• pages-from-aimmah-arbah-ka-difaa-aur-sunnat-ki-ittebaa
    نواب صدیق الحسن خاں

    ہر مسلمان پرواجب اور ضروری ہے کہ اللہ اور اس کے رسول کی محبت کے بعد مسلمانوں کے علماء، مجتہدین اور اولیاء صالحین کی محبت اختیار کرے، خاص کر وہ ائمہ اور علماء جو پیغمبروں کے وارث ہیں، آسمان کے ستاروں کی طرح خشکی و تری کی تاریکیوں میں راستہ دیکھاتے ہیں، مخلوق کے سامنے ہدایت کے راستے کھولتے ہیں۔ خاتم الرسلﷺ کی بعثت سے پہلے جو امتیں تھیں ان کے علماء بد ترین لوگ تھے، مگر ملت اسلامیہ کے علماء بہترین لوگ ہیں۔ جب کبھی رسول اللہﷺ کی سنت مطہرہ مردہ ہونے لگتی ہے تو اس کو یہ علماء ہی زندہ کرتے ہیں، اور اسلام کے جسم میں ایک تازہ روح پھونکتے ہیں۔ اسی طرح چاروں ائمہ مجتہدین اور دوسرے علماء حدیث جن کی مقبولیت کے آگے امت سرنگوں رہتی ہے، ان میں سے کوئی ایسا نہ تھا کہ رسول اللہﷺ کی کسی حدیث اور سنت کی مخالفت کا اعتقاد دل میں رکھتا ہو۔ زیر تبصرہ کتاب"ائمہ اربعہ کا دفاع اور سنت کی اتباع" علامہ نواب صدیق حسن خان بھوپالیؒ کی ایک معرکۃ الاراء کتاب"جلب المنفعۃ فی الذب عن الائمۃ المجتہدین الاربعۃ" فارسی کا اردو ترجمہ ہے، مترجم مولانا محمد اعظمی حفظہ اللہ تعالیٰ نے حتی المقدور کتاب کا ترجمہ سہل انداز میں پیش کیا ہے۔ مولانا خان صاحبؒ کے علمی و دینی خدمات جلیلہ اور ان کے تجدیدی کارنامے تعارف کے محتاج نہیں۔ مولانا خان صاحبؒ نے اپنی اس نایاب تصنیف میں ائمہ اربعہ کے دفاع کے ساتھ ان کے اور جماعت اہل حدیث و محدثین کے فضائل و مناقب بیان کئے ہیں اور مقلدین اور ان کے مخالفین کے درمیان جو لعن طعن، الزام تراشی اور تکفیر و تفسیق کی گرم بازاری رہتی ہے اس پر سخت نکیر کی ہے۔ اللہ تعالیٰ سے ہم دعا گو ہیں کہ وہ امت مسلمہ کو اتفاق و اتحاد سے رہنے کی توفیق عطا فرمائے اور مصنف و مترجم کو اجر عظیم سے نوازے۔ آمین (عمیر)

  • title-pages-imam-daar-qutni-copy
    ارشاد الحق اثری

    چوتھی  صدی ہجری کے نامور تاجدارِ حدیث  امام دارقطنی﷫ ( (306 – 385جن کے تذکرے کے بغیر چوتھی  صدی کی تاریخ  نا  مکمل رہے گی ۔ ان  کا  مکمل  نام یہ  ہے ابو الحسن علی بن عمر بن احمد بن مہدی بن مسعود بن النعمان بن دینار بن عبدللہ   الدار قطنی البغدادی ہے، انہیں امام حافظ مجوِّد، شیخ الاسلام، محدث کے القاب سے یاد کیا جاتا ہے، ان کا تعلق بغداد کے محلہ دار قطن سے تھا جس کی وجہ سے انہیں الدارقطنی کہا جاتا ہے۔امام دارقطنی  نے  اپنے  وطن   کے علمی  سرچشموں سے سیرابی  حاصل کرنے کے بعد مختلف ممالک کا سفر کیا اور  بڑے بڑے ائمہ کرام سے تعلیم حاصل کی جن میں ابی القاسم البغوی، یحیی بن محمد بن صاعد، ابی بکر بن ابی داود، ابی بکر النیسابوری، الحسین بن اسماعیل المحاملی، ابی العباس ابن عقدہ، اسماعیل الصفار، اور دیگر شامل ہیں۔امام دارقطنی ، علل حدیث اور رجالِ حدیث ، فقہ، اختلاف اور مغازی اور ایام الناس پر دسترس رکھتے تھےحافظ عبد الغنی الازدی فرماتے ہیں: رسول اللہ ﷺکی حدیث پر اپنے  وقت  میں  سب سے بہتر دسترس رکھنے والے تین افراد  ہیں۔  ابن المدینی،  موسی بن ہارون اور امام  دارقطنی ۔امام  دارقطنی کی تصانیف 80 سے زائد ہیں۔ 385 ہجری کو ان کا انتقال ہوا اور بغداد کے قبرستان باب الدیر میں معروف الکرخی کی قبر کے نزدیک دفن ہوئے۔ زیر نظر کتاب’’امام دارقطنی‘‘ محققِ عصر  ممتاز عالم دین   مولانا ارشاد الحق اثری﷾ کی تصنیف ہے  جس میں انہوں نے  امام دار قطنی کی حیات خدمات کو   پیش کرنے کے ساتھ ساتھ  امام موصوف پر عائد کردہ الزامات کا مدلل جائزہ بھی لیا ہے ۔ خصوصاً السنن پر تبصرہ ، علل الحدیث ، جرح وتعدیل میں  امام دارقطنی کا مقام ، تالیفات وغیرہ  پر ان کی اہمیت کے پیش نظر  جامع بحث کی  ہے   اور بتایا  ہے کہ بعض فنون  حدیث میں تو امام دارقطنی سابق محدثین سے بھی بازی لے گئے ہیں اور بعض فنون میں انہیں سابقیت کا مقام حاصل ہے ۔امام دارقطنی کی   حیات وخدمات اور  ان کے علمی مقام  کو جاننے کےلیے  یہ  کتاب بیش قیمت علمی  تحفہ ہے ۔ اللہ تعالیٰ  مولانا ارشاد الحق اثری ﷾ کی تدریسی، تحقیقی وتصنیفی ،  علمی اور دعوتی خدمات کو  قبول فرمائے اور آخرت میں ان کی نجات کا ذریعہ بنائے  (آمین)(م۔ا)

  • title-pages-tazkra-muhaddis-ropri
    عبد الرشید عراقی

    متحدہ پنجاب کے جن اہل حدیث خاندانوں نے تدریس وتبلیغ اور مناظرات ومباحث میں شہرت پائی ان میں روپڑی خاندان کےعلماء کرام کو بڑی اہمیت حاصل ہے ۔روپڑی خاندان میں علم وفضل کے اعتبار سے سب سے برگزیدہ شخصیت حافظ عبد اللہ محدث روپڑی(1887ء۔1964) کی تھی، جو ایک عظیم محدث ،مجتہد مفتی اور محقق تھے ان کے فتاویٰ، ان کی فقاہت اور مجتہدانہ صلاحیتوں کے غماز او ر ان کی تصانیف ان کی محققانہ ژرف نگاہی کی مظہر ہیں۔ تقسیمِ ملک سے قبل روپڑ شہر (مشرقی پنجاب) سے ان کی زیر ادارت ایک ہفتہ وار پرچہ ''تنظیم اہلحدیث'' نکلتا رہا، جو پاکستان بننے کے بعد اب تک لاہور سے شائع ہو رہا ہے۔ محدث روپڑی تدریس سے بھی وابستہ رہے، قیامِ پاکستان کے بعد مسجد قدس (چوک دالگراں، لاہور) میں جامعہ اہلحدیث کے نام سے درس گاہ قائم فرمائی۔ جس کے شیخ الحدیث اور صدر مدرّس اور ''تنظیم اہلحدیث'' کے مدیر وغیرہ سب کچھ وہ خود ہی تھے، علاوہ ازیں جماعت کے عظیم مفتی اور محقق بھی۔اس اعتبار سے محدث روپڑی کی علمی و دینی خدمات کا دائرہ بہت وسیع ہے، وہ تدریس کے شعبے سے بھی وابستہ رہے اور کئی نامور علماء تیار کئے، جیسے حافظ عبدالقادر روپڑی ،حافظ اسمٰعیل روپڑی ، مولانا ابوالسلام محمد صدیق سرگودھوی ، مولانا عبدالسلام کیلانی رحمہم اللہ ، حافظ عبد الرحمن مدنی ،مولانا حافظ ثناء اللہ مدنی وغیرہم۔ ''تنظیم اہلحدیث''کے ذریعے سے سلفی فکر اور اہلحدیث مسلک کو فروغ دیا اور فرقِ باطلہ کی تردید کی۔ اللہ تعالیٰ نے ان کو اجتہاد و تحقیق کی اعلیٰ صلاحیتوں سے نوازا تھا، فتویٰ و تحقیق کے لئے وہ عوام و خواص کے مرجع تھے۔ ۔ چنانچہ اس میدان میں بھی انہوں نے خوب کام کیا۔ ان کے فتاویٰ آج بھی علماء اور عوام دونوں کے لئے یکساں مفید اور رہنمائی کا بہترین ذریعہ ہیں۔ مذکورہ خدمات کے علاوہ مختلف موضوعات پر تقریبا 80تالیفات علمی یادگار کے طور پر چھوڑیں، عوام ہی نہیں، علماء بھی ان کی طرف رجوع کرتے تھے او ران کی اجتہادی صلاحیتوں کے معترف تھے ۔مولانا عبدالرحمن مبارکپور ی  (صاحب تحفۃ الاحوذی )فرماتے ہیں حافظ عبد اللہ روپڑی جیسا ذی علم اور لائق استاد تمام ہندوستان میں کہیں نہیں ملےگا۔ہندوستان میں ان کی نظیر نہیں۔ زیر نظر کتابچہ مولانا عبد الرشید عراقی﷾ کا تالیف کردہ ہے جس میں انہوں نے محدث روپڑی کی خدمات اور ان کے اساتذہ وتلامذہ کا اختصار کے ساتھ تذکرہ کیا ہے ۔مزید تفیلات کے لیے ماہنامہ محدث جلد 18،23،32اور بزم ِارجمندہ،روپڑی علمائے حدیث از مولانا محمداسحاق بھٹی﷾ ملاحظہ فرمائیں اور اسی طرح مدیراعلی ماہنامہ محدث لاہور کی دختر پروفیسر ڈاکٹر حافظہ مریم مدنی کا مقالہ برائے ایم فل بعنوان ''محدث روپڑی اور تفسیری درایت کے اصول'' بھی لائق مطالعہ ہے ۔ اللہ تعالیٰ محدث روپڑی کے درجات کو بلند فرمائے او ران کی مرقد پر اپنی رحمتوں کی برکھا برسائے ۔اور ان کے اخلاف کو ان کی علمی وتحقیقی خدمات اور ان کی نایاب کتب کو منظر عام پرلانے کی توفیق عطا فرمائے (آمین) (م۔ا )

