• title
    عثمان بن محمد الناصری آل خمیس

    ’آئینہ ایام تاریخ‘ ایک ایسی کتاب ہے جس میں حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی بعثت سے لے کر واقعہ کربلا تک کے تمام چیدہ چیدہ واقعات کو غیر جانبداری اور صحت و سند کے ساتھ بیان کر کے ان تمام لوگوں کا مسکت جواب پیش کیا گیا ہے جو حب اہل بیت کے جام شیریں میں نفرت صحابہ کرام کازہر گھولنے میں مصروف ہیں۔ کتاب کو چار فصلوں میں تقسیم کیا گیا ہے پہلی فصل مطالعہ تاریخ کی کیفیت، امام طبری کے منہج اور اسلامی تاریخ میں سند کی اہمیت پر مشتمل ہے۔ دوسری فصل میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے سانحہ ارتحال 11 ھ سے لے کر 61 ھ تک رونما ہونے والے تمام واقعات پر بے لاگ تحقیق کی گئی ہے اور من گھڑت اور باطل روایات کو تنقید کا نشانہ بنایا گیا ہے۔ تیسری فصل میں عدالت صحابہ پر بحث کرتے ہوئے پھیلائے جانے والے تمام شبہات کا پردہ چاک کیا گیا ہے۔ چوتھی اور آخری فصل میں قضیہ خلافت کو موضوع بحث بنایا گیا ہے اور امامت علی رضی اللہ علیہ  پر شیعی دلائل کا تفصیلی جائزہ لیا گیا ہے۔ یقیناً یہ کتاب اپنے موضوع کےاعتبار سے ایک جامع، منفرد اور علمی تصنیف ہے۔

     

     

  • title-pages-azaadi-e-hind
    ابو الکلام آزاد
    مولانا ابو الکلام آزاد کسی تعارف کے محتاج نہیں ہے، وہ برصغیر پاک و ہند میں برطانوی اقتدار اور تقسیم ہند کے ایک اہم چشم دید گواہ ہیں۔ ایک زمانہ میں جناب ہمایوں کبیر صاحب نے مولانا سے درخواست کی کہ وہ انگریز سے ہندوستان کی آزادی کی تاریخ کو اپنے مشاہدات اور تجربات کی روشنی میں مرتب کریں تا کہ آئندہ نسل تک صحیح حقائق ایک مستند ذریعہ سے پہنچ سکیں تو مولانا نے پہلے تو اس سے معذرت کی لیکن پھر اصرار پر جناب ہمایوں کبیر صاحب کو آزادی ہند کی تاریخ زبانی مرتب کروائی جسے ہمایوں کبیر صاحب نے انگریزی میں "انڈیا ونس فریڈم' کے نام سے مرتب کیا اور اس کی نظر ثانی مولانا ابو الکلام رحمہ اللہ سے کروائی۔ بعد ازاں اس کتاب کا اردو ترجمہ بھی 'آزادی ہند' کے نام سے شائع کیا گیا ہے۔ اس کتاب میں تاریخی واقعات کے ساتھ ساتھ مولانا کے ذاتی نظریات اور افکار کا بیان بھی موجود ہے اگرچہ اس کتاب میں مولانا ابو الکلام آزاد رحمہ اللہ کے بیان کردہ جمیع تصورات سے اتفاق ممکن نہیں ہے لیکن اس کتاب کو شائع کرنے کا مقصد یہی تھا کہ اس کتاب کا مولانا کے تصورات سے واقفیت کی بجائے ایک تاریخی ورثہ کے طور پر مطالعہ کیا جائے تا کہ تاریخ کے ایک طالب علم کو حقائق و نتائج کے جاننے میں ایک مستند مصدر و ماخذ فراہم کر دیا جائے۔(ت۔م)

    نوٹ:
    محدث فورم میں اس کتاب پر تبصرہ کرنے کے لیے یہاں کلک کریں

  • title-pages-ibne-rushad-sawanih-umri-ilme-kalam-aur-falsfa
    پروفیسر محمد یونس انصاری
    ابن رشد کے تعارف کے لیے اس کی فقید المثال تصنیف ’بدایۃالمجتہد و نہایۃ المقتصد‘ ہی کافی ہے۔ لیکن ابن رشد کی دیگر تصنیفات کا جائزہ لیاجائے تواندازہ ہوتا ہے کہ اس نے فلسفہ، طب، فقہ و اصول فقہ، علم کلام، علم ہیئت، علم نحو الغرض کسی بھی علمی موضوع کو تشنہ نہیں چھوڑا اور ہر موضوع پر یادگار تصانیف چھوڑی ہیں۔ زیر نظر کتاب میں اسی شخصیت کی سوانح عمری کو قلمبند کیا گیا ہے۔ اس کے علم کلام ، ا س کے فلسفے، اس کے فلسفے پر ناقدانہ تبصرہ کرتے ہوئے یورپ میں اس کے فلسفہ کی اشاعت و تاریخ کا احوال بیان کیا گیا ہے۔ یہ کتاب نہ صرف ابن رشد کے احوال و سوانح اور اس کے علوم و مسائل کے تذکرہ پر مشتمل ہے بلکہ اس میں مسلمانوں کے علم کلام اور علم فلسفہ کی تاریخ و تنقید بھی ہے۔ نیز اس میں اسلامی علوم و فنون کی ترقی واشاعت کے واقعات کی پوری تشریح بھی ہے۔ اس کتاب سے یہ بھی معلوم ہوگا کہ ابن رشد صرف فلسفی نہ تھا بلکہ ایک نقاد و متکلم اور ایک نکتہ سنج فقیہ بھی تھا۔ (عین۔ م)

    نوٹ:
    محدث فورم میں اس کتاب پر تبصرہ کرنے کے لیے یہاں کلک کریں

  • title-pages-ihsas-k-ansu-copy
    نعیم احمد بلوچ

    سیدنا  یونس ﷤کا واقعہ جس کا کچھ حصہ تو خود قرآن میں مذکور ہے اور کچھ روایاتِ حدیث و تاریخ سے ثابت ہے، وہ یہ ہے کہ حضرت یونس ﷤کی قوم عراق میں موصل کے مشہور مقام نینوی ٰمیں بستے تھے، ان کی ہدایت کے لئے اللہ تعالیٰ نے  حضرت یونس﷤کو بھیجا، انھوں نے ایمان لانے سے انکار کیا،اللہ  تعالیٰ نے یونس ﷤کو حکم دیا کہ ان لوگوں کو آگاہ کردو کہ تین دن کے اندر اندر تم پر عذاب آنے والا ہے، حضرت یونس ﷤ نے قوم میں اس کا اعلان کردیا، قوم یونس نے آپس میں مشورہ کیا تو اس پر سب کا اتفاق ہوا کہ ہم نے کبھی یونس ﷤کو جھوٹ بولتے نہیں دیکھا اس لئے ان کی بات نظر انداز کرنے کے قابل نہیں، مشورہ میں یہ طے ہوا کہ یہ دیکھا جائے کہ یونس ﷤ رات کو ہمارے اندر اپنی جگہ مقیم رہتے ہیں تو سمجھ لو کہ کچھ نہیں ہوگا، اور اگر وہ یہاں سے کہیں چلے گئے تو یقین کر لو کہ صبح کو ہم پر عذاب آئے گا، حضرت یونس رات کو اس بستی سے نکل گئے، صبح ہوئی تو عذابِ الٰہی ایک سیاہ دھوئیں اور بادل کی شکل میں ان کے سروں پر منڈلانے لگا اور فضاء آسمانی سے نیچے ان کے قریب ہونے لگا تو ان کو یقین ہوگیا کہ اب ہم سب ہلاک ہونے والے ہیں، یہ دیکھ کر حضرت یونس ﷤ کو تلاش کیا کہ ان کے ہاتھ پر مشرف بایمان ہوجائیں اور پچھلے انکار سے توبہ کرلیں مگر یونس ﷤کو نہ پایا تو خود ہی اخلاصِ نیت کے ساتھ توبہ و استغفار میں لگ گئے، بستی سے ایک میدان میں نکل آئے، عورتیں بچے اور جانور سب اس میدان میں جمع کردئے گئے، ٹاٹ کے کپڑے پہن کر عجز و زاری کے ساتھ اس میدان میں توبہ کرنے اور عذاب سے پناہ مانگنے میں اس طرح مشغول ہوئے کہ پورا میدان آہ و بکا سے گونجنے  لگا، اللہ تعالیٰ نے ان کی توبہ قبول فرمالی اور عذاب ان سے ہٹا دیا۔ سیدنا یونس  ﷤ کاقصہ کئی حوالوں سے منفرد ہے  ۔ ایک یہ کہ  حصرت یونس ﷤ کی قوم دنیا کی واحد قوم ہے  جسے عذاب کے وقت تو بہ نصیب ہوئی۔ اس قصے کی دوسری انفرادیت یونس ﷤ کی شخصیت ہے ۔ ان پر جب قوم کا ایک بھی فرد ایمان  نہ لایا توہ غیرتِ حق میں آکر وقت سےپہلے  اپنی بستی چھوڑ کرچلے گئے۔اس سےاس عظیم قصے کوایک نیا رخ ملا۔ زیرتبصرہ کتابچہ  سیدنا یونس ﷤ کے قصے پر مشتمل  ہے  اس کتاب میں اس  قصے کوایک کہانی کی صورت میں بیان کیا گیا ہے۔ اور عام طور پر  سیدنا یونس﷤ کی بھول کے حوالے سے  طرح طرح کی باتیں بنائی جاتی ہیں ۔ اس کتاب میں ان تمام غلط فہمیوں کودور کیاگیا ہے ۔اورسید نا یونس ﷤  سےایسی کسی بات کو منسوب نہیں کیا گیا جس کاقرآن وحدیث اوردوسری الہامی کتب میں حوالہ نہ ملتا ہو۔اشاعت  کتب کے عالمی ادارے ’’دار السلام ‘‘ نےانبیاء کے  واقعات  وقصص کو   بچوں کے لیے کہانیوں کی صورت میں شائع کیا ہے یہ  کتاب بھی اسی سلسلہ  کا حصہ ہے ۔ اللہ تعالیٰ  ناشرین کی اس عمدہ کاوش کوقبول فرمائے (آمین) (م۔ا)

