دکھائیں کتب
  • 1 ابن رشد و فلسفہ ابن رشد (منگل 04 اکتوبر 2016ء)

    مشاہدات:2643

    ابن رشد کا پورا نام"ابو الولید محمد بن احمد بن محمد بن احمد بن رشد القرطبی الاندلسی" ہے۔آپ  520 ہجری کو پیدا ہوئے۔آپ نے فلسفہ اور طبی علوم میں شہرت پائی۔آپ نہ صرف فلسفی اور طبیب تھے بلکہ قاضی القضاہ اور کمال کے محدث بھی تھے۔نحو اور لغت پر بھی دسترس رکھتے تھے ساتھ ہی متنبی اور حبیب کے شعر کے حافظ بھی تھے۔ آپ انتہائی با ادب، زبان کے میٹھے، راسخ العقیدہ اور حجت کے قوی شخص تھے۔آپ جس مجلس میں بھی شرکت کرتے تھے ان کے ماتھے پر وضو کے پانی کے آثار ہوتے تھے۔ان سے پہلے ان کے والد اور دادا قرطبہ کے قاضی رہ چکے تھے۔ انہیں قرطبہ سے بہت محبت تھی۔ ابنِ رشد نے عرب عقلیت پر بہت گہرے اثرات چھوڑے ہیں، اور یہ یقیناً ان کی اتاہ محنت کا نتیجہ تھا۔ انہوں نے اپنی ساری زندگی تلاش اور صفحات سیاہ کرنے میں گزاری۔ ان کے ہم عصر گواہی دیتے ہیں کہ انہوں نے اپنی زندگی میں سوائے دو راتوں کے کبھی بھی پڑھنا نہیں چھوڑا۔ پہلی رات وہ تھی جب ان کے والد کا انتقال ہوا، اور دوسری رات جب ان کی شادی ہوئی۔انہیں شہرت کی کبھی طلب نہیں رہی، وہ علم ومعرفت کے ذریعے کمالِ انسانی پر یقین رکھتے تھے، ان کے ہاں انسان نامی بولنے اور سمجھنے والی مخلوق کی پہچان اس کی ثقافتی اور علمی ما حاصل پر ہے۔ زیر تبصرہ کتاب" ابن رشد وفلسفہ ابن رشد "موسیو رینان کی انگریزی تصنیف ہے، جس کا اردو ترجمہ محترم  مولوی معشوق حسین خان(علیگ)نے کیا ہے۔اس کتاب میں مصنف نے ابن رشد اور اس کے فلسفے پر روشنی ڈالی ہے اور پھر ابن رشد کے فلسفے کی چند درسگاہوں کا تذکرہ کیا ہے۔(راسخ)

  • 2 افکا ر ابن خلدون (پیر 18 اکتوبر 2010ء)

    مشاہدات:23165

    ابن خلدون ایک عظیم سماجی مفکرتھے تاریخ عالم کے چندنمایاں ارباب علم وفکرمیں وہ ایک منفردمقام رکھتے ہیں علامہ نے سماجیات میں انسانی فکرکونئے زاویوں سے آشناکیاہے اورعمرانی علوم میں ایسے قابل قدرنکات اجاگرکیے ہیں جوآج بھی ماہرین عمرانیات کےلیے دلیل راہ کی حیثیت رکھتے ہیں ۔علامہ کےافکاروخیالات کےباب میں انکا مشہورزمانہ مقدمہ ایک خاص مقام کاحامل ہے جس میں انہوں نے مختلف علوم وفنون اورافکارونظریات پرجچی تلی اورمتوازن ومعتدل آراء کا اظہارکیاہے۔زیرنظرکتاب میں مولانامحمدحنیف ندوی رحمہ اللہ نے علامہ کے مقدمہ کاانتہائی موثراوردلنشیں پیرایہ بیان میں خلاصہ کیاہے ۔جس میں تمام ضروری مباحث بڑی خوبصورتی سے سمیٹے ہیں ۔لاعق تحسین امریہ ہے کہ مولاناندوی نے خلاصہ کے آغاز میں ایک مقدمۃ المقدمہ بھی تحریرکیاہے ۔جس میں ابن خلدون کے افکاروآراء پرتجزیاتی تبصرہ کرتے ہوئے اس کی اہمیت کواجاگرکیاہے ۔

