• title-pages-aabe-kousar
    شیخ محمد اکرم
    علوم کےمیدان میں تاریخ کاایک اپنامقام ہے۔بالخصوص دور جدید میں  جب اجتماعی اور معاشرتی علوم نےایک خاص اہمیت اختیا ر کی ہےتو اس  میں تاریخ کی اور زیادہ اہمیت بڑھ گئی ہے۔چناچہ اس سلسلے میں قدیم  اور جدید تاریخ نگاروں میں جو خاص فرق آیا ہے وہ یہ ہےکہ پہلے دور میں تاریخ کو شخصیات کےحساب سےلکھاجاتاتھاجبکہ آج کے دور میں تاریخ  علوم وفنون اور عام عوام کے حساب سےلکھاجانا پسند کیاجاتاہے۔زیرنظرکتاب اسی سلسلے کی ایک کڑی ہے جس میں راقم الحروف نے ہندستانی تاریخ کا خاص باب عہدمغلیہ کو لکھاہے اور علوم وفنون کےاعتبارسے لکھنےکی کوشش کی ہے۔یہ بہت زیاد ہ مشقت طلب کام ہے۔بلکہ بقول مولاناشبلی رحمۃ اللہ علیہ چیونٹیوں کےمنہ سےدانہ دانہ جمع کرکےخرمن تیارکرناپڑتاہے۔اور  بقول مصنف کےقصہ نویسی اورخوش اعتقادی کی کہرتمام لٹریچر پرچھا ئی ہوئی ہے۔جس کےاندر نہ مختلف اولیا ئے کرام کےجداگانہ خدوخال نظرآتےہیں اور نہ ان کےعملی کارناموں سے صحیح واقفیت ہوتی ہے۔تاہم پھر بھی مصنف نے حتی الوسع اس پر بطریق احسن اور واضح انداز میں روشنی ڈالنےکی کو شش کی ہے۔اللہ انہیں جزائے خیر سےنوازے۔آمین۔(ع۔ح)

    نوٹ:
    محدث فورم میں اس کتاب پر تبصرہ کرنے کے لیے یہاں کلک کریں
  • pages-from-aabi-wasael-shari-ahkam-o-zawabit
    صفدر زبیر ندوی

    پانی اور ہوا انسانی زندگی ہی نہیں بلکہ کائنات کے وجود و بقا کے لئے خالقِ کائنات کی پیدا کردہ نعمتوں میں سے عظیم نعمت ہے۔ انسان کی تخلیق سے لے کر کائنات کی تخلیق تک سبھی چیزوں میں پانی اور ہوا کی جلوہ گری نظر آتی ہے۔ قرآن کریم میں ہے۔ وجعلنا من الماءِ کل شیءٍ حی افلا یو منون۔ ترجمہ: اور ہم نے ہر جاندار چیز پانی سے بنائی تو کیا وہ ایمان نہ لائیں گے (سورۃ انبیاء، آیت ۳۰) سی کرہِ ارض (زمین) پر جتنے بھی جاندار ہیں خواہ انسان ہوں یا دوسری مخلوق ان سب کی زندگی کی بقا پانی پر ہی منحصر (Depend) ہے۔ زمین جب مردہ ہو جاتی ہے تو آسمان سے آبِ حیات بن کر بارش ہوتی ہے اور اس طرح تمام مخلوق کے لئے زندگی کا سامان مہیا کرتی ہے۔ اللہ نے انسانوں کے لئے پانی کا انتظام مختلف طریقوں سے کر رکھا ہے۔ پانی کی اہمیت و ضرورت کے پیش نظر اس کی بوند بوند کی حفاظت کرنا ہرانسان کاحق ہے۔ نبی کریمﷺ نے احادیث مبارکہ میں پانی کو استعمال کرنے کے متعلق احکامات صادر فرمائے ہیں۔ کتب حدیث وفقہ میں کتاب المیاہ کےنام محدثین و فقہاء نے ابواب قائم کیے ہیں۔ زیر تبصرہ کتاب ’’آبی وسائل شرعی احکام وضوابط‘‘ اسلامک فقہ اکیڈمی ،انڈیا کی جانب سے مارچ 2011ء میں ’’آبی وسائل اور ان کے متعلق احکام‘‘ کے عنوان سےمنعقد کیے گئے بیسویں سیمینار میں پیش کئے گئے علمی وتحقیقی مقالات کا مجموعہ ہے ۔اس موضوع کے متعلق نہ صرف ہندوستان بلکہ عالمی سطح پر بھی تقریباً یہ پہلا سیمینار تھا۔ جس میں ارباب فقہ و افتاء کی ایک بڑی تعداد نے شرکت کی اور اس مسئلہ کی مختلف جہتوں پر سہل اور چشم کشا تحریریں مقالات کی صورت میں سیمینار میں پیش کیں۔ بعدازاں مولانا صفدر زبیر ندوی صاحب نے ان علمی ،فقہی اور تحقیقی مقالات و مناقشات کو بڑے احسن انداز میں کتابی صورت میں مرتب کیا ہے۔ (م۔ا)

  • pages-from-ap-key-khawab-aur-un-ki-tabeer-kitab-o-sunnat-ki-roshni-mein
    ابو محمد خالد بن علی العنبری

    خواب خصالِ انسانی کاحصہ ہیں ہر انسان زندگی میں اس سے دو چار ہوتا ہے کبھی اسے اچھے اور کبھی بڑے خوف ناک خواب دکھائی دیتے ہیں۔ جب آدمی اچھے خواب دیکھتاہے تو اس بات کی تڑپ ہوتی ہے کہ خواب میں اسے کیا اشارہ ہوا ہے اور جب برے خواب ہوں تو خوف زادہ ہوجاتاہے ایسے میں انسان کی قرآن وسنت سے راہنمائی بہت ضروری ہے۔ حضرت عائشہ فرماتی ہیں کہ پہلے پہلے جس کے ساتھ رسول اللہ ﷺ پر وحی کی ابتدا کی گئی وہ نیند میں خواب تھے آپ جوبھی خواب دیکھتے اس کی تعبیر صج کے پھوٹنے کی مانند بالکل آشکار ہو جاتی ‘‘اور نبیﷺ نے فرمایا ’’نیک آدمی کا اچھا خواب نبوت کے چھیالیسویں حصے میں سے ہے ‘‘خوابوں کی تعبیر، احکام او راقسام کے حوالوں سے احادیث میں تفصیل موجود ہے۔ زیرتبصرہ کتاب ’’آپ کے خواب اور ان کی تعبیر‘‘ ابو محمد حامد خالد بن علی العنبری کی خوابوں کی تعبیر کے متعلق ایک عربی کتاب کا ترجمہ ہے۔ اس میں انہو ں نے خواب کے آداب، تقاضے، کیفیت، اور احادیث کی روشنی میں بیان کردیے ہیں تاکہ قارئین اس کتاب میں بیان کیے گیے اصو ل و ضوابط سے استفادہ کر کے صحیح ترین تعبیر سے آگاہ ہوسکیں۔ ( م۔ ا)

  • title-pages-ahqaq-e-haq-copy
    مفتی سید محمد نعیم الدین مراد آبادی

    بیسویں صدی کا  ابتدائی عہد ہندوستانی مسلمانوں کے لئے بڑا صبر آزما تھا۔مسلمان  انگریزی حکومت کے جبر واستبداد  کا شکار تھے۔انگریزی استعمار کا فتنہ زوروں پر تھا ۔پورے ملک میں عیسائی مشنریاں سر گرم تھیں۔ہندووں میں ایک نیا فرقہ آریہ سماج وجود میں آچکا تھا۔جس کے بانی پنڈت دیانند شرما اور ان کے ہم نواوں کا قلم اسلام اور پیغمبر اسلام کے خلاف ایسا زہر اگل رہا تھا ،جس سے مسلمانوں میں ارتداد کا خطرہ پیدا ہوگیا تھا۔"ستیارتھ پرکاش" اور"رنگیلا رسول" جیسی دل آزار کتابیں اسی دور کی یاد گار ہیں۔ان صبر آزما حالات میں ہندوستان کے معروف  علماء کرام نے تمام داخلی وخارجی محاذ پر اپنے مسلسل مناظروں ،تحریروں اور تقریروں کے ذریعے جو چومکھی لڑائی لڑی اور اسلام اور مسلمانوں کا جس کامیابی سے دفاع کیا ،وہ تاریخ کا ایک روشن باب ہے۔زیر تبصرہ کتاب"احقاق حق" بھی اسی سلسلے کی ایک کڑی ہے ۔جو مولانا مفتی سید محمد نعیم الدین مراد آبادی﷫ کی تصنیف ہے۔یہ قرآن مجید پر ستھیارتھ پرکاش  نامی کتاب کے اعتراضات کے جواب میں لکھی گئی  ہے۔اس سے پہلے اس موضوع پر  مولانا ثناء اللہ امرتسری ﷫ بھی لکھ چکے ہیں۔ آپ نے  " تُرک اسلام بر تَرک اسلام" کے نام سے اس دل آزار کتاب کا خود ان کی مذہبی کتابوں سے ایسا دندان شکن جواب دیا کہ اس کے تمام اعتراضات کے تاروپود نہ صرف بکھیر کر رکھ دئے ،بلکہ ایک سو پندرہ اعتراضات کے جواب میں اس پر ایک سو سولہ اعتراضات جڑ دیئے۔جس کا آج تک کوئی جواب نہ دے سکا۔ اللہ تعالی دین اسلام کا دفاع کرنے والےان تمام اہل علم کی ان عظیم الشان کاوشوں کو قبول ومنظور فرمائے اور مسلمانوں کے لئے باعث ہدایت بنائے۔آمین(راسخ)

