عبد الرحمن کیلانی

1 1 1 1 1 1 1 1 1 1
عبد الرحمن کیلانی
    title-page-ainaeparwaiziathqcomplete
    عبد الرحمن کیلانی

    اسلام کے ہر دور میں مسلمانوں میں یہ بات مسلم رہی ہے کہ حدیث نبوی قرآن کریم کی وہ تشریح اور تفسیر ہے جو صاحب ِقرآن صلی اللہ علیہ وسلم سے صادر ہوئی ہے۔ قرآنی اصول واحکام کی تعمیل میں جاری ہونے والے آپ کے اقوال و افعال اور تقریرات کو حدیث سے تعبیر کیا جاتا ہے۔ چنانچہ قرآن کریم ہماری راہنمائی اس طرف کرتا ہے کہ قرآنی اصول و احکام کی تفاصیل و جزئیات کا تعین رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے منصب ِرسالت میں شامل تھا اور قرآن و حدیث کا مجموعہ ہی اسلام کہلاتا ہے جو آپ نے امت کے سامنے پیش فرمایا ہے، لہٰذا قرآن کریم کی طرح حدیث ِنبوی بھی شرعاً حجت ہے جس سے آج تک کسی مسلمان نے انکار نہیں کیا۔ انکارِ حدیث کے فتنہ نے دوسری صدی میں اس وقت جنم لیا جب غیر اسلامی افکار سے متاثر لوگوں نے اسلامی معاشرہ میں قدم رکھا اور غیر مسلموں سے مستعار بیج کو اسلامی سرزمین میں کاشت کرنے کی کوشش کی۔ اس وقت فتنہ انکار ِ حدیث کے سرغنہ کے طور پر جو دو فریق سامنے آئے وہ خوارج اور معتزلہ تھے۔ خوارج جو اپنے غالی افکار ونظریات کو اہل اسلام میں پھیلانے کا عزم کئے ہوئے تھے، حدیث ِنبوی کو اپنے راستے کا پتھر سمجھتے ہوئے اس سے فرار کی راہ تلاش کرتے تھے۔ دوسرے معتزلہ تھے جو اسلامی مسلمات کے ردّوقبول کے لئے اپنی ناقص عقل کو ایک معیار اور کسوٹی سمجھ بیٹھے تھے، لہٰذا انکارِحد رجم، انکارِ عذابِ قبر اور انکارِ سحر جیسے عقائد و نظریات اس عقل پرستی کا ہی نتیجہ ہیں جو انکارِ حدیث کا سبب بنتی ہے۔دور ِجدید میں برصغیر پاک و ہند میں فتنہ انکارِ حدیث نے خوب انتشارپیدا کیا اور اسلامی حکومت ناپید ہونے کی وجہ سے جس کے دل میں حدیث ِ نبوی کے خلاف جو کچھ آیا اس نے بے خوف وخطر کھل کر اس کا اظہار کیا۔ دین کے ان نادان دوستوں نے اسلامی نظام کے ایک بازو کو کاٹ پھینکنے کے لئے ایڑی چوٹی کا زور لگایا اور لگا رہے ہیں۔ اس فتنے کی آبیاری کرنے والے بہت سے حضرات ہیں جن میں سے مولوی چراغ علی، سرسیداحمدخان، عبداللہ چکڑالوی، حشمت علی لاہوری، رفیع الدین ملتانی، احمددین امرتسری اور مسٹرغلام احمدپرویز وغیرہ نمایاں ہیں۔ ان میں آخر الذکر شخص نے فتنہٴ انکار ِحدیث کی نشرواشاعت میں اہم کردار ادا کیا، کیونکہ انہیں اس فتنہ کے اکابر حضرات کی طرف سے تیارشدہ میدان دستیاب تھا جس میں صرف کسی غیر محتاط قلم کی باگیں ڈھیلی چھوڑنے کی ضرورت تھی۔ چنانچہ اس کام کا بیڑہ مسٹر غلام احمدپرویز نے اٹھا لیا جو کہ فتنوں کی آبیاری میں مہارتِ تامہ رکھتے تھے۔ زیر تبصرہ کتاب ’آئینہ پرویزیت‘ میں مدلل طریقے سے فتنہٴ انکارِ حدیث کی سرکوبی کی گئی ہے، اور مبرہن انداز میں پرویزی اعتراضات کے جوابات پیش کئے گئے ہیں-

    pages-from-aina-parveziyat-motazila-se-taloo-e-islam-tak-part-1
    عبد الرحمن کیلانی

    انکارِ حدیث کے فتنہ نے دوسری صدی میں اس وقت جنم لیا جب غیر اسلامی افکار سے متاثر لوگوں نے اسلامی معاشرہ میں قدم رکھا اور غیر مسلموں سے مستعار بیج کو اسلامی سرزمین میں کاشت کرنے کی کوشش کی۔ اس وقت فتنہ انکار ِ حدیث کے سرغنہ کے طور پر جو دو فریق سامنے آئے وہ خوارج اور معتزلہ تھے۔ خوارج جو اپنے غالی افکار ونظریات کو اہل اسلام میں پھیلانے کا عزم کئے ہوئے تھے، حدیث ِنبوی کو اپنے راستے کا پتھر سمجھتے ہوئے اس سے فرار کی راہ تلاش کرتے تھے۔ دوسرے معتزلہ تھے جو اسلامی مسلمات کے ردّوقبول کے لئے اپنی ناقص عقل کو ایک معیار اور کسوٹی سمجھ بیٹھے تھے، لہٰذا انکارِحد رجم، انکارِ عذابِ قبر اور انکارِ سحر جیسے عقائد و نظریات اس عقل پرستی کا ہی نتیجہ ہیں جو انکارِ حدیث کا سبب بنتی ہے۔ دور ِجدید میں فتنہ انکارِ حدیث نے خوب انتشار پیدا کیا اور اسلامی حکومت ناپید ہونے کی وجہ سے جس کے دل میں حدیث ِ نبوی کے خلاف جو کچھ آیا اس نے بے خوف وخطر کھل کر اس کا اظہار کیا۔ دین کے ان نادان دوستوں نے اسلامی نظام کے ایک بازو کو کاٹ پھینکنے کے لئے ایڑی چوٹی کا زور لگایا اور لگا رہے ہیں۔یورپ کے مستشرقین کی نقالی میں برصغیر پاک وہند میں ماضی قریب میں بہت سے ایسے متجددین پیدا ہوئے جو حدیث وسنت کی تاریخیت ،حفاظت اور اس کی حجیت کو مشکوک اور مشتبہ قرار دے کر اس سے انحراف کی راہ نکالنے میں ہمہ تن گوش رہے۔ اس فتنے کی آبیاری کرنے والے بہت سے حضرات ہیں جن میں سے مولوی چراغ علی، سرسیداحمدخان، عبداللہ چکڑالوی، حشمت علی لاہوری، رفیع الدین ملتانی، احمددین امرتسری اور مسٹرغلام احمدپرویز، جاوید غامدی وغیرہ نمایاں ہیں۔ غلام احمد پرویز پاکستان میں فتنہ انکار حدیث کے سرغنہ اور سرخیل تھے۔ان کی ساری زندگی حدیث رسول ﷺ کی صحت وثبوت میں تشکیک ابھارنے میں بسر ہوئی اور لطف کی بات یہ ہے کہ وہ تردید حدیث کا کام قرآن حکیم کے حقائق ومعارف اجاگر کرتے ہوئے سرانجام دیتے تھے۔ ہردور میں     فتنوں کی سرکوبی میں علمائے حق کی خدمات نمایاں نظر آتی ہیں ۔برصغیر پاک وہند میں فتنہ انکار کے رد میں جید علماء کرام بالخصوص اہل حدیث علماء کی کاوش ناقابل فراموش ہیں۔ زیر تبصرہ کتاب’’آئینہ پرویزیت‘‘ کتاب وسنت ڈاٹ کام کے مدیر جناب ڈاکٹر حافظ انس نضر﷾ کے نانا جان مولانا عبدالرحمٰن کیلانی ﷫ کی پرویزیت کے رد میں لاجواب تصنیف ہے۔ مولانا کیلانی مرحوم نے اپنے خالص علمی، معلومات اور قدرے فلسفیانہ رنگ میں یہ کتاب تحریر کی ہے۔ اس ضخیم کتاب میں پرویزیت کا جامع انداز میں پوسٹ مارٹم کیا گیا ہے۔ اور مدلل طریقے سے فتنہٴ انکارِ حدیث کی سرکوبی کی ہے، اور مبرہن انداز میں پرویزی اعتراضات کے جوابات پیش کئے گئے ہیں۔ حصہ اَول: معتزلہ سے طلوعِ اسلام تک...حصہ دوم :طلوع اسلام کے مخصوص نظریات... حصہ سوم : قرآنی مسائل...حصہ چہارم : دوامِ حدیث...حصہ پنجم: دفاعِ حدیث...حصہ ششم :طلوعِ اسلام کا اسلام۔ یہ کتاب اپنے موضوع میں ایک انسائیکلوپیڈیا کی حیثیت رکھتی ہے۔ یہ کتاب پہلی مرتبہ 1987ء میں چھ الگ الگ حصوں میں شائع ہوئی ۔بعدازاں اس کویکجا کر کے شائع کیا گیا۔بعد والا ایڈیشن ویب سائٹ پر موجود ہے۔ زیرتبصرہ پہلے ایڈیشن کوبھی محفوظ کر نےکی خاطر پبلش کردیاگیاہے۔ مصنف کتاب مولانا عبد الرحمٰن کیلانی﷫ کی شخصیت محتاجِ تعارف نہیں، انکی علمی و تحقیقی کتب ہی ان کا مکمل تعارف ہیں۔ موصوف جس موضوع پر بھی قلم اٹھاتے ہیں اس کا حق ادا کر دیتے ہیں، مولانا كيلانى اسلامى اور دينى ادب كے پختہ كارقلم كار تھے۔ کتب کے علاوہ ان کے بیسیوں علمی وتحقیقی مقالات ملک کے معروف علمی رسائل وجرائد(ماہنامہ محدث، ترجمان الحدیث، سہ ماہی منہاج لاہور وغیرہ) میں شائع ہوئے ان كى بيشتر تاليفات اہل علم وبصيرت سے خراج تحسين پا چکی ہیں۔ اللہ تعالیٰ مولانا مرحوم کے درجات بلند فرمائے اور ا ن کی مرقد پر اپنی رحمتوں کا نزول فرمائے۔ (آمین)(م۔ا)

