دکھائیں کتب
  • 1 اردو ادب کی تحریکیں (ہفتہ 12 مارچ 2016ء)

    مشاہدات:5345

    اردو زبان و ادب کے ارتقاء، وسعت، تنوع اور تبدیلیوں میں تحریکوں اور رجحانات کا بہت اہم کردار رہا ہے۔ انہی تحریکوں اور رجحانات کے زیر سایہ اردو زبان و ادب کی پرورش و پرداخت ہوئی اور انہی کے زیر نگرانی اس کے حسن میں نکھار آیا جس نے پوری دنیا کو مسحور کردیا اور لوگ اس کے دامِ سحر میں گرفتار ہونے لگے۔جن دو تحریکوں نے اردو زبان ادب کو سب سے زیادہ متاثر کیا وہ علی گڑھ تحریک اور ترقی پسند تحریک ہے۔ علی گڑھ تحریک ہی نے اردو نثر کو مسجع و مقفیٰ کی بیڑیوں سے آزاد کرایا اور اس میں سب سے اہم رول بانیِ علی گڑھ تحریک سر سید احمد خاں کا ہے۔عمومی طور پر پاکستان اور خصوصی طور پر بیرون ملک میں اردو ، پنجابی اور پاکستان کی دوسری زبانوں اور ثقافتوں کو بچانے کے لیے کئی تنظیمیں اور تحریکیں بڑی بے چارگی سے ہاتھ پاوں مارتی نظر آتی ہیں۔ اسی سلسلے میں بے شمار پروگراموں اور ادبی محفلوں کا انعقاد بھی کیا جاتا ہے ۔ ان ادبی اور ثقافتی محفلوں میں ادب ، شاعری اور زبان کی نوعیت اور ہیت کو پڑھائی ، لکھائی اور اسکے ہنر تک محدود رکھتے ہوئے اسکی تعمیر و ترقی کے بڑے بڑے لیکچر دئیے نہیں بلکہ پلائے جاتے ہیں۔ زیر تبصرہ کتاب"اردو ادب کی تحریکیں" محترم ڈاکٹر انور سدید صاحب کا وہ تحقیقی مقالہ ہے جس پر انہیں جامعہ پنجاب سے پی ایچ ڈی کی ڈگری ملی۔اس میں انہوں نے اردو ادب کی انہی تحریکوں کا تفصیلی خاکہ پیش کیا ہے۔ادیب حضرات کے لئے یہ کتاب بڑی شاندار اور گوہر نایاب ہے۔(راسخ)

  • ترقی پسند تحریک اردو ادب کی ایک اہم تحریک تھی۔ کوئی بھی تحریک اچانک وارد نہیں ہوجاتی ہے بلکہ اس کے وجود میں آنے میں سماجی، معاشی اور اقتصادی حالات کا دخل ہوتا ہے۔ ترقی پسند تحریک ایک عالمی سطح کی تحریک تھی جس کی بہت سی فلسفیانہ اساس ہیں۔ترقی پسند تحریک کا باقاعدہ آغاز 1936 سے ہوتا ہے۔پیرس میں ایک بین الاقوامی کانفرنس ہوئی جس کانفرنس میں سجاد ظہیر اور ملک راج آنند وغیرہ موجود تھے۔ سجاد ظہیر، ملک راج آنند، پرمود سین گپتا، محمد دین تاثیر وغیرہ نے لندن میں ترقی پسند تحریک کا ایک خاکہ تیار کیا، اس طرح لندن میں ترقی پسند تحریک کی بنیاد پڑگئی اور ہندوستان آنے کے بعد ان ادیبوں نے ہم خیال ادیبوں کو اکٹھا کرنا شروع کیا اور 1936 میں ترقی پسند تحریک کی پہلی کل ہند کانفرنس لکھنؤ میں ہوئی جس کی صدارت معروف ہندی اور اردو کے فکشن نگار منشی پریم چند نے کی۔ اس پہلی کل ہند ترقی پسند کانفرنس میں ہندوستان کے اہم ادبا اور دانشور شریک تھے۔ پریم چند کا یادگاری خطبہ بہت اہم تھا جس میں ترقی پسند تحریک کے رموز و نکات پر روشنی ڈالی گئی تھی۔ زیر تبصرہ کتا ب’’ اردو ادب کی ترقی پسند تحریک تحقیقی وتنقیدی جائزہ ‘‘احمد پراچہ کی مرتب شدہ ہے ۔موصوف نے اردو ادب کے معتبر اور مستند نقادوں کی تحریروں کا گہرا مطالعہ کر کے جہاں جہاں سے ترقی پسند نظریہ ادب یا ترقی پسند اد بی تحریک کےبارے میں اشارے اقتباسات یا مفصل مضامین اورمقالات ملے ان کو متوازن نقطۂ نظر کےتحت اس کتاب میں شامل کر کے یکجا کردیا ہے تاکہ اردو ادب کی ترقی پسند تحریک کے حوالے سے طلباء کے علاوہ اس موضوع...

