• title-pages-mafroor-larkiyon-ka-nikah-aur-hmari-adaltain
    حافظ صلاح الدین یوسف

    ولایت ِنکاح کا مسئلہ یعنی جوان لڑکی کے نکاح کے لیے ولی کی اجازت او ررضامندی ضروری ہے قرآن وحدیث کی نصوص سے واضح ہے کہ کسی نوجوان لڑکی کو یہ اجازت حاصل نہیں ہے کہ وہ والدین کی اجازت اور رضامندی کے بغیر گھر سے راہ ِفرار اختیار کرکے کسی عدالت میں یا کسی اور جگہ جاکر از خود کسی سے نکاح رچالے ۔ایسا نکاح باطل ہوگا نکاح کی صحت کے لیے ولی کی اجازت ،رضامندی اور موجودگی ضروری ہے ۔ لیکن موجودہ دور میں مسلمانوں کے اسلام سے عملی انحراف نے جہاں شریعت کے بہت سے مسائل کوغیر اہم بنادیا ہے ،اس مسئلے سے بھی اغماض واعراض اختیار کیا جاتاہے علاوہ ازیں ایک فقہی مکتب فکر کے غیر واضح موقف کو بھی اپنی بے راہ روی کے جواز کےلیے بنیاد بنایا جاتاہے ۔زیر نظر کتابچہ ''مفرورلڑکیوں کا نکا ح او رہمار ی عدالتیں''(از معروف عالم دین ، مفسر قرآن،محقق شہیر ،مصنف کتب کثیرہ حافظ صلاح الدین یوسف ﷾) گھر سے فرار ہوکر نوجوان لڑکیوں کے عدالتی نکاح اور مسئلہ ولایت نکاح کے حوالے سے ایک اہم کتاب ہے جس میں حافظ صاحب نے قرآن وحدیث کی روشنی میں اس مسئلے کی صحیح نوعیت وحقیقت کوواضح کرتے ہوئے اس کاتحقیقی جائزہ پیش کیا ہے اللہ تعالی سے دعا ہے کہ اللہ تعالی حافظ صاحب کو صحت وتندرستی والی زندگی عطا فرمائے اور اشاعتِ اسلام کے لیے ان کی دعوتی ،تحقیقی و تصنیفی کی خدمات کو شرف قبولیت بخشے او ر اس کتاب کو عوام الناس کی اصلاح کاذریعہ بنائے (آمین) (م۔ ا)

     

    نوٹ:

    محدث فورم میں اس کتاب پر تبصرہ کرنے کے لیے یہاں کلک کریں

  • title-pages-mumtaz-qadri-case-me-suprem-court-of-pakistan-k-faisle-ka-sharie-jaiza-copy
    محمد خلیل الرحمن قادری

    نبی  کریمﷺکی عزت، عفت، عظمت اور حرمت اہل ایمان کاجزوِلاینفک ہے اور حب ِرسولﷺایمانیات میں سے ہے اور آپ کی شانِ مبارک پر حملہ اسلام پر حملہ ہے۔عصر حاضر میں کفار ومشرکین کی جانب سے نبوت ورسالت پر جو رکیک اور ناروا حملے کئےجارہے ہیں، دراصل یہ ان کی شکست خوردگی اور تباہی و بربادی کے ایام ہیں۔گستاخ رسول کی سزا ئے موت ایک ایسا بین  امر ہے کہ جس کے ثبوت کے لئے قرآن و حدیث میں بے شمار دلائل موجود ہیں۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی عظمت و توقیر مسلمان کے ایمان کا بنیادی جزو ہے اور علمائے اسلام دور صحابہ سے لے کر آج تک اس بات پر متفق رہے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی شان اقدس میں گستاخی کرنیوالا آخرت میں سخت عذاب کا سامنا کرنے کے علاوہ اس دنیا میں بھی گردن زدنی ہے۔ خود نبی رحمت صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے اور اسلام کے بے شمار دشمنوں کو (خصوصا فتح مکہ کے موقع پر)معاف فرمادینے کیساتھ ساتھ ان چند بدبختوں کے بارے میں جو نظم و نثر میں آپ ﷺ کی ہجو اور گستاخی کیا کرتے تھے، فرمایا تھا کہ:اگر وہ کعبہ کے پردوں سے چمٹے ہوئے بھی ملیں تو انہیں واصل جہنم کیا جائے۔اور گستاخ رسول کو قتل کرنے والے کو شرعا کوئی سزا نہیں دی جائے گی۔لیکن افسوس کہ اسلام کے نام پر حاصل کئے جانے والے ملک پاکستان  کی عدالتیں توہین رسالت کے معاملے پر کوتاہی اور غیر شرعی فیصلے صادر کر رہی ہیں۔ زیر تبصرہ کتاب"ممتاز قادری کیس میں سپریم کورٹ آف پاکستان کے فیصلے کا شرعی جائزہ"محترم علامہ محمد خلیل الرحمن قادری  صاحب  ناظم اعلی جامعہ اسلامیہ لاہورکی تصنیف ہے جس میں انہوں نے ممتاز قادری کیس کے حوالے سے پاکستان کی سپریم کورٹ سے صادر ہونے والے فیصلے  کا شرعی جائزہ پیش کیا ہےاور ممتاز قادری کا بھرپور دفاع کیا ہے۔اللہ تعالی سے دعا ہے کہ وہ مولف کی اس محنت کو اپنی بارگاہ میں قبول فرمائے اور ان کے میزان حسنات میں اضافہ فرمائے آمین(راسخ)

