دکھائیں کتب
  • 1 ازواج مطہرات ؓ و صحابیات ؓ انسائیکلوپیڈیا (بدھ 26 جولائی 2017ء)

    مشاہدات:1463

    اللہ تعالیٰ جل شانہ، کا جب ارادہ ہوا۔ کہ اس رنگا رنگ کائنات کو معرض وجود میں لا کر اس میں اشرف المخلوقات انسان کو پیدا کر کے اسے اس جہان رنگ و بو کی سرداری کا تاج پہنائے ۔ اور اس کائنات کو اس کی خدمت کے لئے تابع و مسخر کر  دے اور اس دنیا کی تعمیر و تزئین اس کے سپرد کر دے۔اس بات كو الله تعالیٰ نے قرآن مجید میں بیان کیا ہے کہ ﴿هُوَ الَّذِي خَلَقَ لَكُم مَّا فِي الْأَرْضِ جَمِيعًا ... ﴿٢٩﴾...البقرۃ وہ ذات ہے جس نے سب کچھ جو زمین میں ہے سب تمہارے لئے پیدا کیا ہے...۔مزيد انسانوں کی رشد و ہدایت کے لئے اللہ تعالیٰ نے ایک لاکھ چوبیس ہزار انبیاء کو بھیجا۔جن میں سے بعض انبیاء اور ان کی ازواج ، مطہرات و صحابیات کے تذکرے ہمیں ،سیرت اوردیگر تاریخ کی کتب  میں ملتے ہیں   ۔ زیرِ تبصرہ کتاب’’ازواج مطہرات و صحابیات انسائیکلو پیڈیا‘‘ڈاکٹر ذو الفقار کاظم کی ہے۔جس میں آپ ﷺ کی بیویوں کے تذکرے اور صحابیات کے تذکرے بیان کیے ہیں کہ کس قدر انہوں نے اسلام سے محبت کی اور اپنی جان و مال اور اولاد سب کو اللہ کے راستے میں قربان کر دیا۔ گویا کہ یہ کتاب ازواج مطہرات و صحابیات سے متعلق بھر پور معلومات پر مبنی سوالا جوابا لکھی جانے والی سب سے مفصل اور ضخیم کتاب ہے۔ امید ہے یہ کتاب طلباء اور ریسرچ کرنے والے کے لئے انتہائی کار آمد ثابت ہو سکتی ہے۔ ہم  مصنف اور دیگر ساتھیوں کے لئے دعا گو ہیں کہ اللہ تعالیٰ ان کی محنتوں اور کاوشوں کو قبول فرمائے اور اس کتاب کو ان کےلئے صدقہ جاریہ بنائے۔آمین۔(رفیق الرحمن)

  • 2 امہات المؤمنین (صواف) (جمعہ 15 جنوری 2016ء)

    مشاہدات:1611

    یہ بات بہت واضح اور شفاف ہے کہ آپﷺ کی بیویاں تمام امت کی مائیں ہیں۔اس میں کسی عقل سلیم رکھنے والے کو کوئی اختلاف نہیں کیونکہ یہ قرآنی فیصلہ ہے اور قرآن حکیم نے صاف لفظوں میں اس کو بیان کردیاہے:ترجمہ۔نبیﷺ مومنوں کے ساتھ خود ان کے نفس سے بھی زیادہ تعلق رکھتے ہیں اور آپﷺ کی بیویاں ان کی مائیں ہیں(الاحزاب:6:33)۔جن عورتوں کو آپﷺ نے حبالہ ءعقد میں لیا انکو اپنی مرضی سے رشتہ ازدواج میں منسلک نہیں کیا بلکہ اللہ تعالیٰ کے حکم سے آپﷺ نے ان سے نکاح کیا تھا۔ کچھ لوگ امہات المومنین کی مقدس،مطہر،مزکیّ ذاتوں کے متعلق ہرزاسرائی اوراپنی نازیبا الفاظ استعمال کرتے ہیں ان کو اپنے ایمان کے بارےفکرمند ہونا چاہیے۔ زیربحث کتاب"امہات المؤمنین"فاضل مؤلف محمود احمد صواف کی عربی تصنیف ہے جس کو مولانا عبدالرشید حنیف نے احسن انداز سے اردو قالب میں ڈھالا ہے فاضل مؤلف نے اپنی کتاب میں امہات المومنین پر کیے جانے والے اعتراضات کا قرآن و سنت کی روشنی میں جوابات دیئے ہیں۔ اللہ تعالیٰ ان کے میزان حسنات میں اضافہ فرمائے۔ آمین(عمیر)(