  • 3 اردو املا (بدھ 29 جون 2016ء)

    مشاہدات:2984

    ہماری قومی زبان اردو اگرچہ ابھی تک ہمارے لسانی و گروہی تعصبات اور ارباب بست و کشاد کی کوتاہ نظری کے باعث صحیح معنوں میں سرکاری زبان کے درجے پر فائز نہیں ہو سکی لیکن یہ بات محققانہ طور پر ثابت ہے کہ اس وقت دنیا کی دوسری بڑی بولی جانے والی زبان ہے۔ ہر بڑی زبان کی طرح اس زبان میں بے شمار کتب حوالہ تیار ہو چکی ہیں اور اس کے علمی، تخلیقی اور تنقیدی و تحقیقی سرمائے کا بڑا حصہ بڑے اعتماد کے ساتھ عالمی ادب کے دوش بدوش رکھا جا سکتا ہے۔ ایسی زبان اس امر کی متقاضی ہے کہ اسے صحیح طور پر لکھا بولا جا سکے۔ کیونکہ کسی بھی زبان کی بنیادی اکائی اس کے اصول وقواعد ہیں۔ زبان پہلے وضع ہوتی ہے اور قواعد بعد میں لیکن زبان سے پوری واقفیت حاصل کرنے کےلیے قواعد زبان سے آگاہی ضروری ہے۔ اہل زبان نے قواعد کی ضرورت کبھی محسوس نہیں کیا اس لیے انہوں نے قواعد مرتب نہیں کیے۔ اس حقیقت سے انکار ممکن نہیں ہے کہ اردو بولنے یا لکھنے والے پاکستانیوں کی بہت بڑی تعداد اپنی قومی زبان کی صحت کی طرف سے سخت غفلت برت رہی ہے۔ سکولوں اورکالجوں کےلیے گرائمر کی متعدد کتابیں شائع ہوئیں ہیں جو کاروباری مقاصد کو سامنے رکھ کر تیار کی گئیں۔جن میں گرائمر برائے نام اور انشاپردازی کےلیے اِدھر اُدھر سے مواد اکٹھا کر کے ضخیم بنادیاگیا ہے۔ جن میں کسی ترتیب کاخیال نہیں رکھا گیا۔ صرف اور نحو کوباہم گڈمڈ کردیاگیا ہے۔ روزہ مرہ ،محاورہ، ضرب المثل اور مقولہ میں تمیز کےبغیر انہیں شامل کتاب کردیا گیا ہے۔ ان کتابوں میں صرف امتحانی ضروریات کا خیال رکھاگیا ہے لیکن ان سے لسانی تقاضے پورے نہیں ہوتے۔ اسی لیے اخبارات ورسائل...

  • 4 اردو قواعد (پیر 13 فروری 2017ء)

