دکھائیں کتب
  • 1 آب کوثر (جمعہ 31 مئی 2013ء)

    مشاہدات:7369

    علوم کےمیدان میں تاریخ کاایک اپنامقام ہے۔بالخصوص دور جدید میں  جب اجتماعی اور معاشرتی علوم نےایک خاص اہمیت اختیا ر کی ہےتو اس  میں تاریخ کی اور زیادہ اہمیت بڑھ گئی ہے۔چناچہ اس سلسلے میں قدیم  اور جدید تاریخ نگاروں میں جو خاص فرق آیا ہے وہ یہ ہےکہ پہلے دور میں تاریخ کو شخصیات کےحساب سےلکھاجاتاتھاجبکہ آج کے دور میں تاریخ  علوم وفنون اور عام عوام کے حساب سےلکھاجانا پسند کیاجاتاہے۔زیرنظرکتاب اسی سلسلے کی ایک کڑی ہے جس میں راقم الحروف نے ہندستانی تاریخ کا خاص باب عہدمغلیہ کو لکھاہے اور علوم وفنون کےاعتبارسے لکھنےکی کوشش کی ہے۔یہ بہت زیاد ہ مشقت طلب کام ہے۔بلکہ بقول مولاناشبلی رحمۃ اللہ علیہ چیونٹیوں کےمنہ سےدانہ دانہ جمع کرکےخرمن تیارکرناپڑتاہے۔اور  بقول مصنف کےقصہ نویسی اورخوش اعتقادی کی کہرتمام لٹریچر پرچھا ئی ہوئی ہے۔جس کےاندر نہ مختلف اولیا ئے کرام کےجداگانہ خدوخال نظرآتےہیں اور نہ ان کےعملی کارناموں سے صحیح واقفیت ہوتی ہے۔تاہم پھر بھی مصنف نے حتی الوسع اس پر بطریق احسن اور واضح انداز میں روشنی ڈالنےکی کو شش کی ہے۔اللہ انہیں جزائے خیر سےنوازے۔آمین۔(ع۔ح)
     

  • 2 آزادی ہند (جمعرات 06 فروری 2014ء)

    مشاہدات:16447

    مولانا ابو الکلام آزاد کسی تعارف کے محتاج نہیں ہے، وہ برصغیر پاک و ہند میں برطانوی اقتدار اور تقسیم ہند کے ایک اہم چشم دید گواہ ہیں۔ ایک زمانہ میں جناب ہمایوں کبیر صاحب نے مولانا سے درخواست کی کہ وہ انگریز سے ہندوستان کی آزادی کی تاریخ کو اپنے مشاہدات اور تجربات کی روشنی میں مرتب کریں تا کہ آئندہ نسل تک صحیح حقائق ایک مستند ذریعہ سے پہنچ سکیں تو مولانا نے پہلے تو اس سے معذرت کی لیکن پھر اصرار پر جناب ہمایوں کبیر صاحب کو آزادی ہند کی تاریخ زبانی مرتب کروائی جسے ہمایوں کبیر صاحب نے انگریزی میں "انڈیا ونس فریڈم' کے نام سے مرتب کیا اور اس کی نظر ثانی مولانا ابو الکلام رحمہ اللہ سے کروائی۔ بعد ازاں اس کتاب کا اردو ترجمہ بھی 'آزادی ہند' کے نام سے شائع کیا گیا ہے۔ اس کتاب میں تاریخی واقعات کے ساتھ ساتھ مولانا کے ذاتی نظریات اور افکار کا بیان بھی موجود ہے اگرچہ اس کتاب میں مولانا ابو الکلام آزاد رحمہ اللہ کے بیان کردہ جمیع تصورات سے اتفاق ممکن نہیں ہے لیکن اس کتاب کو شائع کرنے کا مقصد یہی تھا کہ اس کتاب کا مولانا کے تصورات سے واقفیت کی بجائے ایک تاریخی ورثہ کے طور پر مطالعہ کیا جائے تا کہ تاریخ کے ایک طالب علم کو حقائق و نتائج کے جاننے میں ایک مستند مصدر و ماخذ فراہم کر دیا جائے۔(ت۔م)
     

  • 3 ارتھ شاستر (جمعرات 06 فروری 2014ء)

