دکھائیں کتب
  • انکارِ حدیث کے فتنہ نے دوسری صدی میں اس وقت جنم لیا جب غیر اسلامی افکار سے متاثر لوگوں نے اسلامی معاشرہ میں قدم رکھا اور غیر مسلموں سے مستعار بیج کو اسلامی سرزمین میں کاشت کرنے کی کوشش کی۔ اس وقت فتنہ انکار ِ حدیث کے سرغنہ کے طور پر جو دو فریق سامنے آئے وہ خوارج اور معتزلہ تھے۔ خوارج جو اپنے غالی افکار ونظریات کو اہل اسلام میں پھیلانے کا عزم کئے ہوئے تھے، حدیث ِنبوی کو اپنے راستے کا پتھر سمجھتے ہوئے اس سے فرار کی راہ تلاش کرتے تھے۔ دوسرے معتزلہ تھے جو اسلامی مسلمات کے ردّوقبول کے لئے اپنی ناقص عقل کو ایک معیار اور کسوٹی سمجھ بیٹھے تھے، لہٰذا انکارِحد رجم، انکارِ عذابِ قبر اور انکارِ سحر جیسے عقائد و نظریات اس عقل پرستی کا ہی نتیجہ ہیں جو انکارِ حدیث کا سبب بنتی ہے۔ دور ِجدید میں فتنہ انکارِ حدیث نے خوب انتشار پیدا کیا اور اسلامی حکومت ناپید ہونے کی وجہ سے جس کے دل میں حدیث ِ نبوی کے خلاف جو کچھ آیا اس نے بے خوف وخطر کھل کر اس کا اظہار کیا۔ دین کے ان نادان دوستوں نے اسلامی نظام کے ایک بازو کو کاٹ پھینکنے کے لئے ایڑی چوٹی کا زور لگایا اور لگا رہے ہیں۔یورپ کے مستشرقین کی نقالی میں برصغیر پاک وہند میں ماضی قریب میں بہت سے ایسے متجددین پیدا ہوئے جو حدیث وسنت کی تاریخیت ،حفاظت اور اس کی حجیت کو مشکوک اور مشتبہ قرار دے کر اس سے انحراف کی راہ نکالنے میں ہمہ تن گوش رہے۔ اس فتنے کی آبیاری کرنے والے بہت سے حضرات ہیں جن میں سے مولوی چراغ علی، سرسیداحمدخان، عبداللہ چکڑالوی، حشمت علی لاہوری، رفیع الدین ملتانی، احمددین امرتسری اور مسٹرغلام احمدپرویز، جاوید غامدی...

  • يورپ کے مستشرقین کی نقالی میں ہمارے ہاں بھی بہت سے ایسے متجددین پیدا ہوچکے ہیں جو حدیث وسنت کی تاریخیت ،حفاظت اور اس کی حجیت کو مشکوک اور مشتبہ قرار دے کر اس سے انحراف کی راہ نکالنے میں ہمہ تن گوش ہیں-کبھی تدوین حدیث کے عمل کو تیسری صدی ہجری کی پیداوار قرار دیا جاتا ہے تو کبھی صحابہ کرا م کی احتیاطی تدابیر کو بنیاد بنا کر حدیث میں تشکیک پیدا کرنے کی کوشش کی جاتی ہے-اس سلسلے میں صحیح بخاری وصحیح مسلم پر بھی شکوک وشبہات کا اظہار کرنے سے بھی دریغ نہیں کیا جاتا-اسی سلسلے کی ایک کڑی مولانا حبیب الرحمان کاندھلوی کی کتاب ''مذہبی داستانیں'' ہے-جس میں صحیح بخاری ومسلم کو شدید نکتہ چینی کا نشانہ بناتے ہوئے محدثین کرام اور بعض صحابہ کرام بالخصوص حضرت علی، حضرت فاطمہ، حضرت حسن، حضرت حسین وغیرہ شامل ہیں، کے بارے میں اخلاقی گرواٹ کا مظاہرہ کیا گیا - زیر نظر کتاب میں ارشاد الحق اثری صاحب نے خالص علمی اور تحقیقی انداز میں تمام  اعتراضات کا تفصیلی جواب دیتے ہوئے صحیح بخاری وصحیح مسلم کی ان تمام روایات کا دفاع کیا ہے جن کو '' مذہبی داستانیں'' میں تنقید کا نشانہ بنایا گیا ہے-