  • زیر نظر کتاب میں مسلمانوں کی عظیم ماں سیدہ خدیجہ رضی اللہ عنہا کی زندگی کے ان تمام پہلوؤں کو اجاگر کیا گیا ہے جو مسلم بچیوں اور خواتین کے لیے ہی نہیں مردوں کے لیے بھی مشعل راہ ہیں۔ یہ ہماری وہ عظیم ماں ہیں جو دور جاہلیت میں بھی طاہرہ کے لقب سے مشہو تھیں۔ کتاب میں سیدہ کی عقل و فہم، دینداری، ایمانداری، اخلاص، ثابت قدمی، وفا شعاری، اور مجاہدانہ کردار کو ایسے انداز میں پیش کیا گیا ہے گویا قاری اسی دور میں موجود ہے اور ام المؤمنین کی زندگی کا بچشم خود مشاہدہ کر رہا ہے۔ کتاب میں سیدہ خدیجہ رضی اللہ عنہا کی زندگی کے اہم ترین واقعات کے ساتھ ساتھ ان کی اولاد اور اہل بیت کی زندگی پر بھی ایک طائرانہ نظر ڈالی گئی ہے۔ اس سارے عمل میں تحقیق کے اصولوں کو مد نظر ہوئے ضعیف و بے اصل واقعات سے اجتناب کیا گیا ہے۔ امید ہے کہ یہ کتاب امت مسلمہ کی خواتین کے لیے مشعل راہ ثابت ہوگی۔ حضرت خدیجہ رضی اللہ عنہا کی زندگی پر مشتمل اس کتاب کی اشاعت پر ادارہ دارالسلام اور خاص طور پر کتاب کے مصنف مولانا عبدالمالک مجاہد ہدیہ تبریک کے مستحق ہیں۔(ع۔م)

     

  • 4 رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی پاکباز بیویاں (منگل 27 اکتوبر 2015ء)

    مشاہدات:1926

    اسلام کی قدیم تایخ ہمارے سامنے مسلمان عورت کابہترین اور اصلی نمونہ پیش کرتی ہے اور آج جب کہ زمانہ بدل رہا ہے مغربی تہذیب و تمدن او رطرزِ معاشرت ہمارے گھروں میں سرایت کررہا ہے دورِ حاضر میں مغربی تہذیب وثقافت سے متاثر مسلمان خواتین او رلڑکیاں اسلام کی ممتاز اور برگزید خواتین کوچھوڑ کر راہِ راست سے ہٹی ہوئی خواتین کواپنے لیے آئیڈل سمجھ رہی ہیں اسلام کے ہردور میں اگرچہ عورتوں نےمختلف حیثیتوں سے امتیاز حاصل کیا ہے لیکن ازواجِ مطہرات طیباتؓ اور اکابر صحابیاتؓ ان تمام حیثیات کی جامع ہیں اور ہمار ی عورتوں کے لیے انہی کے دینی، اخلاقی معاشرتی اور علمی کارنامے اسوۂ حسنہ بن سکتے ہیں۔ اور موجودہ دور کےتمام معاشرتی او رتمدنی خطرات سے ان کو محفوظ رکھ سکتےہیں۔کیونکہ امہات المومنین، مومنوں کی مائیں ہیں یعنی رسول ِ رحمت ﷺ کی یہ پاکباز بیویاں ایسے چکمتے دمکتے ، روشن ودرخشاں، منور موتی ہیں کہ جن کی روشنی میں مسلمانانِ عالم اپنی عارضی زندگیوں کا رخ مقرر ومتعین کرر ہے ہیں۔ امت کی ان پاکباز ماؤں کی سیرت ایسی شاندار ودلکش ودلآ ویز ہےکہ اسی روشنی میں چل کر خواتینِ اسلام ایک بہترین ماں ،بیٹی،بہن، اور بیوی بن سکتی ہیں۔ زیر تبصرہ کتاب ’’رسول اللہ کی پاک باز بیویاں‘‘ مولانا محمود احمد غضنفر﷫ مصنف ومترجم کتب کثیرہ کی تصنیف ہے۔ یہ کتاب رسول رحمت کی پاکباز زوجات کا روح پرور ایمان افروز اور دلنشیں ودلآویز تذکرہ پر مشتمل ایک خوبصورت گلدستہ ہے۔ اس کتاب کا مقصد جہاں دنیا والوں کو امہات المومنین کی تابناک سیرت کےروشن گوشوں سےآگاہ وآشکارکرنا ہے ،حقیقی ومتقی موم...

