• title-pages-abu-tayyab-muhammad-shamsul-haqq-azeemabadi-hayat-w-khidmat
    محمد عزیر شمس
    برصغیر پاک و ہند میں  حدیث اور محدثانہ طرز استدلال کے پہلو کو اجاگر کرنے کے حوالے سے حضرت شاہ ولی اللہ کا نام بہت یاد رکھا جائے گا۔آپ نے تقلیدی  جمود کو توڑ کر تحریک حریت فکر و عمل کی بنیاد رکھی۔آپ کے بعد  یہ تحریک  عسکری و علمی دو حصوں میں تقسیم ہوگئی۔اگرچہ فکری ارتباط دونوں ہی دھاروں میں رہا لیکن ہر کوئی اپنے حلقے کا بہترین نمائندہ بن گیا۔علمی فکری دھارے کی نمائندگی کے لیے جو سرخیل سامنے آئے  ان میں سید نذیر حسین محدث دہلوی کے عظیم شاگرد رشید جناب شمس الحق عظیم آبادی ہیں۔آپ نے حضرت شاہ ولی اللہ کے خواب کو تعبیر کا جامہ پہناتے ہوئے علم حدیث کی ایسی شرح کرنے کی کوشش فرمائی جو فقہائے محدثین کے طرز استدلال پر ہو۔اس سلسلے میں آپ کا یہ ارادہ تھا  کہ درس نظامی کےنصاب میں شامل کتب حدیث پر  کم از کم حاشیہ چڑھا دیا جائے۔ عون المعبود اسی سوچ کا نتیجہ تھا۔آپ بے پناہ  اسلامی اور مسلکی غیرت کے حامل تھے۔منہج اہل حدیث کو اجاگر  کرنے کے لئے بیش بہا خدمات سرانجام دیں۔ زیرنظر کتاب میں آپ کی دینی خدمات کو واضح کرتے ہوئے زندگی کے مختلف  گوشوں پر حاوی ہے۔ہم تہہ دل سے دعا گوہیں کہ اللہ آپ کو جوار رحمت میں اعلیٰ مقام نصیب فرمائے۔آمین۔(ع۔ح)

    نوٹ:
    محدث فورم میں اس کتاب پر تبصرہ کرنے کے لیے یہاں کلک کریں
  • pages-from-armaghaan-molana-muhammad-ishaaq-bhatti

    اس دنیائے فانی میں بسنے والے ہر انسان کا لمحہ بتدریج اس کی شخصیت کی تکمیل کرتا ہے۔ زمانہ اسے مبلغ، محدث، مؤرخ، محقق، مقرر، مصلح، مربی و محسن کے خطابات عطا کرتا ہے۔ ایسے شخص کی زندگی سراپا علم و عمل، سراپا جہاد اور عالم انسانیت کے لیے سرچشمہ ہوتی ہے۔ وہ زندہ رہتا ہے تو محترم و مکرم ہو کر زندگی کے لمحات گزارتا ہےاور اس عالمِ فنا سے منہ موڑتا ہے تو اپنے پیچھے نہ بھلائے جا سکنے والے کارناموں کی ایک تاریخ رقم کر جاتا ہے۔ ایک پورا زمانہ، ایک پورا عہد اس کی شخصیت سے منسوب ہو جاتا ہے۔ مستقبل کے محرر و مؤرخ اسے اوراقِ تاریخ میں یاد گار زمانہ قرار دیتے ہیں۔ زیرِ تبصرہ کتاب ’’ارمغان مولانا محمد اسحاق بھٹی﷫‘‘ حمید اللہ خاں عزیز کی ہے۔ جس میں مؤرخ اسلام مولانا محمد اسحاق بھٹی ﷫ کی سحر انگیز شخصیت، اعلیٰ علمی کردار، رندانہ افعال اور تاریخ ساز افکار پر مشتمل یہ ’’ارمغان‘‘ ہے۔ اس کتاب کو پندرہ ابواب کی شکل میں مولانا صاحب﷫ کی شخصیت و کردار کو مختلف حصوں میں بیان کیا گیا ہے۔ ہم حمید اللہ خاں صاحب کے لیے دعا گو ہیں کہ اللہ تعالیٰ ان کے علم، عمل، عمر اور مالی و سائل میں اضافہ فرمائے اور انھیں زیادہ سے زیادہ خدمت﷭ دین کے مواقع میسر آئیں۔ آمین۔ (پ،ر،ر)

  • pages-from-al-ustaaz-abu-ul-hassan-al-nadvi-al-wajhul-aakhir-minn-kitabatah
    صلاح ا لدین مقبول احمد

    فالشيخ أبو الحسن علي ميان الندوي رحمه الله من أبرز علماء القرن الحاضر الذين أسهموا في إحياء الأمة الإسلامية بكتاباتهم النافعة و مقالاتهم الفاضلة، و اعترف له بذلك العالَم الإسلامي كله، و كتابه " ماذا خسر العالم بانحطاط المسلمين " خير شاهدعلى علو ذوقه العلمي و قوة رأيه الفكري، و الحديث عن جهوده العلمية و الفكريه طويل، كتبت فيه مقالات علمية و رسائل جامعية، و الذي يعنينا هنا هو التنويه إلى جانب مهم من حياته ألا و هو تأثره بالتصوف و ميله عن منهج السلف في هذا الباب، فالشيخ على جلالته و علو منزلته كان غارقا في التصوف و شغوفا بالصوفياء، و روج هذا المسلك المنحرف في أرجاء كتاباته و دافع عنه في ثنايا مقالاته، و كان من الجدير أن ينبه على أخطائه و زلاته في هذا الجانب نصيحة لله و لكتابه و لرسوله و لعموم المسلمين. فتولى هذا المهمة الشيخ الفاضل المحقق صلاح الدين مقبول– حفظه الله- من علماء الهند السلفيين، خريج الجامعة الإسلامية بالمدينة المنورة، فجمع كلام الشيخ الندوي من غصون كتبه و أثبت بما لديه من الميل والانحراف عن المنهج الصحيح في هذا الباب وغيره، و كل ذلك بأسلوب علمي نزيه عن السب و الشتم مع اعترافه للشيخ بما وهبه الله من العلم و الفضل، و الكتاب قد تم تأليفه في حياة الشيخ أبي الحسن و إرساله إليه لكي ينظر فيه و يبدي ما عنده من الملاحظات عليه، ولكن الشيخ لم تتسن له الفرصة بأن يطالعه بنفسه بل فوض الأمر إلى بعض رفقائه فيقرأه و يخبر الشيخ بخلاصة مضمونه، ولكن هذا الرفيق لم يوفق في إبداء الملاحظات الجادة، بل أتى بما هو يستغرب من الشيخ أبي الحسن و ممن يستعين به في أعماله العلمية، و الحكاية بتفاصيلها مسجلة في بداية الكتاب. و قد طبع الكتاب في بداية المائة الحادية و العشرين الميلادية و مضى عليه أكثر من أربعة عشر سنة تقريبا، و نفدت الكمية من المكتبات التجاربة و دور النشر فرأى بعض منسوبي مكتبة المحدث رفعه على الشبكة لكي يعم النفع به و يكون في متناول أيدي الباحثين. و جزى الله المؤلف و كل من ساهم في هذا الانجاز خير الجزاء. ( خ -ح )

  • title-pages-shaikh-badee-udeen-shah-rashdi
    مختلف اہل علم
    برصغیر پاک و ہند میں بلاشبہ یہ فخر صرف سندھ کو حاصل ہے کہ اسلام کا روشن سورج جب ملک عرب کے خطہ غیرذی ذرع اور ریتلی سرزمین سے طلوع ہوا تو ان کی روشن و شفاف کرنیں سب سے پہلے دیبل (سندھ) کی سرزمین پر جاپڑیں۔ اور اسلام کی روشنی اسی راستہ سے اس ملک میں پھیلی، یہی وہ مقدس سرزمین ہے ۔ جس کو صحابہ کرام رضی اللہ عنہم  تابعین عظام اور تبع تابعین کے قدم بوسی کا شرف حاصل ہے۔ اور ان کے اجسام اطہر اس سرزمین میں مدفون ہیں۔یہاں لشکر اسلام کے مبارک قدموں کے انمٹ نقوش اب تک قدیم کھنڈرات کی صورت میں دعوت فکر دے رہے ہیں۔ مجاہد اسلام محمد بن قاسم ثقفی رحمہ اللہ  کا پہلا جہادی معرکہ سندھ کی سرزمین میں وقوع پذیر ہوا۔جس کی مناسبت سے سندھ کو باب الاسلام کے لقب سے یاد کیا جاتا ہے۔اسلام کی دعوت و تبلیغ میں سندھی علماء کرام و مشائخ عظام اور محدثین  کی بڑی خدمات ہیں۔شخصی یا خاندانی لحاظ سے سندھ کے علماء و محدثین کی ایک  طویل فہرست موجود ہے ۔ اسی فہرست میں ‘‘راشدی خاندن’’ کو بہت بڑا مقام  و اہمیت حاصل ہے۔اسی خاندان کے معروف چشم و چراغ مولانابدیع الدین راشدی ہیں۔ دنیائے اسلام میں آپ  کو شیخ العرب و العجم کے لقب سے یاد کیا جاتا ہے۔زیرنظرکتاب درحقیقت  میرپور خاص سے نکلنے والے ایک جریدہ بحرالعلوم کی اشاعت خاص ہے۔ جس میں مولانا کی سوانح عمری کے مختلف پہلوؤں پر بطریق احسن روشنی ڈالی ہے۔(ع۔ح)

    نوٹ:
    محدث فورم میں اس کتاب پر تبصرہ کرنے کے لیے یہاں کلک کریں
  • pages-from-imam-ul-hind-maulana-abu-ul-kalam-azaad-abu-ali-asri
    ابو علی اثری

    مولانا ابو الکلام11نومبر 1888ء کو پیدا ہوئے اور 22 فروری 1958ء کو وفات پائی۔ مولانا ابوالکلام آزاد کا اصل نام محی الدین احمد تھا۔آپ کے والد بزرگوارمحمد خیر الدین انہیں فیروزبخت (تاریخی نام) کہہ کر پکارتے تھے۔ آپ مکہ معظمہ میں پیدا ہوئے۔ والدہ کا تعلق مدینہ سے تھا۔ سلسلہ نسب شیخ جمال الدین سے ملتا ہے جو اکبر اعظم کے عہد میں ہندوستان آئے اور یہیں مستقل سکونت اختیار کرلی۔1857ء کی جنگ آزادی میں آزاد کے والد کو ہندوستان سے ہجرت کرنا پڑی کئی سال عرب میں رہے۔ مولانا کا بچپن مکہ معظمہ اور مدینہ منورہ میں گزرا ۔ابتدائی تعلیم والد سے حاصل کی۔ پھر جامعہ ازہرمصر چلے گئے۔ چودہ سال کی عمر میں علوم مشرقی کا تمام نصاب مکمل کر لیا تھا۔مولانا کی ذہنی صلاحتیوں کا اندازہ اس سے ہوتا ہے کہ انہوں نے پندرہ سال کی عمر میں ماہوار جریدہ لسان الصدق جاری کیا۔ جس کی مولانا الطاف حسین حالی نے بھی بڑی تعریف کی۔ 1914ء میں الہلال نکالا۔ یہ اپنی طرز کا پہلا پرچہ تھا۔ ۔ مولانا ایک نادر روزگار شخصیت تھے ۔ اور اللہ تعالیٰ نے ان کی ذات میں ایسے اوصاف ومحاسن جمع کردیے تھےکہ انہوں نے زندگی کے ہر دائرہ میں بلند مقام حاصل کیا۔مولانا علم وفضل کے اعتبار سے ایک جامع اور ہمہ گیر شخصیت تھے۔ مولانا ابو الکلام آزاد کو قدرت نے فکر ونظر کی بے شمار دولتوں، علم وفضل کی بے مثال نعمتوں اور بہت سے اخلاقی کمالات سے نوازا تھا۔ بر صغیر پاک وہند میں موصوف ایک ایسی شخصیت ہیں جن پر سب سے زیادہ لکھا گیا ہے۔ زیرتبصرہ کتاب’’ امام الہند مولانا ابو الکلام آزاد‘‘ اعظم گڑھ انڈیا کے معروف سوانح نگار مولانا ا بو علی اثری کے مولانا ابواالکلام آزاد کے بارے میں وقتاً وفوقتاً لکھے گئے مقالات کا مجموعہ ہے۔ گو جرانوالہ کی علم دوست شخصیت جناب ضیاء اللہ کھوکھر صاحب نے مختلف رسائل میں بکھرے مطبوعہ مضامین کو مرتب کرکے 2005ء میں کتابی صورت میں شائع کیا۔ (م۔ا)

  • title-pages-imam-shafie-majadad-qarne-sani
    عبد السبحان ناخدا ندوی مدنی
    حضرت امام شافعی کا شمار فقہائے اربعہ میں ہوتا ہے۔آپ اہل سنت کا عظیم سرمایہ ہیں۔ آپ  نے  علم الاستدلال میں ایک نیا منہج متعارف کرایا۔استدلال میں آپ امام ابوحنیفہ کی بہ نسبت زیادہ اقرب الی السنہ تھے۔اس کے علاوہ آپ کو شعرو ادب سے بھی بہت زیادہ دلچسپی تھی۔ اللہ تعالیٰ نے آپ کو رہتی دنیا تک شہرت دوام بخشی۔امت کا ایک کثیر طبقہ آپ کے علم الاستدلال کو بطور منہاج کے اپنائے ہوئے ہے۔امام شافعی انتہائی زیادہ متورع  اور معتدل شخصیت کے حامل تھے۔حالات و زمانہ کے تقاضوں کے پیش نظر آپ کو اپنی رائے میں تبدیلی بھی لانی پڑی تو آپ نے اس سے گریز نہیں کیا ۔ چنانچہ فقہ کی کتب میں آپ کے قول جدید اور قدیم کے نام سے جو آرا پیش کی جاتی ہیں وہ اسی بات کی عکاسی کرتی ہیں۔عقیدے کے اعتبار سے آپ اہل سنت کے مسلک پر تھے۔زیر نظر کتاب آپ کی سیرت  کے مختلف گوشے وال کرتی ہے۔جس میں بالخصوص  سب سے زیادہ  آپ کے مسلک یا  استدلال پر روشنی ڈالی گئی ہے۔ اللہ آپ کو راحت ابدی نصیب فرمائے۔(ع۔ح)

    نوٹ:
    محدث فورم میں اس کتاب پر تبصرہ کرنے کے لیے یہاں کلک کریں
  • pages-from-tazkara-abu-ul-wafa
    عبد الرشید عراقی

