ابو عدنان محمد منیر قمر

1 1 1 1 1 1 1 1 1 1
ابو عدنان محمد منیر قمر
    title-pages-aadab-e-dua
    ابو عدنان محمد منیر قمر
    آج امت مسلمہ سخت زبوں حالی میں مبتلا ہے، ہر طرف سے مشکلات میں گھری ہوئی ہے۔ اسے طرح طرح کے چیلنجوں کا سامنا ہے۔ امت کے افراد کی تعداد ڈیڑھ ارب کے قریب ہو چکی ہے۔ بے شمار لوگ شب و روز امت کے حالات بہتر ہونے، مسلمانوں کے معزز ہونے، کفار کے تسلط و اقتدار کے خاتمے اور مسلمانو کی عظمت رفتہ کی بازیابی کی دعائیں کرتے رہتے ہیں مگر تاحال حالات میں کوئی واضح فرق کیوں نظر نہیں آ رہا؟ اس بات پر غور و خوض کرنے کے لیے چند چیزوں کا پیش نظر رہنا اشد ضروری ہے، مثلاً بندے کی دعائیں کیسے قبول ہو سکتی ہے؟ ان کی قبولیت کی شرائط کیا ہیں؟ دعا کے آداب کیا ہیں؟ کن کن اوقات میں اور کن کن مقامات پر کی گئی دعائیں قبولیت کے قریب تر ہوتی ہے؟ اور مستجاب الدعوات کون ہو سکتے ہیں ؟ زیر نظر کتاب میں انھی امور کو قدرے تفصیل کے ساتھ بیان کیا گیا ہے۔ کتاب کو مرتب کرنے والے الشیخ محمد منیر قمر اور غلام مصطفیٰ فاروق صاحبان ہیں۔ کتاب قرآن و سنت کے محکم دلائل کے ساتھ مزین اور نہایت شستہ اسلوب میں لکھی گئی ہے۔ (ع۔م)

    title-pages-andhi-taqleed-aur-tassub-mein-tehreef-e-kitab-o-sunnat
    ابو عدنان محمد منیر قمر
    کسی مسئلہ کی تفہیم و توضیح میں اختلاف ہو جانا کوئی بڑی بات نہیں کہ یہ تو صحابہ کرام رضی اللہ عنہم اجمعین کے بہترین زمانہ میں بھی تھا اصل بات یہ ہے کہ جب  قرآن وحدیث کی نصوص سامنے آجائیں تو سرتسلیم ضم کر دینا چاہیے یہی اہل ایمان کا وطیرہ ہے۔لیکن جب حق  کی پیروی مقصود نہ ہو بلکہ محض اپنے فرقے اور گروہ کی بالا دستی ہی فتہائے نگاہ ٹھہرے تو انسان کی آنکھوں پر تعصب کی پٹی بندھ جاتی ہے اور وہ قرآن و حدیث کو ماننے کے بجائے اپنے مقصد کی خاطر ان میں تحریف و تبدل پر ہی اتر آتا ہے جوکہ انتہائی خطرناک رویہ ہے۔بعض تقلیدی گروہوں میں یہ بات دیکھنے میں آئی ہے کہ وہ آیات  قرآنی اور احادیث کی لفظی ومعنوی تحریف سے بھی نہیں چوکتے گویا بقول اقبال:
    ’’خود بدلتے نہیں قرآن کو بدل دیتے ہیں‘‘زیر نظر کتابچہ میں باحوالہ اس امر کو ثابت کیا گیا ہے کہ بعض افراد  نے قرآن وحدیث میں دانستہ و نادانستہ لفظی یا معنوی تبدیلیاں کی ہیں۔امید ہے کہ ٹھنڈے دل سے اس پر غور وفکر کرکے اس کی اصلاح کی کوشش کی جائے گی اور محض مناظرانہ پچ میں آکر حق کا انکار نہیں کیا جائے گا۔

    pages-from-insani-tareekh-ki-intihai-khatarnaak-o-khufia-tareen-tehreek-haqaeq-o-inkishaf
    ابو عدنان محمد منیر قمر

    تاریخ عالم آج تک بے شمار تحریکوں سے روشناس ہو چکی ہے۔اور آئے دن چشم فلک کو نئے نئے ناموں سے موسوم عجیب وغریب نظریات اور پروگراموں کی حامل اور طرح طرح کے لوگوں کی قیادت میں کام کرنے والی تحریکوں سے وابستہ پڑتا ہے۔ان میں سے کچھ تحریکیں مثبت طریق کار اور دینی نہیں تو کم از کم دنیاوی مگر اصلاحی وفلاحی نظریات کی پر چارک ہوتی ہیں۔بعض تحریکیں خالص دینی اور اسلامی ہیں،جبکہ بعض ایسی بھی ہیں جو دین کے نام کو شعار بنا کر لوگوں کو اپنے ساتھ ملاتی اور پھر بے دینی کو پھیلاتی ہیں۔انہی رنگا رنگ ناموں اور طرح طرح کے نظریات کی حامل تحریکوں میں سے ایک خطرناک ترین تحریک کا نام الماسونیہ ،فری میسن (FREEMASONRY) ہے جس کے طریقے کار اور عقائد ونظریات کا مطالعہ کرنے سے ایک ایسی خطرناک وخوفناک اور بھیانک جماعت سامنے آتی ہے ،جس کے متعلق معلومات نہ ہونے کی وجہ سے ان پڑھ تو کیا بڑے بڑے پڑھے لکھے مسلمانوں کا ان کے جال میں پھنس جاناناممکنات میں سے نہیں ہے۔اور جو ان کے جال میں پھنس گیا ،وہ آہستہ آہستہ دین سے دور ہوتا چلا گیا اور بالآخر دین کا دشمن بن گیا ۔یہی اس خوفناک تحریک کا نصب العین ہے کہ لوگوں کو دین سے دور کر کے دنیا میں بے دینی ،اخلاقی بے راہروی اور جنسی انارکی پھیلا دی جائے۔ زیر تبصرہ کتابچہ " انسانی تاریخ کی انتہائی خطرناک وخفیہ ترین تحریک ۔۔۔ حقائق وانکشافات "سعودی عرب میں مقیم معروف پاکستانی عالم دین ابو عدنان محمد منیر قمر﷾ کی تصنیف ہے ،جس میں انہوں نے مسلمانوں کو اس خطرناک اور خوفناک تحریک کے جالوں سے بچنے کی ترغیب ہی ہے اور اس تنظیم کے خطرناک منصوبوں اور عزائم سے پردہ اٹھایا ہے۔اللہ تعالی مولف کی اس محنت کو قبول فرمائے اور مسلمانوں کو اس سے اس جیسی دیگر اسلام دشمن تنظیموں سے مھفوظ فرمائے۔آمین۔(راسخ)

    title-pages-taweez-gandon-aur-jinnat-o-jadu-ka-ilaaj
    ابو عدنان محمد منیر قمر
    جادو برحق ہےاور کتاب وسنت کے دلائل کی رو سے جادو ،ٹونہ انسانی زندگی میں اثر انداز ہوتا ہے ،جس سے انسان  کئی قسم کے روحانی و جسمانی عوارض کا شکار ہوتا ہے۔جادو کے برحق ہونے کے باوجود کتاب وسنت میں جادو ٹونے کا توڑ موجود ہے ،اس لیے جادو ٹونے کو دماغ پر سوار کرنا اور ہرمشکل ،پریشانی اور بیماری کے پیچھے جادو ٹونے کو محرک سمجھنا قطعا درست نہیں۔ایک تو جادو کرنا اور کروانا حرام ہے،لہذا کسی مسلمان کے لیے درست نہیں کہ وہ کسی مسلمان کو پریشان کرنے ، کسی کو نقصان پہنچانے یا اپنی دلی  تسکین کے لیے جادو کرے یاکرائے ،پھر اگر کسی پر جادو کے اثرات ظاہر ہوں تو ایسے جادوگروں ، بے دین عاملوں اورکالے علم کے ماہرین کے پاس نہیں جانا چاہیے ،بلکہ مستند علما کے پاس جاکر ان سے مشاورت کی جائے یا جادو کے تو ڑ پر لکھی گئی کتب سے علاج کی کوشش کی جائے ،جادو ٹونے اور جنات کی شرارتوں کےتوڑ کے لیے یہ عمدہ کتاب ہے ،جس میں ہر قسم کے جادو ٹونےکا علاج کتاب وسنت کےدلائل سے ثابت کیا گیا ہے۔(ف۔ر)

