• pages-from-24-ghentey-mein-1000-sunnatain-peyarey-nabi-saw-ki-peyari-sunnatain
    خالد الحسینان

    قرآن مجید میں اللہ کے رسول ﷺ کی زندگی کو اہل ایمان کے لیے اسوۂ حسنہ قرار دیا گیا ہے۔ لہذارسول اکرمﷺ کی مبارک زندگی ہر شعبے سے منسلک افراد کے لیے اسوۂ کامل کی حیثیت رکھتی ہے ۔ کوئی مذہبی پیشوا، سیاسی لیڈر، کسی نظریے کا بانی حتی کہ سابقہ انبیائے کرام ﷩ کےماننے والے بھی اپنے پیغمبروں کی زندگیوں کو ہرشعبے سے منسلک افراد کےلیے نمونہ کامل پیش نہیں کرسکتے۔ یہ یگانہ اعزاز وامتیاز صرف رسالت مآب ﷺ ہی کو حاصل ہے۔نبی کریمﷺکا اٹھنا،بیٹھنا ،چلنا پھرنا،کھانا،پینا،سونا ،جاگنااور 24 گھنٹے میں دن رات کے معمولات زندگی ہمارے لیے اسو ۂ حسنہ ہیں۔ زیر تبصرہ کتابچہ ’’24گھنٹے میں 100 سنتیں‘‘شیخ خالد الحسینان کے ایک عربی کتابچہ’’ اکثر من 1000 سنۃ فی الیوم واللیلۃ‘‘ کا اردو ترجمہ ہےاس میں انہوں نے ۲۴ گھنٹے میں اللہ کے رسول ﷺ کی طہارت، نماز،نشست وبرخاست، قیام وطعام ، سفر وحضر، حرکات وسکنات، رہن سہن اور سونے وجاگنے سے متعلق ایک ہزار سے زائد سنن جمع کی ہیں ۔ اس کتابچے کی یہ امتیازی خصوصیت ہے کہ اس میں صحیح اور مستند روایات سے استفادہ کیا گیا ہے۔ احادیث کی صحت وضعف کےلیے زیادہ ترشیخ ناصر الدین البانی کی کتب پر اعتماد کیاگیا ہے ۔اس کتابچہ کا اولین اردو ترجمہ کی سعادت استاذی المکرم ڈاکٹر حافظ محمد اسحاق زاہد﷾ نے حاصل کی اور سب سے اسے پہلے مجلس التحقیق الاسلامی،لاہور نے شائع کیا۔ بعد ازاں کئی دیگر طباعی اداروں نے اس کو مختلف ناموں سے شائع کیا۔ اللہ تعالیٰ ہم سب کو اللہ کے رسول ﷺکی زندگی کو نمونہ بنانے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین(م۔ا)واذکار

  • 40khasosiyaat
    محمد عظیم حاصلپوری

    اللہ رب العزت نےجہاں آپ ﷺ کوتمام انسانیت سے افضل اوراعلیٰ مقام ومرتبہ عطا فرمایا ہے وہاں آپ کو بہت سےایسی خوبیاں اور خصوصیات بھی عطا فرمائی ہیں۔ جو تمام انبیاء اور کل کائنات سے آپ کوممتاز کرتیں ہیں۔ نبی کریم ﷺ کی عظمت ورفعت کے بیان میں اللہ تعالیٰ نے سیکڑوں خصوصیات آپ کودے رکھیں ہیں ۔کتب وحدیث وسیرت میں جن کاتفصیلی ذکر موجود ہے اور باقاعدہ اس موضوع پر الگ سے کتب بھی موجود ہیں ۔ زیر نظر کتاب ’’40 خصوصیات محمد ﷺ ‘‘مولانا محمد عظیم حاصل پوری ﷾ (مدیرماہنامہ المحمدیہ،حاصل پور )کی کاوش ہے جس میں انہوں نےاختصار کے ساتھ آپﷺکی 40خصوصیات کاذکرکیا ہے۔تاکہ ہم اپنے نبی جناب محمد ﷺ کی عظمت ورفعت کوپہنچان کر ان کی سچی اتباع کریں اور دنیا وآخرت کی فوزوفلاح کےحقدار بن جائیں۔ اللہ تعالیٰ مصنف موصوف کے علم علم اور زورِ قلم میں اضافہ فرمائے۔ اور ہمیں اپنے نبی ﷺ کی سچی اتباع،روز قیامت آپ کا دیدار،آپ کی رفاقت اور آپ کی سفارش نصیب فرمائے (آمین) (م۔ا)

  • pages-from-60-bakamaal-khawateen
    محمد اسحاق بھٹی

    اسلامی تاریخ ہمارے سامنے مسلمان عورت کابہترین اورپاکیزہ  نمونہ پیش کرتی ہے۔ آج جب زمانہ بدل رہا ہے، مغربی تہذیب و تمدن  او رطرزِ معاشرت ہمارے گھروں میں سرایت کررہا ہے، تہذیب مغرب کی دلدادہ مسلمان خواتین  او رلڑکیاں اسلام کی ممتاز اور برگزیدہ  خواتین کے اسوہ حسنہ کو چھوڑ کر گمراہ اور ذرائع ابلاغ کی زینت خواتین کواپنے لیے آئیڈل سمجھ رہی ہیں۔ ہمیں اپنے اسلاف کی خدمات کو پڑھنے کی اشد ضرورت ہے۔ اسلام کے ہردور میں عورتوں نےمختلف حیثیتوں  سے امتیاز حاصل کیا ہے ،اور بڑے بڑے عظیم کارنامے سر انجام دیئے ہیں۔ ازواجِ مطہرات طیباتؓ اور اکابر صحابیاتؓ، تابعیات، صالحات کی زندگیاں ہمارے لئے بہترین نمونہ ہیں۔ان کے دینی، اخلاقی معاشرتی اور علمی کارنامے نہ صرف دنیا وآخرت دونوں جہانوں میں نجات کا ذریعہ  ہیں، بلکہ موجودہ دور کے تمام معاشرتی خطرات سے  محفوظ رکھنے کے بھی ضامن ہیں۔ اسلامی تاریخ میں ایسی خواتین بھی گزری ہیں جن کے سامنے اچھے اچھے سیاستدان اور حرب وضرب کے ماہر اپنے آپ کے بے بس پاتے تھے ان کی زبان کی کاٹ تلوار سے تیز تھی اوربعض کے اشعار دشمن کے لیے شمشیر برہنہ سے کم نہ تھے۔ ایک بہادر خاتون نے بنوامیہ کو مخاطب کرتے ہوئے کہا تھا کہ یہ خلافت کے حق دار نہیں ہیں اور اتنا بڑا اعزاز انہیں زیب نہیں دیتا۔تاریخ میں ایسی خواتین کا ذکر بھی ملتا ہے جنہوں نے شاہی غیظ وغضب کی بھی پرواہ نہیں کی اور شاہی خاندان کے بعض خودسر افراد کے غرور وتمکنت کا جنازہ نکال دیا۔ زیر تبصرہ کتاب مؤرخ اسلام مولانا اسحاق بھٹی ﷫ کی ایک شہرۂ آفاق کتاب کا منتخب حصہ ہے جسے مکتبہ فہیم انڈیا کے مدیر نے ’’ساٹھ باکمال خواتین‘‘ کے نام سے شائع کیا ہے۔ یہ کتاب 10 بہادر صحابیات اور 50 دیگر نامور تابعیات وصالحات کے دلنشیں تذکرہ پر مشتمل ہے۔ (م۔ا)

  • title
    عثمان بن محمد الناصری آل خمیس

    ’آئینہ ایام تاریخ‘ ایک ایسی کتاب ہے جس میں حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی بعثت سے لے کر واقعہ کربلا تک کے تمام چیدہ چیدہ واقعات کو غیر جانبداری اور صحت و سند کے ساتھ بیان کر کے ان تمام لوگوں کا مسکت جواب پیش کیا گیا ہے جو حب اہل بیت کے جام شیریں میں نفرت صحابہ کرام کازہر گھولنے میں مصروف ہیں۔ کتاب کو چار فصلوں میں تقسیم کیا گیا ہے پہلی فصل مطالعہ تاریخ کی کیفیت، امام طبری کے منہج اور اسلامی تاریخ میں سند کی اہمیت پر مشتمل ہے۔ دوسری فصل میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے سانحہ ارتحال 11 ھ سے لے کر 61 ھ تک رونما ہونے والے تمام واقعات پر بے لاگ تحقیق کی گئی ہے اور من گھڑت اور باطل روایات کو تنقید کا نشانہ بنایا گیا ہے۔ تیسری فصل میں عدالت صحابہ پر بحث کرتے ہوئے پھیلائے جانے والے تمام شبہات کا پردہ چاک کیا گیا ہے۔ چوتھی اور آخری فصل میں قضیہ خلافت کو موضوع بحث بنایا گیا ہے اور امامت علی رضی اللہ علیہ  پر شیعی دلائل کا تفصیلی جائزہ لیا گیا ہے۔ یقیناً یہ کتاب اپنے موضوع کےاعتبار سے ایک جامع، منفرد اور علمی تصنیف ہے۔

     

     

  • title-page-aiyna-jamal-e-nabowat
    ابراہیم بن عبد اللہ الحازمی
    حضور نبی کریم ﷺکی حیات مبارکہ اور سیر وسوانح پر اب تک بے شمار کتب لکھی جا چکی ہیں مگر آپ کے جسمانی حسن و جمال پر اب تک بہت کم کتب سامنے آئی ہیں- زیر نظر کتاب اسی کمی کو پورا کرنے کی ایک بھرپور  اور انتہائی عمدہ کوشش ہےجس میں مصنف  نے دلکش انداز میں آپ ﷺکے حسن و جمال کی ایک جھلک دکھائی ہے- یہ کتاب در اصل ''الرسول کأنک تراہ'' کا اردو ترجمہ ہے  اردو قالب میں ڈھالنے کا کام حافظ عبدالستار حماد نے بخوبی انجام دیا ہے- جب آپ حضور نبی کریم ﷺکی دلنشیں آنکھوں، حسیں رخساروں، کسرتی پنڈلیوں اور خوبصورت ہتھیلیوں کے بارے میں پڑھیں گے تو آپ کو ایسا محسوس ہوگا جیسے آپ سرور کائنات ﷺکو اپنے سامنے دیکھ رہے ہیں- کتاب کی ایک خاصیت یہ  بھی ہے کہ اس کا تمام تر مواد صحت اسناد کے لحاظ سے مستند اور صحیح احادیث پر مشتمل ہے-