    شیخ الاسلام مولانا ابو الوفا ثناء اللہ امرتسری﷫(1868۔1948ء) کی ذات محتاجِ تعارف نہیں۔آپ امرتسر میں پیدا ہوئے ۔ مولانا غلام رسول قاسمی ، مولانا احمد اللہ امرتسری ، مولانا احمد حسن کانپوری ، حافظ عبدالمنان وزیر آبادی اور میاں نذیر حسین محدث دہلوی رحہم اللہ سے علوم دینیہ حاصل کیے۔ مسلک کے لحاظ سے اہل حدیث تھے اور اپنے مسلک کی ترویج کے لیے تمام زندگی کوشاں رہے۔ اخبار اہل حدیث جاری کیا۔ اور بہت سی کتب لکھیں ۔ فنِّ مناظرہ میں مشاق تھے۔ سینکڑوں کامیاب مناظرے کئے ۔ آب بیک وقت مفسر قرآن ، محدث ، مورخ ، محقق ،مجتہدو فقیہ ،نقاد، مبصر ،خطیب ومقرر ،دانشور ،ادیب وصحافی ، مصنف ، معلم ،متکلم ،مناظر ومفتی کی جملہ صفات متصف تھے۔قادیانیت کی   تردیدمیں نمایا ں خدمات کی وجہ سے آپ کو فاتح قادیان کے لقب سے نوازا گیا ۔ برصغیر کے نامور اہل قلم و اہل علم نے آپ کے علم و فضل، مصائب و بلاغت، عدالت و ثقاہت، ذکاوت ومتانت، زہد و ورع، تقوی و طہارت، ریاضت وعبادت، نظم و ضبط اور حاضر جوابی کا اعتراف کیا ہے۔علامہ سید سلیمان ندوی نے آپ کی وفات پر اپنے رسالہ معارف اعظم گڑھ میں لکھا: ”مولانا ثناء اللہ ہندوستان کےمشاہیرعلماء میں تھے۔ فن مناظرہ کے امام تھے۔ خوش بیان مقرر تھے۔متعدد تصانیف کے مصنف تھے۔ موجودہ سیاسی تحریکات سے پہلے جب شہروں میں اسلامی انجمنیں قائم تھیں اور مسلمانوں اور قادیانیوں اور آریوں اور عیسائیوں میں مناظرے ہوا کرتے تھے، تو مرحوم مسلمانوں کی طرف سے عموما نمائندہ ہوتے تھے۔ اور اس حوالے سے وہ ہمالیہ سے لے کر خلیج بنگال تک رواں دواں رہتے تھے۔اسلام اور پیغمبر اسلام کے خلاف جس نے بھی زبان کھولی اور قلم اٹھایا اس کے حملے کو روکنے کے لئے ان کا قلم شمشیر بے نیام ہوتا تھا۔ اور اسی مجاہدانہ خدمت میں انہوں نے عمر بسر کر دی۔ مرحوم اسلام کے بڑے مجاہد سپاہی تھے۔ زبان اور قلم سے اسلام پر جس نے بھی حملہ کیا۔ اس کی مداخلت میں جو سپاہی سب سے آگے بڑھتا وہ وہی ہوتے۔ اللہ تعالی اس غازی اسلام کو شہادت کے درجات و مراتب عطا کرے‘‘(معارف اعظم گڑھ مئی ١٩٤٨ء)آپ کی حیات حدمات کے حوالے مختلف   اہل علم نے   کتب تصنیف کی ہیں ۔اور پاک وہند کے رسائل وجرائد میں   اب بھی آپ کی خدمات جلیلہ کے سلسلے میں مضامین شائع ہوتے رہتے ہیں۔ زیر نظر کتاب ’’تذکرۂ ابو الوفا‘‘ معروف   مضمون نگار اور مؤرخ مولانا عبدالرشید عراقی﷾ کی تصنیف ہے ۔ جس میں عراقی صاحب نے شیخ الاسلام فاتح   قادیان ،امام المظاظرین مولانا ابو الوفا ثناء اللہ امرتسری ﷫ کے حالات زندگی اور آپ کی علمی خدمات پر سیر حاصل بحث  اورجامع تبصرہ پیش کیا ہے ۔اللہ تعالی شیخ الاسلام کی دفاع اسلام کے لیے   خدمات کو قبول فرمائے اور انہیں جنت الفردوس میں اعلی ٰمقام عطافرمائے (آمین) م۔ ا

  • title-pages-tazkra-bazurghan-alwi-sohdra-copy
    عبد الرشید عراقی

    سوہدرہ ضلع گوجرانوالہ کی تحصیل وزیر آباد کا ایک قصبہ ہےاور اس کاشمار پنجاب کےان قصبات میں ہوتا ہے جو اپنی علم دوستی اور دینی ودنیاوی خدمات کےلحاظ سے پاک وہند میں غیر معمولی شہرت واہمیت کے مالک ہیں ۔ اس قصبہ نے شعر وادب سے لے کر صحافت واور علم فن سےلے کر مذہب تک بہت سےایسے ارباب فکر کو جنم دیا ہے جن کا مسلمان ہند کی تقدیر بنانے میں بڑا حصہ ہے۔کئی نامور علماء کا تعلق اس قصبہ سے ہے ۔ زیر تبصرہ کتاب ’’تذکرہ بزرگان علوی سوہدرہ‘‘ پاکستان کے معروف مؤرخ وسیرت نگار جناب مولانا عبد الرشید عراقی ﷾ کی تصنیف ہے۔انہوں نے اس کتاب میں سوہدرہ کی تاریخ، سوہدرہ کے علوی خاندان کی اشاعت دین کے سلسلے میں خدمات اور ممتاز بزرگوں کا تذکرہ بڑے دلنشیں انداز میں کیا ہے۔ان بزرگوں میں مولانا غلام نبی الربانی ،مولانا عبدالحمید سوہدروی، مولانا عبد المجید خادم سوہدری، مولانا حافظ محمد یوسف سوہدروی ،مولانا محمد ادریس فاروقی﷭ ، حافظ عبدالوحید سوہدروی ، حافظ حبیب الرحمٰن سوہدروی ، وغیرہ کے اسماء گرامی شامل ہیں ۔(م۔ا)

  • title-pages-tazkra-hafiz-mohammad-gondalwi-copy
    شاہد فاروق ناگی

    حضرت العلام، محدث العصر جناب حافظ محمد گوندلوی ﷫ اپنے وقت کے امام تھے۔ ان کی تدریس اور تالیف کے میدان میں نمایاں خدمات ہیں۔ حضرت العلام کا مطالعہ بہت وسیع اور فکر میں انتہائی گہرائی تھی ۔ ان کے حافظے کی پختگی کی وجہ سے لوگ انہیں چلتی پھرتی لائبریری کہا کرتے تھے ۔موصوف ۶ رمضان المبارک ۱۳۱۵ھ بمطابق ۱۸۹۷ء ضلع گوجرانوالہ کے مشہور قصبہ گوندلانوالہ میں پیدا ہوئے۔ آپ کے والد میاں فضل الدین ﷫نے آپ کا نام اعظم رکھا تھا اور آپ کی والدہ محترمہ نے آپ کا نام محمد رکھا لیکن آپ والدہ صاحبہ کے تجویز کیے ہوئے نام ہی کے ساتھ معروف ہوئے۔ پانچ سال کی عمر میں آپ کو حفظِ قرآن کے لیے ایک حافظ صاحب کے پاس بٹھا دیا گیا، تھوڑے ہی عرصے میں حفظ کی صلاحیت خاصی بڑھ گئی۔ ایک دن والد محترم کہنے لگے کہ ایک ربع پارہ روزانہ یاد کر کے سنایا کرو، ورنہ تمہیں کھانا نہیں ملے گا۔ اس دن سے آپ نے روزانہ ربع پارہ یاد کر کے سنانا شروع کر دیا۔حفظ قرآن کا کام مکمل ہوا تو والدہ ماجدہ نے مزید تعلیم کے لیے آپ کو جامع مسجد اہل حدیث چوک نیائیں (چوک اہل حدیث) شہر گوجرانوالہ میں مولانا علاؤ الدین کے پاس بھیجا، جہاں آپ نے عربی ادب اور صرف و نحو کی چند ابتدائی کتابیں پڑھیں۔ پھر آپ کو گوندلانوالہ کے ایک نیک سرشت بزرگ عبداللہ ٹھیکیدار کشمیری کی معیت میں مدرسہ تقویۃ الاسلام امر تسر میں بھیج دیا۔ یہ مدرسہ اس وقت حضرت الامام عبدالجبار غزنوی ﷫کے زیر نگرانی و سرپرستی چل رہا تھا۔ یہاں آپ نے چار سال کی قلیل مدت میں حدیث، تفسیر، فقہ اور دیگر علوم و فنون کی تمام کتب سے فراغت حاصل کی۔درسِ نظامی کی تکمیل کے بعد آپ نے طبیہ کالج دہلی میں داخلہ لے لیا۔ یہاں طب کا چار سالہ کورس مکمل کر کے آپ نے ’’فاضل الطب و الجراحت‘‘ درجہ اول کی سند اور گولڈ میڈل حاصل کیا۔ طبیہ کالج کے آپ کے اساتذہ میں سب سے زیادہ قابل، اور بین الاقوامی مشہور شخصیت حکیم اجمل خان مرحوم تھے۔۱۹۲۷ء میں آپ مدرسہ رحمانیہ دہلی تشریف لے گئے اور ۱۹۲۸ء تک وہیں تدریسی خدمات انجام دیں۔ پھر آپ گوجرانوالہ واپس تشریف لے آئے یہاں مولانا عطاء اللہ حنیف اور حافظ عبداللہ بڈھیمالوی جیسے بڑے علماء آپ سے اسی دور میں مختلف کتابیں پڑھتے رہے۔ ۱۹۳۳ء میں آپ عمر آباد تشریف لے گئے، چند سال یہاں تدریس کے بعد آپ واپس پھر گوجرانوالہ تشریف لے آئے اور ۱۹۴۷ء تک آپ یہیں تدریس کے فرائض انجام دیتے رہے۔ ۱۹۵۶ء میں جب جامعہ سلفیہ فیصل آباد قیام عمل میں آیا تو شیخ الحدیث کی مسند کے لیے حضرت حافظ محمد گوندلوی ﷫کا انتخاب ہوا۔۱۹۶۳ء تک آپ جامعہ سلفیہ میں شیخ الحدیث کی خدمات سرانجام دیتے رہے۔۱۹۶۴ء کے لگ بھگ مدینہ یونیورسٹی کی طرف سے آپ کو تدریس کے لیے مدعو کیا گیا تو آپ وہاں تشریف لے گئے، مدینہ یونیورسٹی سے واپس آ کر جامعہ اسلامیہ کے بعد جامعہ محمدیہ میں تدریس کا سلسلہ شروع کر دیا اور وفات تک اسی ادارے سے وابستہ رہے۔آپ کی وفات ۱۴ رمضان المبارک ۱۴۰۵ھ، ۴ جون ۱۹۸۵ء کو ہوئی۔ ان کے جنازہ میں علماء کرام کے جم غفیر نے شرکت کی، آپ کی نماز جنازہ شیخ الحدیث مولانا محمد عبداللہ رحمہ اللہ آف گوجرانوالہ نے پڑھائی۔ زير تبصره كتاب ’’ تذکرہ حافظ محمد گوندلوی ﷫‘‘ محترم شاہد فاروق ناگی صاحب کی مرتب شدہ ہے ۔اس کتاب میں انہوں نے محدث العصر حافظ محمدگوندلوی ﷫ کے واقعاتِ حیات خاصی تفصیل سے بیان کیے ہیں ۔ ان واقعات میں حافظ صاحب مرحوم کےخاندان کا تذکرہ ، اساتذہ کے اسمائے گرامی ،ان کے بعض شاگردوں کی علمی سرگرمیوں کی نشاندہی اور ان کی تصانیف کی تفصیل بھی اس میں شامل کردی ہے ۔اور آخری باب میں حضرت گوندلوی کےمعاصر علماء کاتذکرہ بھی پیش کیا ہے ۔(م۔ا)

  • title-pages-tazkra-ulmae-ahle-hadith-2-copy
    پروفیسر میاں محمد سجاد

    برصغیر پاک و ہند میں علمائے اہل حدیث نے اسلام کی سربلندی ، اشاعت ، توحید و سنت نبوی ﷺ ، تفسیر قرآن کےلیے جو کارہائے نمایاں سرانجام دیئے ہیں وہ تاریخ میں سنہری حروف سے لکھے جائیں گے او رعلمائے اہلحدیث نے مسلک صحیحہ کی اشاعت و ترویج میں جو فارمولا پیش کیا اس سے کسی بھی پڑھے لکھے انسان نے انکار نہیں کیا ۔علمائے اہلحدیث نے اشاعت توحید و سنت نبویﷺاور اس کے ساتھ ہی ساتھ شرک و بدعت کی تردید میں جو کام کیاہے اور جو خدمات سرانجام دی ہیں وہ ایک سنگ میل کی حیثیت رکھتی ہیں۔پنجاب میں تدریسی خدمت کے سلسلہ میں مولانا حافظ عبدالمنان صاحب محدث و زیر آبادی (م1334ھ) کی خدمات بھی سنہری حروف سے لکھنے کے قابل ہیں۔مولانا حافط عبدالمنان صاحب حضرت شیخ الکل کے ارشاد تلامذہ میں سے تھے اور فن حدیث میں اپنے تمام معاصر پر فائز تھے۔ آپ نے اپنی زندگی میں 80 مرتبہ صحاح ستہ پڑھائی۔ آپ کے تلامذہ میں ملک کے ممتاز علمائے کرام کا نام آتاہے اورجن کی اپنی خدمات بھی اپنے اپنے وقت میں ممتاز حیثیت کی حامل ہیں۔ مولانا سید سلیمان ندوی لکھتے ہیں:’’علمائے اہلحدیث کی تدریسی و تصنیفی خدمات قدر کے قابل ہے۔ پچھلے عہد میں نواب صدیق حسن خاں (م1307ھ) کے قلم او رمولانا سید محمد نذیر حسین دہلوی (م1320ھ) کی تدریس سے بڑا فیض پہنچا۔ بھوپال ایک زمانہ تک علمائے اہلحدیث کا مرکز رہا۔ قنوج، سہوان اوراعظم گڑھ کے بہت سے نامور اہل علم اس ادارہ میں کام کررہے تھے۔ شیخ حسین عرب یمنی (م327ھ) ان سب کے سرخیل تھے اوردہلی میں مولانا سید محمد نذیر حسین محدث دہلوی کے ہاں سند درس بچھی تھی اور جوق در جوق طالبین حدیث مشرق و مغرب سے ان کی درس گاہ کا رخ کررہے تھے۔ ان کی درس گاہ سے جو نامور اُٹھے ان میں ایک مولانا محمد ابراہیم صاحب آروی (م1320ھ) تھے۔ جنہوں نے سب سے پہلے عربی تعلیم اور عربی مدارس میں اصلاح کا خیال کیا اور مدرسہ احمدیہ کی بنیادڈالی ۔اس درس گاہ کے دوسرے نامور مولانا شمس الحق صاحب ڈیانوی عظیم ابادی (م1329ھ) صاحب عون المعبود فی شرح ابی داؤد ہیں جنہوں نے کتب حدیث کی جمع اور اشاعت کو اپنی دولت اور زندگی کامقصد قرار دیا اوراس میں وہ کامیاب ہوئے۔تصنیفی لحاظ سے بھی علمائے اہلحدیث کاشمار برصغیر پاک و ہند میں اعلیٰ اقدار کا حامل ہے۔ علمائے اہلحدیث نے عربی ، فارسی اور اردو میں ہر فن یعنی تفسیر، حدیث، فقہ،اصول فقہ، ادب تاریخ او رسوانح پر بے شمار کتابیں لکھی ہیں۔ الغرض برصغیر پاک وہندمیں علمائےاہل حدیث نےاشاعت اسلام ، کتاب وسنت کی ترقی وترویج، ادیان باطلہ اور باطل افکار ونظریات کی تردید اور مسلک حق کی تائید اور شرک وبدعات ومحدثات کےاستیصال اور قرآن مجید کی تفسیر اور علوم االقرآن پر جو گراں قدر نمایاں خدمات سرانجام دیں وہ تاریخ اہل حدیث کاایک زریں باب ہے ۔مختلف قلمکاران اور مؤرخین نے علمائے اہل حدیث کےالگ الگ تذکرے تحریر کیے ہیں اور بعض نے کسی خاص علاقہ کے علماء کا تذکرہ وسوانح حیات لکھے ہیں۔ جیسے تذکرہ علماء مبارکپور ، تذکرہ علماء خانپور وغیرہ ۔ علما ئے عظام کے حالات وتراجم کو جمع کرنے میں مؤرخ اہل حدیث جناب مولانامحمد اسحاق بھٹی ﷫ کی خدمات سب سے زیادہ نمایاں ہیں ۔ زیر تبصرہ کتاب ’’ تذکرہ علماء اہل حدیث پاکستان ‘‘ پروفیسر میاں محمد یوسف سجاد کی تصنیف ہے جو انہوں نے شیخ الحدیث مولانا محمد علی جانباز ﷫ کے ارشاد پر ساڑھے تین سال کی محنت شاقہ سے مرتب کی ہے ۔اس کتاب کی تین جلدیں ہیں لیکن ہمیں پہلی جلد نہیں مل سکی اس لیے جلد دوم اور سوم ویب سائٹ پر پبلش کی جارہی ہے ۔محترم پروفیسر یوسف سجاد صاحب نے جلددوم میں 141 اور جلد سوم میں 147 علمائے کرام کے تراجم پیش کیے ہیں ۔اس کتاب کومرتب کروانےکےاصل محرک شہید ملت علامہ احسان الٰہی ظہیر شہید تھے ۔8 فروری 1983ء کوعلامہ احسان الٰہی ظہیر شہید نے جید علماء اہل حدیث کی ایک نمائندہ میٹنگ منعقد کی اور اس میں علماء کو جماعت اہل حدیث کی طرف سے تصنیف وتالیف کے کام کوتیز کرنے کی طرف توجہ دلائی بالخصوص علمائے اہل حدیث کے حالات لکھنے کی ضرورت پر بہت زور دیاگیا اور یہ کا م شیخ الحدیث مولانا محمد علی جانباز ﷫ کے سپرد کیا گیا موصوف اپنی تدریسی ودیگر مصروفیات کےباعث اس کام کو خود تونہ کرسکے انہوں اپنے شاگرد رشید پروفیسر میاں یوسف سجاد سے اس کام کوشروع کروا کر پائہ تکمیل تک پہنچایا۔اللہ تعالیٰ تمام کی کاوشوں کو قبول فرمائے ۔(آمین)

