عبد الغفور اثری

1 1 1 1 1 1 1 1 1 1
عبد الغفور اثری
    title-pages-ahsan-al-kalam-copy
    عبد الغفور اثری

    اس بات میں کوئی شک نہیں کہ رسول اکرمﷺ کی حیات طیبہ کے بلاشبہ بے شمار پہلو ہیں اور بنی نوع انسان کی ہدایت اورراہنمائی کے اعتبار سےہر پہلو اپنے اندر بحر بیکراں رکھتا ہے۔ دعوت اورتبلیغ کے اعتبار سے  آپ ﷺ کی سیرت طیبہ کا سب سے نمایاں اور امتیازی پہلو آپ ﷺ کا اپنی امت کےلیے  رحمت بن کر تشریف لانا ہے ۔ نبوت سے پہلے بھی آپ ﷺ یقینا لوگوں کے لیے سراپا رحمت تھے  مکہ میں صادق اور امین کے لقب سے مشہور ہونا اس بات کا واضح ثبوت ہے۔  منصب رسالت پر سرفراز ہونے کےبعد رسول اللہﷺ نےاپنی امت تک دین پہنچانے کےلیے جس صبر و تحمل، بردباری اور شفقت ورحمت کاطرزِ عمل اختیار فرمایا  وہ آپ ﷺ کی سیرت طیبہ کا ایک ایسا عظیم الشان پہلو ہے جس کی رفعتوں اور بلندیوں کا احاطہ کرنا کسی مؤرخ و سیرت نگار کے بس کی بات نہیں۔ نبی کریمﷺ نے اپنی امت تک دین پہنچانے کےلیے بہت سی تکالیف کا سامنا کیا مصائب و آلائشوں کو برداشت کیا۔ آپ ﷺ نے تو اپنا فرض اورتبلیغ دین کی ذمہ داری امت محمدیہ تک بڑے احسن اور کامل انداز سے نبھا دی تھی اب امت محمدیہ کا پر یہ فرض اور واجب ہے کہ وہ آپؐ کی اتباع کو لازم پکڑے اور آپؐ کی تعلیمات کو اپنا حرز جان بنائے۔ اس کے علاوہ اللہ رب العزت نے آپﷺ پر درود و سلام کی تلقین بھی فرمائی ہے اپنے کلام مجید میں ارشاد ربانی ہے"یاایھا الذین اٰمنوا صلوا علیہ وسلموا تسلیما"(الاحزاب)۔ زیر نظر کتاب"احسن الکلام فی الصلوۃ والسلام علی النبی خیر الانام" مولانا عبد الغفور اثری کے خطبات کو کتابی شکل دی گئی ہے۔ جس میں مولانا صاحب نے آپ ﷺ پر درود و سلام کی اہمیت و فضیلت، آداب، قعدہ کی حالت میں سلام بھیجنے کا حکم،  درود کے  مسنون کلمات اور درود و سلام کے متعلق دیگر احکام و مسائل کو بیان کیا گیا ہے۔ اللہ تعالیٰ ان کی کاوش کو شرف قبولیت سے نوازے۔ آمین(عمیر)

