• pages-from-24-ghentey-mein-1000-sunnatain-peyarey-nabi-saw-ki-peyari-sunnatain
    خالد الحسینان

    قرآن مجید میں اللہ کے رسول ﷺ کی زندگی کو اہل ایمان کے لیے اسوۂ حسنہ قرار دیا گیا ہے۔ لہذارسول اکرمﷺ کی مبارک زندگی ہر شعبے سے منسلک افراد کے لیے اسوۂ کامل کی حیثیت رکھتی ہے ۔ کوئی مذہبی پیشوا، سیاسی لیڈر، کسی نظریے کا بانی حتی کہ سابقہ انبیائے کرام ﷩ کےماننے والے بھی اپنے پیغمبروں کی زندگیوں کو ہرشعبے سے منسلک افراد کےلیے نمونہ کامل پیش نہیں کرسکتے۔ یہ یگانہ اعزاز وامتیاز صرف رسالت مآب ﷺ ہی کو حاصل ہے۔نبی کریمﷺکا اٹھنا،بیٹھنا ،چلنا پھرنا،کھانا،پینا،سونا ،جاگنااور 24 گھنٹے میں دن رات کے معمولات زندگی ہمارے لیے اسو ۂ حسنہ ہیں۔ زیر تبصرہ کتابچہ ’’24گھنٹے میں 100 سنتیں‘‘شیخ خالد الحسینان کے ایک عربی کتابچہ’’ اکثر من 1000 سنۃ فی الیوم واللیلۃ‘‘ کا اردو ترجمہ ہےاس میں انہوں نے ۲۴ گھنٹے میں اللہ کے رسول ﷺ کی طہارت، نماز،نشست وبرخاست، قیام وطعام ، سفر وحضر، حرکات وسکنات، رہن سہن اور سونے وجاگنے سے متعلق ایک ہزار سے زائد سنن جمع کی ہیں ۔ اس کتابچے کی یہ امتیازی خصوصیت ہے کہ اس میں صحیح اور مستند روایات سے استفادہ کیا گیا ہے۔ احادیث کی صحت وضعف کےلیے زیادہ ترشیخ ناصر الدین البانی کی کتب پر اعتماد کیاگیا ہے ۔اس کتابچہ کا اولین اردو ترجمہ کی سعادت استاذی المکرم ڈاکٹر حافظ محمد اسحاق زاہد﷾ نے حاصل کی اور سب سے اسے پہلے مجلس التحقیق الاسلامی،لاہور نے شائع کیا۔ بعد ازاں کئی دیگر طباعی اداروں نے اس کو مختلف ناموں سے شائع کیا۔ اللہ تعالیٰ ہم سب کو اللہ کے رسول ﷺکی زندگی کو نمونہ بنانے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین(م۔ا)واذکار

  • 40khasosiyaat
    محمد عظیم حاصلپوری

    اللہ رب العزت نےجہاں آپ ﷺ کوتمام انسانیت سے افضل اوراعلیٰ مقام ومرتبہ عطا فرمایا ہے وہاں آپ کو بہت سےایسی خوبیاں اور خصوصیات بھی عطا فرمائی ہیں۔ جو تمام انبیاء اور کل کائنات سے آپ کوممتاز کرتیں ہیں۔ نبی کریم ﷺ کی عظمت ورفعت کے بیان میں اللہ تعالیٰ نے سیکڑوں خصوصیات آپ کودے رکھیں ہیں ۔کتب وحدیث وسیرت میں جن کاتفصیلی ذکر موجود ہے اور باقاعدہ اس موضوع پر الگ سے کتب بھی موجود ہیں ۔ زیر نظر کتاب ’’40 خصوصیات محمد ﷺ ‘‘مولانا محمد عظیم حاصل پوری ﷾ (مدیرماہنامہ المحمدیہ،حاصل پور )کی کاوش ہے جس میں انہوں نےاختصار کے ساتھ آپﷺکی 40خصوصیات کاذکرکیا ہے۔تاکہ ہم اپنے نبی جناب محمد ﷺ کی عظمت ورفعت کوپہنچان کر ان کی سچی اتباع کریں اور دنیا وآخرت کی فوزوفلاح کےحقدار بن جائیں۔ اللہ تعالیٰ مصنف موصوف کے علم علم اور زورِ قلم میں اضافہ فرمائے۔ اور ہمیں اپنے نبی ﷺ کی سچی اتباع،روز قیامت آپ کا دیدار،آپ کی رفاقت اور آپ کی سفارش نصیب فرمائے (آمین) (م۔ا)

  • title-page-aiyna-jamal-e-nabowat
    ابراہیم بن عبد اللہ الحازمی
    حضور نبی کریم ﷺکی حیات مبارکہ اور سیر وسوانح پر اب تک بے شمار کتب لکھی جا چکی ہیں مگر آپ کے جسمانی حسن و جمال پر اب تک بہت کم کتب سامنے آئی ہیں- زیر نظر کتاب اسی کمی کو پورا کرنے کی ایک بھرپور  اور انتہائی عمدہ کوشش ہےجس میں مصنف  نے دلکش انداز میں آپ ﷺکے حسن و جمال کی ایک جھلک دکھائی ہے- یہ کتاب در اصل ''الرسول کأنک تراہ'' کا اردو ترجمہ ہے  اردو قالب میں ڈھالنے کا کام حافظ عبدالستار حماد نے بخوبی انجام دیا ہے- جب آپ حضور نبی کریم ﷺکی دلنشیں آنکھوں، حسیں رخساروں، کسرتی پنڈلیوں اور خوبصورت ہتھیلیوں کے بارے میں پڑھیں گے تو آپ کو ایسا محسوس ہوگا جیسے آپ سرور کائنات ﷺکو اپنے سامنے دیکھ رہے ہیں- کتاب کی ایک خاصیت یہ  بھی ہے کہ اس کا تمام تر مواد صحت اسناد کے لحاظ سے مستند اور صحیح احادیث پر مشتمل ہے-

  • title-page-aftab-e-nabowwat-ki-sunahri-shuain
    عبد المالک مجاہد
    خدا تعالی نے حضور صلی اللہ علیہ وسلم کو تمام جہانوں کیلئے رحمت بناکر بھیجا اور پوری دنیا میں آپ کو منفرد او رمعزز مقام عطا کیا ۔آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی شخصیت کی ہمہ گیریت کا اندازہ اس بات سے بھی لگایا جاسکتاہے کہ مسلمان تو مسلمان کفار بھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی تعریف میں کسی سے پیچھے نہیں ہیں سیرت رسول صلی اللہ علیہ وسلم پر اب تک بے شمار کتب منظر عام پر آچکی ہیں جن میں حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی کےکسی بھی پہلو کو تشنہ نہیں چھوڑا گیا۔زیر مطالعہ کتاب بھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی سیرت کے چند پہلوؤں کا احاطہ کرتے ہوئے ان کتب میں ایک شاندار اضافہ ہے کتاب میں جہاں حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے آباؤ اجداد ،آپ کی ولادت ،بچپن اور پہلی ہجرت کو حسین پہرائے میں بیان کرنے کا شرف حاصل کیا گیاہے وہاں آفتاب نبوت کی سنہری شعاعیں پڑنے پر خواب غفلت سے جاگ کر دشمنان دین کے سامنے سیسہ پلائی ہوئی دیوار بنتے بھی دکھا گیا ہے اس کے علاوہ آپ اس کتاب میں امت کے فرعونوں کے انجام کار کی تصویر کشی ملاحظہ کرنے کے ساتھ ساتھ حضرت حمزہ رضی اللہ عنہ کا جگر چبانے والی کو رحمت عالم کے روبروبھی دیکھیں گے کتاب کی خاصیت یہ ہے کہ مردوں ،عورتوں اور بچوں کیلئے یکساں مفید ہے اور انداز اس قدر سادہ اور دلکش ہے کہ ایک دفعہ شروع کردو تو ختم کرنےسے پہلے اس سے نظر ہٹانے کو جی نہ چاہے۔