    نوٹ:
    محدث فورم میں اس کتاب پر تبصرہ کرنے  کے لیے یہاں کلک کریں
    jashnemeeladyomewafatpar-copy
    ابو عدنان محمد منیر قمر
    حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے  جس قدر بدعات کی مذمت کی ہے ، بدقسمتی سے امت مسلمہ اسی شدومد کے ساتھ بدعات کے طوفان میں گھرتی چلی جارہی ہے-انہی میں سے ایک خطرناک بدعت آپ  صلی اللہ علیہ وسلم کے یوم پیدائش پر عیدمیلاد النبی کا خصوصی اہتمام ہے، بہت سے نام نہاد روحانی پیشوا اپنے اپنے مفادات کی خاطر اسے ترویج دینے میں ہمہ تن مصروف ہیں-حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی ولادت باسعادت کس تاریخ کو ہوئی؟ اور آپ کی ولادت پر جشن کا اہتمام کرنا جائز  ہے یا ناجائز؟ زیر نظر کتاب میں مصنف نے اس طرح کے سوالوں کے تسلی بخش جواب دیتے ہوئے صحابہ کرام، تابعین، تبع تابعین اور آئمہ کرام کا اس جشن کے حوالے سے مؤقف واضح کیا ہے- کتاب کے آخر میں جشن میلاد النبی منانے والوں کے تمام دلائل کا کتاب وسنت کی روشنی میں تفصیلی رد کیا گیا ہے -
    pages-from-jumah-tul-mubarak-fazael-o-adaab-masael-o-ahkam
    ابو عدنان محمد منیر قمر

    جمعۃ المبارک کا دن اسلام میں بڑی اہمیت کا حامل ہے۔ رسو ل اللہﷺ نے اس دن کو سب سے افضل قرار دیا ہے۔ اللہ تعالی نے باقی امتوں کو اس دن کی برکات سے محروم رکھا صرف امت محمدیہ پر اللہ تعالیٰ نے خصوصی فضل وکرم فرمایا اور امت محمدیہ کی اس دن کی طرف راہنمائی فرمائی اور اسے اس کی برکات سے نوازا۔ نبی کریمﷺ جب مکہ سےہجرت کر کے مدینہ پہنچے تو بنی سالم بن عوف کےعلاقے میں نماز جمعہ کا وقت ہوگیا اور یہاں آپﷺ نے اپنی زندگی پہلا جمعہ ادا کیا۔ فرض نمازوں کی طرح نمازِ جمعہ کی بھی بڑی اہمیت ہے اور یہ نماز دوسری فرض نمازوں سے کہیں زیادہ افضل ہے۔ نماز جمعہ ایضا فریضہ ہے جس کاادا کرنا ہر مسلمان پر لازمی اور ضروری ہے اور اس کا تارک گنہگار ہے۔ نمازِ جمعہ بغیر کسی شرعی عذر کے چھوڑنے والے لوگوں کورسول اللہﷺنے سخت وعید سنائی۔ زیر تبصرہ کتاب ’’جمعۃ المبارک فضائل و فوائد‘‘مصنف کتب کثیرہ محترم محمدمنیر قمر﷾ کےمتحدہ عرب امارات میں قیام کے دوران ام القیوین کی اردو ریڈیو سروس پر پیش گئے پروگرام کی کتابی شکل ہے۔ جسے ان کی صاحبزادی شکیلہ قمر صاحبہ نے مرتب و مدون کرکے قارئین کے لیے اشاعت کےقابل بنایا ہے۔ اس کتاب میں جمعۃ المبارک کےفضائل و آداب اور مسائل کو تفیصلاً ببیان کیا گیا ہے۔ (م۔ا)

    haqoqe-mustafapbuhaur-tohene-risalat-ki-shari-saza
    ابو عدنان محمد منیر قمر
    22 شعبان 1426 ھ کو ڈنمارک کے اخبار میں نبی کریمﷺ کے توہین آمیز خاکے شائع ہوئے۔ اس کے بعد توہین آمیز خاکوں کا سلسلہ دراز ہوتا چلا گیا اور بہت سے دیگر ممالک نے بھی اس ناپاک جسارت میں حصہ لیا۔ انھی دنوں میں شیخ محترم ابو عدنان محمد منیر قمر نے سعودی ریڈیو سے اپنے پروگرام ’اسلام اور ہماری زندگی‘ میں اس موضوع پر تقاریر نشرکیں۔ ان میں سے بیشتر تقاریر ڈیلی اردو نیوز جدہ میں شائع بھی ہوتی رہیں۔ وہ تمام تقاریر و مضامین اس وقت کتابی شکل میں قارئین کےسامنے ہیں۔ کتاب کے شروع میں نبی کریمﷺ کی رحمت کا تفصیلی تذکرہ کرتے ہوئے رسول اکرم ﷺسے محبت کی فرضیت پر قرآنی دلائل دئیے گئے ہیں۔ علاوہ ازیں انبیا کرام سے استہزا کے انجام پر متعدد واقعات بیان کرتے ہوئے توہین رسالت کی سزا کو قرآن وسنت کی روشنی میں واضح کیا گیا ہے۔ اس وقت مرتکب توہین رسالت ﷺ کی توبہ کے بارے میں کچھ علما مختلف الرائے ہیں۔ اس بارے میں بھی کسی حتمی رائے کا اظہار کیا جاتا تو کتاب کی جامعیت میں مزید اضافہ ہو سکتا تھا۔ بہر آئینہ اپنے موضوع پر یہ ایک بہترین اور قابل مطالعہ کتاب ہے۔(عین۔ م)