     

  • title-pages-akhwan-al-muslimoon-tazkiyaadabshahadat
    ڈاکٹر عبیداللہ فہد فلاحی
    اس میں بھلا کیا شک ہے کہ اس وقت امت مسلمہ پرزوال کا دور ہے۔ مسلمان ہر لحاظ سے ابتر کا شکار ہیں۔ ان کی سیاست میں انتشار، ان کی معاشرت میں بے راہ روی، ان کی معیشت میں تباہ حالی اسی طرح تزکیہ نفس اور اصلاح باطن کا شدید فقدان ہے۔ گویہ یہ زوال ہمہ جہتی ہے۔ اور یہ شروع بھی گزشتہ کچھ دہائیوں سے ہواہے۔ امت کی اس زبوں حالی کو دیکھ کر اسے سدھارنے کےلیے کئی ایک جماعتیں اٹھیں، ان میں سے کچھ دعوتی تھیں اور کچھ عسکری۔ ایسے ان جماعتوں میں سے سب سے اہم ترین جماعت اخوان المسلمین ہے جس نے احیائے امت کےلیے تقریباً ہمہ جہت کام کیا۔ بنیادی طور پر اخوان کامحاذ سیاسی تھا۔ اور گزشتہ صدی میں جو جماعتیں امت کےلیے ایک نمونے کی حیثیت سے سامنے آئی ہیں ان میں سے بھی اخوان کا شمار ہوتا ہے۔ مختصر بات یہ ہےکہ اخوان کانظم ونسق اور اس کے کارکنان کی تربیت واصلاح ایک مثال تھے۔ زیرنظرکتاب میں اس عظیم تحریک کے نظام اصلاح وتربیت کو سمجھانے کی یا اسےآگے پہنچانے کی کوشش کی گئی ہے۔ جس میں مصنف نے اس تحریک کے دعوتی اور تربیتی پہلو کو زیادہ اجاگر کرنے کی کوشش فرمائی ہے۔ (ع۔ح)

    نوٹ:
    محدث فورم میں اس کتاب پر تبصرہ کرنے کے لیے یہاں کلک کریں
  • nw-site
    محمد اسرار مدنی

    نبی کریمﷺ کی عظمت و توقیراہل ایمان کے ایمان کا بنیادی جزو ہے اور علمائے اسلام دورِ صحابہؓ سے لے کر آج تک اس بات پر متفق رہے ہیں کہ آپ ﷺ کی شانِ اقدس میں گستاخی کرنیوالا آخرت میں سخت عذاب کا سامنا کرنے کے علاوہ اس دنیا میں بھی گردن زدنی کے لائق ہے۔ نبی کریم ﷺ کی توہین کرنے والے کی سز ا قتل کے حوالے سے کتبِ احادیث اورتاریخ وسیرت میں بے شمار واقعات موجود ہیں ۔شاتم رسول دوسروں کے دلوں سے عظمت وتوقیر رسول ﷺ گھٹانے کی کوشش کرتا اور ان میں کفر و نفاق کے بیج بوتا ہے، اس لئے توہین ِرسول ﷺکو "تہذیب و شرافت" سے برداشت کرلینا اپنے ایمان سے ہاتھ دھونا اور دوسروں کے ایمان چھن جانے کا راستہ ہموار کرنے کے مترادف ہے۔ نیز ذات رسالت مآب ﷺچونکہ ہر زمانے کے مسلمان معاشرہ کا مرکزو محورہیں اس لئے جو زبان آپﷺ پر طعن کے لیے کھلتی ہے، اگر اسے کاٹانہ جائے اور جو قلم آپﷺ کی گستاخی کیلئے اٹھتا ہے اگر اسے توڑانہ جائے تو اسلامی معاشرہ فساد اعتقادی و عملی کا شکار ہوکر رہ جائیگا۔نبی کریم ﷺکو (نعوذباللہ) نازیبا الفاظ کہنے والا امام ابن تیمیہ رحمتہ اللہ کے الفاظ میں ساری امت کو گالی دینے والا ہے اور وہ ہمارے ایمان کی جڑ کو کاٹنے کی کوشش کرتا ہے۔ نبی اکرم ﷺ نے اپنے لئے نہیں بلکہ مسلمانوں کا ایمان اور غیرت بچانے کیلئے ہجو نگاروں کو گستاخیوں کی پاداش میں ان کا قتل روا رکھا۔ ۔اور اسی طرح مرتد کی سزابھی قتل ہے۔آنحضرتﷺ کے زمانے سے لے کر عہد حاضرتک تمام ائمہ مجتہدین اور علمائے شریعت اس پر متفق ہیں ۔زیر نظر کتاب میں میں فاضل مصنف نے نبی کریم ﷺ کے مقام ومرتبے کوبیان کرنے کے بعد نبیﷺ کی شان میں گستاخی کرنے والے کی سزا کے حوالے سے قرآن مجید ،احادیث نبویہ ،آثار صحابہ،اجماع امت، او ر فقہاء وعلماء اسلام کے فتاوی پیش کرکے ثابت کیا ہے کہ گستاخ رسول کی سزا موت ہے او ر جن گستاخانِ رسول کو سزا دی گئی ان واقعات کو تفصیل سے بیان کرتے ہوئے ثابت کیا ہے کہ گستاخ رسول اگر توبہ کر لے تو بھی سزا سے نہیں بچ سکے گا ۔ اس کے بعدکتاب کے دوسرے حصے میں قرآن وحدیث کی روشنی میں مرتد کی سزا کو پیش کرتے ہوئے ثابت کیا کہ مرتد کی سزا قتل ہے لیکن اگر اس جرم کامرتکب شخص خلوصِ دل سے سچی توبہ کرلیتا ہے تو اس کی سزائے موت ختم کی جاسکتی ہے اور اسے معاف کیا جاسکتا ہے اور تائب نہ ہونے والے مرتد اس دنیا میں سزائے موت او ر آخرت میں میں درد ناک عذاب او رغضب الٰہی کے مستحق ہونگے ۔توہین رسالت ا ورمرتد کے بارے میں شرعی نقطہ نظر جاننے کے لیے اس کتاب کا مطالعہ بہت مفید ہے۔(م۔ا)

     

    نوٹ:

    محدث فورم میں اس کتاب پر تبصرہ کرنے کے لیے یہاں کلک کریں

     

  • title-pages-arkaan-islam-o-imaan
    محمد بن جمیل زینو
    زیر نظر کتاب عالم عرب کے مشہور داعی او رعالم دین شیخ محمد بن جمیل زینو کی تحریر کردہ ہے۔مصنف فرقہ واریت کے زہر سے پاک ہیں اور ہر انسان کی بھلائی اور خیر خواہی کے جذبے سے سرشار ہیں۔انہوں نے صرف قرآن کریم اور احادیث رسول ہی کو پیش نظر رکھاہے اور اس دنیا میں دین کے مطابق کامیاب زندگی بسر کرنے کے تمام اصول و آداب وضاحب سے بیان کر دیے ہیں۔فاضل مؤلف نے قرآنی آیات اور نبوی فرامین کی روشنی میں ثابت کیا ہے کہ رب ذوالجلال کی وحدت،یکتائی،بڑائی اور کبریائی کے آگے سر جھکا دینا ہی انسان کی سب سے بڑی عزت اور کامیابی ہے۔انہوں نے تمام ارکان ایمان پر شرح و بسط سے روشنی ڈالی ہے ۔اس کے ساتھ ساتھ ارکان اسلام اور ان کے متعلقات کو بھی قرآن و حدیث کے دلائل سے واضح کیا ہے ۔ضرور ی عقائد و اعمال سے واقفیت کے لیے یہ کتاب انتہائی مفید ہے جو ہر گھر اور لائبریری میں موجود ہونی چاہیے ۔

  • title-pages-arkane-islam-aik-ajmali-jaiza
    ڈاکٹر حافظ محمد اسحاق زاہد
    حدیث جبریل میں اسلام اور ایمان کے ارکان الگ الگ بیان ہوئے ہیں جو اصل دین اور اسلام کے بنیادی اجزاء ہیں،دونوں ارکان کا چولی دامن کا ساتھ ہے کہ ایک یا دونوں کے انکار سے انسان دائرہ اسلام سے خارج ہو جاتا ہے۔اس جز میں اسلام کے وہ بنیادی ارکان کا بیان ہے۔جن کا جوارح سے تعلق ہے اور ان کا اہتمام ہر مسلمان پر لازم ہے۔اسلامی تعلیمات اور اسلام کے بنیادی اساس سے تعارف کے لحاظ سے یہ عقیدہ کی ابتدائی بہترین کتاب ہے ۔جس میں
    1-توحید کی اقسام
    2-ایمان بالرسول
    3-نما ز کی پابندی اور اس کے احکام
    4-زکوٰۃ کی ادائیگی اور اس کے بنیادی مسائل
    5-رمضان کے روزوں کی فرضیت اور اس کے احکام
    6-فرضیت حج اور اس کے احکام کا تفصیلی بیان ہے۔
    یہ کتاب عوام الناس کی اصلاح اور عقیدہ کی درستگی کے اعتبار سے جامع کتاب ہے ،اس کا مطالعہ قارئین کے ایمان میں رسوخ اور اضافہ کا باعث ہوگا۔(ف۔ر)

