تفسیر قرآن کے اصول و قواعد

1 1 1 1 1 1 1 1 1 1
ڈاکٹر عبید الرحمن محسن
حافظ عبد الستار حماد
مکتبہ اسلامیہ،لاہور
271
6775.00 (PKR)
title-pages-tafseer-quran-k-usool-w-qawaid-copy

قرآن کریم اللہ کی آخری کتاب ہے،جسے اس نے دنیا کے لیےراہنما بنا کر بھیجا ہے۔اس کے کچھ الفاظ مجمل اور کچھ مطلق ہیں ،جن کی تشریح وتوضیح کے لیے نبی کریمﷺ کو منتخب فرمایا-قرآن کریم کی وضاحت وہی بیان کر سکتا ہے جس پر یہ نازل ہوا۔اس لیے صحابہ کرام کبھی بھی اپنی طرف سے قرآن کی تشریح نہ کرتے تھے،اور اگر کسی چیز کی سمجھ نہ آتی تو خاموشی اختیار کر لیتےتھے۔اللہ کے نبیﷺ نے جس طریقے اور صحابہ نے آپ کے طریقے کو اختیار کرتے ہوئے جس طریقے سے قرآن کی تشریح کی ہے اس کو علما نے تفسیر بالماثور ، اور جن لوگوں نے اپنی مرضی سے تفسیر کی اس کو تفسیر بالرائے کا نام دیا ہے۔ قرآن مجید کی تفسیر میں گمراہی کا اصلی سبب اس حقیقت کو بھول جانا ہے ۔ قرآن کے مطالب وہی درست ہیں ،جو اس کے مخاطب اول نے سمجھے اور سمجھائے ہیں۔قرآن محمدﷺ پر نازل ہوا ،اور قرآن بس وہی ہے جو محمد ﷺنے سمجھا اور سمجھایا ہے۔اس کے علاوہ جو کچھ ہے ،یا تو علمی ،روحانی نکتے ہیں ،جو قلب مومن پر القا ہوں اور یا پھر اقوال وآراء ہیں۔اٹکل پچو باتیں ہیں ،جن کے محتمل کبھی قرآنی لفظ ہوتے ہیں اور کبھی نہیں ہوتے ہیں۔اصول تفسیر ایسے اصول وقواعد کا نام ہے جو مفسرین قرآن کے لیے نشان منزل کی تعیین کرتے ہیں۔ تاکہ کلام اللہ کی تفسیر کرنے والا ان کی راہ نمائی اور روشنی میں ہر طرح کے ممکنہ خطرات سے محفوظ رہے اور اس کےمنشاء ومفہوم کا صحیح ادراک کرسکے ۔ لیکن برصغیرکے جدید مفسرین نے اپنی مرضی سےاپنے ہی اصول تفسیر قائم کر کے اپنی عقل وفکر سے اپنی تفاسیر میں بعض آیات وسور کی ایسی تفسیر پیش کی ہے جو صریحاً مفسر صحابہ کرام ، تابعین عظام ﷭ اور قرون اولیٰ کے مشہور مفسرین ائمہ کرام ﷭ کی تفاسیر مختلف ہے۔ان مفسرین میں سر سید ، حمید الدین فراہی ، امیں احسن اصلاحی ، غلام احمد پرویز ، جاوید احمد غامدی وغیرہ کے اسماء گرامی قابل ذکر ہیں ۔ زیر تبصرہ کتاب’’ تفسیر قرآن کے اصول وقواعد‘‘معروف واعظ ومبلغ شیخ الحدیث مولانا یوسف راجووالوی﷫کے صاحبزادے پروفیسر ڈاکٹر عبید الرحمٰن محسن﷾(مدیر دار الحدیث ،راجووال) کی تصنیف ہے۔جوکہ ڈاکٹر صاحب کے پی ، ایچ ، ڈی کے لیے لکھے گئے تفصیلی علمی وتحقیقی مقالے کاایک حصہ ہےجسے معمولی ترمیم واضافے کےساتھ الگ شائع کیا ہے۔فاضل مؤلف نےاس کتاب میں چاروں مکاتب فکر ( تفسیر بالماثور، تفسیر بالرأی المحمود، فراہی مکتب فکر، تفسیر با لرأی المذموم) کے اصول تفسیر کو سامنے رکھا اور ان کاتنقیدی جائزہ لیا ہےاور خیر القرون میں تفسیر بالماثور کے مسلمہ اصول تفسیر واضح طور پر مرتب کرنے کی بھر پور اور کامیاب کوشش کی ہے ۔ نیز فن تفسیر میں دستیاب عربی اور اردو لٹریچر کا ایک جامع خلاصہ پیش کیا ہے ۔اس کتاب میں بیان کردہ اصول تفسیر کی خصوصیت یہ ہے کہ یہ کسی فرد واحد کےخود ساختہ نہیں ،بلکہ جمہورمفسرین انہی اصولوں کےتحت قرآن کےسعادت حاصل کرتے رہے ہیں ۔یہ کتاب اپنی افادیت کے اعتبار سے قیمتی اور نادر موتیوں کی ایک لڑی ہے جو دینی مدارس کےمنتہی طلبہ ،اساتذہ اوردورات تفسیر کےفاضل طلباء وطالبات کے لیےایک اکسیر اور خاصے کی چیز ہے ۔مفتی جماعت شارح صحیح بخاری شیخ الحدیث حافظ عبد الستار حماد﷾ کی اس کتاب پر نظر ثانی سے کتاب کی اہمیت دو چند ہوگئی ہے ۔ اللہ تعالیٰ ڈاکٹر صاحب کی تدریسی ،دعوتی ، تحقیقی وتصنیفی خدمات کو شرف قبولیت سے نوازے ۔(آمین) (م۔ا)

