عبد الوکیل ناصر

1 1 1 1 1 1 1 1 1 1
عبد الوکیل ناصر
    عبد الوکیل ناصر

    جناب امین احسن اصلاحی صاحب اور ان کے تلمیذ رشید غامدی صاحب نے انکار حدیث کا اپنے انداز سے علمی اور عقلی اسلوب اپنایا ہے۔ جو "روشن خیال" مسلمانوں میں مغربیت پسندانہ ذہن سے موافقت رکھنے کی وجہ سے خوب پذیرائی حاصل کر رہا ہے۔ ان حضرات نے امت مسلمہ کے کئی اجماعی مسائل سے روگردانی کی ہے جس کی قلعی کئی اہل علم حضرات نے کھولی ہے۔ زیر تبصرہ کتاب بھی اسی سلسلے کی کڑی ہے جس میں حدیث و سنت کے درمیان فرق کے دعوٰی کی حقیقت کو علمی اصول و مصادر سے واضح کیا ہے۔ خالص علمی و اصولی ابحاث پر  مشتمل منکرین حدیث کی موشگافیوں کو آشکارہ کرتی شاندار تصنیف ہے۔

     

    عبد الوکیل ناصر

    عداوتوں میں سے بد ترین عداوت وہ ہوتی ہے جو دوستی کے پیرائے میں اختیار کی جائے اور انسان کو پتہ ہی نہ چل پائے کہ اس لباس خلعت میں ملبوس شخصیت اس کی دوست نہیں بلکہ اس کی دشمن ہے۔انسان اپنے کھلے دشمن سے نقصان اٹھا سکتا ہے ،مگر دھوکہ نہیں کھا سکتا ہے۔لیکن دوستی کے لباس میں ملبوس دشمن سے انسان نقصان بھی اٹھاتا ہے اور دھوکہ بھی کھاتا ہے۔اسی سلسلے کی ایک کڑی بڑے میاں تو بڑے میاں چھوٹے میاں سبحان اللہ کا مصداق بننے والے  حافظ ابو خالد ابراہیم المدنی ہیں،جو اپنے خود ساختہ شہوت پرستانہ نظریات کے لئے بہت سی احادیث نبویہ کو تختہ ستم بنا بیٹھے ہیں۔صرف یہی نہیں بلکہ قرآن مجید کو معیار اول قرار دیتے دیتے اسے اپنا ہتھیار بے بدل بھی بنا بیٹھے ہیں کہ جب چاہا جیسے چاہا اسے توڑ مروڑ کر مغربی تہذیب کا لبادہ اڑھا دیا۔زیر تبصرہ کتاب " امراۃ القرآن کا تحقیقی جائزہ " فضیلۃ الشیخ مولانا عبد الوکیل ناصر ﷾کی کاوش ہے ،جس میں انہوں نے نام نہاد سکالر  ابو خالد المدنی کی انکار حدیث پر مبنی  کتاب " امراۃ القرآن "کا علمی وتحقیقی رد کیا ہے ۔ابو خالد مدنی نے اپنی کتاب میں پردے کو جاہلانہ رسم قرار دیتے ہوئے اسے ملاؤں کی رسم قرار دیا ہے اور پردے سے متعلق احادیث نبویہ کا انکار کر دیا ہے۔چنانچہ فضیلۃ الشیخ مولانا عبد الوکیل ناصر ﷾نے اس کی اس بدنام زمانہ کتاب کا ایک علمی وتحقیقی جواب دیا ہے،اور مستند دلائل کے ذریعے اس کا منہ بند کر دیا ہے۔اللہ تعالی فضیلۃ الشیخ مولانا عبد الوکیل ناصر﷾ کی اس محنت کو قبول فرمائے اور اس کتاب کو اصلاح امت کا ذریعہ بنائے۔آمین(راسخ)

     