  • title-pages-azaadi-e-hind
    ابو الکلام آزاد
    مولانا ابو الکلام آزاد کسی تعارف کے محتاج نہیں ہے، وہ برصغیر پاک و ہند میں برطانوی اقتدار اور تقسیم ہند کے ایک اہم چشم دید گواہ ہیں۔ ایک زمانہ میں جناب ہمایوں کبیر صاحب نے مولانا سے درخواست کی کہ وہ انگریز سے ہندوستان کی آزادی کی تاریخ کو اپنے مشاہدات اور تجربات کی روشنی میں مرتب کریں تا کہ آئندہ نسل تک صحیح حقائق ایک مستند ذریعہ سے پہنچ سکیں تو مولانا نے پہلے تو اس سے معذرت کی لیکن پھر اصرار پر جناب ہمایوں کبیر صاحب کو آزادی ہند کی تاریخ زبانی مرتب کروائی جسے ہمایوں کبیر صاحب نے انگریزی میں "انڈیا ونس فریڈم' کے نام سے مرتب کیا اور اس کی نظر ثانی مولانا ابو الکلام رحمہ اللہ سے کروائی۔ بعد ازاں اس کتاب کا اردو ترجمہ بھی 'آزادی ہند' کے نام سے شائع کیا گیا ہے۔ اس کتاب میں تاریخی واقعات کے ساتھ ساتھ مولانا کے ذاتی نظریات اور افکار کا بیان بھی موجود ہے اگرچہ اس کتاب میں مولانا ابو الکلام آزاد رحمہ اللہ کے بیان کردہ جمیع تصورات سے اتفاق ممکن نہیں ہے لیکن اس کتاب کو شائع کرنے کا مقصد یہی تھا کہ اس کتاب کا مولانا کے تصورات سے واقفیت کی بجائے ایک تاریخی ورثہ کے طور پر مطالعہ کیا جائے تا کہ تاریخ کے ایک طالب علم کو حقائق و نتائج کے جاننے میں ایک مستند مصدر و ماخذ فراہم کر دیا جائے۔(ت۔م)

    نوٹ:
    محدث فورم میں اس کتاب پر تبصرہ کرنے کے لیے یہاں کلک کریں

  • title-pages-asmane-hadayat-k-sattar-sitare
    طالب ہاشمی
    صحابہ کرام  رضی اللہ عنہم اجمعین  وہ نفوس قدسی ہیں جن کو خاتم الانبیاﷺکےجمال جہاں آراسے اپنی آنکھیں روشن کرنے اور آپ کی مجلس نشینی کی سعادت نصیب ہوئی۔محسن انسانیت کے فیض صحبت نے ان کے شرف انسانیت کو جیتی جاگتی تصویر بنادیا۔ ان کاہر فرد خشیت الہی ،حق گوئی،ایثار،قربانی ،تقوی ،دیانت ،عدل اوراحسان کاپیکرجمیل تھا۔تمام علمائے حق کا اس بات پرکامل اتفاق ہےکہ صحبت رسول ﷺسے بڑھ کرکوئی شرف اور بزرگی نہیں۔اس صحبت سےمتمتع ہونےوالےپاک  نفس ہستیوں کی عظمت اور حسن کردار پراللہ تعالی نے قرآن حکیم میں جابجامہر ثبت فرمائی ہے۔ان عظیم ہستیوں کی سیرت کا ایک بہترین مرقع تیار کرکے جناب طالب ہاشمی صاحب نے ہمارے ہاتھوں میں تھمادیاہے۔تاکہ ہم اس ان نقوش سے راہ ہدایت پاسکیں۔اور اپنی دنیا وآخرت کو بہتر بناسکیں۔اس سلسلے میں واضح رہے کہ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم اجمعین کی سیرت کے حوالے سے ایک نہایت اہم باب  مشاجرات صحابہ ہے جوکہ ایک انتہائی نازک باب ہے ہاشمی صاحب  نےاس میں اہل سنت کےطریقےپرچلتےہوئے کف لسان کامؤقف  اختیار کیا ہے۔(ع۔ح)

    نوٹ:
    محدث فورم میں اس کتاب پر تبصرہ کرنے کے لیے یہاں کلک کریں
  • title-page-aftab-e-nabowwat-ki-sunahri-shuain
    عبد المالک مجاہد
    خدا تعالی نے حضور صلی اللہ علیہ وسلم کو تمام جہانوں کیلئے رحمت بناکر بھیجا اور پوری دنیا میں آپ کو منفرد او رمعزز مقام عطا کیا ۔آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی شخصیت کی ہمہ گیریت کا اندازہ اس بات سے بھی لگایا جاسکتاہے کہ مسلمان تو مسلمان کفار بھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی تعریف میں کسی سے پیچھے نہیں ہیں سیرت رسول صلی اللہ علیہ وسلم پر اب تک بے شمار کتب منظر عام پر آچکی ہیں جن میں حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی کےکسی بھی پہلو کو تشنہ نہیں چھوڑا گیا۔زیر مطالعہ کتاب بھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی سیرت کے چند پہلوؤں کا احاطہ کرتے ہوئے ان کتب میں ایک شاندار اضافہ ہے کتاب میں جہاں حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے آباؤ اجداد ،آپ کی ولادت ،بچپن اور پہلی ہجرت کو حسین پہرائے میں بیان کرنے کا شرف حاصل کیا گیاہے وہاں آفتاب نبوت کی سنہری شعاعیں پڑنے پر خواب غفلت سے جاگ کر دشمنان دین کے سامنے سیسہ پلائی ہوئی دیوار بنتے بھی دکھا گیا ہے اس کے علاوہ آپ اس کتاب میں امت کے فرعونوں کے انجام کار کی تصویر کشی ملاحظہ کرنے کے ساتھ ساتھ حضرت حمزہ رضی اللہ عنہ کا جگر چبانے والی کو رحمت عالم کے روبروبھی دیکھیں گے کتاب کی خاصیت یہ ہے کہ مردوں ،عورتوں اور بچوں کیلئے یکساں مفید ہے اور انداز اس قدر سادہ اور دلکش ہے کہ ایک دفعہ شروع کردو تو ختم کرنےسے پہلے اس سے نظر ہٹانے کو جی نہ چاہے۔

  • title-pages-aale-rasool-w-ashabe-rasool-aik-dosre-k-sana-khawan-copy
    مرکز البحوث والدراسات

    یہ دعوی بے بنیاد اور تاریخ کی تحریف ہےکہ  اصحاب رسول ﷺ اور آل رسول ﷺ ایک  دوسرے کی دشمنی  دل میں چھپائے ہوئے تھے ۔ بلکہ وہ تو  کافروں پر بڑے سخت اور آپس  میں ایک دوسرے پر حم کرتے   تھے ۔اور ان کے  درمیان محبت ومودت تھی، ایک  دوسرے کااحترام واکرام تھا اور وہ  ایک دوسرے کی ثناخوانی میں رطب اللسان تھے ان  کے درمیان رشتے داری اور سسرالی رشتہ تھا وہ دین کی سربلندی کرنے ،رسول اللہﷺ کی مدد کرنے  اورکافروں کے خلاف جہاد کرنے میں شریک تھے۔اور یہ  بات ہر ایک کومعلوم ہے  کہ اصحاب رسول ﷺ اورآل رسول  سب اہل فضل اورافضل لوگ ہیں۔ زیر نظر کتاب ’’ آل رسول واصحاب رسول ایک دوسرے کے ثنا خواں ‘‘  ایک عربی کتاب ’’ الثناء  المتبال  بین  الآل  والاصحاب ‘‘ کا  اردو ترجمہ  ہے جس میں آل رسول کی طرف سے صحابہ کرام کی تعریف وتوصیف اور صحابہ  کرام کی طرف سے  آل  رسول  کی تعریف وتوصیف کے سلسلے میں نصوص پیش کیے گئے ہیں۔جس کے مطالعہ سے یہ بات  واضح طور پر معلوم ہوجاتی ہے  کہ آل رسول  اور اصحاب رسول  اپنے دلوں میں  ایک دوسرے  سے محبت ومودت اور عزت رکھتے تھے۔ اللہ  تعالیٰ مترجم وناشرین کی  اس کاوش کوقبول فرمائے اوراس کتاب کو  امت مسلمہ کے لیے   آل رسولﷺ واصحاب رسول ﷺسے  محبت اور ان کی عزت واحترام  کرنے کا ذریعہ بنائے (آمین)(م۔ا)

    نوٹ:

    محدث فورم میں اس کتاب پر تبصرہ کرنے کے لیے یہاں کلک کریں

  • title-pages-aanhazor--saww--ki-taleemi-jiddu-jehd-copy
    پروفیسر رب نواز

    مسلمانوں میں دینی تعلیم کے اہتمام کا سلسلہ عہد نبوی ہی میں شروع ہوچکا تھا۔ دارارقم ،درس گاہ مسجد قبا ، مسجد نبوی اور اصحاب صفہ کے چبوترہ میں تعلیم وتربیت کی مصروفیات اس کے واضح ثبوت ہیں۔ چوتھی وپانچویں صدی ہجری کی معروف دینی درس گاہوں میں مصر کا جامعہ ازہر ، اصفہان کا مدرسہ ابوبکر الاصفہانی ، نیشاپور کا مدرسہ ابو الاسحاق الاسفرائینی اور بغداد کا مدرسہ نظامیہ شامل ہیں۔غرضیکہ مدارس کی تاریخ وتاسیس کی کڑی عہد رسالت سے جاکر ملتی ہے اور مدارس میں پڑھائی جانے والی کتب حدیث کی سند کا سلسلہ حضور اکرم ﷺ تک پہنچتا ہے۔ برصغیر میں مدارس کا قیام دوسری صدی ہجری یعنی آٹھویں صدی عیسوی میں ہوا۔اور جب دہلی میں مسلم حکومت قائم ہوئی تو دہلی کے علاوہ دوسرے شہروں وقصبوں ودیہاتوں میں کثیر تعداد میں مکاتب ومدارس قائم ہوئے۔ مدارس کے قیام کا بنیادی مقصد کتاب وسنت اور ان سے ماخوذ علوم وفنون کی تعلیم وتعلم ، توضیح وتشریح ، تعمیل واتباع ، تبلیغ ودعوت کے ساتھ ایسے رجال کار پیدا کرنا ہے جو اس تسلسل کو قائم وجاری رکھ سکیں ، نیز انسانوں کی دنیاوی زندگی کی رہنمائی کے ساتھ ایسی کوشش کرنا ہے کہ ہر ہر انسان جہنم سے بچ کر جنت میں جانے والا بن جائے۔لیکن افسوس کہ اس وقت دینی مدارس اپنوں نے بے وفائیوں اور غیروں کی سازشوں کا نشانہ ہیں۔ زیر تبصرہ کتاب" آنحضور ﷺ کی تعلیمی جدوجہد " محترم پروفیسر رب نواز صاحب کی تصنیف ہے، جس میں انہوں نے نبی کریم ﷺ کی تعلیمی جدوجہد کو بیان کیا ہے۔ اللہ تعالی سے دعا ہے کہ وہ مولف کی اس محنت کو اپنی بارگاہ میں قبول فرمائے اور ان کے میزان حسنات میں اضافہ فرمائے۔آمین(راسخ)