    مشاہدات:18764

    ارتھ شاستر کوتلیہ چانکیہ کی تصنیف ہے جو ایک برہمن گھرانے میں پیدا ہوا ۔اس کتاب کا زمانہ تصنیف 311سے 300ق۔م کے درمیان ہے۔’ارتھ شاستر‘نے برصغیر کے تمدن اور اسلوب سیاست پر گزشتہ دو ہزار سال کے دوران جو اثرات مرتب کیے ہیں ان کے نقوش آئندہ کئی صدیوں تک بھی واضح رہیں گے۔کوٹلیہ نے اس کتاب میں قدیم ہندوستانی تمدن کے ہر پہلو کو اپنی تحریر کا موضوع بنایا ہے۔علوم وفنون ،زراعت،معیشت،اردواجیات،سیاسیات،صنعت وحرفت ،قوانین،رسوم ورواج،توہمات،ادویات،فوجی مہارت،سیاسی وغیر سیاسی معاہدات اور ریاست کے استحکام سمیت ہر وہ موضوع کوتلیہ کی فکر کے وسیع دامن میں سماگیا ہے جو سوچ میں آسکتا ہے ۔علم سیاسیت کے پنڈت کہیں کوتلیہ کو اس کی متنوع علمی دستگاہ کی وجہ سے ہندوستان کا ارسطو کہتے ہیں اور کہیں ایک نئے اور واضح تر سیاسی نظام کا خالق ہونے کے باعث اس کا موازنہ میکاولی سے کیا جاتا ہے ۔بہر حال یہ کتاب اس کے افکار ونظریات کو سمجھنے کا معتبر ماخذ ہے۔(ط۔ا)

  • 4 اسلامی علوم و فنون ہندوستان میں (جمعرات 27 اپریل 2017ء)

    مشاہدات:1228

    حکیم سید عبد الحی ندوی عالم اسلام کے معروف اسلامی سکالر و ادیب،مصنف کتب کثیرہ مولانا سید ابو الحسن ندوی ﷫ کے والد گرامی ہیں۔ موصوف اپنے وقت کے معروف عالم دین اور مؤرخ تھے مولانا عبد الحی صاحب کی آٹھ جلدوں میں مبسوط نزھۃ الخواطر کو آج بھی دینی وعلمی حلقوں میں حوالے کی کتاب کے طور پر بلند مقام حاصل ہے۔ اس میں انھوں نے ساڑھے چار ہزار سے زائد شخصیات کے حالات قلمبند کئے ہیں اس کے علاوہ گل رعنا اور معارف الموارف فی انواع العلوم و المعارف (عربی) جیسی ان کی تصانیف برصغیر پاک وہند کے علمی ذخیر ے میں امتیازی شان کی حامل ہیں۔ زیر تبصرہ کتاب ’’اسلامی علوم و فنون ہندوستان میں ‘‘مولانا حکیم سید عبد الحی کی ہندوستان کی تہذیب وثقافت کے متعلق تصنیف کردہ عربی کتاب ’’الثقافۃ الاسلامیہ فی الہند‘‘ کا اردو ترجمہ ہے۔ یہ ترجمہ دار العلوم ندوۃ العلماء لکھنؤ کے استاذ مولاناابو العرفان ندوی نے کیا ہے یہ ترجمہ پہلے 1970ء میں شائع ہوا تھا   زیر تبصرہ ایڈیشن اسی کا جدید معیاری ایڈیشن ہے جسے دار المصنفین نے 2009ء میں شائع کیا ہے۔ اس کتاب میں مصنف نے ہندوستانی علما ومصنفین کی تصانیف کی ایک فہرست مرتب کی ہے۔ یہ تنہاکتابوں کی فہرست نہیں ہے بلکہ اس کے ضمن میں ہندوستانی مسلمانوں کی پوری علمی تعلیمی اور ذہنی و فکری تاریخ بھی آگئی ہے۔ (م۔ا)

