• title-pages-al-ahkam-al-sultania-copy
    امام ابو الحسن علی بن محمد بن حبیب البصری

    دنیا کے وجود میں آنے کے بعد اس دنیا میں رہنے والے انسانوں نے کئی حکومتی اور سیاسی نظام تخلیق کئے اور اختیار کیے، لیکن ہر نظام ایک مدت کے بعد اپنی موت آپ ہی مر گیا۔ ان سیاسی نظاموں کے تخلیق کرنے کی وجہ یہ تھی کہ انسان نے حاکمیت اپنے سر لے لی اور یہ مائنڈ سیٹ بنا لیا کہ افراد کی طاقت سے بالا اور زبردست ہوتی ہے، اور ان تمام سیاسی نظاموں کے برباد ہونے کی سب سے بنیادی وجہ یہ تھی کہ یہ انسان کے بنائے ہوئے نظام تھے۔ اسلام ایک مکمل ضابطہ حیات اور دستور زندگی ہے،اسلام نے مسلمانوں کو جہاں عبادات کے طریقے بتلائے ہیں وہاں ایک نظام حکومت بھی عطا فرمایا ہے۔ زیر تبصرہ کتاب" الاحکام السلطانیہ "پانچویں صدی کے معروف فقیہ اور دولت عباسیہ کے قاضی أبو الحسن علي بن محمد بن حبيب البصری البغدادی الماوردی کی تصنیف عربی تصنیف ہے ،جس کا اردو ترجمہ محترم مولوی سید محمد ابراہیم صاحب نے کیا ہے۔مولف موصوف نے اس کتاب میں  اسلامی حکومت کے خدو خال اور طریقہ کار کو تفصیل سے بیان کیا ہے اور کتاب کو بیس ابواب میں تقسیم کیا ہے۔جن میں سے امام کا تقرر،وزراء کا تقرر،فوجی سپہ سالاروں کا تقرر،کوتوالی کا تقرر،عدالت ،اشراف کی دیکھ بھال،امامت نماز ،امارت حج،صدقات،جزیہ وخراج کے عائد کرنے کے ضوابط اور دفاتر کا قیام اور ان کے احکام وغیرہ جیسے ابواب قابل ذکر ہیں۔بارگاہ الہی میں دعا ہے کہ مولف کی اس کوشش کو قبول فرمائے اور ہمیں اسلامی نظام حکومت جیسی نعمت سے سرفراز فرمائے۔آمین(راسخ)

  • title-pages-al-ahkam-copy
    ابو العباس احمد بن ادریس قرانی مالکی

    تاریخ اسلامی میں ساتویں صدی ہجری اپنے دامن میں امت مسلمہ کے لئے گہرا  درس عبرت رکھتی ہے۔جس میں مسلمانوں کو بغداد میں اقتدار واختیارات سے ہاتھ دھونا پڑے۔سیاسی شکست وریخت نے نہ صرف سر زمین عراق بلکہ دنیا بھر کے مسلمانوں کی نفسیات پر انتہائی گہرا اثر ڈالا،اس تمام تر دباو کے باوجود بعض ایسے صاحب فکرونظر بھی پیدا ہوئے جنہوں نے امت مسلمہ کے جسد میں نئی روح پھونکی،علمی اور فکری میدان میں ان کی بھر پور راہنمائی کی ،ان کے قلب ونظر کو نئی جلا بخشی اور ان کے عزم واعتماد کو بحال کیا۔ایسی دانشور ہستیوں میں سے ایک امام ابو العباس احمد بن ادریس  قرافی مالکی ﷫کی شخصیت بھی ہے۔جنہوں نے علم وعمل کی دنیا میں گہرے نقوش چھوڑے اور امت کی علمی وفکری رہنمائی میں نمایاں کردار ادا کیا۔ زیر تبصرہ کتاب" الاحکام فی تمییز الفتاوی عن الاحکام وتصرفات القاضی والامام " امام قرافی ﷫کی وہ شاندار اور منفرد تصنیف ہے جو انہوں نے اپنے ساتھیوں کے ہونے والے ساتھ مختلف مسائل  سے متعلق چالیس سوالات کے جوابات اور تبادلہ خیال کو جمع کرتے ہوئے مرتب فرمائی ہے۔اس کتاب میں انہوں نے حاکم عدالت کے فیصلے کی حقیقت ،حاکم اور مفتی کا دائرہ کار،مفتی ،قاضی اور سربراہ مملکت کے اختیارات،اجتہادی مسائل اور حاکم کا فیصلہ،اختلافی مسائل اور حاکم کا فیصلہ نبوت اور رسالت میں فرق،رسول اللہ ﷺ کے ارشادات کی مختلف حیثیتیں،حاکم کے فیصکے کو کالعدم قرار دینے کا اختیار اور نبی کریم ﷺ کے تصرفات کی مختلف جہات جیسی اہم ترین مباحث کوبیان کیا ہے۔یہ کتاب اپنے موضوع پر ایک منفر د اور عظیم الشان تصنیف ہے۔اللہ تعالی مولف کی اس محنت کو قبول فرمائے۔آمین(راسخ)

  • pages-from-al-siyaasat-ul-shariah-hukmran-bureaucracy-aur-awaam
    امام ابن تیمیہ

    دین اسلام مذہب اور سیاست کے درمیان علیحدگی کو تسلیم نہیں کرتا ہے۔اسلام اللہ تعالیٰ کی جانب سے انسانوں کے تمام مادی اورروحانی معاملات میں رہنمائی کے لئے آیا ‏ہے۔ نبی کریم ﷺنے یہی کام اپنی مبارک زندگی میں عملی طور پر کر کے دکھایا ہے۔ اسلام میں یہ عقیدہ اور تصور باہر سے آیا ہے کہ دین کی روحانی اور معنوی تعلیمات پر ‏ایک علیحدہ طبقہ عمل کرے گا اور سیاست، نظامِ حکومت اور معاشرے کے معاملات دوسرا طبقہ سنبھالے گا۔ اسی لیے تو آپﷺاور ان کے بعد خلفائے راشدین ‏مسلمانوں کی حکومت اور نظام کے رہنما بھی تھے اور ان کے دینی رہنماء اور امام مسجد بھی۔‏ تاریخِ اسلام میں جب بھی معاشرے کو سیاسی اعتبار سے مسجد اور محراب سے قیادت اور رہنمائی ملی ہے،مسلمان قوت، سر بلندی اور فتوحات حاصل کرتے رہے۔ اس کے ‏برعکس جب بھی مسلمانوں کی سیاسی قیادت قوم پرستوں نے کی تو مسلمان ذلت اور آپسی جنگوں کا شکار ہو کر حکومت اور نظام گنوا بیٹھے۔ زیر تبصرہ کتاب ’’حکمران بیورو کریسی اور عوام‘‘ امام ابن تیمیہ﷫ کی معروف کتاب ’’السیاسیۃ الشرعیہ‘‘  کا اردو رترجمہ ہے جس میں انہوں نے اسلامی سیاست کو کتاب وسنت کی روشنی میں پیش کیا ہے اور یہ بات مکمل طور پر واضح کر دی ہے کہ انسانی زندگی کے تمام شعبوں کے لئے خواہ وہ انتظامیہ سے تعلق رکھتے ہوں یا اخلاق ومعاملات سے، اسلام نے جو نظام پیش کیا ہے وہ نہ صرف آخری و لازمی ہے بلکہ اس پر کاربند ہوئے بغیر نہ معاشرے میں خوبصورتی پیدا ہو سکتی ہے اور نہ ہی حکومتوں کے ایوانوں میں استحکام آ سکتا ہے۔ (م۔ا)

