• title-pages-inglistan-men-islam
    ڈاکٹرصہیب حسن

    اسلام ایک دین فطرت ہے اور ایک سلیم الفطرت انسان کی جائے قرار صرف اور صرف اسلام کی آغوش میں ہے۔ یہ مختصر سا رسالہ برطانیہ میں اسلام کی آمد اور پھیلاؤ کی داستان پر مشتمل ہے۔ محترم ڈاکٹر صہیب حسن جو عرصہ دارز سے برطانیہ میں اسلام کی آبیاری میں مصروف ہیں، نے بھرپور محنت اور لگن سے ’انگلسان میں اسلام‘ کے نام سے مفید معلومات مہیا کی ہیں۔ برطانیہ کی آبادی اس وقت چھ کروڑ کے قریب ہے جبکہ ان میں اہلیان اسلام کی تعداد بیس لاکھ سے تجاوز کر رہی ہے۔ برطانیہ کے ہر بڑے شہر میں ایک بڑی مسجد یا اسلامک سنٹر پایا جاتا ہے اور دینی تعلیم کے متعدد مدارس قال اللہ و قال الرسول کی صدائیں بلند کر رہے ہیں۔ لیکن یہ سب کیسے ہوا؟ اس کی مجموعی تصویر آپ کو زیر نظر رسالہ میں نظر آئے گی۔

     

  • title-pages-ahle-hadith-aur-siasat-copy
    نذیر احمد رحمانی

    متحدہ  ہندوستان کی سب سے پہلی وہ انقلابی تحریک  جس کی   با بت یہ کہنا  بالکل صحیح ہے وہ اپنے  نصب العین اور مقاصد کے لحاظ سے صحیح معین میں دینی بھی تھی اور سیاسی بھی ۔ وہ سیدین  شہیدین کی تحریک  جہاد تھی۔ اور اس میں شبہہ نہیں کہ  اس تحریک کے قائدین اور اس کے متبعین ومعاونین میں  احناف اور اہل حدیث دونوں مسلک  کے افراد شامل تھے ۔لیکن اس سے بھی انکار نہیں کیا جاسکتاکہ اس تحریک کوچلانےاوراس کو ایک عرصہ تک باقی رکھنے کے لیے  اہل حدیثوں کی جانی  او رمالی قربانیاں  نمایاں شان رکھتی  ہیں۔ بالخصوص بالاکوٹ میں شہادت کا  حادثہ پیش آجانےکے بعد تواس کے جھنڈے کو اونچا رکھنے کی سعادت جن بزرگوں  کو حاصل ہوئی وہ  صادق پور   (پٹنہ)  کے اہل حدیث ہی تھے ۔یہاں تک  کہ انگریز حکومت کے دورِ استبداد میں جب  اس تحریک کا ظاہری سطح پرباقی رکھنا دشوار ہوگیا تو وہ اہل حدیث ہی تھے  جنکے سینوں میں اس کے شرارے سلگتے رہے ۔اور انگریزی  حکومت  کےخلاف  ملک  میں جب کبھی  کوئی شورش برپا  ہوئی  او رکوئی سیاسی تحریک چلائی گئی تو اہل حدیث اپنے تناسب آبادی کے لحاظ سےبرابر  اس میں  شریک ہوتے رہے ۔متحدہ ہندوستان کی کوئی ایسی انقلابی تحریک  نہیں بتائی جاسکتی جس  میں  اہل حدیث افراد شامل نہ رہے  ہو ں ۔مگر تاریخ  کے ساتھ  بعض لوگوں نے  بے  انصافی اور تنگ نظر ی کا مظاہرہ کیا کہ اہل حدیث کی جہادی اور سیاسی خدمات کو چھپانے کی کوشش کی  گئی۔اتنا ہی نہیں کہ متعصب تاریخ نگار ان کا ذکر  نہیں کرتے  بلکہ کہنے والوں نےیہاں تک کہا  کہ ہندوستان کی تحریک  آزادی اور ملک  کی سیاسی زندگی میں جماعت اہل کا کوئی کردار  یا کوئی  حصہ نہیں  ۔زیر نظر کتاب ’’ اہل  حدیث اور سیاست ‘‘دار الحدیث رحمانیہ  ،دہلی  کی ایک  فاضل شخصیت  مولانا نذیر  احمد رحمانی ﷫ کی تصنیف ہے  جو ان مضامین کا مجموعہ  ہے   جوانہوں نے   اہل  حدیثوں کے خلاف کیے جانے والے اس پروپگنڈے    کے رد  میں’’اہل حدیث اور سیاست‘‘ کے عنوان سے  مسلسل کئی اقساط میں  تحریر کیے تو ان مضامین کے حق میں  بہت  سے  اہل علم اور اصحاب ذوق حضرات نے صدائے تحسین بلند کی ۔ احباب کے  اصرار اور مطالبے  پر  جامعہ سلفیہ بنارس کے  شبعہ دار الترجمہ والتالیف نے اسے  کتابی صورت میں  شائع کیا ہے ۔یہ کتاب بڑی فکر انگیز ،جامع او رمدلل کتاب ہے  ۔ اس  سے تحریک حریت واستخلاص وطن کے وہ گوشے  نمایاں ہو کر سامنے آگئے ہیں جن پر  غلط پروپیگنڈوں کا دبیز پردہ ڈال دیا گیا تھا۔اللہ تعالی ٰ  مصنف  مرحوم  کی اس کاوش کو  قبول فرمائے (آمین)  (م۔ا  )

    نوٹ:

    محدث فورم میں اس کتاب پر تبصرہ کرنے کے لیے یہاں کلک کریں

  • title-pages-barr-e-sagheer-mein-islam-key-awwaleen-nakoosh
    محمد اسحاق بھٹی
    تاریخ اور جغرافیہ کی قدیم عربی کتب کےمطالعے سےاندازہ ہوتا ہے کہ خطہ برصغیر جہاں علم و فضل کے اعتبار سے انتہائی سرسبز و شاداب ہے وہیں اسے یہ شرف بھی حاصل ہے کہ اس میں اصحاب رسول صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لائے، تابعین اور تبع تابیعین نے اس سرزمین پر قال اللہ و قال الرسول کی صدائیں بلند کیں۔ زیر نظر کتاب میں انھی مقدس ہستیوں کا تذکرہ کیا گیا ہے جو برصغیر میں تشریف لائیں۔ جس میں پچیس صحابہ کرام، بیالیس تابعین اور اٹھارہ تبع تابعین کا تذکرہ کیا گیا ہے اور ان کے وہ حالات بیان کیے گئے ہیں جو برصغیر سے متعلق مصنف کے علم و مطالعہ میں آئے۔ مولانا اسحاق بھٹی ادیب آدمی ہیں ان کے بیان کردہ تاریخی واقعات میں بھی ادب کی گہری چاشنی ہے۔ تمام حالات و واقعات حتی المقدور باحوالہ بیان کیے گئے ہیں۔ (ع۔م)