    نوٹ:
    محدث فورم میں اس کتاب پر تبصرہ کرنے کے لیے یہاں کلک کریں

  • title-pages-izalata-al-khuffa-un-khalafatu-al-khuffa
    شاہ ولی اللہ محدث دہلوی
    اسلام کاسیاسی نظام خلافت ہے اوراس  نظام کی  مثالی شکل خلافت راشدہ کے دور میں ہمیں نظرآتی ہے۔علمائے امت نے ہزاروں کتابیں لکھیں ہیں،جن سے  اس کی توضیح کی گئی ہے۔ازاں جملہ ان  کتابوں کے ایک کتاب شاہ ولی اللہ کی ہے۔اس کتاب میں بھی شاہ صاحب کا تبحر علمی اور قلمی روانی اپناایک اثردیکھاتی ہوئی نظرآتی ہے۔حضرت شاہ صاحب جہاں علوم نقلیہ وعقلیہ میں مہارت رکھتےتھےوہاں  وہ ایک صوفی بھی تھے۔چناچہ اس کتاب میں حضرت شاہ صاحب نے تینوں طرح کا استدلا ل فرمایا ہے ۔اس میں  مسلہ  خلافت کی توضیح ،خلفائے راشدین  کےفضائل ومناقب اور شیخین (ابوبکر وعمر رضی اللہ عنہم)کی افضلیت وبرتری ثابت کرنےکی کو شش فرمائی ہے۔یہ کتاب دوحصوں میں منقسم ہےپہلے حصےکانام مقصداول ہےاور دوسرے حصےکانام مقصددوم ہے۔مقصداول میں قرآنی آیات ،احادیث نبویہ اوردلائل عقلیہ کے ساتھ خلفائے راشدین کی خلافت کو برحق ہوناثابت کیاگیاہے۔اورمقصددوم میں خلفائےراشدین کےکارناموں کابیان ہے۔مولاناعبد الشکور نےاسے بڑی دیانت داری کےساتھ اردوقالب میں ڈھالنےکی کوشش کی ہےاللہ ان کی محنت کو شرف قبول عطافرمائے۔(ع۔ح)

    نوٹ:
    محدث فورم میں اس کتاب پر تبصرہ کرنے کے لیے یہاں کلک کریں
    مکمل جلدوں میں کتاب ڈاؤن لوڈ کرنے کے لیے یہاں کلک کریں
  • title-pages-izalata-al-khuffa-un-khalafatu-al-khuffa
    شاہ ولی اللہ محدث دہلوی
    اسلام کاسیاسی نظام خلافت ہے اوراس  نظام کی  مثالی شکل خلافت راشدہ کے دور میں ہمیں نظرآتی ہے۔علمائے امت نے ہزاروں کتابیں لکھیں ہیں،جن سے  اس کی توضیح کی گئی ہے۔ازاں جملہ ان  کتابوں کے ایک کتاب شاہ ولی اللہ کی ہے۔اس کتاب میں بھی شاہ صاحب کا تبحر علمی اور قلمی روانی اپناایک اثردیکھاتی ہوئی نظرآتی ہے۔حضرت شاہ صاحب جہاں علوم نقلیہ وعقلیہ میں مہارت رکھتےتھےوہاں  وہ ایک صوفی بھی تھے۔چناچہ اس کتاب میں حضرت شاہ صاحب نے تینوں طرح کا استدلا ل فرمایا ہے ۔اس میں  مسلہ  خلافت کی توضیح ،خلفائے راشدین  کےفضائل ومناقب اور شیخین (ابوبکر وعمر رضی اللہ عنہم)کی افضلیت وبرتری ثابت کرنےکی کو شش فرمائی ہے۔یہ کتاب دوحصوں میں منقسم ہےپہلے حصےکانام مقصداول ہےاور دوسرے حصےکانام مقصددوم ہے۔مقصداول میں قرآنی آیات ،احادیث نبویہ اوردلائل عقلیہ کے ساتھ خلفائے راشدین کی خلافت کو برحق ہوناثابت کیاگیاہے۔اورمقصددوم میں خلفائےراشدین کےکارناموں کابیان ہے۔مولاناعبد الشکور نےاسے بڑی دیانت داری کےساتھ اردوقالب میں ڈھالنےکی کوشش کی ہےاللہ ان کی محنت کو شرف قبول عطافرمائے۔(ع۔ح)

    نوٹ:
    محدث فورم میں اس کتاب پر تبصرہ کرنے کے لیے یہاں کلک کریں
    مکمل جلدوں میں کتاب ڈاؤن لوڈ کرنے کے لیے یہاں کلک کریں
  • title-pages-izalata-al-khuffa-un-khalafatu-al-khuffa
    شاہ ولی اللہ محدث دہلوی
    اسلام کاسیاسی نظام خلافت ہے اوراس  نظام کی  مثالی شکل خلافت راشدہ کے دور میں ہمیں نظرآتی ہے۔علمائے امت نے ہزاروں کتابیں لکھیں ہیں،جن سے  اس کی توضیح کی گئی ہے۔ازاں جملہ ان  کتابوں کے ایک کتاب شاہ ولی اللہ کی ہے۔اس کتاب میں بھی شاہ صاحب کا تبحر علمی اور قلمی روانی اپناایک اثردیکھاتی ہوئی نظرآتی ہے۔حضرت شاہ صاحب جہاں علوم نقلیہ وعقلیہ میں مہارت رکھتےتھےوہاں  وہ ایک صوفی بھی تھے۔چناچہ اس کتاب میں حضرت شاہ صاحب نے تینوں طرح کا استدلا ل فرمایا ہے ۔اس میں  مسلہ  خلافت کی توضیح ،خلفائے راشدین  کےفضائل ومناقب اور شیخین (ابوبکر وعمر رضی اللہ عنہم)کی افضلیت وبرتری ثابت کرنےکی کو شش فرمائی ہے۔یہ کتاب دوحصوں میں منقسم ہےپہلے حصےکانام مقصداول ہےاور دوسرے حصےکانام مقصددوم ہے۔مقصداول میں قرآنی آیات ،احادیث نبویہ اوردلائل عقلیہ کے ساتھ خلفائے راشدین کی خلافت کو برحق ہوناثابت کیاگیاہے۔اورمقصددوم میں خلفائےراشدین کےکارناموں کابیان ہے۔مولاناعبد الشکور نےاسے بڑی دیانت داری کےساتھ اردوقالب میں ڈھالنےکی کوشش کی ہےاللہ ان کی محنت کو شرف قبول عطافرمائے۔(ع۔ح)

    نوٹ:
    محدث فورم میں اس کتاب پر تبصرہ کرنے کے لیے یہاں کلک کریں
    مکمل جلدوں میں کتاب ڈاؤن لوڈ کرنے کے لیے یہاں کلک کریں
  • title-pages-izalata-al-khuffa-un-khalafatu-al-khuffa
    شاہ ولی اللہ محدث دہلوی
    اسلام کاسیاسی نظام خلافت ہے اوراس  نظام کی  مثالی شکل خلافت راشدہ کے دور میں ہمیں نظرآتی ہے۔علمائے امت نے ہزاروں کتابیں لکھیں ہیں،جن سے  اس کی توضیح کی گئی ہے۔ازاں جملہ ان  کتابوں کے ایک کتاب شاہ ولی اللہ کی ہے۔اس کتاب میں بھی شاہ صاحب کا تبحر علمی اور قلمی روانی اپناایک اثردیکھاتی ہوئی نظرآتی ہے۔حضرت شاہ صاحب جہاں علوم نقلیہ وعقلیہ میں مہارت رکھتےتھےوہاں  وہ ایک صوفی بھی تھے۔چناچہ اس کتاب میں حضرت شاہ صاحب نے تینوں طرح کا استدلا ل فرمایا ہے ۔اس میں  مسلہ  خلافت کی توضیح ،خلفائے راشدین  کےفضائل ومناقب اور شیخین (ابوبکر وعمر رضی اللہ عنہم)کی افضلیت وبرتری ثابت کرنےکی کو شش فرمائی ہے۔یہ کتاب دوحصوں میں منقسم ہےپہلے حصےکانام مقصداول ہےاور دوسرے حصےکانام مقصددوم ہے۔مقصداول میں قرآنی آیات ،احادیث نبویہ اوردلائل عقلیہ کے ساتھ خلفائے راشدین کی خلافت کو برحق ہوناثابت کیاگیاہے۔اورمقصددوم میں خلفائےراشدین کےکارناموں کابیان ہے۔مولاناعبد الشکور نےاسے بڑی دیانت داری کےساتھ اردوقالب میں ڈھالنےکی کوشش کی ہےاللہ ان کی محنت کو شرف قبول عطافرمائے۔(ع۔ح)

    نوٹ:
    محدث فورم میں اس کتاب پر تبصرہ کرنے کے لیے یہاں کلک کریں
    مکمل جلدوں میں کتاب ڈاؤن لوڈ کرنے کے لیے یہاں کلک کریں
  • title-pages-islam-aur-dehshat-ghardi-copy
    ڈاکٹر خالد علوی

    اسلام امن وسلامتی کا دین ہے ۔اسلام کے معنی  اطاعت اور امن وسلامتی کے  ہیں ۔یعنی  مسلمان جہاں اطاعت الٰہی کا نمونہ ہے  وہاں امن وسلامتی کا پیکر بھی  ہے ۔  اسلام فساد اور دہشت گردی کو مٹانے آیا ہے  ۔دنیا میں  اس وقت جو  فساد بپا ہے  اس کا علاج اسلام کے سوا کسی اور  نظریہ میں نہیں ۔ بد قسمتی سے  فسادیوں اور دہشت گردوں نے اسلام کو نشانہ بنایا ہے اور اس کے خلاف پروپیگنڈا شروع کر رکھا ہے  اس مہم کا جواب  ضروی  ہے  ۔یہ جواب فکر ی بھی ہونا چاہیے  اورعملی بھی۔زیر نظر کتاب ’’ اسلام اور دہشت گردی‘‘ محترم ڈاکٹر خالد علوی  کی  تصنیف ہے    جس میں انہوں نے  اختصار کے ساتھ  یہ ثابت کرنے کی  کوشش کی  ہےکہ اسلام امن ہے اور کفر فساد ودہشت گردی  ہے ۔اللہ تعالی عالم ِاسلام  اور مسلمانوں کو  کفار کی سازشوں اور فتنوں سے  محفوظ فرمائے (آمین)(م۔ا)