  • title-pages-tazkra-ulmae-ahle-hadith-3-copy
    پروفیسر میاں محمد سجاد

    برصغیر پاک و ہند میں علمائے اہل حدیث نے اسلام کی سربلندی ، اشاعت ، توحید و سنت نبوی ﷺ ، تفسیر قرآن کےلیے جو کارہائے نمایاں سرانجام دیئے ہیں وہ تاریخ میں سنہری حروف سے لکھے جائیں گے او رعلمائے اہلحدیث نے مسلک صحیحہ کی اشاعت و ترویج میں جو فارمولا پیش کیا اس سے کسی بھی پڑھے لکھے انسان نے انکار نہیں کیا ۔علمائے اہلحدیث نے اشاعت توحید و سنت نبویﷺاور اس کے ساتھ ہی ساتھ شرک و بدعت کی تردید میں جو کام کیاہے اور جو خدمات سرانجام دی ہیں وہ ایک سنگ میل کی حیثیت رکھتی ہیں۔پنجاب میں تدریسی خدمت کے سلسلہ میں مولانا حافظ عبدالمنان صاحب محدث و زیر آبادی (م1334ھ) کی خدمات بھی سنہری حروف سے لکھنے کے قابل ہیں۔مولانا حافط عبدالمنان صاحب حضرت شیخ الکل کے ارشاد تلامذہ میں سے تھے اور فن حدیث میں اپنے تمام معاصر پر فائز تھے۔ آپ نے اپنی زندگی میں 80 مرتبہ صحاح ستہ پڑھائی۔ آپ کے تلامذہ میں ملک کے ممتاز علمائے کرام کا نام آتاہے اورجن کی اپنی خدمات بھی اپنے اپنے وقت میں ممتاز حیثیت کی حامل ہیں۔ مولانا سید سلیمان ندوی لکھتے ہیں:’’علمائے اہلحدیث کی تدریسی و تصنیفی خدمات قدر کے قابل ہے۔ پچھلے عہد میں نواب صدیق حسن خاں (م1307ھ) کے قلم او رمولانا سید محمد نذیر حسین دہلوی (م1320ھ) کی تدریس سے بڑا فیض پہنچا۔ بھوپال ایک زمانہ تک علمائے اہلحدیث کا مرکز رہا۔ قنوج، سہوان اوراعظم گڑھ کے بہت سے نامور اہل علم اس ادارہ میں کام کررہے تھے۔ شیخ حسین عرب یمنی (م327ھ) ان سب کے سرخیل تھے اوردہلی میں مولانا سید محمد نذیر حسین محدث دہلوی کے ہاں سند درس بچھی تھی اور جوق در جوق طالبین حدیث مشرق و مغرب سے ان کی درس گاہ کا رخ کررہے تھے۔ ان کی درس گاہ سے جو نامور اُٹھے ان میں ایک مولانا محمد ابراہیم صاحب آروی (م1320ھ) تھے۔ جنہوں نے سب سے پہلے عربی تعلیم اور عربی مدارس میں اصلاح کا خیال کیا اور مدرسہ احمدیہ کی بنیادڈالی ۔اس درس گاہ کے دوسرے نامور مولانا شمس الحق صاحب ڈیانوی عظیم ابادی (م1329ھ) صاحب عون المعبود فی شرح ابی داؤد ہیں جنہوں نے کتب حدیث کی جمع اور اشاعت کو اپنی دولت اور زندگی کامقصد قرار دیا اوراس میں وہ کامیاب ہوئے۔تصنیفی لحاظ سے بھی علمائے اہلحدیث کاشمار برصغیر پاک و ہند میں اعلیٰ اقدار کا حامل ہے۔ علمائے اہلحدیث نے عربی ، فارسی اور اردو میں ہر فن یعنی تفسیر، حدیث، فقہ،اصول فقہ، ادب تاریخ او رسوانح پر بے شمار کتابیں لکھی ہیں۔ الغرض برصغیر پاک وہندمیں علمائےاہل حدیث نےاشاعت اسلام ، کتاب وسنت کی ترقی وترویج، ادیان باطلہ اور باطل افکار ونظریات کی تردید اور مسلک حق کی تائید اور شرک وبدعات ومحدثات کےاستیصال اور قرآن مجید کی تفسیر اور علوم االقرآن پر جو گراں قدر نمایاں خدمات سرانجام دیں وہ تاریخ اہل حدیث کاایک زریں باب ہے ۔مختلف قلمکاران اور مؤرخین نے علمائے اہل حدیث کےالگ الگ تذکرے تحریر کیے ہیں اور بعض نے کسی خاص علاقہ کے علماء کا تذکرہ وسوانح حیات لکھے ہیں۔ جیسے تذکرہ علماء مبارکپور ، تذکرہ علماء خانپور وغیرہ ۔ علما ئے عظام کے حالات وتراجم کو جمع کرنے میں مؤرخ اہل حدیث جناب مولانامحمد اسحاق بھٹی ﷫ کی خدمات سب سے زیادہ نمایاں ہیں ۔ زیر تبصرہ کتاب ’’ تذکرہ علماء اہل حدیث پاکستان ‘‘ پروفیسر میاں محمد یوسف سجاد کی تصنیف ہے جو انہوں نے شیخ الحدیث مولانا محمد علی جانباز ﷫ کے ارشاد پر ساڑھے تین سال کی محنت شاقہ سے مرتب کی ہے ۔اس کتاب کی تین جلدیں ہیں لیکن ہمیں پہلی جلد نہیں مل سکی اس لیے جلد دوم اور سوم ویب سائٹ پر پبلش کی جارہی ہے ۔محترم پروفیسر یوسف سجاد صاحب نے جلددوم میں 141 اور جلد سوم میں 147 علمائے کرام کے تراجم پیش کیے ہیں ۔اس کتاب کومرتب کروانےکےاصل محرک شہید ملت علامہ احسان الٰہی ظہیر شہید تھے ۔8 فروری 1983ء کوعلامہ احسان الٰہی ظہیر شہید نے جید علماء اہل حدیث کی ایک نمائندہ میٹنگ منعقد کی اور اس میں علماء کو جماعت اہل حدیث کی طرف سے تصنیف وتالیف کے کام کوتیز کرنے کی طرف توجہ دلائی بالخصوص علمائے اہل حدیث کے حالات لکھنے کی ضرورت پر بہت زور دیاگیا اور یہ کا م شیخ الحدیث مولانا محمد علی جانباز ﷫ کے سپرد کیا گیا موصوف اپنی تدریسی ودیگر مصروفیات کےباعث اس کام کو خود تونہ کرسکے انہوں اپنے شاگرد رشید پروفیسر میاں یوسف سجاد سے اس کام کوشروع کروا کر پائہ تکمیل تک پہنچایا۔اللہ تعالیٰ تمام کی کاوشوں کو قبول فرمائے ۔(آمین)

  • title-pages-tazkra-muhaddis-ropri
    عبد الرشید عراقی

    متحدہ پنجاب کے جن اہل حدیث خاندانوں نے تدریس وتبلیغ اور مناظرات ومباحث میں شہرت پائی ان میں روپڑی خاندان کےعلماء کرام کو بڑی اہمیت حاصل ہے ۔روپڑی خاندان میں علم وفضل کے اعتبار سے سب سے برگزیدہ شخصیت حافظ عبد اللہ محدث روپڑی(1887ء۔1964) کی تھی، جو ایک عظیم محدث ،مجتہد مفتی اور محقق تھے ان کے فتاویٰ، ان کی فقاہت اور مجتہدانہ صلاحیتوں کے غماز او ر ان کی تصانیف ان کی محققانہ ژرف نگاہی کی مظہر ہیں۔ تقسیمِ ملک سے قبل روپڑ شہر (مشرقی پنجاب) سے ان کی زیر ادارت ایک ہفتہ وار پرچہ ''تنظیم اہلحدیث'' نکلتا رہا، جو پاکستان بننے کے بعد اب تک لاہور سے شائع ہو رہا ہے۔ محدث روپڑی تدریس سے بھی وابستہ رہے، قیامِ پاکستان کے بعد مسجد قدس (چوک دالگراں، لاہور) میں جامعہ اہلحدیث کے نام سے درس گاہ قائم فرمائی۔ جس کے شیخ الحدیث اور صدر مدرّس اور ''تنظیم اہلحدیث'' کے مدیر وغیرہ سب کچھ وہ خود ہی تھے، علاوہ ازیں جماعت کے عظیم مفتی اور محقق بھی۔اس اعتبار سے محدث روپڑی کی علمی و دینی خدمات کا دائرہ بہت وسیع ہے، وہ تدریس کے شعبے سے بھی وابستہ رہے اور کئی نامور علماء تیار کئے، جیسے حافظ عبدالقادر روپڑی ،حافظ اسمٰعیل روپڑی ، مولانا ابوالسلام محمد صدیق سرگودھوی ، مولانا عبدالسلام کیلانی رحمہم اللہ ، حافظ عبد الرحمن مدنی ،مولانا حافظ ثناء اللہ مدنی وغیرہم۔ ''تنظیم اہلحدیث''کے ذریعے سے سلفی فکر اور اہلحدیث مسلک کو فروغ دیا اور فرقِ باطلہ کی تردید کی۔ اللہ تعالیٰ نے ان کو اجتہاد و تحقیق کی اعلیٰ صلاحیتوں سے نوازا تھا، فتویٰ و تحقیق کے لئے وہ عوام و خواص کے مرجع تھے۔ ۔ چنانچہ اس میدان میں بھی انہوں نے خوب کام کیا۔ ان کے فتاویٰ آج بھی علماء اور عوام دونوں کے لئے یکساں مفید اور رہنمائی کا بہترین ذریعہ ہیں۔ مذکورہ خدمات کے علاوہ مختلف موضوعات پر تقریبا 80تالیفات علمی یادگار کے طور پر چھوڑیں، عوام ہی نہیں، علماء بھی ان کی طرف رجوع کرتے تھے او ران کی اجتہادی صلاحیتوں کے معترف تھے ۔مولانا عبدالرحمن مبارکپور ی  (صاحب تحفۃ الاحوذی )فرماتے ہیں حافظ عبد اللہ روپڑی جیسا ذی علم اور لائق استاد تمام ہندوستان میں کہیں نہیں ملےگا۔ہندوستان میں ان کی نظیر نہیں۔ زیر نظر کتابچہ مولانا عبد الرشید عراقی﷾ کا تالیف کردہ ہے جس میں انہوں نے محدث روپڑی کی خدمات اور ان کے اساتذہ وتلامذہ کا اختصار کے ساتھ تذکرہ کیا ہے ۔مزید تفیلات کے لیے ماہنامہ محدث جلد 18،23،32اور بزم ِارجمندہ،روپڑی علمائے حدیث از مولانا محمداسحاق بھٹی﷾ ملاحظہ فرمائیں اور اسی طرح مدیراعلی ماہنامہ محدث لاہور کی دختر پروفیسر ڈاکٹر حافظہ مریم مدنی کا مقالہ برائے ایم فل بعنوان ''محدث روپڑی اور تفسیری درایت کے اصول'' بھی لائق مطالعہ ہے ۔ اللہ تعالیٰ محدث روپڑی کے درجات کو بلند فرمائے او ران کی مرقد پر اپنی رحمتوں کی برکھا برسائے ۔اور ان کے اخلاف کو ان کی علمی وتحقیقی خدمات اور ان کی نایاب کتب کو منظر عام پرلانے کی توفیق عطا فرمائے (آمین) (م۔ا )

     

    نوٹ:

    محدث فورم میں اس کتاب پر تبصرہ کرنے کے لیے یہاں کلک کریں

     