  • سیدہ حضرت خدیجہ رضی اللہ عنہا مکہ کی ایک معزز، مالدار، عالی نسب خاتون جن کا تعلق عرب کے قبیلے قریش سے تھا۔ جو حسن صورت و سیرت کے لحاظ سے "طاہرہ" کے لقب سے مشہور تھیں۔ انھوں نے حضرت محمد ﷺ کو تجارتی کاروبار میں شریک کیا اور کئی مرتبہ اپنا سامانِ تجارت دے کر بیرون ملک بھیجا۔ وہ آپ ﷺکی تاجرانہ حکمت، دیانت، صداقت، محنت اور اعلی اخلاق سے اتنی متاثر ہوئیں کہ آپ ﷺکو شادی کا پیغام بھجوایا۔ جس کو نبی  ﷺ نے اپنے بڑوں کے مشورے سے قبول فرمایا۔ اس وقت ان کی عمر چاليس سال تھی جبکہ نبی ﷺ صرف پچیس سال کے تھے۔ حضرت خدیجہ ؓنے سب سے پہلے اسلام قبول کیا اور پہلی ام المومنین ہونے کی سعادت حاصل کی۔ نبی ﷺ کی ساری کی ساری اولاد  حضرت خدیجہ رضی اللہ تعالٰی عنہا سے پیدا ہوئی اورصرف ابراہیم جوکہ ماریہ قبطیہ ؓسے تھے جوکہ اسکندریہ کے بادشاہ اورقبطیوں کےبڑے کی طرف سے نبیﷺکوبطورہدیہ پیش کی گئی تھیں۔سید ہ خدیجہ ؓ کی وفات کے بعد نبی ﷺ ان  کو بہت یاد کرتے تھے۔ ام  المومنین حضرت عائشہ رضی اللہ  تعالیٰ عنہابیان کرتی  ہیں کہ ایک دن حضور ﷺنے ان کے سامنے حضرت خدیجہ ؓکو یاد کر کے ان کی بہت زیادہ تعریف و توصیف فرمائی تو حضرت عائشہ کے بیان کے مطابق ان پر وہی اثر ہوا جو کسی عورت پر اپنے شوہر کی زبانی اپنے علاوہ کسی دوسری عورت کی تعریف سن کر ہوتا ہے جس پر حضرت عائشہ نے نبی ﷺ کو کہا کہ یا رسول اللہ ﷺآپ قریش کی اس بوڑھی عورت کا بار بار ذکر فرما کر اس کی تعریف فرماتے رہتے ہیں حالانکہ اللہ نے اس کے بعد آپ کو مجھ جیسی جوان عورت بیوی کے طور پر عطا کی ہے۔ اس...

