اسلامی ریاست

1 1 1 1 1 1 1 1 1 1
سید ابو الاعلی مودودی
اسلامی پبلیکشنز،شاہ عالمی مارکیٹ،لاہور
740
18500.00 (PKR)
title-pages-islmi-riasat-copy

اسلام ایک کامل دین اور مکمل دستور حیات ہے اسلام جہاں انفرادی زندگی میں فردکی اصلاح پر زور دیتا ہے وہیں اجتماعی زندگی کے زرین اصول وضع کرتا ہے جوزندگی کے تمام شعبوں میں انسانیت کی راہ نمائی کرتا ہے اسلام کا نظامِ سیاست وحکمرانی موجودہ جمہوری نظام سے مختلف اوراس کے نقائص ومفاسد سے بالکلیہ پاک ہے اسلامی نظامِ حیات میں جہاں عبادت کی اہمیت ہے وہیں معاملات ومعاشرت اور اخلاقیات کو بھی اولین درجہ حاصل ہے، اسلام کا جس طرح اپنا نظامِ معیشت ہے اور اپنے اقتصادی اصول ہیں اسی طرح اسلام کا اپنا نظامِ سیاست وحکومت ہےاسلامی نظام میں ریاست اور دین مذہب اور سلطنت دونوں ساتھ ساتھ چلتے ہیں، دونوں ایک دوسرے کی تکمیل کرتے ہیں دونوں ایک دوسرے کے مددگار ہیں، دونوں کے تقاضے ایک دوسرے سے پورے ہوتے ہیں، چنانچہ  ماوردی  کہتے  ہیں کہ جب دین کمزور پڑتا ہے تو حکومت بھی کمزور پڑ جاتی ہے اورجب دین کی پشت پناہ حکومت ختم ہوتی ہے تو دین بھی کمزور پڑ جاتا ہے، اس کے نشانات مٹنے لگتے ہیں۔اسلام نے اپنی پوری تاریخ میں ریاست کی اہمیت کوکبھی بھی نظر انداز نہیں کیا۔انبیاء کرام﷩ وقت کی اجتماعی قوت کواسلام کےتابع کرنے کی  جدوجہد کرتے رہے۔ ان کی  دعوت کا مرکزی تخیل ہی یہ تھا کہ اقتدار  صرف اللہ تعالیٰ کےلیے  خالص  ہو جائے اور  شرک اپنی ہر جلی اور خفی شکل میں ختم کردیا جائے ۔قرآن کےمطالعہ سے معلوم ہوتا ہے کہ  حضرت یوسف ،حضرت موسی، حضرت داؤد،﷩  اور نبی کریم ﷺ نے باقاعدہ اسلامی ریاست قائم  بھی کی  اور اسے  معیاری شکل میں چلایا بھی۔اسلامی فکر میں دین اورسیاست کی دوری کاکوئی تصور نہیں پایا جاتا  اور کا اسی کانتیجہ  ہے کہ  مسلمان ہمیشہ اپنی ریاست کواسلامی اصولوں پر قائم کرنے کی جدوجہد کرتے رہے۔ یہ جدوجہد ان کے دین وایمان کاتقاضہ ہے ۔قرآن پاک اور احادیث نبویہ میں جس طرح اخلاق  اور حسنِ کردار کی تعلیمات موجود ہیں۔اسی طرح معاشرت،تمدن اور سیاست کے بارے  میں واضح احکامات بھی موجود ہیں۔زیر نظر کتاب’’اسلامی ریاست‘‘مفکرِ اسلام مولانا سید ابو الاعلیٰ مودودی کی  کی  تصنیف ہے ۔جس میں  انہوں نے  بیک وقت ان دونوں ضرورتوں کو پورا کرنے کی کما حقہ کوشش کی ہے ۔ ایک طرف انہوں نے اسلام کےپورے  نظام حیات کودینی اور عقلی دلائل کےساتھ اسلام کی اصل تعلیمات کودورحاضر کی  زبان میں پیش کیاہے ۔ ان کی تحریرات  کےمطالعہ سے قاری کوزندگی کے بارے  میں اسلام کے نقظہ نظر کا کلی علم حاصل  ہوتا ہے اوروہ  پوری تصویر کو بیک  نظر دیکھ سکتا ہے۔انہوں نےہر مرعوبیت سے بالا تر ہوکر دورحاضرکے ہر فتنہ کا مقابلہ کیا  اور اسلام کے  نظام زندگی کی برتری اورفوقیت کوثابت کیا ہے۔پھر یہ بھی بتایا ہےکہ  اس نظام کودور حاضر میں کیسے قائم کیا جاسکتا   ہے  اور آج کے اداروں کوکس طرح اسلام کے سانچوں میں ڈھالا جاسکتاہے ۔انہوں نے اسلامی ریاست کے ہمہ پہلوؤں کی وضاحت کرتے ہوئےدور جدید کے تقاضوں کوسامنے رکھ کر اسلامی ریاست کا مکمل نقشہ پیش کیاہے ۔کتاب  ہذا دراصل  مولانامودودی کے  منتشر  رسائل ومضامین کامجموعہ ہے جسے  پروفیسر خورشید احمد صاحب (مدیر ماہنامہ ترجمان القرآن)نے بڑے حسن ترتیب سے  مرتب کیا ہے۔اللہ تعالیٰ مصنف ومرتب کی  اشاعتِ اسلام کےلیے  کی جانے والی  تمام کاوشوں کو  قبول فرمائے (آمین)(م۔ا)