    title-pages-ahkam-e-salam-copy
    عبد الغفور اثری

    دنیا میں بسنے والےتمام لوگ ملاقات کے وقت اپنے اپنے مذہب ، تہذیب وتمدن اور اطوار اوخلاق کی بنا پر ایک دوسرے کے لیے نیک جذبات کا اظہار مختلف انداز سے کرتے ہیں ۔لیکن دین اسلام کی تعلیمات انتہائی اعلیٰ اور ممتاز ہیں۔ اسلام نے ملاقات کے وقت’’السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ او رجواباً وعلیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ کہنے کا حکم دیا ہے ۔ اسلامی تَحِیّہ (سلام) میں ایک عالمگیر جامعیت پائی جاتی ہے ۔اس میں اللہ کا تعالیٰ کا ذکربھی ہے ۔ شریعت اسلامیہ نے مسلمانوں کو حکم دیا کہ وہ اسے آپس میں پھیلائیں۔ نبی کریم ﷺ نے فرمایا ہے :’’ایک مسلمان کادوسرے مسلمان پر حق ہے کہ وہ اس کے سلام کا جواب دے (صحیح بخاری) سلام کے جہاں اللہ تعالیٰ کی رحمت طلب کرنے کے لیے دعائیہ کلمات ہیں وہاں آپس میں محبت واخوت بڑھانے کا ذریعہ اوراجنبیت کو ختم کرنے کا باعث بھی ہیں۔مسلمانوں کا آپس ملاقات کے وقت زبان سےسلام کہنے کے ساتھ ہاتھ سے مصافحہ کرنا ایسی عظیم سنت ہے کہ اس پر عمل کرنے سے دل سے حسد ،بغض، اور کینہ وغیرہ دورہو جاتاہے۔ جس کی بدولت معاشرے میں امن و سکون کی فضا قائم ہوتی ہے۔ باہمی بھائی چارے اور محبت کو فروغ دینے میں اہم ترین عنصر ایک دوسرے کو سلام کہنا ہے۔ لیکن بدقسمتی سے مسلم معاشرے اس قسم کی بہت سی اقدار سے تہی نظر کرتے آنے لگے ہیں۔ اپنے جاننے والے کی حد تک سلام دعا باقی ہے لیکن اجنبی کو سلام کی روش متروک ہوتی جا رہی ہے۔ زیر تبصرہ کتاب’’احکام سلام ‘‘ مولانا عبد الغفور اثری ﷫کی تصنیف ہے۔اس کتاب میں فاضل مصنف نے اہمیت سلام ، فضائل سلام، سلام کے مفصل احکام ومسائل، مصافحہ کی اہمیت اور فضلیت معانقہ کا معنیٰ اوراس کاشرعی حکم، کسی کے گھر میں داخل ہونے سے قبل اجازت لینے کا حکم شرعی اور اس کے احکام ومسائل، قیام تعظیم کی شرعی حیثیت جیسی مباحث کو بڑی تحقیق وجستجو اور عرق ریزی سے قرآن مجید اور کتب تفاسیر وکتب احادیث و غیرہ کے حوالہ جات سے مزین مفصل اور نہایت سلجھے ہوئے انداز میں پیش کیا ہے ۔(م۔ا)

    title-pages-asli-ahle-sunnat-copy
    عبد الغفور اثری

    اہل حدیث کوئی نئی جماعت نہیں، تمام اہل علم اس کو اچھی طرح جانتے ہیں کہ ان کا نصب العین کتاب و سنت ہے اور جب سے کتاب و سنت ہے اس وقت سے یہ جماعت ہے، اس لیے ان کا انتساب کتاب و سنت کی طرف ہے کسی امام یا فقیہ کی طرف نہیں اور نہ ہی کسی گاؤں اور شہر کی طرف ہے۔ اصحاب اہل حدیث، اہل حدیث، اہل سنت یہ سب مترادف لفظ ہیں، اہل یا اصحاب کے معنی " والے" اب اس کے نسبت حدیث کی طرف کردیں تو معنی ہونگے، " حدیث والے" اور قرآن کو بھی اللہ نے حدیث کہا ہے جیسا کہ اوپر گذر چکا ہے- اب یہ بات اچھی طرح واضح ہوگئی کہ اسلام سے مراد" قرآن و حدیث" ہے اور قرآن و حدیث سے مراد اسلام ہے- اور مسلک اہلحدیث کی بنیاد انہی دو چيزوں پر ہے اور یہی جماعت حق ہے۔ اہل حدیث مروّجہ مذہبوں کی طرح کوئی مذہب نہیں، نہ مختلف فرقوں کی طرح کوئی فرقہ ہے ،بلکہ اہل حدیث ایک جماعت اور تحریک کا نام ہے۔ اور وہ تحریک ہے زندگی کے ہر شعبے میں قرآن وحدیث کے مطابق عمل کرنا اور دوسروں کو ان دونوں پر عمل کرنے کی ترغیب دلانا، یا یوں کہ لیجئے کہ اہل حدیث کا نصب العین کتاب وسنت کی دعوت اور اہل حدیث کا منشور قرآن وحدیث ہے۔اور اصلی اہل سنت یہی ہیں۔لیکن بعض متعصب دیو بندی اور بریلوی صاحبان بزعم خود اپنے آپ کو اہل سنت قرار دے کر اہل حدیثوں کو اہل سنت سے خارج کر دیتے ہیں ۔ زیر تبصرہ کتاب " اصلی اھلسنت "جماعت اہل حدیث کے معروف عالم دین محترم  مولانا عبد الغفور اثری صاحب کی تصنیف ہے۔جس میں انہوں نے دلائل وشواہد سے یہ ثابت کیا ہے کہ اہل حدیث ہی اصلی اہل سنت ہیں۔اللہ تعالی سے دعا ہے کہ وہ مولف کی اس کاوش کو قبول فرمائے اوران کے میزان حسنات میں اضافہ فرمائے۔آمین(راسخ)