    title-pages-ahkam-e-tijarat-aur-lain-dain-k-masayal
    عبد الرحمن کیلانی
    اسلامی تعلیمات میں حلال و حرام کے مابین تمیز و تفریق کو بہت زیادہ اجاگر کیا گیا ہے ۔تجارت اور لین دین کے باب میں بھی اس پر بہت زور دیا گیا ہے کہ حرام طریقوں سے بچا جائے او رکسب معاش کے حلال ذرائع اختیار کیے جائیں۔فی زمانہ معاشی مسائل کے حوالے سے بہت زیادہ غفلت برتی جارہی ہے اور ایسی بے شمار باتیں مسلمان معاشروں میں رواج پا گئی ہیں جو شرعاً نا جائز ہیں۔زیر نظر کتاب میں کسب حلال ،نا جائز ذرائع آمدنی ،تجارت کے احکام و مسائل،تجارت کی جائز و  ناجائز صورتیں اور لین دین کے احکام کو کتاب وسنت کی روشنی میں بیان کیا گیا ہے ۔اسی طرح بنک کا سود،بچت اور سرمایہ  کاری کا اسلامی نظر ،بینکوں کے شراکتی کھاتوں کی حقیقت ،بلا سود بینکاری،بیمہ کی شرعی حیثیت اور اس کا متبادل حل ،مالک اور مزدور کے مسائل،مسئلہ مزارعت میں جواز اور عدم جواز کی صورتیں،زکوۃ اور ٹیکس میں فرق اور انعامی بانڈز وغیرہ مسائل پر بھی محققانہ بحث کی گئی ہے ۔یہ امر لائق مسرت ہے کہ مفتی جماعت مولانا مبشر احمد ربانی نے کتاب میں مذکور احادیث و آثار کی تحقیق و تخریج او راس پر نظر ثانی کی ہے ۔لہذا بلا مبالغہ کہا جا سکتا ہے کہ معاشی مسائل کے حوالے سے یہ ایک جامع کتاب ہے ،جس کا مطالعہ ہر مسلمان کو لازماً کرنا چاہیے تاکہ وہ حرام سے بچ کر حلال ذرائع اختیار کر سکے اور شرعی احکام سے کما حقہ عہدہ بر آں ہو سکے۔

    title-page-ahkam-e-satr-o-hijaab-copy
    عبد الرحمن کیلانی
    علامہ ناصر الدین البانی جو کہ ایک بلند پایہ علمی شخصیت اور محدث ہیں،نے کچھ عرصہ قبل خواتین کے چہرے کے پردے کے حوالے سے ''الحجاب المرأۃ المسلۃ'' کے عنوان سے ایک رسالہ تحریر کیا جس میں بہت سارے دلائل کے ذریعے یہ ثابت کرنے کی کوشش کی گئی ہے کہ چہرہ اور ہاتھوں کا پردہ مستحب ضرور ہے مگر واجب نہیں-زیر نظر کتاب میں مولانا عبدالرحمن کیلانی نے موصوف کے تمام دلائل کا کتاب وسنت کی براہین کی مدد سے تفصیلی رد پیش کیا ہے-كتاب کے شروع میں تہذیب  حاضر کا پس منظر بیان کرتے ہوئے اس کے اسباب اور خطرناك نتائج پرروشنی ڈالی گئی ہے-اس کے بعد احکام سترو حجاب سے متعلق چند ضروری وضاحتیں پیش کی گئی ہیں جس میں مرد و عورت کے سترکی حدود کی وضاحت کرتے ہوئے پردے میں عورتوں کے لیے رعایت کے پہلو کو بھی زیر بحث لایا گیا ہے-پردے اورحجاب کے آغاز پربحث کرتے ہوئے احکام حجاب کی رخصت کس کس سے ہے ؟ پر آراء کا اظہار کیا گیا ہے-اس کے بعد چہرے اور ہاتھوں کے قائلین اور غیر قائلین کے دلائل کا تفصیلی جائزہ لیتے ہوئے راجح مؤقف کی وضاحت کی گئی ہے-
    Title Page---Islam Main Dolat K Masarif
    عبد الرحمن کیلانی
    مصارف دولت کے مضمون پر اس کتاب میں موصوف نے تین ابواب پر بحث کی ہے اس میں مصنف نے بے شمار دلائل کو کتاب و سنت کی روشنی میں بیان کرتے ہوئے پہلے باب میں شرعی احکام کی حکمت بتائی ہے حالات کے لحاظ سے مراعات کی تقسیم , کم استعداد والوں کے لیے مراعات اور زیادہ استعداد والوں کے لیے ترغیبات کی وضاحت فرماتے ہوئے واجبی اور اختیاری صدقات کا بلند درجہ بھی بتایا ہے جبکہ دوسرے باب میں عورتوں کا حق مہر اور اسلام میں دولت فاضلہ یا اکتناز کے حق میں دلائل دیتے ہوئے ارکان اسلام کی بجا آوری کی بھی وضاحت فرمائی ہے اور اس طرح خلفائے راشدین اور فاضلہ دولت پر بحث کرکے امہات المومنین کا کردار اور رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ارشادات کی بھی نشاندہی کی ہے تیسرے باب میں جاگیرداری اور مزارعت کا ذکر کیا گیا ہے جس میں بنجر زمین کی آبادکاری , جاگیریں بطور عطایا , آبادکاری کے اصول , ناجائز اور غیر آباد جاگیروں کی واپسی , زمین سے استفادہ کی مختلف صورتیں اور اسلام نظام معیشت میں سادگی اور کفالت شعاری کا مقام بتاتے ہوئے مزارعت کے قائلین اور منکرین کے دلائل کا موازنہ بھی کیا گیا ہے۔
    title-pages-islam-me-zabita-e-tijarat-copy
    عبد الرحمن کیلانی

    اسلام میں جس طرح عبادات وفرائض میں زور دیاگیا ہے ۔ اسی طرح اس دین نے کسبِ حلال اورطلب معاش کو بھی اہمیت دی ہے ۔ لہذاہرمسلمان کے لیے اپنے دنیوی واخروی تمام معاملات میں شرعی احکام اور دینی تعلیمات کی پابندی از بس ضروری ہے کیونکہ اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے : َیا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا ادْخُلُوا فِي السِّلْمِ كَافَّةً وَلَا تَتَّبِعُوا خُطُوَاتِ الشَّيْطَانِ إِنَّهُ لَكُمْ عَدُوٌّ مُبِينٌ(سورۃ البقرۃ:208)’’اے اہل ایمان اسلام میں پورے پورے داخل ہوجاؤ اور شیطان کے قدموں کے پیچھے مت چلو ،یقیناً وہ تمہارا کھلا دشمن ہے ‘‘۔کسی مسلمان کے لیے یہ جائز نہیں کہ وہ عبادات میں تو کتاب وسنت پر عمل پیرا ہو او رمعاملات او رمعاشرتی مسائل میں اپنی من مانی کرے او راپنے آپ کوشرعی پابندیوں سے آزاد تصور کرے۔ ہمارے دین کی وسعت وجامعیت ہےکہ اس میں ہر طرح کے تعبدی امور اور کاروباری معاملات ومسائل کا مکمل بیان موجود ہے۔ ان میں معاشی زندگی کے مسائل او ران کے حل کو خصوصی اہمیت کے ساتھ بیان کیاگیا ہے ہر مسلمان بہ آسانی انہیں سمجھ کر ان پر عمل پیرا ہوسکتاہے ۔نبی کریم ﷺ نے تجارت کو بطور پیشے کے اپنایا او رآپ کے اکثر وبیشتر صحابہ کرام کا محبوب مشغلہ تجارت تھا۔ امت مسلمہ کے لیے حضو ر ﷺ کی حیات طیبہ میں اسوہ حسنہ موجود ہے اورآپ کے بعد آپ کے صحابہ کرام کی پاک زندگیاں ہمارے لیے معیار حق ہیں۔ یہ بات بلاخوفِ تردید کہی جاسکتی ہے کہ اکل حلال اور کسبِ معاش کاعمل آج کے دور میں بھی تجارت کےذریعے پوراکیا جاسکتاہے۔ زیر تبصرہ کتاب’’اسلام میں ضابطۂ تجارت ‘‘ مفسر قرآن مولانا عبدالرحمٰن کیلانی ﷫ کی مرتب شدہ ہے ۔محترم کیلانی مرحوم نے قرآن وحدیث کی روشنی میں تجارتی مسائل اور ان کے قواعد وضوابط کو اس احسن انداز میں مرتب کیا ہےکہ خواص کےساتھ عوام بھی اس سے استفادہ کرسکتے ہیں ۔بیان شریں سہل اور جامع ہے او ردورِ حاضر میں جو معاشی مسائل پیدا ہوگئے ان کی لسٹ اگرچہ کافی طویل ہے تاہم اس کتاب کے مطالعہ سے ایسے رہنما اصول دستیاب ہوسکتےہیں جن کےذریعے ان مسائل کوآسانی کے ساتھ حل کیا جاسکتا ہے۔اس کتاب میں کاروباری اور لین دین کےسلسلے جو احکام اوراصول بیان کیے گئے ہیں وہ کثیر الوقوع اور عموماً ہر فرد بشر کوشب وروز پیش آتے رہتےہیں۔کتاب کے شروع میں ایسے امور کاتذکرہ کیا ہے جن کوپڑھ خریدوفروخت کے احکام کی تعمیل کےلیے بھی انسان کےاندر قدرتی استعداد اور سازگاری پیدا ہوسکتی ہے۔ اللہ تعالیٰ مؤلف کوجزائےخیر سےنوازے اور ان کو جنت الفردوس میں اعلی وارفع مقام عطافرمائےاو ر اس کتا ب کوامت مسلمہ کےلیےنفع بخش بنائے (آمین) (م۔ا)

