• pages-from-molana-ahmad-din-gakharvi
    محمد اسحاق بھٹی

    برصغیر پاک وہند میں جن علمائے کرام نےتحریر وخطابت اور بحث و مناظرے کے ذریعے سےدین اسلام کی بھر پور خدمت کی اور مخالفین کے حملوں کی جواب دہی میں پوری تن دہی اور جاں فشانی سے حصہ لیا،ایسے اکابر علمائے دین میں امام المناظرین مولانا احمد دین گکھڑوی﷫ کا نام نمایاں حیثیت رکھتا ہے۔ مولانا احمددین گھکڑوی﷫ بہت بڑے مناظر اور جلیل القدر عالمِدین تھے 1900ء میں ضلع گوجرانوالہ کے ایک مشہور مقام گکھڑ میں پیداہوئے اور مختلف اہل علم سے دینی تعلیم حاصل کی ۔مولانا ابھی کم عمر ہی تھے کہ والد گرامی انتقال کر گئے لیکن انہوں نے اپنی تعلیم کو جاری رکھا دورانِ تعلیم ہی مولانا احمد دین کو وعظ وتقریرکا شوق پیدا ہوگیا تھا وہ بدعات او رغیر اسلامی رسوم و رواج کے سخت خلاف تھے اور ان پرکھل کر تنقید کرتے تھے ذہن ابتداہی سے مناظرانہ تھا دینی تعلیم سے فراغت کے بعد وہ باقاعدہ طور سے تقریبا 1920میں مناظرے اور تقریر کےمیدان میں اترے۔ پھر عیسائیوں ،شیعوں، مرزائیوں اور بریلویوں سےان کے بے شمار مناظرے ہوئے او راس زمانے میں ان کے مناظروں کی سامعہ نواز گونج دور دور تک سنی گئی اور کامیاب مناظرکی حیثیت سے معروف ہوئے۔ آپ کی دینی خدمات اور خداداد صلاحیتوں کے پیش نظر شیخ الاسلام مولانا ثناء اللہ امرتسری ﷫ (1868۔ 1948ء) نے فرمایا تھا کہ میرے بعد مخالفینِ اسلام سے نپٹنے اور انہیں میدان مناظرہ میں زیر کرنے کے لیے احمددین موجود ہوگا۔ چناں چہ بعدکےحالات نےواقعی شیخ الاسلام امرتسری﷫ کی پیشین گوئی سچ کر دکھائی اور مولانا احمد دین کو بحث ومناظرہ کا جہاں بھی موقع ملا انھوں نے فریق مخالف کاپوری طرح سے تعاقب کیا اور فتح وکامرانی آپ ہی کے حصے میں آئی۔میدان مناظرہ میں ان کی کامیابیوں کی بناپر جماعت اہل حدیث کے معروف مناظر حافظ عبدالقادر روپڑیؒ۔   نے انہیں ’’استاذ المناظرین‘‘ کا لقب دیا تھا۔ زیر نظر کتاب ’’استاذ المناظرین مولانا احمد دین گکھڑوی‘‘ معروف مؤرخ اہل حدیث   مصنف کتب کثیرہ مولاناکی محمد اسحاق بھٹی ﷫ کی تصنیف ہے جس میں انہوں نے مولانا احمد دین کگھڑوی ﷫ کی دینی، تبلیغی وعوتی خدمات او ر بالخصوص ان کے مناظروں کی روداد اور واقعات کو بڑے احسن انداز میں بیان کیا ہے۔ اس کتاب کا پہلا ایڈیشن مکتبہ قدوسیہ لاہور نے 2011ء میں شائع کیا تھا۔جس کے 250 صفحات تھے۔ اشاعت ک بعدیہ ایڈیشن جلد ہی ختم ہوگیا۔زیرتبصرہ اس کتاب کا جدید اضافہ شدہ ایڈیشن ہے ۔اس میں بھٹی صاحب نے تقریبا 160 صفحات کا اضافہ کیا ہے۔ اور اسے ’’دار ابی الطیب ،گوجرانولہ نے حسنِ طباعت سےآراستہ کیا ہے۔ اللہ مولانا احمدین او رمصنف کتاب مولانا بھٹی ﷫ کے درجات بلند فرمائے اور ان کی قبور پر اپنی رحمتوں کا نزول فرمائے۔ (آمین)(م۔ا)

  • pages-from-al-jihaad
    ڈاکٹر رانا محمد اسحاق

    جہاد دینِ اسلام کی چھوٹی ہے ۔جہاد اعلائے کلمۃ اللہ کا سب سے بڑا سبب او رمظلوموں ومقہوروں کو عد ل انصاف فراہم کرنے کا عمدہ ذریعہ ہے۔ اللہ تعالیٰ نے اپنے دین کی حفاظت کے لیے مسلمانوں کو دعوت و انذار کےبعد انتہائی حالات میں اللہ کے دشمنوں سے لڑنے کی اجازت دی ہے او راللہ کے راستے میں لڑنےوالے  مجاہد کے لئے انعام و اکرام اور جنت کا وعدہ کیا ہے اسی طرح اس لڑائی کو جہاد  جیسے مقدس لفظ سے موسوم کیا  ہے۔ جہادکی اہمیت وفضلیت کے حوالے سے کتب احادیث میں ائمہ محدثین نے باقاعدہ ابواب قائم کیے ہیں او رکئی اہل علم نے اس پر مستقبل عربی اردوزبان میں کتب تصنیف کی ہیں۔ زیر تبصرہ کتابچہ ’’الجہاد‘‘ڈاکٹر محمداسحاق رانا ﷫ کی کاوش ہے ۔جسے انہوں نے مدینہ کےقیام کےدوران تحریر کیا تھا اس کتابچہ میں قرآن وسنت کی روشنی میں جہاد کے فضائل بیان کیے ہیں ۔موصوف 1974ء تا 1980ء تک مدینہ یونیورسٹی میں زیر تعلیم رہے ۔ آپ اس کے علاوہ بھی کئی چھوٹی بڑی کتب کے مصنف ہیں۔ (م۔ا)

  • title-pages-anbar-nagina-al-maroof-mawaiz-cheema-copy
    ابو حنظلہ محمد نواز چیمہ

    خطابت اللہ تعالیٰ کی عطاکردہ،خاص استعداد وصلاحیت کا نام ہے جس کےذریعے ایک مبلغ اپنے مافی الضمیر کے اظہار ،اپنے جذبات واحساسات دوسروں تک منتقل کرنے اور عوام الناس کو اپنے افکار ونظریات کا قائل بنانے کے لیے استعمال کرتا ہے۔بلاشک وشبہ قدرتِ بیان ایسی نعمت جلیلہ اور ہدیۂ عظمہ ہے جو اللہ تعالیٰ اپنے خاص بندوں کوعطا فرماتا ہے اور خطابت وبیان کے ذریعے انسان قیادت وصدارت کی بلندیوں کوحاصل کرتا ہے ۔ جوخطیب کتاب وسنت کے دلائل وبراہین سے مزین خطاب کرتا ہے اس کی بات میں وزن ہوتا ہےجس کاسامعین کے روح وقلب پر اثر پڑتا ہے۔اور خطبۂ جمعہ کوئی عام درس یا تقریر نہیں بلکہ ایک انتہائی اہم نصیحت ہےجسے شریعتِ اسلامیہ میں فرض قرار دیا گیا ہے ۔ یہی وجہ ہےکہ اس میں بہت سارے وہ لوگ بھی شریک ہوتے ہیں جو عام کسی درس وتقریر وغیرہ میں شرکت نہیں کرتے ۔اس لیے خطبا حضرات کے لیےضروری ہے کہ وہ خطبات میں انتہائی اہم مضامین پر گفتگو فرمائیں جن میں عقائد کی اصلاح ، عبادات کی ترغیب، اخلاقِ حسنہ کی تربیت،معاملات میں درستگی،آخرت کا فکر اورتزکیۂ نفس ہو۔ زیر تبصرہ کتاب ’’ انبار نگینہ المعروف مواعظ چیمہ ‘‘ ہردلعزیز عوامی خطیب جناب مولانا محمد نواز چیمہ﷾ کےدرج ذیل اہم موضوعات پر خطبات کا مجموعہ ہے ۔ اعوذ بااللہ، شیطانی چالیں،شیطانی حملے ،پناہ کیسے اور کن چیزوں سے ، فضائل بسم اللہ، فوائد ذکر الٰہی،اقسام ذکر الٰہی ،ذکر الٰہی سے غفلت کے نقصانات، توبہ،بخشش کےبہانے ، قرآءت قرآن ، سماعت قرآن تاثیر قرآن ،قرآن اور صاحب قرآن، فوائد قرآن، فضائل قرآن، تعلیم قرآن کی اجرت،فضائل ماہ رمضان ، فضائل روزہ ، احکام روزہ ، آداب روزہ ،نفلی روزے ، مسنون تراویح،اعتکاف کے فضائل ومسائل، لیلۃ القدر ، صدقہ فطر۔موصوف نے ان خطبات میں دلچسپ اور غیرمشہور واقعات کو باحوالہ درج کیا ہے اور ہرموضوع میں اشعاربھی درج کیے ہیں ۔اور حتی الوسع موضوع اور ضعیف روایات کی نشاندہی کی ہے اور صحیح احادیث وروایات سے عنوان بیان کیے ہیں۔آیات واحادیث اور واقعات کے مستند کتب سے حوالہ جات بھی نقل کیے ۔(م۔ا)

  • title-pages-iman-ka-rasta
    عبد العزیز بن عبد اللہ بن باز

    علمائے اسلام نے دینِ اسلام او رعقیدۂ توحید کی ترویج دعوت وتبلیغ ،درس وتدریس ، تصنیف وتالیف ،مضامین ومقالات کے ذریعہ کی ہے بعض علماء نے مختلف موضوعات پر ضخیم کتب او رچھوٹے رسائل و کتا بچہ جات تحریر کئے ہیں۔ قارئین کے لیے بڑی ضخیم کتب کی بنسبت ان چھوٹے رسائل ،کتابچہ جات اور مضامین ومقالات سے استفادہ کرنا آسان ہے ۔بعض ناشرین کتب نے ان رسائل کو افادۂ عام کے لیے یکجا کر کے شائع کیا ہے جیسے کہ مقالات شبلی، مقالات راشدیہ ،مقالات محدث گوندلوی ، مقالات مولانا محمد اسماعیل سلفی،مقالات شاغف ،مقالات اثری، مقالات پر وفیسر عبد القیو م وغیرہ یہ مذکورہ تمام مقالات تقریبا کتاب وسنت ویب سائٹ پر موجود ہیں۔زیر نظر کتاب اسی سلسلے میں جید عرب علماء ومشائخ (شیخ ابن باز، شیخ صالح بن فوزان ، شیخ عبد اللہ بن عبد الرحمن الجبرین ،شیخ محمد بن عبد اللہ السبیل وغیر ہ) کے مختلف موضوعات پر مشتمل مقالات ومحاضرات کا مجموعہ ہے جسے الفرقان ٹرسٹ نے ترجمہ کرواکربڑے عمدہ انداز میں شائع کیا ہے یہ مجموعہ درج ذیل اہم موضوعات پر مشتمل ہے ۔اسلام میں سنت کا مقام،ممنوع ومشروع تبرک،برکات کا حصول،تعویذاورعقیدۂتوحید،جشن عیدمیلادالنبی کی شرعی حیثیت،جشن اسراء ومعراج کی شرعی حیثیت،پندرہویں شعبان کی شب میں عبادتوں کا حکم،نبی کریم ﷺ سے استغاثہ کا حکم ،جادو او رکہانت کی مشروعیت؟عشرۂ ذی الحجہ کی فضیلت او راس کے اعمال،زندہ انسان کےعمل سے میت کو فائدہ پہنچنے کا حکم؟ رسول اللہ ﷺ کی جانب منسوب جھوٹا خواب وغیرہ اللہ تعالی الفرقان ٹرسٹ کی اس کوکاوش کو قبول فرمائے او راسے تمام لوگوں کی ہدایت کا ذریعہ بنائے ۔(آمین)(م۔ا)

     

    نوٹ:

    محدث فورم میں اس کتاب پر تبصرہ کرنے کے لیے یہاں کلک کریں

     

  • pages-from-bas-yahi-dil-abu-yahyaa
    ابو یحیٰ

    انسان کی پیدائش کا مقصد رب العا لمین کی عبادت کرنااور صراط مستقیم پر گامزن رہناہے۔ اور اس مقصد کی تکمیل کے لیے رب العالمین نے روز اول سے ہی ہر دور میں انبیاء کو دنیا میں بھیج کر لوگوں کو رب العالمین کی بندگی اور اطاعت الٰہی کا درس دیا۔ اب چونکہ آپﷺ کی بعثت کے بعد سلسہ نبوت ختم ہوچکاہے، اور معاشرہ کی اصلاح کرنا علماء کی ذمہ داری ہےکہ لوگوں کو اپنا مقصد حیات یاد دلاتے رہیں، پس اسی مقصد حیات کی تذکیر کے لیے زیرہ تبصرہ کتاب ’’بس یہی دل‘‘ میں فاضل مصنف ابو یحی نے اس موضوع کو قلم بند کیا ہے، جوکہ دراصل ان کے لکھے ہوئے مختلف مضامین پر مشتمل ہے، اور ا ن مضامین کو کتابی شکل میں لکھنے سے ان کا مقصد لوگوں کے اندر ایسی شخصیت کو پیداکرنا ہے جس کے لیے خدا کی ذات،صفات اور اس کی ملاقات زندگی کا سب سے اہم موضوع بن جائے اور جو بد ترین حالات میں بھی امید کے ساتھ جینا سیکھ لے۔ یہی وہ صفات ہیں جو کسی شخصیت کو اللہ تعالیٰ کی مطلوب شخصیت بناتی ہیں۔ یہی وہ شخصیت ہے جسے قرآن قلب سلیم کہتاہے اور جس کا بدلہ جنت کی ختم نہ ہونے والی ابدی زندگی ہے۔ آخر میں ہم اللہ رب العزت سے دعا کرتے ہیں کہ اللہ رب العزت مصنف کی اس کاوش کواپنی بارگاہ ميں قبول فرمائے۔ آمین(شعیب خان)