  • title-pages-tazkra-molana-ghulam-rasool-qalawi-copy
    محمد اسحاق بھٹی

    تاریخ نویسی ہو یا سیرت نگاری ایک مشکل ترین عمل ہے ۔ اس کےلیے امانت ودیانت او رصداقت کاہونا از بس ضروری ہے۔مؤرخ کے لیے یہ بھی ضروری ہےکہ وہ تعصب ،حسد بغض، سے کوسوں دور ہو ۔تمام حالات کو حقیقت کی نظر سے دیکھنے کی مکمل صلاحیت رکھتاہو ۔ذہین وفطین ہو اپنے حافظےپر کامل اعتماد رکھتا ہو۔حالات وواقعات کوحوالہ قرطاس کرتے وقت تمام کرداروں کا صحیح تذکرہ کیا گیا ہو ۔اس لیے کہ تاریخ ایک ایسا آئینہ ہے کہ جس کے ذریعے انسان اپنا ماضی دیکھ سکتاہے اور اسلام میں تاریخ ، رجال اور تذکرہ نگار ی کو بڑی اہمیت حاصل ہے اور یہ اس کے امتیازات میں سے ہے۔بے شمارمسلمان مصنفین نے اپنے اکابرین کے تذکرے لکھ کر ان کےعلمی عملی،تصنیفی،تبلیغی اورسائنسی کارناموں کوبڑی عمدگی سے اجاگر کیا ہے۔ یوں تو صدیوں کی تاریخ ہمارے سامنے ہے لیکن ماضی قریب اور موجودہ دور میں تذکرہ نویسی اور سوانح نگاری کے میدان میں جماعت اہل حدیث میں اردو مصنفین اور مقالہ نگاروں میں محترم مولانا محمد اسحاق بھٹی﷫،مولانا حافظ صلاحالدین یوسف، مولانا عبد الرشید عراقی مولانا محمد رمصان یوسف سلفی حفظہم اللہ وغیرہ کی خدمات قابلِ قدر ہیں اللہ تعالی ان بزرگوں کو صحت وعافیت سے نوازے اور ان کےعلم وعمل اضافہ فرمائے ۔آمین زیر تبصرہ کتا ب’’تذکرہ مولانا غلام رسول قلعوی﷫‘‘ پاکستان کے نامور مؤرخ وسوانح نگار مولانا محمد اسحاق بھٹی﷫ کی تصنیف ہے ۔اس کتاب میں انہوں نے سید نذیر محدث دہلوی ﷫ کے سامنے زانوے تلمذ تہہ کرنے والے مولانا غلام رسول قلعوی ﷫ کےسوانح حیات نہیں بلکہ اس عہد کی پوری تاریخ سمودی ہے۔مولانا بھٹی مرحوم نے مولانا قلعوی کا خاندانی پس منظر،ان کی ولادت ، تحصیل علم ، اساتذہ کرام ، مولانا کی دعوتی وتبلیغی اور خدمات، مولانا کے مکاتیب،1857ء کی جنگ آزادی میں مولانا کی گرفتاری،مولانا غلام رسول کے چند معاصرین اور تلامذہ کاذکرخیر اور مولانا غلام رسول ﷫ کے تمام واقعات کو نہایت دل نشیں انداز اور انتہائی عمدگی کے ساتھ الگ الگ ابواب میں ترتیب دیا ہے۔کتاب کے اخر میں چند ابواب مولانا غلام رسول ﷫ کےاخلاف کے متعلق بھی شامل ہیں جن میں مولانا کی اپنی اولاد ،ان کےبھائیوں، بیٹوں ، بیٹیوں کی اولاد کاتذکرہ بھی شامل ہے۔یہ ابواب مولانا عصمت اللہ کے تحریرشدہ ہیں۔مولانا بھٹی مرحوم نے فقہائے ہند کی ایک جلد میں بھی 60 صفحات پر مشتمل مولانا غلام رسول قلعوی ﷫ کے حالات کا تذکرہ کیا ہے جو کہ 1989ء میں شائع ہوئی ۔ بعد ازاں 2009ء میں مولانا غلام رسول قلعوی کے پڑپوتے حافظ حمید اللہ اور ان کے رفقاء کے اصرار پر مولانا بھٹی مرحوم نےیہ کتاب تصنیف کی جو تقریباً 550 صفحات پر مشتمل ہے ۔اس کتاب کو بڑے خوبصورت انداز میں مولانا علام رسول ویلفیئر سوسائٹی نے 2012ء میں شائع کیا ہے۔(م۔ا) 

  • title-pages-tazkra-w-khidmat-shaikh-ul-hadith-hafiz-muhammad-bhutwi-w-ulmae-bhutta-copy
    محمد طیب بھٹوی

    تاریخ نویسی ہو یا سیرت نگاری ایک مشکل ترین عمل ہے ۔ اس کےلیے امانت ودیانت او رصداقت کاہونا از بس ضروری ہے۔مؤرخ کے لیے یہ بھی ضروری ہےکہ وہ تعصب ،حسد بغض، سے کوسوں دور ہو ۔تمام حالات کو حقیقت کی نظر سے دیکھنے کی مکمل صلاحیت رکھتاہو ۔ذہین وفطین ہو اپنے حافظےپر کامل اعتماد رکھتا ہو۔حالات وواقعات کوحوالہ قرطاس کرتے وقت تمام کرداروں کا صحیح تذکرہ کیا گیا ہو ۔اس لیے کہ تاریخ ایک ایسا آئینہ ہے کہ جس کے ذریعے انسان اپنا ماضی دیکھ سکتاہے اور اسلام میں تاریخ ، رجال اور تذکرہ نگار ی کو بڑی اہمیت حاصل ہے اور یہ اس کے امتیازات میں سے ہے ۔بے شمارمسلمان مصنفین نے اپنے اکابرین کے تذکرے لکھ کر ان کےعلمی عملی،تصنیفی،تبلیغی اورسائنسی کارناموں کوبڑی عمدگی سے اجاگر کیا ہے۔ یوں تو صدیوں کی تاریخ ہمارے سامنے ہے لیکن ماضی قریب او ر موجودہ دور میں تذکرہ نویسی اور سوانح نگاری کے میدان میں جماعت اہل حدیث میں اردو مصنفین اور مقالہ نگاروں میں محترم مولانا محمد اسحاق بھٹی، مولانا محمد رمصان یوسف سلفی ﷭ ، مولانا حافظ صلاحالدین یوسف وغیرہ کی خدمات قابلِ قدر ہیں۔ زیرتبصرہ کتاب ’’تذکرہ خدمات شیخ الحدیث حافظ محمد بھٹوی وعلمائے بھٹہ محبت‘‘ قاری محمدطیب بھٹوی ﷾کی مرتب شدہ ہے ۔اس کتاب میں اولاً جماعۃ الدعوۃ ،پاکستان کے مرکزی رہنما شیخ التفسیر والحدیث مولانا حافظ عبد السلام بھٹوی ﷾ کے والد گرامی شیخ الحدیث محمدبھٹوی ﷫ اورپھر موضع بھٹہ محبت کے 83 علما کی حالات قلمبند کیے ہیں ۔ حافظ محمدبھٹوی ﷫ کا تذکرہ فاضل مصنف نےخاصی تفصیل سے کیا ہے ا ور اس کے بعد تمام بھٹوی علماء کرام کے حالات بیان کیے ہیں ۔اس کتاب میں مذکور32،33 علماء وہ ہیں جو براہ راست شیخ الحدیث حافظ ابو القاسم محمد بھٹوی﷫ کے شاگرد ہیں ۔ اور تقریباً چھبیس علماء ایسے ہیں جن کا خاندانی تعلق بریلوی پیر پرست خاندانوں سے تھا مگر دین کا علم پڑھنے کی وجہ سے ان کے خاندان مسلک اہل حدیث قبول کرچکے ہیں ۔ان کے علاوہ کچھ نوعمر طلباء جو مختلف مدارس دینیہ میں زیر تعلیم ہیں ۔ ان کے اسماء گرامی آخر میں مستقبل کے علماء کرام کےعنوان کےتحت لکھ دیے ہیں ۔(م۔ا)

  • title-pages-tera-naqshe-qadam-daikhte-hain-sawanih-allama-ihsan-copy-copy
    ابوبکر قدوسی

    شہید ملت علامہ احسان الٰہی ظہیر شہیدکی شخصیت کسی تعارف کی محتاج نہیں۔  آپ 31مئی1945بروزجمعرات،شہر سیالکوٹ کے محلہ احمد پورہ میں ایک دیندار گھرانے میں پیدا ہوئے ۔ آپ کے والد حاجی ظہور الہٰی، مولانا ابراہیم میر سیا لکوٹی﷫ کے عقیدتمندوں میں سے تھے۔ابتدائی تعلیم اپنے گاؤں کے پرائمری اسکول میں حاصل کی۔ آپ کو بچپن سے ہی پڑھنے لکھنے کا شوق تھا۔خداداد ذہانت و فطانت اور اپنے ذوق و شوق کی بنا پر9 برس کی عمر میں آپ نے قرآن کریم حفظ کر لیا اور اسی سال نماز تراویح میں آپ نے قرآن کریم سنا بھی دیا ۔ابتدائی دینی تعلیم ’’دارالسلام ‘‘ سے حاصل کی اس کے بعد محدث العصر جناب حافظ محمدگوندلوی ﷫ کی درسگاہ جامعہ الاسلامیہ گوجرانوالہ چلے آئے ۔ اور کتب حدیث سے فراغت کے بعد جامعہ سلفیہ فیصل آباد میں داخلہ لیا ،جہاں علوم وفنون عقلیہ کے ماہر جناب مولانا شریف سواتی سے آپ نے معقولات کا درس لیا۔ 1960ء میں دینی علوم کی تحصیل سے فراغت پائی اور پنجاب یونیورسٹی سے عربی میں ’’بی اے اونرز‘‘ کی ڈگری حاصل کی۔ پھر کراچی یونیورسٹی سے لاء کا امتحان پاس کیا۔اس کے بعد اعلیٰ دینی تعلیم کے حصول کیلئے مدینۃ الرّسولﷺمیں، ملتِ اسلامیہ کی عظیم عالمی یونیورسٹی’’ مدینہ یونیورسٹی ‘‘ میں داخلے کی سعادت نصیب ہوئی اور آپ کو یہ اعزاز بھی حاصل ہوا کہ آپ اس وقت مدینہ یونیورسٹی میں دوسرے پاکستانی طالبعلم تھے ۔ ان دنوں مدینہ یونیورسٹی میں دنیا بھر سے 98 ممالک کے طلباء زیر تعلیم تھے۔وہاں آپ نے دنیائے اسلام اور تاریخ کے نامور ،معتبر اور وقت کے ممتاز علماء کرام سے علم حاصل کیا ،ان میں سرفہرست محدّث العصر امام ناصر الدین البانی ، مفسرِ قرآن الشیخ محمد امین الشنقیطی ، فضیلۃ الشیخ ڈاکٹرعطیہ محمد سالم ،سماحۃ الشیخ علامہ عبد العزیز بن باز ، محدّث ِ مدینہ علامہ عبد المحسن العباد البدر ﷭۔ وغیرہ شامل ہیں۔آپ نے زمانہ طالب علمی کے دور میں جامعہ اسلامیہ مدینہ منورہ میں’’ القادیانیۃ دراسات و تحلیل ‘‘کے نام سے عربی میں ایک مدلل و منفرد کتاب تحریر کی۔ یہ کتاب آپ کے اُن لیکچرز پر مشتمل ہے۔ جو ا ٓپ نے جامعہ اسلامیہ مدینہ منورہ میں اپنی کلاس کے طلباء کو اپنے اساتذہ کی جگہ دئیے تھے۔ آپ مدینہ یونیورسٹی سے اس اعزاز کے ساتھ فارغ ہوئے کہ یونیورسٹی میں زیرِ تعلیم 98 ممالک کے طلباء میں اول پوزیشن پر رہے۔مدینہ یونیورسٹی سے فارغ ہونے کے بعد آپ کو یونیورسٹی میں ہی آسائشوں سے پرزندگی و اعلیٰ مرتبہ پر مشتمل منصبِ تحقیق و تدریس کی پیشکش کی گئی مگر آپ نے اپنی ذاتی زندگی پر دین ِ حق کی خدمت اور وطنِ عزیز کی اصلاح کو ترجیح دی اور یہ تڑپ لیکر وطنِ عزیز لوٹ آئے کہ کلمہ لا الٰہ الّا اللہ کے نام پر بنائے گئے اس ملک میں اللہ تعالیٰ کے دین اور حکم کا بول بالا ہو اور اسی مقصد کی تکمیل کی خاطر دن رات جد و جہد شروع کردی۔ وطن واپسی پر آپ نے ابتداءًتحریر کے ذریعہ دعوت دین کے کام کا آغاز کیا اور چٹان لیل ونہار اور ملک کے دیگر معروف و مشہور رسائل میں لکھتے رہے ۔ نیز ہفت روزہ ’’الاعتصام‘‘، ہفت روزہ’’ اہلحدیث ‘‘ کے مدیر بھی رہے ۔ اور ترجمان الحدیث کے نام سے ایک رسالہ بھی جاری کیا۔ آپ نے ایک خطبۂ عید میں جنرل ایوب خان کے خلاف اپنی پہلی سیاسی تقریر کی ،پھر یہ سلسلہ جاری رکھا اور بھٹو دور میں قید و بند کی صعوبتیں بھی برداشت کیں، آپ پر کئی مقدمات بھی کئے گئے ۔ بنگلہ دیش مردہ باد تحریک میں آپ نے پھرپور حصہ لیا اور باقاعدہ اپنے خطباتِ جمعہ و دیگر خطابات میں بھی بنگلہ دیش کے مسئلہ پر اپنی حب الوطنی کی خاطر دل کی گہرائیوں سے اٹھنے والے درد کو بیان کیا۔آپ نے مختلف ممالک کے تبلیغی سفر کیے سعودی عرب و دیگر عرب ممالک کے علاوہ بیلجیم ،ہالینڈ ،سوئیڈن، ڈنمارک، اسپین ، اٹلی، فرانس ،جرمنی، انگلینڈ ،یوگو سلاوایا،ویانا،کھایا، نائجیریا، کینیا ،جنوبی کوریا، جاپان، فلپائن ،ہانگ کانگ ،تھائی لینڈ،امریکہ،چین ،بنگلہ دیش، ایران، افغانستان اورہندوستان میں مختلف عالمی علمی کانفرنسوں سے خطاب کیا ۔ عرب ممالک تو آپ کا آنا جانا ایک معمول اور روز مرہ کا کام تھا ، اسی طرح یورپ امریکہ اور افریقہ کے اسفار کا حال تھا ۔ اتنے اژدہام دعوتی و تبلیغی اور ادارتی مصروفیات کے باوجود آپ نے عربی ادب میں شاندار اضافہ کیا ہے اوربھاری بھرکم کتب تالیف فرماکرعالمِ عرب میں اپنی علمی صلاحیتوں کا لوہا منوایا ہے۔علامہ شہید کی کتب کودنیا بھر کے علمی وعوامی حلقوں میں یکساں مقبولیت کا شرف حاصل ہوا، اور بہت بڑی تعداد کو علامہ شہید کی کتب سے بتوفیق اللہ راہِ ہدایت نصیب ہوئی یہی وجہ ہے کہ علامہ کی اکثر کتب کے تراجم اردو ، فارسی و دیگر عالمی زبانوں میں موجود ہیں ۔آپ نے جس موضوع یا جس باطل فرقہ پر قلم اٹھایا اللہ کے فضل و کرم سے اس کا حق ادا کر کے دکھایا اور آج تک آپ کی کسی بھی کتاب کا کوئی علمی جواب نہیں دے سکا۔23 مارچ 1987 کو لاہور میں جلسہ سیرت النبی ﷺ میں مولانا حبیب الرحمن یزدانی ﷫ کی تقریر کے بعد جناب علامہ شہید کا خطاب شروع ہوا ،آپ کا باطل شکن خطاب اپنے نقطہ عروج کو پہنچ رہا تھا، ابھی آپ 20منٹ کی تقریر کرپائے تھے کہ بم کا انتہائی خوفناک لرزہ خیز دھماکہ ہوا ،تمام جلسہ گاہ میں قیامت صغریٰ کا عالم تھا ،دور دور تک دروبام دھماکے سے لرز اٹھے، ماحول مہیبت تاریخی میں ڈوب گیا، دلدوز آہوں سے ایک کہرام سا مچ گیا۔ درندہ صفت، بزدل دشمن اپنے مزموم مقصد میں کامیاب ہو چکا تھا ،اس دھماکہ میں آپ شدید زخمی ہوگئے اور میوہسپتال میں زیر علاج رہے ۔ 29 مارچ کو سعودی ائیر لائن کی خاص پرواز کے ذریعہ شاہ فہد کی دعوت پر سعودیہ عرب علاج کے لئے روانہ ہوئے آپ کو فیصل ملیٹری ہسپتال میں داخل کیا گیا، ڈاکٹروں نے آپریشن کے لئے بے ہوش کیا لیکن آپ کا وقتِ موعود آچکا تھا۔علامہ صاحب 22 گھنٹے ریاض میں زندگی اور موت کی کشمکش میں رہنے کے بعد قافلہ شہداء میں شامل ہوئے .(انا للہ و انا الیہ راجعون)مفتی اعظم سعودیہ عرب سماحۃ الشیخ عبدالعزیز بن باز ﷫نے دیرہ ریاض کی مرکزی مسجد میں نماز جنازہ پڑھائی ۔ نمازِ جنازہ کے بعد آپ کے جسدِ خاکی کو شہرِ حبیب ﷺمدینہ منورہ لے جایا گیا، مسجدِ نبوی میں دنیا ئے اطراف سے آنے والے وفود و شیوخ،مفتیان، اساتذہ علماء اور طلباء کی وجہ سے مسجد نبوی میں انسانوں کا سیلاب نظر آتا تھا اور تا حد نگاہ سر ہی سر دیکھائی دیتے تھے اژدہام کا یہ عالم تھا کہ آپ کا آخری دیدار کرنا محال تھا ۔مدینہ طیبہ میں ڈاکٹر شمس الدین افغانی ﷫ نے نماز جنازہ پڑھائی ۔ مدینہ یونیورسٹی کے شیوخ و اساتذہ اور طلباء کے علاوہ سعودی عرب کے اطراف سے ہزاروں علماء کرام ، طلباء و عوام اشکبار آنکھوں سے جنازے میں شامل تھے ۔ آپ کے جسد خاکی کو جنت البقیع میں دفن کیا گیا ۔آپ کو یہ سعادت نصیب ہوئی کہ آپ کی قبر امام مالک ﷫ کی قبر کے پہلوں میں ہے جس کی دائیں طرف رسولِ رحمت ﷺ کی ازواجِ مطہرات مؤمنوں کی ماؤں رضی اللہ عنہن اجمعین کی مبارک قبر یں ہیں اور تھوڑے فاصلے پر رسولِ اکرم ﷺ کے لخت جگر جناب ابراہیم کی قبرِ مبارک ہے ۔علامہ کی شہادت کے بعد ان کی حیات وخدمات پر مختلف اہل علم نے بیسیوں مضامین تحریر کیے اور ہر سال ماہ مارچ میں کوئی نیا مضمون اخبار ، رسائل وجرائد کی زینت بنتا ہے ۔ زیر تبصرہ کتاب’’ تیرا نقشِ قدم دیکھتے ہیں سوانح حیات علامہ احسان الٰہی ظہیر شہید ‘‘ علامہ شہید ﷫ کے رفیق خاص اور اسی حادثہ میں شہادت کا رتبہ پانے والے بانی مکتبہ قدوسیہ مولانا عبدالخالق قدوسی شہید کے فرزند ارجمند جناب ابو بکرقدوسی صاحب(ڈائریکٹر مکتبہ قدوسیہ،لاہور ) کی تصنیف ہے ۔میرے علم کے مطابق علامہ شہید کی حیات وخدمات کے متعلق مختلف اہل قلم کی تحریروں پر مشتمل بعض مجلات کے خاص نمبر تو شائع ہوئے ہیں لیکن ایک ہی قلم سے تحریر شدہ اردو زبان میں اتنی ضخیم کتاب اس سے پہلے نہیں لکھی گئی یہ سعادت جناب ابوبکر قدوسی صاحب نے ہی حاصل کی ہے ۔کتاب کےابتدائی صفحات تو ایک تاریخی دستاویز کی حیثیت رکھتے ہیں جس میں شہید ملت علامہ احسان الٰہی ظہیر ﷫ کی مکمل زندگی چند تصویروں میں بیان کردی گئی ہے۔اور شروع میں علامہ شہید کے متعلق عالم اسلام کی نامور شخصیات کے تاثرات شامل کرنے سےکتاب کی افادیت میں مزید اضافہ ہوگیا ہے۔ فاضل مصنف نے علامہ شہید کی زندگی میں پیش آنے والے حالات وواقعات اور ان کی قائدانہ صلاحیتوں ، تصنیفی، دعوتی ، تبلیغی خدمات اوران کی بصیرت افرزو سیاسی وجماعتی کوششوں وکاوشوں،علمی جلالت وعظمت اور حفظ قرآن سے عالم اسلام کی عظیم ترین درسگاہ جامعہ اسلامیہ ،مدینہ منورہ تک علمی سفر کو بڑے خوبصورت پیرائے میں بیان کیا ہے ۔اللہ تعالیٰ علامہ شہید کی مرقد پر اپنی رحمت کی برکھا برسائے اور انہیں جنت الفردوس میں اعلیٰ وارفع مقام عطافرمائے ۔اور مصنف کتاب ابو بکر قدوسی صاحب کے علم وعمل اور زور قلم میں اضافہ فرمائے ۔(آمین)

