• pages-from-shaika-ul-hadith-muhammad-abdullah-werawalwi-hayat-w-khidmat
    سعید احمد چنیوٹی
    سرزمین فیصل آباد کو جن نفوس قدسیہ نے کتاب و سنت کے علم سے سیراب کیا ان میں سے  ایک  استاذ العلماء ، شیخ الحدیث حضرت مولانا محمد عبداللہ محدث امرتسری ہیں ۔ کلیہ دارالقرآن و الحدیث انہی کی یاد گار ہے جو تقریبا نصف صدی سے علم و عمل کے میدان میں اپنی خدمات سر انجام دے رہا ہے ۔ یہ درسگاہ انہوں نے آزادی برصغیر کے بعد قائم کی تھی ۔ جس سے بے شمار حضرات  استفادہ کر چکے ہیں ۔ مولانا نے ہمیشہ ہی دنیا سے بے رغبتی اختیار کی بلکہ وغظ و تبلیغ اور تدریس  کی جو خدمات سرانجام دیتے اس کا بھی معاوضہ نہ لیتے اور اپنی تجارت شروع کی ۔ انہوں نے اپنی تمام دلچسپیوں کا مرکز اپنے طلباء کو بنا رکھا تھا انہیں اللہ کے دین سے روشناس کرانا ان کی زندگی کا مقصد اولین تھا ۔ آپ نحو ، صرف ، منطق ، بلاغت ، معانی میں یکتائے روز گار تھے ۔ اور علم الفرائض کے تو گویہ امام تھے ۔ اس علم کی معروف کتاب السراجی کی انہوں نے شرح بھی لکھی ہے ۔ آپ علوم میں بہت زیادہ رسوخ رکھتے تھے ۔ اسی وجہ سے آپ کے اساتذہ آپ پر مکمل اعتماد کر تے تھے ۔ ان کی علالت  یا عدم موجودگی میں آپ ہی مسند تدریس ارشاد فرمایا کر تے تھے ۔ (ع۔ح)

    نوٹ:
    محدث فورم میں اس کتاب پر تبصرہ کرنے کے لیے یہاں کلک کریں
  • محفوظ الرحمن فیضی

    بارہویں صدی ہجری میں عالم اسلام کا زوال وانحطاط اپنی حدکو پہنچ چکا تھا۔ مسلمان ہراعتبارسے پستی اور تخلف کا شکارتھے۔ سیاسی،ثقافتی،اخلاقی اور علمی انحطاط کے ساتھ ساتھ دینی اعتبارسے بھی یہ سخت زبوں حالی کاشکارتھے۔ دین کی گرفت نہ صرف یہ کہ مسلمانوں پرڈھیلی پڑچکی تھی بلکہ صحیح بات یہ ہے کہ دین ان کی زندگی سے پورے طور پر نکل چکا تھا۔ان پرآشوب حالات میں عالم اسلام خصوصاً جزیرۃ العرب پراللہ کافیضان ہوا، اورشیخ الاسلام امام محمدبن عبدالوہاب تیمی نجدی ﷫نے نجدکی’ عیُیَیْنَہ‘‘نامی بستی میں ایک علمی خانوادہ کے اندر ۱۱۱۵ھ مطابق ۱۷۰۳ء میں آنکھیں کھولیں،اورسن شعورکو پہونچنے کے بعدتحصیل علم میں لگ گئے، اپنے والد شیخ عبدالوہاب سے جونجدکے علماء میں ممتاز تھے کسب فیض کیا اورمزید علم کی تلاش میں حجاز کا رخ کیا اورمدینۃ الرسول پہونچ کر وہاں کے علماء ومشائخ سے حدیث کا درس لیا اورپھر مزید علمی تشنگی بجھانے کے لئے بصرہ کاقصدکیا اور وہاں پہونچ کر حدیث وادب میں مزید مہارت پیداکی، اور اس کے بعدآپ اپنے علاقہ نجدمیں واپس آکر دعوت وتبلیغ میں مصروف ہوگئے۔آپ انتہائی ذکی وفطین، قوی وجری، مخلص وغیور اور دین میں پہاڑ کی طرح سخت اور عقیدہ توحید کے اظہار واعلان میں مومنانہ عزم وبصیرت اور استقامت کے مالک تھے۔ زیر تبصرہ کتاب" شیخ محمد بن عبد الوھاب ﷫ کے بارے میں دو متضاد نظریے "محترم مولانا محفوظ الرحمن فیضی صاحب کی تصنیف ہے جس میں انہوں نے امام محمدبن عبد الوھاب شیخ محمد بن عبد الوھاب ﷫ کے بارے میں دو متضاد نظریے کے حالات زندگی پر روشنی ڈالی ہے اور ان کے بارے میں پائے جانے والے دو متضاد نظریات کا باہمی موازنہ کرتے ہوئے حقیقت حال کو واضح کیا ہے۔ اللہ تعالی سے دعا ہے کہ وہ مولف موصوف کی اس کاوش کو اپنی بارگاہ میں قبول فرمائے اور ان کے میزان حسنات میں اضافہ فرمائے۔آمین(راسخ)

  • title-pages-talib-ilam-k-shab-o-roz-copy
    محمد روح اللہ نقشبندی غفوری

    دینی مدارس میں قرآن وحدیث اوران سے متعلقہ علوم کی تعلیم دی جاتی ہے۔ یہ مدارس صدیوں سے اپنے ایک مخصوص نظام ومقصد کے تحت آزادانہ دین کی خدمت سر انجام دے رہے ہیں۔یہ مدارس اپنے مخصوص پس منظر اورخدمات کے لحاظ سے اسلامی معاشرے کا ایک ایسا اہم حصہ ہیں جن کی تاریخ اور خدمات سنہرے الفاظ سے لکھے جانے کے قابل ہیں۔ ان میں پڑھنے پڑھانے والے نفوسِ قدسیہ نے ہر دور میں باوجود بے سروسامانی کے دین اسلام کی حفاظت وصیانت کا قابل قدر فریضہ انجام دیا ہے۔ یہ انہی مدا رس کا فیض ہے کہ ملک میں اللہ اور اس کے رسول کا چرچا ہے، حق وباطل کا امتیاز قائم ہے، دینی اقدار وشعائر کا احترام وتصور عوام میں موجود ہے اور عوام اسلام کے نام پر مرمٹنے کے لیے ہمہ وقت تیار رہتے ہیں۔دینی مدارس کی ان بے شمار خوبیوں  کے ساتھ ساتھ اب لمحہ فکریہ یہ ہے کہ طلبہ اور اساتذہ میں جو خاص تعلق اور نسبت ہونی چائیے تھی وہ اب مفقود نظر آ رہی ہے۔اخلاق وکردار، اخلاص، للہیت دینی درد اور مذہبی حمیت جیسی صفات سے دوری بڑھتی جارہی ہے۔یہی وجہ ہے کہ فراغت کے بعد ہمارے ی نو نہال جب زندگی کے میدان میں قدم رکھتے ہیں تو اپنے آپ کو ادھورا محسوس کرتے ہیں اور امت کو بھی ان سے پورا فائدہ نہیں  حاصل ہوتا ہے۔ زیر تبصرہ کتاب"طالب علم کے شب وروز"محترم مولانا محمد روح اللہ نقشبندی صاحب کی تصنیف ہے، جس میں انہوں نے دینی طالب علم کے شب وروز پر بڑی شاندار گفتگو کی ہے کہ ایک طالب علم کے لیل ونہار کیسے گزرنے چاہئیں۔اللہ تعالی سے دعا ہے کہ وہ مولف کی اس محنت کو اپنی بارگاہ میں قبول ومنظور فرمائے اوران کے میزان حسنات میں اضافہ فرمائے۔آمین(راسخ)

  • allama-ibne-baaz
    ابو عدنان محمد منیر قمر
    شیخ ابن باز  رحمۃ اللہ علیہ 1330ھ کو سعودی عرب کے شہر الریاض میں پیدا ہوئے اور وہیں پلے بڑھے۔ سولہ برس کی عمر میں شیخ صاحب کی بینائی کمزور ہونا شروع ہوئی اور تقریباً بیس سال کی عمر تک آپ بینائی سے محروم ہو گئے۔ لیکن اس محرومی کو خاطر میں نہ لاتے ہوئے آپ سے آگے سے آگے بڑھتے رہے، اللہ تعالیٰ نے آپ کو بصارت سے محروم کیا تو حافظہ کی قوت اور بصیرت کی بے پناہ دولت سے مالا مال کیا۔ پیش نظر کتاب میں فضیلۃ الشیخ محمد منیر قمر شیخ موصوف کی زندگی کے عوام الناس سے پوشیدہ بہت سے گوشوں کو منظر عام پر لائے ہیں۔ شیخ صاحب کی علمیت کا اندازہ اس سے لگائیے کہ سعودی عرب کے سپریم کورٹ کے چیف جسٹس علامہ عبداللہ بن سلیمان المنیع نے شیخ ابن باز کو عہد حاضر کے مجدد، امام فن رجال، امام حدیث، امام کرم نفس و دست، امام نصیحت، امام سماحت، امام تواضع، امام قناعت، امام تقویٰ، امام صلاح و اصلاح جیسے القابات سے نوازا۔ ایسے شخص کی زندگی یقیناً عوام و خواص کے لیے نظیر  ہے۔ اردو زبان میں علامہ صاحب کی زندگی سے متعلق اس قدر تفصیلی اور معتبر مواد سے اس سے قبل سامنے نہیں آیا۔ (عین۔ م)

    نوٹ:
    محدث فورم میں اس کتاب پر تبصرہ کرنے کے لیے یہاں کلک کریں

  • title-pages-allama-safi-ur-rehman-mubarakpuri-yadon-k-safar-main
    رضوان اللہ ریاضی
    مولانا صفی الرحمٰن مبارکپوری ان خوش نصیبوں میں سے ہیں جنہیں سیرت سرور عالم  پر لکھنے  کی  سعادت ملی ہے۔آپ کا اسم گرامی جیسے زبان پر آتا  ہے ویسے ہی آپ کی   عظیم ترین  کاوش  الرحیق المختوم یاد آجاتی ہے۔آپ عصر حاضر کے ان علماء میں سے تھے  جو رسوخ فی العلم رکھتے تھے۔آپ اعظم گڑھ، مبارکپور کی سرزمین پرچھے جون انیس سو بیالیس  میں پیدا ہوئے تھے۔بستی کا نام حسین آباد جو قصبہ مبارکپور   کے شمال  میں تقریبا دو کلو میٹر کے فاصلے پر واقع ہے۔اسی طرح مولانا کی تعلیم ، تدریس اور دیگر کار ہائےنمایاں کے بارےمیں یہ کتاب رقم کی گئی ہے۔جسے موصوف مرتب  انتہائی زیادہ کاوشوں کے ساتھ  منصہ شہود پر لے کر آئے ہیں۔ساتھ ان کی طرف سے یہ شکوہ کیا گیا  ہے کہ  افسوس کی بات   ہے  کہ  ایک اتنی  بڑی شخصیت کے  آنکھوں سے اوجل ہونے کے باوجود بھی سلفی حضرات کی طرف سے کسی معروف جریدے میں کوئی کلمہء تاسف نہ لکھا گیا۔ اللہ  تعالی محتر م مؤلف کی اس  عظیم کاوش کو قبول فرمائے۔(ع۔ح)
  • title-pages-allama-abdul-aziz-memon-copy
    محمد ارشد شیخ