  • title-pages-bustan-al-khateeb-copy
    عبد المنان راسخ

    خطابت اللہ تعالیٰ کی عطاکردہ،خاص استعداد وصلاحیت کا نام ہے جس کےذریعے ایک مبلغ اپنے مافی الضمیر کے اظہار ،اپنے جذبات واحساسات دوسروں تک منتقل کرنے اور عوام الناس کو اپنے افکار ونظریات کا قائل بنانے کے لیے استعمال کرتا ہے ۔ایک قادر الکلام خطیب اور شاندار مقرر مختصر وقت میں ہزاروں ،لاکھوں افراد تک اپنا پیغام پہنچا سکتا ہے اوراپنے عقائد ونظریات ان تک منتقل کرسکتا ہے۔خطابت صرف فن ہی نہیں ہے بلکہ اسلام میں خطابت اعلیٰ درجہ کی عبادت اورعظیم الشان سعادت ہے ۔خوش نصیب ہیں وہ ہستیاں جن کومیدانِ خطابت کے لیے پسند کیا جاتا ہے۔شعلہ نوا خطباء حالات کادھارا بدل دیتے ہیں،ہواؤں کےرخ تبدیل کردیتے ،معاشروں میں انقلاب بپا کردیتے ہیں ۔تاریخ کےہر دورمیں خطابت کو مہتم بالشان اور قابل فخر فن کی حیثیت حاصل رہی ہے اور اقوام وملل او رقبائل کے امراء وزعما کے لیے فصیح اللسان خطیب ہونا لازمی امرتھا۔قبل از اسلام زمانہ جاہلیت کی تاریخ پر سرسری نگاہ ڈالیں تو اس دور میں بھی ہمیں کئی معروف ِ زمانہ فصیح اللسان اور سحر بیان خطباء اس فن کی بلندیوں کو چھوتے ہوئے نظرآتے ہیں۔دورِ اسلام میں فنِ خطابت اپنے اوج کمال تک پہنچ گیا تھا ۔نبی کریم ﷺ خود سحرآفرین اور دلنشیں اندازِ خطابت اور حسنِ خطابت کی تمام خوبیوں سے متصف تھے ۔اللہ تعالیٰ نے ہر دور میں وراثتِ نبوی کے تحفظ اور تبلیغِ دین کےلیے ایسی نابغۂ روز گار اور فرید العصر شخصیات کو پیدا فرمایا کہ جنہوں نے اللہ تعالی کی عطا کردہ صلاحیتوں اور اس کے ودیعت کردہ ملکۂ خطابت سے بھر پور استفادہ کرتے ہوئے پر زور انداز میں دعوت حق کوپیش کیا اور لوگوں کے قلوب واذہان کو کتاب وسنت کے نور سے منور کیا ۔ ماضی قریب میں امام الہند مولانا ابو الکلام آزاد، سیدابو بکر غزنوی، آغا شورش کاشمیری، سید عطاء اللہ بخاری ، حافظ محمد اسماعیل روپڑی،مولانا محمد جونا گڑھی ﷭ وغیرہم کا شمار میدان خطابت کے شہسواروں میں ہوتا ہے ۔اور خطیبِ ملت علامہ احسان الٰہی ظہیر شہید﷫ میدان ِ خطابت کے وہ شہسوار ہیں جنہوں نے اللہ کی توفیق سے ایک نیا طرزِ خطابت ایجاد کیا ۔اور شیخ القرآن مولانا محمدحسین شیخوپوری گلستانِ کتاب وسنت کے وہ بلبل شیدا ہیں کہ دنیا انہیں خطیبِ پاکستان کے لقب سے یاد کرتی ہے۔خطباء ومبلغین اور دعاۃِ اسلام کےلیے زادِراہ ،علمی مواد اور منہج سلف صالحین کےمطابق معلومات کاذخیرہ فراہم کرنا یقیناً عظیم عمل اوردینِ حق کی بہت بڑی خدمت ہے اور واعظین ومبلغین کا بطریق احسن علمی تعاون ہے ۔اس لیے علماء نے ہر دور میں یہ رزیں کارنامہ سرانجام دینے کی کوشش کی ہے تاکہ وہ خطباء ودعاۃ جن کے پاس مصادر ومراجع میسر نہیں یا جن کے پاس وقت کی قلت ہے ان کے لیے خطباء کی تیاری کےلیے آسانی ہوسکے ۔ماضی قریب میں اردوزبان میں خطبات کے مجموعہ جات میں اسلامی خطبات از مولانا عبدالسلام بستوی  ، خطباتِ محمدی از مولانا محمد جونا گڑھی ،خطبات ِنبوی از مولانا محمد داؤد راز اور بعض اہل علم کے ذاتی نام سے (خطبات آزاد ،خطبات علامہ احسان الٰہی ظہیر ، خطبات یزدانی ،مواعظ طارق وغیرہ ) خطبات کے مجموعات قابلِ ذکر ہیں ۔اور عربی زبان میں خطباء واعظین حضرات کے لیے 12 ضخیم مجلدات پر مشتمل ’’نضرۃ النعیم ‘‘انتہائی عمدہ کتاب ہے ۔ فاضل نوجوان مولانا عبد المنان راسخ کی کتب( خوشبوئے خطابت منہاج الخطیب،ترجمان الخطیب ، مصباح الخطیب ، حصن الخطیب ، بستان الخطیب) اسلامی وعلمی خطبات کی کتابوں کی لسٹ میں گراں قدر اضافہ ہے ۔ زیر نظر کتاب ’’بستان الخطیب‘‘ محترم مولانا ابو الحسن عبدالمنان راسخ ﷾( مصنف کتب کثیرہ) کی مرتب شدہ ہے جوکہ علماء خطبا اورواعظین کےلیے 17 علمی وتحقیقی خطبات کا نادر مجموعہ ہے ۔ کتاب کے آغاز میں خطباء اور واعظین حضرات کے لیے مصنف کا تحریرکردہ’’ خیرخواہی کا چھٹا سبق‘‘کے عنوان سے طویل مقدمہ بھی انتہائی لائق مطالعہ ہے ۔ اس میں انہوں نے خطبائے کرام کے لیے انتہائی قیمتی باتیں سپرد قلم کی ہیں کامیاب اور اچھا خطیب ومبلغ بننے کے لیے ان کا مطالعہ مفید ثابت ہوگا۔ (ان شاءاللہ ) ۔موصوف جامعہ اسلامیہ ،صادق آباد کے فیض یافتہ ہیں اور مولانا حافظ ثناء اللہ زاہدی﷾ کے مایۂ ناز قابل شاگردوں میں شمار ہوتے ہیں ۔تبلیغی واصلاحی موضوعات کے علاوہ علمی وتحقیقی موضوعات کو بیان کرنے اور تحریر کی کامل دسترس رکھتے ہیں۔ موصوف جامعہ اسلامیہ،صادق آبادسے فراغت کےبعد شروع شروع میں مجلس التحقیق الاسلامی ، لاہور میں حافظ عبد الرحمن مدنی﷾ کی زیر نگرانی بھی علمی وتحقیقی خدمات سرانجام دیتے رہے ۔ موصوف ایک اچھے مصنف ہونے کے ساتھ ساتھ بڑے اچھے خطیب ، واعظ اور مدرس بھی ہیں ۔ عرصہ دراز سے فیصل آباد میں خطابت کافریضہ انجام دینے کےساتھ ساتھ تصنیف وتالیف کا کام بھی کرتے ہیں ۔تقریبا دو درجن کتب کےمصنف ہے۔ جن میں سے چھ کتابیں(خشبو ئے خطابت ،ترجمان الخطیب،منہاج الخطیب ، حصن الخطیب،بستان الخطیل) خطابت کے موضوع پر ہیں ۔کتاب ہذا بستان الخطیب کو موصوف نے بہت دلجمعی اور محنت سے مرتب کیا ہے ۔ ہر موضوع پر سیر حاصل مواد کے ساتھ ساتھ تحقیق وتخریج کا وصف بھی حددرجہ نمایا ں ہے ۔ مولانا عبدالمنان راسخ ﷾ کے خطبات حسب ذیل امتیازی خوبیوں کے حامل ہیں۔ منفرد موضوعات کا چناؤ،سب مواد موضوع کےمطابق، قرآنی آیات اور صحیح احادیث پر مشتمل ، تاریخی واقعات کا اہتمام، رسمی گردان بازی سے اجنتاب ، حتی المقدور اعراب کی صحت کا خیال اللہ تعالیٰ ان کی تبلیغی واصلاحی ،تصنیفی خدمات کو شرفِ قبولیت سے نوازے،ان کے علم وعمل اور زور ِقلم میں اضافہ فرمائے ۔اور ان کی تمام کتب کوعوام الناس کےلیےنفع بخش بنائے (آمین)(م۔ا)

  • pages-from-tuhfatul-waaizeen
    ظہیر احمد عبد الاحد

    دعوت وتبلیغ ، اصلاح وارشاد انبیائی مشن ہے۔ اس کے ذریعہ بندگان اٖلہ کی صحیح رہنمائی ہوتی ہے صحیح عقیدہ کی معرفت اور باطل عقائد وخیالات کی بیخ کنی ہوتی ہے ۔شریعت اور اس کے مسائل سے آگاہی اور رسوم جاہلیت نیز اوہام وخرافات کی جڑیں کٹتی ہیں۔ دعوت وتبلیغ ، اصلاح وارشاد کے بہت سے و سائل واسالیب ہیں انہیں میں سے ایک مؤثر ذریعہ دروس و خطابت کا ہے۔ خطابت اللہ تعالیٰ کی عطاکردہ، خاص استعداد وصلاحیت کا نام ہے جس کے ذریعے ایک مبلغ اپنے مافی الضمیر کے اظہار، اپنے جذبات واحساسات دوسروں تک منتقل کرنے اور عوام الناس کو اپنے افکار ونظریات کا قائل بنانے کے لیے استعمال کرتا ہے۔ بلاشک وشبہ قدرتِ بیان ایسی نعمت جلیلہ اور ہدیۂ عظمیٰ ہے جو اللہ تعالیٰ اپنے خاص بندوں کوعطا فرماتا ہے اور خطابت وبیان کے ذریعے انسان قیادت و صدارت کی بلندیوں کوحاصل کرتا ہے۔ جوخطیب کتاب وسنت کے دلائل وبراہین سے مزین خطاب کرتا ہے اس کی بات میں وزن ہوتا ہےجس کا سامعین کے روح وقلب پر اثر پڑتا ہے۔ اور خطبۂ جمعہ کوئی عام درس یا تقریر نہیں بلکہ ایک انتہائی اہم نصیحت ہے جسے شریعتِ اسلامیہ میں فرض قرار دیا گیا ہے ۔ یہی وجہ ہےکہ اس میں بہت سارے وہ لوگ بھی شریک ہوتے ہیں جو عام کسی درس وتقریر وغیرہ میں شرکت نہیں کرتے۔ اس لیے خطبا حضرات کے لیےضروری ہے کہ وہ خطبات میں انتہائی اہم مضامین پر گفتگو فرمائیں جن میں عقائد کی اصلاح، عبادات کی ترغیب، اخلاقِ حسنہ کی تربیت، معاملات میں درستگی، آخرت کا فکر اورتزکیۂ نفس ہو۔ زیر تبصرہ کتاب ’’تخفۃ الواعظین‘‘ مولانا حافظ ظہیر احمدعبد الاحد کی کاوش ہے۔ یہ کتاب قمری سال کےماہ وسال ایام کےلحاظ سے ضرورت زندگی کے تین سو ساٹھ دروس واسباق پر مشتمل ہے۔ اس کی ابتداء ماہ محرم الحرام اورانتہا ماہ ذی الحجہ پر ہے ہر ماہ کے آغاز پر اس کی وجہ تسمیہ اور اشارۃً کچھ تاریخی واقعات قلمبند ہیں۔یہ کتاب بڑی معیاری اور دعوتی منہج کے مطابق ہے اس کے مشمولات ومضامین آیات قرآنیہ اور احادیث صحیحہ وحسنہ پر ہی مبنی ہیں اور یہ دروس مختصر ڈھائی تین صفحات پر مشتمل ہیں۔ خاص وعام سبھی لوگ اس کوبعد نماز پڑھ کر سنا سکتے ہیں۔ کتاب ہذامیں اگرچہ سے ہر ماہ کی مناسبت سے ماہ کے کچھ اسباق و دروس شامل ہیں لیکن موقع و محل اور مقتضائے حال کی رعایت سے ہر قاری و واعظ اسے اپنی سماجی ضرورت کے مطابق مختلف مناسب ترتیب دیکر استعمال کرسکتا ہے۔ (م۔ا)

  • title-pages-maqalat-tehqiqi-islahi-aur-ilmi-1-copy
    حافظ زبیر علی زئی

    محدث  العصر  حافظ زبیر علی زئی﷫ 25جون 1957ء کو حضرو، ضلع اٹک میں پیدا ہوئے۔ آپ نےتین سے چار ماہ میں قرآن مجید حفظ کیا ۔ دینی  علوم  کے  حصول کے لیے   جامعہ محمدیہ گوجرانوالہ  میں  داخل ہوئے  اور سند فراغت حاصل کی ۔وفاق المدارس السلفیہ سے الشھادۃ العالمیہ بھی حاصل کی ۔نیز آپ نے پنجاب یونیورسٹی سے اسلامیات اور عربی میں ایم اے بھی کیا تھا۔آپ اپنی مادری زبان ہندکو کے ساتھ ساتھ کئی ایک زبانوں پر دسترس رکھتے تھے۔ آپ کو علم الرجال سےبڑی دلچسپی تھی۔مولانا سید  محب اللہ شاہ راشدی ،مولانا سیدبدیع الدین شاہ راشدی ،مولانا عطاءاللہ حنیف بھوجیانی ،مولانا  حافظ عبدالمنان نورپوری ﷭ وغیرہ جیسے عظیم علماء سے  آپ  کو  شرف تلمذ حاصل تھا۔علم الرجال اور احادیث کی تحقیق وتخریج میں  آ پ کی  رائے کو سند کی حیثیت حاصل تھی ۔ شیخ ﷫ نے متعدد علمی و تحقیقی تصانیف  کی  صورت  میں  علمی  ورثہ  چھوڑا ۔اور اس کےعلاوہ کتب احادیث پر تحقیق و تخریج کا کام بھی کیا۔ اور  موصوف  نے سیکڑوں علمی وتحقیقی مضامین  بھی  لکھے   جو  ان کے   جاری کردہ  مجلہ  ’’الحدیث‘‘ کے  علاوہ  ماہنامہ محدث ،ہفت روزہ الاعتصام ودیگر مجلات ورسائل میں  شائع ہوتے رہے ۔آپ  نے تصنیفی  وصحافتی خدمات کے علاوہ ابطال باطل کے لئے مناظرے بھی کئے،بلکہ مناظروں کے لئے دور دراز کا سفر بھی کیا۔بہرحال وہ علم کا پہاڑ تھے۔ اللہ انکے درجات بلند فرمائے۔ملک بھر  سےطلبہ کی کثیر تعداد نے آپ سے استفادہ کیا۔  آپ کے  شاگردوں  میں مولانا حافظ ندیم ظہیر﷾،مولانا حافظ شیر محمد﷾،مولانا صدیق رضا﷾، مولانا غلام مصطفی ظہیر امن پوری ﷾ وغیرہ کے  اسمائے گرامی  قابل ذکر ہیں۔موصوف  ﷫10نومبر2013ء بروز اتوار  طویل علالت کےبعد اپنی خالق حقیقی جاملے ۔شیخ ﷫ کا نمازِ جنازہ ان کے آبائی گاؤں میں فضیلۃ الشیخ حافظ عبدالحمید ازہر﷾نے پڑھایا۔نماز جنازہ میں علماء،طلباء سمیت کثیر تعداد نے شرکت کی۔ان  کی رحلت  پر   کئی مجلات ورسائل میں  ان کی حیات وخدمات کے حوالے سے مختلف اہل علم  کے  مضامین شائع ہوئے ۔شیخ موصوف کے جاری کردہ مجلہ’’الحدیث‘‘ کے ذمہ داران نے    شیخ کی  حیات وخدمات پر مشتمل  ’’الحدیث ‘‘کا خاص نمبر نکالنے کا اعلان کیا تھا  ۔ ناجانے کیوں اس    رسالے کی اشاعتِ خاص ابھی تک شائع نہ ہوسکی ۔ زیر نظر  کتاب ’’ تحقیقی ،علمی  واصلاحی مقالات ‘‘جو کہ ضخیم  چھ جلدوں  پر مشتمل ہے  او رشیخ کے ان تحقیقی وعلمی مضامین کامجموعہ  جو    مختلف علمی مجلات بالخصوص  الحدیث حضرو  میں مسلسل شائع ہوتے رہے ۔ جنہیں    بڑی محنت سے  عام فہم انداز میں موضوعاتی ترتیب،  ابواب بندی اور فہارس کے  ساتھ مرتب کیاگیا  اور  مولانا محمد سرور عاصم ﷾نے اعلیٰ معیار اور بہترین طرز پر شائع کیا۔ شیخ   کے  تلمیذ خاص  حافظ ندیم  ظہیر ﷾ کی زیر  نگرانی   ان مقالات کی ترتیب وتبویب کا مزید کام جاری ہے۔اللہ  تعالیٰ اس کتاب کو عوام وخواص کے لیے  مفید اورمصنف وناشرین کےلیے  ذریعۂ نجات بنائے  ۔(آمین)زیر نظر نسخہ   الکتاب انٹرنیشنل ،دہلی سے  طبع شدہ ہے(م۔ا)