  • pages-from-moj-e-kausar
    شیخ محمد اکرم

    شیخ محمد اکرام (1908۔1971ء)چک جھمرہ (ضلع لائل پور ) میں پیدا ہوئے۔ گورنمٹ کالج لاہور اور آکسفورڈ میں تعلیم پائی ۔ 1933ء میں انڈین سول سروس میں شامل ہوئے اور سوات ، شولا پور، بڑوچ اور پونا میں اعلٰی انتظامی عہدوں پر فائز رہے۔ آپ پونا کے پہلے ہندوستانی کلکٹر اور دسٹرکٹ مجسٹریٹ تھے۔ قیام پاکستان کے بعد اطلاعات اور نشریات کے ڈپٹی سیکرٹری مقرر ہوئے۔ پھر وزارت اطلاعات و نشریات کے جائنٹ سیکرٹری اور بعد میں کچھ مدت کے لیے سیکرٹری کے عہدے پر فائز ہوئے۔ 1955ء سے 1957ء تک مشرقی پاکستان میں متعین رہے ، پہلے کمشنر ڈھاکہ اور پھر ممبر بورڈ آف ریونیو کی حیثیت سے ۔1958ء تک محکمہ اوقاف کے ناظم اعلیٰ پاکستان مقرر ہوئے۔دفتری کاموں کے ساتھ ساتھ ادبی سرگرمیاں بھی جاری رہیں۔ ہندی مسلمانوں کی ثقافتی اور مذہبی تاریخ لکھی جو تین جلدوں میں شائع ہوئی۔ آب کوثر ، رود کوثر ، موج کوثر ، غالب اور شبلی کے سوانح بھی مرتب کیے۔ برصغیر پاک و ہند کی فارسی شاعری کا ایک مجموعہ ارمغان پاک مرتب کیا۔ جو1950 ء میں شائع ہوا۔  علمی خدمات کی بنا پر حکومت ایران نے آپ کو نشان سپاس اور حکومت پاکستان نے ستارہ امتیاز کے اعزازات عطا کیے۔ پنجاب یونیورسٹی کی طرف سے ڈاکٹر آف لٹریچر کی اعزازی ڈگری ملی۔ زیر تبصرہ کتاب’’ موج کوثر‘‘شیخ محمد اکرام  کی تصنیف ہے ۔اور یہ سلسلۂ کوثر کی تیسری او رآخری کڑی ہے  جوسن 1800ء سے  لے کر قیام پاکستان تک کی اہم مذہبی ،فکری  اور قومی تحریکوں اور ان کے زعماء وقائدین کے حالات کو کوائف پر مشتمل ہے۔ اس کتاب کے مطالعے سے مسلمانانِ برصغیر پاک وہند کی گزشتہ ڈیڑھ سوسال کی علمی تہذیبی ،ثقافتی اور اسلامی وملی تاریخ  نکھر کر سامنے آجاتی ہے اور اس دور کی تحریکوں اور نمایاں شخصیتوں کےبارے میں ضروری معلومات حاصل ہوجاتی ہیں۔بعض احباب کی فرمائش پر یہ کتاب  پبلش کی گئی ہے ۔(م۔ا)