  • بے شک امت اسلامیہ پے در پے زخموں سے چور اپنے بدن پر متواتر تیر سہہ رہی ہے اور ہمیشہ سے اسلام کے اندرونی وبیرونی دشمن اس پر زہریلے تیر برسا رہے ہیں۔ وہ چاہتے ہیں کہ اسلامی شریعت اور اس کے عقیدے کو بدنما کر ڈالیں۔دشمنانِ اسلام نے اُمت اسلامیہ کو جن تیروں کا نشانہ بنایا ہوا ہے‘ ان میں سب سے سخت  واذیت ناک تیر پیغمبر اسلامﷺ کی عزت پر حملہ ہے۔ جو تمام انسانیت کے قائدہیں‘ ان کا نام نامی اسم گرامی محمد بن عبداللہﷺ ہے۔چونکہ دشمنانِ اسلام نے ام المؤمنین سیدہ عائشہ بن ابی بکر صدیقؓ کی ذات پر بہتان تراشی کر دی اور کتاب وسنت میں جو کچھ آ چکا ہے‘ سیدہ کے ارد گرد انہوں نے شبہات پھیلا دیے یا ان کی ذات اطہر پر جھوٹا افسانہ چسپاں کرنے کی کوشش کی لیکن الحمد للہ! دشمنوں نے جو چاہا نتیجہ اس کے برعکس نکلا اور اللہ رب العزت نے  اپنا خاص فضل وکرم کیا کہ جب بھی کوئی آزمائش آتی ہے تو ساتھ ہی عطیاتِ رحمانی بھی ہوتے ہیں۔۔زیرِ تبصرہ کتاب  بھی خاص اللہ کے نبیﷺ کی ناموس کی حفاظت پر ہے کیونکہ ازواج مطہرات کی ناموس کی حفاظت ہی ناموس رسالت ہے۔ اس کتاب میں ام المؤمنین کی سیرت کے چھپے گوشوں کو نمایاں کیا گیا ہے اور آلِ بیت عظامؓ کے ساتھ والہانہ شیفتگی ومؤدت کا اظہار کیا گیا ہے اور سیدہ عائشہؓ کی ناموس کے خلاف یا ان پر ہونے والے اعتراضات کو رفع کیا گیا ہے ۔ اس کتاب میں بہت سے مقالہ جات کا نچوڑ موجود ہے‘ علمی وتحقیقی مقالات سے اہم اور مفید مواد کو یکجا کیا گیا ہے اور اس کی بھی کانٹ چھانٹ کر کے کتاب کا حصہ بنایا گیا ہے۔ اس میں بے شمار اضافہ جات کر...

  • 7 سیرت امہات المومنین (اتوار 21 فروری 2016ء)

    مشاہدات:2491

    اہل السنۃ والجماعۃ کےنزدیک ازواج ِ مطہرات تمام مومنین کی مائیں ہیں۔ کیونکہ یہ قرآنی فیصلہ ہے اور قرآن حکیم نے صاف لفظوں میں اس کو بیان کردیاہے:ترجمہ۔نبیﷺ مومنوں کے ساتھ خود ان کے نفس سے بھی زیادہ تعلق رکھتے ہیں اور آپﷺ کی بیویاں ان کی مائیں ہیں(الاحزاب:6:33)۔ جن عورتوں کو آپﷺ نے حبالۂ عقد میں لیا انکو اپنی مرضی سے رشتہ ازدواج میں منسلک نہیں کیا بلکہ اللہ تعالیٰ کے حکم سے آپﷺ نے ان سے نکاح کیا تھا۔ ان کوبرا بھلا کہنا حرام ہے۔ اس کی حرمت قرآن وحدیث کے واضح دلائل سے ثابت ہے ۔جو ازواج مطہرات میں سے کسی ایک پر بھی طعن   وتشنیع کرے گا وہ ملعون او ر خارج ایمان ہے۔ نبی کریمﷺ کی ازواج مطہرات کی سیرت خواتین اسلام کے لیے اسوہ کی حیثیت رکھتی ہے۔ان امہات المومنین کی سیرت کے تذکرے حدیث وسیرت وتاریخ کی کتب میں موجود ہیں۔ اور اہل علم نے الگ سے بھی کتب تصنیف کی ہیں۔ زیر تبصرہ کتاب ’’سیرت امہات المومنین‘‘برصغیر کے معروف سوانح نگار مؤرخ اہل حدیث مولانا محمد اسحاق بھٹی ﷫ کی مختصر تصنیف ہے۔ اس میں انہوں نے نبی کریم ﷺ کی گیارہ ازواج مطہرات کا مختصر تذکرہ کیا ہے۔ اللہ تعالیٰ مصنف کی تمام کاوشوں کوقبول فرمائے اور اس کتاب کو خواتین اسلام کےلیے نفع بنائے۔ (م۔ا)

  • 8 سیرت خدیجۃ الکبریٰ رضی اللہ عنہا ( جدید ایڈیشن ) (جمعرات 17 نومبر 2016ء)