  • title-pages-aappbuhka-tahzeeb-wa-tamaddon
    میاں محمد جمیل ایم ۔اے
    افراد اور اقوام کے رہن سہن، عادات وخصائل حتی کہ کھانے پینےکےآداب کوبھی تہذیب وتمدن اور ثقافت وکلچرمیں شمارکیاگیاہے۔ ہرمعاشرے اوراقوام کی عادات واطوار، بودوباش او رکھانے پینے کے انداز ایک دوسرے سے الگ ہوتے ہیں۔ تہذیب وتمدن انسانوں کی عزت وعظمت کامعیار ہی نہیں بلکہ افراد کو یکجا اورمتحدرکھنے میں اس کا بڑا دخل بھی ہے۔ جس طرح نظریا ت آدمی کو ایک دوسر ےکےقریب اور دور کرتے ہیں یہی قوت تہذیب وتمدن میں کارفرماہے۔ چنانچہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جس نے اپنی تہذیب کو چھوڑ کر کسی دوسرے کی تہذیب کو اپنایا وہ انہی میں سے ہوگا۔ لہذا ضروری تھا کہ امت کےتہذیب وتمدن کو نمایاں اورمسلم امہ کو ممتاز رکھنےکے لیے اس کو ایک ایسی فکریکسوئی اورحسن عمل سے آراستہ کیا جاتا جس کی کوئی نظیر پیش نہ کرسکے۔ اورپھر امت اس قوت کےساتھ اقوام عالم کی رہنمائی کا فریضہ سرانجام دے۔ زیرنظرکتاب اسی سلسلے کی ایک کڑی ہے جس میں میاں جمیل صاحب جوکہ ایک مشہور عالم دین ہیں انہوں نےآپ صلی اللہ علیہ وسلم کی سیرت اور تاریخ کے دیگراسلامی واقعات کی روشنی میں تہذیب اسلامی کے جملہ پہلووں کو اجاگرکرنےکوشش کی ہے۔ (ع۔ح)

    نوٹ:
    محدث فورم میں اس کتاب پر تبصرہ کرنے کے لیے یہاں کلک کریں
  • pages-from-aap-saw-ka-hajj
    میاں محمد جمیل ایم ۔اے

    حج عبادات کا مرقع دین کی اصلیت اور اس کی روح کا ترجمان ہے۔ یہ مسلمانوں کی اجتماعی تربیت اور ملت کے معاملات کا ہمہ گیر جائزہ لینے کا وسیع وعریض پلیٹ فارم ہے شریعت نے امت مسلمہ کواپنے او ردنیا بھر کے تعلقات ومعاملات کا تجزیہ کرنے کے لیے سالانہ بین الاقوامی سٹیج مہیا کیا ہے تاکہ وہ حقوق اللہ اور حقوق العباد کے معاملہ میں اپنی کمی بیشی کا احساس کرتے ہوئے توبہ استغفار اور حالات کی درستگی کےلیے عملی اقدامات اٹھائیں ۔حج بیت اللہ ارکانِ اسلام میں ایک اہم رکن ہے بیت اللہ کی زیارت او رفریضۂ حج کی ادائیگی ہر صاحب ایمان کی تمنا اور آرزو ہے ہر صاحب استطاعت اہل ایمان کے لیے زندگی میں  ایک دفعہ فریضہ حج کی ادائیگی فرض ہے اور اس کے انکار ی کا ایمان کامل نہیں ہے اور وہ دائرہ اسلام سے خارج ہے اجر وثواب کے لحاظ سے یہ رکن بہت زیادہ اہمیت کاحامل ہے۔نماز روزہ صر ف بدنی عبادتیں ہیں اور زکوٰۃ فقط مالی عبادت ہے۔ مگر حج کی یہ خصوصیت ہے کہ وہ بدنی اورمالی دونوں طرح کی عبادت کامجموعہ ہے۔ تمام كتب حديث وفقہ میں اس کی فضیلت اور احکام ومسائل کے متعلق ابو اب قائم کیے گئے ہیں اور تفصیلی مباحث موجود ہیں۔ حدیث نبویﷺ ہے کہ آپ نےفرمایا الحج المبرور لیس له جزاء إلا الجنة’’حج مبرور کا ثواب جنت سوا کچھ اور نہیں ۔اس موضوع پر اب تک اردو و عربی زبان میں چھوٹی بڑی بیسیوں کتب لکھی جاچکی ہیں اور ہنوذ یہ سلسلہ جاری وساری ہے۔ زیر تبصرہ کتابچہ ’’آپ ﷺ کا حج ‘‘ مولانا میاں محمدجمیل ﷾(مصنف کتب کثیر ہ )کی کاوش ہے جس میں نے آسان طریقے سے اختصار کے ساتھ نبی کریم ﷺ کے حج کا مسنون طریقہ بیان کیا ہے جس سے استفادہ کر کے حاجی کرنے والا سنت کے مطابق مناسک حج ادا کرسسکتا ہے۔ اللہ ان کی اس کاوش کو قبول فرمائے۔ آمین( م۔ا)

  • title-pages-aap-k-lail-w-nahar-copy
    مشتاق احمد شاکر

    رہبرانسانیت سیدنا محمد رسول اللہ ﷺ قیامت تک آنے والےانسانوں کےلیے’’اسوۂحسنہ‘‘ ہیں ۔ حضرت محمد ﷺ ہی اللہ تعالیٰ کے بعد ،وہ کامل ترین ہستی ہیں جن کی زندگی اپنے اندر عالمِ انسانیت کی مکمل رہنمائی کا پور سامان رکھتی ہے۔اسلامی آداب واخلاقیات حسنِ معاشرت کی بنیاد ہیں،ان کے نہ پائے جانے سے انسانی زندگی اپنا حسن کھو دیتی ہے ۔ حسنِ اخلاق کی اہمیت اسی سے دوچند ہوجاتی ہے کہ ہمیں احادیث مبارکہ سے متعدد ایسے واقعات ملتے ہیں کہ جن میں عبادت وریاضت میں کمال رکھنے والوں کےاعمال کوصرف ان کی اخلاقی استواری نہ ہونے کی بنا پر رائیگاں قرار دے دیاگیا۔حسن ِاخلاق سے مراد گفتگو اور رہن سہن سے متعلقہ امور کوبہتر بنانا ہی نہیں ہے بلکہ اسلامی تہذیب کے تمام تر پہلوؤں کواپنانا اخلاق کی کامل ترین صورت ہے ۔ زیر تبصرہ کتاب’’ آپ ﷺ کے لیل ونہار ‘‘مولانا مشتاق احمد شاکر اور مولانا امان اللہ فیصل کی مشترکہ کاوش ہے ۔جوکہ رسول اکرم ﷺ کی زندگی کے شب وروز کے معمولات مجموعہ پر مشتمل ہے ۔مرتبین نے اس کتاب میں آپ ﷺ کے 23 سالہ دور نبوت میں گزرنے والے اہم لمحموں کو بڑے قرینہ سے حروف تہجی کی ترتیب سے قلمبند کرنےکی کوشش کی ہے ۔زیادہ تر احادیث کا مفہوم پیش کیا ہے کہیں کہیں حدیث کی شرح اور وضاحت بھی کردی ہے۔پیدائش سے موت پیش آنے والےمعاملات کے متعلق اسلامی زندگی گزارنے کےلیے یہ ایک بہترین تربیتی کتاب ہے شیخ الحدیث مولانا محمود احمد حسن ،شیخ الحدیث مولانا مفتی محمد یوسف قصوری حفظہما اللہ کی نظر ثانی سے کتاب کی اہمیت وافادیت میں مزید اضافہ ہوگیا ہے ۔۔(م۔ا)

  • pages-from-aimmah-arbah-ka-difaa-aur-sunnat-ki-ittebaa
    نواب صدیق الحسن خاں

    ہر مسلمان پرواجب اور ضروری ہے کہ اللہ اور اس کے رسول کی محبت کے بعد مسلمانوں کے علماء، مجتہدین اور اولیاء صالحین کی محبت اختیار کرے، خاص کر وہ ائمہ اور علماء جو پیغمبروں کے وارث ہیں، آسمان کے ستاروں کی طرح خشکی و تری کی تاریکیوں میں راستہ دیکھاتے ہیں، مخلوق کے سامنے ہدایت کے راستے کھولتے ہیں۔ خاتم الرسلﷺ کی بعثت سے پہلے جو امتیں تھیں ان کے علماء بد ترین لوگ تھے، مگر ملت اسلامیہ کے علماء بہترین لوگ ہیں۔ جب کبھی رسول اللہﷺ کی سنت مطہرہ مردہ ہونے لگتی ہے تو اس کو یہ علماء ہی زندہ کرتے ہیں، اور اسلام کے جسم میں ایک تازہ روح پھونکتے ہیں۔ اسی طرح چاروں ائمہ مجتہدین اور دوسرے علماء حدیث جن کی مقبولیت کے آگے امت سرنگوں رہتی ہے، ان میں سے کوئی ایسا نہ تھا کہ رسول اللہﷺ کی کسی حدیث اور سنت کی مخالفت کا اعتقاد دل میں رکھتا ہو۔ زیر تبصرہ کتاب"ائمہ اربعہ کا دفاع اور سنت کی اتباع" علامہ نواب صدیق حسن خان بھوپالیؒ کی ایک معرکۃ الاراء کتاب"جلب المنفعۃ فی الذب عن الائمۃ المجتہدین الاربعۃ" فارسی کا اردو ترجمہ ہے، مترجم مولانا محمد اعظمی حفظہ اللہ تعالیٰ نے حتی المقدور کتاب کا ترجمہ سہل انداز میں پیش کیا ہے۔ مولانا خان صاحبؒ کے علمی و دینی خدمات جلیلہ اور ان کے تجدیدی کارنامے تعارف کے محتاج نہیں۔ مولانا خان صاحبؒ نے اپنی اس نایاب تصنیف میں ائمہ اربعہ کے دفاع کے ساتھ ان کے اور جماعت اہل حدیث و محدثین کے فضائل و مناقب بیان کئے ہیں اور مقلدین اور ان کے مخالفین کے درمیان جو لعن طعن، الزام تراشی اور تکفیر و تفسیق کی گرم بازاری رہتی ہے اس پر سخت نکیر کی ہے۔ اللہ تعالیٰ سے ہم دعا گو ہیں کہ وہ امت مسلمہ کو اتفاق و اتحاد سے رہنے کی توفیق عطا فرمائے اور مصنف و مترجم کو اجر عظیم سے نوازے۔ آمین (عمیر)