    title-pages-assalam-o-alaikum
    عبد الغفور اثری
    دنیا کی ہر مہذب قوم میں یہ رسم پا ئی جاتی ہے کہ  جب وہ آپس میں ایک دوسرے کو ملتے ہیں، توچند مخصوص الفاظ کسی خاص انداز سے ادا کرتے ہیں۔ان کے  یہ الفاظ و انداز ان کا ملی وقومی شعار بن جاتا ہے۔جیسے ہندو رام رام،سکھ جئے گرو، اور انگریز گڈ مورننگ،گڈ مون اور گڈ ایوننگ وغیرہ جیسے الفاظ ادا کرتے ہیں۔اسلام نے بھی طرز ملاقات کے آداب کو بیان کرتے ہو ئے باہمی ملاقات کرتے وقت(السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ ) جیسے عظیم الشان الفاظ  کہنے کاحکم دیا ہے۔ ان سے بہتر کوئی دعائیہ کلمات نہیں ہیں۔کیونکہ ان میں دنیا وآخرتدونوں جہانوں کی کامیابی کے راز مضمر ہیں،اور یہ محبت و دعا گوئی کا بہترین اظہار ہیں۔ چونکہ سلام کے احکام ومسائل سے آگاہ ہونا ہر مسلمان کے لئے ضروری ہے ،چنانچہ فاضل مؤلف مولانا عبد الغفور اثری نے خالصتا اصلاحی جذبہ سے سرشار ہو کر نہایت عرق ریزی،تحقیق اور مستند دلائل کے ساتھ نہایت سلجھے ہوئے اسلوب میں یہ کتابچہ مرتب فرمایا ہے ،جو اپنے موضوع ایک منفرد کاوش ہے،اور مطالعہ کے لائق ہے۔اللہ ان کی اس کاوش کو قبول فرمائے۔(راسخ)

    نوٹ:
    محدث فورم میں اس کتاب پر تبصرہ کرنے کے لیے یہاں کلک کریں
    title-pages-touhfa-e-ramzan-copy
    عبد الغفور اثری

    رمضان المبارک اسلامی سال کا  نواں مہینہ ہے  یہ مہینہ اپنی عظمتوں اور برکتوں کے  لحاظ سے  دیگر مہینوں سے  ممتاز  ہے  ۔رمضان المبارک وہی وہ مہینہ  ہےکہ جس میں اللہ تعالیٰ کی آخری آسمانی  کتاب قرآن مجید کا نزول لوح محفوظ سے آسمان دنیا پر ہوا۔ ماہ رمضان میں  اللہ تعالی  جنت  کے دروازے کھول  دیتا ہے  او رجہنم  کے دروازے  بند کردیتا ہے  اور شیطان  کوجکڑ دیتا ہے تاکہ  وہ  اللہ کے بندے کو اس طر ح  گمراہ  نہ کرسکے  جس  طرح عام دنوں میں کرتا  ہے اور یہ ایک ایسا  مہینہ ہے  جس میں اللہ تعالی خصوصی طور پر اپنے  بندوں کی مغفرت کرتا ہے اور  سب  سے زیاد ہ  اپنے بندوں کو  جہنم  سے آزادی کا انعام  عطا کرتا ہے۔رمضان المبارک کے  روضے رکھنا اسلام کےبنیادی ارکان میں سے ہے  نبی کریم ﷺ نے ماہ رمضان اور اس میں کی  جانے والی عبادات  ( روزہ ،قیام  ، تلاوت قرآن ،صدقہ خیرات ،اعتکاف ،عبادت  لیلۃ القدر وغیرہ )کی  بڑی فضیلت بیان کی  ہے ۔  کتب احادیث میں ائمہ محدثین نے  کتاب الصیام  کے نام سے باقاعدہ عنوان قائم کیے  ۔ اور کئی  علماء اور اہل علم نے  رمضان المبارک  کے احکام ومسائل وفضائل کے  حوالے  سے کتب تصنیف کی  ہیں ۔زیر تبصرہ کتاب ’’تحفۂ رمضان ‘‘مولانا عبد الغفور اثری ﷫ کے سیالکوٹ کی  ایک مسجد میں رمضان المبارک میں  دیئے  گئے  دروس کا مجموعہ ہے  جس میں  انہو ں  ماہ رمضان کے فضائل وبرکات ،صوم رمضان کی فرضیت، قیام رمضان ، شب قدرآخری عشرہ  میں  عبادت اور نفلی روزوں  کی فضیلت کو  بڑے احسن انداز میں  دلائل کےساتھ  بیان کیا ہے ۔اللہ تعالیٰ ان کی  مساعی جمیلہ کوقبول فرمائےاور تمام اہل اسلام کو  رمضان المبارک کی  تعظیم اور قدر کی  توفیق عطافرمائے (آمین)(م۔ا)