    نوٹ:
    محدث فورم میں اس کتاب پر تبصرہ کرنے کے لیے یہاں کلک کریں
  • title-pages-barre-sagheer-main-ahle-hadith-ki-awwaliyat
    محمد اسحاق بھٹی
    اوّلیات اور اوائل کی اہمیت بطور خاص کارِ خیر  میں  مسلم ہے   قرآن میں  ارشاد باری تعالی ہے  السبقون الاولون من  المهاجرین والانصار اور اسی طرح حدیث میں  وارد  اوّلیات کا  احاطہ بعض ائمۂ محدثین نے  اپنی مستقل تصانیف اور بعض نے  اپنی کتابوں کےابواب میں  ضمناً کیا ہے  اوّلیات کا موضوع دراصل تاریخ وجغرافیہ سے متعلق ہے کہ فلاں نےفلاں  کام فلاں جگہ سب سے پہلے انجام دیا ۔اوّلیات کے مصنفین میں  کسی  نے  حدیث واثر میں  وارد اوّلیات کو ا پنی  کتاب کا موضوع بنایا ،کسی نے عام معلومات اور جنرل نالج کے طور پر مختلف  میدانہائے عمل کی اوّلیات کو جمع کیا اور کسی  نے مخصوس علاقے اور حضرات کی اوّلیات کو یک جا کیا ہے  اس سلسلے میں   عربی  زبان  میں  ابو ہلال العسکری کی  الاوائل اور  جلال الدین سیوطی  کی    الوسائل في معرفة الاوائل ‘‘ اور عبد اللہ نشمی  کی کتاب ’’ موسوعة الاوائل التاريخية قابل ذکر ہیں ۔زیر نظر کتاب ’’بر صغیر  میں اہل کی اوّلیات ‘‘معروف  مصنف کتب کثیرہ  ذہبی زماں  مؤرخ اہل حدیث  مولانا  محمد اسحاق بھٹی ﷾ کی تصنیف ہے  جس میں   انہوں برصغیر میں اہل حدیث کی  نوقسم کی اوّلیات کی نشاندہی کی  ہے  جس میں  اختصار اور جامعیت کا حسین  امتزاج  پایا جاتا ہے  اردور زبان میں  اس  موضوع پر اپنی  نوعیت کی یہ پہلی کتاب ہے  اللہ تعالی  مولانا بھٹی صاحب کی خدمات کو قبول فرمائے اور انہیں   صحت وتندورستی  والی زندگی  عطا فرمائے  (آمین)(م۔ا)

    نوٹ:
    محدث فورم میں اس کتاب پر تبصرہ کرنے کے لیے یہاں کلک کریں

     

  • title-pages-bralwiat-tareekh-o-aqaid
    علامہ احسان الہی ظہیر
    شہید اسلام علامہ احسان الہیٰ ظہیر رحمۃ اللہ علیہ کی یہ تصنیف بھی باقی تصانیف کی طرح قوت استدلال اور اسلامی حمیت وغیرت کی آئینہ دار ہے ۔تعلیم کے ساتھ ساتھ بریلوی تعلیمات کی نشرو اشاعت اور مقبولیت میں اگر چہ بہت کمی آئی ہے مگر اس کا ایک نقصان یہ بھی ہوا ہے کہ جدید طبقہ مذہب سے دور ہو جاتا چلا گیا ۔جدید تعلیم یافتہ گروہ نے جب اسلام کے نام پر خرافات اور بدعات کا ارتکاب ہوتے ہوئے دیکھا تو اس نے تحقیق کے بجائے یہ گمان کر لیا کہ شاید مذہب اسلام اسی کا نام ہے ۔چنانچہ بریلوی افکار نے نئی نسل کو اسلام سے دور کر کے الحاد و لادینیت کی ٖآغوش میں پھینک دیا ان حالات میں کسی ایسی کتاب کی اشد ضرورت تھی جو نئی نسل اور جدید تعلیم یافتہ طبقے کو یہ بتلاتی کہ وہ شرکیہ امور اور خرافات و بدعات ،جنہیں وہ اپنے گرد دیکھ رہے ہیں ،ان کا ارتکاب اگرچہ مذہب کے نام پر ہو رہا ہے مگر کتاب وسنت کی  پاکیزہ تعلیمات سے ان کا کوئی تعلق نہیں ۔علامہ شہید کی تحریروں کی ایک نمایاں خصوصیت یہ ہے کہ وہ جو بات بیان کرتے ہیں سند اور حوالے سے کرتے ہیں اس کتاب میں بھی یہی انداز اختیار کیا گیا ہے ۔امید ہے کہ غیر جانبداری سے اس کتاب کا مطالعہ کیا جائے گا ،جس سے یقیناً حق کو پہچاننے میں مدد ملے گی ۔ان شاء اللہ

  • title-pages-bain-ul-aqwami-taluqaat
    ڈاکٹر وہبہ الزحیلی
    جدید دنیا میں بین الاقوامی تعلقات کی بنیاد کاتعین اور اس کے قواعد و ضوابط کی تشکیل تو کچھ ہی عرصہ پہلے ہوئی مگر اسلام نے قرآن مجید میں جگہ جگہ ’یا ایہا الناس‘ کے خطاب سے آج سے پندریاں صدیاں قبل ہی اس کی طُرح ڈال دی تھی۔ اسلام کا نظام بین الاقوامی تعلقات زبانی جمع خرچ کی بجائے ٹھوس حقائق، صدیوں کے تجربات اور عملی کامیابی کے ساتھ نمایاں اور ممتاز رہا ہے۔ اس موضوع پر ایک وسیع اور ضخیم لٹریچر اس کا دستاویزی سرمایہ ہے۔ ڈاکٹر وحبہ زحیلی نے اسی موضوع پر ایک ضخیم کتاب ’العلاقات الدولیۃ فی الاسلام‘ کے نام سے لکھی۔ جس کا اردو ترجمہ مولانا حکیم اللہ نے زیر نظر کتاب کی صورت میں کیا۔ ڈاکٹر وحبہ زہیلی کی یہ کتاب اسلام کے بین الاقوامی تعلقات کے نظام پر ایک قابل قدر کاوش ہے جس میں اسلامی قواعد و ضوابط کا جدید بین الاقوامی قانون کے ساتھ موازنہ بھی شامل ہے۔ یہ کتاب بنیادی طور پر ایک تمہید اور دو ابواب پر مشتمل ہے۔ پہلے باب میں حالت جنگ میں بین الاقوامی تعلقات کا تذکرہ ہے۔ اس میں پانچ مباحث کے تحت جنگ کے حالات، اس کی ابتدا اور انتہا اور قواعد و ضوابط کا بیان ہے جبکہ دوسرا باب حالت امن میں بین الاقوامی تعلقات کے اصول و ضوابط پر مشتمل ہے۔ اس میں متعدد مباحث کے تحت اسلام کے مزاج امن، دارالاسلام اور دارالحرب  کی تقسیم کی منطق اور بین الاقوامی تعلقات کے قیام کے اصول و ضوابط اور عالم اسلام کے علمی تجربات کی تفصیل موجود ہے۔ جدید بین الاقوامی قانون کے حوالے سے اس کتاب میں قارئین کے لیے بہت کچھ ہے۔(ع۔م)

    نوٹ:
    محدث فورم میں اس کتاب پر تبصرہ کرنے کے لیے یہاں کلک کریں
  • title-pages-tareekh-ibne-khalidoonpart-1
    علامہ عبدالرحمن ابن خلدون

    کسی بھی معاشرے کی تعمیر کے لیے یہ عنصر خصوصی اہمیت کا حامل ہے کہ معاشرہ اپنی تاریخی روایات سے سبق سیکھتا رہے۔ تاریخ ہی اس بات سے پردہ اٹھاتی ہے کہ کن اسباب کی بناء پر ایک قوم ترقی کرتی ہے کس قسم کے نقائص کی وجہ سے ایک قوم زبوں حالی کا شکار ہو جاتی ہے۔ ’تاریخ ابن خلدون‘ کی تیسری جلد کا پہلا حصہ آپ کے سامنے ہے جس میں اسلامی تاریخ کے نہایت درخشاں دور کو صفحہ قرطاس پر بکھیرا گیا ہے۔ علامہ عبدالرحمن ابن خلدون نے نہایت خوبصورتی کے ساتھ زمانہ قبل ازاسلام کے واقعات کو مختصراً قلمبند کرنے کے بعد ولادت رسول صلی اللہ علیہ وسلم سے لے کر وفات تک کے تمام قابل ذکر واقعات کو بیان کیا ہے۔  اس کے بعد خلفائے راشدین کے زریں عہد خلافت پر روشنی ڈالی گئی ہے اس میں خلفائے راشدین کی زندگیوں، ان کے دور میں ہونے والی فتوحات اور مسلمانوں کے کارناموں کو پوری تفصیل و توضیح کے ساتھ بیان کیا گیا ہے۔ اس حصے کے ترجمے کے لیے حکیم احمد حسین الہ آبادی کی خدمات حاصل کی گئی ہیں اور ترتیب و تبویب کے فرائض شبیر حسین قریشی نے بخوبی نبھائے ہیں۔