    علامہ عبدالعزیز میمن 23 اکتوبر، 1888ء کو پڑدھری، راجکوٹ، برطانوی ہندوستان میں پیدا ہوئے۔راجکوٹ اور جوناگڑھ سے ابتدائی تعلیم حاصل کرنے کے بعد دہلی پہنچے جہاں سید نذیر حسین محدث دہلوی سے شرف تلمذ حاصل کرنے کےعلاوہ ڈپٹی نذیر احمد اور دیگر علماء سے اکتساب علم کا موقع ملا۔ 1913ء میں پنجاب یونیورسٹی سے مولوی فاضل کا امتحان دیا اور پوری یونیورسٹی میں اول آئے۔ ایڈورڈ کالج پشاور، اورینٹل کالج لاہور اور علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کے شعبہ عربی سے بطور استاد وابستہ رہے۔ قیام پاکستان کے بعد کراچی میں شعبہ تحقیقات اسلامی اور کراچی یونیورسٹی میں شعبۂ عربی قائم کیا پھر 1964ء سے 1966ء تک پنجاب یونیورسٹی میں صدر شعبہ عربی کے فرائض انجام دیے۔پروفیسر علامہ عبدالعزیز میمن پاکستان سے تعلق رکھنے والے عربی زبان و ادب کے نامور عالم، استاد اور 30 سے زیادہ کتابوں کے مصنف، علی گڑھ مسلم یونیورسٹی، پنجاب یونیورسٹی اور کراچی یونیورسٹی کے شعبۂ عربی کے صدر تھے۔موصوف عربی لغت کی باریکیوں سے واقفیت کی بناپر دنیا پر چھاگئے اور کی عربی دانی کا پوری دنیا میں ڈنکا پیٹا اور عربوں نے کھل کر نہ صرف یہ کہ ان کا اعتراف کیا بلکہ اس میں ان کی استاذیت تسلیم کی ۔آپ سرعام عرب ادیبوں کوان کی لسانی غلطیوں پر ٹوکنےکی جرءت رکھتے تھے اورعرب ان کو شکریے کےساتھ قبول کرتےتھے۔حکومت پاکستان نے ان کی ادبی خدمات کے اعتراف کےطور پر انہیں14 اگست، 1965ء کو صدارتی تمغا برائے حسن کارکردگی عطا کیا۔موصوف نے 17اکتوبر 1978 ءکو کراچی میں وفات پائی ۔ زیرتبصرہ کتاب ’’علامہ عبد العزیز میمن سوانح اور علمی خدمات ‘‘ محمد راشد شیخ کی تصنیف ہے یہ کتاب علامہ میمن کے حالات زندگی اور علمی خدمات پر اردو زبان میں اولین کتاب ہے فاضل مصنف یہ کتاب کسی یونیورسٹی سے حصول ڈگر ی کےلیے نہیں لکھی بلکہ عربی زبان سے محبت اور عربی زبان وادب کی ایک عبقری شخصیت سے اردو قارئین کوآگاہ کرنے کےلیے مرتب کی ہے ۔(م۔ا)

  • title-pages-allama-yousaf-kalkatwi-copy
    ملک بشیر احمد

    علم وعمل کے اعتبار سے برصغیر کی سرزمین ہمیشہ سرسبز وشادات رہی ہے ۔ اس میں مختلف اوقات میں بے شماراصحاب علم اور ارباب فضل پیدا ہوئے جنہوں نے اپنے اپنے دور میں بے پناہ علمی خدمات سرانجام دیں اور عملی میدان میں بھی بے حد تگ وتاز کی ۔ تدریس وتصنیف ، تبلیغ واشاعت دین ، وعظ ونصیحت غرض ہر شعبۂ عمل ان کا سلسلہ جدوجہد جاری رہا۔انہی شخصیات کی فہرست میں تحریک پاکستان اور تحریک ختم نبوت میں قید وبند کی صعوبتیں برداشت کرنےوالے عظیم مجاہد علامہ یوسف کلکتوی﷫ کا نام گرامی بھی شامل ہے ۔ موصوف سن 1900ء میں گوداس پور کے ایک قصبہ بھٹویہ تحصیل دینا نگر میں پیدا ہوئے او راپنے عہد کے متعدد جلیل القدر علمائے کرام سےاستفادہ کیا ۔پھر ایک وقت آیا کہ خود مسندِ تدریس پر فائز ہوئے اور خطابت وتقریر میں بھی بڑا نام پایا۔موصوف پُر جوش خطیب تھے کلکتہ میں خطابت کے ساتھ ساتھ سیاہی وعطریات کا کاروباربھی کرتے تھے ۔خود کماکر اپنی گھریلو ضروریات پوری کرتے تھے ۔انہوں نے سیاست میں بھی حصہ لیا اور تحریک پاکستان کے سلسلے میں پورے بنگال میں سرگرم عمل رہے ۔قیام پاکستان کےبعد کراچی آگئے اور اسی شہر میں اپنے کاروبار کا آغاز کیا اور اس کےساتھ ساتھ انہوں نےتدریس وخطابت کاسلسلہ بھی جاری رکھا ۔ان کےتلامذہ کا حلقہ بڑا وسیع ہے ۔ زیر تبصرہ کتاب ’’ علامہ یوسف کلکتوی ﷫‘‘ ملک بشیراحمد کی کاوش ہے ۔موصوف کو مولانا کلکتوی کے ساتھ دس سال رفاقت کا موقع ملا۔مصنف نےاپنے انداز میں مولانا کلکتوی کے علمی اور عملی کارناموں کو ضبط تحریر میں لانے کا اہتمام کیا ہےبے حد محنت سے ان کی زندگی کےمختلف کارناموں کو سپرد قلم کرنےکی کوشش کی ہے یہ کتاب اولاً جامعہ ابن تیمیہ ،لاہور کےترجمان مجلہ نداء الجامعہ میں قسط وار شائع ہوتی رہی بعد ازاں قارئین کےاصرار پر مصنف کے صاحبزادے مولانا شفیق الرحمٰن فرخ ﷾( فاضل جامعہ ابی بکر ،کراچی ،ایڈیٹر مجلہ نداء الجامعہ ،لاہور ) نے اسے مرتب کر کے مزید اضافہ جات کےساتھ اسے کتابی صورت میں شائع کیا ۔(م۔ا)

  • title-pages-qazi-muhammad-suleman-mansor-puri
    محمد اسحاق بھٹی
    برصغیر کے افق علمی پر انیسویں صدی کے نصف اوًل کے بعد چار سلیمان ایسے طلوع ہوئے ، جنہوں نے اپنے اپنے دائرہ علمی میں ایک امتیاز اور اختصاص  حاصل کیا۔شاہ سلیمان پھلواری، سید سلیمان اشرف، سید سلیمان ندوی اور قاضی سلیمان منصورپوری۔چاروں ملت اسلامیہ برصغیر کی علمی محفل کے گوہر شب چراغ تھے۔ان کی سرگرمیوں سے تہذیب اسلامی کو ایک نکھار اور وقار میسر آیا مگر ان میں قاضی محمدسلیمان کی شخصیت میں جو دلآویزی ، خاندانی وجاہت، علمی انہماک ، تدبر و تفکر، آداب و اطوار، زہد و ورع ، فہم و فراست ، امانت و دیانت ، تعلیمی اور تحقیقی استعداد کتاب و سنت کا ذوق اور عملی و کردار کے نقوش دکھائی دیتے ہیں۔آپ رحمہ اللہ نے ایک مجاہد خاندان میں آنکھ کھولی۔اور کئی ایک موضوعات  پر متعدد تصانیف لکھیں۔ جن میں سے سیرت النبی ﷺ کو بالخصوص موضوع بنایا ہے۔سکھ اور انگریز حکومت کے ماتحت زندگی بسر کی اور علم و فکر آبیاری  میں مشغول رہے۔ قاضی  صاحب کی تعلیم و تربیت مشرقی ماحول میں ہوئی۔آپ رحمہ اللہ طبعا بہت ذہین و فطین تھے۔اس پر مستزاد یہ تھا کہ  آپ رحمہ اللہ کے ذوق مطالعہ نے چارچاند لگا دیے۔علوم دینیہ اور فارسی ادبیات  بھر پور استفادہ فرمایا۔زیرنظر کتاب قاضی  صاحب کی سوانح پر ایک جامع دستاویز ہے۔ جسے مولانا اسحاق بھٹی صاحب نے بڑی عرق ریزی  سے تیار کیا ہے۔(ع۔ح)

    نوٹ:
    محدث فورم میں اس کتاب پر تبصرہ کرنے کے لیے یہاں کلک کریں
  • title-pages-mouarrakhe-ahle-hadith-molana-muhammad-ishaq-bhatti-hayat-o-khidmat
    محمد رمضان یوسف سلفی

