آباد شاہ پوری

1 1 1 1 1 1 1 1 1 1
آباد شاہ پوری
    title-pages-tarikh-jamate-islami-1
    آباد شاہ پوری
    انیس سو تئیس میں انحطاط خلافت اسلامیہ کے بعد مسلمانوں کے اندر خلافت کی بحالی کی  مختلف تحریکیں اٹھیں ہر ایک نے اپنی اپنی استعداد اور پالیسی کے مطابق اس کی کوششیں کیں ۔ دوسری طرف عالم اسلام پر مغرب کی فکری وتہذیبی یلغار کی وجہ سے مسلمانوں میں اپنی تہذیب کے حوالے سے پسپائی کی روش پیدا ہو گئی ۔ ان حالات کو سامنے رکھتے ہوئے انیس سو بیالیس میں جماعت اسلامی کی اساس رکھی گئی ۔ جس کا اساسی مقصد سیاسی سطح پر اسلامی خلافت کا احیا اور معاشرتی و تہذیبی سطح پر مسلمانوں کے اندر تہذیب اسلامی کا احیاء کرنا تھا ۔ ان کے اندر اپنی تعلیمات کے حوالے سے اعتماد پیدا کر نا تھا ۔ اس سلسلے میں جماعت جب اپنے مشن کو لے کر آگے بڑھنے لگی تو جہاں اسے  غیرمسلموں اور کافروں کی طرف سے  کئی ایک رکاوٹوں کا سامنا کرنا پڑا وہاں ان نام نہاد سیکولر اور لادین مسلمانوں کی طرف سے بھی آزمائشوں کا سامنا کرنا پڑا ۔ اس کے علاوہ کٹر مذہبی حلقوں کی طرف سے بھی کئی ایک محاذوں سے نبرد آزما ہونا پڑا ۔ تاہم جماعت اپنی پالیسیوں اور مشن کو سامنے رکھتے ہوئے اپنی منزل کی جانب بڑھتی رہی اس سے جماعت کی ایک الگ سے تاریخ مرتب ہوتی رہی ۔ اگرچہ جماعت اپنے  مشن یا منزل تک تا ہنوز بھی نہیں پہنچ سکی لیکن اس کے باوجود ایک انقلابی اور مضبوط جماعت ہونے کی وجہ سے اس نے  اسلامی تعلیمات کے حوالے مسلمانان ہند کے اوپر خاطر خواہ اضافہ ڈالا ہے ۔ بلکہ پوری دنیا کے مسلمانوں کے اوپر بھی اس جماعت کی فکر کے اثرات مرتب ہوتے ہوئے ہمیں نظر آتے ہیں ۔ زیرنظر کتاب جماعت اسلامی کے تاریخی پہلوں کو سامنے لے کر آتی ہے ۔ اللہ مصنف کو اجر جزیل سے نوازے۔آمین۔(ع۔ح)

    نوٹ:
    محدث فورم میں اس کتاب پر تبصرہ کرنے کے لیے یہاں کلک کریں
    pages-from-sayyed-badsha-ka-qafila
    آباد شاہ پوری

    انسانی تاریخ عبرت کا بہت وسیع و عریض مرقع ہے۔ انسان نے ظلم و ستم کی داستانیں بھی رقم کیں ہیں لیکن یہی انسان ہمت و عزیمت کے باب بھی جریدہ عالم پر ثبت کرتا رہا ہے۔ وقت کے مستبد حکمران ہمیشہ یہی سمجھتے رہے ہیں کہ ان کا حق حکمرانی غیر محدود ہے اپنے اقتدار کے نشے میں بد مست حکمرانوں کو گھنٹی بجنے سے قبل تک کبھی وہم و گمان بھی نہیں ہوتا کہ یہ دنیا ایک مکافاتی عمل کی حیثیت رکھتی ہے۔ جس طرح ظالم حکمران ہر دور میں ظلم کے فسانے میں ایک نیا ٹکڑا شامل کر دیتے ہیں، اسی طرح راہ وفا کے دیوانے بھی تاریخ کا قرض چکانے کی جسارت میں لگے رہتے ہیں۔ جہاں ایک جانب فرعون، نمرود، شداد اور ابو جہل نظر آتے ہیں تو وہاں دوسری جانب حضرت موسیٰؑ، حضرت ابراہیمؑ، صدیق اکبر رضی اللہ عنہ، امام احمد بن حنبلؒ اور شاہ شہیدؒ تک ایک سلسلہ الذہب نظر آتا ہے۔ زیر نظر کتاب"سید بادشاہ کا قافلہ" آباد شاہ پوری کی تاریخی تصنیف ہے۔ مصنف علمی دنیا میں کسی تعارف کے محتاج نہیں ۔ موصوف دل بیدار، اندھیروں میں راہ دکھانے والا دماغ روشن اور رہوار وقت کے ساتھ چلنے والا قلم رکھتے ہیں۔ موصوف نے اپنی کتاب ہذا میں ایک عظیم تحریک کے قافلہ شوق کی داستانِ جلیل و جمیل کو قلمبند کیا ہے۔ برصغیر پاک و ہند کی پہلی اسلامی تحریک کے قافلے کی داستان لازوال کو اوراق کی زینت بنایا ہے۔ یہ ان جفاکش مجاہدین کی داستان ہے جو فرنگیوں کے خلاف علمِ جہاد لے کر برسرِ میدان نکلے تھے۔ اللہ تعالیٰ موصوف کی کاوش کو قبول و منظور فرمائے۔ آمین(عمیر)