     نوٹ:

    محدث فورم میں اس کتاب پر تبصرہ کرنے کے لیے یہاں کلک کریں

    مکمل کتاب ڈاؤن لوڈ کرنے کے لیے یہاں کلک کریں

  • title-pages-maqalat-tehqiqi-islahi-aur-ilmi-1-copy
    حافظ زبیر علی زئی

    محدث  العصر  حافظ زبیر علی زئی﷫ 25جون 1957ء کو حضرو، ضلع اٹک میں پیدا ہوئے۔ آپ نےتین سے چار ماہ میں قرآن مجید حفظ کیا ۔ دینی  علوم  کے  حصول کے لیے   جامعہ محمدیہ گوجرانوالہ  میں  داخل ہوئے  اور سند فراغت حاصل کی ۔وفاق المدارس السلفیہ سے الشھادۃ العالمیہ بھی حاصل کی ۔نیز آپ نے پنجاب یونیورسٹی سے اسلامیات اور عربی میں ایم اے بھی کیا تھا۔آپ اپنی مادری زبان ہندکو کے ساتھ ساتھ کئی ایک زبانوں پر دسترس رکھتے تھے۔ آپ کو علم الرجال سےبڑی دلچسپی تھی۔مولانا سید  محب اللہ شاہ راشدی ،مولانا سیدبدیع الدین شاہ راشدی ،مولانا عطاءاللہ حنیف بھوجیانی ،مولانا  حافظ عبدالمنان نورپوری ﷭ وغیرہ جیسے عظیم علماء سے  آپ  کو  شرف تلمذ حاصل تھا۔علم الرجال اور احادیث کی تحقیق وتخریج میں  آ پ کی  رائے کو سند کی حیثیت حاصل تھی ۔ شیخ ﷫ نے متعدد علمی و تحقیقی تصانیف  کی  صورت  میں  علمی  ورثہ  چھوڑا ۔اور اس کےعلاوہ کتب احادیث پر تحقیق و تخریج کا کام بھی کیا۔ اور  موصوف  نے سیکڑوں علمی وتحقیقی مضامین  بھی  لکھے   جو  ان کے   جاری کردہ  مجلہ  ’’الحدیث‘‘ کے  علاوہ  ماہنامہ محدث ،ہفت روزہ الاعتصام ودیگر مجلات ورسائل میں  شائع ہوتے رہے ۔آپ  نے تصنیفی  وصحافتی خدمات کے علاوہ ابطال باطل کے لئے مناظرے بھی کئے،بلکہ مناظروں کے لئے دور دراز کا سفر بھی کیا۔بہرحال وہ علم کا پہاڑ تھے۔ اللہ انکے درجات بلند فرمائے۔ملک بھر  سےطلبہ کی کثیر تعداد نے آپ سے استفادہ کیا۔  آپ کے  شاگردوں  میں مولانا حافظ ندیم ظہیر﷾،مولانا حافظ شیر محمد﷾،مولانا صدیق رضا﷾، مولانا غلام مصطفی ظہیر امن پوری ﷾ وغیرہ کے  اسمائے گرامی  قابل ذکر ہیں۔موصوف  ﷫10نومبر2013ء بروز اتوار  طویل علالت کےبعد اپنی خالق حقیقی جاملے ۔شیخ ﷫ کا نمازِ جنازہ ان کے آبائی گاؤں میں فضیلۃ الشیخ حافظ عبدالحمید ازہر﷾نے پڑھایا۔نماز جنازہ میں علماء،طلباء سمیت کثیر تعداد نے شرکت کی۔ان  کی رحلت  پر   کئی مجلات ورسائل میں  ان کی حیات وخدمات کے حوالے سے مختلف اہل علم  کے  مضامین شائع ہوئے ۔شیخ موصوف کے جاری کردہ مجلہ’’الحدیث‘‘ کے ذمہ داران نے    شیخ کی  حیات وخدمات پر مشتمل  ’’الحدیث ‘‘کا خاص نمبر نکالنے کا اعلان کیا تھا  ۔ ناجانے کیوں اس    رسالے کی اشاعتِ خاص ابھی تک شائع نہ ہوسکی ۔ زیر نظر  کتاب ’’ تحقیقی ،علمی  واصلاحی مقالات ‘‘جو کہ ضخیم  چھ جلدوں  پر مشتمل ہے  او رشیخ کے ان تحقیقی وعلمی مضامین کامجموعہ  جو    مختلف علمی مجلات بالخصوص  الحدیث حضرو  میں مسلسل شائع ہوتے رہے ۔ جنہیں    بڑی محنت سے  عام فہم انداز میں موضوعاتی ترتیب،  ابواب بندی اور فہارس کے  ساتھ مرتب کیاگیا  اور  مولانا محمد سرور عاصم ﷾نے اعلیٰ معیار اور بہترین طرز پر شائع کیا۔ شیخ   کے  تلمیذ خاص  حافظ ندیم  ظہیر ﷾ کی زیر  نگرانی   ان مقالات کی ترتیب وتبویب کا مزید کام جاری ہے۔اللہ  تعالیٰ اس کتاب کو عوام وخواص کے لیے  مفید اورمصنف وناشرین کےلیے  ذریعۂ نجات بنائے  ۔(آمین)زیر نظر نسخہ   الکتاب انٹرنیشنل ،دہلی سے  طبع شدہ ہے(م۔ا)

     نوٹ:

    محدث فورم میں اس کتاب پر تبصرہ کرنے کے لیے یہاں کلک کریں

    مکمل کتاب ڈاؤن لوڈ کرنے کے لیے یہاں کلک کریں

  • title-pages-maqalat-tehqiqi-islahi-aur-ilmi-1-copy
    حافظ زبیر علی زئی

    محدث  العصر  حافظ زبیر علی زئی﷫ 25جون 1957ء کو حضرو، ضلع اٹک میں پیدا ہوئے۔ آپ نےتین سے چار ماہ میں قرآن مجید حفظ کیا ۔ دینی  علوم  کے  حصول کے لیے   جامعہ محمدیہ گوجرانوالہ  میں  داخل ہوئے  اور سند فراغت حاصل کی ۔وفاق المدارس السلفیہ سے الشھادۃ العالمیہ بھی حاصل کی ۔نیز آپ نے پنجاب یونیورسٹی سے اسلامیات اور عربی میں ایم اے بھی کیا تھا۔آپ اپنی مادری زبان ہندکو کے ساتھ ساتھ کئی ایک زبانوں پر دسترس رکھتے تھے۔ آپ کو علم الرجال سےبڑی دلچسپی تھی۔مولانا سید  محب اللہ شاہ راشدی ،مولانا سیدبدیع الدین شاہ راشدی ،مولانا عطاءاللہ حنیف بھوجیانی ،مولانا  حافظ عبدالمنان نورپوری ﷭ وغیرہ جیسے عظیم علماء سے  آپ  کو  شرف تلمذ حاصل تھا۔علم الرجال اور احادیث کی تحقیق وتخریج میں  آ پ کی  رائے کو سند کی حیثیت حاصل تھی ۔ شیخ ﷫ نے متعدد علمی و تحقیقی تصانیف  کی  صورت  میں  علمی  ورثہ  چھوڑا ۔اور اس کےعلاوہ کتب احادیث پر تحقیق و تخریج کا کام بھی کیا۔ اور  موصوف  نے سیکڑوں علمی وتحقیقی مضامین  بھی  لکھے   جو  ان کے   جاری کردہ  مجلہ  ’’الحدیث‘‘ کے  علاوہ  ماہنامہ محدث ،ہفت روزہ الاعتصام ودیگر مجلات ورسائل میں  شائع ہوتے رہے ۔آپ  نے تصنیفی  وصحافتی خدمات کے علاوہ ابطال باطل کے لئے مناظرے بھی کئے،بلکہ مناظروں کے لئے دور دراز کا سفر بھی کیا۔بہرحال وہ علم کا پہاڑ تھے۔ اللہ انکے درجات بلند فرمائے۔ملک بھر  سےطلبہ کی کثیر تعداد نے آپ سے استفادہ کیا۔  آپ کے  شاگردوں  میں مولانا حافظ ندیم ظہیر﷾،مولانا حافظ شیر محمد﷾،مولانا صدیق رضا﷾، مولانا غلام مصطفی ظہیر امن پوری ﷾ وغیرہ کے  اسمائے گرامی  قابل ذکر ہیں۔موصوف  ﷫10نومبر2013ء بروز اتوار  طویل علالت کےبعد اپنی خالق حقیقی جاملے ۔شیخ ﷫ کا نمازِ جنازہ ان کے آبائی گاؤں میں فضیلۃ الشیخ حافظ عبدالحمید ازہر﷾نے پڑھایا۔نماز جنازہ میں علماء،طلباء سمیت کثیر تعداد نے شرکت کی۔ان  کی رحلت  پر   کئی مجلات ورسائل میں  ان کی حیات وخدمات کے حوالے سے مختلف اہل علم  کے  مضامین شائع ہوئے ۔شیخ موصوف کے جاری کردہ مجلہ’’الحدیث‘‘ کے ذمہ داران نے    شیخ کی  حیات وخدمات پر مشتمل  ’’الحدیث ‘‘کا خاص نمبر نکالنے کا اعلان کیا تھا  ۔ ناجانے کیوں اس    رسالے کی اشاعتِ خاص ابھی تک شائع نہ ہوسکی ۔ زیر نظر  کتاب ’’ تحقیقی ،علمی  واصلاحی مقالات ‘‘جو کہ ضخیم  چھ جلدوں  پر مشتمل ہے  او رشیخ کے ان تحقیقی وعلمی مضامین کامجموعہ  جو    مختلف علمی مجلات بالخصوص  الحدیث حضرو  میں مسلسل شائع ہوتے رہے ۔ جنہیں    بڑی محنت سے  عام فہم انداز میں موضوعاتی ترتیب،  ابواب بندی اور فہارس کے  ساتھ مرتب کیاگیا  اور  مولانا محمد سرور عاصم ﷾نے اعلیٰ معیار اور بہترین طرز پر شائع کیا۔ شیخ   کے  تلمیذ خاص  حافظ ندیم  ظہیر ﷾ کی زیر  نگرانی   ان مقالات کی ترتیب وتبویب کا مزید کام جاری ہے۔اللہ  تعالیٰ اس کتاب کو عوام وخواص کے لیے  مفید اورمصنف وناشرین کےلیے  ذریعۂ نجات بنائے  ۔(آمین)زیر نظر نسخہ   الکتاب انٹرنیشنل ،دہلی سے  طبع شدہ ہے(م۔ا)

     نوٹ:

    محدث فورم میں اس کتاب پر تبصرہ کرنے کے لیے یہاں کلک کریں

    مکمل کتاب ڈاؤن لوڈ کرنے کے لیے یہاں کلک کریں

  • title-pages-maqalat-tehqiqi-islahi-aur-ilmi-1-copy
    حافظ زبیر علی زئی

    محدث  العصر  حافظ زبیر علی زئی﷫ 25جون 1957ء کو حضرو، ضلع اٹک میں پیدا ہوئے۔ آپ نےتین سے چار ماہ میں قرآن مجید حفظ کیا ۔ دینی  علوم  کے  حصول کے لیے   جامعہ محمدیہ گوجرانوالہ  میں  داخل ہوئے  اور سند فراغت حاصل کی ۔وفاق المدارس السلفیہ سے الشھادۃ العالمیہ بھی حاصل کی ۔نیز آپ نے پنجاب یونیورسٹی سے اسلامیات اور عربی میں ایم اے بھی کیا تھا۔آپ اپنی مادری زبان ہندکو کے ساتھ ساتھ کئی ایک زبانوں پر دسترس رکھتے تھے۔ آپ کو علم الرجال سےبڑی دلچسپی تھی۔مولانا سید  محب اللہ شاہ راشدی ،مولانا سیدبدیع الدین شاہ راشدی ،مولانا عطاءاللہ حنیف بھوجیانی ،مولانا  حافظ عبدالمنان نورپوری ﷭ وغیرہ جیسے عظیم علماء سے  آپ  کو  شرف تلمذ حاصل تھا۔علم الرجال اور احادیث کی تحقیق وتخریج میں  آ پ کی  رائے کو سند کی حیثیت حاصل تھی ۔ شیخ ﷫ نے متعدد علمی و تحقیقی تصانیف  کی  صورت  میں  علمی  ورثہ  چھوڑا ۔اور اس کےعلاوہ کتب احادیث پر تحقیق و تخریج کا کام بھی کیا۔ اور  موصوف  نے سیکڑوں علمی وتحقیقی مضامین  بھی  لکھے   جو  ان کے   جاری کردہ  مجلہ  ’’الحدیث‘‘ کے  علاوہ  ماہنامہ محدث ،ہفت روزہ الاعتصام ودیگر مجلات ورسائل میں  شائع ہوتے رہے ۔آپ  نے تصنیفی  وصحافتی خدمات کے علاوہ ابطال باطل کے لئے مناظرے بھی کئے،بلکہ مناظروں کے لئے دور دراز کا سفر بھی کیا۔بہرحال وہ علم کا پہاڑ تھے۔ اللہ انکے درجات بلند فرمائے۔ملک بھر  سےطلبہ کی کثیر تعداد نے آپ سے استفادہ کیا۔  آپ کے  شاگردوں  میں مولانا حافظ ندیم ظہیر﷾،مولانا حافظ شیر محمد﷾،مولانا صدیق رضا﷾، مولانا غلام مصطفی ظہیر امن پوری ﷾ وغیرہ کے  اسمائے گرامی  قابل ذکر ہیں۔موصوف  ﷫10نومبر2013ء بروز اتوار  طویل علالت کےبعد اپنی خالق حقیقی جاملے ۔شیخ ﷫ کا نمازِ جنازہ ان کے آبائی گاؤں میں فضیلۃ الشیخ حافظ عبدالحمید ازہر﷾نے پڑھایا۔نماز جنازہ میں علماء،طلباء سمیت کثیر تعداد نے شرکت کی۔ان  کی رحلت  پر   کئی مجلات ورسائل میں  ان کی حیات وخدمات کے حوالے سے مختلف اہل علم  کے  مضامین شائع ہوئے ۔شیخ موصوف کے جاری کردہ مجلہ’’الحدیث‘‘ کے ذمہ داران نے    شیخ کی  حیات وخدمات پر مشتمل  ’’الحدیث ‘‘کا خاص نمبر نکالنے کا اعلان کیا تھا  ۔ ناجانے کیوں اس    رسالے کی اشاعتِ خاص ابھی تک شائع نہ ہوسکی ۔ زیر نظر  کتاب ’’ تحقیقی ،علمی  واصلاحی مقالات ‘‘جو کہ ضخیم  چھ جلدوں  پر مشتمل ہے  او رشیخ کے ان تحقیقی وعلمی مضامین کامجموعہ  جو    مختلف علمی مجلات بالخصوص  الحدیث حضرو  میں مسلسل شائع ہوتے رہے ۔ جنہیں    بڑی محنت سے  عام فہم انداز میں موضوعاتی ترتیب،  ابواب بندی اور فہارس کے  ساتھ مرتب کیاگیا  اور  مولانا محمد سرور عاصم ﷾نے اعلیٰ معیار اور بہترین طرز پر شائع کیا۔ شیخ   کے  تلمیذ خاص  حافظ ندیم  ظہیر ﷾ کی زیر  نگرانی   ان مقالات کی ترتیب وتبویب کا مزید کام جاری ہے۔اللہ  تعالیٰ اس کتاب کو عوام وخواص کے لیے  مفید اورمصنف وناشرین کےلیے  ذریعۂ نجات بنائے  ۔(آمین)زیر نظر نسخہ   الکتاب انٹرنیشنل ،دہلی سے  طبع شدہ ہے(م۔ا)

