ابو عبد اللہ عنایت اللہ سنابلی

1 1 1 1 1 1 1 1 1 1
ابو عبد اللہ عنایت اللہ سنابلی
    ابو عبد اللہ عنایت اللہ سنابلی

    قرآن کریم نے قربانی کے لیے ’’بهيمة الانعام‘‘  کا انتخاب کیا ہے۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد گرامی ہے۔’’ اور وہ معلوم ایام میں بهيمة الانعام پر اللہ تعالیٰ کا نام ذکر (کرکے انہیں ذبح) کریں،  پھر ان کا گوشت خود بھی کھائیں، اور تنگ دستوں اور محتاجوں کو بھی کھلائیں۔‘‘ خود قرآن کریم نے’’ الانعام ‘‘ کی توضیح کرتے ہوئے ضان، معز، ابل، اور بقر، چار جانوروں کا تذکرہ فرمایا ہے۔انہی چار جانوروں کی قربانی پوری امت مسلمہ کے نزدیک اجماعی واتفاقی طور پر مشروع ہے۔ ان جانوروں  کی خواہ کوئی بھی نسل ہو،  اور اسے لوگ خواہ کوئی بھی  نام  دیتے ہوں سب کی قربانی جائز ہے۔ قربانی کے جانوروں میں سے ایک جانور ’’بقر (گائے) ‘‘ ہے۔ اس کی قربانی کے لیے کوئی نسل قرآن و سنت نے خاص نہیں فرمائی۔جبکہ بقر کی ہی نسل سے بھینس کی قربانی کے حوالے سے اہل علم میں اختلاف پایا جاتا ہے۔ بعض اس کے جواز کے قائل ہیں تو بعض عدم جواز کے۔ زیرنظر کتاب "بھینس کی قربانی، ایک علمی جائزہ" محترم ابو عبد اللہ عنایت اللہ مدنی صاحب کی تصنیف ہے، جس میں انہوں نے بھینس کی قربانی کے مسئلہ پر مفید علمی بحث کی ہے۔ اللہ تعالی سے دعا ہے کہ وہ مولف موصوف کی اس کاوش کو اپنی بارگاہ میں قبول فرمائے اور ان کے میزان حسنات میں اضافہ فرمائے۔ آمین(راسخ)

    ابو عبد اللہ عنایت اللہ سنابلی

    قربانی عربی زبان کے لفظ "قرب"سے نکلا ہے ،جس کے معنی ہیں "کسی شئے کے نزدیک ہونا” جبکہ شرعی اصطلاح میں : ذبح حیوان مخصوص بینۃ القربۃ فی وقت مخصوصیعنی مخصوص وقت میں اللہ کی بارگاہ میں قرب حاصل کرنے کےلئے مخصوص جانور ذبح کرنا "قربانی "کہلاتا ہے۔(درِمختار،جلد9،ص520)(کتاب الاضمیہ)۔پس عیدالاضحی وہ عید قربان ہے کہ بندے کو اللہ کے بہت قریب کر دیتی ہے اور بندے اور اللہ کے درمیان موجود سب دوریوں کو ختم کر دیتی ہے۔قرآن کریم نے قربانی کےلیے ’’ بهيمة الانعام‘‘  کا انتخاب کیا ہے۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد گرامی ہے۔’’ اور وہ معلوم ایام میں بهيمة الانعام پر اللہ تعالیٰ کا نام ذکر (کرکے انہیں ذبح) کریں،  پھر ان کا گوشت خود بھی کھائیں، اور تنگ دستوں اور محتاجوں کو بھی کھلائیں۔‘‘ خود قرآن کریم نے’’ الانعام ‘‘ کی توضیح کرتے ہوئے ضان، معز، ابل، اور بقر،  چار جانوروں کا تذکرہ فرمایا ہے۔انہی چار جانوروں کی قربانی پوری امت مسلمہ کے نزدیک اجماعی واتفاقی طور پر مشروع ہے۔ ان جانوروں  کی خواہ کوئی بھی نسل ہو،  اور اسے لوگ خواہ کوئی بھی  نام  دیتے ہوں سب کی قربانی جائز ہے۔ قربانی کے جانوروں میں سے ایک جانور ’’بقر (گائے)  ‘‘ہے۔ اس کی قربانی کےلیے کوئی نسل قرآن وسنت نے خاص نہیں فرمائی۔جبکہ بقر کی ہی نسل سے بھینس کی قربانی کے حوالے سے اہل علم میں اختلاف پایا جاتا ہے۔ بعض اس کے جواز کے قائل ہیں تو بعض عدم جواز کے۔  زیرنظر کتاب" بھینس کی قربانی، ایک علمی جائزہ" محترم ابو عبد اللہ عنایت اللہ مدنی صاحب  کی تصنیف ہے، جس میں انہوں نے بھینس کی قربانی کے مسئلہ پر مفیدعلمی  بحث کی ہے۔ اللہ تعالی سے دعا ہے کہ وہ مولف موصوف کی اس کاوش کو اپنی بارگاہ میں قبول فرمائے اور ان کے میزان حسنات میں اضافہ فرمائے۔آمین۔(رفیق الرحمن)

