• title-page-ainaeparwaiziathqcomplete
    عبد الرحمن کیلانی

    اسلام کے ہر دور میں مسلمانوں میں یہ بات مسلم رہی ہے کہ حدیث نبوی قرآن کریم کی وہ تشریح اور تفسیر ہے جو صاحب ِقرآن صلی اللہ علیہ وسلم سے صادر ہوئی ہے۔ قرآنی اصول واحکام کی تعمیل میں جاری ہونے والے آپ کے اقوال و افعال اور تقریرات کو حدیث سے تعبیر کیا جاتا ہے۔ چنانچہ قرآن کریم ہماری راہنمائی اس طرف کرتا ہے کہ قرآنی اصول و احکام کی تفاصیل و جزئیات کا تعین رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے منصب ِرسالت میں شامل تھا اور قرآن و حدیث کا مجموعہ ہی اسلام کہلاتا ہے جو آپ نے امت کے سامنے پیش فرمایا ہے، لہٰذا قرآن کریم کی طرح حدیث ِنبوی بھی شرعاً حجت ہے جس سے آج تک کسی مسلمان نے انکار نہیں کیا۔ انکارِ حدیث کے فتنہ نے دوسری صدی میں اس وقت جنم لیا جب غیر اسلامی افکار سے متاثر لوگوں نے اسلامی معاشرہ میں قدم رکھا اور غیر مسلموں سے مستعار بیج کو اسلامی سرزمین میں کاشت کرنے کی کوشش کی۔ اس وقت فتنہ انکار ِ حدیث کے سرغنہ کے طور پر جو دو فریق سامنے آئے وہ خوارج اور معتزلہ تھے۔ خوارج جو اپنے غالی افکار ونظریات کو اہل اسلام میں پھیلانے کا عزم کئے ہوئے تھے، حدیث ِنبوی کو اپنے راستے کا پتھر سمجھتے ہوئے اس سے فرار کی راہ تلاش کرتے تھے۔ دوسرے معتزلہ تھے جو اسلامی مسلمات کے ردّوقبول کے لئے اپنی ناقص عقل کو ایک معیار اور کسوٹی سمجھ بیٹھے تھے، لہٰذا انکارِحد رجم، انکارِ عذابِ قبر اور انکارِ سحر جیسے عقائد و نظریات اس عقل پرستی کا ہی نتیجہ ہیں جو انکارِ حدیث کا سبب بنتی ہے۔دور ِجدید میں برصغیر پاک و ہند میں فتنہ انکارِ حدیث نے خوب انتشارپیدا کیا اور اسلامی حکومت ناپید ہونے کی وجہ سے جس کے دل میں حدیث ِ نبوی کے خلاف جو کچھ آیا اس نے بے خوف وخطر کھل کر اس کا اظہار کیا۔ دین کے ان نادان دوستوں نے اسلامی نظام کے ایک بازو کو کاٹ پھینکنے کے لئے ایڑی چوٹی کا زور لگایا اور لگا رہے ہیں۔ اس فتنے کی آبیاری کرنے والے بہت سے حضرات ہیں جن میں سے مولوی چراغ علی، سرسیداحمدخان، عبداللہ چکڑالوی، حشمت علی لاہوری، رفیع الدین ملتانی، احمددین امرتسری اور مسٹرغلام احمدپرویز وغیرہ نمایاں ہیں۔ ان میں آخر الذکر شخص نے فتنہٴ انکار ِحدیث کی نشرواشاعت میں اہم کردار ادا کیا، کیونکہ انہیں اس فتنہ کے اکابر حضرات کی طرف سے تیارشدہ میدان دستیاب تھا جس میں صرف کسی غیر محتاط قلم کی باگیں ڈھیلی چھوڑنے کی ضرورت تھی۔ چنانچہ اس کام کا بیڑہ مسٹر غلام احمدپرویز نے اٹھا لیا جو کہ فتنوں کی آبیاری میں مہارتِ تامہ رکھتے تھے۔ زیر تبصرہ کتاب ’آئینہ پرویزیت‘ میں مدلل طریقے سے فتنہٴ انکارِ حدیث کی سرکوبی کی گئی ہے، اور مبرہن انداز میں پرویزی اعتراضات کے جوابات پیش کئے گئے ہیں-

  • pages-from-aina-parveziyat-motazila-se-taloo-e-islam-tak-part-1
    عبد الرحمن کیلانی

    انکارِ حدیث کے فتنہ نے دوسری صدی میں اس وقت جنم لیا جب غیر اسلامی افکار سے متاثر لوگوں نے اسلامی معاشرہ میں قدم رکھا اور غیر مسلموں سے مستعار بیج کو اسلامی سرزمین میں کاشت کرنے کی کوشش کی۔ اس وقت فتنہ انکار ِ حدیث کے سرغنہ کے طور پر جو دو فریق سامنے آئے وہ خوارج اور معتزلہ تھے۔ خوارج جو اپنے غالی افکار ونظریات کو اہل اسلام میں پھیلانے کا عزم کئے ہوئے تھے، حدیث ِنبوی کو اپنے راستے کا پتھر سمجھتے ہوئے اس سے فرار کی راہ تلاش کرتے تھے۔ دوسرے معتزلہ تھے جو اسلامی مسلمات کے ردّوقبول کے لئے اپنی ناقص عقل کو ایک معیار اور کسوٹی سمجھ بیٹھے تھے، لہٰذا انکارِحد رجم، انکارِ عذابِ قبر اور انکارِ سحر جیسے عقائد و نظریات اس عقل پرستی کا ہی نتیجہ ہیں جو انکارِ حدیث کا سبب بنتی ہے۔ دور ِجدید میں فتنہ انکارِ حدیث نے خوب انتشار پیدا کیا اور اسلامی حکومت ناپید ہونے کی وجہ سے جس کے دل میں حدیث ِ نبوی کے خلاف جو کچھ آیا اس نے بے خوف وخطر کھل کر اس کا اظہار کیا۔ دین کے ان نادان دوستوں نے اسلامی نظام کے ایک بازو کو کاٹ پھینکنے کے لئے ایڑی چوٹی کا زور لگایا اور لگا رہے ہیں۔یورپ کے مستشرقین کی نقالی میں برصغیر پاک وہند میں ماضی قریب میں بہت سے ایسے متجددین پیدا ہوئے جو حدیث وسنت کی تاریخیت ،حفاظت اور اس کی حجیت کو مشکوک اور مشتبہ قرار دے کر اس سے انحراف کی راہ نکالنے میں ہمہ تن گوش رہے۔ اس فتنے کی آبیاری کرنے والے بہت سے حضرات ہیں جن میں سے مولوی چراغ علی، سرسیداحمدخان، عبداللہ چکڑالوی، حشمت علی لاہوری، رفیع الدین ملتانی، احمددین امرتسری اور مسٹرغلام احمدپرویز، جاوید غامدی وغیرہ نمایاں ہیں۔ غلام احمد پرویز پاکستان میں فتنہ انکار حدیث کے سرغنہ اور سرخیل تھے۔ان کی ساری زندگی حدیث رسول ﷺ کی صحت وثبوت میں تشکیک ابھارنے میں بسر ہوئی اور لطف کی بات یہ ہے کہ وہ تردید حدیث کا کام قرآن حکیم کے حقائق ومعارف اجاگر کرتے ہوئے سرانجام دیتے تھے۔ ہردور میں     فتنوں کی سرکوبی میں علمائے حق کی خدمات نمایاں نظر آتی ہیں ۔برصغیر پاک وہند میں فتنہ انکار کے رد میں جید علماء کرام بالخصوص اہل حدیث علماء کی کاوش ناقابل فراموش ہیں۔ زیر تبصرہ کتاب’’آئینہ پرویزیت‘‘ کتاب وسنت ڈاٹ کام کے مدیر جناب ڈاکٹر حافظ انس نضر﷾ کے نانا جان مولانا عبدالرحمٰن کیلانی ﷫ کی پرویزیت کے رد میں لاجواب تصنیف ہے۔ مولانا کیلانی مرحوم نے اپنے خالص علمی، معلومات اور قدرے فلسفیانہ رنگ میں یہ کتاب تحریر کی ہے۔ اس ضخیم کتاب میں پرویزیت کا جامع انداز میں پوسٹ مارٹم کیا گیا ہے۔ اور مدلل طریقے سے فتنہٴ انکارِ حدیث کی سرکوبی کی ہے، اور مبرہن انداز میں پرویزی اعتراضات کے جوابات پیش کئے گئے ہیں۔ حصہ اَول: معتزلہ سے طلوعِ اسلام تک...حصہ دوم :طلوع اسلام کے مخصوص نظریات... حصہ سوم : قرآنی مسائل...حصہ چہارم : دوامِ حدیث...حصہ پنجم: دفاعِ حدیث...حصہ ششم :طلوعِ اسلام کا اسلام۔ یہ کتاب اپنے موضوع میں ایک انسائیکلوپیڈیا کی حیثیت رکھتی ہے۔ یہ کتاب پہلی مرتبہ 1987ء میں چھ الگ الگ حصوں میں شائع ہوئی ۔بعدازاں اس کویکجا کر کے شائع کیا گیا۔بعد والا ایڈیشن ویب سائٹ پر موجود ہے۔ زیرتبصرہ پہلے ایڈیشن کوبھی محفوظ کر نےکی خاطر پبلش کردیاگیاہے۔ مصنف کتاب مولانا عبد الرحمٰن کیلانی﷫ کی شخصیت محتاجِ تعارف نہیں، انکی علمی و تحقیقی کتب ہی ان کا مکمل تعارف ہیں۔ موصوف جس موضوع پر بھی قلم اٹھاتے ہیں اس کا حق ادا کر دیتے ہیں، مولانا كيلانى اسلامى اور دينى ادب كے پختہ كارقلم كار تھے۔ کتب کے علاوہ ان کے بیسیوں علمی وتحقیقی مقالات ملک کے معروف علمی رسائل وجرائد(ماہنامہ محدث، ترجمان الحدیث، سہ ماہی منہاج لاہور وغیرہ) میں شائع ہوئے ان كى بيشتر تاليفات اہل علم وبصيرت سے خراج تحسين پا چکی ہیں۔ اللہ تعالیٰ مولانا مرحوم کے درجات بلند فرمائے اور ا ن کی مرقد پر اپنی رحمتوں کا نزول فرمائے۔ (آمین)(م۔ا)