     نوٹ:

    محدث فورم میں اس کتاب پر تبصرہ کرنے کے لیے یہاں کلک کریں

    مکمل کتاب ڈاؤن لوڈ کرنے کے لیے یہاں کلک کریں

  • title-pages-maqalat-tehqiqi-islahi-aur-ilmi-1-copy
    حافظ زبیر علی زئی

    محدث  العصر  حافظ زبیر علی زئی﷫ 25جون 1957ء کو حضرو، ضلع اٹک میں پیدا ہوئے۔ آپ نےتین سے چار ماہ میں قرآن مجید حفظ کیا ۔ دینی  علوم  کے  حصول کے لیے   جامعہ محمدیہ گوجرانوالہ  میں  داخل ہوئے  اور سند فراغت حاصل کی ۔وفاق المدارس السلفیہ سے الشھادۃ العالمیہ بھی حاصل کی ۔نیز آپ نے پنجاب یونیورسٹی سے اسلامیات اور عربی میں ایم اے بھی کیا تھا۔آپ اپنی مادری زبان ہندکو کے ساتھ ساتھ کئی ایک زبانوں پر دسترس رکھتے تھے۔ آپ کو علم الرجال سےبڑی دلچسپی تھی۔مولانا سید  محب اللہ شاہ راشدی ،مولانا سیدبدیع الدین شاہ راشدی ،مولانا عطاءاللہ حنیف بھوجیانی ،مولانا  حافظ عبدالمنان نورپوری ﷭ وغیرہ جیسے عظیم علماء سے  آپ  کو  شرف تلمذ حاصل تھا۔علم الرجال اور احادیث کی تحقیق وتخریج میں  آ پ کی  رائے کو سند کی حیثیت حاصل تھی ۔ شیخ ﷫ نے متعدد علمی و تحقیقی تصانیف  کی  صورت  میں  علمی  ورثہ  چھوڑا ۔اور اس کےعلاوہ کتب احادیث پر تحقیق و تخریج کا کام بھی کیا۔ اور  موصوف  نے سیکڑوں علمی وتحقیقی مضامین  بھی  لکھے   جو  ان کے   جاری کردہ  مجلہ  ’’الحدیث‘‘ کے  علاوہ  ماہنامہ محدث ،ہفت روزہ الاعتصام ودیگر مجلات ورسائل میں  شائع ہوتے رہے ۔آپ  نے تصنیفی  وصحافتی خدمات کے علاوہ ابطال باطل کے لئے مناظرے بھی کئے،بلکہ مناظروں کے لئے دور دراز کا سفر بھی کیا۔بہرحال وہ علم کا پہاڑ تھے۔ اللہ انکے درجات بلند فرمائے۔ملک بھر  سےطلبہ کی کثیر تعداد نے آپ سے استفادہ کیا۔  آپ کے  شاگردوں  میں مولانا حافظ ندیم ظہیر﷾،مولانا حافظ شیر محمد﷾،مولانا صدیق رضا﷾، مولانا غلام مصطفی ظہیر امن پوری ﷾ وغیرہ کے  اسمائے گرامی  قابل ذکر ہیں۔موصوف  ﷫10نومبر2013ء بروز اتوار  طویل علالت کےبعد اپنی خالق حقیقی جاملے ۔شیخ ﷫ کا نمازِ جنازہ ان کے آبائی گاؤں میں فضیلۃ الشیخ حافظ عبدالحمید ازہر﷾نے پڑھایا۔نماز جنازہ میں علماء،طلباء سمیت کثیر تعداد نے شرکت کی۔ان  کی رحلت  پر   کئی مجلات ورسائل میں  ان کی حیات وخدمات کے حوالے سے مختلف اہل علم  کے  مضامین شائع ہوئے ۔شیخ موصوف کے جاری کردہ مجلہ’’الحدیث‘‘ کے ذمہ داران نے    شیخ کی  حیات وخدمات پر مشتمل  ’’الحدیث ‘‘کا خاص نمبر نکالنے کا اعلان کیا تھا  ۔ ناجانے کیوں اس    رسالے کی اشاعتِ خاص ابھی تک شائع نہ ہوسکی ۔ زیر نظر  کتاب ’’ تحقیقی ،علمی  واصلاحی مقالات ‘‘جو کہ ضخیم  چھ جلدوں  پر مشتمل ہے  او رشیخ کے ان تحقیقی وعلمی مضامین کامجموعہ  جو    مختلف علمی مجلات بالخصوص  الحدیث حضرو  میں مسلسل شائع ہوتے رہے ۔ جنہیں    بڑی محنت سے  عام فہم انداز میں موضوعاتی ترتیب،  ابواب بندی اور فہارس کے  ساتھ مرتب کیاگیا  اور  مولانا محمد سرور عاصم ﷾نے اعلیٰ معیار اور بہترین طرز پر شائع کیا۔ شیخ   کے  تلمیذ خاص  حافظ ندیم  ظہیر ﷾ کی زیر  نگرانی   ان مقالات کی ترتیب وتبویب کا مزید کام جاری ہے۔اللہ  تعالیٰ اس کتاب کو عوام وخواص کے لیے  مفید اورمصنف وناشرین کےلیے  ذریعۂ نجات بنائے  ۔(آمین)زیر نظر نسخہ   الکتاب انٹرنیشنل ،دہلی سے  طبع شدہ ہے(م۔ا)

     نوٹ:

    محدث فورم میں اس کتاب پر تبصرہ کرنے کے لیے یہاں کلک کریں

    مکمل کتاب ڈاؤن لوڈ کرنے کے لیے یہاں کلک کریں

  • title-pages-maqalat-tehqiqi-islahi-aur-ilmi-1-copy
    حافظ زبیر علی زئی

    محدث  العصر  حافظ زبیر علی زئی﷫ 25جون 1957ء کو حضرو، ضلع اٹک میں پیدا ہوئے۔ آپ نےتین سے چار ماہ میں قرآن مجید حفظ کیا ۔ دینی  علوم  کے  حصول کے لیے   جامعہ محمدیہ گوجرانوالہ  میں  داخل ہوئے  اور سند فراغت حاصل کی ۔وفاق المدارس السلفیہ سے الشھادۃ العالمیہ بھی حاصل کی ۔نیز آپ نے پنجاب یونیورسٹی سے اسلامیات اور عربی میں ایم اے بھی کیا تھا۔آپ اپنی مادری زبان ہندکو کے ساتھ ساتھ کئی ایک زبانوں پر دسترس رکھتے تھے۔ آپ کو علم الرجال سےبڑی دلچسپی تھی۔مولانا سید  محب اللہ شاہ راشدی ،مولانا سیدبدیع الدین شاہ راشدی ،مولانا عطاءاللہ حنیف بھوجیانی ،مولانا  حافظ عبدالمنان نورپوری ﷭ وغیرہ جیسے عظیم علماء سے  آپ  کو  شرف تلمذ حاصل تھا۔علم الرجال اور احادیث کی تحقیق وتخریج میں  آ پ کی  رائے کو سند کی حیثیت حاصل تھی ۔ شیخ ﷫ نے متعدد علمی و تحقیقی تصانیف  کی  صورت  میں  علمی  ورثہ  چھوڑا ۔اور اس کےعلاوہ کتب احادیث پر تحقیق و تخریج کا کام بھی کیا۔ اور  موصوف  نے سیکڑوں علمی وتحقیقی مضامین  بھی  لکھے   جو  ان کے   جاری کردہ  مجلہ  ’’الحدیث‘‘ کے  علاوہ  ماہنامہ محدث ،ہفت روزہ الاعتصام ودیگر مجلات ورسائل میں  شائع ہوتے رہے ۔آپ  نے تصنیفی  وصحافتی خدمات کے علاوہ ابطال باطل کے لئے مناظرے بھی کئے،بلکہ مناظروں کے لئے دور دراز کا سفر بھی کیا۔بہرحال وہ علم کا پہاڑ تھے۔ اللہ انکے درجات بلند فرمائے۔ملک بھر  سےطلبہ کی کثیر تعداد نے آپ سے استفادہ کیا۔  آپ کے  شاگردوں  میں مولانا حافظ ندیم ظہیر﷾،مولانا حافظ شیر محمد﷾،مولانا صدیق رضا﷾، مولانا غلام مصطفی ظہیر امن پوری ﷾ وغیرہ کے  اسمائے گرامی  قابل ذکر ہیں۔موصوف  ﷫10نومبر2013ء بروز اتوار  طویل علالت کےبعد اپنی خالق حقیقی جاملے ۔شیخ ﷫ کا نمازِ جنازہ ان کے آبائی گاؤں میں فضیلۃ الشیخ حافظ عبدالحمید ازہر﷾نے پڑھایا۔نماز جنازہ میں علماء،طلباء سمیت کثیر تعداد نے شرکت کی۔ان  کی رحلت  پر   کئی مجلات ورسائل میں  ان کی حیات وخدمات کے حوالے سے مختلف اہل علم  کے  مضامین شائع ہوئے ۔شیخ موصوف کے جاری کردہ مجلہ’’الحدیث‘‘ کے ذمہ داران نے    شیخ کی  حیات وخدمات پر مشتمل  ’’الحدیث ‘‘کا خاص نمبر نکالنے کا اعلان کیا تھا  ۔ ناجانے کیوں اس    رسالے کی اشاعتِ خاص ابھی تک شائع نہ ہوسکی ۔ زیر نظر  کتاب ’’ تحقیقی ،علمی  واصلاحی مقالات ‘‘جو کہ ضخیم  چھ جلدوں  پر مشتمل ہے  او رشیخ کے ان تحقیقی وعلمی مضامین کامجموعہ  جو    مختلف علمی مجلات بالخصوص  الحدیث حضرو  میں مسلسل شائع ہوتے رہے ۔ جنہیں    بڑی محنت سے  عام فہم انداز میں موضوعاتی ترتیب،  ابواب بندی اور فہارس کے  ساتھ مرتب کیاگیا  اور  مولانا محمد سرور عاصم ﷾نے اعلیٰ معیار اور بہترین طرز پر شائع کیا۔ شیخ   کے  تلمیذ خاص  حافظ ندیم  ظہیر ﷾ کی زیر  نگرانی   ان مقالات کی ترتیب وتبویب کا مزید کام جاری ہے۔اللہ  تعالیٰ اس کتاب کو عوام وخواص کے لیے  مفید اورمصنف وناشرین کےلیے  ذریعۂ نجات بنائے  ۔(آمین)زیر نظر نسخہ   الکتاب انٹرنیشنل ،دہلی سے  طبع شدہ ہے(م۔ا)

     نوٹ:

