• title-pages-aima-salaf-aur-itibai-sunnat
    امام ابن تیمیہ
    قرآن اور سنت دین اسلام کے بنیادی ماخذ ہیں۔ حدیث اور قرآن کے وحی ہونے میں صرف اس حد تک فرق ہے کہ قرآن وحی متلو اور حدیث وحی غیر متلو ہے۔ لیکن فی زمانہ ہم دیکھتے ہیں کہ کبھی حدیث قرآن کے خلاف ہونے کا نعرہ مستانہ بلند کر کے اور کبھی ائمہ کرام کی تقلید کے باوصف احادیث رسولﷺ سے انحراف کا رجحان پایا جاتا ہے۔ جبکہ ائمہ کرام کے مختلف موقعوں پر کہے گئے اقوال اس بات کی ضمانت ہیں کہ دین میں حجت صرف اور صرف کتاب اللہ اور سنت رسولﷺ ہیں۔ شیخ الاسلام امام ابن تیمیہ کی اس کتاب میں ائمہ سلف اور سنت کے حوالے سے نگارشات پیش کی گئی ہیں۔ جس میں ائمہ اربعہ کا عمل بالحدیث اور ترک حدیث پر گتفتگو کرتے ہوئے ترک حدیث کے اسباب پر تفصیلی روشنی ڈالی گئی ہے۔ اردو ترجمہ پروفیسر غلام احمد حریری نے کیا ہے۔ (ع۔م)
  • pages-from-itbaa-e-sunnat
    سید بدیع الدین شاہ راشدی

    فتنہ انکار حدیث تاریخ اسلام میں سب سے پہلے دوسری صدی ہجری میں خوارج اور معتزلہ نے پیدا کیا۔ خوارج کو اس کی ضرورت اس لیے محسوس ہوئی کہ مسلم معاشرے میں جو انارکی وہ پھیلانا چاہتے تھے، اس کی راہ میں سنت رسول صلی اللہ علیہ وسلم حائل تھی۔ لہذا نہوں نے احادیث کی صحت میں شک اور سنت کے واجب الاتباع ہونے سے انکار کی دوگونہ پالیسی اختیار کی۔ معتزلہ کا مسئلہ یہ تھا کہ یونانی فلسفے نے اسلامی عقائد اور اصول و احکام کے بارے جو شکوک و شبہات عقل انسانی میں پیدا کر دیے تھے، وہ انہیں سمجھنے سے پہلے ہی حل کر دینا چاہتے تھے لہذا انہوں نے فلسفہ کے نام سے منقول ہر بات کو عقل کا لازمی تقاضا سمجھا اور اسلامی عقائد اور اصول و احکام کی ایسی تعبیر کرنا شروع کر دی جو ان نام نہاد عقلی تقاضوں کے مطابق ہو۔ اس راہ میں پھر حدیث و سنت حائل ہوئی تو انہوں نے بھی خوارج کی طرح حدیث کو مشکوک ٹھہرایا اور سنت کو حجت ماننے سے انکار کر دیا۔ یہ فتنہ درمیان میں کئی صدیوں تک اپنی شمشان بھومی میں پڑا رہا یہاں تک کہ تیرہویں صدی ہجری میں وہ دوبارہ زندہ ہوا۔ پہلے یہ مصر و عراق میں پیدا ہوا اور اس نے دوسرا جنم برصغیر پاک و ہند میں لیا۔ برصغیر میں اس کی ابتدا کرنے والے سرسید احمد خان اور مولوی چراغ علی تھے۔ ان کے بعد مولوی عبد اللہ چکڑالوی اس کے علمبردار بنے۔ ان کے بعد مولوی احمد دین امرتسری نے اس کام کا بیڑا اٹھایا اور پھر اسلم جیرجپوری اسے آگے لے کر بڑھے۔ اور آخر کار اس فتنہ انکار حدیث و سنت کی ریاست و چودہراہٹ غلام احمد پرویز صاحب کے حصے میں آئی اور انہوں نے اس فتنے کو ضلالت کی انتہا تک پہنچا دیا۔ اس فکر کے حاملین اسلام کو موم کا ایک ایسا گولہ بنانا چاہتے ہیں جسے بدلتی دنیا کے ہر نئے فلسفے کے مطابق روزانہ ایک نئی صورت دی جا سکے۔زیر تبصرہ کتاب(اتباع سنت ) پاکستان کے معروف عالم دین علامہ سید بدیع الدین راشدی کے ایک خطاب پر مشتمل تالیف ہے ،جو انہوں نے 1977ء میں پیپلزپارٹی کا تختہ الٹ کر بر سر اقتدار آنے والے ضیاء الحق کے دور میں کی تھی۔ اس میں انہوں نے مستند دلائل کے ذریعے حجیت حدیث پر استدلال کیا ہے اور منکرین حدیث کو مسکت اور دندان شکن جواب دیا ہے۔اللہ تعالی ان کی اس محنت کو اپنی بارگاہ میں قبول فرمائے۔آمین(راسخ)

  • pages-from-ittebaa-e-sunnat-aur-sahaba-o-aimmah-ra-key-asool-e-fiqha
    ڈاکٹر وصی اللہ محمد عباس

    اللہ تعالیٰ نے جن وانس کو اپنی عبادت کے لئے پیدا کیا ہے ، فرمایا:( َ ومَا خَلَقْتُ الْجِنَّوَالْاِنْسَاِلَّالِیَعْبُدُوْن)(الذاریات)میں نے جنات اور انسانوں کو محض اسی لئے پیدا کیا ہے کہ وہ صرف میری عبادت کریں)۔ جن وانس کی تخلیق کا مقصد اصلی چونکہ عبادت ہے اس لئے اللہ تعالیٰ نے عبادت کا طریقہ اور اس کی کیفیت بتانے کےلئے انبیائے کرام کاسلسلہ قائم فرمایا۔کیوں کہ کون ساعمل اورکونسی عبادت اللہ کو پسند اور کون ساعمل اور کون سی عبادت اللہ کو ناپسند ہے یہ بندے کو اس وقت تک معلوم نہیں ہوسکتی جب تک کہ اللہ تعالیٰ خود نہ بتائے، اس لئے اللہ تعالیٰ نے پیغمبروں کے ذریعہ اپنی خوشی اور ناراضگی کے امور کی اطلاع دی اللہ تعالیٰ نے فرمایا:(وَلَقَدْ بَعَثْنَا فِیْ کُلِّ اُمَّۃٍ رَّسُوْلًا اَنِ اعْبُدُوا اللّٰہَ وَاجْتَنِبُوا الطَّاغُوْت))النحل: ۳۶(۔ ہم نے ہرامت میں رسول بھیجا کہ (لوگو!) صرف ا للہ کی عبادت کرو اور اس کے سوا تمام معبودوں سے بچو)۔اسی لئے اللہ تعالیٰ نے ہر قوم پر یہ فرض کیا کہ اپنے رسولوں کی بات مانیں ، ان کی اطاعت کریں اور انہیں اپنا اسوہ تسلیم کریں۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا:(وَمَآ اَرْسَلْنَا مِنْ رَّسُوْلٍ اِلَّا لِیُطَاعَ بِاِذْنِ اللّٰہِ )(النساء)۔ہم نے ہر ہر رسول کو صرف اسی لئے بھیجا کہ اللہ تعالیٰ کے حکم سے اس کی فرمانبرداری کی جائے)۔ نبی ﷺ نے فرمایا: ’’اللہ تعالیٰ نے مجھ سے قبل جتنے بھی نبی بھیجے ہر ایک کے کچھ خاص ساتھی ، مددگار اورصحابہ ہوا کرتے تھے، جونبی کی باتوں کو مانتے اور ان کی سنت کو اپناتے تھے‘‘ (مسلم)۔ یعنی ہرزمانے کے انبیائے کرام کی امتوں پر فرض تھا کہ اپنے نبی کی باتوں پر ایمان لائیں اور ان کی اطاعت کریں جنہوں نے ایسا کیا وہ کامیابی سے ہمکنار ہوئے اور جنہوں نے انبیائے کرام کی ہدایت اور ان کے طریقے کو درخورِ اعتنا نہیں سمجھا وہ مستحق ہلاکت قرار پائے۔ زیر تبصرہ کتاب ’’اتباع سنت اور صحابہ وآئمہ کے اصول فقہ‘‘جوکہ وصی اللہ محمد عباس کی تصنیف کردا ہے ،جس میں انہوں نے اس موضوع کو قرآن وحدیث اور سلف وصالحین کے اقوال سے مرتب کیا ہے،اللہ رب العزت سے دعا کرتے ہیں کہ اللہ فاضل مصنف کی اس کاوش کو قبول فرمائے۔آمین(شعیب خان)