    مشاہدات:3733

    اُردو برصغیر کی زبانِ رابطۂ عامہ ہے۔ اس کا اُبھار 11 ویں صدی عیسوی کے لگ بھگ شروع ہو چکا تھا۔ اُردو، ہند- یورپی لسانی خاندان کے ہند- ایرانی شاخ کی ایک ہند- آریائی زبان ہے. اِس کا اِرتقاء جنوبی ایشیاء میں سلطنتِ دہلی کے عہد میں ہوا اور مغلیہ سلطنت کے دوران فارسی، عربی اور ترکی کے اثر سے اس کی ترقّی ہوئی۔ اُردو (بولنے والوں کی تعداد کے لحاظ سے) دُنیا کی تمام زبانوں میں بیسویں نمبر پر ہے. یہ پاکستان کی قومی زبان جبکہ بھارت کی 23 سرکاری زبانوں میں سے ایک ہے. اُردو کا بعض اوقات ہندی کے ساتھ موازنہ کیا جاتا ہے. اُردو اور ہندی میں بُنیادی فرق یہ ہے کہ اُردو نستعلیق رسم الخط میں لکھی جاتی ہے اور عربی و فارسی الفاظ استعمال کرتی ہے. جبکہ ہندی دیوناگری رسم الخط میں لکھی جاتی ہے اور سنسکرت الفاظ زیادہ استعمال کرتی ہے. کچھ ماہرینِ لسانیات اُردو اور ہندی کو ایک ہی زبان کی دو معیاری صورتیں گردانتے ہیں. تاہم، دوسرے اِن کو معاش اللسانی تفرّقات کی بنیاد پر الگ سمجھتے ہیں۔ بلکہ حقیقت یہ ہے کہ ہندی، اُردو سے نکلی۔ ہر زبان کے لئے کچھ اصول اور قوانین ہوتے ہیں، جن سے اس زبان کو صحیح طور سے سیکھا اور استعمال کیا جا سکتا ہے۔ زبان کی درستی اور اس کی خوبصورتی کو برقرار رکھنے کے لئے ان قوانین پر عمل درآمد کرنا ضروری ہوتا ہے۔ اردو زبان کے بھی کچھ اصول ہیں، جنہیں قواعد یا گرامر کہا جاتا ہے۔ ان کے جاننے سے اردو زبان کو ٹھیک طریقے سے بولا اور سمجھا جا سکتا ہے۔ زیر تبصرہ کتاب"اردو قواعد"محترم ڈاکٹر شوکت سبز واری صاحب کی تصنیف ہے، جس میں انہوں نے اردو زبان کے قواعد اور ان...

  • 5 اردو قواعد و انشا پردازی حصہ دوم (ہفتہ 28 جنوری 2017ء)

    مشاہدات:3204

    اُردو برصغیر کی زبانِ رابطۂ عامہ ہے۔ اس کا اُبھار 11 ویں صدی عیسوی کے لگ بھگ شروع ہو چکا تھا۔ اُردو ، ہند-یورپی لسانی خاندان کے ہند-ایرانی شاخ کی ایک ہند-آریائی زبان ہے. اِس کا اِرتقاء جنوبی ایشیاء میں سلطنتِ دہلی کے عہد میں ہوا اور مغلیہ سلطنت کے دوران فارسی، عربی اور ترکی کے اثر سے اس کی ترقّی ہوئی۔ اُردو (بولنے والوں کی تعداد کے لحاظ سے) دُنیا کی تمام زبانوں میں بیسویں نمبر پر ہے. یہ پاکستان کی قومی زبان جبکہ بھارت کی 23 سرکاری زبانوں میں سے ایک ہے. اُردو کا بعض اوقات ہندی کے ساتھ موازنہ کیا جاتا ہے. اُردو اور ہندی میں بُنیادی فرق یہ ہے کہ اُردو نستعلیق رسم الخط میں لکھی جاتی ہے اور عربی و فارسی الفاظ استعمال کرتی ہے. جبکہ ہندی دیوناگری رسم الخط میں لکھی جاتی ہے اور سنسکرت الفاظ زیادہ استعمال کرتی ہے. کچھ ماہرینِ لسانیات اُردو اور ہندی کو ایک ہی زبان کی دو معیاری صورتیں گردانتے ہیں. تاہم، دوسرے اِن کو معاش اللسانی تفرّقات کی بنیاد پر الگ سمجھتے ہیں۔ بلکہ حقیقت یہ ہے کہ ہندی ، اُردو سے نکلی۔ ہر زبان کے لئے کچھ اصول اور قوانین ہوتے ہیں، جن سے اس زبان کو صحیح طور سے سیکھا اور استعمال کیا جا سکتا ہے۔ زبان کی درستی اور اس کی خوبصورتی کو برقرار رکھنے کے لئے ان قوانین پر عمل درآمد کرنا ضروری ہوتا ہے۔ اردو زبان کے بھی کچھ اصول ہیں، جنہیں قواعد یا گرامر کہا جاتا ہے۔ ان کے جاننے سے اردو زبان کو ٹھیک طریقے سے بولا اور سمجھا جا سکتا ہے۔ زیر تبصرہ کتاب" اردو قواعد وانشاء پردازی "محترمہ ماہ لقا رفیق صاحبہ کی تصنیف ہے ، جس میں انہوں نے اردو زبان کے ق...