     

     

  • pages
    علامہ عبدالرحمن ابن خلدون

    ’تاریخ ابن خلدون‘ کی گذشتہ جلد میں ممالیک بحریہ کی مصرو شام پر متحدہ سلطنت کے حالات اور سقوط بغداد کے بعد مسلمانوں کے دوبارہ عروج و ترقی کے احوال شامل تھے۔ زیر نظر دسویں حصہ میں ممالیک بحریہ کی سلطنت کے خاتمے کی داستان درج کی گئی ہے۔ علامہ ابن خلدون نے اپنے مخصوص اندا ز میں ممالیک جراکسہ کی سلطنت، یمن کے رسول شاہی سلاطین، تاتاری چنگیز خانی سلاطین اور خاندانی دوشی خان کی سلطنت سے متعلق حقائق بیان کرتے ہوئے بلاد روم کے حکام اور بنوارتنا کی حکومت اور ترکی میں آل عثمان کی سلطنت کے آغاز پر تفصیلی بحث کی ہے۔

     

  • pages
    علامہ عبدالرحمن ابن خلدون

    ’تاریخ ابن خلدون‘ کا گیارہواں حصہ آپ کے سامنے ہے۔ تاریخ کا یہ حصہ دوسرے حصوں سے اس اعتبار سے تفوق رکھتا ہے کہ اس میں ابن خلدون نے جوکچھ لکھا ہے اس میں ان کا اپنا مشاہدہ، تجربہ اور تحقیق شامل ہے۔ ابن خلدون نے اپنی زندگی کے آخری شب و روز مصر اور افریقہ کے دوسرے علاقوں میں بسر کئے تھے اور وہیں وفات پائی تھی یہ تاریخ وہاں کی قوموں اورحکمرانوں کے حالات و واقعات سے عبارت ہے۔ اس میں ان تمام خاندانوں کے حالات مندرج ہیں جنہوں نے اپنی حکومتیں شمالی افریقہ کے مختلف علاقوں میں قائم کی تھیں۔ اگرچہ یہ  حکمراں اورقبائل دوسرے حکمرانوں کی طرح پر شکوہ اور پرچشم نہیں تھے لیکن ان کے ہاتھوں بعض ایسے کارنامے انجام پائے جو اسلامی دور کی عظمت کی یاد دلاتے رہیں گے۔

     

  • pages
    علامہ عبدالرحمن ابن خلدون

    اس وقت آپ کے سامنے ’تاریخ ابن خلدون‘ کی بارہویں اور آخری جلد ہے ۔ جس میں علامہ ابن خلدون نے350ھ سے800ھ تک دنیائے عرب میں پائے جانے والے ان قبیلوں کے سربراہوں اور ان کی قائم شدہ حکومتوں کا حال بیان کیا ہےجن کو مؤرخین نے تاریخ میں بت کم جگہ دی ہے۔ علامہ ابن خلدون کواس میدان میں دوسرے مؤرخین سے اس اعتبار سے بھی امتیازی حیثیت حاصل ہے کہ اس نے مشرق وسطی اور شمالی افریقہ کا سفر کیا تھا وہاں کے رہنے والوں سے ملاقاتیں کی تھیں۔ سلاطین اور حاکموں کے درباروں میں شریک ہوا تھا اس لیے جو معلومات اس کو مہیا ہو سکتی تھیں دوسروں کے لیے ممکن نہ تھا یہی وجہ ہے کہ اس قسم کے بیانات ہر قسم کے شکوک و شبہات سے بالاتر ہیں۔

     

  • title-pages-tareekh-ibne-khalidoon-part-2
    علامہ عبدالرحمن ابن خلدون

    ’تاریخ ابن خلدون‘ کے گذشتہ حصہ میں رسول صلی اللہ علیہ وسلم اور خلفائے راشدین کی زندگی کے مختلف گوشےواکرتے ہوئے تاریخی حقائق سے نقاب کشائی گئی تھی۔ ’تاریخ ابن خلدون‘ کی زیر مطالعہ جلد میں خلفائے راشدین کے دور خلافت کے بعد 41 ھجری میں حضرت حسن کی صلح اور حضرت معاویہ کی خلافت عامہ سے لے کر 132ھ تک کے مکمل حالات کو قلمبند کیا گیا ہے۔ ہمارے ہاں عام طور پر خلافت راشدہ کے بعد قائم ہونے والی 91 سالہ  خلافت کو مسخ کر کے ایک مخصوص رنگ میں پیش کیا جاتا ہے۔ لیکن علامہ ابن خلدون کی تاریخ کے زیر نظر حصہ کے مطالعہ کےبعد اندازہ ہوتا ہے کہ درحقیقت یہ زمانہ ہماری تاریخ کا اہم ترین دور ہے اور یہ زمانہ تمدن آفرینی اور کشور کشائی کے اعتبار سے بہترین زمانہ ہے۔ کتاب میں اس دور حکمرانی میں پیش آنے والےتمام تر واقعات و سانحات کوغیر جانبداری کےساتھ سپرد قلم کیا گیا ہے۔

     

  • pages
    علامہ عبدالرحمن ابن خلدون

    132ھ میں مروان بن الحکم کی اولاد میں سے آخری فرماں روا مروان ثانی کو قتل کر دیا گیا اس کے قتل کے ساتھ مروانی دور حکومت اپنے اختتام کو پہنچا اور عباسی خلفاء کا دورشروع ہوا۔ ’تاریخ ابن خلدون‘ کے اس حصہ کی ابتدا آل مروان سے بنو عباس کی طرف خلافت کی منتقلی سے ہوتی ہے۔ کس طرح اقتدار مروانی خلفاء کے ہاتھوں سے نکل کر عباسی خلفاء میں آیا اور عباسی خلافت کن حالات میں قائم ہوئی اور کیسے قائم ہوئی ، کن کن مؤثرات نے کام کیا، کون کونسی تحریکیں چلائی گئیں ان سب حقائق سے آگاہی حاصل ہوگی ’تاریخ ابن خلدون‘ کےاس حصہ سے۔ آپ جہاں یہ دیکھ سکیں گے کہ خلافت بنی عباس کن حالات اور کن اسباب کی بناء پر قائم ہو سکی وہاں آپ سے وہ اسباب بھی پوشیدہ نہ رہ سکیں گے جو کسی حکومت کے زوال کو ایک فیصلہ قضاء و قدر کی طرح ضروری بنا دیتے ہیں۔

     

  • pages
    علامہ عبدالرحمن ابن خلدون

    ’تاریخ ابن خلدون‘ کا یہ حصہ خلافت بنی عباس کے ساتھ منسلک ہے پہلے  حصے میں خلافت بنو عباس کی ابتدا سے لے کر احمد بن متوکل معتمد علی اللہ کے عہد تک کی مکمل داستان رقم کی گئی تھی۔ کتاب کا یہ حصہ احمد بن موفق معتضد باللہ کی خلافت سے لے کر  بنی عباس کے آخری خلیفہ احمد بن ابو بن علی حسن حاکم بامر اللہ کی خلافت تک کے تمام حالات و واقعات پر مشتمل ہے۔ علامہ ابن خلدون نے زوال بغداد کی ابتداء سے اس وقت تک کے واقعات، حوادث اور عبر کو اپنی خداد داد قابلیت اور حقیقت شناسی کے ساتھ بیان کیا ہے جبکہ زوال بغداد اپنی انتہا کو پہنچ کر ہلاکو خان کی صورت میں بغداد آ پہنچا اور خواجہ نصیر الدین کی آتش انتقام بھڑک کر سوا پانچ سو سال پرانے تہذیب و تمدن کو سیاہ کر گئی۔