عناوین

 

صفحہ نمبر

دیپاچہ منصنف

 

15تا16

مقدمہ   خورشید احمد

 

17تا36

ریاست اور اسلام

 

دود جدید اور اسلامی ریاست

 

 

عالم اسلام میں اسلامی ریاست کی جدوجہد

 

 

کچھ اس کتاب کے بارے میں

 

 

حصہ اول :اسلام کا فلسفہ سیاست

 

 

باب1:دین وسیاست

 

36

(1)

 

 

مذہب کا اسلامی تصور : مذہب اور تہذیب ۔ ہماری سیاست میں

 

41تا51

جاہلی تصوبر مذہب کے اثرات

 

 

قرآنی ذہن

 

 

(2)

 

 

اسلامی ریاست کیوں ؟

 

52تا60

(3)

 

 

اسلام اور اقتدار

 

61تا79

اسلام کا مشن

 

 

رواداری کا غلط تصور اور اس کا جائزہ

 

 

حضرت یوسف ﷤اور اقتدار حکومت

 

 

(4)

 

 

دین و سیاست کی تفریق کا باطل نظریہ اور قصہ یوسف سےغلط استدلال

 

80تا84

(5)

 

 

تفریق دین و سیاست کا دفاع اور اس کا جائزہ

 

85تا117

دفاع

 

 

کیا اسلام میں تناقض ہے ؟ دین کا مفہوم

 

 

تفریق دین و سیاست کا تاریخی اور نفسیاتی جائزہ

 

 

چند بنیادی سوالات اور ان کا جواب

 

 

قصہ یوسف سے غلط استدلال

 

 

ہجرت حبشہ سے غلط استدلال

 

 

باب 2: اسلام کا سیاسی نظریہ

 

188

(1)

 

 

بنیادی مقدمات

 

122تا135

انبیاء علیہم السلام کا مشن

 

 

اللہ اور رب کا مفہوم

 

 

(i) راست دعوے دار

 

 

(ii) بالواسطہ دعویدار

 

 

فتنہ کی جڑ

 

 

ابنیاءؑ کا اصل اصلاحی کام

 

 

(2)

 

 

نظریہ سیاسی کےاولین اصول

 

136تا138

(3)

 

 

اسلامی ریاست کی نوعیت

 

139تا 149

ریاست کی نوعیت

 

 

اسلامی ریاست کا مقصد  

 

 

اسلامی ریاست کی خصوصیات

 

 

الف۔ایجابی اور ہمہ گیرریاست

 

 

ب۔ جماعتی اور اصولی ریاست

 

 

(4)

 

 

نظریہ خلافت اور اس کے سیاسی مضمرات

 

150تا155

اسلامی جمہوریت کا حیثیت

 

 

باب 3: قرآ ن کا فلسفہ سیاست

 

156

علم سیاست کے بنیادی سوال ۔ چند بنیادی حقیقتیں ۔ اسلام تصور حیات

 

157تا205

دین اور قانون حق

 

 

حکومت کی ضرورت و اہمیت

 

 

تصور حاکمیت و خلافت

 

 

اصول اطاعت و وفاداری

 

 

باب4: معنی خلافت

 