  • title-pages-islam-aur-musalmanon-k-khilaf-yourapi-sazashain
    علامہ جلال العالم
    زیر نظر کتاب میں فاضل مولف محمد طاہر نقاش نے امت مسلمہ کو جھنجھوڑنے اور ہوش میں لانے کے لیے دور جدید میں اسلام اور مسلمانوں کے خلاف یہود و نصاریٰ کی طرف سے برپا کی جانے والی سازشیں منظر عام پر لائی گئی ہیں۔ ان سازشوں کی تفصیلات پڑھ کر انسان کے رونگٹے کھڑے ہو جاتے ہیں اور موجودہ رونما ہونے والی زمینی و جغرافیائی اور فکری تبدیلیوں کی وجہ سمجھ میں آتی ہے۔ آج بھی عالم کفر عالم اسلام کو تباہ و برباد کرنے پر تلا ہوا ہے۔ اس نے عالم عرب کے متعلق، فلسطین اور پھر پاکستان کے خلاف کیا کیا سازشیں کیں اور کر رہا ہے۔ اسی طرح اس نے ترکی سے خلافت ختم کر کے مسلمانوں کے شیرازہ کو بکھیرنے کے لیے کیا کیا سازشوں کے جال بنے۔ اور اس طرح کے کئی موضوعات جو اسلام اور مسلمانوں سے تعلق رکھتے ہیں، اور مسلمانوں  کے خلاف عالم کفر کی بپا ہونے والی سازشوں سے آگاہی کے لیے یہ کتاب لکھی ہے۔ کتاب میں اس قدر سنسنی خیز معلومات ہیں کہ پڑھنے والے حیرت کے سمندر میں ڈوب جائیں گے۔ماضی قریب میں ان سازشوں کی ایک جھلک اس کتاب میں دکھائی گئی ہے تاکہ قارئین موجودہ حالات کے پس منظر میں عالم کفر کا اصل چہرہ اور عزائم ملاحظہ کر سکیں۔(ع۔م)

    نوٹ:
    محدث فورم میں اس کتاب پر تبصرہ کرنے کے لیے یہاں کلک کریں
  • title-pages-islam-aur-maghrib-copy
    سعید الرحمان اعظمی ندوی

    انسانی فکر میں اختلاف اور طرز فکر میں تنوع کا ہونا ایک فطری بات ہے بلکہ کسی بھی معاشرے کی نشوونما اور ارتقاءکی بہت بڑی ضرورت ہے۔ جب کوئی قوم اس دنیا کے لئے مثبت رول ادا کرنے کے قابل ہوتی ہے تو یہی فکری تنوع اس معاشرے کا ایک اثاثہ ہوتا ہے۔لیکن جب یہی قوم اس عالم کے لئے ایک بوجھ بن جاتی ہے تو پھر یہی فکری تنوع ایسا اختلاف اختیار کرلیتا ہے کہ ان کا اپنا اثاثہ ان پر بوجھ بن جاتا ہے۔مغربی تہذیب جسے مسیحی بنیاد پرستی کا نام دیا جانا ،زیادہ صحیح ہوگا،قرون وسطی کی صلیبی جنگوں بلکہ اس سے بھی قبل اسلام اور عالم اسلام کے خلاف محاذ آراء رہی ہے۔جس نے تاریخ کے مختلف ادوار میں مختلف روپ دھارے ہیں۔البتہ یہ ایک مسلمہ حقیقت ہے کہ مغربی تہذیب ہو یا مسیحی بنیاد پرستی ،اسلام اور اسلامی اقدار ان کا بنیادی ہدف رہے ہیں۔بنیاد پرستی عصر حاضر کا ایک سلگتا ہوا موضوع ہے،جس کی سرحدوں کا تعین کرنا ایک مشکل امر ہے۔ایک طبقہ کے لئے ایک رویہ اگر بنیاد پرستی ہوتا ہے تو دوسرے طبقہ کے لئے وہی رویہ جائز اور عین درست ہوتا ہے۔جبکہ ایک طبقہ ایسا بھی پایا جاتا ہے جوبنیاد پرستی کو کسی روئیے کے طور پر تسلیم ہی نہیں کرتا ہے۔ زیر تبصرہ کتاب " اسلام اور مغرب "محترم مولانا سعید الرحمن اعظمی ندوی صاحب کی تصنیف ہے، جس میں وہ اسلام اور مغربی تہذیب،اسلام ایک سماجی عامل،مغرب کے خدشات،اسلام اہل مغرب کی نظر میں ،مغربی تہذیب کے مادی روئیے،مغرب اور قوم پرستی،اور انسانی حقوق کا مسئلہ جیسے اہم موضوعات زیر بحث لائے ہیں۔اللہ ان کی اس کاوش کو قبول فرمائے اور ان کے میزان حسنات میں اضافہ فرمائے۔آمین(راسخ)

  • title-pages-islam-main-tehqeeq-k-usool-o-mubadi-copy
    ڈاکٹر طفیل ہاشمی

    علم  حدیث اسلامی علوم میں شہ رگ کی حیثیت رکھتا ہے ۔آیات کے شانِ نزول اوران کی تفسیر ،احکام القرآن کی تشریح وتبین ،اجمال کی تفصیل ،عموم کی تخصیص ،مبہم کی تبین سب علم  حدیث کے  ذریعہ  معلوم ہوتی  ہیں ۔اسی طرح حامل ِقرآن حضر ت  محمد ﷺ کی سیرت اور حیات ِطیبہ اخلاق وعادات مبارکہ آپﷺ کے اقوال واعمال علم حدیث کے  ذریعہ  ہم تک پہنچے  ہیں ۔علمائے اسلام  نے  علم حدیث کی حفاظت ،جمع وتدوین، اور تحقیق وتدقیق کے سلسلہ میں  قابل قدر کاوشیں سر انجام دی ہیں۔احادیث کی چھان بین کے لیے  انہوں  نے  جرج وتعدیل کے اصول  وضع کیے ہیں جن کی بدولت اسماء الرجال  کا مستقل فن معرض وجود میں  آیا اور کم وبیش چھ صدیوں تک جرح وتعدیل اور  فن اسماء الرجال بر  پر کتابیں لکھی جاتی  رہیں ۔ایک  جرمن مستشرق ڈاکٹر سپرنگر کے بقول  علم اسماء الرجال کی وساطت سے مسلمانوں نے  کم ازکم پانچ لاکھ راویوں کی حالات محفوظ کیے ہیں  جن کا مقصد صرف ایک ذاتِ مقدس کے حالات کو معلوم اور محفوظ کرنا تھا۔ زیر کتاب ’’ اسلام میں  تحقیق کے اصو ل ومبادی کو ڈ نمبر712 ‘‘ ڈاکٹر طفیل ہاشمی  کی  تصنیف ہے ۔ جوکہ علامہ اقبال اوپن یونیورسٹی کے  ایم فل پروگرام میں  شامل نصاب ہے ۔ یہ کتاب  اسلام میں تحقیق کے دو اصول روایت  اور درایت پر مشتمل ہے ۔اس کتاب کے مطالعہ سے   طلبہ روایت ودرایت کے میں خاصی معلوما ت حاصل کرسکتے ہیں ۔(م۔ا)

    نوٹ:

    محدث فورم میں اس کتاب پر تبصرہ کرنے کے لیے یہاں کلک کریں

  • title-pages-islam-men-haiwanaat-k-ahkam-copy
    پروفیسر محمد یوسف خان
    اسلام کی امتیازی خصوصیات میں سے ایک اہم ترین خصوصیت یہ ہے کہ اس میں ان تمام امورومعاملات سے متعلق ہدایات دی گئی ہیں جو زندگی میں پیش آسکتے ہیں جانوروں کے بارے میں بھی کتاب وسنت میں بہت سی ہدایات ملتی ہیں حیوانات بھی خدا کی مخلوق ہیں ان کے ساتھ ایک انسان کابرتاؤ کیا ہونا چاہیے اور ان سے انتفاع واستفادہ کی حدود کیا ہیں یہ ایک اہم سوال ہے زیر نظر کتاب میں اس کا شافی جواب دیا گیا ہے نیز حیوانات کے بارے میں قرآن وسنت اور علوم جدیدہ کی روشنی میں بہت سی دلچسپ معلومات دی گئی  ہیں جو لائق مطالعہ ہیں-فقہی مسائل کے ضمن میں مصنف نے فقہ حنفی کی ترجمانی کی ہےَ، لہٰذا اس حوالے سے قرآن وحدیث کا حکم معلوم کرنے کے لئے ان علما سے رجوع کرنا چاہیے جو تقلید کے بہ جائے براہ راست کتاب و سنت اور سلف صالحین سے استفادہ کے منہج پر گامزن ہوں۔البتہ عمومی طور پر معلومات کے لئے اس کتاب کا مطالعہ مفید ہے۔(ط۔ا)
  • pages-from-islam-mein-mashwarah-ki-ahmiyyat
    حبیب الرحمٰن عثمانی