    نوٹ:
    محدث فورم میں اس کتاب پر تبصرہ کرنے کے لیے یہاں کلک کریں

    title-pages-raf-ul-yadainmasail-o-ahkamdalaile-o-tehqiq
    ابو عدنان محمد منیر قمر
    رفع الیدین نبی کریمﷺکی محبوب سنت ہے ،جس پر آپ نے ہمیشہ عمل کیا اور اپنی حیات مبارکہ میں کبھی کوئی نماز رفع الیدین کے بغیر نہیں پڑھی ۔نیز آپ نے تمام امتیوں کو اس بات کاپابند کیا کہ و ہ طریقہ نبوی کے مطابق نماز ادا کریں ،لیکن تقلید شخصی کے خوگروں نے عوام کا کتاب وسنت سے تعلق توڑ کر اتباع و اطاعت کا رخ ائمہ کی طرف موڑ دیا اور اعمال کی ادائیگی کے لیے قول وفعل امام کو ترجیح دی گئی ،یوں عوام کو سنت سے ناتا ٹوٹا اور شخصیت پرستی کا آغاز ہو ،آل تقلید  کی اس گھناؤنی سازش سے اتباع رسولﷺکا جذبہ معدوم ہوا اور عبادات میں بدعات و محدثات کا لا متناہی سلسلہ شروع ہوا کہ اسلام کا اصل چہرہ ہی مسخ کردیا گیا اور حاملین کتاب وسنت  کو بے دین و بے ایمان قرار دیا گیا ،صحابہ کرام رضوان اللہ اجمعین پر غیر فقیہ ہونے کے بے ہودہ الزامات عائد کیے گئے اور جہاں مذہب کے خلاف احادیث آئیں انہیں مختلف تاویلات وتحریفات سے رد کر دیا گیا۔انہیں مسائل میں سے ایک مسئلہ نمازوں میں رفع الیدین کا ہےجسے آل تقلید مختلف حیلوں بہانوں سے منسوخ اور معدوم سنت قرار دینے کی کوشش کرتے ہیں ۔اس کے برعکس سلفی علما نے آل تقلید کی ان چیرہ دستیوں کو ہمیشہ طشت از بام کیا اور رفع الیدین کے مسنون و مستحب ہونے کو دلائل قویہ سے ثابت کرکے مقلدین کی سازشوں کو بے نقاب کیا ۔رفع الیدین کے ثبوت اورمسنون عمل ہونے کے متعلق یہ ایک معلوماتی کتاب     ہے ،جس کے مطالعہ کے بعدتقلیدی تعصب سے پاک شخص خود بخود رفع الیدین کا قائل و فاعل ہو جائے گا۔(ف۔ر)

    نوٹ:
    محدث فورم میں اس کتاب پر تبصرہ کرنے کے لیے یہاں کلک کریں
    rukusaysajdaymainjanaykikaifiat-copy
    ابو عدنان محمد منیر قمر
    نماز کی قبولیت کے لیے جہاں اس کے ارکان وشرائط کو ملحوظ رکھنا انتہائی ضروری ہے وہاں یہ بھی ضروری ہے کہ  اسے ہوبہو حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے بیان کیے گئے طریقے کے مطابق ادا کیا جائے-ارکان نماز کو انتہائی اطمینان اور خضوع وخشوع کو مدنظررکھتے ہوئے ادا کرنا چایہے-رکوع سے سجدے میں کس طریقے سے جھکا جائے اس بارے میں مختلف آراء پائی جاتی ہیں-کہ رکوع سے سجدے میں جاتےوقت پہلےگھٹنے زمین پر لگائے جائیں گے یا کہ ہاتھ؟زیر نظر کتابچہ میں ابوعدنان محمد منیر قمر نے رکوع سے سجدے میں جاتے ہوئے پہلے گھٹنے زمین پر رکھے جائیں یا ہاتھ ، اس حوالے سے محدثین وسلف صالحین کی تصدیقات وحوالہ جات کی روشنی میں مسئلے کی مکمل وضاحت کی ہے- ان کا کہنا ہے کہ احادیث رسول اور عمل صحابہ سے سجدےمیں جاتے ہوئے پہلے ہاتھ زمین پر رکھنا ہی ثابت ہے

    title-page-rukumainaakarmilnaywalaykirakaat-copy
    ابو عدنان محمد منیر قمر
    نماز کے ارکان کی ادائیگی اگر سنت کے مطابق ہو گی تو نماز قابل قبول ہو گی –نماز کےمسائل میں جس طرح سے فقہاء کے درمیان اختلاف  پایا جاتا ہے اس سے اندازہ کیا جا سکتا ہے کہ یہ کتنا محتاط پہلو ہے کہ ہر کسی کی کوشش ہوتی ہے کہ اس میں کوئی کوتاہی باقی نہ رہ جائے-اسی طرح نماز کے مسائل میں سے ایک اہم مسئلہ یہ بھی ہے کہ اگر کوئی شخص رکوع میں آکر ملتا ہے تو کیا اس کی رکعت شمار کی جائے گی یا اس کو وہ رکعت دوبارہ پڑھنی ہو گی؟زير نظر كتابچہ میں ابوعدنان محمد منیر قمر نے تجزیہ پیش کیا ہے کہ رکوع میں آکر ملنے والے کی رکعت ہوتی ہے یا نہیں؟ انہوں نے رکعت ہونے یا نہ ہونے والے دونوں مؤقف کے دلائل کا حقیقی موازنہ پیش کرتے ہوئے ثابت کیا ہے کہ ایسے شخص کو وہ رکعت دوبارہ ادا کرنا ہوگی کیونکہ جمہور سلف صالحین کا یہی مؤقف ہے-

    title-pages-soe-haram-hajj-umra-aur-qurbani-k-ahkam-w-masail-copy
    ابو عدنان محمد منیر قمر

    حج اسلام کے ارکانِ خمسہ میں اسے ایک رکن  ہے ۔ بیت  اللہ کی زیارت او رفریضۂ حج کی ادائیگی  ہر صاحب ایمان کی تمنا اور آرزو ہے  ہر  صاحب استطاعت اہل ایمان کے لیے زندگی میں   ایک دفعہ فریضہ حج کی ادائیگی  فرض ہے  اور  اس  کے انکار ی  کا ایمان کامل نہیں ہے اور وہ دائرہ اسلام   سےخارج ہے  اجر وثواب کے لحاظ     سے یہ رکن  بہت زیادہ اہمیت کاحامل ہے۔اور جس طرح نماز ،روزہ ، زکوٰۃ ،اسلام کے ارکان اور فرائض ہیں اسی طرح حج  دین کا بہت  بڑا رکن اور فیع الشان فریضہ ہے نماز  اور روزہ صرف بدنی عبادت ہے ۔ زکوٰۃ صرف مالی عبادت ہے  ۔ لیکن حج اپنے  اندر بدنی اور مالی دونوں قسم کی عبادتیں سموئے  ہوئے ۔ یعنی حا جی گھر سے چل کر مکہ مکرمہ ،عرفات اورمدینہ منورہ سے  ہو کر لوٹتا اور ساتھ ہی مال بھی خرچ کرتا ہے تو گویا دونوں قسم کی بدنی اور مالی عبادتوں کا شرف حاصل کرتا ہے ۔حج کرنے  سے پہلے  حج  کے طریقۂکار  سےمکمل آگاہی  ضرور ی ہے ۔ تمام كتب حديث وفقہ  میں  اس کی  فضیلت  اور  احکام ومسائل  کے متعلق  ابو اب  قائم کیے گئے ہیں  اور  تفصیلی  مباحث موجود ہیں  ۔حدیث نبویﷺ  ہے کہ آپ  نےفرمایا  الحج المبرور لیس له جزاء إلا الجنة ’’حج مبرور کا ثواب جنت سوا کچھ اور نہیں ۔اس موضوع پر اب تک اردو و عربی  زبان میں   چھوٹی بڑی بیسیوں کتب لکھی  جاچکی ہیں اور ہنوذ یہ سلسلہ جاری وساری  ہے  ۔ زیر تبصرہ کتاب ’’سوئے حرم   حج وعمر ہ اور قربانی کے احکام ومسائل‘‘ محترم جناب مولانا محمد منیر  قمر﷾ کے  تقریبا  ربع  صدی قبل  ریڈیو متحدہ عرب امارات ام القیوین سے  شمال اسٹوڈیوز کی اردو  سروس میں نشر ہونے والے  سلسلہ وار پروگرام ’’ سوئے حرم‘‘ کی  کتابی شکل ہے  جس میں  مناسب ترمیم اورمفید اضافے بھی کیے گئے ہیں۔ اس کتاب  میں حج وعمرہ اور قربانی کے جملہ  احکام ومسائل کا  کتاب وسنت کی روشنی میں  احاطہ کیا گیا ہے ۔  حافظ عبد الرؤف ﷾ (فاضل مدینہ یونیورسٹی) کی  کتاب  میں  وارد تمام احادیث وآثار کی علمی  وتفصیلی تخریج   نے  کتاب کی افادیت کودوبالا کردیا ہے ۔اللہ  تعالیٰ کتاب کے مؤلف ،مخرِّج ومعلّق کی  اس کاوش کو قبول فرمائے ۔اور اسے   عوام الناس کے   مفید ونافع بنائے (آمین) (م۔ا)