  • page-from-al-mosooah-tul-qazaaiyya
    ریسرچ کمیٹی، فلاح فاؤنڈیشن، لاہور

    کسی بھی قوم کی نشوونما اور تعمیر وترقی کےلیے عدل وانصاف ایک بنیادی ضرورت ہے۔ جس سے مظلوم کی نصرت، ظالم کا قلع قمع اور جھگڑوں کا فیصلہ کیا جاتا ہے اورحقوق کو ان کےمستحقین تک پہنچایا جاتاہے اور دنگا فساد کرنے والوں کو سزائیں دی جاتی ہیں۔ تاکہ معاشرے کے ہرفرد کی جان ومال ،عزت وحرمت اور مال واولاد کی حفاظت کی جا سکے۔ یہی وجہ ہے اسلام نے ’’قضا‘‘یعنی قیام عدل کاانتہا درجہ اہتمام کیا ہے۔ اوراسے انبیاء ﷩ کی سنت بتایا ہے۔ اور نبی کریم ﷺ کو اللہ تعالیٰ نے لوگوں میں فیصلہ کرنے کا حکم دیتےہوئے فرمایا: ’’اے نبی کریم ! آپ لوگوں کےدرمیان اللہ کی نازل کردہ ہدایت کے مطابق فیصلہ کریں۔‘‘نبی کریمﷺ کی حیات مبارکہ مسلمانوں کے لیے دین ودنیا کے تمام امور میں مرجع کی حیثیت رکھتی ہے۔ آپ کی تنہا ذات میں حاکم،قائد،مربی،مرشد اور منصف اعلیٰ کی تمام خصوصیات جمع تھیں۔ جو لوگ آپ کے فیصلے پر راضی نہیں ہوئے ا ن کے بارے میں اللہ تعالیٰ نے قرآن کریم میں سنگین وعید نازل فرمائی اور اپنی ذات کی قسم کھا کر کہا کہ آپ کے فیصلے تسلیم نہ کرنے والوں کو اسلام سے خارج قرار دیا ہے۔ نبی کریمﷺ کےبعد خلفاء راشدین سیاسی قیادت، عسکری سپہ سالاری اور دیگر ذمہ داریوں کے ساتھ منصف وقاضی کے مناصب پر بھی فائزر ہے اور خلفاءراشدین نےاپنے دور ِخلافت میں دور دراز شہروں میں متعدد قاضی بناکر بھیجے۔ ائمہ محدثین نےنبیﷺ اور صحابہ کرام ﷢کے فیصلہ جات کو کتبِ احادیث میں نقل کیا ہے۔ اور کئی اہل علم نے اس سلسلے میں کتابیں تصنیف کیں ان میں سے اہم کتاب امام ابو عبد اللہ محمدبن فرج المالکی کی نبی کریمﷺ کے فیصلوں پر مشتمل ’’اقضیۃ الرسول ﷺ ‘‘ ہے۔ ڈاکٹر ضیاء الرحمن اعظمی﷾ نے جامعہ ازہر ،مصر میں اس کتاب کی تحقیق پر پی ایچ ڈی کی ڈگری حاصل کی۔ ادارہ معارف اسلامی ،لاہور نے اسکا اردو ترجمہ کرواکر شائع کیا۔ چند سال قبل شیخ ڈاکٹرارکی نور محمد نے صحابہ کرام﷢ کے کتب ِحدیث وفقہ اورکتب سیر وتاریخ میں منتشر اور بکھرے ہوئے فیصلہ جات کو ’’اقضیۃ الخلفاء الراشدین‘‘ کے نام سے جمع کرکے جامعہ اسلامیہ، مدینہ منور ہ سے پی ایچ ڈی کی ڈگری حاصل کی۔ اشاعت کتب کے عالمی ادارے دارالسلام نے نےاسے دو جلدوں میں شائع کیا ۔اور 1997ء حافظ عبد الرحمن مدنی ﷾ اور جسٹس خلیل الرحمٰن خاں اور پرو فیسر عبد الجبار شاکر ﷫ نےمجلس التحقیق الاسلامی، لاہور کے تحت الموسوعۃ القضائیۃ (اسلامی عدالتوں کے فیصلوں پر مبنی انسائیکلو پیڈیا) کے سلسلے میں کام کا آغازکیاجس میں عہد رسالت سے عصر حاضر تک شرعی عدالتوں کے فیصلہ جات کو جمع کر کےشائع کرنے کا منصوبہ تھا۔ ابھی صرف عربی زبان میں ایک جلد تیار ہوئی تھی جس کو مدنی صاحب شائع کرنے کے لیے کوشاں تھے لیکن اس دوران جسٹس خلیل الرحمن اور پرو فیسر عبد الجبار شاکر ﷫ نے اس کتاب کا اردو ترجمہ کر واکر فلاح فاؤنڈیشن کی طرف سے شائع کردیا۔ زیرتبصرہ کتاب وہی کتاب ہے۔ اس کتاب کی تیاری میں امام ابو عبد اللہ محمدبن فرج المالکی کتاب ’’اقضیۃ الرسول ‘‘ پیش نظر ر ہی ہے۔ کتاب ہذا میں نبی کریم ﷺ کی طرف سے صادر کردہ 355 فیصلوں کو اطراف حدیث سے جمع کر کے پیش کیا گیا ہے۔ ابتدائی کام کے دوران راقم کوبھی محترم ریاض الحسن نوری﷫ کی نگرانی میں کام کرنے کا موقع ملا۔ کتاب ہذا جج حضرا ت اور وکلاء کے لیے ایک بہترین کتاب ہے۔ اللہ تعالیٰ ہماری عدالتوں کو انگریزی قانون کی بجائے نبی کریم ﷺ اور صحابہ کرام ﷢ کے نظام قضاء وعدل کے مطابق فیصلے کرنےکی توفیق دے۔ (آمین) ( م۔ا)

  • Title Page---Ummat Masla k Fikri Masail Aur Un Ka Hall
    حافظ اختر علی ارشد
    مصنف کی یہ تصنیف دراصل زمانہ طالب علمی میں ایم –اے وفاق المدارس کے لیے لکھا جانے والا ایک مقالہ ہے جس کو موضوع کی اہمیت کے پیش نظر استفادہ عام کے لیے پیش خدمت ہے-امت مسلمہ کے باہمی انتشار اور اختلافات کی بہت ساری وجوہات ہیں جن کواس مقالہ میں موضوع بحث بنایا گیا ہے-مثلا امت مسلمہ کا فکری ارتقاء اور عقائد کی خیر وبرکات،امت مسلمہ کے سیاسی مسائل اور ان کاحل،مسلمانوں میں مذہبی اختلافات کے اسباب اور مختلف گمراہ گروہوں کا جنم اور ان کے عقائد پر گفتگو،اسلامی افکار کو متاثر کرنے والے اسباب جن سے اسلام میں غلط نظریات کو فروغ ملا،تصوف کی حقیقت اور صوفیا کے مختلف عقائد کی وضاحت،اسلام کو در پیش موجودہ دور میں چیلنجز،دہشت گردی اور اسلام سے اس کا تعلق،تہذیبوں کا تصادم اور نیو ورلڈ آرڈر کی حقیقت،اور آخر میں امت مسلمہ کو در پیش مسائل کے حل کے لیے چند ایک تجاویز بھی پیش کی گئی ہیں-
  • pages-from-insani-tareekh-ki-intihai-khatarnaak-o-khufia-tareen-tehreek-haqaeq-o-inkishaf
    ابو عدنان محمد منیر قمر

    تاریخ عالم آج تک بے شمار تحریکوں سے روشناس ہو چکی ہے۔اور آئے دن چشم فلک کو نئے نئے ناموں سے موسوم عجیب وغریب نظریات اور پروگراموں کی حامل اور طرح طرح کے لوگوں کی قیادت میں کام کرنے والی تحریکوں سے وابستہ پڑتا ہے۔ان میں سے کچھ تحریکیں مثبت طریق کار اور دینی نہیں تو کم از کم دنیاوی مگر اصلاحی وفلاحی نظریات کی پر چارک ہوتی ہیں۔بعض تحریکیں خالص دینی اور اسلامی ہیں،جبکہ بعض ایسی بھی ہیں جو دین کے نام کو شعار بنا کر لوگوں کو اپنے ساتھ ملاتی اور پھر بے دینی کو پھیلاتی ہیں۔انہی رنگا رنگ ناموں اور طرح طرح کے نظریات کی حامل تحریکوں میں سے ایک خطرناک ترین تحریک کا نام الماسونیہ ،فری میسن (FREEMASONRY) ہے جس کے طریقے کار اور عقائد ونظریات کا مطالعہ کرنے سے ایک ایسی خطرناک وخوفناک اور بھیانک جماعت سامنے آتی ہے ،جس کے متعلق معلومات نہ ہونے کی وجہ سے ان پڑھ تو کیا بڑے بڑے پڑھے لکھے مسلمانوں کا ان کے جال میں پھنس جاناناممکنات میں سے نہیں ہے۔اور جو ان کے جال میں پھنس گیا ،وہ آہستہ آہستہ دین سے دور ہوتا چلا گیا اور بالآخر دین کا دشمن بن گیا ۔یہی اس خوفناک تحریک کا نصب العین ہے کہ لوگوں کو دین سے دور کر کے دنیا میں بے دینی ،اخلاقی بے راہروی اور جنسی انارکی پھیلا دی جائے۔ زیر تبصرہ کتابچہ " انسانی تاریخ کی انتہائی خطرناک وخفیہ ترین تحریک ۔۔۔ حقائق وانکشافات "سعودی عرب میں مقیم معروف پاکستانی عالم دین ابو عدنان محمد منیر قمر﷾ کی تصنیف ہے ،جس میں انہوں نے مسلمانوں کو اس خطرناک اور خوفناک تحریک کے جالوں سے بچنے کی ترغیب ہی ہے اور اس تنظیم کے خطرناک منصوبوں اور عزائم سے پردہ اٹھایا ہے۔اللہ تعالی مولف کی اس محنت کو قبول فرمائے اور مسلمانوں کو اس سے اس جیسی دیگر اسلام دشمن تنظیموں سے مھفوظ فرمائے۔آمین۔(راسخ)

  • title-page-apni-jamhoriyat
    حامد کمال الدین

    ہرمسلمان کی خواہش ہے کہ ملک میں اسلامی شریعت کانفاذ ہو لیکن اس کے لیے کیا طریقہ کار اپنانا چاہیے اس میں اختلاف ہے ایک بڑاطبقہ موجودہ جمہوری نظام کے ذریعے نفاذ اسلام کی کوششوں میں مصروف ہے اگرچہ 60 سال سے اس سے خاطر خواہ نتیجہ نہیں نکلا تاہم اسلامی انقلاب اور حکومت الہیہ کے نعروں کی حامل جماعتیں آج بھی اسی میدان میں زو رلگا رہی ہیں اس کےبرعکس ایک حلقے کی رائےہے کہ جمہوریت کے ذریعے اسلام نہیں آسکتا زیرنظر کتابچے میں اسی کی ترجمانی کی گئی ہے مروجہ جمہوریت کےحق میں جودلائل دیئے جاتے ہیں ان کابھي اس میں جائزہ لیا گیا ہے نیز بعض جلیل القدر اہل علم مثلاًمحمد قطب اور علامہ البانی وغیرہ کی رائے بھی شامل ہے

     