     

  • 3 حکمائے اسلام حصہ اول (ہفتہ 20 اکتوبر 2018ء)

    مشاہدات:1431

    مسلمانوں میں جو حکماء وفلاسفہ پیدا ہوئے ان میں کچھ تو ملحد وبے دین اور اکثر ضعیف العقیدہ تھے۔ یا کم ازکم ان کی مذہبی حالت  بہتر نہیں تھی یہی وجہ  ہے کہ قدیم زمانے میں بھی ان کے سوانح وحالات کی طرف بہت کم مؤرخین نے  توجہ دی۔اس لیے عوام الناس  ان کے حالات سے بالکل ناآشنا رہے ۔قدیم زمانے میں اگرچہ بعض آزاد خیال لوگوں نے ان کے حالات پر چند کتابیں لکھیں  لیکن اولاً تو یہ کتابیں خاص طور ان کے زمانے کے حکماء کے حالات تک محدود ہیں ۔ثانیاً ان کتابوں میں حکمائے اسلام کے ساتھ ساتھ  زیادہ تر حکمائے یونان ، عیسائی  فلاسفہ او راطباء کے نام  مذکور ہیں۔ خالص حکمائے اسلام کے حالات  میں کوئی کتاب نہیں لکھی گئی۔لہذا اس ضرورت کے پیش نظر  مولانا عبد السلام ندوی  نے زیر نظر کتاب ’’ حکمائے اسلام ‘‘ تحریر کی یہ کتاب  دو حصوں میں  ہے ۔مصنف نے اس کتا ب میں  حکمائے اسلام کی ہر قسم کی مذہبی اخلاقی اور فلسفیانہ خدمات کو نمایاں کیا ہے  حصہ اول میں  پانچویں صدی تک  کے حکماء کے حالات مذکور ہیں  اور دوسرے  حصے  میں متوسّطین  ومتاخرین حکمائے اسلام  کے مستند حالات ان  کی علمی خدمات  اور ان کے  فلسفیانہ نظریات کی تفصیل  دی گئی ہے۔(م۔ا) 

  • 4 خلیہ اک کائنات (منگل 21 اکتوبر 2014ء)

    مشاہدات:2614

    قرآن کریم انسانوں کی رہنمائی کےلیے اللہ تعالیٰ کی جانب سے آخری کتاب ہے ۔اس میں تمام سابقہ آسمانی کتابوں کا نچوڑ اور لب لباب موجود ہے اس لیے  یہ کتاب اس   مقام پر اانسان کی رہنمائی کرتی ہے جہاں اس کی عقل اپنی  آخری حدوں کو چھولینے کے بعد حیران راہ جاتی ہے ۔اس کتاب میں  اللہ تعالیٰ نے انسان کوجگہ جگہ اپنی قدرت کی نشانیوں کےذریعے  اپنے آپ کوپہچاننے  کی دعوت دی ہے ۔کہیں انسان کو اپنے  بدن پر غور  کرنے کی دعوت  ہے تو  کہیں اپنے ماحول پر ۔کہیں آسمانوں پر غور  کرنے کو کہا جارہا ہے   توکہیں پانی  اورآگ پر نظر التفات کرنے کی دعوت دی جاتی ہے  ۔اس دعوت کا مقصود صرف اور صرف یہ ہے کہ انسان کی نظر  مادے سے  ہٹا کرمادے  کے خالق کی جانب لگائی جائے ۔زیر نظر کتاب ’’ خلیہ ایک کائنات‘‘ ترکی  کے  نامور  مصنف  جدید اور سائنسی علوم کے  ماہرمحترم ہارون یحییٰ﷾  کی   تصنیف ہے جس  میں  انہوں نے  اپنی دیگر  تصانیف کی طرح  سائنس  اور عقل کی بھول  بھلیوں میں  گم عقل انسانی  کو وحی  کی روشنی میں چلنے   کی دعوت دی ہے ۔اور انہوں نے ہمارے  ماحول میں پھیلے  لاکھوں اور کروڑوں  معجزوں میں سے صرف چند ایک کا تذکرہ  اس کتاب میں کیا ہے  اوراس بارے  میں سائنس کی آخری  حد بیان کرنے کے بعد  اس جانب توجہ دلائی ہے  کہ اس سے  آگے...