  • title-pages-nizame-mustafa--saww--copy
    عبد الرشید حنیف

    اسلام اللہ کا قانون ہے اور یہی اس کی صداقت اور عدالت کی مستند دلیل ہے۔اللہ تعالی نے اسلام کی تبلیغ اور اشاعت کے لئے انسانیت کی پاک باز اور معصوم شخصیات کا انتخاب کیا اور ان سے اسلام کے نفاذ کا عہد لیا۔چنانچہ ہر صاحب منصب نے اپنے اپنے عہد میں نظام اسلام کی تبلیغ اور اشاعت کے ساتھ ساتھ اسے نافذ بھی کیا۔ اسلام جہاں انفرادی زندگی میں فردکی اصلاح پر زوردیتاہے وہیں اجتماعی زندگی کے زرین اصول وضع کرتاہے،اسلامی نظامِ حیات میں جہاں عبادت کی اہمیت ہے وہیں معاملات ومعاشرت اور اخلاقیات کو بھی اولین درجہ حاصل ہے،اسلام کاجس طرح اپنانظامِ معیشت ہے اوراپنے اقتصادی اصول ہیں اسی طرح اسلام کا اپنانظامِ سیاست وحکومت ہے،اسلام کا نظامِ سیاست وحکم رانی موجودہ جمہوری نظام سے مختلف اوراس کے نقائص ومفاسد سے بالکلیہ پاک ہے،لیکن اسلام میں سیاست شجرِ ممنوعہ نہیں ہے،یہ ایسا کامل ضابطہٴ حیات ہے جو نہ صرف انسان کو معیشت ومعاشرت کے اصول وآداب سے آگاہ کرتا ہے، بلکہ زمین کے کسی حصہ میں اگراس کے پیرو کاروں کواقتدار حاصل ہو جائے تووہ انہیں شفاف حکم رانی کے گربھی سکھاتاہے، عیسائیت کی طرح اسلام”کلیسا“ اور” ریاست“ کی تفریق کاکوئی تصورپیش نہیں کرتا۔ زیر تبصرہ کتاب" درماندہ وسرگرداں انسانیت کے دکھوں کا مداوا ،نظام مصطفی ﷺ "محترم جناب عبد الرشید حنیف صاحب کی تصنیف ہے۔مولف نے اپنی اس کتاب میں اسلامی نظام کی اہمیت وضرورت پر روشنی ڈالی ہے۔ اللہ تعالی سے دعا ہے کہ وہ مولف کی اس کاوش کو قبول فرمائے اوران کے میزان حسنات میں اضافہ فرمائے۔آمین(راسخ)

  • title-pages-nizame-jasosi-aik-jaiza-aur-uska-sharie-hukam
    مفتی ضیاالرحمن فاروقی

    اسلام ایک مکمل ضابطہ حیات ہونے کی وجہ سے زندگی کے ہر شعبہ میں اصول فراہم کرتا ہے ، جاسوسی کے موضوع پر بھی اسلام نے راہنمائی فرمائی ہے۔ عام طور پر ہر چیز کے جواز عدمِ جواز کے حوالے سے دو جہت ،دو پہلو ہوتے ہیں چنانچہ جاسوسی کے بھی دو پہلو ہیں ایک جائز او ردوسرا ناجائز۔جائز پہلو یہ ہے کہ اسلامی ملک کونقصان دینے اور اس کو کمزور کرنے والے شرپسند عناصر کا کھوج لگانا اور ان کے منصوبوں کوناکارہ کرنا او ران کے غلط عزائم سے حکام کو اطلاع دینا یہ جائز ہے اور ناجائز پہلو یہ کہ مسلمانوں کی نجی زندگی میں کھوج لگانا اور ان کے بھید معلوم کرنا اس پہلو کوشریعت مطہرہ نے گناہ کبیرہ میں شمار کیا ہے ۔زیر نظر ''کتاب نظام جاسوسی ایک جائزہ اور اس کا شرعی حکم '' جاسوسی کے موضوع پر ایک اچھی کاوش ہے فاضل مصنف نے اس میں سب سے پہلے جاسوس کی لغوی واصطلاحی تحقیق اور جاسوسی کی تاریخ ،جاسوسی اصطلاحات اور پھر دورِ حاضر کی بین الاقوامی انٹیلی جنس ایجنسیوں کامختصراً تذکرہ کرنے کے بعد آخر میں جاسوسی کےحوالے سے شرعی نقطہ نظر کی وضاحت کی ہے اللہ تعالی مؤلف کی اس کاوش کو شرف قبولیت سے نوازے اور اس کتاب کو عوام الناس کے لیے نفع بخش بنائے (م۔ا)

     

    نوٹ:

    محدث فورم میں اس کتاب پر تبصرہ کرنے کے لیے یہاں کلک کریں

  • title-pages-nafaz-e-shariyat-aur-pakistan-copy
    قاضی عبد الکریم

    پاکستان اسلام کے نام پر حاصل کیا گیا ،لیکن افسوس کہ آج تک کسی بھی حکومت نے پاکستان میں اسلام نافذ کرنے کی سنجیدہ کوشش نہیں کی۔نظریہ پاکستان کے بارے میں واضح رہنا چاہئے کہ قرار داد مقاصد 1949ء اور 1973ء کے متفقہ آئین میں واضح طورپر یہ قرار دیا جاچکا ہے کہ پاکستان ایک اسلامی ریاست ہے اور یہاں کتاب وسنّت کو فروغ دیا جائے گا۔ اس دستور کو عوام پاکستان کے منتخب نمائندے منظور کرچکے ہیں، عدالتیں اس کی بناپر فیصلہ کرتی ہیں اور یہ جمہوری اساسات پر ایک مسلمہ بن چکا ہے کہ پاکستان میں اسلام نظام کو قائم کیا جائے گا۔ایک اسلامی ریاست کا قیام ہندوستان کے مسلمانوں کا صدیوں پرانا خواب تھا۔جس کے شواہد مغلیہ خاندان کے زوال کے بعد ہماری پوری تاریخ میں پھیلے ہوئے ہیں۔اسی نفسیات اورمسلمانوں کے دیرینہ خواب کو سمجھتے ہوئے قائداعظم نے علی گڑھ یونیورسٹی کے طلبہ سے خطاب کرتے ہوئے کہا تھا کہ پاکستان تو اسی روزمعرضِ وجود میں آگیا جس روز ہندوستان کی سرزمین پرپہلے مسلمان نے قدم رکھا۔ پھر کہا کہ اس میں میرا کوئی کمال نہیں، میں نے فقط یہ کیاکہ جو بات آپ کے دلوں اور ذہنوں میں تھی، اسے طشت ازبام کردیا یعنی ببانگِ دہل کہہ دیا۔اگرپاکستان کا تصور نظریاتی نہیں تھا تو پھر وہ اسی دن کیوں معرضِ وجود میں آگیا جس دن ہندوستان میں پہلا شخص مسلمان ہوا تھا؟ زیر تبصرہ کتاب" نفاذ شریعت اور پاکستان"قائد تحریک نفاذ شریعت مولانا قاضی عبد الکریم کی کاوش ہے۔جس میں انہوں نے پاکستان میں نفاذ اسلام کے حوالے سے قانونی تجاویز دی ہیں، اور یہ واضح کیا ہے کہ ملک میں نفاذ شریعت کا عمل موجودہ دور میں بھی نہائت آسان ہے۔اللہ تعالی سے دعا ہے کہ وہ پاکستان میں نفاذ اسلام کی راہیں ہموار کرے اور ہمیں خلافت جیسی عظیم نعمت سے سرفراز فرمائے۔آمین(راسخ)

  • title-pages-nafaz-e-shariyat-me-tadreej-copy
    حافظ محمد سعد اللہ

    کسی بھی نظام کو نافذ کرنے کے دو ہی طریقے ہیں۔انقلابی یا ارتقائی۔اگر کسی نظام کو انقلابی طریقوں سے نافذ کیا جائے تو اس میں کوئی شک نہیں کہ اس کے اثرات کا ظہور فورا قبول کر لیا جاتا ہے اور بظاہر ایسا معلوم ہوتا ہے کہ معاشرے نے اس نظام کو پوری طرح قبول کر لیا ہے۔حالانکہ حقیقت میں ایسا نہیں ہوتا ہے ، کیونکہ ہر وہ نظام جو معاشرے پر زبر دستی ٹھونسا جائے ، اس کے مخالفانہ جذبات وقتی طور پر دبے رہتے ہیں  اور جوں ہی کوئی موقع ملتا ہے وہ پہلے سے زیادہ شدت کے ساتھ نمودار ہو جاتے ہیں۔اس کے برعکس ارتقائی طریقہ ذرا سست رفتار ہوتا ہے ، اس کے اثرات کا ظہور فوری طور پر نہیں ہوتا ہے۔لیکن اس طریقے میں نظام کی اقدار معاشرے کے باطن میں رس رس کر پیوست ہو جاتی ہیں، اور انسانی ضمیر کی تہہ میں بیٹھ جاتی ہیں پھر انہیں نکالنا کسی طرح بھی ممکن نہیں رہتا ہے۔نظام اسلام کا طریقہ ابتدائے اسلام میں ارتقائی ہی رہا اور یہ بہت مفید اور موثر ثابت ہوا۔یہی وجہ ہے کہ نبی کریم ﷺ یہ شدید خواہش رکھتے تھے کہ تمام لوگ اسلام قبول کر لیں ، لیکن آپ ﷺ نے کسی پر جبر نہیں کیا اورقرآن مجید نے تو صریح الفاظ کے ساتھ یہ اعلان کر دیا کہ"دین کو قبول کرنے کے سلسلے میں کوئی جبر نہیں ہے۔ "زیر تبصرہ کتاب " نفاذ شریعت میں تدریج "محترم حافظ سعد اللہ صاحب  ریسرچ اسسٹنٹ  مرکز تحقیق دیال سنگھ لائبریری ٹرسٹ  کی کاوش ہے ، جس میں انہوں نےنفاذ  اسلام کے حوالے سے اسلام کےاسی تدریجی طرز عمل پر اپنی تحقیق پیش کی ہے۔ اللہ تعالی سے دعا ہے کہ وہ پاکستان میں نفاذ اسلام کی راہیں ہموار کرے اور ہمیں خلافت جیسی عظیم نعمت سے سرفراز فرمائے۔آمین(راسخ)