  • titel-pages-hafiz-abdul-mannan-noor-purira-copy
    محمد طیب محمدی

    حافظ عبد المنان نور پور ی﷫(1941ء۔26فروری2012؍1360ھ ۔3ربیع الثانی 1433ھ) کی شخصیت  محتاج  تعارف  نہیں ۔آپ زہد ورع اورعلم وفضل کی جامعیت کے اعتبار سے اپنے  اقران معاصر میں ممتاز تھے  اللہ تعالیٰ نے  آپ کو  علم  وتقویٰ کی خوبیوں اور  اخلاق وکردار کی رفعتوں سے نوازا تھا ۔ آپ کا شمار جید اکابر علماء اہل حدیث میں  ہوتاہے حافظ  صاحب بلند پایا کے  عالمِ  دین  اور مدرس  تھے ۔ حافظ  صاحب  1941ءکو  ضلع گوجرانوالہ میں  پیدا ہوئے اور  پرائمری کرنے کے بعد دینی  تعلیم جامعہ محمدیہ گوجرانوالہ سے حاصل کی  ۔ حافظ صاحب  کوحافظ  عبد اللہ محدث روپڑی ،حافظ  محمد گوندلوی ، مولانا اسماعیل سلفی  ﷭ وغیرہ  جیسے عظیم  اساتذہ سے شرفِ تلمذ کا اعزاز حاصل ہے۔ جامعہ  محمدیہ  سے  فراغت  کے بعد  آپ  مستقل طور پر جامعہ  محمدیہ گوجرانوالہ میں  مسند تدریس  پر فائز ہوئے  او ر  درس  وتدریس  سے وابسطہ  رہے  اور طویل  عرصہ جامعہ  میں  بطور  شیخ الحدیث  خدمات  سرانجام  دیتے  رہے ۔ اوائل عمرہی  سے  مسند تدریس پر جلوہ افروز ہونےکی وجہ سےآپ کو علوم وفنون میں جامعیت عبور اور دسترس  حاصل تھی  چنانچہ  علماء فضلاء  ،اصحا ب منبرومحراب  اہل تحقیق  واہل فتویٰ بھی  مسائل کی تحقیق کے لیے آپ کی طرف رجوع کرتے  تھے  ۔  بے شمار  طالبانِ علومِ نبوت نے  آپ سے  استفادہ کیا حافظ  صاحب  علوم  وفنون کے  اچھے  کامیاب مدرس ہونےکے ساتھ ساتھ  اچھے  خطیب  ،واعظ ، محقق ،ناقد اور محدثانہ  بصیرت اور فقاہت رکھنے و الے مفتی  ومؤلف بھی تھے عربی اردو زبان  میں  آپ نے علمی و تحقیقی مسائل پر کئی کتب  تصنیف کیں۔آپ  انتہائی مختصر اور جامع ومانع الفاظ میں اپنا مدعا بیان کرنے کےماہر،اندازِ بیان ایسا پر اثر کہ ہزاروں سوالوں کاجواب انکے ایک مختصر سےجملہ میں پنہاں ہوتا ،رعب وجلال ایسا کہ بڑے  بڑے  علماء ،مناظر او رقادر الکلام افراد  کی زبانیں بھی گویا قوت گویائی  کھو  بیٹھتیں۔حافظ صاحب  واقعی محدث العصر حافظ محمدگوندلوی﷫ کی علمی مسند کے صحیح وارث اورحقیقی جانشین ہونے کا حق ادا کیا۔  اللہ تعالیٰ ان کے درجات بلند فرمائے(آمین)زیر نظر کتاب  حافظ عبد لمنان نورپوری﷫ کی  حیات وخدمات پر جامع کتاب ہے ۔جسے ان کے تلمیذِ خاص  مولانا محمد طیب محمدی ﷾ (مدیر ادارہ تحقیات سلفیہ،گوجرانوالہ )  نےمرتب کیا ہے ۔اس کتاب میں  مرتب موصوف نے  طویل مقدمہ تحریر کرنے کے بعد  42 ابواب قائم کیے ہیں جن  میں انہوں نے  حافظ نوری﷫ کا تعارف ،تعلیم وتعلم ،تدریس وتصنیف ،خطابت ،اساتذہ وتلامذہ  کے  علاوہ  حافظ صاحب مرحوم کی  شخصیت کے مختلف پہلوؤں کو اجاگر کیا ہے ۔یہ کتاب حافظ صاحب مرحوم  کے تفصیلی تعارف اور  حیات وخدمات کے حوالے سے  گراں قدر علمی تحفہ ہے ۔ اللہ تعالیٰ  حافظ صاحب  کے درجات بلند  فرمائے  اور ان کی مرقد پر اپنے رحمتوں کانزول فرمائے  اور کتاب ہذا کے  مرتب کےعلم  وعمل میں  اضافہ اور ان کی  تمام مساعی جمیلہ کو شرف قبولیت سے  نوازے  (آمین) (م۔ا)

     نوٹ:

    محدث فورم میں اس کتاب پر تبصرہ کرنے کے لیے یہاں کلک کریں

  • pages-from-hafiz-abdul-manan-wazir-abadi
    منیر احمد سلفی

    علماء علوم نبوت کے وارثوں میں شمار ہوتے ہیں۔ ہماری اسلامی درسگاہیں انہی علوم ِنبوت کی درس وتدریس، تعلیم وتعلم اوراس حوالے سے تزکیۂ نفوس کے ادارے ہیں۔برصغیر میں اسلامی درسگاہوں کی ایک مستقل اورمسلسل روایت رہی ہے۔ اٹھارویں صدی میں شاہ ولی اللہ کےخاندان نے اس روایت کا سب سےروشن مرکز تشکیل دیا۔ اس خاندان کےایک چشم وچراغ شاہ محمداسحاق دہلوی سے سید نذیر حسین محدث دہلوی نے تیرہ سال تک تعلیم حاصل کی ۔شیخ الکل سید نذیر حسین محدث دہلوی نے کامل 63 سال تک درس وتدریس کی ذمہ داریاں ادا کیں۔ برصغیر میں علم حدیث کی تدریس کا سب سے مضبوط مرکز اور قلعہ انہیں کی قائم کردہ درسگاہ تھی ۔جس میں شبہ قارہ کے ہر حصے سےطلبہ استفادے کے لیے حاضر ہوتے تھے۔ایسے ہی تلامذہ میں ایک تلمیذ الرشید حافظ عبد المنان وزیرآبادی ہیں۔بیسویں صدی میں علوم حدیث کی روایت کومستحکم کرنے میں حافظ عبد المنان وزیر آبادی نےپنجاب میں سب سے زیاد فیض رسانی کےاسباب پیدا کیے ۔ حافظ عبدالمنان محدث وزیر آبادی اپنےعہد میں پنجاب میں حدیث کے سب سے ممتاز استاد تھےجن کے تلامذہ پنجاب کےہر حصے میں بالعموم اوراس علمی اور سلفی روایت کے چراغ روشن کرتے رہے۔ مولانا حافظ عبد المنان محدث وزیر آبادی﷫ کو اللہ تعالیٰ نے اگرچہ ظاہری آنکھوں سے محروم کردیا تھا مگر ان کی دل کی آنکھیں روشن فرمادی تھیں۔ آپ کا شمار ممتاز محدثین میں ہوتا ہے شیخ الکل فی الکل سید نذیر حسین محددہلوی﷫ نےاپنے اس شاگرد کو جوعمامہ عطا فرمایا تھا اس عظیم شاگرد نے اس عمامے کاحق ادا فرمادیا۔ پوری زندگی درس حدیث دیا ۔ مسند حدیث پر فائز ہونے کے بعد آپ نے اپنی زندگی   میں 100 مرتبہ درس بخاری دیا۔ ایسی مثالیں اسلامی تاریخ میں نظر نہیں آتیں۔ زیرتبصرہ کتاب’’ حافظ عبدالمنان وزیرآبادی ‘‘ مولانامنیر احمد السلفی کی تصنیف ہے ۔ اس کتاب میں انہوں نے استاد پنجاب سید نذیر حسین محدث دہلوی کے نامور شاگرد حافظ المنان وزیر آبادی﷫ کے ابتدائی حالات،تعلیم، تحصیل علم کے لیے دوردراز کے اسفار، تحصیل علم سے فراغت کے بعد تعلیم وتدریس، ان کی زندگی کے حالات وواقعات، مسجدمدرسہ او رکتب خانہ اور محدث پنجاب کے سانحہ ارتحال کوحوالہ قرطاس کیا ہے۔ (م۔ا)

  • pages-from-hafiz-muhammad-abdullah-sheikhupuri-hayaat-khidmaat-tableegh
    حافظ محمد اسلم شاہدروی