  • pages-from-islam-aur-rafahi-kam
    ام عبد منیب

    کسی شخص کی ذاتی ضرورت کےوقت اس کاکام کردینا یا معاشرے کی اجتماعی ضرورتوں اور سہولتوں کو فراہم کرنے کی کوشش کرنا چاہے وہ کوشش مال کے ذریعے ہو۔ چاہے خدمت او رمحنت کےذریعے چاہے معاشرے کو اس کی ضرورتوں اوراس سہولتوں کےشعور کو عام کرنے کےلیے معلوماتی تحریریں فراہم کی جائیں، ان سب کا نام رفاہی کام ہے جسے خدمت خلق بھی کہا جاتاہے ۔اورانسان اپنی فطری ،طبعی، جسمانی اور روحانی ساخت کے لحاظ سے سماجی اور معاشرتی مخلوق ہے ۔یہ اپنی پرورش،نشو ونما،تعلیم وتربیت،خوراک ولباس اور دیگر معاشرتی ومعاشی ضروریات پور ی کرنے کے لیے دوسرے انسانوں کا لازماً محتاج ہوتا ہے ۔یہ محتاجی قدم قدم پر اسے محسوس ہوتی او رپیش آتی ہے۔ اسلام ایک دین فطرت ہے اس لیے اس نے اس کی تمام ضروریات اور حاجات کی تکمیل کاپورا بندوبست کیا ہے۔ یہ بندو بست اس کےتمام احکام واوامر میں نمایا ں ہے ۔ اسلام نے روزِ اول سے انبیاء کرام کے اہم فرائض میں اللہ کی مخلوق پر شفقت ورحمت او ران کی خدمت کی ذمہ داری عائد کی ۔اس ذمہ داری کو انہوں نے نہایت عمدہ طریقہ سے سرانجام دیا ۔اور نبی کریم ﷺ نے بھی مدینہ منورہ میں رفاہی، اصلاحی اور عوامی بہبود کی ریاست کی قائم کی۔ زیر تبصرہ کتابچہ ’’اسلام اور رفاہی کام ‘‘ محرمہ ام عبد منیب صاحبہ کی کاوش ہے جس میں انہوں نے   رفاہی کام کی تعریف اور سابقہ شریعتوں میں رفاہی کاموں کا تصور بیان کرنےکے بعد شریعت محمدیہ میں رفاہی کا م کے تصور کو احادیث کی روشنی میں پیش کیاہے اللہ تعالیٰ ان کی اس کاوش کو قبول فرمائے (آمین) م۔ا)

  • title-pages-islami-aur-gair-islami-fikr-w-amal-copy
    عاشق حسین علوی

    جب تک کوئی نظام فکر بیرونی اثرات وخیالات کی آمیزش سے پاک رہتا ہے اس کے افراد میں یکجہتی قائم رہتی ہے۔اسلام ایک کامل دین اورمکمل دستور حیات ہے، جوزندگی کے تمام شعبوں میں انسانیت کی راہ نمائی کرتا ہے، اسلام جہاں انفرادی زندگی میں فردکی اصلاح پر زوردیتاہے وہیں اجتماعی زندگی کے زرین اصول وضع کرتاہے،اسلامی نظامِ حیات میں جہاں عبادت کی اہمیت ہے وہیں معاملات ومعاشرت اور اخلاقیات کو بھی اولین درجہ حاصل ہے،اسلام کاجس طرح اپنانظامِ معیشت ہے اوراپنے اقتصادی اصول ہیں اسی طرح اسلام کا اپنانظامِ سیاست وحکومت ہے،اسلام کا نظامِ سیاست وحکم رانی موجودہ جمہوری نظام سے مختلف اوراس کے نقائص ومفاسد سے بالکلیہ پاک ہے،لیکن اسلام میں سیاست شجرِ ممنوعہ نہیں ہے،یہ ایسا کامل ضابطہٴ حیات ہے جو نہ صرف انسان کو معیشت ومعاشرت کے اصول وآداب سے آگاہ کرتا ہے، بلکہ زمین کے کسی حصہ میں اگراس کے پیرو کاروں کواقتدار حاصل ہو جائے تووہ انہیں شفاف حکم رانی کے گربھی سکھاتاہے۔لیکن اس کے باوجود بہت سارے لوگ غیر اسلامی فکر وعمل کو فروغ دینے کے لئے کوشاں رہتے ہیں۔ زیر تبصرہ کتاب"اسلام اور غیر اسلامی  فکر وعمل"محترم جناب عاشق حسین علوی صاحب کی تصنیف ہے ، جس میں انہوں  اسلام اور غیر اسلامی فکر وعمل کا ایک بہترین موازنہ کیا ہےاور اسلام کی روشن تعلیمات کو دلائل کے ذریعے دیگر تمام غیر اسلامی افکار سے بہتر اور اعلی قرار دیا ہے۔ اللہ تعالی سے دعا ہے کہ وہ مولف کی اس کاوش کو قبول فرمائے اوران کے میزان حسنات میں اضافہ فرمائے۔آمین(راسخ)

  • title-pages-islam-aurmasail-e-jahliyat-copy
    محمد بن عبد الوہاب تمیمی

    کسی بھی چیز کی خوبی اس وقت ظاہر ہوتی ہے جب اس کے مقابل کی چیز سامنے ہو۔اشیاء کی حقیقت تو ان کی اضداد ہی سے واضح ہوتی ہے۔اسلام ایک کامل دین اورمکمل دستور حیات ہے، جوزندگی کے تمام شعبوں میں انسانیت کی راہ نمائی کرتا ہے، اسلام جہاں انفرادی زندگی میں فردکی اصلاح پر زوردیتاہے وہیں اجتماعی زندگی کے زرین اصول وضع کرتاہے،اسلامی نظامِ حیات میں جہاں عبادت کی اہمیت ہے وہیں معاملات ومعاشرت اور اخلاقیات کو بھی اولین درجہ حاصل ہے،اسلام کاجس طرح اپنانظامِ معیشت ہے اوراپنے اقتصادی اصول ہیں اسی طرح اسلام کا اپنانظامِ سیاست وحکومت ہے،اسلام کا نظامِ سیاست وحکم رانی موجودہ جمہوری نظام سے مختلف اوراس کے نقائص ومفاسد سے بالکلیہ پاک ہے۔اسلام کی یہ پاکیزہ تعلیمات اور روشن اصول اس وقت زیادہ نکھر کر سامنے آتی ہیں جب اسلام سے ماقبل دور جاہلیت پر نظر ڈالی جائے۔نبی کریم ﷺ نے دور جاہلیت کے متعدد امور سے منع فرمایا ہے ۔زیر تبصرہ کتاب" اسلام  اور مسائل جاہلیت "عالم عرب کے معروف داعی اور مصلح شیخ الاسلام امام محمد بن عبد الوھاب ﷫ کی ایک عظیم الشان عربی تصنیف "مسائل الجاھلیۃ التی خالف فیھا رسول اللہ ﷺ اھل الجاھلیۃ" کا اردو ترجمہ ہے۔اردو ترجمہ انڈیا کے معروف سلفی عالم دین محترم جناب مولانا مختار احمد ندوی سلفی نے کیا ہے۔مولف موصوف ﷫نے اس کتاب میں دور جاہلیت میں پائے جانے والے ایسے سو مسائل کو ایک جگہ جمع فرمادیا ہے جن سے نبی کریم ﷺ نے اسلام میں منع فرما دیا ہے۔اللہ تعالی سے دعا ہے کہ وہ مولف کی اس کاوش کو قبول فرمائے اوران کے میزان حسنات میں اضافہ فرمائے۔آمین(راسخ)

