• title-page-70-true-islamic-stories
    حافظ عبدالشکور

    فی زمانہ جبکےبچے بڑے جھوٹے اورلغوافسانوں ،ناولوں اورکہانیوں کے قصوں میں گرفتارنظرآتےہیں ،ایسی کتابوں کی بہت زیادہ ضرورت ہے،جس میں سچےواقعات بیان کئے گئے ہوں ۔جنہیں پڑھ کرعمل کاجذبہ بیدارہو۔زیرنظرکتاب میں سیرت نبوی اورتاریخ اسلام سے ایسے ہی 70واقعات کاانتخاب پیش کیاگیاہے ،جن کےمطالعہ سے ایمان کوتازگی اورروح کوشادابی نصیب ہوتی ہے۔نیزدل میں صحابہ کرام اورسلف صالحین کی عظمت اوران سے محبت کاجذبہ پیداہوتاہے۔ضرورت اس امرکی ہے کہ اس طرح کالٹریچرعام کیاجائے اورگھروں میں خصوصاً بچوں اورخواتین کوان کےمطالعے کی ترغیب دی جائے تاکہ وہ جھوٹے اور فحش ناولوں میں وقت ضائع کرنےکے بجائے سیرت سلف سے روشناس ہوسکیں۔

  • title-pages-asaan-tarjuma-quran-majeed
    حافظ نذر احمد
    قرآن شریف خداوند کریم کا کلام ہے جس میں انسان کی رشد وہدایت اور دائمی فلاح وکامرانی کے تمام اصول بیان کر دیئے گئے ہیں۔مسلمان کی ذمہ داری ہے کہ وہ اس قرآن کو پڑھے اور اس کے مطالب کو فہم کی گرفت میں لانے  کی کوشش کرے۔ہماری مادری زبان چونکہ عربی نہیں ہے ،اس لیے تراجم قرآن کا سہارا لینا ناگزیر ہے اردو زبان میں بے شمار تراجم ہو چکے ہیں اور ہر ترجمے کی اپنی خصوصیات ہیں۔کتاب وسنت ڈاٹ کام پر اس سے پہلے بھی قرآن حکیم کے بعض تراجم پیش کیے جا چکے ہیں ۔اب حافظ نذر احمد صاحب کا ترجمہ پبلش کیا جار ہا ہے اس میں بعض ایسی خصوصیات ہیں جو پہلے تراجم میں نہ تھیں مثلاً پہلے ترجمے صرف لفظی یا محض بامحاورہ تھے۔اس میں لفظی ترجمہ بھی ہے اور بامحاورہ بھی۔پھر اس ترجمے کواہل حدیث،دیوبند اور بریلوی تینوں مکاتب فکر کے علما کی تائید حاصل ہے۔لہذا تمام افراد اس سے بلا جھجک استفادہ کر سکتے ہیں امید ہے اس کے مطالعہ سے قارئین میں قرآن فہمی کا ذوق پیدا ہو گا اور قرآن حکیم کی تعلیمات پر عمل کا جذبہ بیدار ہو گا۔ناظرین سے التجا ہے کہ وہ اس کے مطالعہ کے بعد مترجم،ناشر اور کتاب وسنت ڈاٹ کام کے اراکین کو اپنی دعاؤں میں ضرور یاد رکھیں۔خداوند قدوس ہم سب کو قرآن شریف پر حقیقی معنوں میں عمل پیرا ہونے کی توفیق رحمت فرمائے۔آمین یار ب العالمین(ط۔ا)

  • untitled-1
    محمد اقبال کیلانی
    آسان لغات القرآن عربی لغت کی کتاب ہے-کسی بھی زبان کو سمجھنے کے لیے اس زبان کے اصل الفاظ سے واقفیت انتہائی ضروری ہوتی ہے اس لیے عربی زبان کو سمجھنے کے لیے اصل الفاظ جن کو اصل مادہ سے پکارا جاتا ہے اس کی پہچان ضروری ہوتی ہے-ابتدا میں عربی گرامر سے مختصر انداز میں واقفبت کروائی گئی اور کچھ گردانیں بیان کرنے کے بعد لغت کی ابتدا کی گئی ہے تاکہ کسی بھی مبتدی کو الفاظ ڈھونڈنے میں مشکل پیش نہ آئے-فاضل مصنف نے انتہائی اچھے انداز سے لغت کو ترتیب دیا ہے اور اس کی ترتیب عام لغات کی طرح حروف تہجی کی ترتیب پر رکھا ہے تاکہ الفاظ کو ڈھونڈنے میں آسانی رہے-الفاظ کے معانی کو بیان کرنے کے ساتھ ساتھ ان کے صیغے بھی بیان کیے ہیں کہ یہ کون سا صیغہ ہے تاکہ عام انسان کو مکمل واقفیت حاصل ہو جائے
  • title-page-ap-k-intakhab
    نصرت اے زبیری
    موجودہ  مادی دور میں جب کہ ہرشخص دنیوی آسائشات کےحصول میں مگن ہے ایسے لٹریچر کی اشد ضرورت ہے جو مختصر ہو اور اس سے فائدہ اٹھانے میں سہولت ہو اسی کے پیش نظر یہ کتاب مرتب کی گئی ہے تاکہ قرآن حکیم کی کم ازکم ان آیات کو جن کاجاننا اور ان پر اپنی روز مرہ زندگی میں عمل کرنا ہرمسلمان کے لیے نہ صرف انتہائی ضروری  ہےبلکہ فرض ہے ہر ایک کے علم میں لایا جاسکے بقول مؤلف یہ کتاب قرآن کے حوالے سے اللہ تعالی کا بتایا ہوا امن وسلامتی کاسیدھا راستہ دکھانے کی ایک عاجزانہ کوشش ہے یہاں یہ پہلو مدنظر رکھنا ضروری ہے کہ دینی تعلیمات کےلیے صرف اسی ایک کتاب پرانحصار کرنا سنگین غلطی ہوگی­­-


  • titlepag-2
    قاری محمد یحیٰ رسولنگری
    قرآن کریم کے حروف کو درست تلفظ کے ساتھ ادا کرنا لازم و ملزوم ہے۔ بصورت دیگر قرآن کریم کے معانی تبدیل ہو جاتے ہیں۔ فی زمانہ جہاں بہت سے لوگ قرآن کریم کو صحیح تلفظ کے ساتھ پڑھنے کا ذوق شوق رکھتے ہیں وہیں معتد بہ طبقہ ایسا بھی ہے جو اس حوالے سے سستی کا شکار ہے۔ شیخ القراء قاری یحییٰ رسولنگری حفظہ اللہ نے اسی ضرورت کے پیش نظر عام فہم انداز میں یہ کتاب تصنیف فرمائی۔ قاری صاحب نے روایت حفص سے متعلقہ جن قواعد کو نقل کیا ہے ان کا یاد کرنا نہایت آسان ہے ان قواعد کو مشق میں لا کر عوام الناس ایسی غلطیوں سے محفوظ رہ سکتے ہیں جن سے فساد معنی لازم آتا ہے۔ قاری صاحب کے بقول اگر اس کتاب کو اچھی طرح سمجھ کر پڑھ لیا جائے تو حفص کے قواعد پر مکمل عبور حاصل ہو جائے گا۔ (عین۔ م)