     

  • pages
    علامہ عبدالرحمن ابن خلدون

    افریقہ کے نامور گورنر اور یورپ کے فاتح موسیٰ بن نصیر کے جواں سال لیفٹیننٹ نے صرف سات ہزار مجاہدوں کے ساتھ بحیرہ روم پار کر کے اندلس کی تسخیر کے بعد صدیوں پرانی تاریخ کا رخ ہی بدل ڈالا۔ کائنات کے پر اسرار شہسواروں کے قدم ابھی پوری طرح اندلس میں جمنے بھی نہ پائےتھے کہ جہانبانوں کی ایک ٹولی نے جزیرہ صقلیہ سسلی کی طرف لگام اٹھائی ان کی دوسری لہر اندلس کو فرانس سے کاٹنے والے کوہستان پیری نیز کو پھلانگتی ناریون کو پامال کرتی فرانس اور جرمنی کی سرحد پر دریائے طورس کے کنارے سے جاٹکرائی۔ ’تاریخ ابن خلدون‘ کے زیر نظر حصہ میں تاریخ کے ان جواں بختوں کی فتوحات کا تفصیلی اور دلچسپ تذکرہ موجود ہے۔علامہ ابن خلدون نے امیر عبدالرحمان الداخل سے لے کر آخری دور زوال تک گلستان اندلس کی کہانی، اور اس کے بعد ایک بے مثال تمدن کی ابتدا و انتہا، مشرقی خلافت کے اندر فرقوں کی پیداوار، ترکوں کی یلغار اور فاطمیوں کے عروج و زوال کی عبرتناک داستان اپنے مخصوص انداز میں بیان کی ہے۔ حکیم احمد حسین الہ آبادی کے بامحاورہ اور بے ساختہ ترجمہ نے کتاب کی شان کو بڑھا دیاہے۔

     

  • pages
    علامہ عبدالرحمن ابن خلدون

    تاریخ ابن خلدون کے چھٹے حصے میں غزنوی اور غوری سلاطین کے دو مختلف دور یکجا کئے گئے ہیں۔ محمود غزنوی وہ مرد مجاہد ہے جس کواس کے باپ امیر سبکتگین نے قلعے کے اندر نہیں بلکہ میدان جنگ میں شہسواری، شمشیر زنی اور تیر اندازی کی تعلیم دی تھی۔ محمود غزنوی اپنے والد کی وفات کی بعد کمسنی ہی میں اپنے لشکر سمیت راوی کے کنارے اترا اور انند پال کے ٹڈی دل کو گھوڑوں کی ٹاپوں تلے روندتے ہوئے لاہور پر قابض ہوگیا۔ پھر اس نے پیچھے مڑ کر نہیں دیکھا ملتان سے بھٹیز، دلی سے بندرا بن، کالنجر سے قنوج اور گوالیار سے گجرات کاٹھیا واڑ تک بت پرستوں کی صفوں کو کاٹتا ہوا سومنات کے مندر تک بڑھتا چلا گیا اور پھر سومنات کے سب سے بڑے شکتی مان بت کو اپنے ہاتھوں سے پاش پاش کیا۔ ’تاریخ ابن خلدون‘ کے اس حصہ میں جہاں غزنویوں کی شاندار فتوحات کا تذکرہ ہے وہیں اس شہاب الدین غوری کا بھی تذکرہ ہے جس نے ترواڑی کے میدان میں دلی اجمیر کے چوہان مہاراجہ رائے پتھورا پرتھوی راج سے شکست کھانے کے بعد اگلے ہی سال تراوڑی میں رائے پتھورا کو عبرتناک شکست سے نوازا۔علامہ ابن خلدون نے  اس جنگ کا بھی تذکرہ کیا ہے جب برصغیر کے ایک سو ایک راجاؤ ں نے اشوک اعظم کے دیس کو مسلمانوں سے محفوظ رکھنے کی قسم کھائی تھی۔ یہ گھمسان کی جنگ بھی تراوڑی کے میدان میں لڑی گئی اور مسلمانوں کوایسی فتح نصیب ہوئی کہ آنے والی کئی صدیوں تک برصغیر ہندوستان اسلامی پرچم کے پرسکوں سائے سمٹا پڑا رہا۔

     

  • pages
    علامہ عبدالرحمن ابن خلدون

    ’تاریخ ابن خلدون‘کا زیر نظر حصہ سلجوقی اور خوارزم شاہی خانوادوں اور فتنہ تاتار پر مشتمل خون سے رنگی ہوئی وہ  داستان جس میں ہر طرف کٹے پھٹے انسانی لاشے اور کھوپڑیوں کے مینار نظر آتے ہیں۔ سلاطین سلجوقیہ میں الپ ارسلان بانی دولت سلجوقیہ، قزل ارسلان، ملک شاہ سلجوقی، سلطان سنجر، قطلمش والی قونیہ و بلاد روم، توران شاہ تاج دار فارس بڑے بڑے اولوالعزم حکمران گزرے ہیں۔ ملوک خوارزم کی سلطنت انہی سلجوقیوں کی سلطنت کی ایک شاخ ہے۔ انہی کے زمانہ میں چنگیز خان تاتاریوں کو لےکر نکلااور اسلامی حکومت کا شیرازہ بکھیرکر خوشحال شہروں کو آہوں اور سسکیوں میں بدلتا بلا روک ٹوک آگے بڑھتا چلا گیا۔ علامہ ابن خلدون نے ان کے حالات و انساب، خانہ جنگیاں، تاتاریوں اور سلجوقیوں کی لڑائیوں کو کمال تحقیق اور تدبر سے نقل کیا ہے۔ تاریخ ابن خلدون کے ساتویں حصے کے متعلق چوہدری محمد اقبال سلیم گاہندری کہتے ہیں کہ سچ پوچھئے تو یہ علامہ عبدالرحمن ابن خلدون جیسے صاحب نظر، محقق مؤرخ کے درد مند دل کی گہرائیوں سے نکلا اور خون جگر میں ڈوبا ہوا مرثیہ ہے انہوں نے یہ طویل، عبرتناک مرثیہ، عربوں کی عین عنفوان شباب ہی میں واقع ہونے والی موت پر کیا تھا۔

     

  • pages
    علامہ عبدالرحمن ابن خلدون

    تاریخ ابن خلدون کی یہ جلد زنگی فرمانرواؤں اور ایوبی سلاطین کے دور حکومت پر مشتمل ہے بلکہ اس سے آگے بڑھ کر ہلاکو خان تاتاری کے ہاتھوں تباہی بغداد اور اس کے اثرات ما بعد کا بیان بھی اس میں موجود ہے۔583ھ میں اسلام کے ایک بطل جلیل سلطان صلاح الدین ایوبی نے بیت المقدس کو صلیبی نصرانی بادشاہوں کے91سالہ قبضہ، ظلم اور تعدی سے نجات دلائی تھی۔ پچھلے91سال سے بیت المقدس پر تعصب و کم ظرفی کے پیکر یورپ کے نصرانی بادشاہ قابض تھے اور اس یقین میں مبتلاتھے کہ کوئی شخص بیت المقدس کو ان کے خون آلود آہنی پنجوں سے نہیں چھڑ ا سکتا۔ ان کا یہ غرور خاک میں مل گیا اسد الدین شیر کوہ کے بھتیجے اورسلطان نور الدین کے سابق فوجی افسر سلطان صلاح الدین ایوبی کی شمشیر خاراشگاف نے غرور و تکبر کے پہاڑ کو ریزہ ریزہ کر دیا اور بیت المقدس کو آزاد کر ا لیا۔  اس جلد کا اردو ترجمہ مولانا رشید احمد ارشد نے کیا ہے جو کہ جامعہ کراچی کے پروفیسر ہیں اور ایک جانے پہچانے صاحب علم و قلم ہیں۔