  • pages-from-jismani-harkaat-aur-shaistagi
    ام عبد منیب

    اللہ تعالیٰ نے جتنی بھی مخلوقات پیدا کیں ان سب میں انسان اس کی شاہکار تخلیق ہے خوبصورت ایسا ہ کہ اس کے بارے میں خود رب العالمین نے فرمایا:لَقَدْ خَلَقْنَا الْإِنْسَانَ فِي أَحْسَنِ تَقْوِيم(التین:4) اس کا نازک اور خوبصورت جسم ہر وقت محوِ حرکت ہے۔ ربِ کریم نے انسان کو دوسری مخلوقات کے مقابلے میں ایک امتیازی حیثیت دی ہے اوراسے وہ کچھ عطا کیا ہے جو مخلوقات میں کسی کو نہیں دیا۔انسان کے امتیازی اوصاف کی وجہ سے انسان اچھائی برائی کا مکلف بھی ہے اور اللہ تعالیٰ کے ہاں جواب دہ بھی۔انسان کے بعض افعال وحرکات میں انسان جانوروں سےمشابہ ہے لیکن جانوروں میں علم،عقل اوراختیار نہیں ہے جب کہ انسان کوجو چیز جانوروں سےممتاز کرتی ہے وہ اس کے افعال وحرکات میں شائستگی اور تہذیب ہے ۔کیوں کہ اسلام نے انسانی افعال وحرکات کو ایک خاص ضابطے کے اندر رکھنے کی تلقین کی ہے ۔انسانی جسم بہت سے اختیاری اوغیر اختیاری افعال میں ہر وقت مصروف رہتاہے ۔اسلام نے ان افعال کو بھی شائستگی کا حسن عطا کیا ہے تاکہ انسان حیوانوں سے ممتاز ہوسکے۔ زیر نظرکتابچہ’’جسمانی حرکات اور شائستگی ‘‘محترمہ ام عبد منیب صاحبہ کی تحریری کاوش ہے۔ جس میں انہوں نے انسان کی اختیاری اورغیراختیاری حرکات کوبیان کرنےکے ساتھ ساتھ   بڑے احسن انداز میں اس کےمتعلق اسلامی تعلیمات کو بھی پیش کیا ہے ۔اللہ تعالیٰ محترمہ کی اس کاوش کو لوگوں کی اصلاح کاذریعہ بنائے (آمین) محترمہ ام عبد منیب صاحبہ محمد مسعود عبدہ  کی اہلیہ ہیں ۔ موصوف   تقریبا 23 سال قبل جامعہ لاہور الاسلامیہ میں عصری علوم کی تدریس کرتے رہے اور 99۔جے ماڈل ٹاؤن میں بمع فیملی رہائش پذیر رہے ۔موصوف کے صاحبزادے محترم عبد منیب صاحب نے اپنے طباعتی ادارے ’’مشربہ علم وحکمت ‘‘ کی تقریبا تمام مطبوعا ت محدث لائبریری کے لیے ہدیۃً عنائت کی ہیں ۔اللہ تعالیٰ ان کی تمام مساعی جمیلہ کو قبول فرمائے۔ (م۔ا)

  • pages-from-jannat-ki-qeemat-magar-keya
    عبد الملک القاسم

    جنت وہ باغ جس کے متعلق انبیاء کی تعلیمات پرایمان لا کر نیک اور اچھے کام کرنے والوں کو خوشخبری دی گئی ہے۔ یہ ایسا حسین اور خوبصورت باغ ہے جس کی مثال کوئی نہیں ۔یہ مقام مرنے کے بعد قیامت کے دن ان لوگوں کو ملے گا جنہوں نے دنیا میں ایمان لا کر نیک اور اچھے کام کیے ہیں۔ قرآن مجید نے جنت کی یہ تعریف کی ہے کہ اس میں نہریں بہتی ہوں گی، عالیشان عمارتیں ہوں گی،خدمت کے لیے حور و غلمان ملیں گے، انسان کی تمام جائز خواہشیں پوری ہوں گی، اور لوگ امن اور چین سے ابدی زندگی بسر کریں گے۔نبی کریم ﷺنے فرمایا ہے کہ:’’جنت میں ایسی ایسی نعمتیں ہیں جنھیں کسی آنکھ نے دیکھا نہیں نہ کسی کان نے ان کی تعریف سنی ہے نہ ہی ان کا تصور کسی آدمی کے دل میں پیدا ہوا ہے۔‘‘(صحیح مسلم: 2825) اور ارشاد باری تعالیٰ ہے’’ ابدی جنتوں میں جتنی لوگ خود بھی داخل ہوں گے اور ان کے آباؤاجداد، ان کی بیویوں اور اولادوں میں سے جو نیک ہوں گے وہ بھی ان کے ساتھ جنت میں جائیں گے، جنت کے ہر دروازے سے فرشتے اہل جنت کے پاس آئیں گے اور کہیں گے تم پر سلامتی ہو تم یہ جنت تمھارے صبر کا نتیجہ ہے آخرت کا گھر تمھیں مبارک ہو‘‘۔(سورۂ الرعدآیت نمبر: 23،24) حصول جنت کےلیے  انسان کو کوئی بھی قیمت ادا کرنی پڑے  تو اسے ادا کرکے اس کامالک ضرور بنے۔ زیر تبصرہ کتاب ’’جنت کی قیمت مگر کیا ‘‘ سعودی عرب کے  جید عالم دین  الشیخ  عبد المالک قاسم کی عربی تصنیف’’والثمن الجنۃ‘‘ کارواں اور سلیس ترجمہ  ہے ۔ مصنف موصوف نے  اس کتاب میں  نمازکو جنت کی قیمت  بتایا ہے  اوراس کی جوفکر نبی کریم ﷺ ،صحابہ کرام  ،تبع تابعین  اور سلف صالحین ﷭ میں پائی جاتی تھی اسے اپنے  اندر لاکر جنت کے حصول میں محنت کرنی چاہیے اور ان اعمال کو  اختیار کرنا چاہیے کہ جن کے کرنے سے جہنم کی آگ سے نجات او ر جنت میں  داخلہ ممکن ہے ۔اللہ تعالیٰ  اس کتاب کواہل اسلام کےلیے نفع بخش بنائے اور ہر مومن موحدکو  جنت میں داخلہ نصیب فرمائے۔ آمین(م۔ا)

  • pages-from-hifaz-e-haya-guftagoo-aur-tehreer
    ام عبد منیب

    انسان کے دل میں ہر وقت مختلف قسم کے خیالات و جذبات ابھرتے اور ڈوبتے رہتے ہیں۔یہی جذبات وخیالات جب کسی کام کا تانا بانا بنتے ہیں تو وہ نیت کی شکل اختیار کر لیتے ہیں،اور جب نیت اپنے اعضاء وجوارح کو عملی جامہ پہنانے پر پوری طرح چوکس کر دیتی ہے تو یہ عزم کہلاتا ہے۔اگر انسان کے دل میں خیالات وجذبات ،ایمان اور عمل صالح کے تحت اپنا تانا بانا بنتے اور باہر نکل کر کچھ کرنے کے لئے مچلتے ہیں تو انسان کی زبان سے خیر بھرے الفاظ کا اخراج ہوتا ہے لیکن جب انسان کی دل میں فحش قبیح اور گناہ آلود جذبات وخیالات ابھر رہے ہوتے ہیں تو زبان سے بھی گندے اور گناہ پر مبنی الفاظ نکلتے ہیں۔اسلام نے ہمیں سچی اور اچھی بات کہنے،اور فحش گوئی و بے ہودہ گفتگو کرنے سے منع کیا ہے۔حیاء ایمان کا حصہ ہے۔ زیر تبصرہ کتاب ’’ حفظ حیا ،گفتگو اور تحریر‘‘ معروف مبلغہ داعیہ،مصلحہ،مصنفہ کتب کثیرہ اور کالم نگار محترمہ ام عبد منیب صاحبہ کی تصنیف ہے ۔ جس میں انہوں   نے اپنی گفتگو اور تحریر میں حیاء کی حفاظت اور اہمیت پر روشنی ڈالی ہے اور بے حیائی وفحش گوئی کی مذمت کی ہے۔اللہ نے ان کو بڑا رواں قلم عطا کیا تھا،انہوں نے سو کے قریب چھوٹی بڑی اصلاحی کتب تصنیف فرمائی ہیں۔ محترمہ ام عبد منیب صاحبہ محمد مسعود عبدہ  کی اہلیہ ہیں ۔ موصوف   تقریبا 23 سال قبل جامعہ لاہور الاسلامیہ میں عصری علوم کی تدریس کرتے رہے اور 99۔جے ماڈل ٹاؤن میں بمع فیملی رہائش پذیر رہے ۔موصوف کے صاحبزادے محترم عبد منیب صاحب نے اپنے طباعتی ادارے ’’مشربہ علم وحکمت ‘‘ کی تقریبا تمام مطبوعا ت محدث لائبریری کے لیے ہدیۃً عنائت کی ہیں ۔اللہ تعالیٰ ان کی تمام مساعی جمیلہ کو قبول فرمائے۔ آمین(راسخ)