    ابو عبد اللہ عنایت اللہ سنابلی

    اسلامی تعلیمات کے مطابق مردوں کے لئے داڑھی رکھنا واجب ہے،اور تمام انبیاء کرام ﷩کی متفقہ سنت اور شرافت و بزرگی کی علامت ہے اسی سے مردانہ شکل وصورت کی تکمیل ہوتی ہے‘ آنحضرت ﷺ کا دائمی عمل ہے اور حضور ﷺنے اسے فطرت سے تعبیر فرمایا ہے‘ لہذا اسلام میں داڑھی رکھنا ضروری ہے اور منڈانا گناہ کبیرہ ہے۔ مرد وعورت میں ظاہری تمیز کرنے کے لئے مرد کو داڑھی جیسے خوبصورت زیور سے مزین کیا ہے۔داڑھی مرد کی زینت ہے ،جس سے اس کا حسن اور رعب دوبالا ہو جاتا ہے۔ گویا کہ مرد وعورت میں ظاہری تمیز کرنے کے لئے مرد کو داڑھی جیسے خوبصورت زیور سے مزین کیا ہے۔داڑھی مرد کی زینت ہے ،جس سے اس کا حسن اور رعب دوبالا ہو جاتا ہے۔داڑھی خصائل فطرت میں سے ہے ۔ تمام انبیاء کرام داڑھی کے زیور سے مزین تھے۔یہی وجہ ہے کہ شریعت اسلامیہ نے مسلمانوں کو داڑھی بڑھانے اور مونچھیں کاٹنے کا حکم دیا ہے۔اللہ تعالی کی عطا کردہ اس فطرت کو بدلنا اپنے آپ کو عورتوں کے مشابہہ کرنا اوراللہ کی تخلیق میں تبدیلی کرنا ہے ،جو بہت بڑا گناہ ہے۔ زیر تبصرہ کتاب ’’ داڑھی اسلامی فریضہ اور مرد مومن کا شعار ‘‘ معروف مبلغ داعی،مصلح،مصنف کتب کثیرہ اور کالم نگار محترم ابو عبد اللہ عنائت اللہ سنابلی مدنی صاحب کی تصنیف ہے ۔ جس میں انہوں داڑھی کی اہمیت وفضیلت پر روشنی ڈالتے ہوئے اسے فطرت کا عطیہ قرار دیا ہے۔مزید اس کتاب میں داڑھی کے اثبات میں دلائل کے انبار لگا دئیے ہیں۔ اللہ تعالیٰ محترم مصنف صا حب کے عمل وعمل اور زورِ قلم میں اضافہ فرمائے اور دین اسلام کےلیے ان کی خدمات کو شرف قبولیت سے نوازے۔ آمین۔ (رفیق الرحمن)

    ابو عبد اللہ عنایت اللہ سنابلی

    دینِ اسلام کا جمال وکمال یہ ہے کہ یہ ایسے ارکان واحکام پر مشتمل ہے جن کا تعلق ایک طرف خالق ِکائنات اور دوسری جانب مخلوق کےساتھ استوار کیا گیا ہے یعنی اسلام کےپانچ ارکان میں یہ ایک ایسا رکن اور فریضہ ہے جس کا تعلق حقوق اللہ اور حقوق العباد سے ہے ۔ دین فرد کی انفرادیت کا تحفظ کرتے ہوئے اجتماعی زندگی کوہر حال میں قائم رکھنے کاحکم دیتاہے۔اس کے بنیادی ارکان میں کوئی ایسا رکن نہیں جس میں انفرادیت کے ساتھ اجتماعی زندگی کو فراموش کیا گیا ہو۔انہی بینادی ارکان ِخمسہ میں سے ایک اہم رکن زکوٰۃ ہے۔عربی زبان میں لفظ ’’زکاۃ‘‘ پاکیزگی ،بڑھوتری اور برکت کے معنوں میں استعمال ہوتا ہے۔جبکہ شریعت میں زکاۃ ایک مخصوص مال کے مخصوص حصہ کو کہا جاتا ہے جو مخصوص لوگوں کو دیا جاتا ہے ۔اور اسے زکاۃ اس لیے کہاجاتا ہے کہ اس سے دینے والے کا تزکیہ نفس ہوتا ہے اور اس کا مال پاک اور بابرکت ہوجاتا ہے۔ نماز کے بعد دین اسلام کا اہم ترین حکم ادائیگی زکوٰۃ ہے ۔اس کی ادائیگی فر ض ہے اور دینِ اسلام کے ان پانچ بنیادی ارکان میں سے ایک ہے جن پر دین قائم ہے۔زکوٰۃ ادا کرنےکے بے شمار فوائد اور ادا نہ کرنے کے نقصانات ہیں ۔قرآن مجید اور احادیث نبویہ میں تفصیل سے اس کے احکام ومسائل بیان ہوئے ۔جو شخص اس کی فرضیت سےانکار کرے وہ یقینا کافر اور واجب القتل ہے۔ زیر تبصرہ کتاب ’’ زکوٰۃ مختصر احکام و مسائل‘‘ ابو عبد اللہ عنایت اللہ سنابلی مدنی﷾ کی تالیف ہے۔ جس میں زکاۃ کا معنیٰ ومفہوم، اہمیت، نصاب، زکاۃ کی حقیقت، اقسام اور اس کے مصارف کو قرآن و سنت کی روشنی میں بیان کیا گیا ہے۔ اللہ تعالیٰ اس کتاب کو عوام الناس کےلیے نفع بخش بنائے اور مصنف موصوف کی تمام تحقیقی وتصنیفی،دعوتی وتبلیغی خدمات کو قبول فرمائے۔ آمین۔ (رفیق الرحمن)

    ابو عبد اللہ عنایت اللہ سنابلی

    رمضان المبارک اسلامی سال کا نواں مہینہ ہے یہ مہینہ اپنی عظمتوں اور برکتوں کے لحاظ سے دیگر مہینوں سے ممتاز ہے۔رمضان المبارک ہی وہ مہینہ ہےکہ جس میں اللہ تعالیٰ کی آخری آسمانی کتاب قرآن مجید کا نزول لوح محفوظ سے آسمان دنیا پر ہوا۔ ماہ رمضان میں اللہ تعالیٰ جنت کے دروازے کھول دیتا ہے او رجہنم کے دروازے بند کردیتا ہے اور شیطان کوجکڑ دیتا ہے تاکہ وہ اللہ کے بندے کو اس طر ح گمراہ نہ کرسکے جس طرح عام دنوں میں کرتا ہے اور یہ ایک ایسا مہینہ ہے جس میں اللہ تعالیٰ خصوصی طور پر اپنے بندوں کی مغفرت کرتا ہے اور سب سے زیاد ہ اپنے بندوں کو جہنم سے آزادی کا انعام عطا کرتا ہے۔رمضان المبارک کے روضے رکھنا اسلام کےبنیادی ارکان میں سے ہے نبی کریم ﷺ نے ماہ رمضان اور اس میں کی جانے والی عبادات ( روزہ ،قیام ، تلاوت قرآن ،صدقہ خیرات ،اعتکاف ،عبادت لیلۃ القدر وغیرہ )کی بڑی فضیلت بیان کی ہے ۔ کتب احادیث میں ائمہ محدثین نے کتاب الصیام کے نام سے باقاعدہ عنوان قائم کیے ۔ اور کئی علماء اور اہل علم نے رمضان المبارک کے احکام ومسائل وفضائل کے حوالے سے کتب تصنیف کی ہیں ۔ زیر تبصرہ کتاب ’’ صیام رمضان مختصر احکام و مسائل ‘‘ مولانا عنایت اللہ سنابلی مدنی صاحب کی کاوش ہے۔ جس میں رمضان المبارک کا لغوی و شرعی مفہوم، فرضیت اور رمضان المبارک کے متعلق ضروری مسائل واحکام کو قرآن واحادیث کی روشنی میں بیان کیا ہے۔ اللہ تعالیٰ سے دعا ہے کہ صاحب تصنیف و مترجم کی کاوشوں کو قبول فرمائے اور آخرت میں ان کی نجات کا ذریعہ بنائے ۔ (آمین) (رفیق الرحمن)