    عبد الوکیل ناصر
    اسلام معتدل نظام کا حامل دین ہے ،جوانسانوں کے مسائل واحکام     سے بخوبی آگاہ اور ان کے حل کا بہتر حل پیش کرتاہے۔اسلام میں معاشی وسائل کا ذمہ دار مرد ہے اور عورت کا نظام حیات گھر کی چاردیواری میں مقید ہے او رکتاب وسنت کی تعلیمات عورت کو پردہ اورچادر چاردیواری تک محدود رہنے کی تاکید کرتی ہیں ۔عورت جس قدر مردوں کے اختلاط،بے پردگی اور مخلوط محافل و مجالس سے اجتناب کرے گی ،بارگاہ ایزدی میں یہ اتنی ہی مقبول و معتبر ٹھہرے گی اور اسی قدر یہ اپنی عزت وناموس کو محفوظ بنالے گی ۔الغرض جسمانی ساخت اور کئی دیگر عوامل کی وجہ سے مرداور عورت کی ذمہ داریاں اورباہمی حقوق وفرائض مختلف ہیں ،جنہیں مبنی بر حق ماننا لازم ہے ،لیکن جدت پسندی اور مغربی افکار سے متاثر مستشرقین کا روشن خیال طبقہ صنف نازک کو مردوں کی شمع محفل اور بنت حوا کو بازار کی رونق اورمردوں کی ہوس کانشانہ بنانے پر تلاہے اور سادہ لوح عوام ان کے دام فریب میں آکر عورتوں کو جدت پسندی اور روشنی خیالی کی چکا چوند میں ان کی عصمت کو پامال کرنے اور انہیں اصل دین سے دور کرنے پر بخوشی آمادہ ہیں ،جب یہ طرز عمل مذہب کی موت اور معاشرے کی ہلاکت کاباعث ہے ،زیر نظر کتاب مرد وعورت کی ذمہ داریوں اوران کے حقوق وفرائض کےبنیادی فرق کی آگاہی کے متعلق ایک اچھی تصنیف ہے ۔(ف۔ر)
    عبد الوکیل ناصر

    دور حاضر کے فتنوں میں ایک بڑا فتنہ منکرین حدیث کا ہے۔ مغرب کی چکا چوند سے متاثر ، وضع قطع میں اسلامی شعائر سے عاری، نام نہاد روشن خیالی کے سپورٹر، دینی اصولوں میں جدت و ارتقاء کے نام پر تحریف کے قائل و فاعل ، دینی احکام کی عملی تعبیر کو انتہا پسندی اور  دقیانوسیت قرار دینے والے، قرآن مجید کی آڑ میں احادیث رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی تاویل و تحریف کے ساتھ استہزاء کرنے والے اس گروہ کے دور حاضر کے لیڈر جناب جاوید احمد غامدی صاحب ہیں۔ جو میڈیا کو ہتھیار کے طور پر استعمال کرتے ہوئے اپنے باطل افکار و نظریات کو خوب پھیلا رہے ہیں۔ جن میں معتزلہ کی طرح عقل انسانی کے بجائے فطرت انسانی کو کلی اختیارات عطا کرنا، دین اسلام کی تفہیم و تشریح میں انسانی فطرت و عربی محاورات یا دور جاہلیت کے اشعار کو بنیادی حیثیت دینا اور احادیث کو روایات کہہ کر ثانوی یا ثالثی حیثیت دے کر اور بسا اوقات قرآن سے متصادم کا لیبل چسپاں کر کے اسے پس پشت ڈال دینا، مسئلہ تحلیل و تحریم کو شریعت سے خارج  کرنا، علاقائی رسومات کو تواتر عملی کا جامہ پہنا کر اسے دین بنا ڈالنا، قرآن کے نام پر مغرب کے تمام ملحدانہ افکار و نظریات کو امپورٹ کرنا ، سنت کی جدید تعریف کر کے اصلاحات محدثین کو نشانہ ستم بنانا، قرات سبعہ کو فتنہ عجم بتانا وغیرہ وغیرہ۔۔۔ ان کے باطل نظریات کا احاطہ تو اس کتابچہ میں ناممکن تھا۔ اس کیلئے علیحدہ کتب موجود ہیں۔ اس کتاب میں تو ان کے انہی باطل افکار و نظریات کی ایک جھلک ہی پیش کی گئی ہے۔ غامدی افکار و نظریات کے مختصر تنقیدی جائزے پر مشتمل  ایک اچھی کاوش ہے۔

     