    title-pages-sharab-se-ilaj-ki-sharie-haisiyat-copy
    ابو عدنان محمد منیر قمر

    شراب اور نشہ آور اشیاء معاشرتی آفت ہیں جو صحت کو خراب، خاندان کو برباد،خاص وعام بجٹ کو تباہ اور قوت پیداوار کو کمزور کرڈالتی ہے۔ان کے استعمال کی تاریخ بھی کم وبیش اتنی ہی پرانی ہے جتنی انسانی تہذیب کی تاریخ یہ اندازہ لگانا تو بہت مشکل ہے کہ انسان نے ام الخبائث کا استعمال کب شروع کیا اوراس کی نامسعود ایجاد کاسہرہ کس کے سر ہے ؟ تاہم اس برائی نے جتنی تیزی سے اور جتنی گہرائی تک اپنی جڑیں پھیلائی ہیں اس کا ندازہ اس سے کیا جاسکتا ہے کہ تمام عالمی مذاہب نے اس کے استعمال کو ممنوع قرار دیا ہے۔دین ِ اسلام میں اللہ تعالیٰ نے دنیا میں انسان کےلیے شراب کے استعمال کو حرام قرار دیا ہے اور رسول اللہ ﷺ نےاس کے استعمال کرنے والے پر حد مقرر کی ہے یہ سب اس مقصد کے تحت کیا گیا کہ مسکرات یعنی نشہ آور چیزوں سے پیدا شدہ خرابیوں کو روکا جائے ا ن کے مفاسد کی بیخ کنی اور ان کےمضمرات کا خاتمہ کیا جائے ۔کتب احادیث وفقہ میں حرمت شرات اور اس کے استعمال کرنے پر حدود وتعزیرات کی تفصیلات موجود ہیں ۔ اور بعض اہل علم نے حرمت شراب پر مستقل کتب تصنیف کی ہیں ۔شراب کے نجس وطاہر ہونے میں اہل علم کے اقوال مختلف ہیں ۔اور اسی طرح شراب سے علاج کے بارےمیں بھی علماء کا اختلاف ہے۔ زیر تبصرہ کتاب’’شراب سے علاج کی شرعی حیثیت‘‘مولانا ابو عدنان محمد منیر قمر ﷾ کے متحدہ عرب امارات کے ام القیوین ریڈیو سٹیشن سےاس مذکورہ موضوع پر اردو پروگرام میں روزانہ نشر ہونے والے تقاریر کا مجموعہ ہے۔جسے افادۂ عام کے لیے جناب مولانا غلام مصطفیٰ فاروق نے کتابی صورت میں مرتب کیا ہے۔اس کتاب میں مولانا ابو عدنان محمد منیر قمر صاحب نے شراب سے علاج کےموضوع پر جانبین کے دلائل ذکر کر کے غیر جانبداری کےساتھ بے لاگ بحث وتبصرہ کرکے وضاحت کی ہے اور نتائج اخذ کیے ہیں۔(م۔ا)

    pages-from-jashan-e-milaad-yaum-e-wafaat-par-aik-tahqeeq-aik-jaezah
    ابو عدنان محمد منیر قمر

    مسلمان کی اصل کامیابی قرآن مجیداور احادیث نبویہ میں اللہ اور رسول اکرم ﷺ کی جو تعلیمات ہیں ان کی پیروی کرنے اوران کی خلاف ورزی یا نافرمانی نہ کرنے میں ہے مسلمانوں کوعملی زندگی میں اپنے سامنے قرآن وحدیث ہی کو سامنے رکھنا چاہیے اس سلسلے میں صحابہ کرام ﷢ کے طرزِ عمل سے راہنمائی لینے چاہیے کہ انہوں نے قرآن وحدیث پر کیسے عمل کیا کیونکہ انہی شخصیات کو اللہ تعالی نے معیار حق قرار دیا ہے۔ اورنبی ﷺنے بھی اختلافات کی صورت میں سنتِ نبویہ اور سنت خلفائے راشدین کو تھام نے کی تلقین کی ہےمتازعہ مسائل میں سے ایک اہم مسئلہ بارہ ربیع الاول کو میلاد النبی ﷺ منانےکاہے بہت سارے مسلمان ہرسال بارہ ربیع الاول کو عید میلادالنبی ﷺ او رجشن مناتے ہیں ۔عمارتوں پر چراغاں کیا جاتا ہے، جھنڈیاں لگائی جاتی ہیں، نعت خوانی کےلیے محفلیں منعقدکی جاتی ہیں اور بعض ملکوں میں سرکاری طور پر چھٹی کی جاتی ہے۔ لیکن اگر قرآن وحدیث اور قرون اولیٰ کی تاریخ کا پوری دیانتداری کے ساتھ مطالعہ کیا جائے تو ہمیں پتہ چلتا ہےکہ قرآن وحدیث میں جشن عید یا عید میلاد کا کوئی ثبوت نہیں ہے اور نہ نبی کریم ﷺ نے اپنا میلاد منایا او رنہ ہی اسکی ترغیب دلائی، قرونِ اولیٰ یعنی صحابہ کرام ﷺ ،تابعین، تبع تابعین﷭ کا زمانہ جنھیں نبی کریم ﷺ نے بہترین لوگ قرار دیا ان کے ہاں بھی اس عید کا کوئی تصور نہ تھا اورنہ وہ جشن مناتے تھے اور اسی طرح بعد میں معتبر ائمہ دین کےہاں بھی نہ اس عید کا کو ئی تصور تھا اور نہ وہ اسے مناتے تھے او ر نہ ہی وہ اپنے شاگردوں کو اس کی تلقین کرتےتھے بلکہ نبی کریم ﷺ کی ولادت باسعادت کی مناسبت سے جشن منعقد کرنے کا آغاز نبی ﷺ کی وفات سے تقریبا چھ سو سال بعد کیا گیا ۔ہمارے ہاں ہر سال ماہ ربیع الاول کی آمد یہ بحث چھڑ جاتی ہے کہ عیدِ میلاد النبی ﷺ پر جشن وغیرہ کرنا جائز ہے یا نہیں ؟ او ر نبی اکرم ﷺکی ولادت باسعادت کس تاریخ کو ہوئی۔ زیرنظر کتابچہ ’’صحیح تاریخ ولادت مصطفیٰ جشن میلاد، یوم وفات پر ایک تحقیق ایک جائزہ‘‘ میں مولانا محمدمنیر قمر﷾ (مترجم ومصنف کتب کثیرہ)نے انہی دونوں سوالوں کے جوابات کو تحقیقی اور مدلل صورت میں پیش کیا ہے۔در اصل یہ کتابچہ فاضل مصنف کے ان چند ریڈیائی تقاریرکا مجموعہ ہےجو متحدہ عرب امارات ام القیوین کی اردو سروس سے کئی مرتبہ نشر ہوئیں۔بعد ازاں ان تقاریر کو حافظ ارشاد الحق (فاضل مدینہ یونیورسٹی ) نے تحریر کی شکل میں منتقل کیا۔ اللہ تعالیٰ اس کتابچہ کو عامۃ الناس کی اصلاح کاذریعہ بنائے (آمین)