    نوٹ:
    محدث فورم میں اس کتاب پر تبصرہ کرنے کے لیے یہاں کلک کریں

  • untitled-1
    ابو نعمان بشیر احمد
    قرآن کریم اللہ کی آخری کتاب ہے اور اس کتاب کو اللہ تعالی نے دنیا کے لیے راہنمائی بنا کر بھیجا ہے اور اس کے الفاظ کی تشریح وتوضیح کے لیے حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو منتخب فرمایا-قرآن کریم کی وضاحت وہی بیان کر سکتا ہے جس پر یہ نازل ہوا-اس لیے صحابہ کرام کبھی بھی اپنی طرف سے قرآن کی تشریح نہ کرتے اور اگر کسی چیز کی سمجھ نہ آتی تو خاموشی اختیار کر لیتے-اللہ کے نبی نے جس طریقے اور صحابہ نے آپ کے طریقے کو اختیار کرتے ہوئے جس طریقے سے قرآن کی تشریح کی ہے اس کو علما نے تفسیر بالماثور کا نام دیا ہے اور جن لوگوں نے اپنی مرضی سے تفسیر کی اس کو تفسیر بالرائے کا نام دیا-اس کتاب میں مولف نے اصول قرآن اور اصول تفسیر پر بحث کی ہے جس میں مصنف نے قرآن مجید کی لغوی و اصطلاحی تعریف اور وجہ تسمیہ کا ذکر کرتے ہوئے قرآن کی امتیازی خصوصیات کو بھی بیان کیا ہے , قرآن اور حدیث قدسی کی تعریف اور ان کا فرق واضح کیا ہے اور علوم قرآن سے متعلقہ دوسری کئی بحثوں کو شامل کیا ہے جیسا کہ مکی اور مدنی سورتوں کی علامات و خصوصیات , لفظ سورت کی وجہ تسمیہ , قرآن مجید کی قراءات , ناسخ منسوخ کا بیان , حفاظت قرآن اور تدوین قرآن عہد رسالت میں بیان کرتے ہوئے اصول تفسیر میں تفسیر و تاویل کا لغوی و اصطلاحی معنی , موضوع , غرض و غایت , دونوں کے درمیان فرق , اقسام و شرائط , تفسیر قرآن کے ماخذ اور مصادر و مراجع کا ذکر کیا گیا ہے
  • title-pages-atlas-ul-quran
    ڈاکٹر شوقی ابوخلیل
    قرآن کریم اللہ عزوجل کا کلام اور آخری الہامی کتاب ہے ۔امت مسلمہ کی خوش نصیبی ہے کہ یہ آج  اپنے متن کے تمام ترتقاضوں کے ساتھ محفوظ حالت میں موجود ہے۔قرآن شریف اصلاً ایک کتاب ہدایت ہے جس کا مقصد راہ گم کردہ انسانیت کو خدا کی طرف بلانا اور اس کی مہت کے راستے پر گامزن کرنا ہے۔قرآن میں متعدد امتوں اور قوموں کے حالات بیان ہوئے اور کئی مقامات کا تذکرہ کیا گیا ہے۔قرآن پڑھتے ہوئے اگر ان اشخاص ،اقوام اور مقامات سے آگاہی ہو تو اس کے معانی ومفاہیم کو سمجھنے میں نہ صرف سہولت رہتی ہے بلکہ اس میں اثر پذیری کی خصوصیت دو چند ہو جاتی ہے ۔زیر نظر کتاب پہلی قرآنی اطلس ہے جسے جدید فی تقاضوں کو ملحوظ رکھتے ہوئے تیار کیا گیا ہے ۔فاضل مصنف ڈاکٹر شوقی ابو خلیل نے اس مقصد کے لیے قرآن مجید کی آیات کا بالاستعاب مطالعہ کیااور ان آیات کو جمع کیا،جن میں اماکن ،اقوام،اعلام یا دوسری جغرافیائی معلومات کے بارے میں تذکرہ ملتا ہے۔پھر ہر موضو ع پر متعلقہ آیات کا انتخاب معلومات کے جد اول اور بعد ازاں ان کے فن جغرافیہ کی روشنی میں واضح رنگ دار نقشے ترتیب دیے۔جن سے قرآن شریف کے اس متعلقہ متن میں موجود مقامات،شخصیات اور اعلام  کی بخوبی وضاحت ہو جاتی ہے ۔اس اطلس  میں نقشوں کی تعداد75،جد اول کی تعداد31اور تصاویر کی تعداد 21ہے۔(ط۔ا)

  • title-page-afkar-ebn-khalidoon
    محمدحنیف ندوی
    ابن خلدون ایک عظیم سماجی مفکرتھے تاریخ عالم کے چندنمایاں ارباب علم وفکرمیں وہ ایک منفردمقام رکھتے ہیں علامہ نے سماجیات میں انسانی فکرکونئے زاویوں سے آشناکیاہے اورعمرانی علوم میں ایسے قابل قدرنکات اجاگرکیے ہیں جوآج بھی ماہرین عمرانیات کےلیے دلیل راہ کی حیثیت رکھتے ہیں ۔علامہ کےافکاروخیالات کےباب میں انکا مشہورزمانہ مقدمہ ایک خاص مقام کاحامل ہے جس میں انہوں نے مختلف علوم وفنون اورافکارونظریات پرجچی تلی اورمتوازن ومعتدل آراء کا اظہارکیاہے۔زیرنظرکتاب میں مولانامحمدحنیف ندوی رحمہ اللہ نے علامہ کے مقدمہ کاانتہائی موثراوردلنشیں پیرایہ بیان میں خلاصہ کیاہے ۔جس میں تمام ضروری مباحث بڑی خوبصورتی سے سمیٹے ہیں ۔لاعق تحسین امریہ ہے کہ مولاناندوی نے خلاصہ کے آغاز میں ایک مقدمۃ المقدمہ بھی تحریرکیاہے ۔جس میں ابن خلدون کے افکاروآراء پرتجزیاتی تبصرہ کرتے ہوئے اس کی اہمیت کواجاگرکیاہے ۔