    عبد الوکیل ناصر

    زیر مطالعہ چند صفحات پر محیط رسالہ میں مسئلہ رؤیت ہلال پر قیمتی آراء کا اظہار کرتے ہوئے احادیث و آثار کی روشنی میں ثابت کیا گیا ہے کہ شریعت اسلامیہ میں اختلاف مطالع کا اعتبار کیا گیا ہے اور لوگوں کو اپنے مطلع کے مطابق احکامات الٰہیہ کا پابند کیا گیا ہےمولانا عبدالوکیل ناصر نے ثابت کیا ہے کہ موجودہ دور کے بہت سے ’دانشور‘ حضرات جو یہ نعرہ مستانہ بلند کرتے ہوئے نظر آتے ہیں کہ ساری دنیا کو ایک جگہ کی رؤیت کا پابند کر دیا جائے، کا مؤقف کسی طور بھی قابل قبول نہیں ہے۔

     

     

    عبد الوکیل ناصر

    عصر حاضر کی بے شمار بدعات میں سےایک بدعت یہ بھی ہے کہ ہر سال 12 ربیع الاول کے روز حضرت محمدﷺ کی پیدائش کا جشن منایا جاتا ہے اور اسے عید میلاد النبیﷺ کا نام دیا جاتا ہے۔ حالانکہ امر واقعہ یہ ہے کہ نبی مکرم ﷺ پر دین کی تکمیل ہو چکی اور آپ ﷺ کی وفات کے بعد دین میں کسی بھی قسم کا اضافہ بدعت کے زمرے میں آئے گا۔ ’میلاد النبیﷺ‘ کے موضوع پر ڈاکٹر محمد طاہر القادری صاحب نے ایک ضخیم کتاب لکھی اور دور از کار تاویلات کا سہار لیتے ہوئے  میلاد النبی کا اثبات کیا۔ زیر نظر کتاب میں فاضل مؤلف عبدالوکیل عبدالناصر نے ڈاکٹر موصوف کی کتاب کا تحقیقی تجزیہ پیش کرتے ہوئے کتاب میں بیان کردہ علمی خیانتوں اور ناقابل یقین تضادات کا پردہ چاک کیا ہے۔


     

    عبد الوکیل ناصر

    زیر نظر مختصر کتابچہ فاضل مصنف نے دین اسلام کی عورتوں کے حوالے سے قدردانی کو مدنظر رکھتے ہوئے مرتب کیا گیا ہے۔ جس میں انتہائی اختصار سے کام لیتے ہوئے طہارت سے متعلقہ خواتین کے چند مخصوص مسائل کا جائزہ لیا گیا ہے۔ جو کہ عوامی محفل میں اشارۃ و کنایۃ اور شاذ و نادر ہی بیان کئے جاتے ہیں۔ حالانکہ ان مسائل کا جاننا انتہائی اشد ضروری ہے تاکہ طہارت و پاکیزگی کی تکمیل ہو سکے، کیونکہ طہارت ہی عبادت کی کنجی ہے۔

     

     

     

اس سائٹ پر کوئی ایسی کتاب موجود نہیں جس کا ترجمہ ان صاحب نے کیا ہو۔
اس سائٹ پر کوئی ایسی کتاب موجود نہیں جس کی ترتیب و تخریج ان صاحب نے کی ہو۔
ان صاحب کی کوئی بھی کتاب نظرثانی کی گئی موجود نہیں۔

ای میل سبسکرپشن

محدث لائبریری کی اپ ڈیٹس بذریعہ ای میل وصول کرنے کے لئے ای میل درج کر کے سبسکرائب کے بٹن پر کلک کیجئے۔

 

ایڈوانس سرچ

رجسٹرڈ اراکین

آن لائن مہمان

محدث لائبریری پر اس وقت الحمدللہ 2203 مہمان آن لائن ہیں ، لیکن کوئی رکن آن لائن نہیں ہے۔

ایڈریس

       99--جے ماڈل ٹاؤن،
     نزد کلمہ چوک،
     لاہور، 54700 پاکستان

       0092-42-35866396، 35866476، 35839404

       0092-423-5836016، 5837311

       library@mohaddis.com

      بنک تفصیلات کے لیے یہاں کلک کریں

 :