  • pages-from-darhi-marad-moman-mann-ka-shuaar
    ام عبد منیب

    اللہ تعالی نے انسان کو جوڑا جوڑا پیدا کیا ہے ،اور مرد وعورت میں ظاہری تمیز کرنے کے لئے مرد کو داڑھی جیسے خوبصورت زیور سے مزین کیا ہے۔داڑھی مرد کی زینت ہے ،جس سے اس کا حسن اور رعب دوبالا ہو جاتا ہے۔داڑھی خصائل فطرت میں سے ہے ۔ تمام انبیاء کرام داڑھی کے زیور سے مزین تھے۔یہی وجہ ہے کہ شریعت اسلامیہ نے مسلمانوں کو داڑھی بڑھانے اور مونچھیں کاٹنے کا حکم دیا ہے۔اللہ تعالی کی عطا کردہ اس فطرت کو بدلنا اپنے آپ کو عورتوں کے مشابہہ کرنا اوراللہ کی تخلیق میں تبدیلی کرنا ہے ،جو بہت بڑا گناہ ہے۔۔۔ زیر تبصرہ کتاب ’’ داڑھی مرد مومن کا شعار ہے‘‘ معروف مبلغہ داعیہ،مصلحہ،مصنفہ کتب کثیرہ اور کالم نگار محترمہ ام عبد منیب صاحبہ کی تصنیف ہے ۔ جس میں انہوں     داڑھی کی اہمیت وفضیلت پر روشنی ڈالتے ہوئے اسے فطرت کا عطیہ قرار دیا ہے۔اللہ نے ان کو بڑا رواں قلم عطا کیا تھا،انہوں نے سو کے قریب چھوٹی بڑی اصلاحی کتب تصنیف فرمائی ہیں۔ محترمہ ام عبد منیب صاحبہ محمد مسعود عبدہ  کی اہلیہ ہیں ۔ موصوف   تقریبا 23 سال قبل جامعہ لاہور الاسلامیہ میں عصری علوم کی تدریس کرتے رہے اور 99۔جے ماڈل ٹاؤن میں بمع فیملی رہائش پذیر رہے ۔موصوف کے صاحبزادے محترم عبد منیب صاحب نے اپنے طباعتی ادارے ’’مشربہ علم وحکمت ‘‘ کی تقریبا تمام مطبوعا ت محدث لائبریری کے لیے ہدیۃً عنائت کی ہیں ۔اللہ تعالیٰ ان کی تمام مساعی جمیلہ کو قبول فرمائے۔ آمین(راسخ)

  • pages-from-dawat-e-quran-o-hadees
    جلال الدین قاسمی

    مسلک اہل حدیث کوئی نئی جماعت نہیں ہے۔ تمام اہل علم اس بات کو اچھی طرح سے جانتے ہیں کہ اہل حدیث کا نصب العین قرآن وحدیث ہے اور جب سے قرآن وحدیث موجود ہے تب سے یہ جماعت موجود ہے۔ اسی لیے ان کا انتساب قرآن وحدیث کی طرف ہے کسی امام یا فقیہ کی طرف نہیں اور نہ ہی کسی گاؤں اور شہر کی طرف ہے۔ یہ نام دو لفظوں سے مرکب ہے۔ پہلا لفظ "اہل" ہے۔ جس کے معنی ہیں والے صاحب دوسرا لفظ"حدیث" ہے۔حدیث نام ہے کلام اللہ اور کلام رسولﷺ کا۔قرآن کو بھی حدیث فرمایا گیا ہے۔اور آپﷺ کے اقوال اور افعال کے مجموعہ کا نام بھی حدیث ہے۔پس اہل حدیث کے معنی ہوئے۔”قرآن و حدیث والے” جماعت اہل حدیث نے جس طریق پر حدیث کو اپنا پروگرام بنایا ہے اور کسی نے نہیں بنایا۔ اسی لیے اسی جماعت کا حق ہے۔کہ وہ اپنے آپ کو اہل حدیث کہے۔ مسلک اہلحدیث کی بنیاد انہی دو چيزوں پر ہے اور یہی جماعت حق ہے۔ اہل حدیث مروّجہ مذہبوں کی طرح کوئی مذہب نہیں، نہ مختلف فرقوں کی طرح کوئی فرقہ ہے، بلکہ اہل حدیث ایک جماعت اور تحریک کا نام ہے۔ اور وہ تحریک ہے زندگی کے ہر شعبے میں قرآن وحدیث کے مطابق عمل کرنا اور دوسروں کو ان دونوں پر عمل کرنے کی ترغیب دلانا، یا یوں کہ لیجئے کہ اہل حدیث کا نصب العین قرآن وحدیث کی دعوت اور اہل حدیث کا منشور قرآن وحدیث ہے۔ اور اصلی اہل سنت والجماعت یہی ہیں۔ زیر تبصرہ کتاب "دعوت قرآن وحدیث، منہج اہل حدیث اور تحریک اہل حدیث کا مختصر تاریخی جائزہ " محترم مولانا حافظ جلال الدین قاسمی صاحب کی تصنیف ہے، جس پر تخریج و تحقیق مولانا ابن شیر محمد ہوشیار پوری صاحب کی جبکہ ابتدائی، نظر ثانی اور تعلیقات محترم ابن الحسن امرتسری صاحب کی ہیں۔ مولف موصوف نے اس کتاب منہج اہل حدیث اور تحریک اہل حدیث کا مختصر تاریخی جائزہ پیش کیا ہے اور اسے قرآن وحدیث کی دعوت سے منسوب کیا ہے۔ اللہ تعالی سے دعا ہے کہ وہ مولف موصوف کی اس محنت کو اپنی بارگاہ میں قبول فرمائے اور ان کے میزان حسنات میں اضافہ فرمائے۔ آمین(راسخ)

  • untitled-1
    خالد الحسینان
    قرآن مجید میں اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی کو اہل ایمان کے لیے اسوہ حسنہ قرار دیا گیا ہے۔ دنیا میں ہر مذہب، فکر وفلسفہ اور قوم سے تعلق رکھنے والے اپنے مذہب، فکر وفلسفہ اور قوم کے بانیان کے رہن سہن، طرز بودو باش ، نشست وبرخاست اور قیام وطعام کی نقل کرتے ہیںمثلاً اہل ہندوستان گاندھی جی کے لباس اور وضع قطع کی پیروی کرتے ہیں جبکہ اہل چین اپنے رہنما ماؤزے تنگ کو کاپی کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ پاکستان میں قائداعظم کی جناح کیپ اور شیروانی کے ذریعے ان کے لباس کو فروغ دیا جاتا ہے تو سکھ پگڑی، کرپان،کڑا وغیرہ کے ذریعے اپنے گرونانک کے ساتھ اپنی عقیدت کا اظہار کرتے ہیں۔ ہر مسلمان کی یہ خواہش ہوتی ہے کہ وہ اپنی زندگی کو اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے اعمال وافعال سے مزین کرے اور اپنی صبح سے لے کر شام تک کی زندگی اور شام سے لے کے صبح تک کی زندگی کو احادیث وسنن کی روشنی میںبسر کرے۔ شیخ خالد الحسینان نے اس موضوع پر ایک نہایت ہی مفیدکتابچہ مرتب کیا ہے جس میں انہوں نے ۲۴ گھنٹے میں اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی طہارت، نماز،نشست وبرخاست، قیام وطعام ، سفر وحضر، حرکات وسکنات، رہن سہن اور سونے وجاگنے سے متعلق ایک ہزار سے زائد سنن جمع کی ہیں ۔ اس کتابچے کی یہ امتیازی خصوصیت ہے کہ اس میں صحیح اور مستند روایات سے استفادہ کیا گیا ہے۔ اللہ تعالیٰ ہم سب کو اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی کو نمونہ بنانے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین!