    ڈاکٹر محمد بن ہادی بن علی المدخلی

    سنت رسول ﷺکے بغیر قرآنی احکام وتعلیمات کی تفہیم کا دعو یٰ نادانی ہے ۔ اطاعت رسول ﷺ کے بارے میں یہ بات پیش نظر رہنی چاہیے کہ رسو ل اکرم ﷺ کی اطاعت صرف آپﷺ کی زندگی تک محدود نہیں بلکہ آپﷺ کی وفات کے بعد بھی قیامت تک آنے والے تمام مسلمانوں کے لیے فرض قرار دی گئی ہے ۔گویا اطاعتِ رسول ﷺ اورایمان لازم وملزوم ہیں اطاعت ہے تو ایمان بھی ہے اطاعت نہیں تو ایمان بھی نہیں ۔ اطاعت ِ رسول ﷺ کے بارے میں قرآنی آیات واحادیث شریفہ کے مطالعہ کے بعد یہ فیصلہ کرنا مشکل نہیں کہ دین میں اتباع سنت کی حیثیت کسی فروعی مسئلہ کی سی نہیں بلکہ بنیادی تقاضوں میں سے ایک تقاضا ہے ۔اتباع سنت کی دعوت کو چند عبادات کے مسائل تک محدود نہیں رکھنا چاہیے بلکہ یہ دعوت ساری زندگی پر محیط ہونی چاہیے۔جس طر ح عبادات(نماز ،روزہ، حج وغیرہ) میں اتباع سنت مطلوب ہے اسی طرح اخلاق وکردار ،کاروبار، حقوق العباد اور دیگر معاملات میں بھی اتباع سنت مطلوب ہے۔ زیر تبصرہ کتاب ’’ اتباع سنت اور علمائے امت‘‘ فضیلۃ الشیخ ڈاکٹر محمد بن ہادی بن علی المدخلی﷾ (استاذمساعدجامعہ اسلامیہ، مدینہ طیبہ، سعودی عرب)کی تالیف ہے، جس کو اردو قالب میں مولانا عنایت اللہ سنابلی مدنی صاحب نے ڈھالا ہے۔اس کتاب میں اتباع سنت کی اہمیت و فرضیت پرقرآن و سنت سے دلائل مزین کرتے ہوئے جمہور علماء کے اقوال بھی بیان کیے ہیں۔اور اس کتاب کےدوسرے حصے میں تقلید کے معنی و مفہوم اور مسائل کو بیان کیا ہے۔امید ہے یہ کتاب اتباع سنت کے حوالے سے بہت کارآمد ثابت ہو گی۔ اللہ تعالی مصنف ،مترجم اور ناشرین کی حدیث وسنت کے دفاع کےلیے کاوشوں کو قبول فرمائے ۔ اور اس کتاب کو اتباع سنت کی حفاظت کا ذریعہ بنائے ۔آمین۔ (رفیق الرحمن )

    سعید بن علی بن وہف القحطانی

    کسی بھی عمل کی قبولیت کے لیے دو بنیادی شرطوں(اخلاص،اور عمل کاسنت نبوی کے مطابق ہونا) کا پایا جانا  بے حدضروری ہے  ان میں سے  کسی ایک  شرط کا فقدان اس عمل کی قبولیت سے  مانع ہوگا۔ اللہ تعالیٰ نے  مذکورہ دونوں شرطوں کو قرآن مجید کی مختلف آیات  میں بھی بیان کیا ہے۔اخلاص عبادات کی روح  ہے ۔ اس کے  بغیر ساری عبادتیں بے جان ہیں ۔اور اس  میں کوئی شک نہیں کہ اخلاص نصرت ومدد، اللہ کے عذاب سے نجات او ردنیا وآخرت میں بلندئ درجات کاسبب ہے  ۔ مخلص انسان سے اللہ  عزوجل کی محبت اور پھر زمین وآسمان والوں کی محبت سےسرفرازی کاسبب اخلاص ہی  بنتا ہے ۔ یہ درحقیقت ایک نور  ہے جسے اللہ تعالیٰ اپنے بندوں میں  سے  جس کےدل میں چاہتا ہے  ہے ودیعت فرمادیتا ہے۔ زیر  کتاب’’اخلاص کےثمرات اور ریا کاری کے نقصانات‘‘مملکت سعودی عرب کے معروف عالم  فضیلۃ الشیخ ڈاکٹر سعید بن علی قحطانی﷫ کی عربی کتاب کا ترجمہ ہے۔جس میں  شیخ  مرحوم نے  اخلاص کامفہوم  ، اس کی  اہمیت اوراچھی نیت کامقام بیان کیا ہے ۔ا ور نیک عمل سے دنیا طلبی کی خطرناکی ،دنیا کی خاطر عمل کی قسمیں ریاکاری کی خرناکی،اس کی انواع واقسام،نیک عمل پر اس کے اثرات اور ریا کاری کےاسباب ومحرکات  نیز حصول اخلاص کے طریقے  ذکر کیے  ہیں ۔کتاب کے اردوترجمہ کی سعادت انڈیا کے  ممتاز عالم دین  جناب ابو عبد اللہ  عنایت اللہ  سنابلی﷾ نے حاصل کی  ہے۔موصوف اس کتاب کےعلاوہ بھی کئی کتب کے مترجم  ومصنف  ہیں ۔جن میں  بعض کتب کتاب وسنت ویب سائٹ پربھی موجود ہیں۔اور اس کتاب پر تخریج وتحقیق کا کام  مکتبہ اسلامیہ ،لاہورکےممتاز ریسرچ سکالر محترم  مولانا عبد اللہ  یوسف ذہبی ﷾ نے  سر انجام دیاہے ۔ اللہ تعالیٰ  اس کتاب کو  عوام الناس کی اصلاح کاذریعہ بنائے (آمین) (م۔ ا)