  • pages
    علامہ عبدالرحمن ابن خلدون

    تاریخ ابن خلدون کے پیش نظر حصہ میں ممالیک بحریہ مصر و شام پر متحدہ سلطنت  اور سقوط بغداد کے بعد مسلمانوں کے دوبارہ عروج و ترقی کے حالات  مذکور ہیں۔ سقوط بغداد اور عباسی خلافت کا خاتمہ اسلامی تاریخ کا سب سے المناک واقعہ ہے۔ مگر یہ مسلمانوں کی تباہی کا آخری باب تھا کیونکہ اس سے پیشتر چنگیز خان اور اس کی اولاد ایران، خراسان اور ترکستان کی اسلامی سلطنتوں اور ان کے با رونق شہروں کو فنا کر چکی تھی۔ ان المناک حادثات کی بدولت مسلم قوم نہ صرف مادی اور سیاسی حیثیت سے تباہ ہوئی بلکہ وہ اخلاقی، علمی اور روحانی حیثیت سے بھی مفلوج ہو گئی تھی۔ ایسے موقع پر سلاطین ممالیک بحریہ کی فوج نے فتنہ تاتار کا ڈٹ کر مقابلہ کیا اور نہ صرف مصرو شام کو ان کی یلغار اور تباہ کاریوں سے بچایا بلکہ یورپ اور باقی ماندہ دنیا کو ان کے وحشیانہ حملوں سے محفوظ رکھا ۔ تاریخ ابن خلدون کے اس حصہ کا ترجمہ بھی حافظ سید رشید احمد ارشد نے نہایت شستہ اردو میں کیا ہے۔

     

  • pages
    علامہ عبدالرحمن ابن خلدون

    تاریخ ایک انتہائی دلچسپ علم ہے خاص طور پر اسلامی تاریخ، جس میں صداقت کو خصوصاً ملحوظ رکھا گیا ہے دنیا کی تاریخ جھوٹے سچے واقعات سے پُر ہے، جس سےاس کی افادیت کا پہلو دھندلاگیا ہے ۔ تاریخ اسلامی پر مشتمل علامہ عبدالرحمن ابن خلدون کی زیر مطالعہ کتاب کی ورق گردانی سے آپ جان سکیں گے کہ اسلامی تاریخ میں تاریخی واقعات کو حقیقی رنگ میں پیش کیا گیا ہے اور اس میں کسی قسم کے رطب و یابس کا کوئی دخل نہیں ہے۔ آپ کےسامنے اس وقت ’تاریخ ابن خلدون‘ کا پہلا اور دوسرا حصہ ہے۔ پہلے حصے میں علامہ موصوف نے حضرت نوح علیہ السلام سے لے کر حضرت عیسی علیہ السلام کے بعد چھٹی صدی عیسوی تک کے حالات و انساب تفصیل کےساتھ درج کیے ہیں۔ ان میں انبیائے بنی اسرائیل و عرب اور بابل و نینوا و موصل و فراغہ کے صحیح اور سچے واقعات شامل ہیں۔ دوسرے حصے میں حضرت عیسیٰ علیہ السلام سے لے کر ولادت رسول صلی اللہ علیہ وسلم تک تقریباً چھ سو سال کے مکمل حالات، عقائد و افکار میں تغیرات، مراسم اور توہمات کی پیداوار اور ان کے نتائج کی پوری تفصیل و استناد کے ساتھ بیان کیا گیا ہے۔

     

  • title-pages-tareekh-ebn-e-kaseer
    حافظ ابوالفداء عمادالدین ابن کثیر

    اس وقت آپ کے سامنے حافظ عماد الدین ابن کثیر کی شہرہ آفاق کتاب ’البدایۃ والنہایۃ‘ کا اردو قالب ’تاریخ ابن کثیر‘ کی صورت میں موجود ہے۔ اگر آپ عربی تاریخوں کامطالعہ کریں تو آپ کو صاف طور پر یہ بات معلوم ہو گی کہ عرب مؤرخوں نے اپنی تاریخوں میں تسلسل زمانی کا برابر خیال رکھا ہے ان کی ہر تاریخ آدم علیہ السلام کی کے ذکر سے شروع ہوتی ہے اور پھر واقعات اور بیانات کا سلسلہ ان واقعات تک پہنچتا ہے جن میں ان کا لکھنے والا سانس لے رہا ہے ۔ ابن کثیر کی یہ تاریخ بھی دوسری تاریخوں کی طرح ابتدائے آفرینش سے شروع ہوتی ہے اور اس کے بعد انبیاء اور مرسلین کے حالات سامنے آتے ہیں، یہ کئی لحاظ سے اہم ہیں۔ اس سے پہلے جو تاریخیں لکھی گئی ہیں یا اس کے بعد جن تاریخوں کو دریافت کیا گیا ہے ان میں یہ تمام واقعات اساطیری ادب سے لیے گئے ہیں یا ان کو اسرائیلی روایتوں پر اکتفاء کرتے ہوئے آگے بڑھایا گیا ہے اس کے برعکس ابن کثیر نے اپنا تمام مواد قرآن ہی سے لیا ہے اور یہ اس کے ایمان اور یقین کے مضبوطی کی علامت ہے ۔ تاریخ ابن کثیر حضرت آدم سے لے کر عراق و بغداد میں تاتاریوں کے حملوں تک وسیع اور عریض زمانے کا احاطہ کرتی ہے اور غالباً سب سے پہلی تاریخ ہے جس میں ہزاروں لاکھوں سال کی روز و شب کی گردشوں، کروٹوں، انقلابوں اور حکومتوں کومحفوظ کیا گیا ہے۔ پھر ابن کثیر نے جن حالات و واقعات کا حاطہ کیا ہے وہ اس قدر صحیح اور مستند ہیں کہ ان کا مقابلہ کوئی دوسری کتاب نہیں کر سکتی۔

     

  • title-pages-tareekh-ebn-e-kaseer
    حافظ ابوالفداء عمادالدین ابن کثیر

    اس وقت آپ کے سامنے حافظ عماد الدین ابن کثیر کی شہرہ آفاق کتاب ’البدایۃ والنہایۃ‘ کا اردو قالب ’تاریخ ابن کثیر‘ کی صورت میں موجود ہے۔ اگر آپ عربی تاریخوں کامطالعہ کریں تو آپ کو صاف طور پر یہ بات معلوم ہو گی کہ عرب مؤرخوں نے اپنی تاریخوں میں تسلسل زمانی کا برابر خیال رکھا ہے ان کی ہر تاریخ آدم علیہ السلام کی کے ذکر سے شروع ہوتی ہے اور پھر واقعات اور بیانات کا سلسلہ ان واقعات تک پہنچتا ہے جن میں ان کا لکھنے والا سانس لے رہا ہے ۔ ابن کثیر کی یہ تاریخ بھی دوسری تاریخوں کی طرح ابتدائے آفرینش سے شروع ہوتی ہے اور اس کے بعد انبیاء اور مرسلین کے حالات سامنے آتے ہیں، یہ کئی لحاظ سے اہم ہیں۔ اس سے پہلے جو تاریخیں لکھی گئی ہیں یا اس کے بعد جن تاریخوں کو دریافت کیا گیا ہے ان میں یہ تمام واقعات اساطیری ادب سے لیے گئے ہیں یا ان کو اسرائیلی روایتوں پر اکتفاء کرتے ہوئے آگے بڑھایا گیا ہے اس کے برعکس ابن کثیر نے اپنا تمام مواد قرآن ہی سے لیا ہے اور یہ اس کے ایمان اور یقین کے مضبوطی کی علامت ہے ۔ تاریخ ابن کثیر حضرت آدم سے لے کر عراق و بغداد میں تاتاریوں کے حملوں تک وسیع اور عریض زمانے کا احاطہ کرتی ہے اور غالباً سب سے پہلی تاریخ ہے جس میں ہزاروں لاکھوں سال کی روز و شب کی گردشوں، کروٹوں، انقلابوں اور حکومتوں کومحفوظ کیا گیا ہے۔ پھر ابن کثیر نے جن حالات و واقعات کا حاطہ کیا ہے وہ اس قدر صحیح اور مستند ہیں کہ ان کا مقابلہ کوئی دوسری کتاب نہیں کر سکتی۔