  • 3 اساس اسلام ( اسلامیات لازمی ) (اتوار 11 مارچ 2018ء)

    مشاہدات:1187

    دین دو باتوں ،فکر وکردار یا عقیدہ وعمل سے تعبیر ہے۔قرآن مجید کی اصطلاح میں ،ایسا عقیدہ جو عمل کی اساس بنے ،کردار وسیرت کی تشکیل کرے اور بجائے خود تخلیقی نوعیت کا حامل ہو ایمان کہلاتا ہے۔اور اگر اس سے زندگی ،عمل اور تخلیق وآفرینش کی نشاط کاریاں چھین لی جائیں تو پھر وہ عقیدہ ہو سکتا ہے ،یا اسلام کا ادنی درجہ بھی اسے کہہ سکتے ہیں،ایمان نہیں۔سمجھ لوکہ مشرق و مغرب یعنی کوئی بھی سمت مقصود نہیں، اصل مقصود تو رضائے ربّ محبوب ہے اور اُس کی بنیادیں یہ ہیں کہ دیکھو کون اللہ پر،یوم آخرت پر،فرشتوں پر،کتاب الہٰی پر اور اللہ کے نبیوں پر ایمان لایا ہے۔بس یہی نیکی ہے اور ایسا ہی نیک بخت، خوش بخت، نیک نصیب ہے۔ یہ تو ہوئے اَجزائے ایمان…ان پانچوں میں سے کسی ایک کا انکار بھی دائرہ اسلام و ایمان سے خارج کر دے گا۔اور کوئی کتنا ہی نیک عمل اور بھلے اَخلاق و کردار والا ہو،ان پانچ بنیادوں میں سے اگر کوئی ایک اس میں نہ ہوگی یعنی ان پانچوں کو اس نے اپنا ایمان و عقیدہ نہ بنایا ہو گا تو اس کے سارے اعمال اکارت جائیں گے…کسی چھوٹے سے مکان کی بنیادیں کچرے اور گھاس کے گٹھوں پر رکھ دی جائیں تو زلزلہ تو دور کی بات آندھی اور تیز ہوا اور معمولی بارش بھی اس مکان کو گرانے کے لئے کافی ہو گی۔ زیر تبصرہ کتاب ’’ اساس اسلام‘‘ غلام احمد حریری صاحب کی تصنیف ہے۔جس میں اسلام کا معنیٰ ومفہوم ، امتیازی خصوصیات، اسلام کے بنیادی عقائد، اسلام کا تصور عبادت اور اسلامی عبادات، اسلامی نظام زندگی اور اسلام کے معاشی اصولوں کو مفصل بیان کیا ہے۔ جو کہ اسلامی معلومات کے ح...

  • 4 اسلام اور جدید افکار (جمعرات 05 نومبر 2015ء)