  • title-pages-azadi-izhar-k-naam-pr-copy
    محمد متین خالد

    اب یہ بات کسی سے ڈھکی چھپی نہیں رہی کہ پوری دنیا میں آزادی اظہار رائے، حقوق انسانی اور مساوات کا ڈھنڈورا پیٹنے والا مغرب منافقت اور دوغلے پن کے کینسر کا شکار ہے۔خوشنما اور دل ربا اصطلاحات میں روشن خیالی کا درس دینے والے نام نہاد مصلح کا اصل چہرہ بے نقاب ہو چکا ہے۔حالیہ برسوں میں اسلام دشمنی کے پے درپے واقعات نے اب ثابت کر دیا ہے کہ مغرب میں آزادی اظہار رائے کا مطلب ہے، پرنٹ اور الیکٹرانک میڈیا کے ذریعےاجتماعی طور پر اسلام اور اس کی مقدس شخصیات کی توہین وتحقیر، اسلامی تعلیمات کا تمسخر اور مسلمانوں کی تذلیل۔حیران کن بات یہ ہے کہ یہ مذموم  حرکات کسی ایک فرد کا ذاتی عمل یا کوشش کا نتیجہ نہیں بلکہ ایسی ناپاک جسارتیں پورے مغربی معاشرے کی اجتماعی سوچ کا مظہر ہیں جو تہذیبوں کے ٹکراؤ اور ایک نئی صلیبی جنگ کا پیش خیمہ ہیں۔ زیر تبصرہ کتاب" آزادی اظہار رائے کے نام پر"محترم متین خالد صاحب کی کاوش ہے، جس میں انہوں نے مغرب کی نام نہاد آزادی رائے کےنام پر  اس کی اسلام دشمنی کا پردہ چاک کیا ہے۔یہ کتاب اس لحاظ سے بھی اہم ہے کہ اس میں بیان کردہ مدلل انکشافات اور جامع اکتشافات نہایت چونکا دینے والے ہیں۔محسوس ہوتا ہے کہ مغرب نے بہت سی باتوں کو یونہی فرض کر کے یا آنکھیں بند کر کے اپنی توپوں کا رخ اسلام اور مسلمانوں کی طرف کر رکھا ہے جو سراسر عالمی اخلاقی اقدار کے خلاف ہے۔اللہ تعالی سے دعا ہے کہ  وہ مولف موصوف کی اس محنت کو اپنی بارگاہ میں قبول فرمائے اور اور ان کے میزان حسنات میں اضافہ فرمائے ۔آمین(راسخ)

  • title-pages-dair-al-fikar-al-gharbi-copy
    خادم حسین الہٰی بخش

         الحمد لله رب العالمين ، والصلاة والسلام على رسوله الأمين ، سيدنا ونبينا محمدٍ صلى الله عليه وسلم ، وعلى آله وصحابته الطيبين الطاهرين ، ومن سلك سبيلهم وترسم خطاهم ونهج منهجهم إلى يوم الدين ، وبعد : فإن هذا الكتاب رسالة علمية تقدم بها المؤلف لنيل درجة الدكتوراه في العقيدة الإسلامية من جامعة أم القرى بمكة شرفها الله ، ونالها بتقدير ( ممتاز ) .  وتتضمن الرسالة مقدمة وثلاثة أبواب وخاتمة :   ففي المقدمة تحدث المؤلف عن أهمية الموضوع ، وصلته بالواقع المعاصر ، والأسباب التي دَعَتْه للكتابة فيه ، والعقبات التي واجهها أثناء البحث ، ومنهجه فيه .    وتضمن الباب الأول بفصوله الثلاثة دراسة المجتمع المسلم بالهند الموحدة _ باكستان ، الهند ، بنغلاديش _ ومن ضمن أبحاثه كيفية دخول الإسلام إلى الهند إبان حكم الخلفاء الراشدين ، ثم عَرَّج الباحث فَذَكَرَ مظاهر المسلمين المميزة في عهد دولة الغزنويين ، والغوريين ، والمماليك .     وجاء فصله الثاني مبيناً أوصاف المسلمين حكاماً ومحكومين في عهد دولة المغول ، وما تعرض له المسلمون حكاماً ومحكومين من التشيع والتنصير .    وجاء فصله الأخير موضحاً حالة المجتمع المسلم في عهد شركة الهند الشرقية ، وبيان مطامعها الاستعمارية ، وتحديد موقف المسلمين حكومة وشعباً تجاهها برفع راية الجهاد لطرد المستعمرين .    وخصصت الدراسة بابها الثاني بفصوله الأربعة في تحديد أثر الفكر الغربي في حياة المسلمين ، وجاء فصله الأول في بيان أثر النشاط التنصيري في الأفكار والمعتقدات ، فكان من مباحثه التنصير في عهد المغول ، والتنصير أثناء الحكم الإنجليزي المباشر ، وبيان الطرق التي سلكها المُنَصِّرُوْن لتنصير المسلمين وغير المسلمين ، مع تحديد الأسباب التي قادتهم إلى بعض النجاح....    وحدد الفصل الثاني لهذا الباب أثر الفكر الغربي في مجال التربية والتعليم ، وذلك ببيان موقف الدولة الإسلامية من التعليم ، وموقف الإنجليز من التعليم المُحَقِّق لمطامع المستعمرين ، وبث التنصير عن طريقالتعليم ، والتعليم في الآونة المعاصرة بروافده الثلاثة ، : التعليم الحكومي ، التعليم الخاص ، التعليم الديني .    وكان ثالث فصول هذا الباب محصوراً في القضايا الاجتماعية : كتعليم المرأة ، وعملها ، والزواج ، والقِوَامة ، وشرب المسكرات ، والاقتصاد ، ووسائل الإعلام....    وجاء خِتام فصول هذا الباب موضحاً أثر الفكر الغربي في مجال النظم التشريعية ، فتحدثت الدراسة عن قضاء المسلمين في الهند ، واتفاقية بَكْسَر وخيانة شركة الهند الشرقية في تنفيذ بنودها المتصلة بالقضاء والفصل بين الناس ، وبداية التحريف في التشريع وآثاره الوخيمة ، ومناقشة فتوى السيد رشيد رضا المصري حول جواز التحاكم إلى غير شريعة الله ، في ضوء الكتاب والسنة وأقوال علماء الإسلام . كما تطرق هذا الفصل إلى وضع دستورٍٍ لدولة باكستان المسلمة ، وقانون العقوبات الباكستاني و مناقشة محتوياته ، وذكرت الدراسة نماذج مقارنة من الجرائم والعقوبات بين الشريعة والقوانين الباكستاني ، وقانون الإثبات ومحتوياته ، وشهادة المرأة ، وشاهد المَلِك بين الشريعة والقانون...    وخَتَمَتْ الفصل بطلب إصلاحات في القضاء : كإلغاء الرسوم القضائية ، وتكوين مجمعٍ علمي قضائي ، وإصلاح التعليم التشريعي في كليات القانون ، وكليات الحقوق ، والمدارس الدينية...    وآخر أبواب الرسالة جاء موضحاً لأثر الفكر الغربي في الفرق المنحرفة عن الإسلام ، فتحدث عن الشيعة الاثني عشرية ، والشيعة الإمامية البهرة ، والشيعة الإمامية الأغاخانية ، فكان من مباحث هذا الباب ظاهرة التعاون بين الأفكار المنحرفة ، وظاهرة إخفاء ما يدين به الشيعة عموما....    كما تحدث هذا الباب عن الصوفية وأثر الفكر الغربي فيها ، وحدد منهج الصوفية في الدعوة إلى الإسلام ، وحال الهند المتصوفة عند الاحتلال الإنجليزي ، والنظرة السلبية إلى الحياة ونتائجها لصالح الفكر الغربي .    وجاء رابع فصول هذا الباب في تحديد الفكر الغربي في القرآنيين ، الذين ينكرون حجية السنة في التشريع وأخذ الأحكام الشرعية منها ، ويعود بداية هذا الفكر إلى السيد أحمد خان مؤسس جامعة عليكره ، كما ذكر هذا الباب نماذج من التحريف في فكر زعماء القرآنيين .    وكان ختام فصول الأطروحة في القاديانية وإخلاصها للفكر الغربي ، وذلك حين ادعى زعيمها غلام أحمد القادياني نسخ الجهاد بنبوته ، وأن الهند دار إسلام لا دار حرب ، وتفسير القاديانية لخاتم النبيين ، ونماذج من وحي الغلام ، وختمت الفصل بذكر ما تختلف فيه القاديانية عن الإسلام .     وقبل الخاتمة بينت الوضع الحالي المبشر لصالح الإسلام ، وجاءت الخاتمة متضمنة بين طياتها نتائج البحث التي توصلت إليها الدراسة  المؤلف د/ خادم حسين إلهي بخش  أستاذ العقيدة والفرق والمذاهب المعاصرة  بكلية الشريعة والأنظمة ، قسم الشريعة في 15 شوال 1435 هـ الموافق 11/اكست 2014م   جامعة الطائف    الطائف ، المملكة العربية السعودية