  • 6 اردو مختصر نویسی (بدھ 06 جنوری 2016ء)

    مشاہدات:2282

    پاکستان میں رہنے والے اکثر لوگوں کی زبان اردو ہے، جو اردو میں ہی گفتگو کرتے ہیں اور اردو میں ہی اپنی تحریریں لکھتے ہیں۔آئینی طور پر حکومت پاکستان پر لازم تھا کہ وہ 1988ء تک اردو کو بطور دفتری زبان کے رائج کرے۔لیکن افسر شاہی نے بیوروکریٹس نے کبھی اس طرف دھیان نہیں دیا اور ارود کے نفاذ میں روڑے اٹکاتے آئے۔دفاتر میں اردو کے نفاذ کی راہ میں سب سے بڑی رکاوٹ تربیت یافتہ عملے کی کمی بیان کی جاتی ہے۔اس کمی کو پورا کرنے کے لئے مقتدرہ قومی زبان اور صوبائی اور وفاقی حکومتوں نے اردو مختصر نویسی اور ٹائپ کاری کے متعدد تربیتی مراکز قائم کئے ہیں۔ زیر تبصرہ کتاب"اردو مختصر نویسی"محترم نور احمد شاد صاحب کی تصنیف ہے، جوان مراکز میں تربیت پانے والے طلباء کی سہولت کے پیش نظر لکھی گئی ہے۔امید ہے کہ اردو مختصر نویسی سیکھنے کے شائق دوسرے طلباء بھی اس کتاب کو کارآمد اور مفید پائیں گے۔اللہ کرے کہ ہماری حکومت اردو زبان کو دفاتر میں رائج کرنے کے لئے مخلص ہو جائے اور افسر شاہی کے ہتھکنڈوں اور جالوں کا شکار نہ ہو۔ابھی حال ہی میں سپریم کورٹ آف پاکستان نے بھی حکومت کو اس طرف توجہ دلائی ہے۔اللہ ہمیں غیروں کی زبان کی بجائے اپنے ملک میں اپنی قومی زبان نافذ کرنے کی ہمت دے۔آمین(راسخ)

  • 7 اردو میں اسلامی ادب کی تحریک (بدھ 25 جولائی 2018ء)

    مشاہدات:881

    اسلامی ادب کی تحریک اردو ادب کی اہم ادبی تحریک ہے ۔ اسلامی ادب کا نظریہ ہر عہد ، ہر ملک اور ہر زبان کے ادب میں ایک توانا فکر رہا ہے۔اسلامی ادب کی تحریک کی فکری اساس میں توحید ، رسالت اور آخرت میں جواب دہی کے تصورات بڑی اہمیت کے حامل ہیں ۔ اس نظریہ کی ہمہ گیری یہ ہے کہ حیات کائنات اور انسان کے بارے میں کوئی ایسا سوال نہیں ہے جس کا واضح اور تسلی بخش جواب اس کے پاس نہ ہو۔ادب اسلامی کی اصطلاح کو ماضی میں اعتراضات اور غلط فہمیوں کی متعدد یلغاروں کا سامنا کرنا پڑا ہے،یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ تحریک ادب اسلامی کے ابتدائی ایّام میں اس کی صف میں کہنہ مشق مقام و مرتبہ رکھنے والے ادیبوں اور شاعروں نے شامل ہونے کی زحمت گوارہ نہ کی ۔ تحریک ادب اسلامی نے اردو ادب کو بلاشبہ ایک سمت و رفتار عطا کی ہے عصر حاضر میں ترقی پسندی اور جدیدیت کے درمیان ایک تیسرا واضح اور نمایاں رجحان تعمیری ادب یا اسلامی ادب کا سامنے آیا ہے اس حلقہ سے وابستہ فنکاروں نے ہر صنف ادب میں کچھ نمایاں کوششیں ضرور کی ہیں ۔پروفیسر فروغ احمد اسلامی ادیبوں میں ممتاز مقام کے حامل ہیں ، ڈھاکہ میں رہتے ہوئے وہ اردو ادب میں اسلامی رجحانات کے فروغ میں ہمیشہ کوشاں رہے ہیں۔ 1968ء میں ان کی ایک کتاب ’’ اسلامی ادب کا جائزہ‘‘ لاہور سے شائع ہوئی تھی جس میں اسلامی ادب کی نظریاتی اساس،اس کا تاریخی پس منظر اور اردو ادب پر اسلامی تحریکات کے اثرات پر مضامین شامل ہیں۔ اسی طرح پروفیسر اسرار حمد سہاوری نے ’’ادب اور اسلامی قدریں ‘‘ کے عنوان سے باہمی تعلق، ادب اور مقصدیت ،ادب...