    مشاہدات:2208

    سیدہ خدیجہ مکہ کی ایک معزز، مالدار، عالی نسب خاتون جن کا تعلق عرب کے قبیلے قریش سے تھا۔ جو حسن صورت و سیرت کے لحاظ سے "طاہرہ" کے لقب سے مشہور تھیں۔ انھوں نے حضرت محمد ﷺ کو تجارتی کاروبار میں شریک کیا اور کئی مرتبہ اپنا سامانِ تجارت دے کر بیرون ملک بھیجا۔ وہ آپ ﷺکی تاجرانہ حکمت، دیانت، صداقت، محنت اور اعلی اخلاق سے اتنی متاثر ہوئیں کہ آپ ﷺکو شادی کا پیغام بھجوایا۔ جس کو نبی ﷺ نے اپنے بڑوں کے مشورے سے قبول فرمایا۔ اس وقت ان کی عمر چاليس سال تھی جبکہ نبی ﷺ صرف پچیس سال کے تھے۔ سیدہ خدیجہ نے سب سے پہلے اسلام قبول کیا اور پہلی ام المومنین ہونے کی سعادت حاصل کی۔ نبی ﷺ کی ساری کی ساری اولاد سیدہ خدیجہ سے پیدا ہوئی اورصرف ابراہیم جوکہ ماریہ قبطیہ سے تھے جوکہ اسکندریہ کے بادشاہ اورقبطیوں کےبڑے کی طرف سے نبیﷺکوبطورہدیہ پیش کی گئی تھیں۔سید ہ خدیجہ کی وفات کے بعد نبی ﷺ ان کو بہت یاد کرتے تھے۔ ام المومنین حضرت عائشہ بیان کرتی ہیں کہ ایک دن حضور ﷺنے ان کے سامنے حضرت خدیجہ ؓکو یاد کر کے ان کی بہت زیادہ تعریف و توصیف فرمائی تو حضرت عائشہ کے بیان کے مطابق ان پر وہی اثر ہوا جو کسی عورت پر اپنے شوہر کی زبانی اپنے علاوہ کسی دوسری عورت کی تعریف سن کر ہوتا ہے جس پر حضرت عائشہ نے نبی ﷺ کو کہا کہ یا رسول اللہ ﷺآپ قریش کی اس بوڑھی عورت کا بار بار ذکر فرما کر اس کی تعریف فرماتے رہتے ہیں حالانکہ اللہ نے اس کے بعد آپ کو مجھ جیسی جوان عورت بیوی کے طور پر عطا کی ہے۔ اس کے بعد حضرت عائشہؓ فرماتی ہیں کہ میری زبان سے یہ کلمات سن کر آپ کا رنگ اس طرح متغیر ہو گیا جیسے وحی...

  • 9 سیرت عائشہ رضی اللہ عنہا (منگل 13 اگست 2013ء)

    مشاہدات:6850

    آج مسلمانوں کے اس دور انحطاط میں ، ان کے انحطاط کا بحصہ رسدی آدھا سبب عورت ہے ۔ وہم پرستی ، قبر پرستی ، جاہلانہ مراسم ،غم و شادی کے موقعوں پر مسرفانہ مصارف اور جاہلیت کے دوسرے آثار ، صرف اس لیے ہمارے گھروں میں زندہ ہیں کہ آج مسلمان بیبیوں کے قالب میں تعلیمات اسلامی کی روح مردہ ہو گئی ہے ، شاید اس کا سبب یہ ہو کہ ان کے سامنے مسلمان عورت کی زندگی کا کوئی مکمل نمونہ نہیں ۔ آج ہم ان کے سامنے اس خاتون کا نمونہ پیش کرتے ہیں ، جو نبوت عظمی کی نو سالہ  مشارکت  زندگی کی بنا پر خواتین خیرالقرون کے حرم میں کم و بیش چالیس برس تک شمع ہدایت رہی ۔ ایک مسلمان عورت کے لیے سیرت عائشہ میں اس کی زندگی کے تمام تغیرات ، انقلابات اور صائب ، شادی  ، رخصتی ، سسرال ، شوہر، سوکن ، لاولدی ، بیوگی ، غربت ، خانہ داری ، رشک و حسد ، غرض  اس کے ہر موقع اور ہر حالت کے لیے تقلید کے قابل نمونے موجود ہیں ۔ پھر علمی ، اخلاقی ہر قسم کے گوہر گرانما یہ سے یہ پاک زندگی مالال ہے ۔ اس لیے سیرت عائشہ اس کے لیے ایک آئینہ خانہ ہے جس میں صاف طور پر یہ نظر آئے گا کہ ایک مسلمان عورت کی زندگی کی حقیقی تصویر کیا ہے ؟ اس کے علاوہ بھی  سیرت عائشہ کا مطالعہ اس لئے ضروری ہے کہ یہ ایک دنیا کی عظیم ترین انسان کی سیرت کا مطالعہ ہے ۔ اللہ تعالی ہماری خواتین کو ان کے نقوش قدم پر چلنے کی توفیق عطا فرمائے ۔ آمین۔(ع۔ح)
     

