جہاد اور دہشت گردی

حافظ مبشر حسین لاہوری
مبشر اکیڈمی،لاہور
413
8260 (PKR)
اسلام امن وسلامتی کا دین ہے اور اس حد تک سلامتی کا داعی ہے کہ اپنے ماننے والے کو تو امن دیتا ہی ہے نہ ماننے والے کے لیے بھی ایسے حق حقوق رکھے ہیں کہ جن کے ساتھ اس کی جان ،مال اور عزت محفوظ رہتی ہے۔جبکہ غیروں نے اسلام کو ایک وحشت اور بربریت کی شکل دینے کی کوششیں جاری وساری رکھی ہیں۔اسلام کے ماننے والوں کو بنیاد پرست اور پھر اس سے بڑھ کر دہشت گرد ثابت کر کے اسلام کے معنی سلامتی اور امن کو بدل کر دہشت اور بربریت سے تعبیر کرنا شروع کر دیا ہے۔مصنف نے اپنی کتاب میں دہشت گردی کے حوالے سے پائے جانے والے اشکال اور شبہات کو قرآن وسنت کی تعلیمات سے واضح کیا ہے اور یہ بتایا ہے کہ دہشت گردی کا اسلام کا کوئی تعلق نہیں اور اصل دہشت گرد کو دلائل سے بے نقاب کیا ہے۔دین اسلام میں تو صرف سلامتی ہی سلامتی ہے جبکہ دیگر ادیان  میں پائی جانے والی عصبیت  کس طریقے سے ان کو دہشت گردی پر اکساتی ہے اور اس کے بعد انسانی حقوق کے کوئی اصول وضوابط کوئی حیثیت نہیں رکھتے۔

عناوین

 

صفحہ نمبر

پیش لفظ

 

11

باب نمبر1:دہشت گردی کیا اور دہشت گرد کون ہے؟

 

23

دہشت گردی کیا ہے؟

 

25

دہشت گردی کی پہلی تعریف اور اس کا تجزیہ

 

31

آزادی کے لیے قوت کا استعمال دہشت گردی نہیں

 

31

دہشت گردی کی دوسری تعریف اور اس کا تجزیہ

 

36

اسلام میں انسانی جان کا احترام اور قتل ناحق کی حرمت

 

37

محاربہ اور اسلام

 

40

غیر اسلامی مذاہب اور دہشت گردی کی تعلیم

 

43

یہودیت اور دہشت گردی

 

44

عیسائیت اور دہشت گردی

 

45

ہندو مت اور دہشت گردی

 

46

دہشت گرد کون؟عملی اور واقعاتی حقائق کی روشنی میں

 

48

دہشت گردی کی تیسری تعریف اور اس کا تجزیہ

 

52

باب نمبر2:جہاد اور دہشت گردی میں فرق

 

55

کیا جہاد دہشت گردی ہے؟

 

57

جہاد اور دہشت گردی میں تعریف کے لحاظ سے فرق

 

57

جہاد اور دہشت گردی میں مقاصد کے لحاظ سے فرق

 

58

جہاد اور دہشت گردی میں نتائج کے لحاظ سے فرق

 

97

باب نمبر3:کیا اسلام دہشت گرد دین ہے؟

 

101

کیا اسلام دہشت گرد دین ہے؟

 

103

اسلام کسے  کہتے ہیں؟

 

104

امن وسلامتی قرآن مجید کی روشنی میں

 

106

امن وسلامتی احادیث کی روشنی میں

 

110

انسانوں کے ساتھ رحمت وشفقت کے بارے میں

 

121

جانوروں کے ساتھ رحمت وشفقت کے بارے میں

 

121

باب نمبر4:اسلام دہشت گرودوں سے بری الذمہ ہے

 

125

بھارتی طیارے کا اغوااور چند حریت پسند

 

129

ڈینئل پرل کیس

 

136

ماسکو تھیٹر کا المیہ

 

139

باب نمبر5:فدائی کارروائیوں کی شرعی حیثیت

 

141

پہلی صورت یعنی فدائی کارروائی

 

144

دوسری صورت یعنی خود کش حملہ

 

146

خود کش حملہ اور بے گناہوں کا قتل

 

154

فدائی حملے قرون اولی سے تسلسل کے ساتھ ثابت ہیں

 

155

باب نمبر6:دہشت گردی/بنیاد پرستی اور جہاد کے حوالے سے چند منتخب مضامین

 

177

دہشت گردی کے حوالے سے چند معروضات

 

179

اسلامی نظریاتی کونسل کا سوال نامہ

 

179

مولانا زاہد الراشدی کا جواب

 

181

دہشت گردی اور عالم اسلام

 

193

بنیاد پرست.....بنیاد پرستی طعنہ یا تمغہ

 

219

جہاد کا مفہوم اور دور حاضر میں اس کے تقاضے

 

237

باب نمبر7:دنیا کا عالمی دہشت گرد.....امریکہ

 

257

امریکہ اور اس کا عالمی نظام(نیو ورلڈ آرڈر)

 

259

امریکہ کے مہذب دہشت گرد

 

290

امریکہ کی دہشت گرد تنظیمیں

 

305

دنیا بھر میں امریکہ کی دہشت گردیاں

 

309

باب نمبر8:خد ا کی مغضوب  ترین قوم.....یہودی!

 

325

دنیا پر یہودی قبضہ کے عزائم(یہودی پروٹوکولز کی روشنی میں)

 

327

دنیا پر حکومت کے صیہونی عزائم

 

340

فلسطین اور دہشت گرد یہودی

 

357

آخری جنگ عظیم اور یہودیوں کا انجام.....ایک نبوی پیش گوئی

 

378

باب نمبر9:دنیا میں خدا کا سب سے بڑا مشرک.....ہندو!

 

385

عالمی بالا دستی کے ہندووانہ عزائم ونظریات(کوتلیا چانکیا کے افکار کی روشنی میں)

 

387

ہندو کی دہشت گرد تنظیم آر ایس ایس کے نظریات اور طریقہ واردات

 

398

گجرات میں مسلم بیٹیوں پر کیا قیامت گزری؟(ہندوؤں کے مظالم کی جگر پاش رپورٹ)

 

410

بھارت/اسرائیل گھٹ جوڑ اور سلامتی پاکستان کو درپیش خطرات

 

418

 

دوسری جلد

مصنف کی مزید تصانیف

ای میل سبسکرپشن

محدث لائبریری کی اپ ڈیٹس بذریعہ ای میل وصول کرنے کے لئے ای میل درج کر کے سبسکرائب کے بٹن پر کلک کیجئے۔

ایڈوانس سرچ

موضوعاتی فہرست

رجسٹرڈ اراکین

آن لائن مہمان

محدث لائبریری پر اس وقت الحمدللہ 2074 مہمان آن لائن ہیں ، لیکن کوئی رکن آن لائن نہیں ہے۔

ایڈریس

        99--جے ماڈل ٹاؤن،
        نزد کلمہ چوک،
        لاہور، 54700 پاکستان

       0092-42-35866396، 35866476، 35839404

       0092-423-5836016، 5837311

       library@mohaddis.com

       بنک تفصیلات کے لیے یہاں کلک کریں