  • title-pages-tareekh-ebn-e-kaseer
    حافظ ابوالفداء عمادالدین ابن کثیر

    اس وقت آپ کے سامنے حافظ عماد الدین ابن کثیر کی شہرہ آفاق کتاب ’البدایۃ والنہایۃ‘ کا اردو قالب ’تاریخ ابن کثیر‘ کی صورت میں موجود ہے۔ اگر آپ عربی تاریخوں کامطالعہ کریں تو آپ کو صاف طور پر یہ بات معلوم ہو گی کہ عرب مؤرخوں نے اپنی تاریخوں میں تسلسل زمانی کا برابر خیال رکھا ہے ان کی ہر تاریخ آدم علیہ السلام کی کے ذکر سے شروع ہوتی ہے اور پھر واقعات اور بیانات کا سلسلہ ان واقعات تک پہنچتا ہے جن میں ان کا لکھنے والا سانس لے رہا ہے ۔ ابن کثیر کی یہ تاریخ بھی دوسری تاریخوں کی طرح ابتدائے آفرینش سے شروع ہوتی ہے اور اس کے بعد انبیاء اور مرسلین کے حالات سامنے آتے ہیں، یہ کئی لحاظ سے اہم ہیں۔ اس سے پہلے جو تاریخیں لکھی گئی ہیں یا اس کے بعد جن تاریخوں کو دریافت کیا گیا ہے ان میں یہ تمام واقعات اساطیری ادب سے لیے گئے ہیں یا ان کو اسرائیلی روایتوں پر اکتفاء کرتے ہوئے آگے بڑھایا گیا ہے اس کے برعکس ابن کثیر نے اپنا تمام مواد قرآن ہی سے لیا ہے اور یہ اس کے ایمان اور یقین کے مضبوطی کی علامت ہے ۔ تاریخ ابن کثیر حضرت آدم سے لے کر عراق و بغداد میں تاتاریوں کے حملوں تک وسیع اور عریض زمانے کا احاطہ کرتی ہے اور غالباً سب سے پہلی تاریخ ہے جس میں ہزاروں لاکھوں سال کی روز و شب کی گردشوں، کروٹوں، انقلابوں اور حکومتوں کومحفوظ کیا گیا ہے۔ پھر ابن کثیر نے جن حالات و واقعات کا حاطہ کیا ہے وہ اس قدر صحیح اور مستند ہیں کہ ان کا مقابلہ کوئی دوسری کتاب نہیں کر سکتی۔

     

  • title-pages-tareekh-ebn-e-kaseer
    حافظ ابوالفداء عمادالدین ابن کثیر

    اس وقت آپ کے سامنے حافظ عماد الدین ابن کثیر کی شہرہ آفاق کتاب ’البدایۃ والنہایۃ‘ کا اردو قالب ’تاریخ ابن کثیر‘ کی صورت میں موجود ہے۔ اگر آپ عربی تاریخوں کامطالعہ کریں تو آپ کو صاف طور پر یہ بات معلوم ہو گی کہ عرب مؤرخوں نے اپنی تاریخوں میں تسلسل زمانی کا برابر خیال رکھا ہے ان کی ہر تاریخ آدم علیہ السلام کی کے ذکر سے شروع ہوتی ہے اور پھر واقعات اور بیانات کا سلسلہ ان واقعات تک پہنچتا ہے جن میں ان کا لکھنے والا سانس لے رہا ہے ۔ ابن کثیر کی یہ تاریخ بھی دوسری تاریخوں کی طرح ابتدائے آفرینش سے شروع ہوتی ہے اور اس کے بعد انبیاء اور مرسلین کے حالات سامنے آتے ہیں، یہ کئی لحاظ سے اہم ہیں۔ اس سے پہلے جو تاریخیں لکھی گئی ہیں یا اس کے بعد جن تاریخوں کو دریافت کیا گیا ہے ان میں یہ تمام واقعات اساطیری ادب سے لیے گئے ہیں یا ان کو اسرائیلی روایتوں پر اکتفاء کرتے ہوئے آگے بڑھایا گیا ہے اس کے برعکس ابن کثیر نے اپنا تمام مواد قرآن ہی سے لیا ہے اور یہ اس کے ایمان اور یقین کے مضبوطی کی علامت ہے ۔ تاریخ ابن کثیر حضرت آدم سے لے کر عراق و بغداد میں تاتاریوں کے حملوں تک وسیع اور عریض زمانے کا احاطہ کرتی ہے اور غالباً سب سے پہلی تاریخ ہے جس میں ہزاروں لاکھوں سال کی روز و شب کی گردشوں، کروٹوں، انقلابوں اور حکومتوں کومحفوظ کیا گیا ہے۔ پھر ابن کثیر نے جن حالات و واقعات کا حاطہ کیا ہے وہ اس قدر صحیح اور مستند ہیں کہ ان کا مقابلہ کوئی دوسری کتاب نہیں کر سکتی۔

     

  • title-pages-tareekh-ebn-e-kaseer
    حافظ ابوالفداء عمادالدین ابن کثیر

    اس وقت آپ کے سامنے حافظ عماد الدین ابن کثیر کی شہرہ آفاق کتاب ’البدایۃ والنہایۃ‘ کا اردو قالب ’تاریخ ابن کثیر‘ کی صورت میں موجود ہے۔ اگر آپ عربی تاریخوں کامطالعہ کریں تو آپ کو صاف طور پر یہ بات معلوم ہو گی کہ عرب مؤرخوں نے اپنی تاریخوں میں تسلسل زمانی کا برابر خیال رکھا ہے ان کی ہر تاریخ آدم علیہ السلام کی کے ذکر سے شروع ہوتی ہے اور پھر واقعات اور بیانات کا سلسلہ ان واقعات تک پہنچتا ہے جن میں ان کا لکھنے والا سانس لے رہا ہے ۔ ابن کثیر کی یہ تاریخ بھی دوسری تاریخوں کی طرح ابتدائے آفرینش سے شروع ہوتی ہے اور اس کے بعد انبیاء اور مرسلین کے حالات سامنے آتے ہیں، یہ کئی لحاظ سے اہم ہیں۔ اس سے پہلے جو تاریخیں لکھی گئی ہیں یا اس کے بعد جن تاریخوں کو دریافت کیا گیا ہے ان میں یہ تمام واقعات اساطیری ادب سے لیے گئے ہیں یا ان کو اسرائیلی روایتوں پر اکتفاء کرتے ہوئے آگے بڑھایا گیا ہے اس کے برعکس ابن کثیر نے اپنا تمام مواد قرآن ہی سے لیا ہے اور یہ اس کے ایمان اور یقین کے مضبوطی کی علامت ہے ۔ تاریخ ابن کثیر حضرت آدم سے لے کر عراق و بغداد میں تاتاریوں کے حملوں تک وسیع اور عریض زمانے کا احاطہ کرتی ہے اور غالباً سب سے پہلی تاریخ ہے جس میں ہزاروں لاکھوں سال کی روز و شب کی گردشوں، کروٹوں، انقلابوں اور حکومتوں کومحفوظ کیا گیا ہے۔ پھر ابن کثیر نے جن حالات و واقعات کا حاطہ کیا ہے وہ اس قدر صحیح اور مستند ہیں کہ ان کا مقابلہ کوئی دوسری کتاب نہیں کر سکتی۔