    مولانا محمد اسحاق بھٹی ﷾ کی شخصیت تعارف کی محتاج نہیں آپ برصغیر پا ک وہند کے اہل علم طبقہ میں او رخصوصا جماعت اہل میں ایک معروف شخصیت ہیں آپ صحافی ،مقرر، دانش ور وادیب اور وسیع المطالعہ شخصیت ہیں ۔ ان کا شمارعصر حاضر کے ان گنتی کےچند مصنفین میں کیا جاتا ہے جن کے قلم کی روانی کاتذکرہ زبان زدِعام وخاص رہتا ہے تاریخ وسیر و سوانح ان کا پسندیدہ موضوع ہے او ر ان کا یہ بڑا کارنامہ ہے کے انہوں نے برصغیر کے جلیل القدر علمائے اہل حدیث کے حالاتِ زندگی او ر ان کےعلمی وادبی کارناموں کو کتابوں میں محفوظ کردیا ہے مولانا محمداسحاق بھٹی ﷾ تاریخ وسیر کے ساتھ ساتھ مسائل فقہ میں بھی نظر رکھتے ہیں مولانا صاحب نے تقریبا 30 سے زائدکتب تصنیف کیں ہیں جن میں سے 26 کتابیں سیر واسوانح سے تعلق رکھتی ہیں مولانا تصنیف وتالیف کےساتھ ساتھ 15 سال ہفت روزہ الاعصتام کے ایڈیٹر بھی رہے الاعتصام میں ان کےاداریے،شذرات،مضامین ومقالات ان کے انداز ِفکر او روسیع معلومات کے آئینہ دار ہیں الاعتصام نے علمی وادبی دنیا میں جو مقام حاصل کیا ہے اس کی ایک وجہ محترم مولانا محمد اسحاق بھٹی ﷾ کی انتھک مساعی اور کوششیں ہیں ۔زیر نظر کتاب مولانا اسحاق بھٹی ﷾ کی حیات وخدمات کے حوالے اہم کتاب ہے جس میں مولانا محمد یوسف سلفی ﷾ نے بھٹی صاحب کی سوانح حیات کا نہایت دلنشیں انداز میں عمدہ اور پر وقار تذکرہ تعارف پیش کیا ہے مولانا محمد رمصان یوسف سلفی ﷾ جماعت اہل حدیث پاکستان کےمعروف قلمکار ہیں ان کے مضامین ومقالات مختلف موضوعات پر ملک کے مؤقر رسائل وجرائد میں شائع ہوتے ہیں رہتے ہیں سلفی صاحب کتاب ہذا کے علاوہ تقریبا 8 کتب کے مصنف ہیں۔(م۔ا)

     

    نوٹ:

    محدث فورم میں اس کتاب پر تبصرہ کرنے کے لیے یہاں کلک کریں

     

  • pages-from-molna-rehmatullah-kiranvi
    اسیر ادروی

    مولانا رحمت اللہ بن خلیل الرحمٰن کیرانوی﷫ کیرانہ ضلع مظفر نگر (یوپی ۔بھارت) میں پیدا ہوئے۔ آپ کا سلسلہ نسب اکتیس واسطوں سے سیدنا عثمان غنی﷜ سے ملتا ہے۔ مولانا کیرانوی نے بارہ برس کی عمر میں قرآن کریم اور فارسی کی ابتدائی کتابیں پڑھیں پھر تحصیل علم کےشوق میں دہلی چلے آئے اور مولانا حیات کے مدرسہ میں داخل ہوکر درس نظامی کی تکمیل کی اور شاہ عبد الغنی وغیرہ سے دورہ حدیث پڑھا طب کی تعلیم حکیم فیض محمد حاصل کی۔ تعلیم سےفراغت کے بعد کچھ عرصہ دہلی میں ملازمت کی اس دوران والد کا انتقال ہوگیا تو آپ وطن واپس آکر درس وتدریس میں مشغول ہوگئے۔ رحمت اللہ کیرانوی اسلام بڑے پاسبانوں میں سے تھے۔ جس زمانے میں ہزاروں یورپی مشنری، انگریز کی پشت پناہی میں ہندوستان کے مسلمانوں کو عیسائی بنانے کی کوششوں میں لگے ہوئے تھے، کیرانوی اور ان کے ساتھی مناظروں، تقریروں کے ذریعے اسلامی عقائد کے دفاع میں مصروف تھے۔ 1270ھ بمطابق 1854ء یعنی جنگ آزادی سے تین سال قبل رحمت اللہ کیرانوی نے آگرہ میں پیش آنے والے ایک معرکہ کے مناظرہ میں عیسائیت کے مشہور مبلغ پادری فنڈر کو شکست دی۔جنگ آزادی 1857ء میں کیرانوی صوفی شیخ حضرت حاجی امداد اللہ (مہاجر مکی) کی قیادت میں انگریز کے ساتھ قصبہ تھانہ بھون میں انگریز کے خلاف جہاد میں شامل ہوئے اور شاملی کے بڑے معرکہ میں بھی شریک ہوئے۔ انگریز کی فتح کے بعد کیرانوی دیگر مجاہدین کی طرح ہجرت کرکے حجاز چلے گئے۔ یہاں آپ نے پادری فنڈر کی کتاب میزان الحق کا جواب اظہار الحق تحریر فرمایا۔ حجاز سے سلطان ترکی کے بلانے پر قسطنطنیہ (حالیہ استنبول) گئے اور وہاں عیسائیوں سے مناظرے کیے۔ زیر تبصرہ کتاب ’’مجاہد اسلام مولانا رحمت اللہ کیرانوی﷫‘‘ محترم جناب اسیرادروی کی مرتب شدہ ہے۔ موصوف نے اس کتاب کو مستند ترین مآخذ سے استفادہ کر کے اس کتاب کو ترتیب دیا ہے۔ موصوف نے اس کتاب کوبیس ابواب میں تقسیم کیا ہے جن میں مولانا کیرانوی کا نام ونسب، خاندان اور وطن، ولادت، تعلیم وتربیت اور درس وتدریس، اسلامی ہند پر عیسائیت کی یلغار، مولانا کیرانوی میدان عمل میں، پادری فنڈر سے خط وکتابت، مولانا کے مناظر ے اور ان کی تصانیف کا تذکرہ کاکیا ہے۔ آخری ابواب میں مولانا کیرانوی کے مکہ مکرمہ میں زندگی کے شب روز کا تذکرہ کیا ہے۔ (م۔ا)

  • title-pages-majallah-bahrul-uloom-muhaddis-ul-asar-no-muhibullah-shah-rashdi
    مختلف اہل علم

    فضیلۃ الشیخ ابو القاسم محب اللہ شاہ راشدی ﷫ کی شخصیت او ر ذات گرامی کسی تعارف کی محتاج نہیں آپ سندھ کے سادات گھرانے راشدی خاندان سے تعلق رکھتے تھے سندھ میں راشدی خاندان نہایت اہمیت کا حامل ہے مسلک اہل کو اس علاقے میں صرف ان کی بدولت ہی ترویج وترقی اور فروغ ہوا اس خاندان کی دینی ملی اور مسلکی خدمات آب زر سے لکھنے کے قابل ہیں شیخ محب اللہ راشدی اپنے وقت کے ایک عظیم مفکر ومحدث تھے اور صاحبِ قلم عالم دین تھے آپ نے مختلف مسائل پر اردو اور سندھی زبان میں نہایت وقیع تحقیقی کتابیں اور رسائل لکھے ۔ زیر نظرکتاب در اصل جامعہ بحر العلوم السلفیہ سندھ کے سہ ماہی مجلہ بحر العلوم کا شیخ محب اللہ شاہ راشدی کی حیات وخدمات وتاثرات پر مشتمل خاص نمبر ہے جس میں شیخ کے متعلق نامور علماء اور اہل قلم کے مضامین اور اور تاثرات کو مدیر مجلہ جناب افتخار احمد تاج الدین الازہر ی ﷾ او ران کے رفقاء نے بڑی محنت سے جمع کرکے شائع کیا ہے اللہ تعالی شیخ محب اللہ کے درجات بلند فرمائے۔(آمین) (م۔ا)

     

  • pages-from-majallah-khaatam-ul-nabiyyeen
    عبد الحفیظ مظہر

    بابائے تبلیغ مولانا محمد عبد اللہ گورداسپوری﷫ کی شخصیت کسی تعارف کی محتاج نہیں ہے۔آپ نے اپنی پوری زندگی دعوت وتبلیغ میں کھپا دی اور تحریک ختم نبوت میں بڑی گراں قدر خدمات انجام دیں۔آپ دین اسلام کی دعوت کو عام کرنے کے مشن میں متعدد بار پابند سلاسل بھی ہوئے ،اور آپ کو مختلف قسم کی اذیتیں دی گئیں ،لیکن آپ کے ایمان میں ذرہ برابر بھی لغزش نہ آئی۔آپ نے قادیانیوں سے متعدد مناظرے کئے اور ان کے ایسے چھکے چھڑائے کہ وہ میدان میں کھڑے نہ رہ پائے۔آپ عقلی ونقلی دلائل کا پہاڑ تھے،اور فریق مخالف کو چند ہی لمحوں میں خاموش کرا دیا کرتے تھے۔ موصوف کے بیٹے   محترم ڈاکٹر بہاؤالدین ﷾ نے بھی   تقریبا 33 جلدوں پر مشتمل کتاب ’’تحرک ختم نبو ت ‘‘اور 6 جلدوں میں تاریخ اہل حدیث لکھ     عظیم الشان خدمت سرانجام دے ہے۔ کتب کی تیاری او رمواد جمع کرنے کے لیے ڈاکٹر بہاؤالدین﷾ کے بیٹے سہیل احمدکی خدمات بھی لائق تحسین ہیں ۔ زیر تبصرہ مجلہ عالمی تحریک ختم نبوت اہل حدیث کے زیر اہتمام ڈسکہ سیالکوٹ سے شائع ہوتا ہے،جس کے مدیر اعلی محترم عبد الحفیظ مظہر اور مدیر حافظ عبد الستار بخاری ہیں۔یہ اس کی خصوصی اشاعت ہے،جس میں بابائے تبلیغ مولانا محمد عبد اللہ گورداسپوری﷫ کی حیات وخدمات کو اجاگر کیا گیا ہے۔ اللہ تعالی مدیران مجلہ اور مقالہ نگار حضرات کی ان محنتوں کو قبول فرمائے اور ہمیں بھی ان جیسے بزرگوں کے نقش قدم پر چلتے ہوئے دین اسلام کی خدمت کرنے کی توفیق اور ہمت دے۔آمین(راسخ)