  • title-pages-nifaz-e-shariyat-kiyon-aur-kaise-copy
    حافظ صلاح الدین یوسف

    ارشاد ربانی  کےمطابق دین اسلام ایک ایسا دین  ہے کہ جو شخص بھی اسلام کے علاوہ  کوئی اور دین تلاش کرتا ہے  تو اس سے ہر گزقبول نہیں کیا جائے گا۔ او روہ آخرت میں خسارہ پانے والوں میں سے ہوگا۔اور نبی کریم ﷺ کا  فرمان ہے ’’ قسم اس ذات کی جس کے ہاتھ  میں میری جان ہے اس امت میں جو شخص بھی میری بابت سن لے  کہ وہ یہودی ہویا عیسائی پھر وہ مجھ پر ایمان نہ لائے تو وہ جہنم میں جائے گا۔‘‘ اس اعتبار سے امت مسلمہ کی بھی یہ ذمہ داری ہے کہ وہ اسلا م کا پیغام ہر جگہ پہنچائیں اور کراہتی سسکتی انسانیت اکو امن وسکون اور نجات سے ہمکنار کریں جیسے پیغمبر اسلام  سید نا حضرت محمد ﷺً اوران کے اولین پیروکاروں نے دنیا سے ظلم وستم کا خاتمہ کر کے عدل وانصاف کا نظام قائم کیا، کفر وشرک کی تاریکیوں کو مٹاکر توحید وسنت کی شمعیں روشن کیں اور اخلاقی زوال کی اتھاہ گہرائیوں سے نکال کر انسانیت کوسیرت وکردار کی بلندیوں سے آشنا کیا ۔ ٖآج انسانیت پھر سے ظلم وستم کا  شکار ہے وہ دوبارہ کفر وشرک کی تاریکیوں میں گھری ہوئی اور اخلاقی پستی میں پھنسی  ہوئی ہے ۔ پاکستان اسلام کے نام پر حاصل کیا گیا ،لیکن افسوس کہ آج تک کسی بھی حکومت نے پاکستان میں اسلام نافذ کرنے کی سنجیدہ کوشش نہیں کی۔جبکہ  قیام پاکستان  کاسب سےبڑا مقصد یہی تھا کہ ہندوستان کے مسلمان ایک  طرف تو ہندی تہذیب اور ہندی صنم پرستی سے بچ کر اپنی اسلامی تہذیب کو اپنائیں گے اورایک اللہ کی عبادت کریں گے  وہاں دوسری طرف پاکستان میں مکمل طور پر شریعت کو نافذ کر کے اور ہر شعبۂ زندگی میں اسلامی  تعلیمات کی ترویج کر کےپاکستان کو اسلام کی تجربہ گاہ اوراس کے حسن وجمال کی جلوہ گاہ بنائیں گے۔ تاکہ دنیا کے سامنے صحیح فکر وعمل ا ور امن وسکون سے آشنا زندگی  کا  ایک بہترین نمونہ آسکےجسے دنیائے انسانیت اپنانے ا ور اختیار کرنے کی لیے لپکے اور اس کی طرف پلٹے۔ تحریک پاکستان کےلیڈروں نے  بھی قوم سے یہی  وعدہ کیاتھا اور بابار اسی کااعادہ کیاتھا ،بانی پاکستان نےبھی یہ کہاتھا جسے وہ قیام پاکستان کے بعد  بھی دہراتے رہے۔ اللہ تعالیٰ اوراس کی مخلوق سے کئے ہوئے اس عہد کا تقاضا  ہےکہ پاکستان میں اسلام کی علم برداری  قائم ہو اور اسلامی شریعت کاسکہ یہاں چلےجس  طرح پاکستان  کاقیام اس وعدے کا مرہون منت ہے اس کااستحکام  وبقاء بھی اس عہد کی تکمیل اور اس وعدے کے ایفاء میں مضمر ہے لیکن وطن عزیز پاکستان   کو ’’لاالہ...‘‘ کی  بنیاد پر قائم  ہوئے نصف صدی سےزائد عرصہ بیت چکا ہے  جس میں اسلام کو نافذ کرنے  کے وعدہ کوپوراکرنے کی سنجیدہ  کوشش ابھی تک نہیں کی گئی۔ زیرتبصرہ کتاب’’نفاذ شریعت کیوں اور کیسے‘‘ میں مفسر قرآن حافظ صلاح الدین ﷾  نے حکمرانوں کو ایسی بات کی طرف توجہ دلائی ہے  اور یہ بتایا  ہے کہ  پاکستان میں  کانفاذ کیوں ضروری ہے اور دوسرے جز میں شریعت کو نافذ کرنےکے طریقہ کار کو  بیان کیا ہے ۔ اللہ تعالیٰ ہمیں ایسا حکمران عطا فرمائے  جو  قیام پاکستان کے  مقصد کو پورا کرے ۔(آمین) (م۔ا)

