ابن قیم الجوزیہ

1 1 1 1 1 1 1 1 1 1
ابن قیم الجوزیہ
    Title Page---Uswa e Hasana
    ابن قیم الجوزیہ
    امام ابن القیم رحمہ اللہ کی ایک جلیل القدر مبسوط کتاب "زاد المعاد فی ہدی خیر العباد" کے نام سے  فن سیرت میں ایک نمایاں اہمیت کی حامل کتاب ہے۔ جس میں فقہی موشگافیوں، کتب فقہ کے مجادلات، قیل و قال، متعارض اقوال سے صرف نظر کرتے ہوئے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی عملی تعلیم کو پیش کیا گیا ہے۔ زاد المعاد چونکہ ایک ضخیم کتاب ہے جس میں اکثر مسائل عوام کی بجائے اہل علم سے تعلق رکھتے ہیں۔ عوام کی آسانی اور طریقہ نبوی صلی اللہ علیہ وسلم کی آسان فہم تشریح کیلئے  زیر تبصرہ کتاب میں اسی مشہور تصنیف کی تلخیص کی گئی ہے۔ اسوہ حسنہ کے موضوع پر بلاشبہ یہ ایک شاندار تصنیف ہے۔
    title-pages-uswa-hasanpbuh
    ابن قیم الجوزیہ
    امام ابن قیمؒ کا شمار  شیخ الاسلام امام ابن تیمیہؒ کے اخص الخاص شاگردوں میں ہوتا ہے۔ امام ابن تیمیہ رحمۃاللہ علیہ کے بعد ابن قیم رحمۃ اللہ علیہ کے پایہ کاکوئی محقق اور مسلک سلف کا کوئی ایسا شارح نہیں گزرا۔ اس کا منہ بولتا ثبوت ان کی بلند پایہ تصنیفات ہیں۔ پیش نظر کتاب بھی امام صاحب کی سیرت پر لکھی جانے والی کتاب کی ملخص شکل ہے۔ جوانھوں نے ’زاد المعاد فی ہدی خیر العباد‘ کے نام سے لکھی، جس میں انھوں نے دیگر سیرت نگاروں سے الگ ایک اچھوتا اسلوب اختیار کیا۔ یہ کتاب کافی ضخیم تھی اس لیے ضروری ہوا کہ اس کا اختصا رکیا جائے اور ان تمام مباحث کو نکال دیا جائے جو علما کے مخصوصات سے ہیں تاکہ براہ راست عوام اس سے فیض یاب ہو سکیں۔ مصر کے مشہور عالم محمد ابو زید نے اس کمی کو پورا کرتے ہوئے  ’ہدی الرسول‘ کے نام سے اس کا اختصار کیا جس کا اردو ترجمہ اس وقت آپ کے سامنے ہے۔ کتاب کی افادیت اس اعتبار سے مزید بڑھ جاتی ہے کہ اس کو عربی سے اردو قالب میں ڈھالنے والے عبدالرزاق ملیح آبادی رحمۃ اللہ علیہ ہیں، جن کی اردو دانی میں شک کی گنجائش نہیں ہے۔ مصنف نے نہایت خوبصورت انداز میں دریا کو کوزے میں بند کرتے ہوئے سیرت کے تمام نقوش کو قرطاس پر بکھیر دیا ہے۔(عین۔ م)

    نوٹ:
    محدث فورم میں اس کتاب پر تبصرہ کرنے کے لیے یہاں کلک کریں
    pages-from-uswa-e-hasna
    ابن قیم الجوزیہ

    نبی کریم ﷺ کی سیرت کا مطالعہ کرنا ہمارے ایمان کا حصہ بھی ہے اور حکم ربانی بھی ہے۔قرآن مجید نبی کریم ﷺ کی حیات طیبہ کو ہمارے لئے ایک کامل نمونہ قرار دیتا ہے۔اخلاق وآداب کا کونسا ایسا معیار ہے ،جو آپ ﷺ کی حیات مبارکہ سے نہ ملتا ہو۔اللہ تعالی نے نبی کریم ﷺ کے ذریعہ دین اسلام کی تکمیل ہی نہیں ،بلکہ نبوت اور راہنمائی کے سلسلہ کو آپ کی ذات اقدس پر ختم کر کےنبوت کے خاتمہ کے ساتھ ساتھ سیرت انسانیت کی بھی تکمیل فرما دی کہ آج کے بعد اس سے بہتر ،ارفع واعلی اور اچھے وخوبصورت نمونہ وکردار کا تصور بھی ناممکن اور محال ہے۔آپ ﷺ کی سیرت طیبہ پر متعدد زبانوں میں بے شمار کتب لکھی جا چکی ہیں،جو ان مولفین کی طرف سے آپ کے ساتھ محبت کا ایک بہترین اظہار ہے۔زیر تبصرہ کتاب "اسوہ حسنہﷺ " شیخ الاسلام امام ابن قیم کی معرکۃ الآراء کتاب زاد المعاد فی ھدی خیر العباد کا اختصار اور اردو ترجمہ ہے۔اردو ترجمہ مولانا عبد الرزاق ملیح آبادی نے کیا ہے۔ مولف حق گوئی وبے باکی،وسعت نظر اور ندرت فکر میں سیرت نگاری کے حوالے سے ایک منفرد اور ممتاز مقام رکھتے ہیں۔اور یہ کتاب بھی ان کی نبی کریم ﷺ سے محبت کا بھر پور اظہار ہے۔ اللہ تعالی مولف کی اس محنت کو قبول فرمائے اور ہمیں آپ ﷺ کے اسوہ حسنہ کو اپنانے کی بھی توفیق دے۔آمین(راسخ)

    title-page-alamul-muqeien-an-rabb-il-aalameen-2part1
    ابن قیم الجوزیہ

    علامہ ابن القیم الجوزیہ رحمہ اللہ ایک جلیل القدرعالم ربانی تھے ۔آپ نےبے شمارکتابیں تصنیف فرمائی ہیں ان میں زیرنظرکتاب اعلام الموقعین ایک ممتاز مقام رکھتی ہے ۔اس مفصل کتاب میں علامہ موصوف نے اصول فقہ خصوصافتوی،اجتہاداورقیاس کے موضوع پرقلم اٹھایاہے اورحق یہ ہےکہ حق اداکردیاہے ۔جولوگ تقلیداورقیاس کےباب میں افراط وتفریط کاشکارہیں ،ان کاتفصیلی ردکیاہے اورایک ایک مسئلے پربیسیوں دلائل پیش کیےہیں ۔حیلہ سازوں کی بھی تردیدفرمائی ہےاورصحابہ کرام وسلف صالحین کے حوالے سے واضح کیاہے کہ وہ ہرمسئلے میں کتاب وسنت مقدم رکھتے تھے ،لہذاہمیں بھی براہ راست کتاب وسنت کی پیروی کرنی چاہیے نہ کہ اقوال رجال کاسہارالیناچاہیے ۔ان لوگوں کی غلطی کوبھی واضح کیاہے جویہ گمان رکھتےہیں بعض احادیث خلاف قیاس ہیں ۔اس وضع کتاب کوخطیب الہندعلامہ محمدجوناگڑھی نے رواں اورشگفتہ اردوکے قالب میں ڈھالاہے ،جس سےاردودان طبقےکے لیے بھی اس سے استفادہ کی راہ  آسان ہوگئی ہے۔خداوندقدوس فاضل مؤلف اورمترجم کی اس عظیم خدمت کوشرف قبولیت سے نوازےاوراہل اسلام کواس سے اکتساب فیض کی توفیق  مرحمت فرمائے۔آمین