    محدث فورم میں اس کتاب پر تبصرہ کرنے کے لیے یہاں کلک کریں

    مکمل کتاب ڈاؤن لوڈ کرنے کے لیے یہاں کلک کریں

  • pages-from-tarjamaan-ahl-e-hadees
    عبد المنان راسخ

    خطابت اللہ تعالیٰ کی عطاکردہ،خاص استعداد وصلاحیت کا نام ہے جس کےذریعے ایک مبلغ اپنے مافی الضمیر کے اظہار ،اپنے جذبات واحساسات دوسروں تک منتقل کرنے اور عوام الناس کو اپنے افکار ونظریات کا قائل بنانے کے لیے استعمال کرتا ہے ۔ایک قادر الکلام خطیب اور شاندار مقرر مختصر وقت میں ہزاروں ،لاکھوں افراد تک اپنا پیغام پہنچا سکتا ہے اوراپنے   عقائد ونظریات ان تک منتقل کرسکتا ہے۔خطابت صرف فن ہی نہیں ہے بلکہ اسلام میں خطابت اعلیٰ درجہ کی عبادت اورعظیم الشان سعادت ہے۔خوش نصیب ہیں وہ ہستیاں جن کومیدانِ خطابت کے لیے پسند کیا جاتا ہے۔شعلہ نوا خطباء حالات کادھارا بدل دیتے ہیں،ہواؤں کےرخ تبدیل کردیتے ،معاشروں میں انقلاب بپا کردیتے ہیں ۔تاریخ کےہر دورمیں خطابت کو مہتم بالشان اور قابل فخر فن کی حیثیت حاصل رہی ہے اور اقوام وملل او رقبائل کے امراء وزعما کے لیے فصیح اللسان خطیب ہونا لازمی امرتھا۔قبل از اسلام زمانہ جاہلیت کی تاریخ پر سرسری نگاہ ڈالیں تو اس دور میں بھی ہمیں کئی معروف ِ زمانہ فصیح اللسان اور سحر بیان خطباء اس فن کی بلندیوں کو چھوتے ہوئے نظرآتے ہیں۔دورِ اسلام میں فنِ خطابت اپنے اوج کمال تک پہنچ گیا تھا ۔نبی کریم ﷺ خود سحرآفرین اور دلنشیں اندازِ خطابت اور حسنِ خطابت کی تمام خوبیوں سے متصف تھے ۔اللہ تعالیٰ نے ہر دور میں وراثتِ نبوی کے تحفظ اور تبلیغِ دین کےلیے ایسی نابغۂ روز گار اور فرید العصر شخصیات کو پیدا فرمایا کہ جنہوں نے اللہ تعالی کی عطا کردہ صلاحیتوں اور اس کے ودیعت کردہ ملکۂ خطابت سے بھر پور استفادہ کرتے ہوئے پر زور انداز میں دعوت حق کوپیش کیا اور لوگوں کے قلوب واذہان کو کتاب وسنت کے نور سے منور کیا ۔ ماضی قریب میں امام الہند مولانا ابو الکلام آزاد، سیدابو بکر غزنوی، آغا شورش کاشمیری، سید عطاء اللہ بخاری ، حافظ محمد اسماعیل روپڑی،مولانا محمد جونا گڑھی ﷭ وغیرہم کا شمار میدان خطابت کے شہسواروں میں ہوتا ہے ۔اور خطیبِ ملت علامہ احسان الٰہی ظہیر شہید﷫ میدان ِ خطابت کے وہ شہسوار ہیں جنہوں نے اللہ کی توفیق سے ایک نیا طرزِ خطابت ایجاد کیا ۔اور شیخ القرآن مولانا محمدحسین شیخوپوری گلستانِ کتاب وسنت کے وہ بلبل شیدا ہیں کہ دنیا انہیں خطیبِ پاکستان کے لقب سے یاد کرتی ہے۔خطباء ومبلغین اور دعاۃِ اسلام کےلیے زادِراہ ،علمی مواد اور منہج سلف صالحین کےمطابق معلومات کاذخیرہ فراہم کرنا یقیناً عظیم عمل اوردینِ حق کی بہت بڑی خدمت ہے اور واعظین ومبلغین کا بطریق احسن علمی تعاون ہے ۔اس لیے علماء نے ہر دور میں یہ رزیں کارنامہ سرانجام دینے کی کوشش کی ہے تاکہ وہ خطباء ودعاۃ جن کے پاس مصادر ومراجع میسر نہیں یا جن کے پاس وقت کی قلت ہے ان کے لیے خطباء کی تیاری کےلیے آسانی   ہوسکے ۔ماضی قریب میں اردوزبان میں خطبات کے مجموعہ جات میں اسلامی خطبات از مولانا عبدالسلام بستوی  ، خطباتِ محمدی از مولانا محمد جونا گڑھی ،خطبات ِنبوی از مولانا محمد داؤد راز اور بعض اہل علم کے ذاتی نام سے (خطبات آزاد ،خطبات علامہ احسان الٰہی ظہیر ، خطبات یزدانی ،مواعظ طارق وغیرہ ) خطبات کے مجموعات قابلِ ذکر ہیں ۔اور عربی زبان میں خطباء واعظین حضرات کے لیے   12 ضخیم مجلدات پر مشتمل   ’’نضرۃ النعیم ‘‘انتہائی عمدہ کتاب ہے ۔ فاضل نوجوان مولانا عبد المنان راسخ کی کتب(منہاج الخطیب،ترجمان الخطیب) اسلامی وعلمی خطبات کی کتابوں کی لسٹ میں گراں قدر اضافہ ہے۔ زیر نظر کتاب ’’ترجمان الخطیب‘‘ محترم مولانا ابو الحسن عبدالمنان راسخ ﷾( مصنف کتب کثیرہ) کی تصنیف ہے جوکہ علماء خطبا اورواعظین کےلیے چودہ علمی وتحقیقی خطبات کا نادر مجموعہ ہے۔ خطباء اور واعظین حضرات کے لیے مصنف کا تحریرکردہ طویل مقدمہ بھی انتہائی لائق مطالعہ ہے۔ مولانا راسخ صاحب تقریبا دو درجن کتب کےمصنف ہے ۔ موصوف جامعہ اسلامیہ ،صادق آباد کے فیض یافتہ ہیں اور مولانا حافظ ثناء اللہ زاہدی﷾ کے مایۂ ناز قابل شاگردوں میں شمار ہوتے ہیں ۔تبلیغی واصلاحی موضوعات کے علاوہ علمی وتحقیقی موضوعات کو بیان کرنے اور تحریر کی کامل دسترس رکھتے ہیں۔ موصوف جامعہ اسلامیہ،صادق آبادسے فراغت کےبعد شروع شروع میں مجلس التحقیق الاسلامی ، لاہور میں حافظ عبد الرحمن مدنی﷾ کی زیر نگرانی بھی علمی وتحقیقی خدمات سرانجام دیتے رہے ۔ موصوف ایک اچھے مصنف ہونے کے ساتھ ساتھ بڑے اچھے خطیب اور واعظ بھی ہیں ۔ اور عرصہ دراز سے فیصل آباد میں خطابت کافریضہ انجام دے رہے ہیں ۔اللہ تعالیٰ ان کی تبلیغی واصلاحی ،تصنیفی خدمات کو شرف قبولیت سے نوازے،ان کے علم وعمل اور زور قلم میں اضافہ فرمائے ۔اور ان کی تمام کتب کوعوام الناس کےلیےنفع بخش بنائے (آمین)۔م۔ا) خطبات و مقالات

  • title-pages-taqareer-w-khatabat-sayyad-abu-bakar-gazanwi-copy
    پروفیسر سید ابوبکر غزنوی

    پروفیسر سید ابو بکر غزنوی﷫ پا ک وہندکے ایک ایسے گھرانے سے تعلق رکھتے تھے جو اپنےعلمی عملی اور اصلاحی کا رناموں کے بدولت منفر د و ممتاز حیثیت رکھتا ہے اور جس کی دینی وسیاسی خدمات اس سرزمین میں مسلمانوں کے تاریخ کا ایک زریں باب ہیں۔اس خطۂ ارضی میں ان کے مورث اعلیٰ سید عبداللہ غزنوی ﷫اپنے علم وفضل اور زہد وتقویٰ کی وجہ سے وقت کے امام مانے جاتے تھے اور لوگ بلا امتیاز ان کا احترام کرتے تھے۔ ان کے والد ماجد مولانا سید داؤد غزنوی﷫ کی عملی وسیاسی زندگی بھی تاریخ اہل حدیث کا ایک سنہرا باب ہے ۔سید ابوبکر غزنوی ﷫ بھی ایک ثقہ عالم دین ،نکتہ رس طبیعت کے مالک اور دین کےمزاج شناس تھے ۔مولانا سید غزنوی فطرتاً علم دوست مطالعہ پسند اور کم آمیز قسم کےآدمی تھے۔جن لوگوں نے ان کا بچپن دیکھا ہے وہ جانتے ہیں کہ کتاب ومطالعہ سے ان کا کتنا گہرا دلی تعلق تھا۔اردو فارسی ،انگریزی اور عربی زبان پرپوری دسترس رکھتے تھے انھوں نے پنجاب یونیورسٹی میں ایم اے عربی کا امتحان دیا توصوبہ بھر میں اول رہے۔ پروفیسر ابوبکر غزنوی نے اپنی تدریسی زندگی کا آغاز اسلامیہ کالج ریلوے روڈ میں عربی کے لیکچرر کی حیثیت سے کیا۔اس کے تھوڑے ہی عرصے بعد اسلامیہ کالج سول لائنز کو ڈگری کالج کی حیثیت حاصل ہوگئی تو موصوف شعبہ عربی کے صدر بن کر وہاں منتقل ہوگئے ۔اور اس کے ساتھ ساتھ یونیورسٹی اورنٹیل کالج میں عربی کےخصوصی لیکچر بھی دیتےتھے۔ اس کے بعد جلد ہی انجینیرنگ یونیورسٹی لاہور نے اپنے دروازے ان کے لیے کھول دیے اور شعبہ اسلامیات کے صدر کی حیثیت سے وہاں اٹھ گئے ۔اس کے بعد بہالپور یونیورسٹی میں وائس چانسلر کے طور پر ان کا تقرر ہوا اور ابھی وہ یونیورسٹی کےاصلاح وترقی کے پرگراموں پر عمل کراہی رہےتھے اور یونیورسٹی کامعیار بلند ہورہا تھا کہ موت آگئی اور وہ اللہ کو عزیز ہوگئے۔مولانا سید ابوبکر غزنوی ﷫ کی ذات متعدد اوصافِ فاضلہ کامجموعہ تھی ۔اور سید صاحب جدید وقدیم علوم پر یکساں دسترس رکھتے تھے آپ کی شخصیت مغربی علوم وفنون اور تہذیب وتمدن سے خو ب آگاہ تھی ۔ سید صاحب نے اپنے خطبات اور تحریروں کے ذریعے دین کے تمام پہلوؤں کا احاطہ کیا ۔ زیر تبصرہ کتاب ’’ تقاریر وخطبات سید ابو بکر غزنوی﷫ ‘‘سید صاحب کے مختلف تقایر وخطابات کا مجموعہ ہے ۔یہ خطبات مولانا نے مختلف اہم مواقع پر ارشاد فرمائے ان میں مولانا کو وہ خطبات بھی شامل ہیں جوانہوں 1965ء کی جنگ کےسلسلے میں ارشاد فرمائے تھے ۔اس مجموعہ میں پہلا خطبہ ماموں کانجن میں اہل حدیث کانفرنس منعقدہ اکتوبر 1975ء میں مولانا کی جانے والی علمی تقریر ہے۔سید صاحب کے ان خطبات کو فاران اکیڈمی نے 1995ء میں شائع کیا ۔اس مجموعہ میں شامل خطبات کے عنوانات حسب ذیل ہیں۔ اتباع رسولﷺ تبلیغ کاایک بھولا ہوا اصول،تعلیم وتزکیہ،اس دنیا میں اللہ کاقانون جزا وسزا،اقوام کے عروج وزوال کے بارے میں ضابطۂ الٰہی،اس دنیا میں عذاب الٰہی کی صورتیں،محمد انقلاب کے چند خط و خال،مسئلہ جہاد کشمیر۔ یہ سیدصاحب کا وہ خطبہ جمعہ ہے جوانہوں نے 20 اگست 1965ء کو دار العلوم تقویۃ الاسلام میں ارشاد فرمایا۔اس میں کتاب وسنت کی روشنی میں مسئلہ جہادِ کشیمر کی وضاحت کی گئی ہے،غزوۂ تبوک میں ہمارےلیے سامانِ عبرت ہے،یوم تشکر،فریضہ جہاد کے تقاضے،قوم سےخطاب وقت کی پکار،توحید کےتقاضے،شہدائے پاکستان کو خراج عقیدت قرآن وسنت کی روشنی میں ۔یہ تقریرریڈیو پاکستان لاہور سےدوران جنگ نشر کی گئی۔ اللہ تعالیٰ مرتب وناشر کی اس کاوش کو قبول فرمائے اور سید صاحب کے درجات میں اضافے کا باعث اور قارئین کے لیےنفع بخش بنائے (آمین) (م۔ا)

  • pages-from-khutabaat-e-noor
    ابو حنظلہ محمد نواز چیمہ

    خطابت اللہ تعالیٰ کی عطاکردہ، خاص استعداد و صلاحیت کا نام ہے جس کے ذریعے ایک مبلغ اپنے مافی الضمیر کے اظہار، اپنے جذبات واحساسات دوسروں تک منتقل کرنے اور عوام الناس کو اپنے افکار ونظریات کا قائل بنانے کے لیے استعمال کرتا ہے۔بلاشک وشبہ قدرتِ بیان ایسی نعمت جلیلہ اور ہدیۂ عظمہ ہے جو اللہ تعالیٰ اپنے خاص بندوں کو عطا فرماتا ہے اور خطابت و بیان کے ذریعے انسان قیادت وصدارت کی بلندیوں کوحاصل کرتا ہے۔ جوخطیب کتاب وسنت کے دلائل وبراہین سے مزین خطاب کرتا ہے اس کی بات میں وزن ہوتا ہےجس کاسامعین کے روح و قلب پر اثر پڑتا ہے۔ اور خطبۂ جمعہ کوئی عام درس یا تقریر نہیں بلکہ ایک انتہائی اہم نصیحت ہے جسے شریعتِ اسلامیہ میں فرض قرار دیا گیا ہے۔ یہی وجہ ہےکہ اس میں بہت سارے وہ لوگ بھی شریک ہوتے ہیں جو عام کسی درس و تقریر وغیرہ میں شرکت نہیں کرتے ۔اس لیے خطبا حضرات کے لیے ضروری ہے کہ وہ خطبات میں انتہائی اہم مضامین پر گفتگو فرمائیں جن میں عقائد کی اصلاح، عبادات کی ترغیب، اخلاقِ حسنہ کی تربیت، معاملات میں درستگی، آخرت کا فکر اورتزکیۂ نفس ہو۔ زیر تبصرہ کتاب ’’خطبات نواز جلد اول‘‘ ہر دلعزیز عوامی جناب مولانا محمد نواز چیمہ کے تقریبا 36 اہم موضوعات پر خطبات کا مجموعہ ہے۔ موصوف نے ان خطبات میں دلچسپ اور غیرمشہور واقعات کو باحوالہ درج کیا ہے اور ہرموضوع میں اشعار بھی درج کیے ہیں۔ اور حتی الوسع موضوع اور ضعیف روایات کی نشاندہی کی ہے اور صحیح احادیث و روایات سے عنوان بیان کیے ہیں۔ آیات و احادیث اور واقعات کے مستند کتب سے حوالہ جات بھی نقل کیے۔ کتاب ہذا خطبات نواز کی جلد اول ہے جوکہ ہمیں کسی صاحب نے سائٹ پر پبلش کرنے کے لیے عنایت کی تھی اگر کسی صاحب کے پاس اس کی مزید جلدیں ہوں تو ہمیں پبلش کرنے کے لیے دے دیں تاکہ قارئین اس سے بھی مستفید ہوسکیں۔ (م۔ا)

  • pages-from-teesra-zawiya-ikhtilaaf-se-ittefaq-tak
    پروفیسر حمید اللہ

    آج کا دور علمی تنزلی اورمادیت پرستی کادور ہے۔ خصوصاً دینی علم، المیہ یہ ہے کہ ہمارا معاشرہ روشن خیال اور ترقی پسند تو بن رہا ہے مگر در حقیقت گمراہی اور جہالت کی دلدل میں پھنستا چلا جا رہا ہے۔ محسن انسانیت جناب محمد رسول اللہ ﷺ نے اپنی امت کو ایسی عظیم شاہراہ پر چھوڑا جس کی رات بھی دن کی طرح روشن اور اظہر من الشمس ہے۔ اس بات میں کسی قسم کا کوئی شک نہیں کہ انسان کا سب سے بڑا ازلی دشمن شیطان لعین ہے۔ یہ شیطان ہی ہے جو امت مسلمہ کو صراط مستقیم سے دور کرنے کے لیے ہر طرف سے حملہ آور ہوتا ہے۔ دینی مدارس ویران اور بے آباد نظر آتے ہیں جبکہ کالج، یونیورسٹیاں اور سینما گھر مغربی مناظر کے عکاس بنے ہوئے ہیں۔ والدین کی اکثریت ماڈرن علم کے حصول کو ترجیح دیتی ہے مگر عالم دین نہیں بناتے۔ اس لیے یہ دور مادیت پرستی اور نفسا نفسی کا دور ہے۔ امت مسلمہ اپنی بربادی کا سامان خود تیار کرتی اور اختلافات و انتشار کا شکار نظر آتی ہے۔ شیطان اپنی چالوں اور سعی پرکامیاب ہوتا چلا جا رہا ہے مگر انسانیت غفلت کی چادر اوڑھے اتفاق و اتحاد سے محروم و عاری ہے۔ زیر نظر کتاب"تیسرا زاویہ اختلاف سے اتفاق تک" پروفیسر حمیداللہ کی فکر انگیز تصنیف ہے۔ جس میں موصوف نے امت مسلمہ کو اتفاق و اتحاد کا سبق دیا ہے اور موصوف نے اپنی کتاب میں چند ایک اختلافی مسائل کو زیر بحث لاتے ہوئے میانہ روی کی راہ اختیار کی ہے تاکہ امت مسلمہ یک جاں ہو کر شیطان کی ناپاک چالوں سے محفوظ ہو جائے۔ اللہ تعالیٰ موصوف کی محنت و لگن کو قبول و منظور فرمائے۔آمین(عمیر)

