طاغوت کے تعاون سے جہاد

حافظ محمد ابراہیم سلفی
دار الاندلس،لاہور
35
700 (PKR)

نبی کریم ﷺ کی حیات طیبہ کا ایک ایک پہلو ہمارے لئے اسوہ حسنہ اور بہترین نمونہ ہے۔آپ ﷺ کی زندگی کا اہم ترین حصہ دشمنان اسلام ،کفار،یہودونصاری اور منافقین سے معرکہ آرائی میں گزرا۔جس میں آپ ﷺ کو ابتداءً  دفاعی اور مشروط قتال کی اجازت ملی اور پھر اقدامی جہاد کی بھی اجازت  بلکہ حکم فرما دیا گیا۔نبی کریم ﷺکی یہ جنگی مہمات  تاریخ اسلام کا ایک روشن اور زریں باب ہیں۔جس نے امت کو یہ بتلایا کہ  دین کی دعوت میں ایک مرحلہ وہ بھی آتا ہے  جب داعی دین کو اپنے ہاتھوں میں اسلحہ تھامنا پڑتا ہے اور دین کی دعوت میں رکاوٹ کھڑی کرنے والے عناصر اور طاغوتی طاقتوں کو بزور طاقت روکنا پڑتا ہے۔نبی کریم ﷺ نے اپنی حیات طیبہ میں ستائیس غزوات میں بنفس نفیس شرکت فرمائی اور تقریبا سینتالیس مرتبہ صحابہ کرام  کو فوجی مہمات پر روانہ فرمایا۔جہاد کی اس اہمیت وفضیلت کا باوجود کچھ مسلمان آج بھی شکوک وشبہات میں پڑے ہوئے ہیں۔ان شکوک وشبہات میں سے ایک اشکال یہ ہے کہ یہ طاغوت کے ماتحت ہے اور ایجنسیوں کا جہاد ہے۔ زیر تبصرہ کتاب " طاغوت کے تعاون سے جہاد،شرعی جائزہ "جماعۃ الدعوہ پاکستان کے مرکزی راہنما محترم حافظ محمد ابراہیم سلفی شہید﷫ کی تصنیف ہے،جبکہ نظر ثانی فضیلۃ الشیخ مفتی عبد الرحمن رحمانی صاحب نے فرمائی ہے۔مولف موصوف نے اس کتاب میں  اسی قسم کے شبہات واعتراضات کا تسلی بخش جواب دیا ہے۔ اللہ تعالی سے دعا ہے کہ وہ مولف کی اس کاوش کو قبول فرمائے اوران کے میزان حسنات میں اضافہ فرمائے۔آمین(راسخ)

عناوین

 

صفحہ نمبر

عرض ناشر

 

3

طاغوت کے تعاون سے جہاد شرعی جائزہ

 

4

دوسری جلد

مصنف کی مزید تصانیف

ای میل سبسکرپشن

محدث لائبریری کی اپ ڈیٹس بذریعہ ای میل وصول کرنے کے لئے ای میل درج کر کے سبسکرائب کے بٹن پر کلک کیجئے۔

ایڈوانس سرچ

موضوعاتی فہرست

رجسٹرڈ اراکین

آن لائن مہمان

محدث لائبریری پر اس وقت الحمدللہ 2074 مہمان آن لائن ہیں ، لیکن کوئی رکن آن لائن نہیں ہے۔

ایڈریس

        99--جے ماڈل ٹاؤن،
        نزد کلمہ چوک،
        لاہور، 54700 پاکستان

       0092-42-35866396، 35866476، 35839404

       0092-423-5836016، 5837311

       library@mohaddis.com

       بنک تفصیلات کے لیے یہاں کلک کریں