206

لغوی بحث۔ خلافت میں فرمانروائی کا مفہوم ۔ قرآنی اشارات

 

208تا 217

خلافت الہٰی سے مراد کیا ہے ؟

 

 

باب5: اسلام تصور قومیت

 

218

(1)

 

 

قومیت کےغیر منفک لوازم

 

220تا260

قومیت کےعناصر ترکیبی

 

 

قومیت کے عناصر پر ایک عقلی تنقید

 

 

اسلام کا وسیع نظریہ

 

 

عصبیت اور اسلام کی دشمنی

 

 

عصبیت کے خلاف اسلام کا جہاد

 

 

اسلامی قومیت کی بنیاد

 

 

اسلام کا طریق جمع وتفریق

 

 

اسلامی قومیت کی تعمیر کس طرح ہوئی ؟ مہاجرین کا اسوہ

 

 

انصار کا طرز عمل

 

 

رشتہ دین پر مادی علائق کی قربانی

 

 

جامعہ اسلامیہ کی اصلی روح

 

 

رسول اللہ ﷺ کی آخری وصیت

 

 

اسلام کے لیے سب سے بڑا خطرہ

 

 

مغرب کی اندھی تقلید

 

 

(2)

 

 

اسلامی قومیت کا حقیقی مفہوم

 

261تا280

استدراک

 

 

حصہ دوم : اسلامی نظم مملکت : اصول اور نظام کار

 

 

باب6: اسلام کے دستوری قانون کے مآخذ

 

282

(1)

 

 

قرآن مجید

 

286تا291

(2)

 

 

سنت رسول اللہ ﷺ

 

292۔308

رسول بحیثیت معلم و مربی

 

 

رسول بحیثیت شارح کتاب اللہ

 

 

رسول بحیثیت پیشوا و نمونہ تقلید

 

 

رسول بحیثیت شارح

 

 

رسول بحیثیت قاضی

 

 

رسول بحیثیت حاکم و فرمانروا

 

 

سنت کے مآخذ قانون ہونے پر امت کا اجماع

 

 

(3)

 

 

خلافت راشدہ کا تعامل اورمجتہدین امت کے فیصلے

 

309تا311

(4)

 

 

مشکلات اور موانع

 

312تا316

اصطلاحات کی اجنبیت

 

 

قدیم فقہی لٹریچر کی نامانوس ترتیب

 

 

نظام تعلیم کا نقص

 

 

اجتہاد بلا علم کا دعویٰ

 

 

ضمیہ۔سنت رسول بحثیثت مآخذ قانون

 

317تا329

باب7:اسلامی ریاست کی بنیادیں

 

330

(1)

 

 

حاکمیت کس کی ہے ؟ حاکمیت کا مفہوم

 

334تا342

حاکمیت فی الواقع کس کی ہے ؟

 

 

حاکمیت کس کا حق ہے ؟ حاکمیت کس کی ہونی چاہیے ؟ اللہ کی قانونی حاکمیت

 

 

رسول اللہﷺ کی حیثیت

 

 

اللہ ہی کی سیاسی حاکمیت

 

 

جمہوری خلافت

 

 

(2)

 

 

ریاست کے حدودعمل

 

343تا344

(3)

 

 

اعضاء ریاست کے حدود عمل اور ان کا باہمی تعلق

 

345تا355

مجالس قانون ساز کےحدود

 

 

انتظامیہ کے حدود عمل

 

 

عدلیہ کے حدود عمل مختلف اعضائے ریاست کا باہمی تعلق

 

 

(4)

 

 

ریاست کا مقصد وجود

 

356تا357

(5)

 

 

حکومت کی تشکیل کیسے ہو ؟ صدر ریاست کا انتخاب

 

358تا369

مجلس شوریٰ کی تشکیل حکومت کی شکل اور نوعیت

 

 

(6)

 

 

اولی الامر کے اوصاف

 

370تا 373

(7)

 

 

شہریت اور اس کی بنیادیں

 

374تا377

(8)

 

 

حقوق شہریت

 

378تا 381

(9)

 

 

شہریوں پر حکومت کے حقوق

 

382تا 383

باب 8: اسلامی دستور کی بنیادیں

 

384

(1)

 

 

حاکمیت الہٰی

 

388تا 390

(2)

 

 

مقام رسالت

 

391تا 392

(3)

 

 

تصور خلافت

 

393تا 395

(4)

 

 

اصول مشاورت

 