  • title-pages-ahyae-deen-aur-hindustani-ulma-copy
    ڈاکٹر عبیداللہ فہد فلاحی

    اسلام اپنے ماننے والوں سے مکمل سپردگی اور کامل اطاعت کا مطالبہ کرتا ہے۔مسجد سے بازار تک، مدرسہ سے اسمبلی تک ہر جگہ شریعت کے احکام کی مخلصانہ پیروی اور اللہ کی مرضی کے سامنے سر تسلیم خم کرنا مطلوب ہے۔دین میں کسی کتر بیونت، کانٹ چھانٹ کی اجازت ہر گز نہیں ہے۔عبادات مشروعہ میں کامل انہماک، اخبات وانابت اور اخلاص وللہیت بدرجہ اولی ہر مومن پر واجب ہے۔اسلام، ایمان اور احسان کے ارتقائی مراحل طے کر کے ہی بندہ مومن خدا رسیدہ بنتا ہےاور اخروی انعامات کا مستحق قرار پاتا ہے۔بالکل اسی طرح   دین کی دعوت واقامت، تجدید واصلاح، معاشرہ میں اسلام کے احیا وغلبہ کی منصوبہ بندی،منکر کو روکنے کی جدوجہد، طاغوت کو جڑ سے اکھاڑنے کی کوشش اور اسلام دشمن طاقتوں کے خلاف معرکہ آرائی بھی بندہ مومن کے فرائض میں شامل ہے۔ زیر تبصرہ کتاب" احیائے دین اور ہندوستانی علما، نظریاتی تفسیر اور عملی جد وجہد"علیگڑھ مسلم یونیورسٹی کے شعبہ اسلامک اسٹڈیز کے پروفیسر محترم ڈاکٹر عبید اللہ فہد فلاحی کی تصنیف ہے جس میں انہوں نے احیائے دین کے سلسلے میں نظریاتی تفسیر اور عملی میدان میں ہندوستانی علماء کی خدمات پر روشی ڈالی ہے۔(راسخ)

  • asbab-e-zawal-e-ummat
    علامہ شکیب ارسلان

    تاریخی حقائق اس بات کے گواہ ہیں  کہ جب قرون اولیٰ کے مسلمانوں  نے اسلامی اصولوں  کو اپنا شعاربنا کر عملی میدان میں  قدم رکھا تو دیکھتے ہی دیکھتے پوری دنیا کو زیر نگین کرلیا۔مسلمان دانشوروں ، سکالروں  اور سائنسدانوں  نے علم و حکمت کے خزانوں  کو صرف اپنی قوم تک محدود نہیں  رکھابلکہ دنیا کی پسماندہ قوموں  کو بھی استفادہ کرنے کا موقعہ فراہم کیا۔ چنانچہ اس وقت کی پسماندہ قوموں  نے جن میں  یورپ قابل ذکر ہے مسلمان سکالروں  سے سائنس اورفلسفہ کے علوم بدرس حاصل کئے۔یورپ کے سائنسدانوں  نے اسلامی دانش گاہوں  سے باقاعدہ تعلیم حاصل کرلی اور یورپ کو نئے علوم سے روشناس کیا۔حیرت کی بات ہے کہ وہی مسلم ملت جس نے دنیا کو ترقی اور عروج کا سبق پڑھایا آج انحطاط کا شکار ہے۔ جس قوم نے علم و حکمت کے دریا بہا دیئے آج ایک ایک قطرے کے لئے دوسرے اقوام کی محتاج ہے۔ وہی قوم جو دنیا کی عظیم طاقت بن کر ابھری تھی آج ظالم اور سفاک طاقتوں  کے سامنے بے بس نظر آرہی ہے۔ یہ اتنا بڑا تاریخی سانحہ ہے جس کے مضمرات کاجاننا امت مسلمہ کے لئے نہایت ضروری ہے۔زیر تبصرہ کتاب(اسباب زوال امت) شام کے معروف سیاح،تجزیہ کار اور حالات پر نظر رکھنے والے امیر البیان علامہ امیر شکیب ارسلان ﷫کی کاوش ہے،جس کا اردو ترجمہ ڈاکٹر احسان بک سامی حقی﷫ نے کیا ہے۔مولف ﷫نے اس میں امت مسلمہ کے زوال کے اسباب بیان کئے ہیں،جو انہوں نے مختلف ممالک کی سیاحت کے دوران ملاحظہ فرمائے۔اس کتاب کو لکھنے کا ان کا مقصد غفلت کی نیند سوئی ہوئی امت مسلمہ کو جگانا اور بیدار کرنا ہے ،اور اسے اس کی ذمہ داریوں کا احساس دلانا ہے۔اللہ تعالی مولف کے اس جذبے کو قبول فرمائے اور امت مسلمہ کی اصلاح فرمائے۔آمین(راسخ)

  • title-pages-istaqbaliya-w-sadarti-khatabat-copy
    محمد اسحاق بھٹی

    قیامِ پاکستان کے بعد مسلک کے عنوان پر  سب سے پہلی غیر سیاسی تنظیم مرکزی جمعیت اہل حدیث  ہے اور مرکزی جمعیت اہل حدیث پاکستان وطن عزیز کی وہ اولین تنظیم ہے جس نے وعظ وتبلیغ اور تحریر وتصنیف سےاسلام کے چشمۂ صافی کے آبِ حیات کے جام سرعام لنڈھائے اور تشنگان دین وعمل کی سرابی کا فریضہ انجام دیتی رہی ۔ مرکزی جمعیت اہل حدیث پاکستان کے تحت  سال دو سال کےبعد کسی شہر میں ایک کانفرنس کا انعقاد   عمل میں لایا جاتا جس کی میزبانی کےلیے ہرشہر  کی جماعت کا ہر شخص مستعد ہوتا اسے جمعیت اہل حدیث کی سالانہ کانفرنس کا نام دیا جاتا۔ ہر کانفرنس کا صدر استقبالیہ کانفرنس کےپہلے اجلاس میں شہر انعقاد سے متعلقہ تاریخی ، جغرافیائی اور مسلکی خدمات کا تذکرہ کرتا اور اپنے رفقائے کار کی طرف سے مہمانوں کو خوش آمدید کہتا۔کانفرنس کی صدارت کےلیے  ہر دفعہ ملکی سطح کی کسی اہم علمی اور خاندانی شخصیت کو منتخب کر کے ان کی خدمت میں صدارت قبول کرنے کی درخواست کی جاتی ۔صدارت کااعزاز قبول کرنے والے حضرات ِ گرامی کانفرنس کے لیے پہلے اجلاس کی صدارت بایں انداز فرماتے کہ خطبہ صدارت ارشاد فرماتے جس میں وہ مسلک کی حقانیت ، محدثین سےتعلق اوران کی خدمات کا تذکرہ بھی فرماتے۔مرکز کی افادیت ،اہمیت، خدمات اوراس کے مقاصد پر سیر حاصل تبصرہ بھی کرتے اوراصلاح واحوال کی تجاویزسے بھی  مرکزی جمعیت اہل حدیث کونوازتے ۔جماعت اہل حدیث کی اشاعتی خدمات ، رسائل وجرائد تو تاریخ میں  محفوظ ہوچکے ہیں ۔لیکن اس کی  تبلیغی خدمات کو  محفوظ کرنے کی ضرورت  تھی۔ زیر تبصرہ کتاب’’استقبالیہ وصدارتی خطبات‘‘ میں مولانا محمد اسحاق بھٹی ﷫ نے   دعوت وتبلیغ کی غرض سے  مرکزی  جمعیت کے تحت منعقد کی جانے والی تمام سالانہ  کانفرنسوں کے خطبہ ہائے صدارت واستقبالیہ  کو جمع کردیا ہے  موصوف نے  اولاً ان  خطبات کو تلاش کیا  مطبوعہ اور غیر مطبوعہ  خطبات میں طباعتی اغلاط درست کیں۔ پھر اپنی نگرانی میں ان کو کمپوزکرایا اور دوبارہ سہ بارہ ان کی تصحیح کی  تب کہیں جاکر یہ تاریخی دستاویز تیار ہوئی ہیں۔( م۔ا) 