  • title-pages-aqsam-ul-quran
    ابو عبداللہ رفیع الدین
    اقوامِ  عالم  کے ہاں  قسم  اصل میں  تاکید  کے اسلوبوں  میں سے  ایک اسلوب  ہے  اسلام  سے قبل  عربوں کےمعاشرے میں قسم کو بہت اہمیت  حاصل تھی  عہدِ اسلامی  میں بعض نامناسب  یعنی  شرکیہ  قسمیں ممنوع  ہوگئیں البتہ بعض جو شرک اور دوسرے شوائب سے  پاک تھیں جاری رہیں اور شرع میں قابل لحاظ  ہوئیں قرآن مجید میں اللہ تعالی نے  دلیل وحجت کے کمال اوراس کی پختگی  کے لیے  قسم کا ذکر  فرمایا ہے  کسی  مسئلے  میں  مخاطب کے اطمینان کے دو طریقے  ہیں  ایک  تو شہادت  دوسرا قسم ۔قرآن مجید میں  یہ دونوں طریقے استعمال ہوئے  ہیں ۔اس  موضوع پر عربی   زبان میں  التبیان فی اقسام القرن ،امعان  فی اقسام القرآن، آیات القسم من القرآن االکریم  قابل ذکر کتابیں ہیں ۔زیرِنظر کتاب  اقسام القرآن ‘‘ از ابو عبداللہ  رفیع  الدین ﷫ اس  موضوع پر  عمدہ کاوش ہے جوکہ  قرآن  مجید میں  مذکور اکتالیس   ظاہر  اقسام باری  تعالٰی  کی تشریح وتوضیح پر  مشتمل ہے فاضل  مؤلف نے ،توحید ،رسالت  ،آخرت ، اور قرآن مجید کی حقانیت او رانسانی  احوال کے بارے  آنے والی  اقسام کو عام فہم انداز  میں  پیش کیا ہے  اللہ  اس  کتاب کو    نفع بخش بنائے  اور مؤلف مرحوم کے  درجات بلند فرمائے  (آمین)(م۔ا)

    نوٹ:
    محدث فورم میں اس کتاب پر تبصرہ کرنے کے لیے یہاں کلک کریں
  • title-2
    ابو محمد بدیع الدین راشدی

    احادیث مبارکہ میں بالوں کی سفیدی کو بدلنے اور اسے خضاب لگانے کی ترغیب دی گئی ہے ،ان میں مہندی ،کتھم اور صفرہ(زردی) کا تذکرہ ہے۔لیکن سیاہ خضاب سے منع کیا گیا ہے ۔علامہ ابن حجر الہیتمی نے اس کو کبیرہ گناہوں میں شمار کیا ہے۔کیونکہ اس سے تخلیق الہی میں تبدیلی ہوتی ہے اور اس میں دھوکہ وفریب ہے۔ زیر تبصرہ کتاب  شیخ العرب والعجم علامہ ابو محمد بدیع الدین راشدی  کی تصنیف ہے ۔مولف  کی شخصیت اتنی معروف اور عالمگیر ہے کہ محتاج تعارف نہیں ہے ،انہوں نے اٹھارہ صفحات پر مشتمل اس چھوٹے سے کتابچے میں کتاب وسنت کے دلائل کی روشنی میں سیاہ خضاب لگانے کی حرمت اور عدم جواز  کو واضح کیا ہے ۔اللہ تعالی مرحوم کی اس کاوش کو اپنی بارگا ہ میں قبول ومنظور فرمائے۔آمین(راسخ)

  • title-pages-alfaze-mutaradifa-k-darmiyan-farak
    مولانا محمد نورحسین قاسمی
    علوم اسلامیہ اور عربیہ میں علمِ لغت ایک ایسا جامع علم ہے جس سے جملہ علوم کا سلسلہ جڑتا ہے۔ علمِ لغت کو ام العلوم سے بھی تعبیر کیا جاتا ہے کیونکہ علم نحو، صرف، اشتقاق، معانی، بدیع اور علم بیان وغیرہ کا استخراج اسی علم سے ہوا ہے۔ عربی لغت میں الفاظ کے درمیان باہم مناسبت اور ترادف بھی ہوا کرتا ہے جس کی نشاندہی اکثر لغت کی کتب میں چیدہ چیدہ مقامات پر اہل فن نے کی ہے۔ بعد میں اس پہلو کو مزید روشن بنانے کے لئے مستقل عرق ریزی کی ضرورت محسوس ہوئی۔ چنانچہ ارباب علم و فن نے اس پہلو کو خوف روشن کر کے دکھایا۔ زیر نظر کتاب بھی اس سلسلے کی ایک اہم کڑی ہے۔ ’’البروق فی انواع الفروق‘‘ یعنی الفاظ مترادفہ کے درمیان فرق، مولانا نور حسین قاسمی کی تصنیف لطیف ہے۔ اس کتاب میں الف سے لیکر یاء تک، دلچسپ الفاظ مترادفات مثلاً اللہ، الہ، رب، خدا جیسے کلمات کا والد، ولد، ابن جیسے کلمات کا، جنگ، جہاد، غزوہ جیسے کلمات کا اور اسی طرح دین، شریعت، ملت، مذہب جیسے کلمات کا آپس میں فرق آسان کتاب میں جا بجا مقامات پر فروق پر مبنی عربی کتب سے براہِ راست اقتباسات باحوالہ نقل کئے گئے ہیں اور آخر میں مصادر و مراجع پر مبنی کتب کی فہرست دے دی گئی ہے جو مستفیدین کو تفصیلی معلومات کی طریق رہنمائی کرتی ہیں۔ مختصر یہ کہ اردو زبان میں الفاظ مترادفہ کے مابین فروق کے حوالے سے، یہ کتاب قابلِ التفات اور قابلِ ستائش ہے۔ (آ۔ہ۔)

    نوٹ:
    محدث فورم میں اس کتاب پر تبصرہ کرنے کے لیے یہاں کلک کریں

  • title-pages-al-qoul-al-sadeed-fi-ilam-al-tajweed-copy
    قاری سلمان احمد میرمحمدی

    قرآن مجید کو اللہ تعالیٰ نے بندوں کی رشد و ہدایت کے لیے نازل فرمایا۔ یہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے نازل کیا جانے والا ایک معجزہ ہے ۔اس کی تلاوت ِکا بھر پور اجروثواب اس امر پرموقوف ہے کہ تلاوت پورے قواعد وضوابط اور اصول وآداب کے ساتھ کی جائے قرآن کریم کی تلاوت کا صحیح طریقہ جاننا او رسیکھنا علم تجوید کہلاتا ہے اللہ تعالیٰ نے قرآن کریم کو ترتیل کے ساتھ پڑھنے کا حکم دیا ہے ۔لہٰذا قرآن کریم کو اسی طرح پڑھا جائے جس طرح اسے پڑھنے کا حق ہے۔اور ہرمسلمان کے لیے ضروری ہے کہ وہ علمِ تجوید کے بنیادی قواعد سے آگاہی حاصل کرے فن تجوید پر اب تک اردو میں بہت سارے رسائل و کتب لکھی جا چکی ہیں۔ جن سے استفادہ کرنا نہایت سہل اور آسان ہے۔ ۔ پیشِ نظر کتاب بھی انہی کتب میں ایک اضافہ ہے۔ جو کہ جامعہ لاہورالاسلامیہ ،لاہورمیں شیخ القراء قاری ابراہیم میر محمدی﷾ کے اولین شاگرد او ر بھائی محترم قاری سلمان احمد میر محمدی﷾ ( فاضل وسابق مدرس جامعہ لاہور الاسلامیہ ) کی کاوش ہے۔ قاری صاحب نے اپنی کتاب میں تجوید کے تقریباً تمام اساسی قواعد کو نہایت سہل انداز میں بیان کردیا ہے ۔مبادیات تجوید، مخارج، صفات سے لے کر ادغام اور سکتہ تک کے تمام تر قواعد کتاب کا حصہ ہیں۔کتاب کے آخر میں تجوید سے متعلقہ بعض ضروری مسائل بھی بیان کر دئیے گئے ہیں یہ کتاب کلیۃ القرآن و ا لتربیۃ الاسلامیہ ،بنگہ بلوچاں میں شامل ِنصاب ہے جس سے ابتدائی کلاسوں اور ریفریشرکورسز کے طلباء مستفید ہوتے ہیں(م ۔ا)