396تا 398

(5)

 

 

اصول انتخاب

 

399تا 401

(6)

 

 

عورتوں کے مناصب

 

402

(7)

 

 

حکومت کامقصد

 

403تا 404

(8)

 

 

اولی الامر اور اصول اطاعت

 

405تا 409

(9)

 

 

بنیادی حقوق اور اجتماعی عدل

 

410تا 414

(10)

 

 

فلاح عامہ

 

415تا 417

 

باب 9: اسلامی ریاست کا مثالی دور

 

418

(دور نبوی اور خلافت راشدہ پر ایک نظر )

 

 

(1)

 

 

دورنبوی

 

420تا441

قانون خداوندی کی بالاتری

 

 

عدل بین الناس

 

 

مساوات بین المسلمین

 

 

حکومت کی ذمہ داری

 

 

شوریٰ

 

 

اطاعت فی المعروف

 

 

اقتدار کی طلب وحرص کاممنو ع ہونا

 

 

ریاست کا مقصد وجود

 

 

امر بالمعروف ونہی عن المنکر کاحق اور فرض

 

 

(2)

 

 

خلافت راشدہ

 

442تا460

انتخابی خلافت

 

 

شوروی حکومت

 

 

بیت المال کے امانت ہونے کا تصور

 

 

حکومت کا تصور

 

 

قانونی کی بالاتری

 

 

عصبیتون سے پاک حکومت

 

 

روح جمہوریت

 

 

باب10: اسلام میں قانون سازی اور اجتہاد

 

461

(1)

 

 

اسلام میں قانون سازی کادائرہ عمل اور اس میں اجتہادکا مقام

 

463تا 471

قانون سازی کادائرہ عمل

 

 

تعبیراحکام

 

 

قیاس

 

 

استنباط

 

 

آزادانہ قانون سازی کا دائرہ

 

 

اجتہاد

 

 

اجتہاد کے لیے ضروری اوصاف

 

 

اجتہاد کا صحیح طریقہ

 

 

اجتہاد کوقانون کامرتبہ کیسے حاصل ہوتا ہے

 

 

(2)

 

 

چند اعتراضات اور ان کا جواب

 

472تا 476

(3)

 

 

قانون سازی ، شوریٰ اور اجماع

 

477تا485

قانون سازی کا اصول

 

 

قانون سازی کے چار شعبے

 

 

مصالح مرسلہ اور استحسان

 

 

عدالتی فیصلوں اور ملکی قانون کا فرق

 

 

اجماع

 

 

(4)

 

 

نظام اسلامی میں نزعی امور کے فیصلہ کا صحیح طریقہ

 

486تا 499

قرآن کی اصولی ہدایات

 

 

عہد رسالت میں رفع نزاع کا طریقہ

 

 

خلافت راشدہ کا تعامل

 

 

عقل عام کا تقاضا

 

 

باب11: چند دستوری اور سیاسی مسائل

 

500

(1)

 

 

اسلامی ریاست کے چند پہلو

 

502تا 515

لادینی جمہوریت

 

 

تھیاکریسی اور اسلامی ریاست

 

 

اسلام میں قانون سازی

 

 

اسلامی ریاست کیوں ؟ اسلامی ریاست میں ذمیوں کی حیثیت

 

 

مرتد کی سزا اسلام میں

 

 

اسلامی قانون جنگ اور غلامی

 

 

اسلامی اور فنون لطیفہ

 

 

فقہی اختلافات اسلامی ریاست کے قیام میں حائل نہیں ہیں

 

 

(2)

 

 

خلافت و حاکمیت

 

516تا528

اسلامی ریاست اورخلافت کےمتعلق چند سوالات

 

 

الخلافت یا الحکومت

 

 

حکومت الہٰیہ اور پاپائیت کا اصولی فرق

 

 

اسلامی حکومت اور مسلم حکومت

 

 

مسئلہ خلافت اور فرقہ پرستی

 

 

(3)

 

 

ملکی سیاسی میں عورتوں کا حصہ

 

529تا544

مجالس قانون ساز میں عورتوں کی شرکت کا مسئلہ

 

 

اسلامی حکومت میں خواتین کا دائرہ عمل

 

 

معاشرہ کی اصلاح و تربیت

 

 

(4)

 

 

ذمیوں کا حقوق

 

545تا 560

اسلامی ریاست میں ذمی رعایا

 