  • pages-from-raah-e-sunnat
    ابو السلام محمد صدیق

    ٖ اہل اسلام میں یہ بات روز اول ہی سے متفق علیہ رہی ہے کہ شرعی علم کے حصول کے قابل اعتماد ذرائع صرف دو ہیں: ایک اللہ کی کتاب اور دوسرا اللہ کے آخری رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی حدیث وسنت ۔امت میں جب بھی کوئی گمراہی رونما ہوتی ہے اس کا ایک بڑا سبب یہ ہوتا ہے کہ ان دونوں ماخذوں میں سے کسی ایک ماخذ کی اہمیت کو نظر انداز کر دیا جاتا ہے۔ ہماری بدقسمتی ہے کہ موجودہ زمانے میں بعض لوگوں نے ’حسبنا کتاب اللہ ‘کے قول حق کو اس گمراہ کن تصور کے ساتھ پیش کیا کہ کتاب اللہ کے بعد سنت رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی ضرورت ہی نہیں رہی۔اس طرح بعض افراد رسول مقبول صلی اللہ علیہ وسلم کے بارے میں یہ تصور پیش کرتے رہے ہیں کہ ان کا کام محض ہرکارے کا تھا۔معاذ اللہ فتنہ انکار حدیث کی تاریخ کے سرسری مطالعہ سے معلوم ہوتا ہے کہ حدیث نبوی کی حجیت و اہمیت کے منکرین دو طرح کے ہیں۔ ایک وہ جو کھلم کھلا حدیث کا انکار کرتے ہیں اور اسے کسی بھی حیثیت سے ماننے کے لیے تیار نہیں ہیں۔ دوسری قسم ان لوگوں کی ہے جو صراحتاً حدیث کے منکرین، بلکہ زبانی طور پر اس کو قابل اعتماد تسلیم کرتے ہیں لیکن انہوں نے تاویل و تشریح کے ایسے اصول وضع کر رکھے ہیں جن سے حدیث کی حیثیت مجروح ہوتی ہے اور لوگوں پر یہ تاثر قائم ہوتا ہے کہ سنت نبوی کو تشریعی اعتبار سے  کوئی اہم مقام حاصل نہیں ہے۔ زیر تبصرہ کتاب "راہ سنت" محترم مولانا ابو السلام محمد صدیق صاحب کی تصنیف ہے، جس میں انہوں نے سنت نبوی کی اہمیت و ضرورت اور حجیت پر تفصیلی بحث کی ہے اور منکرین حدیث کے اعتراضات کا کافی وشافی جواب دیا ہے۔ اللہ تعالی دفاع سنت نبوی کی ان کی اس کوشش کو اپنی بارگاہ میں قبول فرمائے۔ آمین(راسخ)

  • pages-from-ziyada-sawab-aur-sakhat-azab-waley-qaleel-amal
    ام ساجد کیلانی

    کہ اس نے انسان کو نیکی کی طرف راغب کرنے کے لیے چھوٹے چھوٹے اعمال کے بدلے عظیم نیکیاں او راجروثواب کا وعد ہ کیا ہے۔ انسان کی فطرت بھی یہ ہے کہ وہ اعمال نامے میں اضافہ کے لیے ان ترغیبات پر انحصار کرتاہے۔ اور انسانوں سے کچھ ایسے اعمال بھی سرزد ہوجاتے ہیں چھوٹے سےعمل کی وجہ سے بہت زیادہ گناہ اس کے نامہ اعمال میں شامل ہوجاتے ہیں۔ زیر تبصرہ کتاب ’’زیادہ ثواب اور سخت عذاب والے قلیل عمل‘‘ ام ساجد کیلانی کی مرتب شدہ ہے اس کتاب کو انہوں نے دو حصوں میں تقسیم کیا ہے چالیس احادیث حصہ اول میں ہیں اور چالیس احادیث دوسرے حصہ میں ہیں۔ پہلے حصہ میں وہ احادیث جمع کی ہیں جو انتہائی آسان اور بے مشقت ہیں جبکہ اجر وثواب کے لحاظ سے قابل رشک ہیں ۔دوسرے حصے میں وہ احادیث جمع کی ہیں جن میں بظاہر بہت معمولی باتوں کا تذکرہ ہے لیکن ان کا گناہ یا عذاب بہت زیادہ ہے۔ پہلے حصے کا نام ’’عمل قلیل اور ثواب کثیر‘‘ اوردوسرے حصے کا نام ’’ عمل قلیل اور عذاب کثیر ‘‘ رکھا ہے۔ اللہ تعالیٰ مصنفہ کی اس کاوش کو قبول فرمائے اور اہل اسلام کے لیے نفع بخش بنائے۔ (آمین) (م۔ا)

  • pages-from-sunnat-e-rasool-saw-keya-hai-aur-keya-nahi-hai
    محمد عاصم الحداد

    کسی بھی علم کی اہمیت کا اندازہ اس کے موضوع سے لگایاجاتاہے۔ علم اصول حدیث کا موضوع "سندومتن "یعنی حدیث ہے۔ اورحدیث کی اہمیت سے کوئی بھی مسلمان انکار نہیں کرسکتا،کیونکہ قرآن مجید کے بعد حدیث احکام شرعیہ کا ایک اہم ترین اور دوسرا بڑا ماخذہے۔یہی وجہ ہے کہ محدثین کرام نے اس ضمن میں نہایت ہی احتیاط برتی ہے۔ اور نبی کریمﷺ کی طرف منسوب احادیث کی چھان بین کے لئے اصول وضع کیے ہیں۔ان میں سے کچھ اصولوں کا تعلق حدیث کی سند سے ہے،اور کچھ کا حدیث کے متن سے ہے۔حدیث کی سند کی تحقیق کے عمل کو "روایت حدیث" کہا جاتا ہے۔جبکہ متن کی تحقیق کے عمل کو "درایت حدیث" کہا جاتا ہے۔ احادیث کو جب روایت کے اصولوں کی بنیاد پر پرکھا جاتا ہے تو احادیث کی غالب تعداد کے بارے میں نہایت ہی اطمینان کے ساتھ یہ کہا جا سکتا ہے کہ ان احادیث کی نسبت رسول اللہﷺ کی طرف درست ہے یا نہیں۔ بسا اوقات کوئی حدیث روایت کے اصولوں کے مطابق صحیح قرار پاتی ہے لیکن اس کے متن میں کوئی ایسی بات ہوتی ہے جس سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ اس بات کی نسبت رسول اللہ ﷺ کی درست نہیں ہو سکتی۔ اس کی وجہ یہ ہوتی ہے کہ ایک ثقہ سے ثقہ اور محتاط سے محتاط شخص بھی بھول چوک یا غلطی سے پاک نہیں ہے۔ یہی وجہ ہے کہ روایت کے اصولوں پر پرکھنے کے بعد بعض احادیث کو درایت کے اصولوں پر پرکھنے کی ضرورت بھی پیش آتی ہے تاکہ حدیث کی سند کے ساتھ ساتھ اس کے متن کی تحقیق بھی کر لی جائے کہ آیا یہ بات واقعتاً رسول اللہ صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم سے درست طور پرثابت ہے یا نہیں ہے۔زیر تبصرہ کتاب" سنت رسول ﷺ کیا ہے اور کیا نہیں ہے؟"جماعت اہل حدیث کے معروف اصولی اور عالم دین محترم مولانا محمد عاصم الحداد ﷾کی تصنیف ہے ۔جس میں انہوں نے محدثین کے ان اصولوں کو بیان کیا ہے جو انہوں نے حدیث کی چھان بین کے لئے وضع فرمائے ہیں اور اس کے ساتھ ساتھ بعض فقہاء کے ان اصولوں کا بھی جائزہ لیا ہے جو انہوں نے اپنی فقہی مسالک کی تایید میں گھڑے ہیں۔اللہ تعالی مولف کی اس کاوش کو قبول فرمائے اور ان کے میزان حسنات میں اضافہ فرمائے۔آمین(راسخ)