    مناظر اسلام حافظ محمد عبداللہ شیخوپوری﷫ اہل حدیث کے نامور مناظر اور مرکزی جمعیت اہلحدیث پاکستان کے نائب امیر تھے۔ وہ اپنے خطابات میں مسلک اور جماعت کی ترجمانی کا حق ادا کر دیتے تھے۔ اللہ تعالیٰ نے انہیں بہت سی خوبیوں اور صلاحیتوں سے نوازا تھا۔ ان کی وعظ و تبلیغ سے بے شمار لوگ مسلک اہلحدیث سے وابستہ ہو گئے۔ توحید، سیرۃ النبیﷺاور شان صحابہ ﷜ان کے خاص موضوع تھے۔انہوں نے اپنی پوری زندگی مسلک اور جماعت کے لئے وقف کر رکھی تھی۔  حافظ صاحب مرحوم یہ بھی کہا کرتے تھے کہ جب تک زندہ رہوں گا مرکزی جمعیت اہلحدیث کا خادم رہوں گا اور اس کا پیغام قریہ قریہ اور بستی بستی پہنچاتا رہوں گا۔ افسوس کہ وہ بعارضہ دل کے ہاتھوں زندگی کی بازی ہار گئے اور اور 23فروری 2004ء کو اپنے خالق حقیقی سے جا ملے۔ شیخوپورہ میں مرحوم کی نماز جنازہ امیر محترم پروفیسر ساجد میر نے بڑے حزن و ملال کی حالت میں پڑھائی۔ ملک کے کونے کونے سے لوگ کمپنی باغ پہنچ گئے۔ اخبارات کے مطابق یہ شیخوپورہ کی تاریخ کا سب سے بڑا جنازہ تھا۔ لوگوں نے بادیدہ نم مرحوم کو سپرد رحمت باری کیا۔ان کی وفات پر وطن عزیز کے کئی نامور مضمون نگاروں اور سوانح نگاروں نے حافظ عبد اللہ شیخوپوری ﷫ کے متعلق مضامین تحریر کیے جو اخبارات، رسائل وجرائد کی زینت بنے۔ زیر تبصرہ کتاب ’’حافظ محمد عبد اللہ شیخوپوری حیات وخدمات‘‘ حافظ صاحب مرحوم پر لکھے گئے مختلف اہل علم کے رشحات قلم کا مجموعہ ہے جسے محترم جناب حافظ محمد اسلم شاہدروی﷾ (مصنف ومترجم کتب کثیرہ ،مرکزی رہنما مرکزی جمعیت اہل پاکستان) نے بڑی حسن ترتیب سے مرتب کیا ہے۔ فاضل مرتب نے اس کتاب کو چار ابواب میں تقسیم کیا ہے باب اول حافظ عبد اللہ شیخوپوری مرحوم کی حیات و خدمات کے متعلق مختلف شخصیات کے تحریر شدہ 13 مضامین پر مشتمل ہے۔ مضمون اول فاضل مرتب کا تحریر کردہ ہے جو اولاً ہفت روزہ ہل حدیث میں تین اقساط میں شائع ہوا تھا۔مذکور مجلہ میں اس مضمون کی اشاعت پر مضمون نگار جناب مولانا حافظ محمد اسلم شاہدروی﷾ کو حافظ صاحب مرحوم کی اہلیہ محترمہ نے مختلف تحائف سے نوازا۔ دوسرا باب میں مختلف اہل علم کے حافظ صاحب مرحوم کے بارے میں تاثرات کے متعلق ہے۔ تیسرا باب حافظ عبد اللہ مرحوم کے متعلق شائع شدہ اخباری کالموں اور ادارتی صفحات کےمضامین پر مشتمل ہے۔ چوتھے باب میں حافظ صاحب مرحوم کا نظموں او راشعار کی صورت میں تعارف و تذکرہ پیش کیاگیا ہے۔ اس باب میں محدث العصر مولانا حافظ عبد المنان نورپوری﷫ کی عربی زبان میں تحریر شدہ نظم بالخصوص قابل ذکر ہے جس میں انہوں نےعربی اشعار کی صورت میں حافظ عبد اللہ شیخوپوری﷫ کا مکمل تعارف پیش کیا ہے۔ اللہ تعالیٰ حافظ صاحب مرحوم کو جنت الفردوس میں اعلی وارفع مقام عطا فرمائے اور اللہ تعالیٰ اجر عظیم سے نوازے(آمین) فاضل مرتب کہ انہوں نے اپنی قیمتی مصروفیات سے کچھ وقت نکال کر   بڑی محنت سے کتاب ہذا کو مرتب کیا ہے۔ مرتب موصوف اس کتاب کے علاوہ بھی کئی کتب کے مصنف ومترجم ہیں۔ اور طویل عرصہ سے مرکزی جمعیت اہل حدیث ،پاکستان سے وابستہ ہیں اور دار المعارف مبارک مسجد ،لاہور میں ریسرچ کےشعبہ میں بطور مدیر خدمات انجام دے رہے ہیں۔ (م۔ا)

  • title-pages-hayat-e-suleman-copy
    شاہ معین الدین احمد ندوی

    برصغیر پاک وہند کے معروف سیرت نگار اور مؤرخ مولانا سید سلیمان ندوی ﷫ اردو ادب کے نامور سیرت نگار، عالم، مؤرخ اور چند قابل قدر کتابوں کے مصنف تھے جن میں سیرت النبی کو نمایاں حیثیت حاصل ہے۔مولانا سید سیلمان ندوی ضلع پٹنہ کے ایک قصبہ دیسنہ میں 22 نومبر 1884ء کو پیدا ہوئے۔تعلیم کا آغاز خلیفہ انور علی اور مولوی مقصود علی سے کیا۔ اپنے بڑے بھائی حکیم سید ابو حبیب سے بھی تعلیم حاصل کی۔ 1899ء میں پھلواری شریف (بہار (بھارت)) چلے گئے جہاں خانقاہ مجیبیہ کے مولانا محی الدین اور شاہ سلیمان پھلواری سے وابستہ ہو گئے۔ یہاں سے وہ دربانگا چلے گئے اور مدرسہ امدادیہ میں چند ماہ رہے۔1901ء میں دار العلوم ندوۃ العلماء، لکھنؤ میں داخل ہوئے جہاں سات سال تک تعلیم حاصل کی۔ 1913ء میں دکن کالج پونا میں معلم السنۂ مشرقیہ مقرر ہوئے۔1940ء میں علی گڑھ مسلم یونیورسٹی نے انہیں ڈاکٹریٹ کی اعزازی سند عطا کی۔ عالمِ اسلام کو جن علماء پر ناز ہے ان میں سید سلیمان ندوی بھی شامل ہیں۔ انکی علمی اور ادبی عظمت کا اندازہ اس بات سے لگایا جاسکتا ہے کہ جب ان کے استاد علامہ شبلی نعمانی سیرت النبی کی پہلی دو جلدیں لکھ کر 18 نومبر 1914ء کو انتقال کر گئے تو باقی چار جلدیں سید سلیمان ندوی نے مکمل کیں۔ اپنے شفیق استاد کی وصیت پر ہی دار المصنفین، اعظم گڑھ قائم کیا اور ایک ماہنامہ معارف جاری کیا جو آج بھی جاری وساری ہے ۔ زیرتبصرہ کتاب ’’ حیات سلیمان‘‘ مدارس دینیہ کے نصاب میں شامل کتاب ’’تاریخ اسلام ‘‘ کے مصنف شاہ معین الدین احمد ندوی﷫ کی تصنیف ہے ۔ فاضل مصنف نے اس کتا ب کو نو ابواب میں تقسیم کیا ہے ۔جس میں انہوں نے سید صاحب کے وطن ، خاندان او رتعلیم، دار المصنفین کاقیام اور اس کے کاموں کا آغاز ، قیام بھوپال ، ہجرت اور قیام پاکستان اور ان کے ذاتی حالات کو بڑی تفصیل سے بیان کیا ہے سید سلیمان ندوی ﷫ کی زندگی بھر کے احوال و آثار ، حیات وخدمات کو جاننے کے لیےایک جامع کتاب ہے ۔(م۔ا)

  • title-pages-hayat-e-shibli-copy
    سید سلیمان ندوی

    علامہ شبلی نعمانی اردو کے مایہ ناز علمی و ‌ادبی شخصیات میں سے ہیں۔ خصوصاً اردو سوانح نگاروں کی صف میں ان کی شخصیت سب سے قدآور ہے۔ مولانا شبلی نے مستقل تصنیفات کے علاوہ مختلف عنوانات پر سیکڑوں علمی و تاریخی و ادبی و سیاسی مضامین لکھے جو اخبارات و رسائل کے صفحات میں منتشر ہیں ۔شبلی نعمانی 1857ء اتر پردیش کے ضلع اعظم گڑھ میں پیدا ہوئے ۔۔ ابتدائی تعلیم اپنے والد شیخ حبیب اللہ سے حاصل کی۔ اس کے بعد مولانا محمد فاروق چڑیا کوٹی سے ریاضی، فلسفہ اور عربی کا مطالعہ کیا۔ اس طرح انیس برس میں علم متدادلہ میں مہارت پیدا کر لی۔ 25 سال کی عمر میں شاعری، ملازمت، مولویت کے ساتھ ہر طرف کوشش جاری رہی،1876ء میں حج کے لیے تشریف لے گئے۔ وکالت کا امتحان بھی پاس کیا مگر اس پیشہ سے دلچسپی نہ تھی۔ علی گڑھ گئے تو سرسید احمد خان سے ملاقات ہوئی، چنانچہ وہاں فارسی کے پروفیسر مقرر ہوئے۔ یہیں سے شبلی نے علمی و تحقیقی زندگی کا آغاز کیا۔ پروفیسر آرنلڈ سے فرانسیسی سیکھی۔ 1882 میں شبلی نے ’’علی گڑھ کالج‘‘ سے تعلق جوڑ لیا۔ یہاں وہ عربی کے پروفیسر مقرر ہوئے۔ یہاں سر سید سے ملے ان کا کتب خانہ ملا، یہاں تصانیف کا وہ سلسلہ شروع ہوا جس نے اردو ادب کے دامن کو تاریخ، سیرت نگاری، فلسفہ ادب تنقید اور شاعری سے مالا مال کردیا، سیرت نگاری، مورخ، محقق کی حیثیت سے کامیابی کے سکے جمائے 1892ء میں روم اور شام کا سفر کیا۔ 1898ء میں ملازمت ترک کرکے اعظم گڑھ چلے گئے۔ 1913ء میں دارالمصنفین کی بنیاد ڈالی۔ 1914ء میں انتقال ہوا۔ زیر تبصرہ کتا ب’’ حیات شبلی‘‘ علامہ شبلی نعمانی کے نامور شاگرد اور کی رفاقت میں 8برس گزارنے والے مولانا سید سلیمان ندوی ﷫ کی تصنیف ہے جس میں انہوں نے شمس العلماء علامہ شبلی نعمانی کے سوانح حیات اور ان کےعلمی وعملی کارنوں کو بڑی تفصیل سے پیش کیا ہے ۔مولانا شبلی کی حیات وخدمات پر یہ ایک مستند کتاب ہے ۔(م۔ا)

  • title-pages-hayaat-shaikh-ul-islam-ibne-temia
    محمد ابو زہرہ مصری
    شیخ الاسلام امام ابن تیمیہ رحمہ اللہ کی ذات مجمع علوم و فنون، منبع حرب و پیکار اور ذخیرہ گفتار و کردار تھی۔ امام صاحب رحمہ اللہ نے علم منطق میں وہ دسترس حاصل کی کہ ارسطو کی منطق ایک بے حقیقت چیز بن گئی، فلسفہ میں وہ کمال حاصل کیا کہ اس کی تلوار سے اس کے ٹکڑے ٹکڑے کر دیے، تفسیر میں وہ نکات پیدا کیے اور وہ حقائق آشکار کیے کہ ایک نئے مدرسہ فکر کے بانی بن گئے، حدیث و نقد روایت میں ایسی دقت نظر کا نمونہ پیش کیا کہ دنیا انگشت بدنداں رہ گئی، فقہ میں وہ مجتہدانہ کمال پیدا کیا کہ حنبلی نسبت ہونے کے باوجود اپنے اختیارات و اجتہادات میں وہ کسی متعین فقہ کے پابند نہیں تھے، تقابلی فقہ میں ایک انسائیکلو پیڈیا کی حیثیت رکھتے تھے، علم کلام میں درجہ اجتہاد پر فائز ہوئے اور نام نہاد فکری تصوف نا قابل بیان علمی تردید فرمائی، فن جدال و مناظرہ میں قدم رکھا تو عیسائیوں، روافض، فلاسفہ اور مناطقہ اور متکلمین کے فکر کی دھجیاں بکھیر دیں، ایک عالم باعمل کی حیثیت سے ملوک و سلاطین کے درباروں میں کلمہ حق بلند کیا، وہ محض صاحب قلم نہ تھے بلکہ صاحب شمشیر بھی تھے، ان کے قلم نے جو نقوش بنائے وہ کتابوں کے اوراق میں محفوظ ہیں لیکن ان کی نوک شمشیر نے دشمنان اسلام کے سر و سینہ پر جو لکیریں کھینچیں، تاریخ نے انہیں بھی ناقابل فراموش بنادیا ہے، وہ صرف بزم کے میر مجلس نہ تھے، رزم کے امیر عساکر بھی تھے، وہ علم کا ایک بحر زخار تھے، معلومات کا ایک بے بہا خزانہ تھے۔ امر واقعہ یہ ہے کہ ایسی جامع صفات کی حامل شخصیت پر قلم اٹھانا کوئی آسان بات نہیں ہے لیکن شیخ ابو زہرۃ مصری رحمہ اللہ نے اس موضوع پر کتاب مرتب کر کے سیر حاصل مواد فراہم کیا ہے اور ایسے خوبصورت پیرائے میں مضامین کو پرو دیا ہے کہ پڑھنے والا ذرا بھی اکتاہٹ محسوس نہیں کرتا ہے۔ شیخ ابو زہرہ رحمہ اللہ کی اس کتاب کا ترجمہ سید رئیس احمد جعفری ندوی نے کیا ہے اور مولانا عطاء اللہ حنیف بھوجیانی رحمہ اللہ کے حواشی، تنقیحات اور اضافوں نے تو اس کتاب کو چار چاند لگا دیے ہیں۔(ت۔م)

    نوٹ:
    محدث فورم میں اس کتاب پر تبصرہ کرنے کے لیے یہاں کلک کریں

     

  • pages-from-hayat-shaikh-abdul-haq-mohaddis-dehlvi
    خلیق احمد نظامی

    حضرت شیخ عبدالحق محدث دہلویؒ کے آباء واجداد اصل میں بخاراکے رہنے والے تھے ۔جو دہلی میں آکر سکونت پذیر ہوئے۔ آپؒ شہر دہلی میں 958ھ مطابق 1551ء پیداہوئے۔ آپ کا پورا نام شیخ ابو المجد عبدالحق بن سیف الدین دہلوی بخاری ہے، مغلیہ دور میں متحدہ ہندوستان کے مایہ ناز عالم دین اور محدث تھے۔ ہندوستان میں علم حدیث کی ترویج و اشاعت میں آپ کا کردار ناقابل فراموش ہے۔آپ کی تعلیم وتربیت آپ کے والد نے بڑی محبت اور محنت سے کی ۔حضرت شخ ﷫ نے صر ف تین ماہ میں پورا قرآن پاک مکمل قواعدکے ساتھ اپنے والد ماجد سے پڑھ لیا۔ اورایک ماہ میں کتابت کی قدرت اور انشاء کا سلیقہ حاصل ہو گیا اٹھارہ سال کی عمر میں آپ نے تمام علوم عقلیہ اور نقلیہ اپنے والد ماجد سے حاصل کر لیے۔ اس دوران آپ نے جید علماء کرام سے بھی اکتساب علم کیا۔ 996ھ / 1588ء میں حجاز کا رخ کیا اور کئی سال تک حرمین شریفین کے اولیاء کبار اور علماء زمانہ سے استفادہ کیا۔ بالخصوص شیخ عبد الوہاب متقی خلیفہ شیخ علی متقی کی صحبت میں علم حدیث کی تکمیل کی۔ آپ نے ایک درجن سے زائد کتابیں تصنیف کیں۔1642ء میں دہلی میں وفات پائی۔ زیر تبصرہ کتاب’’حیات شیخ عبد الحق محدث دہلوی ‘‘ خلیق احمد نظامی کی تصنیف ہے جو کہ پانچ حصوں ، مقدمہ او رآخر میں تعلیقات پر مشتمل ہے ۔فاضل مصنف نے مقدمہ میں شیخ عبد الحق محدث دہلوی سے قبل ہندوستان میں علوم اسلامی کی نشوو نما کا جائزہ لیا ہے۔ اور اسلامی ہند کے مختلف زمانوں میں علوم دینی کی حالت پر بحث کی ہے اس مقدمہ کے مطالعہ سے ہندوستان کی علمی اور دینی تاریخ میں شیخ عبدالحق کا صحیح مقام متعین کرنے میں بڑی مدد ملتی ہے ۔حصہ اول چودہ ابواب پر مشتمل ہے جس میں شیخ کی زندگی کا ایک ایک گوشہ اجاگر کیا گیا ہے، ان کےخاندان کے حالات، ابتدائی تعلیم وتربیت، حجاز میں تعلیم، ہندوستان میں قیام درس گاہ وغیرہ پر سیر حاصل گفتگو کی ہے۔ حصہ دوم   میں سولہ باب ہیں یہ حصہ شیخ کی تصانیف کے متعلق ہے ۔کتاب کے تیسرے حصے میں شیخ عبد الحق کے ان کے معاصرین سے تعلقات پر بحث کی گئی ہے۔ چوتھے حصہ میں شیخ کی اولاد کا تذکرہ ہے ۔پانچویں حصہ میں مصنف نے شیخ محدث کی علمی اور دینی خدمات کاجائزہ بڑی گہری نظر سے لیا ہے اور ان کی خدمت حدیث ، فقہ ،تاریخ، ادب وغیرہ پر بحث کی ہے اور آخر میں تعلیقات ہیں جن میں دونادر اور نایاب علمی جواہر پارے درج ہیں۔ (م۔ا)