 

مزید تصریحات

 

 

ذمیوں کےحقوق

 

 

(5)

 

 

چند متفرق مسائل

 

561تا568

تعبیر دستور کاحق

 

 

اسلام اور جمہوریت

 

 

صدر ریاست کو ویٹو کاحق

 

 

حصہ سوم : اسلام کے اصول حکمرانی

 

 

باب 12: انسان کےبنیادی حقوق

 

570تا 593

بنیادی حقوق کاسوال کیوں؟ دور حاضر میں انسانی حقوق کے شعور کا ارتقاء

 

 

حرمت جان یا جینے کاحق

 

 

معذوروں اور کمزوروں کا تحفظ

 

 

تحفظ ناموس خواتین

 

 

معاشی تحفظ

 

 

عدل و انصاف

 

 

نیکی میں تعاون اور بدی میں عدم تعاون

 

 

مساوات کا حق

 

 

معصیت سے اجتناب کا حق

 

 

ظالم کی اطاعت سے انکار کاحق

 

 

سیاسی کارفرمائی میں شرکت کاحق

 

 

آزادی کا تحفظ

 

 

تحفظ ملکیت

 

 

عزت کاتحفظ

 

 

نجی زندگی کاتحفظ

 

 

ظلم کےخلافت احتجاج کا حق

 

 

آزادی اظہاررائے

 

 

ضمیر و اعتقاد کی آزادی کا حق

 

 

مذہبی دل آزاری سے تحفظ کا حق

 

 

آزادی اجتماع کا حق

 

 

عمل غیر کی ذمہ داری سے بریت

 

 

شبہات پر کاروائی نہیں کی جائےگی

 

 

باب 13: غیر مسلموں کے حقوق

 

596تا598

(1)

 

 

غیرمسلم رعایا کی اقسام ۔ معاہدین ۔ مفتوحین

 

599تا 603

(2)

 

 

ذمیوں کے عام حقوق

 

604تا618

حفاظت جان

 

 

فواجداری قانون

 

 

دیوانی قانون

 

 

تحفظ عزت

 

 

ذمہ پائداری

 

 

شخصی معاملات

 

مذہبی مراسم

 

 

عبادت گاہیں

 

 

جزیہ وخراج کی تحصیل میں رعایات

 

 

تجارتی ٹیکس

 

 

فوجی خدمت سےاستثناء

 

 

(3)

 

 

فقہائے اسلام کی حمایت

 

619تا620

(4)

 

 

زائد حقوق جو غیر مسلموں کےدیئے جا سکتے ہیں

 

621تا626

مجلس شوریٰ یا پارلیمنٹ

 

 

آزادی تحریر و تقریر وغیرہ

 

 

تعلیم

 

 

ملازمتیں

 

 

معاشی کاروبار اور پیشے

 

 

غیر مسلموں کے لیے تحفظ کی واحد صورت

 

 

باب14: اسلام اور عدل اجتماعی

 

627

دورجدید کے چند فریب

 

629تا634

عدالت اجتماعیہ کی حقیقت

 

 

اسلام ہی میں عدالت اجتماعیہ

 

 

عدل ہی اسلام کا مقصود

 

 

عدل اجتماع کیا ہے ؟

 

634تا640

انسانی شخصیت کانشوونما

 

 

انفرادی جوابدہی

 

 

انفرادی آزادی

 

 

اجتماعی ادارے اور ان کا اقتدار

 

 

سرمایہ داری اور اشتراکیت کی خامیاں

 

 

اشتراکیت ظلم اجتماعی کی بدترین شکل

 

 

اسلام میں عدل کا تصور

 

640تا645

آزادی فرد کے حدود

 

 

انتقال دولت کےشرائط

 

 

صرف دولت پر پابندیاں

 

 

معاشرتی خدمت

 

 

استیصال ظلم

 

 

مصالحہ عامہ کے لیے قومی ملکیت کےحدود

 

 

بیت المال میں تصرف کے شرائط

 

 

ایک سوال

 

 

 

باب 15: اسلامی ریاست کار ہنما اصول ( قرآن کی روشنی میں )

 

646

(1)

 

 

حکومت کا مقصد

 

648تا 653

(2)

 

 

اسلامی حکومت کا مزاج

 

654تا660

(3)

 

 

شورائیت

 

661تا 665

(4)

 

 

عدل و احسان

 

666تا 669

(5)