  • title-pages-aanhazor--saww--ki-taleemi-jiddu-jehd-copy
    پروفیسر رب نواز

    مسلمانوں میں دینی تعلیم کے اہتمام کا سلسلہ عہد نبوی ہی میں شروع ہوچکا تھا۔ دارارقم ،درس گاہ مسجد قبا ، مسجد نبوی اور اصحاب صفہ کے چبوترہ میں تعلیم وتربیت کی مصروفیات اس کے واضح ثبوت ہیں۔ چوتھی وپانچویں صدی ہجری کی معروف دینی درس گاہوں میں مصر کا جامعہ ازہر ، اصفہان کا مدرسہ ابوبکر الاصفہانی ، نیشاپور کا مدرسہ ابو الاسحاق الاسفرائینی اور بغداد کا مدرسہ نظامیہ شامل ہیں۔غرضیکہ مدارس کی تاریخ وتاسیس کی کڑی عہد رسالت سے جاکر ملتی ہے اور مدارس میں پڑھائی جانے والی کتب حدیث کی سند کا سلسلہ حضور اکرم ﷺ تک پہنچتا ہے۔ برصغیر میں مدارس کا قیام دوسری صدی ہجری یعنی آٹھویں صدی عیسوی میں ہوا۔اور جب دہلی میں مسلم حکومت قائم ہوئی تو دہلی کے علاوہ دوسرے شہروں وقصبوں ودیہاتوں میں کثیر تعداد میں مکاتب ومدارس قائم ہوئے۔ مدارس کے قیام کا بنیادی مقصد کتاب وسنت اور ان سے ماخوذ علوم وفنون کی تعلیم وتعلم ، توضیح وتشریح ، تعمیل واتباع ، تبلیغ ودعوت کے ساتھ ایسے رجال کار پیدا کرنا ہے جو اس تسلسل کو قائم وجاری رکھ سکیں ، نیز انسانوں کی دنیاوی زندگی کی رہنمائی کے ساتھ ایسی کوشش کرنا ہے کہ ہر ہر انسان جہنم سے بچ کر جنت میں جانے والا بن جائے۔لیکن افسوس کہ اس وقت دینی مدارس اپنوں نے بے وفائیوں اور غیروں کی سازشوں کا نشانہ ہیں۔ زیر تبصرہ کتاب" آنحضور ﷺ کی تعلیمی جدوجہد " محترم پروفیسر رب نواز صاحب کی تصنیف ہے، جس میں انہوں نے نبی کریم ﷺ کی تعلیمی جدوجہد کو بیان کیا ہے۔ اللہ تعالی سے دعا ہے کہ وہ مولف کی اس محنت کو اپنی بارگاہ میں قبول فرمائے اور ان کے میزان حسنات میں اضافہ فرمائے۔آمین(راسخ)

  • title-pages-aappbuhka-tahzeeb-wa-tamaddon
    میاں محمد جمیل ایم ۔اے
    افراد اور اقوام کے رہن سہن، عادات وخصائل حتی کہ کھانے پینےکےآداب کوبھی تہذیب وتمدن اور ثقافت وکلچرمیں شمارکیاگیاہے۔ ہرمعاشرے اوراقوام کی عادات واطوار، بودوباش او رکھانے پینے کے انداز ایک دوسرے سے الگ ہوتے ہیں۔ تہذیب وتمدن انسانوں کی عزت وعظمت کامعیار ہی نہیں بلکہ افراد کو یکجا اورمتحدرکھنے میں اس کا بڑا دخل بھی ہے۔ جس طرح نظریا ت آدمی کو ایک دوسر ےکےقریب اور دور کرتے ہیں یہی قوت تہذیب وتمدن میں کارفرماہے۔ چنانچہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جس نے اپنی تہذیب کو چھوڑ کر کسی دوسرے کی تہذیب کو اپنایا وہ انہی میں سے ہوگا۔ لہذا ضروری تھا کہ امت کےتہذیب وتمدن کو نمایاں اورمسلم امہ کو ممتاز رکھنےکے لیے اس کو ایک ایسی فکریکسوئی اورحسن عمل سے آراستہ کیا جاتا جس کی کوئی نظیر پیش نہ کرسکے۔ اورپھر امت اس قوت کےساتھ اقوام عالم کی رہنمائی کا فریضہ سرانجام دے۔ زیرنظرکتاب اسی سلسلے کی ایک کڑی ہے جس میں میاں جمیل صاحب جوکہ ایک مشہور عالم دین ہیں انہوں نےآپ صلی اللہ علیہ وسلم کی سیرت اور تاریخ کے دیگراسلامی واقعات کی روشنی میں تہذیب اسلامی کے جملہ پہلووں کو اجاگرکرنےکوشش کی ہے۔ (ع۔ح)

    نوٹ:
    محدث فورم میں اس کتاب پر تبصرہ کرنے کے لیے یہاں کلک کریں
  • pages-from-aap-saw-ka-hajj
    میاں محمد جمیل ایم ۔اے

    حج عبادات کا مرقع دین کی اصلیت اور اس کی روح کا ترجمان ہے۔ یہ مسلمانوں کی اجتماعی تربیت اور ملت کے معاملات کا ہمہ گیر جائزہ لینے کا وسیع وعریض پلیٹ فارم ہے شریعت نے امت مسلمہ کواپنے او ردنیا بھر کے تعلقات ومعاملات کا تجزیہ کرنے کے لیے سالانہ بین الاقوامی سٹیج مہیا کیا ہے تاکہ وہ حقوق اللہ اور حقوق العباد کے معاملہ میں اپنی کمی بیشی کا احساس کرتے ہوئے توبہ استغفار اور حالات کی درستگی کےلیے عملی اقدامات اٹھائیں ۔حج بیت اللہ ارکانِ اسلام میں ایک اہم رکن ہے بیت اللہ کی زیارت او رفریضۂ حج کی ادائیگی ہر صاحب ایمان کی تمنا اور آرزو ہے ہر صاحب استطاعت اہل ایمان کے لیے زندگی میں  ایک دفعہ فریضہ حج کی ادائیگی فرض ہے اور اس کے انکار ی کا ایمان کامل نہیں ہے اور وہ دائرہ اسلام سے خارج ہے اجر وثواب کے لحاظ سے یہ رکن بہت زیادہ اہمیت کاحامل ہے۔نماز روزہ صر ف بدنی عبادتیں ہیں اور زکوٰۃ فقط مالی عبادت ہے۔ مگر حج کی یہ خصوصیت ہے کہ وہ بدنی اورمالی دونوں طرح کی عبادت کامجموعہ ہے۔ تمام كتب حديث وفقہ میں اس کی فضیلت اور احکام ومسائل کے متعلق ابو اب قائم کیے گئے ہیں اور تفصیلی مباحث موجود ہیں۔ حدیث نبویﷺ ہے کہ آپ نےفرمایا الحج المبرور لیس له جزاء إلا الجنة’’حج مبرور کا ثواب جنت سوا کچھ اور نہیں ۔اس موضوع پر اب تک اردو و عربی زبان میں چھوٹی بڑی بیسیوں کتب لکھی جاچکی ہیں اور ہنوذ یہ سلسلہ جاری وساری ہے۔ زیر تبصرہ کتابچہ ’’آپ ﷺ کا حج ‘‘ مولانا میاں محمدجمیل ﷾(مصنف کتب کثیر ہ )کی کاوش ہے جس میں نے آسان طریقے سے اختصار کے ساتھ نبی کریم ﷺ کے حج کا مسنون طریقہ بیان کیا ہے جس سے استفادہ کر کے حاجی کرنے والا سنت کے مطابق مناسک حج ادا کرسسکتا ہے۔ اللہ ان کی اس کاوش کو قبول فرمائے۔ آمین( م۔ا)

  • title-pages-aap-k-lail-w-nahar-copy
    مشتاق احمد شاکر

    رہبرانسانیت سیدنا محمد رسول اللہ ﷺ قیامت تک آنے والےانسانوں کےلیے’’اسوۂحسنہ‘‘ ہیں ۔ حضرت محمد ﷺ ہی اللہ تعالیٰ کے بعد ،وہ کامل ترین ہستی ہیں جن کی زندگی اپنے اندر عالمِ انسانیت کی مکمل رہنمائی کا پور سامان رکھتی ہے۔اسلامی آداب واخلاقیات حسنِ معاشرت کی بنیاد ہیں،ان کے نہ پائے جانے سے انسانی زندگی اپنا حسن کھو دیتی ہے ۔ حسنِ اخلاق کی اہمیت اسی سے دوچند ہوجاتی ہے کہ ہمیں احادیث مبارکہ سے متعدد ایسے واقعات ملتے ہیں کہ جن میں عبادت وریاضت میں کمال رکھنے والوں کےاعمال کوصرف ان کی اخلاقی استواری نہ ہونے کی بنا پر رائیگاں قرار دے دیاگیا۔حسن ِاخلاق سے مراد گفتگو اور رہن سہن سے متعلقہ امور کوبہتر بنانا ہی نہیں ہے بلکہ اسلامی تہذیب کے تمام تر پہلوؤں کواپنانا اخلاق کی کامل ترین صورت ہے ۔ زیر تبصرہ کتاب’’ آپ ﷺ کے لیل ونہار ‘‘مولانا مشتاق احمد شاکر اور مولانا امان اللہ فیصل کی مشترکہ کاوش ہے ۔جوکہ رسول اکرم ﷺ کی زندگی کے شب وروز کے معمولات مجموعہ پر مشتمل ہے ۔مرتبین نے اس کتاب میں آپ ﷺ کے 23 سالہ دور نبوت میں گزرنے والے اہم لمحموں کو بڑے قرینہ سے حروف تہجی کی ترتیب سے قلمبند کرنےکی کوشش کی ہے ۔زیادہ تر احادیث کا مفہوم پیش کیا ہے کہیں کہیں حدیث کی شرح اور وضاحت بھی کردی ہے۔پیدائش سے موت پیش آنے والےمعاملات کے متعلق اسلامی زندگی گزارنے کےلیے یہ ایک بہترین تربیتی کتاب ہے شیخ الحدیث مولانا محمود احمد حسن ،شیخ الحدیث مولانا مفتی محمد یوسف قصوری حفظہما اللہ کی نظر ثانی سے کتاب کی اہمیت وافادیت میں مزید اضافہ ہوگیا ہے ۔۔(م۔ا)