    allama-ibne-baaz
    ابو عدنان محمد منیر قمر
    شیخ ابن باز  رحمۃ اللہ علیہ 1330ھ کو سعودی عرب کے شہر الریاض میں پیدا ہوئے اور وہیں پلے بڑھے۔ سولہ برس کی عمر میں شیخ صاحب کی بینائی کمزور ہونا شروع ہوئی اور تقریباً بیس سال کی عمر تک آپ بینائی سے محروم ہو گئے۔ لیکن اس محرومی کو خاطر میں نہ لاتے ہوئے آپ سے آگے سے آگے بڑھتے رہے، اللہ تعالیٰ نے آپ کو بصارت سے محروم کیا تو حافظہ کی قوت اور بصیرت کی بے پناہ دولت سے مالا مال کیا۔ پیش نظر کتاب میں فضیلۃ الشیخ محمد منیر قمر شیخ موصوف کی زندگی کے عوام الناس سے پوشیدہ بہت سے گوشوں کو منظر عام پر لائے ہیں۔ شیخ صاحب کی علمیت کا اندازہ اس سے لگائیے کہ سعودی عرب کے سپریم کورٹ کے چیف جسٹس علامہ عبداللہ بن سلیمان المنیع نے شیخ ابن باز کو عہد حاضر کے مجدد، امام فن رجال، امام حدیث، امام کرم نفس و دست، امام نصیحت، امام سماحت، امام تواضع، امام قناعت، امام تقویٰ، امام صلاح و اصلاح جیسے القابات سے نوازا۔ ایسے شخص کی زندگی یقیناً عوام و خواص کے لیے نظیر  ہے۔ اردو زبان میں علامہ صاحب کی زندگی سے متعلق اس قدر تفصیلی اور معتبر مواد سے اس سے قبل سامنے نہیں آیا۔ (عین۔ م)

    نوٹ:
    محدث فورم میں اس کتاب پر تبصرہ کرنے کے لیے یہاں کلک کریں

    title-pages-amale-salih-ki-pehchan
    ابو عدنان محمد منیر قمر
    کسی بھی عمل کی قبولیت کے لیے پہلی شرط یہ ہے کہ انسان کا عقیدہ درست ہو اور توحید باری تعالیٰ پر مکمل ایمان ہو۔ عمل صالح کے لیے دوسری شرط یہ ہے کہ وہ اخلاص کے ساتھ کیا جائے اور اس میں کسی قسم کی ریاکاری کا شائبہ نہ ہو۔ اور تیسری شرط یہ ہے کہ وہ مطابق سنت ہو۔ اعمال میں ان تینوں شروط میں سے اگر ایک شرط  بھی مفقود ہو تو اللہ کے ہاں ایسے عمل کی کوئی اہمیت نہیں ہے اور ایسا عمل رائیگاں بلکہ باعث وبال ہے۔ زیر نظر کتاب میں ابو عدنان محمد منیر قمر نواب الدین نے انھی تین شروط کو تفصیل کے ساتھ قلم زد کیا ہے۔ در اصل مصنف سعودی عرب کے ریڈیو میں مختلف موضوعات پر تسلسل کے ساتھ پروگرام کرتے رہے ہیں۔ ’عمل صالح کی پہچان‘ کے نام سے بھی آپ کا پروگرام نشر ہوتا رہا ہے۔ اس سے قبل ’قبولیت عمل کی شرائط‘ کے عنوان سے مصنف کی ایک ضخیم کتاب پاکستان اور ہندوستان سے شائع ہ چکی ہے۔ زیر نظر کتاب اسی مفصل کتاب کا اختصار اور خلاصہ ہے۔(ع۔م)

    نوٹ:
    محدث فورم میں اس کتاب پر تبصرہ کرنے کے لیے یہاں کلک کریں
    title-pages-fazail-e-ramdan-o-roza
    ابو عدنان محمد منیر قمر
    روزوں کے احکام مسائل پر عربی زبان میں بہت سی کتب لکھی گئی ہیں اور روزوں سے متعلقہ ابحاث کو فتاویٰ کی شکل میں بھی کافی حد تک لوگوں کے سامنے لایا جاچکا ہے۔ اردو زبان میں عصری مسائل کو سامنےر کھتے ہوئےبہت کم ایسی کوشش کی گئی ہے کہ ان تمام مسائل کو ایک جگہ مبسوط طریقہ سے اکٹھا کردیا جاتا خصوصا وہ مسائل کہ جس میں کسی نہ کسی پہلو سے تشنگی رہ جاتی ہے دلائل ذکرکر کے ان کے موازنہ کے بعد  راجح مسلک بیان کردیا جاتا۔زیر نظر کتابچہ میں مصنف نے روزوں سے متعلقہ ابتدائی معلومات و فضائل کے ساتھ ساتھ رؤیت ہلال اور اختلاف مطالع جیسے مسائل کی بحث کو بھی اجاگر کیا ہے کہ جس میں فقہاء کے اختلافات اور پھر منافشہ کے بعد راجح مسلک بھی بیان کردیا ہے۔اس کتاب کا منفرد انداز یہ ہے کہ مصنف نے روزوں کے فوائد و ثمرات کو طبی اور سائنسی اصولوں پر بھی پرکھا ہے اور روزہ سے متعلق انسانی نفسیات کوبھی شامل کرتے ہیں اور موجودہ دور میں واقعاتی مثالوں سے روزہ کی اہمیت و افادیت پیش کرتے ہیں۔ 110 صفحات کی یہ کتاب ان جملہ خصوصیات کی حامل ہے۔(ک۔ط)

    نوٹ:
    محدث فورم میں اس کتاب پر تبصرہ کرنے کے لیے یہاں کلک کریں
    title-pages-mukhtasir-masail-w-ahkam-hajj-w-umra-aur-qurbani-w-eidain-copy
    ابو عدنان محمد منیر قمر

    بیت اللہ کا حج  ارکانِ اسلام میں ایک اہم ترین  رکن ہے۔ بیت اللہ کی زیارت او رفریضۂ حج کی ادائیگی ہر صاحب ایمان کی تمنا اورآرزو ہے۔ ہر صاحب استطاعت مسلمان پر  زندگی میں ایک دفعہ فریضہ حج کی ادائیگی فرض ہے، اور اس کے انکار ی کا ایمان کامل نہیں ہے اور وہ دائرہ اسلام سےخارج ہے۔ اجر وثواب کے لحاظ سے یہ رکن بہت زیادہ اہمیت کاحامل ہے تمام كتب حديث وفقہ میں اس کی فضیلت اور احکام ومسائل کے متعلق ابو اب قائم کیے گئے ہیں اور تفصیلی مباحث موجود ہیں ۔حدیث نبویﷺ کہ آپ نےفرمایا "الحج المبرور لیس له جزاء إلا الجنة "حج مبرور کا ثواب جنت کے  سوا کچھ نہیں ۔اس موضوع پر اب تک اردو و عربی زبان میں چھوٹی بڑی بیسیوں کتب لکھی جاچکی ہیں زیرنظر کتاب ""سعودی عرب میں مقیم پاکستانی عالم دین مولانا ابو عدنان محمد منیر قمر ﷾کی کاوش ہے۔ جس میں انہوں  حج وعمرہ کے تمام مسائل او ر اس دوران پڑھی جانے والی دعائیں قرآن وحدیث کی روشنی میں جمع کر دی گئی ہیں ۔اور اس کے ساتھ قربانی وعیدین کے مسائل بھی نہایت اختصار مگر دلائل اور جامعیت کے ساتھ بیان کر دیئے ہیں۔ان کی مرتب کردہ یہ دلکش کتاب خود پڑھنے اور عزیز واقارب دوست احباب کو تحفہ دینے کے لائق ہے تاکہ حج وعمرہ اور قربانی وعیدین کے فرائض مسنون طریقے سے ادا کیے جاسکیں اللہ تعالی ان  کی اس کاوش کو اہل اسلام کے لیے مفید بنائے۔آمین۔(راسخ)