     

  • 1
    قاری سلمان احمد میرمحمدی
    قرآن مجید کو اللہ تعالیٰ نے بندوں کی رشد و ہدایت کے لیے نازل فرمایا۔ یہ خدا تعالیٰ کی طرف سے نازل کیا جانے والا ایک معجزہ ہے اس کی ایک واضح دلیل یہ ہے کہ عرب لوگ باوجود فصیح و بلیغ ہونے کے قرآن کریم جیسی ایک آیت لانے سے بھی قاصر رہے۔ قرآن کریم کو اللہ تعالیٰ نے ترتیل کے ساتھ پڑھنے کا حکم دیا ہے فلہٰذا ضروری ہے کہ قرآن کریم کو اسی طرح پڑھا جائے جس طرح پڑھنے کا حق ہے۔ فن تجوید پر اب تک اردو میں بہت سارے رسائل و کتب لکھی جا چکی ہیں۔ جن سے استفادہ کرنا نہایت سہل اور آسان ہے۔ اس سلسلہ کی بہت سی کتب کتاب و سنت ڈاٹ کام پر پہلے سے موجود ہیں۔ پیش نظر کتاب بھی انہی کتب میں ایک اضافہ ہے۔ جو کہ قاری ابراہیم میر محمدی حفظہ اللہ کے چھوٹے بھائی قاری سلمان احمد میر محمدی کی کاوش ہے۔ قاری صاحب اپنی کتاب میں تجوید کے تقریباً تمام اساسی قواعد لے آئے ہیں اور نہایت سہل انداز میں لائے ہیں۔ مبادیات تجوید، مخارج، صفات سے لے کر ادغام اور سکتہ تک کے تمام تر قواعد کتاب کا حصہ ہیں۔کتاب کے آخر میں تجوید سے متعلقہ بعض ضروری مسائل بھی بیان کر دئیے گئے ہیں۔(ع۔م)

    نوٹ:
    محدث فورم میں اس کتاب پر تبصرہ کرنے کے لیے یہاں کلک کریں
  • title-pages-al-misbah-al-munir-tehzeeb-w-tehqiq-tafseer-ibne-kaseer-1
    حافظ ابوالفداء عمادالدین ابن کثیر
    دینی علوم میں کتاب اللہ کی تفسیر وتاویل کا علم اشرف علوم میں شمار ہوتا ہے۔ ہر دور میں ائمہ دین نے کتاب اللہ کی تشریح وتوضیح کی خدمت سر انجام دی ہے تا کہ عوام الناس کے لیے اللہ کی کتاب کو سمجھنے میں کوئی مشکل اور رکاوٹ پیش نہ آئے۔ سلف صالحین ہی کے زمانہ ہی سے تفسیر قرآن، تفسیر بالماثور اور تفسیر بالرائے کے مناہج میں تقسیم ہو گئی تھی۔ صحابہ رضی اللہ عنہم ، تابعین عظام اور تبع تابعین رحمہم اللہ اجمعین کے زمانہ میں تفسیر بالماثور کو خوب اہمیت حاصل تھی اور تفسیر کی اصل قسم بھی اسے ہی شمار کیا جاتا تھا۔ تفسیر بالماثور کو تفسیر بالمنقول بھی کہتے ہیں کیونکہ اس میں کتاب اللہ کی تفسیر خود قرآن یا احادیث یا اقوال صحابہ یا اقوال تابعین و تبع تابعین سے کی جاتی ہے۔ بعض مفسرین اسرائیلیات کے ساتھ تفسیر کو بھی تفسیر بالماثور میں شامل کرتے ہیں کیونکہ یہ اہل کتاب سے نقل کی ایک صورت ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ہمارے قدیم تفسیری ذخیرہ میں اسرائیلیات بہت زیادہ پائی جاتی ہیں۔امام ابن کثیر رحمہ اللہ متوفی ۷۷۴ھ کی اس تفسیر کا منہج بھی تفسیر بالماثور ہے۔ امام رحمہ اللہ نے کتاب اللہ کی تفسیر قرآن مجید، احادیث مباکہ، اقوال صحابہ وتابعین اور اسرائیلیات سے کی ہے اگرچہ بعض مقامات پر وہ تفسیر بالرائے بھی کرتے ہیں لیکن ایسا بہت کم ہے۔ تفسیر طبری ، تفسیر بالماثور کے منہج پر لکھی جانے والی پہلی بنیادی کتاب شمار ہوتی ہے۔ بعض اہل علم کا خیال ہے کہ تفسیر ابن کثیر ، تفسیر طبری کا خلاصہ ہے۔امام ابن کثیر رحمہ اللہ کی اس تفسیر کو تفسیر بالماثور ہونے کی وجہ سے ہر دور میں خواص وعوام میں مرجع و مصدر کی حیثیت حاصل رہی ہے اگرچہ امام رحمہ اللہ نے اپنی اس تفسیر میں بہت سی ضعیف اور موضوع روایات یا من گھڑت اسرائیلیات بھی نقل کر دی ہیں جیسا کہ قرون وسطیٰ کے مفسرین کا عمومی منہاج اور رویہ رہا ہے۔ ادارہ دارالسلام نے ’تفسیر ابن کثیر‘کے متعدد عربی ایڈیشن شائع کرنے کے بعد ’المصباح المنیر في تهذيب  تفسیر ابن کثیر‘کے نام سے اس کی تہذیب شائع کی۔یہ کام مولانا صفی الرحمٰن مبارکپوری اور حافظ عبدالمتین راشد وغیرہم کی نگرانی میں انجام پایا۔ پھر ادارہ نے اسی تہذیب کو اردو قالب میں منتقل کرنے کا اہتمام کرایا جو اس وقت آپ کے کے سامنے ہے۔ اردو ترجمے کے فرائض مولانا محمد خالد سیف نے انجام دئیے ہیں۔ ترجمہ بہت عمدہ، سلیس اور دارالسلام کے معیار کے عین مطابق ہے۔ احادیث کی تخریج کا اہتمام تو کیا گیا ہے لیکن ان پر تحقیق پیش نہیں کی گئی۔ اس سے قبل ہم کتاب و سنت ڈاٹ کام پر مکتبہ اسلامیہ شائع کردہ تفسیر ابن کثیر دے چکے ہیں جو اس ادارے نے تخریج و تحقیق کے ساتھ شائع کی تھی اور یہ فرائض مولانا کامران طاہر نے سر انجام دئیے تھے۔بہرحال اس تہذیب کی افادیت اپنی جگہ مسلم ہے۔ ترجمہ قرآن کے لیے حافظ صلاح الدین یوسف اور مولانا عبدالجبار کی مدد لی گئی ہے۔ (ع۔م)