    مشاہدات:3155

    اسلام نے ہمیں زندگی کے تمام شعبوں کے بارے میں راہنمائی فراہم کی ہے۔عبادات ہوں یا معاملات،تجارت ہو یا سیاست،عدالت ہو یا قیادت ،اسلام نے ان تمام امور کے بارے میں مکمل تعلیمات فراہم کی ہیں۔اسلام کی یہی عالمگیریت اور روشن تعلیمات ہیں کہ جن کے سبب اسلام دنیا میں اس تیزی سے پھیلا کہ دنیا کی دوسرا کوئی بھی مذہب اس کا مقابلہ نہیں کر سکتا ہے۔اسلامی تعلیمات نہ صرف آخرت کی میں چین وسکون کی راہیں کھولتی ہیں ،بلکہ اس دنیوی زندگی میں اطمینان ،سکون اور ترقی کی ضامن ہیں۔اسلام کی اس بے پناہ مقبولیت کا ایک سبب مساوات ہے ،جس سے صدیوں سے درماندہ لوگوں کو نئی زندگی ملی اور وہ مظلوم طبقہ جو ظالموں کے رحم وکرم پر تھا اسے اسلام کے دامن محبت میں پناہ ملی۔ اسلام ایک مکمل ضابطہ حیات اور دستور زندگی ہے۔اسلامی نظامِ حیات میں جہاں عبادت کی اہمیت ہے وہیں معاملات ومعاشرت اور اخلاقیات کو بھی اولین درجہ حاصل ہے،اسلام کاجس طرح اپنانظامِ معیشت ہے اوراپنے اقتصادی اصول ہیں اسی طرح اسلام کا اپنانظامِ سیاست وحکومت ہے،اسلام کا نظامِ سیاست وحکم رانی موجودہ جمہوری نظام سے مختلف اوراس کے نقائص ومفاسد سے بالکلیہ پاک ہے۔ زیر تبصرہ کتاب " اسلام اور جدید افکار "ڈاکٹر سید تنویر بخاری اور پروفیسر حمید اللہ جمیل صاحبان کی مشترکہ کاوش ہے۔ جس میں انہوں نے اسلام اور جدید سیاسی، معاشی اور معاشرتی افکار  کا موازنہ کرتے ہوئے اسلام کی روشن تعلیمات کو بیان کیا ہے۔اللہ تعالی سے دعا ہے کہ وہ ان کی اس کاوش کو قبول فرمائے۔آمین(راسخ)

  • 5 اسلام اور جدید سائنس (اتوار 26 نومبر 2017ء)

    مشاہدات:2636

    اسلام ایک مکمل ضابطۂ حیات ہونے کے ساتھ ساتھ دینِ فطرت بھی ہے جو اُن تمام اَحوال و تغیرات پر نظر رکھتا ہے جن کا تعلق اِنسان اور کائنات کے باطنی اور خارجی وُجود کے ظہور سے ہے۔ یہ ایک مسلمہ حقیقت ہے کہ اِسلام نے یونانی فلسفے کے گرداب میں بھٹکنے والی اِنسانیت کو نورِ علم سے منوّر کرتے ہوئے جدید سائنس کی بنیادیں فراہم کیں۔ قرآنِ مجید کا بنیادی موضوع ’’اِنسان‘‘ ہے، جسے سینکڑوں بار اِس اَمر کی دعوت دی گئی ہے کہ وہ اپنے گرد و پیش وُقوع پذیر ہونے والے حالات و واقعات اور حوادثِ عالم سے باخبر رہنے کے لئے غور و فکر اور تدبر و تفکر سے کام لے اور اللہ تعالیٰ کے عطا کردہ شعور اور قوتِ مُشاہدہ کو بروئے کار لائے تاکہ کائنات کے مخفی و سربستہ راز اُس پر آشکار ہوسکیں۔ زیر تبصرہ کتاب’’ اسلام اور جدید سائنس‘‘مولانا شہاب الدین ندوی کی ہے۔ جنہوں نے جديد علم کلام پر کئى اہم اور معرکہ آراء کتابيں تصنيف کيں۔مولانا محمد شہاب الدين ندوى (1932-2002) کى ولادت بروز جمعرات يکم رجب المرجب 1350ھ مطابق 12 /نومبر 1931ء کو جنوبى ہند کے شہر بنگلور دارالسرور کے ايک دينى گھرانے ميں ہوئى۔زیر تبصرہ کتاب عصر جدید میں قرآن حکیم کی اعجازی رہنمائی کا ایک اچھوتا اور لازوال مرقع ہے۔مزید اس کتاب میں خلافت ارض کے لئے سائنس اور ٹکنالوجی کی اہمیت ،اسلام اور جدید سائنس مقصد اور طریقۂ کار ،قرآن اور سائنس چند اصول و کلیات اور اجرام سماوی کا جغرافیہ اور ربوبیت کے بعض اسرار کو عیاں کیا ہے۔ ہم اللہ رب العزت سے دعا گو ہیں اس کتاب کو اللہ تعالیٰ مولانا شہاب الد...