  • pages-from-juma-key-khutbay-noor-ul-ain-salfi
    نور العین سلفی

    دعوت وتبلیغ ، اصلاح وارشاد انبیائی مشن ہے۔ اس کے ذریعہ بندگان اٖلہ کی صحیح رہنمائی ہوتی ہے صحیح عقیدہ کی معرفت اور باطل عقائد وخیالات کی بیخ کنی ہوتی ہے۔ شریعت اور اس کے مسائل سےآگاہی اور رسوم جاہلیت نیز اوہام و خرافات کی جڑیں کٹتی ہیں دعوت، اصلاح وارشاد کے بہت سے وسائل و اسالیب ہیں انہیں میں سے ایک مؤثر ذریعہ دروس وخطابت کا ہے۔ خطابت اللہ تعالیٰ کی عطاکردہ،خاص استعداد وصلاحیت کا نام ہے جس کےذریعے ایک مبلغ اپنے مافی الضمیر کے اظہار ،اپنے جذبات واحساسات دوسروں تک منتقل کرنے اور عوام الناس کو اپنے افکار ونظریات کا قائل بنانے کے لیے استعمال کرتا ہے۔بلاشک و شبہ قدرتِ بیان ایسی نعمت جلیلہ اور ہدیۂ عظمیٰ ہے جو اللہ تعالیٰ اپنے خاص بندوں کوعطا فرماتا ہے اور خطابت وبیان کے ذریعے انسان قیادت وصدارت کی بلندیوں کوحاصل کرتا ہے ۔ جوخطیب کتاب وسنت کے دلائل وبراہین سے مزین خطاب کرتا ہے اس کی بات میں وزن ہوتا ہےجس کاسامعین کے روح و قلب پر اثر پڑتا ہے۔ اور خطبۂ جمعہ کوئی عام درس یا تقریر نہیں بلکہ ایک انتہائی اہم نصیحت ہےجسے شریعتِ اسلامیہ میں فرض قرار دیا گیا ہے۔ یہی وجہ ہےکہ اس میں بہت سارے وہ لوگ بھی شریک ہوتے ہیں جو عام کسی درس وتقریر وغیرہ میں شرکت نہیں کرتے ۔اس لیے خطبا حضرات کے لیےضروری ہے کہ وہ خطبات میں انتہائی اہم مضامین پر گفتگو فرمائیں جن میں عقائد کی اصلاح ، عبادات کی ترغیب، اخلاقِ حسنہ کی تربیت،معاملات میں درستگی،آخرت کا فکر اور تزکیۂ نفس ہو۔ زیر تبصرہ کتاب ’’جمعے کے خطبے‘‘ مولانا نور العین سلفی کی تصنیف ہے۔ اس میں انہوں نے معاشرے کی ضرورت کے اہم موضوعات پر قرآن وسنت کے دلائل سے مزین 24 خطبات پیش کیے ہیں ۔اور کتاب آغاز میں فاضل منصف نے ان حضرات کے لیے کہ جو خود تو خطیب اور عالم نہیں ہوتے لیکن کسی عالم نہ ہونے کی وجہ سے کتاب دیکھ مجبوراً خطبۂ جمعہ کی ذمہ داری ادا کرتے ہیں ان کے لیے خطبہ جمعہ کے دونوں خطبوں میں پڑھے جانے والے عربی الفاظ اور اختتامی کلمات اور دعاؤں کوبھی شامل کردیا ہے۔ اور اس کے بعد خطباء اور سامعین ذمہ داریوں کو بیان کیا ہے۔ یہ جمعہ کے خطبے کی دوسری جلد ہے جس منہاج السنہ ڈاٹ کام سے ڈاؤن لوڈ کرکے کتاب وسنت سائٹ پر پبلش کیا گیا ہے اگر کسی صاحب کے پاس اس کی دوسری جلد ہے تو ہمیں عنائت کردے تاکہ اسے بھی کتاب وسنت سائٹ پر پبلش کیا جاسکے ۔(م۔ا)

  • title-pages-hisan-al-khateeb-copy
    عبد المنان راسخ

    خطابت اللہ تعالیٰ کی عطاکردہ،خاص استعداد وصلاحیت کا نام ہے جس کےذریعے ایک مبلغ اپنے مافی الضمیر کے اظہار ،اپنے جذبات واحساسات دوسروں تک منتقل کرنے اور عوام الناس کو اپنے افکار ونظریات کا قائل بنانے کے لیے استعمال کرتا ہے ۔ایک قادر الکلام خطیب اور شاندار مقرر مختصر وقت میں ہزاروں ،لاکھوں افراد تک اپنا پیغام پہنچا سکتا ہے اوراپنے عقائد ونظریات ان تک منتقل کرسکتا ہے۔خطابت صرف فن ہی نہیں ہے بلکہ اسلام میں خطابت اعلیٰ درجہ کی عبادت اورعظیم الشان سعادت ہے ۔خوش نصیب ہیں وہ ہستیاں جن کومیدانِ خطابت کے لیے پسند کیا جاتا ہے۔شعلہ نوا خطباء حالات کادھارا بدل دیتے ہیں،ہواؤں کےرخ تبدیل کردیتے ،معاشروں میں انقلاب بپا کردیتے ہیں ۔تاریخ کےہر دورمیں خطابت کو مہتم بالشان اور قابل فخر فن کی حیثیت حاصل رہی ہے اور اقوام وملل او رقبائل کے امراء وزعما کے لیے فصیح اللسان خطیب ہونا لازمی امرتھا۔قبل از اسلام زمانہ جاہلیت کی تاریخ پر سرسری نگاہ ڈالیں تو اس دور میں بھی ہمیں کئی معروف ِ زمانہ فصیح اللسان اور سحر بیان خطباء اس فن کی بلندیوں کو چھوتے ہوئے نظرآتے ہیں۔دورِ اسلام میں فنِ خطابت اپنے اوج کمال تک پہنچ گیا تھا ۔نبی کریم ﷺ خود سحرآفرین اور دلنشیں اندازِ خطابت اور حسنِ خطابت کی تمام خوبیوں سے متصف تھے ۔اللہ تعالیٰ نے ہر دور میں وراثتِ نبوی کے تحفظ اور تبلیغِ دین کےلیے ایسی نابغۂ روز گار اور فرید العصر شخصیات کو پیدا فرمایا کہ جنہوں نے اللہ تعالی کی عطا کردہ صلاحیتوں اور اس کے ودیعت کردہ ملکۂ خطابت سے بھر پور استفادہ کرتے ہوئے پر زور انداز میں دعوت حق کوپیش کیا اور لوگوں کے قلوب واذہان کو کتاب وسنت کے نور سے منور کیا ۔ ماضی قریب میں امام الہند مولانا ابو الکلام آزاد، سیدابو بکر غزنوی، آغا شورش کاشمیری، سید عطاء اللہ بخاری ، حافظ محمد اسماعیل روپڑی،مولانا محمد جونا گڑھی ﷭ وغیرہم کا شمار میدان خطابت کے شہسواروں میں ہوتا ہے ۔اور خطیبِ ملت علامہ احسان الٰہی ظہیر شہید﷫ میدان ِ خطابت کے وہ شہسوار ہیں جنہوں نے اللہ کی توفیق سے ایک نیا طرزِ خطابت ایجاد کیا ۔اور شیخ القرآن مولانا محمدحسین شیخوپوری گلستانِ کتاب وسنت کے وہ بلبل شیدا ہیں کہ دنیا انہیں خطیبِ پاکستان کے لقب سے یاد کرتی ہے۔خطباء ومبلغین اور دعاۃِ اسلام کےلیے زادِراہ ،علمی مواد اور منہج سلف صالحین کےمطابق معلومات کاذخیرہ فراہم کرنا یقیناً عظیم عمل اوردینِ حق کی بہت بڑی خدمت ہے اور واعظین ومبلغین کا بطریق احسن علمی تعاون ہے ۔اس لیے علماء نے ہر دور میں یہ رزیں کارنامہ سرانجام دینے کی کوشش کی ہے تاکہ وہ خطباء ودعاۃ جن کے پاس مصادر ومراجع میسر نہیں یا جن کے پاس وقت کی قلت ہے ان کے لیے خطباء کی تیاری کےلیے آسانی ہوسکے ۔ماضی قریب میں اردوزبان میں خطبات کے مجموعہ جات میں اسلامی خطبات از مولانا عبدالسلام بستوی  ، خطباتِ محمدی از مولانا محمد جونا گڑھی ،خطبات ِنبوی از مولانا محمد داؤد راز اور بعض اہل علم کے ذاتی نام سے (خطبات آزاد ،خطبات علامہ احسان الٰہی ظہیر ، خطبات یزدانی ،مواعظ طارق وغیرہ ) خطبات کے مجموعات قابلِ ذکر ہیں ۔اور عربی زبان میں خطباء واعظین حضرات کے لیے 12 ضخیم مجلدات پر مشتمل ’’نضرۃ النعیم ‘‘انتہائی عمدہ کتاب ہے ۔ فاضل نوجوان مولانا عبد المنان راسخ کی کتب(منہاج الخطیب،ترجمان الخطیب وغیرہ ) اسلامی وعلمی خطبات کی کتابوں کی لسٹ میں گراں قدر اضافہ ہے ۔ زیر نظر کتاب ’’حصن الخطیب‘‘ محترم مولانا ابو الحسن عبدالمنان راسخ ﷾( مصنف کتب کثیرہ) کی مرتب شدہ ہے جوکہ علماء خطبا اورواعظین کےلیے 16 علمی وتحقیقی خطبات کا نادر مجموعہ ہے ۔ کتاب کے آغاز میں خطباء اور واعظین حضرات کے لیے مصنف کا تحریرکردہ’’ خیرخواہی کا چوتھا سبق‘‘کے عنوان سے طویل مقدمہ بھی انتہائی لائق مطالعہ ہے ۔ موصوف جامعہ اسلامیہ ،صادق آباد کے فیض یافتہ ہیں اور مولانا حافظ ثناء اللہ زاہدی﷾ کے مایۂ ناز قابل شاگردوں میں شمار ہوتے ہیں ۔تبلیغی واصلاحی موضوعات کے علاوہ علمی وتحقیقی موضوعات کو بیان کرنے اور تحریر کی کامل دسترس رکھتے ہیں۔ موصوف جامعہ اسلامیہ،صادق آبادسے فراغت کےبعد شروع شروع میں مجلس التحقیق الاسلامی ، لاہور میں حافظ عبد الرحمن مدنی﷾ کی زیر نگرانی بھی علمی وتحقیقی خدمات سرانجام دیتے رہے ۔ موصوف ایک اچھے مصنف ہونے کے ساتھ ساتھ بڑے اچھے خطیب اور واعظ بھی ہیں ۔ عرصہ دراز سے فیصل آباد میں خطابت کافریضہ انجام دینے کےساتھ ساتھ تصنیف وتالیف کا کام بھی کرتے ہیں ۔تقریبا دو درجن کتب کےمصنف ہے۔ جن میں سے چار کتابیں(خشبو ئے خطابت ،ترجمان الخطیب،منہاج الخطیب ، حصن الخطیب) خطابت کے موضوع پر ہیں ۔کتاب ہذا حصن الخطیب کو موصوف نے بہت دلجمعی اور محنت سے مرتب کیا ہے ۔ ہر موضوع پر سیر حاصل مواد کے ساتھ ساتھ تحقیق وتخریج کا وصف بھی حددرجہ نمایا ں ہے ۔اللہ تعالیٰ ان کی تبلیغی واصلاحی ،تصنیفی خدمات کو شرف قبولیت سے نوازے،ان کے علم وعمل اور زور ِقلم میں اضافہ فرمائے ۔اور ان کی تمام کتب کوعوام الناس کےلیےنفع بخش بنائے (آمین)(م۔ا) 

  • title
    ڈاکٹر حافظ انس نضر مدنی

    قرآنِ مجید وہ عظیم کتاب ہے،جسے اللہ تعالیٰ نے انسانیت کی رُشد و ہدایت کیلئے نازل فرمایا ہے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم  ، صحابہ کرام رضی اللہ عنہم ، تابعین عظام اور تبع تابعین سے لے کر آج تک ہر دور میں اہل علم مفسّرین اس کی مشکلات کو حل کرتے اور اس کی گتھیوں کوسلجھاتے چلے  آئے ہیں۔ہر دَور میں مفسرین کرام نے خصوصی ذوق اور ماحول کے مطابق اس کی خدمت کی اور تفسیر کے مخصوص مناہج اور اصول اپنے سامنے رکھے۔ پیش نظر"حمید الدین فراہی اور جمہور کے اصول تفسیر" حافظ انس نضر مدنی کا پی ایچ ڈی کے لیے لکھا جانے والا مقالہ ہے۔ محترم حافظ صاحب امتیازی حیثیت میں فاضل مدینہ یونیورسٹی ہونے کے ساتھ ساتھ ’مجلس التحقیق الاسلامی‘اور ’کتاب ونت ڈاٹ کام‘ کے انچارج ہیں۔ موصوف جہاں طلباء جامعہ لاہور الاسلامیہ کو علم کے زیور سے آراستہ کر رہے ہیں وہیں متنوع علمی و تحقیقی کاموں میں اپنی صلاحیتوں کا لوہا منوا رہے ہیں۔ آپ کی خداد صلاحیتوں کا ایک اظہار زیر نظر مقالہ ہے۔مولانا حمید الدین فراہی رحمہ اللہ کے  منہجِ تفسیر اور مولانا امین احسن اصلاحی رحمہ اللہ کی تفسیر ’تدبر قرآن ‘ پر تو کسی نہ کسی حوالے  سے تحقیقی کام موجود ہے  لیکن مولانا فراہی رحمہ اللہ کے  اُصول تفسیر اور جمہور کے  اُصول تفسیر میں  مناسبت اور تقابل پر مرتب تحقيقی کام پہلی بارسامنے آیا ہے۔محترم حافظ صاحب نے مولانا فراہی رحمہ اللہ کے  اُصول تفسیر اور تفسیر پر موجود کام کا سلف صالحین کے  مناہجِ تفسیر سے اس انداز میں تقابلی جائزہپیش کیاہےکہ واضح ہو سکے  کہ کیا یہ ایک شے  کے  دو رُخ ہیں یا ان میں  آپس میں  جوہری اختلاف اور فرق ہے۔