  • title-pages-nafaz-e-shariyat-copy
    ملی مجلس شرعی اقبال ٹاؤن لاہور

    پاکستان اسلام کے نام پر حاصل کیا گیا ،لیکن افسوس کہ آج تک کسی بھی حکومت نے پاکستان میں اسلام نافذ کرنے کی سنجیدہ کوشش نہیں کی۔نظریہ پاکستان کے بارے میں واضح رہنا چاہئے کہ قرار داد مقاصد 1949ء اور 1973ء کے متفقہ آئین میں واضح طورپر یہ قرار دیا جاچکا ہے کہ پاکستان ایک اسلامی ریاست ہے اور یہاں کتاب وسنّت کو فروغ دیا جائے گا۔ اس دستور کو عوام پاکستان کے منتخب نمائندے منظور کرچکے ہیں، عدالتیں اس کی بناپر فیصلہ کرتی ہیں اور یہ جمہوری اساسات پر ایک مسلمہ بن چکا ہے کہ پاکستان میں اسلام نظام کو قائم کیا جائے گا۔ایک اسلامی ریاست کا قیام ہندوستان کے مسلمانوں کا صدیوں پرانا خواب تھا۔جس کے شواہد مغلیہ خاندان کے زوال کے بعد ہماری پوری تاریخ میں پھیلے ہوئے ہیں۔اسی نفسیات اورمسلمانوں کے دیرینہ خواب کو سمجھتے ہوئے قائداعظم نے علی گڑھ یونیورسٹی کے طلبہ سے خطاب کرتے ہوئے کہا تھا کہ پاکستان تو اسی روزمعرضِ وجود میں آگیا جس روز ہندوستان کی سرزمین پرپہلے مسلمان نے قدم رکھا۔ پھر کہا کہ اس میں میرا کوئی کمال نہیں، میں نے فقط یہ کیاکہ جو بات آپ کے دلوں اور ذہنوں میں تھی، اسے طشت ازبام کردیا یعنی ببانگِ دہل کہہ دیا۔اگرپاکستان کا تصور نظریاتی نہیں تھا تو پھر وہ اسی دن کیوں معرضِ وجود میں آگیا جس دن ہندوستان میں پہلا شخص مسلمان ہوا تھا؟ زیر تبصرہ کتاب"نفاذ شریعت کے حوالے سے تمام مکاتب فکر کے جید علماء  کرام کے متفقہ پندرہ نکات"ملی مجلس شرعی کی شائع کردہ ہے جس میں انہوں نے پاکستان میں نفاذ اسلام کے حوالے سے تمام مکاتب فکر کے جید علماء کی طرف سے متفقہ پندرہ نکاتی ایجنڈا پیش کیا ہے، اور یہ واضح کیا ہے کہ ملک میں نفاذ شریعت کا عمل موجودہ دور میں بھی نہائت آسان ہے اور اس کے ساتھ ساتھ اتحاد بین العلماء والمسالک کے بارے میں 33 علماء کرام کے متفقہ 18 نکات اور اسلامی ریاست اور آئین کے بارے میں 31 علماء کرام کے متفقہ 22 نکات کو جمع کر دیا ہے۔اللہ تعالی سے دعا ہے کہ وہ پاکستان میں نفاذ اسلام کی راہیں ہموار کرے اور ہمیں خلافت جیسی عظیم نعمت سے سرفراز فرمائے۔آمین(راسخ)

  • untitled-1
    حافظ عبد الرحمٰن مدنی
    ادارہ تحقیقات اسلامی نے اسلام آباد انٹرنیشنل یونیورسٹی میں ایک سہ روزہ پروگرام کاانعقاد کیا۔ جس کا موضوع ’اجتماعی اجتہاد، تصور، ارتقاء اور عملی صورتیں‘ تجویز ہوا۔ اس سیمینار میں حافظ حافظ عبدالرحمٰن مدنی حفظہ اللہ نے ’پارلیمنٹ اور تعبیر شریعت‘ کے نام سے مقالہ پیش کیا۔ یہی مقالہ اس وقت کتابی صورت میں آپ کے سامنے ہے۔ جس میں حافظ صاحب نے نفاذ شریعت سے متعلق امت کے چار مشہور نظریات پر تبصرہ کیا ہے۔ سب پہلے علامہ اقبال کے نظریہ پر روشنی ڈالی گئی ہے۔ اس حوالہ سے دوسرے نظریہ کے طور پر انہوں نے انقلاب ایران اور طالبانی طرز فکر کو لیا ہے۔ تیسرا نظریہ پاکستان کے آزاد خیال اہل علم اور دینی سیاسی جماعتوں کا ہے، اس پر بھی حافظ صاحب نے سیر حاصل اور مدلل بحث پیش کی ہے۔ چوتھا اور آخری نظریہ وہ ہے جو عالم اسلام کے بعض ممالک میں شریعت کی عمل دار ی کی حد تک عرصہ سے رائج ہے۔ تعبیر شریعت کے حوالے سے یہ کتابچہ ایک علمی دستاویز ہے۔ (ع۔م)