     

    نوٹ:

    محدث فورم میں اس کتاب پر تبصرہ کرنے کے لیے یہاں کلک کریں

    title
    عبد الغفور اثری

    نماز تراویح کی رکعات کی تعداد کے بارے میں اہل علم کے ہاں اختلاف پایا جاتاہے،بعض آٹھ کے قائل ہیں تو بعض بیس کے قائل وفاعل ہیں۔ صحیح بخاری ومسلم کی صحیح روایت کے مطابق نماز تراویح کی رکعات کی تعداد آٹھ ہے۔سیدناابوسلمہ نے سیدہ عائشہؓ سے پوچھا :حضورﷺ کا قیام رمضان کتنا تھا۔ سیدہ عائشہؓ نے فرمایا ‘ رمضان ہو یا غیر رمضان آپ گیارہ رکعت سے زیادہ نہیں پڑھتے تھے۔اس حدیث مبارکہ سے صراحت کے ساتھ ثابت ہوتا ہے کہ نماز تراویح کی رکعات کی مسنون تعداد آٹھ ہے۔لیکن اس کے باوجود بعض لوگ اس حوالے سے عامۃ الناس میں غلط فہمی پیدا کرتے رہتے ہیں،اور انہیں اپنے تقلیدی مذہب پر چلانے کے لئے کوشش کرتے نظر آتے ہیں۔ایسے لوگوں میں سے ایک مولوی ضیاء اللہ قادری مدیر اعلی ماہنامہ طیبہ ہیں جنہوں نے کچھ عرصہ قبل ایک اشتہار شائع کیا اور اس میں متعدد لغویات کے ساتھ ساتھ یہ بھی ثابت کرنے کی ناکام کوشش کی کہ نبی کریم اور صحابہ کرام بیس رکعات نماز تراویح پڑھا کرتے تھے ،اور اس کے ساتھ اہل حدیث علماء کو بڑے تکبر بھرے انداز سے چیلنج کیا کہ اس کا جواب دیا جائے۔چنانچہ علماء حق میں سے مولانا عبد الغفور اثری ﷫ نے اپنی یہ کتاب (رضا خانی اشتہار پر ایک نظر) لکھ کر اس کا جواب دینے کا بیڑہ اٹھایا اور ایسا مسکت ومدلل جواب دیا کہ مخالفین انگشت بدندان رہ گئے۔اللہ تعالی مولف کی اس محنت کو قبول ومنظر فرمائے ۔ آمین ۔ (راسخ)