  • pages-from-akhlaaq-e-nabvi-key-sunehrey-waqiyaat
    عبد المالک مجاہد

    اللہ تبارک وتعالیٰ نے مسلمانوں کو ایک بڑی دولت اور نعمت سے نوازا ہے، جو پورے دین کو جامع اور اس کی تبلیغ کا بہترین ذریعہ ہے۔ وہ نعمت اور دولت اخلاق ہے، ہمارے نبی حضرت محمد رسول اللہﷺ اخلاق کے اعلیٰ معیار پر تھے، چنانچہ آپﷺ کی راز دار زندگی اور آپﷺ کی زوجہ محترمہ حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا فرماتی ہیں، ”آپﷺ کے اخلاق کا نمونہ قرآن کریم ہے۔ آپﷺ نے اپنے ہر قول وفعل سے ثابت کیا کہ آپﷺ دنیا میں اخلاقِ حسنہ کی تکمیل کے لیے تشریف لائے، چنانچہ ارشاد ہے: ”بعثت لاتتم مکارم الاخلاق“ یعنی ”میں (رسول اللہ ﷺ) اخلاق حسنہ کی تکمیل کے واسطے بھیجا گیا ہوں“۔ پس جس نے جس قدر آپﷺ کی تعلیمات سے فائدہ اٹھاکر اپنے اخلاق کو بہتر بنایا اسی قدر آپﷺ کے دربار میں اس کو بلند مرتبہ ملا، صحیح بخاری کتاب الادب میں ہے، ”ان خیارکم احسن منکم اخلاقا“ یعنی ”تم میں سب سے اچھا وہ ہے جس کے اخلاق سب سے اچھے ہوں۔ حضورﷺ کی ساری زندگی اخلاقِ حسنہ سے عبارت تھی، قرآن کریم نے خود گواہی دی ”انک لعلی خلق عظیم“ یعنی بلاشبہ آپﷺ اخلاق کے بڑے مرتبہ پر فائز ہیں۔ آپ ﷺ لوگوں کوبھی ہمیشہ اچھے اخلاق کی تلقین کرتے آپ کے اس اندازِ تربیت کےبارے میں حضرت انس﷜ کہتے ہیں۔ رایتہ یامر بمکارم الاخلاق(صحیح مسلم :6362) میں نے آپ کو دیکھا کہ آپ لوگوں کو عمدہ اخلاق کی تعلیم دیتے ہیں۔ زیر تبصرہ کتا ب ’’اخلاق نبوی کے سنہرے واقعات‘‘ اشاعت کتب کے معروف انٹر نیشنل ادارے دار السلام کے ڈائریکٹر جناب مولانا عبد المالک مجاہد﷾ کی ایک منفر د کاوش ہے۔ موصوف نے مختلف کتب سیرت و تاریخ سے استفادہ کر کے ان واقعات کو ایک جگہ یکجا کردیا ہے۔ ان واقعات سے ہمیں آپﷺ کے اعلیٰ اخلاق کے بارے میں راہنمائی ملتی ہے۔ فاضل مصنف نے اس کتاب میں اخلاق نبویﷺ کے ایک سو سنہرے واقعات کو جمع کیا ہے اور پوری کوشش سے صرف ان واقعات کو شامل کیا ہے جو صحیح ہیں اور ان کاتذکرہ مستند کتابوں میں ہے۔ درالسلام لاہور برانچ کی ریسرچ ٹیم کی اس کتاب پر تحقیق وتخریج سے کتاب کی اہمیت وافادیت میں مزید اضافہ ہوگیا ہے۔ (م۔ا)

  • pages-from-akhlaaq-e-paighambri
    طالب ہاشمی

    نبی کریم ﷺ اخلاقیات کے اعلی ترین مقام پر فائز تھے،اللہ تعالی نے آپ کو اخلاق کا بہترین نمونہ اور پیکر بنا کر بھیجا تھا۔کسی نے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے اخلاق کے بارے میں پوچھا تو آپ نے جواب دیا: کیا تم نے قرآن نہیں پڑھا؟آپ صلی اللہ علیہ وسلم اخلاق کے اعلیٰ ترین مرتبے پر فائز تھے۔ اس کی گواہی قرآن نے بھی دی اور صحابہ و ازواج مطہرات رضی اللہ عنہم نے بھی۔ یہاں تک کہ آپ کے بدترین مخالفین،جنہوں نے آپ پر طرح طرح کے الزامات تو لگائے لیکن کبھی آپ کی سیرت اور کردار کی بابت ایک لفظ بھی نہ کہہ پائے۔حیرت کا مقام ہے کہ آپ کے ہم عصر مخالفین تک آپ کو اعلیٰ اخلاق و کردار کا حامل گردانتے تھے۔ لیکن چودہ سو سال بعد مغرب کے آزادی صحافت کے علمبرداروں کو آپ کے کردار پر انگشت نمائی کا گھناؤنا خیال سوجھا۔ اس کا حل یہی ہے کہ ہم اپنے پیارے نبی جناب محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی سیرت اور کردار کا مطالعہ کریں اور اس کا زیادہ سے زیادہ پرچار کریں۔ زیر تبصرہ کتاب "اخلاق پیمبری" محترم جناب طالب ہاشمی کی تصنیف ہے ،جس میں انہوں نے انتہائی سادہ لیکن مؤثر انداز میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے اخلاق و سیرت کو بیان کیا ہے۔ مولف موصوف نے انتہائی اختصار کے ساتھ آپ کے اعلیٰ اخلاق کے مختصر قصے جمع کردئے ہیں۔ اس کا مطالعہ ہر اس مسلمان کے لئے مفید ہے جو آپ سے محبت کا دعوٰی کرتا ہے۔اللہ تعالی سے دعا ہے کہ وہ مولف کی اس کاوش کو اپنی بارگاہ میں قبول فرمائے اور تمام مسلمانوں کو نبی کریم ﷺ کے اخلاق اور اسوہ حسنہ پر عمل کرنے کی توفیق دے۔ آمین(راسخ)

  • pages-from-islam-aur-ihtiraam-e-nabuwwat
    تقی الدین علی السبکی

    اللہ تعالیٰ نے ساری مخلوق کے لیے سیدنا محمدﷺ کو رسول اور رہنماء ورہبر بنا کر مبعوث فرمایا۔آپﷺ نے اپنوں اور بیگانوں میں تریسٹھ سالہ ظاہری زندگی بسر کی وہ بھی بھر پور۔ تمام کے ساتھ لین دین کیا‘ مسجد کے مصلیٰ سے لے کر سربراہ ریاست تک آپ نے معاملات سر انجام دیئے‘ اپنے تو کجا بیگانوں اور مخالفوں نے بھی تسلیم کیا کہ ان کی ذات اقدس معاملہ بھی اس قدر امین وپاکیزہ ہے کہ اس کی مثال نہیں ملتی‘ لیکن اس کے باوجود کفار نے آپﷺ کو  ساحر‘ کاہن اور مجنون کہا۔آپﷺ نے ساری ظاہری حیات میں کسی سے ذاتی انتقام نہیں لیا‘ ہاں حدود الٰہی توڑنے اور مخلوق پر ظلم وستم کرنے والوں سے کبھی سمجھوتہ نہیں کیا۔آپﷺ کی سیرت وکردار پر بے بہا مواد عوام الناس میں موجود ہے لیکن اس کے ساتھ ساتھ کچھ ایسا مواد بھی ہے جو احترام نبویﷺ کے مخالف ہے۔زیرِ تبصرہ کتاب  خاص اسی موضوع پر ہے کہ نبیﷺ کی ناموس کے خلاف مواد کا تحقیقی وتنقیدی جائزہ پیش کیا گیا ہے ۔کتاب اصلاً عربی زبان میں ہے جس کا اس کتاب میں سلیس اور با محاورہ ترجمہ کیا گیا ہے۔اس کتاب میں چار ابواب ہیں۔ پہلا مسلمان گستاخ کا حکم‘ دوسرا ذمی اور دیگر کفار کستاخوں کا حکم‘ تیسرا سب وشتم سے مراد کیا ہے؟ اور چوتھا مقام مصطفیٰﷺ کا تذکرہ کے عنوان سے ہیں۔اور ہر باب میں حسب  ضرورت فصول کا اہتمام بھی کیا گیا ہے۔ اور حوالہ جات سے کتاب کو مزین کیا گیا ہے۔ کتاب کا اسلوب نہایت عمدہ‘سادہ اور عام فہم ہے۔ یہ کتاب’’ اسلام اور احترام نبوت ‘‘ مفتی محمد خان قادری کی مرتب کردہ ہے۔آپ تصنیف وتالیف کا عمدہ شوق رکھتے ہیں‘ اس کتاب کے علاوہ آپ کی درجنوں  کتب اور  بھی ہیں۔ دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ مؤلف وجملہ معاونین ومساعدین کو اجر جزیل سے نوازے اور اس کتاب کو ان کی میزان میں حسنات کا ذخیرہ بنا دے اور اس کا نفع عام فرما دے۔(آمین)( ح۔م۔ا )