    نوٹ:

    محدث فورم میں اس کتاب پر تبصرہ کرنے کے لیے یہاں کلک کریں

    title-pages-mukhtasir-masail-w-ahkame-ramazanroza-aur-zakat-copy
    ابو عدنان محمد منیر قمر

    روزوں کے احکام مسائل پر عربی زبان میں بہت سی کتب لکھی گئی ہیں اور روزوں سے متعلقہ ابحاث کو فتاویٰ کی شکل میں بھی کافی حد تک لوگوں کے سامنے لایا جاچکا ہے۔ اردو زبان میں عصری مسائل کو سامنےر کھتے ہوئےبہت کم ایسی کوشش کی گئی ہے کہ ان تمام مسائل کو ایک جگہ مبسوط طریقہ سے اکٹھا کردیا جاتا خصوصا وہ مسائل کہ جس میں کسی نہ کسی پہلو سے تشنگی رہ جاتی ہے دلائل ذکرکر کے ان کے موازنہ کے بعد  راجح مسلک بیان کردیا جاتا۔زیر نظر کتابچہ(رمضان ،روزہ اور زکوۃ) سعودی عرب میں مقیم پاکستانی عالم دین ابو عدنان محمد منیر قمر کی تصنیف ہے ،جس میں مصنف نے رمضان روزہ اور زکوۃ سے متعلقہ مسائل کی بحث کو بھی اجاگر کیا ہے کہ جس میں فقہاء کے اختلافات اور پھر منافشہ کے بعد راجح مسلک بھی بیان کردیا ہے۔اس کتاب کا منفرد انداز یہ ہے کہ مصنف نے روزوں کے فوائد و ثمرات کو طبی اور سائنسی اصولوں پر بھی پرکھا ہے اور روزہ سے متعلق انسانی نفسیات کوبھی شامل کرتے ہیں اور موجودہ دور میں واقعاتی مثالوں سے روزہ کی اہمیت و افادیت پیش کرتے ہیں۔ اللہ تعالی مولف کی اس کاوش کو اپنی بارگاہ میں قبول فرمائے اور ان کے میزان حسنات میں اضافہ فرمائے۔ آمین(راسخ)

     

    title-page-nimazorozakiniyyat-copy
    ابو عدنان محمد منیر قمر

    اس بات ميں تو شک کی قطعی کوئی گنجائش نہیں کہ ہر عمل کی قبولیت کے لیے نیت کی درستگی شرط ہے لیکن اختلاف اس بات میں ہے کہ نیت کا زبان سے ادا کرنا لازمی ہے یایہ دل کی کیفیت کانام ہے اس کتاب میں مصنف نے نماز اور روزہ کی نیت کے حوالے سے تفصیلی گفتگو کرتے ہوئےکی لغوی واصطلاحی تعریف کی وضاحت کی ہے-اور ساتھ ساتھ کبار آئمہ کی تصریحات، علماوفقہاء کے اقوال کا تذکرہ کرتے ہوئے نیت کا صحیح مفہوم واضح کیاہے

     

    title-page-namazewitrotahajud-copy
    ابو عدنان محمد منیر قمر
    رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے فرمان کے مطابق رات کی آخری نماز وتر ہونی چاہیے-اس لیے جو شخص رات کا قیام کرنا چاہتا ہے وہ عشاء کی نماز کے بعد وتر نہ پڑھے  بلکہ رات کےآخری حصے میں وتر ادا کرے-ونماز وتر کے سلسلے میں ہمارے ہاں مختلف آراء پائی جاتی ہیں کچھ کے نزدیک یہ واجب ہے تو کچھ کے نزدیک سنت مؤکدہ اور کچھ کا موقف یہ ہے کہ اگر کوئی شخص رات کو وتر پڑھ کر سو گیا تو صبح اٹھ کر پہلے وہ اپنے وتر کو توڑے گأ پھر نفلی نماز ادا کرسکتا ہے اور اسی طرح اگر کسی کا وتر رہ گیا ہو تو وہ اس کی قضا کیسے دے گا-زیر نظر کتاب میں ابوعدنان محمد منیر قمر نے اس حوالے سے پائے جانے والے شبہات کے ازالے کے لیےقابل قدر کوشش کی ہے-مصنف نے قرآن وسنت، آثار وصحابہ وتابعین اور اقوال آئمہ کی روشنی میں نماز وتر اور تہجد کی فضیلت واہمیت اور اس سے متعلقہ تمام مسائل کو تفصیل کے ساتھ بیان کر دیا ہے-جس میں نماز وتر اور تہجدکے فضائل اور ادائیگی کا طریقہ بیان کرنے کے ساتھ ساتھ دعائے قنوت کے مسائل اور اس کا طریقہ بالدلائل بیان کیا گیا ہے-

    title-pages-namaze-punj-ghana-ki-rakatain
    ابو عدنان محمد منیر قمر
    نماز دین کا ستون اور اسلام کا بنیادی  رکن ہے،نماز صحت ایمان کی شرط ہے کہ تارک نماز کا اسلام سے تعلق ہی منقطع ہو جاتاہے ،اس لحاظ سے نماز کی پابندی ہر مسلمان پر لازم ہے، پھر نمازکے طریقہ کار سے آگاہی بھی نہایت اہم ہے نیز فرض و نفل نمازوں کے اوقات اور تعدادکا علم بھی ضروری ہے ۔ نماز کی رکعتوں کی تعداد اور اوقا ت کے متعلق یہ ایک اچھی کتاب ہے ،جس میں فرض و نفل نمازوں کی تعداد اور اوقات کی وضاحت کی گئی ہے ،پھرسنت مؤکدہ و غیر مؤکدہ کی توضیح اور وتر نماز کے عدم وجوب سمیت رکعات وتر اور وتر کی ادائیگی کے مختلف طریقوں کی تفصیل بیان کی گئی ہے۔نماز کی رکعات کے متعلق یہ ایک  نہایت معلوماتی کتاب ہے،جس کا مطالعہ قارئین کی علمی تشنگی کاکافی مداوا  ثابت ہو گا۔(ف۔ر)

    نوٹ:
    محدث فورم میں اس کتاب پر تبصرہ کرنے کے لیے یہاں کلک کریں

    title-pages-namaze-punj-ghana-ki-rakatain--jadeed-audition--copy
    ابو عدنان محمد منیر قمر

    نماز دین کا ستون اور اسلام کا بنیادی  رکن ہے،نماز صحت ایمان کی شرط ہے کہ تارک نماز کا اسلام سے تعلق ہی منقطع ہو جاتاہے ،اس لحاظ سے نماز کی پابندی ہر مسلمان پر لازم ہے، پھر نمازکے طریقہ کار سے آگاہی بھی نہایت اہم ہے نیز فرض و نفل نمازوں کے اوقات اور تعدادکا علم بھی ضروری ہے ۔ نماز کی رکعتوں کی تعداد اور اوقا ت کے متعلق یہ ایک اچھی کتاب ہے ،جس میں فرض و نفل نمازوں کی تعداد اور اوقات کی وضاحت کی گئی ہے ،پھرسنت مؤکدہ و غیر مؤکدہ کی توضیح اور وتر نماز کے عدم وجوب سمیت رکعات وتر اور وتر کی ادائیگی کے مختلف طریقوں کی تفصیل بیان کی گئی ہے۔نماز کی رکعات کے متعلق یہ ایک  نہایت معلوماتی کتاب ہے،جس کا مطالعہ قارئین کی علمی تشنگی کاکافی مداوا  ثابت ہو گا۔(ف۔ر)