    عبد الرحمٰن بن عبد العزیز السدیس

    بلا شبہ یہ حقیقت روز روشن کی طرح عیاں ہے کہ کلام الٰہی ہر قسم کی غلطی سے مبّرا و منزّا ہے۔ قرآن مجید اپنی فصاحت و بلاغت کے اعتبار سے کامل و اکمل ترین کتاب ہے۔ یہ واحد آسمانی کتاب ہے جو اپنی اصل صورت میں محفوظ ہونے کے ساتھ ساتھ زندگی کے تمام پہلوؤں کا احاطہ کیے ہوئی ہے۔ ہر دور میں مفسرین و محدثین نے مختلف انداز سے اس کی تفاسیر و شروحات کو قلمبند کیا اور بنی نوع آدم کی علمی تشنگی کی آبیاری کرتے رہے۔ اسی طرح مسلمانوں کا قدیم علمی ورثہ ایک ایسا بحرِ زخّار ہے جس میں ایک سے ایک بڑھ کر سچے موتی موجود ہیں لیکن جوں جوں ہم قدیم سے جدید زمانے کی طرف بڑھتے ہیں یہ موتی نایاب ہوتے جاتے ہیں لیکن ان جواہرات میں سے ایک جوہر ایسا بھی مل جاتا ہے جو یکبارگی ساری محرومیوں کا ازالہ کردیتا ہے۔ زیر تبصرہ کتاب ’’ سماحۃ الشیخ امام ابن باز کا منھج ِفتویٰ‘‘ امام حرم ڈاکٹر عبد الرحمن بن عبد العزیز السدیس﷾کی تالیف ہے، جس کا اردو ترجمہ مولانا عنایت اللہ سنابلی مدنی صاحب نے کیا ہے۔اس کتاب میں اولا علامہ ابن باز کی مختصرحالات زندگی کو بیان کیا گیا ہے۔مزید اس کتاب میں فتویٰ کا معنیٰ و مفہوم، شرائط اور احکام کو بیان کرتے ہوئے علامہ ابن باز کے فتویٰ میں مناہج و اصولوں کو بھی قلمبند کیا ہے۔ اللہ تعالیٰ سے دعا ہے کہ صاحب تصنیف و مترجم کی کاوشوں کو قبول فرمائے اور آخرت میں ان کی نجات کا ذریعہ بنائے ۔ (آمین) (رفیق الرحمن)

    سعید بن علی بن وہف القحطانی

    دینِ اسلام عقیدہ،عبادات،معاملات ،سیاسیات وغیرہ کا مجموعہ ہے ، لیکن عقیدہ اور پھر عبادات کامقام ومرتبہ اسلام میں سب سے بلند ہے کیونکہ عقیدہ پورے  دین کی اساس اور جڑ  ہے  ۔اور عبادات کائنات کی تخلیق کا مقصد اصلی ہیں ۔ ایمان کے  بالمقابل کفر ونفاق ہیں  یہ دونوں چیزیں اسلام کے منافی ہیں  ۔لیکن کفر کی بہ نسبت نفاق اسلام اور مسلمانوں کے لیے زیادہ خطر ناک ہے ۔مدینہ میں مسلمانوں کوکافروں سے زیادہ منافقوں سے  نقصان اٹھانا پڑا۔ منافقین مسلمانوں کونقصان پہنچانے میں کوئی دقیقہ فروگزاشت نہیں کرتےتھے ۔اللہ تعالیٰ نے قرآن کریم  بالخصوص سورۂ توبہ میں ان کی نقاب کشائی کی ہے  اور ا کےگھناؤنے کردار اور برے اوصاف سے نبی کریم ﷺ اور مسلمانوں کو مطلع فرمایا ہے او رانہیں ان کے دینوی واخروی انجام کار سے بھی آگاہ فرمایا ہے ۔ زیر نظر کتاب’’ایمان کے ثمرات نفاق کے  نقصانات‘‘ مملکت سعودی عرب کے معروف عالم  فضیلۃ الشیخ ڈاکٹر سعید بن علی قحطانی﷫ کی عربی کتاب کا ترجمہ ہے ۔جس میں شیخ  نے  کتاب وسنت  کے نصوص اور سلف صالحین کےفرمودات پر مشتمل مستند حوالوں کی روشنی میں ایمان کےمفہوم،اس کے ثمرات وفوائد،اس کی شاخوں،مومنوں کے اوصاف،نیز نفاق کا مفہوم، اس کےانواع واقسام اور منافقین کے اوصاف کی وضاحت فرمائی ہے ۔کتاب کے اردوترجمہ کی سعادت انڈیا کے  ممتاز عالم دین  جناب ابو عبد اللہ  عنایت اللہ  سنابلی﷾ نے حاصل کی  ہے۔موصوف اس کتاب کےعلاوہ بھی کئی کتب کے مترجم  ومصنف  ہیں ۔جن میں  بعض کتب کتاب وسنت ویب سائٹ پربھی موجود ہیں ۔ اور اس کتاب پر تخریج وتحقیق کا کام  مکتبہ اسلامیہ ،لاہورکےممتاز ریسرچ سکالر محترم  مولانا عبد اللہ  یوسف ذہبی ﷾ نے  سر انجام دیاہے اللہ تعالیٰ مصنف ،مترجم   اورناشرین کتاب   کی مساعی جمیلہ کو  قبول فرمائے ۔(آمین)(م۔ا)

    نوٹ:

    محدث فورم میں اس کتاب پر تبصرہ کرنے کے لیے یہاں کلک کریں

    سعید بن علی بن وہف القحطانی

    اللہ تبارک وتعالیٰ کے تنہالائقِ عبادت ہونے ، عظمت وجلال اورصفاتِ کمال میں واحد اور بے مثال ہونے اوراسمائے حسنیٰ میں منفرد ہونے کا علم رکھنے اور پختہ اعتقاد کےساتھ اعتراف کرنے کانام توحید ہے ۔توحید کے اثبات پر کتاب اللہ اور سنت رسول ﷺ میں روشن براہین اور بے شمار واضح دلائل ہیں ۔ اور شرک کام معنی یہ کہ ہم اللہ کے ساتھ کسی کو شریک ٹھرائیں جبکہ اس نےہی ہمیں پیدا کیا ہے ۔ شرک ایک ایسی لعنت ہے جو انسان کوجہنم کے گڑھے میں پھینک دیتی ہے قرآن کریم میں شرک کوبہت بڑا ظلم قرار دیا گیا ہے اور شرک ایسا گناہ کہ اللہ تعالی انسان کے تمام گناہوں کو معاف کردیں گے لیکن شرک   جیسے عظیم گناہ کو معاف نہیں کریں گے ۔شرک اس طرح انسانی عقل کوماؤف کردیتا ہےکہ انسان کوہدایت گمراہی اور گمراہی ہدایت نظر آتی ہے ۔نیز شرک اعمال کو ضائع وبرباد کرنے والا اور ثواب سے محروم کرنے والا ہے ۔ پہلی قوموں کی تباہی وبربادی کاسبب شرک ہی تھا۔ چنانچہ جس کسی نے بھی محبت یا تعظیم میں اللہ کے علاوہ کسی کواللہ کے برابر قرار دیا یا ملت ابراہیمی کے مخالف نقوش کی پیروی کی وہ مشرک ہے۔ زیر نظر رسالہ ’’ توحید کا نور اور شرک کی تباہ کاریاں‘‘سعودی عرب کے ممتاز عالم سعید بن علی بن وھف القحطانی کے ایک عربی کتابچہ کا اردو ترجمہ ہے۔ جس میں انہو ں نے توحید کا مفہوم، اس کے دلائل، اس کی انواع واقسام، اس کے ثمرات ، شرک کا مفہوم، اس کے ابطال کے دلائل، جائز وناجائز شفاعت، شرک کےاسباب ووسائل ، اس کی انواع واقسام اوراس کے آثار ونقصانات کو قرآن حدیث کے دلائل میں بڑے احسن انداز سے بیا ن کیا ہے ۔ کتاب ہذا کو اردو قالب میں ڈھالنے کا کام انڈیا کے   ممتاز عالم دین ابو عبداللہ عنایت اللہ سنابلی نے کیا ہے او راس میں تخریج وتصحیح کےفرائض محترم جناب مولانا عبد اللہ یو سف ذہبی(ایم فل سکالر لاہور انسٹی ٹیوٹ فار سوشل سائنس،لاہور) نے انجام دیئے ہیں ۔ اللہ تعالیٰ مصنف، مترجم ،ناشر کی خدمات کو قبول فرمائے اور اسے عوام الناس کےلیے نفع بخش بنائے تما م اہل اسلام کو توحید کےنورسے منور فرمائے اور شرک کی تباہ کاریوں سے محفوظ فرمائے۔ آمین( م۔ا)

    سعید بن علی بن وہف القحطانی
    یہ دنیا دار العمل ہے جزاء و سزا کا فیصلہ آخرت میں ہوگا۔جن و انس کی تخلیق کا مقصد عبادت الہیٰ ہے۔عبادت کی تفصیلات بتانے کے لیے اللہ تعالیٰ نے انبیائے کرام علیہم السلام بھیجے جنہوں نے خدا کا پیغام انسانوں تک پہنچا دیا۔اب یہ انسان کی ذمہ داری ہے کہ وہ اس پر عمل پیرا ہو۔جو کامیاب ہو وہ جنت میں جائے گا اور ناکام شخص جہنم  کا رزق بنے گا،ہر مسلمان کی کوشش ہونی چاہیے کہ وہ جہنم  سے بچ کر جنت میں داخل ہو جائے اور یہی حقیقی کامیابی ہے۔زیر نظر کتاب میں قرآن و حدیث کے حوالے سے نہایت سلیس اور موثر انداز میں جنت کی نعمتوں اور جہنم کے عذاب کا ایک موازنہ پیش کیا ہے،یہ کتاب عربی سے اردو میں منتقل کرنے کا فریضہ جناب عنایت اللہ بن حفیظ اللہ سنابلی نے سر انجام  دیا ہے جس پر وہ اردو دان طبقہ کے شکریہ کے سزاوار ہیں۔خداتعالیٰ مؤلف و مترجم کو جزا دے او رہمیں جنت کے راستے پر گامزن فرمائے۔آمین