  • title-pages-shaikh-ul-islam-muhammad-bin-abdul-wahab
    احمد عبد الغفور عطار
    امت مسلمہ کے اندر مختلف ادوار میں مختلف طریقوں سے شرک و بدعت نے راہ پائی ہے ۔ یہ ایک المیہ ہے کہ انسانیت  اپنے آغاز آفرینش سے ہی راہ ہدایت کو گم کر بیٹھی تھی ۔ لیکن  رحمت الہی نے کسی لمحے بھی اسے اپنی توجہ سے دور نہیں رکھا ۔ اور مختلف اوقات میں اس کی طرف انبیاء ورسل بھیجے ۔ حتی کہ آخری نبی و رسول آنحضرتﷺ کے بعد لوگ پھر شرک و بدعات کے دلدل میں پھنس گئے ۔ اب اس کے بعد کوئی نبی یا رسول تو نہیں آنا تھا تاہم اللہ تعالی نے ایک دوسری سنت جاری فرمائی کہ ہرصدی کے بعد ایک مصلح اور مجدد اس امت کے اندر پیدا فرمانے کا وعدہ کیا ۔ ایسے ہی انیسویں صدی میں عالم عرب کے اندر شیخ محمد بن عبد الوہاب آئے ۔ انہوں نے اس وقت کی مروج  بدعات و خرافات اور کفر وشرک صورتوں کو ختم کیا ۔ عین انہی لمحات میں ہند میں شاہ ولی اللہ اور شاہ عبدالعزیز رحمۃ اللہ علیہ کے تربیت یافتگان سید احمد شہید اور شاہ اسماعیل رحمۃ اللہ علیہ سے وہی کام لیا جو عرب میں محمد بن عبدالوہاب سے لیا تھا ۔ ان دونوں تحریکوں کا یہ دعوتی  و منہجی اشتراک کیا اتفاقی تھا یا بقاعدہ ایک منصوبے کے تحت تھا؟ زیر نظر کتاب اس طرح کے دیگر پہلوؤں پر روشنی ڈالتی ہے ۔ مثلا شیخ محمد بن عبد الوہاب کی شخصیت اور ان کی جہود و مساعی  وغیرہ کے حوالے سے شکوک و شبہات کا ازالہ کرتی  ہے۔(ع۔ح)

    نوٹ:
    محدث فورم میں اس کتاب پر تبصرہ کرنے کے لیے یہاں کلک کریں
  • title-muhammad-bin-abdul-wahab-aik-mazloom-aur-badnam-muslih
    مسعود عالم ندوی
    شیخ محمد بن عبدالوہاب ایک بلند پایہ شخصیت ہیں جنھوں نے تاریکیوں اور گمراہیوں میں حق کےچراغ روشن کیے اور لوگوں کے عقائد و اخلاق سنوارنے میں اپنا آپ وقف کر دیا۔ لیکن ستم ظریفی ملاحظہ کیجئے کہ قوم کے کچھ افراد نہ صرف ان پر سب و شتم کا بازار گرم رکھتے ہیں بلکہ تکفیر و تضلیل کے تیر برسانے میں بھی باک محسوس نہیں کرتے۔ پیش نظر کتاب ’امام محمد بن عبدالوہاب ایک مظلوم اور بدنام مصلح‘ میں امام صاحب کی سیرت پر روشنی ڈالتے ہوئے ان کے خلاف افترا پردازیوں کے برپا کیے گئے طوفان بدتمیزی کی حقیقت طشت ازبام کی گئی ہے۔ کتاب کے مصنف علامہ مسعود عالم ندوی ہیں جو ایک بلند پایہ ادیب، ایک صاحب طرز انشا پرداز اور قوم کا درد رکھنے والے عظیم رہنما تھے۔ فاضل مصنف نے شیخ کے حالات زندگی معتبر حوالوں کے ساتھ بیان کرتے ہوئے ایک باب میں ان تمام تصنیفات کا اجمالی تعارف پیش کیا ہے۔ ایک باب میں شیخ کی دعوت، ان کا فقہی مسلک اور عقائد پر روشنی ڈالی گئی ہے اور آخری باب میں شیخ سے متعلق مشہور کی گئیں غلط بیانیاں اور افتراپردازیوں کی حقیقت واشگاف کی گئی ہے۔ (ع۔ م)

    نوٹ:
    محدث فورم میں اس کتاب پر تبصرہ کرنے کے لیے یہاں کلک کریں
  • pages-from-muhammad-ali-jaanbaz-ahwaal-afkaar-o-asaar
    عبد الحنان جانباز

    مولانا محمد علی جانباز ﷫ ۱۹۳۴ء میں مشرقی پاکستان کے ضلع فیروز پور (بھارت) کے قصبہ بُدھو چک میں پیدا ہوئے۔ آپ نے تعلیم کا آغاز اپنے قصبہ ہی کی مسجد سے کیا۔ یہاں آپ کے استاد مولانا محمد﷫ تھے۔ قرآن مجید کے ساتھ ساتھ علوم دینیہ کی ابتدائی کتابیں بھی انہیں سے پڑھیں اور بعد ازاں اپنے استاد محترم محمد﷫ کی ترغیب پر1951ء میں آپ مدرسہ تعلیم الاسلام اوڈانوالہ ضلع فیصل آباد میں داخل ہوئے۔ یہاں پر آپ نے مولانا محمد صادق خلیلاور شیخ الحدیث مولانا محمد یعقوب قریشی  سے مختلف فنون کی کتابیں پڑھیں۔ ۱۹۵۳ء میں آپ جامعہ اسلامیہ گوجرانوالہ میں تشریف لے گئے۔ وہاں پر آپ نے شیخ العرب والعجم استاد العلماء حضرت العلام حافظ محمد محدث گوندلویاور استاد العلماء مولانا ابو البرکات احمد مدراسیسے کسبِ فیض کیا۔ یہاں سے فراغت کے بعد ۱۹۵۸ء میں جب جامعہ سلفیہ کا باقاعدہ آغاز ہوا تو آپ حضرت العلام حافظ محمد گوندلوی  کے ہمراہ جامعہ سلفیہ فیصل آباد تشریف لے گئے۔ جامعہ سلفیہ میں آپ نے حافظ محمد گوندلوی سے صحیح بخاری، مؤطا امام مالک، حجۃ اللہ البالغہ، سراجی اور کئی ایک کتابوں کا درس لیا۔ حافظ محمد گوندلوی کے علاوہ آپ نے جامعہ سلفیہ میں ہی مولانا شریف اللہ خان سواتی اور حضرت مولانا پروفیسر غلام احمد حریری رحمہما اللہ سے بھی استفادہ کیا۔ اور اِسی اثناء میں آپ نے پنجاب یونیورسٹی سے فاضل عربی اور فاضل فارسی کے امتحانات بھی پاس کئے۔۱۹۵۸ء میں حضرت مولانا محمد اسماعیل سلفی ﷫ کی تحریک پر آپ نے جامعہ سلفیہ فیصل آباد سے ہی اپنے تدریسی دور کا آغاز کیا۔ ۱۹۶۲ء میں مولانا جانباز سیالکوٹ تشریف لے گئے ۔ وہاں پر آپ نے پہلے پہل مدرسہ دار الحدیث جامع مسجد اہلحدیث ڈپٹی باغ میں درس و تدریس شروع کی دو سال بعد یہ مدرسہ ڈپٹی باغ والی مسجد سے مسجد اہل حدیث ابراہیمی میانہ پورہ منتقل ہو گیا۔ اور مدرسہ کا نام دار الحدیث سے تبدیل کر کے جامعہ ابراہیمیہ رکھا گیا اور مولانا محمد علی جانباز ﷫ کے درس و تدریس کا سلسلہ جاری و ساری رہا اور آپ کی شب و روز کی محنت کی وجہ سے جامعہ ابراہیمیہ ترقی کے منازل طے کرتا رہا۔ ۱۹۷۰ء میں مولانا محمد علی جانباز  نے جامعہ ابراہیمیہ کو جامع مسجد اہل حدیث محلہ لاہوری شاہ ناصر روڈ پر منتقل کیا۔ ۱۹۷۹ء تک آپ اسی مسجد میں درس و تدریس کا کام سر انجام دیتے رہے اور ۱۹۸۰ء میں جامعہ ابراہیمیہ کو مستقل طور پر الگ عمارت میں منتقل کیا او بعد میں اس کا نام ابراہیمیہ سے تبدیل کر کے جامعہ رحمانیہ رکھا گیا۔ جو اب بھی کتاب و سنت کی تعلیمات کو پھیلانے کے لئے سرگرم عمل ہے۔ مولانا جماعت اہلحدیث کے ممتاز عالمِ دین ہونے کے ساتھ ساتھ محقق، مؤرخ، مجتہد، فقیہ، ادیب اور دانشور تھے۔ آپ کی ذات محتاجِ تعارف نہیں۔ تفسیر، حدیث، فقہ، اصول فقہ، اسماء الرجال، تاریخ و سیر، منطق و فلسفہ، لغت و ادب اور صرف و نحو پر آپ کو کامل عبور تھا۔ حدیث اور اسماء الرجال پر آپ کی نگاہ وسیع تھی ۔علومِ اِسلامیہ میں جامع الکمالات ہونے کے ساتھ ساتھ مولانا صاحب عادات و خصائل کے اعتبار سے نہایت پاکیزہ انسان اور زُہد و ورع، تقویٰ و طہارت اور شمائل و اخلاق میں سلف صالحین اور علماءِ ربانیین کے اوصاف کے حامل تھے۔موصوف نے تدریس وتقریراور مختلف مضامین کے علاوہ متعدد عنوانات پر مستقل کتابیں بھی لکھی ہیں جن میں سے شُہرہ آفاق کتاب اِنجاز الحاجہ شرح اِبن ماجہ (۱۲ جلدیں)، اہمیت نماز، صلوۃُ المصطفیٰ ﷺ، معراجِ مصطفیٰ، آلِ مصطفیٰ ﷺ، توہین رسالت کی شرعی سزا، احکامِ نکاح، احکامِ طلاق، حرمتِ متعہ بجوابِ جواز متعہ اور تاریخ پاکستان اور حکمرانوں کا کردار قابل ذکر ہیں۔مولانا 2008ء میں اپنے خالق حقیقی سے جاملے ۔ اللہ تعالیٰ آپ کی تمام تر محنتوں اور کاوشوں کو شرفِ قبولیت سے نوازے اور آپ کو اپنی جوار رحمت میں جگہ دے ۔ آمین۔ زیر تبصرہ کتاب ’’شیخ الحدیث مولانا محمد علی جانباز احوال، افکار وآثار ‘‘ مولانا جانباز کی حیات وخدمات پر مشتمل تفصیلی کتاب ہے۔ جسے مولانا مرحوم کے صاحبزادے عبد الحنان جانباز اور عبد العزیز سوہدری نے مرتب کیا ہے۔ اس کتاب میں معروف سوانح نگار اور اہل علم حضرات کے مولانا جانباز کےمتعلق مضامین شامل ہیں۔ کتاب میں مولانا کے حصول تعلیم کے لیے سفر، اساتذہ وتلامذہ، تعلیمی و تدریسی، تقریری وتحریری اور تصنیفی خدمات کا تفصیلی تذکرہ موجو د ہے۔

  • title-pages-makhdoom-al-ulama-mohammad-ismael-salfi-copy
    سعدیہ ارشد بنت حافظ محمد ارشد