    title-page-namaz-ki-adm-pabandi-or-us-ka-anjam
    ابو عدنان محمد منیر قمر

    اسلام میں نماز کی اہمیت کیاہے؟اس کااندازہ اس حدیث پاک سے لگایاجاسکتاہےکہ کفروسلام کےمابین حدفاصل نمازہی ہے۔یہی مومن کی معراج اوردین کاستون ہے۔رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کاارشادپاک ہے کہ میری آنکھوں کی ٹھنڈک نمازمیں رکھی ہے۔دوزخی لوگ بھی اعتراف کریں گے کہ ان کےجہنم میں داخلے کاسبب نماز کی عدم ادائیگی ہے ۔نماز کانہ پڑھناتوخیربہت ہی بڑاجرم ہے ،اس کی پابندی نہ کرنابھی بہت عظیم گناہ ہے جس پرشریعت میں بہت سی وعیدیں آئی ہیں۔زیرنظراوراق میں اس شے کی طرف توجہ دلائی گئی ہے کہ نماز کوبروقت نہ پڑھنااوراس سلسلہ میں لاپرواہی برتناباعث عذاب ہے،فلہذانمازوں کوپابندی وقت اورجمع آداب کوملحوظ رکھتے ہوئے اداکرناچاہیے ۔

     

    title-page-topiopagrisayyanangaysarnamaz-copy
    ابو عدنان محمد منیر قمر
    عبادات میں سے سب سے افضل عبادت نماز ہے اسی لیے اس کی ادائیگی میں مسنون طریقے کو اختیار کرنا بہت ہی زیادہ ضروری ہے اسی لیے علماء نے نماز کے موضوع پر بے شمار کتب لکھیں ہیں تاکہ اس اہم فرض کی ادائیگی میں کوئی کوتاہی نہ رہ جائے-نماز کے اختلافی مسائل میں سے ایک مسئلہ یہ بھی ہے کہ کیا نماز پڑھتے وقت سر ڈھانپنا ضروری ہوتا ہے یا اس کے بغیر نماز نہیں ہوتی-کچھ لوگوں کا خیال ہے کہ سر ڈھانپے بغیر نماز پڑھنا مکروہ ہے اور کچھ لوگوں کا خیال ہے کہ اگر سر نہ بھی ڈھانپا جائے تو اس میں سنت کی مخالفت نہیں ہوتی-اس لیے اس کتاب میں نماز کے متعلق تمام مسائل کا احاطہ کیا گیا ہے  اوراس میں ٹوپی یا پگڑی سے سر کو ڈھانپنے اور نماز میں پگڑی کے فضائل و برکات کے بارے میں وضاحت موجود ہے جس کو احادیث نبویہ سے ثابت کیا گیا ہے تو اس طرح ننگے سر نماز , باطل راویات کے اثرات اور ننگے سر نماز کے دلائل کی استنادی حیثیت کو ثابت کیا گیا ہے -

    title-pages-copy
    عبد العزیز بن عبد اللہ بن باز
    دعوت الی اللہ اور داعی کے اوصاف۔ یہ کتاب فضیلۃالاساذ علامہ عبدالعزیزبن عبداللہ بن باز کے دورسالوں کا مجموعہ ہے،ایک کا عنوان (الدعوۃ الی اللہ و اخلاق الدعاۃ)(دعوت الی اللہ اور داعی کے اوصاف)اور دوسرے رسالہ کا عنوان(وجوب العمل بالسنۃوکفر من انکرہا)(مقام سنت اور فتنہ انکار حدیث)ہے-پہلے رسالہ میں  دعوت الی اللہ کی اہمیت،دعوت کے فضائل اور داعی کو کن اوصاف سے متصف ہونا چاہیے،کا بیان ہےاور دوسرے رسالہ میں سنت کی اہمیت و فضیلت کا بیا ن ہے اور اس مسئلہ کی توضیح ہےکہ صحیح اسلام پر عمل کرنے کے لیے سنت پر عمل ناگزیر ہے،پھر منکرین حدیث کے اعتراضات کا جائزہ اور فتنہ انکار حدیث کی مذمت کا بیان ہے، زیر نظر کتاب اختصار و جامعیت کا حسین امتزاج اور اصلاح کے لحاظ سے نہایت مفید ہے-(ف۔ر)

    نوٹ:
    محدث فورم میں اس کتاب پر تبصرہ کرنے کے لیے یہاں کلک کریں

    title-page-mukhtasarmasayaloahkamtaharatonamaz-copy
    محمد بن صالح العثیمین
    نماز اسلام کا ایک بنیادی رکن ہے اور اس کی ادائیگی کے لیے طہارت اور پاکیزگی لازمی امر ہے-کیونکہ اس کے بغیر نماز قبول نہیں ہو گی اور یہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ارشاد عالیہ سے ثابت ہے-اور اسی طرح طہارت اور صفائی کو ایمان کا حصہ بتایا گیا ہے اس لیے شریعت نے نماز کی ادائیگی کے لیے بھی طہارت کو لازمی قرار دیا ہے-اس لیے مصنف نے اس کتاب میں اختصار کے ساتھ طہارت و نماز کے مسائل کو بیان کرتے ہوئے ہر بندے کے لحاظ سے تقسیم کو بھی واضح کیا ہے کہ عام انسان کے لیے طہارت حاصل کرنے اور عبادت کو بجا لانے کا انداز اور طریقہ کیا ہو گا اور ایک بیمار اور لاغر انسان کے لیے طہارت اور نماز کے لیے کیا طریقہ کار ہو گا-مصنف نےان تمام چیزوں کو سامنے رکھتے ہوئےغسل، وضو و تيمم كا طريقه اورنمازکی مسنون کیفیت جس ميں سجدہ سہووغيره کے احکام و مسائل شامل ہیں کے حوالے سے بالدلائل گفتگو کی ہے-

اس سائٹ پر کوئی ایسی کتاب موجود نہیں جس کی ترتیب و تخریج ان صاحب نے کی ہو۔
title-pages-barat-e-ahlehadeeth
اہل حدیث پر عائد کیے تھے ۔نیو سعید آباد میں ایک تقریر کے دوران ماسںر اوکاڑوی نے جماعت اہل حدیث پر بے سرو پا الزامات لگائے اور مسلک حق کو خستہ و ناکارہ ثابت کرنے کی کوشش کی ، جواب میں شیخ العرب والعجم علامہ بدیع الدین شاہ راشدی صاحب نےنیو سعید آباد ہی میں ایک جلسہ عام میں ان الزامات کا علمی محاسبہ کیا اور ماسٹر صاحب کی کذب بیانوں کو طشت ازبام کیا،ان کی اس تقریر کو تنظیم نوجوانان اہل حدیث نے سندھی زبان میں کتابی شکل  میں شائع کیا ،اس کتاب کا یہ اردو ترجمہ ہے،کتاب دلائل و براہین سے آراستہ، جس میں مسلک اہل حدیث کی حقانیت ،ماسٹر اوکاڑوی کے اعتراضات کے جوابات اور آل دیوبندکی تحریفات و تکذیبات کا بیان ہے،کتاب اپنے موضوع پر عظیم علمی شاہکار ہے-(ف۔ر)