  • 8 اردو میں ذخیرہ الفاظ بڑھانے کے طریقے (ہفتہ 28 اپریل 2018ء)

    مشاہدات:1536

    ہم اپنی نسل نو کے لیے بہت سی توقعات رکھتے ہیں مگر ان توقعات پر پورا اترنے کے لیے ان کو وسائل مہیا نہیں کرتے۔ یہ بالکل اسی طرح ہے جیسے ہم کسی مصور کو رنگ دیے بغیرہ یہ کہیں کہ ہمیں ایک خوبصورت سی تصویر بنا دو۔ بھلا رنگوں کے بغیر تصویر کس طرح بن  سکتی ہے؟ بالکل اسی طرح الفاظ کے بغیر تحریر یا تقریر کیسے بن سکتی ہے؟۔ الفاظ کا ذخیرہ ہو تو تحریر یا تقریر بنتی ہے اور ان الفاظ کے استعمال میں کمال حاصل ہو تو الفاظ سے تصویر بھی بنائی جا سکتی ہے۔ہم اپنے طلباء سے بہت سی امیدیں رکھتے ہیں لیکن ہم انہیں وسائل نہ دیں تو وہ ہماری امیدیں پر پورا نہیں اتر سکیں گے مثلا ہم طلباء میں تحریر وتقریر کی قابلیت اور دسترس چاہتے ہیں تو انہیں وسائل دینا بھی ان کا حق ہے۔زیرِ تبصرہ کتاب خاص اسی موضوع پر ہے جس میں مصنف نے طلباء کے لیے الفاظ کا ذخیرہ مہیا کیا ہے کیونکہ الفاظ کے بغیر تحریروتقریر ناممکن سی بات ہے اور طلباء بولتے بولتے خاموش ہو جاتے ہیں تو وجہ پوچھی جائے تو جواب ملتا ہے کہ الفاظ ڈھونڈ رہے تو اس کتاب کے مطالعے سے اس بات کی کمی محسوس نہیں ہوگی کہ الفاظ ڈھونڈنے پڑیں گے۔ طلباء کے پاس الفاظ ہوں گے تو وہ ان کا استعمال بھی کریں گے بالکل اسی  طرح جیسے روپیہ پیسہ ہو تو اسے استعمال کرنے کے راستے اور ذرائع ملتے رہتے ہیں۔ اسی طرح الفاظ ہوں گے تو ان کے استعمال کے راستے اور ذرائع بھی ملتے جائیں گےاور بچوں میں اس کی قابلیت پیدا کرنے کے لیے اساتذہ کے لیے بھی مفید مشورے ہیں۔ کتاب کا اسلوب نہایت عمدہ‘سادہ اور عام فہم ہے۔ یہ کتاب’’ اردو میں ذخی...

  • خاکہ نگاری یا شخصیت نگار ی کسی انسان کے بارے ایک ایسی تحریر ہوتی ہے جس میں ایک شخصیت کے گفتار و کردار کا اس انداز سے مطالعہ کیا جاتا ہے کہ وہ شخص ایک زندہ آدمی کی طرح تخیل کے سہارے متحرک ہو کر چلتی پھرتی روتی ہنستی اور اچھے برے کام کرتا نظرآئے۔ جتنے جاندار اور بھر پور انداز سے شخصیت ابھر ے گی اتنا ہی خاکہ کامیاب نظرآئے گا۔خاکہ نگاری ایک بہت مشکل صنف ادب ہے۔اردو ادب میں خاکہ نگاری عہد جدید کی پیداوار ہے اور یہ بھی دیگر اصناف ادب کی طرح انگریزی ادب کے ذریعے ہی سے اردو ادب میں رائج ہوئی اور بہت جلد افسانے اور ناول کی طرح اردو ادب کا تخلیقی حصہ بن گئی۔اردوخاکہ نگاری کی تاریخ کچھ زیادہ پرانی نہیں لیکن ہئیت اور مواد دونوں سطح پر دیگر اصناف کے اثرات قبول کرنے کے باوجود باقاعدہ خاکہ نگاری کا اردو ادب میں آغاز بیسویں صدی میں ہوا۔ زیر تبصرہ کتاب ’’اردو میں شخصیت نگاری تحقیقی ونتقیدی جائزہ دورِ سرسید سے 1985 ءتک‘‘ محترمہ بشریٰ ثمینہ صاحب کا وہ تحقیقی مقالہ ہے جو انہوں نے ڈاکٹر روبینہ ترین (چیئرمین شعبہ ارود بہاؤ الدین زکریا یونیورسٹی ،ملتان) کی نگرانی میں بہاؤ الدین زکریا یونیورسٹی ،ملتان کے شعبہ اردو میں پیش کر کے ڈاکٹریٹ کی ڈگری حاصل کی ۔اس مقالہ کوانہوں نے چھ ابواب میں تقسیم کیا ہے۔ باب اول شخصیت نگاری کافن، باب دوم اردو میں شخصیت نگاری کی روایت ، باب ثالث شخصیت نگاری آزاد سے عہد جدید تک، باب چہارم شخصیت نگاری میں اسلوب اور تکنیک کانتوع اور چھٹا باب اردو میں شخصیت نگاری کےرجحانات کے تحقیقی وتنقیدی جائزہ پر مشتمل ہے۔ (م۔ا)