  • untitled-1
    علی بن محمد الجزری
    صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین وہ پاک طینت ہستیاں ہیں جنہوں نے دین اسلام کی نشر و اشاعت میں کوئی دقیقہ فروگذاشت نہیں کیا اور دین اسلام کی شمع تاقیامت  روشن رکھنے کے لیے کسی بھی قسم کی قربانی دینے سے دریغ نہ کیا۔ زیر نظر کتاب ’اسد الغابۃ فی معرفۃ الصحابۃ‘ میں انہیں بزرگ ہستیوں کی زندگی کے لمحات کو الفاظ جامہ پہنایا گیا ہےتاکہ اہل اسلام ان کو سامنے رکھتے ہوئے اپنے لیے راہ عمل متعین کریں۔ اس کتاب میں ایسے ہزاروں صحابہ کرام کے حالات و واقعات بھی سامنے آگئے ہیں جن کے نام تک سے عموماً  لوگ ناواقف ہیں۔ ان کے تقوی و للہیت، صبرو استقامت، انکسار و تواضع اور جانبازی و خوش اخلاقی دیکھ کر اندازہ ہے کہ واقعتاً یہ لوگ اس قابل تھے کہ خدا تعالیٰ ان کو بیشتر دفعہ ’رضی اللہ عنہم و رضوا عنہ‘ کا سرٹیفیکیٹ دیتا۔ ان کی انہی خوبیوں کی وجہ سے آج تک فوز و سعادت کے چراغ روشن ہیں۔ اس کتاب کے مصنف علامہ ابن اثیرعلی نب محمد الجزری ہیں جو ثقاہت و عدالت سے متصف اور حفظ و ضبط کے خصائص سے بہرہ مند ہیں۔ انہوں نے اس کتاب میں صحابہ کرام کے تذکرے حروف تہجی کے اعتبار سے مرتب کیے ہیں۔ مولانا کی تالیف کردہ عربی کتاب آٹھ حصوں پر مشتمل تھی جس کے پہلے سات حصوں کا اردو ترجمہ انڈیا کے عالم دین مولانا عبدالشکور فاروقی نے کیا ہے جبکہ آٹھویں اور آخری حصے کا ترجمہ مختلف علما نے مل کر کیا ہے۔ یہ کتاب اصحاب رسولﷺ کے حالات و واقعات پر ایک اساسی تالیف ہے اور گویا ایک انسائیکلوپیڈیا کی حیثیت رکھتی ہے۔

  • untitled-1
    علی بن محمد الجزری
    صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین وہ پاک طینت ہستیاں ہیں جنہوں نے دین اسلام کی نشر و اشاعت میں کوئی دقیقہ فروگذاشت نہیں کیا اور دین اسلام کی شمع تاقیامت  روشن رکھنے کے لیے کسی بھی قسم کی قربانی دینے سے دریغ نہ کیا۔ زیر نظر کتاب ’اسد الغابۃ فی معرفۃ الصحابۃ‘ میں انہیں بزرگ ہستیوں کی زندگی کے لمحات کو الفاظ جامہ پہنایا گیا ہےتاکہ اہل اسلام ان کو سامنے رکھتے ہوئے اپنے لیے راہ عمل متعین کریں۔ اس کتاب میں ایسے ہزاروں صحابہ کرام کے حالات و واقعات بھی سامنے آگئے ہیں جن کے نام تک سے عموماً  لوگ ناواقف ہیں۔ ان کے تقوی و للہیت، صبرو استقامت، انکسار و تواضع اور جانبازی و خوش اخلاقی دیکھ کر اندازہ ہے کہ واقعتاً یہ لوگ اس قابل تھے کہ خدا تعالیٰ ان کو بیشتر دفعہ ’رضی اللہ عنہم و رضوا عنہ‘ کا سرٹیفیکیٹ دیتا۔ ان کی انہی خوبیوں کی وجہ سے آج تک فوز و سعادت کے چراغ روشن ہیں۔ اس کتاب کے مصنف علامہ ابن اثیرعلی نب محمد الجزری ہیں جو ثقاہت و عدالت سے متصف اور حفظ و ضبط کے خصائص سے بہرہ مند ہیں۔ انہوں نے اس کتاب میں صحابہ کرام کے تذکرے حروف تہجی کے اعتبار سے مرتب کیے ہیں۔ مولانا کی تالیف کردہ عربی کتاب آٹھ حصوں پر مشتمل تھی جس کے پہلے سات حصوں کا اردو ترجمہ انڈیا کے عالم دین مولانا عبدالشکور فاروقی نے کیا ہے جبکہ آٹھویں اور آخری حصے کا ترجمہ مختلف علما نے مل کر کیا ہے۔ یہ کتاب اصحاب رسولﷺ کے حالات و واقعات پر ایک اساسی تالیف ہے اور گویا ایک انسائیکلوپیڈیا کی حیثیت رکھتی ہے۔

  • untitled-1
    علی بن محمد الجزری
    صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین وہ پاک طینت ہستیاں ہیں جنہوں نے دین اسلام کی نشر و اشاعت میں کوئی دقیقہ فروگذاشت نہیں کیا اور دین اسلام کی شمع تاقیامت  روشن رکھنے کے لیے کسی بھی قسم کی قربانی دینے سے دریغ نہ کیا۔ زیر نظر کتاب ’اسد الغابۃ فی معرفۃ الصحابۃ‘ میں انہیں بزرگ ہستیوں کی زندگی کے لمحات کو الفاظ جامہ پہنایا گیا ہےتاکہ اہل اسلام ان کو سامنے رکھتے ہوئے اپنے لیے راہ عمل متعین کریں۔ اس کتاب میں ایسے ہزاروں صحابہ کرام کے حالات و واقعات بھی سامنے آگئے ہیں جن کے نام تک سے عموماً  لوگ ناواقف ہیں۔ ان کے تقوی و للہیت، صبرو استقامت، انکسار و تواضع اور جانبازی و خوش اخلاقی دیکھ کر اندازہ ہے کہ واقعتاً یہ لوگ اس قابل تھے کہ خدا تعالیٰ ان کو بیشتر دفعہ ’رضی اللہ عنہم و رضوا عنہ‘ کا سرٹیفیکیٹ دیتا۔ ان کی انہی خوبیوں کی وجہ سے آج تک فوز و سعادت کے چراغ روشن ہیں۔ اس کتاب کے مصنف علامہ ابن اثیرعلی نب محمد الجزری ہیں جو ثقاہت و عدالت سے متصف اور حفظ و ضبط کے خصائص سے بہرہ مند ہیں۔ انہوں نے اس کتاب میں صحابہ کرام کے تذکرے حروف تہجی کے اعتبار سے مرتب کیے ہیں۔ مولانا کی تالیف کردہ عربی کتاب آٹھ حصوں پر مشتمل تھی جس کے پہلے سات حصوں کا اردو ترجمہ انڈیا کے عالم دین مولانا عبدالشکور فاروقی نے کیا ہے جبکہ آٹھویں اور آخری حصے کا ترجمہ مختلف علما نے مل کر کیا ہے۔ یہ کتاب اصحاب رسولﷺ کے حالات و واقعات پر ایک اساسی تالیف ہے اور گویا ایک انسائیکلوپیڈیا کی حیثیت رکھتی ہے۔

  • untitled-1
    علی بن محمد الجزری
    صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین وہ پاک طینت ہستیاں ہیں جنہوں نے دین اسلام کی نشر و اشاعت میں کوئی دقیقہ فروگذاشت نہیں کیا اور دین اسلام کی شمع تاقیامت  روشن رکھنے کے لیے کسی بھی قسم کی قربانی دینے سے دریغ نہ کیا۔ زیر نظر کتاب ’اسد الغابۃ فی معرفۃ الصحابۃ‘ میں انہیں بزرگ ہستیوں کی زندگی کے لمحات کو الفاظ جامہ پہنایا گیا ہےتاکہ اہل اسلام ان کو سامنے رکھتے ہوئے اپنے لیے راہ عمل متعین کریں۔ اس کتاب میں ایسے ہزاروں صحابہ کرام کے حالات و واقعات بھی سامنے آگئے ہیں جن کے نام تک سے عموماً  لوگ ناواقف ہیں۔ ان کے تقوی و للہیت، صبرو استقامت، انکسار و تواضع اور جانبازی و خوش اخلاقی دیکھ کر اندازہ ہے کہ واقعتاً یہ لوگ اس قابل تھے کہ خدا تعالیٰ ان کو بیشتر دفعہ ’رضی اللہ عنہم و رضوا عنہ‘ کا سرٹیفیکیٹ دیتا۔ ان کی انہی خوبیوں کی وجہ سے آج تک فوز و سعادت کے چراغ روشن ہیں۔ اس کتاب کے مصنف علامہ ابن اثیرعلی نب محمد الجزری ہیں جو ثقاہت و عدالت سے متصف اور حفظ و ضبط کے خصائص سے بہرہ مند ہیں۔ انہوں نے اس کتاب میں صحابہ کرام کے تذکرے حروف تہجی کے اعتبار سے مرتب کیے ہیں۔ مولانا کی تالیف کردہ عربی کتاب آٹھ حصوں پر مشتمل تھی جس کے پہلے سات حصوں کا اردو ترجمہ انڈیا کے عالم دین مولانا عبدالشکور فاروقی نے کیا ہے جبکہ آٹھویں اور آخری حصے کا ترجمہ مختلف علما نے مل کر کیا ہے۔ یہ کتاب اصحاب رسولﷺ کے حالات و واقعات پر ایک اساسی تالیف ہے اور گویا ایک انسائیکلوپیڈیا کی حیثیت رکھتی ہے۔
  • untitled-1
    علی بن محمد الجزری
    صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین وہ پاک طینت ہستیاں ہیں جنہوں نے دین اسلام کی نشر و اشاعت میں کوئی دقیقہ فروگذاشت نہیں کیا اور دین اسلام کی شمع تاقیامت  روشن رکھنے کے لیے کسی بھی قسم کی قربانی دینے سے دریغ نہ کیا۔ زیر نظر کتاب ’اسد الغابۃ فی معرفۃ الصحابۃ‘ میں انہیں بزرگ ہستیوں کی زندگی کے لمحات کو الفاظ جامہ پہنایا گیا ہےتاکہ اہل اسلام ان کو سامنے رکھتے ہوئے اپنے لیے راہ عمل متعین کریں۔ اس کتاب میں ایسے ہزاروں صحابہ کرام کے حالات و واقعات بھی سامنے آگئے ہیں جن کے نام تک سے عموماً  لوگ ناواقف ہیں۔ ان کے تقوی و للہیت، صبرو استقامت، انکسار و تواضع اور جانبازی و خوش اخلاقی دیکھ کر اندازہ ہے کہ واقعتاً یہ لوگ اس قابل تھے کہ خدا تعالیٰ ان کو بیشتر دفعہ ’رضی اللہ عنہم و رضوا عنہ‘ کا سرٹیفیکیٹ دیتا۔ ان کی انہی خوبیوں کی وجہ سے آج تک فوز و سعادت کے چراغ روشن ہیں۔ اس کتاب کے مصنف علامہ ابن اثیرعلی نب محمد الجزری ہیں جو ثقاہت و عدالت سے متصف اور حفظ و ضبط کے خصائص سے بہرہ مند ہیں۔ انہوں نے اس کتاب میں صحابہ کرام کے تذکرے حروف تہجی کے اعتبار سے مرتب کیے ہیں۔ مولانا کی تالیف کردہ عربی کتاب آٹھ حصوں پر مشتمل تھی جس کے پہلے سات حصوں کا اردو ترجمہ انڈیا کے عالم دین مولانا عبدالشکور فاروقی نے کیا ہے جبکہ آٹھویں اور آخری حصے کا ترجمہ مختلف علما نے مل کر کیا ہے۔ یہ کتاب اصحاب رسولﷺ کے حالات و واقعات پر ایک اساسی تالیف ہے اور گویا ایک انسائیکلوپیڈیا کی حیثیت رکھتی ہے۔