عناوین

صفحہ نمبر

عرض ناشر

17

عرض مؤلف

19

حرف آغاز

25

بنیادی اصطلاحات

37

اصول کالغوی واصطلاحی مفہوم

37

قرآن مجید میں استعمالات

39

تجزیہ

40

علماء کےعرف واستعمالات کےمطابق اصول کےمعانی

41

تفسیرکالغوی واصطلاحی مفہوم

41

امام سیوطی کی تعریف

41

امام اللغتہ ،الجوہری کی تعریف

42

امام لغت ان منظور کی تحقیق

43

امام ابن جوزی کی تعریف

43

لفظ تفسیر کااستعمال قرآن مجید میں

43

لفظ تفسیر کااستعمال حدیث میں

43

امام راغب کی تحقیق

44

تجزیہ

45

تفسیر کااصطلاحی مفہوم

46

علامہ زرکشی کی تعریف

46

مفسرقرآن ابوحیان الاندلسی کی تعریف

47

تجزیہ

49

تاویل اورتفسیر

50

قرآن مجید میں لفظ تاویل کےاستعمالات

52

تاویل بمعنی تحریف

53

تاویل بمعنی حقیقی مفہوم

53

تاویل بمعنی انجام ونتیجہ

53

تاویل بمعنی خوابوں کی تعبیر

54

تجزیہ

54

لفظ تاویل کااحادیث میں استعمال

54

تاویل بمعنی تفسیر

54

تاویل بمعنی درایت واجتہاد

55

تاویل کااصطلاحی مفہوم اورتفسیر وتاویل میں فرق

55

تفسیر بالماثور :معنی ومفہوم ،ضرورت واہمیت

57

تفسیر بالماثور کی اصطلاحی تعریف

58

پہلاقول

58

دوسراقول

59

تیسراقول

59

تجزیہ

59

منہج تفسیربالماثور کی ضرورت واہمیت

61

میزان صحت وخطا فراہم کرنےمیں منہج تفسیر بالماثور کی اہمیت

61

تاریخی اہمیت

62

اتحادامت کےلیے منہج تفسیر بالماثور کی اہمیت

63

منہج تفسیربالماثور کااستحکام

65

منہج تفسیربالماثور فکری انتشار سےبچاؤ کی ضمانت

65

منہج تفسیر بالماثور کی عملی اہمیت

66

روحانی اہمیت

66

(للذين احسنواالحسني وزيادة)كي تفسير بالماثور

67

(وان منكم الاواردها كان علي ربك حتمامقضيا)كي تفسير بالماثور

68

منہج تفسیر بالماثور اورایمان وعمل

70

منہج تفسیر بالماثور بنیادی شرعی تقاضا

71

منہج تفسیر بالماثور کی لغوی واہمیت

73

منہج تفسیر بالماثور کی قانونی اہمیت

75

منہج تفسیر بالماثور کی قانونی اہمیت

75

منہج تفسیر بالماثور پر بعض اعتراضات کاجائزہ

76

تفسیر بالماثور عصری تقاضوں سےمطابقت نہیں رکھتا

79

مغالطے کی ایک اوروجہ

81

تفسیرالقرآن بالحدیث کےبارےمیں اشکالات

82

پہلااشکال

82

رسول اللہ ﷺ کافریضہ تبلیغ قرآن

82

رسول اللہ ﷺ کی منصب تشریح قرآن

83

صحابہ کرام کی شہادت

83

حصول علم میں انسان کی شہادت

85

تدبروفہم قرآن کاحکم الہیٰ

85

مغالطے کی اصل وجہ

86

رسول اللہ ﷺ کااسلوب تفسیر

86

دوسرااشکال

91

خطیب بغدادی کی توجیہہ

92

ڈاکٹر مساعد الطیار کی توجیہہ

92

تجزیہ

92

تفسیربالماثور اورتفسر بالرای کی اصطلاح پر اعتراض

94

تجزیہ

95

تفسیرالقرآن بالقرآن کےاصول قواعد

97

حجیت اورعدم حجیت کےلحاظ سے تفسیر القرآن بالقرآن کی اقسام

98

پہلی قسم

99

دوسری قسم

100

تیسری قسم

101

چوتھی قسم

101

پانچویں قسم

102

چھٹی قسم

102

تفسیرالقرآن بالقرآن کی چند اہم صورتیں

104

قرآنی استعمالات کےذریعے مفردات القرآن کی تشریح کرنا

104

مثال نمبر 1

104

مثال نمبر 2

105

مثال نمبر 3

106

مثال نمبر 4

107

مثال نمبر 5

107

قراءت کےذریعے سےتفسیر

108

مثال نمبر 1

108

مثال نمبر 2

109

مثال نمبر 3

110

مثال نمبر 4

110

مثال نمبر 5

111

بیانات قرآنیہ کےذریعے قرآن مجید کےمجملات کی توضیح اورمبہمات کی تعیین کرنا

111

مجمل کی لغوی تعریف

111