    سعید بن علی بن وہف القحطانی

    شریعت اسلامیہ میں سفید بالوں کو خضاب لگانے کو جائز قرار دیا گیاہے۔بشرطیکہ وہ کالے کے علاوہ کوئی رنگ ہو۔سیدنا ابو ہریرہ فرماتے ہیں کہ نبی کریم نے فرمایا:'' بڑھاپے کی سفیدی کو بدل دو، یہود جیسے نہ بنو۔''کالے خضاب کے بارے میں فقہا کے درمیان اختلاف ہے۔ شوافع عام حالات میں اسے حرام قرار دیتے ہیں۔ مالکیہ، حنابلہ اور احناف اسے حرام تو نہیں البتہ مکروہ کہتے ہیں۔ امام ابو حنیفہ کے شاگرد قاضی ابو یوسفؒ اس کے جواز کے قائل ہیں۔ حافظ ابن حجر ؒ کہتے ہیں: ''بعض علما نے سیاہ خضاب کے استعمال کو جائز قرار دیا ہے۔'' (ابن حجر، فتح الباری، دار المعرفہ، بیروت، ١٠/ ٣٥٤) ایک قول حضرت عمر بن الخطابؒ کے بارے میں مروی ہے کہ وہ کالا خضاب استعمال کرنے کا حکم دیتے تھے۔ (عبد الرحمن مبارک پوری، تحفۃ الاحوذی شرح جامع الترمذی، طبع دیو بند، ٥/ ٣٥٦)۔ متعدد صحابۂ کرام سے بھی اس کا استعمال ثابت ہے، مثلاً حضرت عثمان بن عفانؓ، حضرت مغیرہ بن شعبہؓ، حضرت عمرو بن العاصؓ، حضرت جریر بن عبد اللہؓ، حضرت سعد بن ابی وقاصؓ، حضرت حسنؓ، حضرت حسینؓ، حضرت عقبہ بن عامرؓ، حضرت عبد اللہ بن جعفرؓ۔ تابعین اور بعد کے مشاہیر میں ابن سیرینؒ، ابو بردہؒ، محمد بن اسحاقؒ صاحب المغازی، ابن ابی عاصمؒ اور ابن الجوزی بھی کالا خضاب استعمال کیا کرتے تھے۔ (تحفۃ الاحوذی، ٥/٣٥٥، علامہ مبارک پوری نے اور بھی بہت سے تابعین و مشاہیر کے نام تحریر کیے ہیں۔ ٥/ ٣٥٧۔ ٣٥٨)زیر نظر کتاب (خضاب کی شرعی حیثیت ،کتاب وسنت کی روشنی میں)معروف عالم دین فضیلۃ الشیخ ڈاکٹر سعید بن علی بن وہف القحطانی کی تصنیف ہے ،جس میں انہوں خضاب کے حوالے سے سیر حاصل بحث کی ہے۔(راسخ)

     

    نوٹ:

    محدث فورم میں اس کتاب پر تبصرہ کرنے کے لیے یہاں کلک کریں

    سعید بن علی بن وہف القحطانی

    دعوت دین اور احکام شرعیہ کی تعلیم دینا شیوہ پیغمبری ہے ۔تمام انبیاء و رسل کی بنیادی ذمہ داری تبلیغ دین اور دعوت وابلاغ ہی رہی ہے،امت مسلمہ کو دیگر امم سے فوقیت بھی اسی فریضہ دعوت کی وجہ سے ہے اور دعوت دین ایک اہم دینی فریضہ ہے ،جو اہل اسلام کی اصلاح ، استحکام دین اور دوام شریعت کا مؤثر ذریعہ ہے۔لہذا ہر مسلمان پر لازم ہے کہ اسے شریعت کا جتنا علم ہو ،شرعی احکام سے جتنی واقفیت ہو اوردین کے جس قدر احکام سے آگاہی ہو وہ دوسر وں تک پہنچائے۔علماو فضلا اور واعظین و مبلغین پر مزید ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ فریضہ دعوت کو دینی وشرعی ذمہ داری سمجھیں اور دعوت دین کے کام کو مزید عمدہ طریقے سے سرانجام دیں۔دین کا پیغام حق ہر فرد تک پہنچانے کے لیے ضروری ہے کہ دعوت کے کام کو متحرک کیا جائے، منہج دعوت اور اصول دعوت کے حوالے سے اہل علم نے عربی اوراردو زبان میں کئی کتب تصنیف کی ہیں ۔ان میں سے ڈاکٹر فضل الٰہی ﷾ کی کتب قابل ذکر ہیں جوکہ آسان فہم او ردعوت دین کا ذوق ،شوق اور دعوتی بیداری پیدا کرنے میں ممد و معاون ہیں۔ زیر تبصرہ کتاب ’’ دعوت الی اللہ کس کو۔ اور کیسے؟‘‘ ڈاکٹر سعید بن علی بن وہف الحقانی﷾ کی تالیف ہے، اس کا اردو ترجمہ مولانا عنائت اللہ سنابلی مدنی صاحب نے کیا ہے۔اس کتاب کو چار رسالوں کی شکل میں منقسم کیا گیا ہے۔ پہلے رسالے میں ملحدین کو اللہ کی طرف دعوت دینے کا طریقے، دوسرے رسالے میں اہل کتاب کو اللہ کی طرف دعوت دینے کے طریقے، تیسرے رسالے میں بت پرست مشرکین کو اللہ کی طرف دعوت دینے کے طریقے اور چوتھے رسالے میں گنہگار مسلمانوں کو اللہ طرف دعوت کے طریقوں کو قرآن و سنت کی روشنی میں بیان کیے ہیں۔ اللہ تعالیٰ سے دعا ہے کہ صاحب تصنیف و مترجم کی کاوشوں کو قبول فرمائے اور آخرت میں ان کی نجات کا ذریعہ بنائے ۔ (آمین) (رفیق الرحمن)

    سعید بن علی بن وہف القحطانی

    کتاب وسنت میں حق اور خیر کے اعمال کو’نور‘اور اس کے بالمقابل باطل اور شر کے کاموں کو ’ظلمات‘یعنی تاریکیوں سے تعبیر کیا ہے اور ان معنوی چیزوں کو حسی اشیاء سے تشبیہ دی ہے۔اسی طرح حق کو بینائی ،دھوپ اور زندگی سے موسوم کیا ہے اور باطل کو اندھے پن،سایہ اور موت قرار  دیا ہے۔پھر اس کی بھی وضاحت کی گئی ہے کہ یہ دونوں چیزیں ایک دوسرے کی ضدہیں،لہذا دونوں میں اتحاد نہیں ہو سکتا۔ زیر نظرکتاب’’روشنی اوراندھیرا‘‘سعودی عرب کے نامور عالم دین اور مذہبی اسکالر شیخ سعید بن علی بن وہف القحطانی کی عربی تصنیف کا ترجمہ ہے ۔شیخ موصوف نے اس کتاب کو چار حصوں میں تقسیم کیا ہے۔ پہلا حصہ توحید اور دوسرا حصہ ایمان اور تیسراحصہ اخلاص پر مشتمل ہے کیونکہ ایمان کی تکمیل کےلیے اخلاص ضروری ہےاور کوئی بھی عمل تب تک شرف قبولیت سے بہرہ یاب نہیں ہوسکتا جب تک اس میں اخلاص نہ ہو۔ چوتھے حصے میں سنت کا مفہوم، اہمیت اور مقام ومرتبے کو واضح کرنے کے بعد بدعت کے اسباب، اقسام، عصر حاضر کی مروجہ بدعات، بدعتی کی توبہ، بدعات کے اثرات اور نقصانات جیسے پر مغز موضوعات کو قرطاس کی زینت بنایا ہے۔ یہ کتاب لوگوں کو بدعات و خرافات ، قبرپرستی ، کفر وشرک کی تاریکی سے نکال کر کتاب وسنت والی ہدایت ، توحید، ایمان، اخلاص والی روشنی کی طرف لانے کے لیے بڑی مفید ہے۔ اللہ تعالیٰ مصنف ومترجم اور ناشرین کی اس کاوش کو قبول فرمائے اور اس کتاب کوظلم وشرک کے اندھیرے ختم کرنے اورتوحید وسنت کی روشنی پھیلانے کا ذریعہ بنائے۔ (آمین)(م۔ا)