    نوٹ:
    محدث فورم میں اس کتاب پر تبصرہ کرنے کے لیے یہاں کلک کریں
  • titel-page-pakistan-men-aigancioun-ka-kirdar-copy
    منیر احمد
    زیر نظر کتاب ''پاکستان میں انٹیلی جنس ایجنسوں کا سیاسی کردار''اپنی نوعیت کی پہلی اور اہم کتاب ہے جس میں پاکستان کے معروف صحافی منیر احمد نے خفیہ سروس کے ادارے کی خامیوں اور خوبیوں کو لوگوں کے سامنے پیش کرتے ہوئے ایسے حکمرانوں کا تذکرہ کیا ہے جنہوں نے خفیہ اداروں کا غلط استعمال کیا- کتاب میں ایسے خفیہ ہاتھوں کو بھی بے نقاب کیا گیا ہے جن کے ہاتھوں میں ہمارے سیاستدان کٹھ پتلیاں بنے ہوئے ہیں-اس کے علاوہ آپ کو اس کتاب میں بھٹو نے خفیہ اداروں کو سیاسی مقاصد کے لیے کس طرح استعمال کیا اور قائد اعظم سے آج تک خفیہ ادارے کس حد تک ملک کے سیاہ وسفید کے مالک رہے، کا تفصیلی جائزہ پیش کیا گیا ہے- کتاب کے مطالعے سے آپ کو قدم قدم پر ایسے حیرت انگیز اور چشم کشا انکشافات ملیں گے جن سے آپ کبھی بھی واقف نہ تھے-

  • pages-from-pakisatan-mein-nifaz-e-shariat-ahmiyyat-zroorat-aur-treeqa-e-kaar
    ابو ذوق قدرت اللہ فوق

    ارشاد ربانی کےمطابق دین اسلام ایک ایسا دین ہے کہ جو شخص بھی اسلام کے علاوہ کوئی اور دین تلاش کرتا ہے تو اس سے ہر گزقبول نہیں کیا جائے گا۔ او روہ آخرت میں خسارہ پانے والوں میں سے ہوگا۔اور نبی کریمﷺ کا فرمان ہے ’’قسم اس ذات کی جس کے ہاتھ میں میری جان ہے اس امت میں جو شخص بھی میری بابت سن لے کہ وہ یہودی ہویا عیسائی پھر وہ مجھ پر ایمان نہ لائے تو وہ جہنم میں جائے گا۔‘‘ اس اعتبار سے امت مسلمہ کی بھی یہ ذمہ داری ہے کہ وہ اسلا م کا پیغام ہر جگہ پہنچائیں اور کراہتی سسکتی انسانیت کو امن وسکون اور نجات سے ہمکنار کریں جیسے پیغمبر اسلام سید نا حضرت محمدﷺً اوران کے اولین پیروکاروں نے دنیا سے ظلم و ستم کا خاتمہ کر کے عدل وانصاف کا نظام قائم کیا، کفر وشرک کی تاریکیوں کو مٹاکر توحید و سنت کی شمعیں روشن کیں اور اخلاقی زوال کی اتھاہ گہرائیوں سے نکال کر انسانیت کوسیرت و کردار کی بلندیوں سے آشنا کیا۔ ٖآج انسانیت پھر سے ظلم وستم کا شکار ہے وہ دوبارہ کفر وشرک کی تاریکیوں میں گھری ہوئی اور اخلاقی پستی میں پھنسی ہوئی ہے۔ پاکستان اسلام کے نام پر حاصل کیا گیا ،لیکن افسوس کہ آج تک کسی بھی حکومت نے پاکستان میں اسلام نافذ کرنے کی سنجیدہ کوشش نہیں کی۔جبکہ قیام پاکستان کا سب سے بڑا مقصد یہی تھا کہ ہندوستان کے مسلمان ایک طرف تو ہندی تہذیب اور ہندی صنم پرستی سے بچ کر اپنی اسلامی تہذیب کو اپنائیں گے اور ایک اللہ کی عبادت کریں گے وہاں دوسری طرف پاکستان میں مکمل طور پر شریعت کو نافذ کر کے اور ہر شعبۂ زندگی میں اسلامی تعلیمات کی ترویج کر کےپاکستان کو اسلام کی تجربہ گاہ اوراس کے حسن وجمال کی جلوہ گاہ بنائیں گے۔ تاکہ دنیا کے سامنے صحیح فکر وعمل ا ور امن و سکون سے آشنا زندگی کا ایک بہترین نمونہ آسکے جسے دنیائے انسانیت اپنانے ا ور اختیار کرنے کی لیے لپکے اور اس کی طرف پلٹے۔ تحریک پاکستان کےلیڈروں نے بھی قوم سے یہی وعدہ کیاتھا اور بابار اسی کا اعادہ کیاتھا ،بانی پاکستان نےبھی یہ کہاتھا جسے وہ قیام پاکستان کے بعد بھی دہراتے رہے۔ اللہ تعالیٰ اوراس کی مخلوق سے کئے ہوئے اس عہد کا تقاضا ہےکہ پاکستان میں اسلام کی علم برداری قائم ہو اور اسلامی شریعت کا سکہ یہاں چلےجس طرح پاکستان کا قیام اس وعدے کا مرہون منت ہے اس کااستحکام وبقاء بھی اس عہد کی تکمیل اور اس وعدے کے ایفاء میں مضمر ہے لیکن وطن عزیز پاکستان   کو ’’لاالہ...‘‘ کی بنیاد پر قائم ہوئے نصف صدی سے زائد عرصہ بیت چکا ہے جس میں اسلام کو نافذ کرنے کے وعدہ کوپوراکرنے کی سنجیدہ کوشش ابھی تک نہیں کی گئی۔ زیر نظر کتاب ’’پاکستان میں نفاذ شریعت اہمیت، ضرورت اور طریق کار ‘‘ مولانا قدرت اللہ فوق ﷫ کی کاوش ہے۔ انہوں نے اپنی قیمتی تدریسی اوقات میں مصروف ومشغول رہنے کے باوجود بڑی محنت سے پاکستان میں نفاذ شریعت، اہمیت وضرورت اور طریق کار کا بڑی تفصیل سے جائزہ لیتے ہوئے یہ بتایا ہے کہ اس وطن عزیز میں نفاذ اسلام کی راہ میں کونسی چیزیں حائل ہیں اورانہیں کیسے دور کیا جاسکتا ہے اور اس حقیقی ہدف ومقصد کو کیسے حاصل کیا جاسکتا ہے۔ اللہ تعالیٰ ہمیں ایسا حکمران عطا فرمائے جو قیام پاکستان کے مقصد کو پورا کرے۔ (آمین) (م۔ا)