    اسلام نے ہمیں زندگی کے تمام شعبوں کے بارے میں راہنمائی فراہم کی ہے۔عبادات ہوں یا معاملات،تجارت ہو یا سیاست،عدالت ہو یا قیادت ، طب ہو یا انجینئرنگ ،اسلام نے ان تمام امور کے بارے میں مکمل تعلیمات فراہم کی ہیں۔اسلام کی یہی عالمگیریت اور روشن تعلیمات ہیں کہ جن کے سبب اسلام دنیا میں اس تیزی سے پھیلا کہ دنیا کی دوسرا کوئی بھی مذہب اس کا مقابلہ نہیں کر سکتا ہے۔اسلامی تعلیمات نہ صرف آخرت کی میں چین وسکون کی راہیں کھولتی ہیں ،بلکہ اس دنیوی زندگی میں اطمینان ،سکون اور ترقی کی ضامن ہیں۔اسلام کی اس بے پناہ مقبولیت کا ایک سبب مساوات ہے ،جس سے صدیوں سے درماندہ لوگوں کو نئی زندگی ملی اور وہ مظلوم طبقہ جو ظالموں کے رحم وکرم پر تھا اسے اسلام کے دامن محبت میں پناہ ملی۔اسلام مسلمانوں کو تمام معاملات میں مشورہ کرنے کا حکم دیتا ہے تاکہ بعد میں پشیمانی اور ندامت کا سامنا نہ کرنا پڑے۔مشورے کی اہمیت کا اندازہ اس بات سے لگایا جاسکتا ہے کہ قرآن کریم میں "شوریٰ" نام کی ایک سورت ہے۔ اور نبی اکرم ﷺ کو صحابہ کرام ؓ کے ساتھ مشورہ کرنے کا حکم دیا گیا ۔ ارشاد ربانی ہے " وَشَاوِرْھُمْ فِي الْاَمْرِ ۚ فَاِذَا عَزَمْتَ فَتَوَكَّلْ عَلَي اللّٰهِ ۭ اِنَّ اللّٰهَ يُحِبُّ الْمُتَوَكِّلِيْنَ(آل عمران ) اور شریک مشورہ رکھو ان کو ایسے (اہم اور اجتماعی) کاموں میں، پھر جب آپ (کسی معاملے میں) پختہ ارادہ کر لو تو اللہ پر بھروسہ کر(کے اس میں لگ )جاؤ ،بے شک اللہ محبت رکھتا (اور پسند فرماتا)ہے ایسے بھروسہ کرنے والوں کو۔"اور اسی طرح مومنین کے بارے میں ارشاد فرمایا "وَاَمْرُهُمْ شُوْرٰى بَيْنَهُمْ "اور جو اپنے (اہم) معاملات باہمی مشورے سے چلاتے ہیں۔ زیر تبصرہ کتاب " اسلام میں مشورہ کی اھمیت " محترم مولانا حبیب الرحمن عثمانی مہتمم دار العلوم دیو بند اور محترم مولانا مفتی محمد شفیع پاکستان صاحبان کی مشترکہ کاوش ہے۔جس میں انہوں نے اسلام میں مشورہ کرنے کی اہمیت وضرورت پر ورشنی ڈالی ہے۔ اللہ تعالی سے دعا ہے کہ وہ ان کی اس کاوش کو قبول فرمائے اور ان کے میزان حسنات میں اضافہ فرمائے۔آمین(راسخ)

  • pages-from-islam-ka-tasawar-e-azadi
    صفدر زبیر ندوی

    انسان کی زندگی دکھ سکھ، غمی و خوشی، بیماری و صحت، نفع و نقصان اور آزادی و پابندی سے مرکب ہے۔ اس لیے شریعت نے صبر اور شکر دونوں کو لازمی قرار دیا ہے تاکہ بندہ ہر حال میں اپنے خالق کی طرف رجوع کرے۔ دکھ ، غمی، بیماری، نقصان اور محکومیت پر صبر کا حکم ہے اور ساتھ ساتھ ان کو دور کرنے کے اسباب اختیار کرنے کا بھی حکم ہے جبکہ سکھ ، خوشی، صحت، نفع اور آزادی پر شکر کرنے کا حکم ہے اور ساتھ ساتھ ان کی قدردانی کا بھی حکم دیا گیا ہے۔ اگر دونوں طرح کے حالات کو شریعت کے مزاج اور منشاء کے مطابق گزارا جائے تو باعث اجر وثواب ورنہ وبال جان۔لیکن ہمارا المیہ یہ ہے کہ ہم دونوں حالتوں میں خدائی احکام کو پس پشت ڈالتے ہیں۔ مشکل حالات پر صبر کے بجائے ہائے ہائے، مایوسی و ناامیدی اور واویلا کرتے ہیں جبکہ خوشی کے لمحات میں حدود شریعت کو یکسر پامال کردیتے ہیں۔ اس کی بے شمار مثالیں ہمارے سامنے ہیں۔ آپ نے اکثر دیکھا ہو گا کہ جب کسی گھر میں کوئی فوتگی ہو جاتی ہے تو لوگوں کی زبانیں تقدیر خداوندی پر چل پڑتی ہیں اور مرنے والے کو کہہ رہے ہوتے ہیں کہ "ابھی تو تیرا وقت بھی نہیں آیا تھا" وغیرہ وغیرہ۔ آزادی کے مد مقابل یوں تو غلامی کا لفظ آتا ہے اور غلامی کا مفہوم عام طور پر یہی سمجھا جاتا ہے کہ کوئی انسان یا گروہ، قوم یا نسل کسی دوسرے انسان، گروہ، قوم یا نسل کے ہاتھوں غلام بنا دی جائے۔دنیا بھر میں مختلف ممالک سال میں اپنے وطن کے لیے ایک دن ایسا مقرر کرتے ہیں کہ جس میں ان کے عوام اور حکومت وطن کی کی آزادی کا دن مناتے ہوئے ملک کی تعظیم کرتے ہیں۔ اس دن کو ''وطن کا دن ''یا یوم آزادی کہا جاتا ہے۔ یہ دن ہر سال منایا جاتا ہے۔ جوکہ شریعت اسلامیہ کی تعلیمات کےخلاف ہے۔ زیر نظر کتاب ’’اسلام کا تصور آزادی‘‘ اسلامک فقہ اکیڈمی، انڈیا کی جانب سے اکتوبر 2012ء میں اسلام کا تصور آزادی جیسے اہم موضوع پر منعقد کیے گئے سیمنیار میں پیش کیے گیے مقالات کا مجموعہ ہے۔ اس سیمینار میں علماء اور دینی جامعات کے فضلاء کے دوش وبہ دوش دانشوروں اور عصری جامعات کے فارغین نے بھی شرکت کی اور بیش قیمت مقالات پیش کیے۔ سکالرز نے موضوع کے مختلف پہلوؤں پر کھل کر اظہار رائے کیا اور موضوع سے متعلق مختلف گوشوں پر روشنی ڈالی۔ توڈاکٹر صفدر زبیر ندوی نے ان قیمتی مقالات کو بڑی خوش اسلوبی سے کتابی صورت میں مرتب کیا اور اسلامک فقہ اکیڈمی، انڈیا نے اسے افادۂ عام کے لیے حسنِ طباعت سے آراستہ کیا۔ (م۔ا)

  • pages-from-islam-ka-tasawwar-e-nabuwwat
    حکیم محمود احمد ظفر

    اسلامی تعلیم کے مطابق نبوت ورسالت کا سلسلہ حضرت آدم﷤ سے شروع ہوا اور سید الانبیاء خاتم المرسلین حضرت محمدﷺ پر ختم ہوا۔ اس کے بعد جوبھی نبوت کادعویٰ کرے گا وہ دائرۂ اسلام سے خارج ہے۔ نبوت کسبی نہیں وہبی ہے یعنی اللہ تعالیٰ نے جس کو چاہا نبوت ورسالت سے نوازاکوئی شخص چاہے وہ کتنا ہی عبادت گزارمتقی اور پرہیزگار کیوں نہ وہ نبی نہیں بن سکتا ۔اور اسلام کی اساس دوشہاتوں پر ہے ایک لاالہ الا اللہ اور دوسری رسول اللہ۔ یہ دونوں گواہیاں جنت کی چابی اور ہر خیر وبھلائی کا دروازہ ہیں۔ یہ شہادتیں وہ روشن ضابطہ حیات ہیں جو مسلمان اپنے رب کے لیے اختیار کرتا ہے ۔ یہ وہ افضل ترین چیز ہے جسے وہ جہان والوں کے سامنے پیش کرتا ہے۔ارشاد نبوی ہے: «أَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللهُ، وَأَنِّي رَسُولُ اللهِ، لَا يَلْقَى اللهَ بِهِمَا عَبْدٌ غَيْرَ شَاكٍّ فِيهِمَا، إِلَّا دَخَلَ الْجَنَّةَ» (صحیح مسلم :27) میں شہادت دیتا ہوں کہ اللہ کے سوا کوئی الہ نہیں اورمیں (محمد) اللہ کا رسول ہوں۔ جوشخص بھی ان دو شہادتوں کے ساتھ اس حالت میں اللہ سےملاقات کرے کہ اس نے ان میں شک نہ کیا ہوتو وہ جنت میں داخل ہوگا‘‘۔ یعنی جو شہادتین پر شک وشبے کے بغیر ایمان رکھے گا وہ جنت میں داخل ہوجائے گا۔ زیر تبصرہ کتاب ’’اسلام کا تصورنبوت‘‘ حکیم محمود احمد ظفر کی تصنیف ہے موصوف نے اس کتاب میں کئی نامور محدثین، متکلمین، فلاسفہ اور محققین کی کتب سے استفادہ کر کے نبوت کے بارہ میں پیچیدہ اور دقیق مسائل کو اس قد ر آسان زبان اور عام فہم انداز میں پیش کیا ہے کہ ایک کم تعلیم یافتہ آدمی بھی اسے بخوبی استفادہ کرسکتا ہے۔ (م۔ا)