  • سیرت رسولﷺ اور مدح رسولﷺ ایسا عنوان ہے جو ہر سیرت نگار کی زندگی کا بڑا حصہ ہے اور اس ہمارے ایمان کا تقاضا بھی ہے کہ ہم نبیﷺ سے اپنے مال وجان اور اعزاء سے بڑھ کر ان سے محبت کریں اور ان کی سیرت کو لوگوں کے سامنے بیان کریں اور نبیﷺ سے محبت کا تقاضا ہے کہ ان کے احکامات واوامر کو من وعن تسلیم کیا جائے اور ان پر عمل پیرا ہوا جائے۔ اس عنوان پر بے بہا مواد لکھا جا چکا ہے اور بڑی ضخیم کتب اس عنوان کے سیر سایۂ منظر عام پر آ چکی ہیں۔زیرِ تبصرہ کتاب  بھی خاص اسی موضوع کے حوالے سے ہے جس میں نعتیہ ادب میں تازہ تحقیقی و تنقیدی اضافہ ہے۔یہ کتاب پانچ ابواب، تعریف، تاریخ، رجحانات، تقاضے اور اہل دانش کی آراء پر مشتمل ہے۔ اردو نعت کی شعری روایت کو اس کتاب کی صورت میں مصنف نے دریا کو کوزے میں بند کرنے کی کامیاب کوشش کی ہے کیوں کہ یہ کتاب نہ صرف نعت گوئی سے دلچسپی رکھنے والوں کے لیے ایک نادر دستاویز ہے، بلکہ عام قاری اور بالخصوص تحقیق کے طلبا کے لیے انتہائی اہمیت کی حامل ہے۔ پہلی بار اردو نعت کی ادبی، جمالیاتی اور فکری اقدار کا تعین کیا تھا۔ کتاب میں شامل مشاہیر کی ایک کثیر تعداد ایسی ہے، جن کی تحریریں متعلقہ موضوع پر مقبولِ عام ہیں۔کم و بیش اردو ادب کے تمام نمایاں دانشور اس تحقیق کا حصہ بنے ہیں۔ اتنے وسیع پیمانے پر تحریروں کو یکجا کرنے کا ہنر صبیح رحمانی کے مزاج کا خاصا ہے اور اس موضوع پر ان کے خلوص کی گواہی بھی، جس کا ہر ورق ان کی محنت اور محبت کی عکاسی کر رہا ہے۔ کتاب کے ناشر معروف افسانہ نگار اور شاعر مبین مرزا نے بھی اپنی پیشہ ورانہ مہارت کا مظاہرہ کرتے ہوئے ا...

    شعر 


ایڈوانس سرچ

اعدادو شمار

  • آج کے قارئین: 1060
  • اس ہفتے کے قارئین: 6498
  • اس ماہ کے قارئین: 31402
  • کل مشاہدات: 42911383

موضوعاتی فہرست

ای میل سبسکرپشن

محدث لائبریری کی اپ ڈیٹس بذریعہ ای میل وصول کرنے کے لئے ای میل درج کر کے سبسکرائب کے بٹن پر کلک کیجئے۔

رجسٹرڈ اراکین

ایڈریس

        99--جے ماڈل ٹاؤن،
        نزد کلمہ چوک،
        لاہور، 54700 پاکستان

       0092-42-35866396، 35866476، 35839404

       0092-423-5836016، 5837311

       library@mohaddis.com

       بنک تفصیلات کے لیے یہاں کلک کریں