  • 6 اسلام اور جدید سائنس نئے تناظر میں (منگل 23 ستمبر 2014ء)

    مشاہدات:3692

    محترم ڈاکٹر ذاکر نائیک ﷾ہندوستان کے ایک معروف  مبلغ اور داعی ہیں۔آپ اپنے خطبات اور لیکچرز میں اسلام اور سائنس  کے حوالے سے  بہت زیادہ گفتگو کرتے ہیں ،اور یہ ثابت کرنے کی کوشش کرتے ہیں کہ اسلام نے آج سے چودہ سو سال پہلے جو کچھ بتا دیا تھا ،آج کی جدید سائنس اس کی تائید کرتی نظر آتی ہے۔اور یہ کام  وہ زیادہ تر غیر مسلموں کو اسلام کی دعوت دیتے وقت  کرتے ہیں ،تاکہ ان کی عقل اسلام کی حقانیت اور عالمگیریت کو تسلیم کرتے ہوئے اس کے سامنے سر تسلیم خم کر دے۔اسلام اگرچہ سائنس کی تائید کا محتاج نہیں ہے ،اور اس کا پیغام امن وسلامتی اتنا معروف اور عالمگیر ہے کہ اسے مسلم ہو یا غیر مسلم  دنیا کا ہر آدمی تسلیم کرتا ہے۔لیکن  میرے خیال میں سائنس سے اسلام کی تائید میں غیر مسلموں کو کوئی عقلی دلیل پیش کرنے میں کوئی برائی والی بات بھی نہیں ہے۔لیکن بعض احباب ان کے اس طرز عمل سے نالاں ہیں ۔ان کے نزدیک اسلام کے پیغام میں اتنی زیادہ قوت  موجود ہے کہ ہمیں سائنس کی تائید وغیرہ لینے کی کوئی ضرورت نہیں ہے۔زیر تبصرہ کتاب " اسلام اور جدید سائنس  نئے تناظر میں  (ڈاکٹر ذاکر نائیک کے خطبات کی روشنی میں)" بھی اسی ضمن میں لکھی گئی ہے۔جو محترم محمد ظفراقبال صاحب کی کاوش ہے۔ ان کو یہ خدشہ لاحق ہے کہ جس طرح مغرب میں عیسائیت اور سائنس کے اجتماع سے  لوگ عیسائیت   سے بیزار ہو گئے اور انہوں نے سائنس کو اپنا مذہب بنا لیا۔بہر حال یہ ڈاکٹر ذاکر نائیک﷾ کے اس طریقہ کار پر ایک تحقیقی مقالہ ہے ،جس میں صحت اور ضعف دونوں کا احتم...

  • 7 اسلام اور جدید سیاسی و عمرانی افکار (جمعہ 06 نومبر 2015ء)

    مشاہدات:3384

    اسلام ایک مکمل ضابطہ حیات اور دستور زندگی ہے۔اسلام نے ہمیں زندگی کے تمام شعبوں کے بارے میں راہنمائی فراہم کی ہے۔عبادات ہوں یا معاملات،تجارت ہو یا سیاست،عدالت ہو یا قیادت ،اسلام نے ان تمام امور کے بارے میں مکمل تعلیمات فراہم کی ہیں۔اسلام کی یہی عالمگیریت اور روشن تعلیمات ہیں کہ جن کے سبب اسلام دنیا میں اس تیزی سے پھیلا کہ دنیا کی دوسرا کوئی بھی مذہب اس کا مقابلہ نہیں کر سکتا ہے۔اسلامی تعلیمات نہ صرف آخرت کی میں چین وسکون کی راہیں کھولتی ہیں ،بلکہ اس دنیوی زندگی میں اطمینان ،سکون اور ترقی کی ضامن ہیں۔اسلام کی اس بے پناہ مقبولیت کا ایک سبب مساوات ہے ،جس سے صدیوں سے درماندہ لوگوں کو نئی زندگی ملی اور وہ مظلوم طبقہ جو ظالموں کے رحم وکرم پر تھا اسے اسلام کے دامن محبت میں پناہ ملی۔ زیر تبصرہ کتاب "اسلام اور جدید سیاسی وعمرانی افکار"علامہ اقبال اوپن یونیورسٹی اسلام آباد کے استادمحترم ایس ایم شاہد صاحب کی تصنیف ہے۔ جس میں انہوں نے اسلام اور جدید سیاسی وعمرانی کا موازنہ کرتے ہوئے اسلام کی روشن تعلیمات کو بیان کیا ہے۔اللہ تعالی سے دعا ہے کہ وہ ان کی اس کاوش کو قبول فرمائے۔آمین(راسخ)