    Title Page---Islam ka Nizaam e Falkiaat -- Ashams Wal Qamar Bihusbaan
    عبد الرحمن کیلانی
    آج کل دنیا کے اکثر ممالک، حتٰی  کہ  بیشتر مسلم ممالک میں بھی  عیسوی تقویم رائج ہےحالانکہ حقیقی اور قدیمی تقویم قمری ہے نہ کہ شمسی-عالم اسلام کی مشہور و معروف شخصیت مولانا عبدالرحمن کیلانی نے اس کتاب میں ہجری اور عیسوی تقویم کے بکھیڑوں کو سلجھاتے ہوئے محققانہ اور عالمانہ انداز میں اسلام کےنظام فلکیات پر اپنی قیمتی آراء کا اظہار کیا ہے- کتاب کے شروع میں ان اصول وقواعد پر روشنی ڈالی گئی ہے جو قمری تقویم کی بنیاد ہیں-سیاروں کے انسانی زندگی پر اثرات کو تسلیم کیا جاتا رہاہے ، اسلام نے علم ہیئت میں غور وفکر کرنے کی ترغیب کے ساتھ ساتھ  سیاروں کے اثرات کی کلیتاً نفی کی اور اسے واضح شرک قرار دیا ہے، لہذا ایسے اثرات کی دلائل کی مدد سے تردید کی گئی ہے-علم ہیئت کے موجودہ نظریات میں کچھ ایسے ہیں جو اسلامی تعلیمات کے مطابق ہیں ، کچھ متعارض ہیں اور کچھ متصادم ہیں-مولانا  نے ایسے امور کا شرعی نقطہ نظر سے تقابل پیش کرتے ہوئے راہ صواب کی جانب راہنمائی کی ہے-کتاب کے دوسرے حصے میں کئی ایسے طریقے بیان کیے گئےہیں جن میں ہجری تقویم میں بذات خود دن معلوم کیا جاسکتا ہے-اس کے بعد ہجری تقویم اور عیسوی تقویم میں مطابقت کے مسئلے کو سلجھانے کی کوشش کی گئی ہے-کتاب کے آخر میں مسلمانوں کی تاریخ سے متعلق اہم واقعات کےہجری اور عیسوی سنین بقید ماہ و سال درج  کیے گئے ہیں-

    aikmajliskiteentalaqkishareehaisiat2-copy
    عبد الرحمن کیلانی
    ایک مجلس کی تین طلاقوں کا مسئلہ ایک معرکۃ الآراء مسئلہ ہے –احناف  کے نزدیک مجلس واحد میں تين مرتبه کہا گیا  لفظ طلاق موثر سمجھا جاتا ہے جس کے بعد زوجین کے درمیان مستقل علیحدگی کرا دی جاتی ہے اور پھر اس کے بعد ان کو اکٹھا ہونے کے لیے ایک حل دیا جاتا ہے جس کا نام حلالہ ہے-ایک شرعی چیز کو غیر شرعی چیز کے ذریعے حلال کرنے کا ایک غیر شرعی اور ناجائز طریقہ ہے جس کو اب احناف بھی تسلیم کرنے سے عاری ہیں اور ایسے مسائل کے لیے پھر ایسے لوگوں کی طرف رجو ع کیا جاتا ہے جو اس غیر شرعی امر کو حرام سمجھتے ہیں-مصنف نے اس کتاب میں طلاق کے حوالے سے تمام مسائل کو بالدلائل واضح کر دیا ہے جس پر کوئی عالم بھی قدغن نہیں لگا سکتا-جس میں رسول اللہﷺکے دور میں طلاق کی صورت،مجلس واحد میںتین طلاقوں کا حکم، بعد میں صحابہ کرام کا عمل اور حضرت عمر کے بارے میں بیان کیے جانے والے مختلف واقعات کی اصلیت کی نشاندہی اور مجلس واحد کی تین طلاقوں کے موثر ہونے کے دلائل کی وضاحت کرتے ہوئے قرآن وسنت کی روشنی میں ان کا جواب تحریر کیا گیا ہے-تطلیق ثلاثہ کے بارے میں پائے جانے والے چار گروہوں کا تذکرہ،انکار اور تسلیم کرنے والے علماء کے دلائل کا تذکرہ،تطلیق ثلاثہ سے متعلق  ایک سوال کی وضاحت،مسائل میں باہمی اختلاف کی شدت کی وجہ تقلید کو بھی بڑی وضاحت سے بیان کیا گیا ہے-

    taseer-ul-quran-urdu-copy
    عبد الرحمن کیلانی

    قرآن  کریم  ہی وہ واحد کتاب  ہے جو تاقیامت انسانیت کے لیے ذریعہ ہدایت ہے ۔ اسی  پر  عمل  پیرا  ہو کر  دنیا  میں سربلند ی  اور آخرت میں نجات  کا  حصول ممکن ہے  لہذا ضروری  ہے  اس کے معانی ومفاہیم  کوسمجھا جائے ،اس تفہیم  کے لیے  درس وتدریس  کا اہتمام کیا  جائے  اوراس کی تعلیم  کے مراکز  قائم کئے جائیں۔ قرٖآن فہمی  کے لیے  ترجمہ قرآن اساس  کی حیثیت  رکھتا ہے ۔آج  دنیاکی  کم وبیش 103  زبانوں میں  قرآن  کریم کے  مکمل تراجم شائع ہوچکے  ہیں۔جن میں سے  ایک  اہم زبان اردو بھی ہے  ۔اردو زبان میں اولین ترجمہ  کرنے والے شاہ  ولی  اللہ محدث دہلوی ﷫ کے دو  فرزند  شاہ  رفیع الدین ﷫اور شاہ  عبد القادر﷫ ہیں  اور یہ سلسلہ تاحال جاری وساری  ہے ۔زیرنظر  ترجمہ قرآن  مفسر قرآن مولانا عبدالرحمن کیلانی ﷫ کا  ہے  ۔ اور اس میں  حاشیہ وفوائد کا کام  مولانا کیلانی   مرحوم  کے  بیٹے   حافظ عتیق الرحمن کیلانی ﷾ نے انجام دیا ہے جوکہ  درج  ذیل خوبیوں کا حامل ہے ۔1۔تقریبا 2000 مقامات پر صحیح حدیث یا قرآنی آیت کو ہی بطور تفسیر پیش کیا گیا ہے ۔2 قرآن کے سائنسی معجزات کی  وضاحت کثرت سے کی گئی ہے۔3  مصحف  حفاظ کرام کی ضروریات کو مدنظر رکھتے  ہوئے  ترتیب دیا گیااور تمام صفحات  آیت کے خاتمہ پر ختم ہوتے ہیں اور اس میں دو تحقیقی مقالے ’’قرآن کیسے حفظ کریں؟،’’ اور احکام ترتیل وتجوید‘‘ بھی شامل کئے گئے ہیں۔ 4 عربی مادوں والے الفاظ کثرت سے استعمال کئے گئے ہیں تاکہ عربی نص(قرآنی آیات) کا مفہوم زیادہ بہتر انداز میں سمجھا جاسکے ۔5  ہر صفحے کا حاشیہ اسی  صفحہ پر ختم ہوجاتا ہے ۔6 اس میں قرآنی مضامین کا  الف بائی انڈکس شامل ہے۔7 ترجمہ میں آیت کاخاتمہ دائرہ کے نشان سے واضح ہے ۔ 8مغرب سے مرعوب طبقے  کے اسلام کے خلاف اعترضات کے رد میں کثرت سے دلائل دئیے گئے ہیں۔ 9 حاشیہ اور صفحات کے نمبرزمیں انگلش ہندسے استعمال کئےگئے ہیں تا کہ نوجوان  نسل جو کہ اردو  ہندسوں سے ناآشنا ہے بآسانی  مستفید ہوسکے۔ 10 خطاط (نص قرآنی)  اور مترجم ایک ہی  ہےجوکہ مولانا عبدالرحمن کیلانی ﷫ کے  ہاتھ  کاہے ۔اللہ تعالیٰ مولانا کیلانی مرحوم  کےدرجات بلند  فرمائے  اور ان کی مرقد پر اپنے رحمتوں کانزول فرمائے۔ان کی اور ان کے خاندان  کی دینی،تبلیغی واصلاحی  اورتصنیفی خدمات کو قبول فرمائے  (آمین)(م۔ا)

    نوٹ:

    محدث فورم میں اس کتاب پر تبصرہ کرنے کے لیے یہاں کلک کریں

    untitled-1
    عبد الرحمن کیلانی
    مولانا عبدالرحمن کیلانی مرحوم ومغفور بے شمار خوبیوں کے مالک اور علم دوست انسان تھے۔ان کے قلم کی روانی اور سلاست قارئین کے لیے انتہائی سحر انگیز تھی۔یوں ان کا قلم دور حاضر میں اٹھنے والے فتنوں کے قلع قمع کے لیے شمشیر برآں تھا۔مولانا موصوف نے جس بھی موضوع پر قلم اٹھایا امر کا حق دار کر دیا،ان کی تالیفات کا سلسلہ کافی طویل ہے۔لیکن ان کی زیر نظر تالیف ’’تیسیر القرآن‘‘کتاب اللہ کی بہترین تفسیر ہے جو بہت ہی خوبیوں کی حامل ہے۔جس کا ترجمہ نہایت سلیس ہے کہ معمولی لکھا پڑھا آدمی بھی سمجھ سکتا ہے۔تفسیر کی عبارتوں میں سلاست کو ملحوظ رکھا گیا ہے۔دور حاضر میں مغربی افکار سے متاثر بلکہ مرعوب طبقہ جس آزاد خیالی میں مبتلا ہے اس تفسیر میں ان کے نظریات جن آیات سے متعلق ہیں وہاں خوب گرفت کی گئی ہے اور نہاین مضبوط دلائل سے ان کے عقائد کی تردید کی گئی ہے۔غزوات وسرایا کا سلسلہ میں جو آیات اور صورتیں ہیں ان کا تاریخی پس منظر تفصیل سے بیان کر دیا گیا ہے۔نیز یہ ایک بہترین تفسیر ہے جو قرآن فہمی کے لیے اور باطل نظریات کی سرکوبی کے لیے ایک یادگار تالیف ہے جس کا مطالعہ نہایت مفید ہے۔موجودہ دور کے اٹھنے والے فتنوں سے حفاظت کا سامان بھی ۔اللہ تعالیٰ سے دعا ہے کہ وہ اس شاہکار تفسیر کو قارئین کے لیے مفید اور مؤلف مرحوم کے لیے نوشتہ آخرت بنائے۔(آمین)(فاروق)

    نوٹ:
    محدث فورم میں اس کتاب پر تبصرہ کرنے کے لیے یہاں کلک کریں

    untitled-1
    عبد الرحمن کیلانی
    مولانا عبدالرحمن کیلانی مرحوم ومغفور بے شمار خوبیوں کے مالک اور علم دوست انسان تھے۔ان کے قلم کی روانی اور سلاست قارئین کے لیے انتہائی سحر انگیز تھی۔یوں ان کا قلم دور حاضر میں اٹھنے والے فتنوں کے قلع قمع کے لیے شمشیر برآں تھا۔مولانا موصوف نے جس بھی موضوع پر قلم اٹھایا امر کا حق دار کر دیا،ان کی تالیفات کا سلسلہ کافی طویل ہے۔لیکن ان کی زیر نظر تالیف ’’تیسیر القرآن‘‘کتاب اللہ کی بہترین تفسیر ہے جو بہت ہی خوبیوں کی حامل ہے۔جس کا ترجمہ نہایت سلیس ہے کہ معمولی لکھا پڑھا آدمی بھی سمجھ سکتا ہے۔تفسیر کی عبارتوں میں سلاست کو ملحوظ رکھا گیا ہے۔دور حاضر میں مغربی افکار سے متاثر بلکہ مرعوب طبقہ جس آزاد خیالی میں مبتلا ہے اس تفسیر میں ان کے نظریات جن آیات سے متعلق ہیں وہاں خوب گرفت کی گئی ہے اور نہاین مضبوط دلائل سے ان کے عقائد کی تردید کی گئی ہے۔غزوات وسرایا کا سلسلہ میں جو آیات اور صورتیں ہیں ان کا تاریخی پس منظر تفصیل سے بیان کر دیا گیا ہے۔نیز یہ ایک بہترین تفسیر ہے جو قرآن فہمی کے لیے اور باطل نظریات کی سرکوبی کے لیے ایک یادگار تالیف ہے جس کا مطالعہ نہایت مفید ہے۔موجودہ دور کے اٹھنے والے فتنوں سے حفاظت کا سامان بھی ۔اللہ تعالیٰ سے دعا ہے کہ وہ اس شاہکار تفسیر کو قارئین کے لیے مفید اور مؤلف مرحوم کے لیے نوشتہ آخرت بنائے۔(آمین)(فاروق)