  • untitled-1
    علی بن محمد الجزری
    صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین وہ پاک طینت ہستیاں ہیں جنہوں نے دین اسلام کی نشر و اشاعت میں کوئی دقیقہ فروگذاشت نہیں کیا اور دین اسلام کی شمع تاقیامت  روشن رکھنے کے لیے کسی بھی قسم کی قربانی دینے سے دریغ نہ کیا۔ زیر نظر کتاب ’اسد الغابۃ فی معرفۃ الصحابۃ‘ میں انہیں بزرگ ہستیوں کی زندگی کے لمحات کو الفاظ جامہ پہنایا گیا ہےتاکہ اہل اسلام ان کو سامنے رکھتے ہوئے اپنے لیے راہ عمل متعین کریں۔ اس کتاب میں ایسے ہزاروں صحابہ کرام کے حالات و واقعات بھی سامنے آگئے ہیں جن کے نام تک سے عموماً  لوگ ناواقف ہیں۔ ان کے تقوی و للہیت، صبرو استقامت، انکسار و تواضع اور جانبازی و خوش اخلاقی دیکھ کر اندازہ ہے کہ واقعتاً یہ لوگ اس قابل تھے کہ خدا تعالیٰ ان کو بیشتر دفعہ ’رضی اللہ عنہم و رضوا عنہ‘ کا سرٹیفیکیٹ دیتا۔ ان کی انہی خوبیوں کی وجہ سے آج تک فوز و سعادت کے چراغ روشن ہیں۔ اس کتاب کے مصنف علامہ ابن اثیرعلی نب محمد الجزری ہیں جو ثقاہت و عدالت سے متصف اور حفظ و ضبط کے خصائص سے بہرہ مند ہیں۔ انہوں نے اس کتاب میں صحابہ کرام کے تذکرے حروف تہجی کے اعتبار سے مرتب کیے ہیں۔ مولانا کی تالیف کردہ عربی کتاب آٹھ حصوں پر مشتمل تھی جس کے پہلے سات حصوں کا اردو ترجمہ انڈیا کے عالم دین مولانا عبدالشکور فاروقی نے کیا ہے جبکہ آٹھویں اور آخری حصے کا ترجمہ مختلف علما نے مل کر کیا ہے۔ یہ کتاب اصحاب رسولﷺ کے حالات و واقعات پر ایک اساسی تالیف ہے اور گویا ایک انسائیکلوپیڈیا کی حیثیت رکھتی ہے۔

  • title-pages-islam-ka-nazriya-e-tareekh-copy
    محمد مظہر الدین صدیقی

    افراد اور اقوام کی زندگی میں جو انقلابات اور تغیرات واقع ہوتے ہیں، ان سے بظاہر یہ محسوس ہوتا ہے کہ انسان اپنے مستقبل کی تعمیر وتشکیل اور اپنی قسمت کے بناؤ بگاڑ پر قادر نہیں ہے۔ہر فرد اور ہر قوم کی کوشش ہوتی ہے کہ وہ اپنی موجودہ حالت سے آگے کی جانب قدم نہ  بڑھا سکے تو کم از کم پیچھے ہٹنے پر بھی مجبور نہ ہو۔اگر ترقی  اور اصلاح کی منازل طے نہ کر سکے تو اپنے آپ کو پستی اور ذلت سے محفوظ رکھے۔لیکن اس قسم کی کوششیں بارہا ناکام ہو جاتی ہیں۔افراد پر خوشحالی  اور آسودگی کے بعد اکثر اوقات تنگی اور افلاس کا دور آ جاتا ہے۔قومیں عروج وترقی کے بعد محکومی اور ذلت میں مبتلا ہو جاتی ہیں۔اسی تغیر حال اور انقلاب کیفیت کی طرف اشارہ کرتے ہوئے قرآن مجید فرماتا ہے:وتلک الایام نداولھا بین الناس(3:140)اور یہ زمانہ کے انقلابات ہیں جن کو ہم لوگوں میں گردش دیتے رہتے ہیں۔لیکن جب کسی گروہ یا خاندان پر خوشحالی اور قوت واقتدار کا ایک طویل دور گزر جاتا ہے تو اس کے افراد اس دھوکہ میں مبتلا ہو جاتے ہیں کہ ان کی یہ صورت حال ہمیشہ باقی رہے گی اور ان کی حکومت کبھی ختم نہ ہوگی۔اور اگر کبھی شکست کا دور آ جائے تو اسے ایسے اسباب سے نتھی کر دیتے ہیں  جن کا اس سے کوئی تعلق نہیں ہوتا۔ زیر تبصرہ کتاب" اسلام کا نظریہ تاریخ "محترم محمد مظہر الدین صدیقی کی تصنیف ہے ، جس میں انہوں نے اقوام کے عروج وزوال کی اسی تاریخ کو بیان ہے کہ جب قومیں اللہ کی نافرمانی کرتی ہیں تو اللہ تعالی انہیں پستی میں مبتلا کر دیتے ہیں۔اللہ تعالی سے دعا ہے کہ وہ مولف کی اس محنت کو اپنی بارگاہ میں قبول فرمائے اور ان کے میزان حسنات میں اضافہ فرمائے اور تمام  مسلمانوں کو دنیا کی رہبری عطا فرمائے۔آمین (راسخ)

  • title-pages-islam-kaise-shuru-hwa-copy
    عبد الواحد سندھی

    اسلام دین فطرت ہے،جو تمام انسانوں اور جنوں کے لئے نازل کیا گیا ہے۔دین اسلام بلا تفریق سب کی ہدایت اور بھلائی کے لئے آیاہے،جس کی تعلیمات پر عمل کر کے رحمت الہی کا حصول ممکن ہوتا ہے۔اسلام کے متعدد محاسن اور بے شمار فوائد ہیں۔یہ عقل وفکر کو مخاطب کرتا ہے اور اسے مزید جلا بخشتا ہے۔یہ صلاحیتوں کو منظم کر کے انسانیت کی خدمت پر آمادہ کرتا ہے۔وحی کی روشنی میں عقل با بصیرت ہو جاتی ہے اور صرف دنیوی مفادات کے حصول کی بجائے آخرت کی تیاری میں مگن ہو جاتی ہے۔یہ اسلام ہی ہے جو نہ صرف اپنے ماننے والوں کو بلکہ اپنے منکرین کو بھی بحیثیت ان کے لا محدود حقوق ومراعات دیتا ہے ،بلکہ وہ تو حیوانات کے حقوق کا بھی پاسدار ہے اور چرند وپرند اور موسم کا بھی محافظ ہے۔اسلام نے زندگی مرد ،عورت ،غلام ،آزاد ،آقا ،غلام سمیت تمام کے حقوق وفرائض کا تفصیل سے تذکرہ کیاہے۔ زیر نظر کتاب" اسلام کیسے شروع ہوا؟" اسلام کے انہی عظیم الشان محاسن پر مشتمل ہے ،جو محترم عبد الواحد سندھی صاحب نے بچوں کی تعلیم وتربیت کے لئے ایک کہانی کے انداز میں مرتب فرمائی ہے،تاکہ وہ بڑے ہو کر عظیم اخلاق اور پختہ کردار کے علمبردار بن سکیں اور لوگوں کے لئے روشنی کا ایک مینار ہوں۔اللہ تعالی سے دعا ہے کہ وہ اس کتاب کو ہم سب مسلمانوں کے نافع ومفید بنائے،اور ہمیں بھی اسلام کے ان عظیم محاسن کو اپنے کی توفیق دے ۔آمین (راسخ)