  • untitled-1
    ارشاد الحق اثری

    يورپ کے مستشرقین کی نقالی میں ہمارے ہاں بھی بہت سے ایسے متجددین پیدا ہوچکے ہیں جو حدیث وسنت کی تاریخیت ،حفاظت اور اس کی حجیت کو مشکوک اور مشتبہ قرار دے کر اس سے انحراف کی راہ نکالنے میں ہمہ تن گوش ہیں-کبھی تدوین حدیث کے عمل کو تیسری صدی ہجری کی پیداوار قرار دیا جاتا ہے تو کبھی صحابہ کرا م کی احتیاطی تدابیر کو بنیاد بنا کر حدیث میں تشکیک پیدا کرنے کی کوشش کی جاتی ہے-اس سلسلے میں صحیح بخاری وصحیح مسلم پر بھی شکوک وشبہات کا اظہار کرنے سے بھی دریغ نہیں کیا جاتا-اسی سلسلے کی ایک کڑی مولانا حبیب الرحمان کاندھلوی کی کتاب ''مذہبی داستانیں'' ہے-جس میں صحیح بخاری ومسلم کو شدید نکتہ چینی کا نشانہ بناتے ہوئے محدثین کرام اور بعض صحابہ کرام بالخصوص حضرت علی، حضرت فاطمہ، حضرت حسن، حضرت حسین وغیرہ شامل ہیں، کے بارے میں اخلاقی گرواٹ کا مظاہرہ کیا گیا - زیر نظر کتاب میں ارشاد الحق اثری صاحب نے خالص علمی اور تحقیقی انداز میں تمام  اعتراضات کا تفصیلی جواب دیتے ہوئے صحیح بخاری وصحیح مسلم کی ان تمام روایات کا دفاع کیا ہے جن کو '' مذہبی داستانیں'' میں تنقید کا نشانہ بنایا گیا ہے-

  • pages-from-ahyaa-e-islam-aur-muallim
    خرم مراد

    آج ملت اسلامیہ کے سامنے سب سےبڑا چیلنج یہ ہےکہ وہ اپنی مکمل زندگی کی تشکیل نو اسلام کے مطابق کرے۔ اس جدوجہد کا اہم ترین محاذ نظام تعلیم کا میدان ہے۔ اور اس میدان میں کلیہ اور مرکز کی حیثیت معلم کو حاصل ہے۔ اگر ایک معلم اپنی صلاحیت اور طاقت کو محسو س کر لے اور تعلیم و تعلم کے ساتھ اخلاص پیدا کرتے ہوئے معاشرے کو اسلام کے سانچے میں ڈھالنا شروع کردے تو دنیا کی کوئی طاقت اسلام کا راستہ نہیں روک سکتی۔ اس لیے تعلیم ہی وہ ذریعہ ہےجس کے ذریعے مغرب اور مغربی تہذیب کا تسلط مسلمانوں پر قائم ہے۔ سیاسی بیداری کا یہ تو نتیجہ ہو اکہ غلامی کے جو طوق گردن میں تھے وہ ایک حدتک اتر گئے لیکن تعلیم کے ذریعے مغرب کے جو نظریات وتصورات ہمارے رگ و پے میں اتر چکے ہیں ان کا نکالنا اتنا آسان ثابت نہ ہوا۔ اس کے لیے بہت جدوجہد کی ضرورت ہے۔ زیر نظر کتاب "احیائے اسلام اورمعلم" خرم جاہ مراد کی تعلیم و تعلم سے وابستہ افراد کے لیے ایک نادر تحفہ ہے۔ جس میں معلمین کا اپنے مقام کو پہچاننا، مقصد کی لگن، تعلیمی محاذ پر احیائے اسلام کو اجاگر کرنا اوراپنے تلامذہ کو اسلامی تعلیمات سے بہرور کرتے ہوئے ایک اسلامی معاشرہ کی تشکیلِ نو کا تصور دیا گیاہے۔ اللہ رب العزت ان کی محنت و لگن کو قبول فرمائے۔ آمین(عمیر)

  • title-pages-islam-aur-jadeed-science-nae-tanazar-me-copy
    مولانا محمد ظفر اقبال

    محترم ڈاکٹر ذاکر نائیک ﷾ہندوستان کے ایک معروف  مبلغ اور داعی ہیں۔آپ اپنے خطبات اور لیکچرز میں اسلام اور سائنس  کے حوالے سے  بہت زیادہ گفتگو کرتے ہیں ،اور یہ ثابت کرنے کی کوشش کرتے ہیں کہ اسلام نے آج سے چودہ سو سال پہلے جو کچھ بتا دیا تھا ،آج کی جدید سائنس اس کی تائید کرتی نظر آتی ہے۔اور یہ کام  وہ زیادہ تر غیر مسلموں کو اسلام کی دعوت دیتے وقت  کرتے ہیں ،تاکہ ان کی عقل اسلام کی حقانیت اور عالمگیریت کو تسلیم کرتے ہوئے اس کے سامنے سر تسلیم خم کر دے۔اسلام اگرچہ سائنس کی تائید کا محتاج نہیں ہے ،اور اس کا پیغام امن وسلامتی اتنا معروف اور عالمگیر ہے کہ اسے مسلم ہو یا غیر مسلم  دنیا کا ہر آدمی تسلیم کرتا ہے۔لیکن  میرے خیال میں سائنس سے اسلام کی تائید میں غیر مسلموں کو کوئی عقلی دلیل پیش کرنے میں کوئی برائی والی بات بھی نہیں ہے۔لیکن بعض احباب ان کے اس طرز عمل سے نالاں ہیں ۔ان کے نزدیک اسلام کے پیغام میں اتنی زیادہ قوت  موجود ہے کہ ہمیں سائنس کی تائید وغیرہ لینے کی کوئی ضرورت نہیں ہے۔زیر تبصرہ کتاب " اسلام اور جدید سائنس  نئے تناظر میں  (ڈاکٹر ذاکر نائیک کے خطبات کی روشنی میں)" بھی اسی ضمن میں لکھی گئی ہے۔جو محترم محمد ظفراقبال صاحب کی کاوش ہے۔ ان کو یہ خدشہ لاحق ہے کہ جس طرح مغرب میں عیسائیت اور سائنس کے اجتماع سے  لوگ عیسائیت   سے بیزار ہو گئے اور انہوں نے سائنس کو اپنا مذہب بنا لیا۔بہر حال یہ ڈاکٹر ذاکر نائیک﷾ کے اس طریقہ کار پر ایک تحقیقی مقالہ ہے ،جس میں صحت اور ضعف دونوں کا احتمال ہو سکتاہے۔اہل علم سے گزارش ہے کہ وہ کتاب کا مطالعہ کرنے کے بعد اپنی آراء سے ضرور آگاہ کریں ،تاکہ صحیح منہج سامنے آ سکے۔(راسخ)

    نوٹ:

    محدث فورم میں اس کتاب پر تبصرہ کرنے کے لیے یہاں کلک کریں

  • title-pages-islam-aur-science-copy
    ایس ایم شاہد

    سائنس کو مذہب کا حریف سمجھا جاتا ہے،لیکن یہ ایک  غلط فہمی ہے۔دونوں کا دائرہ کار بالکل مختلف ہے ،مذہب کا مقصد شرف انسانیت کا اثبات اور تحفظ ہے۔وہ انسان کامل کا نمونہ پیش کرتا ہے،سائنس کے دائرہ کار میں یہ باتیں نہیں ہیں،نہ ہی کوئی بڑے سے بڑا سائنس دان انسان کامل کہلانے کا مستحق ہے۔اسی لئے مذہب اور سائنس کا تصادم محض خیالی ہے۔مذہب کی بنیاد عقل وخرد،منطق وفلسفہ اور شہود پر نہیں ہوتی بلکہ ایمان بالغیب پر  زیادہ ہوتی ہے۔اسلام نے علم کو کسی خاص گوشے میں محدود نہیں رکھا بلکہ تمام علوم کو سمیٹ کر یک قالب کر دیا ہےاور قرآن مجید میں قیامت تک منصہ شہود پر آنے والے تمام علوم کی بنیاد ڈالی ہے۔چنانچہ مسلمانوں نے تفکر فی الکائنات اور حکمت تکوین میں تامل وتدبر سے کام لیا اور متعددسائنسی اکتشافات  سامنے لائے ۔تاریخ میں ایسے بے شمار  مسلمان سائنسدانوں کے نام ملتے ہیں،جنہوں نے بے شمار نئی نئی چیزیں ایجاد کیں اور دنیا  میں مسلمانوں  اور اسلام کا نام روشن کیا۔ زیر تبصرہ کتاب" اسلام اور سائنس " علامہ اقبال اوپن یونیورسٹی کے استاد محترم ایس ایم شاہد صاحب اور محترم پروفیسر عبد اللہ ہارون صاحب  کی تصنیف ہے۔جس میں انہوں نے سائنس کی ترقی میں مسلمانوں کی خدمات پر تفصیلی روشنی ڈالی ہےاورمسلمان سائنسدانوں  ابن الہیثم،البیرونی،بو علی سینا ،الکندی،الفارابی اور الخوارزمی سمیت متعدد مسلمان سائنس دانوں کے نام،سوانح،حالات زندگی اور ان کی ایجادات کا تذکرہ کیا ہے۔اللہ تعالی ان کی اس کاوش کو اپنی بارگاہ میں قبول ومنظور فرمائے۔آمین(راسخ)