  • ہندوستان میں  عہدسلطنت اسلامی  بہت سے خصوصیات کا حامل ہے ۔اس دور میں  جہاں سیاسی  وانتظامی  اداروں کوترقی ملی مسلم حکومت کی توسیع کا سلسلہ جاری ر ہا وہاں اس  سلطنت  اسلامی کے  دور میں علوم وفنون میں بڑی ترقی کی۔اس عہد اسلامی میں اہل علم وفن کے لیے ایسا ساز گار ماحول فراہم  ہواکہ  وہ اپنے اپنے میدانوں میں علمی خدمات انجام دے کر  مختلف علوم وفنون کے فروغ کا ذریعہ بن سکیں۔ عہد سلطنت  کے ابتدائی دور میں علوم وفنون کا فروغ دہلی  ودوسرے مقامات پر سکونت اختیار کرنے والے بیرونی علماء کی مرہون منت رہا۔ رفتہ رفتہ ہند نژاد تعلیم یافتہ مسلمان اس لائق ہوگئے کہ وہ تدریسی وتالیفی کاموں حصہ لے سکیں۔علماء وقت  نےتدریس کے مشغلہ کو ایک عظیم دینی خدمت سمجھا اور بڑے ذوق وشوق سے اس میں حصہ لیا تو معاصر حکمرانوں نے اس  خدمت انجام دینے والوں کی سرپرستی فرمائی اور مکاتب ومدارس کے قیام وانصرام میں کافی دلچسپی لی ۔ علماء کی کوششوں اور اہل علم کے سلسلہ میں سلاطین  کےحوصلہ افزا رویّہ کا نتیجہ یہ  ہوا کہ علم کی روشنی شہروں وقصبوں کے علاوہ قریات میں بھی پھیل گئی۔اس عہد میں بہت سے علماء نے علوم اسلامیہ کو تصنیف وتالیف کاموضوع بنایا اور اس کےلیے   عربی وفارسی دونوں زبانوں کو اختیار کیا۔تفسیر ، حدیث  وفقہ کی جو کتابیں اس زمانہ میں درس وتدریس کے لیے معروف ومقبول تھیں ان کی شروح وحواشی تیار کرنے کے علاوہ  معاصر علماء وفضلاء نے ان علوم سے متعلق طبع زاد تحریریں بھی پ...

  • 6 البیرونی کا ہندوستان (منگل 30 ستمبر 2014ء)

    مشاہدات:2325

    قوموں کی زندگی میں تاریخ کی اہمیت وہی ہے جو کہ ایک فرد کی زندگی میں اس کی یادداشت کی ہوتی ہے۔ جس طرح ایک فرد واحد کی سوچ، شخصیت، کردار اور نظریات پر سب سے بڑا اثر اس کی یادداشت کا ہوتا ہے اسی طرح ایک قوم کے مجموعی طرزعمل پر سب سے زیادہ اثر انداز ہونے والی چیز اس کی تاریخ ہوتی ہے ۔ جس طرح ایک فرد اپنے زندگی کے اہداف و مقاصد اپنی یاداشت کی روشنی میں طے کرتا ہے اسی طرح قوموں کے بحیثیت مجموعی اہداف و مقاصد کے تعین میں سب سے بڑا عمل دخل اس کی تاریخ کا ہوتا ہے۔ دنیا کی ہر قوم کا اپنی تاریخ سے بڑا گہرا تعلق ہوتا ہے۔اور قوموں کی مجموعی نفسیات کے معاملے میں بھی تاریخ کا بڑا عمل دخل ہوتا ہے۔ قوم یہود کی ہی مثال لیجیے جو حضرت سلیمان اور حضرت داوؑد علیھماالسلام کے دور میں دنیا کی سپر پاور تھے اب اس دور کو گزرے ہوئے ہزاروں سال بیت چکے ہیں لیکن ابھی تک اس دور کی یاد ان کے دلوں میں زندہ ہے اور آج بھی دنیا بھر کے یہودی اپنی اس کھوئی ہوئی شان و شوکت کو دوبارہ حاصل کرنے کے لئے تگ و دو کررہے ہیں ۔زیر تبصرہ کتاب "البیرونی کا ہندوستان ،قدیم ہندوستان کی تہذیب وثقافت کی مستند تاریخ"قیام الدین احمد کی تالیف ہے ،جس کا اردو ترجمہ عبد الحی صاحب نے کیا ہے۔اس کتاب میں مولف نے  معروف مسلمان سائنس دان البیرونی کے زمانے  کی ہندوستانی تہذیب ، ثقافت اور یہاں کے رہنے والے لوگوں کے عقائد ونظریات پر مفصل گفتگو کی ہے۔البیرونی کا زمانہ دسویں صدی عیسوی کا زمانہ ہے،جب یہاں سامانی سلاطین کی حکومت تھی۔البیرونی 973 عیسوی میں خوارزم کے مضافات میں پیدا ہوئے۔بیرون شہر پیدا...