    نوٹ:
    محدث فورم میں اس کتاب پر تبصرہ کرنے کے لیے یہاں کلک کریں

    untitled-1
    عبد الرحمن کیلانی
    مولانا عبدالرحمن کیلانی مرحوم ومغفور بے شمار خوبیوں کے مالک اور علم دوست انسان تھے۔ان کے قلم کی روانی اور سلاست قارئین کے لیے انتہائی سحر انگیز تھی۔یوں ان کا قلم دور حاضر میں اٹھنے والے فتنوں کے قلع قمع کے لیے شمشیر برآں تھا۔مولانا موصوف نے جس بھی موضوع پر قلم اٹھایا امر کا حق دار کر دیا،ان کی تالیفات کا سلسلہ کافی طویل ہے۔لیکن ان کی زیر نظر تالیف ’’تیسیر القرآن‘‘کتاب اللہ کی بہترین تفسیر ہے جو بہت ہی خوبیوں کی حامل ہے۔جس کا ترجمہ نہایت سلیس ہے کہ معمولی لکھا پڑھا آدمی بھی سمجھ سکتا ہے۔تفسیر کی عبارتوں میں سلاست کو ملحوظ رکھا گیا ہے۔دور حاضر میں مغربی افکار سے متاثر بلکہ مرعوب طبقہ جس آزاد خیالی میں مبتلا ہے اس تفسیر میں ان کے نظریات جن آیات سے متعلق ہیں وہاں خوب گرفت کی گئی ہے اور نہاین مضبوط دلائل سے ان کے عقائد کی تردید کی گئی ہے۔غزوات وسرایا کا سلسلہ میں جو آیات اور صورتیں ہیں ان کا تاریخی پس منظر تفصیل سے بیان کر دیا گیا ہے۔نیز یہ ایک بہترین تفسیر ہے جو قرآن فہمی کے لیے اور باطل نظریات کی سرکوبی کے لیے ایک یادگار تالیف ہے جس کا مطالعہ نہایت مفید ہے۔موجودہ دور کے اٹھنے والے فتنوں سے حفاظت کا سامان بھی ۔اللہ تعالیٰ سے دعا ہے کہ وہ اس شاہکار تفسیر کو قارئین کے لیے مفید اور مؤلف مرحوم کے لیے نوشتہ آخرت بنائے۔(آمین)(فاروق)

    نوٹ:
    محدث فورم میں اس کتاب پر تبصرہ کرنے کے لیے یہاں کلک کریں

    untitled-1
    عبد الرحمن کیلانی
    مولانا عبدالرحمن کیلانی مرحوم ومغفور بے شمار خوبیوں کے مالک اور علم دوست انسان تھے۔ان کے قلم کی روانی اور سلاست قارئین کے لیے انتہائی سحر انگیز تھی۔یوں ان کا قلم دور حاضر میں اٹھنے والے فتنوں کے قلع قمع کے لیے شمشیر برآں تھا۔مولانا موصوف نے جس بھی موضوع پر قلم اٹھایا امر کا حق دار کر دیا،ان کی تالیفات کا سلسلہ کافی طویل ہے۔لیکن ان کی زیر نظر تالیف ’’تیسیر القرآن‘‘کتاب اللہ کی بہترین تفسیر ہے جو بہت ہی خوبیوں کی حامل ہے۔جس کا ترجمہ نہایت سلیس ہے کہ معمولی لکھا پڑھا آدمی بھی سمجھ سکتا ہے۔تفسیر کی عبارتوں میں سلاست کو ملحوظ رکھا گیا ہے۔دور حاضر میں مغربی افکار سے متاثر بلکہ مرعوب طبقہ جس آزاد خیالی میں مبتلا ہے اس تفسیر میں ان کے نظریات جن آیات سے متعلق ہیں وہاں خوب گرفت کی گئی ہے اور نہاین مضبوط دلائل سے ان کے عقائد کی تردید کی گئی ہے۔غزوات وسرایا کا سلسلہ میں جو آیات اور صورتیں ہیں ان کا تاریخی پس منظر تفصیل سے بیان کر دیا گیا ہے۔نیز یہ ایک بہترین تفسیر ہے جو قرآن فہمی کے لیے اور باطل نظریات کی سرکوبی کے لیے ایک یادگار تالیف ہے جس کا مطالعہ نہایت مفید ہے۔موجودہ دور کے اٹھنے والے فتنوں سے حفاظت کا سامان بھی ۔اللہ تعالیٰ سے دعا ہے کہ وہ اس شاہکار تفسیر کو قارئین کے لیے مفید اور مؤلف مرحوم کے لیے نوشتہ آخرت بنائے۔(آمین)(فاروق)

    نوٹ:
    محدث فورم میں اس کتاب پر تبصرہ کرنے کے لیے یہاں کلک کریں

    title-page-khilafat-o-jamhooriat-copy
    عبد الرحمن کیلانی

    جس طرح سوشلزم سرمایہ دارانہ نظام کی دوسری انتہاء ہے بالکل اسی طرح موجودہ جمہوریت شخصی اور استبدادی حکومت کی دوسری انتہاء ہے- اسلام ہر معاملہ میں راہ اعتدال کو ترجیح دیتا ہے اسی لیے اس نے خلافت کا نظام متعارف کروایا ہے جس میں  ہر شخص کو اس کا جائز حق  عطا کیا جاتاہے- زیر نظر کتاب میں خلافت  وجمہوریت اور اس کی ضمنی مباحث کو تحقیقی اور علمی امانت کے ساتھ سپرد قلم کیا گیا ہے- کتاب کو تین حصوں میں تقسیم کیا گیا ہے-پہلے حصے میں خلفائے راشدین کا انتخاب  کس طرح عمل میں آیا ، پر تفصیلی بحث کی گئی ہےپھر  اس کے ضمن میں دیگر مباحث جن میں عورت کے ووٹ کا حق اور طلب امارت یا اس کی آرزو جیسے مسائل پر اپنی قیمتی آراء کا اظہار کیا گیاہے-کتاب کے دوسرے حصے میں دور نبوی اور خلفائے راشدین میں مشہور مجالس مشاورت اور اس کی ضمنی مباحث کو درج کیا گیاہے پھر ان تمام اعتراضات اور اشکالات کا حل پیش کیا گیا ہے جو جمہویت نوازوں کی طرف سے کیے جاتے ہیں-کتاب کے تیسرے اور آخری حصے میں ربط ملت کے تقاضے اور اسلامی نظام کی طرف پیش رفت  میں ایک مجمل سا خاکہ پیش کرتے ہوئے مغربی جمہوریت کے مزعومہ فوائد کا جائزہ لیا گیا ہے- جس سے اس بحث کو سمجھنے میں مدد ملے گی کہ موجودہ وقت میں اسلامی نظام حیات کی طرف کیسے پیش رفت کی جاسکتی ہے-

     

    roohazabeqabaraursamaemotaa-copy
    عبد الرحمن کیلانی
    عبدالرحمٰن کیلانی صاحب کی یہ کتا ب دراصل ترجمان الحدیث اور محدث میں چھپنے والے سلسلہ وار مضامین کا مجموعہ ہے۔ کتاب کا موضوع کتاب کے نام سے ظاہر ہے اور شاید مسلمانوں کا کوئی فرقہ اور کوئی طبقہ ایسا نہ ہوگا جو اس موضوع سے گہری دلچسپی نہ رکھتا ہو۔  ان مسائل میں کچھ لوگ اگر افراط کی راہ پر نکل کر گمراہ ہوئے تو کچھ رد عمل میں تفریط کا شکار بنے۔ زیر تبصرہ کتاب اس موضوع پر کتاب و سنت کی صحیح راہنمائی مہیا کرتے ہوئے اعتدال کی راہ دکھاتی ہے۔  اس کتاب میں احناف اور توحیدی گروہ کے بانی کیپٹن عثمانی کے  افراط و تفریط پر مشتمل عقائد پیش کر کے ان کا علمی محاکمہ کیا گیا ہے۔ مصنف نے اس کتاب میں مختلف سوالوں کے جواب دیتے ہوئے عالم برزخ کی زندگی اور دنیاوی زندگی کی صورت حال کو واضح کیا ہے،روح کا سفر اور شہید کی زندگی کا تصور،سماع موتٰی کے بارے میں مختلف اقوال ورائے اور اس کی  استثنائی صورتیں،برزخی جسم اور برزخی قبر کا تعارف، توحیدی گروہ کے بانی کیپٹن عثمانی کے پیدا کردہ مختلف شبہات کا بھرپور علمی رد پیش کیا ہے،اور اسی طرح سماع موتی کی آڑ لے کر اولیاء کو تصرفات کا حامل قرار دینا اور کیا سماع موتی کے عقیدے سے بندہ مشرک ہو جاتا ہے یا نہیں ،ایسی ابحاث کو حتی الامکان معتدلانہ رویے کے ساتھ بیان کرنے کی کوشش کی گئی ہے-کتاب کا انداز انتہائی سادہ اور عام فہم ہے اور بات کو نکھارنے اور سمجھانے کی غرض سے مختلف استفسارات اور سوالات کو پیش کرکے ان کا جواب بھی تحریر کر دیا گیا ہے تاکہ سوال کے ساتھ جواب بھی موجود ہو اور بات بالکل واضح ہو کر لوگوں میں حق اور باطل میں فرق کرنے کا شعور بیدار کر سکے-