  • title-pages-hayat-e-tayyaba-shah-ismaiel-shaheed-copy
    مرزا حیرت دہلوی
    ہندوستان کی  فضا میں  رشد وہدایت کی روشنیاں بکھیرنے کے لیے  اللہ تعالیٰ نے   اپنے  فضل  خاص سے ایک ایسی شخصیت کو پید ا فرمایا۔ جس نے  اپنی  قوت ایمانی اور علم وتقریر کے زور سے کفر وضلالت کے بڑے بڑے بتکدوں میں زلزلہ بپا کردیا اور شرک وبدعات کے  خود تراشیدہ بتوں کو  پاش پاش کر کے  توحید خالص  کی اساس قائم کی۔   یہ شاہ  ولی اللہ محدث  دہلوی  کے پوتے  شاہ اسماعیل  محدث دہلوی تھے۔ شیخ  الاسلام ابن تیمیہ اور امام محمد بن عبدالوہاب کے بعد  دعوت واصلاح میں امت کے لیے  ان کی خدمات ناقابل فراموش ہیں۔ انہو ں نے نہ صرف قلم سےجہاد کیا بلکہ عملی طور پر حضرت سید احمد شہید کی  امارت میں تحریک مجاہدین میں شامل  ہوکر سکھوں  کے خلاف جہاد کرتے ہوئے  بالاکوٹ کے  مقام پر  شہادت کا درجہ حاصل کیا   اور ہندوستان کے ناتواں اور محکوم مسلمانوں کے لیے  حریت کی ایک  عظیم مثال قائم کی۔ ان کے بارے   شاعر مشرق علامہ  اقبال نے  کہا  کہ ’’اگر مولانا محمد اسماعیل شہید کےبعد ان کے  مرتبہ کاایک مولوی بھی پیدا ہوجاتا تو آج ہندوستان کے مسلمان ایسی ذلت کی زندگی  نہ گزارتے‘‘ زیر نظر کتاب  برصغیر  پاک وہند  کی اسلامی تاریخ کے اسی عظیم جرنیل  شاہ  اسماعیل شہید کی حیات مبارکہ پر مشتمل ہے  کتاب کے پہلے   حصہ میں شاہ  اسماعیل شہید اور دوسرے حصہ  میں سید احمد شہید  کا  تذکرہ ہے۔(م۔ا)

    نوٹ:
    محدث فورم میں اس کتاب پر تبصرہ کرنے کے لیے یہاں کلک کریں
  • pages-from-zikar-e-azad-arazaq-maleeh-abadi
    عبد الرزاق ملیح آبادی

    برصغیر پاک و ہند میں کچھ ایسی شخصیات نے جنم لیا جو علم و ادب اور صحافت کے افق پر ایک قطبی ستارے کی طرح نمودار ہوئے اور دیر تک چھائے رہے۔ ان شخصیات میں سے مولانا ابو الکلام آزادؒ سرِ فہرست ہیں، مولانا کو اللہ تعالیٰ نے بے پناہ صلاحیتوں سے نوازہ تھا۔ مولانا آزادؒ عربی، اردو، فارسی اور انگریزی کے عظیم سکالر تھے، آپ نہایت ہی زیرک اور بے باک انسان تھے۔ مولانا آزادؒ مکہ معظمہ میں پیدا ہوئے اور بعد میں دہلی میں ہی قیام پذیر رہے آپ کا گھرانہ خالص دینی ماحول سے ہمکنار تھا۔ تقسیم ہندوستان کے وقت آپ نے مسلمانوں کو فرنگیوں کی چالوں سے آگاہ ہی نہیں کیا بلکہ تحریری و تقریری میدان میں بھی ہر لحاظ سے مصروف عمل رہے، آپ فن خطابت کے شہسوار شمارکئے جاتے تھے سامعین فرط حیرت میں مبہوت ہو کر رہ جاتے۔ زیر نظر کتاب"ذکر آزاد" مولانا عبد الرزاق ملیح آبادی کی مولانا آزادؒ کے ساتھ اڑتیس (38) سال کی رفاقت کو قلمی شکل میں ڈھالا گیا ہے جس میں مولانا آزادؒ کے اخلاق و عادات کی جھلکیاں، بے تکلف صحبتوں کو قلمبند کیا گیا ہے۔ اللہ تعالیٰ سے دعا ہے کہ وہ ان کی محنتوں کو قبول و منظور فرمائے۔ آمین(عمیر)

  • pages-from-hazrat-maulana-sanaullah-amar-tasri
    فضل الرحمان بن محمد

    شیخ الاسلام فاتح قادیان مولانا ثناء اللہ امرتسری﷫ 1868ء کو امرتسر میں پیدا ہوئے آپ نے ابتدائی تعلیم امرتسر میں پائی۔ سات سال کی عمر میں والد اور چودہ برس کی عمر تک پہنچتے والدہ بھی داغِ مفارقت دے گئیں۔ بنیادی تعلیم مولانا احمد اللہ امرتسر ﷫سے حاصل کرنے کے بعد استاد پنجاب، مولانا حافظ عبدالمنان وزیرآبادی﷫ سے علم حدیث کی کتابیں پڑھیں۔ ۱۸۸۹ء میں سندفراغت حاصل کرصحیحین پڑھنے دہلی میں سید نذیر حسین دہلوی ﷫ کے پاس پہنچے۔ مولانا ثناءاللہ امرتسری﷫ وسیع المطالعہ، وسیع النظر، وسیع المعلومات اور باہمت عالم دین ہی نہیں دین اسلام کے داعی، محقق، متکلم، متعلم، مناظر مصنف، مفسر اور نامور صحافی بھی تھے۔  مولانا کے پیش نگاہ دفاعِ اسلام اور پیغمبر اعظم جناب محمد رسول اللہﷺ کی عزت و ناموس کی حفاظت کا کام تھا۔ یہودونصاریٰ کی طرح ہندو بھی اسلام کے درپے تھے۔ مولانا کی اسلامی حمیت نے یہودونصاریٰ، ہندو اورقادیانیوں کو دندان شکن جواب دیے۔ عیسائیت اور ہند مت کے رد میں آپ نےمتعد دکتب لکھیں۔اور آپ نے جس سرگرمی و تندہی سے عقیدہ ختم نبوتﷺ کا دفاع کیا، ایسی سعادت کم ہی مسلمانوں کے حصے میں آئی ہے۔ آپ نے اسلام کی حقانیت کو ہر موڑ پر ہر حوالے سے ثابت کیا۔ ۱۸۹۱ء میں جب مرزا قادیانی نے دعویٰ مسیحیت کیا‘ آپ اس وقت طالب علم تھے۔ زمانہ طالب علمی ہی میں آپ نے ردِ قادیانیت کو اختیار کر لیا۔ قادیانیت کی دیوار کو دھکا دینے میں مولانا نے کلیدی کردار ادا کیا۔ مرزا غلام احمد کے چیلنج پر اس کے گھر جا کر اسے مناظرے کے لیے للکاراکہ مرزا قادیانی اپنے گھر تک محدود ہو کر رہ گیا۔ ردِ قادیانیت میں مولانا ثناء اللہ امرتسری نے’’تاریخ مرزا، فیصلہ مرزا، الہامات مرزا، نکات مرزا، عجائبات مرزا، علم کلام مرزا، شہادت مرزا، شاہ انگلستان اور مرزا، تحفہ احمدیہ، مباحثہ قادیانی، مکالمہ احمدیہ، فتح ربانی، فاتح قادیان اور بہااللہ اور مرزا۔‘‘ جیسی کتب لکھیں۔اس کے علاوہ آپ نے لاتعداد مناظرے کیے اور ہر جگہ اسلام کی حقانیت کو ثابت کیا۔الغرض شیخ الاسلام مولانا ثناء اللہ امرتسریؒ برصغیر پاک و ہند کی جامع الصفات علمی شخصیت تھے۔ اللہ تعالیٰ نے ان کو بے پناہ خوبیوں اور محاسن سے نواز رکھا تھا۔آپ اسلام کی اشاعت اور اپنے مسلک کی ترویج کے لیے تمام زندگی کوشاں رہے۔ اخبار اہل حدیث جاری کیا۔ قادیانیت ،عیسائیت اور ہند مت کے رد کے علاوہ بھی بہت سی کتب لکھیں۔ تفسیر القرآن بکلام الرحمن (عربی) اور ’’تفسیرِ ثنائی ‘‘ (اردو) قابل ذکر ہیں ۔مولانا کی حیات خدمات کے سلسلے میں معروف قلماران او رمضمون نگاران نے بیسیوں مضامین لکھے ہیں جو پاک وہند کے رسائل کی کی زینت بنتے رہتے ہیں اور بعض اہل علم نے مستقل کتب بھی تصنیف کی ہیں۔ زیرتبصرہ کتاب’’ رئیس المناظرین شیخ الاسلام مولانا ثناء اللہ امرتسری‘‘ بھی اسی سلسلہ کی ایک کڑی ہے۔ یہ کتاب مبارک مسجد اسلامیہ کالج ،لاہور کے سابق خطیب جناب فضل الرحمٰن الازہری کی تصنیف ہے۔ اس کتاب میں انہوں نے شیخ الاسلام کی پیدائش سے وفات تک کے تما م حالات واقعا ت اور ان کی تعلیم، چند مشہور اساتذہ کے حالات اور ان کی مرزائیت، عیسائیت کے خلاف خدمات اور ان کی تصانیف کا بڑے احسن انداز میں تذکرہ کیاہے۔ یہ کتاب دراصل مصنف کا وہ مقالہ ہے جسے انہوں نے1974ءمیں ایم اے عربی کےسالانہ امتحان کے لیے لکھ کر پنجاب یونیورسٹی میں پیش کیا اور اول پوزیشن حاصل کی۔ اللہ تعالیٰ مولانا مرحوم کو جنت الفردوس میں اعلیٰ مقام عطا فرمائے اور ان کی قبر پر اپنی رحمت کی برکھا برسائے۔ (آمین)   (م۔ا)

  • title-pages-ropri-ulmai-hadith-copy
    محمد اسحاق بھٹی

    متحدہ پنجاب کے جن اہل  حدیث خاندانوں نے تدریس  وتبلیغ اور مناظرات ومباحث  میں شہرت پائی ان میں  روپڑی خاندان کےعلماء کرام کو بڑی اہمیت حاصل ہے  ۔روپڑی خاندان میں علم وفضل کے اعتبار سے سب سے برگزیدہ شخصیت حافظ عبد اللہ محدث  روپڑی(1887ء۔1964) کی تھی، جو ایک عظیم محدث ،مجتہد مفتی اور محقق تھے ان کے فتاویٰ، ان کی فقاہت اور مجتہدانہ صلاحیتوں کے غماز او ر ان کی تصانیف ان کی محققانہ ژرف نگاہی کی مظہر ہیں۔ تقسیمِ ملک سے قبل روپڑ شہر (مشرقی پنجاب) سے ان کی زیر ادارت ایک ہفتہ وار پرچہ ’’تنظیم اہلحدیث‘‘ نکلتا رہا، جو پاکستان بننے کے بعد اب تک لاہور سے شائع ہو رہا ہے۔ محدث روپڑی تدریس سے بھی وابستہ رہے، قیامِ پاکستان کے بعد مسجد قدس (چوک دالگراں، لاہور) میں جامعہ اہلحدیث کے نام سے درس گاہ قائم فرمائی۔ جس کے شیخ الحدیث اور صدر مدرّس اور ’’تنظیم اہلحدیث‘‘ کے مدیر وغیرہ سب کچھ وہ خود ہی تھے، علاوہ ازیں جماعت کے عظیم مفتی اور محقق بھی۔اس اعتبار سے محدث روپڑی کی علمی و دینی خدمات کا دائرہ بہت وسیع ہے، وہ تدریس کے شعبے سے بھی وابستہ رہے اور کئی نامور علماء تیار کئے، جیسے حافظ عبدالقادر روپڑی ،حافظ اسمٰعیل روپڑی ، مولانا ابوالسلام محمد صدیق سرگودھوی ، مولانا عبدالسلام کیلانی رحمہم اللہ ، حافظ عبد الرحمن مدنی ،مولانا حافظ ثناء اللہ مدنی حفظہما اللہ وغیرہم۔ ’’تنظیم اہلحدیث‘‘کے ذریعے سے سلفی فکر اور اہلحدیث مسلک کو فروغ دیا اور فرقِ باطلہ کی تردید کی۔ اللہ تعالیٰ نے ان کو اجتہاد و تحقیق کی اعلیٰ صلاحیتوں سے نوازا تھا، فتویٰ و تحقیق کے لئے وہ عوام و خواص کے مرجع تھے۔ ۔ چنانچہ اس میدان میں بھی انہوں نے خوب کام کیا۔ ان کے فتاویٰ آج بھی علماء اور عوام دونوں کے لئے یکساں مفید اور رہنمائی کا بہترین ذریعہ ہیں۔ مذکورہ خدمات کے علاوہ  مختلف موضوعات  پر  تقریبا  80تالیفات علمی یادگار کے طور پر چھوڑیں، عوام ہی نہیں، علماء بھی ان کی طرف رجوع کرتے تھے او ران کی اجتہادی صلاحیتوں کے معترف تھے ۔مولانا عبدالرحمن مبارکپور ی  (صاحب تحفۃ الاحوذی  )فرماتے ہیں  حافظ عبد اللہ  روپڑی  جیسا ذی علم اور  لائق استاد تمام  ہندوستان میں کہیں  نہیں ملےگا۔ہندوستان  میں ان کی نظیر نہیں۔ زیر نظرکتاب  ’’ روپڑی  علمائے حدیث‘‘ مؤرخ اہل  حدیث  محترم  مولانا محمد  اسحاق بھٹی ﷾ کی تصنیف ہے جس میں  انہوں  نے  حافظ عبد اللہ  محدث  روپڑی  کے تفصیلی حالات اور ان کی علمی  وتصنیفی  خدمات کو بیان کرنے کےساتھ ان کے بعض تلامذہ  کا بھی  مختصرا ًذکر کیا ہے  ۔اس کے بعد  محدث روپڑی کے برادران  میں  سے حافظ محمد حسین روپڑی(والد گرامی  حافظ عبدالرحمن مدنی﷾  مدیر اعلی  ماہنامہ محدث ،لاہور) اور حافظ عبدالرحمن کمیر پوری  کے  حالات  قلمبند کیے ہیں ۔اور پھر محدث  روپڑی کے بھتیجوں میں  سے خطیب ملت  حافظ  اسماعیل  روپڑی ،مناظر اسلام  حافظ عبدالقادر روپڑی ، عالم اسلام کے عظیم سکالر حافظ عبدالرحمن مدنی اور حافظ عبدالوحید روپڑی  وغیرہ کے حالات بیان کرنےکےعلاوہ  جامعہ اہل حدیث، ہفت  روزہ تنظیم  اہل  حدیث  چوک دالگراں،لاہور کےذمہ داران  حافظ عبدالغفار روپڑی اور حافظ عبد الوہاب روپڑی  کابھی مختصراً تذکرہ کیا ہے ۔روپڑی خاندان کے حالات واقعات کے معلومات حاصل کرنے کےلیے یہ ایک منفرد کتاب ہے  اس کتاب  میں ماہنامہ محدث ،لاہورکے بعض مطبوعہ مضامین بھی شامل ہیں۔اللہ تعالی اس خاندان کی دینِ اسلام کےلیےتمام مساعی جمیلہ کو قبول فرمائے  (آمین)(م۔ا)