مجمل کی اصطلاحی تعریف

112

مثال نمبر 1

112

مثال نمبر 2

113

مثال نمبر 3

114

مثال نمبر 4

114

مثال نمبر 5

115

مثال نمبر 6

115

خودقرآن مجید کی روشنی میں اطلاقات قرآنیہ کی تقیید کرنا

116

مطلق کی لغوی تعریف

116

مطلق کی اصطلاحی تعریف

116

مطلق ومقید کےبارےمیں دواہم قواعد تفسیر

117

پہلاقاعدہ

117

دوسراقاعدہ

118

آیات قرآنیہ کی روشنی میں عمومات قرآنیہ کی تخصیص کرنا

120

عام کی تعریف

120

مثال نمبر 1

121

مثال نمبر 2

121

قرآن مجید کی روشنی میں قرآنی اصطلاحات ومفاہیم کاتعین

122

مثال نمبر 1

122

مثال نمبر 2

123

قرآن مجید اپنےواقعات کی تفصیلات پیش کرتاہے

126

قرآن مجید اپنی آیات کاحوالہ دیتاہے

127

قرآن مجید اپنے اختصارات وایجازات کی تشریحات کرتاہے

128

(الف)مخذوفات کاتعین

129

مثال نمبر 1:محذوف معنوں کاتعین

129

مثال نمبر 2:محذوف مفعول کاتعین

130

مثال نمبر 3:محذوف متعلقات کاتعین

130

اسباب وجوہاتکی وضاحت

131

فلسفہ وحکمت کی وضاحت

132

آفاقی وانفسی آیات

133

تفسیر القرآن بالحدیث کےاصول وقواعد

135

باعتبار مضمون قرآن وحدیث کاباہمی تعلق

135

پہلی قسم: قرآن آیات کی مترادف احادیث

137

مثال نمبر 1

137

مثال نمبر 2

139

مثال نمبر 3

140

مثال نمبر 4

140

دوسری قسم :شارح قرآن احادیث

140

تیسری قسم: قرآن مجید سےزائد احکام ومضامین پر مشتمل احادیث

141

شارح قرآن احادیث کی انواع واقسام

143

قرآ نی الفاظ وکلمات کی تشریح

143

مثال نمبر 1

143

مثال نمبر 2

144

مثال نمبر 3

144

عمومات قرآنیہ کی تخصیص

145

مثال نمبر 1

146

مثال نمبر 2

146

مثال نمبر 3

147

مثال نمبر 4

148

اطلاقات کی تقیید

148

مثال نمبر 1

146

مثال نمبر 2

149

مثا ل نمبر 3

150

مبہمات کی تعیین

150

مثال نمبر 1

151

مثال نمبر 2

151

قرآن مجید کےعلوم خمسہ کی تفصیلات

152

علم الاحکام

153

علم المخاصمۃ

153

علم التذکیر بآلاءاللہ

153

علم التذکیر بایام اللہ

154

علم التذکیر بالموت ومابعدہ

154

تفسیر القرآن باقوال الصحابۃ والتابعین کے اصول وقواعد

156

(الف )تفسیر صحابہ کی مختلف انواع اوران کےاحکام

156

مرفوع حکمی

157

مرفوع حکمی کی مثالیں

158

مرفوع حکمی کےبارے ایک اہم حقیقت

159

صحابہ کےتفسیری اجماعات

165

صحابی کامشہور تفسیر ی قول

166

صحابی کاغیر مشہور قول

167

صحابہ کے اختلافی اقوال

167

صحابی کی لغوی تشریح

168

حجیت قول صحابی کی نوعیت اورصحابی کاشاذ قول

169

صحابی کااسرائیلیات سےمستفادقول

169

تفسیر القرآن باقوال التابعین

169

تابعی کی تعریف

169

تفسیرتابعین کےاحکام

170

تفسیر تابعین کی اہمیت

170

تفسیر مرسل

170

اجماع تابعین

171

اسرائیلیات تابعین

171

تابعین کے اختلافی تفسیری اقوال

171

کسی ایک تابعی کاقول جبکہ اس کےمخالف کوئی دوسرا قول نہ ہو

172

تفسیر صحابہ وتابعین کےبارےمیں بعض اہم اصول

174

تفسیر القرآن باللغۃ العربیۃ کےاصول وقواعد

176

عربی لغت سےتفسیر کےاصول وقواعد

177

کثیراالاستعمال افصح معانی مراد لینا،قلیل اورشاذ کوترک کرنا

177

لغوی معانی بنیادی طورپر صحابہ اورتابعین سےحاصل کیے جائیں گے

178

تفسیر صحابہ تابعین کےمخالف لغوی تفسیر مردودہوگی

180

تفسیر قرآن عرب امیین کےہاں معروف معانی واسالیب کےمطابق ہوگی نہ کہ جدید اصطلاحات کےمطابق