  • زیر تبصرہ چودہ صفحات پر مشتمل یہ چھوٹا سا کتابچہ ’’علم الکلام فلسفہ ومنطق کی مذمت اور مشہور منطق پرستوں کی توبہ‘‘سعودی عرب کے معروف عالم دین شیخ عبد المحسن العباد کی کتاب قطف الجنی الدانی شرح مقدمۃ القیروانی صفحہ 54 تا 61 سے ماخوذ ہے اور ترجمہ کی سعادت محترم طارق علی بروہی نے حاصل کی ہے۔اس میں موصوف نے پہلے حصہ میں مختلف   علماء سلف مثلا امام شافعی، امام احمد بن حنبل ،امام ابو یوسف اور امام ذہبی ﷭ وغیرہ جیسے اہل علم کے اقوال کی روشنی میں علم الکلام فلسفہ ومنطق کی مذمت پر استدلال کیا ہے اور اس کی خرابی کو واضح کیا ہے۔ اور دوسرے حصے میں مشہور منطق پرستوں کی توبہ اور رجوع الی الحق کے واقعات کو بیان کیا ہے۔یہ کتابچہ اپنے موضوع پر ایک مفید اور راہنما تحریر ہے ۔اللہ تعالی سے دعا ہے کہ وہ اس کے فائدے کو عام کردے اور مسلمانوں کو منطق وفلسفہ جیسی فضولیات میں پڑنے کی بجائے براہ راست قرآن وحدیث پر عمل کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔آمین۔(راسخ)

     

     

  • 6 فلسفہ شریعت اسلام (اتوار 15 ستمبر 2013ء)

    مشاہدات:2648

    کتاب ہذا ’’ فلسفہ الشریع فی الاسلام ‘‘ کا اردو ترجمہ ہے، جسے ڈاکٹر صبحی محمصانی نے عربی زبان میں تالیف کیا۔ مصنف علام کا شمار زمانہ حال کے نامور ماہرین قانون میں ہوتا ہے۔ آج کل مصنف بیروت میں   عدالت مرافعہ کے صدر ہیں۔ اور قانون کے متعلق متعدد کتابیں فرانسیسی اور عربی زبان میں تالیف کرچکے ہیں۔ کتاب ہذا جن اغراض کے تحت لکھی گئی ہے اور اس کی تالیف میں جن اصولوں کی پیروی کی گئی ہے۔ فاضل مصنف نے انہیں مقدمے میں وضاحت سے بیان کردیا ہے۔ یہ کتاب باب ابواب پر مشتمل ہے۔ باب اول میں قانون کی تعریف اور اس کے اصول کا بیان ہے۔باب دوم میں اسلامی فقہ کے مختلف مذاہب کی مختصر تاریخ ہے۔باب سوم میں اسلامی شریعت کے ماخذ ومصادر پر بحث  ہے۔باب چہار میں احکام کی ان تبدیلیوں کا بیان ہے جو زمانے کے اقتضاء سے پیدا ہوتی ہیں۔ اور باب پنجم میں بعض قواعد کلیہ کا بیان ہے۔(ک۔ح)
     

  • 7 فلسفہ ہند و یونان (جمعہ 26 اکتوبر 2018ء)