  • islam-e-mustafa-front-copy
    ابو حمزہ عبد الخالق صدیقی
    دین نبی کریمﷺ پر مکمل ہو چکا ہے اور یہ دین بلا کم و کاست ہم تک پہنچ چکا ہے اب اس میں کسی کمی یا اضافے کی کوئی گنجائش باقی نہیں رہی ہے۔ ضرورت اس امر کی ہے تمام مسلمان اپنے عقل و فہم کے بجائے قرآن و سنت کی عطا کردہ ابدی تعلیمات کو حرزِ جان بنائیں۔ مسائل میں اختلافات کی صورت میں قرآن و سنت کی بات کو ہی حتمی اور قول فیصل سمجھیں۔ زیر مطالعہ کتاب ’اسلام مصطفیﷺ‘ اسی مقصد کو سامنے رکھ کر لکھی گئی ہے جس میں دینِ اسلام کی تقریباً تمام تر بنیادی تعلیمات کا احاطہ ہو گیا ہے۔ کتاب کے مصنف ابوحمزہ عبدالخالق ہیں اور احادیث کی تحقیق و تخریج کے فرائض حافظ حامد الخضری نے ادا کیے ہیں۔کتاب 9 ابواب پر مشتمل ہے۔ پہلا باب تخلیق انسانیت اور بعثت انبیا کے موضوع پر ہے۔ دوسرے باب میں توحید کی تمام اقسام کی وضاحت اور اسما و صفات سے متعلق چند اہم قواعد کی نشاندہی  کی گی ہے۔ تیسرے باب میں قرآن سنت کی روشنی میں شرک کی مذمت بیان کی گئی ہے جبکہ چوتھے باب میں دین اسلام کے مصادر بیان کیے گئے ہیں۔ اس کے علاوہ ایک مستقل باب تقلید شخصی کی حیثیت پر مشتمل ہے۔ ساتواں باب ایک سو سے زائد صفحات پر مشتمل ہے جس میں دین اسلام کے وہ احکامات بیان کیے گئے ہیں جو اس کو دیگر تمام ادیان سے ممتاز مقام عطا کرتے ہیں۔ آٹھواں باب اسلام کی اخلاقی تعلیمات بالبداہت بیان کرتا ہے جبکہ نویں اور آخری باب میں اسلام اور عیسائیت کا تقابل کیا گیا ہے۔ یہ کتاب ہر خاص و عام کے لائق مطالعہ اور ہر گھر کی ضرورت ہے۔ ایک عام فہم شخص کو بھی اس کتاب سے استفادہ کرنے میں کوئی مشکل نہیں ہوگی۔(ع۔م)

  • pages-from-islam-peghambar-e-islam-aur-mustashriqeen-e-maghrib-ka-andaz-e-fikar
    ڈاکٹر عبد القادر جیلانی

    تہذیبیں گروہ انسانی کی شدید محنت اور جاں فشانی کا ثمرہ ہوتی ہیں۔ہر گروہ کو اپنی تہذیب سے فطری وابستگی ہوتی ہے۔جب تک اس کی تہذیب اسے تسکین دیتی ہے ،وہ دیگر تہذیبوں سے بے نیاز رہتا ہے۔جب کوئی بیرونی تہذیب اس پر دباؤ ڈالنے لگتی ہے تو معاشرہ اپنی تہذیب کی مدافعت کے لئے اٹھ کھڑا ہوتا ہے،اور مخالف تہذیب کو اپنی تہذیب پر اثر انداز ہونے سے روکنے کی کوشش کرتا ہے۔یہ مدافعت اکثر حربی ٹکراؤ کی صورت اختیار کر جاتی ہے،اور اگر حربی مدافعت کی قوت باقی نہیں رہ جاتی تو غالب معاشرے کے خلاف سرد جنگ شروع ہوجاتی ہے۔تاآنکہ دونوں میں سے کسی ایک کو قطعی برتری حاصل نہ ہوجائے۔بصورت دیگر کوئی نئی تہذیب وجود میں آتی ہے جس میں متحارب معاشرے ضم ہوجاتے ہیں۔مستشرقین بھی اسلام اور پیغمبر اسلام کو اسی نگاہ سے دیکھتے ہیں ، اور اس کا مقابلہ کرنے کی کوششوں میں لگے رہتے ہیں۔ زیر تبصرہ کتاب "اسلام ،پیغمبر اسلام اور مستشرقین مغرب کا انداز فکر"محترم ڈاکٹر عبد القادر جیلانی کا کراچی یونیورسٹی سے پی ایچ ڈی کی ڈگری کے لئے لکھا گیا مقالہ ہے،جسے محترم آصف اکبر صاحب نے مرتب کیا ہے۔مقالہ نگار نے اس میں مغرب کا پس منظر،ریاست اسلامیہ کی توسیع اور عہد وسطی کا مغرب، مغرب کا رد عمل ،مستشرقین، اورسترہویں تا انیسویں صدی عیسوی کا مشترکہ جائزہ جیسے موضوعات پر تفصیلی بحث کی ہے۔مغرب کے انداز فکر کو سمجھنے کے لئے یہ ایک مفید اور بہترین کتاب ہے۔(راسخ)

  • title-page-asma-e-rasool
    محمد ایوب سپرا

    محمد صلی اللہ علیہ وسلم  کا نام نہ صرف تمام مسلمانوں کے ہاں نہایت عزت واحترام والا ہے بلکہ تمام مخلوقات میں اس اسم کونہایت افضل واکمل جانا اور توقیر کی نظر سے دیکھا گیا ہےاہل ایمان نے جس قدر اس اسم گرامی کی توقیر کی  وہ اظہر من الشمس ہے ،دوسرے مذاہب والوں نےبھی اس  نام کونہایت عزت واحترام کے ساتھ پکارا او رنظریاتی مخالفت کے باوجود اس میں کوئی بگاڑ پیدا نہ کیا اللہ تعالی نے اپنی آخری کتاب قرآن مجید  میں  رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو کئی مقامات پر مخاطب فرمایا لیکن جب بھی آپ کا ذکر خیر آیا اکثر کسی صفاتی نام سے پکارے گئےجیسے اے رسول،اے نبی،اےاوڑھ لپیٹ کر سونے والےوغیرہ یہ اللہ تعالی کی خاص محبت وشفقت ہے اپنے اس بندے اور رسول کے ساتھ جس کا ذکر خیر اس کتاب میں ہوگا۔اور یہ مختصر کتابچہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ذاتی وصفاتی ناموں پرمشتمل  ہے ناموں کےساتھ  ساتھ ان کے معانی اور مفاہیم کو بھی اجاگر کیا ہے جس سے آگاہی ہر اس آدمی کے لیے ضروری ہے جو نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے محبت کا دعوی کرتاہے ۔

  • Title Page---Uswa e Hasana
    ابن قیم الجوزیہ
    امام ابن القیم رحمہ اللہ کی ایک جلیل القدر مبسوط کتاب "زاد المعاد فی ہدی خیر العباد" کے نام سے  فن سیرت میں ایک نمایاں اہمیت کی حامل کتاب ہے۔ جس میں فقہی موشگافیوں، کتب فقہ کے مجادلات، قیل و قال، متعارض اقوال سے صرف نظر کرتے ہوئے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی عملی تعلیم کو پیش کیا گیا ہے۔ زاد المعاد چونکہ ایک ضخیم کتاب ہے جس میں اکثر مسائل عوام کی بجائے اہل علم سے تعلق رکھتے ہیں۔ عوام کی آسانی اور طریقہ نبوی صلی اللہ علیہ وسلم کی آسان فہم تشریح کیلئے  زیر تبصرہ کتاب میں اسی مشہور تصنیف کی تلخیص کی گئی ہے۔ اسوہ حسنہ کے موضوع پر بلاشبہ یہ ایک شاندار تصنیف ہے۔
  • title-pages-uswa-hasanpbuh
    ابن قیم الجوزیہ
    امام ابن قیمؒ کا شمار  شیخ الاسلام امام ابن تیمیہؒ کے اخص الخاص شاگردوں میں ہوتا ہے۔ امام ابن تیمیہ رحمۃاللہ علیہ کے بعد ابن قیم رحمۃ اللہ علیہ کے پایہ کاکوئی محقق اور مسلک سلف کا کوئی ایسا شارح نہیں گزرا۔ اس کا منہ بولتا ثبوت ان کی بلند پایہ تصنیفات ہیں۔ پیش نظر کتاب بھی امام صاحب کی سیرت پر لکھی جانے والی کتاب کی ملخص شکل ہے۔ جوانھوں نے ’زاد المعاد فی ہدی خیر العباد‘ کے نام سے لکھی، جس میں انھوں نے دیگر سیرت نگاروں سے الگ ایک اچھوتا اسلوب اختیار کیا۔ یہ کتاب کافی ضخیم تھی اس لیے ضروری ہوا کہ اس کا اختصا رکیا جائے اور ان تمام مباحث کو نکال دیا جائے جو علما کے مخصوصات سے ہیں تاکہ براہ راست عوام اس سے فیض یاب ہو سکیں۔ مصر کے مشہور عالم محمد ابو زید نے اس کمی کو پورا کرتے ہوئے  ’ہدی الرسول‘ کے نام سے اس کا اختصار کیا جس کا اردو ترجمہ اس وقت آپ کے سامنے ہے۔ کتاب کی افادیت اس اعتبار سے مزید بڑھ جاتی ہے کہ اس کو عربی سے اردو قالب میں ڈھالنے والے عبدالرزاق ملیح آبادی رحمۃ اللہ علیہ ہیں، جن کی اردو دانی میں شک کی گنجائش نہیں ہے۔ مصنف نے نہایت خوبصورت انداز میں دریا کو کوزے میں بند کرتے ہوئے سیرت کے تمام نقوش کو قرطاس پر بکھیر دیا ہے۔(عین۔ م)