     

  • title-pages-tareekh-ebn-e-kaseer
    حافظ ابوالفداء عمادالدین ابن کثیر

    اس وقت آپ کے سامنے حافظ عماد الدین ابن کثیر کی شہرہ آفاق کتاب ’البدایۃ والنہایۃ‘ کا اردو قالب ’تاریخ ابن کثیر‘ کی صورت میں موجود ہے۔ اگر آپ عربی تاریخوں کامطالعہ کریں تو آپ کو صاف طور پر یہ بات معلوم ہو گی کہ عرب مؤرخوں نے اپنی تاریخوں میں تسلسل زمانی کا برابر خیال رکھا ہے ان کی ہر تاریخ آدم علیہ السلام کی کے ذکر سے شروع ہوتی ہے اور پھر واقعات اور بیانات کا سلسلہ ان واقعات تک پہنچتا ہے جن میں ان کا لکھنے والا سانس لے رہا ہے ۔ ابن کثیر کی یہ تاریخ بھی دوسری تاریخوں کی طرح ابتدائے آفرینش سے شروع ہوتی ہے اور اس کے بعد انبیاء اور مرسلین کے حالات سامنے آتے ہیں، یہ کئی لحاظ سے اہم ہیں۔ اس سے پہلے جو تاریخیں لکھی گئی ہیں یا اس کے بعد جن تاریخوں کو دریافت کیا گیا ہے ان میں یہ تمام واقعات اساطیری ادب سے لیے گئے ہیں یا ان کو اسرائیلی روایتوں پر اکتفاء کرتے ہوئے آگے بڑھایا گیا ہے اس کے برعکس ابن کثیر نے اپنا تمام مواد قرآن ہی سے لیا ہے اور یہ اس کے ایمان اور یقین کے مضبوطی کی علامت ہے ۔ تاریخ ابن کثیر حضرت آدم سے لے کر عراق و بغداد میں تاتاریوں کے حملوں تک وسیع اور عریض زمانے کا احاطہ کرتی ہے اور غالباً سب سے پہلی تاریخ ہے جس میں ہزاروں لاکھوں سال کی روز و شب کی گردشوں، کروٹوں، انقلابوں اور حکومتوں کومحفوظ کیا گیا ہے۔ پھر ابن کثیر نے جن حالات و واقعات کا حاطہ کیا ہے وہ اس قدر صحیح اور مستند ہیں کہ ان کا مقابلہ کوئی دوسری کتاب نہیں کر سکتی۔

     

  • title-pages-tareekh-ebn-e-kaseer
    حافظ ابوالفداء عمادالدین ابن کثیر

    اس وقت آپ کے سامنے حافظ عماد الدین ابن کثیر کی شہرہ آفاق کتاب ’البدایۃ والنہایۃ‘ کا اردو قالب ’تاریخ ابن کثیر‘ کی صورت میں موجود ہے۔ اگر آپ عربی تاریخوں کامطالعہ کریں تو آپ کو صاف طور پر یہ بات معلوم ہو گی کہ عرب مؤرخوں نے اپنی تاریخوں میں تسلسل زمانی کا برابر خیال رکھا ہے ان کی ہر تاریخ آدم علیہ السلام کی کے ذکر سے شروع ہوتی ہے اور پھر واقعات اور بیانات کا سلسلہ ان واقعات تک پہنچتا ہے جن میں ان کا لکھنے والا سانس لے رہا ہے ۔ ابن کثیر کی یہ تاریخ بھی دوسری تاریخوں کی طرح ابتدائے آفرینش سے شروع ہوتی ہے اور اس کے بعد انبیاء اور مرسلین کے حالات سامنے آتے ہیں، یہ کئی لحاظ سے اہم ہیں۔ اس سے پہلے جو تاریخیں لکھی گئی ہیں یا اس کے بعد جن تاریخوں کو دریافت کیا گیا ہے ان میں یہ تمام واقعات اساطیری ادب سے لیے گئے ہیں یا ان کو اسرائیلی روایتوں پر اکتفاء کرتے ہوئے آگے بڑھایا گیا ہے اس کے برعکس ابن کثیر نے اپنا تمام مواد قرآن ہی سے لیا ہے اور یہ اس کے ایمان اور یقین کے مضبوطی کی علامت ہے ۔ تاریخ ابن کثیر حضرت آدم سے لے کر عراق و بغداد میں تاتاریوں کے حملوں تک وسیع اور عریض زمانے کا احاطہ کرتی ہے اور غالباً سب سے پہلی تاریخ ہے جس میں ہزاروں لاکھوں سال کی روز و شب کی گردشوں، کروٹوں، انقلابوں اور حکومتوں کومحفوظ کیا گیا ہے۔ پھر ابن کثیر نے جن حالات و واقعات کا حاطہ کیا ہے وہ اس قدر صحیح اور مستند ہیں کہ ان کا مقابلہ کوئی دوسری کتاب نہیں کر سکتی۔

     

  • title-pages-tareekh-ebn-e-kaseer
    حافظ ابوالفداء عمادالدین ابن کثیر

    اس وقت آپ کے سامنے حافظ عماد الدین ابن کثیر کی شہرہ آفاق کتاب ’البدایۃ والنہایۃ‘ کا اردو قالب ’تاریخ ابن کثیر‘ کی صورت میں موجود ہے۔ اگر آپ عربی تاریخوں کامطالعہ کریں تو آپ کو صاف طور پر یہ بات معلوم ہو گی کہ عرب مؤرخوں نے اپنی تاریخوں میں تسلسل زمانی کا برابر خیال رکھا ہے ان کی ہر تاریخ آدم علیہ السلام کی کے ذکر سے شروع ہوتی ہے اور پھر واقعات اور بیانات کا سلسلہ ان واقعات تک پہنچتا ہے جن میں ان کا لکھنے والا سانس لے رہا ہے ۔ ابن کثیر کی یہ تاریخ بھی دوسری تاریخوں کی طرح ابتدائے آفرینش سے شروع ہوتی ہے اور اس کے بعد انبیاء اور مرسلین کے حالات سامنے آتے ہیں، یہ کئی لحاظ سے اہم ہیں۔ اس سے پہلے جو تاریخیں لکھی گئی ہیں یا اس کے بعد جن تاریخوں کو دریافت کیا گیا ہے ان میں یہ تمام واقعات اساطیری ادب سے لیے گئے ہیں یا ان کو اسرائیلی روایتوں پر اکتفاء کرتے ہوئے آگے بڑھایا گیا ہے اس کے برعکس ابن کثیر نے اپنا تمام مواد قرآن ہی سے لیا ہے اور یہ اس کے ایمان اور یقین کے مضبوطی کی علامت ہے ۔ تاریخ ابن کثیر حضرت آدم سے لے کر عراق و بغداد میں تاتاریوں کے حملوں تک وسیع اور عریض زمانے کا احاطہ کرتی ہے اور غالباً سب سے پہلی تاریخ ہے جس میں ہزاروں لاکھوں سال کی روز و شب کی گردشوں، کروٹوں، انقلابوں اور حکومتوں کومحفوظ کیا گیا ہے۔ پھر ابن کثیر نے جن حالات و واقعات کا حاطہ کیا ہے وہ اس قدر صحیح اور مستند ہیں کہ ان کا مقابلہ کوئی دوسری کتاب نہیں کر سکتی۔

     