  • 8 اسلام اور جدید میڈیکل سائنس (اتوار 06 مارچ 2016ء)

    مشاہدات:3212

    آج کے مغرب زدہ معاشرے میں اسلام کو ضابطہ حیات کی بجائے چند عبادات اور رسم ورواج کا دین سمجھ لیا گیا ہے اور باور بھی یہی کروایا جاتا ہے کہ جدید ٹیکنالوجی اور جدید میڈیکل سائنس کے متعلق اسلام خاموش ہے۔اس کا مکمل کریڈٹ یورپ کو دیا جاتا ہے ۔حالانکہ یہ ظلم ہے ۔تعصب کی عینک اتار کر اگر اسلام کا مطالعہ کیا جائے توآپ کو اس میں دین ودنیا کے ہر شعبہ کے متعلق مکمل راہنمائی ملے گی۔ اسلام ایک مکمل ضابطہ حیات اور دستور زندگی ہے۔اسلام نے ہمیں زندگی کے تمام شعبوں کے بارے میں راہنمائی فراہم کی ہے۔عبادات ہوں یا معاملات،تجارت ہو یا سیاست،عدالت ہو یا قیادت ، طب ہو یا انجینئرنگ ،اسلام نے ان تمام امور کے بارے میں مکمل تعلیمات فراہم کی ہیں۔اسلام کی یہی عالمگیریت اور روشن تعلیمات ہیں کہ جن کے سبب اسلام دنیا میں اس تیزی سے پھیلا کہ دنیا کی دوسرا کوئی بھی مذہب اس کا مقابلہ نہیں کر سکتا ہے۔اسلامی تعلیمات نہ صرف آخرت کی میں چین وسکون کی راہیں کھولتی ہیں ،بلکہ اس دنیوی زندگی میں اطمینان ،سکون اور ترقی کی ضامن ہیں۔اسلام کی اس بے پناہ مقبولیت کا ایک سبب مساوات ہے ،جس سے صدیوں سے درماندہ لوگوں کو نئی زندگی ملی اور وہ مظلوم طبقہ جو ظالموں کے رحم وکرم پر تھا اسے اسلام کے دامن محبت میں پناہ ملی۔ زیر تبصرہ کتاب " اسلام اور جدید میڈیکل سائنس "محترم ڈاکٹر شوکت علی شوکانی صاحب کی تصنیف ہے، جس میں انہوں جدید میڈیکل سائنس کے چند اہم مسائل جیسے انتقال خون، جنسی تبدیلی، کلوننگ، ٹیسٹ ٹیوب بے بی،انتقال اعضاءاور خاندانی منصوبہ بندی وغیرہ پر کتاب وسنت کے مطابق روشنی ڈالی ہے اور ان مسا...

  • 9 اسلام اور دہشت گردی (اتوار 07 ستمبر 2014ء)

    مشاہدات:4735

    اسلام امن وسلامتی کا دین ہے ۔اسلام کے معنی  اطاعت اور امن وسلامتی کے  ہیں ۔یعنی  مسلمان جہاں اطاعت الٰہی کا نمونہ ہے  وہاں امن وسلامتی کا پیکر بھی  ہے ۔  اسلام فساد اور دہشت گردی کو مٹانے آیا ہے  ۔دنیا میں  اس وقت جو  فساد بپا ہے  اس کا علاج اسلام کے سوا کسی اور  نظریہ میں نہیں ۔ بد قسمتی سے  فسادیوں اور دہشت گردوں نے اسلام کو نشانہ بنایا ہے اور اس کے خلاف پروپیگنڈا شروع کر رکھا ہے  اس مہم کا جواب  ضروی  ہے  ۔یہ جواب فکر ی بھی ہونا چاہیے  اورعملی بھی۔زیر نظر کتاب ’’ اسلام اور دہشت گردی‘‘ محترم ڈاکٹر خالد علوی  کی  تصنیف ہے    جس میں انہوں نے  اختصار کے ساتھ  یہ ثابت کرنے کی  کوشش کی  ہےکہ اسلام امن ہے اور کفر فساد ودہشت گردی  ہے ۔اللہ تعالی عالم ِاسلام  اور مسلمانوں کو  کفار کی سازشوں اور فتنوں سے  محفوظ فرمائے (آمین)(م۔ا)