     

     

     

    title-page-alamul-muqeien-an-rabb-il-aalameen-2part1
    ابن قیم الجوزیہ

    علامہ ابن القیم الجوزیہ رحمہ اللہ ایک جلیل القدرعالم ربانی تھے ۔آپ نےبے شمارکتابیں تصنیف فرمائی ہیں ان میں زیرنظرکتاب اعلام الموقعین ایک ممتاز مقام رکھتی ہے ۔اس مفصل کتاب میں علامہ موصوف نے اصول فقہ خصوصافتوی،اجتہاداورقیاس کے موضوع پرقلم اٹھایاہے اورحق یہ ہےکہ حق اداکردیاہے ۔جولوگ تقلیداورقیاس کےباب میں افراط وتفریط کاشکارہیں ،ان کاتفصیلی ردکیاہے اورایک ایک مسئلے پربیسیوں دلائل پیش کیےہیں ۔حیلہ سازوں کی بھی تردیدفرمائی ہےاورصحابہ کرام وسلف صالحین کے حوالے سے واضح کیاہے کہ وہ ہرمسئلے میں کتاب وسنت مقدم رکھتے تھے ،لہذاہمیں بھی براہ راست کتاب وسنت کی پیروی کرنی چاہیے نہ کہ اقوال رجال کاسہارالیناچاہیے ۔ان لوگوں کی غلطی کوبھی واضح کیاہے جویہ گمان رکھتےہیں بعض احادیث خلاف قیاس ہیں ۔اس وضع کتاب کوخطیب الہندعلامہ محمدجوناگڑھی نے رواں اورشگفتہ اردوکے قالب میں ڈھالاہے ،جس سےاردودان طبقےکے لیے بھی اس سے استفادہ کی راہ  آسان ہوگئی ہے۔خداوندقدوس فاضل مؤلف اورمترجم کی اس عظیم خدمت کوشرف قبولیت سے نوازےاوراہل اسلام کواس سے اکتساب فیض کی توفیق  مرحمت فرمائے۔آمین

     

     

     

    title-pages-afadat-imam-ibne-taimia-urdu-copy
    ابن قیم الجوزیہ

    شیخ الاسلام امام ابن تیمیہ ﷫ساتویں صدی ہجری  کی وہ عظیم شخصیت تھے،جن کے علمی کارہائے نمایاں کے اثرات آج بھی پوری آب وتاب سے موجود ہیں۔آپ نے اپنی پوری زندگی دین اسلام کی نشرواشاعت ،کتاب وسنت کی ترویج وترقی اور شرک وبدعت کی تردید وتوضیح میں بسر کردی ۔امام صاحب علوم اسلامیہ کا بحر ذخار تھے اور تمام علوم وفنون پر مکمل دسترس اور مجتہدانہ بصیرت رکھتے تھے۔آپ نے ہر علم کا مطالعہ کیا اور اسے قرآن وحدیث کے معیار پر جانچ کر اس کی قدر وقیمت کا صحیح تعین کیا۔مختلف گوشوں میں آپ کی تجدیدی واصلاحی خدمات آب زر سے لکھے جانے  کے لائق ہیں ۔امام ابن تیمیہ صرف صاحب قلم عالم ہی نہ تھے ،صاحب سیف مجاہدبھی تھے ،آپ نے میدان جہاد میں بھی جرأت وشجاعت کے جو ہر دکھائے۔آپ کی طرح آپ کے تلامذہ بھی اپنے عہد کے عظیم عالم تھے ۔آپ کے معروف ترین شاگرد امام ابن قیم ﷫ ہیں۔آپ 691ھ میں پیدا ہوئے آپ نے علوم دینیہ کی تعلیم شیخ الاسلام امام ابن تیمیہ ﷫سے حاصل کی، فن تفسیر کے ماہر، حدیث اور فقہ و معانی حدیث پر گہری نظر رکھتے تھے اصول دین کے رمز آشنا، فن فقہ اور اصول عربیہ میں آپ خاص مہارت کے حامل تھے اپنے بعض عقائد کی بنا پر قید و بند کی صعوبتیں بھی برداشت کیں۔ زیر تبصرہ کتاب"افادات امام ابن تیمیہ﷫"انہی دوعظیم الشان شخصیتوں استاد اور شاگرد کی تحریروں کے تراجم پر مشتمل ہے۔اس میں امام ابن تیمیہ﷫ کے آٹھ رسائل اور امام ابن قیم﷫ کی ادبی کتاب روضۃ المحبین کے آخری باب کا ترجمہ شامل ہے۔اردو ترجمہ محترم حافظ محمد زکریا صاحب﷫ نے کیا ہے۔اللہ تعالی سے دعا ہے کہ  مولف اور مترجم دونوں کی اس کاوش کو اپنی بارگاہ میں قبول فرمائے اور ان کے میزان حسنات میں اضافہ فرمائے۔آمین (راسخ)

    Title Page---Alsalat u walslam
    ابن قیم الجوزیہ
    نبی کریمﷺپر درود وسلام، اللہ تعالی کا حکم ہے جس کا انکار یا استخفاف کفر ہے اور اس کا اہتمام رسول اللہ ﷺسے محبت اور والہانہ تعلق ووابستگی کا ذریعہ بھی ہے اور اس کی علامت اور دلیل بھی- لیکن وہ  درود وسلام کون سا اور اس کا طریقہ کیا ہے جس کا حکم مسلمانوں کو دیا گیا  ہے اور جو محبت رسول کا ذریعہ بھی ہے اور اس کی علامت بھی؟ '' الصلاۃ والسلام علی رسول اللہ'' دراصل امام ابن قیم کی تالیف جلاء الأفہام فی الصلوة والسلام علی خیر الأنام کا اردو ترجمہ ہے، اس میں درود وسلام کے حوالے سے تقریباً ہر موضوع پر تفصیلی، مدلل اور واضح گفتگو کی گئی ہے- امام صاحب نے درود وسلام کے متعلق حکم قرآنی کی نوعیت کیا ہے؟ درود وسلام کے صحیح ، مستند  اور مسنون الفاظ کیا ہیں؟ انہیں کہاں، کیسے اور کب پڑھنا ہے؟ درود وسلام کے فضائل وآداب کیا ہیں؟ اور آل نبی میں کون کون شامل ہیں؟ علاوہ ازیں درود وسلام سے متعلق موضوع اور ضعیف احادیث کی وضاحت وتحقیق اور اس قسم کے دیگر احکام ومسائل اور بے شمار فوائد پر اس کتاب میں بحث کی گئی ہے-
    title-pages-qaseeda-az-nouniya-copy
    ابن قیم الجوزیہ