  • title-pages-aima-islam-copy
    امام ابن تیمیہ

    غلطی  ہر شخص سے ہوتی ہے ،لیکن شرعی مسائل کے استنباط میں علماء ومجتہدین سے جو غلطیاں ہوئیں،اگرچہ وہ سخت نتائج پیدا کرتی ہیں ،تاہم اگر ان پر بھی سکتی کے ساتھ دار وگیر کی جاتی تو اجتہاد کا دروازہ ہمیشہ کے لئے بند ہوجاتا،اور اسلام نے علماء کو جو عقلی آزادی عطا فرمائی ہے،اور اسے جو منافع امت کو پہنچے ،وہ ان سے محروم رہ جاتی،یہی وجہ ہے کہ شریعت نے اجتہادی غلطیوں کو قابل ثواب قرار دیا  اور ان پر علماء کو اجر کی بشارت دی ہے۔جس سے واضح ہوتا ہے کہ اسلام نے انسانی عقل کے لئے کس قدر وسیع فضا پیدا کر دی ہے۔شیخ الاسلام امام ابن تیمیہ نے حدیث کی اسی بشارت کو پیش نظر رکھ کر اپنے مخصوص انداز میں اس مسئلہ پر نہایت وسعت نظر سے بحث کی ہے،اور اپنے ایک مستقل رسالہ میں پہلے ائمہ اسلام کی خطا اجتہادی پر تفصیل کے ساتھ اظہار خیال کیا ہے اور پھر مختلف دلائل سے ثابت کیا ہے کہ وہ اپنی اجتہادی غلطیوں  پر قابل مواخذہ ہونے کے بجائے عند اللہ ماجور ہیں،اس لئے کوئی شخص اس بات کا حق دار نہیں ہے کہ وہ ائمہ کی اجتہادی غلطیوں پر طعن وطنز کرے۔ زیر تبصرہ کتاب"ائمہ اسلام "شیخ الاسلام امام ابن تیمیہ ﷫کے اسی رسالے "رفع الملام عن ائمۃ الاعلام" کا اردو ترجمہ ہے۔ترجمہ محترم سید ریاست علی ندوی رفیق دار المصنفین نے کیا ہے۔جس میں ان کی طرف سے یہ بھرپور یہ کوشش کی گئی ہے کہ امام ابن تیمیہ ﷫کا اسلوب بیان قائم رہے اور اس لئے بعض مقامات پر قوسین میں جابجا فقرے بڑھائے گئے ہیں۔ اللہ تعالی سے دعا ہے کہ وہ  مولف ومترجم  کی اس کاوش کو قبول فرمائے اور ان کے میزان حسنات میں اضافہ فرمائے۔آمین۔(راسخ)

  • title-pag-copy
    ڈاکٹر فضل الٰہی
    اللہ تعالیٰ نے حضرت ابراہیم علیہ السلام کی زندگی کو تمام مسلمانوں کے لیے مشعل راہ قرار دیا۔ واقعتاً آپ علیہ السلام کی زندگی کا ہر پہلو قابل اتباع اور نمونہ عمل ہے۔ پیش نظر کتاب میں محترم ڈاکٹر فضل الہٰی نے حضرت ابراہیم علیہ السلام کی حیات طیبہ میں تفکر و تدبر کرتے ہوئے مسلمانوں کے لیے دروس و عبر کا استنباط کیا ہے۔ مصنف نے حضرت ابراہیم علیہ السلام کی زندگی کو بطور والد تین گوشوں میں تقسیم کیا ہے۔ پہلے گوشے میں پہلے میں حضرت ابراہیم علیہ السلام کی ان باتوں کا تذکرہ ہے جن کے اولاد کے حصول کے لیے انھوں نے رغبت اور کوشش کی۔ دوسرے گوشے میں وہ باتیں ہیں جن سے انھوں نے اپنی اولاد کو محفوظ رکھنے کے لیے انھوں نے کوشش اور خواہش کی۔ تیسرےاور آخری گوشے میں ان طریقوں کا تذکرہ ہے جو انھوں نے اپنی اولاد کے متعلق ارادوں اور خواہشات کی تکمیل کے لیے اختیار کیے۔ مصنف نے کتاب میں اس بات پر شدید زور دیاہے کہ والدین اپنی اولادوں کی تربیت کے سلسلے میں حضرت ابراہیم علیہ السلام کی زندگی کو مشعل راہ بنائیں اور اس میں موجود نصیحتوں سے فیض یاب ہوں۔ (عین۔ م)

    نوٹ:
    محدث فورم میں اس کتاب پر تبصرہ کرنے کے لیے یہاں کلک کریں
  • pages-from-ibn-e-khaldoon
    عبد السلام ندوی

    علامہ ابن خلدون 1332ء تیونس میں پیدا ہوئے۔ ابن خلدون مورخ، فقیہ، فلسفی اور سیاستدان تھے۔ مکمل نام ابوزید عبدالرحمن بن محمد بن محمد بن خلدون ولی الدین التونسی الحضرمی الاشبیلی المالکی ہے۔ تعلیم سے فراغت کے بعد تیونس کے سلطان ابوعنان کا وزیر مقرر ہوا۔ لیکن درباری سازشوں سے تنگ آکر حاکم غرناطہ کے پاس چلا گیا۔ یہ سر زمین بھی راس نہ آئی تو مصر آگیا۔ اور الازھر میں درس و تدریس پر مامور ہوا۔ مصر میں اس کو مالکی فقہ کا منصب قضا میں تفویض کیا گیا۔اسی عہدے پر 74سال کی عمر میں وفات پائی اور اسے قاہر ہ کے قبرستان میں دفن کیاگیا لیکن زمانے کی دست برد سے اس کی قبر کا نشان تک مٹ گیا۔ ابن خلدون کو تاریخ اور عمرانیات کا بانی تصور کیا جاتا ہے۔ ابن خلدون نے بہت سے موضوعات پر قلم اٹھایا ہے اور مختلف علوم وفنون کے متعلق چھوٹی بڑی کئی کتب تصنیف کیں۔ا س کی شہرت کی بڑی وجہ اس کی تاریخ ’’العبر‘‘ ہےاس کی تاریخ کا پورا نام ’’کتا ب العبر ودیوان المبتدا والخبر فی ایام العرب والعجم والبربر ومن عاصرھم من ذوی السلطان الاکبر ‘‘ ہےاس کتاب میں ابن خلدون نے ہسپانوی عربوں کی تاریخ لکھی تھی۔ جو مقدمہ ابن خلدون کے نام سے مشہور ہے۔ یہ تاریخ، سیاست ، عمرانیات ، اقتصادیات اور ادبیات کا گراں مایہ خزانہ ہے۔مقدمہ ابن خلدون درحقیقت اس کےزمانۂ تالیف تک کے انسانی علوم اور خیالات پر سب سے پہلا تبصرہ اور تاریخ کےواقعات کو سائنس بنانے کی سب سے پہلی کوشش اور اقتصاد اور سوشیالوجی پر ایک فن کی حیثیت سے سب سے پہلی انسانی نگاہ ہے۔ زیر تبصرہ کتاب ’’ابن خلدون‘‘ ڈاکٹر طٰہٰ حسین کے فرنچ زبان میں ابن خلدون پر لکھی گئی کتاب کےعربی ترجمے کا اردو ترجمہ ہے ڈاکٹر طٰہٰ حسین نےیہ کتاب 1917ءمیں لکھی اور اس پر سربون یونیورسٹی سے ڈاکٹری کی ڈگری حاصل کی ۔پھر کالج دی فرانس نے اسی کتاب کی وجہ سے انہیں سنتور کا مشہور انعام عطا کیا۔ بعد ازاں 1925ء میں محمد عبداللہ عنان نے اس کتاب کو فرنچ زبان سے عربی میں منتقل کیا۔ یہ کتاب اسی عربی کتاب کا اردو ترجمہ ہے ۔جوکہ ابن خلدون کے سوانح زندگی اور اس کےفلسفۂاجتماعی کی تشریح وتنقید پر مشتمل ہے ۔علامہ سید سلیمان ندوی ﷫ کے ایما پر مولانا عبد السلام ندوی نے 1940ء میں اسے اردو قالب میں ڈھالا۔(م۔ا)

  • title-pages-ibne-rushad-sawanih-umri-ilme-kalam-aur-falsfa
    پروفیسر محمد یونس انصاری
    ابن رشد کے تعارف کے لیے اس کی فقید المثال تصنیف ’بدایۃالمجتہد و نہایۃ المقتصد‘ ہی کافی ہے۔ لیکن ابن رشد کی دیگر تصنیفات کا جائزہ لیاجائے تواندازہ ہوتا ہے کہ اس نے فلسفہ، طب، فقہ و اصول فقہ، علم کلام، علم ہیئت، علم نحو الغرض کسی بھی علمی موضوع کو تشنہ نہیں چھوڑا اور ہر موضوع پر یادگار تصانیف چھوڑی ہیں۔ زیر نظر کتاب میں اسی شخصیت کی سوانح عمری کو قلمبند کیا گیا ہے۔ اس کے علم کلام ، ا س کے فلسفے، اس کے فلسفے پر ناقدانہ تبصرہ کرتے ہوئے یورپ میں اس کے فلسفہ کی اشاعت و تاریخ کا احوال بیان کیا گیا ہے۔ یہ کتاب نہ صرف ابن رشد کے احوال و سوانح اور اس کے علوم و مسائل کے تذکرہ پر مشتمل ہے بلکہ اس میں مسلمانوں کے علم کلام اور علم فلسفہ کی تاریخ و تنقید بھی ہے۔ نیز اس میں اسلامی علوم و فنون کی ترقی واشاعت کے واقعات کی پوری تشریح بھی ہے۔ اس کتاب سے یہ بھی معلوم ہوگا کہ ابن رشد صرف فلسفی نہ تھا بلکہ ایک نقاد و متکلم اور ایک نکتہ سنج فقیہ بھی تھا۔ (عین۔ م)

    نوٹ:
    محدث فورم میں اس کتاب پر تبصرہ کرنے کے لیے یہاں کلک کریں

  • title-pages-ibne-rushad-w-falsfa-ibne-rushad-copy
    موسیو ریناں

    ابن رشد کا پورا نام"ابو الولید محمد بن احمد بن محمد بن احمد بن رشد القرطبی الاندلسی" ہے۔آپ  520 ہجری کو پیدا ہوئے۔آپ نے فلسفہ اور طبی علوم میں شہرت پائی۔آپ نہ صرف فلسفی اور طبیب تھے بلکہ قاضی القضاہ اور کمال کے محدث بھی تھے۔نحو اور لغت پر بھی دسترس رکھتے تھے ساتھ ہی متنبی اور حبیب کے شعر کے حافظ بھی تھے۔ آپ انتہائی با ادب، زبان کے میٹھے، راسخ العقیدہ اور حجت کے قوی شخص تھے۔آپ جس مجلس میں بھی شرکت کرتے تھے ان کے ماتھے پر وضو کے پانی کے آثار ہوتے تھے۔ان سے پہلے ان کے والد اور دادا قرطبہ کے قاضی رہ چکے تھے۔ انہیں قرطبہ سے بہت محبت تھی۔ ابنِ رشد نے عرب عقلیت پر بہت گہرے اثرات چھوڑے ہیں، اور یہ یقیناً ان کی اتاہ محنت کا نتیجہ تھا۔ انہوں نے اپنی ساری زندگی تلاش اور صفحات سیاہ کرنے میں گزاری۔ ان کے ہم عصر گواہی دیتے ہیں کہ انہوں نے اپنی زندگی میں سوائے دو راتوں کے کبھی بھی پڑھنا نہیں چھوڑا۔ پہلی رات وہ تھی جب ان کے والد کا انتقال ہوا، اور دوسری رات جب ان کی شادی ہوئی۔انہیں شہرت کی کبھی طلب نہیں رہی، وہ علم ومعرفت کے ذریعے کمالِ انسانی پر یقین رکھتے تھے، ان کے ہاں انسان نامی بولنے اور سمجھنے والی مخلوق کی پہچان اس کی ثقافتی اور علمی ما حاصل پر ہے۔ زیر تبصرہ کتاب" ابن رشد وفلسفہ ابن رشد "موسیو رینان کی انگریزی تصنیف ہے، جس کا اردو ترجمہ محترم  مولوی معشوق حسین خان(علیگ)نے کیا ہے۔اس کتاب میں مصنف نے ابن رشد اور اس کے فلسفے پر روشنی ڈالی ہے اور پھر ابن رشد کے فلسفے کی چند درسگاہوں کا تذکرہ کیا ہے۔(راسخ)