  • title-pages-islami-bom-ka-khaliq-kon-copy
    مبین غزنوی

    دنیا کی ہر قوم کو اپنے دفاع کا بھرپور حق حاصل ہے۔پاکستان کے ہمسائے ممالک میں سے بھارت ایک ایسا ملک ہے کہ جس نے کبھی بھی پاکستان کو ٹھنڈے دلوں قبول نہیں کیا اور ہر وقت پاکستان کے خلاف سازشیں کرتا رہتا ہے۔بھارت کی ان سازشوں کا مقابلہ کرنے کے لئے پاکستان نے ایٹم بم بنایا اور اپنے دفاع کو ناقابل تسخیر کر لیا۔یوم تکبیر یعنی 28مئی پاکستان کی تاریخ میں وہ دن ہے کہ جب پاکستان نے بلوچستان کے مقام چاغی میں ایٹمی دھماکے کر کے دنیا کے ایٹمی کلب میں شمولیت حاصل کی ۔ اس سے پہلے امریکہ ، چین ، روس ، برطانیہ اور فرانس ایٹمی کلب کے ممبر تھے ۔جبکہ بھارت نے 11مئی1998 کوراجستان کے مقام پوکھران میں 15.47بجے زیر زمین200میٹر گہرائی میں شکتی ون کے نام سے ایٹم بم کے5دھماکے کر کے کلب میں شامل ہواجس کے جواب میں پاکستان نے28مئی 1998کو ضلع چاغی کے سلسلہ راس کوہ میں 1000میٹر گہرائی میں10.16بجے چاغی ون کے نام سے 7ایٹمی دھماکے کئے۔ پاکستان کا ایٹمی پروگرام دراصل1954میں ہی شروع ہو گیا تھا جب پاکستان کے وزیر اعظم محمد علی بوگرہ نے وائٹ ہاوس میں امریکی صدر آیزن ہاور سے ملاقات کی تھی اور پاکستان نے امریکہ کے ایٹم برائے امن (ایٹم فار پیس) کے منصوبہ میں شمولیت کے ساتھ ایٹمی توانائی کے شعبہ میں تحقیق اور ترقی کے لئے ایٹمی توانائی کے کمیشن کے قیام کا اعلان کیا تھا۔ زیر تبصرہ کتاب"اسلامی بم کا خالق کون؟"محترم مبین غزنوی صاحب کی تصنیف ہے، جس میں انہوں نے پاکستانی ایٹم بم کی تیاری اور اس میں پیش آنے والے مختلف مراحل  کے بارے میں تفصیلات بیان کی ہیں۔(راسخ)

  • title-pages-islami-tareekh-k-dilchasp-aur-iman-aafrein-waqiat
    ابو مسعود عبد الجبار سلفی
    اسلامی تعلیمات کا یہ اعجاز ہے کہ ان کے ذریعے زندگی کے ہر شعبے میں انتہائی اعلیٰ درجے کے افراد پیدا ہوئے۔چنانچہ اسلامی تاریخ اس امر پر شاہد ہے کہ مختلف ادوار میں بے مثال کردار اور خوبیاں رکھنے والے حکمران،علماء،سپہ سالار اور ماہرین فن موجود رہے،جن پر آج بھی انسانیت کا سر فخر سے بلند ہے۔لیکن افسوس کہ بعض غیر محتاط اور متعصب مؤرخین نے اسلامی تاریخ کو اس طرح بگاڑا ہے کہ آج کی نئی نسل اپنے اسلاف سے بد ظن ہو چکی ہے اور ان کی روشن تاریخ کو اپنے ہی منہ سے سیاہ قرار دینے لگی ہے ۔زیر نظر کتاب میں ہمارے اسلاف کی شجاعت و بسالت،رافت و رحمت فہم و فراست ،جو دوسخا،بدل وعطا،عفو و حلم،حق گوئی و بیباکی ،ہمدردی وغساری کے بے نظیر واقعات انتہائی دلچسپ انداز سے بیان کیا ہے ۔اس کتاب سے ہمیں اپنے روشن ماضی سے آگہی حاصل ہو گی جس سے حال کو سنوارنے میں مدد ملے گی اور درخشندہ مستقبل کی جانب پیش قدمی ممکن ہو سکے گی۔ان شاء اللہ۔(ط۔ا)
  • pages-from-islami-khulfaa-se-mutallaq-chand-ghalat-fehmiyon-ka-azala
    حافظ صلاح الدین یوسف

    ایک نکتہ داں شخص نے کسی قدر سچ کہا ہے کہ "ہم کو صرف یہی رونا نہیں ہے کہ ہمارے زندوں کو یورپ کے زندوں نے مغلوب کر لیا ہے، بلکہ یہ رونا بھی ہے کہ ہمارے مردوں پر یورپ کے مردوں نے فتح پا لی ہے۔"ہر موقع اور ہر محل پر جب شجاعت،ہمت،غیرت،علم وفن الغرض کسی کمال کا ذکر آتا ہے تو اسلامی ناموروں کی بجائے یورپ کے ناموروں کا نام لیا جاتا ہے۔ اس کی وجہ یہ نہیں کہ قوم سے قومی حمیت کا مادہ بالکل جاتا رہا، بلکہ اس کی وجہ یہ ہے کہ جدید ےعلیم میں ابتداء سے انتہاء تک اس بات کا موقع ہی نہیں ملتا کہ اسلاف کے کارناموں سے واقفیت حاصل کی جائے۔ اس لئے جب خصائل انسانی کا ذکر آتا ہے تو خواہ مخواہ انہی لوگوں کا نام زبان پر آجاتا ہےجن کے واقعات کی آوازیں کانوں میں گونج رہی ہیں اور یہ وہی یورپ کے نامور ہیں۔ زیر تبصرہ کتاب "اسلامی خلفاء وملوک اور تاریخ اسلام سے متعلق چند غلط فہمیوں کا ازالہ" جماعت اہل حدیث کے معروف اور نامورمفسر مولف محترم مولانا حافظ صلاح الدین یوسف صاحب کی تصنیف ہے، جس میں انہوں نے اسی کمی کو پورا کرنے کی سعی مشکور کی ہے۔ مولف موصوف نے اس کتاب میں "اسلامی ریاست کے تصور" کو اجاگر کرنے اور اسلامی کے نامور حکمرانوں اور مشاہیر کی سوانح حیات کو قلم بند کرتے ہوئے ہمیں اپنے اسلاف کے نمونے کو اپنانے کی جدوجہد کی ہے۔ اللہ تعالی سے دعا ہے کہ وہ مولف کی اس محنت کو اپنی بارگاہ میں قبول فرمائے اور ان کے میزان حسنات میں اضافہ فرمائے۔ آمین(راسخ)

  • title-pages-aseeran-e-roshan-khayali-copy
    حافظ محمد ادریس

    انسانی تاریخ عبرت کا بہت وسیع وعریض مرقع ہے۔انسان نے ظلم وستم کی داستانیں بھی رقم کی ہیں لیکن یہی انسان ہمت وعزیمت کے باب بھی جریدہ عالم پر ثبت کرتا رہا ہے۔وقت کے مستبد حکمران ہمیشہ یہ سمجھتے رہے ہیں کہ ان کا حق حکمرانی غیر محدود ہے۔اپنے اقتدار کے نشے میں بد مست حکمرانوں کو گھنٹی بجنے سے قبل تک کبھی وہم وگمان بھی نہیں ہوتا کہ ان کے ڈراوے کا کوئی ڈراپ سین بھی ہے۔جس طرح نابکار حکمران ہر دور میں ظلم کے فسانے میں ایک نیا ٹکڑا شامل کردیتے ہیں، اسی طرح راہ وفا کے دیوانے بھی تاریخ کا قرض چکانے کی جسارت میں لگے رہتے اور اپنے آپ پیش رؤں کے نقش قدم پرچلنے کے لئے کوشاں نظر آتے ہیں۔ زیر تبصرہ کتاب" اسیران روشن خیالی " جماعت اسلامی پاکستان کے مرکزی رہنما محترم حافظ محمد ادریس صاحب کی تصنیف ہے، جس میں انہوں نے ظالم حکمرانوں کی جانب سے انہیں قید کرنے اور جیل میں ڈالنے جیسے واقعات کو تفصیل سے بیان کیا ہے۔انہیں 62 سالہ زندگی میں آٹھ مرتبہ جیل جانے اور سنت یوسفی پر عمل کرنے کی سعادت حاصل ہوئی۔ان کی یہ روداد مختلف مضامین کی شکل میں ہفت روزہ ایشیا میں چھپتی رہی لیکن احباب کے اصرار پر اسے کتابی شکل میں شائع کرنا پڑا۔شاید کہ کسی دوسرے بندے کو بھی اس سے ترغیب حاصل ہوجائے اور وہ بھی اس راہ وفا پر چل نکلے۔اللہ تعالی سے دعا ہے کہ وہ مولف کی اس محنت کو اپنی بارگاہ میں قبول فرمائے اور ان کے میزان حسنات میں اضافہ فرمائے۔آمین (راسخ)

  • title-pages-al-durr-al-mansoor-al-maroof-tazkra-ahle-sadiq-pur-copy
    عبد الرحیم زبیر الہاشمی صادق پوری