  • title-pages-islam-ka-qanoon-e-shahadat-copy
    سید محمد متین ہاشمی

    قرآن مجید میں قانون شہادت پر  ابدی اور عالمگیر کلیات واصول بیان ہوئے ہیں اور سنت رسول اللہ ﷺ کا جو مبارک اور قیمتی ذخیرہ کتب احادیث کی صورت میں موجود ہے اس میں اس قانون کی مزید تشریح ،تفسیر اور عملی صورت اور حالات وواقعات کے مزید مسائل کے حل کرنے کا کافی وشافی اور مستند مواد موجود ہے۔اس کے بعد اقوال واعمال صحابہ کرام ،تابعین عظام آئمہ مجتہدین اور فقہائے ممالک اسلامیہ واسلامی عدالتوں کے فیصلے بڑی اہمیت رکھتے ہیں۔ان کی روشنی میں اجتہاد کی مزید راہیں کھلتی رہتی ہیں۔اسی طرح علماء کرام نے  بے شمار تصانیف وتالیفات  کے ذریعے بے شمار فتاوی اور احکام کی کتب تدوین کی ہیں جن میں قانون شہادت کو سائنٹیفک ،اور جدید خطوط میں پیش کرنے کی کامیاب کوشش کی ہے۔شہادت کے موضوع پر جو سرمایہ اسلام کے دامن میں موجود ہے ۔اس کے مقابلے میں دنیا کے تمام دیگر ممالک کا کل سرمایہ بلا مبالغہ عشر عشیر کی حیثیت نہیں رکھتا۔بد قسمتی کی بات یہ ہے کہ اسلام کا بیشتر سرمایہ عربی،فارسی اور ترکی زبان میں ہے،جو معروف اسلامی کتب خانوں میں موجود ہے۔اسی کمی کو دور کرنے کے لئے یہ کتاب" اسلام کا قانون شہادت " لکھی گی ہے۔جو دیال سنگھ ٹرسٹ لائبریری لاہور کے ریسرچ ایڈ وائزر مولانا  سید محمد متین ہاشمی صاحب کی تصنیف ہے اور  ان کی علم دوستی اور خدمت اسلام کا منہ بولتا ثبوت ہے۔آپ نے اس کتاب میں اسلام کا قانون شہادت کے حصہ فوجداری کو ٹچ کیا ہے۔اور اس سلسلہ میں معروف اسلامی مصادر سے استفادہ کیا ہے۔آپ جہاں مناسب محسوس کرتے ہیں وہاں اپنے رائے کا بھی اظہار فرماتے ہیں۔یہ کتاب قانون کے طلباء کے لئے انتہائی مفید اور  ایک شاندار تحفہ ہے۔اللہ تعالی سے دعا ہے کہ وہ مولف موصوف کی اس کاوش کو قبول فرمائے اوران کے میزان حسنات میں اضافہ فرمائے۔آمین(راسخ)

  • islam-ka-nizam-e-akhlaq-o-adab
    ابو حمزہ عبد الخالق صدیقی
    اسلام ادب وآداب اور اخلاق و حقوق کا سب سے بڑا داعی ہے اس سلسلہ میں نبی کریمﷺ کی زندگی اچھے اخلاق کا سب سے بڑا نمونہ نظر آتی ہے۔ بڑوں کےساتھ عزت سے پیش آنا چھوٹوں کے ساتھ مشفقانہ برتاؤ آپﷺکی زندگی کا خاصہ تھا۔ اللہ تعالیٰ کو ہر انسان سے اس قسم کا رویہ مطلوب ہے۔ ابوحمزہ عبدالخالق مستقل مزاجی کے ساتھ بہت سے موضوعات پر تحقیقی کام سامنے لا رہے ہیں۔ ’اسلام کا نظام اخلاق وادب‘ کے نام سے بھی موصوف کا اہم علمی کام سامنےآیاہے۔ کتاب کو انھوں نے تین حصوں میں تقسیم کیا ہے پہلے حصے میں آداب پر عمومی گفتگو کی گئی ہے دوسرا حصہ اچھے اخلاق پر مشتمل ہے جس میں تزکیہ نفس، شرم و حیا، پردہ پوشی اور سچ بولنا جیسے موضوعات شامل ہیں جبکہ تیسرا حصہ برے اخلاق کے عنوان سے ہے جس میں غیبت، چغلی، حسد، بغض اور بدگمانی جیسے موضاعت شامل اشاعت ہیں۔ کوئی بھی بات بلا حوالہ نقل نہیں کی گئی۔ (عین۔ م)

    نوٹ:
    محدث فورم میں اس کتاب پر تبصرہ کرنے کے لیے یہاں کلک کریں

  • title-pages-islam-ka-nizame-aman-w-salamti-copy
    ابو حمزہ عبد الخالق صدیقی

    اس دنیا میں انسانوں کے مختلف طبقات میں چھوٹے سے لیکر بڑے تک ،بچے سے لیکر بوڑھے تک،ان پڑھ جاہل سے لیکر ایک ماہر عالم اور بڑے سے بڑے فلاسفر تک،ہر شخص کی جد وجہد  اور محنت وکوشش میں اگر غور سے کام لیا جائے تو ثابت ہو گا کہ اگرچہ محنت اور کوشش کی راہیں  مختلف ہیں مگر آخری مقصد سب کا قدرے مشترک ایک ہی ہے ،اور وہ ہے امن وسکون کی زندگی۔نبی کریم ﷺاسی امن وسلامتی کا علم بردارمذہب لے کر آئے۔ اسلام ایک امن وسلامتی والا مذہب ہے ،جو نہ صرف انسانوں بلکہ حیوانوں کے ساتھ بھی نرمی کرنے کی ترغیب دیتا ہے۔ اس عظیم دین کا حسن دیکھئے کہ اسلام ’’سلامتی‘‘ اور ایمان ’’امن‘‘ سے عبارت ہے اور اس کا نام ہی ہمیں امن و سلامتی اور احترام انسانیت کا درس دینے کیلئے واضح اشارہ ہے۔نبی کریم ﷺ کی حیاتِ طیبہ ، صبر و برداشت، عفو و درگزر اور رواداری سے عبارت ہے۔اسلام  کی بدولت ایک ایسا معاشرہ تشکیل پایا جو تاریخ انسانی کا سب سے زیادہ باکمال اور شرف سے بھرپور معاشرہ تھا اور اس معاشرے کے مسائل کا ایسا خوشگوار حل نکالا کہ انسانیت نے ایک طویل عرصے تک زمانے کی چکی میں پس کر اور اتھاہ  تاریکیوں میں ہاتھ پاؤں مار کر تھک جانے کے بعد پہلی بار چین کا سانس لیا۔نبی کریم ﷺ نے انسانیت کی بقاء کے لئے سب سے پہلے جان،مال،عزت،خاندان کے تحفظ کا حق اور اجتماعی طور پر پورے انسانی معاشروں کے تحفظ کے حقوق کا نہ صرف رسمی اعلان کیا بلکہ یقینی طور پر  اس کے عملی نفاذ کی ضمانت فراہم کرکے جبر واستبداد اور استحصال طرز زندگی کا ناطقہ بند کر دیا۔ زیر تبصرہ کتاب" اسلام کا نظام امن وسلامتی" محترم ابو حمزہ عبد الخالق صدیقی صاحب کی تصنیف ہے،جس میں انہوں نے  اسلام کے اسی وصف  اور امتیاز کو بڑے احسن انداز میں پیش کیا ہے۔اللہ  تعالی ان کی اس خدمت کو اپنی بارگاہ میں قبول فرمائے اور ان کے میزان حسنات میں اضافہ فرمائے۔آمین(راسخ)

  • pages-from-islam-ka-nazriah-e-mehnat
    خلیل الرحمان

    یکم مئی کو ہر سال دنیا بھر کے لاکھوں کروڑوں مزدور محنت کش 1886ء میں شکاگو میں شہید ہونے والے مزدوروں کو ان کی عظیم جدوجہد اورقربانی دینے کیلئے خراج عقیدت پیش کرتے ہیں ۔یہ دن دنیا بھر کے مزدوروں کے اتحاد اور یکجہتی کا دن ہے۔ اسلام ایک مکمل ضابطہ حیات اور دستور زندگی ہے۔اسلام نے ہمیں زندگی کے تمام شعبوں کے بارے میں راہنمائی فراہم کی ہے۔عبادات ہوں یا معاملات،تجارت ہو یا سیاست،عدالت ہو یا قیادت، طب ہو یا انجینئرنگ، اسلام نے ان تمام امور کے بارے میں مکمل تعلیمات فراہم کی ہیں۔اسلام کی یہی عالمگیریت اور روشن تعلیمات ہیں کہ جن کے سبب اسلام دنیا میں اس تیزی سے پھیلا کہ دنیا کی دوسرا کوئی بھی مذہب اس کا مقابلہ نہیں کر سکتا ہے۔اسلامی تعلیمات نہ صرف آخرت کی میں چین وسکون کی راہیں کھولتی ہیں، بلکہ اس دنیوی زندگی میں اطمینان ،سکون اور ترقی کی ضامن ہیں۔اسلام کی اس بے پناہ مقبولیت کا ایک سبب مساوات ہے ،جس سے صدیوں سے درماندہ لوگوں کو نئی زندگی ملی اور وہ مظلوم طبقہ جو ظالموں کے رحم وکرم پر تھا اسے اسلام کے دامن محبت میں پناہ ملی۔اﷲ تعالیٰ نے محنت کی عظمت اور مزدوروں کے حقوق بیان فرمائے اور اس کے آخری رسول ﷺ ان احکامات خداوندی پر مکمل عمل پیرا ہوئے اور محنت کشوں کے حقوق خود ادا فرمائے اور پوری امت کو ان پر عمل کرنے کی تلقین فرمائی۔ اﷲ کے حبیب ﷺ نے محنت کشوں کو اﷲ کے دوست کا اعزاز عنایت فرمایا ہے۔ آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا۔’’مزدور کو پسینہ خشک ہونے سے پہلے مزدوری دے دو‘‘ (ابن ماجہ) زیر تبصرہ کتاب " اسلام کا نظریہ محنت "محترم خلیل الرحمن صاحب چیئرمین آل پاکستان فیڈریشن آف لیبر کی تصنیف ہے، جس میں انہوں نے اسلام میں پائے جانے والے مزدوروں کے حقوق اور محنت کی عظمت کو بیان کیا ہے۔ اللہ تعالی سے دعا ہے کہ وہ ان کی اس کاوش کو قبول فرمائے اور ان کے میزان حسنات میں اضافہ فرمائے۔ آمین (راسخ)