  • title-pages-islam-aur-asre-jadeed-copy
    محمد تنزیل الصدیقی الحسینی

    آج روئے زمین پر واحد دین اسلام ہے جو اپنی اصل حالت میں باقی ہے جس کی تعلیمات زندہ ہیں جس کے مآخذ دستیاب ہیں اور جس کے پاس نبی کریم محمد رسول اللہ جیسی ہستی نمونہ عمل کے لیے ہے ۔ انسانی اذہان کے پیدا شدہ افکار ونظریات دم توڑ چکے ہیں اور اب آنے والا دور اسلام کا دور ہے ۔ یہ ایک ایسی حقیقت ہے جس کا فیصلہ آنے والی تاریخ کرے گی۔یورپ اور امریکا جیسی مادیت پرست دنیا میں اسلام کی روز افزوں ترقی اس کا واضح ثبوت ہے ۔ زیر تبصرہ کتاب’’اسلام اور عصر جدید‘‘ کی جناب محمد تنزیل الصدیقی الحسینی کے اسلام اور عصر جدید کے متعلق تحریر گئے ان مضامین کا مجموعہ ہے جو وقتاً وقتاً مختلف رسائل میں اشاعت پذیر ہوئے۔ان مضامین میں انہوں نے مسلمانوں کی توجہ عہد جدید کی روشن حقیقتوں کی طرف مبذول کروائی ہے اور یہ ثابت کیا ہے کہ اسلام انسانوں کا واحد دین ، نبی کریم ﷺ انسانی زندگی کےواحد رہبر اور قرآن انسانی ہدایت کی کامل کتاب ہے ۔اسلام ایک عالمگیر دین ہے یہ صرف مسلمانوں کے لیے نہیں ہے بلکہ مسلمانوں کے فریضہ ہے کہ وہ گمراہ انسانیت کو ان کی دولت بے پایاں اور متاع گم گشتہ سےآگاہ کریں۔(م۔ا)

  • title-pages-islam-aur-mustashreqeen-copy
    ڈاکٹر حافظ محمد زبیر

    ماڈرن  یورپ میں احیائے علوم اور نشاہ ثانیہ کی تحریک کے نتیجے میں علوم کی کی تدوین عمل میں آئی۔اہل یورپ کی ایک جماعت نے جدید سائنسی علوم سے ہٹ کر علوم اسلامیہ اور مشرقی فنون کو اپنی تحقیقات کا مرکز بنایا اور اسی میں اپنی زندگیاں کھپا دیں۔اس ریسرچ کے نتیجے میں پچھلی دو صدیوں میں انگریزی،فرانسیسی،جرمن اور دیگر معروف یورپی زبانوں میں اسلا م کا ایک ایسا جدید  ورژن مدون ہو کر سامنے آیا جسے اسلام کی یورپین تعبیر قرار دیا جا سکتا ہے۔اہل یورپ کی تحقیق کا جہاں دنیائے اسلام کو کچھ فائدہ ہوا کہ اسلامی مخطوطات کا ایک گراں قدر ذخیرہ اشاعت کے بعد لائبریریوں سے نکل کر اہل علم کے ہاتھوں میں پہنچ گیا تو وہاں اس سے پہنچنے والے ناقابل تلافی نقصانات بھی بہت زیادہ ہیں۔یہودی،عیسائی اور لامذہب مغربی پروفیسروں کی ایک جماعت نے اسلام،قرآن مجید،پیغمبر اسلام ،اسلامی تہذیب وتمدن اور علوم اسلامیہ میں تشکیک وشبہات پیدا کرنے کی ایک تحریک برپا کرتے ہوئے اہل اسلام کے خلاف ایک فکری جنگ کا آغاز کر دیا۔زیر تبصرہ کتاب " اسلام اور مستشرقین " مجلس التحقیق الاسلامی کے سابق رکن اور جامعہ لاہور الاسلامیہ کے فاضل نوجوان محترم ڈاکٹر حافظ محمد زبیر تیمی صاحب کی تصنیف ہے ،جس میں انہوں نے مستشرقین کے حوالے سے تاریخی نوعیت کی تفصیلات جمع فرما دی ہیں تاکہ اہل اسلام مستشرقین کی تاریخ سے آگاہی حاصل کرتے ہوتے ان کے مذموم مقاصد سے آگاہ ہو سکیں،اور ان کی فکری جنگ کا کما حقہ جواب دے سکیں۔اللہ تعالی سے دعا ہے کہ وہ مولف کی اس کاوشوں کو اپنی بارگاہ میں قبول فرمائے اور ان کے میزان حسنات میں اضافہ فرمائے۔آمین(راسخ)

  • title-pages-islam-aur-mustashrekeen
    سید صباح الدین عبد الرحمن مرحوم

    مستشرقین سے مراد وہ غیرمسلم دانشور حضرات ہیں جو چاہے مشرق سے تعلق رکھنے والے ہوں یا مغرب سے کہ جن کا مقصد مسلمانوں کے علوم وفنون حاصل کرکے ان پر قبضہ کرنا اور اسلام پر اعتراضات کرنا ہے اور مسلمانوں کے ہاتھوں صلیبی جنگوں میں ذلت آمیز شکست کا بدلہ لینا ہے اور اس مقصد کے لیے انہوں نے قرآن وحدیث ،سیرت اور اسلامی تاریخ کو بطور خاص اپنا ہدف بنایا ہے وہ انہیں مشکوک بنانے کےلیے مختلف ہتھکنڈوں کو استعمال کرتے ہیں ۔زیر نظر کتاب سات حصوں پر مشتمل ہے جوکہ دراصل دار المصنفین اعظم گڑھ کے زیر اہتمام فروری 1982 میں اسلام اور مستشرقین کے عنوان پر منعقدہ بین الاقوامی سیمینار میں جید اکابرعلماء اور عالم اسلام کے نامور اسلامی سکالرز ودانشور حضرات کی طرف سے پیش کیے جانے والے مقالات کا مجموعہ ہے امید ہے اس کے مطالعہ سے مستشرقین کے ہتھکنڈوں او ر ان کے شبہات کی تردید کے لیے دلائل سے اگاہی حاصل ہوگی۔ ان شاء اللہ(م۔ا)

  • title-pages-islam-aur-mustashrekeen
    سید صباح الدین عبد الرحمن مرحوم

    مستشرقین سے مراد وہ غیرمسلم دانشور حضرات ہیں جو چاہے مشرق سے تعلق رکھنے والے ہوں یا مغرب سے کہ جن کا مقصد مسلمانوں کے علوم وفنون حاصل کرکے ان پر قبضہ کرنا اور اسلام پر اعتراضات کرنا ہے اور مسلمانوں کے ہاتھوں صلیبی جنگوں میں ذلت آمیز شکست کا بدلہ لینا ہے اور اس مقصد کے لیے انہوں نے قرآن وحدیث ،سیرت اور اسلامی تاریخ کو بطور خاص اپنا ہدف بنایا ہے وہ انہیں مشکوک بنانے کےلیے مختلف ہتھکنڈوں کو استعمال کرتے ہیں ۔زیر نظر کتاب سات حصوں پر مشتمل ہے جوکہ دراصل دار المصنفین اعظم گڑھ کے زیر اہتمام فروری 1982 میں اسلام اور مستشرقین کے عنوان پر منعقدہ بین الاقوامی سیمینار میں جید اکابرعلماء اور عالم اسلام کے نامور اسلامی سکالرز ودانشور حضرات کی طرف سے پیش کیے جانے والے مقالات کا مجموعہ ہے امید ہے اس کے مطالعہ سے مستشرقین کے ہتھکنڈوں او ر ان کے شبہات کی تردید کے لیے دلائل سے اگاہی حاصل ہوگی۔ ان شاء اللہ(م۔ا)