  • title-pages-abu-tayyab-muhammad-shamsul-haqq-azeemabadi-hayat-w-khidmat
    محمد عزیر شمس
    برصغیر پاک و ہند میں  حدیث اور محدثانہ طرز استدلال کے پہلو کو اجاگر کرنے کے حوالے سے حضرت شاہ ولی اللہ کا نام بہت یاد رکھا جائے گا۔آپ نے تقلیدی  جمود کو توڑ کر تحریک حریت فکر و عمل کی بنیاد رکھی۔آپ کے بعد  یہ تحریک  عسکری و علمی دو حصوں میں تقسیم ہوگئی۔اگرچہ فکری ارتباط دونوں ہی دھاروں میں رہا لیکن ہر کوئی اپنے حلقے کا بہترین نمائندہ بن گیا۔علمی فکری دھارے کی نمائندگی کے لیے جو سرخیل سامنے آئے  ان میں سید نذیر حسین محدث دہلوی کے عظیم شاگرد رشید جناب شمس الحق عظیم آبادی ہیں۔آپ نے حضرت شاہ ولی اللہ کے خواب کو تعبیر کا جامہ پہناتے ہوئے علم حدیث کی ایسی شرح کرنے کی کوشش فرمائی جو فقہائے محدثین کے طرز استدلال پر ہو۔اس سلسلے میں آپ کا یہ ارادہ تھا  کہ درس نظامی کےنصاب میں شامل کتب حدیث پر  کم از کم حاشیہ چڑھا دیا جائے۔ عون المعبود اسی سوچ کا نتیجہ تھا۔آپ بے پناہ  اسلامی اور مسلکی غیرت کے حامل تھے۔منہج اہل حدیث کو اجاگر  کرنے کے لئے بیش بہا خدمات سرانجام دیں۔ زیرنظر کتاب میں آپ کی دینی خدمات کو واضح کرتے ہوئے زندگی کے مختلف  گوشوں پر حاوی ہے۔ہم تہہ دل سے دعا گوہیں کہ اللہ آپ کو جوار رحمت میں اعلیٰ مقام نصیب فرمائے۔آمین۔(ع۔ح)

    نوٹ:
    محدث فورم میں اس کتاب پر تبصرہ کرنے کے لیے یہاں کلک کریں
  • title-pages-abu-yousaf-yaqoob-al-mansoor-billah-copy
    طالب ہاشمی

    شمالی افریقہ میں المرابطین اور الموحدون کا دور حکومت پانچویں صدی ہجری کے وسط سے ساتویں صدی ہجری کے وسط تک تقریبا دو صدیوں پر محیط ہے۔یہ زمانہ اس خطہ ارض کی تاریخ  کا ایک شاندار اور ولولہ انگیز باب ہے۔مجاہد کبیر یوسف بن تاشفین کے بعد دولت مرابطین تو جلد ہی زوال پذیر ہو گئی لیکن اس کی جانشین  دولت موحدین تقریبا ڈیڈھ صدی تک طبل وعلم کی مالک بنی رہی۔اگر ایک طرف افریقہ میں اس کے اقتدار کا پھریرا مراکش،تیونس،الجزائر اور لیبیا وغیرہ پر اڑ رہا تھا تو دوسری طرف یورپ میں اس کا پرچم اقبال اسپین اور پرتگال پر لہرا رہا تھا۔تیسرے موحد فرمانروا ابو یوسف یعقوب المنصور باللہ کا عہد حکومت سلطنت موحدین کے منتہائے عروج کا زمانہ تھا۔اس کی شان وشوکت،معارف پروری اور جہادی معرکوں کی کامیابیوں نے اس کے مداحین کی آنکھوں کو خیرہ دیا تھا۔زیر تبصرہ کتاب " ابو یوسف یعقوب المنصور باللہ "اسی فرمانروا ابو یوسف یعقوب المنصور باللہ کے حالات زندگی پر مشتمل ہے ،جسے نامور مورخ جناب طالب ہاشمی نے نہایت تحقیق وتفحص کے ساتھ دلآویز پیرایہ میں قلمبند کیا ہے۔اور اس میں تاریخ اسلام کے ایک اہم اور شاندار باب کو منظر عام پر لایا گیا ہے۔اس کتاب کا مطالعہ یقینا بیش بہا معلومات کا باعث ہے۔(راسخ)

    نوٹ:

    محدث فورم میں اس کتاب پر تبصرہ کرنے کے لیے یہاں کلک کریں

  • title-pages-ihsas-k-ansu-copy
    نعیم احمد بلوچ

    سیدنا  یونس ﷤کا واقعہ جس کا کچھ حصہ تو خود قرآن میں مذکور ہے اور کچھ روایاتِ حدیث و تاریخ سے ثابت ہے، وہ یہ ہے کہ حضرت یونس ﷤کی قوم عراق میں موصل کے مشہور مقام نینوی ٰمیں بستے تھے، ان کی ہدایت کے لئے اللہ تعالیٰ نے  حضرت یونس﷤کو بھیجا، انھوں نے ایمان لانے سے انکار کیا،اللہ  تعالیٰ نے یونس ﷤کو حکم دیا کہ ان لوگوں کو آگاہ کردو کہ تین دن کے اندر اندر تم پر عذاب آنے والا ہے، حضرت یونس ﷤ نے قوم میں اس کا اعلان کردیا، قوم یونس نے آپس میں مشورہ کیا تو اس پر سب کا اتفاق ہوا کہ ہم نے کبھی یونس ﷤کو جھوٹ بولتے نہیں دیکھا اس لئے ان کی بات نظر انداز کرنے کے قابل نہیں، مشورہ میں یہ طے ہوا کہ یہ دیکھا جائے کہ یونس ﷤ رات کو ہمارے اندر اپنی جگہ مقیم رہتے ہیں تو سمجھ لو کہ کچھ نہیں ہوگا، اور اگر وہ یہاں سے کہیں چلے گئے تو یقین کر لو کہ صبح کو ہم پر عذاب آئے گا، حضرت یونس رات کو اس بستی سے نکل گئے، صبح ہوئی تو عذابِ الٰہی ایک سیاہ دھوئیں اور بادل کی شکل میں ان کے سروں پر منڈلانے لگا اور فضاء آسمانی سے نیچے ان کے قریب ہونے لگا تو ان کو یقین ہوگیا کہ اب ہم سب ہلاک ہونے والے ہیں، یہ دیکھ کر حضرت یونس ﷤ کو تلاش کیا کہ ان کے ہاتھ پر مشرف بایمان ہوجائیں اور پچھلے انکار سے توبہ کرلیں مگر یونس ﷤کو نہ پایا تو خود ہی اخلاصِ نیت کے ساتھ توبہ و استغفار میں لگ گئے، بستی سے ایک میدان میں نکل آئے، عورتیں بچے اور جانور سب اس میدان میں جمع کردئے گئے، ٹاٹ کے کپڑے پہن کر عجز و زاری کے ساتھ اس میدان میں توبہ کرنے اور عذاب سے پناہ مانگنے میں اس طرح مشغول ہوئے کہ پورا میدان آہ و بکا سے گونجنے  لگا، اللہ تعالیٰ نے ان کی توبہ قبول فرمالی اور عذاب ان سے ہٹا دیا۔ سیدنا یونس  ﷤ کاقصہ کئی حوالوں سے منفرد ہے  ۔ ایک یہ کہ  حصرت یونس ﷤ کی قوم دنیا کی واحد قوم ہے  جسے عذاب کے وقت تو بہ نصیب ہوئی۔ اس قصے کی دوسری انفرادیت یونس ﷤ کی شخصیت ہے ۔ ان پر جب قوم کا ایک بھی فرد ایمان  نہ لایا توہ غیرتِ حق میں آکر وقت سےپہلے  اپنی بستی چھوڑ کرچلے گئے۔اس سےاس عظیم قصے کوایک نیا رخ ملا۔ زیرتبصرہ کتابچہ  سیدنا یونس ﷤ کے قصے پر مشتمل  ہے  اس کتاب میں اس  قصے کوایک کہانی کی صورت میں بیان کیا گیا ہے۔ اور عام طور پر  سیدنا یونس﷤ کی بھول کے حوالے سے  طرح طرح کی باتیں بنائی جاتی ہیں ۔ اس کتاب میں ان تمام غلط فہمیوں کودور کیاگیا ہے ۔اورسید نا یونس ﷤  سےایسی کسی بات کو منسوب نہیں کیا گیا جس کاقرآن وحدیث اوردوسری الہامی کتب میں حوالہ نہ ملتا ہو۔اشاعت  کتب کے عالمی ادارے ’’دار السلام ‘‘ نےانبیاء کے  واقعات  وقصص کو   بچوں کے لیے کہانیوں کی صورت میں شائع کیا ہے یہ  کتاب بھی اسی سلسلہ  کا حصہ ہے ۔ اللہ تعالیٰ  ناشرین کی اس عمدہ کاوش کوقبول فرمائے (آمین) (م۔ا)

  • title-pages-ahyae-deen-aur-hindustani-ulma-copy
    ڈاکٹر عبیداللہ فہد فلاحی

    اسلام اپنے ماننے والوں سے مکمل سپردگی اور کامل اطاعت کا مطالبہ کرتا ہے۔مسجد سے بازار تک، مدرسہ سے اسمبلی تک ہر جگہ شریعت کے احکام کی مخلصانہ پیروی اور اللہ کی مرضی کے سامنے سر تسلیم خم کرنا مطلوب ہے۔دین میں کسی کتر بیونت، کانٹ چھانٹ کی اجازت ہر گز نہیں ہے۔عبادات مشروعہ میں کامل انہماک، اخبات وانابت اور اخلاص وللہیت بدرجہ اولی ہر مومن پر واجب ہے۔اسلام، ایمان اور احسان کے ارتقائی مراحل طے کر کے ہی بندہ مومن خدا رسیدہ بنتا ہےاور اخروی انعامات کا مستحق قرار پاتا ہے۔بالکل اسی طرح   دین کی دعوت واقامت، تجدید واصلاح، معاشرہ میں اسلام کے احیا وغلبہ کی منصوبہ بندی،منکر کو روکنے کی جدوجہد، طاغوت کو جڑ سے اکھاڑنے کی کوشش اور اسلام دشمن طاقتوں کے خلاف معرکہ آرائی بھی بندہ مومن کے فرائض میں شامل ہے۔ زیر تبصرہ کتاب" احیائے دین اور ہندوستانی علما، نظریاتی تفسیر اور عملی جد وجہد"علیگڑھ مسلم یونیورسٹی کے شعبہ اسلامک اسٹڈیز کے پروفیسر محترم ڈاکٹر عبید اللہ فہد فلاحی کی تصنیف ہے جس میں انہوں نے احیائے دین کے سلسلے میں نظریاتی تفسیر اور عملی میدان میں ہندوستانی علماء کی خدمات پر روشی ڈالی ہے۔(راسخ)