    شیخ الحدیث مولانا محمد اسماعیل سلفی ﷫(1895ء تا 1968ء) کی ذات ِمتنوع صفات کسی تعارف کی محتاج نہیں۔ عالم اسلام کےعلمی حلقے ان کے قلم کی روانی سے بخوبی آگاہ ہیں۔مولانا مرحوم بيک وقت ايک جيد عالمِ دين مجتہد ، مفسر ،محدث ، مؤرخ ، محقق ، خطيب ، معلم ،متکلم ، نقاد ، دانشور ، مبصر تھے ۔ تمام علوم اسلاميہ پر ان کو يکساں قدرت حاصل تھی ۔ تفسیر قرآن ، حديث ، اسماء الرجال ، تاريخ وسير اور فقہ پر ان کو عبور ِکامل حاصل تھا ۔ حديث اور تعليقات حديث پر ان کا مطالعہ بہت وسيع تھا حديث کے معاملہ ميں معمولی سی مداہنت بھی برداشت نہيں کرتے تھے۔مولانا محمد اسماعيل سلفیايک کامياب مصنف بھی تھے ۔ان کی اکثر تصانيف حديث کی تائيد وحمايت اور نصرت ومدافعت ميں ہيں آپ نے دفاع سنت کابیڑا اٹھایا اور اس کا حق ادا کیا۔ زیر تبصرہ کتاب’’مخدوم العلماء مولانا محمد اسماعیل سلفی ﷫‘‘ محترمہ سعدیہ ارشد بنت حافظ محمد ارشد صاحب کا 1979ء ایم اے علوم اسلامیہ کےلیے پنجاب یونیورسٹی میں پیش کیےگئے مقالہ کی کتابی صورت ہے ۔اس میں مصنفہ نے مولانا سلفی ﷫ کی تگ وتاز کے مختلف دائروں کی وضاحت کی ہے او ران کے علمی میدانوں سے قارئین کرام کو متعارف کرانے کی بھر پور کوشش کی ہے ۔کتاب کے آخر میں مؤرخ اہل مولانا محمد اسحاق بھٹی ﷫ نے حرف چند کے عنوان سے مولانا سلفی ﷫ کے مزید بیس شاگردوں کے حالات قلم بند کیے ہیں ۔(م۔ا)

  • title-pages-marhoom-dost-abdullah-saleem-ki-yaad-main-copy
    مولانا محمد ابراہیم خلیل فیروزپوری

    مولانا عبد اللہ سلیم ﷫  دارالحدیث جامعہ کمالیہ ،راجووال  کے بانی  شیخ  الحدیث مولانا محمد یوسف ﷫ کے  بڑے بیٹے تھے   موصوف  نیک طبع ،  ملن سا ز ہر دلعزیزانسان تھے اچھے واعظ ، کامیاب مدرس  اور منتطم تھے  مسلک کی ترویج واشاعت میں مرحوم کی خدمات ناقابل فراموش ہیں۔دارالحدیث جامعہ کمالیہ کا  تما م تر انتظام مرحوم  کےذمہ تھا  21ستمبر 1993 کو   اچانک حرکت قلب بند ہونے سے  انتقال کر گے تھے  ہزاروں لوگوں  نے ان کے نمازے جنازہ میں  شرکت کی  ۔نامور   اہل قلم نے ان کی  وفات پر اپنے تاثرات کا اظہا رکیا اور  تمام جماعتی رسائل  میں ان کی خدمات کو سراہا گیا  ۔زیرنظر کتاب  بھی مولانا عبد اللہ سلیم ﷫ کے  تذکرہ وسوانح  پر مشتمل ہے  جو کہ جوانی  کےعالم میں  بہت سے  لواحقین ومتعلقین  کو غمزدہ  چھوڑ اس دنیا  ئے فانی  سے اچانک رحلت فرماگئے تھے۔اس کتاب  کو مرحوم کےایک مخلص دوست    مولانا محمد ابراہیم خلیل فیروز پوری نے  مرتب کیا۔  اللہ تعالیٰ مرحوم اور ان کے والد گرامی جناب مولانا  یوسف ﷫ کے درجات بلند فرمائے اور ان کی قبروں پراپنی رحمت کی برکھا برسائے اور  انہیں جنت الفردوس میں اعلیٰ وارفع مقام فرمائے (آمین)(م۔ا)

  • title-pages-mashahde-bala-kot
    سید محمد ثانی حسنی
    برصغیر پاک و ہند میں  حضرت سید احمد شہید رحمہ اللہ کی  ذات بابرکات محتاج تعارف نہیں ۔آپ رحمہ اللہ ایک دور، صدی اور عہد کا نام ہیں۔ جب برصغیر   کے مسلمانوں پر مایوسی کے گہرے بادل چھائے ہوتے تھے۔ مسلمان ہر طرف سے سکھوں اور انگریزں اور دیگر قوتوں کے ظلم و استبداد کے شکار تھے۔کسی جگہ کوئی امید نہیں نظر آتی تھی۔ علماو شیوخ اور صوفیا اپنے اپنے مدارس، خانقاہوں اور حلقہ ارادت  میں مصروف تھے۔ اگرچہ کچھ کو انتہائی زیادہ قلق و اضطراب  کے ساتھ  فکر امت دامن گیر تھی۔ہر طرف طوائف الملوکی کا دور دورہ تھا۔ ان حالات میں  حضرت شاہ ولی اللہ   کے فکری جانشین  یعنی ان کی فکر کے عسکری گوشے کو عملی رخ دینے والے جناب  حضرت سید احمد شہید نے علم جہاد بلند کیا ۔ اور امت کو بیدار کرنے کی کوشش کی ۔ اللہ نے آپ کی اعانت فرمائی اور ایک اسلامی ریاست قائم بھی کردی۔ لیکن اپنے غداری رنگ لائی اور آپ بظاہر تو ناکام ہوئے  لیکن حقیقت میں کامیاب ہوئے۔آپ کی پیدا کی ہوئی جہادی روح ابھی تک امت کے اندر موجود ہے بلکہ وہ ایک  پودے سے تناور درخت بن چکی ہے۔زیرنظر کتاب آب کی سیرت  و سوانح کے مختلف پہلوؤں پر بطریق احسن روشنی ڈالتی ہے۔(ع۔ح)

    نوٹ:
    محدث فورم میں اس کتاب پر تبصرہ کرنے کے لیے یہاں کلک کریں
  • pages-from-maqaalaat-e-muhaddis-mubarikpuri
    عبد الرحمن مبارکپوری

    مولانا محمد عبدالرحمٰن مبارکپوری ﷫ شیخ الکل فی الکل میاں سید نذیر حسین محدث دہلوی کے چند مامور شاگردوں میں سے ایک ہیں ۔آپ اپنے وقت کےبہت بڑے محدث،مفسر، محقق، مدرس ، مفتی،ادیب اور نقاد تھے ۔ اللہ تعالیٰ نے انہیں علم کی غیر معمولی بصیرت وبصارت،نظر وفکرکی گہرائی ،تحقیق وتنقیح میں باریک بینی اور ژرف نگاہی عطاء فرمائی تھی ۔زہد وتقوی ،اخلاص وللّٰہیت،حسن عمل اور حسن اخلاق کے پیکر تھے۔یہ ایک حقیقت ہےکہ’’برصغیر پاک وہند میں علم حدیث‘‘ کی تاریخ تب تلک مکمل نہیں ہوتی جب تک اس میں مولانا عبدالرحمٰن محدث مبارکپوری ﷫ کی خدمات اور ان کا تذکرہ نہ ہو۔جامع الترمذی کی شرح تحفۃ الاحوذی ان ہی کی تصنیف ہے۔ اس شرح سے ان کو برصغیر کے علاوہ عالم ِاسلام میں شہرت ومقبولیت حاصل ہوئی۔ حدیث اور تعلیقات حدیث پر ان کو عبور کامل تھا۔ تدریس میں آپ کو خاص ملکہ حاصل تھا۔ تصنیف وتالیف کا بھی عمدہ ذوق رکھتے تھے۔اس شرح کے علاوہ بھی دو درجن سے زائد مختلف عناوین پر ان کی تحقیقی کاوشیں صحیفۂ قرطاس پر مرتسم ہیں ۔مولانا حبیب الرحمن قاسمی (حنفی) فرماتے ہیں کہ ’’مولانا عبدالرحمن محدث مبارکپوری کو اللہ تعالیٰ نے علم وعمل سے بھر پور نوازا تھا۔ دقت نظر‘ حدت ذہن‘ ذکاوت طبع اور کثرت مطالعہ کے اوصاف وکمالات نے آپ کو جامع شخصیت بنا دیا تھا‘ خاص طور سے علم حدیث میں تبحر وامامت کا درجہ رکھتے تھے۔ روایت کے ساتھ درایت کے مالک اور جملہ علوم آلیہ وعالیہ سے یگانہ روزگار تھے۔ قوت حافظہ بھی خدا داد تھی۔ بینائی سے محروم ہو جانے کے بعد بھی درسی کتابوں کی عبارتیں زبانی پڑھا کرتے تھے اور ہر قسم کے فتاویٰ لکھوایا کرتے تھے۔ مولانا اپنی تصانیف میں مجتہدانہ شان رکھتے تھے۔ فقہاء خاص طور سے احناف کے بارے میں نہایت شدید رویہ رکھتے تھے اور بڑی شد ومد سے ان کا رد کرتے تھے۔ مگر یہ معاملہ صرف تصنیف تک محدود تھا جو سراسر علمی وتحقیقی تھا۔‘‘ (تذکرہ علمائے اعظم گڑھ ص ۱۴۵) زیر تبصرہ کتاب’’مقالات محدث مبارکپوری﷫ ‘‘ مولانا محمد عبد الرحمٰن مبارکپوری﷫ کی نایاب تصانیف کا مجموعہ ہے ۔اس میں مولانامبارکپوری مرحوم کی آٹھ تصانیف کے علاوہ ان نادر مکتوبات اور شیخ الھلالی﷫ کا وہ قصیدہ جو انہوں نے حضرت مبارکپوری کےمحامد ومناقب میں لکھا   شامل اشاعت ہے۔ اس مجموعہ مقالات کی مراجعت ادارۃالعلوم الاثریہ ،فیصل کے ریسرچ سکالر مولانا حافظ خبیب احمد ﷾ نےکی ہے او ر اور مقدور بھرحوالہ جات کا تقابل بھی کیا ہے۔اور آیات مبارکہ اوراحادیث وآثار کی مختصر تخریج بھی کردی ہے۔ ان مقالات کو اس قدر عمدہ طریقے سےشائع کرنے سعادت محقق دور اں مولانا ارشاد الحق اثری ﷾ نے حاصل کی ہے ۔اللہ تعالیٰ ان کی اس عمدہ کاوش اور ان کی تمام تحقیقی وعلمی، تصنیفی وتدریسی خدمات کو قبول فرمائے ۔ آمین) (م۔ا)

