نماز تراویح ( البانی )

ناصر الدین البانی
ضیاء السنہ ادارۃ الترجمہ و التالیف، فیصل آباد
113
2260 (PKR)

نماز تراویح نبی کریم ﷺ کی سنت مبارکہ ہے اورصحیح احادیث سے ثابت ہے۔سیدہ  عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ نبی کریمﷺ  نے ایک رات مسجد میں نماز اداکی، لوگوں نے بھی آپﷺ کے ساتھ نماز پڑھی، پھر آپﷺنے دوسری رات نماز پڑھی اور لوگوں کی بھی کثیر تعداد نے آپﷺ کے ساتھ نماز ادا کی، پھر لوگ اسی طرح تیسری یا چوتھی رات میں بھی جمع ہوئے لیکن رسول اللہﷺتشریف نہ لائے اور جب صبح ہوئی تو آپ ﷺنے فرمایا:’’تم لوگوں نے جو کیا میں نے اسے دیکھا ہے اور گھر سے میں اس لیے نہیں نکلا کہ مجھے یہ خدشہ لاحق ہوا کہ کہیں اس نماز کو تم پر فرض قرار نہ دے دیا جائے۔‘‘(مسلم:761)نماز تراویح کی رکعات کی تعداد گیارہ ہے۔سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا  سے روایت ہے کہ جب ان سے سوال کیا گیا کہ رمضان میں نبی کریم ﷺ  کی نماز کیسےہواکرتی تھی؟تو انہوں نے جواب دیا:’’رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم  رمضان وغیر رمضان میں گیارہ رکعت سے زیادہ نماز نہیں پڑھتے تھے۔‘‘(بخاری:1147)اگر کوئی تیرہ رکعت پڑھ لے تو اس میں بھی کوئی حرج نہیں کیونکہ سیدنا  ابن عباس رضی اللہ عنہ  سے روایت ہے کہ ’’نبی کریم ﷺ  کی نماز تیرہ رکعت تھی۔‘‘زیر تبصرہ کتاب"نماز تراویح"اپنے زمانے کے امام اردن کے معروف عالم دین اور بے شمار کتب کے مصنف علامہ البانی صاحب﷫ کی عربی تصنیف ہے،جس کا اردو ترجمہ پاکستان کے معروف عالم دین محترم مولانا محمد صادق خلیل صاحب نے کیا ہے۔مولف موصوف نے اس کتاب میں نماز تراویح کی آٹھ رکعات کو ثابت کیا ہے اور یہ ثابت کیا ہے کہ نبی کریم ﷺ اور سیدنا عمر فاروق سب کی یہی سنت تھی۔ اللہ تعالی سے دعا ہے کہ وہ مولف کی اس محنت کو اپنی بارگاہ میں قبول فرمائے اور ان کے میزان حسنات میں اضافہ فرمائے۔آمین(راسخ)

تصدیر

 

7

مقدمہ

 

9

علامہ قرطبی کا قول

 

10

مولانا رشید احمد گنگوہی کا قول

 

10

کیا حضرت عمر ؓ نے بیس تراویح کا حکم دیا

 

10

حضرت عمر ؓ سے مروی اقوال کو احناف نہیں مانتے

 

12

امام کرخی کا قول

 

12

چیلنج

 

13

آخری معروض

 

14

ایک مثال

 

17

عبد اللہ بن مسعود ؓ کا قول

 

18

حضرت عمر ؓ پر الزام

 

19

نماز تراویح کا جماعت کے ساتھ ادا کرنا مستحب ہے

 

22

نبی ﷺ گیارہ رکعات پر اکتفا کرنا

 

29

صلوۃ الرغائب کا بیان

 

41

چند شبہات اور ان کے جوابات

 

42

امام ابو حنیفہ  سے ایک سوال

 

43

دوسری مثال

 

45

تراویح کی رکعات میں علماء کے اختلافات کا حقیقی سبب

 

50

مسئلہ تراویح میں ہمارا اور ہمارے مخالفین کا نقطہ نظر

 

51

اختلاف صحابہ ؓ کی مثال

 

52

ہمارا مسلک

 

53

سنت نبویؐ کا اتباع ہی محتاط راستہ ہے

 

55

متاخرین علماء کے غلط استنباطات

 

57

علامہ ابن حجر ہیثمی کا فتوی

 

58

حضرت عمر ؓ کا گیارہ رکعات تراویح کا حکم دینا

 

59

حضرت عمر ؓ کا بیس رکعات تراویح پڑھنا ثابت نہیں

 

61

یزید بن رومان کی روایت

 

64

بیس تراویح کے آثار باہم تقویت

 

65

حافظ ابن تیمیہ کا قول

 

67

حضرت عمر ؓ سے مروی دونوں روایتوں میں تطبق

 

68

مسئلہ تروایح میں حضرت عمر ؓ کی موافقت اور مسئلہ طلاق میں انکی مخالفت

 

70

شرعی عدالتوں کے فیصلے

 

72

کسی بھی صحابی سے بیس تراویح پڑھنا ثابت نہیں

 

73

ابی ابن کعب کا اثر

 

75

عبد اللہ بن مسعود ؓ کا اثر

 

77

بیس رکعات تراویح پر اجماع کی حقیقت

 

79

علامہ شوکانی کا نقطہ نظر

 

80

گیارہ رکعات تراویح کا التزام رکھنا اور اس کی دلیل

 

82

رکعات تراویح میں اختلاف

 

83

وہ علماء جو گیارہ رکعات سے زائد کا انکار کرتے ہیں

 

86

چند شبہات اور بے بنیاد باتیں

 

88

گیارہ رکعات سے کم کے ساتھ بھی قیام جائز ہے

 

90

رسول اللہ ﷺ رات کی نماز اور وتر کن کیفیات کیساتھ ادا فرماتے رہے

 

102

کتاب کا خلاصہ

 

108

دوسری جلد

ای میل سبسکرپشن

محدث لائبریری کی اپ ڈیٹس بذریعہ ای میل وصول کرنے کے لئے ای میل درج کر کے سبسکرائب کے بٹن پر کلک کیجئے۔

ایڈوانس سرچ

موضوعاتی فہرست

رجسٹرڈ اراکین

آن لائن مہمان

محدث لائبریری پر اس وقت الحمدللہ 2074 مہمان آن لائن ہیں ، لیکن کوئی رکن آن لائن نہیں ہے۔

ایڈریس

        99--جے ماڈل ٹاؤن،
        نزد کلمہ چوک،
        لاہور، 54700 پاکستان

       0092-42-35866396، 35866476، 35839404

       0092-423-5836016، 5837311

       library@mohaddis.com

       بنک تفصیلات کے لیے یہاں کلک کریں