  • عظمت اسلام موومنٹ

    ہر مسلمان کا یہ دیرینہ مطالبہ اور تقاضا ہے کہ پاکستان میں اسلامی قانون نافذ کیا جائے،اور اس کی زندگی کے تمام معاملات کا فیصلہ شریعت اسلامیہ کے مطابق کیا جائے۔کیونکہ اسلام وہ عظیم الشان ضابطہ حیات اور دستور زندگی ہے،جس میں تجارت ،عدالت ،معاشرت،سیاست اور ریاست سمیت زندگی کے ہر شعبے سے متعلق راہنمائی موجود ہے۔لیکن افسوس اس بات کا ہے کہ ہر دور میں اس مطالبے اور خواہش کو زور زبر دستی ،لالچ یا حیلوں بہانوں سے دبا دیا گیا یا الجھا دیا گیا۔لیکن بعض ایسے دور اندیش افراد ہمیشہ موجود رہتے ہیں جو حالات کی مشکلات کو برداشت کرتے ہوئے اپنے مشن پر چلتے رہتے ہیں۔زیر تبصرہ کتاب " اکیسویں صدی کی جدید مثالی اسلامی فلاحی ریاست کے قیام کے لئے عظمت اسلام موومنٹ کا مجوزہ منشور "ایسے ہی ایک گمنام سپاہی میجر جنرل ظہیر الاسلام عباسی کی "عظمت اسلام موومنٹ" نامی اپنی تحریک کے مجوزہ منشور کے طور پر مرتب کی ہے ،جس میں انہوں نے غیر اسلامی طرز حکومت کی خرابیوں اور نقائص کو اجاگر کرنے کے بعد جدید مثالی اسلامی فلاحی ریاست کے فوائد اور خدو خال کو واضح کیا ہے۔یہ کتاب تحریکی ذہن رکھنے والے حضرات اور اسلامی قانون کے نفاذ کے خواہش مند نوجوانوں کو ضرور پڑھنی چاہئے۔اللہ تعالی مولف کی اس کاوش کو قبول فرمائے۔آمین(راسخ)

  • Title Page---Badmash Amrica
    ولیم بیلم
    یہ کتاب  معروف امریکی دانشور اور صحافی ولیم بیلم کی تہلکہ مچا دینے والی کتاب روگ سٹیٹ کا اردو ترجمہ ہے جس میں مصنف نے بے شمار حقائق سے پردہ اٹھاتے ہوئے ثابت کیا ہے کہ امریکہ جو بظاہر جمہوریت اور انسانی حقوق کا علمبردار بنا بیٹھا ہے اصل میں وہ ودونوں کا قاتل ہے- مصنف کا کہنا ہے کہ  اب تک لاکھوں معصوم انسان امریکی مفادات اور مظالم کی بھینٹ چڑھ چکے ہیں- افغانستان ہو ویتنام ہو یا عراق ہر جگہ پر امریکہ کے ہاتھ انسانی خون سے رنگے ہوئے نظر آتے ہیں، امریکہ کی خفیہ ایجنسیاں نہ صرف سربراہان کو قتل کرا  رہی ہیں، حکومتوں کے تختے الٹ رہی ہیں بلکہ اپنی خفیہ سازشوں کے ذریعے بڑی آسانی کے ساتھ ملکوں کا سیاسی نقشہ بھی تبدیل کر رہی ہیں- کتاب میں موجود ایک ایک لفظ چونکا اور لرزا دینے والا ہے جس سے امریکہ کا اصل چہرہ بے نقاب ہوگیا ہے-
  • pages-from-behtey-lahu-ki-kahani
    ببرک لودھی

    افغانستان کی سرزمین اپنے جغرافیائی محل وقوع کی وجہ سے صدیوں سے تاریخی اہمیت کی حامل چلی آرہی ہے۔یہی وجہ ہے کہ دنیا کی اکثر طاقتوں نے ہمیشہ اس ملک کو للچائی ہوئی نظروں سے دیکھا ہےاور ایشیا کے اس خطے کے ممالک پر اپنی بالا دستی قائم کرنے کے لئے افغانستان کو اپنی منزل کی جانب پہلے زینے کے طور پر استعمال کرنے کی کوشش کی ہے۔ان ممالک میں سرفہرست روس ہے جس کو خلیج کے گرم پانیوں تک پہنچنے کی وصیت ورثے میں ملی ہے۔جس کے حصول کے لئے اس نے پہلے وسط ایشیا کی مسلمان ریاستوں کو ہوس ملک گیری کا نشانہ بنایا۔پھر اگلے مرحلے میں افغانستان کو اپنا ہدف ٹھہرایا۔افغانستان میں روس کی حکمت عملی نہایت کامیاب رہی۔ایک طرف اس نے افغانوں کو اپنے مذموم مقاصد کے لئے استعمال کرنا شروع کر دیا تو دوسری طرف اقتصادی معاہدوں کی آڑ میں اپنے سیاسی اور فوجی مشیر بھیجنے شروع کر دئیے جو اپنے ملک کے خفیہ مگر دور رس منصوبے نہایت اطمینان سے مکمل کرنے لگے۔چنانچہ ایک وقت کے بعد روس نے براہ راست افغانستان پر حملہ کرتے ہوئے اس پر قبضہ کر لیا اور لاکھوں افغان اس سرخ عفریت کا شکار ہو گئے۔ زیر تبصرہ کتاب " بہتے لہو کی کہانی " ببرک لودھی کی تصنیف ہے،جس میں انہوں نے افغانستان کی اسی المناک اور خون ریز تاریخ کو بیان کیا ہے۔ببرک لودھی افغانستان کے ایک مایہ ناز صحافی ہیں،جنہوں نے افغانوں کی فلاح وبہبود کے لئے اپنے قلم کو استعمال کیا اور زیر نظر کاوش بھی اسی سلسلے کی ایک کڑی ہے۔(راسخ)

  • pages-from-tareekh-nifaaz-e-hadood
    ڈاکٹر نور احمد شاہتاز

    حدوداللہ سے مراد وہ امور ہیں جن کی اللہ تعالیٰ نے حلت و حرمت بیان کردی ہے اور اس بیان کے بعد اللہ کے احکام اور ممانعتوں سے تجاوز درست نہیں۔ اللہ تعالیٰ کی قائم کردہ حددو سے تجاوز کرنے والے کو اللہ تعالیٰ نے اپنے آپ پر ظلم کرنے والا قرار دیا ہے اور ان کے لیے عذاب مہین کی وعید سنائی ہے۔ اسلام کایہ نظام جرم وسزا عہد رسالت اورعہد خلافت راشدہ میں بڑی کامیابی سے قائم رہا جس کے بڑے فوائد وبرکات تھے۔ عصر حاضر کے بعض سیکولرذہنیت کےحاملین نے اسلامی حدود کو وحشیانہ اور ظالمانہ سزائیں کہا ہے۔ (نعوذ باللہ   من ذالک) اور بعض اسلام دشمنوں نےیہ کہا کہ اسلام کانظام جرم وسزا عہد رسالت وخلافت راشدہ کے بعد کبھی کسی ملک میں کامیبابی سے نہیں چل سکا۔ زیر تبصرہ کتا ب ’’تاریخ نفاذ حدود‘‘ ڈاکٹر نور احمد شاہتاز کی تحقیقی کاوش ہے فاضل مصنف نے اس کتاب میں تاریخی حولوں سے ثابت کیا ہے۔ کہ یہ نظام گزشتہ چودہ صدیوں میں ہر ملک وہر خطہ اسلامی میں نہایت کامیابی سے نافذ رہا اور اس کی برکات سے طویل عرصہ تک نسل انسانی نے استفادہ کیا۔ نیز فاضل مصنف نے شرائع سابقہ میں مقرر سزاؤں کا اسلامی سزاؤ ں سے تقابلی جائزہ کر کے معترضین ومعاندین کے منہ بند کردیئے ہیں اور یہ ثابت کیا ہے کہ تمام شرائع سماویہ وادیان ارضیہ و عارضیہ میں اسلامی سزاؤں کے مماثل یا ان سے بھی سخت بہت معمولی جرائم پر دینے کا رواج رہا ہے ۔یہ کتاب اپنے موضوع میں تحقیقی وتاریخی دستاویز کی حیثیت رکھتی ہے۔ (م۔ا)

  • pages-from-tehreek-e-azaadi-e-hind-aur-muslman-1
    سید ابو الاعلی مودودی

    مسلمان اور غلامی دو متضاد چیزیں ہیں جو ایک ساتھ اکٹھی نہیں ہو سکتی ہیں۔مسلمان کے لئے یہ ممکن ہی نہیں ہے کہ وہ غلامی کی فضا میں اپنے دین کے تقاضوں کو پورا کر سکے۔اسلام غلبہ اور حکمرانی کے لئے آیا ہے ،دوسروں کی چاکری اور باطل نظاموں کی غلامی کے لئے نہیں آیا ہے۔اسلام نے مسلمانوں کا یہ مزاج بنایا ہے کہ وہ طاغوت کی حکومت ،خواہ کسی بھی شکل میں ہو اس کی مخالفت کریں اور خدا کی حاکمیت کو سیاسی طور پر عملا قائم کرنے اور زندگی کے ہر شعبے میں اسے جاری وساری کرنے کی کوشش کرتے رہیں۔برصغیر کے مسلمانوں کے سامنے یہ مسئلہ اٹھارویں اور انیسویں صدی میں اس وقت بہت نمایاں ہو کر ابھرا،جب سلطنت مغلیہ کے خاتمہ کے بعد برطانوی استعمار کے ہندوستان پر قبضہ کر لیا۔چنانچہ سید احمد شہید نے جہاد کا اعلان کیا اور تحریک مجاہدین نے آخری دم تک دشمنان اسلام کا مقابلہ کیا۔1857ء کی جنگ آزادی مسلمانوں ہی کے خون سے سینچی گئی۔تمام تر خرابیوں اور کمزوریوں کے باوجود مسلمانوں نے غیر اللہ کی غلامی کو قبول کرنے سے انکار کر دیا ۔انیسویں صدی کے دوسرے نصف میں "سمجھوتہ بندی" کی روش کو خاصی تقویت ملی۔ مسلمانوں کی حیثیت ایک ہاری ہوئی فوج کی سی تھی،جو ذہنی طور مغرب سے مرعوب ہو چکے تھے۔ان حالات میں مولانا مودودی ﷫نے احیائے اسلام کی جد وجہد کا آغاز کیا ،اور اسلامی تعلیمات کو عقلی دلائل کے ساتھ پیش کیا اور ذہنوں سے شکوک وشبہات کے ان کانٹوں کو نکالا جو الحاد،بے دینی اور اشتراکیت کی یلغار نے مسلمانوں میں پیوست کر دئیے تھے۔مولانا مودودی ﷫کی یہ کتاب" تحریک آزادی ہند اور مسلمان"اسی موضوع پر ایک بہترین کتاب ہے جس میں انہوں نے مسلمانوں کے حوصلے بلند کرتے ہوئے انہیں استعمار کے خلاف سینہ سپر ہونے کی ترغیب دی ہے،اور برصغیر کی تحریک آزادی میں مسلمانوں کے کردار پر روشنی ڈالی ہے۔اللہ تعالی ان کی اس خدمت کو اپنی بارگاہ میں قبول فرمائے اور ان کے میزان حسنات میں اضافہ فرمائے۔آمین(راسخ)