    نوٹ:
    محدث فورم میں اس کتاب پر تبصرہ کرنے کے لیے یہاں کلک کریں
  • pages-from-uswa-e-hasna
    ابن قیم الجوزیہ

    نبی کریم ﷺ کی سیرت کا مطالعہ کرنا ہمارے ایمان کا حصہ بھی ہے اور حکم ربانی بھی ہے۔قرآن مجید نبی کریم ﷺ کی حیات طیبہ کو ہمارے لئے ایک کامل نمونہ قرار دیتا ہے۔اخلاق وآداب کا کونسا ایسا معیار ہے ،جو آپ ﷺ کی حیات مبارکہ سے نہ ملتا ہو۔اللہ تعالی نے نبی کریم ﷺ کے ذریعہ دین اسلام کی تکمیل ہی نہیں ،بلکہ نبوت اور راہنمائی کے سلسلہ کو آپ کی ذات اقدس پر ختم کر کےنبوت کے خاتمہ کے ساتھ ساتھ سیرت انسانیت کی بھی تکمیل فرما دی کہ آج کے بعد اس سے بہتر ،ارفع واعلی اور اچھے وخوبصورت نمونہ وکردار کا تصور بھی ناممکن اور محال ہے۔آپ ﷺ کی سیرت طیبہ پر متعدد زبانوں میں بے شمار کتب لکھی جا چکی ہیں،جو ان مولفین کی طرف سے آپ کے ساتھ محبت کا ایک بہترین اظہار ہے۔زیر تبصرہ کتاب "اسوہ حسنہﷺ " شیخ الاسلام امام ابن قیم کی معرکۃ الآراء کتاب زاد المعاد فی ھدی خیر العباد کا اختصار اور اردو ترجمہ ہے۔اردو ترجمہ مولانا عبد الرزاق ملیح آبادی نے کیا ہے۔ مولف حق گوئی وبے باکی،وسعت نظر اور ندرت فکر میں سیرت نگاری کے حوالے سے ایک منفرد اور ممتاز مقام رکھتے ہیں۔اور یہ کتاب بھی ان کی نبی کریم ﷺ سے محبت کا بھر پور اظہار ہے۔ اللہ تعالی مولف کی اس محنت کو قبول فرمائے اور ہمیں آپ ﷺ کے اسوہ حسنہ کو اپنانے کی بھی توفیق دے۔آمین(راسخ)

  • pages-from-uswa-e-kamil
    پروفیسر ڈاکٹر عبد الرؤف ظفر

    انسانی ہدایت کے لیے اللہ رب العزت نے جہاں وحی جیسے مستند ذریعہ علم پر مشتمل 315 کتب اور صحائف نازل کیے وہیں ایک لاکھ چوبیس ہزار کے قریب انبیائے کرام﷩ بھی مبعوث فرمائے‘ جن کے نام تورات ‘زبور‘ انجیل اور قرآن مجیدجمیں ملتے ہیں مگر ان کے تفصیلی حالات اور ان کی جامع خدمات مفقود ہے۔ یہ اعزاز وامتیاز تاریخ میں صرف اور صرف ایک شخصیت کو حاصل ہے وہ جناب محمد الرسولﷺ کی ذات گرامی ہے جن کے حالات اور تعلیمات پورے استناد اور جامع تفصیلات کے ساتھ محفوظ اور موجود ہیں۔ آپ﷤ کی سیرت پر ایک سو سے زیادہ زبانوں میں اور ایک لاکھ کے قریب نظم ونثر کے مختلف اصناف میں نمونہ ہائے سیرت ملتے ہیں۔ اسی طرح زیرِتبصرہ کتاب’’ اسوۂ کامل‘‘ مصنف کے گراں قدر مضامین ومقالات کا مجموعہ ہے جن میں سے بعض معروف رسائل میں شائع ہو چکے ہیں‘ ان موضوعات پر نگاہ ڈالیں تو احساس ہوتا ہے کہ مصنف نے دور حاضر میں سیرت کے امکانات کا جائزہ لیتے ہوئے سیرت کی عملی افادیت کو اُجاگر کیا ہے اور ان میں آپ ﷺ کی شخصی زندگی کے لطیف وقائع کے علاوہ آپﷺ کی دعوتی‘ معاشرتی‘ تعلیمی‘ معاشی‘عسکری‘ عدالتی‘اخلاقی‘سماجی اور فلاحی تعلیمات کے حوالے سے بہت مفید معلومات اور تعلیمات کو پیش کیا ہے۔ مصنف نے اس کتاب میں سات ابواب قائم کیے ہیں۔باب اول میں سیرت نگاری...آغاز وارتقاء کو‘ دوسرے میں نقوشِ سیرت کو‘ تیسرے میں سیرت نبویﷺ اور معاشرت کو‘ چوتھے میں سیرت نبوی﷤ اور معیشت کو‘ پانچویں باب میں سیرت رسولﷺ اور تعلیم وتدریس کو‘ چھٹے باب میں سیرت نبوی﷤ اور منہج ودعوت کو اور ساتویں باب میں سیرت نبوی﷤ اور اسلامی ریاست کا آغاز اور نبیﷺ بحیثیت سپہ سالار کو بیان کیا گیا ہے۔زیرِ نظر کتاب پروفیسرعبدا لرؤف ظفر کی شہرۂ آفاق تصنیف ہے اور ان کا نام سیرت نگاروں کی صف میں اگرچہ نیا ہے مگر انہوں نے بہت تحقیق اور مطالعہ کے بعد اس کو تصنیف کیا ہےاللہ تعالیٰ مصنف  کی خدماتِ دین کو قبول فرمائے اور ان کے لیے ذریعہ نجات بنا ئے اور عوام کے لیے نفع عام فرمائے (آمین)(ح۔م۔ا)

  • pages-from-uswa-e-husna-ka-mufassil-bayaan
    محمد ظفیر الدین

    اسلام ایک دین فطرت ہے۔ اللہ تعالیٰ نے اپنی تمام تر مخلوقات میں سے حضرت انسان کو اشرف المخلوقات بنایا اور اس کی آزمائش کے لیے اسے دنیا میں اتارا پھر ازل سے ابد تک کے لیے نیکی اور برائی کے درمیان ایک آزمائش کے لیے مقررہ مدت تک زمین کو اس کا مسکن بنایا۔ اس کی تربیت و اصلاح کے لیے انبیاء کرام اور رسول مبعوث فرمائے جو حضرت انسان کی شیطان کے پر فریب جالوں کی نشاندہی اور اس سے بچنے کے طریقے بتاتے رہے۔ ان تمام انبیاء کرام اور رسولوں نے آزمائشوں میں کس طرح عزیمت کا رویہ برقرار رکھا، اپنے آپ کو دین پر مضبوطی سے رکھنا اور صبر و استقامت کے دامن کو مضبوطی سے تھامے ہوئے لوگوں کے درمیان اپنے حسن خلق کے ذریعے اصلاح و تبلیغ کا میدان سجائے رکھا۔ دنیا میں ہر انسان کو آزمایا جاتا ہے، انبیاء کرام سب سے عظیم ترین لوگ تھے اس لیے ان کی آزمائشیں اور مصائب بھی اس لحاظ سے بڑے تھے۔ ہم امت محمدیہ کے لوگ ہمارے لیے نبی کریم ﷺ کی زندگی کو اسوہ حسنہ قرار دیا گیا ہے۔ جدید دور اور حالات کے منظر نامے میں مسلمانوں کے لیے آزمائش کا میدان اور بھی سخت ہو گیا ہے۔ ایک مومن مسلمان کے لیے دنیا آزمائشوں کی آماجگاہ ہے۔ مگر دین اسلام تمام زمینوں اور زمانوں کے لیےرشد و ہدایت کا پیغام ہے اور نبی کریم ﷺ کی ذات گرامی اس کا عملی ظہور ہے۔ اس لیے یہ ممکن ہی نہیں کہ ہمیں کوئی تکلیف یا آزمائش آئے اور سیرت النبی ﷺ کے درخشاں باغیچے سے اس کے حوالے سے کوئی معطر رویہ مشعل راہ اور اسوہ حسنہ بن کر ہمارے سامنے نہ آئے۔ زیر تبصرہ کتاب"اسوہ حسنہ مصائب سرور کونینﷺ کا مفصل بیان" مولانا ظفیر الدین کی بے مثال تصنیف ہے۔ فاضل مؤلف نے نبی کریم ﷺ کی زندگی میں مصائب و آلام کا ذکر کیا ہے اور اس حوالے سے آپ ﷺ کا اسوہ حسنہ پیش کیا ہے تا کہ ہم بھی اس سے سبق حاصل کر کے اپنی زندگیوں کو سنت کے پیرائے میں ڈھال سکیں۔ اللہ تعالیٰ موصوف کی محنت کو شرف قبولیت سے نوازے۔ آمین(عمیر)