  • title-pages-kia-vote-muqadas-amanat-he
    حامد محمود
    مغربی تہذیب اور افکار و نظریات کی مشرق میں آمد کے بعد مسلمانوں کے اندر بالخصوص  بنیادی طور پر تین طرح کے طبقات آئے ہیں ۔ پہلا وہ جو مغربی فکر و تہذیب کی مکمل تردید کرتا ہے اور دوسرا وہ جو مکمل تائید کرتا ہے اور تیسرا اور  آخری گروہ ان لوگوں کا ہے جو پیوند کاری  کرتا ہے ۔ مغرب کے ان گوناگو افکار و نظریات اور تہذیب و تمدن کی دنیا میں ایک جمہوریت بھی ہے چناچہ اس کے بارے میں فطری طور پر مذکورہ بالا تین طرح کی ہی آراء سامنے آئی ہیں ۔ بعض لوگ جمہوریت کی بالکلیہ تردید ، بعض تائید اور بعض بین بین رائے اپناتے ہوئے نظر آتے ہیں ۔ اس سلسلے میں زیر نظر کتاب اول الذکر گروہ کی نمائندگی کرتی ہوئی دکھائی دیتی ہے ۔ فاضل مصنف نے زیر بحث کتاب میں جہاں جمہوری نظام کے مفاسد کا ذکر کیا ہے وہاں ساتھ ساتھ بالخصوص ان لوگوں کی آراء اور دلائل کو چھانٹے کی کوشش کی ہے جو مسلمانوں میں سے جمہوریت کی حمایت کرتے ہوئے نظر آتے ہیں ۔ اگر غیرجانبدارنہ طور پر دیکھا جائے تو کتاب اپنے اندر کئی ایک حقائق کو بھی سموئے ہوئے ۔ اللہ ہماری صحیح رہنمائی فرمائے ۔ آمین۔(ع۔ح)

    نوٹ:
    محدث فورم میں اس کتاب پر تبصرہ کرنے کے لیے یہاں کلک کریں

ای میل سبسکرپشن

محدث لائبریری کی اپ ڈیٹس بذریعہ ای میل وصول کرنے کے لئے ای میل درج کر کے سبسکرائب کے بٹن پر کلک کیجئے۔

 

ایڈوانس سرچ

موضوعاتی فہرست

رجسٹرڈ اراکین

آن لائن مہمان

محدث لائبریری پر اس وقت الحمدللہ 2217 مہمان آن لائن ہیں ، لیکن کوئی رکن آن لائن نہیں ہے۔

ایڈریس

       99-جے ماڈل ٹاؤن،
     نزد کلمہ چوک،
     لاہور، 54700 پاکستان

       0092-42-35866396، 35866476، 35839404

       0092-423-5836016، 5837311

      KitaboSunnat@gmail.com

      بنک تفصیلات کے لیے یہاں کلک کریں