  • title-pages-munshi-raam-abdul-wahid-kaise-bna
    محمد رمضان یوسف سلفی

    اسلام کو مکمل صورت اختیار کرنا جتنا مشکل ہے اس سے کہیں دشوار اپنے آبائی مذہب کو ترک کر کے اسلام کی آغوش میں آنا ہے ۔اسلامی تاریخ ایسے لوگوں کےحالات وواقعات سےبھری پڑی ہے کہ جنہیں اسلام کی سچی دولت پانے کے لیے بے پناہ مصائب وآلام اور اذیتوں سے دو چار ہونا پڑا۔ او ر اسلام قبول کرنے کے باعث انہیں زدوکوب کیا گیا۔زیرِنظر کتاب نو مسلم ڈاکٹر عبدالواحد﷫ کے تذکرہ پر مشتمل ہے ڈاکٹر صاحب 1920ءمیں ضلع شیخوپورہ کے ایک ہندو گھرانے میں پیدا ہوئے۔1940 میں مشرف بہ اسلام ہوکر چینیاں والی مسجد میں آگئے اورمولانا سید داؤد غزنوی ﷫ اوردیگر غزنوی علماء کےزیر نگرانی تعلیم وتربیت کی منزلیں طے کیں ۔انہوں نے نہایت مشکل حالات میں اپنے اسلام وایمان کی حفاظت کی اور صبر استقامت سے ثابت قدم رہے ۔ اسلام کے لیے اپنا گھر،بھائی بہن او روالدہ کوچھوڑ کر سچے دل سے اسلام قبول کیا او رپھر ساری زندگی اسلام کی تبلیغ اور خدمت میں گزاردی۔ اور جنوری2004ء میں اپنے خالق حقیقی سے جاملے ۔ان کے اسلام میں داخل ہونے کے ایمان افروز واقعات پڑ ھنے کے لائق ہیں ۔ اللہ تعالی ان کے درجات بلند فرمائے (آمین) (م۔ا)

     

    نوٹ:

    محدث فورم میں اس کتاب پر تبصرہ کرنے کے لیے یہاں کلک کریں

     

  • pages-from-moalan-abu-ul-kalam-azad-aik-mutalea
    ڈاکٹر ابو سلمان شاہجہان پوری

    مولانا ابو الکلام 11 نومبر 1888ء کو پیدا ہوئے اور 22 فروری 1958ء کو وفات پائی۔ مولانا ابوالکلام آزاد کا اصل نام محی الدین احمد تھا۔آپ کے والد بزرگوارمحمد خیر الدین انہیں فیروزبخت (تاریخی نام) کہہ کر پکارتے تھے۔ آپ مکہ معظمہ میں پیدا ہوئے۔ والدہ کا تعلق مدینہ سے تھا۔ سلسلہ نسب شیخ جمال الدین سے ملتا ہے جو اکبر اعظم کے عہد میں ہندوستان آئے اور یہیں مستقل سکونت اختیار کرلی۔ 1857ء کی جنگ آزادی میں آزاد کے والد کو ہندوستان سے ہجرت کرنا پڑی کئی سال عرب میں رہے۔ مولانا کا بچپن مکہ معظمہ اور مدینہ منورہ میں گزرا ۔ابتدائی تعلیم والد سے حاصل کی۔ پھر جامعہ ازہرمصر چلے گئے۔ چودہ سال کی عمر میں علوم مشرقی کا تمام نصاب مکمل کر لیا تھا۔مولانا کی ذہنی صلاحتیوں کا اندازہ اس سے ہوتا ہے کہ انہوں نے پندرہ سال کی عمر میں ماہوار جریدہ لسان الصدق جاری کیا۔ جس کی مولانا الطاف حسین حالی نے بھی بڑی تعریف کی۔ 1914ء میں الہلال نکالا۔ یہ اپنی طرز کا پہلا پرچہ تھا۔ مولانا ایک نادر روزگار شخصیت تھے۔ اور اللہ تعالیٰ نے ان کی ذات میں ایسے اوصاف ومحاسن جمع کردیے تھےکہ انہوں نے زندگی کے ہر دائرہ میں بلند مقام حاصل کیا۔مولانا علم وفضل کے اعتبار سے ایک جامع اور ہمہ گیر شخصیت تھے۔ مولانا ابو الکلام آزاد کو قدرت نے فکر ونظر کی بے شمار دولتوں ، علم وفضل کی بے مثال نعمتوں اور بہت سے اخلاقی کمالات سے نوازا تھا۔ بر صغیر پاک وہند میں موصوف ایک ایسی شخصیت ہیں جن پر سب سے زیادہ لکھا گیا ہے۔ زیر تبصرہ کتاب ’’مولانا ابو الکلام آزاد ایک مطالعہ‘‘ کراچی میں رہائش پذیر معروف سوانح نگار و مصنف کتب کثیرہ مولانا ابو سلمان شاہجانپوری﷾ کی کاوش ہے جو کہ مختلف اصحاب و علم فضل کے مولانا آزاد کے متعلق تحریر کیے گئے مختلف مقالات کا مجموعہ ہے۔ یہ کتاب فاضل مرتب نے مولانا ابو الکلام آزاد کی تقریب صد سالہ یوم پیدائش کے موقع پر مرتب کر کے شائع کی ۔موصوف نے مقالات کے اس مجموعہ کومولانا آزاد کی شخصیت اور زندگی کے علمی وعملی اہم پہلوؤں کی تقسیم کے آٹھ ابواب میں مرتب کیا ہے۔ ہرحصہ مولانا کی شخصیت کے ایک ایک پہلو اور اس کے خصائص کے تعارف پر مشتمل ہے۔ (م۔ا)

  • pages-from-molana-abul-ul-kalaam-azad-marhoom
    سعید احمد اکبر آبادی

    مولانا ابو الکلام 11 نومبر 1888ء کو پیدا ہوئے اور 22 فروری 1958ء کو وفات پائی۔ مولانا ابوالکلام آزاد کا اصل نام محی الدین احمد تھا۔آپ کے والد بزرگوارمحمد خیر الدین انہیں فیروزبخت (تاریخی نام) کہہ کر پکارتے تھے۔ آپ مکہ معظمہ میں پیدا ہوئے۔ والدہ کا تعلق مدینہ سے تھا۔ سلسلہ نسب شیخ جمال الدین سے ملتا ہے جو اکبر اعظم کے عہد میں ہندوستان آئے اور یہیں مستقل سکونت اختیار کرلی۔ 1857ء کی جنگ آزادی میں آزاد کے والد کو ہندوستان سے ہجرت کرنا پڑی کئی سال عرب میں رہے۔ مولانا کا بچپن مکہ معظمہ اور مدینہ منورہ میں گزرا ۔ابتدائی تعلیم والد سے حاصل کی۔ پھر جامعہ ازہرمصر چلے گئے۔ چودہ سال کی عمر میں علوم مشرقی کا تمام نصاب مکمل کر لیا تھا۔مولانا کی ذہنی صلاحتیوں کا اندازہ اس سے ہوتا ہے کہ انہوں نے پندرہ سال کی عمر میں ماہوار جریدہ لسان الصدق جاری کیا۔ جس کی مولانا الطاف حسین حالی نے بھی بڑی تعریف کی۔ 1914ء میں الہلال نکالا۔ یہ اپنی طرز کا پہلا پرچہ تھا۔ مولانا ایک نادر روزگار شخصیت تھے۔ اور اللہ تعالیٰ نے ان کی ذات میں ایسے اوصاف ومحاسن جمع کردیے تھےکہ انہوں نے زندگی کے ہر دائرہ میں بلند مقام حاصل کیا۔مولانا علم وفضل کے اعتبار سے ایک جامع اور ہمہ گیر شخصیت تھے۔ مولانا ابو الکلام آزاد کو قدرت نے فکر ونظر کی بے شمار دولتوں ، علم وفضل کی بے مثال نعمتوں اور بہت سے اخلاقی کمالات سے نوازا تھا۔ بر صغیر پاک وہند میں موصوف ایک ایسی شخصیت ہیں جن پر سب سے زیادہ لکھا گیا ہے۔ زیر تبصرہ کتاب ’’مولانا ابو الکلام آزاد مرحوم سیرت وشخصیت اور علمی وعملی کارنانے‘‘ ہند کے معروف علمی مجلہ برہان دہلی کو نصف صدی سے زیادہ عرصہ تک ترتیب وتدوین کرنےوالی معروف شخصیت مولانا سعید احمد اکبر آبای کے مولانا ابو الکلام آزاد کی سیرت وسوانح ، خدمات   کے متعلق تحریر کیے گئے مختلف مقالات مشتمل ہے۔ نیز ،مصنف موصوف کے مجلہ برہان میں نظرات کے عنوان سے تحریر کیے گئے فکر انگیز نمونے، تبصرے اور لاہور کے ایک سیمنار میں دیا گیا ایک خطبہ بھی شامل اشاعت ہے ۔اس کتاب کو مولانا ابو سلمان شاہجہانپوری نے مولانا ابو الکلام آزاد کی تقریب صد سالہ یوم پیدائش کے موقع پر مرتب کر کے شائع کیا۔ (م۔ا)

  • pages-from-maulan-abu-ul-kalam-azaad-ne-pakistan-key-barey-mein-kya-kaha
    احمد حسین کمال

