیح احادیث سے ملتا ہے۔ زیر نظر رسالہ ’’ چار دن قربانی کی مشروعیت ‘‘ مولانا کفایت اللہ السنابلی حفظہ اللہ کی تالیف ہے، جس میں  شیخ  حفظہ اللہ نے چار دن قربانی کرنے  کی مشروعیت  کو قرآن و حدیث سے دلائل دیتے ہوئے ثابت کیا ہے ۔اور ساتھ ہی ساتھ ان لوگوں کے دلائل کا بھی تحقیقی جائزہ لیا ہے جو صرف تین دن قربانی کے قائل ہیں۔ رسالہ کل تین ابواب پر مشتمل ہے۔ پہلے باب میں چار دن قربانی  کرنے کی مشروعیت پر قرآن وصحیح احادیث سے دلائل بیان کیے گئے  ہیں۔ اور ساتھ اس بات کا بھی  تذکرہ کیا گیا ہے کہ چار دن قربانی والا قول کئی ایک صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کی طرف منسوب ہے۔ نیز قیاس  صحیح  اور دلالت لغت سے بھی اس موقف کی تائید ہوتی ہے۔ دوسرے باب  میں  چار دن قربانی سے متعلق اقوال تابعین وآئمہ محدثین کو پیش کیا گیا ہے۔ اور تیسرے  باب میں  جو علماء صرف تین دن قربانی  کے قائل ہیں۔ ان کے دلائل  کا جائزہ لیا گیا ہے۔(ک۔ح)

    نوٹ:
    محدث فورم میں اس کتاب پر تبصرہ کرنے کے لیے یہاں کلک کریں
    pages-from-yazeed-bin-muaawiah-par-ilzamaat-ka-tehqueequi-jaeza
    ابو الفوزان کفایت اللہ سنابلی

    کسی بھی مسلمان کی عزت وآبرو کا دفاع کرنا انسان کو جنت میں لے جانے کا سبب بن سکتا ہے۔ سیدنا ابو درداء﷜ فرماتے ہیں کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا: جو شخص اپنے بھائی کی عزت سے اس چیز کو دور کرے گا جو اسے عیب دار کرتی ہے، اللہ تعالی قیامت کے دن اس کے چہرے سے آگ کو دور کر دے گا۔ (ترمذی:1931)اس حدیث مبارکہ سے معلوم ہوا کہ کسی بھی مسلمان کی عزت کا دفاع کرنا ایک مستحب اور بے حدپسندیدہ عمل ہے۔ اور اگر ایسی شخصیات کی عزتوں کا دفاع کیا جائے جو صاحب فضیلت ہوں تو اس عمل کی اہمیت اور بھی بڑھ جاتی ہے۔ مثلا اگرکسی صحابی کی شان میں گستاخی کی جاتی ہےاور ان پر غلط الزامات لگائے جاتے ہیں تو ایسے صحابی کی عزت کادفاع کرنا بہت بڑی عبادت اور بہت بڑے اجروثواب کا باعث ہے۔ یزید بن معاویہؓ تابعین میں سے ہیں اور صحابی رسول سیدنا امیر معاویہ﷜ کے بیٹے ہیں۔ بعض روافض اور مکار سبائیوں نے ان پر بے شمار جھوٹے الزامات لگائے ہیں اور ان کی عزت پر حملہ کیا ہے۔ ان کی عزت کا دفاع کرنا بھی اسی حدیث پر عمل کرنے میں شامل ہے۔ زیر تبصرہ کتاب "یزید بن معاویہ﷜ پر الزامات کا تحقیقی جائزہ" انڈیا کے معروف عالم دین فضیلۃ الشیخ ابو فوزان کفایت اللہ سنابلی﷾ کی تصنیف ہے، جس میں انہوں نے یزید بن معاویہ ؓپر کئے گئے اعتراضات کا تحقیقی جائزہ پیش کیا ہے۔ یہ کتاب اپنے موضوع پر ایک علمی، تحقیقی اور منفرد وشاندار کتاب ہے۔ اللہ تعالی سے دعا ہے کہ وہ مولف موصوف اس کاوش کو اپنی بارگاہ میں قبول فرمائے اور ان کے میزان حسنات میں اضافہ فرمائے۔ آمین(راسخ)

اس سائٹ پر کوئی ایسی کتاب موجود نہیں جس کا ترجمہ ان صاحب نے کیا ہو۔
اس سائٹ پر کوئی ایسی کتاب موجود نہیں جس کی ترتیب و تخریج ان صاحب نے کی ہو۔
ان صاحب کی کوئی بھی کتاب نظرثانی کی گئی موجود نہیں۔

ای میل سبسکرپشن

محدث لائبریری کی اپ ڈیٹس بذریعہ ای میل وصول کرنے کے لئے ای میل درج کر کے سبسکرائب کے بٹن پر کلک کیجئے۔

 

ایڈوانس سرچ

رجسٹرڈ اراکین

آن لائن مہمان

محدث لائبریری پر اس وقت الحمدللہ 1892 مہمان آن لائن ہیں ، لیکن کوئی رکن آن لائن نہیں ہے۔

ایڈریس

       99-جے ماڈل ٹاؤن،
     نزد کلمہ چوک،
     لاہور، 54700 پاکستان

       0092-42-35866396، 35866476، 35839404

       0092-423-5836016، 5837311

      KitaboSunnat@gmail.com

      بنک تفصیلات کے لیے یہاں کلک کریں