    مسلک اہل حدیث کوئی نئی جماعت نہیں۔ تمام اہل علم اس بات کو اچھی طرح سے جانتے ہیں کہ اہل حدیث کا نصب العین کتاب و سنت ہے اور جب سے کتاب و سنت موجود ہے تب سے یہ جماعت موجود ہے۔اسی لیے ان کا انتساب کتاب و سنت کی طرف ہے کسی امام یا فقیہ کی طرف نہیں اور نہ ہی کسی گاؤں اور شہر کی طرف ہے۔یہ نام دو لفظوں سے مرکب ہے۔پہلا لفظ"اہل"ہے۔جس کے معنی ہیں والے صاحب دوسرا لفظ"حدیث" ہے۔حدیث نام ہے کلام اللہ اور کلام رسولﷺ کا۔قرآن کو بھی حدیث فرمایا گیا ہے۔اور آپﷺ کے اقوال اور افعال کے مجموعہ کا نام بھی حدیث ہے۔پس اہل حدیث کے معنی ہوئے۔”قرآن و حدیث والے” جماعت اہل حدیث نے جس طریق پر حدیث کو اپنا پروگرام بنایا ہے اور کسی نے نہیں بنایا۔اسی لیے اسی جماعت کا حق ہے۔کہ وہ اپنے آپ کو اہل حدیث کہے۔مسلک اہلحدیث کی بنیاد انہی دو چيزوں پر ہے اور یہی جماعت حق ہے۔ اہل حدیث مروّجہ مذہبوں کی طرح کوئی مذہب نہیں، نہ مختلف فرقوں کی طرح کوئی فرقہ ہے، بلکہ اہل حدیث ایک جماعت اور تحریک کا نام ہے۔ اور وہ تحریک ہے زندگی کے ہر شعبے میں قرآن وحدیث کے مطابق عمل کرنا اور دوسروں کو ان دونوں پر عمل کرنے کی ترغیب دلانا، یا یوں کہ لیجئے کہ اہل حدیث کا نصب العین کتاب وسنت کی دعوت اور اہل حدیث کا منشور قرآن وحدیث ہے۔اور اصلی اہل سنت یہی ہیں۔ زیر تبصرہ کتاب "اہل حدیث پر خوفناک بہتانات کے دندان شکن جوابات از قصیدہ نونیہ"امام ابن قیم الجوزیہ﷫ کی عربی تصنیف کا اردو ترجمہ ہے۔جس میں انہوں نے اہل حدیث کے اسی مقام ومرتبے اور شان کو بیان کیا ہے اور ان پر کئے گئے اعتراضات کا تسلی بخش جواب دیا ہے۔اردو ترجمہ محترم عبد الجبار سلفی صاحب نے کیا ہے۔اللہ تعالی سے دعا ہے کہ وہ  مولف اور مترجم کی اس محنت کو اپنی بارگاہ میں قبول فرمائے اور ان کے میزان حسنات میں اضافہ فرمائے۔آمین(راسخ)

    title-pages-tafseeri-nukaat-w-afadaat
    ابن قیم الجوزیہ
    قرآن حکیم کی تفسیر اور مطالب بیان کرنا نہایت دقیق اور پیچیدہ معاملہ ہے۔ جس سے کوئی پختہ کار عالم ،جید محقق اور کوہنہ مشق مفسر ہی عہدہ برآن ہو سکتا ہے ۔کیونکہ قلم کی ذرا سی لغزش سے مفہوم میں کئی پیچیدگیاں واقع ہو جاتی ہیں۔اور ممکن ہے معمولی سی خطا کئی لوگوں کی گمراہی کا سبب بن جائے۔حافظ ابن قیم رحمہ اللہ ایسے تمام اوصاف سے متصف ،علم وعرفان کے وہ مہتاب ہیں جن کی پختہ سوچ ،صاعب رائے اور علم میں پختگی مسلمہ ہے ۔ان کی زیر تبصرہ یہ کتاب تفسیری نکات کا حسین مرقع اور نادر مجموعہ ہے ،جو شائقین علم کے لیے بیش قیمت خزانہ ہے  جو ان کی علمی تشنگی اور تفسیر کے مفاہیم کو سمجھنے کی ضرورت کی کما حقہ آبیاری کرتی ہے۔پھر جید عالم دین مولانا عبدالغفار حسن رحمہ اللہ کا ترجمہ اور جمع وتبویب سونے پہ سہاگہ ہے ۔یہ اپنے موضوع پر نایاب کتاب ہے ۔(ف۔ر)

    نوٹ:
    محدث فورم میں اس کتاب پر تبصرہ کرنے کے لیے یہاں کلک کریں

    title-pages-hasdon-k-shar-se-bacho
    ابن قیم الجوزیہ
    حسد ایک  ایسا جذبہ ہے جو کسی کی تباہی وبربادی پرتکمیل پذیر ہوتاہے اور حسد ایسا مہلک مرض  ہےکہ جس سےحاسدکے اعمال بھی تباہ ہو جاتے ہیں     حسدکی اس بیماری میں ہمارا  معاشرہ مختلف  مصائب سے دوچار ہے  ہر کوئی دوسرے سے خوفزدہ اور  پریشان  ہے ۔ قرآن وسنت کی تعلیمات سے دوری کی بنا پر ہر شخص ایک  دوسرے کاجانی دشمن بنا ہوا ہے اور حسد کی چنگاری میں جھلس رہا ہے  حاسد جب جادو ٹونے  کا وار کرتاہے  تو اس کے اثرات سے  لڑائی جھگڑے ،نااتفاقی  ،بیماریاں ،پریشانیاں ڈیرا  ڈالی لیتی ہیں  کاروبار ،سکون ،صحت تباہ  ہوجاتی ہے۔ اسلام  نے  چودہ  صدیاں قبل  اپنے آخری رسول  پر نازل شدہ کتاب قرآن مجید کے ذریعہ اس  بیماری کےمہلک اثرات سے  دفاع کاطریقہ بتادیا ہے  وہی طریقہ اس کتاب میں   بتایا گیا ہے ۔حسد کے شر سے  محفوظ  رہنے کے لیے  اس کتاب سے  رہنمائی  مل سکتی ہے   یہ  کتاب دراصل امام ابن قیم کی  کتاب ’’ تفسیر المعوذتین‘‘ کااردو ترجمہ ہے  جسے دار الابلاغ نے  حسن طباعت سے  آراستہ کیا ہے  اللہ تعالی مصنف ،مترجم اورناشرین کی  جہو د کو قبول  فرمائے  اور اسے پڑھنے والوں کوعمل کی توفیق دے (آمین)(م۔ا)
    title-pages-khush-nasebi-ki-rahain-copy
    ابن قیم الجوزیہ