  • title-pages-islam-aur-mustashrekeen
    سید صباح الدین عبد الرحمن مرحوم

    مستشرقین سے مراد وہ غیرمسلم دانشور حضرات ہیں جو چاہے مشرق سے تعلق رکھنے والے ہوں یا مغرب سے کہ جن کا مقصد مسلمانوں کے علوم وفنون حاصل کرکے ان پر قبضہ کرنا اور اسلام پر اعتراضات کرنا ہے اور مسلمانوں کے ہاتھوں صلیبی جنگوں میں ذلت آمیز شکست کا بدلہ لینا ہے اور اس مقصد کے لیے انہوں نے قرآن وحدیث ،سیرت اور اسلامی تاریخ کو بطور خاص اپنا ہدف بنایا ہے وہ انہیں مشکوک بنانے کےلیے مختلف ہتھکنڈوں کو استعمال کرتے ہیں ۔زیر نظر کتاب سات حصوں پر مشتمل ہے جوکہ دراصل دار المصنفین اعظم گڑھ کے زیر اہتمام فروری 1982 میں اسلام اور مستشرقین کے عنوان پر منعقدہ بین الاقوامی سیمینار میں جید اکابرعلماء اور عالم اسلام کے نامور اسلامی سکالرز ودانشور حضرات کی طرف سے پیش کیے جانے والے مقالات کا مجموعہ ہے امید ہے اس کے مطالعہ سے مستشرقین کے ہتھکنڈوں او ر ان کے شبہات کی تردید کے لیے دلائل سے اگاہی حاصل ہوگی۔ ان شاء اللہ(م۔ا)

  • title-pages-islam-aur-mustashrekeen
    سید صباح الدین عبد الرحمن مرحوم

    مستشرقین سے مراد وہ غیرمسلم دانشور حضرات ہیں جو چاہے مشرق سے تعلق رکھنے والے ہوں یا مغرب سے کہ جن کا مقصد مسلمانوں کے علوم وفنون حاصل کرکے ان پر قبضہ کرنا اور اسلام پر اعتراضات کرنا ہے اور مسلمانوں کے ہاتھوں صلیبی جنگوں میں ذلت آمیز شکست کا بدلہ لینا ہے اور اس مقصد کے لیے انہوں نے قرآن وحدیث ،سیرت اور اسلامی تاریخ کو بطور خاص اپنا ہدف بنایا ہے وہ انہیں مشکوک بنانے کےلیے مختلف ہتھکنڈوں کو استعمال کرتے ہیں ۔زیر نظر کتاب سات حصوں پر مشتمل ہے جوکہ دراصل دار المصنفین اعظم گڑھ کے زیر اہتمام فروری 1982 میں اسلام اور مستشرقین کے عنوان پر منعقدہ بین الاقوامی سیمینار میں جید اکابرعلماء اور عالم اسلام کے نامور اسلامی سکالرز ودانشور حضرات کی طرف سے پیش کیے جانے والے مقالات کا مجموعہ ہے امید ہے اس کے مطالعہ سے مستشرقین کے ہتھکنڈوں او ر ان کے شبہات کی تردید کے لیے دلائل سے اگاہی حاصل ہوگی۔ ان شاء اللہ(م۔ا)

  • title-pages-islam-aur-mustashrekeen
    سید صباح الدین عبد الرحمن مرحوم

    مستشرقین سے مراد وہ غیرمسلم دانشور حضرات ہیں جو چاہے مشرق سے تعلق رکھنے والے ہوں یا مغرب سے کہ جن کا مقصد مسلمانوں کے علوم وفنون حاصل کرکے ان پر قبضہ کرنا اور اسلام پر اعتراضات کرنا ہے اور مسلمانوں کے ہاتھوں صلیبی جنگوں میں ذلت آمیز شکست کا بدلہ لینا ہے اور اس مقصد کے لیے انہوں نے قرآن وحدیث ،سیرت اور اسلامی تاریخ کو بطور خاص اپنا ہدف بنایا ہے وہ انہیں مشکوک بنانے کےلیے مختلف ہتھکنڈوں کو استعمال کرتے ہیں ۔زیر نظر کتاب سات حصوں پر مشتمل ہے جوکہ دراصل دار المصنفین اعظم گڑھ کے زیر اہتمام فروری 1982 میں اسلام اور مستشرقین کے عنوان پر منعقدہ بین الاقوامی سیمینار میں جید اکابرعلماء اور عالم اسلام کے نامور اسلامی سکالرز ودانشور حضرات کی طرف سے پیش کیے جانے والے مقالات کا مجموعہ ہے امید ہے اس کے مطالعہ سے مستشرقین کے ہتھکنڈوں او ر ان کے شبہات کی تردید کے لیے دلائل سے اگاہی حاصل ہوگی۔ ان شاء اللہ(م۔ا)

  • title-pages-islam-aur-mustashrekeen
    سید صباح الدین عبد الرحمن مرحوم

    مستشرقین سے مراد وہ غیرمسلم دانشور حضرات ہیں جو چاہے مشرق سے تعلق رکھنے والے ہوں یا مغرب سے کہ جن کا مقصد مسلمانوں کے علوم وفنون حاصل کرکے ان پر قبضہ کرنا اور اسلام پر اعتراضات کرنا ہے اور مسلمانوں کے ہاتھوں صلیبی جنگوں میں ذلت آمیز شکست کا بدلہ لینا ہے اور اس مقصد کے لیے انہوں نے قرآن وحدیث ،سیرت اور اسلامی تاریخ کو بطور خاص اپنا ہدف بنایا ہے وہ انہیں مشکوک بنانے کےلیے مختلف ہتھکنڈوں کو استعمال کرتے ہیں ۔زیر نظر کتاب سات حصوں پر مشتمل ہے جوکہ دراصل دار المصنفین اعظم گڑھ کے زیر اہتمام فروری 1982 میں اسلام اور مستشرقین کے عنوان پر منعقدہ بین الاقوامی سیمینار میں جید اکابرعلماء اور عالم اسلام کے نامور اسلامی سکالرز ودانشور حضرات کی طرف سے پیش کیے جانے والے مقالات کا مجموعہ ہے امید ہے اس کے مطالعہ سے مستشرقین کے ہتھکنڈوں او ر ان کے شبہات کی تردید کے لیے دلائل سے اگاہی حاصل ہوگی۔ ان شاء اللہ(م۔ا)

  • title-pages-islam-aur-mustashrekeen
    سید صباح الدین عبد الرحمن مرحوم

    مستشرقین سے مراد وہ غیرمسلم دانشور حضرات ہیں جو چاہے مشرق سے تعلق رکھنے والے ہوں یا مغرب سے کہ جن کا مقصد مسلمانوں کے علوم وفنون حاصل کرکے ان پر قبضہ کرنا اور اسلام پر اعتراضات کرنا ہے اور مسلمانوں کے ہاتھوں صلیبی جنگوں میں ذلت آمیز شکست کا بدلہ لینا ہے اور اس مقصد کے لیے انہوں نے قرآن وحدیث ،سیرت اور اسلامی تاریخ کو بطور خاص اپنا ہدف بنایا ہے وہ انہیں مشکوک بنانے کےلیے مختلف ہتھکنڈوں کو استعمال کرتے ہیں ۔زیر نظر کتاب سات حصوں پر مشتمل ہے جوکہ دراصل دار المصنفین اعظم گڑھ کے زیر اہتمام فروری 1982 میں اسلام اور مستشرقین کے عنوان پر منعقدہ بین الاقوامی سیمینار میں جید اکابرعلماء اور عالم اسلام کے نامور اسلامی سکالرز ودانشور حضرات کی طرف سے پیش کیے جانے والے مقالات کا مجموعہ ہے امید ہے اس کے مطالعہ سے مستشرقین کے ہتھکنڈوں او ر ان کے شبہات کی تردید کے لیے دلائل سے اگاہی حاصل ہوگی۔ ان شاء اللہ(م۔ا)

     

    نوٹ:

    محدث فورم میں اس کتاب پر تبصرہ کرنے کے لیے یہاں کلک کریں

  • علی عزت بیگو وچ

    دین حق کے خلاف آغازاسلام سے ہی باطل قوتیں طرح طرح کی سازشوں میں مصروف رہی ہیں۔ لیکن اس کے ساتھ ساتھ اسلام کا دفاع کرنے والے حضرات او ررجال کار بھی ہردور میں موجود رہے ہیں ۔ ہردور میں کئی مشاہیر اسلام نے باطل نظریات کا نہ صرف بھرپور توڑ کیا بلکہ غیر اسلامی افکار نظریات پر بھر پور تنقید کی اور عقلی دلائل سے ثابت کیا کہ وہ ناقص بودے ،کھوکھلے اورانسانیت کے زہر قاتل ہیں۔نیز انہوں نے اسلام کی حقانیت کودلائل وبراہین سے روز روشن کی طرح واضح کیا۔ زیر تبصرہ کتاب ’’اسلام اور مشرق ومغرب کی تہذیبی کشمکش ‘‘یورپ کے اندرابھرنے والی ایک مسلم ریاست بوسنیا کے منتخب سربراہ او راسلام کے ایک بہت بڑے دانشور ، قانون دان ، سکالر اور مبلغ علی عزت بیگووچ کی ایک معرکہ آراء تصنیف ہے ۔اس کتاب انہوں نے میں تہذیب وتمدن ، اسلامی افکار، سائنس،عمرانیات ،مسخ مذاہب کی ناکامی اور دور جدید کے ناقص تصورات کا تفصیلی جائزہ لیا ہے ۔ اور ساتھ ساتھ وہ تمام حقائق اکٹھے کردئیے ہیں جو اسلام کی سچائی کے ثبوت کےطور پر پیش کیے جاسکتے ہیں۔اس کتاب کو بہترین دلائل، عام فہم اسلوب کے سبب مغربی دنیا میں ہاتھوں ہاتھ لیا گیا۔اس کتاب کی مقبولیت کے باعث اس کا پہلا اردو ایڈیشن بھی چند ماہ ہی میں ختم ہوگیا تھا۔(م۔ا)