     

    نوٹ:

    محدث فورم میں اس کتاب پر تبصرہ کرنے کے لیے یہاں کلک کریں

     

  • pages-from-tazkara-tul-muhaddiseen
    عبد الرشید عراقی

    تاریخ نویسی ہو یا سیرت نگاری ایک مشکل ترین عمل ہے ۔ اس کےلیے امانت ودیانت او رصداقت کاہونا از بس ضروری ہے۔مؤرخ کے لیے یہ بھی ضروری ہےکہ وہ تعصب ،حسد بغض، سے کوسوں دور ہو ۔تمام حالات کو حقیقت کی نظر سے دیکھنے کی مکمل صلاحیت رکھتاہو ۔ذہین وفطین ہو اپنے حافظےپر کامل اعتماد رکھتا ہو۔حالات وواقعات کوحوالہ قرطاس کرتے وقت تمام کرداروں کا صحیح تذکرہ کیا گیا ہو ۔اس لیے کہ تاریخ ایک ایسا آئینہ ہے کہ جس کے ذریعے انسان اپنا ماضی دیکھ سکتاہے اور اسلام میں تاریخ ، رجال اور تذکرہ نگار ی کو بڑی اہمیت حاصل ہے اور یہ اس کے امتیازات میں سے ہے ۔بے شمارمسلمان مصنفین نے اپنے اکابرین کے تذکرے لکھ کر ان کےعلمی عملی،تصنیفی،تبلیغی اورسائنسی کارناموں کوبڑی عمدگی سے اجاگر کیا ہے۔ یوں تو صدیوں کی تاریخ ہمارے سامنے ہے لیکن ماضی قریب او ر موجودہ دور میں تذکرہ نویسی اور سوانح نگاری کے میدان میں جماعت اہل حدیث میں اردو مصنفین اور مقالہ نگاروں میں محترم مولانا محمد اسحاق بھٹی،مولانا حافظ صلاحالدین یوسف، مولانا محمد رمصان یوسف سلفی حفظہم اللہ وغیرہ کی خدمات قابلِ قدر ہیں اللہ تعالی ان بزرگوں کو صحت وعافیت سے نوازے اور ان کےعلم وعمل اضافہ فرمائے۔ زیر تبصرہ کتاب’’تذکرۃ المحمدیین‘‘ وطن عزیز کےمعروف سوانح نگار مصنف کتب کثیرہ مولانا عبدالرشید عراقی﷾ کی تصنیف ہے۔ اس کتاب میں انہوں نے برصغیر کے ان اٹھائیس نامور علمائے اہلحدیث اور ان کی دینی وعلمی ، سیاسی وملی، تبلیغی وتدریسی تصنیفی خدمات کا تذکرہ کیا ہے جن کا نام سید الانبیاء حضرت محمدﷺ کے نام نامی پر ہے ۔اللہ تعالیٰ عراقی صاحب کے علم وعمل اور عمر میں برکت فرمائے ۔( آمین)

  • untitled-1
    مختلف اہل علم

    تاریخ نام ہی اس چیز کا ہے کہ اس دنیا میں زندگی گزارنےوالوں کی زندگیوں کو محفوظ کرنا تاکہ تاریخ ساز زندگیاں آئندہ آنے والی نسلوں کےلیے مشعل راہ بن سکیں اور مقصودومنزل آسان ہوجائے۔اور یہ بات بالکل عیاں ہے کہ کسی طے شدہ پروگرام اور نمونے کےمطابق کام کرنا آسان ہوتا ہے۔یہی وجہ ہے کہ پہلی قوموں کے واقعات کو محفوظ کردیا گیا ہے۔اور اللہ تعالیٰ نے قرآن مجید کی تقسیم بھی کچھ اس طرح کی ہے کہ اس میں جنت وجہنم، بعث بعدالموت اور پہلی قوموں انبیاء وصالحین وغیرہ کے تذکرے موجود ہیں۔

    لہذا نیک لوگوں کی خوبیوں  اور جامع کمالات شخصیتوں کے کارناموں کا ذکر سنت ربانی ہے۔اسی بات کو سامنے رکھتے ہوئےمحدثین اور اہل علم نے اس فن میں سینکڑوں کتب تصنیف کی ہیں۔جن میں صحابہ کرام﷢، تابعین و تبع تابعین رحمہم اللہ اجمعین اور بہت سے اہل اللہ کی زندگیوں کے کارنامے ثبت اور محفوظ کردیئے گئے ہیں۔جو ہر وقت لوگوں کےلیے جشمۂ  ہدایت اور مینارہ نور  ہیں۔اسی سنت پر عمل کرتے ہوئے ادارہ  مجلہ المکرم ایک  خصوصی شمارہ  خاندان سلفیہ کے جشم وچراغ حضرت مولانا اسعد محمود سلفی ﷾ کے حکم سے حافظ عبدالمنان نور پوری رحمہ اللہ کی سوانح سے متعلق شائع کررہا ہے۔جس میں حافظ صاحب کی زندگی کے مختلف گوشوں پر قارئین کےلیے معلومات پیش کی جارہی ہیں۔ اور آپ کی خدمات علمیہ کو خراج تحسین پیش کیا جارہا ہے۔خصوصی اشاعت کےسلسلہ میں  جن احباب نے مجلہ کی ادارتی ٹیم کےساتھ اس کی تیار ی میں تعاون فرمایا ہے تہہ دل سے ان کے شکر گزار ہیں۔اور اللہ تعالیٰ سے دعا گو ہیں کہ اللہ انہیں دنیا وآخرت کی بھلائیوں سے نوازے۔آمین ثم آمین یا رب العالمین۔
  • pages-from-hayaat-imam-ahmad-bin-hambal
    محمد ابو زہرہ مصری

    امام احمد بن حنبل﷫( 164ھ -241) بغداد میں پیدا ہوئے ۔ آپ ابتدائی تعلیم حاصل کرنے کے بعد 179ھ میں علم حدیث کے حصول میں مشغول ہوئے جبکہ اُن کی عمر محض 15 سال تھی۔ 183ھ میں کوفہ کا سفر اختیار کیا اور اپنے استاد ہثیم کی وفات تک وہاں مقیم رہے، اِس کے بعد دیگر شہروں اور ملکوں میں علم حدیث کے حصول کی خاطر سفر کرتے رہے۔امام احمد جس درجہ کے محدث تھے اسی درجہ کے فقیہ اورمجتہد بھی تھے۔ حنبلی مسلک کی نسبت امام صاحب ہی کی جانب ہے۔ اس مسلک کا اصل دار و مدار نقل و روایت اور احادیث و آثار پر ہے۔ آپ امام شافعی﷫کے شاگرد ہیں۔ اپنے زمانہ کے مشہور علمائے حدیثمیں آپ کا شمار ہوتا تھا۔ مسئلہ خلق قرآن میں خلیفہ معتصم کی رائے سے اختلاف کی پاداش میں آپ نے کوڑے کھائے لیکن غلط بات کی طرف رجوع نہ کیا۔ آپ کوڑے کھا کھا کر بے ہوش ہو جاتے لیکن غلط بات کی تصدیق سے انکار کر دیتے۔ انہوں نے حق کی پاداش میں جس طرح صعوبتیں اٹھائیں اُس کی بنا پر اتنی ہردلعزیزی پائی کہ وہ لوگوں کے دلوں کے حکمران بن گئے۔ آپ کی عمر کا ایک طویل حصہ جیل کی تنگ و تاریک کوٹھریوں میں بسر ہوا۔ پاؤں میں بیڑیاں پڑی رہتیں، طرح طرح کی اذیتیں دی جاتیں تاکہ آپ کسی طرح خلق قرآنکے قائل ہو جائیں لیکن وہ عزم و ایمان کا ہمالہ ایک انچ اپنے مقام سے نہ سرکا۔ حق پہ جیا اور حق پہ وفات پائی۔ امام صاحب نے 77سال کی عمر میں 12 ربیع الاول214ھ کوانتقال فرمایا۔ اس پر سارا شہر امنڈ آیا۔ کسی کے جنازے میں خلقت کا ایسا ہجوم دیکھنے میں کبھی نہیں آیا تھا ۔ جنازہ میں شرکت کرنے والوں کی تعداد محتاط اندازہ کے مطابق تیرا لاکھ مرد اور ساٹھ ہزار خواتین تھیں۔(وفیات الاعیان : 1؍48) حافظ ابن کثیر﷫ فرماتے ہیں کہ امام صاحب کایہ قول اللہ تعالیٰ نےبرحق ثابت کردیا کہ : ’’ان اہل بدع ،مخالفین سے کہہ دوکہ ہمارے اور تمہارے درمیان فرق جنازے کے دن کا ہے (سیراعلام النبلاء:11؍343)امام صاحب نے کئی تصنیفات یادگار چھوڑیں۔ ان کی سب سے مشہوراور حدیث کی مہتم بالشان کتاب ’’مسنداحمد‘‘ ہے ۔ اس سے پہلےاور اس کے بعد مسانید کے کئی مجموعے مرتب کیے گئے مگر ان میں سے کسی کو بھی مسند احمد جیسی شہرت، مقبولیت نہیں ملی ۔ ۔ مسنداحمد کی اہمیت کی بنا پر ہر زمانہ کے علما نے اس کے ساتھ اعتنا کیا ہےاور یہ نصاب درس میں بھی شامل رہی ہے۔ بہت سے علماء نے مسند احمد کی احادیث کی شرح لکھی بعض نے اختصار کیا بعض نےاس کی غریب احادیث پر کام کیا۔ بعض نے اس کے خصائص پر لکھا اوربعض نےاطراف الحدیث کا کام کیا ۔ مصر کے مشہور محدث احمد بن عبدالرحمن البنا الساعاتی نے الفتح الربانى بترتيب مسند الامام احمد بن حنبل الشيباني کے نام سے مسند احمد کی فقہی ترتیب لگائی اور بلوغ الامانى من اسرار الفتح الربانى کے نام سے مسند احمد پر علمی حواشی لکھے ۔اور شیخ شعیب الارناؤوط   نے علماء محققین کی ایک جماعت کے ساتھ مل کر الموسوعة الحديثية کے نام سے مسند کی علمی تخریج او رحواشی مرتب کیے جوکہ بیروت سے 50 جلدوںمیں شائع ہوئے ہیں۔مسند احمد کی اہمیت وافادیت کے پیش نظر اسے اردو قالب میں بھی ڈھالا جاچکا ہے۔ زیر تبصرہ کتاب’’ حیات امام احمد بن حنبل ‘‘ مصر کے معروف مصنف کتب کثیرہ اور سوانح نگار شیخ محمد ابو زہرہ مصری کی عربی تصنیف کا اردو ترجمہ ہے اس کتاب میں فاضل مصنف نے امام احمد بن حنبل کی حیات خدمات، مسلک وعقیدہ ،امام احمد بن حنبل کا منہج، بیان کرنے کے علاوہ فقہ حنبلی کی اہمیت، امام موصوف کا ائمہ ثلاثہ کے نظریات ومسالک سے اختلافات اور اس کے اسباب، عہد حاضر میں حنبلی مذہب، سعودی حکومت او رحنبلی مذہب جیسے عنوانات کو تفصیل سے بیان کیا ہے۔ کتاب ہذا میں ’’ مصالح‘‘ کےعنوان پر بحث کرتے ہوئے مصنف نے فقہ حنبلی کی جس وسعت کاذکر کیا ہے ۔ اس کامطلب شریعت اور قانون اسلامی کو کھیل بنانا نہیں بلکہ فقہ حنبلی میں مصالح اور سد ذرائع دونوں اصول ساتھ ساتھ چلتے ہیں اوردرحقیقت دونوں ہی کو ضابطے کےطور پر نافذ کرنے سے اعتدال قائم رہتا اور شریعت کامقصود قیام امن وعدل وانصاف پورا ہوتا ہے۔ یہ کتاب اگرچہ بہت سے محاسن کی حامل ہے مگر اس میں بعض جگہ مصنف سے فاش غلطیاں بھی سرزد ہوئی ہیں او ر امام احمد بن حنبل اور محدثین کے بنیادی مسلک کے خلاف بعض مسائل میں انہوں نے اپنی رائے ظاہر کی ہے مثلاً مسئلہ خلق قرآن میں۔ لیکن کتاب کے ناشر شیخ الحدیث مولانا محمدعطاء اللہ حنیف بھوجیانی ﷫ نے ایسے مقامات کی حواشی مین نشان دہی کردی ہے او رمدلل طور پر ثابت کیا ہے کہ اس مذکورہ مسئلہ میں مسلک امام احمد اور محدثین کاہی حق تھا۔ اور معتزلہ کا سراسر باطل تھا۔ ان حواشی سے کتاب کی اہمیت وافادیت میں مزید اضافہ ہوگیا ہے۔ (م۔ا)