    title-pages-nida-e-ya-muhammadpbuh-ki-tahqeeq
    عبد الغفور اثری
    برصغیر پاک و ہندمیں اکثریہ رواج پایا جاتا ہے کہ کئی مسلمان اپنی  مسجدوں ، عمارتوں ، دفتروں، بسوں ،ٹرکوں ، ویگنوں، اور رکشوں ،کلینڈروں، اشتہارات وغیرہ پر بڑی عقیدت سے  ایک طرف یا اللہ جل جلالہ اور دوسری طرف یا محمد ﷺ  لکھتے ہیں اور اسے  شعائر اسلام اور محبت رسول  ﷺ کا نام دیتے ہیں  اور جو شخص یامحمد ﷺ کہنے اور لکھنے کا انکار  کرے تو اسے  بے  ادب  اور گستاخِ رسول بلکہ بے ایمان تک قرار دے  دیا  جاتاہے  حالانکہ صورت حال  اس کے بالکل برعکس ہے کہ رسول  ﷺ کو ان کا نام لےکر (یا محمد کہہ کر) آواز دینی ،بلانا ، اورپکارنا وغیرہ  نہ  آپ ﷺ کی حیات مبارکہ میں  جائز تھا اور نہ آپ  ﷺ کے  وفات کے بعد جائز ہے ۔زیر نظر کتاب’’ندائے یا محمد ﷺ کی تحقیق‘‘ از مولانا عبد الغفور  اثری  میں  قرآن مجید کتب احادیث  و تفاسیر وغیرہ سے  دلائل کی  روشنی  میں یہ مسئلہ  واضح کیا گیا ہے کہ  نبی  آخر الزماں  امام الانبیاء  حضرت محمد ﷺ کا نام لے کر آواز دینی بلانا اور پکارنا وغیرہ   بالکل ممنوع وحرام  ہے ۔ اللہ تعالی فاضل مؤلف کی  اس کاوش کو قبول فرمائے  اور  اس کتا ب  کو عوام الناس کے  عقید ہ کی  اصلا ح کاذریعہ بنا ئے  (آمین) ( م۔ا)

    نوٹ:
    محدث فورم میں اس کتاب پر تبصرہ کرنے کے لیے یہاں کلک کریں
    title-pages-pakistan-me-imam-e-harmain-ki-aamid-copy
    عبد الغفور اثری

    پاکستان اور سعودی عرب لازوال دینی و ملی رشتے میں جڑے ہوئے ہیں۔سعودی عرب اور پاکستان میں اخوت کا رشتہ روز بروز توانا ہو رہا ہے۔ حرمین شریفین میں روزانہ پاکستان کی سلامتی و استحکام کی دعائیں ہوتی ہیں۔ پاکستان کا دشمن سعودیہ کا دشمن اورپاکستان کا دوست سعودیہ  کا دوست ہے۔حکومت اور پاکستانی عوام کا سعودی عرب کے ساتھ پیار اور محبت کا رشتہ ہے جو ان شاء اللہ ہمیشہ قائم و دائم رہے گا۔سعودی فرمانروا شاہ سلمان بن عبدالعزیزجب سے برسراقتدار آئے ہیں سعودی عرب کی خارجہ پالیسی میں واضح تبدیلی دیکھنے میں آئی ہے۔ وہ بہت متحرک اور امت مسلمہ کیلئے درد دل رکھنے والے انسان ہیں۔ایک طرف وہ دہشت گردی کا نام ونشان مٹانے کیلئے پرعزم ہیں، تو دوسری جانب شاہ فیصل شہید ﷫کی طرح وہ مسلم ممالک کو ایک پلیٹ فارم پر جمع کرنا چاہتے ہیں۔پاکستان اور سعودی عرب سمیت دیگر مسلم ملکوں کو اس وقت فتنہ تکفیر کا شکار گروہوں سے سخت خطرات درپیش ہیں۔ مغربی ممالک دنیا بھر میں اسلام کی پھیلتی ہوئی دعوت اور میدانوںمیں کامیابیوں سے بوکھلا کرمسلم ملکوں میں اس فتنہ کو پروان چڑھا رہے ہیں جس پر کئی نوجوان گمراہیوں کا شکار ہو کر اپنے ہی ملکوں میں ہتھیار اٹھا رہے ہیں اور مسلمان ملکوں کوعدم استحکام سے دوچار کرنے کا سبب بن رہے ہیں۔تعلقات کو  مزید مضبوط اور بہتر کرنے کے لئے حرمین شریفین کے ائمہ کرام جا بجا پاکستان کا دورہ کرتے رہتے ہیں۔ زیر تبصرہ کتاب"پاکستان میں امامین حرمین  کی آمد اور پاک سر زمین میں نعرہ توحید" محترم حافظ عبد الغفور اثری صاحب﷫ کی تصنیف ہے، جس میں انہوں پاکستان کا دورہ کرنے والے امام کعبہ سماحۃ الشیخ محمد بن عبد اللہ السبیل﷫اور امام مسجد نبوی سماحۃ الشیخ عبد العزیز بن صالح ﷫کے دورے کی تفصیلات کو بیان کیا ہے۔اللہ تعالی سے دعا ہے کہ وہ مولف کی اس محنت کو اپنی بارگاہ میں قبول فرمائے اور ان کے میزان حسنات میں اضافہ فرمائے۔آمین(راسخ)