    حقیقی مومن سچی طلب ، محبت، عبودیت ، توکل، خوف وامید،خالص توجہ او رہمہ وقت حاجت مندی کی کیفیت کے ساتھ  اللہ   تعالیٰ کی  طرف رجوع کرتا ہے  پھر وہ اللہ کے رسول کی طرف  رجوع کرتا ہے ۔ دریں صورت کہ اس کی ظاہر ی وباطنی حرکات وسکنات شریعت محمدی کے مطابق ہوں ۔ یہی وہ شریعت ہے جو اللہ تعالیٰ کی پسند اور مرضی کی تفصیل کواپنے  اندر سموئے  ہے ۔اللہ تعالیٰ اس کے علاوہ کوئی ضابطہ حیات قبول نہیں کرے گا۔ ہر وہ  عمل  جو اس طریقۂزندگی  سے متصادم ہو وہ توشۂ آخرت بننے کی بجائے نفس پرستی کا مظہر ہوگا۔ جب ہرپہلو سے سعادت مندی  شریعت محمدیہ پر موقوف ہے  تو اپنی خیر خواہی کا تقاضا یہ ہے  کہ انسان اپنی زندگی  کے تمام لمحات اس کی معرفت اورطلب کے لیے وقف کردے۔ زیر نظر کتاب ’’ خوشی نصیبی کی راہیں‘‘ امام ابن قیم الجوزیہ ﷫ کی کتاب ’’طریق الہجرتین وباب السعادتین‘‘  کا ترجمہ وتلخیص ہے امام موصوف نے  اس کتاب میں رجوع الی الرسول کےبنیادی خدوخال سمونے کی  کی کوشش کی  ہے  اور اس کی ابتدا  فقر وحاجت  مندی  اور بندگی سےکی ہے  کہ یہ سعادت کا وہ دروازہ   اور سیدھا  راستہ ہےکہ  خوشی نصیبی  کے حصول  کےلیے صرف اسی میں  داخل ہوا جاسکتا ہے ۔  اور کتاب کا  اختتام  مکلف مخلوق جن وانس  کے آخرت میں طبقات اور   خوش بختی  یا بد بختی  کےگھر میں ان کےمراتب کےبیان پر کیا ہے ۔ترجمہ  تلخیص کاکام جناب ڈاکٹر حافظ شہباز حسن صاحب  نے  انجام دیا ہے   ڈاکٹر  صاحب   نےعبارات کا مفہوم پوری دیانت داری اور بھر پور محنت سے اردو میں  منتقل کیا ہے ۔اس کتاب میں تلخیص کے عام انداز اکو اختیار نہیں کیا  گیا تاکہ  ترجمے کو تحقیقی مقالات  میں حوالہ جات  کےلیے بھی استعمال کیا جاسکے ۔خطباء کی سہولت کے لیے  کتاب وسنت کےدلائل کو تلخیص میں سمونے کی بھر پور کوشش کی گئی ہے ۔ تلخیص کرتے وقت جہاں عبارت ،پیراگراف یا صفحات حذف کیے گئے ہیں ان کی  نشاندہی نقاط لگا کر دی گئی ہے۔ اللہ   تعالیٰ اس کتاب کو امت مسلمہ کے لیے فائدہ مند او ر بنائے اورمترجم وناشر کی اس کاوش کوشرف قبولیت سے نوازے۔ (آمین) (م۔ا)

    Title Page--- Daway shafi
    ابن قیم الجوزیہ
    ایک شخص نہایت مایوسی اور ناامیدی کی کیفیت میں مبتلا ہے اوروہ  اپنے تائیں  اپنی دنیا وعاقبت دونوں کو برباد کرچکا ہے ایسے شخص کےلیے علامہ ابن قیم رحمہ اللہ نے ''الجواب الکافی ممن سأل عن الدوائے شافعی'' تحریر کی - مایوس اور ناامید افراد معاشرہ کو بامقصد زندگی گزارنے کا پیغام دیا - زیر مطالعہ کتاب دراصل اس کتاب کا اردو قالب ہے اس میں علامہ موصوف نےقرآن وحدیث اور آثار صحابہ کی روشنی میں تعلق بااللہ کی استواری اور استحکام کیلئے دعا  کی اہمیت واضح کی اعلی اخلاق سے دوری کے نتیجے میں انسان جن خرابیوں اور گناہوں کاشکار ہوجاتاہے ان سے بچنے کی تلقین ،توبہ واستغفار کی اہمیت بیان کرنے کے ساتھ ساتھ ایک مسلمان  کو اپنی دنیا وآخرت سنوارنے  کےلیے کیا کرنا چاہیے اس کی جانب توجہ دلائی -کتاب کے آخر ی حصہ میں عشق سے متعلقہ مباحث کو تفصیل کےساتھ قلمبند کیا گیاہے اور اس کی اثر آفرین سے بچنے اور حب الہی کی جانب متوجہ ہونے کی دعوت دی گئی ہے المختصریہ کتاب دینی واخلاقی برائیوں کےتدارک پر مشتمل  ایک دلچسپ اور ہر طرح سے مکمل ہے-

    title-pages-dawaa-e-shafi-new-edition-2
    ابن قیم الجوزیہ
    ’دوائے شافی‘حافظ ابن قیم رحمہ اللہ کی شہرہ آفاق تالیف ہے جس میں بیمار وکج رو قلوب واذہان کی اصلاح ،شرک وبدعات میں لتھڑے انسانوں کی ہدایت ،معصیات سے زنگ آلود دلوں کی پالش اور عشق معشوقی میں گھرے لوگوں کی راہنمائی کا بہترین سامان ہے کہ ان تمام گناہوں کو کتاب وسنت کے دلائل سے ثابت کیا گیا ہے۔پھر قرآن وحدیث کی تعلیمات اور عقلی دلائل سے گناہوں اور معصیات سے بچاؤ کے مؤثر طریقے بتائے گئے ہیں۔جن سے راہنمائی لے کر انسان گناہوں ،گمراہیوں اور دل کی موت سے یقینی بچ سکتا ہے۔کیونکہ جسم انسانی کا معتبر عضو دل ہے جس کی بقا وحیات ہی سے رشد وہدایت اور دین سے لگاؤ ممکن ہے ۔لہذا اصلاح نفس اور دل کی طہارت ونفاست اور گناہوں سے بچاؤ کے لیے اس کتاب کا مطالعہ نہایت مفید ہے۔(فاروق رفیع)

    نوٹ:
    اس کتاب دوائے شافی۔نیو ایڈیشن پر تبصرہ کرنے کے لیے یہاں کلک کریں
    Title Page---Zikar-e-Ilahi
    ابن قیم الجوزیہ
    دین اسلام میں ذکر الہی کو بڑی اہمیت حاصل ہے اور انسان کا اللہ  تعالی سے تعلق کو گہرے کرنے والی سب سے بنیادی چیز بھی ذکر الہی ہے-مصنف نے اپنی کتاب میں ذکر کے معنی ومفہوم کو بیان کرنے کے ساتھ ساتھ ذکر کی اہمیت ،ذکر کا طریقہ کار،ذکر کی مختلف اقسام،ذاکر کی فضیلت اور ذکر کے فوائد وثمرات کو بڑی تفصیل سے بیان کیا ہے-اس کے ساتھ ساتھ یہ واضح کیا ہے کہ ذکر کی سب سے بہترین صورتیں کون سی ہو سکتی ہیں اور ذکر الہی سے انسان کس طرح گناہوں سے بچ کر نیکیوں میں سبقت حاصل کرتا ہے-ذکر الہی چونکہ عبادت ہے تو مصنف نے اس چیز کو بھی تفصیل سے بیا ن کیا ہے کہ ذکر الہی کے آداب وتقاضے کیا ہیں،محفل ذکر کی اللہ تعالی کے ہاں کتنی فضیلت ہے اور ذکر کرنے والوں کو اللہ تعالی کیا کیا انعامات سے نوازتے ہیں اور ذکر کرنے سے جنت میں درجات کیسے بڑھتے ہیں-
    title-pages-zikr-e-ilahi-copy
    ابن قیم الجوزیہ