  • title-pages-hayat-hafiz-ibne-qayyam-copy
    عبد العظیم اصلاحی

    علامہ ابن قیم ﷫ كا پورا نام محمد بن ابوبكر بن ايوب بن سعد حريز الزرعی الدمشقی شمس الدين المعروف بابن قيم الجوزيہ ہے۔ جوزيہ ايك مدرسہ كا نام تھا ، جو امام جوزى كا قائم كردہ تھا اس ميں آپ كے والد ماجد قيم نگران اور ناظم تھے اور علامہ ابن القيم بھی اس سے ايك عرصہ منسلك رہے۔علامہ ابن القيم 691 ھ میں پيدا ہوئے اور علم وفضل اور ادب واخلاق كے گہوارے ميں پرورش پائى ، آپ نے مذكورہ مدرسہ ميں علوم وفنون كى تعليم وتربيت حاصل كى ، نيز دوسرے علماء سے استفادہ كيا جن ميں شيخ الاسلام ابن تیمیہ كا نام ﷫گرامى سب سے اہم اورقابل ذكر ہے۔متاخرين ميں شيخ الاسلام ابن تیمیہ كے بعد ابن قیم كے پائے كا كوئى محقق نہیں گزرا، آپ فن تفسير ميں اپنا جواب آپ تھے اورحديث وفقہ ميں نہايت گہرى نظر ركھتے تھے، استنباط واستخراج مسائل ميں يكتائے روزگار تھےاور آپ ايك ماہر طبيب بھی تھے۔علمائے طب كا بيان ہے كہ علامہ موصوف نے اپنی كتاب "طب نبوى" ميں جو طبى فوائد، نادر تجربات اور بيش بہا نسخے پیش كيے ہیں ، وہ طبى دنيا ميں ان كى طرف سے ايك ايسا اضافہ ہیں کہ طب كى تاريخ ميں ہمیشہ ياد ركھے جائيں گے۔قاضى برہان الدين كا بيان ہے كہ : ’’اس آسمان كے نیچے كوئى بھی ان سے زيادہ وسيع العلم نہ تھا ۔ ‘‘ علامہ کے رفيق درس حافظ ابن كثير﷫ فرماتے ہیں: ’’ ابن القيم ﷫ نے حديث كى سماعت كى اور زندگی بھر علمى مشغلہ ميں مصروف رہے۔ انہیں متعدد علوم ميں كمال حاصل تھا ۔ خاص طور پر علم تفسير اور حديث وغيرہ ميں غير معمولى دسترس حاصل تھی ، چنانچہ تھوڑے ہی عرصہ ميں يگانہ روزگار بن گئے ۔اپنے استاذ شيخ الاسلام ابن تیمیہ﷫ كے علوم كے صحيح وارث اور ان كى مسند تدريس كے كما حقہ جانشين تھے۔" چنانچہ علامہ موصوف نے اپنے استاذ گرامى كى علمى خدمات اور علمى كارناموں كى توسيع واشاعت ميں غير معمولى حصہ ليا۔انہوں نے مختلف فنون و علوم پر قابل قدر كتابيں تصنيف كى ہیں جن ميں فكر كى گہرائى ، قوت استدلال ، حسن ترتيب، ار جوش بيان پورے طور پر نماياں ہے، ان كتابوں ميں كتاب وسنت كا نور اور سلف كى حكمت و بصيرت موجود ہے۔ آپ کی تصانیف کی تعداد ساٹھ سےزائد ہے ۔ان میں سےمشہور ومعروف زاد المعاد ہے جو کہ اسلامی شریعی مسائل کے حل کرنے میں خاص اہمیت رکھتی ہے ۔ان كى توحيد اتنى خالص اور واضح تھی کہ ان كے دشمنوں نے انہیں ہدف ستم بنانے ميں كوئى دقيقہ اٹھا نہیں رکھا تھا ، انہيں طرح طرح سے تكليفيں دیں گئیں، ان پر ناروا پابندياں عائد كى گئیں، نظر بندى و جلا وطنى كے مصائب سے دوچار كيا گيا، انہيں قيد و بند كى صعوبتوں سے گزارا گيا ليكن ان كے عزم واستقامت ميں ذرہ برابر فرق نہیں آيا۔ زیر تبصرہ کتاب’’ حیات حافظ ابن قیم‘‘ شیخ محمد زہرہ مصری کے شاگرد رشید عبدالعظیم عبدالسلام شرف الدین پروفیسر قاہرہ یونیورسٹی کی عربی تصنیف ’’حياة ابن القيم فقهه و منهجه ‘‘ کا ترجمہ ہےاس کتاب میں مصنف نے امام ابن قیم کی سیرت نویسی کا حق ادا کردیا ہے۔۔امام ابن قیم ﷫ کے مسلک ومذہب ، فقہی اجتہادات او رمخصوص طرز فکر ونظر کے سمیٹنے اور اسے حوالۂ قرطاس کرنے میں بڑی عرق ریزی اور جگرسوزی سے کام لیا ہے ۔ مصنف نے علامہ ابن قیم کے اسلوب نگارش پر بھی قلم اٹھایا اور ذکرکیا ہےکہ آپ کا طرز تحریر سادہ عام فہم مگر دل کش اور جاذب توجہ ہے ۔حیلہ جات کے ابطال میں مصنف نے ابن قیم کے نقطہ نظر کو تفصیلاً بیان کیا اور بتایا ہےکہ حیلہ جات کے جواز کا فتویٰ دینا اسلام میں عظیم فتنہ کو دعوت دینا ہے۔مصنف نے امام ابن قیم کی کثیر وضخیم کتب کو بالاستیعاب پڑھ کرابن قیم کے مخصوص طرز فکر ونظر ک وبڑے بلیغ انداز میں بیان کیا ہے ۔ وطن عزیز کے نامور مترجم کتب کثیرہ پروفیسر غلام احمد حریری﷫ نے اس کتاب کو اردو قالب میں ڈھالا ہے اور بعض مقامات پر حواشی بھی لگائے ہیں ۔(م۔ا)