  • title-pages-islami-usool-e-tehqiq-copy
    پروفیسر ڈاکٹر محمد باقر خان خاکوانی

    تحقیق ایک اہم علمی فریضہ ہے۔ تحقیق کے ذریعے ہم نامعلوم کا علم حاصل کرتے ہیں۔ غیر محسوس کو محسوس بناتے ہیں۔ جو باتیں پردۂ غیب میں ہوتی ہیں، انہیں منصۂ شہود پر لاتے ہیں تا کہ کسی امر میں یقینی علم ہم کو حاصل ہو، اور اس کی بنیاد پر مزید تحقیق جاری رکھی جا سکے۔تحقیق ایک مسلسل عمل ہے۔مزید واقعاتی حقائق کا جائزہ لینے اور ان کے اثرات معلوم کرنے کا نام بھی تحقیق ہے ۔ تحقیق کے عربی لفظ کا مفہوم حق کو ثابت کرنا یا حق کی طرف پھیرنا ہے۔تحقیق کے لغوی معنیٰ کسی شئے کی حقیقت کا اثبات ہے۔ ’’تحقیق کے لیے انگریزی میں استعمال ہونے والا لفظ ریسرچ ہے…اس کے ایک معنیٰ توجہ سے تلاش کرنے کے ہیں، دوسرے معنیٰ دوبارہ تلاش کرنا ہے۔دور حاضر میں اصول تحقیق ایک فن سے ترقی کرتاہوا باقاعدہ ایک علم بلکہ ایک اہم علم کی صورت اختیار کرچکا ہے ۔ عالمِ اسلام کی تمام یونیورسٹیوں ، علمی اداروں ، مدارس اور کلیات میں تمام علوم پر تحقیق زور شور سے جاری ہے ۔ یہی وجہ ہے کہ اصول تحقیق کا مادہ تمام عالمِ اسلام کی یونیورسٹیوں میں عموماً ا ور برصغیر کی جامعات اور متعدد اداروں میں خصوصاً نصاب کے طور پر پڑھایا جاتا ہے ۔ان تمام اداروں میں بھی جہاں گریجویٹ اوراس کے بعد کی کلاسوں میں مقالہ لکھوایا جاتا ہے یا ایم فل وڈاکٹریٹ کی باقاعدہ کلاسیں ہوتی ہیں وہاں تحقیق نگاری یا اصول تحقیق کی بھی باقاعدہ تدریس ہوتی ہے ۔ اس طرح اصول تحقیق ، تحقیق نگاری، فن تحقیق یا تحقیق کا علم جامعات اورمزید علمی اداروں میں بہت زیادہ اہمیت حاصل کرچکا ہے۔تحقیق واصول تحقیق پر متعدد کتب موجود ہیں ۔ زیر تبصرہ کتاب’’ اسلامی اصول تحقیق‘‘علامہ اقبال اوپن یونیورسٹی شعبہ عربی وعلوم اسلامیہ کے ڈین جناب پروفیسر ڈاکٹر محمد باقر خان خاکوانی کی تصنیف ہے ۔فاضل مصنف نے اس کی ابواب بندی کو اپنے ذاتی تجربات کی روشنی میں ترتیب دیتے ہوئے اس کتاب میں اسلامی تحقیق کے مختلف نظریاتی پہلو بیان کرنے کے بعد دورِ حاضر میں برصغیر کے طلبہ کے لیے تحقیقی مقالہ تحریر کرنے کے متعدد تحقیقی مراحل کے اہم حصوں کے بارے میں مختصر مگر جامع ہدایات پیش کی ہیں ۔اس کتاب میں پوری طرح کوشش کی گئی کہ الفاظ کی سادگی کےساتھ ایسا آسان طرز تحریر اختیار کیا جائے کہ عام طالب علم بھی آسانی سے اس سے استفادہ کرسکے ۔(م۔ا)

  • title-pages-islami-tasawuf-me-ghair-islami-nazriyat-ki-amazish-copy
    پروفیسر یوسف سلیم چشتی

    تصوف کا لفظ اس طریقۂ کار یا اسلوبِ عمل کے لیے اختیار کیا جاتا ہے جس پر کوئی صوفی عمل پیرا ہو۔ اسلام سے قربت رکھنے والے صوفی، لفظ تصوف کی تعریف یوں کرتے ہیں کہ : تصوف کو قرآنی اصطلاح میں تزکیۂ نفس اور حدیث کی اصطلاح میں احسان کہتے ہیں۔ تصوف کی اس مذکوہ بالا تعریف بیان کرنے والے افراد تصوف کو قرآن و سنت کے عین مطابق قرار دیتے ہیں۔ اور ابتدائی ایام میں متعدد فقہی علماء کرام بھی یہی مراد مراد لیتے رہے۔ پھر بعد میں تصوف میں ایسے افکار ظاہر ہونا شروع ہوئے کہ جن پر شریعت و فقہ پر قائم علماء نے نہ صرف یہ کہ ناپسندیدگی کا اظہار کیا بلکہ ان کو رد بھی کیا۔امام ابن تیمیہ اور امام ابن قیم ﷭ اوران کےبعد جید علمائے امت نے اپنی پوری قوت کے ساتھ غیراسلامی تصوف کےخلاف علم جہاد بلند کیا اورمسلمانوں کواس کےمفاسد سے آگاہ کر کے اپنا فرضِ منصبی انجام دیا۔ شاعر مشرق علامہ اقبال نےبھی اپنے اردو فارسی کلام میں جگہ جگہ غیر اسلامی تصوف کی مذمت کی ہے ۔ زیر تبصرہ کتاب’’اسلامی تصوف میں غیر اسلامی نظریات کی آمیزش‘‘ پروفیسر یوسف سلیم چشتی﷫ کی کتاب ’’تاریخ تصوف‘‘ کا ایک باب ہے ۔اس کی اہمیت کے پیش نظر جناب ڈاکٹر اسرار ﷫ نے اسےپہلے ماہنامہ ’’میثاق میں شائع کیا جسے میثاق کےقارئین اور دوسرے علمی ومذہبی حلقوں میں نہایت پسند کیاگیاپھر ان کے اصر ار پر اس کو کتابی میں شائع کیا گیا۔مصنف موصوف نے اس کتاب میں ان عناصر اور عوامل کی نشاندہی کی ہے جن کی وجہ سےاسلامی تصوف میں غیر اسلامی عقائد ونظریات کی آمیزش ہوگئی تھی ۔اس کا نتیجہ یہ نکلا کہ ایک طرف جدید تعلیم یافتہ طبقہ نفس تصوف سے ہی بدظن ہوگیا۔ دوسر ی طرف خودیہ غیر اسلامی تصوف اپنی ساری افادیت کھو بیٹھا ۔وہ خانقاہیں جہاں مسلمانوں کو الہ پرستی کا درس جاتا تھا وہ شخصیت پرستی اور قبر پرستی کامرکز بن گئیں اور جہاں ہر طرف اتباع رسول ﷺ کے جلوے نظر آتے تھے وہ خانقاہیں قوالی کی محفلوں میں تبدیل ہوگئی ہیں اور شرک وبدعت کا مرجع بن گئی ہیں۔

  • pages-from-islami-taleem
    عبد الجبار

    اسلام دینِ حق ہےاس کے عقائد سچے او رخالص ہیں ،اس کی عبادات سادہ او رانسانی فطرت کے عین   مطابق ہیں اور اس کےپیغمبر حضرت محمد ﷺ ہیں جن کی سیرت مطہرہ بنی نوع انسان کے لیے اسوۂ حسنہ ہے ، آپ سب سے عظیم انسان ہیں جس کا اعتراف بعض انصاف پسند غیرمسلموں نے بھی ہے ۔مسلمانوں کے لیے ضروری ہے کہ آخرت میں سرفرازی اور نجات حاصل کرنےکے لیے اسلامی احکام پرعمل پیرا ہوتاکہ قرب الٰہی نصیب ہو مگرموجودہ دور میں بےعملی زورں پر ہے اسلامی تعلیمات اور احکامات پر خاص توجہ نہیں دی جاری ہے اس لیے لوگ عملاً اسلام سے دو رہوتے جارہے ہیں ۔اور مسلمان دین کےاصولوں اوراحکامات سےلاپرواہ اور غافل ہورہے ہیں۔ زیر تبصرہ کتاب’ ’اسلامی تعلیم‘‘ محترم جناب مولانا عبد الجبار صاحب کی کی کاوش ہے اس مختصر کتاب میں فاضل مصنف نے عام فہم اور آسان زبان میں اسلامی احکام کو لکھ دیا ہے۔تاکہ عوام اسے پڑھ کر اسلامی تعلیم اوراحکام سے واقف ہوکر عمل کرسکیں یہ کتاب بطور سوال وجواب لکھی کئی ہے کیونکہ انسان سوال وجواب شوق اور دلچسپی کے ساتھ پڑھتا ہے۔ اللہ تعالیٰ اس رسالہ کو عامۃ الناس کے لیے نفع بخش بنائے۔ (آمین)(م۔ا)