  • pages-from-tehreek-e-azaadi-e-hind-aur-muslman-1
    سید ابو الاعلی مودودی

    مسلمان اور غلامی دو متضاد چیزیں ہیں جو ایک ساتھ اکٹھی نہیں ہو سکتی ہیں۔مسلمان کے لئے یہ ممکن ہی نہیں ہے کہ وہ غلامی کی فضا میں اپنے دین کے تقاضوں کو پورا کر سکے۔اسلام غلبہ اور حکمرانی کے لئے آیا ہے ،دوسروں کی چاکری اور باطل نظاموں کی غلامی کے لئے نہیں آیا ہے۔اسلام نے مسلمانوں کا یہ مزاج بنایا ہے کہ وہ طاغوت کی حکومت ،خواہ کسی بھی شکل میں ہو اس کی مخالفت کریں اور خدا کی حاکمیت کو سیاسی طور پر عملا قائم کرنے اور زندگی کے ہر شعبے میں اسے جاری وساری کرنے کی کوشش کرتے رہیں۔برصغیر کے مسلمانوں کے سامنے یہ مسئلہ اٹھارویں اور انیسویں صدی میں اس وقت بہت نمایاں ہو کر ابھرا،جب سلطنت مغلیہ کے خاتمہ کے بعد برطانوی استعمار کے ہندوستان پر قبضہ کر لیا۔چنانچہ سید احمد شہید نے جہاد کا اعلان کیا اور تحریک مجاہدین نے آخری دم تک دشمنان اسلام کا مقابلہ کیا۔1857ء کی جنگ آزادی مسلمانوں ہی کے خون سے سینچی گئی۔تمام تر خرابیوں اور کمزوریوں کے باوجود مسلمانوں نے غیر اللہ کی غلامی کو قبول کرنے سے انکار کر دیا ۔انیسویں صدی کے دوسرے نصف میں "سمجھوتہ بندی" کی روش کو خاصی تقویت ملی۔ مسلمانوں کی حیثیت ایک ہاری ہوئی فوج کی سی تھی،جو ذہنی طور مغرب سے مرعوب ہو چکے تھے۔ان حالات میں مولانا مودودی ﷫نے احیائے اسلام کی جد وجہد کا آغاز کیا ،اور اسلامی تعلیمات کو عقلی دلائل کے ساتھ پیش کیا اور ذہنوں سے شکوک وشبہات کے ان کانٹوں کو نکالا جو الحاد،بے دینی اور اشتراکیت کی یلغار نے مسلمانوں میں پیوست کر دئیے تھے۔مولانا مودودی ﷫کی یہ کتاب" تحریک آزادی ہند اور مسلمان"اسی موضوع پر ایک بہترین کتاب ہے جس میں انہوں نے مسلمانوں کے حوصلے بلند کرتے ہوئے انہیں استعمار کے خلاف سینہ سپر ہونے کی ترغیب دی ہے،اور برصغیر کی تحریک آزادی میں مسلمانوں کے کردار پر روشنی ڈالی ہے۔اللہ تعالی ان کی اس خدمت کو اپنی بارگاہ میں قبول فرمائے اور ان کے میزان حسنات میں اضافہ فرمائے۔آمین(راسخ)

  • pages-from-tehreek-e-jihad-jamat-ahle-hadees-aur-ulma-e-ahnaf
    حافظ صلاح الدین یوسف

    دار العلوم دیو بند اور اس کے فیض یافتگان کی علمی ودینی خدمات برصغیر پاک وہند کی تاریخ کا ایک اہم باب ہےاور ان دوائر میں اپنے مخصوص فقہی نقطہ نظر کے مطابق انہوں نے جو کام کئے ہیں،اختلاف کے باوجود ان سے مجال انکار نہیں ہے۔لیکن تعلیمی ،تدریسی،تبلیغی اور تصنیفی خدمات کا دائرہ قومی وسیاسی خدمات سے مختلف ہے۔ضروری نہیں کہ تعلیم وتدریس اور تبلیغ سے شغف اور وابستگی رکھنے والا سیاست کا مرد میدان بھی ہو۔افسوسناک بات یہ ہے کہ وابستگان دیو بند نے اپنے اکابر کی سوانح وخدمات بیان کرنے میں اسی غلطی کا ارتکاب کیا ہے۔انہوں نے یہ سمجھ لیا ہے کہ جن تک وہ اپنے اکابر کو میدان سیاست کا رستم وسہراب ثابت نہ کر دیں ،ان کی علمی عظمت اور تاریخی اہمیت ثابت نہیں ہو سکتی ہے۔لہذا انہوں نے تاریخ نگاری کی بجائے تاریخ سازی کا راستہ اختیار کیا اور متعدد ایسے فضائل اپنے نام کرنے کی کوشش کی جن کا ان کے ساتھ دور کا بھی واسطہ نہیں ہے۔ زیر تبصرہ کتاب " تحریک جہاد ،جماعت اہل حدیث اور علمائے احناف " جماعت اہل حدیث کے معروف عالم دین، عظیم مفسر قرآن اور انٹر نیشنل مکتبہ دار السلام کے شعبہ تحقیق کے مدیر محترم مولانا حافظ صلاح الدین یوسف﷾ کی تصنیف ہے ۔جس میں انہوں نے دیوبندی اہل قلم کے افتراءات والزامات اور ان کی تاریخ سازی کی حقیقت سے پردہ اٹھایا ہے اور دلائل کے ساتھ ثابت کیا ہے کہ تحریک جہاد میں سب سے زیادہ حصہ ڈالنے والے اہل حدیث علماء کرام تھے ،جنہوں نے سب سے زیادہ قربانیاں پیش کیں اور تختہ دار پر جھول گئے۔(راسخ)

  • pages-from-tehreeki-rujhaan-jamaat-islami-ki-bunyadi-kamzooriyan
    عبد المعید مدنی

    مسلمانوں کے اندر وہ لوگ جو اہل سنت گردانے جاتے ہیں یا جن کو اہل سنت کہا جاتا ہے یا جو خود کو اہل سنت کہلوانا پسند کرتے ہیں عمومی طور پر ان کے اندر تین طرح کے رجحانات پائے جاتے ہیں۔ 1۔ سلفی رجحان، 2۔ تحریکی رجحان اور 3۔ صوفی رجحان۔برصغیر میں ان تینوں رجحانات کی نمائندہ جماعتیں موجود ہیں۔ جماعت اہل حدیث سلفی رجحان کی نمائندہ ہے، جماعت اسلامی اور تمام تجدد پسند تحریکی وعصرانی رجحان کی نمائندہ ہیں اور دیو بندی وبریلوی جماعتیں صوفی رجحان کی نمائندہ ہیں۔ ہر رجحان کے اپنے افکار ومعتقدات اور اصول وضوابط ہیں اور ان کے مطابق ان کی چلت پھرت اور نشاطات وتحرکات ہیں۔جماعت اسلامی جو کہ تحریکی رجحان کی مالک ہے اس میں بعض ایسی چیزیں بھی پائی جاتی ہیں جو قابل اعتراض ہ ہیں اور ان کی اصلاح کرنے کی ضرورت ہے۔ زیر تبصرہ کتاب "تحریکی رجحان، جماعت اسلامی کی بنیادی کمزوریاں" انڈیا کے عالم دین مولانا عبد المعید مدنی صاحب کی تصنیف ہے جس میں انہوں نے انہی رجحانات کی روشنی میں جماعت اسلامی کی بنیادی کمزوریوں پر روشنی ڈالی ہے۔ اللہ تعالی سے دعا ہے کہ وہ مولف کی اس محنت کو اپنی بارگاہ میں قبول فرمائے اور ان کے میزان حسنات میں اضافہ فرمائے۔ آمین(راسخ)

  • title-pages-khalaft-e-risalat-copy
    ابو الوفا ثناء اللہ امرتسری

    آج مہذب دنیا کے لوگوں کا تقاضا ہے کہ ہمیں ایسا مذہب بتاو جو نہ صرف اخروی وعدہ جنت ہم کو دے،بلکہ دنیا میں بھی کمال ترقی تک پہنچائے۔مسلمان ان کے اس تقاضا کو پورا کرنے کے مدعی ہیں،کہتے ہیں کہ آو ہم اسلام میں آپ کو یہ کوبی دکھاتے ہیں۔اسلام کی تاریخ زندہ ہے وہ بتاتی ہے کہ اسلام نے محض اخروی وعدوں پر اکتفاء نہیں کیا بلکہ دنیوی عزت دینے کا بھی وعدہ کیا ہے۔نہ صرف وعدہ کیا  بلکہ جو کہا وہ دلوا بھی دیا۔اسلام کی تاریخ میں اس کا بڑا واضح ثبوت موجود ہے کہ نبی کریم ﷺ ابتداء میں تنہا تھے لیکن آخر عمر میں آ کر ایک باقاعدہ حکومت کے صاحب تاج وتخت ہو کر جلوہ نما ہوئے تھے۔اور ایسا ہونا کوئی اتفاقی امرنہ تھا بلکہ وعدہ خداوندی کی تکمیل تھا۔نبی کریم ﷺ کی وفات کے بعد خلافت کے مسئلہ پر شیعہ سنی میں عرصہ دراز سے تنازع چلا آرہا ہے،اور قدیم زمانے سے فریقین نے اس مسئلہ پر بڑی بڑی کتب لکھی ہیں۔ زیر تبصرہ کتاب" خلافت رسالت " جماعت اہل حدیث کے معروف عالم دین ،امام المناطرین مولانا حافظ ثناء اللہ امرتسری﷫ کی تصنیف ہے جس میں انہوں نے شیعہ سنی کے اس قدیم تنازعے کو ایک جدید انداز سے حل کرنے کی کوشش کی ہے۔اللہ تعالی سے دعا ہے کہ وہ مولف کی اس کاوش کو قبول فرمائے اوران کے میزان حسنات میں اضافہ فرمائے۔آمین(راسخ)