    مشاہدات:1151

    ہرایک فلسفی ایک خاص فلسفہ رکھتا ہے اوراپنے سلیقہ، ذوق اورمعلومات کے مطابق خوشی و غم اورمرگ و زیست کی تاویل و تفسیر کرتا ہے اورکوشش کرتا ہے کہ جوکچھ اس کے لیے اچھا یا برا ہے، خواہ موجود ہے یا ہوگا، اس سے آگاہ ہوجائے۔فلسفہ ہند در حقیقت فلسفہ ہنود ہے۔ جو بت پرستی سے وحدانیت تک پہنچتا ہے۔ مفکرین ہند کے افکار انواع و اقسام کے ہیں۔ ہر فکر کی بنیاد فلسفہ قدیم ہے جس میں کہیں خدا کا انکار اور کہیں اثبات ہے۔ پست ترین مذہب اور مہمل ترین فکر سے لے کر بہترین مذہب اور بلند ترین فکر تک یہاں موجود ہے۔ ہر مفکر اپنے رنگ میں مکمل رنگین ہے۔ فلسفہ ہندو ویونان کا بہ نظر غائر مطالعہ کیا جائے تو ان کے تدریجی ارتقاء سے واضح ہوجائے گا  کہ فلسفے نےہر دو  مذکورہ ممالک میں قریباً ایک ہی سی منازل فکر طے کی  ہیں اور ان کی آخری منزل بھی ایک ہی  ہے جہاں پہنچ کی دونوں نے اپنا اپنا سفر ختم کردیا  ہے  اور وہ منزل  ہےالٰہیات جس  سے ہم یہ سمجھ لینے پر مجبور ہوجاتے ہیں کہ یہی آخری منزل ہے  اور اس سے آگے عقل وفکر انسانی  کی رسائی ناممکن ہے۔ زیر نظر کتاب ’’فلسفہ ہندوویونان‘‘ شفیقی عہدی پوری کی تصنیف ہے ۔یہ کتاب  فلسفۂ ہندویونان کےایک مجمل جائزے پر مشتمل ہے۔یہ کتاب اگرچہ ایک مختصر ہے مگر اپنی افادیت کےلخاظ سے بڑی بڑی ضخیم کتب پر بھاری ہے ۔ کیونکہ  اس میں سب کچھ موجود ہے ۔ یہ کتاب  ہند ویونان کےفلسفیانہ افکار وآراء کا ایسا خلاصہ ہے  جو ف...

  • فلسفہ یونانی لفظ فلوسوفی یعنی حکمت سے محبت سے نکلا ہے۔ فلسفہ کو تعریف کے کوزے میں بند کرنا ممکن نہیں، لہذا ازمنہ قدیم سے اس کی تعریف متعین نہ ہوسکی۔فلسفہ علم و آگہی کا علم ہے، یہ ایک ہمہ گیر علم ہے جو وجود کے اغراض اور مقاصد دریافت کرنے کی سعی کرتا ہے۔ افلاطون کے مطابق فلسفہ اشیاء کی ماہیت کے لازمی اور ابدی علم کا نام ہے۔ جبکہ ارسطو کے نزدیک فلسفہ کا مقصد یہ دریافت کرنا ہے کہ وجود بذات خود اپنی فطرت میں کیا ہیں۔ کانٹ اسے ادراک و تعقل کے انتقاد کا علم قرار دیتا ہے۔فلسفہ کو ان معنوں میں ’’ام العلوم‘‘ کہہ سکتے ہیں کہ یہ موجودہ دور کے تقریباً تمام علوم کا منبع و ماخذ ہے۔ ریاضی، علم طبیعیات، علم کیمیا، علم منطق، علم نفسیات، معاشرتی علوم سب اسی فلسفہ کے عطایا ہیں۔ پانی کے اجزائے ترکیبی عناصر (آکسیجن ، ہائیڈروجن) معلوم کرنا سائنس ہے اور یہ دریافت کرنا کہ کیا اس ترکیب اور نظام کے پیچھے کوئی دماغ مصروف عمل ہے ؟ فلسفہ ہے ۔ اقوام عالم کے عروج و زوال پر بحث کرنا تاریخ ہے اور وہ قوانین اخذ کرنا جو عروج و زوال کا باعث بنتے ہیں ۔ فلسفہ ہے ۔ فلسفی کائناتی مسائل کی حقیقت تلاش کرتا اور اقدار و معانی کا مطالعہ کرتا ہے ۔ افلاطون کہتا ہے کہ فلسفہ تلاش حقیقت کا نام ہے ۔ رواقیہ کے ہاں علم ، نیکی ، فضیلت اور ایسی دانش حاصل کرنے کا نام فلسفہ ہے جو خدائی مشیت سے ہم آہنگ کر دے ۔ زیر تبصرہ کتاب" فلسفیوں کا انسائیکلوپیڈیا، فلسفے اور فلسفیوں کی اڑھائی ہزار سالہ تاریخ"محترم  یاسر جواد صاحب کی تصنیف ہے جواسی فلسفے اور فلسفیوں کی اڑھائی ہزار...