    shariatotareeqat-copy
    عبد الرحمن کیلانی
    دین رہبانیت، صوفیت، صوفی ازم، طریقت کے متوالوں کو سنہری شریعت دین اسلام کی طرف راغب کرنے کیلئے لکھی گئی بہترین کتاب ہے۔ اس کتاب میں طریقت کے حق میں دیے جانے والے دلائل اور شخصیات کا احترم آمیز انداز میں بہترین اور باحوالہ علمی محاسبہ کیا گیا ہے۔ ایسی کتاب ہے جو صراط مستقیم کے غیر متعصب  متلاشی کو واقعی راہِ حق دکھانے کی قوت رکھتی ہے۔ دین طریقت کے مختلف بنیادی نظریات، وحدت الشہور، حلول، وحدت الوجود کا علمی محاسبہ۔  ولایت، کرامت، تصوف،  باطنی علوم، قیوم،قطب، ابدال، صوفیاء اور محدثین، اولیاء اللہ اور گستاخی، عشق و مستی، سماع و وجد،  جام و مے، تصور شیخ، حضرت خضر علیہ السلام کی شخصیت، رجال الغیب، پیران پیر، شیعیت، خرقہ، لوح محفوظ، آستانے، مزارات، درگاہیں، ولایت یا خدائی، علم غیب، تصرف، توجہ ،بیعت،شفاعت، اولیاء اللہ کے مقابلے، ولی بننے کے طریقے، کرامات اور استدراج،صوفیائے کرام کی تعلیمات، اولیاء اللہ کی کرامات اور انبیاء کرام کے معجزات کا تقابلی جائزہ، تصرف باطنی، مشاہدہ حق، دیدار الٰہی، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی حیات و وفات، ذکر قلندریہ، ذکر نور اور کشف قبور، محبت الٰہی، صحبت بزرگان، صوفیائے کرام کا تفسیری انداز، موضوع احادیث و واقعات، شریعت و طریقت کا تصادم، توحید، رسالت،قرآن،نکاح سے گریز، جنت اور دوزخ کا مذاق، ارکان اسلام کا مذاق اشرف علی تھانوی کا اعتراف حقیقت، خورشید احمد گیلانی اور روح تصوف، شریعت و طریقت کاتقابلی جائزہ

    title-page-aql-parasti-aur-inkar-e-mujzat
    عبد الرحمن کیلانی
    اسلام عقل ونقل كاايك حسين امتزاج ہے اوراس ضمن میں کمال اعتدال اورتوازن سے کام لیاگیاہے اسلام نے یہ اصول مقررکیاہے کہ اللہ تبارک وتعالیٰ کے تمام افعال واعمال اورہدایات عقل ومنطق سے کسی طورمتصادم نہیں البتہ یہ ممکن ہے کہ ان کی تفہیم میں عقل انسانی عاجزآجائے ۔معجزات بھی اسی قبیل سے ہیں یعنی ایسے افعال جن کے کرنےسے انسان عاجزوقاصررہ جائیں۔ان پرایمان لاناواجب ہے اس اصولی نکتہ کونظراندازکرنے سے بہت سی خرابیاں جنم لیتی ہیں ۔چنانچہ بعض لوگ جب معجزات کوبظاہرعقل کےخلاف دیکھتے ہیں توان کے انکارکی روش اپنالیتے ہیں جوکہ صریحاً غلط ہے زیرنظرکتاب میں ایسے ہی ایک صاحب کی غلط فہمیوں کاازالہ کیاگیاہے جوعقل پرستی کاشکارہوکرمعجزات کاانکارکربیٹھے ۔اس کتاب کے مطالعہ سے جہاں معجزات کاثبوت ملے گاوہیں عقل انسانی کے صحیح کردارکی بھی تعیین ہوجائے گی ۔



    title-pages-mutaradifaat-ul-quran
    عبد الرحمن کیلانی
    اسلام کے ابتدائی دور ہی سے علمائے حق نے قرآنی علوم کی ترویج وتبلیغ کاسلسلہ شروع کیا اور عامۃ الناس کی آسانی کے لیے قرآن کے مطالب و مفاہیم کو احسن اور عام فہم انداز سے پیش کیا ،تاکہ قرآن حکیم کی تعلیمات عام ہوں اورلوگوں میں قرآن فہمی    کا ذوق اجاگر ہو ۔علماءکرام نے یہ فریضہ بخوبی ادا کیا اور قرآن مقدس کی تفسیر ،تشریح ،لغوی بحث ،شان نزول کے بیان سمیت مختلف تحقیقی وتکنیکی پہلؤوں پرکام کیا،جوقرآن کے ساتھ ان کی شدید محبت ومودت کی واضح علامت ہے،قرآن مجید کا ظاہری حسن یہ بھی  ہے کہ یہ ادب و بلاغت کی شاہکار کتاب ہے ،جس ایک ایک معنیٰ کے لیے متعدد الفاظ بیان ہوئے ہیں۔جن کے فرق اوربیان کو سمجھنا اور بیان کرنا بھی ایک اہم فن ہے ،جسے ہمارے ممدوح مولانا عبدالرحمٰن کیلانی پ‎﷫ نے نہایت ذوق ،شوق اور پور ی دلجمعی سے کتاب ہذا میں بہترین انداز سے مرتب کیا ہے ۔زیر نظر کتاب مترادفات القرآن کے موضوع پر اہم تصنیف ہے ،جوقارئین اور محقیقین کی علمی آبیاری کا بہترین سامان اور خدمت قرآن کے ایک شاندار کاوش ہے۔(ف۔ر)

    نوٹ:
    محدث فورم میں اس کتاب پر تبصرہ کرنے کے لیے یہاں کلک کریں

    title-pages-mohammad-rasolullah-saww-sabar-w-sabat-k-paikar-e-azam-copy
    عبد الرحمن کیلانی

    مولانا عبد الرحمن کیلانی﷫ کی شخصیت محتاجِ تعارف نہیں، انکی علمی و تحقیقی کتب ہی ان کا مکمل تعارف ہیں۔ موصوف جس موضوع پر بھی قلم اٹھاتے اس کا حق ادا کر دیتے ، مولانا كيلانى اسلامى اور دينى ادب كے پختہ كارقلم كار تھے ۔کتب  کے  علاوہ ان  کے  بیسیوں علمی وتحقیقی مقالات   ملک کے   معروف   علمی رسائل وجرائد(ماہنامہ محدث، ترجمان  الحدیث ، سہ ماہی  منہاج لاہور وغیرہ )  میں شائع ہوئے ان كى بيشتر تاليفات اہل علم وبصيرت سے خراج تحسين پا چکی ہیں۔مولانا کیلانی نےفوج کی  سرکاری  ملازمت سے استعفی کے بعد کتابت کو بطورِ پیشہ اختیار کیا۔ آپ عربی ،اردو کے بڑے  عمدہ کاتب تھے۔١٩٤٧ء سے ١٩٦٥ء تک اردو کتابت کی اور اس وقت کے سب سے بہتر ادارے ، فیروز سنز سے منسلک رہے ۔١٩٦٥ء میں قرآن مجید کی کتابت شروع کی اور تاج کمپنی کے لئے کام کرتے رہے ۔تقریباپچاس  قرآن  کریم  کی  انہوں  نے  کتابت کی ۔١٩٨٠ء کے بعد جب انہیں فکر معاش سے قدرے آزادی نصیب ہوئی تو تصنیف وتالیف کی طرف متوجہ ہوئے ۔اس میدان میں بھی ماشاء اللہ علماء ومصنفین حضرات کی صف میں نمایاں خدمات انجام دیتے ہوئے  تقریبا 15  کتب تصنیف کرنے کے  علاوہ  ’سبل السلام شرح بلوغ المرام ‘ اور  امام شاطبی کی  کتاب ’الموافقات ‘کا ترجمہ بھی کیا۔ دو دفعہ قومی سیرت کانفرنس میں مقالہ پیش کر کے  صدارتی ایوارڈ حاصل کیا۔آخری عمر میں تفسیر تیسیر القرآن لکھ رہے تھے  اور انکی خواہش تھی کہ ا سکوخود طبع کروائیں مگر عمر نے وفانہ کی١٨دسمبر١٩٩٥ء کو باجماعت نمازِ عشاء ادا کرتے ہوئے حالتِ سجدہ میں اپنے  خالق حقیقی جا ملے ۔مولانا کیلانی  کا ادارہ محدث ،لاہور کے ساتھ ایک  خاص تعلق تھا موصوف مدیر اعلیٰ محدث ڈاکٹر حافظ عبدالرحمٰن مدنی﷾ کےسسر جبکہ ڈاکٹر حافظ حسن مدنی وڈاکٹر حافظ  انس نضر  کے  نانا  تھے ۔مولانا کیلانی   کی  وفات پر   مختلف رسائل وجرائد میں   ان کی  حیات  وخدمات  پر کئی اہل علم اور کالم نگاروں کے مضامین شائع  ہوئے  بالخصوص ماہنامہ محدث جنوری،جولائی1996ء  میں ام  عبد الرب، حافظ  صلاح الدین یوسف ،مولانا محمد رمضان سلفی (شیخ  الحدیث جامعہ لاہور الاسلامیہ) ،مولانا عبد الوکیل علوی  حظہم اللہ  کے   مولانا کیلانی  کی  شخصیت  اور حیات وخدمات کے  متعلق قیمتی  مضامین  اور مولانا کیلانی  کے  علمی  رسائل وجرائد میں شائع شدہ   مضامین ومقالات کی لسٹ بھی  شائع کی  گئی تھی ۔ زیرتبصرہ کتاب’’ محمد رسول اللہ ﷺ صبر وثبات کے پیکر اعظم ‘‘  مفسر قرآن مولانا  عبدکیلانی﷫ کی سیرت النبی پر بڑی اہم کتاب ہے ۔ اس کتاب میں کیلانی مرحوم  نے آپ ﷺ کے  صبر وثبات کے پہلو کو موضوع سخن بنایا ہے۔اور سیرت نبویﷺ کے دعوتی پہلو کو بڑے  احسن انداز میں پیش کیا ہے۔ اللہ تعالیٰ  مولانا  مرحوم  کے  درجات  بلند فرمائے  اور ا ن  کی مرقد پر   اپنی  رحمتوں کا نزول فرمائے۔ (آمین)(م۔ا)

    title-page-munkireen-e-hadees-k-4-aiterazat-aur-un-ka-ilmi-wa-tahqiqi-jaiza
    عبد الرحمن کیلانی

    فلسفہ اور سائینٹیفک نظریات نیز مغربی مادی ترقی سے مرعوبیت زدہ ذہن لئے ہوئے اور اتباع نفس کے تحت قرآنی آیات کی من مانی تحریف نما تاویل کی تکنیک استعمال کرتے ہوئے موجودہ دور کے نام نہاد اہل قرآن (منکرین حدیث) رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی ثابت شدہ سنتوں میں تشکیک پیدا کرکے سنت کو ناقابل اعتبار قرار دینے کی روش اختیار کئے ہوئے ہیں۔ زیر نظر کتاب میں منکرین حدیث کی طرف سے بتکرار و شدت پیش کئے جانے والے بنیادی نوعیت کے چار اعتراضات کا تسلی بخش جواب دیا گیا ہے۔ وہ سوالات یہ ہیں:
    1۔  کیا "ظن" دین بن سکتا ہے۔
    2۔  کیا واقعی حدیث اور تاریخ ایک ہی سطح پر ہیں یا ان میں کچھ فرق ہے؟ (تقابلی جائزہ)
    3۔ کثرت احادیث مثلاً یہ اعتراض کہ امام بخاری رحمہ اللہ کو چھ لاکھ احادیث یاد تھیں۔ وہ آ کہاں سے گئیں اور پھر گئیں کدھر؟
    4۔ طلوع اسلام والوں کے ہاں معیار حدیث کیا ہے؟
     