  • title-page-khilafat-o-jamhooriat-copy
    عبد الرحمن کیلانی

    جس طرح سوشلزم سرمایہ دارانہ نظام کی دوسری انتہاء ہے بالکل اسی طرح موجودہ جمہوریت شخصی اور استبدادی حکومت کی دوسری انتہاء ہے- اسلام ہر معاملہ میں راہ اعتدال کو ترجیح دیتا ہے اسی لیے اس نے خلافت کا نظام متعارف کروایا ہے جس میں  ہر شخص کو اس کا جائز حق  عطا کیا جاتاہے- زیر نظر کتاب میں خلافت  وجمہوریت اور اس کی ضمنی مباحث کو تحقیقی اور علمی امانت کے ساتھ سپرد قلم کیا گیا ہے- کتاب کو تین حصوں میں تقسیم کیا گیا ہے-پہلے حصے میں خلفائے راشدین کا انتخاب  کس طرح عمل میں آیا ، پر تفصیلی بحث کی گئی ہےپھر  اس کے ضمن میں دیگر مباحث جن میں عورت کے ووٹ کا حق اور طلب امارت یا اس کی آرزو جیسے مسائل پر اپنی قیمتی آراء کا اظہار کیا گیاہے-کتاب کے دوسرے حصے میں دور نبوی اور خلفائے راشدین میں مشہور مجالس مشاورت اور اس کی ضمنی مباحث کو درج کیا گیاہے پھر ان تمام اعتراضات اور اشکالات کا حل پیش کیا گیا ہے جو جمہویت نوازوں کی طرف سے کیے جاتے ہیں-کتاب کے تیسرے اور آخری حصے میں ربط ملت کے تقاضے اور اسلامی نظام کی طرف پیش رفت  میں ایک مجمل سا خاکہ پیش کرتے ہوئے مغربی جمہوریت کے مزعومہ فوائد کا جائزہ لیا گیا ہے- جس سے اس بحث کو سمجھنے میں مدد ملے گی کہ موجودہ وقت میں اسلامی نظام حیات کی طرف کیسے پیش رفت کی جاسکتی ہے-

     

  • title-pages-khalafat-hamare-jumla-masail-ka-hall-copy
    چودھری رحمت علی

    دنیا میں پیدا ہونے والا ہر فرد اللہ تعالی کا خلیفہ یا دوسرے لفظوں میں اس کے دئیے ہوئے اختیارات کو ایک مدت تک استعمال کرنے پر قادر ہے۔البتہ کاروبار حیات چلانے کے لئے ہر شخص اپنی اپنی خلافت کا ایک اس شخصیت میں مرتکز کرنے کا پابند ہے جسے اسلام کی زبان میں خلیفۃ المسلمین کہا جاتا ہے،اور جو اس نظام کا سربراہ ہوتا ہے جس نظام کو اللہ تعالی اس دنیا میں برپا اور رواں دواں دیکھنا چاہتے ہیں۔اسلامی نظامِ حیات میں جہاں عبادت کی اہمیت ہے وہیں معاملات ومعاشرت اور اخلاقیات کو بھی اولین درجہ حاصل ہے،اسلام کاجس طرح اپنانظامِ معیشت ہے اوراپنے اقتصادی اصول ہیں اسی طرح اسلام کا اپنانظامِ سیاست وحکومت ہے،اسلام کا نظامِ سیاست وحکم رانی موجودہ جمہوری نظام سے مختلف اوراس کے نقائص ومفاسد سے بالکلیہ پاک ہے،لیکن اسلام میں سیاست شجرِ ممنوعہ نہیں ہے،یہ ایسا کامل ضابطہٴ حیات ہے جو نہ صرف انسان کو معیشت ومعاشرت کے اصول وآداب سے آگاہ کرتا ہے، بلکہ زمین کے کسی حصہ میں اگراس کے پیرو کاروں کواقتدار حاصل ہو جائے تووہ انہیں شفاف حکم رانی کے گربھی سکھاتاہے، عیسائیت کی طرح اسلام”کلیسا“ اور” ریاست“ کی تفریق کاکوئی تصورپیش نہیں کرتا۔ زیر تبصرہ کتاب" خلافت ہمارے جملہ مسائل کا حل"محترم جناب چودھری رحمت علی صاحب کی تصنیف ہے۔مولف نے اپنی اس کتاب میں اسلامی نظام خلافت  کی اہمیت وضرورت پر روشنی ڈالی ہے۔ اللہ تعالی سے دعا ہے کہ وہ مولف کی اس کاوش کو قبول فرمائے اوران کے میزان حسنات میں اضافہ فرمائے۔آمین(راسخ)

  • title-pages-soudi-arab-me-adalti-tanzem-e-islami-copy
    ڈاکٹر سعود بن سعد آل دریب

    کسی بھی قوم کی نشوونما اور تعمیر  وترقی کےلیے  عدل وانصاف ایک بنیادی ضرورت ہے  ۔جس سے مظلوم کی نصرت ،ظالم کا قلع  قمع اور جھگڑوں کا  فیصلہ کیا جاتا ہے  اورحقوق کو ان کےمستحقین تک پہنچایا جاتاہے  اور  دنگا فساد کرنے والوں کو سزائیں دی جاتی ہیں  ۔تاکہ معاشرے  کے ہرفرد کی جان  ومال ،عزت وحرمت اور مال واولاد کی حفاظت کی جا  سکے ۔ یہی وجہ ہے  اسلام نے ’’قضا‘‘یعنی قیام عدل کاانتہا درجہ اہتمام کیا ہے۔اوراسے انبیاء ﷩ کی سنت  بتایا ہے۔اور نبی کریم ﷺ کو اللہ تعالیٰ نے  لوگوں میں فیصلہ کرنے کا  حکم  دیتےہوئے  فرمایا:’’اے نبی کریم ! آپ لوگوں کےدرمیان اللہ  کی  نازل کردہ ہدایت کے مطابق فیصلہ کریں۔‘‘ نبی کریمﷺ کی  حیات مبارکہ مسلمانوں کےلیے دین ودنیا کے تمام امور میں مرجع کی حیثیت رکھتی ہے۔ آپ کی تنہا ذات میں حاکم،قائد،مربی،مرشد اور منصف  اعلیٰ کی تمام خصوصیات جمع تھیں۔جو لوگ آپ کے فیصلے پر راضی  نہیں ہوئے  ا ن کے بارے  میں اللہ تعالیٰ نے  قرآن کریم میں سنگین وعید نازل فرمائی اور اپنی ذات کی  قسم کھا کر کہا کہ آپ  کے فیصلے تسلیم نہ کرنے  والوں کو اسلام سے خارج قرار دیا ہے۔نبی کریمﷺ کےبعد  خلفاء راشدین  سیاسی قیادت ،عسکری سپہ سالاری اور دیگر ذمہ داریوں کے ساتھ  منصف وقاضی کے مناصب پر بھی فائزر ہے اور خلفاءراشدین نےاپنے  دور ِخلافت  میں دور دراز شہروں میں  متعدد  قاضی بناکر بھیجے ۔ائمہ محدثین نےنبی ﷺ اور صحابہ کرام  کے  فیصلہ جات کو  کتبِ  احادیث میں نقل کیا ہے۔ عصر حاضر میں سعودی عرب  کا نظام عدل بھی اسلامی شریعت کی تنفیذ وتطبیق کا قابل تقلید نمونہ اور مثالی مظہر سمجھا جاتا ہے جس کی وجہ سے ا س کا امن وامان برقرار ہے اور  وہ خوش حالی اور اطمینان وسکون کے اعتبار سے مرکزی مقام پر فائز ہے ۔ زیر تبصرہ کتاب  ’’ سعودی عرب میں عدالتی تنظیم اسلامی شریعت اور عدالتی اقتدار کی روشنی میں ‘‘ سعودی عدالت کے ایک فاضل استاذ  کی عربی تصنیف’’ التنظم القضائی فی المملکۃ العربیۃ السعودیۃ فی ضوء الشریعۃ الاسلامیۃ ونظام السلطۃ القضائیۃ‘‘ کا اردو ترجمہ ہے ۔اس کتاب میں  مصنف  موصوف نے اسلامی  شریعت کی انفرادیت اورعظمت اور اس کی  تنفیذ کے سلسلے میں مملکت سعودی عرب کی مخلصانہ وعادلانہ کدوکاوش اور لگن کی وضاحت کی ہے۔امام  محمد بن سعود اسلامک یونیورسٹی کے  علمی وتحقیقی ادارے نے اس کتاب کا اردو ترجمہ کرواکر  اسے حسن طباعت سے آراستہ کیا ۔(م۔ا)