  • title-pages-islam-aur-moseeki-par-ishraq-ke-aitrazt-ka-jaeza
    ارشاد الحق اثری
    دین اسلام کی بنیاد قرآن مجید اور حدیث وسنت پر ہے۔دین میں کسی چیز کے حلال و حرام یا جائز و ناجائز ہونے کا مدار انہی پر ہے۔جمہور  امت اور فقہائے اربعہ رحمتہ اللہ علیہم انہی دلائل کی بنا پر موسیقی کو حرام و ناجائز قرار دیتے ہیں۔بلکہ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم اجمعین بھی موسیقی اور آلات موسیقی کی حرمت پر متفق ہیں۔لیکن غامدی حلقہ فکر موسیقی کو جائز اور مستحسن گردانتا ہے۔مولانا ارشاد الحق اثری نے ان کی تردید میں ایک کتاب لکھی تھی جس پر اہل اشراق نے مزید اعتراضات جڑ دیے۔زیر نظر کتاب میں انہی دلائل کا مکمل اور مسکت جواب دیا گیا ہے۔حقیقت یہ ہے کہ موسیقی کو جائز ٹھہرا کر یہ حضرات نوجوان طبقے کو خصوصاً افراد امت کو عموماً مغربی تہذیب کے رنگ میں رنگنا چاہتے ہیں۔ان کے  گمراہ کن استدلال کا شافی جواب مولانا اثری نے زیر نظر کتاب میں دیا ہے جو  لائق مطالعہ ہے۔

  • pages-from-islam-dorahey-par-2
    محمد اسد

    زیر تبصرہ کتاب "اسلام دو راہے پر"ایک نو مسلم شخصیت علامہ محمد اسد کی انگریزی تصنیف کا اردو ترجمہ ہے،ترجمہ کرنے کی سعادت پروفیسر احسان الرحمن نے حاصل کی ہے۔مولف   کا آبائی وطن آسٹریا ہے اور ان کو بین البر اعظمی جریدوں کی نمائندگی کی غرض سے افریقہ اور ایشیا کے مختلف ممالک کا سفر کرنے کا موقعہ ملا،اس سفر کے دوران انہوں نے مغربی تہذیب اور اسلامی تہذیب کا گہرا مطالعہ کیا اور یہ محسوس کیا کہ مغرب کی مشینی زندگی کے مقابلے میں مشرق کی انسان دوست زندگی انتہائی پرسکون اور اطمینان بخش ہے۔ان کو اسلام کا انسان دوست رویہ بہت پسند آیا،اور اللہ کی توفیق سے مشرف باسلام ہو گئے۔لیکن مسلمانوں کا یہ طرز عمل دیکھ کر بہت پریشان ہوئے کہ آخر مسلمانوں نے اپنی عملی زندگی سے اسلام کو خارج کیوں کر دیا ہے؟انہوں نے یہ سوال متعدد لوگوں سے پوچھا لیکن انہیں کوئی تسلی بخش جواب نہ مل سکا۔اس کتاب میں انہوں نے اپنے مسلمان ہونے کے بارے میں لکھا ہے کہ وہ کیوں مسلمان ہوا ؟،اور اسلام کے وہ کون کون سے محاسن ہیں جن سے وہ متاثر ہو کر مشرف باسلام ہوا ۔یہ کتاب مسلمانوں کے لئے ایک لمحہ فکریہ ہے ،اور انہیں جہالت اور سستی وکاہلی سے نکالنے کا ایک بہترین ذریعہ ہے۔بارگاہ الہی میں دعا ہے کہ تمام مسلمانوں کو صحیح معنوں میں سچا مسلمان بنائے۔آمین(راسخ)

  • pages-from-islam-se-wabastgi-key-taqazey
    ڈاکٹر فتحی یکن

    عام مشاہدہ یہ ہے کہ بہت سارے افراد اپنے آپ کو صرف اس بناء پر مسلمان کہتے ہیں کہ ان کے پاسپورٹ یا شناختی کارڈ میں ان کا مذہب ،اسلام درج ہوتا ہےیا وہ اس لئے مسلمان کہلاتے ہیں کہ مسلمان ماں باپ کے گھر پیدا ہو گئے۔حقیقت یہ ہے کہ یہ لوگ مسلمان ہونے کا صحیح مطلب اور اس کے تقاضوں کو نہیں سمجھتے ہیں۔حالانکہ صحیح معنوں میں مسلمان ہونے کے لئے اسلام کے تقاضوں کو سمجھنا اور ان کو پورا کرنا ضروری ہے۔اسی طریقے سے ہی کسی فرد کا مسلمان بننا اور اسلام کے ساتھ منسوب ہونا درست اور صحیح ہو سکتا ہے اور وہ پکا اور سچا مسلمان ہو سکتا ہے۔ایمان کے انہی تقاضوں میں سے ایک تقاضا یہ بھی ہے کہ ہر مسلمان اسلام کے لئے کام کرے اور کام کرنے والی قوتوں اور جماعتوں سے وابستہ ہو۔زیر تبصرہ کتاب (اسلام سے وابستگی کے تقاضے) ڈاکٹر فتحی یکن﷫ کی عربی کتاب "ما ذا یعنی انتمائی للاسلام"کا اردو ترجمہ ہے ۔ترجمہ کرنے کی سعادت ڈاکٹر محمد علی غوری ﷫نے حاصل کی ہے۔مولف نے اس کتاب میں اسلام کے انہی تقاضوں کو بیان کیا ہے جنہیں پورا کرنے کے بعد ہی کوئی فرد صحیح معنوں میں مسلمان کہلانے کا حقدار بنتا ہے۔انہوں نے اس بات کو واضح کیا ہے کہ امت مسلمہ کا اپنا علیحدہ تشخص اور اپنی خاص پہچان ہے۔اس کی اپنی بنیاد ہے ،جس کا ماخذ اسلام ہے۔وہ اسلام جو دین فطرت ہے۔اور اسی تشخص کی بناء پر یہ امت پوری دنیا کی فکری اور سیاسی قیادت کر سکتی ہے۔اللہ تعالی مولف﷫ کی اس محنت کو اپنی بارگاہ میں قبول فرمائے۔آمین(راسخ)

  • title-page-islammainkhawateenkhuqooq-copy
    ڈاکٹر ذاکر نائیک
    دين اسلام ایک ایسا عالمگیر مذہب ہے جس میں خدا تعالی نے ہر نفس کے لیے الگ الگ حقوق وفرائض اور ذمہ دارایاں متعین کی  ہیں-غیر جانبدارانہ اور غیر جذباتی اندازمیں سوچا جائے توانسانی افکار یہی نتیجہ اخذ کرتے ہیں کہ دین اسلام نے عورت کے جو حقوق متعین کیے ہیں وہ نہ صرف اس کی فطرت کے عین مطابق ہیں بلکہ اسی میں ہی عورت کامکمل تحفظ ہے-زیر نظر کتاب میں ڈاکٹر ذاکر نائک نے اسی بحث کو موضوع سخن بناتے ہوئے اسلام میں متعین کردہ عورت کے معاشی، معاشرتی، قانونی،تعلیمی اور مذہبی حقوق ناقابل تردید دلائل کی روشنی میں بیان کیے ہیں-کتاب کے دوسرے حصے میں مصنف نے خواتین سے متعلق دریافت کیے جانے والے بہت سے سوالات کاموجودہ حالات کےتناظر میں تشفی بخش جواب دیاہے – جن میں کیا عورت سربراہ مملکت بن سکتی ہے؟کیا اسلام میں بچے کوگود لینے کی اجازت ہے؟کیا اسلام میں مخلوط تعلیم کی اجازت ہے ؟ اور کیا عورت ایئر ہوسٹس کی نوکری کرسکتی ہے ؟جیسے سوالا ت شامل ہیں -