    نوٹ:
    محدث فورم میں اس کتاب پر تبصرہ کرنے کے لیے یہاں کلک کریں
    مکمل جلدوں میں کتاب ڈاؤن لوڈ کرنے کے لیے یہاں کلک کریں
  • title-pages-al-misbah-al-munir-tehzeeb-w-tehqiq-tafseer-ibne-kaseer-1
    حافظ ابوالفداء عمادالدین ابن کثیر
    دینی علوم میں کتاب اللہ کی تفسیر وتاویل کا علم اشرف علوم میں شمار ہوتا ہے۔ ہر دور میں ائمہ دین نے کتاب اللہ کی تشریح وتوضیح کی خدمت سر انجام دی ہے تا کہ عوام الناس کے لیے اللہ کی کتاب کو سمجھنے میں کوئی مشکل اور رکاوٹ پیش نہ آئے۔ سلف صالحین ہی کے زمانہ ہی سے تفسیر قرآن، تفسیر بالماثور اور تفسیر بالرائے کے مناہج میں تقسیم ہو گئی تھی۔ صحابہ رضی اللہ عنہم ، تابعین عظام اور تبع تابعین رحمہم اللہ اجمعین کے زمانہ میں تفسیر بالماثور کو خوب اہمیت حاصل تھی اور تفسیر کی اصل قسم بھی اسے ہی شمار کیا جاتا تھا۔ تفسیر بالماثور کو تفسیر بالمنقول بھی کہتے ہیں کیونکہ اس میں کتاب اللہ کی تفسیر خود قرآن یا احادیث یا اقوال صحابہ یا اقوال تابعین و تبع تابعین سے کی جاتی ہے۔ بعض مفسرین اسرائیلیات کے ساتھ تفسیر کو بھی تفسیر بالماثور میں شامل کرتے ہیں کیونکہ یہ اہل کتاب سے نقل کی ایک صورت ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ہمارے قدیم تفسیری ذخیرہ میں اسرائیلیات بہت زیادہ پائی جاتی ہیں۔امام ابن کثیر رحمہ اللہ متوفی ۷۷۴ھ کی اس تفسیر کا منہج بھی تفسیر بالماثور ہے۔ امام رحمہ اللہ نے کتاب اللہ کی تفسیر قرآن مجید، احادیث مباکہ، اقوال صحابہ وتابعین اور اسرائیلیات سے کی ہے اگرچہ بعض مقامات پر وہ تفسیر بالرائے بھی کرتے ہیں لیکن ایسا بہت کم ہے۔ تفسیر طبری ، تفسیر بالماثور کے منہج پر لکھی جانے والی پہلی بنیادی کتاب شمار ہوتی ہے۔ بعض اہل علم کا خیال ہے کہ تفسیر ابن کثیر ، تفسیر طبری کا خلاصہ ہے۔امام ابن کثیر رحمہ اللہ کی اس تفسیر کو تفسیر بالماثور ہونے کی وجہ سے ہر دور میں خواص وعوام میں مرجع و مصدر کی حیثیت حاصل رہی ہے اگرچہ امام رحمہ اللہ نے اپنی اس تفسیر میں بہت سی ضعیف اور موضوع روایات یا من گھڑت اسرائیلیات بھی نقل کر دی ہیں جیسا کہ قرون وسطیٰ کے مفسرین کا عمومی منہاج اور رویہ رہا ہے۔ ادارہ دارالسلام نے ’تفسیر ابن کثیر‘کے متعدد عربی ایڈیشن شائع کرنے کے بعد ’المصباح المنیر في تهذيب  تفسیر ابن کثیر‘کے نام سے اس کی تہذیب شائع کی۔یہ کام مولانا صفی الرحمٰن مبارکپوری اور حافظ عبدالمتین راشد وغیرہم کی نگرانی میں انجام پایا۔ پھر ادارہ نے اسی تہذیب کو اردو قالب میں منتقل کرنے کا اہتمام کرایا جو اس وقت آپ کے کے سامنے ہے۔ اردو ترجمے کے فرائض مولانا محمد خالد سیف نے انجام دئیے ہیں۔ ترجمہ بہت عمدہ، سلیس اور دارالسلام کے معیار کے عین مطابق ہے۔ احادیث کی تخریج کا اہتمام تو کیا گیا ہے لیکن ان پر تحقیق پیش نہیں کی گئی۔ اس سے قبل ہم کتاب و سنت ڈاٹ کام پر مکتبہ اسلامیہ شائع کردہ تفسیر ابن کثیر دے چکے ہیں جو اس ادارے نے تخریج و تحقیق کے ساتھ شائع کی تھی اور یہ فرائض مولانا کامران طاہر نے سر انجام دئیے تھے۔بہرحال اس تہذیب کی افادیت اپنی جگہ مسلم ہے۔ ترجمہ قرآن کے لیے حافظ صلاح الدین یوسف اور مولانا عبدالجبار کی مدد لی گئی ہے۔ (ع۔م)