  • title-pages-siasat-e-shariea--urdu--copy
    امام ابن تیمیہ

    ساتویں صدی ہجری کا دور ابتلاء وآزمائش کا دور تھا،اور اس کی سب سے بڑی وجہ اخلاق واعمال میں کتاب وسنت سے دامن بچانے کا مرض تھا۔امام ابن تیمیہ ﷫ کے لئے یہ صورت حال بڑی تکلیف دی تھی،آپ اس صورتحال کو برداشت نہ کر سکے،قلم سنبھالا،تلوار اٹھائی،وعظ وتقاریر کا سلسلہ چھیڑا اور جب مخالفت شروع ہوئی تو بے خطر مخالفت کے عظیم سمندر میں کود پڑےاور چراغ حرم کے پروانوں کو میر کارواں کی طرح پکارنا شروع کر دیا،یہاں تک کہ مذہبی ابتری اور سیاسی انتشار میں اتحاد وجمعیت کی صورتیں نظر آنے لگیں۔عصر حاضر میں مسلمانوں کے سیاسی نظریات میں جو تزلزل پایا جاتا ہے وہ ساتویں صدی ہجری سے کہیں زیادہ بڑھا ہوا ہے۔صرف پاکستان ہی میں نہیں تمام دنیا میں مسلمان سیاسی توازن قائم رکھنے میں بڑی حد تک ناکام ہوتے جا رہے ہیں۔جس کی سب سے بڑی وجہ ان اصولوں سے دوری  اور بے تعلقی ہے جن کو اسلام میں سیاست شرعیہ کہا گیا ہے۔ زیر تبصرہ کتاب " سیاست شرعیہ " امام ابن تیمیہ ﷫ کی ایک عظیم الشان اور تاریخی کتاب ہے،جس میں انہوں نے اسلامی سیاست کو کتاب وسنت کی روشنی میں پیش کیا ہے اور یہ بات مکمل طور پر واضح کر دی ہے کہ انسانی زندگی کے تمام شعبوں کے لئے خواہ وہ انتظامیہ سے تعلق رکھتے ہوں یا اخلاق ومعاملات سے ،اسلام نے جو نظام پیش کیا ہے وہ نہ صرف آخری ولازمی ہے بلکہ اس پر کاربند ہوئے بغیر نہ معاشرے میں خوبصورتی پیدا ہو سکتی ہے اور نہ ہی حکومتوں کے ایوانوں میں استحکام آ سکتا ہے۔امام ابن تیمیہ ﷫اس کتاب کا اردو ترجمہ مولانا ابو الکلام آزاد﷫ کے ایماء پر ان کے معتمد خاص جناب مولانا محمد اسمعیل گودھروی صاحب ﷫نے کیا ہے۔ اللہ تعالی سے دعا ہے کہ وہ مولف اور مترجم دونوں کی اس کاوش کو قبول فرمائے اوران کے میزان حسنات میں اضافہ فرمائے۔آمین(راسخ)

  • title-pages-seerat-e-rasool-ka-sayasi-pehlu-copy
    محمد طاسین

    دین اسلام مذہب اور سیاست کے درمیان علیحدگی کو تسلیم نہیں کرتا ہے۔اسلام اللہ تعالی کی جانب سے انسانوں کے تمام مادی اورروحانی معاملات میں رہنمائی کے لئے آیا ‏ہے۔ نبی کریم ﷺنے یہی کام اپنی مبارک زندگی میں عملی طور پر کر کے دکھایا ہے۔ اسلام میں یہ عقیدہ اور تصور باہر سے آیا ہے کہ دین کی روحانی اور معنوی تعلیمات پر ‏ایک علیحدہ طبقہ عمل کرے گا اور سیاست، نظامِ حکومت اور معاشرے کے معاملات دوسرا طبقہ سنبھالے گا۔ اسی لیے تو آپﷺاور ان کے بعد خلفائے راشدین ‏مسلمانوں کی حکومت اور نظام کے رہنما بھی تھے اور ان کے دینی رہنماء اور امام مسجد بھی۔‏ تاریخِ اسلام میں جب بھی معاشرے کو سیاسی اعتبار سے مسجد اور محراب سے قیادت اور رہنمائی ملی ہے،مسلمان قوت، سر بلندی اور فتوحات حاصل کرتے رہے۔ اس کے ‏برعکس جب بھی مسلمانوں کی سیاسی قیادت قوم پرستوں نے کی تو مسلمان ذلت اور آپسی جنگوں کا شکار ہو کر حکومت اور نظام گنوا بیٹھے۔ زیر نظر کتاب’’ سیرت رسول کا سیاسی پہلو ‘‘مولانا محمد طاسین صاحب کی کاوش ہے یہ کتابچہ دراصل دعوۃ اکیڈمی بین الاقوامی یونیورسٹی اسلام آباد کےزیراہتمام کروائے جانےتربیتی کورس کے شرکاء کےلیے مرتب کیا گیا ہے ۔ اس کتاب میں فاضل مصنف نے سرورکائنات سید الانبیاء حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ کی حیات طیبہ کے سیاسی پہلو پر اختصار سے روشنی ڈالی ہے ابتدا میں لفظ سیاست کے معانی ومطالب سےمتعلق بھی مختصر بحث کی ہے ۔(م۔ا)

  • title-pages-sharie-ahkam-ki-khilaf-warzi-pr-rasool-ullah-k-faisle-copy
    محمد بن فرج المالکی القرطبی

    کسی بھی قوم کی نشوونما اور تعمیر  وترقی کےلیے  عدل وانصاف ایک بنیادی ضرورت ہے  ۔جس سے مظلوم کی نصرت ،ظالم کا قلع  قمع اور جھگڑوں کا  فیصلہ کیا جاتا ہے  اورحقوق کو ان کےمستحقین تک پہنچایا جاتاہے  اور  دنگا فساد کرنے والوں کو سزائیں دی جاتی ہیں  ۔تاکہ معاشرے  کے ہرفرد کی جان  ومال ،عزت وحرمت اور مال واولاد کی حفاظت کی جا  سکے ۔ یہی وجہ ہے  اسلام نے ’’قضا‘‘یعنی قیام ِعدل کاانتہا درجہ اہتمام کیا ہے۔اوراسے انبیاء ﷩ کی سنت  بتایا ہے۔اور نبی کریم ﷺ کو اللہ تعالیٰ نے  لوگوں میں فیصلہ کرنے کا  حکم  دیتےہوئے  فرمایا:’’اے نبی کریم ! آپ لوگوں کےدرمیان اللہ  کی  نازل کردہ ہدایت کے مطابق فیصلہ کریں۔‘‘نبی کریمﷺ کی  حیاتِ مبارکہ مسلمانوں کے لیے دین ودنیا کے تمام امور میں مرجع کی حیثیت رکھتی ہے۔ آپﷺ کی تنہا ذات میں حاکم،قائد،مربی،مرشد اور منصف  اعلیٰ کی تمام خصوصیات جمع تھیں۔جو لوگ آپ کے فیصلے پر راضی  نہیں ہوئے  ا ن کے بارے  میں اللہ تعالیٰ نے  قرآن کریم میں سنگین وعید نازل فرمائی اور اپنی ذات کی  قسم کھا کر کہا کہ آپ  کے فیصلے تسلیم نہ کرنے  والوں کو اسلام سے خارج قرار دیا ہے۔نبی کریمﷺ کےبعد  خلفاء راشدین  سیاسی قیادت ،عسکری سپہ سالاری اور دیگر ذمہ داریوں کے ساتھ  منصف وقاضی کے مناصب پر بھی فائزر ہے اور خلفاءراشدین نےاپنے  دور ِخلافت  میں دور دراز شہروں میں  متعدد  قاضی بناکر بھیجے ۔ائمہ محدثین نےنبی ﷺ اور صحابہ کرام  کے  فیصلہ جات کو  کتبِ  احادیث میں نقل کیا ہے  ۔اور کئی اہل علم  نے   اس سلسلے میں   کتابیں تصنیف کیں ان میں سے   زیر تبصرہ کتاب” شرعی احکام کی خلاف ورزی پر رسول اللہﷺ کے فیصلے  ‘‘ امام ابو عبد اللہ  محمدبن  فرج  المالکی   کی  نبی  کریم ﷺ کے  فیصلوں پر مشتمل   کتاب ’’اقضیۃ الرسول  ﷺ ‘‘  کا  اردو ترجمہ ہے  ۔ یہ کتاب  ان فیصلوں اورمحاکمات پرمشتمل ہے جو  نبی ﷺ نے اپنے 23 سالہ دور نبوت میں مختلف مواقع پر صادر فرمائے۔اس کتاب    میں  مصنف نے  وہ تمام فیصلے درج  کردئیے ہیں جو  فیصلے آپ نے خود فرمائے یاوہ فیصلے کرنے کا  آپ نے حکم فرمایا  ہے۔کتاب ہذا کا  ترجمہ    مولانا عبد الصمد ریالوی﷾ نے کیا ہے  اوراحادیث کی تحقیق وتخریج کا کام الشیخ طالب عواد نے کیا ہے۔ ادارہ   معارف اسلامی منصورہ نے   بھی تقریبا  28  سال قبل اس کاترجمہ کر وا کر شائع کیا تھا۔یہ اس  نسخے کا ترجمہ تھا جس پر ڈاکٹر ضیاء الرحمن  اعظمی ﷾نے تحقیق وتخریج کا  کام  کر کے   جامعہ ازہر ،مصر  سےپی   ایچ ڈی کی ڈگری حاصل کی ۔یہ کتاب  قانون دان حضرات اور اسلامی آئین وقانون کے نقاذ سےدلچسپی رکھنے والے  احباب کے لیے ایک نعمت غیر مترقبہ ہے  ۔اللہ تعالیٰ مصنف ، محقق ،مترجم اور ناشرین کی اس کاوش کوقبول فرمائے اور اس کو  وطن عزیز میں اسلامی آئین وقانون کی تدوین وتفیذ کا ایک  مؤثر ذریعہ بنائے (آمین) (م۔ا)