  • pages-from-seerat-imam-bukhari
    عبد الرحمٰن چیمہ

    امام محمد بن اسماعیل بخاری ﷫ کی شخصیت اور ان کی صحیح بخاری محتاجِ تعارف نہیں۔ آپ امیر االمؤمنین فی الحدیث امام المحدثین کے القاب سے ملقب تھے۔ ان کے علم و فضل ، تبحرعلمی اور جامع الکمالات ہونے کا محدثین عظام او رارباب ِ سیر نے اعتراف کیا ہے امام بخاری ۱۳شوال ۱۹۴ھ؁، بروز جمعہ بخارا میں پیدا ہوئے۔ دس سال کی عمر ہوئی تو مکتب کا رخ کیا۔ بخارا کے کبار محدثین سے استفادہ کیا۔ جن میں امام محمد بن سلام بیکندی، امام عبداللہ بن محمد بن عبداللہ المسندی، امام محمد بن یوسف بیکندی زیادہ معروف ہیں۔ اسی دوران انہوں نے امام عبداللہ بن مبارک امام وکیع بن جراح کی کتابوں کو ازبر کیا اور فقہ اہل الرائے پر پوری دسترس حاصل کر لی۔ طلبِ حدیث کی خاطر حجاز، بصرہ،بغداد شام، مصر، خراسان، مرو بلخ،ہرات،نیشا پور کا سفر کیا ۔ ان کے حفظ و ضبط اور معرفت حدیث کا چرچا ہونے لگا۔ امام بخاری ﷫ کے استاتذہ کرام بھی امام بخاری سے کسب فیض کرتے تھے ۔ آپ کے استاتذہ اور شیوخ کی تعداد کم وبیش ایک ہزار ہے۔ جن میں خیرون القرون کےاساطین علم کےاسمائے گرامی بھی آتے ہیں۔اور آپ کےتلامذہ کی تعداد لاکھوں میں ہے۔ امام بخاری﷫ سے صحیح بخاری سماعت کرنےوالوں کی تعداد 90ہزار کےلگ بھگ تھی ۔امام بخاری﷫ کے علمی کارناموں میں سب سے بڑا کارنامہ صحیح بخاری کی تالیف ہے جس کے بارے میں علمائے اسلام کا متفقہ فیصلہ ہے کہ قرآن کریم   کے بعد کتب ِحدیث میں صحیح ترین کتاب صحیح بخاری   ہے ۔ فن ِحدیث میں اس کتاب کی نظیر نہیں پائی جاتی آپ نے  سولہ سال کے طویل عرصہ میں 6 لاکھ احادیث سے اس کا انتخاب کیا اور اس کتاب کے ابواب کی ترتیب روضۃ من ریاض الجنۃ میں بیٹھ کر فرمائی اور اس میں صرف صحیح احادیث کو شامل کیا ۔امام بخاری ﷫ کی سیر ت پر متعدد اہل علم نے   کتب تصنیف کی ہیں لیکن سب سے عمدہ کتاب   مولانا عبد السلام مبارکپوری کی تصنیف ’’سیرۃ البخاری ‘‘ ہے جو کہ کتاب وسنت ویب سائٹ پر موجود ہے۔ اس کتاب کا عربی ترجمہ ڈاکٹر عبد العلیم بستوی کےقلم سے جامعہ سلفیہ بنارس سے شائع ہوچکا ہے۔ زیر نظرکتاب ’’سیرت امام بخاری﷫‘‘ کو تالیف کرنے کی سعادت شیخ الحدیث مولانا عبدالرحمٰن چیمہ﷾نے حاصل کی بعد ازاں دارالسلام ،لاہور کے شعبہ تحقیق وتصنیف کےسکالرزنے بھی اس میں بیش قیمت اضافے کیے ہیں۔ شیخ الحدیث مولاناحافظ عبدالعزیز علوی ﷾ نے ترمیم واضافہ کے ساتھ ساتھ اس کی نظرثانی کی ہے اور اسی طرح محقق دوراں مولاناارشاد الحق اثری﷾ نےاس میں کچھ حک و اضافہ کےساتھ اس پر ایک جاندار مقدمہ تحریرکیا ہے جس سے اس کتاب اہمیت وافادیت دو چند ہوگئی ہے۔ اس کتاب میں امام بخاری ﷫ کےاساتذہ کی سیرت، اساتذہ کرام، ان کے طبقات، وسعت علمی ، عقائد ونظریات، صحیح بخاری میں احادیث کو نقل وجمع کرنے کی شرائط، دیگر تصانیف اور ان کےاسلوب اور متعلقات وشروح صحیح بخاری کےساتھ ساتھ امام بخاری﷫ کی فقیہانہ بصیرت، محدثانہ صلاحیت ،امام موصوف کے معاصرین اور تلامذہ وغیرہ کا تذکرہ   بڑے یگانہ اور جدید اسلوب میں پیش کیا گیا ہے۔ (م۔ا)

  • title-pages-seerat-e-bukharira
    عبد الرشید عراقی

    امام محمد بن اسماعیل بخاری ﷫ کی شخصیت اور ان کی صحیح بخاری محتاجِ تعارف نہیں۔ آپ امیر االمؤمنین فی الحدیث امام المحدثین کے القاب سے ملقب تھے۔ ان کے علم و فضل ، تبحرعلمی اور جامع الکمالات ہونے کا محدثین عظام او رارباب ِسیر نے اعتراف کیا ہے امام بخاری ۱۳ شوال ۱۹۴ھ؁ ، بروز جمعہ بخارا میں پیدا ہوئے۔ دس سال کی عمر ہوئی تو مکتب کا رخ کیا۔ بخارا کے کبار محدثین سے استفادہ کیا۔ جن میں امام محمد بن سلام بیکندی، امام عبداللہ بن محمد بن عبداللہ المسندی، امام محمد بن یوسف بیکندی زیادہ معروف ہیں۔اسی دوران انہوں نے امام عبداللہ بن مبارک امام وکیع بن جراح کی کتابوں کو ازبر کیا اور فقہ اہل الرائے پر پوری دسترس حاصل کر لی۔ طلبِ حدیث کی خاطر حجاز، بصرہ،بغداد شام، مصر، خراسان، مرو بلخ،ہرات،نیشا پور کا سفر کیا ۔ ان کے حفظ و ضبط اور معرفت حدیث کا چرچا ہونے لگا۔ ان کے علمی کارناموںم میں سب سے بڑا کارنامہ صحیح بخاری کی تالیف ہے جس کے بارے میں علمائے اسلام کا متفقہ فیصلہ ہے کہ قرآن کریم کے بعد کتب ِحدیث میں صحیح ترین کتاب صحیح بخاری ہے ۔ فن ِحدیث میں اس کتاب کی نظیر نہیں پائی جاتی آپ نے سولہ سال کے طویل عرصہ میں 6 لاکھ احادیث سے اس کا انتخاب کیا اور اس کتاب کے ابواب کی ترتیب روضۃ من ریاض الجنۃ میں بیٹھ کر فرمائی اور اس میں صرف صحیح احادیث کو شامل کیا ۔امام بخاری ﷫ کی سیر ت پر متعدد اہل علم نے کتب تصنیف کی ہیں لیکن سب سے عمدہ کتاب مولانا عبد السلام مبارکپوری کی تصنیف ''سیرۃ البخاری '' ہے جو کہ کتاب وسنت ویب سائٹ پر موجود ہے ۔ اس کتاب کا عربی ترجمہ ڈاکٹر عبد العلیم بستوی کےقلم سے جامعہ سلفیہ بنارس سے شائع ہوچکا ہے ۔زیر نظر کتاب مشہور ومعروف سیرت نگار مولاناعبدالرشید عراقی ﷾ کی تصنیف ہے جسے انہوں نے تین ابواب میں تقسیم کیا ہے ۔باب اول میں امام بخاری کے حالات زندگی از ولادت تاوفات مختصراً درج کئے ہیں ۔ باب دو م میں ان کے گیارہ مشہور استاتذہ او رسات مشہور تلامذہ کے حالات قلم بند کئے ہیں ۔او رباب سوم میں امام صاحب کی تصانیف اور ان کی لاجواب کتاب '' صحیح بخاری '' پر روشنی ڈالنے کے علاوہ اس باب میں برصغیر پاک وہند کےعلمائے حدیث نے ''صحیح بخاری''کی جو خدمت کی ہے اس کابھی مختصراً ذکر کیا ہے۔(م۔ا)

     

    نوٹ:

    محدث فورم میں اس کتاب پر تبصرہ کرنے کے لیے یہاں کلک کریں

     

  • title-pages-seerat-ul-bukhari
    عبد السلام مبارکپوری
    صحیح بخاری کو قرآن مجید کے بعد علوم اسلامیہ کی سب سے صحیح ترین کتاب ہونے کا شرف حاصل ہے۔ ظاہر سی بات ہے ایسی کتاب مرتب کرنے والا بھی کوئی عام شخص نہیں ہوسکتا۔ اس کی سوانح پر نظر دوڑانے سے اندازہ ہوتا ہے کہ واقعی وہ بہت خاص تھا۔ یہی وجہ ہے کہ ہر دور میں امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ کی سیرت و سوانح اور فضائل و مناقب پر بہت کچھ لکھا جاتا رہا۔ ان کی صحیح بخاری پر بھی بہت سارا علمی کام ہوا اور ہو رہا ہے۔ امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور صحیح بخاری پر اب تک اردو میں جو کام ہوا ان میں مولانا عبدالسلام مبارکپوری کی زیر نظر کتاب بہت نمایاں ہے۔ کتاب کی اہمیت کے پیش نظر ہم اس پر مولانا سید سلیمان ندوی کاتبصرہ نقل کیے دیتے ہیں۔ وہ لکھتے ہیں: امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ کو عالم اسلام میں جو اہمیت حاصل ہے، محتاج بیان نہیں۔ ضرورت تھی کہ امام ممدوح کی سیرت، تصنیفات اور اجتہادات پر ہماری زبان میں کوئی مستقل کتاب لکھی جائے۔ ہم نہایت خوش ہیں کہ مولانا عبدالسلام صاحب مبارک پوری نے اس فرض کو نہایت عمدگی اور خوبی کےساتھ ادا کیا ہے۔ سلاست بیان، طرز استدلال، استقصائے واقعات، تحقیق مسائل، تفصیل مطالب ہرچیز میں ان کے قلم میں اردو حکیمانہ مذہبی لٹریچر کی بہترین تقلید کی ہے۔ ہم اس کو اپنے معیار تصنیف کے مطابق سمجھتے ہیں۔سوانح نگار نے حصہ اول میں امام صاحب کے حالات و واقعات جمع کیے ہیں اور دوسرے میں ان کی تصنیفات و اجتہادات پر نقد و تقریظ لکھی ہے۔(ع۔م)

    نوٹ:
    محدث فورم میں اس کتاب پر تبصرہ کرنے کے لیے یہاں کلک کریں
  • title-2
    حافظ عبد الرحمٰن مدنی