181

مثالیں

185

تفسیر القرآن باسباب النزول

186

اسباب نزول کی معرف کیوں ضروری ہے

187

تفسیر قرآن میں اسباب النزول کی اہمیت

187

پہلی وجہ

188

دوسری وجہ

189

اہمیت کےلحاظ سے اسباب نزول کی اقسام

191

پہلی قسم

191

دوسری قسم

191

مثال نمبر 1

192

مثال نمبر 2

193

تیسری قسم

194

چوتھی قسم

195

مثال

195

پانچویں قسم

196

اسرائیلیات

197

اسرائیلیات کی اقسام

198

اسرائیلیات کےبارےدواہم قاعدے

199

تفسیر القرآن بالرای

201

رائے کالغوی مفہوم

201

رائے کااصطلاحی مفہوم

202

تفسیر بالرای کی اقسام

203

فہم قرآن میں عقل واجتہاد کی ضرورت واہمیت

203

قرآن مجید غورفکر کی دعوت پیش کرتاہے

203

احادیث رسول قرآن مجید میں غوروفکر کی دعوت دیتی ہیں

204

صحابہ قرآن مجید میں عقل واجتہاد اورتدبر سےکام لیتےتھے

205

تابعین اورتفسیر قرآن میں عقل واجتہاد

205

احادیث میں رائے کی مذمت

207

صحابہ کرام اوررائے کی مذمت

208

تابعین عظام اورائے کی مذمت

209

تفسیربالرائے کےبارے متضاد اقوال اوران کی توجیہہ

212

ابن الانباری کی توجیہہ

212

امام قرطبی کی توجیہہ

213

امام راغب اصفہائی کی توجیہہ

213

ابن عطیہ کی توجیہہ

214

امام ابن تیمیہ کی توجیہہ

215

ائمہ سلف کےنزدیک علم سےکیامراد ہے؟

215

تجزیہ

216

تفسیر بالرای میں حزم واحتیاط

217

تفسیر بالرای المحمود کےلیے ضروری شروط

219

صحت اعتقاد

220

منقول تفسیر پر اعتماد

220

صحت مقصد واخلاص نیت

220

مفسرکےلیے ضروری علوم

221

تجزیہ

223

تفسیر بالرای المحمود کی نمائندہ تفاسیر

224

تفسیرالقرآن بالرای المذموم

225

تفسیر بالرای المذموم کی حقیقت

226

تفسیر بالرای المذموم کاتاریخی پس منظر

226

فرقہ معتزلہ کاظہور

227

قدیم فرقہ معتزلہ

228

توحید

228

عدل

229

وعدہ وعید

229

منزلۃ بیت المنزلتین

230

امربالمعروف ونہی عن المنکر

230

معتزلہ کےنزدیک بنیادی اصول تفسیر

230

پہلااصول:علم وحکمت کاسرچشمہ عقل ہے نہ کہ عقل

230

دوسرااصول: مذعومہ عقائد اورعقل کےخلاف ہرچیز کی تاویل یاانکار

231

پہلی مثال :آیات رؤیت کی تاویل

231

دوسرا مثال (کلمہ اللہ موسی تکلیما)

232

تیسرااصول:احادیث وآثار صحابہ کوعقل کی بنیاد پر قبول  دردکرنا

232

مثال  نمبر 1:معجزہ ’’شق قمر‘‘کی احادیث

233

مثال نمبر 2:جنات کےبارےمیں وارد احادیث

234

چوتھا اصول: تفسیراسلاف کی تحقیر

235

تفاسیر معتزلہ پر بہترین رائے اورتبصرہ

236

تفسیر بالرای میں خطا وانحرفات کے اسباب

237

پہلاسبب:نااہلیت

237

دوسراسبب، قرآن مجید کواپنے نظریات کےتابع بنانا

239

تیسراسبب :معاصرہ افکار ونظریات سےمرعوبیت

239

پہلاحربہ :الفاظ قرآن کے اصل مفہوم کو سلب کرنا

241

دوسراحربہ :الفاظ قرآنی سےغلط مفاہیم کشید کرنا

244

تیسراحربہ :صحیح مفہوم کوبہ تکلف وتصنع کسی آیت سے ثابت کرنا

244

سائنس اورتفسیر قرآن

247

مؤیدین

247

معارضین

248

معتدل رائے

248

سائنسی تفسیر کی شروط

249

مولانا عبدالمالک کاندھلوی لکھتے ہین

250

علی سبیل المثال

251

مولانا تقی عثمانی کاجامع تبصرہ

252

مصادر ومراجع

256

مصنف کی مزید تصانیف

title-pages-barre-sagheer-me-usool-e-tafseer-k-manahij-w-asrat-copy
title-pages-tafseer-quran-k-usool-w-qawaid-copy

ای میل سبسکرپشن

محدث لائبریری کی اپ ڈیٹس بذریعہ ای میل وصول کرنے کے لئے ای میل درج کر کے سبسکرائب کے بٹن پر کلک کیجئے۔

 

ایڈوانس سرچ

موضوعاتی فہرست

رجسٹرڈ اراکین

آن لائن مہمان

محدث لائبریری پر اس وقت الحمدللہ 1317 مہمان آن لائن ہیں ، لیکن کوئی رکن آن لائن نہیں ہے۔

ایڈریس

       99-جے ماڈل ٹاؤن،
     نزد کلمہ چوک،
     لاہور، 54700 پاکستان

       0092-42-35866396، 35866476، 35839404

       0092-423-5836016، 5837311

      KitaboSunnat@gmail.com

      بنک تفصیلات کے لیے یہاں کلک کریں