  • pages-from-adalat-e-nabvi-key-faisley
    عبد اللہ قرطبی

    کسی بھی قوم کی نشوونما اور تعمیر وترقی کےلیے عدل وانصاف ایک بنیادی ضرورت ہے ۔جس سے مظلوم کی نصرت ،ظالم کا قلع قمع اور جھگڑوں کا فیصلہ کیا جاتا ہے اورحقوق کو ان کےمستحقین تک پہنچایا جاتاہے اور دنگا فساد کرنے والوں کو سزائیں دی جاتی ہیں ۔تاکہ معاشرے کے ہرفرد کی جان ومال ،عزت وحرمت اور مال واولاد کی حفاظت کی جا سکے ۔ یہی وجہ ہے اسلام نے ’’قضا‘‘یعنی قیام عدل کاانتہا درجہ اہتمام کیا ہے۔اوراسے انبیاء ﷩ کی سنت بتایا ہے۔اور نبی کریم ﷺ کو اللہ تعالیٰ نے لوگوں میں فیصلہ کرنے کا حکم دیتےہوئے فرمایا:’’اے نبی کریم ! آپ لوگوں کےدرمیان اللہ کی نازل کردہ ہدایت کے مطابق فیصلہ کریں۔‘‘نبی کریمﷺ کی حیات مبارکہ مسلمانوں کے لیے دین ودنیا کے تمام امور میں مرجع کی حیثیت رکھتی ہے۔ آپ کی تنہا ذات میں حاکم،قائد،مربی،مرشد اور منصف اعلیٰ کی تمام خصوصیات جمع تھیں۔جو لوگ آپ کے فیصلے پر راضی نہیں ہوئے ا ن کے بارے میں اللہ تعالیٰ نے قرآن کریم میں سنگین وعید نازل فرمائی اور اپنی ذات کی قسم کھا کر کہا کہ آپ کے فیصلے تسلیم نہ کرنے والوں کو اسلام سے خارج قرار دیا ہے۔نبی کریمﷺ کےبعد خلفاء راشدین سیاسی قیادت ،عسکری سپہ سالاری اور دیگر ذمہ داریوں کے ساتھ منصف وقاضی کے مناصب پر بھی فائزر ہے اور خلفاءراشدین نےاپنے دور ِخلافت میں دور دراز شہروں میں متعدد قاضی بناکر بھیجے۔ ائمہ محدثین نےنبی ﷺ اور صحابہ کرام ﷢کے فیصلہ جات کو کتبِ احادیث میں نقل کیا ہے۔اوربعض اہل علم نے نبی کریم ﷺ اور صحابہ کرام﷢کے فیصلہ جات پرمشتمل کتب بھی تصنیف کی ہیں۔ زیرتبصرہ کتاب’’عدالت نبوی کے فیصلے ‘‘از عبد اللہ القرطبی بھی اس سلسلے کی ایک کڑی ہے۔ مصنف نے اس کتاب میں وہ مقدمات او ر فیصلےجمع کردئیے ہیں جو قاضی بالحق حضرت محمدﷺ کے دربار عالی میں وقتاً وفوقتاً پیش ہوتے رہے۔ (م۔ا)

  • title-pages-adal-o-insaf
    حبیب الرحمن
    انیسویں اور بیسویں صدی میں غیر مسلم مستشرقین Goldzehar اور Guillau me وغیرہ نے دین اسلام کے دو بنیادی ماخذ میں سے ایک کو موضوع تحقیق بناتے ہوئے مغربی ذرائع علم اور اپنے زیر تربیت مسلم محققین کو بڑی حد تک یہ بات باور کرا دی کہ حدیث کی حیثیت ایک غیر معتبر تاریخی بلکہ قیاسی بیان کی سی ہے، اس میں مختلف محرکات کے سبب تعریفی و توصیفی بیانات کو شامل کر لیا گیا ہے اور بہت سی گردش کرنے والی افواہوں کو جگہ دے دی گئی ہے۔ اس سب کے پیچھے یہ مقصد کار فرما تھا کہ دینی علوم سے غیر متعارف ذہن اس نہج پر سوچنا شروع کر دے کہ ایک مسلمان کے لیے زیادہ محفوظ یہی ہے کہ وہ قرآن کریم پر اکتفا کر لے اور حدیث کے معاملہ میں پڑ کر بلاوجہ اپنے آپ کو پریشان نہ کرے۔ اس غلط فکر کی اصلاح الحمد للہ امت مسلمہ کے اہل علم نے بروقت کی اور اعلیٰ تحقیقی و علمی سطح پر ان شکوک و شبہات کا مدلل، تاریخی اور عقلی جواب فراہم کیا۔ دعوۃ اکیڈمی اسلام آباد کی جانب سے مطالعہ حدیث کورس ایک ایسی کوشش ہے جس میں مستند اور تحقیقی مواد کو سادہ اور مختصر انداز سے 24 دروس میں مرتب کیا گیا ہے۔ اس وقت آپ کے سامنے مطالعہ حدیث کورس کا تیئسواں حصہ ہے، جس کا موضوع عدل و انصاف ہے۔ اس یونٹ میں آپ عدل و انصاف کے اسلامی اصول، قاضیوں کے لیے رہنما اصول اور ہدایت، عادل اور غیر عادل قاضی، منصب قضا کی خواہش و طلب، جھوٹے دعویدار اور جھوٹی قسم کھانے والوں کا ٹھکانا اور عدالتی آداب کا مطالعہ فرمائیں گے۔(ع۔م)

  • title-pages-asre-hazir-aur-islam-ka-nizam-e-qanoon-copy
    ڈاکٹر محمد امین

    جب کوئی معاشرہ مذہب کو اپنے قانون کا ماخذ بنا لیتا ہے تو اس کے نتیجے میں علم فقہ وجود پذیر ہوتا ہے۔ علم فقہ، دین کے بنیادی ماخذوں سے حاصل شدہ قوانین کے ذخیرے کا نام ہے۔ چونکہ دین اسلام میں قانون کا ماخذ قرآن مجید اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم کی سنت ہے اس وجہ سے تمام قوانین انہی سے اخذ کیے جاتے ہیں۔ جب قرآن و سنت کی بنیاد پر قانون سازی کا عمل شروع کیا جائے تو اس کے نتیجے میں متعدد سوالات پیدا ہو جاتے ہیں۔قرآن مجید کو کیسے سمجھا جائے؟قرآن مجید کو سمجھنے کے لئے کس کس چیز کی ضرورت ہے؟ سنت کو سمجھنے کے لئے کس کس چیز کی ضرورت ہے؟ سنت کہاں سے اخذ کی جائے گی وغیرہ وغیرہ۔ ان سوالوں کا جواب دینے کے لئے جو فن وجود پذیر ہوتا ہے، اسے اصول فقہ کہا جاتا ہے۔اور تمام قدیم مسالک (احناف،شوافع،حنابلہ اور مالکیہ)نے قرآن وسنت سے احکام شرعیہ مستنبط کرنے کے لئے  اپنے اپنے اصول وضع کئے  ہیں۔بعض اصول تو تمام مکاتب فکر میں متفق علیہ ہیں جبکہ بعض میں اختلاف بھی پایا جاتا ہے۔ زیر تبصرہ کتاب " عصر حاضر اور اسلام کا نظام قانون " محترم ڈاکٹر محمد امین صاحب کی تصنیف ہے۔جس میں فقہ اسلامی،علم اصول فقہ،فقہ اسلامی کے امتیازی خصائص،اہم فقہی علوم اور مضامین ایک تعارف،تدوین فقہ اور مناہج فقہاء،اسلامی قانون کے بنیادی تصورات،مقاصد شریعت اور اجتہاد،اسلام کا دستوری اور انتظامی قانون،اسلام کا قانون جرم وسزا،اسلام کا قانون تجارت ومالیات،مسلمانوں کا بے مثال فقہی ذخیرہ ایک جائزہ،اور فقہ اسلامی دور جدید میں جیسے عنوانات جمع  ہیں۔اللہ تعالی سے دعا ہے کہ وہ مولف کی اس کاوش کو قبول فرمائے اور پاکستاب میں اسلامی قانون کا نفاذ فرمائے۔آمین(راسخ)

  • pages-from-aurat-ki-sarbrahi-ka-masla
    حافظ صلاح الدین یوسف

    اللہ تعالی نے مرد اور عورت کو پیدا فرما کر ان کے دائرہ کار بھی متعین کر دئیے ہیں کہ مرد کی کون کون سی ذمہ داریاں ہیں اور عورت کی کیا ذمہ داریاں ہیں۔مرد چونکہ عورتوں کی نسبت زیادہ طاقتور، حوصلہ مند اور فہم وفراست کا حامل ہوتا ہے، اس لئے اللہ تعالی اسے قیادت وسیادت جیسی ذمہ داریوں سے سرفراز فرمایا ہے جبکہ عورت نازک ،کمزور اور ناقص العقل ہوتی ہے اسلئے اللہ تعالی نے اس کی سیادت وقیادت کو قبول نہیں فرمایا۔نبی کریم ﷺ کا فرمان ہے کہ وہ قوم ہر گز فلاح نہیں پا سکتی جو اپنی سربراہ عورت کو بنا لیتی ہے۔پاکستان میں پیپلز پارٹی کی حکومت کے دوران جن محترمہ بینظیر بھٹو وزیر اعظم بنی تو اہل علم نے اس پر تنقید کی اور حق کو واضح کرنے کی کوشش کی کہ اسلامی نقطہ نظر سے کوئی بھی عورت حکمران یا کسی ملک کی سربراہ نہیں بن سکتی ہے۔ زیر تبصرہ کتاب " عورت کی سربراہی کا مسئلہ اور شبہات ومغالطات کا ایک جائزہ "پاکستان کے معروف عالم دین اور متعدد کتب کے مصنف سابق مدیر ہفت روزہ الاعتصام لاہور محترم حافظ صلاح الدین یوسف صاحب کی تصنیف ہے،جس میں انہوں نے عورت کی سربراہی کے حوالے سے مستند اور مدلل دلائل کے ذریعے ثابت کیا ہے کہ عورت کا سربراہ بننا شرعا ناجائز،حرام اور شریعت اسلامیہ سے بغاوت ہے۔ اور جو قوم کسی عورت کو اپنا سربراہ بنا لیتی ہے وہ کبھی کامیاب نہیں ہوتی ہے۔ اللہ تعالی سے دعا کہ وہ مولف کی اس محنت کو قبول فرمائے اور ان کے میزان حسنات میں اضافہ فرمائے۔آمین(راسخ)