  • دینی مدارس  کے طلباء ،اساتذہ ،علمائے کرام  ،مشائخ عظام اصحاب صفہ او رعلوم نبویﷺ کے وارث اور امین ہیں ۔ یہی  مدارس دینِ اسلام  کے وہ قلعے ہیں جہاں سے قال اللہ  قال الرسول ﷺکی پاکیزہ صدائیں دن رات گونجتی ہیں ۔ روزِ اول سے   دینِ اسلام کا تعلق تعلیم  وتعلم اور درس وتدریس سے  رہا ہے  ۔نبی  کریم ﷺ پر سب سے پہلے جو  وحی  نازل  ہوئی وہ تعلیم سے متعلق تھی۔ اس وحی کے ساتھ ہی رسول اللہﷺ نےایک صحابی ارقم بن ابی ارقم  کے گھر میں دار ارقم  کے  نام سے    ایک مخفی مدرسہ قائم کیا ۔صبح  وشام کے اوقات میں  صحابہ  کرام  وہاں مخفی انداز میں آتے اور قرآن مجید کی تعلیم حاصل کرتے تھے  یہ اسلام کی سب سے  پہلی درس گاہ تھی۔ہجرت کے بعدمدینہ منورہ میں جب اسلامی ریاست  کاقیام عمل میں آیا  تو وہاں سب سے  پہلے  آپﷺ نے مسجد تعمیر کی  جو مسجد نبوی کے نام سے موسوم ہے  ۔اس کے  ایک جانب آپ نے  ایک چبوترا(صفہ) بھی تعمیر کرایا ۔ یہاں بیٹھ کر آپﷺ  مقامی وبیرونی  صحابہ کرام  کو قرآن مجید اور دین  کی تعلیم دیتے  تھے ۔یہ اسلام کاپہلا باقاعدہ اقامتی  مدرسہ تھا جو تاریخ  میں  اصحاب صفہ کے نام سے معروف  ہے  ۔ یہاں سے مسجد اور مدرسہ  کا ایسا تلازمہ قائم ہواکہ  پھر جہاں جہاں مسجد یں قائم ہوتی گئیں وہاں  ساتھ ہی مدرسے بھی قائم ہوتے گئے ۔اسلامی تاریخ    ایسے مدارس ا...

  • 8 برصغیر میں اسلام کے اولین نقوش (ہفتہ 15 فروری 2014ء)

    مشاہدات:16014

    تاریخ اور جغرافیہ کی قدیم عربی کتب کےمطالعے سےاندازہ ہوتا ہے کہ خطہ برصغیر جہاں علم و فضل کے اعتبار سے انتہائی سرسبز و شاداب ہے وہیں اسے یہ شرف بھی حاصل ہے کہ اس میں اصحاب رسول صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لائے، تابعین اور تبع تابیعین نے اس سرزمین پر قال اللہ و قال الرسول کی صدائیں بلند کیں۔ زیر نظر کتاب میں انھی مقدس ہستیوں کا تذکرہ کیا گیا ہے جو برصغیر میں تشریف لائیں۔ جس میں پچیس صحابہ کرام، بیالیس تابعین اور اٹھارہ تبع تابعین کا تذکرہ کیا گیا ہے اور ان کے وہ حالات بیان کیے گئے ہیں جو برصغیر سے متعلق مصنف کے علم و مطالعہ میں آئے۔ مولانا اسحاق بھٹی ادیب آدمی ہیں ان کے بیان کردہ تاریخی واقعات میں بھی ادب کی گہری چاشنی ہے۔ تمام حالات و واقعات حتی المقدور باحوالہ بیان کیے گئے ہیں۔ (ع۔م)
     

  • 9 برصغیر پاک و ہند کے چند تاریخی حقائق (پیر 20 فروری 2017ء)

    مشاہدات:2066

    اکابر علمائے اہل حدیث نے ہندوستان کی تحریک آزادی میں نمایاں خدمات اور ہندوستان کی سرزمین سےبرطانوی سامران کو نکالنے کےلیےگراں قدر خدمات سرانجام دیں۔کئی علماء اہل حدیث مجاہدین ہندوستان کے قائد رہے اور جماعت المجاہدین کےاعلیٰ عہدوں پر بھی سرفراز رہے ۔ان کے مجاہدانہ کارناموں کے جرم میں گورنمنٹ برطانیہ نے انہیں جزائرانڈیمان (کالاپانی ) کی سزا سنائی۔مولانا ولایت علی صادق پوری، مولانا عنایت علی ، مولانا عبد اللہ ، مولانا عبد الکریم ﷭ وغیرہم جماعت مجاہدین کے امیربنے۔انگریز دشمنی میں یہ خاندان خصوصی شہرت رکھتا تھا۔ سیّد احمد شہید کے شہادت کے بعد اسی خاندان کے معزز اراکین نے تحریک جہاد کی باگ دوڑ سنبھالی۔ اندرونِ ہند بھی اسی خاندان کے دیگر اراکین نے تحریک کی قیادت کی ذمہ داریاں سنبھالیں۔ مولانا یحیٰ علی ، مولانا احمد اللہ ، مولانا عبد الرحیم عظیم آبادی کو اسی پاداش میں کالا پانی کی سزا ہوئی۔ انگریزوں نے ان پر سازش کے مقدمات قائم کیے۔معروف مقدمہ انبالہ بھی مجاہدین کے ساتھ تعاون کرنے پر مولانا عبد الرحیم عظیم آبادی کے خلاف کیا گیا۔ جائیدادوں کی ضبطی ہوئی۔ حتیٰ کہ خاندانی قبرستان تک کو مسمار کر دیا گیا۔ ان کی مجاہدانہ ترکتازیوں کا اعتراف ہر طبقہ فکر نے کیا۔مولانا عبدالرحیم عظیم آبادی مسلک اہل حدیث کے عظیم سرخیل قائد جید عالم دین اور عظیم مجاہد تھے۔ آپ کی خدمات کا دائرہ بہت وسیع ہے۔ زیر تبصرہ کتاب ’’ برصغیر پاک وہند کے چند تاریخی حقائق‘‘ محترم محمداحسن اللہ ڈیانوی عظیم آبادی اور ان کے صاحبزادے محمد تنزیل الصدیقی الحسینی کی مشترکہ کاوش ہے...