  • title-pages-tareekh-ebn-e-kaseer
    حافظ ابوالفداء عمادالدین ابن کثیر

    اس وقت آپ کے سامنے حافظ عماد الدین ابن کثیر کی شہرہ آفاق کتاب ’البدایۃ والنہایۃ‘ کا اردو قالب ’تاریخ ابن کثیر‘ کی صورت میں موجود ہے۔ اگر آپ عربی تاریخوں کامطالعہ کریں تو آپ کو صاف طور پر یہ بات معلوم ہو گی کہ عرب مؤرخوں نے اپنی تاریخوں میں تسلسل زمانی کا برابر خیال رکھا ہے ان کی ہر تاریخ آدم علیہ السلام کی کے ذکر سے شروع ہوتی ہے اور پھر واقعات اور بیانات کا سلسلہ ان واقعات تک پہنچتا ہے جن میں ان کا لکھنے والا سانس لے رہا ہے ۔ ابن کثیر کی یہ تاریخ بھی دوسری تاریخوں کی طرح ابتدائے آفرینش سے شروع ہوتی ہے اور اس کے بعد انبیاء اور مرسلین کے حالات سامنے آتے ہیں، یہ کئی لحاظ سے اہم ہیں۔ اس سے پہلے جو تاریخیں لکھی گئی ہیں یا اس کے بعد جن تاریخوں کو دریافت کیا گیا ہے ان میں یہ تمام واقعات اساطیری ادب سے لیے گئے ہیں یا ان کو اسرائیلی روایتوں پر اکتفاء کرتے ہوئے آگے بڑھایا گیا ہے اس کے برعکس ابن کثیر نے اپنا تمام مواد قرآن ہی سے لیا ہے اور یہ اس کے ایمان اور یقین کے مضبوطی کی علامت ہے ۔ تاریخ ابن کثیر حضرت آدم سے لے کر عراق و بغداد میں تاتاریوں کے حملوں تک وسیع اور عریض زمانے کا احاطہ کرتی ہے اور غالباً سب سے پہلی تاریخ ہے جس میں ہزاروں لاکھوں سال کی روز و شب کی گردشوں، کروٹوں، انقلابوں اور حکومتوں کومحفوظ کیا گیا ہے۔ پھر ابن کثیر نے جن حالات و واقعات کا حاطہ کیا ہے وہ اس قدر صحیح اور مستند ہیں کہ ان کا مقابلہ کوئی دوسری کتاب نہیں کر سکتی۔

     

  • title-pages-tareekh-ebn-e-kaseer
    حافظ ابوالفداء عمادالدین ابن کثیر

    اس وقت آپ کے سامنے حافظ عماد الدین ابن کثیر کی شہرہ آفاق کتاب ’البدایۃ والنہایۃ‘ کا اردو قالب ’تاریخ ابن کثیر‘ کی صورت میں موجود ہے۔ اگر آپ عربی تاریخوں کامطالعہ کریں تو آپ کو صاف طور پر یہ بات معلوم ہو گی کہ عرب مؤرخوں نے اپنی تاریخوں میں تسلسل زمانی کا برابر خیال رکھا ہے ان کی ہر تاریخ آدم علیہ السلام کی کے ذکر سے شروع ہوتی ہے اور پھر واقعات اور بیانات کا سلسلہ ان واقعات تک پہنچتا ہے جن میں ان کا لکھنے والا سانس لے رہا ہے ۔ ابن کثیر کی یہ تاریخ بھی دوسری تاریخوں کی طرح ابتدائے آفرینش سے شروع ہوتی ہے اور اس کے بعد انبیاء اور مرسلین کے حالات سامنے آتے ہیں، یہ کئی لحاظ سے اہم ہیں۔ اس سے پہلے جو تاریخیں لکھی گئی ہیں یا اس کے بعد جن تاریخوں کو دریافت کیا گیا ہے ان میں یہ تمام واقعات اساطیری ادب سے لیے گئے ہیں یا ان کو اسرائیلی روایتوں پر اکتفاء کرتے ہوئے آگے بڑھایا گیا ہے اس کے برعکس ابن کثیر نے اپنا تمام مواد قرآن ہی سے لیا ہے اور یہ اس کے ایمان اور یقین کے مضبوطی کی علامت ہے ۔ تاریخ ابن کثیر حضرت آدم سے لے کر عراق و بغداد میں تاتاریوں کے حملوں تک وسیع اور عریض زمانے کا احاطہ کرتی ہے اور غالباً سب سے پہلی تاریخ ہے جس میں ہزاروں لاکھوں سال کی روز و شب کی گردشوں، کروٹوں، انقلابوں اور حکومتوں کومحفوظ کیا گیا ہے۔ پھر ابن کثیر نے جن حالات و واقعات کا حاطہ کیا ہے وہ اس قدر صحیح اور مستند ہیں کہ ان کا مقابلہ کوئی دوسری کتاب نہیں کر سکتی۔

     

  • title-pages-tareekh-ebn-e-kaseer
    حافظ ابوالفداء عمادالدین ابن کثیر

    اس وقت آپ کے سامنے حافظ عماد الدین ابن کثیر کی شہرہ آفاق کتاب ’البدایۃ والنہایۃ‘ کا اردو قالب ’تاریخ ابن کثیر‘ کی صورت میں موجود ہے۔ اگر آپ عربی تاریخوں کامطالعہ کریں تو آپ کو صاف طور پر یہ بات معلوم ہو گی کہ عرب مؤرخوں نے اپنی تاریخوں میں تسلسل زمانی کا برابر خیال رکھا ہے ان کی ہر تاریخ آدم علیہ السلام کی کے ذکر سے شروع ہوتی ہے اور پھر واقعات اور بیانات کا سلسلہ ان واقعات تک پہنچتا ہے جن میں ان کا لکھنے والا سانس لے رہا ہے ۔ ابن کثیر کی یہ تاریخ بھی دوسری تاریخوں کی طرح ابتدائے آفرینش سے شروع ہوتی ہے اور اس کے بعد انبیاء اور مرسلین کے حالات سامنے آتے ہیں، یہ کئی لحاظ سے اہم ہیں۔ اس سے پہلے جو تاریخیں لکھی گئی ہیں یا اس کے بعد جن تاریخوں کو دریافت کیا گیا ہے ان میں یہ تمام واقعات اساطیری ادب سے لیے گئے ہیں یا ان کو اسرائیلی روایتوں پر اکتفاء کرتے ہوئے آگے بڑھایا گیا ہے اس کے برعکس ابن کثیر نے اپنا تمام مواد قرآن ہی سے لیا ہے اور یہ اس کے ایمان اور یقین کے مضبوطی کی علامت ہے ۔ تاریخ ابن کثیر حضرت آدم سے لے کر عراق و بغداد میں تاتاریوں کے حملوں تک وسیع اور عریض زمانے کا احاطہ کرتی ہے اور غالباً سب سے پہلی تاریخ ہے جس میں ہزاروں لاکھوں سال کی روز و شب کی گردشوں، کروٹوں، انقلابوں اور حکومتوں کومحفوظ کیا گیا ہے۔ پھر ابن کثیر نے جن حالات و واقعات کا حاطہ کیا ہے وہ اس قدر صحیح اور مستند ہیں کہ ان کا مقابلہ کوئی دوسری کتاب نہیں کر سکتی۔

     

ای میل سبسکرپشن

محدث لائبریری کی اپ ڈیٹس بذریعہ ای میل وصول کرنے کے لئے ای میل درج کر کے سبسکرائب کے بٹن پر کلک کیجئے۔

 

ایڈوانس سرچ

موضوعاتی فہرست

رجسٹرڈ اراکین

آن لائن مہمان

We have 913 guests and one member online

  • hafi.kitabosunnat

ایڈریس

       99-جے ماڈل ٹاؤن،
     نزد کلمہ چوک،
     لاہور، 54700 پاکستان

       0092-42-35866396، 35866476، 35839404

       0092-423-5836016، 5837311

      KitaboSunnat@gmail.com

      بنک تفصیلات کے لیے یہاں کلک کریں

گوگل میپ