    صادق پور انڈیا پٹنہ کاایک معروف قصبہ ہے اس قبصے کے علماء ومجاہدین کی سید ین شہیدین کی تحریک جہاد کے لیے خدمات ناقابل فراموش ہیں۔ مولانا ولایت علی ، مولانا عنایت علی ، مولانا عبد اللہ ، مولانا عبد الکریم وغیرہم جماعت مجاہدین کے امیر بنے۔انگریز دشمنی میں یہ خاندان خصوصی شہرت رکھتا تھا۔ سیّد احمد شہید کے شہادت کے بعد اسی خاندان کے معزز اراکین نے تحریک جہاد کی باگ دوڑ سنبھالی۔ اندرونِ ہند بھی اسی خاندان کے دیگر اراکین نے تحریک کی قیادت کی ذمہ داریاں سنبھالیں۔ مولانا یحیٰ علی ، مولانا احمد اللہ ، مولانا عبد الرحیم عظیم آبادی کو اسی پاداش میں کالا پانی کی سزا ہوئی۔ انگریزوں نے ان پر سازش کے مقدمات قائم کیے۔معروف مقدمہ انبالہ بھی مجاہدین کے ساتھ تعاون کرنے پر مولانا عبد الرحیم عظیم آبادی کے خلاف کیا گیا۔ جائیدادوں کی ضبطی ہوئی۔ حتیٰ کہ خاندانی قبرستان تک کو مسمار کر دیا گیا۔ ان کی مجاہدانہ ترکتازیوں کا اعتراف ہر طبقہ فکر نے کیا۔مولانا عبدالرحیم عظیم آبادی مسلک اہل حدیث کے عظیم سرخیل قائد جید عالم دین اور عظیم مجاہد تھے۔آپ کی خدمات کا دائرہ بہت وسیع ہےآپ نےہندوستان کی تحریک آزادی میں نمایاں خدمات سرانجام دیں ۔آپ نےہندوستان کی سرزمین سےبرطانوی سامران کو نکالنے کےلیےگراں قدر خدمات سرانجام دیں۔آپ مجاہدین ہندوستان کے قائد رہے اور جماعت المجاہدین کےاعلیٰ عہدوں پر بھی سرفراز رہے ۔ان کے مجاہدانہ کارناموں کے جرم میں گورنمنٹ برطانیہ نے انہیں جزائرانڈیمان (کالاپانی ) کی سزا سنائی۔ زیر تبصرہ کتا ب’’ الدر المنثور فی تراجم اہل صادق فور المعروف تذکرۂ اہل صادق پور ‘‘صادق پور پٹنہ کےعلماء ومجاہدین کے تذکروں پر مشتمل مولانا عبدالرحیم زبیر الہاشمی عظیم آبادی کی عظیم کتاب ہے۔ آپ نےاس کتاب میں علماء صادق پور کے متعلق قلم اٹھاکر ایک گراں قدر کام سرانجا م دیا ہے ۔ علماء صادق پور نے اشاعت دین کےلیے جو قربانیاں دیں آپ نے وہ تمام کی تمام اس کتاب میں رقم کردی ہیں۔اس کتاب میں آپ نے بتایا ہے کہ علماء صادق پور نے مسلک اہل حدیث کی ترویج واشاعت کے لیے انتہائی سادہ اورموثر طریقہ کا ر کواپنا کر دین کی تبلیغ کی ہے۔اس کتاب میں مصنف نے علماء اہل حدیث اور علماء احناف کے درمیان ہونے والے چند مناظروں کا بھی تذکرہ کیا ہے۔اس کتاب پر مولانا ابو الکلام آزاد﷫ کی تقریظ سے کتاب کی اہمیت میں مزید اضافہ ہوگیا ہے ۔ یہ کتاب پہلی مرتبہ 1924ءمیں ہوئی۔(م۔ا)

  • title-pages-al-murtza
    سید ابو الحسن علی ندوی
    زیر تبصرہ کتاب چوتھے خلیفۃ الاسلام حضرت علی المرتضیٰ رضی اللہ عنہ کی سیرت پر لکھی گئی ہے۔ جس کے متعلق مصنف کا کہنا ہے کہ ان شخصیات میں جن کے حقوق نہ صرف یہ کہ ادا نہیں ہوئے بلکہ ان کے حق میں شدید بے انصافی روا رکھی گئی، حضرت علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ کی بلند و محبوب شخصیت بھی ہے، مخصوص حالات، خاص قسم کے عقائد اور چند نفسیاتی اسباب کی بنا پر ان کی سیرت پر بہت گہرے اور دبیز پردے پڑ گئے ہیں، ارباب بحث و تحقیق تو الگ رہے، خود وہ لوگ جو ان کی عظمت کے گن گاتے ہیں، اور ان کے نام پر اپنے عقائد کی عمارت تعمیر کیے ہوئے ہیں، انھوں نے بھی اکثر اوقات ان کی سیرت کا مطالعہ معروضی و تحقیقی انداز میں نہیں کیا اور پورے ماحول اور ان کے عہد کے تقاضوں اور دشواریوں کو سامنے رکھ کر امانت و غیر جانبداری کے ساتھ پیش نہیں کیا۔ کتاب کے مصنف مولانا سید ابو الحسن علی ندوی نے کتاب مرتب کرتے ہوئے مکمل غیر جانبداری کا اظہار کیا ہے۔ انھوں نے حضرت علی رضی اللہ عنہ کی پیدائش سے لے کر وفات تک کے تمام تر حالات و واقعات اور مختلف ادوار میں ان کا کردار کسی لگی لپٹی کے بغیر بیان کر دیا ہے۔ اپنے موضوع پر یہ کتاب نہایت مفید اور لائق مطالعہ ہے۔ جس کے عربی، اردو اور انگریزی زبان میں متعدد ایڈیشن شائع ہو چکے ہیں۔(ع۔م)

  • title-pages-ummate-musalama-k-mujoda-masail-aur-unka-hal-serate-tayyaba-ki-roshni-me-copy
    ڈاکٹر صہیب حسن

    جب ہم دنیا کے موجودہ معاشی، سیاسی، سماجی، ثقافتی اور تہذیبی منظرنامہ پر نظر ڈالتے اور پھر پیچھے مڑ کر اپنے ماضی کی تاریخ میں جھانکتے ہیں تو اندازہ ہوتا ہے کہ اُسلوبِ حیات میں غیر معمولی تبدیلیاں آچکی ہیں۔ ایسے تغیرات مسلسل رونما ہورہے ہیں جن کا قبل ازیں تصور بھی نہیں کیاجاسکتا تھا۔ ابلاغِ عامہ اور ترسیل معلومات کے ایسے ایسے ذرائع اور وسائل ایجاد ہو رہے ہیں جن سے ہماری گذشتہ نسلوں کو سابقہ پیش نہیں آیا۔امت مسلمہ آج سے ایک سو سال قبل جس نو آبادیاتی نظام میں جکڑی،بے بسی اور بے چارگی کی تصویر بنی ہوئی تھی۔آج 57 آزاد ممالک کی شکل میں قوت ،عددی اکثریت اور قدرتی وسائل سے مالا مال ہونے کے  باوجود ذلت ،عاجزی اور درماندگی میں اسی مقام پر کھڑی ہے جہاں سوسال پہلے کھڑی تھی۔عالم کفر کی اس منہ زور یلغار کے سامنے بند باندھنے کی کوئی حکمت ِ عملی اس وقت تک کامیاب نہیں ہوسکتی جب تک ہم خود اسی تکنیکی مہارت سے آراستہ ہو کر اپنی تہذیب و ثقافت کے توانا پہلوؤں کو دنیا کے سامنے نہیں لاتے۔ محض وعظ و تلقین یا غیر حقیقت پسندانہ دفاعی حربوں کے ذریعے اس یلغار کو روکنا ممکن نہیں۔ ہمیں چاہئے کہ ہم قرآن و سنت کی تعلیمات، اسلام کے انسانیت نواز پیغام اور اپنی روشن تہذیبی اَقدار کو پوری قوت اور خود اعتماد ی کے ساتھ دنیا پر آشکارا کریں۔ زیرتبصرہ کتاب " امت مسلمہ کے موجودہ مسائل اور ان کا حل،سیرت طیبہ کی روشنی میں "پاکستان کے معروف عالم دین اور دانشور محترم ڈاکٹر صہیب حسن کی تصنیف ہے،جو درحقیقت ایک علمی مقالہ ہے جو  انہوں نے بہاولپوراسلامک یونیورسٹی  میں پیش کرنے کے لئے تیار کیا تھا،اور پھر ماہنامہ محدث لاہور میں بھی چھپا تھا۔مقالے کی اہمیت کے پیش نظر اسے زیور طباعت سے آراستہ کر دیا گیا ہے جو امت مسلمہ کے زوال کے اسباب اور ان کے حل پر روشنی ڈالتا ہے۔اللہ تعالی سے دعا ہے کہ مولف کی اس محنت کو قبول فرمائے اور امت مسلمہ کو  عزت ومقام عطا فرمائے۔آمین(راسخ)

  • 1
    حامد کمال الدین
    امریکہ کو اس وقت دنیا کی سپر پاور گردانا جاتا ہے اور اسی زعم میں وہ پوری دنیا پر اپنا فیوورلڈ آرڈر قائم کر کے تمام ملکوں پہ اپنا تسلط جمانا چاہتا ہے یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ امریکہ کی سیاست ومعیشت پر یہودی وصیہونی لابی چھائی ہوئی ہے جو اسلام کو نیست ونابود کرنا چاہتی ہے ۔اسی کے زیر اثر امریکہ نے 11/9کو بہانہ بناکر افغانستان پر حملہ کیا اور کیمیائی ہتھیاروں کے خاتمے کا اعلان کر کے عراق پر آتش وھن کی بارش برسادی ۔اس وقت کے امریکی صدر جارج بش نے اپنے کروسیڈ یعنی صلیبی جنگ سے تعبیر کیا۔لیکن ان دونوں ملکوں میں جنگ چھٍیڑنے سے امریکہ انتہائی مشکل میں پھنس گیا اور جہادی تحریکوں کی بھرپور مزاحمت نے اس کے پاؤں اکھاڑ دیئے۔اس کی معیشت پر بھی انتہائی منفی اثرات مرتب ہوئے نتیجتاً وہ دیوالیہ ہونے کے قریب ہو گیا۔اب تو اس نے افغانستان میں طالبان سے باقاعدہ مذاکرات اور وہاں سے مرحلہ وار انخلا کا بھی اعلان کر دیا ہے اس سے معلوم ہوتا ہے کہ اب وہ زوال کی طرف گامزن ہے۔معروف مفکر اور قلمکار جناب حامد کمال الدین نے اپنی زیر نظر کتاب میں اسی نکتے کو موضوع بحث بنایا ہے اور اس حوالے سے بڑے ہی فکر انگیز نکات اٹھائے ہیں۔کتاب کا مطالعہ ’امریکن ایمپائر‘کے اصل چہرہ کی نقاب کشائی میں ممدومعاون ثابت ہو گا۔(ط۔ا)