    برصغیر پاک و ہند میں کچھ ایسی شخصیات نے جنم لیا جو علم و ادب اور صحافت کے افق پر ایک قطبی ستارے کی طرح نمودار ہوئے اور دیر تک چھائے رہے۔ ان شخصیات میں سے مولانا ابو الکلام آزادؒ سرِ فہرست ہیں، مولانا کو اللہ تعالیٰ نے بے پناہ صلاحیتوں سے نوازہ تھا۔ مولانا آزادؒ عربی، اردو، فارسی اور انگریزی کے عظیم سکالر تھے، آپ نہایت ہی زیرک اور بے باک انسان تھے۔ جب فرنگی حکومت نے ایک منصوبہ کے تحت تقسیم برصغیر کا پروگرام بنایا اور ان کا ارادہ تھا کہ مسلمان پسماندہ ہیں اس لیے ان کو چند ایک رعایتوں کے ساتھ اپنا آلہ کار بنا لیا جائے گا۔ مولانا آزادؒ نے جب برطانوی حکومت کی چالوں میں شدّت محسوس کی تو برصغیر کے مسلمانوں کو اس خطرناک چال سے بچانے کے لیے مولانا نے باقاعدہ کوششیں کیں۔ مولانا یہ چاہتے تھے کہ ہندوستان میں مسلمانوں کی نو(9) کروڑ سے زیادہ ہے اور وہ اپنی اس زبردست تعداد کے ساتھ ایسی مذہبی و معاشرتی صفات کے حامل ہیں کہ ہندوستان کی قومی و وطنی زندگی میں فیصلہ کن اثرات ڈال سکتے ہیں۔ مولانا کا یہ نظریہ تھا کہ اگر آج ہندوستان کے مسلمان ایک الگ ملک حاصل کر لیں گئے تو وہ فرنگیوں کے آلہ کار ہو کر رہ جائیں گئے اور انڈیا کے مسلمان اپنی اجتماعی طاقت سے ہمیشہ کے لیے محروم ہو کر احساس کمتری کا شکار رہیں گئے۔ زیر تبصرہ کتاب"مولانا ابو الکلام آزاد نے پاکستان کے بارے میں کیا کہا" جس کواحمد حسین کمال نے مرتب کیا ہے۔ یہ کتاب مولانا کے وہ خطابات و بیانات کا مجموعہ ہے جو مولانا آزادؒ نے تقسیم ہندوستان کی جدوجہد میں کہے تھے۔ اللہ تعالیٰ ان کے میزان حسنات میں اضافہ فرمائے۔ آمین(عمیر)

  • pages-from-molana-abu-ul-kalam-azad-ki-sahafat-2
    ڈاکٹر ابو سلمان شاہجہان پوری

    مولانا ابو الکلام11نومبر1888ء کو پیدا ہوئے اور 22 فروری1958ءکو وفات پائی۔مولانا ابوالکلام آزاد کا اصل نام محی الدین احمد تھا۔آپ کے والد بزرگوارمحمد خیر الدین انہیں فیروزبخت (تاریخی نام) کہہ کر پکارتے تھے۔ آپ مکہ معظمہ میں پیدا ہوئے۔ والدہ کا تعلق مدینہ سے تھا۔ سلسلہ نسب شیخ جمال الدین سے ملتا ہے جو اکبر اعظم کے عہد میں ہندوستان آئے اور یہیں مستقل سکونت اختیار کرلی۔ 1857ء کی جنگ آزادی میں آزاد کے والد کو ہندوستان سے ہجرت کرنا پڑی کئی سال عرب میں رہے۔ مولانا کا بچپن مکہ معظمہ اور مدینہ منورہ میں گزرا۔ ابتدائی تعلیم والد سے حاصل کی۔ پھر جامعہ ازہرمصر چلے گئے۔ چودہ سال کی عمر میں علوم مشرقی کا تمام نصاب مکمل کر لیا تھا۔ مولانا کی ذہنی صلاحتیوں کا اندازہ اس سے ہوتا ہے کہ انہوں نے پندرہ سال کی عمر میں ماہوار جریدہ لسان الصدق جاری کیا۔ جس کی مولانا الطاف حسین حالی نے بھی بڑی تعریف کی۔ 1914ء میں الہلال نکالا۔ یہ اپنی طرز کا پہلا پرچہ تھا۔ مولانا ایک نادر روزگار شخصیت تھے۔ اور اللہ تعالیٰ نے ان کی ذات میں ایسے اوصاف ومحاسن جمع کردیے تھےکہ انہوں نے زندگی کے ہر دائرہ میں بلند مقام حاصل کیا۔مولانا علم وفضل کے اعتبار سے ایک جامع اور ہمہ گیر شخصیت تھے ۔مولانا ابو الکلام آزاد کو قدرت نے فکر ونظر کی بے شمار دولتوں ، علم وفضل کی بے مثال نعمتوں اور بہت سے اخلاقی کمالات سے نوازا تھا۔ بر صغیر پاک وہند میں موصوف ایک ایسی شخصیت ہیں جن پر سب سے زیادہ لکھا گیا ہے۔ زیر تبصرہ کتاب ’’مولانا ابو الکلام آزاد کی صحافت‘‘ کراچی میں رہائش پذیر معروف سوانح نگار مولانا ابو سلمان شاہجانپوری﷾ کی تصنیف ہے جو انہوں نے مولانا ابو الکلام آزاد کی تقریب صد سالہ یوم پیدائش کے موقع پر مرتب کر کے شائع کی۔ موصوف نے اس کتاب میں مولانا آزاد کی صحافت کے بارے میں تاریخی اور ضروری معلومات جمع کی ہیں او رمولانا کے کارنامۂ صحافت کے تاریخی سفر کے تعارف اور تبصرے   کےساتھ ان کے بعض رسائل کے اشاریے بھی شامل کیے ہیں۔ (م۔ا)

  • title-pages-molana-ahmad-din-ghagarrvi
    محمد اسحاق بھٹی

    مولانا احمددین گھکڑوی﷫ بہت بڑے مناظراور جلیل القدر عالمِ دین تھے 1900ء میں ضلع گوجرانوالہ کے ایک مشہور مقام گکھڑ میں پیداہوئےاور مختلف اہل علم سےدینی تعلیم حاصل کی ۔مولانا ابھی کم عمر ہی تھے کہ والدگرامی انتقال کرگئے لیکن انہوں نے اپنی تعلیم کو جاری رکھا دورانِ تعلیم ہی مولانا احمد دین کووعظ وتقریرکا شوق پیدا ہوگیا تھا وہ بدعات او رغیراسلامی رسوم ورواج کے سخت خلاف تھے اور ان پرکھل کر تنقید کرتےتھے ذہن ابتداہی سے مناظرانہ تھا دینی تعلیم سے فراغت کے بعد وہ باقاعدہ طور سے تقریبا 1920میں مناظرے اور تقریر کےمیدان میں اترے۔پھر عیسائیوں ،شیعوں، مرزائیوں اور بریلویوں سےان کے بے شمار مناظرے ہوئے او راس زمانے میں ان کے مناظروں کی سامعہ نواز گونج دور دور تک سنی گئی اور کامیاب مناظرکی حیثیت سے معروف ہوئے ۔زیر نظر کتاب معروف مؤرخ اہل حدیث مصنف کتب کثیرہ مولاناکی امحمد اسحاق بھٹی ﷾ کی تصنیف ہے جس میں انہوں نے مولانا احمد دین کگھڑوی ﷫ کی دینی ، تبلیغی وعوتی خدمات او ربالخصوص ان کے مناظروں کی روداد اور واقعات کو بڑے احسن انداز میں بیان کیا ہے اللہ مولانا احمدین  کے درجات بلند فرمائے اور ان کی قبر پر اپنی رحمتوں کا نزول فرمائے اور مصنف کتاب مولانا بھٹی صاحب کو تندورستی اور صحت عطا فرمائے اور ان دین ِاسلام کے لیے ان کی خدمات کو قبول فرمائے (آمین)(م۔ا)

     

    نوٹ:

    محدث فورم میں اس کتاب پر تبصرہ کرنے کے لیے یہاں کلک کریں

     

  • title-pages-molana-abdul-ghaffar-hasan-hayat-0-khidmat
    صہیب حسن
    مولانا عبدالغفار حسن﷫ کا شمار برصغیر پاک و ہند کی ان نابغہ روزگار ہستیوں میں ہوتا ہے جنھوں نے اپنی پوری زندگی کو درس و تدریس اور تحقیق و تصنیف کے لیے وقف کیے رکھا۔ ایسی شخصیات کی زندگی کے گوشے عوام و خواص کے لیے جہاں راہ عمل متعین کرنے کا اہتمام کرتے ہیں وہیں حالات کی تندہی کے سامنے سینہ سپر ہونے کا حوصلہ بھی دیتے ہیں۔ جیسا کہ نام سے ظاہر ہے اس کتاب میں مولانا عبدالغفار حسن﷫ کی زندگی کے حالات اور ان کی خدمات دین پر خامہ فرسائی کی گئی ہے۔ کتاب کے اولین حصے میں ان کے فرزند محترم صہیب حسن نے اپنے والد کے بارے میں بہت سی معلومات کچھ اپنی یادداشت سے اور کچھ ان کی زبانی سنے ہوئے واقعات کی روشنی میں قلمبند کی ہیں۔ دوسرے حصے میں مولانا کی باقی اولاد و احفاد کے تاثرات کو شامل کیا گیا ہے۔ بعض اصحاب نے مولانا موصوف سے انٹرویو کیے ان انٹرویوز کو کتاب کے تیسرے حصے میں جگہ دی گئی ہے۔ حیات و خدمات پر مشتمل دیگر کتب سے اس کتاب کی اہمیت اس لیے زیادہ ہے کہ اس کو تیار کرنے والے مولانا موصوف کے دو فرزندان ارجمند ہیں۔ ظاہر ہے کہ ایک باپ کے جس قدر قریب بیٹا ہو سکتا ہے کوئی دوسرا نہیں ہو سکتا یہی وجہ ہے کہ اس کتاب کے تمام تر حالات و واقعات پر مکمل اعتماد کیا جا سکتا ہے۔(ع۔م)
  • pages-from-molana-abdul-majid-dariyabadi-hayaat-o-khidmat
    عبد العلیم قدوائی

    مولانا عبد الماجد دریابادی 16 مارچ 1892 کو دریاباد،ضلع بارہ بنکی، بھارت میں قدوائی خاندان میں پیدا ہوئے۔ اُن کے دادا مفتی مظہر کریم کو انگریز سرکار کے خلاف ایک فتویٰ پر دستخط کرنے کے جرم میں جزائر انڈومان میں بطور سزا کے بھیج دیا گیاتھا۔ آپ ہندوستانی مسلمان محقق اور مفسر قرآن تھے۔آپ بہت سی تنظیموں سے منسلک رہے۔ اور بہت سی اسلامی اور ادبی انجمنوں کے رکن تھے۔ عبدالماجد دریاآبادی نے انگریزی کے ساتھ ساتھ اردو میں بھی ایک جامع تفسیر قرآن لکھی ہے۔ اُن کی اردو اور انگریزی تفسیر کی خاص بات یہ ہے کہ انہوں نے یہ تفاسیر اسلام پر عیسائیت کی طرف سے کیے جانے والے اعتراضات کو سامنے رکھتے ہوئے لکھی ہے، مزید ان تفاسیر میں عیسائیت کے اعتراضات رد کرتے ہوئے بائبل اور دوسرے مغربی مستشرقین کی کتابوں سے دلائل دئیے ہیں۔آپ نے 6 جنوری 1977 کو وفات پائی۔ان کے حالات وخدمات پر متعدد رسالوں ماہ ناموں نےخصوصی شمارے شائع کیے گئے ہیں اور متعدد کتب بھی لکھی گئی ہیں مختلف یونیورسٹیوں میں ان پر تحقیقی مقالہ جات بھی لکھے گئے ہیں۔ زیر تبصرہ کتاب’’مولانا عبدالماجد دریاآبدی حیات وخدمات ‘‘ بھی اسی سلسلے کی ایک کڑی ہے یہ کتاب مولانا دریاآبادی کے برادرزادے اور محترم عبدلعلیم قدوائی کے قلم سے ہے ۔ موصوف نے اس کتاب میں مولاا عبد الماجد دریاآبادی کےحالات اورخدمات بڑی خوش اسلوبی سے بیان کیے ہیں۔(م۔ا)