    اللہ تعالیٰ نے انسان کومحض اپنی بندگی کے لیے پیدا کیا ہے۔ اس کی  بندگی کا بنیادی تقاضا یہ ہے کہ اللہ تعالی ٰہی کی بات مانی جائے۔ اسی کے احکامات پر اپنے ظاہر و باطن کو جھکا دیا جائے اور طا غوت کی بات ماننے سے گریز کیا جائے ۔ اسی بندگی اور تسلیم و رضا کو جا نچنے کیلئے اللہ تعالیٰ نے زندگی و موت کا نظام پیدا کیا تاکہ آزمائے کہ کون بہتر عمل کرتا ہے ۔ اللہ تعالیٰ نے انسان کی فطرت میں خیرو شر کا شعور رکھ دیا اور ساتھ ہی وحی کے ذریعے صراط مستقیم کا تعین کردیا تاکہ لوگ اللہ کی مرضی کے مطابق زندگی گذارکر جنت کی ابدی نعمتوں سے مستفید ہوں۔ اس اہتمام کے باوجود انسان اکثر گناہوں کی غلاظت میں ملوث ہوجاتا ہے ۔ گناہوں کی آلودگی کے ساتھ کوئی شخص جنت میں داخل نہیں ہوسکتا ۔ چنانچہ یہ گناہوں کی صفائی کا عمل دنیا کی زندگی سے شروع ہوتا اور اللہ کی رحمت سے آخرت میں منتہائے کمال تک پہنچ جاتا ہے ۔اپنی ذات کو گناہوں سے پاک کرنے کو اصلاح میں تزکیہ نفس کہا جاتا ہے۔ تزکیہ کے دو پہلو ہیں ۔ ایک تو یہ کہ اس کا مطلب گناہوں کو دور کرنا اور ان کی صفائی کرنا ہے ۔ اس کا دوسرا پہلو یہ ہے کہ صفائی کے بعد نیکیوں اور اچھے اعمال کی بنیاد رکھنا اور انہیں نشونما دینا ہے۔ نفس سے مراد انسانی ذات یا شخصیت ہے۔ چنانچہ تزکیہ نفس کا مفہوم یہ ہوا کہ انسانی شخصیت میں سے برائیوں کو ختم کرنا اور اچھائیوں کو پروان چڑھانا۔تزکیہ نفس دیکھنے میں تو ایک سادہ عمل ہے لیکن عملی طور پر دیکھا جائے تو انتہائی مشکل کام ہے۔ لیکن یہی دین کا مقصود ہے اور اسی عمل میں کامیابی کا نتیجہ جنت کی ابدی نعمتوں کی شکل میں نکلے گا۔ جبکہ اس میں ناکامی کا انجام جہنم کے گڑھے ہیں۔ تزکیہ نفس کی اسی اہمیت کی بنا پر قرآن نے اسے براہ راست موضوع بنایا ہے ۔اور کتاب وسنت کی روشنی میں تصوف اور تزکیہ نفس کی تعلیم محدثین کرام وائمہ مجتہدین عظام کی زندگی کا مشن رہاہے ۔جس کی تفصیل علامہ ابن  قیم ﷫  کی زیر تبصرہ کتاب’’ الوابل الصیب من کلم  الطیب‘‘ سے کما حقہ ہوسکتی ہے ۔ یہ کتاب تصوف اورتزکیۂ نفس کےموضوع پر محدثین وسلف صالحین کے حقیقی نقطۂ نظر کو جاننے کے لیے سند کی حیثیت رکھتی ہے۔ اللہ تعالیٰ اس کتاب کو  اصلاح امت کے لیے بہترین  ومؤثر ذریعہ بنائے(آمین)(م۔ا)

    title-pages-zaad-ul-ma-aad-12
    ابن قیم الجوزیہ
    حضور نبی کریمﷺ کی حیات طیبہ تمام مسلمانوں کے لیے اسوہ حسنہ اور چراغ راہ ہے۔ دین اسلام کی تعلیمات نہایت سادہ، واضح اور عام فہم ہیں، ان میں کسی قسم کی پیچیدگی کا گزر نہیں ہے۔ ان تعلیمات و ہدایات کا مکمل نمونہ آنحضرتﷺ کی ذات گرامی تھی فلہٰذا جب تک آپﷺ کا اسوہ حسنہ ہمارے سامنے نہ ہو اس وقت تک نہ ہم اسلام کو سمجھ سکتے ہیں اور نہ ہی صحیح طور پر اس پر عمل کر سکتے ہیں۔ اسی مقصد کے پیش نظر علامہ ابن قیم رحمۃ اللہ علیہ نے ’زاد المعاد‘ کے نام سے کتاب تصنیف فرمائی۔ جس میں پوری صحت و استناد کے ساتھ آنحضرت ﷺ کی سیرت طیبہ اور اسوہ حسنہ کا تفصیلی، تحقیقی اور دقت نظر کے ساتھ ذکر موجود ہے۔ کتاب کی افادیت کے پیش نظر اس کو اردو دان طبقہ کے لیے پیش کیا جا رہا ہے اور اردو ترجمہ کے سلسلہ میں رئیس احمد جعفری صاحب کی خدمات حاصل کی گئی ہیں۔ کتاب کو دو حصوں میں تقسیم کیا گیاہے، پہلا حصہ آپﷺ کے حلیہ، عادات و شمائل اور طرز زندگی پر مشتمل ہے۔ جبکہ دوسرے حصے میں آپﷺ کے غزوات و مجاہدات اور حالات و سوانح وغیرہ پر روشنی ڈالی گئی ہے۔ کتاب اپنے موضوع کے اعتبار سے منفرد اور یگانہ ہے۔ اسی طرح کتاب کا ترجمہ بھی نہایت واضح اور سلیس ہے۔ (ع۔م)

    نوٹ:
    محدث فورم میں اس کتاب پر تبصرہ کرنے کے لیے یہاں کلک کریں

    title-pages-zaad-ul-ma-aad-12
    ابن قیم الجوزیہ
    حضور نبی کریمﷺ کی حیات طیبہ تمام مسلمانوں کے لیے اسوہ حسنہ اور چراغ راہ ہے۔ دین اسلام کی تعلیمات نہایت سادہ، واضح اور عام فہم ہیں، ان میں کسی قسم کی پیچیدگی کا گزر نہیں ہے۔ ان تعلیمات و ہدایات کا مکمل نمونہ آنحضرتﷺ کی ذات گرامی تھی فلہٰذا جب تک آپﷺ کا اسوہ حسنہ ہمارے سامنے نہ ہو اس وقت تک نہ ہم اسلام کو سمجھ سکتے ہیں اور نہ ہی صحیح طور پر اس پر عمل کر سکتے ہیں۔ اسی مقصد کے پیش نظر علامہ ابن قیم رحمۃ اللہ علیہ نے ’زاد المعاد‘ کے نام سے کتاب تصنیف فرمائی۔ جس میں پوری صحت و استناد کے ساتھ آنحضرت ﷺ کی سیرت طیبہ اور اسوہ حسنہ کا تفصیلی، تحقیقی اور دقت نظر کے ساتھ ذکر موجود ہے۔ کتاب کی افادیت کے پیش نظر اس کو اردو دان طبقہ کے لیے پیش کیا جا رہا ہے اور اردو ترجمہ کے سلسلہ میں رئیس احمد جعفری صاحب کی خدمات حاصل کی گئی ہیں۔ کتاب کو دو حصوں میں تقسیم کیا گیاہے، پہلا حصہ آپﷺ کے حلیہ، عادات و شمائل اور طرز زندگی پر مشتمل ہے۔ جبکہ دوسرے حصے میں آپﷺ کے غزوات و مجاہدات اور حالات و سوانح وغیرہ پر روشنی ڈالی گئی ہے۔ کتاب اپنے موضوع کے اعتبار سے منفرد اور یگانہ ہے۔ اسی طرح کتاب کا ترجمہ بھی نہایت واضح اور سلیس ہے۔ (ع۔م)