    سعید بن علی بن وہف القحطانی

    اللہ تعالی ٰ کے بابرکت نام او رصفات جن کی پہچان اصل توحید ہے ،کیونکہ ان صفات کی صحیح معرفت سے ذاتِ باری تعالیٰ کی معرفت حاصل ہوتی ہے ۔عقیدۂ توحید کی معرفت اور اس پر تاحیات قائم ودائم رہنا ہی اصلِ دین ہے ۔اور اسی پیغامِ توحیدکو پہنچانے اور سمجھانے کی خاطر انبیاء و رسل کومبعوث کیا گیا او رکتابیں اتاری گئیں۔ اللہ تعالیٰ کےناموں او رصفات کے حوالے سے توحید کی اس مستقل قسم کوتوحید الاسماء والصفات کہاجاتاہے ۔ قرآن واحادیث میں اسماء الحسنٰی کوپڑھنے یاد کرنے کی فضیلت بیان کی گئی ہے ۔ارشاد باری تعالی ہے۔’’ وَلِلَّهِ الْأَسْمَاءُ الْحُسْنَى فَادْعُوهُ بِهَا ‘‘اور اللہ تعالیٰ کے اچھے نام ہیں تو اس کوانہی ناموں سےپکارو۔اور اسی طرح ارشاد نبویﷺ ہے«إِنَّ لله تِسْعَةً وَتِسْعِينَ اسْمًا مِائَةً إِلَّا وَاحِدًا، مَنْ أَحْصَاهَا دَخَلَ الجَنَّةَ»یقیناً اللہ تعالیٰ کے نناوےنام ہیں یعنی ایک کم 100 جس نےان کااحصاء( یعنی پڑھنا سمجھنا،یادکرنا) کیا وہ جنت میں داخل ہوگا۔(صحیح بخاری )اسماء الحسنٰی کے سلسلے میں اہل علم نے مستقل کتب تصنیف کی ہیں اور بعض نے ان اسماء کی شرح بھی کی ہے۔ زیر تبصرہ کتاب ’’ شرح اسماء الحسنیٰ کتاب و سنت کی روشنی میں‘‘ڈاکٹر سعید بن علی بن وہف الحقانی﷾ کی تالیف ہے، اس کا اردو ترجمہ مولانا عنایت اللہ سنابلی مدنی صاحب نے کیا ہے۔جس میں سب سے پہلے یہ واضح کیا ہے کہ اللہ تعالیٰ کے اسماء توقیفی ہیں۔ مزید اس کتاب میں اسماء حسنیٰ پر ایمان کے ارکان، اللہ کے ناموں الحاد کی اقسا اور اللہ تعالیٰ کے ننانوے ناموں کی بنظیر شرح کی گئی ہے۔ اللہ تعالیٰ سے دعا ہے کہ صاحب تصنیف و مترجم کی کاوشوں کو قبول فرمائے اور آخرت میں ان کی نجات کا ذریعہ بنائے ۔ (آمین) (رفیق الرحمن)

    عبد الرحمان بن معلا اللویحق

    علم، اللہ سبحانہ و تعالی کی وہ عظیم نعمت ہے جس کی فضیلت اور اہمیت ہر دور میں تسلیم کی گئی ہے۔ یہ ان انعامات الٰہیہ میں سے ہے جن کی بنا پر انسان دیگر مخلوقات سے افضل ہے۔ علم ہی ہے جو اللہ سبحانہ و تعالیٰ نے حضرت آدم علیہ السلام کو عطا فرما کر اس کے ذریعے فرشتوں پر ان کی برتری ثابت فرمائی۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر جو پہلی وحی نازل فرمائی گئی اُس میں اُن کی تعلیم سے ابتدا کی گئی اور پہلی ہی وحی میں بطورِ احسان انسان کو دیئے گئے علم کا تذکرہ فرمایا گیا۔ دینِ اسلام میں حصولِ علم کی بہت تاکید کی گئی ہے اور علم و اہلِ علم کی متعدد فضیلتیں بیان کی گئی ہیں اور مسلمانوں کو علم کے حصول پر ابھارا گیا ہے۔ اور جس طرح علم کی اہمیت و فضیلت مسلّمہ ہے، اُسی طرح اِس نعمتِ عظیم کے حامل افراد کی فضیلت سے بھی انکار ممکن نہیں۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی اس امت میں تو بالخصوص اہلِ علم بہت اعلی مقام کے حامل ہیں حتیٰ کہ انہیں انبیائے کرام کا وارث قرار دیا گیا ہے۔ خاتم المرسلین صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشادِ گرامی ہے: "علماء، انبیاء علیہم السلام کے وارث ہیں اور انبیاء علیہم السلام دینار اور درہم کا ورثہ نہیں چھوڑتے بلکہ انہوں نے علم کا ورثہ چھوڑا ہے۔ پس جس شخص نے اس سے (علم) حاصل کیا اس نے بڑا حصہ لے لیا۔"  زیر تبصرہ کتاب ’’ علماء کے حقوق‘‘ فضیلۃ الشیخ ڈاکٹر عبد الرحمن بن معلا اللو یحق﷾ (استاذ مشارک امام محمد بن سعود اسلامک یونیورسٹی ریاض، سعودی عرب) کی تالیف ہے۔ جس کو اردو قالب میں مولانا محمد عنایت اللہ سنابلی مدنی صاحب نے ڈھالا ہے۔ یہ کتاب امت میں اہل علم کی قدر و منزلت اور ان کے ساتھ برتاؤ سے متعلقہ اصول و ضوابط کی رہنمائی کے لیے ایک گرانقدر مستند تحفہ ہے۔ اللہ تعالیٰ سے دعا ہے کہ صاحب تصنیف و مترجم کی کاوشوں کو قبول فرمائے اور آخرت میں ان کی نجات کا ذریعہ بنائے ۔ (آمین) (رفیق الرحمن)