    اجتہاد ہر دور کی اہم ضرورت رہا ہے اور اس کی اہمیت بھی ہمیشہ اہل علم کے ہاںمسلم رہی ہے۔ اجتہاد اسلام کا ایک ایسا تصور ہے جو اسے نت نئی نیرنگیوں سے آشنا کر کے فکری جمود سے آزادی بخشتا ہے۔ اللہ کے رسول ﷺ کے زمانہ میں آپﷺ کی حیثیت اللہ احکم الحاکمین کی طرف سے صدق و وفا کے علمبردار مرشد الٰہی کی تھی۔ صحابہ اکرام ﷢ کو جو بھی مسئلہ درپیش آتا تو اس سے متعلق الہامی رہنمائی حاصل کرنے کے لیے وہ اللہ کے رسول ﷺ کی طرف رجوع کرتے تھے اور کتاب وسنت کی روشنی سےپوری طرح مطمئن ہو جاتے، بعض اوقات اگر وحی نازل نہ ہوتی توآپ شریعت الٰہی کی تعلیمات میں غور وفکر کرتے اور یہ فکر ونظر آپﷺ کے ملکہ نبوت کے حامل ہونے کے باوصف ہر طرح کے مسائل کی عقدہ کشائی کرتا، جسے لغوی طور پر تو 'اجتہاد ' کہا جا سکتا ہے، لیکن ہوائے نفس سے پاک ہونے اور ملکہ نبوت کی ممارست کی بدولت یہ سنت رسولﷺ ہی کہلاتا۔ کیونکہ یہ اللہ تعالیٰ کی عطا کردہ عصمت اور الہامی تصویب کا نتیجہ ہوتا تھا۔ چونکہ خلفاے راشدین کے دور میں اسلامی خلافت کی حدود اس قدر وسیع ہو گئی تھیں کہ اس دور کی سپر پاورز 'روم وفارس ' بھی زیر نگیں ہو کر خلافت اسلامیہ تین براعظموں ایشیاء، افریقہ اور یورپ تک پھیل چکی تھی ۔تو ہزاروں نئے مسائل بھی سامنے آتے رہے جن کو حل کرنے کے لیے اجتہاد کی اہمیت روز برروز بڑھنے لگی تو تابعین میں اجتہاد کے دو مکاتب فکر 'اہل الاثر' اور 'اہل الرائے' کے نام سے معروف ہوئے۔ اہل الاثر کے سرخیل مشہور محدث اور فقیہ تابعی سعید بن مسیب کو قرار دیا جاتا ہے جن کا حلقہ اثر زیادہ تر حرمین شریفین تھا۔ ۔ دوسری طرف حدیث وفقہ کے ایک بڑے امام ، ابراہیم نخعی تھے۔جو کچھ نئے اسالیب اجتہاد کے حامل ہونے کی بنا پر 'اہل الرائے' کے امام بن گئے۔ اس کے بعد امام شافعینے اجتہادی اسالیب کو منضبط کرنے کے لیے اصول حدیث وفقہ کے موضوع پر معرکۃ الآراء کتاب 'الرسالۃ' لکھ کر اجتہادی اسالیب کو پختہ بنیادوں پر استوار کرنے کی کوشش کی۔ امام شافعی دونوں حلقوں کے اکابرین سے استفادہ کے باوجود بنیادی طور پر 'اہل الاثر' مکتب فکر پر ہی گامزن رہے ۔تیسری صدی ہجری کے حدیث وفقہ کے اجل امام بخاری کا تعلق بنیادی طور پر 'اہل الاثر' مکتب فکر سے ہے، تاہم انہوں نے اپنی تصنیف 'الجامع الصحیح' میں جہاں روایت و درایت کے اعتبار سے اعلیٰ درجہ کی صحیح احادیث پر استدلال کی بنیاد رکھی وہاں صحیح بخاری کی ترتیب وتدوین میں اجتہاد وفقہ کو اتنی اہمیت دی کہ ان کی کتاب کے بارے میں یہ مشہور ہو گیا : "فقه البخاري في تراجم أبوابه" (امام بخاری کی فقاہت ان کے ابواب کی ترجمانی میں ہے۔)بلاشبہ امام بخاری متقدمین ائمہ سلف کےاس دور کا ایک منارہ نور ہیں جس کی ضیا پاشی نہ صرف اس دور میں چہارسو پھیلی بلکہ ان کی جامع صحیح کو اتنی مقبولیت اور ہردل عزیزی ملی کہ اب تک اسلامی مشرق و مغرب میں اسے جملہ اسلامی مکاتبِ فکر کےہاں نہایت اعلیٰ مقام کی حامل کتاب تسلیم کیا جاتا ہے ۔ کیا یہ اعزاز کم ہے کہ اسے اُسوہ حسنہ کی مبارک نقشہ کشی کرنےوالی تالیفات میں سے 'أصح الکتب بعد کتاب الله' کےلقب سے یاد کیاجاتاہے؟موصوف کی تالیف کی عظمت کا یہ مظہربھی منہ بولتا ثبوت ہے کہ اس کے بے شمار پہلوؤں پرہزاروں جلدوں پر مشتمل سیکڑوں شروحات لکھی گئیں اور اب تک لکھی جارہی ہیں او راسلامی جامعات کے آخر ی مرحلوں میں اس کی تدریس کرنے والے کو 'شیخ الحدیث' کےاعلیٰ ترین منصب کاحامل سمجھا جاتا ہے۔اجتہاد کے بار ے میں امت مسلمہ نئے دور میں افراط وتفریط کا شکار ہے۔اگرچہ کتاب وسنت کی جامعیت اور اجتہاد کی وسعتوں کی بدولت ہر قسم کے قدیم وجدید مسائل کا بہترین حل پیش کیا جا سکتا ہے زیر نظر مقالہ أصول الاجتهاد في الجامع المسند الصحیح المختصر من أمور رسول الله ﷺ وسُننه وأیامه''وہ اہم علمی وتحقیقی کاوش ہے جسے مولانا حافظ عبدالرحمن مدنی ﷾ (رئیس جامعہ لاہورالاسلامیہ) نے جامعہ کراچی میں پی ایچ ڈی کے لیے پیش کیا ۔ امام بخاری  کی کتاب کا نام 'الجامع الصحیح' ہے جو اس کی جامعیت کی طرف اشارہ کر رہا ہے۔ امام صاحب نے اس کتاب میں اپنے دور کے ہر قسم کے شعبہ زندگی سے متعلقہ مسائل کو متنوع ابواب قائم کر کے ائمہ سلف کی تائید کے ساتھ صحیح ترین احادیث سے پیش فرمایا ہے۔ امام بخاری نے مقاصد شریعت کی روشنی میں کتاب وسنت کے اطلاق کے متنوع اسالیب کو اجتہاد قرار دیا ہے اور ان مناہج کی نسبت صحابہ﷢ اور سلف صالحین کی طرف کی ہے۔ پس اگر ہم خلفائے راشدین کی اجتہادی بصیرت سے مستفید ہونا چاہتے ہیں اور ان بنیادوں پر اہل علم کی اجتہادی تربیت کرنا چاہتے ہیں کہ جن بنیادوں پر صحابہ کی اجتہادی تربیت ہوئی تھی اور اس اجتہادی ذوق وملکہ کو بیدار کرنا چاہتے ہیں جو صحابہ میں موجود تھا تو اس کے لیے صحیح بخاری کا امام بخاری کے اصول اجتہاد کی روشنی میں ایک علمی مطالعہ از بس ضروری ہے۔ مقالہ ہٰذا کلیۃً ہرگزکوئی بدیعی شے نہیں ہے بلکہ امام بخاریکے 'اُصولِ اجتہاد' کے پہلو سے اس میں جو کچھ مواد جمع کیاگیاہے وہ اس جامع صحیح کی سابقہ سینکڑوں شروحات کی خوشہ چینی کےعلاوہ جابجا ان خصوصی تبصروں پر بھی مشتمل ہے جو مقالہ نگار کی اپنی تدریسی وتحقیقی زندگی کےدوران اس کےسامنے آتےر ہے۔ انگلینڈ سے ایک صاحب کی فرمائش پر اسے کتاب وسنت ویب سائٹ پرآن لائن کیا گیا ہے۔ موصوف مقالہ نگار محترم ڈاکٹر حافظ عبد الرحمن مدنی ﷾ مجتہد العصر حافظ عبد اللہ محدث روپڑی او ر شيخ التفسير حافظ محمد حسین روپڑی (والد مقالہ نگار)کے تربیت یافتہ صاحب بصیرت جید عالم دین ہیں( موصوف كو محدث روپڑی کے علاوہ شیخ ابن باز ،علامہ ناصر الدین البانی، شیخ حماد الانصاری ، شیخ عطیہ سالم ،مولانا عبد الغفار حسن ﷭ وغیرہ جیسی عظیم شخصیات سے شرفِ تلمذ حاصل ہے ۔)او راپنے خاندان کے علم وعمل کی روایات کو بر قرار رکھے ہوئے ہیں اور اسی لیے ان کا احترام ا ن کے اکابر کی طرح لوگوں کے دلوں میں موجود ہے ۔ موصوف حافظ عبد اللہ محدث روپڑی کی وفات کے بعد حصول تعلیم کےلیے مدینہ یونیورسٹی جانے سےقبل جامعہ اہل حدیث (مسجد قدس)چوک دالگراں کے ناظم اورہفت روزہ تنظیم ا ہل حدیث کے مدیر رہے ۔سعودی عرب سے واپس آکر 1970ء میں ایک علمی وتحقیقی مجلہ ماہنامہ محدث کا اجراء کیا جوکہ اہل علم کے ہاں مقبول ترین رسالہ ہے ۔اور مدرسہ رحمانیہ وجامعہ لاہور الاسلامیہ کے نام سے دینی درسگاہ قائم کی ۔حافظ صاحب کی کوششوں سے جامعہ لاہور الاسلامیہ ،لاہور اب ماشاء اللہ یونیورسٹی کا درجہ اختیار کر چکا ہے۔اب تک سیکڑوں طلباء اس درسگاہ سے فیض یاب ہو چکے ہیں جن میں مولانا خالدسیف شہید ،مولانا عطاء الرحمن ثاقب شہید ، مولانا قاری عبد العلیم بلال ،مولانا محمد شفیق مدنی، ڈاکٹر حافظ محمداسحاق زاہد(مؤلف زاد الخطیب)، مولانا عبد القوی لقمان ، ڈاکٹر حافظ محمد انو ر(اسلامی یونیورسٹی اسلام آباد )، ڈاکٹر نصیر اختر(جامعہ کراچی) سید توصیف الرحمن راشد ی(معروف خطیب واعظ) وغیر ہم قابل ذکر ہیں ۔اسی طرح حافظ صاحب نے 1982میں عصر ی یونیورسٹیوں کے فاضلین اوروکلاء او رجج حضرات کی تربیت کے لیے المعہد العالی للشریعۃ والقضاء کےنام سے ایک ادارہ قائم کیا جس سے ہائی کورٹ وسپریم کورٹ کے بیسیوں وکلاء اور ججز کے علاوہ علماء حضرا ت نے بھی تربیت حاصل کی ان میں پروفیسر ظفر اقبال ، حافظ محمد سعید(امیر جماعۃ الدعوۃ،پاکستان ) ، جسٹس خلیل الرحمن خاں(سابق چیف جسٹس لاہور ہائی کورٹ، جسٹس رفیق تارڈ(سابق صدر پاکستان )،جسٹس منیر مغل وغیرہ قابل ذکر ہیں ۔تقریبا 25 سال قبل حافظ صاحب نےخواتین کی تعلیم وتربیت کے لیے اسلامک انسٹیٹیوٹ کا آغاز کیا اب ماشاء اللہ لاہور بھر میں اسلامک انسٹیٹیوٹ کی کئی شاخیں موجود ہیں جس سےہزاروں خواتین مستفید ہوچکی ہیں انسٹی ٹیوٹ کے تمام امور کی نگر انی حافظ صاحب کی اہلیہ محترمہ کے ذمے ہیں ۔1992 میں حافظ صاحب نے جامعہ لاہور الاسلامیہ کے تحت شیخ القراء محترم قاری محمد ابراہیم میر محمدی ﷾(فاضل مدینہ یونیورسٹی )کی معیت میں کلیۃ القرآن والعلوم الاسلامیہ کا آغاز کیاماشاء آج ملک بھر کے اہم مدارس ومساجد میں اس کلیہ کے فاضل تجویدوقراءات کی تعلیم دینے میں مصروف ہیں اور اسی طرح ملک کے مایہ ناز نواجوان قراء قاری ابراہیم صاحب کے شاگرد اور اسی کلیۃ القرآن کے فاضل ہیں مثلا قاری صہیب احمد میر محمدی، قاری حمزہ مدنی ،قاری عبد السلام عزیزی ،قاری محمد عارف بشیر وغیرہ ۔محدث فور م ، کتاب وسنت اور دیگر ویب سائٹس بھی حافظ کی زیر پرستی چل رہی ہیں جس کی نگرانی موصوف کے بیٹے ڈاکٹر حافظ انس نضر (فاضل مدینہ یونیورسٹی ) کرتے ہیں ۔6 سال قبل اس ویب سائٹ کا آغاز ہوا ۔ دنیا بھر میں صحیح اسلامی منہج پر کام کرنے والی اردو ویب سائٹس میں مقبول ترین ویب سائٹ ہے ہر روز بلا ناغہ اس میں ایک کتا ب اپ لوڈ کی جاتی ہے اب تک تقریبا 2000کتب آن لائن ہوچکی ہیں دنیا بھر سے تقریبا 10000 یومیہ لوگ اس سے مستفید ہوتے ہیں۔ (ولله الحمد) محترم حافظ صاحب کے چاروں بیٹے علم قدیم وعلم جدید کا حسین امتزاج ہیں ۔چاروں نے باقاعدہ درس ِنظامی کی مکمل تعلیم حاصل کی اور اسلامی علوم اور دینی اداروں کی خدمت کے ذریعے ماشاء اللہ خاندان کی علمی ودینی روایات کے امین بن گئے ہیں اور سب نے اہم موضوعات پر پی ایچ ڈی کر کے عصری جامعات سے ڈاکٹریٹ کی اسناد بھی حاصل کر رکھی ہیں ۔اور دین اسلام کی ترویج واشاعت میں مصروف عمل ہیں ۔ دین اسلام کی اشاعت وترویج کے سلسلے میں اللہ تعالی حافظ صاحب اور ان کے خاندان کی مساعی جمیلہ کو شرف قبولیت سے نوازے اور انہیں تندرستی وصحت عطا فرمائے (آمین)(م۔ا)