    نوٹ

    یہ کتاب دراصل پی ایچ ڈی مقالہ ہے جو حافظ انس نضر مدنی (مدیر مجلس التحقیق الاسلامی 99 جے، ماڈل ٹاؤن، لاہور) جو فاضل مدینہ یونیورسٹی بھی ہیں، نے اصول تفسیر میں لکھا ہے۔ حافظ صاحب علم وراثت میں مہارت رکھنے کے ساتھ ساتھ قراءات سبعہ وعشرہ کے قاری بھی ہیں۔ اللہ تعالیٰ ان کی عمر میں برکت دے اور ان کا افادہ عام کرے۔آمین

  • title-pages-khutbat-copy
    سید ابو الاعلی مودودی

    خطابت اللہ تعالیٰ کی عطاکردہ،خاص استعداد وصلاحیت کا نام ہے جس کےذریعے ایک مبلغ اپنے مافی الضمیر کے اظہار ،اپنے جذبات واحساسات دوسروں تک منتقل کرنے اور عوام الناس کو اپنے افکار ونظریات کا قائل بنانے کے لیے استعمال کرتا ہے۔بلاشک وشبہ قدرتِ بیان ایسی نعمت جلیلہ اور ہدیۂ عظمہ ہے جو اللہ تعالیٰ اپنے خاص بندوں کوعطا فرماتا ہے اور خطابت وبیان کے ذریعے انسان قیادت وصدارت کی بلندیوں کوحاصل کرتا ہے ۔ جوخطیب کتاب وسنت کے دلائل وبراہین سے مزین خطاب کرتا ہے اس کی بات میں وزن ہوتا ہےجس کاسامعین کے روح وقلب پر اثر پڑتا ہے۔اور خطبۂ جمعہ کوئی عام درس یا تقریر نہیں بلکہ ایک انتہائی اہم نصیحت ہےجسے شریعتِ اسلامیہ میں فرض قرار دیا گیا ہے ۔ یہی وجہ ہےکہ اس میں بہت سارے وہ لوگ بھی شریک ہوتے ہیں جو عام کسی درس وتقریر وغیرہ میں شرکت نہیں کرتے ۔اس لیے خطبا حضرات کے لیےضروری ہے کہ وہ خطبات میں انتہائی اہم مضامین پر گفتگو فرمائیں جن میں عقائد کی اصلاح ، عبادات کی ترغیب، اخلاقِ حسنہ کی تربیت،معاملات میں درستگی،آخرت کا فکر اورتزکیۂ نفس ہو۔ زیر تبصرہ کتاب ’’ خطبات‘‘ مولانا مودودی ﷫ کے ان کا خطبات کا مجموعہ ہے جو انہوں نے 1938ء میں دارالسلام (نزد پٹھان کوٹ مشرق پنجاب) کی مسجد میں خطبات جمعہ ارشاد فرمائے تھے ۔ ان خطبات کی پہلی مرتبہ اشاعت 1940ء میں ہوئی ۔ان خطبات میں مولانا مودودی نے اسلام کے بنیادی ارکان کو دل میں اتر جانے والے دلائل کے ساتھ آسان انداز میں پیش کیا ہے ۔(م۔)

  • title-pages-khutbaat-e-aazaad
    ابو الکلام آزاد
    مولانا ابوالکلام آزاد کو اللہ تعالیٰ نے تحریر و تقریر کی بیش بہا صلاحیتوں سے مالا مال کیا۔ اس کا ایک سرسری اندازہ اس سے کیجئے کہ مولانا نے پندہ سال کی عمر میں ماہوار جریدہ ’لسان الصدق‘ جاری کیا جس کی مولانا الطاف حسین حالی نے بہت تعریف کی۔ مولانا موصوف بیک وقت عمدہ انشا پرداز، جادو بیان خطیب، بے مثال صحافی اور بہترین مفسر قرآن تھے۔ اگرچہ مولانا سیاسی مسلک میں کانگریس کے ہمنوا اور ہندوستان کے بٹوارے کے زبردست مخالف تھے لیکن ان کے دل میں مسلمانوں کا درد ضرور تھا۔ پیش نظر کتاب مولانا ابو الکلام آزاد کی جادو بیانی کو تحریری صورت میں پیش کیا گیا ہے۔ اس میں مولانا کی 1914ء سے لے کر 1948ء تک کی اہم تقریروں کو جمع کیا گیا ہے۔ اس کتاب کی ورق گردانی سے مولانا کی وسعت نظر، اپنے مفہوم کو موزوں ترین الفاظ میں بیان کرنے کی قدرت اور مفکرانہ طریق استدلال کا حقیقی اندازہ ہوگا۔ مولانا اگرچہ ایک خاص فقہی مسلک سے متعلق رہے لیکن ان کی بیشتر تقاریر مسلکی منافرت سے پاک نظر آتی ہیں۔ عام طور پر ایسا ہوتا ہے کہ بعض حضرات کی زبردست تقریریں بھی جب کاغذ پر منتقل ہوتی ہیں تو اس کی چاشنی اور دلپذیری ختم ہو جاتی ہے لیکن مولانا کا یہ امتیاز ہے کہ ان کی تقریریں اتنا طویل عرصہ گزرنے کے باوجود پڑھنے میں اسی قدر مؤثر ہیں جتنی وہ اس دور میں سننے میں تھیں۔(ع۔م)

    نوٹ:
    محدث فورم میں اس کتاب پر تبصرہ کرنے کے لیے یہاں کلک کریں
  • pages-from-khutbat-e-islam-sal-bhar-ki-tarteeb-key-sath
    عبد السمیع عاصم بن ابی البرکات

    خطابت اللہ تعالیٰ کی عطاکردہ، خاص استعداد و صلاحیت کا نام ہے جس کے ذریعے ایک مبلغ اپنے مافی الضمیر کے اظہار، اپنے جذبات واحساسات دوسروں تک منتقل کرنے اور عوام الناس کو اپنے افکار ونظریات کا قائل بنانے کے لیے استعمال کرتا ہے۔بلاشک وشبہ قدرتِ بیان ایسی نعمت جلیلہ اور ہدیۂ عظمہ ہے جو اللہ تعالیٰ اپنے خاص بندوں کوعطا فرماتا ہے اور خطابت وبیان کے ذریعے انسان قیادت و صدارت کی بلندیوں کو حاصل کرتا ہے۔ جوخطیب کتاب و سنت کے دلائل و براہین سے مزین خطاب کرتا ہے اس کی بات میں وزن ہوتا ہےجس کاسامعین کے روح و قلب پر اثر پڑتا ہے۔اور خطبۂ جمعہ کوئی عام درس یا تقریر نہیں بلکہ ایک انتہائی اہم نصیحت ہے جسے شریعتِ اسلامیہ میں فرض قرار دیا گیا ہے۔ یہی وجہ ہےکہ اس میں بہت سارے وہ لوگ بھی شریک ہوتے ہیں جو عام کسی درس و تقریر وغیرہ میں شرکت نہیں کرتے۔ اس لیے خطبا حضرات کے لیےضروری ہے کہ وہ خطبات میں انتہائی اہم مضامین پر گفتگو فرمائیں جن میں عقائد کی اصلاح، عبادات کی ترغیب، اخلاقِ حسنہ کی تربیت، معاملات میں درستگی، آخرت کا فکر اورتزکیۂ نفس ہو۔ زیر تبصرہ کتاب ’’خطبات اسلام‘‘ جامعہ اسلامیہ اہل گوجرانوالہ کے مدرس جناب ابو طلحہ عبدالسمیع عاصم بن ابی البرکات احمدکی مرتب شدہ ہے۔یہ مجموعہ خطبات خاص عام ہرایک کے لیے مفید ہے۔ مرتب نےاس میں خطباء کی سہولت کے پیش نظرسال بھر کے مختلف مواقع کی مناست کےمطابق 60 سے زائد مضامین مرتب کرکے ان کی تخریج بھی کی ہے۔اور یہ کوشش کی ہےکہ ہر مضمون زیادہ سے زیادہ قرآنی آیات اوراحادیث مبارکہ سے مزین ہو۔ پوری کتاب میں تاریخی واقعات 20 سےبھی متجاوز نہیں ہیں۔ اللہ تعالیٰ مصنف کی اس کاوش کو قبول فرمائے اور اسے ہر عام وخاص کے لیے نفع بخش بنائے (آمین) (م۔ا)

  • title-pages-khutbat-e-ilah-abadi-1-copy
    محمد شریف الہ آبادی

    خطابت اللہ تعالیٰ کی عطاکردہ،خاص استعداد وصلاحیت کا نام ہے جس کےذریعے ایک مبلغ اپنے مافی الضمیر کے اظہار ،اپنے جذبات واحساسات دوسروں تک منتقل کرنے اور عوام الناس کو اپنے افکار ونظریات کا قائل بنانے کے لیے استعمال کرتا ہے۔بلاشک وشبہ قدرتِ بیان ایسی نعمت جلیلہ اور ہدیۂ عظمہ ہے جو اللہ تعالیٰ اپنے خاص بندوں کوعطا فرماتا ہے اور خطابت وبیان کے ذریعے انسان قیادت وصدارت کی بلندیوں کوحاصل کرتا ہے ۔ جوخطیب کتاب وسنت کے دلائل وبراہین سے مزین خطاب کرتا ہے اس کی بات میں وزن ہوتا ہےجس کاسامعین کے روح وقلب پر اثر پڑتا ہے۔اور خطبۂ جمعہ کوئی عام درس یا تقریر نہیں بلکہ ایک انتہائی اہم نصیحت ہےجسے شریعتِ اسلامیہ میں فرض قرار دیا گیا ہے ۔ یہی وجہ ہےکہ اس میں بہت سارے وہ لوگ بھی شریک ہوتے ہیں جو عام کسی درس وتقریر وغیرہ میں شرکت نہیں کرتے ۔اس لیے خطبا حضرات کے لیےضروری ہے کہ وہ خطبات میں انتہائی اہم مضامین پر گفتگو فرمائیں جن میں عقائد کی اصلاح ، عبادات کی ترغیب، اخلاقِ حسنہ کی تربیت،معاملات میں درستگی،آخرت کا فکر اورتزکیۂ نفس ہو۔ زیر تبصرہ کتاب ’’ خطبات الہ آبادی ‘‘الہ آباد (ٹھینگ موڑ) ضلع قصور کے نامور دلنشیں پنچابی زبان کے ہردلعزیز خطیب مولانا شریف آبادی﷫ کے خطبات کا مجموعہ ہے ۔مولانا موصوف کی تقایر بلاشبہ کوزے میں سمندر بند کرنے کےمترادف ہیں جن میں کتاب اللہ اور سنت رسول اللہﷺ کونہایت حسین وددلکش انداز میں بیان فرماتے تھے۔آپ الہ آباد کی مرکزی مسجد میں طویل عرصہ خطیب رہے جہاں دور دور سے احباب آپ کاخطبہ سننے کےلیے تشریف لاتے۔ مولانا جوانی کی عمر میں قضائے الٰہی سے چند سال قبل اپنےخالق حقیقی کو جاملے۔ (انا للہ واناالیہ راجعون)اللہ تعالیٰ ان کو جنت الفردوس میں اعلیٰ مقام عطا فرمائے ۔ مولانا مرحوم کا ایک صاحبزادہ جامعہ لاہور الاسلامیہ ،لاہور میں زیر تعلیم ہے اور ماشاء اللہ اپنے والد گرامی کی طرح خطابت کا بھی اچھا ذوق شوق رکھتا ہے اللہ تعالیٰ ان کے علم وعمل میں برکت فرمائے اور دین کا عالم اور مبلغ بنائے (آمین) خطبات الہ آباد کی ان دو جلدوں میں24 خطبات ہیں ۔ ان خطبات میں اصلاح معاشرہ کا ایک نہایت ہی روشن پہلو موجود ہے ۔(م۔ا)

  • title-pages-khutbat-e-ilah-abadi-2-copy
    محمد شریف الہ آبادی

    خطابت اللہ تعالیٰ کی عطاکردہ،خاص استعداد وصلاحیت کا نام ہے جس کےذریعے ایک مبلغ اپنے مافی الضمیر کے اظہار ،اپنے جذبات واحساسات دوسروں تک منتقل کرنے اور عوام الناس کو اپنے افکار ونظریات کا قائل بنانے کے لیے استعمال کرتا ہے۔بلاشک وشبہ قدرتِ بیان ایسی نعمت جلیلہ اور ہدیۂ عظمہ ہے جو اللہ تعالیٰ اپنے خاص بندوں کوعطا فرماتا ہے اور خطابت وبیان کے ذریعے انسان قیادت وصدارت کی بلندیوں کوحاصل کرتا ہے ۔ جوخطیب کتاب وسنت کے دلائل وبراہین سے مزین خطاب کرتا ہے اس کی بات میں وزن ہوتا ہےجس کاسامعین کے روح وقلب پر اثر پڑتا ہے۔اور خطبۂ جمعہ کوئی عام درس یا تقریر نہیں بلکہ ایک انتہائی اہم نصیحت ہےجسے شریعتِ اسلامیہ میں فرض قرار دیا گیا ہے ۔ یہی وجہ ہےکہ اس میں بہت سارے وہ لوگ بھی شریک ہوتے ہیں جو عام کسی درس وتقریر وغیرہ میں شرکت نہیں کرتے ۔اس لیے خطبا حضرات کے لیےضروری ہے کہ وہ خطبات میں انتہائی اہم مضامین پر گفتگو فرمائیں جن میں عقائد کی اصلاح ، عبادات کی ترغیب، اخلاقِ حسنہ کی تربیت،معاملات میں درستگی،آخرت کا فکر اورتزکیۂ نفس ہو۔ زیر تبصرہ کتاب ’’ خطبات الہ آبادی ‘‘الہ آباد (ٹھینگ موڑ) ضلع قصور کے نامور دلنشیں پنچابی زبان کے ہردلعزیز خطیب مولانا شریف آبادی﷫ کے خطبات کا مجموعہ ہے ۔مولانا موصوف کی تقایر بلاشبہ کوزے میں سمندر بند کرنے کےمترادف ہیں جن میں کتاب اللہ اور سنت رسول اللہﷺ کونہایت حسین وددلکش انداز میں بیان فرماتے تھے۔آپ الہ آباد کی مرکزی مسجد میں طویل عرصہ خطیب رہے جہاں دور دور سے احباب آپ کاخطبہ سننے کےلیے تشریف لاتے۔ مولانا جوانی کی عمر میں قضائے الٰہی سے چند سال قبل اپنےخالق حقیقی کو جاملے۔ (انا للہ واناالیہ راجعون)اللہ تعالیٰ ان کو جنت الفردوس میں اعلیٰ مقام عطا فرمائے ۔ مولانا مرحوم کا ایک صاحبزادہ جامعہ لاہور الاسلامیہ ،لاہور میں زیر تعلیم ہے اور ماشاء اللہ اپنے والد گرامی کی طرح خطابت کا بھی اچھا ذوق شوق رکھتا ہے اللہ تعالیٰ ان کے علم وعمل میں برکت فرمائے اور دین کا عالم اور مبلغ بنائے (آمین) خطبات الہ آباد کی ان دو جلدوں میں24 خطبات ہیں ۔ ان خطبات میں اصلاح معاشرہ کا ایک نہایت ہی روشن پہلو موجود ہے ۔(م۔ا)