  • pages-from-uswa-e-rasool-aur-kamsin-bachey

    صحیح بخاری کی حدیث کے مطابق ماں اپنے بچوں کی نگران ہے قیامت کے دن اس سے بچوں کے بارے میں سوال کیا جائے گا۔نگران ہونے کی ذمہ داری اگر ایک تنکا کی بھی ہوتو وہ بھی بہت مشکل ہوتے ہے۔لیکن یہ تو وہ تو ذمہ داری ہے جو رسول اللہ ﷺ نے ماں کوبخشی ہے۔ اس کے بارے   میں قیامت کے دن سوال ہوگا ۔ پوچھا جائے گا؟ تم نے اپنے بچوں   کی نگرانی کا فرض کس انداز سے پورا کیا ؟ لہذا ہمیں اپنے بچوں کی تعلیم وتربیت کا آغاز اپنے پیارے نبیﷺ کی سیرتِ طیبہ سے کرنا چاہیے۔ انہیں نبیوں ، صدیقوں اور شہیدوں کی کہانیاں سنانا چاہیے تاکہ وہ یہ جان سکیں کہ انہوں نے لوگوں کو اچھا بنانے کی کوششوں میں کن کن مصیبتوں کوکس ہمت اور جرأت کے ساتھ برداشت کیا۔ زیر نظر کتاب’’اسوۂ اور کم سن بچے ‘‘ محمد مسعود عبدہ اور ان کی بیگم محترمہ ام عبدمنیب صاحبہ کی   مشترکہ وہ کاوش ہے جو انہو ں نے اپنے بچوں کی تربیت کے لیے ان کےسامنے سیرت النبیﷺ کو سوال جواب کی صورت میں پیش کیا۔اللہ تعالیٰ ان کی اس کاوش کو اہل اسلام کے لیے نفع بخش بنائے (آمین ) م۔ا)

  • pages-from-atraaf-e-seerat
    پروفیسر ڈاکٹر عبد الرؤف ظفر

    اس روئے ارض پر انسانی ہدایت کے لیے حق تعالیٰ نے جن برگزیدہ بندوں کو منتخب فرمایا ہم انہیں انبیاء و رسل﷩ کی مقدس اصطلاح سے یاد رکرتے ہیں اس کائنات کے انسانِ اول اور پیغمبرِاول ایک ہی  شخصیت حضرت آدم﷤ کی صورت میں فریضۂ ہدایت کے لیے مبعوث ہوئے۔ اور پھر یہ کاروانِ رسالت مختلف صدیوں اور مختلف علاقوں میں انسانی ہدایت  کے فریضے ادا کرتے ہوئے پاکیزہ سیرتوں کی ایک کہکشاں ہمارے سامنے منور کردیتاہے۔ درخشندگی اور تابندگی کے اس ماحول میں ایک شخصیت خورشید جہاں تاب کی صورت میں زمانےاور زمین کی ظلمتوں کو مٹانے اورانسان کے لیے ہدایت کا آخری پیغام لے کر مبعوث ہوئی جسے محمد رسول اللہ ﷺ کہتے ہیں۔ آج  انسانیت کےپاس آسمانی ہدایت کا یہی  ایک نمونہ باقی ہے۔ جسے  قرآن مجید نےاسوۂ حسنہ قراردیا اور اس اسوۂ حسنہ کےحامل کی سیرت سراج منیر بن کر ظلمت کدۂ عالم میں روشنی پھیلارہی ہے۔ رہبر  انسانیت سیدنا محمد رسول اللہ ﷺ قیامت تک آنے والےانسانوں کےلیے’’اسوۂحسنہ‘‘ ہیں۔ حضرت  محمد ﷺ ہی اللہ  تعالیٰ کے بعد، وہ کامل  ترین ہستی ہیں جن کی زندگی  اپنے اندر عالمِ انسانیت کی مکمل  رہنمائی کا پور سامان رکھتی ہے۔ گزشتہ چودہ صدیوں  میں اس  ہادئ کامل ﷺ کی سیرت وصورت پر ہزاروں کتابیں اورلاکھوں مضامین لکھے جا چکے ہیں۔ اورکئی ادارے صرف سیرت نگاری پر کام کرنے کےلیےمعرض وجود میں آئے۔ اور پورے عالمِ اسلام  میں  سیرت  النبی ﷺ کے مختلف گوشوں پر سالانہ کانفرنسوں اور سیمینار کا انعقاد بھی  کیا  جاتاہے جس میں  مختلف اہل علم  اپنے تحریری مقالات پیش کرتے ہیں۔ ہنوذ یہ سلسلہ جاری وساری ہے۔ زیر تبصرہ کتاب ’’اطراف سیرت‘‘ وطن عزیز پاکستان کی معروف شخصیت مصنف ومرتب کتب کثیرہ  جناب پرو فیسر ڈاکٹر عبد الرؤف ظفر﷾ (سابق چئیرمین شعبہ علوم اسلامیہ بہاولپور یونیورسٹی، و سرگودہا یونیورسٹی) کی سیرت النبیﷺپر یہ تیسری تصنیف ہے ۔اس کےعلاوہ ان کے بیسیوں  مضامین  برصغیر پاک و ہند کے رسائل وجرائد میں شائع ہوچکے ہیں۔ ڈاکٹر صاحب نے اس  کتاب کو  پانچ ابو اب میں تقسیم کر کے سیرت کے مختلف پہلوؤں کااحاطہ کیا  ہے۔ باب اول  سیرت النبی ﷺ ایک تعارف ، باب دوم سیرت النبیﷺ اور فکری وفقہی مسائل، باب سوم سیرت النبی ﷺاور شخصیات، باب چہارم سیرت النبیﷺ تاریخ  وارتقاء اور پانچواں باب کتب سیرت کےتعارف  کے  متعلق ہے۔ اس  کتاب میں شامل بعض مقالات ایسے ہیں جو  ڈاکٹر صاحب مختلف قومی وبین الاقوامی کانفرنسز میں مختلف اوقات میں پیش  کرچکے ہیں۔ موصوف  ان دنوں سرگودہا یونیورسٹی کےلاہور کیمپس میں اپنی خدمات انجام دے رہیں۔ اللہ تعالیٰ ان کی تمام مساعی جمیلہ کو قبول فرمائے۔ (م۔ا)

  • title-page-alrheeq-ul-makhtoom
    صفی الرحمن مبارکپوری
    پیغمبرآخرالزماں حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی حیات طیبہ ہمارے لیے اسوۂ حسنہ ہے آپ صلی  اللہ علیہ وسلم کی مبارک زندگی قرآن کریم کا عملی نمونہ ہے گویا آپ صلی اللہ علیہ وسلم چلتا پھرتا قرآن تھے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی اطاعت ہی سے ہدایت میسر آسکتی ہے ’’وان تطیعوا تہتدوا‘‘(القرآن) اس کے لیے ضروری ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی حیات اقدس کامطالعہ کیا جائے او راپنے کرداروعمل کو اس کے مطابق ڈھالا جائے زیر نظر کتاب ’’الرحیق المختوم‘‘میں انتہائی دلآویز اور مؤثر پیرائے میں رسو ل اکر م صلی اللہ علیہ وسلم  کی سیرت پاک  کو بیان کیا گیا ہے کتاب کے علمی مقام ومرتبہ  کے لیے اتنا کافی ہے کہ سیرت نگاری کے عالمی مقابلے میں یہ اول انعام کی مستحق قرار پائی ہے امید ہے کہ اس کے مطالعہ سے دلوں میں اسوۂ رسول صلی اللہ علیہ وسلم کو عملاًاپنانے کا جذبہ پیدا ہوگا۔