    pages-from-hum-ahl-e-hadees-qiyon-huwe
    عبد الغفور اثری

    اہل حدیث کوئی نئی جماعت نہیں، تمام اہل علم اس کو اچھی طرح جانتے ہیں کہ ان کا نصب العین کتاب و سنت ہے۔ اس لیے ان کا انتساب کتاب و سنت کی طرف ہے کسی امام یا فقیہ کی طرف نہیں اور نہ ہی کسی گاؤں اور شہر کی طرف نہیں ہے۔ "اہلحدیث" ایک فکر اور تحریک کا نام ہے جو سنت کو مدار عمل ٹھہرانے میں نہایت حریص اور رد بدعات میں نہایت بے باک ہیں۔ اس کا مطح نظر فقط عمل بالقراٰن والحدیث ہے معاشرے میں پھیلے ہوئے رسوم و رواج کو یہ جماعت میزان نبوی میں پرکھتی ہے۔ جوبات قرآن و سنت کے مطابق ہو اس کو قبول کرنا اس جماعت کا خاصہ اور امتیاز ہے۔ مسلک اہل حدیث وہ دستور حیات ہے جو صرف قرآن وحدیث سے عبارت ہے، بزرگان دین کی عزت سکھاتا ہے مگر اس میں مبالغہ نہیں۔ "امرین صحیحین" کے علاوہ کسی کو بھی قابل حجت اور لائق تعمیل نہیں مانتا۔ اہل حدیث ہی وہ فرقہ ہے جو خالص کتاب وسنت کا داعی ہے۔ زیر تبصرہ کتاب "ہم اہل حدیث کیوں ہوئے" مولانا عبد الغفور اثری کی تالیف ہے۔ اس کتاب میں موصوف نے لقب اہل حدیث کی وجہ تسمیہ، اہل حدیث کبار ائمہ کی نظر میں، اور صحیح احادیث و آثار سے ثابت کیا ہے کہ اہل حدیث ہی وہ طائفہ منصورہ ہے جس کے متعلق سرور کائنات نے اپنی احادیث مبارکہ میں امت کو پیشین گوئی کی ہے۔ اللہ تعالیٰ سے دعا ہے اللہ رب العزت موصوف کے میزان حسنات میں اضافہ فرمائے۔ آمین(عمیر)

اس سائٹ پر کوئی ایسی کتاب موجود نہیں جس کا ترجمہ ان صاحب نے کیا ہو۔
اس سائٹ پر کوئی ایسی کتاب موجود نہیں جس کی ترتیب و تخریج ان صاحب نے کی ہو۔
ان صاحب کی کوئی بھی کتاب نظرثانی کی گئی موجود نہیں۔

ای میل سبسکرپشن

محدث لائبریری کی اپ ڈیٹس بذریعہ ای میل وصول کرنے کے لئے ای میل درج کر کے سبسکرائب کے بٹن پر کلک کیجئے۔

 

ایڈوانس سرچ

رجسٹرڈ اراکین

آن لائن مہمان

محدث لائبریری پر اس وقت الحمدللہ 604 مہمان آن لائن ہیں ، لیکن کوئی رکن آن لائن نہیں ہے۔

ایڈریس

       99--جے ماڈل ٹاؤن،
     نزد کلمہ چوک،
     لاہور، 54700 پاکستان

       0092-42-35866396، 35866476، 35839404

       0092-423-5836016، 5837311

      KitaboSunnat@gmail.com

      بنک تفصیلات کے لیے یہاں کلک کریں

 :