  • title-pages-islam-main-aourat-k-haqooq-copy
    سید جلال الدین انصر عمری

    اسلام نے عورت کو وہ بلند مقام دیا ہے جو کسی بھی دوسرے مذہب نے نہیں دیا ہے۔دنیا کے مختلف مذاہب اورقوانین کی تعلیمات کا مقابلہ اگر اسلام کے اس نئے منفرد وممتازکردار(Role)سے  کیا جائے، جو اسلام نے عورت کے وقار واعتبار کی بحالی، ا نسانی سماج میں اسے مناسب مقام دلانے، ظالم قوانین، غیر منصفانہ رسم و رواج اور مردوں کی خود پرستی، خود غرضی اور تکبر سے اسے نجات دلانے کے سلسلہ میں انجام دیا ہے، تو معترضین کی آنکھیں کھل جائیں گی، اور ایک پڑھے لکھےاورحقیقت پسند انسان کو اعتراف و احترام میں سر جھکا دینا پڑیگا۔اسلام میں مسلمان عورت کا مقام بلند اور مؤثر کردار ہے،اور اسے بےشمار  حقوق سے نوازا گیا ہے۔اسلام نے عورتوں کی تمدنی حالت پر نہایت مفید اور گہرا اثر ڈالا۔ ذلت کے بجائے عزت ورفعت سےسرفراز کیا اور کم و بیش ہر میدان میں ترقی سے ہم کنار کیا چنانچہ قرآن کا ”وراثت وحقوق نسواں“ یورپ کے ”قانون وراثت“اور ”حقوق نسواں“ کے مقابلہ میں بہت زیادہ مفید اور فطرت نسواں کے زیادہ قریب ہے۔ عورتوں کے بارے میں اسلام کے احکام نہایت واضح ہیں، اس نے عورتوں کو ہر اس چیز سے بچانے کی کوشش کی ہے جو عورتوں کو تکلیف پہنچائے اور ان پر دھبہ لگائے۔ اسلام میں پردہ کا دائرہ اتنا تنگ نہیں ہے جتنا بعض لوگ سمجھتے ہیں، بلکہ وہ عین حیا اور غیرت ووقار کا تقاضہ ہے۔زیر تبصرہ کتاب " اسلام میں عورت کے حقوق "ہندوستان کے معروف عالم دین سید جلال الدین عمری کی کاوش ہے جس میں انہوں نے حقوق نسواں کے حوالے سے مغرب کے اسلام پر کئے گئے اعتراضات کی حقیقت  کو واضح کرتے ہوئے  مغرب کے دوہرے معیار کا بھانڈا پھوڑ دیا ہے۔اس میں انہوں نے آزادی نسواں کا مغربی تصور اور  اس کے نتائج پر زبر دست بحث کی ہے۔اللہ تعالی ان کی اس کاوش کو اپنی بارگاہ میں قبول فرمائے۔آمین(راسخ)

     نوٹ:

    محدث فورم میں اس کتاب پر تبصرہ کرنے کے لیے یہاں کلک کریں

  • title-page-islam-ki-sachai-or-sicnce-k-itrafat
    آئی اے ابراہیم
    دین اسلام کی صداقت کی ایک بہت مضبوط اور پختہ دلیل یہ ہےکہ بعض  سائنسی حقائق جو صدیوں کے تجربات کے نتیجے میں سامنے آئے ہیں ،قرآن مجید نے چودہ سو سال قبل ہی ان کا انکشاف کر دیا تھا۔ایسے انکشافات نے سینکڑوں ملحد اور بے دین سائنس دانوں اور غیر مسلم دانش وروں کو اسلام کی نعمت حاصل کرنے میں مدد دی ہے۔ہمیں یقین ہے کہ جیسے جیسے سائنس دان اور ماہرین علوم،قرآن شریف کی آیات بینات پر غور کریں گے،انہیں اس کائنات کے خالق اورمالک کی حکمتوں اور قدرتوں کا ادراک حاصل ہوتا چلا جائے گا۔زیر نظر کتاب ایک جداگانہ اور منفرد کتاب ہے جس میں قرآن مجید کی صداقت اور اس کے ناقابل اور مبنی برحقیقت بیانات ،اسلام کے بطور دین الہی ٰ اثبات اور محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی نبوت کی شہادت اور سچائی کے لیے سائنسی وعلمی حقائق کے تناظر میں نہایت اہم مطالعات پیش کیے گئے ہیں ۔اس کے مطالعہ سے ایمان وایقان کی دولت میں یقیناً اضافہ  محسوس ہوگا۔(ط۔ا)

  • title-pages-islami-bankari-ki-haqeeqat
    حافظ ذوالفقارعلی

    گزشتہ چند سالوں کے دوران اسلامی بینک کاری نے غیر معمولی ترقی کی ہے اس وقت دنیا کے تقریبا 75 ممالک میں اسلامی بینک کام کررہے ہیں ان میں بعض غیر مسلم ممالک بھی شامل ہیں۔ صرف پاکستان میں مختلف بینکوں کی تین سو سے زائد برانچوں میں اسلامی بینکاری کے نام پرکام ہور ہا ہے ۔ان میں بعض بینک تو مکمل طور پر اسلامی بینک کہلاتے ہیں ۔اور بعض بنیادی طور پر سودی ہیں ۔ایسی صورتِ حال میں رائج الوقت اسلامی بینکاری کا بے لاگ تجزیہ کرنےکی ضرورت ہےتاکہ معلوم ہوسکےک کہ یہ شرعی اصولوں سے ہم آہنگ ہیں یا نہیں؟زیر نطر کتابچہ''اسلامی بینکاری کی حقیقت؟'' حافظ ذوالفقار ﷾ (شیخ الحدیث ابوہریرہ اکیڈمی ،لاہور)کا تالیف شدہ ہے۔ جس میں انہوں نے موجودہ اسلامی بینکوں کےطریقہ کار اور ان میں رائج مالی معاملات کا شرعی اصولوں کی روشنی میں منصفانہ جائزہ لے کر دینی نقطہ نظر واضح کرنے کی کوشش کی ہے ۔موصوف حافظ صاحب کی اسلامی معیشت کے حوالے مزید دو کتابیں بھی طبع ہوچکی ہیں اور کتاب وسنت ویب سائٹ پر موجود ہیں ۔ اللہ تعالی موصوف کے علم وعمل اور زورِ قلم میں برکت فرمائے اور ان کی مساعی جمیلہ کوشرف قبولیت بخشے (آمین) (م۔ا)

     نوٹ:

    محدث فورم میں اس کتاب پر تبصرہ کرنے کے لیے یہاں کلک کریں

  • title-pages-islami-tehreek-drpaish-chalange-copy
    پروفیسر خورشید احمد

    دنیا بھر کے ایک ارب سے زائد مسلمانوں کے لئے نیو ورلڈ آرڈر جنم لینے سے پہلے ہی ختم ہو چکا ہے۔بیسویں صدی نے بہت سے رہنماؤں کو ایک نئے عالمی نظام کے بارے میں باتیں کرتے ہوئے دیکھا۔پہلی جنگ عظیم کے بعد امریکی صدر وڈروولسن نے مستقبل کے عالمی نطام کے موضوع پر مباحثے مین جان ڈالنے کی کوشش کی۔انہوں نے ایک ایسی دنیا کا خواب دیکھا  جس میں کچھ اصولوں اور تسلیم شدہ آفاقی قدروں کی حکمرانی کا تصور تھا۔یہ خواب مجلس  اقوام کی ناقص ساخت اور اس کے فوری خاتمے کے ساتھ بکھر گیا۔دنیا نہ ایک نئی جنگ سے بچ سکی اور نہ جمہوریت ہی محفوظ رہی بلکہ دنیا دائیں اور بائیں بازو کی کلیت پسندی کے نرغے میں آگئی۔دوسری جنگ عظیم کے بعد ایک بار پھر نئی امیدیں پروان چڑھنے لگیں۔اقوام متحدہ کی بنیادرکھی گئی اور ایک نئے عہد کے بارے میں باتیں ہونے لگیں۔مگر بہت جلد ہی یہ امیدیں بھی خاک میں مل گئیں اور نسل انسانی تباہ کن سرد جنگ کے دور میں داخل ہو گئی۔مغرب کو اسلام سے کوئی خطرہ نہیں ہے لیکن مغرب اسلام کو سب سے بڑے خطرے کے طور پر پیش کرتا ہے۔ زیر تبصرہ کتاب" اسلامی تحریک درپیش چیلنج"محترم پروفیسر خورشید احمد صاحب کی تصنیف ہے جس میں انہوں نے اسی منظر نامے کو پیش کیا ہے۔ اللہ تعالی سے دعا ہے کہ وہ  مولف موصوف کی اس محنت کو اپنی بارگاہ میں قبول فرمائے اور ان کے میزان حسنات میں اضافہ فرمائے۔آمین(راسخ)

  • title-pages-islami-riasat-main-adal-nafiz-krne-wale-idare-copy
    سید عبد الرحمن بخاری