  • pages-from-al-nabi-ul-khaatim-manazir-ahsan-gelani
    مناظر احسن گیلانی

    اس روئے ارض پر انسانی ہدایت کے لیے حق تعالیٰ نے جن برگزیدہ بندوں کو منتخب فرمایا ہم انہیں انبیاء ورسل﷩ کی مقدس اصطلاح سے یاد رکرتے ہیں اس کائنات کے انسانِ اول اور پیغمبرِاول ایک ہی شخصیت حضرت آدم ﷤ کی صورت میں فریضۂ ہدایت کے لیے مبعوث ہوئے۔ اور پھر یہ کاروانِ رسالت مختلف صدیوں اور مختلف علاقوں میں انسانی ہدایت کے فریضے ادا کرتے ہوئے پاکیزہ سیرتوں کی ایک کہکشاں ہمارے سامنے منور کردیتاہے ۔درخشندگی اور تابندگی کے اس ماحول میں ایک شخصیت خورشید جہاں تاب کی صورت میں زمانےاور زمین کی ظلمتوں کو مٹانے اور انسان کے لیے ہدایت کا آخری پیغام لے کر مبعوث ہوئی جسے محمد رسول اللہ ﷺ کہتے ہیں۔ آج انسانیت کے پاس آسمانی ہدایت کا یہی ایک نمونہ باقی ہے۔ جسے قرآن مجید نےاسوۂ حسنہ قراردیا اور اس اسوۂ حسنہ کےحامل کی سیرت سراج منیر بن کر ظلمت کدۂ عالم میں روشنی پھیلارہی ہے ۔حضرت محمد ﷺ ہی اللہ تعالیٰ کے بعد ،وہ کامل ترین ہستی ہیں جن کی زندگی اپنے اندر عالمِ انسانیت کی مکمل رہنمائی کا پور سامان رکھتی ہے۔ سیرت النبی ﷺ کی ابتدائی کتب عربی زبان میں لکھی گئیں پھر فارسی اور دیگرزبانوں میں یہ بابِ سعادت کھلا ۔ مگر اس ضمن میں جو ذخیرۂ سیرت اردوو زبان میں لکھا اور پیش کیا گیا اس کی مثال اور نظیر عربی کےعلاوہ کسی دوسری زبان میں دکھائی نہیں دیتی۔اردو زبان کی بعض امہات الکتب ایسی ہیں کہ جن کی نظیر خود عربی زبان کے ذخیرے میں مفقود ہے۔ گزشتہ چودہ صدیوں میں اس ہادئ کامل ﷺ کی سیرت وصورت پر ہزاروں کتابیں اورلاکھوں مضامین لکھے جا چکے ہیں۔ اورکئی ادارے صرف سیرت نگاری پر کام کرنے کےلیےمعرض وجود میں آئے۔ اور پورے عالم اسلام میں سیرت النبی ﷺ کے مختلف گوشوں پر سالانہ کانفرنسوں اور سیمینار کا انعقاد کیا جاتاہے جس میں مختلف اہل علم اپنے تحریری مقالات پیش کرتے ہیں۔ پاکستان میں بھی سالانہ قومی سیرت کانفرنس کاانعقاد کیا جاتا ہے جس میں اہل علم اورمضمون نگار خواتین وحضرات اپنے مقالات پیش کرتے ہیں۔ جن کوبعد میں کتابی صورت میں شائع کیا جاتا ہے۔ زیر تبصرہ کتاب’’النبی الخاتمﷺ‘‘ مولانا سید مناظر احسن گیلانی کی تصنیف ہے۔ اس کتاب میں انہوں نے حیات نبوی کےہر حادثہ اور سانحہ کوصاحب سوانحﷺ کی صداقت کا برہان اور آپ کا پیغام مصدق بناکر پیش کرنےکی کامیاب کوشش کی ہے۔ یہ کتاب اختصار کے باوجود سیرت نبویہ کے تمام پہلوؤں پر حاوی ہے۔ (م۔ا)

  • title-pages-insaniyat-aaj-b-usi-drr-ki-muhtaj-he
    سید محمد ثانی حسنی
    اس  دنیا میں  بہت سےبڑے  بڑے  نامور  آدمی   پیدا ہوئے اور انہوں نے  بہت   کارہائے  نمایاں  سر انجام دئیے لیکن ساری دنیا جانتی  ہے  کہ ان میں  ہر ایک کا  دائرہ محدود تھا  او ران میں  کسی  کی زندگی ایسی نہیں تھی  کہ جو ہمیشہ سارے عالم کے انسانوں کے لیے  نمونہ بن سکے  اگر کوئی بہت اچھا فاتح تھا تو ظلم سے  اس کادامن پاک نہ تھا  ،اگر کوئی اچھا مصلح اور معلّم ِاخلاق تھا تو قائدانہ صلاحیت او راخلاقی  جرأت  سے محروم تھا روحانیت کا دلدادہ تھا تو عملی زندگی  سے نا آشنا او ر دنیاکے نشیب وفراز سے بے خبر تھا  ۔صرف نبی کریم ﷺ کی  ایسی ذات ہے کہ  جو عام اجتماعی  دائرہ سےلے کر  زندگی کے چھوٹے  سے چھوٹے  گوشے تک اس میں ہر چیز کے لیے  قیامت کے لیے  رہنمانی  موجود ہے  نبی کریم  ﷺکی سیرت  پر  عہد نبوی سے  لے  کر  آج تک  بے شمار    لکھنے والوں نے  مختلف انداز میں  لکھا ہے  اور لکھ  رہے  ہیں ۔زیر نظر کتابچہ   بھی سیرت النبی  ﷺ  کے  موضوع پر مولانا محمد حسنی   کے  مضامین کامجموعہ  ہے  جس میں  انہو ں نے  سیرت محمدی  کا اعجاز،سیرت محمدی اور  اس کےتقاضے ،اور نبی  کر یم  ﷺ کے اخلاق کو  بڑے  احسن   میں  پیش کیا  ہے  اللہ تعالی  ان  کی   کاوش  کو قبول  فرمائے  (آمین) (م۔ا)
  • titlepagesseeratenabvi1
    ڈاکٹر شوقی ابوخلیل
    پیغمبر آخرالزماں جناب محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی نبوت ورسالت تو قیامت تک کے تمام انسانوں کے لیے ہے لیکن یہ بھی حقیقت ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم جزیرۃ العرب میں پیدا ہوئے۔مکہ مکرمہ میں پرورش پائی اور 53برس تک یہیں رہے بعد ازاں مدینہ منورہ کی جانب ہجرت فرمائی اور عمر عزیز کے 10 سال یہاں بسر کیے۔آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس عرصے میں سفر بھی کیے،صفر میں بھی رہے،حالت امن  میں بھی دن گزارے اور حالت جنگ میں بھی شب وروز بسر ہوئے۔اس تمام شرگزشت اور ریکارڈ کو سیرت نبوی علی صاحبہا الصلوۃ والسلام کا نام دیا جاتا ہے۔مختلف زبانوں میں سیرت نبوی پر بے شمار کتابیں موجود ہیں جو قارئین کے مطالعے میں رہتی ہیں تاہم ان میں ایک تشنگی کا احساس رہتا ہے کہ مقامات واماکن کا نقشہ کتابوں میں نہیں ہوتا جس سے جگہوں کا صحیح تعارف نہیں ہو پاتا۔اس کو مد نظر رکھتے ہوئے ڈاکٹر شوقی ابو خلیل نے زیر نظر اٹلس مرتب کی ہے  جس میں سیرت کی وضاحت نقشوں سے کی گئی ہے ۔ان نقشوں میں تمام متعلقہ مقامات ،شہروں اور ان اطراف واکناف کی تفصیل سے جن کو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی تشریف فرمانی سے رونق بخشی یا جن کی طرف آپ نے قصدفرمایا۔اصل کتاب عربی میں تھی،جسے معروف اشاعتی ادارے دارالسلام نے اردو قالب میں ڈھال کر اردو دان طبقے کے لیے بھی اس سے استفادہ کو آسان کر دیا ہے۔امید قارئین کے لیے یہ کتاب دلچسپ معلومات کا ذریعہ ہو گی۔(ط۔ا)

  • page-from-final-september-design-with-mohr-e-nabuwwat
    کاظم حسین کاظمی

    اللہ تعالیٰ نے قرآن کریم میں نبی کریم ﷺ کی ذات گرامی کو بہترین نمونہ قرار دے کر اہل اسلام کو آپ کے اسوہ حسنہ پر عمل پیرا ہونے کا حکم ارشاد فرمایا ہے۔ جس کا تقاضا ہے کہ آپ کی سیرت مبارکہ کے ایک ایک گوشے کو محفوظ کیا جائے۔اور امت مسلمہ نے اس عظیم الشان تقاضے کو بحسن وخوبی سر انجام دیا ہے۔ سیرت نبوی پر ہر زمانے میں بے شمار کتابیں لکھی گئی ہیں اور اہل علم نے اپنے لئےسعادت سمجھ کر یہ کام کیا ہے ۔نبی کریمﷺ سے محبت کرنا ہر مسلمان کے ایمان کا حصہ ہے، اور اس محبت کا تقاضا ہے کہ آپ ﷺ کے فرامین پر عمل کیا جائے ۔آپ کی مدح سرائی کرنا عین ایمان ہے۔ آپﷺ کی مدح سرائی خود اللہ تعالی اپنے کلام قرآن مجید میں فرمائی ہے اور اسی طرح آپ کے چاہنے والوں نے بھی اس میں اپنی بساط اور ہمت کے مطابق حصہ لیا ہے۔صحابہ کرام میں سیدنا حسان بن ثابت آپ ﷺ کی مدح سرائی میں شعر کہا کرتے تھے اور آپ کا دفاع کرتے ہوئے مشرکین کی ہجو کا جواب بھی دیا کرتے تھے۔ زیر تبصرہ کتاب"اک دعا پر اثر ہو گئی"محترم کاظم حسین کاظمی صاحب کی تصنیف ہے جو نبی کریم ﷺ کی مدح پر مشتمل نعتیہ کلام سے بھر پور ہے۔ اللہ تعالی سے دعا ہے کہ وہ مولف کی اس کاوش کو اپنی بارگاہ میں قبول فرمائے اور تمام مسلمانوں کو نبی کریم ﷺ کے ساتھ محبت کرنے اور ان کی مدح سرائی میں رطب اللسان رہنے کی توفیق دے۔ آمین(راسخ)