  • 9 مارکسی فلسفہ اور جدید سائنس (جمعہ 19 اگست 2011ء)

    مشاہدات:15442

    مارکزم کے مخالفین کی جانب سے اس کی تردید میں یہ دلیل بھی پیش کی گئی ہے کہ یہ غیر سائنسی تصور ہے جو سائنس سے مطابقت نہیں رکھتا۔زیر نظر کتاب میں اس کا جواب دیا گیا ہے اور سائنس کے تقریباً تمام شعبوں کے حوالے سے  مارکس ازم اور سائنسی سوشلزم کے نظریات کو درست ثابت کیا گیا ہے ۔یہ کتاب سائنس کے ساتھ سرمایہ داری کے دانشوروں کی زیادتی اور حملوں کا بھرپور سائنسی جواب فراہم کرتی ہے ۔اس میں تخلیق کائنات سے لے کر سماجی ارتقاء تک کے تمام عوامل اور محرکات کا مارکسی نقطہ نظر سے جائزہ لیا گیا ہے ۔یہ بھی ثابت کیا گیا ہے کہ موجودہ سرمایہ دارانہ نظام کیوں اور کیسے ذرائع پیداوار ،عمرانیات،سائنس اور انسانی ارتقاء کےراستے میں رکاوٹ بن چکا ہے اور کس انداز میں لاکھوں برس کی محنت ،کوشش اور تجربات سے  گزر کر اس منزل اور معیار تک پہنچنے والی انسانیت کو بدترین بربریت اور انتہائی خوفناک درندگی کی طرف دھکیل رہا ہے ۔مصنفین کا کہنا ہے کہ اس بحران سے نکلنے اور روشن مستقبل کی طرف بڑھنے کے لیے سوشلسٹ انقلاب ناگزیر ہو گیا ہے ۔(ط۔ا)
     

  • 10 مارکسی فکر وفلسفہ کے خدوخال (ہفتہ 20 اگست 2011ء)

    مشاہدات:14960

    جرمنی کے معروف دانش ور کارل مارکس نے اپنے رفیق کار اینگلس کی معاونت سے دنیا کو ایک نئے نظام پر فکروعمل سے متعارف کرایا،جسے مارکسی فلسفہ یا مارکزم کے نام سےموسوم کیا جاتا ہے ۔اس نظام فکر کی اساس وبنیاد جدلیاتی مادیت کے فلسفے پر استوار ہوئی ہے ۔جدلیاتی مادیت،فطرت اور سماج کو بالکل دوسری طرح سمجھنے کا ایک طریق کار ہے ۔جدلیت سے مراد یہ ہے کہ فطرت کے حوادث برابر متحرک ہوتے ہیں ۔وہ برابر بدلتے رہتے ہیں اور فطرت کی متصادم طاقتوں کے باہمی جدل وپیکار سے فطرت کا ارتقاء ہوتا ہے ۔جدلیت کا یہ قانون محض فطری حادثات کے ارتقاء میں کارفرما نہیں بلکہ انسانی معیشت اور تاریخ کے ارتقاء میں بھی موجود ہے ۔کارل مارکس کے افکار سے جہاں اور بہت سے لوگ متاثر ہوئے وہیں سوویت روس کا بانی لینن بھی متاثر ہوا۔اس نے افکار کو دل وجان سے اپنایا اور ان افکار کی بنیاد پر عملی طور پرایک مملکت کے نظام کو استوار کیا اور مارکس کے اصولوں کو عملاً ایک ریاستی نظام کی شکل میں برت کر دکھایا ۔زیر نظر کتاب ان تینوں مفکرین کے افکار کا احاطہ کرتی اور ساتھ ساتھ اس فکر سے متصادم نظریات کا محاکمہ بھی کرتی ہے ۔(ط۔ا)
     

ایڈوانس سرچ

اعدادو شمار

  • آج کے قارئین: 1794
  • اس ہفتے کے قارئین: 14397
  • اس ماہ کے قارئین: 34313
  • کل مشاہدات: 44177375

موضوعاتی فہرست

ای میل سبسکرپشن

محدث لائبریری کی اپ ڈیٹس بذریعہ ای میل وصول کرنے کے لئے ای میل درج کر کے سبسکرائب کے بٹن پر کلک کیجئے۔

رجسٹرڈ اراکین

ایڈریس

        99--جے ماڈل ٹاؤن،
        نزد کلمہ چوک،
        لاہور، 54700 پاکستان

       0092-42-35866396، 35866476، 35839404

       0092-423-5836016، 5837311

       library@mohaddis.com

       بنک تفصیلات کے لیے یہاں کلک کریں