    title-pages-pahari-k-chragh-copy
    آباد شاہ پوری

    اللہ رب العزت نے اپنے بندوں کی رشد و ہدایت کے لیے انبیاء کرام و رسل عظام کی ایک برزگزیدہ جماعت کو مبعوث فرمایا۔ اس مقدس و مطہر جماعت کو کچھ ایسے حواری اور اصحاب بھی عنائت کیے جو انبیاء کرام کی تصدیق و حمایت کرتے۔ اللہ رب العزت نے سید الاوّلین و الآخرین حضرت محمد ﷺ کو صحابہ کرام کی ایک ایسی جماعت عطا فرمائی جن کے بارے میں اللہ کی یہ مشیت ہوئی کہ وہ خاتم النبیین سے براہ راست فیض حاصل کریں اور رسول اللہ ﷺ خود ان کا تزکیہ نفس کرتے ہوئے کتاب و حکمت کی تعلیم دیں۔ اور یہ وہ مقدس نفوس تھے جن کا ذکر قرآن مجید اور دیگر آسمانی کتب میں بھی اللہ رب العزت نے فرمایا اورنبی کریم ﷺ نے" خیر امتی قرنی" کے مقدس کلمات سے نوازہ۔ تاریخ اس بات کی شاہد ہے کہ ایک مسلمان کامیابی اور فتح و نصرت کے لیے کبھی ظاہری وسائل پر اعتماد نہیں کرتا بلکہ اسباب کی بجائے اسباب کے رب پر اعتماد کرتے  ہوئے آتش نمرود میں کود کر تاریخ کے ماتھے کا جھومر بن جاتا ہے۔ دین حنیف کی سر بلندی کے لیے اللہ تعالیٰ نے ہر دور میں کچھ ایسے افراد کو پیدا کیا کہ حق گوئی، بے باکی جن کا خاصہ تھی جو جابر و ظالم حکمران کے سامنے پہاڑ کی مانند ثابت ہوئے اور موت سے آنکھیں دو چار کرتے ہوئے تاریخ اسلام کی اوراق کو ہمیشہ کے لیے منور کر دیا۔ زیر تبصرہ کتاب"پہاڑی کے چراغ" فاضل مصنف آباد شاہ پوری کی قابل داد تصنیف ہے۔ یہ کتاب محض سیرت  اور واقعہ نگاری کا مرقع نہیں ہے بلکہ اس سے ہٹ کر اپنے دامن میں فکر و نظر کی تربیت اور اخلاص و اصلاح کا سامان بھی رکھتی ہے اور حق کی راہ میں جدوجہد کرنے والوں کے لیے ایمان کی حرارت اور سرمایہ جوش و جذبہ بھی۔فاضل مصنف نے اس میں جابر حکمرانوں کے سامنے حق گوئی اور بے باکی کا مظاہرہ کرنے والوں کے واقعات اور سیرت کو قلمبند کیا ہے۔ اللہ تعالیٰ ان کی محنت کو قبول و منظور فرمائے۔ آمین(عمیر)

اس سائٹ پر کوئی ایسی کتاب موجود نہیں جس کا ترجمہ ان صاحب نے کیا ہو۔
اس سائٹ پر کوئی ایسی کتاب موجود نہیں جس کی ترتیب و تخریج ان صاحب نے کی ہو۔
ان صاحب کی کوئی بھی کتاب نظرثانی کی گئی موجود نہیں۔

ای میل سبسکرپشن

محدث لائبریری کی اپ ڈیٹس بذریعہ ای میل وصول کرنے کے لئے ای میل درج کر کے سبسکرائب کے بٹن پر کلک کیجئے۔

 

ایڈوانس سرچ

رجسٹرڈ اراکین

آن لائن مہمان

محدث لائبریری پر اس وقت الحمدللہ 237 مہمان آن لائن ہیں ، لیکن کوئی رکن آن لائن نہیں ہے۔

ایڈریس

       99-جے ماڈل ٹاؤن،
     نزد کلمہ چوک،
     لاہور، 54700 پاکستان

       0092-42-35866396، 35866476، 35839404

       0092-423-5836016، 5837311

      KitaboSunnat@gmail.com

      بنک تفصیلات کے لیے یہاں کلک کریں