     

  • غلام رسول مہر

    سیداحمدشہید 1786ء بھارت کے صوبہ اترپردیش کے ضلع رائے بریلی کے ایک قصبہ دائرہ شاہ علم اللہ میں پیداہوئے۔ بچپن سے ہی گھڑ سواری، مردانہ و سپاہیانہ کھیلوں اور ورزشوں سے خاصا شغف تھا۔ والد کے انتقال کے بعد تلاشِ معاش کے سلسلے میں اپنے ساتھیوں کے ساتھ لکھنؤ اور وہاں سے دہلی روانہ ہوئے، جہاں شاہ عبدالعزیز محدث دہلوی اور شاہ عبد القادر دہلوی سے ملاقات ہوئی، ان دونوں حضرات کی صحبت میں سلوک و ارشاد کی منزلیں طے کی۔ خیالات میں انقلاب آگیا۔ شاہ ولی اللہ محدث دہلوی کی تحریک اور انکے تجدیدی کام کو لے کر میدانِ عمل میں آگئے۔یہ وہ وقت تھا جب ہندوستان میں مسلمانوں کی سیاسی طاقت فنا ہو رہی تھی، مشرکانہ رسوم و بدعات اسلامی معاشرہ میں زور پکڑ رہے تھے، سارے پنجاب پر سکھ اور بقیہ ہندوستان پر انگریز قابض ہو چکے تھے۔ سید احمد شہید نے اسلام کے پرچم تلے فرزندانِ توحید کو جمع کرنا شروع کیا اور جہاد کی صدا بلند کی، جس کی بازگشت ہمالیہ کی چوٹیوں اور نیپال کی ترائیوں سے لیکر خلیج بنگال کے کناروں تک سنائی دی جانے لگی، اور نتیجتاً تحریک مجاہدین وجود میں آئی ۔سید صاحب نے اپنی مہم کا آغاز ہندوستان کی شمال مغربی سرحد سے کیا۔ سکھوں سے جنگ کر کے مفتوحہ علاقوں میں اسلامی قوانین نافذ کیے۔ لیکن بالآخر ١۸۳١ میں رنجیت سنگھ کی کوششوں کے نتیجے میں بعض مقامی پٹھانوں نے بے وفائی کی اور بالاکوٹ کے میدان میں سید صاحب اور انکے بعض رفقاء نے جامِ شہادت نوش فرمایا۔ سید احمدشہید کی تحریک مجاہدین اور ان کے جانثار رفقاء کے حوالے سے متعد ر سوانح نگار ورں نے مطول اور مختصر کتب تحریر کی ہیں۔ کتاب ہذا ’’سید احمد شہید‘‘ از مولاناغلام رسول مہر بھی اسی سلسلہ کی کڑی ہے ۔موصوف نے تقریبا آج 75 سال قبل اس وقت سید احمد شہید پر موجود کتب سے استفادہ کر کے یہ ضخیم کتاب مرتب کی اور اس میں انہوں نےسید صاحب کے   مکمل حالات اور ان   کی قائم کردہ عظیم جہادی تحریک کی روداد اور سرگزشت کو قلم بند کیا ہے۔(م۔ا)

  • pages-from-seerat-imam-rabbani-mujaddad-alaf-saani
    ابو البیان محمد داؤد پسروری

    مجدد الف ثانی حضرت شیخ احمد سر ہندی ﷫ 971ھ کو ہند و ستا ن کے مشر قی پنجا ب کے علاقہ سرہند میں پیدا ہوئے، آپ کے والد ماجد شیخ عبدا لا حد چشتی ﷫ اپنے وقت کے جلیل القدر عالم وعارف تھے.... حضرت مجدد الف ثانی کا سلسلہ نسب 29واسطوں سے امیر المو منین سیدنا حضرت عمر فاروق﷜ سے ملتاہے۔آپ نے صغر سنی میں ہی قرآن حفظ کر کے اپنے والد سے علوم متداولہ حاصل کیے پھر سیالکوٹ جا کر مولانا کمال الدیّن کشمیری سے معقولات کی تکمیل کی اور اکابر محدثّین سے فنِ حدیث حاصل کیا ۔ آپ سترہ سال کی عمر میں تمام مراحل تعلیم سے فارغ ہو کر درس و تدریس میں مشغول ہوگئے ۔1599ء میں آپ نے خواجہ باقی باللہ کے ہاتھ پر بیعت کی۔ آپ کے علم و بزرگی کی شہرت اس قدر پھیلی کہ روم، شام، ماوراء النہر اور افغانستان وغیرہ تمام عالمِ اسلام کے مشائخ علماء اور ارادتمند آکر آپ سے مستفیذ ہوتے۔ یہاں تک کہ وہ ’’مجدد الف ثانی ‘‘ کے خطاب سے یاد کیے جانے لگے ۔ یہ خطاب سب سے پہلے آپ کے لیے ’’عبدالحکیم سیالکوٹی‘‘ نے استعمال کیا ۔ طریقت کے ساتھ وہ شریعت کے بھی سخت پابند تھے ۔ مجدد الف ثانی  مطلقاً تصوف کے مخالف نہیں تھے۔ آپ نے ایسے تصوف کی مخالفت کی جو شریعت کے تابع نہ ہو۔ قرآن و سنت کی پیروی اور ارکان اسلام پر عمل ہی آپ کے نزدیک کامیابی کا واحد راستہ ہے۔مغل بادشاہ اکبر کے دور میں بہت سی ہندوانہ رسوم و رواج اور عقائد اسلام میں شامل ہو گئے تھے۔ اسلام کا تشخص ختم ہو چکا تھا اور اسلام اور ہندومت میں فرق کرنا مشکل ہو گیا تھا۔ ان کے مطابق دین میں ہر نئی بات بدعت ہے اور بدعت گمراہی ہے۔ آپ اپنے ایک مکتوب میں بدعات کی شدید مخالفت کرتے ہوئے لکھتے ہیں کہ: ’’لوگوں نے کہا ہے کہ بدعت کی دو قسمیں ہیں: بدعت حسنہ اور بدعت سیئہ۔ بدعت دافع سنت ہے، اس فقیر کو ان بدعات میں سے کسی بدعت میں حسن و نورانیت نظر نہیں آتی اور سوائے ظلمت اور کدورت کے کچھ محسوس نہیں ہوتا‘‘حضرت مجدد الف ثانی کو اپنے مشن کی تکمیل کے لئے دورِ ابتلاء سے بھی گزرنا پڑا۔ بعض امراء نے مغل بادشاہ جہانگیر کو آپ کے خلاف بھڑکایا اور یقین دلایا کہ آپ باغی ہیں اور اس کی نشانی یہ بتائی کہ آپ بادشاہ کو تعظیمی سجدہ کرنے کے قائل نہیں ہیں، چنانچہ آپ کو دربار میں طلب کیا جائے۔ جہانگیر نے حضرت مجدد الف ثانی کو دربار میں طلب کر لیا۔ آپ نے بادشاہ کو تعظیمی سجدہ نہ کیا۔ جب بادشاہ نے وجہ پوچھی تو آپ نے کہا: سجدہ اللہ کے علاوہ کسی اور کے لئے جائز نہیں ہے۔ یہ اللہ کا حق ہے جو اس کے کسی بندے کو نہیں دیا جا سکتا۔ہندوستان میں اشاعت ِدین اور تبلیغ اسلام کے لیے آپ کی کاوشیں ناقابل فراموش ہیں۔ زیر نظر کتاب ’’سیرتِ امام ربانی حضرت مجدد الف ثانی‘‘علامہ ابوالبیان محمد داؤد پسروری کی تصنیف ہے ۔یہ کتاب مجدد الف ثانی کی سیرت پر ایک جامع کتاب ہے جس میں آپ کے حالات بالتفصیل بیان کئے گئے ہیں ۔مجدد الف ایک معروف شخصیت ہیں جن کی ہندوستا ن میں اشاعتِ اسلام کےلیے بڑی خدمات ہیں ۔ویب سائٹ پر ان کی سیرت وتعارف کے حوالے سے کوئی کتاب نہ تھی ۔اس لیے کتاب کو   ویب سائٹ پر پیش کیا گیا ہے۔ کتاب کے مندرجات سے ادارے کا کلی اتفاق ضروری نہیں ہے۔(م۔ا)

  • title-pages-seerat-sayyad-ahmad-shaheed-2
    سید ابو الحسن علی ندوی
    اس وقت برصغیر پاک و ہند میں جس قدر بھی جہاد ہو رہا ہے اس کے بارے میں اگر یہ رائے رکھی جائے تو بے جا نہ ہو گا کہ اس کی اساس سید احمد شہید رحمہ اللہ نے رکھی تھی ۔ آپ رحمہ اللہ نے اس وقت علم جہاد بلند کیا جب برصغیر میں کیا بلکہ پورے عالم اسلام میں زوال کے آثار نمایاں تھے ۔ امت کا انتشار و افتراق اور دین سے جہالت بہت بڑھ چکی تھی ۔ انگریز اور سکھ اپنے خونی پنجے گاڑھ چکے تھے ۔ حالات میں مایوسی اپنی انتہاؤں کو پہنچ چکی تھی ۔ اس صورت حال میں سید صاحب نے مسلمانوں کو جہاد کی ترغیب دلائی ۔ اور ایک جماعت کی اساس رکھی ۔ آپ نے خیبر پختونخوا میں ایک ریاست اسلامیہ کی تاسیس بھی رکھی ۔ حتی کہ خطبوں میں بھی آپ کا نام لیا جانے لگا ۔ تاہم اپنے کی غداری کا شکار ہوئے ۔ آپ کے بعد بھی جماعت مجاہدین نے اپنی جدوجہد جاری رکھی ۔ مسلمانان برصغیر میں جذبہء جہادی و آزادی کی روح آپ کی ہی کاوشوں کا نتیجہ تھا۔ اس کے ساتھ ساتھ آپ نے لوگوں کے شرکیہ عقائد اور بدعی اعمال کی اصلاح کا بھی بیڑا اٹھایا ۔ اللہ تعالیٰ نے اس میدان میں آپ کو کامیابیوں سے نوازا ۔ زیرنظرکتاب مولانا ابوالحسن ندوی رحمہ اللہ کی تصنیف سید احمد شہید رحمہ اللہ کی خدمات و حیات کے کئی ایک پہلؤوں پر توجہ دلاتی ہے ۔ یہ کتاب اپنے موضوع پر ایک محولہ اور جامع کتاب ہے ۔ اللہ مصنف محترم کو اجر سے نوازے۔(ع۔ح)

    نوٹ:
    محدث فورم میں اس کتاب پر تبصرہ کرنے کے لیے یہاں کلک کریں
  • seerat-shaikh-muhammad-bin-abdul-wahab-2
    عبد العزیز بن عبد اللہ بن باز

    شیخ الاسلام ،مجدد العصر محمد بن عبد الوہاب ﷫ کی شخصیت کسی تعارف کی محتاج نہیں ہے۔آپ ایک متبحر عالم دین،قرآن وحدیث اور متعدد علوم وفنون میں یگانہ روز گار تھے۔آپ نے اپنی ذہانت وفطانت اور دینی علوم پر استدراک کے باعث اپنے زمانے کے بڑے بڑے علماء دین کو متاثر کیا اور انہیں اپنا ہم خیال بنایا۔آپ نے قرآن وسنت کی توضیحات کے ساتھ ساتھ شرک وبدعات کے خلاف علمی وعملی دونوں میدانوں میں زبر دست جہاد کیا۔آپ نے متعدد کتب تصنیف فرمائیں اور شرک وبدعات کے خلاف میدان کارزار میں کارہائے نمایاں سر انجام دئیے۔آپ نے خالصتا کتاب وسنت کی دعوت کو عام کیا اور لوگوں کو شرک وبدعات سے دور کرنے کے لئے کتب لکھیں۔زیر تبصرہ کتاب(سیرت شیخ محمد بن عبد الوہاب﷫) سعودی عرب کے مفتی اعظم اور معروف عالم دین فضیلۃ الشیخ عبد العزیز بن عبد اللہ بن باز ﷫کی ایک تقریر پر مشتمل ہے،جو انہوں نے مدینہ یونیورسٹی کے طلباء سے خطاب کرتے ہوئے ارشاد فرمائی تھی۔شیخ ابن باز ﷫اس وقت مدینہ یونیورسٹی کے وائس چانسلر تھے۔اس خطاب میں انہوں نے شیخ الاسلام ،مجدد العصر محمد بن عبد الوہاب ﷫ کی سیرت اور حالات زندگی کو مختصر مگر جامع انداز میں پیش کیا ہے،اور ان کی دینی واسلامی خدمات پر روشنی ڈالی۔جسے بعد میں کتابچے میں شکل میں طبع کر دیا گیا۔اس کا اردو ترجمہ کرنے کی سعادت محترم شیخ عبد الحلیم بستوی نے حاصل کی ہے۔اللہ تعالی سے دعا ہے کہ وہ مولف﷫ اور شیخ الاسلام ،مجدد العصر محمد بن عبد الوہاب﷫ دونوں اہل علم کی قبروں کو منور فرمائے اور انہیں جنت الفردوس میں اعلی مقام عطا فرمائے۔آمین(راسخ)

ای میل سبسکرپشن

محدث لائبریری کی اپ ڈیٹس بذریعہ ای میل وصول کرنے کے لئے ای میل درج کر کے سبسکرائب کے بٹن پر کلک کیجئے۔

 

ایڈوانس سرچ

موضوعاتی فہرست

رجسٹرڈ اراکین

آن لائن مہمان

محدث لائبریری پر اس وقت الحمدللہ 177 مہمان آن لائن ہیں ، لیکن کوئی رکن آن لائن نہیں ہے۔

ایڈریس

       99-جے ماڈل ٹاؤن،
     نزد کلمہ چوک،
     لاہور، 54700 پاکستان

       0092-42-35866396، 35866476، 35839404

       0092-423-5836016، 5837311

      KitaboSunnat@gmail.com

      بنک تفصیلات کے لیے یہاں کلک کریں