    نوٹ:
    محدث فورم میں اس کتاب پر تبصرہ کرنے کے لیے یہاں کلک کریں

    shirkeakbarkufreakbaraurbidatkbaraymainjahilaurmuqallidp-copy
    ابن قیم الجوزیہ
    یہ کتابچہ دراصل علامہ ابن قیم کی دو کتابوں "کتاب الطبقات" اور"قصیدہ نونیہ" کی تلخیص ہے۔ اس میں جاہل مقلدین اور کفر اکبر، شرک اکبر اور دیگر بدعی عقائد میں مبتلا گروہوں پر حجت کے قواعد اور اصول بیان کئے گئے ہیں۔ ایک حساس موضوع پر عمدہ تحریر ہے۔


    title-page-sifat-al-munafiqeen
    ابن قیم الجوزیہ
    اسلام کی نظر میں منافق مشرک وکافر سے بڑا مجرم ہےاسی لیے فرمایا گیا ہے کہ منافق جہنم کے سب سے نچلے درجے میں ہوں گے یہ  تو اعتقادی نفاق کی سزا ہے تاہم عملی نفاق ہی کم خطرناک نہیں ہے جو آج کل کثرت سے نظر آتاہے حدیث کی رو سے جو شخص منافقوں کی حصلتیں اپناتا جاتا ہے وہ منافق ہوتا جاتا ہے تاں آنکہ وہ پکا اور خالص منافق بن جاتا ہے امام ابن القیم الجوزیہ رحمہ اللہ نےزیر نظر رسالہ میں قرآن وحدیث کی روشنی میں منافقوں کی مذموم صفات کو اجاگر کیا ہے تاکہ ان سے بچا جاسکے اس رسالے کامطالعہ کرکے ہمیں اپنے گریبان میں جھانکنا چاہئے کہ کہیں ہمارے اندر منافقوں کی صفات وعلامات تو موجود نہیں اگر ایسا ہوتو فوراً اس کی اصلاح کی کوشش کرنی چاہیے


    title-pages-tibbenabvi
    ابن قیم الجوزیہ

    پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی حیات میں جہاں روحانی اور باطنی بیماریوں کے حل تجویز فرمائے وہیں جسمانی اور ظاہری امراض کے لیے بھی اس قدر آسان اور نفع بخش ہدایات دیں کہ دنیا چاہے جتنی بھی ترقی کر لے لیکن ان سے سرمو انحراف نہیں کر سکتی۔ زیر نظر کتاب حافظ ابن قیم کی شہرہ آفاق تصنیف ’زاد المعاد فی ہدی خیر العباد‘ کے ایک باب ’الطب النبوی‘ کا علیحدہ حصہ ہے جسے ایک کتاب کی شکل میں الگ سے طبع کیا گیا ہے۔ شیخ صاحب نے حکیمانہ انداز میں علاج کے احکامات، پرہیز اور مفرد دواؤں کے ذریعے علاج کی فضیلت بیان کرتے ہوئے متعدی اور موذی امراض سے بچاؤ کی نہایت آسان تدابیر پیش کی ہیں۔ کتاب میں ایسے مفید مشورے اور نصیحتیں بھی درج ہیں جن پر عمل کرکے ایک مریض کو نہایت سستا اور مستقل علاج میسر آسکتا ہے۔ مولانا کا کہنا ہے کہ بہت سے لوگ دعا اور دوا کے سلسلے میں افراط کا شکار ہیں لیکن یہ دونوں نقطہ ہائے نظر تعلیمات نبوی صلی اللہ علیہ وسلم سے میل نہیں کھاتے بیماری کے علاج کے لیے دعا اور دوا دونوں از بس ضروی ہیں۔کتاب کا اردو ترجمہ حکیم عزیز الرحمن اعظمی نے کیا ہے۔

    titel-pages-qabar-parsti-k-frogh-k-liye-shaitan-ki-hoshrba-tadaberain
    ابن قیم الجوزیہ
    توحید  ایک  ایسا  تصور  ہے جس پر دین اسلام کی بنیاد اور اساس ہے۔یہ تمام انبیاء و رسل کی دعوت ہے۔اس کے بالمقابل شرک ہے۔ شرک  شعوری اور لاشعوری کئی طرح سے لوگوں میں آجاتا ہے۔تاہم شرک کی  سب سےزیادہ خطرناک صورت وہ ہے جب وہ لاشعوری طور پر آجائے۔انبیاء کے بعد اب یہ امت کے علماء کی ذمہ داری ہے کہ وہ ہرزمانے کے رسوم و رواجات کو سمجھتے ہوئے شرک وبدعت کی اشکال واضح کریں اور لوگوں کو ان موذی امراض سے بچائیں۔زیر نظر کتاب عالم اسلام کے مشہور و معروف عالم  ابن قیم کی تالیف ہے۔اس میں انہوں نے اپنے زمانے کا خیال کرتے ہوئےتصور توحید سمجھانے کی کوشش فرمائی ہے۔ لیکن مرور ایام کے باوجود آج  کے حالات اور اس کتاب کی علمیت کے باوصف  اس کی افادیت بعینہ اسی طرح برقرار ہے جیسے بوقت تحریر تھی۔واضح رہے کہ یہ کتاب ابن قیم کی  مشہور تالیف اغاثۃ اللفہان کے ایک جزء کا ترجمہ ہے ۔جسے مترجم موصوف نے بڑی محنت اور عرق ریزی سے  اصل اسلوب کتاب کا خیال کرتے  ہوئے اردو قالب میں ڈھالا ہے۔اور حتی الوسع کوشش کی ہے کہ  اردو میں اصل کتاب کا لطف آئے۔(ع۔ح)

    نوٹ:
    محدث فورم میں اس کتاب پر تبصرہ کرنے کے لیے یہاں کلک کریں
    title-pages-muawizatain-fazail-barakat-tafseer
    ابن قیم الجوزیہ
    قرآن مجید کی آخری دو سورتیں سورہ فلق اور سورہ الناس خاص فضیلت وبرکت کی حامل ہیں۔بالخصوص یہ دو سورتیں جادو کا تریاق ہیں اور ان کی تلاوت سے انسان جادوزہریلے جانوروں کی کاٹ اور شیطان کے تسلط اور اس کی شرانگیزیوں سے محفوظ رہتا ہے ۔لہذا فرض نماز کے بعد صبح وشام کے اوقات میں اور نیند سے پہلے ان دو سورتوں سمیت سورہ اخلاص کی تلاوت کو ضروری معمول بنانا چاہیے ۔نیز ان سورتوں کے تفسیری نکات اور مزید فضائل وبرکات کے لیے زیر نظر کتاب کا مطالعہ کافی مفید ثابت ہوگا۔لہذا قارئین سے التماس ہے کہ وہ اس کتاب کو خوب غوروخوض سے پڑھیں اور ان سورتوں کے فیوض وبرکات سے ضرور مستفید ہوں۔(ف۔ر)