  • pages-from-akhlaaq-e-nabvi-key-sunehrey-waqiyaat
    عبد المالک مجاہد

    اللہ تبارک وتعالیٰ نے مسلمانوں کو ایک بڑی دولت اور نعمت سے نوازا ہے، جو پورے دین کو جامع اور اس کی تبلیغ کا بہترین ذریعہ ہے۔ وہ نعمت اور دولت اخلاق ہے، ہمارے نبی حضرت محمد رسول اللہﷺ اخلاق کے اعلیٰ معیار پر تھے، چنانچہ آپﷺ کی راز دار زندگی اور آپﷺ کی زوجہ محترمہ حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا فرماتی ہیں، ”آپﷺ کے اخلاق کا نمونہ قرآن کریم ہے۔ آپﷺ نے اپنے ہر قول وفعل سے ثابت کیا کہ آپﷺ دنیا میں اخلاقِ حسنہ کی تکمیل کے لیے تشریف لائے، چنانچہ ارشاد ہے: ”بعثت لاتتم مکارم الاخلاق“ یعنی ”میں (رسول اللہ ﷺ) اخلاق حسنہ کی تکمیل کے واسطے بھیجا گیا ہوں“۔ پس جس نے جس قدر آپﷺ کی تعلیمات سے فائدہ اٹھاکر اپنے اخلاق کو بہتر بنایا اسی قدر آپﷺ کے دربار میں اس کو بلند مرتبہ ملا، صحیح بخاری کتاب الادب میں ہے، ”ان خیارکم احسن منکم اخلاقا“ یعنی ”تم میں سب سے اچھا وہ ہے جس کے اخلاق سب سے اچھے ہوں۔ حضورﷺ کی ساری زندگی اخلاقِ حسنہ سے عبارت تھی، قرآن کریم نے خود گواہی دی ”انک لعلی خلق عظیم“ یعنی بلاشبہ آپﷺ اخلاق کے بڑے مرتبہ پر فائز ہیں۔ آپ ﷺ لوگوں کوبھی ہمیشہ اچھے اخلاق کی تلقین کرتے آپ کے اس اندازِ تربیت کےبارے میں حضرت انس﷜ کہتے ہیں۔ رایتہ یامر بمکارم الاخلاق(صحیح مسلم :6362) میں نے آپ کو دیکھا کہ آپ لوگوں کو عمدہ اخلاق کی تعلیم دیتے ہیں۔ زیر تبصرہ کتا ب ’’اخلاق نبوی کے سنہرے واقعات‘‘ اشاعت کتب کے معروف انٹر نیشنل ادارے دار السلام کے ڈائریکٹر جناب مولانا عبد المالک مجاہد﷾ کی ایک منفر د کاوش ہے۔ موصوف نے مختلف کتب سیرت و تاریخ سے استفادہ کر کے ان واقعات کو ایک جگہ یکجا کردیا ہے۔ ان واقعات سے ہمیں آپﷺ کے اعلیٰ اخلاق کے بارے میں راہنمائی ملتی ہے۔ فاضل مصنف نے اس کتاب میں اخلاق نبویﷺ کے ایک سو سنہرے واقعات کو جمع کیا ہے اور پوری کوشش سے صرف ان واقعات کو شامل کیا ہے جو صحیح ہیں اور ان کاتذکرہ مستند کتابوں میں ہے۔ درالسلام لاہور برانچ کی ریسرچ ٹیم کی اس کتاب پر تحقیق وتخریج سے کتاب کی اہمیت وافادیت میں مزید اضافہ ہوگیا ہے۔ (م۔ا)

  • pages-from-akhlaaq-e-paighambri
    طالب ہاشمی

    نبی کریم ﷺ اخلاقیات کے اعلی ترین مقام پر فائز تھے،اللہ تعالی نے آپ کو اخلاق کا بہترین نمونہ اور پیکر بنا کر بھیجا تھا۔کسی نے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے اخلاق کے بارے میں پوچھا تو آپ نے جواب دیا: کیا تم نے قرآن نہیں پڑھا؟آپ صلی اللہ علیہ وسلم اخلاق کے اعلیٰ ترین مرتبے پر فائز تھے۔ اس کی گواہی قرآن نے بھی دی اور صحابہ و ازواج مطہرات رضی اللہ عنہم نے بھی۔ یہاں تک کہ آپ کے بدترین مخالفین،جنہوں نے آپ پر طرح طرح کے الزامات تو لگائے لیکن کبھی آپ کی سیرت اور کردار کی بابت ایک لفظ بھی نہ کہہ پائے۔حیرت کا مقام ہے کہ آپ کے ہم عصر مخالفین تک آپ کو اعلیٰ اخلاق و کردار کا حامل گردانتے تھے۔ لیکن چودہ سو سال بعد مغرب کے آزادی صحافت کے علمبرداروں کو آپ کے کردار پر انگشت نمائی کا گھناؤنا خیال سوجھا۔ اس کا حل یہی ہے کہ ہم اپنے پیارے نبی جناب محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی سیرت اور کردار کا مطالعہ کریں اور اس کا زیادہ سے زیادہ پرچار کریں۔ زیر تبصرہ کتاب "اخلاق پیمبری" محترم جناب طالب ہاشمی کی تصنیف ہے ،جس میں انہوں نے انتہائی سادہ لیکن مؤثر انداز میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے اخلاق و سیرت کو بیان کیا ہے۔ مولف موصوف نے انتہائی اختصار کے ساتھ آپ کے اعلیٰ اخلاق کے مختصر قصے جمع کردئے ہیں۔ اس کا مطالعہ ہر اس مسلمان کے لئے مفید ہے جو آپ سے محبت کا دعوٰی کرتا ہے۔اللہ تعالی سے دعا ہے کہ وہ مولف کی اس کاوش کو اپنی بارگاہ میں قبول فرمائے اور تمام مسلمانوں کو نبی کریم ﷺ کے اخلاق اور اسوہ حسنہ پر عمل کرنے کی توفیق دے۔ آمین(راسخ)

  • title-pages-arbaeen-ibraheemi
    محمد ابراہیم میر سیالکوٹی
    جمع حفاظت قرآن مجید کے بعد احادیث نبویہ اور سنن رسول اللہﷺ کے جمع و ضبط، حفاظت و صیانت پر جن احوال و ظروف اور ارشادات خاتم الانبیا نے صحابہ کرام اور تابعین عظام کو آمادہ کیا ہے ان میں ان بشارتوں کا بھی ایک خاص مقام ہے جن کی وجہ سے علمائے امت کےلیے صحرائے احادیث کے سنگ پاروں اور بحر آثار کے قطروں کو محفوظ کرنا ایک اہم علمی وظیفہ اور دینی خدمت بن گیا۔ نبی کریمﷺ نے چالیس حدیثوں کے حفظ و نقل پر جو عظیم بشارت دی ہے ا سکے پیش نظر خیر القرون سے اب تک بے شمار لوگوں نے حدیث کی حفاظت کی اور زبانی یا تحریری طریقہ سے دوسروں تک پہنچانے کا اہتمام کیا۔ صاحب کشف الظنون علامہ مصطفٰی بن عبداللہ معروف بکاتب چلپی نے حضرت عبداللہ بن مبارک سے اپنے زمانے کے مشاہیرعلما میں سے تقریباً 75 علما کی 90 سے زائد اربعینات کا تذکرہ کیا ہے۔ حافظ ابراہیم میرسیالکوٹی کسی تعارف کےمحتاج نہیں ہیں انھوں نے بھی ’اربعین ابراہیمی‘ کے نام سے چالیس احادیث جمع کیں۔ مولانا محمد علی جانباز نے ان چالیس احادیث کی مختصر شرح کر دی جس کے بعد یہ کتاب افادہ قارئین کے لیے حاضر ہے۔(ع۔م)

    نوٹ:
    محدث فورم میں اس کتاب پر تبصرہ کرنے کے لیے یہاں کلک کریں
  • pages-from-ishaaria-urdu-daira-maarif-e-islamiah-24
    دانش گاہ پنجاب، جامعہ پنجاب، لاہور