نوٹ:
محدث فورم میں اس کتاب پر تبصرہ کرنے کے لیے یہاں کلک کریں

title-pages-jahaiz-jore-ki-rasam
دین  اسلام مکمل ضابطہ حیات ہے ،جو اہل اسلام کی عقائد ونظریات،عبادات  و معاملات سمیت ہر شعبہ زندگی میں مکمل راہنمائی کرتا  ہے،لیکن یہ اہل اسلام کا المیہ ہے کہ دین حنیف سے انحراف کے سبب امت اصل دین سے بہت دور اور رحمت ایزدی سے محروم ہے۔کفریہ عقائد و بدعات اور رسوم ورواج نے اسلام کا روشن چہرہ مسخ کردیاہے اور تہذیب وثقافت کے نام پر بدعات اور خلاف شریعت  رسوم کا عام چلن ہے۔ضرورت اس امر کی ہےکہ ہم اسلام  کی روح کو سمجھیں اوراصل اسلام پر عمل پیرا ہوں ، اسی میں عظمت ورفعت اور اخروی فلاح ممکن ہے –مروجہ رسوم میں سے انتہائی مہلک رسم جہیز ہے جس کی وجہ سے بے شمار نوجوان لڑکیاں شادی کی عمر عبورکر جاتی ہیں اور کتنے ہی خاندان قرضوں کے بوجھ تلے سسکتے بدحالی  کی زندگی گزار تے ہیں-جہیز ایک جابرانہ رسم ہے ،جس کی بے شمار قباحتیں ہیں ، زیر تبصرہ کتاب جہیز کی تباہ کاریوں سے آگاہی کے متعلق ایک اچھی کتاب ہے ، جس کا مطالعہ قارئین کے لیے بے حد مفید ہے۔(ف۔ر)

نوٹ:
محدث فورم میں اس کتاب پر تبصرہ کرنے کے لیے یہاں کلک کریں
title-pages-from-khushgawar-zindagi-k-12-usool
آج کے مادی دور میں ہر شخص ایک خوشگوار زندگی گزارنے کا خواہش مند ہے ۔لیکن زیادہ تر لوگوں کا نقطہ نگاہ یہ ہے کہ ایک اچھی اور خوش گوار زندگی دنیوی آسائشوں اور مال ودولت ہی سے حاصل ہو سکتی ہے،لیکن افسوس کہ ہم نے اس باب میں قرآن وحدیث سے یہ معلوم کرنے کی کوشش نہیں کی کہ خوش گوار زندگی کے اصول کیا ہیں؟یہی وجہ ہے کہ دنیا کی بے شمار آسائشوں کے حصول کے  بعد بھی بے سکونی و بے اطمینانی رہتی ہے۔جناب ڈاکٹر حافظ اسحٰق زاہد نے زیر نظر کتابچے میں کتاب وسنت کی روشنی میں 12 ایسے اصول ذکر کیے ہیں جو خوش گوار زندگی کے ضامن ہیں اور سچ یہ ہے کہ ان کو نظر انداز کر کے کبھی بھی مطمئن وسرور زندگی نہیں گزاری جاسکتی۔ہر مسلمان کو چاہیے کہ ان اصولوں کو اپنائے تاکہ وہ دنیا میں ایک خوش گوار زندگی گزار سکے اور آخرت میں بھی اچھی زندگی کا مستحق ہو سکے۔(ط۔ا)

title-page-dunaivi-masaib-o-mushkalat

یہ دنیاآزمائش گاہ ہے ۔خداوندقدوس نےموت وحیات کی تخلیق کامقصدہی یہ قراردیاہے کہ وہ اس کے ذریعے ہماری آمائش کرناچاہتاہے کہ ہم میں سے کون اچھے عمل کرتاہے اورکون برے عمل اپناتاہے ۔دنیامیں انسان کوکئی طرح کی مشکلات اورمصیبتوں سے دوچارہوناپڑتاہے ۔یہ آزمائش اس لیے ہوتی ہے کہ انسان کاتعلق خداکےساتھ مضبوط ہوتاہے یاوہ اس سے دورہوجاتاہے۔زیرنظرکتابچہ میں دنیوی مصائب ومشکلات کےحوالے سے قرآن وسنت کی روشنی میں راہنمائی کی گئی ہے کہ ان میں ایک انسان سے کون سارویہ اورکردارمطلوب ہے ۔دعاء توکل علی اللہ اوراللہ سے اجروثواب کی امیدہی وہ طرز عمل ہے جومصائب کی صورت میں انسان کے لیے مناسب ہے ۔اسوۂ رسول صلی اللہ علیہ وسلم اورصحابہ کرام رضی اللہ عنہم کی سیرتوں سے بھی یہی تصویرسامنے آتی ہے ۔

 

 

title-pages-sharaf-ahle-hadith-tarjuma-fazail-ahle-hadith-copy

 اصحاب الحدیث کی اصطلاح ابتداء ہی سے اس گروہ کی پہچان رہی ہے  جو سنت نبویہ کی تعظیم اوراس کی نشر واشاعت کا کام کرتا اور نبی  کریم ﷺ کےصحابہ کے عقیدہ جیسا اعتقاد رکھتا اورکتاب وسنت کوسمجھنے کے لیے فہم صحابہ پرعمل کرتا چلا آیا ہے۔یہ لوگ خیرالقرون سے تعلق رکھتے ہیں ، اس سے وہ لوگ مراد نہیں ہیں جن کا عقیدہ سلف کے عقیدہ کے خلاف اوروہ صرف عقل اوررائےاوراپنے ذوق اورخوابوں پراعمال کی بنیادرکھتے اوررجوع کرتے ہيں۔ اوریہی وہ گروہ اورفرقہ ہے جوفرقہ ناجيہ اورطائفہ منصورہ جس کا ذکر احادیث میں ملتا ہے۔نبی کریمﷺنے فرمایا:"ہروقت میری امت سے ایک گروہ حق پررہے گا جو بھی انہیں ذلیل کرنے کی کوشش کرے گا وہ انہيں نقصان نہیں دے سکے گا ، حتی کہ اللہ تعالی کا حکم آجائےتووہ گروہ اسی حالت میں ہوگا (مسلم : 1920 ) بہت سارے آئمہ کرام نے اس حدیث میں مذکور گروہ سے بھی اہل حدیث ہی کو مقصودو مراد لیا ہے ۔ زیر تبصرہ کتاب " شرف اصحاب الحدیث"پانچویں صدی ہجری کے معروف امام علامہ خطیب بغدادی ﷫کی عربی تصنیف ہے ،جس کا اردو ترجمہ وخلاصہ خالد گرجاکھی صاحب نے کیا ہے۔مولف موصوف   نے اس کتاب میں اصحاب الحدیث کی فضیلت اور ان کے مقام ومرتبے کو بیان کیا ہے۔اس کتاب کی سب سے بڑی خوبی یہ ہے کہ مولف نے اس میں موجود تمام احادیث ،آثار اور ائمہ محدثین کے اقوال اپنی سند سے نقل کئے ہیں جس سے اس کی استنادی میں مزید اضافہ ہو گیا ہے۔ اللہ تعالی ان کی اس محنت کو اپنی بارگاہ میں قبول فرمائے اور ان کے میزان حسنات میں اضافہ فرمائے۔آمین(راسخ)

ای میل سبسکرپشن

محدث لائبریری کی اپ ڈیٹس بذریعہ ای میل وصول کرنے کے لئے ای میل درج کر کے سبسکرائب کے بٹن پر کلک کیجئے۔

 

ایڈوانس سرچ

رجسٹرڈ اراکین

آن لائن مہمان

محدث لائبریری پر اس وقت الحمدللہ 579 مہمان آن لائن ہیں ، لیکن کوئی رکن آن لائن نہیں ہے۔

ایڈریس

       99--جے ماڈل ٹاؤن،
     نزد کلمہ چوک،
     لاہور، 54700 پاکستان

       0092-42-35866396، 35866476، 35839404

       0092-423-5836016، 5837311

      KitaboSunnat@gmail.com

      بنک تفصیلات کے لیے یہاں کلک کریں

 :