  • 10 اسلام اور سائنس (جمعہ 06 نومبر 2015ء)

    مشاہدات:3173

    سائنس کو مذہب کا حریف سمجھا جاتا ہے،لیکن یہ ایک  غلط فہمی ہے۔دونوں کا دائرہ کار بالکل مختلف ہے ،مذہب کا مقصد شرف انسانیت کا اثبات اور تحفظ ہے۔وہ انسان کامل کا نمونہ پیش کرتا ہے،سائنس کے دائرہ کار میں یہ باتیں نہیں ہیں،نہ ہی کوئی بڑے سے بڑا سائنس دان انسان کامل کہلانے کا مستحق ہے۔اسی لئے مذہب اور سائنس کا تصادم محض خیالی ہے۔مذہب کی بنیاد عقل وخرد،منطق وفلسفہ اور شہود پر نہیں ہوتی بلکہ ایمان بالغیب پر  زیادہ ہوتی ہے۔اسلام نے علم کو کسی خاص گوشے میں محدود نہیں رکھا بلکہ تمام علوم کو سمیٹ کر یک قالب کر دیا ہےاور قرآن مجید میں قیامت تک منصہ شہود پر آنے والے تمام علوم کی بنیاد ڈالی ہے۔چنانچہ مسلمانوں نے تفکر فی الکائنات اور حکمت تکوین میں تامل وتدبر سے کام لیا اور متعددسائنسی اکتشافات  سامنے لائے ۔تاریخ میں ایسے بے شمار  مسلمان سائنسدانوں کے نام ملتے ہیں،جنہوں نے بے شمار نئی نئی چیزیں ایجاد کیں اور دنیا  میں مسلمانوں  اور اسلام کا نام روشن کیا۔ زیر تبصرہ کتاب" اسلام اور سائنس " علامہ اقبال اوپن یونیورسٹی کے استاد محترم ایس ایم شاہد صاحب اور محترم پروفیسر عبد اللہ ہارون صاحب  کی تصنیف ہے۔جس میں انہوں نے سائنس کی ترقی میں مسلمانوں کی خدمات پر تفصیلی روشنی ڈالی ہےاورمسلمان سائنسدانوں  ابن الہیثم،البیرونی،بو علی سینا ،الکندی،الفارابی اور الخوارزمی سمیت متعدد مسلمان سائنس دانوں کے نام،سوانح،حالات زندگی اور ان کی ایجادات کا تذکرہ کیا ہے۔اللہ تعالی ان کی اس کاوش کو اپنی بارگاہ میں قبول ومنظور فرمائے۔آمین(راسخ) اسلام اور سائنس  نصابی کتب 

ایڈوانس سرچ

اعدادو شمار

  • آج کے قارئین: 1807
  • اس ہفتے کے قارئین: 14410
  • اس ماہ کے قارئین: 34326
  • کل مشاہدات: 44178144

موضوعاتی فہرست

ای میل سبسکرپشن

محدث لائبریری کی اپ ڈیٹس بذریعہ ای میل وصول کرنے کے لئے ای میل درج کر کے سبسکرائب کے بٹن پر کلک کیجئے۔

رجسٹرڈ اراکین

ایڈریس

        99--جے ماڈل ٹاؤن،
        نزد کلمہ چوک،
        لاہور، 54700 پاکستان

       0092-42-35866396، 35866476، 35839404

       0092-423-5836016، 5837311

       library@mohaddis.com

       بنک تفصیلات کے لیے یہاں کلک کریں