  • title-pages-molana-abdul-wahab-muhaddas-dehlwi
    محمد رمضان یوسف سلفی

    تاریخ نویسی ہو یا سیرت نگاری ایک مشکل ترین عمل ہے ۔ اس کےلیے امانت ودیانت او رصداقت کاہونا از بس ضروری ہے۔مؤرخ کے لیے یہ بھی ضروری ہےکہ وہ تعصب ،حسد بغض، سے کوسوں دور ہو ۔تمام حالات کو حقیقت کی نظر سے دیکھنے کی مکمل صلاحیت رکھتاہو ۔ذہین وفطین ہو اپنے حافظےپر کامل اعتماد رکھتا ہو۔حالات وواقعات کوحوالہ قرطاس کرتے وقت تمام کرداروں کا صحیح تذکرہ کیا گیا ہو ۔اس لیے کہ تاریخ ایک ایسا آئینہ ہے کہ جس کے ذریعے انسان اپنا ماضی دیکھ سکتاہے اور اسلام میں تاریخ ، رجال اور تذکرہ نگار ی کو بڑی اہمیت حاصل ہے اور یہ اس کے امتیازات میں سے ہے ۔بے شمارمسلمان مصنفین نے اپنے اکابرین کے تذکرے لکھ کر ان کےعلمی عملی،تصنیفی،تبلیغی اورسائنسی کارناموں کوبڑی عمدگی سے اجاگر کیا ہے۔ یوں تو صدیوں کی تاریخ ہمارے سامنے ہے لیکن ماضی قریب او ر موجودہ دور میں تذکرہ نویسی اور سوانح نگاری کے میدان میں جماعت اہل حدیث میں اردو مصنفین اور مقالہ نگاروں میں محترم مولانا محمد اسحاق بھٹی،مولانا حافظ صلاحالدین یوسف، مولانا محمد رمصان یوسف سلفی حفظہم اللہ وغیرہ کی خدمات قابلِ قدر ہیں اللہ تعالی ان بزرگوں کو صحت وعافیت سے نوازے اور ان کےعلم وعمل اضافہ فرمائے ۔(آمین) زیر نظرکتاب مولانا محمدرمضان سلفی﷾ کی تصنیف ہے جو کہ بانی جماعت غرباء اہل حدیث مولانا عبد الوہاب محدث دہلوی﷫ اوران کےخاندان کے حالات واقعات پرمشتمل ہے ۔مولانا عبدالوہاب محدث دہلوی کی دینی وتبلیغی،تدریسی وتصنیفی خدمات کا دائرہ بہت وسیع ہے مولانا سلفی صاحب مولانا عبد الوہاب دہلوی او ران کے خاندان کے علمائےکرام سے بہت متاثر ہیں۔اس کتاب میں آپ نے اس خاندان کے چودہ علمائے کرام کے حالات اوران کی دینی وتبلیغی اور علمی وتصنیفی خدمات کوبڑی تفصیل سے بیان کیا ہے یہ کتاب اپنے مشمولات کےاعتبار سے خاندان عبد الوہاب کےبارے وقیع معلومات کا مجموعہ ہے ۔کتاب ہذا کے مصنف مولانا محمد رمصان یوسف سلفی ﷾ علمی ،دینی اور تعلیمی حلقوں میں محتاجِ تعارف نہیں ہیں جماعت اہل حدیث پاکستان کےمعروف مقالہ نگاراورمصنف ہیں۔ان کی تصانیف پران کوایوارڈ دیئے جاتے ہیں اورعلمی ادبی حلقوںمیں ان کو بہت پذیرائی حاصل ہے ۔ ان کے مضامین ومقالات مختلف موضوعات پر ملک کے مؤقر رسائل وجرائد میں شائع ہوتے ہیں رہتے ہیں سلفی صاحب کتاب ہذا کے علاوہ تقریبا 8 کتب کے مصنف ہیں ۔اللہ تعالی ان کے زورِ قلم میں مزید اضافہ فرمائے اور ان کی خدمات کو شرف قبولیت سے نوازے (آمین)(م۔ا)

     

    نوٹ:

    محدث فورم میں اس کتاب پر تبصرہ کرنے کے لیے یہاں کلک کریں

     

  • title-pages-molana-ubaidullah-sindhi-aur-unke-afkar-w-khiyalat-pr-aik-nazar-copy
    مسعود عالم ندوی

    مولانا مسعود عالم ندوی﷫  ہندوستان کے ایک معروف اور مایہ ناز عالم دین ہیں۔آپ کا  ہندوستان کے چوٹی کے علماء میں شمار ہوتا ہے۔آپ نے اپنے وقت کے مشاہیر اہل علم سے شرف تلمذ حاصل کیا ہے۔آپ متعدد کتب کے مصنف ومترجم ہیں۔زیر تبصرہ کتاب " مولانا عبید اللہ سندھی﷫  اور ان کے افکار وخیالات پر ایک نظر " بھی آپ کی انہی نشانیوں میں سے ایک نشانی ہے۔یہ کتاب ان  کے دو مضامین پر مشتمل ہے جو انہوں نے مولانا عبید اللہ سندھی حنفی ﷫ کی کتاب"شاہ ولی اللہ﷫  اور ان کی سیاسی تحریک" اور پروفیسر محمد سرور کی کتاب "مولانا عبید اللہ سندھی﷫  اور ان کے افکار وتعلیمات" پر تنقید اور استدراک کے طور پر لکھے تھے۔پہلا مقالہ مولانا کی زندگی میں شائع ہوا اور ان کی نظر سے گزر چکا تھا۔اس سلسلے میں انہوں نے ناقد کو مسلسل پانچ خط بھی لکھے جس میں انہوں نے اپنے افکار کی مزید توضیح کی تھی۔وہ پانچوں خطوط اس کتاب میں شامل ہیں۔ان خطوط کے علاوہ مولانا نے "برہان دہلی" میں ابھی اپنے افکار کی مزید تشریح اور 'استدراک'کے بعض شبہات کی تصحیح کی تھی۔مولف موصوف کے مطابق انہوں نے اس کتاب میں مولانا کی تردید کی بجائے ان کے خیالات کی تنقید وتنقیح فرمائی ہے۔اور ان کا کہنا ہے کہ مولانا کے "نئے افکار" سے ہم متفق نہیں ہیں ،اور ان کے یہ افکار کتاب وسنت کے سیدھے راستے سے ہٹے ہوئے ہیں۔اللہ تعالی سے دعا ہے کہ مولف کی اس کاوش کو اپنی بارگاہ میں قبول فرمائے اور تمام مسلمانوں کو کتاب وسنت پر عمل کرنے کی توفیق دے۔آمین(راسخ)

  • title-pages-from-molana-faiz-ur-rehman-souri-copy
    حافظ محمد اسلم شاہدروی

    مولانا فیض الرحمان ثوری ﷫ ﷫ بہاولپور کے معروف تاریخی مقام "اچ" کے قریب آباد ہونے والے کسرانی یا قیصرانی بلوچ قبیلے کے ایک فرد تھے۔آپ اپنے وقت کے جلیل القدر عالم دین تھے۔آپ کو علم رجال پر خاص عبور حاصل تھا۔آپ ایک خاموش طبع اور انتہائی سادہ مزاج انسان تھے۔کسرانی قبیلے میں سب سے پہلے علم دین حاصل کرنے اور علم حدیث کی خدمت کرنے والی شخصیت" مولانا سلطان محمود محدث ﷫ '' کی تھی۔آپ ان کے قریبی عزیز اور لائق شاگرد تھے۔مولانا فیض الرحمان ثوری ﷫ نے تحقیق حدیث خصوصا علم الرجال کے میدان کو چنا اور زندگی کا ایک ایک لمحہ اسی کے لئے وقف کر دیا۔ آپ نے جب اس میدان میں کام شروع کیا تو  پورے برصغیر میں حدیث کے حوالے سے تحقیقی کام کی اشاعت کا سلسلہ نہ ہونے کے برابر تھا۔ زیر تبصرہ کتاب " مولانا فیض الرحمان ثوری ﷫ ، ماھر علم الرجال وممتاز نقاد " دار المعارف اسلامیہ کالج ریلوے روڈ، لاہور کے سینئر ریسرچ سکالر حافظ محمد اسلم شاہدروی صاحب ﷾ کی  کاوش ہے، جس میں انہوں نے مولانا فیض الرحمان ثوری صاح ﷫ ب کی زندگی کے نمایاں پہلوؤں اور انکی علمی خدمات کو مرتب فرما دیا ہے۔ یہ کتاب دراصل ان کی ایم فل کی اسائنمنٹ تھی، جسے زیور طباعت سے آراستہ کر کے منظر عام پر لایا گیا ہے۔ اللہ تعالی سے دعا ہے کہ وہ مرتب موصو ف کی اس محنت کو اپنی بارگاہ میں قبول فرمائے اور ان کے میزان حسنات میں اضافہ فرمائے۔آمین(راسخ)

ای میل سبسکرپشن

محدث لائبریری کی اپ ڈیٹس بذریعہ ای میل وصول کرنے کے لئے ای میل درج کر کے سبسکرائب کے بٹن پر کلک کیجئے۔

 

ایڈوانس سرچ

موضوعاتی فہرست

رجسٹرڈ اراکین

آن لائن مہمان

محدث لائبریری پر اس وقت الحمدللہ 1845 مہمان آن لائن ہیں ، لیکن کوئی رکن آن لائن نہیں ہے۔

ایڈریس

       99-جے ماڈل ٹاؤن،
     نزد کلمہ چوک،
     لاہور، 54700 پاکستان

       0092-42-35866396، 35866476، 35839404

       0092-423-5836016، 5837311

      KitaboSunnat@gmail.com

      بنک تفصیلات کے لیے یہاں کلک کریں