    نوٹ:
    محدث فورم میں اس کتاب پر تبصرہ کرنے کے لیے یہاں کلک کریں

    title-pages-pages-from-nafsani-khawahishat-sy-najat-k-zaray
    ابن قیم الجوزیہ
    اسلام ایک دین فطرت ہے جو انسان کوبے لگام گھوڑا  بننے کی اجازت قطعاً اجازت نہیں دیتا بلکہ  نفسانی خواہشات کو اعتدال میں لانے کی ترغیب دیتا ہے۔ ایک مسلمان کے کامل مؤمن بننے کے لیے از حد ضروری ہے کہ اس کی خواہشات شریعت کے فراہم کردہ احکامات کے تابع ہوں۔ زیر نظر مختصر سے رسالہ میں علامہ ابن قیم نے انتہائی اثر آفریں انداز میں 50 ایسے علاج پیش کیے ہیں جن کی روشنی میں خواہشات کے دام فریب میں گرفتار لوگ آسانی سے اپنی اصلاح کر سکتے ہیں۔ اپنے انجام سے بے خبر ہو کر وقتی جذبات کے دھارے میں بہہ جانے والوں کے لیے یہ رسالہ انتہائی مفیدہے۔  رسالہ کو اردو قالب میں ڈھالنے اور مزید اضافہ جات کا سہرا عبدالہادی عبدالخالق مدنی کے سر ہے۔

    pages-from-nafsani-khawahishaat-se-nijat-key-zariye
    ابن قیم الجوزیہ

    خواہش طبیعت کا ایسی چیز کی طرف مائل ہونا ہے جو اس کی ہدایت کا باعث بنتی ہے۔ خواہش کو انسان کی ضرورتِ بقا کے پیش نظر پیدا کیا گیا ہے، اگر انسان میں کھانے، پینے اور نکاح کی طرف میلان نہ ہوتا تو وہ نہ کھاتا، نہ پیتا اور نہ ہی نکاح کرتا، لہٰذا خواہش آدمی کو اس کے ارادے کی تکمیل پر اُبھارتی ہے جیسے غضب اذیت میں مبتلا کرنے والی چیز سے روکتا ہے تو جس طرح غصہ کی نہ مطلقاً مذمت کی جا سکتی ہے اور نہ ہی مدح، اسی طرح خواہش کو بھی مطلقاً مذموم یا ممدوح قرار نہیں دیا جا سکتا۔ جب انسان پر خواہش نفس، شہوت اور غضب کی پیروی غالب آجائے تو وہ نفع کی حد پر ہی نہیں رکتا اسی لئے خواہش، شہوت اور غضب کو مذموم ٹھہرایا جاتا ہے کیونکہ عموماً اس میں نقصان کا پہلو نمایاں ہوتا ہے۔ زیر تبصرہ رسالہ ’’ نفسانی خواہشات سے نجات کے ذرائع‘‘ علامہ ابن قیم﷫ کے افادات علمیہ سے ہے جس کےاندر خواہشات کے دام فریب میں گرفتار لوگوں کےلیے انتہائی مؤثر، دلکش اسلوب میں 50 علاج تجویز کیے ہیں۔ محترم جناب عبد الہادی عبدالخالق﷾ نے اس رسالہ کو اردو داں طبقہ کے استفادے کے لیے اسے اردو کے قالب میں منتقل کیا ہے اورموضوع کی تفہیم وتسہیل کی خاطر عناوین کا اضافہ کردیا ہے۔ اللہ تعالیٰ مترجم و ناشر کی اس کاوش کو شرف قبولیت سے نوازے اور ہمیں اپنے نفس امارہ کی خواہشات سے اپنی پناہ میں رکھے او رہماری خواہشات کواپنی محبت ورضا کے تابع بنادے۔ (آمین)(م۔ا)

    title-pages-kitab-al-salat--ibne-qayyam--copy
    ابن قیم الجوزیہ

    نماز دین کا ستون ہے۔نماز جنت کی کنجی ہے۔نماز مومن کی معراج ہے۔ نمازمومن  کی آنکھوں کی ٹھنڈک ہے۔نماز قرب الٰہی کا بہترین ذریعہ ہے۔ نماز اﷲ تعالیٰ کی رضا کاباعث ہے۔نماز پریشانیوں اور بیماریوں سے نجات کا ذریعہ ہے۔نماز بے حیائی سے روکتی ہے۔نماز مومن اور کافر میں فرق ہے۔ہر انسان جب کلمہ پڑھ کر اللہ تعالیٰ کے سامنے اپنے ایمان کی شہادت دیتا ہے اور جنت کے بدلے اپنی جان ومال کا سودا کرتا ہے، اس وقت سے وہ اللہ تعالیٰ کا غلام ہے اور اس کی جان ومال اللہ تعالیٰ کی امانت ہے۔ اب اس پر زندگی کے آخری سانس تک اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول حضرت محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی اطاعت واجب ہوجاتی ہے۔ اس معاہدہ کے بعد جو سب سے پہلا حکم اللہ تعالیٰ کا اس پر عائد ہوتا ہے، وہ پانچ وقت کی نماز قائم کرنا ہے۔قیامت کے دن سب سے پہلے نماز کا حساب وکتاب لیا جائے گا،اگر کوئی شخص اس میں کامیاب ہو گیا تو وہ تمام سوالوں میں کامیاب ہے اور اگر کوئی اس میں ناکام ہو گیا تو وہ تمام سوالوں میں ناکام ہے۔ زیر تبصرہ کتاب" کتاب الصلوۃ " تاریخ اسلامی کے معروف عالم دین محقق امام ابن قیم الجوزی﷫ کی تصنیف ہے ،جس کا اردو ترجمہ اور حواشی وتخریج کا کام محترم مولانا عبد الرشید حنیف صاحب نےکیا ہے۔مولف نے اس کتاب میں نماز کی اہمیت وفضیلت اور مقام ومرتبے کو قرآن و حدیث کی روشنی میں بیان کرتے ہوئے بے نماز کے انجام اور عقاب کو بیان کیا ہے۔اللہ تعالی مولف کی اس کاوش کو اپنی بارگاہ میں قبول فرمائے،اور تمام مسلمانوں کو نماز کا پابند بنائے۔آمین(راسخ)