  • title-pages-insani-dunia-pr-musalmono-k-arooj-o-zawal-ka-asar
    سید ابو الحسن علی ندوی
    زیر مطالعہ کتاب ابوالحسن علی ندوی کی وہ شاہکار تصنیف ہے جس میں انھوں نے انسانی دنیا پر مسلمانوں کے عروج و زوال کی خونچکاں داستان رقم کی ہے۔ مصنف نے ان نقصانات کی نشاندہی کی ہے جو مسلمانوں کے تنزل و زوال اور دنیا کی قیادت و رہنمائی سے کنارہ کش ہو جانے سے انسانیت کو پہنچے۔ اس کے لیے انھوں نے عام انسانی تاریخ، نیز اسلامی تاریخ کا جائزہ لیا اور دکھایا کہ محمد ﷺ کی بعثت کس جاہلی ماحول میں ہوئی پھر آپ کی دعوت و تربیت کے باوصف کس طرح ایک امت تیار ہوئی جس نے دنیا کی زمام اقتدار اپنے ہاتھ میں لی اور اس کے اقتدار و امامت کا دنیا کی تہذیب اور لوگوں کے رجحانات و کردار پر کیا اثر پڑا۔ کس طرح دنیا کا رخ ہمہ گیر خدافراموشی سے ہمہ گیر خدا پرستی کی طرف تبدیل ہوا۔ پھر کس طرح اس امت میں زوال و انحطاط کا آغاز ہوا اور اس کو دنیا کی قیادت و امامت سے ہاتھ دھونا پڑےاور کس طرح یہ قیادت مادہ پرست یورپ کی طرف منتقل ہوئی۔ اس وقت مسلمانوں کی کیا ذمہ داری ہے اور وہ اس سے کس طرح عہدہ برآ ہو سکتےہیں۔ ان تمام سوالات کے تشفی بخش جوابات اس کتاب کا موضوع ہیں۔ کتاب کی افادیت کا اس سے اندازہ کیجئے کہ اس کے عربی، اردو، انگریزی، ترکی، فارسی اور فرنچ زبان میں تراجم ہوئے اور متعدد ایڈیشن نکلے۔ اردو میں اس کتاب کا یہ گیارہواں ایڈیشن ہے۔ (عین۔ م)

    نوٹ:
    محدث فورم میں اس کتاب پر تبصرہ کرنے کے لیے یہاں کلک کریں

  • 1
    سید ابو الحسن علی ندوی
    جب نبی مکرمﷺ کا دنیا میں بعثت ہوئی اس وقت انسانیت پستی کی آخری حدوں سے بھی آخرتک پہنچ چکی تھی۔ شرک و بدعات، مظالم و عدم مساوات ان کی زندگی کا جزو لاینفک بن چکا تھا۔ لیکن رسول اللہﷺ نے ان کے عقائد و اخلاق اس طور سے سنوارے کہ کل کے راہزن آج کے راہبر بن چکےتھے۔ نبی کریمﷺ کی تشکیل کردہ اسلامی تہذیب نے دنیا کے تمام معاشروں پر نہایت گہرے اثرات ثبت کئے۔ لیکن جوں جوں وقت گزرتا گیا اور جہاد، تقویٰ و للہیت ایک اجنبی تصور بن گئے تو امت کا انحطاط وزوال شروع ہوا۔ زیر نظر کتاب میں ابوالحسن ندوی رحمہ اللہ نے امت کے اسی عروج و زوال کو حکیمانہ اسلوب میں بیان کیا ہے۔ انہوں نے اسلام سے پہلے کی معاشرت کا تفصیلی تعارف کرواتے ہوئے اس کا  محمدی معاشرے سے تقابلی جائزہ پیش کیا ہے۔ علاوہ بریں اس عروج کی خوش کن داستان کے بعد دنیا کی امامت و قیادت مسلمانوں کے ہاتھ سے کیسے جاتی رہی، زمام اقتدار کس طرح مادہ پرست یورپ کے ہاتھ میں آئی۔ اور ایسے میں مسلمانوں کا کیا ذمہ داریاں ہیں۔ ان تمام خیالات کو مولانا احسن انداز میں الفاظ کا زیور پہنایا ہے۔

  • title-pages-inglistan-men-islam
    ڈاکٹر صہیب حسن

    اسلام ایک دین فطرت ہے اور ایک سلیم الفطرت انسان کی جائے قرار صرف اور صرف اسلام کی آغوش میں ہے۔ یہ مختصر سا رسالہ برطانیہ میں اسلام کی آمد اور پھیلاؤ کی داستان پر مشتمل ہے۔ محترم ڈاکٹر صہیب حسن جو عرصہ دارز سے برطانیہ میں اسلام کی آبیاری میں مصروف ہیں، نے بھرپور محنت اور لگن سے ’انگلسان میں اسلام‘ کے نام سے مفید معلومات مہیا کی ہیں۔ برطانیہ کی آبادی اس وقت چھ کروڑ کے قریب ہے جبکہ ان میں اہلیان اسلام کی تعداد بیس لاکھ سے تجاوز کر رہی ہے۔ برطانیہ کے ہر بڑے شہر میں ایک بڑی مسجد یا اسلامک سنٹر پایا جاتا ہے اور دینی تعلیم کے متعدد مدارس قال اللہ و قال الرسول کی صدائیں بلند کر رہے ہیں۔ لیکن یہ سب کیسے ہوا؟ اس کی مجموعی تصویر آپ کو زیر نظر رسالہ میں نظر آئے گی۔

     

  • title-pages-ahle-hadith-aur-siasat-copy
    نذیر احمد رحمانی

    متحدہ  ہندوستان کی سب سے پہلی وہ انقلابی تحریک  جس کی   با بت یہ کہنا  بالکل صحیح ہے وہ اپنے  نصب العین اور مقاصد کے لحاظ سے صحیح معین میں دینی بھی تھی اور سیاسی بھی ۔ وہ سیدین  شہیدین کی تحریک  جہاد تھی۔ اور اس میں شبہہ نہیں کہ  اس تحریک کے قائدین اور اس کے متبعین ومعاونین میں  احناف اور اہل حدیث دونوں مسلک  کے افراد شامل تھے ۔لیکن اس سے بھی انکار نہیں کیا جاسکتاکہ اس تحریک کوچلانےاوراس کو ایک عرصہ تک باقی رکھنے کے لیے  اہل حدیثوں کی جانی  او رمالی قربانیاں  نمایاں شان رکھتی  ہیں۔ بالخصوص بالاکوٹ میں شہادت کا  حادثہ پیش آجانےکے بعد تواس کے جھنڈے کو اونچا رکھنے کی سعادت جن بزرگوں  کو حاصل ہوئی وہ  صادق پور   (پٹنہ)  کے اہل حدیث ہی تھے ۔یہاں تک  کہ انگریز حکومت کے دورِ استبداد میں جب  اس تحریک کا ظاہری سطح پرباقی رکھنا دشوار ہوگیا تو وہ اہل حدیث ہی تھے  جنکے سینوں میں اس کے شرارے سلگتے رہے ۔اور انگریزی  حکومت  کےخلاف  ملک  میں جب کبھی  کوئی شورش برپا  ہوئی  او رکوئی سیاسی تحریک چلائی گئی تو اہل حدیث اپنے تناسب آبادی کے لحاظ سےبرابر  اس میں  شریک ہوتے رہے ۔متحدہ ہندوستان کی کوئی ایسی انقلابی تحریک  نہیں بتائی جاسکتی جس  میں  اہل حدیث افراد شامل نہ رہے  ہو ں ۔مگر تاریخ  کے ساتھ  بعض لوگوں نے  بے  انصافی اور تنگ نظر ی کا مظاہرہ کیا کہ اہل حدیث کی جہادی اور سیاسی خدمات کو چھپانے کی کوشش کی  گئی۔اتنا ہی نہیں کہ متعصب تاریخ نگار ان کا ذکر  نہیں کرتے  بلکہ کہنے والوں نےیہاں تک کہا  کہ ہندوستان کی تحریک  آزادی اور ملک  کی سیاسی زندگی میں جماعت اہل کا کوئی کردار  یا کوئی  حصہ نہیں  ۔زیر نظر کتاب ’’ اہل  حدیث اور سیاست ‘‘دار الحدیث رحمانیہ  ،دہلی  کی ایک  فاضل شخصیت  مولانا نذیر  احمد رحمانی ﷫ کی تصنیف ہے  جو ان مضامین کا مجموعہ  ہے   جوانہوں نے   اہل  حدیثوں کے خلاف کیے جانے والے اس پروپگنڈے    کے رد  میں’’اہل حدیث اور سیاست‘‘ کے عنوان سے  مسلسل کئی اقساط میں  تحریر کیے تو ان مضامین کے حق میں  بہت  سے  اہل علم اور اصحاب ذوق حضرات نے صدائے تحسین بلند کی ۔ احباب کے  اصرار اور مطالبے  پر  جامعہ سلفیہ بنارس کے  شبعہ دار الترجمہ والتالیف نے اسے  کتابی صورت میں  شائع کیا ہے ۔یہ کتاب بڑی فکر انگیز ،جامع او رمدلل کتاب ہے  ۔ اس  سے تحریک حریت واستخلاص وطن کے وہ گوشے  نمایاں ہو کر سامنے آگئے ہیں جن پر  غلط پروپیگنڈوں کا دبیز پردہ ڈال دیا گیا تھا۔اللہ تعالی ٰ  مصنف  مرحوم  کی اس کاوش کو  قبول فرمائے (آمین)  (م۔ا  )

    نوٹ:

    محدث فورم میں اس کتاب پر تبصرہ کرنے کے لیے یہاں کلک کریں

  • title-pages-barr-e-sagher-pak-w-hind-k-kadeem-arbi-madaris-ka-nizam-e-taleem-copy
    پروفیسر بختیار حسین صدیقی

    دینی مدارس  کے طلباء ،اساتذہ ،علمائے کرام  ،مشائخ عظام اصحاب صفہ او رعلوم نبویﷺ کے وارث اور امین ہیں ۔ یہی  مدارس دینِ اسلام  کے وہ قلعے ہیں جہاں سے قال اللہ  قال الرسول ﷺکی پاکیزہ صدائیں دن رات گونجتی ہیں ۔ روزِ اول سے   دینِ اسلام کا تعلق تعلیم  وتعلم اور درس وتدریس سے  رہا ہے  ۔نبی  کریم ﷺ پر سب سے پہلے جو  وحی  نازل  ہوئی وہ تعلیم سے متعلق تھی۔ اس وحی کے ساتھ ہی رسول اللہﷺ نےایک صحابی ارقم بن ابی ارقم  کے گھر میں دار ارقم  کے  نام سے    ایک مخفی مدرسہ قائم کیا ۔صبح  وشام کے اوقات میں  صحابہ  کرام  وہاں مخفی انداز میں آتے اور قرآن مجید کی تعلیم حاصل کرتے تھے  یہ اسلام کی سب سے  پہلی درس گاہ تھی۔ہجرت کے بعدمدینہ منورہ میں جب اسلامی ریاست  کاقیام عمل میں آیا  تو وہاں سب سے  پہلے  آپﷺ نے مسجد تعمیر کی  جو مسجد نبوی کے نام سے موسوم ہے  ۔اس کے  ایک جانب آپ نے  ایک چبوترا(صفہ) بھی تعمیر کرایا ۔ یہاں بیٹھ کر آپﷺ  مقامی وبیرونی  صحابہ کرام  کو قرآن مجید اور دین  کی تعلیم دیتے  تھے ۔یہ اسلام کاپہلا باقاعدہ اقامتی  مدرسہ تھا جو تاریخ  میں  اصحاب صفہ کے نام سے معروف  ہے  ۔ یہاں سے مسجد اور مدرسہ  کا ایسا تلازمہ قائم ہواکہ  پھر جہاں جہاں مسجد یں قائم ہوتی گئیں وہاں  ساتھ ہی مدرسے بھی قائم ہوتے گئے ۔اسلامی تاریخ    ایسے مدارس اور حلقات ِحدیث   سے بھری پڑی ہے  کہ  غلبۂ اسلام  ،ترویج   دین  اور تعلیمات اسلامیہ کو عام کرنے  میں  جن کی خدمات نے  نمایاں کردار  ادا کیا۔ برصغیر پاک وہند میں بھی  اسلام کی  ترویج اور تبلیغ کے سلسلے میں  بے شمار علماء نے مدرسے قائم کیے اور درس وتدریس کی مسندیں بچھائیں یہاں کے متعدد ملوک وسلاطین نے بھی اس میں پوری دلچسپی لی  اور سرکاری حیثیت سے اہل علم کو تدریس کی خدمت انجام دینے پر مامور کیا ۔تو ان مدارس  دینیہ سے وہ شخصیا ت  پیدا ہوئیں  جنہوں نے  معاشرے کی  قیادت کرتے  ہوئے  اسلامی تعلیمات کو عام کیا اور یہ شخصیات عوام  الناس کے لیے  منارہ نور کی حیثیت رکھتی ہیں ۔اسی طرح طلبا کی علمی وفکری تربیت کے لیے  وہ تمام وسائل اختیار کیے گیے جن کااختیار کرنا وقت کےتقاضے کےمطابق ضروری تھا ۔ لیکن اس زمانے میں کوئی  خاص نصاب تعلیم مرتب نہیں ہوا تھا ۔تعلیم تعلّم کےاسالیب ومضامین معلّمین نے  اپنی صوابدید اور طلباء کی ذہنی سطح کےمطابق مقرر کیے تھے  باقاعدہ نصاب تعلیم ملُاّ نظام الدین سہالوی نے ترتیب  دیا جو اپنے مرتب کے نام کی مناسبت سے ’’درس نظامیہ‘‘ کےنام سے  مشہور ہوا۔ زیر تبصرہ کتاب’’برصغیر پاک وہند کےقدیم عربی مدارس  کا نظام تعلیم ‘‘میں اسی سلسلے کی تفصیلات بیان کی گئی ہیں۔اس کتاب کے  فاضل مصنف جناب  پروفیسر بختیار حسین صدیقی صاحب نے  برصغیر پاک وہند کے عربی ودینی نظام تعلیم اورطریق تدریس کی تاریخ بیان کردی ہے  اور ساتھ ساتھ تجزیہ بھی کیا ہے ۔یہ کتاب اپنےموضوع سےمتعلق تمام اہم اور بنیادی معلومات کو محیط ہے ۔( م۔ا)

  • title-pages-barr-e-sagheer-mein-islam-key-awwaleen-nakoosh
    محمد اسحاق بھٹی
    تاریخ اور جغرافیہ کی قدیم عربی کتب کےمطالعے سےاندازہ ہوتا ہے کہ خطہ برصغیر جہاں علم و فضل کے اعتبار سے انتہائی سرسبز و شاداب ہے وہیں اسے یہ شرف بھی حاصل ہے کہ اس میں اصحاب رسول صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لائے، تابعین اور تبع تابیعین نے اس سرزمین پر قال اللہ و قال الرسول کی صدائیں بلند کیں۔ زیر نظر کتاب میں انھی مقدس ہستیوں کا تذکرہ کیا گیا ہے جو برصغیر میں تشریف لائیں۔ جس میں پچیس صحابہ کرام، بیالیس تابعین اور اٹھارہ تبع تابعین کا تذکرہ کیا گیا ہے اور ان کے وہ حالات بیان کیے گئے ہیں جو برصغیر سے متعلق مصنف کے علم و مطالعہ میں آئے۔ مولانا اسحاق بھٹی ادیب آدمی ہیں ان کے بیان کردہ تاریخی واقعات میں بھی ادب کی گہری چاشنی ہے۔ تمام حالات و واقعات حتی المقدور باحوالہ بیان کیے گئے ہیں۔ (ع۔م)

    نوٹ:
    محدث فورم میں اس کتاب پر تبصرہ کرنے کے لیے یہاں کلک کریں
  • title-pages-barre-sagheer-main-ahle-hadith-ki-awwaliyat
    محمد اسحاق بھٹی
    اوّلیات اور اوائل کی اہمیت بطور خاص کارِ خیر  میں  مسلم ہے   قرآن میں  ارشاد باری تعالی ہے  السبقون الاولون من  المهاجرین والانصار اور اسی طرح حدیث میں  وارد  اوّلیات کا  احاطہ بعض ائمۂ محدثین نے  اپنی مستقل تصانیف اور بعض نے  اپنی کتابوں کےابواب میں  ضمناً کیا ہے  اوّلیات کا موضوع دراصل تاریخ وجغرافیہ سے متعلق ہے کہ فلاں نےفلاں  کام فلاں جگہ سب سے پہلے انجام دیا ۔اوّلیات کے مصنفین میں  کسی  نے  حدیث واثر میں  وارد اوّلیات کو ا پنی  کتاب کا موضوع بنایا ،کسی نے عام معلومات اور جنرل نالج کے طور پر مختلف  میدانہائے عمل کی اوّلیات کو جمع کیا اور کسی  نے مخصوس علاقے اور حضرات کی اوّلیات کو یک جا کیا ہے  اس سلسلے میں   عربی  زبان  میں  ابو ہلال العسکری کی  الاوائل اور  جلال الدین سیوطی  کی    الوسائل في معرفة الاوائل ‘‘ اور عبد اللہ نشمی  کی کتاب ’’ موسوعة الاوائل التاريخية قابل ذکر ہیں ۔زیر نظر کتاب ’’بر صغیر  میں اہل کی اوّلیات ‘‘معروف  مصنف کتب کثیرہ  ذہبی زماں  مؤرخ اہل حدیث  مولانا  محمد اسحاق بھٹی ﷾ کی تصنیف ہے  جس میں   انہوں برصغیر میں اہل حدیث کی  نوقسم کی اوّلیات کی نشاندہی کی  ہے  جس میں  اختصار اور جامعیت کا حسین  امتزاج  پایا جاتا ہے  اردور زبان میں  اس  موضوع پر اپنی  نوعیت کی یہ پہلی کتاب ہے  اللہ تعالی  مولانا بھٹی صاحب کی خدمات کو قبول فرمائے اور انہیں   صحت وتندورستی  والی زندگی  عطا فرمائے  (آمین)(م۔ا)

    نوٹ:
    محدث فورم میں اس کتاب پر تبصرہ کرنے کے لیے یہاں کلک کریں

     

ای میل سبسکرپشن

محدث لائبریری کی اپ ڈیٹس بذریعہ ای میل وصول کرنے کے لئے ای میل درج کر کے سبسکرائب کے بٹن پر کلک کیجئے۔

 

ایڈوانس سرچ

موضوعاتی فہرست

رجسٹرڈ اراکین

آن لائن مہمان

محدث لائبریری پر اس وقت الحمدللہ 1569 مہمان آن لائن ہیں ، لیکن کوئی رکن آن لائن نہیں ہے۔

ایڈریس

       99-جے ماڈل ٹاؤن،
     نزد کلمہ چوک،
     لاہور، 54700 پاکستان

       0092-42-35866396، 35866476، 35839404

       0092-423-5836016، 5837311

      KitaboSunnat@gmail.com

      بنک تفصیلات کے لیے یہاں کلک کریں