     

    نوٹ:

    محدث فورم میں اس کتاب پر تبصرہ کرنے کے لیے یہاں کلک کریں

    مکمل مقالہ ڈاؤن لوڈ کرنے کے لیے یہاں کلک کریں

  • title-page-usool-al-ijtihad-fil-jamia-al-sahih-lil-imam-al-bukhari-1
    حافظ عبد الرحمٰن مدنی

    اجتہاد ہر دور کی اہم ضرورت رہا ہے اور اس کی اہمیت بھی ہمیشہ اہل علم کے ہاںمسلم رہی ہے۔ اجتہاد اسلام کا ایک ایسا تصور ہے جو اسے نت نئی نیرنگیوں سے آشنا کر کے فکری جمود سے آزادی بخشتا ہے۔ اللہ کے رسول ﷺ کے زمانہ میں آپﷺ کی حیثیت اللہ احکم الحاکمین کی طرف سے صدق و وفا کے علمبردار مرشد الٰہی کی تھی۔ صحابہ اکرام ﷢ کو جو بھی مسئلہ درپیش آتا تو اس سے متعلق الہامی رہنمائی حاصل کرنے کے لیے وہ اللہ کے رسول ﷺ کی طرف رجوع کرتے تھے اور کتاب وسنت کی روشنی سےپوری طرح مطمئن ہو جاتے، بعض اوقات اگر وحی نازل نہ ہوتی توآپ شریعت الٰہی کی تعلیمات میں غور وفکر کرتے اور یہ فکر ونظر آپﷺ کے ملکہ نبوت کے حامل ہونے کے باوصف ہر طرح کے مسائل کی عقدہ کشائی کرتا، جسے لغوی طور پر تو 'اجتہاد ' کہا جا سکتا ہے، لیکن ہوائے نفس سے پاک ہونے اور ملکہ نبوت کی ممارست کی بدولت یہ سنت رسولﷺ ہی کہلاتا۔ کیونکہ یہ اللہ تعالیٰ کی عطا کردہ عصمت اور الہامی تصویب کا نتیجہ ہوتا تھا۔ چونکہ خلفاے راشدین کے دور میں اسلامی خلافت کی حدود اس قدر وسیع ہو گئی تھیں کہ اس دور کی سپر پاورز 'روم وفارس ' بھی زیر نگیں ہو کر خلافت اسلامیہ تین براعظموں ایشیاء، افریقہ اور یورپ تک پھیل چکی تھی ۔تو ہزاروں نئے مسائل بھی سامنے آتے رہے جن کو حل کرنے کے لیے اجتہاد کی اہمیت روز برروز بڑھنے لگی تو تابعین میں اجتہاد کے دو مکاتب فکر 'اہل الاثر' اور 'اہل الرائے' کے نام سے معروف ہوئے۔ اہل الاثر کے سرخیل مشہور محدث اور فقیہ تابعی سعید بن مسیب کو قرار دیا جاتا ہے جن کا حلقہ اثر زیادہ تر حرمین شریفین تھا۔ ۔ دوسری طرف حدیث وفقہ کے ایک بڑے امام ، ابراہیم نخعی تھے۔جو کچھ نئے اسالیب اجتہاد کے حامل ہونے کی بنا پر 'اہل الرائے' کے امام بن گئے۔ اس کے بعد امام شافعینے اجتہادی اسالیب کو منضبط کرنے کے لیے اصول حدیث وفقہ کے موضوع پر معرکۃ الآراء کتاب 'الرسالۃ' لکھ کر اجتہادی اسالیب کو پختہ بنیادوں پر استوار کرنے کی کوشش کی۔ امام شافعی دونوں حلقوں کے اکابرین سے استفادہ کے باوجود بنیادی طور پر 'اہل الاثر' مکتب فکر پر ہی گامزن رہے ۔تیسری صدی ہجری کے حدیث وفقہ کے اجل امام بخاری کا تعلق بنیادی طور پر 'اہل الاثر' مکتب فکر سے ہے، تاہم انہوں نے اپنی تصنیف 'الجامع الصحیح' میں جہاں روایت و درایت کے اعتبار سے اعلیٰ درجہ کی صحیح احادیث پر استدلال کی بنیاد رکھی وہاں صحیح بخاری کی ترتیب وتدوین میں اجتہاد وفقہ کو اتنی اہمیت دی کہ ان کی کتاب کے بارے میں یہ مشہور ہو گیا : "فقه البخاري في تراجم أبوابه" (امام بخاری کی فقاہت ان کے ابواب کی ترجمانی میں ہے۔)بلاشبہ امام بخاری متقدمین ائمہ سلف کےاس دور کا ایک منارہ نور ہیں جس کی ضیا پاشی نہ صرف اس دور میں چہارسو پھیلی بلکہ ان کی جامع صحیح کو اتنی مقبولیت اور ہردل عزیزی ملی کہ اب تک اسلامی مشرق و مغرب میں اسے جملہ اسلامی مکاتبِ فکر کےہاں نہایت اعلیٰ مقام کی حامل کتاب تسلیم کیا جاتا ہے ۔ کیا یہ اعزاز کم ہے کہ اسے اُسوہ حسنہ کی مبارک نقشہ کشی کرنےوالی تالیفات میں سے 'أصح الکتب بعد کتاب الله' کےلقب سے یاد کیاجاتاہے؟موصوف کی تالیف کی عظمت کا یہ مظہربھی منہ بولتا ثبوت ہے کہ اس کے بے شمار پہلوؤں پرہزاروں جلدوں پر مشتمل سیکڑوں شروحات لکھی گئیں اور اب تک لکھی جارہی ہیں او راسلامی جامعات کے آخر ی مرحلوں میں اس کی تدریس کرنے والے کو 'شیخ الحدیث' کےاعلیٰ ترین منصب کاحامل سمجھا جاتا ہے۔اجتہاد کے بار ے میں امت مسلمہ نئے دور میں افراط وتفریط کا شکار ہے۔اگرچہ کتاب وسنت کی جامعیت اور اجتہاد کی وسعتوں کی بدولت ہر قسم کے قدیم وجدید مسائل کا بہترین حل پیش کیا جا سکتا ہے زیر نظر مقالہ أصول الاجتهاد في الجامع المسند الصحیح المختصر من أمور رسول الله ﷺ وسُننه وأیامه''وہ اہم علمی وتحقیقی کاوش ہے جسے مولانا حافظ عبدالرحمن مدنی ﷾ (رئیس جامعہ لاہورالاسلامیہ) نے جامعہ کراچی میں پی ایچ ڈی کے لیے پیش کیا ۔ امام بخاری  کی کتاب کا نام 'الجامع الصحیح' ہے جو اس کی جامعیت کی طرف اشارہ کر رہا ہے۔ امام صاحب نے اس کتاب میں اپنے دور کے ہر قسم کے شعبہ زندگی سے متعلقہ مسائل کو متنوع ابواب قائم کر کے ائمہ سلف کی تائید کے ساتھ صحیح ترین احادیث سے پیش فرمایا ہے۔ امام بخاری نے مقاصد شریعت کی روشنی میں کتاب وسنت کے اطلاق کے متنوع اسالیب کو اجتہاد قرار دیا ہے اور ان مناہج کی نسبت صحابہ﷢ اور سلف صالحین کی طرف کی ہے۔ پس اگر ہم خلفائے راشدین کی اجتہادی بصیرت سے مستفید ہونا چاہتے ہیں اور ان بنیادوں پر اہل علم کی اجتہادی تربیت کرنا چاہتے ہیں کہ جن بنیادوں پر صحابہ کی اجتہادی تربیت ہوئی تھی اور اس اجتہادی ذوق وملکہ کو بیدار کرنا چاہتے ہیں جو صحابہ میں موجود تھا تو اس کے لیے صحیح بخاری کا امام بخاری کے اصول اجتہاد کی روشنی میں ایک علمی مطالعہ از بس ضروری ہے۔ مقالہ ہٰذا کلیۃً ہرگزکوئی بدیعی شے نہیں ہے بلکہ امام بخاریکے 'اُصولِ اجتہاد' کے پہلو سے اس میں جو کچھ مواد جمع کیاگیاہے وہ اس جامع صحیح کی سابقہ سینکڑوں شروحات کی خوشہ چینی کےعلاوہ جابجا ان خصوصی تبصروں پر بھی مشتمل ہے جو مقالہ نگار کی اپنی تدریسی وتحقیقی زندگی کےدوران اس کےسامنے آتےر ہے۔ انگلینڈ سے ایک صاحب کی فرمائش پر اسے کتاب وسنت ویب سائٹ پرآن لائن کیا گیا ہے۔ موصوف مقالہ نگار محترم ڈاکٹر حافظ عبد الرحمن مدنی ﷾ مجتہد العصر حافظ عبد اللہ محدث روپڑی او ر شيخ التفسير حافظ محمد حسین روپڑی (والد مقالہ نگار)کے تربیت یافتہ صاحب بصیرت جید عالم دین ہیں( موصوف كو محدث روپڑی کے علاوہ شیخ ابن باز ،علامہ ناصر الدین البانی، شیخ حماد الانصاری ، شیخ عطیہ سالم ،مولانا عبد الغفار حسن ﷭ وغیرہ جیسی عظیم شخصیات سے شرفِ تلمذ حاصل ہے ۔)او راپنے خاندان کے علم وعمل کی روایات کو بر قرار رکھے ہوئے ہیں اور اسی لیے ان کا احترام ا ن کے اکابر کی طرح لوگوں کے دلوں میں موجود ہے ۔ موصوف حافظ عبد اللہ محدث روپڑی کی وفات کے بعد حصول تعلیم کےلیے مدینہ یونیورسٹی جانے سےقبل جامعہ اہل حدیث (مسجد قدس)چوک دالگراں کے ناظم اورہفت روزہ تنظیم ا ہل حدیث کے مدیر رہے ۔سعودی عرب سے واپس آکر 1970ء میں ایک علمی وتحقیقی مجلہ ماہنامہ محدث کا اجراء کیا جوکہ اہل علم کے ہاں مقبول ترین رسالہ ہے ۔اور مدرسہ رحمانیہ وجامعہ لاہور الاسلامیہ کے نام سے دینی درسگاہ قائم کی ۔حافظ صاحب کی کوششوں سے جامعہ لاہور الاسلامیہ ،لاہور اب ماشاء اللہ یونیورسٹی کا درجہ اختیار کر چکا ہے۔اب تک سیکڑوں طلباء اس درسگاہ سے فیض یاب ہو چکے ہیں جن میں مولانا خالدسیف شہید ،مولانا عطاء الرحمن ثاقب شہید ، مولانا قاری عبد العلیم بلال ،مولانا محمد شفیق مدنی، ڈاکٹر حافظ محمداسحاق زاہد(مؤلف زاد الخطیب)، مولانا عبد القوی لقمان ، ڈاکٹر حافظ محمد انو ر(اسلامی یونیورسٹی اسلام آباد )، ڈاکٹر نصیر اختر(جامعہ کراچی) سید توصیف الرحمن راشد ی(معروف خطیب واعظ) وغیر ہم قابل ذکر ہیں ۔اسی طرح حافظ صاحب نے 1982میں عصر ی یونیورسٹیوں کے فاضلین اوروکلاء او رجج حضرات کی تربیت کے لیے المعہد العالی للشریعۃ والقضاء کےنام سے ایک ادارہ قائم کیا جس سے ہائی کورٹ وسپریم کورٹ کے بیسیوں وکلاء اور ججز کے علاوہ علماء حضرا ت نے بھی تربیت حاصل کی ان میں پروفیسر ظفر اقبال ، حافظ محمد سعید(امیر جماعۃ الدعوۃ،پاکستان ) ، جسٹس خلیل الرحمن خاں(سابق چیف جسٹس لاہور ہائی کورٹ، جسٹس رفیق تارڈ(سابق صدر پاکستان )،جسٹس منیر مغل وغیرہ قابل ذکر ہیں ۔تقریبا 25 سال قبل حافظ صاحب نےخواتین کی تعلیم وتربیت کے لیے اسلامک انسٹیٹیوٹ کا آغاز کیا اب ماشاء اللہ لاہور بھر میں اسلامک انسٹیٹیوٹ کی کئی شاخیں موجود ہیں جس سےہزاروں خواتین مستفید ہوچکی ہیں انسٹی ٹیوٹ کے تمام امور کی نگر انی حافظ صاحب کی اہلیہ محترمہ کے ذمے ہیں ۔1992 میں حافظ صاحب نے جامعہ لاہور الاسلامیہ کے تحت شیخ القراء محترم قاری محمد ابراہیم میر محمدی ﷾(فاضل مدینہ یونیورسٹی )کی معیت میں کلیۃ القرآن والعلوم الاسلامیہ کا آغاز کیاماشاء آج ملک بھر کے اہم مدارس ومساجد میں اس کلیہ کے فاضل تجویدوقراءات کی تعلیم دینے میں مصروف ہیں اور اسی طرح ملک کے مایہ ناز نواجوان قراء قاری ابراہیم صاحب کے شاگرد اور اسی کلیۃ القرآن کے فاضل ہیں مثلا قاری صہیب احمد میر محمدی، قاری حمزہ مدنی ،قاری عبد السلام عزیزی ،قاری محمد عارف بشیر وغیرہ ۔محدث فور م ، کتاب وسنت اور دیگر ویب سائٹس بھی حافظ کی زیر پرستی چل رہی ہیں جس کی نگرانی موصوف کے بیٹے ڈاکٹر حافظ انس نضر (فاضل مدینہ یونیورسٹی ) کرتے ہیں ۔6 سال قبل اس ویب سائٹ کا آغاز ہوا ۔ دنیا بھر میں صحیح اسلامی منہج پر کام کرنے والی اردو ویب سائٹس میں مقبول ترین ویب سائٹ ہے ہر روز بلا ناغہ اس میں ایک کتا ب اپ لوڈ کی جاتی ہے اب تک تقریبا 2000کتب آن لائن ہوچکی ہیں دنیا بھر سے تقریبا 10000 یومیہ لوگ اس سے مستفید ہوتے ہیں۔ (ولله الحمد) محترم حافظ صاحب کے چاروں بیٹے علم قدیم وعلم جدید کا حسین امتزاج ہیں ۔چاروں نے باقاعدہ درس ِنظامی کی مکمل تعلیم حاصل کی اور اسلامی علوم اور دینی اداروں کی خدمت کے ذریعے ماشاء اللہ خاندان کی علمی ودینی روایات کے امین بن گئے ہیں اور سب نے اہم موضوعات پر پی ایچ ڈی کر کے عصری جامعات سے ڈاکٹریٹ کی اسناد بھی حاصل کر رکھی ہیں ۔اور دین اسلام کی ترویج واشاعت میں مصروف عمل ہیں ۔ دین اسلام کی اشاعت وترویج کے سلسلے میں اللہ تعالی حافظ صاحب اور ان کے خاندان کی مساعی جمیلہ کو شرف قبولیت سے نوازے اور انہیں تندرستی وصحت عطا فرمائے (آمین)(م۔ا)