  • title-pages-sunnat-se-aik-interview
    پروفیسر محمد رفیق چودھری
    قرآن کریم میں اللہ تعالیٰ نے جہاں اپنی اطاعت کولازم ٹھیرایا وہیں رسول اللہﷺ کی اطاعت کو بھی واجب العمل قرار دیا ۔ قرآن کریم کو سجھنے اور اس کی تشریح و توضیح کے لیے احادیث نبویہﷺسے بڑھ کر کوئی اور ماخذ مدد نہیں دے سکتا۔ لیکن موجودہ دور کے متجددین سنت اور حدیث کے مابین تفریق کر کے ان کو خانہ زاد معانی پہنانے کی سعی لاحاصل کرتے ہیں۔ رفیق چودھری صاحب عرصہ سے اس فکر کو مسکت جوابات سے نواز رہے ہیں اور اس سلسلے میں ان کی متعدد کتب بھی زیور طبع سے آراستہ ہو چکی ہیں۔ پیش نظرکتاب بھی چودھری صاحب کی سنت کی اہمیت کو اجاگر کرتی ایک گرانقدر تصنیف ہے۔ جس میں انھوں نے ایک الگ اسلوب میں یہ بتلانے کی کوشش کی ہے کہ قرآن و سنت کے مجموعے کا نام ہے اسلام کو اگر کتاب اللہ سے الگ کر کے دیکھا جائے یا اسے سنت سے جدا کرنے کی کوشش کی جائے دونوں صورتوں میں سوائے ظلمت و ضلالت کے کچھ ہاتھ نہیں آتا۔ اس کتاب کے مطالعے سے یہ امر بالکل واضح ہو جائے گا کہ حدیث و سنت دراصل قرآن ہی کی شرح ہے اور قرآن ہی کی طرح حجت اور واجب العمل ہے۔ پھر اس کے ساتھ ہی یہ پہلو بھی نمایاں ہو کر سامنے آجائے گا کہ حدیث و سنت ہر دور میں پوری انسانی زندگی کے لیے کامل ہدایت اور رہنمائی ہے۔ (عین۔ م)

    نوٹ:
    محدث فورم میں اس کتاب پر تبصرہ کرنے کے لیے یہاں کلک کریں
  • pages-from-azaab-e-ilahi-aur-us-key-asbaab
    ابن ابی الدنیا

    یہ اللہ تعالیٰ کا طریقہ کہ اللہ تعالیٰ اس دنیامیں اپنی نافرمانی کرنے والوں کو مختلف طریقوں میں عذاب میں مبتلاکرتاہے اور آخرت میں اللہ تعالیٰ کے نافرمانوں کو عذاب سے دو چار ہونے پڑے گا۔دنیا میں اللہ تعالیٰ کے عذاب کی کثرت سے مثالیں موجود ہیں۔ جیسے قرآن مجید میں سابقہ اقوام پراللہ کا عذاب نازل ہونے کےواقعات موجود ہیں اور اسی طرح کئی ایسے واقعات بھی موجود ہیں کہ اللہ تعالیٰ اپنےنافرمانوں کوفرداً فرداً بھی عذاب میں مبتلا کیا۔ زیر تبصرہ کتاب’’ عذاب الٰہی اوراس کے اسباب‘‘ ابن ابی الدنیا کی عربی کتاب ’’ العقوبات‘‘ کا اردوترجمہ ہے۔ اس کتاب میں دنیا میں اللہ تعالیٰ کی نافرمانی کرنے پر نافرمانوں کو دئیے گئے عذاب کے واقعات کو قرآن مجید، کتب حدیث، سیرت و تاریخ سے اخذ کر کے مرتب کیا گیا ہے۔ (م۔ا)

  • title-pages-qayam-ul-lail-copy
    امام محمد بن نصر المروزی

    نماز تراویح نبی کریم ﷺ کی سنت مبارکہ ہے اورصحیح احادیث سے ثابت ہے۔سیدہ  عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ نبی کریمﷺ  نے ایک رات مسجد میں نماز اداکی، لوگوں نے بھی آپﷺ کے ساتھ نماز پڑھی، پھر آپﷺنے دوسری رات نماز پڑھی اور لوگوں کی بھی کثیر تعداد نے آپﷺ کے ساتھ نماز ادا کی، پھر لوگ اسی طرح تیسری یا چوتھی رات میں بھی جمع ہوئے لیکن رسول اللہﷺتشریف نہ لائے اور جب صبح ہوئی تو آپ ﷺنے فرمایا:’’تم لوگوں نے جو کیا میں نے اسے دیکھا ہے اور گھر سے میں اس لیے نہیں نکلا کہ مجھے یہ خدشہ لاحق ہوا کہ کہیں اس نماز کو تم پر فرض قرار نہ دے دیا جائے۔‘‘(مسلم:761)نماز تراویح کی رکعات کی تعداد گیارہ ہے۔سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا  سے روایت ہے کہ جب ان سے سوال کیا گیا کہ رمضان میں نبی کریم ﷺ  کی نماز کیسےہواکرتی تھی؟تو انہوں نے جواب دیا:’’رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم  رمضان وغیر رمضان میں گیارہ رکعت سے زیادہ نماز نہیں پڑھتے تھے۔‘‘(بخاری:1147)اگر کوئی تیرہ رکعت پڑھ لے تو اس میں بھی کوئی حرج نہیں کیونکہ سیدنا  ابن عباس رضی اللہ عنہ  سے روایت ہے کہ ’’نبی کریم ﷺ  کی نماز تیرہ رکعت تھی۔‘‘زیر تبصرہ کتاب" قیام اللیل "دوسری صدی ہجری کے معروف امام محمد بن نصر المروزی﷫ کی تصنیف ہے۔جس کا اردو ترجمہ محترم عبد الرشید حنیف صاحب نے کیا ہے۔ چنانچہ مولف موصوف نے  مستند دلائل سےگیارہ رکعت نماز تراویح کو ثابت کیا ہے۔ اللہ تعالی سے دعا ہے کہ وہ مولف اور مترجم کی اس محنت کو اپنی بارگاہ میں قبول فرمائے اور ان کے میزان حسنات میں اضافہ فرمائے۔آمین(راسخ)

  • title-pages-qayam-ul-lail-aur-murawija-shab-bedarian-copy
    ام عبد منیب

    قیام اللیل کا  مطلب عشاء کی نمازِ فرض کے علاوہ رات کے کسی حصے میں اٹھ کر نماز ادا کرنا ہے ۔یہ ایک شرعی اصطلاح ہے اس عبادت کا غالب حصہ نمازتہجد  سے  ہے ۔ لہٰذا تہجد اور قیام اللیل دونوں نام ایک دوسرے کے مترادف کےطور پر قرآن وحدیث میں استعمال ہوئے ہیں۔اور رمضان کی راتوں کا یہی  وہ قیام  ہے جسے تراویح بھی کہا جاتاہے ۔نبی کریم ﷺ نے  رمضان البارک میں  قیام  کرنے کی بڑی  فضیلت  بیان کی ہے ۔ ارشا د نبوی  ہے : «مَنْ قَامَ رَمَضَانَ إِيمَانًا وَاحْتِسَابًا، غُفِرَ لَهُ مَا تَقَدَّمَ مِنْ ذَنْبِهِ»لیکن دور حاضر میں  قیام اللیل جیسی عظیم  نفلی عبادت  کو شب بیداریوں کی رنگا رنگ اقسام اختیار کرکے  اسے رواجی  چیزوں کی  گرد سےدھندلا دیاگیا ہے ۔زیر نظر کتابچہ ’’ قیام اللیل  اور مروجہ شب بیداریاں‘‘ میں  محترمہ ام عبدمنیب صاحبہ  نے   کوشش کی  ہے کہ  قیام اللیل کو کتاب وسنت کی روشنی میں  واضح کیاجائے اور رواجی  چیزوں کی گرد  کوالگ کرکے  یہ دکھایا اور بتایا جائے کہ اس وقت کی مروجہ شب بیداریوں میں  قرآن  وسنت کے مطابق کیا ہے اور کیااس کے مطابق نہیں ہے۔تاکہ خلوص اور زندہ جذبے کے ساتھ اس  عبادت کوادا کرنے والے لاعلمی میں غلط  کو صحیح سمجھنے کی غلطی کر رہے ہیں تو اس سے بچ کر  قیام اللیل کے مقاصد ،منافع اور فوائد کوسمیٹ سکیں۔اللہ تعالیٰ  محترمہ کی اس کاوش کو عوام الناس  کےلیے  نفع بخش بنائے (آمین)(م۔ا)