  • title-pages-khutbat-e-ahle-hadith-copy
    سید سبطین شاہ نقوی

    خطابت اللہ تعالیٰ کی عطاکردہ،خاص استعداد وصلاحیت کا نام ہے جس کےذریعے ایک مبلغ اپنے مافی الضمیر کے اظہار ،اپنے جذبات واحساسات دوسروں تک منتقل کرنے اور عوام الناس کو اپنے افکار ونظریات کا قائل بنانے کے لیے استعمال کرتا ہے۔بلاشک وشبہ قدرتِ بیان ایسی نعمت جلیلہ اور ہدیۂ عظمہ ہے جو اللہ تعالیٰ اپنے خاص بندوں کوعطا فرماتا ہے اور خطابت وبیان کے ذریعے انسان قیادت وصدارت کی بلندیوں کوحاصل کرتا ہے ۔ جوخطیب کتاب وسنت کے دلائل وبراہین سے مزین خطاب کرتا ہے اس کی بات میں وزن ہوتا ہےجس کاسامعین کے روح وقلب پر اثر پڑتا ہے۔اور خطبۂ جمعہ کوئی عام درس یا تقریر نہیں بلکہ ایک انتہائی اہم نصیحت ہےجسے شریعتِ اسلامیہ میں فرض قرار دیا گیا ہے ۔ یہی وجہ ہےکہ اس میں بہت سارے وہ لوگ بھی شریک ہوتے ہیں جو عام کسی درس وتقریر وغیرہ میں شرکت نہیں کرتے ۔اس لیے خطبا حضرات کے لیےضروری ہے کہ وہ خطبات میں انتہائی اہم مضامین پر گفتگو فرمائیں جن میں عقائد کی اصلاح ، عبادات کی ترغیب، اخلاقِ حسنہ کی تربیت،معاملات میں درستگی،آخرت کا فکر اورتزکیۂ نفس ہو۔ زیر تبصرہ کتاب ’’خطبات اہل حدیث‘‘عوامی اجتماعات میں عوامی انداز میں علمی گفتگو کرنے والے عصر حاضر کے نامور خطیب سید سبطین شاہ نقوی﷾ کے19 علمی خطبات کا مجموعہ ہےسید صاحب کے خطبات میں دلائل کا سمند ر موجزن ہے۔جو ایمان کو تازگی روح کو پاکیزگی، عقائد کوپختگی اور عمل کوبیدار بخشتا ہے۔ جس کی موجیں عقائد باطلہ اور نظریات فاسدہ کوبہالے جاتی ہیں۔ شاہ صاحب کےخطبات خالصتاً علمی ، اصلاحی اور دعوتی حقائق پر مبنی ہیں۔کتاب کےمرتب جناب محمد طیب محمدی ﷾ مصنف ومرتب کتب کثیرہ نے سبطین شاہ نقوی صاحب کے تقریباً تیس خطبات کی کیسٹیں سن کر انہیں مرتب کیا ہے ۔شاہ صاحب نےتقریر میں جس حدیث سےاستنباط کیا ہے مرتب نے اس حدیث کو اصل کتاب سے دیکھ کر مکمل لکھ دیا ہےتاکہ پڑھنے والا کسی قسم کی تشنگی محسوس نہ کرے اوراستنباط کی حقیقت تک پہنچ جائے ۔اس کتاب میں تقریر کی چاشنی کے ساتھ ساتھ تحریر کالطف بھی موجود ہے۔(م۔ا)

  • title-pages-khutbat-e-bahawal-puri
    ڈاکٹر محمد حمید اللہ

    ڈاکٹر محمد حمید اللہ (پیدائش: 9فروری 1908ء، انتقال : 17 دسمبر 2002ء) معروف محدث، فقیہ، محقق، قانون دان اور اسلامی دانشور تھے اور بین الاقوامی قوانین کے ماہر سمجھے جاتے تھے۔ تاریخ حدیث پر اعلٰی تحقیق، فرانسیسی میں ترجمہ قرآن اور مغرب کے قلب میں ترویج اسلام کا اہم فریضہ نبھانے پر آپ کو عالمگیر شہرت ملی۔ آپ جامعہ عثمانیہ سے ایم۔اے، ایل ایل۔بی کی ڈگریاں حاصل کرنے کے بعد اعلیٰ تعلیم و تحقیق کے لیے یورپ پہنچے۔ بون یونیورسٹی (جرمنی) سے ڈی فل اور سوربون یونیورسٹی (پیرس)سے ڈاکٹریٹ کی ڈگری حاصل کی ۔ ڈاکٹر صاحب کچھ عرصے تک جامعہ عثمانیہ حیدر آباد میں پروفیسر رہے۔ یورپ جانے کے بعد جرمنی اور فرانس کی یونیورسٹیوں میں بھی تدریسی خدمات انجام دیں۔ فرانس کے نیشنل سنٹر آف سائینٹیفک ریسرچ سے تقریباً بیس سال تک وابستہ رہے۔ علاوہ ازیں یورپ اور ایشیا کی کئی یونیورسٹیوں میں آپ کے توسیعی خطبات کا سلسلہ بھی جاری رہا۔زیر نظر کتاب خطبات بہاولپور دراصل مارچ 1980ءمیں جامعہ عباسیہ(اسلامیہ یونیورسٹی بھاولپور،پاکستان) کی دعوت پر یونیورسٹی میں ججز، علماءاور یونیورسٹیوں کے چانسلرز او رڈین حضرات کی زیر صدارت ڈاکٹر حمیداللہ  کے مختلف علمی موضوعات پر بارہ خطبات کا مجموعہ ہے جو علمی حلقوں ، قانون دان او ر دانشور طبقے کے درمیان خطبات بہاولپور کے نا م سے معروف ہے ۔یہ خطبات 8مارچ 1980 ء سے 20 ماچ 1980ءتک مسلسل جاری رہے۔ان خطبات کوسننے کےلیے اسلامیہ یونیورسٹی بہاولپور کے اساتذہ،طلباء وطالبات کےعلاوہ شہر کے علمائے کرام اوراہل ذوق و طلب خواتین وحضرات کی ایک کثیر تعدادتشریف لاتی جن میں ملک کے دوسرے شہروں سے آنے والے مہمانانِ گرامی بھی شامل ہوتے۔ان خطبات کاپہلا ایڈیشن اپریل 1981ءمیں شائع ہوا اور اسے بڑا قبول عا م حاصل ہوا ۔ زیر نظر خطبات بہاولپور کی گیارویں اشاعت ہے جسے ادارہ تحقیقات اسلامی،اسلام آباد نے اچھے کاغذ پر بڑی عمدگی سے شائع کیا ہے اللہ تعالی ڈاکٹر حمید اللہ مرحوم کی اشاعت اسلام کےلیے کوششوں کو قبول فرمائے (آمین)(م۔ا)

     

    نوٹ:

    محدث فورم میں اس کتاب پر تبصرہ کرنے کے لیے یہاں کلک  کریں

     

  • title-pages-khutbat-e-bahawal-pur-2-copy
    ڈاکٹر محمود احمد غازی

    فقہ اسلامی کا  عظیم  الشان ذخیرہ صدیوں پر محیط ہے ۔ انسان  کی اقتصادی ،سیاسی معاشرتی ، ثقافتی اور تمدنی  زندگی کا شاید ہی کوئی  شبعہ ہو جس کے بارے میں قرآن وحدیث سےاستفادہ واستنباط رکرتے  ہوئے  فقہائے اسلام نے ان شعبوں میں اسلامی منہج کو منضبط نہ کیا ہو۔ فقہ اسلامی  کی عظیم  میراث میں اسلام کے قانون بین الممالک کے   یا بین الاقوامی قانون کو’’سِیَر‘‘ کے عنوان کے تحت مدون کیا گیا ہے ’’سِیَر‘‘ سے  مراد مسلمانوں کا  وہ طرزِ عمل یا رویہ  ہے جوانہیں غیر مسلموں سے تعلقات ،جنگ وصلح ، دوسروں ریاستوں سے   میل جو ل اور دیگر بین  الاقوامی یا بین الممالک اداروں اورافراد سے معاملہ کرنے میں  اپنانا چاہیے۔ماضی میں  کئی  اہل  علم نےاس کو  اپنا موضوع بحث بنایا۔ اور ماضی  قریب میں  ڈاکٹر  محمد حمید  کی اس  موضوع پر مفید مباحث اور ڈاکٹر ابو سلیمان   انگریزی کتاب   قابل ذکر  ہے ۔زیر  نظر کتاب ’’خطبات بہاولپور ۔2(اسلام  کا قانو ن بین الممالک) اس  موضوع عالم ِاسلام  کی معروف شخصیت  ڈاکٹر محمود احمد غازی کے ان 12 خطبات  ومحاضرات کامجموعہ ہے جسے  انہوں نے 1995ء میں   اسلامیہ یونیورسٹی  بہاولپور میں پیش کیا ۔یونیورسٹی کے  ذمہ دران نے اسے  بعد میں   خطبات بہاولپور ۔2 کے نام  سے  کتابی صورت میں شائع کیا ۔زیر تبصرہ ایڈیشن سات سال قبل شریعہ اکیڈمی ،اسلام آباد کی طرف سے شائع کیا گیا ۔ڈاکٹر محمود احمد غازی  ادراہ  تحقیقات اسلامی اور بین الاقوامی اسلامی  یونورسٹی  میں طویل عرصہ  تحقیقی  وتدریسی  خدمات  سرانجام دیتے رہے ۔ اور  کئی کتب کے مصنف ہیں ۔حکومت پاکستان کے وزیر مذہبی امور اور بین  الاقوامی یونیورسٹی اسلام آباد کے رئیس الجامعہ جیسے مناصب پر بھی فائزرہے ۔اللہ تعالی ٰ دین اسلام کے لیےان کی کاوشوں  کوقبول فرمائے (آمین) ( م ۔ ا)

     

  • title-pages-khutbat-e-bahawalpuri-3
    پروفیسر حافظ عبد اللہ بہاولپوری
    محترم پروفیسر حافظ عبداللہ بہاولپوری  ایک قناعت پسند  ،حق گواور سادگی پسند انسان تھے ۔انہوں نے اپنی زندگی کا ایک خاصہ  حصہ خدمت دین کیلے وقف کردیا تھا ۔اللہ تعالی نے ان کے خلوص کی وجہ سے ان کی کلام میں ایک بندہءمومن جیسی تاثیررکھی ہوئی تھی ۔ان کی کلام انتہائی سادہ اورسچائی پرمبنی ہوتی تھی۔اسی وجہ سے ان کی تقریروتحریر اپنےاندر ایک خاص قسم کا اثررکھتی ہوتی تھی ۔ان کے خطبات کے اند ر توحید کا اثبات اور موجودہ رسومات  کی  پرزورتردیدملتی ہے۔ان کی ہرممکن کوشش ہواکرتی تھی کہ اپنامدعا ومقصداپنے سامعین کو منتقل کردوں۔اور اس کے لیے وہ الفاظ کے پیچ وخم میں مبتلا نہیں ہوتے تھے ۔بلکہ مشکل اور پیچیدہ الفاظ سے حتی الوسع گریز ہی کیا کرتےتھے۔  مکتبہ اسلامیہ فیصل آباد نے ان خطبات وتقاریر کو ایک کتابی شکل میں آپ کے پیش خدمت کرنےکی سعادت حاصل کی ہے۔اس سلسلے میں  ناشر محترم جناب عبداالغفار صاحب نے حافظ صاحب کے اخلاص بھری خدمات کی قدر کرتےہوئے  بس لاگت کی بقدر قیمت کتاب متعین کی ہے۔اللہ ناشراور محترم حافظ صاحب کو اجرجزیل سے نوازے۔اوریہ بیان و تحریر ان کی دنیا وآخرت کی نجات کا ذریعہ بنائے۔آمین۔(ع۔ح)

    نوٹ:
    محدث فورم میں اس کتاب پر تبصرہ کرنے کے لیے یہاں کلک کریں
    مکمل جلدوں میں کتاب ڈاؤن لوڈ کرنے کے لیے یہاں کلک کریں
  • title-pages-khutbat-e-bahawalpuri-4
    پروفیسر حافظ عبد اللہ بہاولپوری
    محترم پروفیسر حافظ عبداللہ بہاولپوری  ایک قناعت پسند  ،حق گواور سادگی پسند انسان تھے ۔انہوں نے اپنی زندگی کا ایک خاصہ  حصہ خدمت دین کیلے وقف کردیا تھا ۔اللہ تعالی نے ان کے خلوص کی وجہ سے ان کی کلام میں ایک بندہءمومن جیسی تاثیررکھی ہوئی تھی ۔ان کی کلام انتہائی سادہ اورسچائی پرمبنی ہوتی تھی۔اسی وجہ سے ان کی تقریروتحریر اپنےاندر ایک خاص قسم کا اثررکھتی ہوتی تھی ۔ان کے خطبات کے اند ر توحید کا اثبات اور موجودہ رسومات  کی  پرزورتردیدملتی ہے۔ان کی ہرممکن کوشش ہواکرتی تھی کہ اپنامدعا ومقصداپنے سامعین کو منتقل کردوں۔اور اس کے لیے وہ الفاظ کے پیچ وخم میں مبتلا نہیں ہوتے تھے ۔بلکہ مشکل اور پیچیدہ الفاظ سے حتی الوسع گریز ہی کیا کرتےتھے۔  مکتبہ اسلامیہ فیصل آباد نے ان خطبات وتقاریر کو ایک کتابی شکل میں آپ کے پیش خدمت کرنےکی سعادت حاصل کی ہے۔اس سلسلے میں  ناشر محترم جناب عبداالغفار صاحب نے حافظ صاحب کے اخلاص بھری خدمات کی قدر کرتےہوئے  بس لاگت کی بقدر قیمت کتاب متعین کی ہے۔اللہ ناشراور محترم حافظ صاحب کو اجرجزیل سے نوازے۔اوریہ بیان و تحریر ان کی دنیا وآخرت کی نجات کا ذریعہ بنائے۔آمین۔(ع۔ح)

    نوٹ:
    محدث فورم میں اس کتاب پر تبصرہ کرنے کے لیے یہاں کلک کریں
    مکمل جلدوں میں کتاب ڈاؤن لوڈ کرنے کے لیے یہاں کلک کریں

ای میل سبسکرپشن

محدث لائبریری کی اپ ڈیٹس بذریعہ ای میل وصول کرنے کے لئے ای میل درج کر کے سبسکرائب کے بٹن پر کلک کیجئے۔

 

ایڈوانس سرچ

موضوعاتی فہرست

رجسٹرڈ اراکین

آن لائن مہمان

محدث لائبریری پر اس وقت الحمدللہ 835 مہمان آن لائن ہیں ، لیکن کوئی رکن آن لائن نہیں ہے۔

ایڈریس

       99-جے ماڈل ٹاؤن،
     نزد کلمہ چوک،
     لاہور، 54700 پاکستان

       0092-42-35866396، 35866476، 35839404

       0092-423-5836016، 5837311

      KitaboSunnat@gmail.com

      بنک تفصیلات کے لیے یہاں کلک کریں