    سعید بن علی بن وہف القحطانی

    اسلام امن وسلامتی اور باہمی اخوت ومحبت کا دین ہے۔انسانی جان ومال اور عزت وآبرو کا تحفظ اسلامی شریعت کے اہم ترین مقاصد اور اولین فرائض میں سے ہے۔کسی انسان کی جان لینا، اس کا ناحق خون بہانا اور اسے اذیت دینا شرعا حرام ہے۔کسی مسلمان کے خلاف ہتھیار اٹھانا ایک سنگین جرم ہے اور اس کی سزاجہنم ہے۔ عصر حاضر میں مسلم حکمرانوں اور مسلم معاشروں کے افراد کے خلاف ہتھیار اٹھانے ، اغوا برائے تاوان، خود کش دھماکوں اور قتل وغارت گری نے ایک خطرناک فتنے کی صورت اختیار کر لی ہے۔اور افسوس کی بات یہ ہے کہ یہ سارے جرائم اسلام اور جہاد کے نام پر کئے جارہے ہیں۔یوں تو بہت سارے زخم ہیں جو رس رہے ہيں لیکن بطور خاص عالم اسلام کو خارجی فکرو نظر کے سرطان نے جکڑ لیا ہے ۔ ہرچہار جانب تکفیر و تفریق اور بغاوت کی مسموم ہوائیں چل رہی ہیں اور سارا تانا بانا بکھرتا ہوا محسوس ہورہا ہے ۔ امت کے جسم کا ایک ایک عضو معطل، اجتماعیت اور وحدت کی دیواروں کی ایک ایک اینٹ ہلی ہوئی سی ہے اور ایسا لگتا ہے جیسے اب تب امت کے شاندار عمارت کی کہنہ دیوار پاش پاش ہو جائےگی۔ مسلمانوں کو ہی کافر قرار دیا جا رہا ہے۔ حالانکہ اسلام میں کسی کو کافر قرار دینے کے اصول وضوابط موجود ہیں۔ زیر تبصرہ کتاب ’’ مسئلۂ تکفیر اہل سنت اور گمراہ فرقوں کے ما بین ایک جائزہ‘‘ڈاکٹر سعید بن علی بن وہف الحقانی﷾ کی تالیف ہے، اس کا اردو ترجمہ مولانا عنایت اللہ سنابلی مدنی صاحب نے کیا ہے۔اس کتاب میں تکفیر کے اصولوں و ضوابط اور موانع،تکفیر باب میں اہل سنت و جماعت کا موقف اور آخر میں اہل قبلہ کی تکفیر میں لوگوں کے مواقف اور ان کا جائزہ کو بیان کیا ہے۔امید ہے اس کتاب کے مطالعہ سے مسئلۂ تکفیر کی اچھی خاصی نوعیت کی وضاحت ہو جائے گی۔ اللہ تعالیٰ سے دعا ہے کہ صاحب تصنیف و مترجم کی کاوشوں کو قبول فرمائے اور آخرت میں ان کی نجات کا ذریعہ بنائے ۔ (آمین) (رفیق الرحمن)

    سعید بن علی بن وہف القحطانی
    کتاب وسنت میں حق اور خیر کے اعمال کو’نور‘اور اس کے بالمقابل باطل اور شر کے کاموں کو ’ظلمات‘یعنی تاریکیوں سے تعبیر کیا ہے اور ان معنوی چیزوں کو حسی اشیاء سے تشبیہ دی ہے۔اسی طرح حق کو بینائی ،دھوپ اور زندگی سے موسوم کیا ہے اور باطل کو اندھے پن،سایہ اور موت قرار  دیا ہے۔پھر اس کی بھی وضاحت کی گئی ہے کہ یہ دونوں چیزیں ایک دوسرے کی ضدہیں،لہذا دونوں میں اتحاد نہیں ہو سکتا۔زیر نظر مختصر کتابچہ میں سعودی عرب کے نام ور عالم دین اور مذہبی اسکالر شیخ سعید بن علی بن وہف القحطانی نے نور وظلمات سے متعلق آیات و احادیث کو جمع کیا ہے اور مفسیرین قرآن اور شارحین سنت کے اقوال کی روشنی میں ان کی تفسیر و تشیریح فرمائی ہے۔جناب عنایت اللہ سنابلی نے اسے اردو میں ڈھال کر عوامی حلقوں  کے لیے اس دلچسپ اور معلوماتی کتاب استفادہ کی راہ ہموار کر دی ہے۔خداوند کریم مصنف ومترجم اور ناشرین کو جزائے خیر دے اور ہم سب کو اس سے فیض یاب ہونے کی توفیق نصیب فرمائے۔(ط۔ا)

اس سائٹ پر کوئی ایسی کتاب موجود نہیں جس کی ترتیب و تخریج ان صاحب نے کی ہو۔
ان صاحب کی کوئی بھی کتاب نظرثانی کی گئی موجود نہیں۔

ای میل سبسکرپشن

محدث لائبریری کی اپ ڈیٹس بذریعہ ای میل وصول کرنے کے لئے ای میل درج کر کے سبسکرائب کے بٹن پر کلک کیجئے۔

 

ایڈوانس سرچ

رجسٹرڈ اراکین

آن لائن مہمان

محدث لائبریری پر اس وقت الحمدللہ 2284 مہمان آن لائن ہیں ، لیکن کوئی رکن آن لائن نہیں ہے۔

ایڈریس

       99--جے ماڈل ٹاؤن،
     نزد کلمہ چوک،
     لاہور، 54700 پاکستان

       0092-42-35866396، 35866476، 35839404

       0092-423-5836016، 5837311

      KitaboSunnat@gmail.com

      بنک تفصیلات کے لیے یہاں کلک کریں

 :