    یہ کتاب دراصل منکرین حدیث کے خلاف لکھی گئی مبسوط کتاب "آئینہ پرویزیت" کا ایک باب ہے۔ جسے اس کی اہمیت کے پیش نظر علیحدہ سے شائع کیا گیا ہے۔

    title-pages-nabi-akram-saww-bahasiyyat-e-sipaah-salaar
    عبد الرحمن کیلانی
    جہاد  اس وقت عالمی ومقامی میڈیا ،مسلم و غیر مسلم حکمرانوں  او ر نام نہاد  دانشوروں  کی بربریت کا نشانہ بنا ہوا ہے ۔ ستم ظریفی   دیکھیے کہ  اسلام کے نظریہ جہاد سےجو  جتنا ناواقف ہے وہ دانش کی اتنی ہی اعلی معراج پہ براجمان ہے ۔ ہر دانش ور صغرے کبرے ملا کر اسی نتیجہ پر پہنچتا ہے کہ جہاد دہشت گردی کی  نعوذباللہ بد ترین شکل ہے  جس سے دنیا کا امن خطرے میں ہے۔ ناقدین جہاد   کی ان مغالطہ آرائیو ں  کی حقیقت  سے  پردہ اٹھانے کی غرض سے کی جانے والی مولانا  عبدالرحمن کیلانی رحمہ اللہ علیہ کی  یہ کاوش  نہایت مفید ہے ۔اور دفاع جہاد  یا  یوں کہیے کہ دفاع اسلام کی غرض سے کی جانے والی کوششوں میں   ایک قابل قدر اضافہ ہے ۔ اس تالیف میں  مولانا مرحوم نے نظریہ جہاد کی توضیح اور  اعتراضات  و شبہات  کورفع کر نے کی بھر پور کوشش کی ہے جس میں وہ الحمدللہ   کامیاب رہے ہیں۔اس کے علاوہ دارلاسلام او ردار الحرب  جیسی پچیدہ بحث کو خوش اسلوبی  سے نکھارا گیا ہے ۔ کتاب کے  آخر میں آپ  صلی اللہ علیہ وسلم کی  زندگی کے جہادی پہلو  کو نشانہ مشق بنانے  والوں کو شرعی  اورمنطقی  دلائل سے شافی جواب دیا گیا ہے  ۔اس کے علاوہ  آپ کی  عظیم شخصیت  پر غیر جانبدار مغربی مفکرین  کے اقوال بھی پیش کیے گئے ہیں  جو کہ جہاد اور پیغمبر جہاد  کے انتہا پسند ناقدین کے منہ پر زور دار طمانچہ ہیں ۔(ناصف)

    نوٹ:
    محدث فورم میں اس کتاب پر تبصرہ کرنے کے لیے یہاں کلک کریں
    title-pages-al-muwafqat-fi-usool-al-sharia-4-copy
    امام شاطبی رحمہ اللہ
    ’’اصول الفقہ‘‘ علوم دینیہ میں وہ مہتمم بالشان اور حقائق کشا علم ہے‘ جس کو پڑھنے اور سمجھے بغیر دائمی وآفاقی شریعت اسلامیہ کے بنیادی مآخذ یا ادلہ شرعیہ(قرآن‘سنت ‘ اجماع اور قیاس) کی وسعت وگہرائی کو کما حقہ سمجھا جا سکتا ہے نہ ادلہ شرعیہ سے قیامت تک پیش آنے  والے جدید مسائل کے شرعی حکم کے استنباط واستخراج کے فنی واصولی طریق کار سے آگاہی ہو سکتی ہے۔چنانچہ اصول الفقہ کی ترکیب ہی اس معنی کی طرف مشیر ہے۔ اصلو فقہ کی اہمیت وافادیت کے پیش نظر بہت سی کتب تصنیف کی گئی۔زیرِ تبصرہ کتاب  بھی اصول فقہ پر لکھی گئی کتب میں سے ایک ہے۔ اس میں مصنف نے اپنے تجربہ کی بنیاد پر قواعد سازی کی ہے اور قواعد شرعیہ کو شریعت کے استقرائی دلائل کے ساتھ مضبوط بنانے کی کوشش کی ہے۔یہ کتاب اصلا عربی میں ہے تو  اس کے افادۂ عام کے لیے اس کا اردو ترجمہ سلیس اور عام فہم کیا گیا ہے اور ہر باب اور فصل میں اصل مؤلف کے مفہوم ومراد کو واضح کرنے کی پوری کاوش ہے۔ اس میں آیات کو دوسری آیات سے اور حدیث کو دوسری احادیث سے اور آثار کو دیگر آثار سے یوں ملایا جاتا ہے کہ شک وشبہ کی کوئی صورت ہی نہیں باقی رہتی۔ یہ کتاب’’ الموقفات فی اصول الشریعۃ ‘‘ امام ابو اسحاق‘ابراہیم بن موسی الشاطبی کی مرتب کردہ ہے اور اس کے مترجم کا نام  مولانا عبد الرحمان کیلانی ہے۔آپ دونوں تصنیف وتالیف کا عمدہ شوق رکھتے ہیں‘ اس کتاب کے علاوہ ان کی درجنوں  کتب اور  بھی ہیں۔ دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ مؤلف اور مترجم وجملہ معاونین ومساعدین کو اجر جزیل سے نوازے اور اس کتاب کو ان کی میزان میں حسنات کا ذخیرہ بنا دے اور اس کا نفع عام فرما دے۔(آمین)( ح۔م۔ا )
    title-pages-al-muwafqat-fi-usool-el-sharia-1
    امام شاطبی رحمہ اللہ
    ’’اصول الفقہ‘‘ علوم دینیہ میں وہ مہتمم بالشان اور حقائق کشا علم ہے‘ جس کو پڑھنے اور سمجھے بغیر دائمی وآفاقی شریعت اسلامیہ کے بنیادی مآخذ یا ادلہ شرعیہ(قرآن‘سنت ‘ اجماع اور قیاس) کی وسعت وگہرائی کو کما حقہ سمجھا جا سکتا ہے نہ ادلہ شرعیہ سے قیامت تک پیش آنے  والے جدید مسائل کے شرعی حکم کے استنباط واستخراج کے فنی واصولی طریق کار سے آگاہی ہو سکتی ہے۔چنانچہ اصول الفقہ کی ترکیب ہی اس معنی کی طرف مشیر ہے۔ اصلو فقہ کی اہمیت وافادیت کے پیش نظر بہت سی کتب تصنیف کی گئی۔زیرِ تبصرہ کتاب  بھی اصول فقہ پر لکھی گئی کتب میں سے ایک ہے۔ اس میں مصنف نے اپنے تجربہ کی بنیاد پر قواعد سازی کی ہے اور قواعد شرعیہ کو شریعت کے استقرائی دلائل کے ساتھ مضبوط بنانے کی کوشش کی ہے۔یہ کتاب اصلا عربی میں ہے تو  اس کے افادۂ عام کے لیے اس کا اردو ترجمہ سلیس اور عام فہم کیا گیا ہے اور ہر باب اور فصل میں اصل مؤلف کے مفہوم ومراد کو واضح کرنے کی پوری کاوش ہے۔ اس میں آیات کو دوسری آیات سے اور حدیث کو دوسری احادیث سے اور آثار کو دیگر آثار سے یوں ملایا جاتا ہے کہ شک وشبہ کی کوئی صورت ہی نہیں باقی رہتی۔ یہ کتاب’’ الموقفات فی اصول الشریعۃ ‘‘ امام ابو اسحاق‘ابراہیم بن موسی الشاطبی کی مرتب کردہ ہے اور اس کے مترجم کا نام  مولانا عبد الرحمان کیلانی ہے۔آپ دونوں تصنیف وتالیف کا عمدہ شوق رکھتے ہیں‘ اس کتاب کے علاوہ ان کی درجنوں  کتب اور  بھی ہیں۔ دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ مؤلف اور مترجم وجملہ معاونین ومساعدین کو اجر جزیل سے نوازے اور اس کتاب کو ان کی میزان میں حسنات کا ذخیرہ بنا دے اور اس کا نفع عام فرما دے۔(آمین)( ح۔م۔ا )
    title-pages-al-muwafqat-fi-usool-al-sharia-2
    امام شاطبی رحمہ اللہ
    ’’اصول الفقہ‘‘ علوم دینیہ میں وہ مہتمم بالشان اور حقائق کشا علم ہے‘ جس کو پڑھنے اور سمجھے بغیر دائمی وآفاقی شریعت اسلامیہ کے بنیادی مآخذ یا ادلہ شرعیہ(قرآن‘سنت ‘ اجماع اور قیاس) کی وسعت وگہرائی کو کما حقہ سمجھا جا سکتا ہے نہ ادلہ شرعیہ سے قیامت تک پیش آنے  والے جدید مسائل کے شرعی حکم کے استنباط واستخراج کے فنی واصولی طریق کار سے آگاہی ہو سکتی ہے۔چنانچہ اصول الفقہ کی ترکیب ہی اس معنی کی طرف مشیر ہے۔ اصلو فقہ کی اہمیت وافادیت کے پیش نظر بہت سی کتب تصنیف کی گئی۔زیرِ تبصرہ کتاب  بھی اصول فقہ پر لکھی گئی کتب میں سے ایک ہے۔ اس میں مصنف نے اپنے تجربہ کی بنیاد پر قواعد سازی کی ہے اور قواعد شرعیہ کو شریعت کے استقرائی دلائل کے ساتھ مضبوط بنانے کی کوشش کی ہے۔یہ کتاب اصلا عربی میں ہے تو  اس کے افادۂ عام کے لیے اس کا اردو ترجمہ سلیس اور عام فہم کیا گیا ہے اور ہر باب اور فصل میں اصل مؤلف کے مفہوم ومراد کو واضح کرنے کی پوری کاوش ہے۔ اس میں آیات کو دوسری آیات سے اور حدیث کو دوسری احادیث سے اور آثار کو دیگر آثار سے یوں ملایا جاتا ہے کہ شک وشبہ کی کوئی صورت ہی نہیں باقی رہتی۔ یہ کتاب’’ الموقفات فی اصول الشریعۃ ‘‘ امام ابو اسحاق‘ابراہیم بن موسی الشاطبی کی مرتب کردہ ہے اور اس کے مترجم کا نام  مولانا عبد الرحمان کیلانی ہے۔آپ دونوں تصنیف وتالیف کا عمدہ شوق رکھتے ہیں‘ اس کتاب کے علاوہ ان کی درجنوں  کتب اور  بھی ہیں۔ دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ مؤلف اور مترجم وجملہ معاونین ومساعدین کو اجر جزیل سے نوازے اور اس کتاب کو ان کی میزان میں حسنات کا ذخیرہ بنا دے اور اس کا نفع عام فرما دے۔(آمین)( ح۔م۔ا )
    title-pages-al-muwafqat-fi-usool-al-sharia-3-copy
    امام شاطبی رحمہ اللہ
    ’’اصول الفقہ‘‘ علوم دینیہ میں وہ مہتمم بالشان اور حقائق کشا علم ہے‘ جس کو پڑھنے اور سمجھے بغیر دائمی وآفاقی شریعت اسلامیہ کے بنیادی مآخذ یا ادلہ شرعیہ(قرآن‘سنت ‘ اجماع اور قیاس) کی وسعت وگہرائی کو کما حقہ سمجھا جا سکتا ہے نہ ادلہ شرعیہ سے قیامت تک پیش آنے  والے جدید مسائل کے شرعی حکم کے استنباط واستخراج کے فنی واصولی طریق کار سے آگاہی ہو سکتی ہے۔چنانچہ اصول الفقہ کی ترکیب ہی اس معنی کی طرف مشیر ہے۔ اصلو فقہ کی اہمیت وافادیت کے پیش نظر بہت سی کتب تصنیف کی گئی۔زیرِ تبصرہ کتاب  بھی اصول فقہ پر لکھی گئی کتب میں سے ایک ہے۔ اس میں مصنف نے اپنے تجربہ کی بنیاد پر قواعد سازی کی ہے اور قواعد شرعیہ کو شریعت کے استقرائی دلائل کے ساتھ مضبوط بنانے کی کوشش کی ہے۔یہ کتاب اصلا عربی میں ہے تو  اس کے افادۂ عام کے لیے اس کا اردو ترجمہ سلیس اور عام فہم کیا گیا ہے اور ہر باب اور فصل میں اصل مؤلف کے مفہوم ومراد کو واضح کرنے کی پوری کاوش ہے۔ اس میں آیات کو دوسری آیات سے اور حدیث کو دوسری احادیث سے اور آثار کو دیگر آثار سے یوں ملایا جاتا ہے کہ شک وشبہ کی کوئی صورت ہی نہیں باقی رہتی۔ یہ کتاب’’ الموقفات فی اصول الشریعۃ ‘‘ امام ابو اسحاق‘ابراہیم بن موسی الشاطبی کی مرتب کردہ ہے اور اس کے مترجم کا نام  مولانا عبد الرحمان کیلانی ہے۔آپ دونوں تصنیف وتالیف کا عمدہ شوق رکھتے ہیں‘ اس کتاب کے علاوہ ان کی درجنوں  کتب اور  بھی ہیں۔ دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ مؤلف اور مترجم وجملہ معاونین ومساعدین کو اجر جزیل سے نوازے اور اس کتاب کو ان کی میزان میں حسنات کا ذخیرہ بنا دے اور اس کا نفع عام فرما دے۔(آمین)( ح۔م۔ا )
    title-pages-subul-ussalam-1-copy
    محمد بن اسماعیل صنعانی