    ماضی قریب اور عصر حاضرعلمی انقلاب کا دور کہلاتا ہے جس میں علوم و فنون کی ترقی کے ساتھ ساتھ علمی استفادہ کو آسان سے آسان تر بنانے کی کوششیں کی گئی ہیں اور کی جارہی ہیں جس کے لیے مختلف اسلوب اختیار کیے گئے ہیں۔ اولاً سیکڑوں کتب سے استفادہ کر کے حروف تہجی کے اعتبار سے انسائیکلو پیڈیاز، موسوعات، معاجم، فہارس، انڈیکس، اشاریہ جات وغیرہ تیار کیے گئے ہیں کہ جس کی مدد سے ایک سکالر آسانی سے اپنا مطلوبہ مواد تلاش کرنے میں کامیاب ہوجاتا ہے۔ جیسے اردو زبان میں تقریبا 26 مجلدات پر مشتمل دانش گاہ پنجاب یعنی پنجاب یونیورسٹی، لاہور کے زیر اہتمام تیار کیاگیا ’’اردو دائرہ معارف اسلامیہ‘‘ ہے یہ ایک معروف انسائیکلو پیڈیا ہے جس سے کسی بھی موضوع، معروف شخصیات اور شہروں کے حالات وغیرہ بآسانی تلاش کیے جا سکتے ہیں۔ اس کے علاوہ اردو زبان میں کئی اور بھی موسوعات ہیں جیسے ’’اسلامی انسائیکلو پیڈیا‘‘ از سید قاسم محمود، انگریزی زبان میں انسائیکلو پیڈیا آف برٹانیکا بھی بڑا اہم اورمفید ہے۔ اسی طرح عربی زبان میں بڑے اہم موسوعات و فہارس تیار کی گئی ہیں، موسوعۃ نظریۃ النعیم جسے سعودی عرب کے علماء کی ایک کمیٹی نے 12 جلدوں میں میں تیار کیا ہے۔ موسوعہ الفقہ الاسلامی جسے مصر کے علماء نے تیار کیا ہے۔ موسوعہ فقہیہ کویتیہ جسے وزارت اوقاف، کویت نے فقہ کی مہارت رکھنے والے جید اہل علم سے تقریبا 30 سال میں 45 جلدوں میں تیار کروایا ہے جو اپنی نوعیت کا ایک منفرد کام ہے۔ احادیث تلاش کرنے کے لیے موسوعہ اطراف الحدیث، معجم مفہرس لالفاظ الحدیث اور قرآنی آیات کی تلاش کرنے کے لیے معجم المفہرس لاالفاظ القرآن بڑی اہمیت رکھتے ہیں۔ اب تو انٹرنیٹ اور کئی کمپیوٹر سافٹ وئیرز نے باحثین و سکالرز کے لیے تحقیق و تخریج کے امور اور سیکڑوں کتب سے استفادہ کو بہت آسان بنادیا ہے۔ زیر تبصرہ کتاب ’’اردو دائرہ معارف اسلامیہ‘‘ جامعہ پنجاب کی طرف سے تیارکردہ ہے۔ 1940ء میں یونیورسٹی اورینٹل کالج کے پرنسپل ڈاکٹر مولوی محمد شفیع نے یہ تجویز پیش کی کہ پنجاب یونیورسٹی کے زیر اہتمام ایک دائرہ معارف اسلامیہ اردو میں ترتیب کی جائے جو اسلامی تہذیب و ثقافت کے تمام پہلوؤں پر حاوی ہو لیکن اس وقت یونیورسٹی کے ارباب اقتدار کو اس پر آمادہ نہ کیا جاسکا۔ قیام پاکستان کے بعد جب ملکی حالات ساز گار ہوئے اور جامعہ پنجاب حقیقی معنوں میں مسلمانان پنجاب کے تعلیمی اور فکری جذبوں کی عکاس بنی تو دوبارہ اس امر کے لیے کوشش کی گئی۔ ڈاکٹر سید عبداللہ نے پنجاب یونیورسٹی کی سنڈیکیٹ کے اجلاس منعقدہ 1948ء میں اردودائرہ معارف اسلامیہ کومرتب کرنے کی تجویز پیش کی تو یہ تجویز اس وقت کے وائس چانسلر ڈاکٹر عمر حیات ملک کی ذاتی دلچسپی سے منظور ہوگئی۔ بالآخر 1950ء سے عملی طور پر اس موضوع پر ڈاکٹر مولوی محمد شفیع کی صدارت میں کام کا آغاز ہوا جوکہ بعد میں تقریباً 44 سال میں پایۂ تکمیل کو پہنچا۔ 1964ء میں اس کی پہلی جلد طبع ہوئی اور آخری جلد 1989ء میں شائع ہوئی اور پھر ان تمام جلدوں کا اشاریہ جلد 24 کی صورت میں 1993ء میں شائع ہوا۔ بعد ازاں پروفیسر ڈاکٹر محمود الحسن عارف کی نگرانی میں اردو دائرہ معارف اسلامیہ کا اختصار کیا گیا۔ جسے قیام پاکستان کے پچاس سال پورے ہونے پر 1997ء میں ایک جلد میں ’’مختصر اردو دائرہ معارف اسلامیہ‘‘ کے نام سے شائع کیا گیا۔ پھر پروفیسر ڈاکٹر محمود الحسن عارف کی ادارت میں مزید کام کیا گیا جسے تکملہ اردو دائرہ معارف اسلامیہ کے نام سے جلد اول مارچ 2002ء اور جلد دوم جون 2008ء میں دانش گاہ پنجاب نے شائع کی۔ اردو دائرہ معارف اسلامیہ علمی، تاریخی، ادبی تحقیقی اور ثفافتی اعتبار سے ایک قابل قدر اور لائق ستائش کارنامہ ہے جو کہ ہر بڑی لائبریری کی ضرو رت ہے۔ (م۔ا)

  • urdu-daira-maarif-e-islamiah-01
    دانش گاہ پنجاب، جامعہ پنجاب، لاہور

    ماضی قریب اور عصر حاضرعلمی انقلاب کا دور کہلاتا ہے جس میں علوم و فنون کی ترقی کے ساتھ ساتھ علمی استفادہ کو آسان سے آسان تر بنانے کی کوششیں کی گئی ہیں اور کی جارہی ہیں جس کے لیے مختلف اسلوب اختیار کیے گئے ہیں۔ اولاً سیکڑوں کتب سے استفادہ کر کے حروف تہجی کے اعتبار سے انسائیکلو پیڈیاز، موسوعات، معاجم، فہارس، انڈیکس، اشاریہ جات وغیرہ تیار کیے گئے ہیں کہ جس کی مدد سے ایک سکالر آسانی سے اپنا مطلوبہ مواد تلاش کرنے میں کامیاب ہوجاتا ہے۔ جیسے اردو زبان میں تقریبا 26 مجلدات پر مشتمل دانش گاہ پنجاب یعنی پنجاب یونیورسٹی، لاہور کے زیر اہتمام تیار کیاگیا ’’اردو دائرہ معارف اسلامیہ‘‘ ہے یہ ایک معروف انسائیکلو پیڈیا ہے جس سے کسی بھی موضوع، معروف شخصیات اور شہروں کے حالات وغیرہ بآسانی تلاش کیے جا سکتے ہیں۔ اس کے علاوہ اردو زبان میں کئی اور بھی موسوعات ہیں جیسے ’’اسلامی انسائیکلو پیڈیا‘‘ از سید قاسم محمود، انگریزی زبان میں انسائیکلو پیڈیا آف برٹانیکا بھی بڑا اہم اورمفید ہے۔ اسی طرح عربی زبان میں بڑے اہم موسوعات و فہارس تیار کی گئی ہیں، موسوعۃ نظریۃ النعیم جسے سعودی عرب کے علماء کی ایک کمیٹی نے 12 جلدوں میں میں تیار کیا ہے۔ موسوعہ الفقہ الاسلامی جسے مصر کے علماء نے تیار کیا ہے۔ موسوعہ فقہیہ کویتیہ جسے وزارت اوقاف، کویت نے فقہ کی مہارت رکھنے والے جید اہل علم سے تقریبا 30 سال میں 45 جلدوں میں تیار کروایا ہے جو اپنی نوعیت کا ایک منفرد کام ہے۔ احادیث تلاش کرنے کے لیے موسوعہ اطراف الحدیث، معجم مفہرس لالفاظ الحدیث اور قرآنی آیات کی تلاش کرنے کے لیے معجم المفہرس لاالفاظ القرآن بڑی اہمیت رکھتے ہیں۔ اب تو انٹرنیٹ اور کئی کمپیوٹر سافٹ وئیرز نے باحثین و سکالرز کے لیے تحقیق و تخریج کے امور اور سیکڑوں کتب سے استفادہ کو بہت آسان بنادیا ہے۔ زیر تبصرہ کتاب ’’اردو دائرہ معارف اسلامیہ‘‘ جامعہ پنجاب کی طرف سے تیارکردہ ہے۔ 1940ء میں یونیورسٹی اورینٹل کالج کے پرنسپل ڈاکٹر مولوی محمد شفیع نے یہ تجویز پیش کی کہ پنجاب یونیورسٹی کے زیر اہتمام ایک دائرہ معارف اسلامیہ اردو میں ترتیب کی جائے جو اسلامی تہذیب و ثقافت کے تمام پہلوؤں پر حاوی ہو لیکن اس وقت یونیورسٹی کے ارباب اقتدار کو اس پر آمادہ نہ کیا جاسکا۔ قیام پاکستان کے بعد جب ملکی حالات ساز گار ہوئے اور جامعہ پنجاب حقیقی معنوں میں مسلمانان پنجاب کے تعلیمی اور فکری جذبوں کی عکاس بنی تو دوبارہ اس امر کے لیے کوشش کی گئی۔ ڈاکٹر سید عبداللہ نے پنجاب یونیورسٹی کی سنڈیکیٹ کے اجلاس منعقدہ 1948ء میں اردودائرہ معارف اسلامیہ کومرتب کرنے کی تجویز پیش کی تو یہ تجویز اس وقت کے وائس چانسلر ڈاکٹر عمر حیات ملک کی ذاتی دلچسپی سے منظور ہوگئی۔ بالآخر 1950ء سے عملی طور پر اس موضوع پر ڈاکٹر مولوی محمد شفیع کی صدارت میں کام کا آغاز ہوا جوکہ بعد میں تقریباً 44 سال میں پایۂ تکمیل کو پہنچا۔ 1964ء میں اس کی پہلی جلد طبع ہوئی اور آخری جلد 1989ء میں شائع ہوئی اور پھر ان تمام جلدوں کا اشاریہ جلد 24 کی صورت میں 1993ء میں شائع ہوا۔ بعد ازاں پروفیسر ڈاکٹر محمود الحسن عارف کی نگرانی میں اردو دائرہ معارف اسلامیہ کا اختصار کیا گیا۔ جسے قیام پاکستان کے پچاس سال پورے ہونے پر 1997ء میں ایک جلد میں ’’مختصر اردو دائرہ معارف اسلامیہ‘‘ کے نام سے شائع کیا گیا۔ پھر پروفیسر ڈاکٹر محمود الحسن عارف کی ادارت میں مزید کام کیا گیا جسے تکملہ اردو دائرہ معارف اسلامیہ کے نام سے جلد اول مارچ 2002ء اور جلد دوم جون 2008ء میں دانش گاہ پنجاب نے شائع کی۔ اردو دائرہ معارف اسلامیہ علمی، تاریخی، ادبی تحقیقی اور ثفافتی اعتبار سے ایک قابل قدر اور لائق ستائش کارنامہ ہے جو کہ ہر بڑی لائبریری کی ضرو رت ہے۔ (م۔ا)