     

    نوٹ:

    محدث فورم میں اس کتاب پر تبصرہ کرنے کے لیے یہاں کلک کریں

    مکمل مقالہ ڈاؤن لوڈ کرنے کے لیے یہاں کلک کریں

  • pages-from-qasas-e-bukhari
    محمد ظفر اقبال

    انسانی فطرت ہے کہ وہ کہانیوں اور داستانوں کو پڑھ ،سن کر اپنے اندر ایک باطنی تأثر محسوس کرتا ہے۔ایک سلیم الفطرت شخص اپنے ارد گرد پیش آمدہ حادثات وسانحات میں غور کرتا ہے اور اس کے مبادیات ومقدمات اور ان پر مرتب ہونے والے نتائج کا تتبع کرتا ہے،تاکہ مثبت ومنفی پہلوؤں کو واشگاف کرے ۔اور پھر اپنے ہدف ومقصد کے حصول میں وہ ان منفی پہلوؤں سے اجتناب کرتا ہے اور مثبت پہلوؤں کو اختیار کرتا ہے۔یوں اپنے مقصد میں اکثر کامیاب ہی رہتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ قرآن مجید اور حدیث نبوی ﷺ میں بھی فطرتِ انسانی کے اس تارکو چھیڑا گیا ہے۔حدیث نبوی ﷺ کی سب سے صحیح ترین کتاب امام بخاری﷫ کی بخاری شریف ہے،جسے قرآن مجید کے بعد سب سے زیادہ صحیح ہونے کا شرف حاصل ہے۔اور اس میں صحیح احادیث پر مبنی متعدد قصص بیان کئے گئے ہیں۔زیر تبصرہ کتاب" قصص بخاری " کے مولف مولانا محمد ظفر اقبال صاحب نے صحیح بخاری میں منقول انہی قصص وواقعات میں سے 250 دو سو پچاس اہم واقعات کو الگ سے جمع فرما دیا ہے،تاکہ ایک سلیم الفطرت انسان ان کی روشنی میں نصیحت حاصل کرے اور اپنے نفس کی اصلاح کرنے کوشش کرے۔کتاب کی افادیت کے پیش نظر اسے قارئین کی خدمت میں پیش کیا جا رہا ہے۔اللہ تعالی مولف کی اس محنت کو قبول فرمائے اور ہمیں ان واقعات سے اپنی اصلاح کرنے کی توفیق دے۔آمین(راسخ)