    ایک زندہ انسانی وجود کو جتنی ضرورت آکسیجن کی ہوتی ہے تقریبا اتنی ہی ضرورت نفاذ اسلام میں قیام عدل کی ہے۔کیونکہ قیام عدل کے بغیر اسلامی نظام کا کوئی بھی جز اپنی صحیح صورت میں نشو و نما نہیں پا سکتا ہے۔اسی لئے قرآن مجید اور سنت رسول اللہ ﷺ میں عدل کو قائم کرنے پر بہت زیادہ زور دیا گیا ہے۔پاکستان میں عدل قائم کرنے کے راستے میں بے شمار دشواریاں اور رکاوٹیں ہیں۔ان رکاوٹوں میں سے  سب سے بڑی رکاوٹ یہ ہے کہ ہمارے ملک میں ابھی تک وہ ادارے صحیح معنوں میں قائم نہیں ہو سکے ہیں جن کے توسط سے اسلام کا حقیقی نظام عدل قائم کیا جا سکے۔یہ کام قدرے صبر آزما اور دیر طلب بھی ہے ،اگر کوئی چاہتا ہے کہ چند مہینوں میں یہ کام ہو جائے تو اس کی یہ خواہش درست نہیں ہے۔تاہم اس کا یہ مطلب بھی نہیں کہ اس کا  م کو کٹھن سمجھ کر ہمت ہی ہار دی جائےاور کسی قسم کی پیش رفت ہی نہ کی جائے۔کام کرنا ہوگا اور محنت کرنا ہوگی ان شاء اللہ جلد یا بدیر کامیابی حاسل ہوگی۔ زیر تبصرہ کتاب " اسلامی ریاست میں عدل نافذ کرنے والے ادارے" محترم جناب سید عبد الرحمن بخاری صاحب کی تصنیف ہے ،جس میں انہوں نے ان خطوط کی نشاندہی کی ہے جن کی بنیاد پر نفاذ عدل کے اداروں کی تشکیل یا اصلاح کی جا سکتی ہے۔فاضل مقالہ نگار کا یہ مقالہ پہلےدیال سنگھ لائبریری سے شائع ہونے والے  سہ ماہی مجلے منہاج  کے اسلامی نظام  عدل نمبر شمارہ جنوری 1974ء میں شائع ہوا اور اہل علم نے اسے بہت پسند فرمایا۔لہذا مقالے کی افادیت کے پیش نظر اسے کتابچے کی شکل میں شائع کر دیا گیا جو اس وقت آپ کے سامنے ہے۔ اللہ تعالی سے دعا ہے کہ وہ مولف کی اس کاوشوں کو اپنی بارگاہ میں قبول فرمائے اور ان کے میزان حسنات میں اضافہ فرمائے۔آمین(راسخ)

  • title
    عبد الوکیل ناصر

    جناب امین احسن اصلاحی صاحب اور ان کے تلمیذ رشید غامدی صاحب نے انکار حدیث کا اپنے انداز سے علمی اور عقلی اسلوب اپنایا ہے۔ جو "روشن خیال" مسلمانوں میں مغربیت پسندانہ ذہن سے موافقت رکھنے کی وجہ سے خوب پذیرائی حاصل کر رہا ہے۔ ان حضرات نے امت مسلمہ کے کئی اجماعی مسائل سے روگردانی کی ہے جس کی قلعی کئی اہل علم حضرات نے کھولی ہے۔ زیر تبصرہ کتاب بھی اسی سلسلے کی کڑی ہے جس میں حدیث و سنت کے درمیان فرق کے دعوٰی کی حقیقت کو علمی اصول و مصادر سے واضح کیا ہے۔ خالص علمی و اصولی ابحاث پر  مشتمل منکرین حدیث کی موشگافیوں کو آشکارہ کرتی شاندار تصنیف ہے۔

     

  • title-pages-al-ietsam-hujiate-hadees-no
    مختلف اہل علم
    ہر زمانہ میں اہل علم نے کتاب وسنت کی ترویج اور نشر واشاعت کے ساتھ ساتھ ان کے دفاع کا بھی کام کیا ہے۔ بد قسمتی سے مسلمانوں میں بھی ایک طبقہ ایسا پیدا ہو گیا ہے جو اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی احادیث اور سنن مبارکہ کی حجیت کا قائل نہیں ہے یا اگر قائل ہے تو اس کے استخفاف کے فتنہ میں مبتلا ہے۔ ۱۹۵۶ء میں مولانا محمد اسحاق بھٹی صاحب کی ادارت میں ہفت روزہ ’الاعتصام‘کا حجیت حدیث پر ایک خاص نمبر شائع ہوا جس میں برصغیر پاک وہند کے منکرین حدیث کے اعتراضات کا مدلل علمی انداز میں جواب دیا گیا ہے۔ہفت روزہ ’الاعتصام‘ جماعت اہل حدیث کا ایک قدیم اور مستند علمی ترجمان شمار ہوتا ہے۔ اس رسالہ کا اجرا ۱۹۴۹ء میں مولاناعطاء اللہ حنیف کی سرپرستی میں ہوا۔ اس رسالہ نے ’حجیت حدیث‘ کے علاوہ ’تحریک آزادی‘ اور ’اسلامی آئین‘ اور ’حافظ محمد گوندلوی‘ اور ’مولانا محمد حنیف‘ اور ’مولانا عطاء اللہ حنیف‘ وغیرہ پر بھی خاص نمبرز شائع کیے ہیں۔’الاعتصام‘ کے حجیت حدیث نمبر میں مختلف مسالک کے نمائندہ علماء کے مقالہ جات شائع کیے گئے ہیں۔ اس رسالہ کی اہمیت کے پیش نظر اسے ۲۰۱۰ء میں دوبارہ شائع کیا گیاہے۔ اس رسالہ میں مولانا داؤد غزنوی، مولانا اسحاق بھٹی، مولانا محی الدین قصوری، مولانا محمد اسماعیل سلفی، مولانامحمد حنیف ندوی، علامہ محمد اسد، پروفیسر یوسف سلیم چشتی، ڈاکٹر حمید اللہ ، مولانا عطاء اللہ حنیف، مولانا محمد ادریس کاندھلوی، مولانا ہدایت اللہ ندوی، قاضی عبد الرحیم، پروفیسر عبد القیوم، مولانا رئیس احمد جعفری اور مولانا ہدایت اللہ سوہدروی وغیرہ کی تحریریں شامل ہیں۔ ان جلیل القدر علماء کے ناموں ہی سے اس رسالہ کی اہمیت اور علمی مقام کا ایک ہلکا سا اندازہ ہو سکتا ہے۔ افادہ عام کے لیے اس رسالہ کو پی۔ ڈی۔ ایف فارمیٹ میں اپ لوڈ کیا جا رہا ہے تا کہ منکرین حدیث کے جواب میں ایک مصدر کا کام دے۔

  • title-pages-al-quraniyoon
    خادم حسین الہٰی بخش
    ’القرآنیون‘ عربی زبان میں محترم جناب خادم حسین صاحب کی ایک بہترین کاوش ہے۔ موصوف جامعہ ام القریٰ طائف میں بطور استاذ خدمات سرانجام دے رہےہیں۔ پاکستان کے ضلع مظفر گڑھ سے تعلق رکھتے ہیں۔ یہ کتاب دراصل ان کا ایم۔ اے کا مقالہ ہے۔ کتاب کی ابتدا میں انھوں نے برصغیر پاک و ہند میں فرقہ اہل قرآن کےبانیوں کا تعارف کرایا ہے اور ساتھ ساتھ ان کے اساسی نظریات کو بیان کیا ہے، جیسے عبداللہ چکڑالوی، خواجہ احمد دین، سرسید احمد خان اور اسلم جیراجپوری اور اس کے ساتھ ساتھ ان لوگوں کا بھی تعارف کرایا ہے جو انکار حدیث کے نظریات کے قائل تھے یا کم ازکم متاثر ضرور تھے۔ اور آخر میں غلام احمد پرویز کا بطور خاص ذکر کیا گیا ہے۔ شیعہ، خوارج اور معتزلہ جوکہ قدیم منکرین حدیث میں شامل ہیں ان کا سنت کے متعلق نظریہ اور موقف کو بھی کتاب کا حصہ بنایا ہے۔ ماضی قریب سے لے کر موجودہ دور کے حکمرانوں کا کردار و نظریات بیان کیے ہیں جو جزوی طور پر یا کلی طور پر انکار حدیث کے افکار سے متاثر تھے۔ دوسرے باب میں منکرین حدیث کے استدلالات کے تارو پود بکھیر دئیے ہیں۔ اور ان کے دلائل کی کمزوریوں کو آشکارا کیا ہے۔ جزوی مسائل کے علاوہ کلی اصولوں پر بھی بحث کی گئی ہے۔ تیسرے باب میں اعتقادی مسائل کو ہدف بنایا گیا ہے اور منکرین حدیث کےموقف کا شافی رد کیا گیاہے۔ آخری باب میں منکرین حدیث کے نماز، زکوۃ، روزہ اور حدود شرعیہ سے متعلق نظریات کا جائزہ لیا گیا ہے اور ان کا شافی جواب دیا ہے۔ آخر میں وصیت وراثت کے مسائل کو بھی بالتفصیل بیان کیا گیا ہے۔ عربی زبان سے شد بد رکھنے والے صاحبان علم کے لیے اس کا مطالعہ نہایت مفید رہے گا۔(ع۔م)

ای میل سبسکرپشن

محدث لائبریری کی اپ ڈیٹس بذریعہ ای میل وصول کرنے کے لئے ای میل درج کر کے سبسکرائب کے بٹن پر کلک کیجئے۔

 

ایڈوانس سرچ

موضوعاتی فہرست

رجسٹرڈ اراکین

آن لائن مہمان

محدث لائبریری پر اس وقت الحمدللہ 1941 مہمان آن لائن ہیں ، لیکن کوئی رکن آن لائن نہیں ہے۔

ایڈریس

       99-جے ماڈل ٹاؤن،
     نزد کلمہ چوک،
     لاہور، 54700 پاکستان

       0092-42-35866396، 35866476، 35839404

       0092-423-5836016، 5837311

      KitaboSunnat@gmail.com

      بنک تفصیلات کے لیے یہاں کلک کریں