  • title-pages-badar-se-tabook-tak-copy
    ڈاکٹر عبد اللہ قاضی

    اللہ تعالی نے قرآن مجیدمیں نبی کریمﷺکی  ذات گرامی کو ایک بہترین نمونہ قرار دے کر اہل اسلام کواس پر عمل پیرا  ہونے کا حکم ارشاد فرمایا ہے۔جس کا تقاضا ہے کہ آپﷺ کی سیرت مبارکہ کے ایک ایک گوشے کو محفوظ کیا جائے۔اور امت مسلمہ نے اس عظیم الشان تقاضے  کو بحسن وخوبی سر انجام دیا ہے۔سیرت نبوی پر ہر زمانے میں بے شمار کتابیں لکھی گئی ہیں اور اہل علم نے اپنے  لئےسعادت سمجھ کر یہ کام کیا ہے۔نبی کریمﷺ کی سیرت مبارکہ کا ایک بہت بڑا حصہ غزوات اور مغازی پر مشمل ہے ،جس پر باقاعدہ  مستقل کتب لکھی گئی ہیں اور لکھی جا رہی ہیں۔مگر آپ کی جنگیں اور غزوات تاریخ انسانی میں غیر معمولی طور پر ممتاز ہیں۔اکثر دگنی،تگنی اور بعض اوقات دس گنی بڑی قوت کے مقابلہ میں آپ ہی کو قریب قریب ہمیشہ فتح حاصل ہوئی۔دوران جنگ اتنی کم جانیں ضائع ہوئیں کہ انسانی خون کی یہ عزت بھی تاریخ عالم میں بے نظیر ہے۔ زیر تبصرہ کتاب"بدر سے تبوک تک"محترم ڈاکٹر عبد اللہ قاضی صاحب کی تصنیف ہےجس میں انہوں نے نبی کریم ﷺکے بدر سے لیکت تبوک تک کے تمام غزوات کی تفصیلات پیش کر دی ہیں۔اللہ تعالی سے دعا ہے کہ وہ مولف کی اس محنت کو  اپنی بارگاہ میں قبول فرمائے اور ان کے میزان حسنات میں اضافہ فرمائے۔آمین(راسخ)

  • title-page-baisat-e-nabvipbuh
    شیریں زادہ خدوخیل
    مذاہب عالم کی تاریخ کو اگردیکھاجائے  تو اس میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے سوا او رکوئی پیغمبر ایسا نہیں ملے گا جس کی بعثت کی اس تواتر سے زبان وحی والہام نےخبریں دی ہوں یہ شرف صرف اور صرف نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو حاصل ہے حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی عظمت کا یہی ایک پہلو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی صداقت ثابت کرنے کےلیے کافی ہے بشرطیکہ طلب صادق سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی پاکیزہ زندگی کا مطالعہ کیا جائے اور تعصب کی عینک اتارکر صحائف سماوی کو دیکھاجائے اور جانچا جائے ۔’’بعثت نبوی صلی اللہ علیہ وسلم  پر مذاہب عالم کی گواہی‘‘پر لکھتے وقت مذاہب عالم میں سے  پانچ بڑ ے مذاہب کومنتخب کیا گیا ہے جوآنے والے نبی کی راہ تک رہے ہیں ان میں سے دوالہامی مذاہب یہودیت اور عیسائیت ہیں جبکہ تین غیر الہامی مذاہب ہندومت،بدھ مت اور مجوسیت ہیں دوران تحقیق ممکن حدتک کوشش کی گئی ہے کہ تعصب  اور غیر علمی رویئے سے اجتناب کے ساتھ ساتھ دل آزاری سے بچاجائے بلکہ حتی الوسع ہمدردانہ نقطہ نظر اپنانے کی کوشش کی گئی ہے ۔

  • pages-from-blaagh-e-mubeen
    حفظ الرحمٰن سیوہاروی

    بلاشبہ دنیا کی تاریخ میں عہد نبویﷺ سیاسی ،دینی اور اقتصادی اعتبار سے ممتاز ہے نبی کریم ﷺ کی سیرت طیبہ کےمختلف گوشوں پر سیرت نگاروں نے   کاوشیں کی ۔ کتب احادیث بھی آپ ﷺہی کے کردار کا مرقع ہیں ۔عبادات ومعاملات ،عقائدوغزوات اور محامد وفضائل ،کو نسا باب اور فصل آپ کےتذکرے سے مزین نہیں۔ پیغمبر اسلام ﷺ کی حیات پاکیزہ سے متعلق صدہا مصنفینِ اسلام نےقابل قدر تصانیف لکھی ہیں اور اس کثرت سے لکھی ہیں کہ آج تک کسی علمی یا ادبی موضوع پر اس قدر سیر حاصل کتابیں نہیں کی گئیں۔ سیرت مقدسہ کی ا ن کتابوں میں مصنفین نے جہاں رسول اکرم ﷺ کی پاک زندگی کے مختلف گوشوں پر پوری شرح وبسط کے ساتھ روشنی ڈالی ہے ۔اسی کے ذیل میں انہوں نے آپ کے ان فرامین مکاتیب عالیہ کابھی ذکر کیا ہے جو مختلف حالات کے زیر اثر دنیا کےمختلف حصوں میں ارسال کئے گئے۔ سیرت مقدسہ کی کوئی تصنیف مکاتیب النبیﷺ سے خالی ہیں۔ زیر نظر کتاب ’’بلاغ المبین یعنی مکاتیب سید المرسلین‘‘ہندوستان کے معروف عالم دین مولانا حفظ الرحمن سیوہاروی﷫ کی تصنیف ہے ۔ مصنف موصوف نے اس کتاب کو تین حصوں میں تقسیم کیا ہے حصہ اول اصول تبلیغ ،حصہ ثانی فرامیں سید المرسلین ،حصہ ثالث :نتائج وعبر۔ کتاب کادوسراحصہ بہت زیاد ہ مہتم بالشان ہے۔ اس میں آپ ﷺ کے ان فرامین مقدسہ کوجمع کیا گیا ہے جو آپ نے دنیا کے مختلف بادشاہوں کے نام روانہ فرمائے تھےاو ر ان فرامین کے ساتھ ان سے متعلق تاریخی وحدیثی حالات کو بیان کیاگیا ہے ۔(م۔ا)

  • tibar-e-islam-2
    ابو الوفا ثناء اللہ امرتسری

    بیسویں صدی کا ابتدائی عہد ہندوستانی مسلمانوں کے لئے بڑا صبر آزما تھا۔مسلمان انگریزی حکومت کے جبر واستبداد کا شکار تھے۔انگریزی استعمار کا فتنہ زوروں پر تھا ۔پورے ملک میں عیسائی مشنریاں سر گرم تھیں۔ہندووں میں ایک نیا فرقہ آریہ سماج وجود میں آچکا تھا۔جس کے بانی پنڈت دیانند شرما اور ان کے ہم نواوں کا قلم اسلام اور پیغمبر اسلام کے خلاف ایسا زہر اگل رہا تھا ،جس سے مسلمانوں میں ارتداد کا خطرہ پیدا ہوگیا تھا۔"سنیارتھ پرکاش" اور"رنگیلا رسول" جیسی دل آزار کتابیں اسی دور کی یاد گار ہیں۔ان صبر آزما حالات میں ہندوستان کے معروف عالم دین ابو الوفاء مولانا ثناء اللہ امرتسری﷫ نے تمام داخلی وخارجی محاذ پر اپنے مسلسل مناظروں ،تحریروں اور تقریروں کے ذریعے جو چومکھی لڑائی لڑی اور اسلام اور مسلمانوں کا جس کامیابی سے دفاع کیا ،وہ تاریخ کا ایک روشن باب ہے۔زیر تبصرہ کتاب بھی اسی سلسلے کی ایک کڑی ہے ۔جو مہاشہ دھرمپال کی کتاب"نخل اسلام" کے جواب میں لکھی گئے ہے۔یہ شخص گوجرانوالہ کا ایک مسلمان تھا۔جس کا نام عبد الغفور تھا۔1903ء میں پنڈت دیانند شرما کی تحریروں اور آریہ سماج کی شدھی تحریک سے متاثر ہو کر اسلام سے مرتد ہو گیا اور آریہ سماج میں داخل ہو گیا ہے،اور عبد الغفور سے دھرمپال بن گیا۔جس پر سماجیوں نے بڑی خوشی منائی اور جگہ جگہ جلوس نکالے۔اللہ تعالی مولف کی اس عظیم الشان کاوش کو قبول ومنظور فرمائے اور مسلمانوں کے لئے باعث ہدایت بنائے۔آمین(راسخ)

ای میل سبسکرپشن

محدث لائبریری کی اپ ڈیٹس بذریعہ ای میل وصول کرنے کے لئے ای میل درج کر کے سبسکرائب کے بٹن پر کلک کیجئے۔

 

ایڈوانس سرچ

موضوعاتی فہرست

رجسٹرڈ اراکین

آن لائن مہمان

محدث لائبریری پر اس وقت الحمدللہ 311 مہمان آن لائن ہیں ، لیکن کوئی رکن آن لائن نہیں ہے۔

ایڈریس

       99-جے ماڈل ٹاؤن،
     نزد کلمہ چوک،
     لاہور، 54700 پاکستان

       0092-42-35866396، 35866476، 35839404

       0092-423-5836016، 5837311

      KitaboSunnat@gmail.com

      بنک تفصیلات کے لیے یہاں کلک کریں