    خدمت ِحدیث وسنت ایک عظیم الشان اور بابرکت کام ہے۔ جس میں  ہر مسلمان کو کسی نہ کسی سطح پر ضرور حصہ ڈالنا چاہیے ،تاکہ اس کا شمار کل قیامت کےدن خدامِ سنت نبوی میں سے ہو۔اور یہ ایک ایسا اعزاز ہے کہ جس کی قدر وقیمت کااندازہ اللہ تعالیٰ کے حضور پیش ہونے پر ہی ہوسکتا ہے۔ احادیثِ رسول ﷺ کو محفوظ کرنے کے لیے کئی پہلوؤں اور اعتبارات سے اہل علم نے خدمات انجام دی ہیں۔ تدوینِ حدیث کا آغاز عہد نبوی سے ہوا او ر صحابہ وتابعین کے دور میں پروان چڑھا ۔ائمہ محدثین کےدور میں خوب پھلا پھولا ۔مختلف ائمہ محدثین نے احادیث کے کئی مجموعے مرتب کئے۔محدثین کرام نے احادیث کی جمع وتدوین تک ہی اپنی مساعی کو محدود نہیں رکھا ،بلکہ فنی حیثیت سے ان کی جانچ پڑتال بھی کی ،اور اس کے اصول بھی مرتب فرمائے۔اس کے ساتھ ساتھ ہی انہوں نے کتب حدیث کو بھی مختلف طبقات میں تقسیم کر دیا اور اس کی خاص اصطلاحات مقرر کر دیں۔ زیر تبصرہ کتاب " سبل السلام، اردو ترجمہ " امام صنعانی﷫ کی مایہ ناز تصنیف کا اردو ترجمہ پیش خدمت ہے،جو چار جلدوں پر مشتمل  شریعہ اکیڈمی انٹر نیشنل اسلامک یونیورسٹی اسلام آباد کا مطبوعہ ہے۔اردو ترجمہ محترم مولانا عبد الرحمن کیلانی صاحب ﷫ نے کیا ہے۔ اللہ تعالی سے دعا ہے کہ وہ  مولف اور مترجم  کی اس محنت کو اپنی بارگاہ میں قبول فرمائے اور ان کے میزان حسنات میں اضافہ فرمائے۔آمین (راسخ)

    title-pages-subul-ussalam-2-copy
    محمد بن اسماعیل صنعانی

    خدمت ِحدیث وسنت ایک عظیم الشان اور بابرکت کام ہے۔ جس میں  ہر مسلمان کو کسی نہ کسی سطح پر ضرور حصہ ڈالنا چاہیے ،تاکہ اس کا شمار کل قیامت کےدن خدامِ سنت نبوی میں سے ہو۔اور یہ ایک ایسا اعزاز ہے کہ جس کی قدر وقیمت کااندازہ اللہ تعالیٰ کے حضور پیش ہونے پر ہی ہوسکتا ہے۔ احادیثِ رسول ﷺ کو محفوظ کرنے کے لیے کئی پہلوؤں اور اعتبارات سے اہل علم نے خدمات انجام دی ہیں۔ تدوینِ حدیث کا آغاز عہد نبوی سے ہوا او ر صحابہ وتابعین کے دور میں پروان چڑھا ۔ائمہ محدثین کےدور میں خوب پھلا پھولا ۔مختلف ائمہ محدثین نے احادیث کے کئی مجموعے مرتب کئے۔محدثین کرام نے احادیث کی جمع وتدوین تک ہی اپنی مساعی کو محدود نہیں رکھا ،بلکہ فنی حیثیت سے ان کی جانچ پڑتال بھی کی ،اور اس کے اصول بھی مرتب فرمائے۔اس کے ساتھ ساتھ ہی انہوں نے کتب حدیث کو بھی مختلف طبقات میں تقسیم کر دیا اور اس کی خاص اصطلاحات مقرر کر دیں۔ زیر تبصرہ کتاب " سبل السلام، اردو ترجمہ " امام صنعانی﷫ کی مایہ ناز تصنیف کا اردو ترجمہ پیش خدمت ہے،جو چار جلدوں پر مشتمل  شریعہ اکیڈمی انٹر نیشنل اسلامک یونیورسٹی اسلام آباد کا مطبوعہ ہے۔اردو ترجمہ محترم مولانا عبد الرحمن کیلانی صاحب ﷫ نے کیا ہے۔ اللہ تعالی سے دعا ہے کہ وہ  مولف اور مترجم  کی اس محنت کو اپنی بارگاہ میں قبول فرمائے اور ان کے میزان حسنات میں اضافہ فرمائے۔آمین (راسخ)

    title-pages-subul-ussalam-3-copy
    محمد بن اسماعیل صنعانی

    خدمت ِحدیث وسنت ایک عظیم الشان اور بابرکت کام ہے۔ جس میں  ہر مسلمان کو کسی نہ کسی سطح پر ضرور حصہ ڈالنا چاہیے ،تاکہ اس کا شمار کل قیامت کےدن خدامِ سنت نبوی میں سے ہو۔اور یہ ایک ایسا اعزاز ہے کہ جس کی قدر وقیمت کااندازہ اللہ تعالیٰ کے حضور پیش ہونے پر ہی ہوسکتا ہے۔ احادیثِ رسول ﷺ کو محفوظ کرنے کے لیے کئی پہلوؤں اور اعتبارات سے اہل علم نے خدمات انجام دی ہیں۔ تدوینِ حدیث کا آغاز عہد نبوی سے ہوا او ر صحابہ وتابعین کے دور میں پروان چڑھا ۔ائمہ محدثین کےدور میں خوب پھلا پھولا ۔مختلف ائمہ محدثین نے احادیث کے کئی مجموعے مرتب کئے۔محدثین کرام نے احادیث کی جمع وتدوین تک ہی اپنی مساعی کو محدود نہیں رکھا ،بلکہ فنی حیثیت سے ان کی جانچ پڑتال بھی کی ،اور اس کے اصول بھی مرتب فرمائے۔اس کے ساتھ ساتھ ہی انہوں نے کتب حدیث کو بھی مختلف طبقات میں تقسیم کر دیا اور اس کی خاص اصطلاحات مقرر کر دیں۔ زیر تبصرہ کتاب " سبل السلام، اردو ترجمہ " امام صنعانی﷫ کی مایہ ناز تصنیف کا اردو ترجمہ پیش خدمت ہے،جو چار جلدوں پر مشتمل  شریعہ اکیڈمی انٹر نیشنل اسلامک یونیورسٹی اسلام آباد کا مطبوعہ ہے۔اردو ترجمہ محترم مولانا عبد الرحمن کیلانی صاحب ﷫ نے کیا ہے۔ اللہ تعالی سے دعا ہے کہ وہ  مولف اور مترجم  کی اس محنت کو اپنی بارگاہ میں قبول فرمائے اور ان کے میزان حسنات میں اضافہ فرمائے۔آمین (راسخ)