     

  • pages-from-kabeerah-gunah-aur-un-ka-ilaaj
    شمس الدین الذہبی

    اللہ اور اس کے رسول اکرم ﷺ کی نافرمانی کاہر کام گناہ کہلاتا ہے ۔ اہل علم نے کتاب وسنت کی روشنی میں گناہ کی دو قسمیں بیان کی ہیں ۔ صغیرہ گناہ یعنی چھوٹے گناہ اور کبیرہ گناہ یعنی بڑے گناہ۔ اہل علم نے کبیرہ گناہوں کی فہرست میں ان گناہوں کوشمار کیا ہے جن کےبارے میں قرآن وحدیث میں واضح طور پر جہنم کی سزا بتائی گئی ہے یا جن کے بارے میں رسول اکرمﷺ نے شدید غصہ کا اظہار فرمایا ہے ۔اور صغیرہ گناہ وہ ہیں جن سے اللہ اوراس کے رسول نےمنع توفرمایا ہے ، لیکن ان کی سزا بیان نہیں فرمائی یا ان کے بارے میں شدید الفاظ استعمال نہیں فرمائے یا اظہارِ ناراضگی نہیں فرمایا۔کبیرہ اور صغیرہ گناہوں کی وجہ سے آدمی پر سب سے بڑی ہلاکت اور مصیبت تو یقیناً آخرت میں ہی آئے گی جہاں اسے چاروناچار جہنم کاعذاب بھگتنا پڑے گا لیکن اس دینا میں بھی گناہ انسان کے لیے کسی راحت یاسکون کا باعث نہیں بنتے بلکہ انسان پر آنے والے تمام مصائب وآلام،بیماریاں اور پریشانیاں تکلیفیں اور مصیبتیں درحقیقت ہمارے گناہوں کی وجہ سے ہی آتی ہیں ۔کبیرہ گناہ کا موضوع ہمیشہ علماء امت کی توجہ کامرکز رہا ہے چنانچہ اس پر مستقل کتابیں بھی لکھی گئی ہیں اور شروح حدیث وکتبِ اخلاق میں یہ بحث ضمناً بھی آئی ہے ۔مستقل تصانیف میں امام ذہبی ، شیخ احمد بن ہیثمی ،ابن النحاس، محمد بن عبدالوہاب، اور شیخ احمد بن حجر آل بوطامی ﷭ کی کتابیں قابل ذکر ہیں۔ زیر تبصرہ کتاب ’’ کبیرہ گناہ اور ان کاعلاج ‘‘امام ابو عبد اللہ محمد بن احمد الذ ہبی ﷫ کی تصنیف ’’ کتاب الکبائر ‘‘ کا اردو ترجمہ ہے جس میں انہو ں نے 70 کبیرہ گناہوں کو تفصیلاً ذکر کیا ہے۔اس کتاب کی مقبولیت اور افادیت کے باعث متعد د اداروں نے اس کا ترجمہ کروا کراسے شائع کیاہے۔ کتاب ہذا محترم حافظ ابوالقاسم محمود تبسم( مدرس الدعوۃ السلفیہ ستیانہ بنگلہ) کی ترجمہ شدہ ہے۔ انہوں نے بڑی سلاست وروانی سے اسے اردو قالب میں ڈھالا ہے تاکہ ہر خاص وعام اس سے فیض یاب ہوسکے ۔اللہ تعالیٰ مصنف ،مترجم، اور ناشر کوجزائے خیر عطا کرے اوراسے کو لوگوں کےلیے گناہوں سے بچنے کا ذریعہ بنائے (آمین) (م۔ا)

  • pages-from-kitab-ul-kabaer
    ابو عبد اللہ محمد بن احمد الذہبی

    اللہ اور اس کے رسول اکرم ﷺ کی نافرمانی کاہر کام گناہ کہلاتا ہے ۔ اہل علم نے کتاب وسنت کی روشنی میں گناہ کی دو قسمیں بیان کی ہیں۔ صغیرہ گناہ یعنی چھوٹے گناہ اور کبیرہ گناہ یعنی بڑے گناہ۔ اہل علم نے کبیرہ گناہوں کی فہرست میں ان گناہوں کوشمار کیا ہے جن کےبارے میں قرآن وحدیث میں واضح طور پر جہنم کی سزا بتائی گئی ہے یا جن کے بارے میں رسول اکرمﷺ نے شدید غصہ کا اظہار فرمایا ہے۔ اور صغیرہ گناہ وہ ہیں جن سے اللہ اوراس کے رسول نےمنع توفرمایا ہے، لیکن ان کی سزا بیان نہیں فرمائی یا ان کے بارے میں شدید الفاظ استعمال نہیں فرمائے یا اظہارِ ناراضگی نہیں فرمایا۔کبیرہ اور صغیرہ گناہوں کی وجہ سے آدمی پر سب سے بڑی ہلاکت اور مصیبت تو یقیناً آخرت میں ہی آئے گی جہاں اسے چاروناچار جہنم کاعذاب بھگتنا پڑے گا لیکن اس دینا میں بھی گناہ انسان کے لیے کسی راحت یاسکون کا باعث نہیں بنتے بلکہ انسان پر آنے والے تمام مصائب وآلام،بیماریاں اور پریشانیاں تکلیفیں اور مصیبتیں درحقیقت ہمارے گناہوں کی وجہ سے ہی آتی ہیں ۔کبیرہ گناہ کا موضوع ہمیشہ علماء امت کی توجہ کامرکز رہا ہے چنانچہ اس پر مستقل کتابیں بھی لکھی گئی ہیں اور شروح حدیث وکتبِ اخلاق میں یہ بحث ضمناً بھی آئی ہے ۔مستقل تصانیف میں امام ذہبی ، شیخ احمد بن ہیثمی ،ابن النحاس، محمد بن عبدالوہاب، اور شیخ احمد بن حجر آل بوطامی ﷭ کی کتابیں قابل ذکر ہیں۔ زیر تبصرہ کتاب ’’ کتاب الکبائر‘‘ امام ابو عبد اللہ محمد بن احمد الذ ہبی ﷫ کی تصنیف ہے جس میں انہو ں نے 70 کبیرہ گناہوں کو تفصیلاً ذکر کیا ہے ۔ موضوع کی اہمیت اور کتاب ہذا کی افادیت کے پیش نظر تقریبا 33 سال قبل ادارہ البحوث الاسلامیہ، بنارس نے اس کتاب کو اردو میں منتقل کروا کر شائع کیا ہے تاکہ اردو خواں طبقہ اس سے استفادہ کرسکے۔ کتاب کے ترجمہ کی خدمت مولانا عبد الوہاب حجازی نے انجام دی ہے ۔ کتاب کی ضخامت کےپیش نظر اکثر مقامات پر احادیث نبویہ کا صرف ترجمہ دیا گیا ہے او راصل متن حذف کردیا گیا ہے ۔ اسی طرح بعض ایسی حکایات کو بھی حذف کردیا گیا ہے جن کی معتبر سند مذکور نہیں ۔ترجمہ کا اصل کتاب سے تقابل دقت نظر سے کیا گیا ہے تاکہ دونوں میں کوئی فرق نہ رہے اور قاری پورے بھروسہ کےساتھ کتاب کامطالعہ کرے ۔ اللہ تعالیٰ مصنف ،مترجم اور ناشرین کو ان کی محنتوں کابہترین صلہ عطا فرمائے ، کتاب کو شرف قبولیت سے نوازے اور اسے پڑھنے والوں کے لیے نفع بخش بنائے۔ آمین(م۔ا)