    title-pages-gunahon-ki-nishaniyan-aur-un-k-nuqsanat
    ابن قیم الجوزیہ
    جبیر رضی  اللہ عنہ بیان کرتےہیں کہ جب قبرص فتح ہوا،اوروہاں کےباشندوں میں افراتفری اور کہرام مچ گیاتو وہ ایک دوسرے کےآگے رونےدھونےاورواویلاکرنےلگے،اس اثنامیں ،میں نےدیکھاکہ ابودردارضی اللہ عنہ اکیلے بیٹھےرورہےہیں،میں نے عرض کیاابودرداءکیاآج رونےکادن ہے؟جبکہ اللہ نےاسلام اورمسلمانوں کوجہاد کےذریعےعزت اوراکرام سےنوازا اوران پراپنافضل وکرم کیاہے۔ابودرداءنےجواب دیاجبیر!تمہارابراہو،تم نےنہیں دیکھاکہ کوئی مخلوق جب احکام الہی توڑ دیتی ہے،تواللہ تعالی کےسامنےاس کی کیاعزت رہ جاتی ہے،بھلاسوچوکہ کیاان لوگوں کو شان وشوکت حاصل نہیں تھی؟ کیاان کااپناکوئی بادشاہ نہیں تھا؟لیکن جب انہوں نےاحکام الہی کی نافرمانی کی اورانہیں ٹھکرادیا،تو ان کی کیادرگت بنی، تم یہ سب اپنی آنکھوں سےدیکھ رہےہو۔)حقیقت بھی یہی ہےکہ جب کو ئی قوم احکام الہی کو پس پشت ڈال دیتی ہےتو اس وقت اس کا عرج زوال میں بدل جاتاہے۔یہ کتابچہ اسی پہلوکی طرف ہماری توجہ مبذول کرواتاہے۔کہ وہ کو نسی وجوہات ہیں جن کی بناپرلوگ فرمودات ربانی کو ترک کردیتےہیں ۔تاکہ ان اسباب ووجوہات کا تدارک کیاجاسکے۔(ع۔ح)

    نوٹ:
    محدث فورم میں اس کتاب پر تبصرہ کرنے کے لیے یہاں کلک کریں
    yahood-o-nasara-tareekh-k-aaine-me
    ابن قیم الجوزیہ
    دنیا میں پائے جانے والے دو مذاہب یہود اور نصاریٰ نے متعدد اسباب کی بنا پر اسلام کے خلاف نفرت انگیز مہم کا آغاز کیا اس کے لیے جہاں انھوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اور ان کے اتباع و تابعین پر رقیق الزامات لگائے بلکہ انھوں نے اسلام کے خلاف جنگوں کا آغاز کر دیا۔ امام ابن قیم رحمۃ اللہ علیہ اپنے دور کے مجدد اور اپنے استاد امام ابن تیمیہ رحمۃ اللہ علیہ کے حقیقی ترجمان مانے جاتے ہیں۔ زیر نظر کتاب میں انھوں نے یہود و نصاریٰ کے تمام اعتراضات کے مسکت جوابات دئیے ہیں۔ انھوں نے شریعت اسلامیہ کے ان بنیادی مسائل پر تحقیقی انداز میں روشنی ڈالی ہے جن کو ہمارے دینی حلقے فراموش کر چکے ہیں۔ امام صاحب نے عیسائیوں اور یہودیوں کی کتب سماویہ میں باطل تحریفات کا پردہ ایسے دلنشیں انداز میں فاش کیا ہے کہ کتاب پڑھ کر جہاں اسلام کی حقانیت کا نقش دل پر جم جاتا ہے وہیں انھوں یہود و نصاری کی اسلام دشمنی اور دین یہود کی ضلالت پر مہر ثبت کر دی ہے۔(عین۔ م)

    نوٹ:
    محدث فورم میں اس کتاب پر تبصرہ کرنے کے لیے یہاں کلک کریں
    pages-from-tafseer-muawwazatain

    قرآن مجید کی آخری دو سورتوں سورۃ الناس اور سورۃ الفلق کو مشترکہ طور پر مُعَوِّذَتَیُن کہا جاتا ہے۔اگرچہ قرآن مجید کی یہ آخری دوسورتیں خود الگ الگ ہیں، اور مصحف میں الگ ناموں ہی سے لکھی ہوئی ہیں، لیکن ان کے درمیان باہم اتنا گہرا تعلق ہے، اور ان کے مضامین ایک دوسرے سے اتنی قریبی مناسبت رکھتے ہیں کہ ان کا ایک مشترک نام "مُعَوِّذَتَیُن" (پناہ مانگنے والی دو سورتیں) رکھا گیا ہے۔ یہ دو سورتیں سورہ فلق اور سورہ الناس خاص فضیلت وبرکت کی حامل ہیں۔بالخصوص یہ دو سورتیں جادو کا تریاق ہیں اور ان کی تلاوت سے انسان جادوزہریلے جانوروں کی کاٹ اور شیطان کے تسلط اور اس کی شرانگیزیوں سے محفوظ رہتا ہے۔ لہذا فرض نماز کے بعد صبح وشام کے اوقات میں اور نیند سے پہلے ان دو سورتوں سمیت سورہ اخلاص کی تلاوت کو ضروری معمول بنانا چاہیے۔سیدہ  عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ : رسول الله ﷺ جب بیمار ہوتے تو مُعَوِّذَات ( سورۃ اخلاص ، سورۃ فلق، سورۃ الناس ) پڑھ کر اپنے اوپر  پهونک مارتے، پھر جب (مرض الوفات میں) آپ کی تکلیف زیاده ہوگئی تو میں ان سورتوں کو پڑھ کر رسول الله ﷺ پر پڑھتی  تهی اور اپنے ہاتھوں کو برکت کی امید سے آپ کے جسد مبارک پر پھیرتی تھی۔ شیخ الاسلام امام ابن تیمیہ ﷫ اوران کے نامور شاگر امام ابن قیم ﷫ نے ا ن دونوں سورتوں  کی  الگ  الگ  تفسیر  اور زیر تبصرہ کتاب ’’تفسیر معوذتین  حاسدوں کا علاج‘‘  امام  ابن تیمیہ اور امام ابن قیم کی  سورۃ الفلق والناس کی تفسیر کا اردو ترجمہ ہے  قارئین کے  لیے اس کتاب کا مطالعہ کافی مفید ثابت ہوگا۔لہذا قارئین سے التماس ہے کہ وہ اس کتاب کو خوب غوروخوض سے پڑھیں اور ان سورتوں کے فیوض وبرکات سے ضرور مستفید ہوں۔فضائل وبرکات  کوبیان کیا ہے۔  (م۔ا)

اس سائٹ پر کوئی ایسی کتاب موجود نہیں جس کا ترجمہ ان صاحب نے کیا ہو۔
اس سائٹ پر کوئی ایسی کتاب موجود نہیں جس کی ترتیب و تخریج ان صاحب نے کی ہو۔
ان صاحب کی کوئی بھی کتاب نظرثانی کی گئی موجود نہیں۔

ای میل سبسکرپشن

محدث لائبریری کی اپ ڈیٹس بذریعہ ای میل وصول کرنے کے لئے ای میل درج کر کے سبسکرائب کے بٹن پر کلک کیجئے۔

 

ایڈوانس سرچ

رجسٹرڈ اراکین

آن لائن مہمان

محدث لائبریری پر اس وقت الحمدللہ 1398 مہمان آن لائن ہیں ، لیکن کوئی رکن آن لائن نہیں ہے۔

ایڈریس

       99-جے ماڈل ٹاؤن،
     نزد کلمہ چوک،
     لاہور، 54700 پاکستان

       0092-42-35866396، 35866476، 35839404

       0092-423-5836016، 5837311

      KitaboSunnat@gmail.com

      بنک تفصیلات کے لیے یہاں کلک کریں