    نوٹ:
    محدث فورم میں اس کتاب پر تبصرہ کرنے کے لیے یہاں کلک کریں
    مکمل جلدوں میں کتاب ڈاؤن لوڈ کرنے کے لیے یہاں کلک کریں
  • title-pages-al-misbah-al-munir-tehzeeb-w-tehqiq-tafseer-ibne-kaseer-1
    حافظ ابوالفداء عمادالدین ابن کثیر
    دینی علوم میں کتاب اللہ کی تفسیر وتاویل کا علم اشرف علوم میں شمار ہوتا ہے۔ ہر دور میں ائمہ دین نے کتاب اللہ کی تشریح وتوضیح کی خدمت سر انجام دی ہے تا کہ عوام الناس کے لیے اللہ کی کتاب کو سمجھنے میں کوئی مشکل اور رکاوٹ پیش نہ آئے۔ سلف صالحین ہی کے زمانہ ہی سے تفسیر قرآن، تفسیر بالماثور اور تفسیر بالرائے کے مناہج میں تقسیم ہو گئی تھی۔ صحابہ رضی اللہ عنہم ، تابعین عظام اور تبع تابعین رحمہم اللہ اجمعین کے زمانہ میں تفسیر بالماثور کو خوب اہمیت حاصل تھی اور تفسیر کی اصل قسم بھی اسے ہی شمار کیا جاتا تھا۔ تفسیر بالماثور کو تفسیر بالمنقول بھی کہتے ہیں کیونکہ اس میں کتاب اللہ کی تفسیر خود قرآن یا احادیث یا اقوال صحابہ یا اقوال تابعین و تبع تابعین سے کی جاتی ہے۔ بعض مفسرین اسرائیلیات کے ساتھ تفسیر کو بھی تفسیر بالماثور میں شامل کرتے ہیں کیونکہ یہ اہل کتاب سے نقل کی ایک صورت ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ہمارے قدیم تفسیری ذخیرہ میں اسرائیلیات بہت زیادہ پائی جاتی ہیں۔امام ابن کثیر رحمہ اللہ متوفی ۷۷۴ھ کی اس تفسیر کا منہج بھی تفسیر بالماثور ہے۔ امام رحمہ اللہ نے کتاب اللہ کی تفسیر قرآن مجید، احادیث مباکہ، اقوال صحابہ وتابعین اور اسرائیلیات سے کی ہے اگرچہ بعض مقامات پر وہ تفسیر بالرائے بھی کرتے ہیں لیکن ایسا بہت کم ہے۔ تفسیر طبری ، تفسیر بالماثور کے منہج پر لکھی جانے والی پہلی بنیادی کتاب شمار ہوتی ہے۔ بعض اہل علم کا خیال ہے کہ تفسیر ابن کثیر ، تفسیر طبری کا خلاصہ ہے۔امام ابن کثیر رحمہ اللہ کی اس تفسیر کو تفسیر بالماثور ہونے کی وجہ سے ہر دور میں خواص وعوام میں مرجع و مصدر کی حیثیت حاصل رہی ہے اگرچہ امام رحمہ اللہ نے اپنی اس تفسیر میں بہت سی ضعیف اور موضوع روایات یا من گھڑت اسرائیلیات بھی نقل کر دی ہیں جیسا کہ قرون وسطیٰ کے مفسرین کا عمومی منہاج اور رویہ رہا ہے۔ ادارہ دارالسلام نے ’تفسیر ابن کثیر‘کے متعدد عربی ایڈیشن شائع کرنے کے بعد ’المصباح المنیر في تهذيب  تفسیر ابن کثیر‘کے نام سے اس کی تہذیب شائع کی۔یہ کام مولانا صفی الرحمٰن مبارکپوری اور حافظ عبدالمتین راشد وغیرہم کی نگرانی میں انجام پایا۔ پھر ادارہ نے اسی تہذیب کو اردو قالب میں منتقل کرنے کا اہتمام کرایا جو اس وقت آپ کے کے سامنے ہے۔ اردو ترجمے کے فرائض مولانا محمد خالد سیف نے انجام دئیے ہیں۔ ترجمہ بہت عمدہ، سلیس اور دارالسلام کے معیار کے عین مطابق ہے۔ احادیث کی تخریج کا اہتمام تو کیا گیا ہے لیکن ان پر تحقیق پیش نہیں کی گئی۔ اس سے قبل ہم کتاب و سنت ڈاٹ کام پر مکتبہ اسلامیہ شائع کردہ تفسیر ابن کثیر دے چکے ہیں جو اس ادارے نے تخریج و تحقیق کے ساتھ شائع کی تھی اور یہ فرائض مولانا کامران طاہر نے سر انجام دئیے تھے۔بہرحال اس تہذیب کی افادیت اپنی جگہ مسلم ہے۔ ترجمہ قرآن کے لیے حافظ صلاح الدین یوسف اور مولانا عبدالجبار کی مدد لی گئی ہے۔ (ع۔م)

    نوٹ:
    محدث فورم میں اس کتاب پر تبصرہ کرنے کے لیے یہاں کلک کریں
    مکمل جلدوں میں کتاب ڈاؤن لوڈ کرنے کے لیے یہاں کلک کریں
  • title-pages-al-misbah-al-munir-tehzeeb-w-tehqiq-tafseer-ibne-kaseer-1
    حافظ ابوالفداء عمادالدین ابن کثیر
    دینی علوم میں کتاب اللہ کی تفسیر وتاویل کا علم اشرف علوم میں شمار ہوتا ہے۔ ہر دور میں ائمہ دین نے کتاب اللہ کی تشریح وتوضیح کی خدمت سر انجام دی ہے تا کہ عوام الناس کے لیے اللہ کی کتاب کو سمجھنے میں کوئی مشکل اور رکاوٹ پیش نہ آئے۔ سلف صالحین ہی کے زمانہ ہی سے تفسیر قرآن، تفسیر بالماثور اور تفسیر بالرائے کے مناہج میں تقسیم ہو گئی تھی۔ صحابہ رضی اللہ عنہم ، تابعین عظام اور تبع تابعین رحمہم اللہ اجمعین کے زمانہ میں تفسیر بالماثور کو خوب اہمیت حاصل تھی اور تفسیر کی اصل قسم بھی اسے ہی شمار کیا جاتا تھا۔ تفسیر بالماثور کو تفسیر بالمنقول بھی کہتے ہیں کیونکہ اس میں کتاب اللہ کی تفسیر خود قرآن یا احادیث یا اقوال صحابہ یا اقوال تابعین و تبع تابعین سے کی جاتی ہے۔ بعض مفسرین اسرائیلیات کے ساتھ تفسیر کو بھی تفسیر بالماثور میں شامل کرتے ہیں کیونکہ یہ اہل کتاب سے نقل کی ایک صورت ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ہمارے قدیم تفسیری ذخیرہ میں اسرائیلیات بہت زیادہ پائی جاتی ہیں۔امام ابن کثیر رحمہ اللہ متوفی ۷۷۴ھ کی اس تفسیر کا منہج بھی تفسیر بالماثور ہے۔ امام رحمہ اللہ نے کتاب اللہ کی تفسیر قرآن مجید، احادیث مباکہ، اقوال صحابہ وتابعین اور اسرائیلیات سے کی ہے اگرچہ بعض مقامات پر وہ تفسیر بالرائے بھی کرتے ہیں لیکن ایسا بہت کم ہے۔ تفسیر طبری ، تفسیر بالماثور کے منہج پر لکھی جانے والی پہلی بنیادی کتاب شمار ہوتی ہے۔ بعض اہل علم کا خیال ہے کہ تفسیر ابن کثیر ، تفسیر طبری کا خلاصہ ہے۔امام ابن کثیر رحمہ اللہ کی اس تفسیر کو تفسیر بالماثور ہونے کی وجہ سے ہر دور میں خواص وعوام میں مرجع و مصدر کی حیثیت حاصل رہی ہے اگرچہ امام رحمہ اللہ نے اپنی اس تفسیر میں بہت سی ضعیف اور موضوع روایات یا من گھڑت اسرائیلیات بھی نقل کر دی ہیں جیسا کہ قرون وسطیٰ کے مفسرین کا عمومی منہاج اور رویہ رہا ہے۔ ادارہ دارالسلام نے ’تفسیر ابن کثیر‘کے متعدد عربی ایڈیشن شائع کرنے کے بعد ’المصباح المنیر في تهذيب  تفسیر ابن کثیر‘کے نام سے اس کی تہذیب شائع کی۔یہ کام مولانا صفی الرحمٰن مبارکپوری اور حافظ عبدالمتین راشد وغیرہم کی نگرانی میں انجام پایا۔ پھر ادارہ نے اسی تہذیب کو اردو قالب میں منتقل کرنے کا اہتمام کرایا جو اس وقت آپ کے کے سامنے ہے۔ اردو ترجمے کے فرائض مولانا محمد خالد سیف نے انجام دئیے ہیں۔ ترجمہ بہت عمدہ، سلیس اور دارالسلام کے معیار کے عین مطابق ہے۔ احادیث کی تخریج کا اہتمام تو کیا گیا ہے لیکن ان پر تحقیق پیش نہیں کی گئی۔ اس سے قبل ہم کتاب و سنت ڈاٹ کام پر مکتبہ اسلامیہ شائع کردہ تفسیر ابن کثیر دے چکے ہیں جو اس ادارے نے تخریج و تحقیق کے ساتھ شائع کی تھی اور یہ فرائض مولانا کامران طاہر نے سر انجام دئیے تھے۔بہرحال اس تہذیب کی افادیت اپنی جگہ مسلم ہے۔ ترجمہ قرآن کے لیے حافظ صلاح الدین یوسف اور مولانا عبدالجبار کی مدد لی گئی ہے۔ (ع۔م)