  • urdu-daira-maarif-e-islamiah-10
    دانش گاہ پنجاب، جامعہ پنجاب، لاہور

    ماضی قریب اور عصر حاضرعلمی انقلاب کا دور کہلاتا ہے جس میں علوم و فنون کی ترقی کے ساتھ ساتھ علمی استفادہ کو آسان سے آسان تر بنانے کی کوششیں کی گئی ہیں اور کی جارہی ہیں جس کے لیے مختلف اسلوب اختیار کیے گئے ہیں۔ اولاً سیکڑوں کتب سے استفادہ کر کے حروف تہجی کے اعتبار سے انسائیکلو پیڈیاز، موسوعات، معاجم، فہارس، انڈیکس، اشاریہ جات وغیرہ تیار کیے گئے ہیں کہ جس کی مدد سے ایک سکالر آسانی سے اپنا مطلوبہ مواد تلاش کرنے میں کامیاب ہوجاتا ہے۔ جیسے اردو زبان میں تقریبا 26 مجلدات پر مشتمل دانش گاہ پنجاب یعنی پنجاب یونیورسٹی، لاہور کے زیر اہتمام تیار کیاگیا ’’اردو دائرہ معارف اسلامیہ‘‘ ہے یہ ایک معروف انسائیکلو پیڈیا ہے جس سے کسی بھی موضوع، معروف شخصیات اور شہروں کے حالات وغیرہ بآسانی تلاش کیے جا سکتے ہیں۔ اس کے علاوہ اردو زبان میں کئی اور بھی موسوعات ہیں جیسے ’’اسلامی انسائیکلو پیڈیا‘‘ از سید قاسم محمود، انگریزی زبان میں انسائیکلو پیڈیا آف برٹانیکا بھی بڑا اہم اورمفید ہے۔ اسی طرح عربی زبان میں بڑے اہم موسوعات و فہارس تیار کی گئی ہیں، موسوعۃ نظریۃ النعیم جسے سعودی عرب کے علماء کی ایک کمیٹی نے 12 جلدوں میں میں تیار کیا ہے۔ موسوعہ الفقہ الاسلامی جسے مصر کے علماء نے تیار کیا ہے۔ موسوعہ فقہیہ کویتیہ جسے وزارت اوقاف، کویت نے فقہ کی مہارت رکھنے والے جید اہل علم سے تقریبا 30 سال میں 45 جلدوں میں تیار کروایا ہے جو اپنی نوعیت کا ایک منفرد کام ہے۔ احادیث تلاش کرنے کے لیے موسوعہ اطراف الحدیث، معجم مفہرس لالفاظ الحدیث اور قرآنی آیات کی تلاش کرنے کے لیے معجم المفہرس لاالفاظ القرآن بڑی اہمیت رکھتے ہیں۔ اب تو انٹرنیٹ اور کئی کمپیوٹر سافٹ وئیرز نے باحثین و سکالرز کے لیے تحقیق و تخریج کے امور اور سیکڑوں کتب سے استفادہ کو بہت آسان بنادیا ہے۔ زیر تبصرہ کتاب ’’اردو دائرہ معارف اسلامیہ‘‘ جامعہ پنجاب کی طرف سے تیارکردہ ہے۔ 1940ء میں یونیورسٹی اورینٹل کالج کے پرنسپل ڈاکٹر مولوی محمد شفیع نے یہ تجویز پیش کی کہ پنجاب یونیورسٹی کے زیر اہتمام ایک دائرہ معارف اسلامیہ اردو میں ترتیب کی جائے جو اسلامی تہذیب و ثقافت کے تمام پہلوؤں پر حاوی ہو لیکن اس وقت یونیورسٹی کے ارباب اقتدار کو اس پر آمادہ نہ کیا جاسکا۔ قیام پاکستان کے بعد جب ملکی حالات ساز گار ہوئے اور جامعہ پنجاب حقیقی معنوں میں مسلمانان پنجاب کے تعلیمی اور فکری جذبوں کی عکاس بنی تو دوبارہ اس امر کے لیے کوشش کی گئی۔ ڈاکٹر سید عبداللہ نے پنجاب یونیورسٹی کی سنڈیکیٹ کے اجلاس منعقدہ 1948ء میں اردودائرہ معارف اسلامیہ کومرتب کرنے کی تجویز پیش کی تو یہ تجویز اس وقت کے وائس چانسلر ڈاکٹر عمر حیات ملک کی ذاتی دلچسپی سے منظور ہوگئی۔ بالآخر 1950ء سے عملی طور پر اس موضوع پر ڈاکٹر مولوی محمد شفیع کی صدارت میں کام کا آغاز ہوا جوکہ بعد میں تقریباً 44 سال میں پایۂ تکمیل کو پہنچا۔ 1964ء میں اس کی پہلی جلد طبع ہوئی اور آخری جلد 1989ء میں شائع ہوئی اور پھر ان تمام جلدوں کا اشاریہ جلد 24 کی صورت میں 1993ء میں شائع ہوا۔ بعد ازاں پروفیسر ڈاکٹر محمود الحسن عارف کی نگرانی میں اردو دائرہ معارف اسلامیہ کا اختصار کیا گیا۔ جسے قیام پاکستان کے پچاس سال پورے ہونے پر 1997ء میں ایک جلد میں ’’مختصر اردو دائرہ معارف اسلامیہ‘‘ کے نام سے شائع کیا گیا۔ پھر پروفیسر ڈاکٹر محمود الحسن عارف کی ادارت میں مزید کام کیا گیا جسے تکملہ اردو دائرہ معارف اسلامیہ کے نام سے جلد اول مارچ 2002ء اور جلد دوم جون 2008ء میں دانش گاہ پنجاب نے شائع کی۔ اردو دائرہ معارف اسلامیہ علمی، تاریخی، ادبی تحقیقی اور ثفافتی اعتبار سے ایک قابل قدر اور لائق ستائش کارنامہ ہے جو کہ ہر بڑی لائبریری کی ضرو رت ہے۔ (م۔ا)

  • urdu-daira-maarif-e-islamiah-11
    دانش گاہ پنجاب، جامعہ پنجاب، لاہور

    ماضی قریب اور عصر حاضرعلمی انقلاب کا دور کہلاتا ہے جس میں علوم و فنون کی ترقی کے ساتھ ساتھ علمی استفادہ کو آسان سے آسان تر بنانے کی کوششیں کی گئی ہیں اور کی جارہی ہیں جس کے لیے مختلف اسلوب اختیار کیے گئے ہیں۔ اولاً سیکڑوں کتب سے استفادہ کر کے حروف تہجی کے اعتبار سے انسائیکلو پیڈیاز، موسوعات، معاجم، فہارس، انڈیکس، اشاریہ جات وغیرہ تیار کیے گئے ہیں کہ جس کی مدد سے ایک سکالر آسانی سے اپنا مطلوبہ مواد تلاش کرنے میں کامیاب ہوجاتا ہے۔ جیسے اردو زبان میں تقریبا 26 مجلدات پر مشتمل دانش گاہ پنجاب یعنی پنجاب یونیورسٹی، لاہور کے زیر اہتمام تیار کیاگیا ’’اردو دائرہ معارف اسلامیہ‘‘ ہے یہ ایک معروف انسائیکلو پیڈیا ہے جس سے کسی بھی موضوع، معروف شخصیات اور شہروں کے حالات وغیرہ بآسانی تلاش کیے جا سکتے ہیں۔ اس کے علاوہ اردو زبان میں کئی اور بھی موسوعات ہیں جیسے ’’اسلامی انسائیکلو پیڈیا‘‘ از سید قاسم محمود، انگریزی زبان میں انسائیکلو پیڈیا آف برٹانیکا بھی بڑا اہم اورمفید ہے۔ اسی طرح عربی زبان میں بڑے اہم موسوعات و فہارس تیار کی گئی ہیں، موسوعۃ نظریۃ النعیم جسے سعودی عرب کے علماء کی ایک کمیٹی نے 12 جلدوں میں میں تیار کیا ہے۔ موسوعہ الفقہ الاسلامی جسے مصر کے علماء نے تیار کیا ہے۔ موسوعہ فقہیہ کویتیہ جسے وزارت اوقاف، کویت نے فقہ کی مہارت رکھنے والے جید اہل علم سے تقریبا 30 سال میں 45 جلدوں میں تیار کروایا ہے جو اپنی نوعیت کا ایک منفرد کام ہے۔ احادیث تلاش کرنے کے لیے موسوعہ اطراف الحدیث، معجم مفہرس لالفاظ الحدیث اور قرآنی آیات کی تلاش کرنے کے لیے معجم المفہرس لاالفاظ القرآن بڑی اہمیت رکھتے ہیں۔ اب تو انٹرنیٹ اور کئی کمپیوٹر سافٹ وئیرز نے باحثین و سکالرز کے لیے تحقیق و تخریج کے امور اور سیکڑوں کتب سے استفادہ کو بہت آسان بنادیا ہے۔ زیر تبصرہ کتاب ’’اردو دائرہ معارف اسلامیہ‘‘ جامعہ پنجاب کی طرف سے تیارکردہ ہے۔ 1940ء میں یونیورسٹی اورینٹل کالج کے پرنسپل ڈاکٹر مولوی محمد شفیع نے یہ تجویز پیش کی کہ پنجاب یونیورسٹی کے زیر اہتمام ایک دائرہ معارف اسلامیہ اردو میں ترتیب کی جائے جو اسلامی تہذیب و ثقافت کے تمام پہلوؤں پر حاوی ہو لیکن اس وقت یونیورسٹی کے ارباب اقتدار کو اس پر آمادہ نہ کیا جاسکا۔ قیام پاکستان کے بعد جب ملکی حالات ساز گار ہوئے اور جامعہ پنجاب حقیقی معنوں میں مسلمانان پنجاب کے تعلیمی اور فکری جذبوں کی عکاس بنی تو دوبارہ اس امر کے لیے کوشش کی گئی۔ ڈاکٹر سید عبداللہ نے پنجاب یونیورسٹی کی سنڈیکیٹ کے اجلاس منعقدہ 1948ء میں اردودائرہ معارف اسلامیہ کومرتب کرنے کی تجویز پیش کی تو یہ تجویز اس وقت کے وائس چانسلر ڈاکٹر عمر حیات ملک کی ذاتی دلچسپی سے منظور ہوگئی۔ بالآخر 1950ء سے عملی طور پر اس موضوع پر ڈاکٹر مولوی محمد شفیع کی صدارت میں کام کا آغاز ہوا جوکہ بعد میں تقریباً 44 سال میں پایۂ تکمیل کو پہنچا۔ 1964ء میں اس کی پہلی جلد طبع ہوئی اور آخری جلد 1989ء میں شائع ہوئی اور پھر ان تمام جلدوں کا اشاریہ جلد 24 کی صورت میں 1993ء میں شائع ہوا۔ بعد ازاں پروفیسر ڈاکٹر محمود الحسن عارف کی نگرانی میں اردو دائرہ معارف اسلامیہ کا اختصار کیا گیا۔ جسے قیام پاکستان کے پچاس سال پورے ہونے پر 1997ء میں ایک جلد میں ’’مختصر اردو دائرہ معارف اسلامیہ‘‘ کے نام سے شائع کیا گیا۔ پھر پروفیسر ڈاکٹر محمود الحسن عارف کی ادارت میں مزید کام کیا گیا جسے تکملہ اردو دائرہ معارف اسلامیہ کے نام سے جلد اول مارچ 2002ء اور جلد دوم جون 2008ء میں دانش گاہ پنجاب نے شائع کی۔ اردو دائرہ معارف اسلامیہ علمی، تاریخی، ادبی تحقیقی اور ثفافتی اعتبار سے ایک قابل قدر اور لائق ستائش کارنامہ ہے جو کہ ہر بڑی لائبریری کی ضرو رت ہے۔ (م۔ا)

ای میل سبسکرپشن

محدث لائبریری کی اپ ڈیٹس بذریعہ ای میل وصول کرنے کے لئے ای میل درج کر کے سبسکرائب کے بٹن پر کلک کیجئے۔

 

ایڈوانس سرچ

موضوعاتی فہرست

رجسٹرڈ اراکین

آن لائن مہمان

محدث لائبریری پر اس وقت الحمدللہ 815 مہمان آن لائن ہیں ، لیکن کوئی رکن آن لائن نہیں ہے۔

ایڈریس

       99-جے ماڈل ٹاؤن،
     نزد کلمہ چوک،
     لاہور، 54700 پاکستان

       0092-42-35866396، 35866476، 35839404

       0092-423-5836016، 5837311

      KitaboSunnat@gmail.com

      بنک تفصیلات کے لیے یہاں کلک کریں