  • title-pages-quwwat-e-iqtidar-aik-jadeed-muashrti-tajzia
    برٹر نڈرسل
    برٹرنڈرسل نہ صرف یہ کہ ایک بہترین ماہر منطق کے طور پر جانا جاتا ہے بلکہ اس نے عالمانہ اور دانشورانہ مباحث یعنی تجزیاتی فلسفے کے عظیم مبلغ کی حیثیت سے بھی شہرت حاصل کی۔ زیر مطالعہ کتاب ’قوت اقتدار ایک جدید معاشرتی تجزیہ‘ بھی موصوف کی اقتدار کے موضوع پر ایک شاندار کتاب کا اردو قالب ہے۔ رسل کی تصنیف نہایت قیمتی اور مفید نظریات و تصورات پیش کرتی ہے جن کے ذریعے دانش اور علم کے متعلق فہم حاصل ہوتا ہے۔ جب ہم اس کتاب کا مطالعہ کرتے ہیں تو پھر ہمیں ذرائع ابلاغ و اطلاعات اور تشہیری مہم کے غلبے کے خطرات کا اندازہ ہوتا ہے، یہ بھی پتہ چلتا ہے کہ فسطائیت، نازی ازم اور سٹالن ازم نے کس طرح ذرائع ابلاغ و اطلاعات کے غلط استعمال کی حوصلہ افزائی کی۔ علاوہ ازیں یہ کتاب جمہوری حکومتوں کے تشدد اور عدم تحمل و برداشت کے پھیلاؤ اور خطرے سے بھی آگاہ کرتی ہے۔ کتاب کے مندرجات سے بعض اختلافات کے باوجود یہ ایک ایسی صورت میں ہمارے سامنے آتی ہے جس میں درج قیمتی اور دانشوارنہ معلومات ہمیں حقیقت حال سے بہرہ ور کرتی ہے۔(ع۔م)
  • title-pages-qiyadat-aur-halakat-e-aqwam
    خلیل الرحمن چشتی
    دو ہزار پانچ میں پاکستان کے اندر  زلزلے کے بہت خطرناک جھٹکے آئے تھے ۔ ایک مذہبی و دینی ملک ہونے کے ناطے سے مملکت خداد کے اندر کئی ایک بحثوں نے جنم لیا ۔ مثلا زلزلے کے بارے میں ایک رائے یہ اپنائی گئی کہ یہ عذاب الہی ہے ۔ یعنی متاثرہ علاقوں میں لوگوں کی برائیاں اس قدر بڑھ  گئیں تھیں کہ ان کے اوپر اللہ کا عذاب نازل ہو گیا ۔ چناچہ اس توجیہ کے ضمن میں ایک اہم ترین سوال یہ پیدا ہوا کہ اگر یہی صورتحال تھی تو پھر دیگر کئی ایک شہروں میں جہاں برائی کی یہی صورت تھی یا اس سے بھی بڑھ کر تھی وہاں کیوں نہیں یہ عذاب نازل ہوا؟ اس سلسلے میں دوسری رائے یہ تھی کہ  یہ خدا کی طرف سے عذاب نہیں بلکہ ایک آزمائش تھی ۔ یعنی اللہ نے اپنے بندوں کو آزمایا ہے کہ وہ راہ حق یا صراط مستقیم پر کس قدر گامزن ہیں؟ اس تناظر میں سیکو لر حلقوں کی طرف سے اس خیال کا اظہار کیا گیا کہ اس طرح کی مذہبی توجیہات غیر حقیقی اور غیر سائنسی و علمی ہیں ۔ اس باب میں ہمیں خالصتا سائنٹیفک توجیہ کرنی چاہیے ۔ درج ذیل کتاب میں انہی آراء کو سامنے رکھتے ہوئے قرآن وسنت کی روشنی میں ان کا تجزیہ کیا گیا ہے ۔ اس رائے میں قرآن کا اصلی مؤقف واضح کرنے کی کوشش کی گئی ہے ۔ قرآن نے گزشتہ اقوام کی ہلاکت کے جو اسباب بیان کیے ہیں انہیں سامنے رکھتے ہوئے قانون عذاب الہی کا تعین کرنے کی سعی کی گئی ہے ۔ اللہ  مصنف کتاب خلیل الرحمان چشتی کو بے بہا اجر سے نوازے وہ ایک عرصہ لوگوں کو قرآن سمجھانے میں مصروف عمل ہیں ۔ (ع۔ح)

    نوٹ:
    محدث فورم میں اس کتاب پر تبصرہ کرنے کے لیے یہاں کلک کریں
  • pages-from-masala-ain-o-hakoomat
    ریاض الحسن نوری

    اسلام نے ہمیں زندگی کے تمام شعبوں کے بارے میں راہنمائی فراہم کی ہے۔عبادات ہوں یا معاملات،تجارت ہو یا سیاست،عدالت ہو یا قیادت ،اسلام نے ان تمام امور کے بارے میں مکمل تعلیمات فراہم کی ہیں۔اسلام کی یہی عالمگیریت اور روشن تعلیمات ہیں کہ جن کے سبب اسلام دنیا میں اس تیزی سے پھیلا کہ دنیا کی دوسرا کوئی بھی مذہب اس کا مقابلہ نہیں کر سکتا ہے۔اسلامی تعلیمات نہ صرف آخرت کی میں چین وسکون کی راہیں کھولتی ہیں ،بلکہ اس دنیوی زندگی میں اطمینان ،سکون اور ترقی کی ضامن ہیں۔اسلام کی اس بے پناہ مقبولیت کا ایک سبب مساوات ہے ،جس سے صدیوں سے درماندہ لوگوں کو نئی زندگی ملی اور وہ مظلوم طبقہ جو ظالموں کے رحم وکرم پر تھا اسے اسلام کے دامن محبت میں پناہ ملی۔ اسلام ایک مکمل ضابطہ حیات اور دستور زندگی ہے۔اسلامی نظامِ حیات میں جہاں عبادت کی اہمیت ہے وہیں معاملات ومعاشرت اور اخلاقیات کو بھی اولین درجہ حاصل ہے،اسلام کاجس طرح اپنانظامِ معیشت ہے اوراپنے اقتصادی اصول ہیں اسی طرح اسلام کا اپنانظامِ سیاست وحکومت ہے،اسلام کا نظامِ سیاست وحکم رانی موجودہ جمہوری نظام سے مختلف اوراس کے نقائص ومفاسد سے بالکلیہ پاک ہے۔ زیر تبصرہ کتاب "مسئلہ آئین وحکومت"محترم ریاض الحسن نوری صاحب کی تصنیف ہے ، جس میں انہوں نے اسلام کے آئین اور طرز حکمرانی کی خوبیاں بیان کرتے ہوئے اسے انسانیت کے تحفہ ربانی قرار دیا ہے۔اور دیگر نظاموں کے جبرواستبداد اور ظلم وستم کو اجاگر کیا ہے۔اللہ تعالی سے دعا ہے کہ وہ ان کی اس کاوش کو قبول فرمائے اور ان کے میزان حسنات میں اضافہ فرمائے۔ آمین (راسخ)

  • title-pages-masla-e-khilafat
    ابو الکلام آزاد
    مولانا ابو الکلام آزاد جہاں تقریر و خطابت کے میدان میں نمایاں مقام رکھتے ہیں وہیں ایک عالی مرتبت عالم دین کی ہستی بھی ان کے اندر موجود ہے۔ جس کا حقیقی اندازہ مولانا کی زیر نظر کتاب ’مسئلہ خلافت‘ کے مطالعے سے ہوگا۔ خلافت کے موضوع پر متعدد کتب سامنے آ چکی ہیں لیکن مولانا نے اس کتاب میں جس طرح موضوع بحث کو سمیٹا ہے یہ انہی کا خاصہ ہے۔ انہوں نے خلافت سے متعلقہ حارث اشعری کی حدیث کی تشریح کرتے ہوئے امامت و خلافت کی شرائط بیان کی ہیں اور اس پر نصوص سنت اور اجماع اشمت سے دلائل ثبت کئے ہیں۔ حکمران کے خلاف کے خروج کے تناظر میں واقعہ امام حسین پر روشنی ڈالتے ہوئے بحث کو مسلمانان ہند خلافت سلاطین عثمانیہ تک لے آئے ہیں۔ علاوہ ازیں جزیرہ عرب کی تحدید، ترک موالات اور مسلمانان ہند اور نظم جماعت جیسے موضوعات بھی کتاب کی زینت ہیں۔


ای میل سبسکرپشن

محدث لائبریری کی اپ ڈیٹس بذریعہ ای میل وصول کرنے کے لئے ای میل درج کر کے سبسکرائب کے بٹن پر کلک کیجئے۔

 

ایڈوانس سرچ

موضوعاتی فہرست

رجسٹرڈ اراکین

آن لائن مہمان

محدث لائبریری پر اس وقت الحمدللہ 1053 مہمان آن لائن ہیں ، لیکن کوئی رکن آن لائن نہیں ہے۔

ایڈریس

       99-جے ماڈل ٹاؤن،
     نزد کلمہ چوک،
     لاہور، 54700 پاکستان

       0092-42-35866396، 35866476، 35839404

       0092-423-5836016، 5837311

      KitaboSunnat@gmail.com

      بنک تفصیلات کے لیے یہاں کلک کریں