    نوٹ:
    محدث فورم میں اس کتاب پر تبصرہ کرنے کے لیے یہاں کلک کریں
    مکمل جلدوں میں کتاب ڈاؤن لوڈ کرنے کے لیے یہاں کلک کریں
  • title-pages-al-misbah-al-munir-tehzeeb-w-tehqiq-tafseer-ibne-kaseer-1
    حافظ ابوالفداء عمادالدین ابن کثیر
    دینی علوم میں کتاب اللہ کی تفسیر وتاویل کا علم اشرف علوم میں شمار ہوتا ہے۔ ہر دور میں ائمہ دین نے کتاب اللہ کی تشریح وتوضیح کی خدمت سر انجام دی ہے تا کہ عوام الناس کے لیے اللہ کی کتاب کو سمجھنے میں کوئی مشکل اور رکاوٹ پیش نہ آئے۔ سلف صالحین ہی کے زمانہ ہی سے تفسیر قرآن، تفسیر بالماثور اور تفسیر بالرائے کے مناہج میں تقسیم ہو گئی تھی۔ صحابہ رضی اللہ عنہم ، تابعین عظام اور تبع تابعین رحمہم اللہ اجمعین کے زمانہ میں تفسیر بالماثور کو خوب اہمیت حاصل تھی اور تفسیر کی اصل قسم بھی اسے ہی شمار کیا جاتا تھا۔ تفسیر بالماثور کو تفسیر بالمنقول بھی کہتے ہیں کیونکہ اس میں کتاب اللہ کی تفسیر خود قرآن یا احادیث یا اقوال صحابہ یا اقوال تابعین و تبع تابعین سے کی جاتی ہے۔ بعض مفسرین اسرائیلیات کے ساتھ تفسیر کو بھی تفسیر بالماثور میں شامل کرتے ہیں کیونکہ یہ اہل کتاب سے نقل کی ایک صورت ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ہمارے قدیم تفسیری ذخیرہ میں اسرائیلیات بہت زیادہ پائی جاتی ہیں۔امام ابن کثیر رحمہ اللہ متوفی ۷۷۴ھ کی اس تفسیر کا منہج بھی تفسیر بالماثور ہے۔ امام رحمہ اللہ نے کتاب اللہ کی تفسیر قرآن مجید، احادیث مباکہ، اقوال صحابہ وتابعین اور اسرائیلیات سے کی ہے اگرچہ بعض مقامات پر وہ تفسیر بالرائے بھی کرتے ہیں لیکن ایسا بہت کم ہے۔ تفسیر طبری ، تفسیر بالماثور کے منہج پر لکھی جانے والی پہلی بنیادی کتاب شمار ہوتی ہے۔ بعض اہل علم کا خیال ہے کہ تفسیر ابن کثیر ، تفسیر طبری کا خلاصہ ہے۔امام ابن کثیر رحمہ اللہ کی اس تفسیر کو تفسیر بالماثور ہونے کی وجہ سے ہر دور میں خواص وعوام میں مرجع و مصدر کی حیثیت حاصل رہی ہے اگرچہ امام رحمہ اللہ نے اپنی اس تفسیر میں بہت سی ضعیف اور موضوع روایات یا من گھڑت اسرائیلیات بھی نقل کر دی ہیں جیسا کہ قرون وسطیٰ کے مفسرین کا عمومی منہاج اور رویہ رہا ہے۔ ادارہ دارالسلام نے ’تفسیر ابن کثیر‘کے متعدد عربی ایڈیشن شائع کرنے کے بعد ’المصباح المنیر في تهذيب  تفسیر ابن کثیر‘کے نام سے اس کی تہذیب شائع کی۔یہ کام مولانا صفی الرحمٰن مبارکپوری اور حافظ عبدالمتین راشد وغیرہم کی نگرانی میں انجام پایا۔ پھر ادارہ نے اسی تہذیب کو اردو قالب میں منتقل کرنے کا اہتمام کرایا جو اس وقت آپ کے کے سامنے ہے۔ اردو ترجمے کے فرائض مولانا محمد خالد سیف نے انجام دئیے ہیں۔ ترجمہ بہت عمدہ، سلیس اور دارالسلام کے معیار کے عین مطابق ہے۔ احادیث کی تخریج کا اہتمام تو کیا گیا ہے لیکن ان پر تحقیق پیش نہیں کی گئی۔ اس سے قبل ہم کتاب و سنت ڈاٹ کام پر مکتبہ اسلامیہ شائع کردہ تفسیر ابن کثیر دے چکے ہیں جو اس ادارے نے تخریج و تحقیق کے ساتھ شائع کی تھی اور یہ فرائض مولانا کامران طاہر نے سر انجام دئیے تھے۔بہرحال اس تہذیب کی افادیت اپنی جگہ مسلم ہے۔ ترجمہ قرآن کے لیے حافظ صلاح الدین یوسف اور مولانا عبدالجبار کی مدد لی گئی ہے۔ (ع۔م)