  • 10 برصغیر کے منفرد حکمران (بدھ 02 مئی 2018ء)

    مشاہدات:1070

    برصغیر میں ایک ہزار برس تک مختلف مسلمان حکمرانوں نے حکومت کی۔ لیکن ان میں سے کچھ ایسے تھے جن کی شخصیت وکردار میں کسی اعتبار سے انفرادیت تھی۔ اپنی ذاتی کاوشوں سے وہ ممتاز ومنفرد ثابت ہوئے یا پھر ان کے منفرد کردار نے برصغیر کی تاریخ کا دھارا موڑ دیا۔ یہ تمام حکمران باہمت‘ بیدار مغز‘ قوت عمل کے مالک اور تعصب سے پاک تھے۔ ان تمام حکمرانوں کو زبر دست مشکلات ومصائب کا سامنا کرنا پڑا۔ لیکن انہوں نے مخالفتوں‘ ناکامیوں اور حوصلہ شکن حالات میں ہمت نہ ہاری اور مسلسل جدوجہد کی بدولت آخر کار مثالی کامیابی سے ہمکنار ہوئے ۔زیرِ تبصرہ کتاب بچوں کے لیے خاص طور پر افادہ کے لیے لکھی گئی ہے کیونکہ اس کتاب سے پہلے بچوں کے لیے ایسی کتاب موجود نہ تھی جس میں برصغیر کے ایک سے زیادہ حکمرانوں کے حالات زندگی اختصار کے ساتھ موجود ہوں۔ اپنی تاریخ سے آگاہی کے لیے طویل اور غیر ضروری تفصیلات پر مبنی واقعات پر مشتمل بہت سی کتب تھیں لیکن بچوں کے لیے انہیں پڑھنا آسان نہ تھا جس کی وجہ سے یہ  کتاب اختصار کا مرقع ہے۔ اس کتاب میں پہلا تذکرہ محمود غزنوی کا ہے اس کے بعد ظہیر الدین بابر‘ شیر شاہ سوری‘ جلال الدین اکبر‘ ٹیپو سلطان اور رضیہ سلطانہ جیسے حکمرانوں کا تذکرہ ہے۔ کتاب کا اسلوب نہایت عمدہ‘سادہ اور عام فہم ہے۔  یہ کتاب’’ برصغیر کے منفرد حکمران ‘‘آغا امیر حسین کی تصنیف کردہ ہے۔آپ تصنیف وتالیف کا عمدہ شوق رکھتے ہیں‘ اس کتاب کے علاوہ آپ کی درجنوں  کتب اور  بھی ہیں۔ دعا ہے کہ اللہ تع...

ایڈوانس سرچ

اعدادو شمار

  • آج کے قارئین: 944
  • اس ہفتے کے قارئین: 2662
  • اس ماہ کے قارئین: 39727
  • کل مشاہدات: 42984218

موضوعاتی فہرست

ای میل سبسکرپشن

محدث لائبریری کی اپ ڈیٹس بذریعہ ای میل وصول کرنے کے لئے ای میل درج کر کے سبسکرائب کے بٹن پر کلک کیجئے۔

رجسٹرڈ اراکین

ایڈریس

        99--جے ماڈل ٹاؤن،
        نزد کلمہ چوک،
        لاہور، 54700 پاکستان

       0092-42-35866396، 35866476، 35839404

       0092-423-5836016، 5837311

       library@mohaddis.com

       بنک تفصیلات کے لیے یہاں کلک کریں