 

 

قیادت او راہل منصب کے انتخاب کے اصول

 

670تا 672

(6)

 

 

دفاع اور اصول جنگ و صلح

 

673تا677

(7)

 

 

معاشرتی ، سیاسی اور تعلیمی پالیسی کے عمومی اصول

 

678تا 682

(8)

 

 

شہریت اور خارجہ پالیسی

 

693تا 702

حصہ چہارم: اسلامی انقلاب کی راہ

 

 

باب 16:اسلامی انقلاب کی راہ

 

703

(1)

 

 

اسلامی انقلاب کی راہ

 

706تا708

(2)

 

 

اسلامی حکومت کی خصوصیات

 

709تا 714

خلافت اسلامیہ

 

 

(3)

 

 

اسلامی انقلاب کی سبیل

 

715تا717

(4)

 

 

اسلامی تحریک کا مخصوص طریق کار

 

718تا732

(5)

 

 

پر امن انقلاب کا راستہ

 

733تا735

(6)

 

 

ہمہ گیر ریاست میں تحریک اسلامی کا طریق کار

 

736تا 739

(7)

 

 

نظام اسلامی کے قیام کی صحیح ترتیب

 

740تا742

(8)

 

 

سیاسی انقلاب پہلے یا سماجی انقلاب ؟

 

743تا 744

 

مصنف کی مزید تصانیف

pages-from-islam-aur-jadeed-maashi-nazriat
tjtle-page-islam-dor-e-jadeed-ka-mazhab
title-pages-islam-k-muashrti-adab-sorat-al-hujrat-ki-roshni-me-copy
pages-from-islami-tehzeeb-aur-us-key-asool-o-mubadi
title-pages-islmi-riasat-copy
title-pages-islami-ibadat-pr-tehqiqi-nazar-copy
pages-from-al-asmaa-ul-husnaa
pages-from-al-jihaad-fil-islam
title-pages-tajdeed-w-ahyae-deen-copy
pages-from-tehreek-e-azaadi-e-hind-aur-muslman-1
pages-from-tehreek-e-azaadi-e-hind-aur-muslman-1
copy-of-title-pages-tarjuma-quran-majeedmolana-modoodi
title-pages-haqooq-al-zoujain-copy
title-pages-haqiqat-e-islam-copy
title-pages-khutbat-copy
pages-from-khutbaat-e-europe
title-pages-dawat-e-deen-ki-zimadari-copy
title-pages-safarnama-araz-ul-quran-copy
title-pages-sunnat-ki-aeni-hesiyyat
pages-from-sood-maudoodi
searat-e-sarwar-e-aalam-part-1
searat-e-sarwar-e-aalam-part-2
fazael-e-quran
title-pages-qadiyani-masla-copy
title-pages-qadiyani-masla-aur-iske-mazhabi-sayasi-pehlu-copy
title-pages-quran-aur-peghamber-copy
untitled-1
title-pages-quran-ki-muashi-talimat-copy
title-pages-qoumon-k-uroj-w-zawal-pr-ilmi-tehqiqat-k-asrat-copy
title-pages-murtad-ki-saza-copy
pages-from-masala-jabar-o-qadar
title-pages-masla-qurbani-sharie-aur-aqli-nukta-e-nazar-se-copy
title-pages-masla-malkiyat-e-zameen-copy
title-pages-muashiat-e-islam-maudoodi--copy
pages-from-parda
title-pages-kitab-al-soum-copy
pages-from-yahoodiyat-quran-ki-roshni-mein-2

ای میل سبسکرپشن

محدث لائبریری کی اپ ڈیٹس بذریعہ ای میل وصول کرنے کے لئے ای میل درج کر کے سبسکرائب کے بٹن پر کلک کیجئے۔

 

ایڈوانس سرچ

موضوعاتی فہرست

رجسٹرڈ اراکین

آن لائن مہمان

محدث لائبریری پر اس وقت الحمدللہ 299 مہمان آن لائن ہیں ، لیکن کوئی رکن آن لائن نہیں ہے۔

ایڈریس

       99--جے ماڈل ٹاؤن،
     نزد کلمہ چوک،
     لاہور، 54700 پاکستان

       0092-42-35866396، 35866476، 35839404

       0092-423-5836016، 5837311

      KitaboSunnat@gmail.com

      بنک تفصیلات کے لیے یہاں کلک کریں

 :