    نوٹ:
    محدث فورم میں اس کتاب پر تبصرہ کرنے کے لیے یہاں کلک کریں
    مکمل جلدوں میں کتاب ڈاؤن لوڈ کرنے کے لیے یہاں کلک کریں
  • title-pages-al-misbah-al-munir-tehzeeb-w-tehqiq-tafseer-ibne-kaseer-1
    حافظ ابوالفداء عمادالدین ابن کثیر
    دینی علوم میں کتاب اللہ کی تفسیر وتاویل کا علم اشرف علوم میں شمار ہوتا ہے۔ ہر دور میں ائمہ دین نے کتاب اللہ کی تشریح وتوضیح کی خدمت سر انجام دی ہے تا کہ عوام الناس کے لیے اللہ کی کتاب کو سمجھنے میں کوئی مشکل اور رکاوٹ پیش نہ آئے۔ سلف صالحین ہی کے زمانہ ہی سے تفسیر قرآن، تفسیر بالماثور اور تفسیر بالرائے کے مناہج میں تقسیم ہو گئی تھی۔ صحابہ رضی اللہ عنہم ، تابعین عظام اور تبع تابعین رحمہم اللہ اجمعین کے زمانہ میں تفسیر بالماثور کو خوب اہمیت حاصل تھی اور تفسیر کی اصل قسم بھی اسے ہی شمار کیا جاتا تھا۔ تفسیر بالماثور کو تفسیر بالمنقول بھی کہتے ہیں کیونکہ اس میں کتاب اللہ کی تفسیر خود قرآن یا احادیث یا اقوال صحابہ یا اقوال تابعین و تبع تابعین سے کی جاتی ہے۔ بعض مفسرین اسرائیلیات کے ساتھ تفسیر کو بھی تفسیر بالماثور میں شامل کرتے ہیں کیونکہ یہ اہل کتاب سے نقل کی ایک صورت ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ہمارے قدیم تفسیری ذخیرہ میں اسرائیلیات بہت زیادہ پائی جاتی ہیں۔امام ابن کثیر رحمہ اللہ متوفی ۷۷۴ھ کی اس تفسیر کا منہج بھی تفسیر بالماثور ہے۔ امام رحمہ اللہ نے کتاب اللہ کی تفسیر قرآن مجید، احادیث مباکہ، اقوال صحابہ وتابعین اور اسرائیلیات سے کی ہے اگرچہ بعض مقامات پر وہ تفسیر بالرائے بھی کرتے ہیں لیکن ایسا بہت کم ہے۔ تفسیر طبری ، تفسیر بالماثور کے منہج پر لکھی جانے والی پہلی بنیادی کتاب شمار ہوتی ہے۔ بعض اہل علم کا خیال ہے کہ تفسیر ابن کثیر ، تفسیر طبری کا خلاصہ ہے۔امام ابن کثیر رحمہ اللہ کی اس تفسیر کو تفسیر بالماثور ہونے کی وجہ سے ہر دور میں خواص وعوام میں مرجع و مصدر کی حیثیت حاصل رہی ہے اگرچہ امام رحمہ اللہ نے اپنی اس تفسیر میں بہت سی ضعیف اور موضوع روایات یا من گھڑت اسرائیلیات بھی نقل کر دی ہیں جیسا کہ قرون وسطیٰ کے مفسرین کا عمومی منہاج اور رویہ رہا ہے۔ ادارہ دارالسلام نے ’تفسیر ابن کثیر‘کے متعدد عربی ایڈیشن شائع کرنے کے بعد ’المصباح المنیر في تهذيب  تفسیر ابن کثیر‘کے نام سے اس کی تہذیب شائع کی۔یہ کام مولانا صفی الرحمٰن مبارکپوری اور حافظ عبدالمتین راشد وغیرہم کی نگرانی میں انجام پایا۔ پھر ادارہ نے اسی تہذیب کو اردو قالب میں منتقل کرنے کا اہتمام کرایا جو اس وقت آپ کے کے سامنے ہے۔ اردو ترجمے کے فرائض مولانا محمد خالد سیف نے انجام دئیے ہیں۔ ترجمہ بہت عمدہ، سلیس اور دارالسلام کے معیار کے عین مطابق ہے۔ احادیث کی تخریج کا اہتمام تو کیا گیا ہے لیکن ان پر تحقیق پیش نہیں کی گئی۔ اس سے قبل ہم کتاب و سنت ڈاٹ کام پر مکتبہ اسلامیہ شائع کردہ تفسیر ابن کثیر دے چکے ہیں جو اس ادارے نے تخریج و تحقیق کے ساتھ شائع کی تھی اور یہ فرائض مولانا کامران طاہر نے سر انجام دئیے تھے۔بہرحال اس تہذیب کی افادیت اپنی جگہ مسلم ہے۔ ترجمہ قرآن کے لیے حافظ صلاح الدین یوسف اور مولانا عبدالجبار کی مدد لی گئی ہے۔ (ع۔م)

    نوٹ:
    محدث فورم میں اس کتاب پر تبصرہ کرنے کے لیے یہاں کلک کریں
    مکمل جلدوں میں کتاب ڈاؤن لوڈ کرنے کے لیے یہاں کلک کریں
  • anwar-ul-biyan-4-pic1
    علی محمدپی۔سی۔ایس

    قرآن قیامت تك کے لیے  ایک ضابطہ حیات  كی كتاب ہے جواپنے اندر ہر دور کے مسائل کا حل رکھتی ہے۔ لہٰذا قرآن کا ایک ایک لفظ معجزہ کی حیثیت رکھتا ہے۔ قرآن چونکہ فصیح و بلیغ زبان کا شاہکار ہے او راس زبان کو سمجھنےکےلئے عجمیوں کےلیے قواعد وضع کئے گئے تاکہ ان قواعد كو  مدنظر رکھتے ہوئے قرآن کے مفہوم کو صحیح طرح سمجھا جائے۔

    قرآن کے مدلول کو عامۃ الناس پر منکشف کرنے کے لئے مفسرین نے اپنی اپنی بساط کے مطابق عربی  اور غیر عربی زبان میں تفاسیر لکھیں۔ ان تفاسیر میں مفسرین نے احادیث و آثار فقہی آراء اور لغت کے حل کی مدد سے قرآنی الفاظ کو واضح کرنے کی کوشش کی ہے۔ قرآن کے الفاظ اور  عبارات کی لغوی تفسیر کہ جس میں تراکیب و عبارات کے حل کا اہتمام کیا جاتا  صرف عربی  زبان میں نہیں ۔اُردو زبان میں اس کام کی بہت ضرورت تھی کہ قرآن کی عبارت کو گرامر کی روشنی میں تراکیب کے ساتھ حل کردیا جاتا تاکہ علماء و متعلمین اس سے استفادہ کرسکی اور یہ  الغمام زیر نظر کتاب  ’’انوار البیان  فی حل لغات القرآن ‘‘ میں ہمیں اتم درجہ دیکھنے کو ملا ہے۔ مصنف نے اس میں ہر سورے کی عبارتوں کی ترکیب اور ہر لفظ کی عربی گرامر کی رو سے نشاندہی کردی ہے اور یہ کتاب چار مجلدات پر مشتمل ہے۔اگرچہ یہ کتاب عامۃ الناس کے لیے نہیں ہے ۔بہرکیف مصنف اپنی کوشش میں کامیاب نظر آتے ہیں اور ایک منتہی اور طالب علم کے لیے علمی حظ اٹھانے کا وافر سامان موجود ہے۔

ایڈوانس سرچ

کیٹیگریز

رجسٹرڈ اراکین

آن لائن مہمان

We have 1260 guests and no members online

ایڈریس

       99-جے ماڈل ٹاؤن،
     نزد کلمہ چوک،
     لاہور، 54700 پاکستان

       0092-42-35866396، 35866476، 35839404

       0092-423-5836016، 5837311

      KitaboSunnat@gmail.com

      بنک تفصیلات کے لیے یہاں کلک کریں

گوگل میپ