  • titel-pages-islami-talemat
    پروفیسر ڈاکٹر حافظ محمد اسرائیل فاروقی

    اسلام دینِ حق ہےاس کے عقائد سچے او رخالص ہیں ،اس کی عبادات سادہ او رانسانی فطرت کے عین مطابق ہیں اور اس کےپیغمبر حضرت محمد ﷺ ہیں جن کی سیرت مطہرہ بنی نوع انسان کے لیے اسوۂ حسنہ ہے ، آپ سب سے عظیم انسان ہیں جس کا اعتراف بعض انصاف پسند غیرمسلموں نے بھی ہے ۔انگریز مصنف مائکل ہارٹ نے تاریخ انسانی کے سو بڑے آدمیوں کی فہرست مرتب کی تو اس نے نبی کریم ﷺکے نام کو سرفہرست رکھا ۔سلسلہ انبیاء کےآخری پیغمبر حضرت محمد ﷺ ہیں اور اسلام آخری او رحتمی دین ہے جو قیامت تک تمام لوگوں کے لیے جامع اورعالمگیر منبع ہدایت ہے اسی فکری وعملی دعوت کے لیے شعبہ علوم اسلامیہ انجنیئرنگ یونیورسٹی ،لاہور گزشتہ نصف صدی سے نہایت اخلاص سےمصروف عمل ہے۔اس یونیورسٹی میں پروفیشنل تعلیم کے ساتھ ساتھ علوم اسلامیہ او رمطالعہ پاکستان ( سال اول اور سال دوم میں) بطور لازمی مضمون پڑھایا جاتا ہے ۔اس کے معاشرے پر مثبت اثرات نمایا ں نظر آتے ہیں ۔ کیونکہ اس مضمون کامقصد یہی ہے کہ ایک اچھے انجنیئر کے ساتھ ساتھ اچھے باکردار مسلمان کا ہونا بھی لازمی اور ضروری ہے۔زیر نظر کتاب '' علوم اسلامیہ'' انجنیئرنگ یونیورسٹی ،لاہورکے طلباء کے لیے نصابی کتاب ہے جسے پروفیسر ڈاکٹر حافظ محمد اسرائیل فاروقی(چیئرمین شعبہ علوم اسلامیہ انجنیئرنگ یونیورسٹی،لاہور )اورڈاکٹر حافظ محمد شہباز( لیکچر شعبہ علوم اسلامیہ انجنیئرنگ یونیورسٹی،لاہور) نے انجنیئرنگ اینڈ ٹیکنالوجی یونیورسٹی کے سال دوم کے طلباء وطالبات کے لیے مرتب کیا ہے ۔ مرتبین نے اس کتاب میں اگرچہ زیادہ تفسیر ی وتشریحی نکات بیان نہیں کئے تاہم انہوں نے انجنیئرنگ یونیورسٹی کے طلباء طالبات کو بطور خاص اور دوسرے اداروں کے طلباء کوبالعموم قرآن فہمی اور علم حدیث کی بنیادی معلومات فراہم کردی ہیں ۔لہذا اہل اسلام کےلیے اس کتاب کا مطالعہ مفید ہے ۔ افادۂ عام کےلیے اسے کتاب وسنت ویب سائٹ پر پبلش کیا کیا گیا ہے اللہ تعالی سے دعا کہ وہ اپنے فضل وکرم سے ہمارے سینوں کوفہم قرآن وحدیث کےلیے کھول دے (آمین)(م۔ا)

     

    نوٹ:

    محدث فورم میں اس کتاب پر تبصرہ کرنے کے لیے یہاں کلک کریں

     

  • title-pages-islami-saqafat-aur-dore-jadeed
    مارما ڈیوک ولیم پکتھال
    مغرب اور اسلام یا اسلام اور مغرب اس دور کا گرم موضوع ہے ۔ چراغ مصطفوی سے شرار بولہبی ہمیشہ ہی ستیزہ کار رہا ہے ۔ لیکن ہر دور کے  افراد اپنے دور کو ہی تاریخ سمجھتے ہیں ۔ جب کہ تاریخ اپنے آپ کو دہرا رہی ہوتی ہے ۔ مغرب سے تعامل کی وجہ سے آج جو تہذیبی اور ثقافتی مسائل مسلمانوں کو درپیش ہیں محسوس ہوتا ہے کہ نئے اور جدید ہیں ۔ ماضی قریب کی تاریخ پر نظر ڈالیں تو ایسے نئے اور جدید بھی نہیں ستر ، پچتر برس قبل اور اس سے بھی قبل ، ہندستان پر برطانوی قبضے کے بعد جو دور گزرا یہ اس دور کے بھی مسائل ہیں ۔ ان مسائل کے حوالے سے اسلامی مؤقف کو پیش کرنے کے لیے بہت کچھ لکھا گیا ۔ لیکن جو بات مغرب کے اپنے فرزندکی زبان و قلم سے ہو سکتی ہے و کسی سکہ بند عالم کے بیان میں شائد ملے ۔ محترم محمد مارما ڈیوک پکتھال ایک نومسلم عالم دین تھے ۔ وہ اپنی ذات میں ایک عالم ، ادیب ، صحافی ، محقق ، مفکر ، مترجم قرآن اور خطیب و مبلغ تھے ۔ انہوں نے اپنی زندگی اسلام کے احیا اور جدید دنیا کے سامنے اسلامی مؤقف واضح کرنے کی بھرپور کوشش فرمائی ۔ اللہ انہیں جزائے خیر عطا فرمائے ۔ موصوف نے امت کے جدید فکر مسائل میں اسلامی موقف کی بہترین ترجمانی فرمائی ہے ۔ (ع۔ح)

    نوٹ:
    محدث فورم میں اس کتاب پر تبصرہ کرنے کے لیے یہاں کلک کریں
  • title-pages-islami-hadood-aur-unka-falsafa-ma-islam-ka-nizame-ihtisab-copy
    سید محمد متین ہاشمی

    اسلامی حکومت میں اسلامی حدود کا نفاذ نہ تو کسی حکمران کی صوابدید پر ہوتا ہے اور نہ ہی کوئی حکمران انہیں سیاسی انتقام کا ذریعہ بنا سکتا ہے۔یہ حدود تو اس رب ذوالجلال والاکرام نے عائد کی ہیں جو اپنے بندوں پر ساری کائنات میں سب سے زیادہ مہربان ہے۔ان حدود کے نفاذ کا بڑا مقصد اسلامی حکومت میں بسنے والے ہر فرد کی عزت وآبرو اور جان ومال کا تحفظ اور انسانیت کی تکریم ہے نہ کہ توہین۔پھر یہ کہ یہ حدود اندھا دھند نافذ نہیں کر دی جاتیں بلکہ ملزم پر فرد جرم عائد کرنے کے لئے شریعت اسلامیہ  میں کئی شرائط،لوازم،حد درجہ احتیاط اور کڑا معیار شہادت مقرر ہے۔اسلامی حدود کے نفاذ کا یہ مطلب نہیں کہ ملک بھر میں سب کے ہاتھ پاؤں کاٹ دئیے جائیں گے اور بدکاری کے معمولی شبے پر لوگوں کو سنگسار کر دیا جائے گا۔یہ محض مغرب زدہ لوگوں کا پروپیگنڈا اور اسلام دشمنی ہے۔ زیر تبصرہ کتاب " اسلامی حدود اور ان کا فلسفہ  مع اسلام کا نظام احتساب " دیال سنگھ ٹرسٹ لائبریری لاہور کے ریسرچ ایڈ وائزر مولانا  سید محمد متین ہاشمی صاحب کی تصنیف ہے،جس میں انہوں نے قوانین مغرب سے متاثر اور مرعوب حضرات کی اسی قسم کی غلط فہمیوں کو دور کرنے کے لئے اسلامی حدود کا فلسفہ ،مصالح،اجرائے حد میں احتیاط اور معاشرے میں ان کیبرکات کو بیان کرتے ہوئے حدود شرعیہ کا مختصر اور جامع تعارف کروایا ہے۔ساتھ ہی اسلام کے نظام احتساب کی اہمیت اور اس کے شرائط وآداب پر روشنی ڈالی ہے۔ اللہ تعالی سے دعا ہے کہ وہ مولف موصوف کی اس کاوش کو قبول فرمائے اوران کے میزان حسنات میں اضافہ فرمائے۔آمین(راسخ)

ای میل سبسکرپشن

محدث لائبریری کی اپ ڈیٹس بذریعہ ای میل وصول کرنے کے لئے ای میل درج کر کے سبسکرائب کے بٹن پر کلک کیجئے۔

 

ایڈوانس سرچ

موضوعاتی فہرست

رجسٹرڈ اراکین

آن لائن مہمان

محدث لائبریری پر اس وقت الحمدللہ 447 مہمان آن لائن ہیں ، لیکن کوئی رکن آن لائن نہیں ہے۔

ایڈریس

       99-جے ماڈل ٹاؤن،
     نزد کلمہ چوک،
     لاہور، 54700 پاکستان

       0092-42-35866396، 35866476، 35839404

       0092-423-5836016، 5837311

      KitaboSunnat@gmail.com

      بنک تفصیلات کے لیے یہاں کلک کریں