  • title-pages-mashhoor-muhaddiseen-karam-copy
    محمد رفیق بلند شہری

    خدمت ِحدیث وسنت ایک عظیم الشان اور بابرکت کام ہے۔ جس میں  ہر مسلمان کو کسی نہ کسی سطح پر ضرور حصہ ڈالنا چاہیے ،تاکہ اس کا شمار کل قیامت کےدن خدامِ سنت نبوی میں سے ہو۔اور یہ ایک ایسا اعزاز ہے کہ جس کی قدر وقیمت کااندازہ اللہ تعالیٰ کے حضور پیش ہونے پر ہی ہوسکتا ہے۔ احادیثِ رسول ﷺ کو محفوظ کرنے کے لیے کئی پہلوؤں اور اعتبارات سے اہل علم نے خدمات انجام دی ہیں۔ تدوینِ حدیث کا آغاز عہد نبوی سے ہوا او ر صحابہ وتابعین کے دور میں پروان چڑھا ۔ ائمہ محدثین کےدور میں خوب پھلا پھولا ۔مختلف ائمہ محدثین نے احادیث کے کئی مجموعے مرتب کئے۔محدثین کرام نے احادیث کی جمع وتدوین تک ہی اپنی مساعی کو محدود نہیں رکھا ،بلکہ فنی حیثیت سے ان کی جانچ پڑتال بھی کی ،اور اس کے اصول بھی مرتب فرمائے۔اس کے ساتھ ساتھ ہی انہوں نے کتب حدیث کو بھی مختلف طبقات میں تقسیم کر دیا اور اس کی خاص اصطلاحات مقرر کر دیں۔ علم کی دنیا میں حفاظت حدیث ایک ایسا عظیم کارنامہ ہت جسے اغیار بھی خراجِ عقیدت پیش کرتے ہیں۔ مشہور مستشرق پروفیسر مارگریتھ کا یہ اعتراف کہ"علم حدیث پر مسلمانوں کا فخر کرنا بجا ہے" بلا سبب نہیں۔ مستشرق گولڈ زیہرنے علماء حدیث کی خدما ت کا اعتراف ان الفاظ میں کیاہے:"محدثین نے دنیائے اسلام کے ایک کنارے سے دوسرے کنارے تک اندلس سے وسطِ ایشیاء تک کی خاک چھانی اور شہر شہر ، گاؤں گاؤں ،چپہ چپہ کا پیدل سفر کیا تا کہ حدیثیں جمع کریں اور اپنے شاگردوں میں پھیلائیں ، بلا شبہ" رجال"بہت زیادہ سفر کرنے والے اور" جوال"بہت زیادہ گھومنے والے جیسے القاب کے یہی لوگ مستحق ہیں۔ زیر تبصرہ کتاب "مشہور محدثین کرام"محترم مولانا محمد رفیق بلند شہری صاحب کی تصنیف ہے ۔جس میں انہوں نے انہی محدثین کرام کی سوانح   حیات ،ان کی خدمات اور تصنیفات وغیرہ کو تفصیل سے جمع  فرما  دیا ہے۔اللہ تعالی مولف کی اس کاوش کو اپنی بارگاہ میں قبول فرمائے اور ان کے میزان حسنات میں اضافہ فرمائے۔آمین(راسخ)

  • pages-from-maqaalaat-e-muhaddis-mubarikpuri
    عبد الرحمن مبارکپوری

    مولانا محمد عبدالرحمٰن مبارکپوری ﷫ شیخ الکل فی الکل میاں سید نذیر حسین محدث دہلوی کے چند مامور شاگردوں میں سے ایک ہیں ۔آپ اپنے وقت کےبہت بڑے محدث،مفسر، محقق، مدرس ، مفتی،ادیب اور نقاد تھے ۔ اللہ تعالیٰ نے انہیں علم کی غیر معمولی بصیرت وبصارت،نظر وفکرکی گہرائی ،تحقیق وتنقیح میں باریک بینی اور ژرف نگاہی عطاء فرمائی تھی ۔زہد وتقوی ،اخلاص وللّٰہیت،حسن عمل اور حسن اخلاق کے پیکر تھے۔یہ ایک حقیقت ہےکہ’’برصغیر پاک وہند میں علم حدیث‘‘ کی تاریخ تب تلک مکمل نہیں ہوتی جب تک اس میں مولانا عبدالرحمٰن محدث مبارکپوری ﷫ کی خدمات اور ان کا تذکرہ نہ ہو۔جامع الترمذی کی شرح تحفۃ الاحوذی ان ہی کی تصنیف ہے۔ اس شرح سے ان کو برصغیر کے علاوہ عالم ِاسلام میں شہرت ومقبولیت حاصل ہوئی۔ حدیث اور تعلیقات حدیث پر ان کو عبور کامل تھا۔ تدریس میں آپ کو خاص ملکہ حاصل تھا۔ تصنیف وتالیف کا بھی عمدہ ذوق رکھتے تھے۔اس شرح کے علاوہ بھی دو درجن سے زائد مختلف عناوین پر ان کی تحقیقی کاوشیں صحیفۂ قرطاس پر مرتسم ہیں ۔مولانا حبیب الرحمن قاسمی (حنفی) فرماتے ہیں کہ ’’مولانا عبدالرحمن محدث مبارکپوری کو اللہ تعالیٰ نے علم وعمل سے بھر پور نوازا تھا۔ دقت نظر‘ حدت ذہن‘ ذکاوت طبع اور کثرت مطالعہ کے اوصاف وکمالات نے آپ کو جامع شخصیت بنا دیا تھا‘ خاص طور سے علم حدیث میں تبحر وامامت کا درجہ رکھتے تھے۔ روایت کے ساتھ درایت کے مالک اور جملہ علوم آلیہ وعالیہ سے یگانہ روزگار تھے۔ قوت حافظہ بھی خدا داد تھی۔ بینائی سے محروم ہو جانے کے بعد بھی درسی کتابوں کی عبارتیں زبانی پڑھا کرتے تھے اور ہر قسم کے فتاویٰ لکھوایا کرتے تھے۔ مولانا اپنی تصانیف میں مجتہدانہ شان رکھتے تھے۔ فقہاء خاص طور سے احناف کے بارے میں نہایت شدید رویہ رکھتے تھے اور بڑی شد ومد سے ان کا رد کرتے تھے۔ مگر یہ معاملہ صرف تصنیف تک محدود تھا جو سراسر علمی وتحقیقی تھا۔‘‘ (تذکرہ علمائے اعظم گڑھ ص ۱۴۵) زیر تبصرہ کتاب’’مقالات محدث مبارکپوری﷫ ‘‘ مولانا محمد عبد الرحمٰن مبارکپوری﷫ کی نایاب تصانیف کا مجموعہ ہے ۔اس میں مولانامبارکپوری مرحوم کی آٹھ تصانیف کے علاوہ ان نادر مکتوبات اور شیخ الھلالی﷫ کا وہ قصیدہ جو انہوں نے حضرت مبارکپوری کےمحامد ومناقب میں لکھا   شامل اشاعت ہے۔ اس مجموعہ مقالات کی مراجعت ادارۃالعلوم الاثریہ ،فیصل کے ریسرچ سکالر مولانا حافظ خبیب احمد ﷾ نےکی ہے او ر اور مقدور بھرحوالہ جات کا تقابل بھی کیا ہے۔اور آیات مبارکہ اوراحادیث وآثار کی مختصر تخریج بھی کردی ہے۔ ان مقالات کو اس قدر عمدہ طریقے سےشائع کرنے سعادت محقق دور اں مولانا ارشاد الحق اثری ﷾ نے حاصل کی ہے ۔اللہ تعالیٰ ان کی اس عمدہ کاوش اور ان کی تمام تحقیقی وعلمی، تصنیفی وتدریسی خدمات کو قبول فرمائے ۔ آمین) (م۔ا)

  • ناصر الدین البانی

    اللہ تعالیٰ نے انسان کی فطرت کے اندر نیکی اور بدی کے پہچاننے کی قابلیت اور نیکی کو اختیار کرنے اور بدی سے بچنے کی خواہش ودیعت کردی ہے ۔تمام انبیاء کرام نے   دعوت کے ذریعے پیغام الٰہی کو لوگوں تک پہنچایا اوران کو شیطان سے بچنے اور رحمنٰ کے راستے   پر چلنے کی دعوت دی ۔دعوتِ دین اور احکام شرعیہ کی تعلیم دینا شیوۂ پیغمبری ہے ۔تمام انبیاء و رسل کی بنیادی ذمہ داری تبلیغ دین اور دعوت وابلاغ ہی رہی ہے۔ دعوت الیٰ اللہ میں انبیاء ﷩ کو قائدانہ حیثیت حاصل ہے ۔ ان کی جدوجہد کو زیر بحث لائے بغیر دعوت کا کوئی تذکرہ مکمل نہیں ہوتا۔امت مسلمہ کو دیگر امم سے فوقیت بھی اسی فریضہ دعوت کی وجہ  سے  ہے۔ اور دعوتِ دین ایک اہم دینی فریضہ ہے ،جو اہل اسلام  کی اصلاح ، استحکام دین اور دوام شریعت کا مؤثر ذریعہ ہے۔ لہذا ہر مسلمان پر لازم ہے کہ اسے شریعت کا جتنا علم ہو ،شرعی احکام سے جتنی واقفیت ہو اوردین کے جس قدر احکام سے آگاہی ہو وہ  دوسر وں تک پہنچائے۔ علماو فضلا اور واعظین و مبلغین   پر مزید ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ فریضہ دعوت کو دینی وشرعی ذمہ داری سمجھیں اور دعوت دین کے کام کو مزید عمدہ طریقے سے سرانجام دیں۔دین کا پیغامِ حق ہر فرد تک پہنچانے کے لیے ضروری ہے کہ دعوت کے کام کو متحرک کیا جائے، دعوت الی اللہ بنیادی طور پر ایک عملی پروگرام ہے جو تعلیم وتعلم ،تربیت واصلاح کی عملی کشمکش پر مشتمل ہے۔ زیر نظر کتاب ’’ یہ ہے ہماری دعوت‘‘ محدث العصر علامہ ناصر الدین البانی ﷫ کے   خطاب کی کتاب صورت ہے ۔جسے شیخ ابومعاذ خالد بن عبد العال نے کیسٹ سے سن کر احاطۂ تحریر میں لائے ہیں ۔ شیخ البانی کے خطاب میں بیان کی گئی احادیث کی تخریج وتعلیق کا فریضہ نہایت باریک بینی اور عمدگی سےسرانجام دتیے ہوئے اسے کتابی شکل میں شائع کرنے کے لیے تیار کیا ہے۔

ای میل سبسکرپشن

محدث لائبریری کی اپ ڈیٹس بذریعہ ای میل وصول کرنے کے لئے ای میل درج کر کے سبسکرائب کے بٹن پر کلک کیجئے۔

 

ایڈوانس سرچ

موضوعاتی فہرست

رجسٹرڈ اراکین

آن لائن مہمان

محدث لائبریری پر اس وقت الحمدللہ 1888 مہمان آن لائن ہیں ، لیکن کوئی رکن آن لائن نہیں ہے۔

ایڈریس

       99-جے ماڈل ٹاؤن،
     نزد کلمہ چوک،
     لاہور، 54700 پاکستان

       0092-42-35866396، 35866476، 35839404

       0092-423-5836016، 5837311

      KitaboSunnat@gmail.com

      بنک تفصیلات کے لیے یہاں کلک کریں