    title-pages-subul-ussalam-4-copy
    محمد بن اسماعیل صنعانی

    خدمت ِحدیث وسنت ایک عظیم الشان اور بابرکت کام ہے۔ جس میں  ہر مسلمان کو کسی نہ کسی سطح پر ضرور حصہ ڈالنا چاہیے ،تاکہ اس کا شمار کل قیامت کےدن خدامِ سنت نبوی میں سے ہو۔اور یہ ایک ایسا اعزاز ہے کہ جس کی قدر وقیمت کااندازہ اللہ تعالیٰ کے حضور پیش ہونے پر ہی ہوسکتا ہے۔ احادیثِ رسول ﷺ کو محفوظ کرنے کے لیے کئی پہلوؤں اور اعتبارات سے اہل علم نے خدمات انجام دی ہیں۔ تدوینِ حدیث کا آغاز عہد نبوی سے ہوا او ر صحابہ وتابعین کے دور میں پروان چڑھا ۔ائمہ محدثین کےدور میں خوب پھلا پھولا ۔مختلف ائمہ محدثین نے احادیث کے کئی مجموعے مرتب کئے۔محدثین کرام نے احادیث کی جمع وتدوین تک ہی اپنی مساعی کو محدود نہیں رکھا ،بلکہ فنی حیثیت سے ان کی جانچ پڑتال بھی کی ،اور اس کے اصول بھی مرتب فرمائے۔اس کے ساتھ ساتھ ہی انہوں نے کتب حدیث کو بھی مختلف طبقات میں تقسیم کر دیا اور اس کی خاص اصطلاحات مقرر کر دیں۔ زیر تبصرہ کتاب " سبل السلام، اردو ترجمہ " امام صنعانی﷫ کی مایہ ناز تصنیف کا اردو ترجمہ پیش خدمت ہے،جو چار جلدوں پر مشتمل  شریعہ اکیڈمی انٹر نیشنل اسلامک یونیورسٹی اسلام آباد کا مطبوعہ ہے۔اردو ترجمہ محترم مولانا عبد الرحمن کیلانی صاحب ﷫ نے کیا ہے۔ اللہ تعالی سے دعا ہے کہ وہ  مولف اور مترجم  کی اس محنت کو اپنی بارگاہ میں قبول فرمائے اور ان کے میزان حسنات میں اضافہ فرمائے۔آمین (راسخ)

    title-pages-sanat-w-tijarat-ki-zakat-aur-soudi-arab-me-uska-nifaz-copy
    ڈاکٹر یوسف قاسم

    اسلام کے نظام معیشت کی بنیادی خصوصیت انفرادی ملکیت کو تسلیم کرنے کے ساتھ ساتھ دولت کی زیادہ سے زیادہ تقسیم اور اس کو ارتکاز سے بچانا ہے،اس کی ایک عملی مثال زکوۃ کا  نظام ہے۔زکوۃ کو واجب قرار دیا جانا ایک طرف اس بات کی دلیل ہے کہ سرمایہ دار خود اپنی دولت کا مالک ہےاور وہ جائز راستوں میں اسے خرچ کر سکتا ہے۔دوسری طرف اس سے یہ بات  بھی واضح ہوتی ہے کہ انسان کی دولت میں سماج کے غریب لوگوں کا بھی حق ہے ۔یہ حق متعین طور پر اڑھائی فیصد سے لیکر بیس فیصد تک ہے،جو مختلف اموال میں زکوۃ کی مقررہ شرح ہے،اور بطور نفل اپنی ضروریات کے بعد غرباء پر جتنا کرچ کیا جائے اتنا ہی بہتر ہے۔لیکن افسوس کی بات یہ ہے کہ آج کل مسلمان اس عظیم الشان فریضے کی ادائیگی سے سے بالکل  لا پرواہ ہو چکے ہیں۔اور زکوۃ نکالنے کا اہتمام مفقود نظر آتا ہے۔مسائل زکوۃ میں سے مال تجارت کی زکوۃ کا مسئلہ بہت اہم ہے،اور موجودہ صنعتی دور میں اس کی اہمیت اور بھی بڑھ گئی ہے۔خصوصا اس کی ذیلی تفصیلات پر غور وفکر کی ضرورت ہے تاکہ اس کے عملی نفاذ میں آسانی رہے۔ زیر تبصرہ کتاب" صنعت وتجارت کی زکوۃ  اور سعودی عرب میں اس کا نفاذ " ملک عبد العزیز یونیورسٹی ریاض سعودی عرب کے ایک محقق استاذ  محترم ڈاکٹر یوسف قاسم  کا ایک تحقیقی  عربی مقالہ ہے جو اسی یونیورسٹی کے ششماہی مجلہ الاقتصاد والادارہ کے شمارہ نمبر 5 رجب 1397ھ بمطابق جولائی 1977ء میں شائع ہوا تھا۔جبکہ اس کا ترجمہ کرنے کی سعادت جماعت اہل حدیث کے نامور عالم دین اور محقق محترم مولانا عبد الرحمن کیلانی صاحب  ﷫نے حاصل کی ہے۔اس مقالے میں دلائل شرعیہ کے ساتھ ساتھ سعودی عرب میں اموال وتجارت وصنعت پر زکوۃ کے طریق کار کی تفصیل بیان کی گئی ہے۔ اللہ تعالی سے دعا ہے کہ وہ مولف کی اس محنت کو اپنی بارگاہ میں قبول فرمائے اور ان کے میزان حسنات میں اضافہ فرمائے۔آمین(راسخ)

    pages-from-aam-faham-tafseer-ul-quran-part-1
    عبد السلام عمری

    قرآنِ مجید پوری انسانیت کے لیے کتاب ِ ہدایت ہے اور اسے یہ اعزاز حاصل ہے کہ دنیا بھرمیں سب سے زیاد ہ پڑھی جانے والی کتاب ہے۔ اسے پڑھنے پڑھانے والوں کو امامِ کائنات نے اپنی زبانِ صادقہ سے   معاشرے کے بہتر ین لوگ قراردیا ہے اور اس کی تلاوت کرنے پر اللہ تعالیٰ ایک ایک حرف پر ثواب عنایت کرتے ہیں۔ دور ِ صحابہ سے لے کر عصر حاضر تک بے شمار اہل علم نے اس کی تفہیم و تشریح اور ترجمہ و تفسیر کرنے کی خدمات سر انجام دیں اور ائمہ محدثین نے کتبِ احادیث میں باقاعدہ ابواب التفسیر کے نام سےباب قائم کیے۔ اور مختلف ائمہ نے عربی زبان میں مستقل بیسیوں تفاسیر لکھیں ہیں۔ جن میں سے کئی تفسیروں کے اردو زبان میں تراجم بھی ہو چکے ہیں۔ اور ماضی قریب میں برصغیرِ پاک و ہند کے تمام مکتب فکر کے علماء نے قرآن مجید کی اردو تفاسیر لکھنے میں گراں قدر خدمات انجام دی ہیں۔ ہنوز یہ سلسلہ جاری وساری ہے۔ زیر تبصرہ کتاب ’’عام فہم تفسیر القرآن‘‘ 2 مجلدات پر مشتمل مولانا عبدالسلام عمری﷾ کی کاوش ہے یہ تفسیر انہوں نے تفسیر ابن کثیر، احسن البیان، ترجمان القرآن از مولانا ابو الکلام آزاد، تفسیر ثنائی، تفسیر تیسیر القرآن از مولاناعبدالرحمٰن کیلانی﷭، تیسیرالرحمٰن از مولانا محمد لقمان سلفی﷾ اور دیگر اہم تفاسیر سے استفادہ کرکے ان کےخلاصہ کو اس تفسیر ’’عام فہم تفسیر القرآن‘‘ میں پیش کیا ہے۔ (م۔ا)

    pages-from-aam-faham-tafseer-ul-quran-part-2
    عبد السلام عمری

    قرآنِ مجید پوری انسانیت کے لیے کتاب ِ ہدایت ہے او ر اسے یہ اعزاز حاصل ہے کہ دنیا بھرمیں سب   سے زیاد ہ پڑھی جانے والی کتاب ہے۔ اسے پڑھنے پڑھانے والوں کو امامِ کائنات نے اپنی زبانِ صادقہ سے   معاشرے کے بہتر ین لوگ قراردیا ہے اور اس کی تلاوت کرنے پر اللہ تعالیٰ ایک ایک حرف پر ثواب عنایت کرتے ہیں۔ دور ِ صحابہ سے لے کر عصر حاضر تک بے شمار اہل علم نے اس کی تفہیم وتشریح اور ترجمہ و تفسیر کرنے کی خدمات سر انجام دیں اور ائمہ محدثین نے کتبِ احادیث میں باقاعدہ ابواب التفسیر کے نام سےباب قائم کیے۔ اور مختلف ائمہ نے عربی زبان میں مستقل بیسیوں تفاسیر لکھیں ہیں۔ جن میں سے کئی تفسیروں کے اردو زبان میں تراجم بھی ہو چکے ہیں۔ اور ماضی قریب میں برصغیرِ پاک و ہند کے تمام مکتب فکر کے علماء نے قرآن مجید کی اردو تفاسیر لکھنے میں گراں قدر خدمات انجام دی ہیں۔ ہنوز یہ سلسلہ جاری وساری ہے۔ زیر تبصرہ کتاب ’’عام فہم تفسیر القرآن‘‘ 2 مجلدات پر مشتمل مولانا عبدالسلام عمری﷾ کی کاوش ہے یہ تفسیر انہوں نے تفسیر ابن کثیر، احسن البیان، ترجمان القرآن از مولانا ابو الکلام آزاد، تفسیر ثنائی ،تفسیر تیسیر القرآن از مولاناعبدالرحمٰن کیلانی﷭، تیسیرالرحمٰن از مولانا محمد لقمان سلفی﷾ اور دیگر اہم تفاسیر سے استفادہ کرکے ان کےخلاصہ کو اس تفسیر ’’عام فہم تفسیر القرآن‘‘ میں پیش کیا ہے۔ (م۔ا)

اس سائٹ پر کوئی ایسی کتاب موجود نہیں جس کی ترتیب و تخریج ان صاحب نے کی ہو۔
ان صاحب کی کوئی بھی کتاب نظرثانی کی گئی موجود نہیں۔

ای میل سبسکرپشن

محدث لائبریری کی اپ ڈیٹس بذریعہ ای میل وصول کرنے کے لئے ای میل درج کر کے سبسکرائب کے بٹن پر کلک کیجئے۔

 

ایڈوانس سرچ

رجسٹرڈ اراکین

آن لائن مہمان

محدث لائبریری پر اس وقت الحمدللہ 295 مہمان آن لائن ہیں ، لیکن کوئی رکن آن لائن نہیں ہے۔

ایڈریس

       99-جے ماڈل ٹاؤن،
     نزد کلمہ چوک،
     لاہور، 54700 پاکستان

       0092-42-35866396، 35866476، 35839404

       0092-423-5836016، 5837311

      KitaboSunnat@gmail.com

      بنک تفصیلات کے لیے یہاں کلک کریں