  • pages-from-kaisi-rahi-saza
    سلیم رؤف

    سلیم رؤف صاحب﷾ ایک معروف مبلغ اور داعی ہیں۔آپ نے تبلیغ دین کے لئےایک منفرد طریقہ اختیار کرتے ہوئے ہر موضوع کو کہانی کی شکل میں پیش کیا ہے اور بے شمار موضوعات پر لکھا ہے۔آپ نے کتابچوں کے نام بڑے پرکشش او ر جاذب نظر ہوتے ہیں،عنوان کو دیکھ کر انہیں پڑھنے کو دل چاہتا ہے۔مثلا"ننھا مبلغ"،"واہ رے مسلمان"،"نایاب ہیرا"،"شیطان سے انٹرویو"،"بازار ضرور جاوں گی"۔"اور میں مر گیا" وغیرہ وغیرہ۔آپ کے یہ چھوٹے چھوٹے کتابچے عامۃ الناس میں انتہائی مقبول اور معروف ہیں۔ یہ چھوٹا سا کتابچہ"کیسی رہی سزا؟" بھی محترم سلیم رؤف صاحب کے دیگر اصلاحی کتابچوں کی طرح روز مرّہ زندگی میں سرزد ہونے والی عملی کوتاہیوں، دین سے دوری، مغربیت اور مادہ پرستانہ ذہن کی اصلاح کیلئے نہایت سادہ، شستہ اور رواں واقعاتی اسلوب میں تحریر کی گئی ایک عمدہ کاوش ہے۔ چند صفحات پر مشتمل یہ کتابچہ ہماری معاشرتی کوتاہیوں کی بھر پور ترجمانی کرتا ہے۔اور ہمیں اپنی اور اپنی اولاد کی اصلاح اور اسلام کے مطابق ان کی تربیت کرنے کی ترغیب دیتا ہے ،تاکہ ہماری دنیا بھی سنور جائے اور ہماری آخرت بھی بن جائے۔مولف نے اس کتابچے میں ہماری حکومت کی طرف سے جمعہ کی چھٹی بند کر کے اتوار کی چھٹی کرنے پر بزبان جمعہ اپنے ساتھ روا رکھی جانے والی بد سلوکی کا تذکرہ کیا ہے اور پھر اس بدسلوکی کے بدلے میں ملنے والی سزا کا ایک منفرد انداز میں ذکر کیا ہے،جو پڑھنے لائق ہے۔ اللہ تعالی مولف کی ان کاوشوں کو اپنی بارگاہ میں قبول فرمائے ۔ آمین(راسخ)

  • page-from-gunahon-ki-maafi-key-10-asbaab
    جلال الدین قاسمی

    انسان   کی خصلت ہے کہ وہ نسیان سے محفوظ نہیں رہ سکتا۔ اس کے تحت وہ دانستہ یا نادانستہ گناہ کر بیٹھتا ہے۔ بہترین انسان وہ ہے جسے گناہ کے بعد یہ احساس ہو جائے کہ اس سے غلطی ہوگئی ہے۔ اگر اس نے توبہ نہ کی تویہ غلطی اس کے خالق ومالک کو اس سے ناراض کردے گی۔ اس سےاپنے معبود ومالک کی ناراضگی کسی صورت بھی برداشت نہیں ہوتی۔ اسی لیے وہ فوری طور پر اللہ کریم کے دربار میں حاضر ہوکر گڑگڑاتا ہے اور وہ آئندہ ایسے گناہ نہ کرنے کا پکا عزم کرتےہوئے توبہ کرتا ہے کہ اے مالک الملک اس مرتبہ معاف کردے آئندہ میں ایسا کبھی نہ کروں گا۔گناہ کے بعد ایسے احساسات اور پھر توبہ کے لیے پشیمانی وندامت پر مبنی یہ عمل ایک خوش نصیب انسان کےحصہ میں آتا ہے۔ جب کہ اس جہاںمیں کئی ایسے بدنصیب سیاہ کار بھی ہیں جن کوزندگی بھر یہ احساس نہیں ہوتا کہ ان کا مالک ان سے ناراض ہوچکا ہے اور وہ ہیں کہ دن رات گناہ کرتے چلےجاتےہیں اور رات کوگہری نیند سوتے ہیں یا مزید گناہوں پر مبنی اعمال میں مصروف رہ کر گزار دیتے ہیں۔جبکہ اللہ کریم اس وقت پہلے آسمان پر آکر دنیا والوں کوآواز دیتا ہے کہ: اے دنیاوالو! ہےکوئی جو مجھ سے اپنے گناہوں کی مغفرت طلب کرے... ہے کوئی توبہ کرنے والا میں اسے ا پنی رحمت سے بخش دوں...؟۔ بہت کم ایسے خوش نصیب ہیں کہ جن کو مرنے سے قبل توبہ کی توفیق نصیب ہوتی ہے اور وہ گناہوں بھر زندگی سےتائب ہوکر ہدایت کوروشن شاہراہ پر سفر کرتے ہیں، پھر شیطان لعین اورانسا ن نما شیاطین کےحملوں سےبچ کر باقی زندگی گزارتے ہیں۔ اور یوں اللہ کریم کو خوش کرنے کے بعد جنتوں کےحقدار بن جاتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے حضرتِ انسان پر بہت بڑا احسان کیا کہ انسان سے سرزد ہونے والے گناہوں کی معافی کے لیے ایسے نیک اعمال کی کی ترغیب دلائی ہے کہ جس کے کرنے سےانسان کے زندگی بھر کے گناہ معاف ہوجاتے ہیں۔ احادیث مبارکہ میں ان اعمال کی تفصیل موجود ہے اور بعض اہل علم نے اس موضوع پر مستقل کتب بھی تصنیف کی ہیں۔ زیر تبصرہ کتابچہ ’’گناہوں کی معافی کے 10 اسباب‘‘ انڈیاکے معروف جید سلفی عالم دین مولانا حافظ جلال الدین قاسمی ﷾ کی کاوش ہے ۔اس کتابچہ میں انہوں نے قرآن واحادیث کی روشنی میں ایسے دس اسباب کوبیان کیا ہے کہ جن کو اختیار کرنے سے ایک انسان کے گناہ معاف ہوجاتے ہیں۔ کتاب میں وارد احادیث واثار کی تخریج وتحقیق کا فریضہ نوجوان عالم دین مولانا ارشد کمال﷾ نے انجام دیا ہے۔ مصنف کتاب کسی تعارف کے محتاج نہیں وہ شریعت اور اسرار شریعت پرگہری نظر رکھتے ہیں۔دار العلوم دیوبند کے فاضل اور اردو ،عربی ،فارسی، انگریزی کےعلاوہ بھی کئی زبانوں میں آپ کو مکمل دسترس حاصل ہے،دنیا کی مشکل ترین زبان سنسکرت کے ادب اور خصوصاً اس کی گرائمر پرمہارت رکھتے ہیں۔ انہی امیتازی خصوصیات کی بناءپر علمی وادبی حلقوں میں آپ کی شخصیت کو عزت کی نگاہ سے دیکھا جاتا ہے ۔موصوف میدان خطابت کےشہسوار ہیں ان کا ہر خطاب کتاب وسنت کےدلائل سے معمور ہوتا ہے۔ فنِ خطابت پر جو قدرتی ملکہ آپ کو حاصل ہے وہ کم ہی لوگوں کے حصہ میں آتا ہے۔ 2 جولائی 2014 سے پیس ٹی وی پر ان کےعلمی خطابات’’ فیضان کتاب وسنت ‘‘ نامی پروگرام کےتحت نشر کئے جارہے ہیں جنہیں دنیا کے156 ممالک میں دیکھا اور سنا جار ہا ہے۔ نیز صحافت کے میدان میں بھی آپ کی قابل تحسین خدمات ہیں۔ اللہ تعالیٰ ہمیں کتاب وسنت پر زندہ رہنے اور گناہوں سے بچنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین(م۔ا)

ای میل سبسکرپشن

محدث لائبریری کی اپ ڈیٹس بذریعہ ای میل وصول کرنے کے لئے ای میل درج کر کے سبسکرائب کے بٹن پر کلک کیجئے۔

 

ایڈوانس سرچ

موضوعاتی فہرست

رجسٹرڈ اراکین

آن لائن مہمان

محدث لائبریری پر اس وقت الحمدللہ 371 مہمان آن لائن ہیں ، لیکن کوئی رکن آن لائن نہیں ہے۔

ایڈریس

       99-جے ماڈل ٹاؤن،
     نزد کلمہ چوک،
     لاہور، 54700 پاکستان

       0092-42-35866396، 35866476، 35839404

       0092-423-5836016، 5837311

      KitaboSunnat@gmail.com

      بنک تفصیلات کے لیے یہاں کلک کریں