  • 10 سیرت عائشہ رضی اللہ عنہا (سید سلیمان ندوی) (پیر 07 مارچ 2016ء)

    مشاہدات:3215

    ام المومنین سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا ، حضرت ابوبکر صدیق ﷜ کی صاحبزادی تھیں۔ والدہ کا نام زینب تھا۔ ان کا نام عائشہ لقب صدیقہ اور کنیت ام عبد اللہ تھی۔ حضور ﷺ نے سن 11 نبوی میں سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے نکاح کیا اور 1 ہجری میں ان کی رخصتی ہوئی۔ آپ حضور ﷺ کی سب سے کم عمر زوجہ مطہرہ تھیں۔ انہوں نے حضور ﷺ کے ساتھ نو برس گذارے۔ ام الموٴمنین حضرت سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالیٰ عنہاوہ خوش قسمت ترین عورت ہیں کہ جن کو حضور کی زوجہ محترمہ اور ”ام الموٴمنین“ ہونے کا شرف اور ازواج مطہرات میں ممتاز حیثیت حاصل ہے۔قرآن و حدیث اور تاریخ کے اوراق آپ کے فضائل و مناقب سے بھرے پڑے ہیں۔ام الموٴمنین حضرت سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالیٰ عنہاسے شادی سے قبل حضور نے خواب میں دیکھا کہ ایک فرشتہ ریشم کے کپڑے میں کوئی چیز لپیٹ کر آپ کے سامنے پیش کر رہا ہے… پوچھا کیا ہے؟ جواب دیا کہ آپ کی بیوی ہے، آپ نے کھول کہ دیکھا تو حضرت عائشہ ہیں۔صحیح بخاری میں حضرت ابو موسی اشعری سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺنے فرمایا " مردوں میں سے تو بہت تکمیل کے درجے کو پہنچے مگر عورتوں میں صرف مریم دختر عمران، آسیہ زوجہ فرعون ہی تکمیل پر پہنچی اور عائشہ کو تمام عورتوں پر ایسی فضیلت ہے جیسے ثرید کو تمام کھانوں پر ۔آپ ﷺکو حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے بہت محبت تھی، ایک مرتبہ حضرت عمرو ابن عاص ﷜ نے حضور سے دریافت کیا کہ… آپ دنیا میں سب سے زیادہ کس کو محبوب رکھتے ہیں؟ آپ نے فرمایا کہ عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کو، عرض کیا گیا کہ اے اللہ کے رسول! مردوں کی ن...



ایڈوانس سرچ

اعدادو شمار

  • آج کے قارئین: 1045
  • اس ہفتے کے قارئین: 6483
  • اس ماہ کے قارئین: 31387
  • کل مشاہدات: 42911245

موضوعاتی فہرست

ای میل سبسکرپشن

محدث لائبریری کی اپ ڈیٹس بذریعہ ای میل وصول کرنے کے لئے ای میل درج کر کے سبسکرائب کے بٹن پر کلک کیجئے۔

رجسٹرڈ اراکین

ایڈریس

        99--جے ماڈل ٹاؤن،
        نزد کلمہ چوک،
        لاہور، 54700 پاکستان

       0092-42-35866396، 35866476، 35839404

       0092-423-5836016، 5837311

       library@mohaddis.com

       بنک تفصیلات کے لیے یہاں کلک کریں