• pages-from-aina-islami-tahzeeb-o-tamaddan
    پروفیسر مزمل احسن شیخ

    نبی اکرم ﷺ کی سیرتِ مبارکہ نے ملتِ اسلامیہ کی زندگی کے ہر پہلو کے لئے راہنمائی فراہم کی ہے۔ ان میں سے ایک پہلو ثقافتی اور تہذیبی بھی ہے۔ دنیا کی تمام تہذیبوں اور ثقافتوں کے مقابلے میں اسلام کی تہذیب و ثقافت بالکل منفرد اور امتیازی خصوصیات کی حامل ہے۔ اس کی بنیادی وجہ وہ اُصول و ضوابط اور افکار و نظریات ہیں جو نبی اکرم ﷺ نے اپنے اُسوہ حسنہ کے ذریعے اُمتِ مسلمہ کو عطا فرمائے ہیں۔ ثقافت کی تمام ترجہات میں اُسوہ حسنہ سے ہمیں ایسی جامع راہنمائی میسر آتی ہے جس سے بیک وقت نظری، فکری اور عملی گوشوں کا احاطہ ہوتا ہے۔ ایسی جامعیت دنیا کی کسی دوسری تہذیب یا ثقافت میں موجود نہیں ہے۔ مغربی مفکرین اسلام اور پیغمبر اسلام کے بارے میں اپنے تمام تر تعصبات کے با وجود اسلام کی عظیم الشان تہذیب اور ثقافت کی نفی نہیں کر سکے۔ انہیں برملا اعتراف کرنا پڑا کہ مسلمانوں نے یورپ کو تہذیب کی شائستگی کی دولت ہی سے نہیں نوازا بلکہ شخصیت کی تعمیر و کردار کے لئے بنیادیں فراہم کیں، تاریکی میں ڈوبے ہوئے یورپ کو ثقافت کی روشنی سے ہمکنار کیا، جنگل کے قانون کی جگہ ابن آدم کو شرفِ انسانی کی توقر و احترام کا شعور عطا کیا اور یوں اس کرہ ارضی پر ان مہذب معاشروں کے قیام کی راہ ہموار کی جو آج بھی تاریخ کے ماتھے کا جھومر ہیں۔ زیر تبصرہ کتاب "آئینہ اسلامی تہذیب وتمدن "محترم پروفیسر مزمل احسن شیخ صاحب، ابو طاہر صدیقی صاحب اور ابو خالد صدیقی صاحبان کی مشترکہ کوشش ہے،جس میں انہوں نے بڑی خوبصورتی کے ساتھ اسلامی تہذیب وثقافت پر روشنی ڈالی ہے۔ یہ کتاب انہوں نے انٹر میڈیٹ علوم اسلامیہ کے امتحان کے لئے تیار کی ہے۔ اللہ تعالی ان کی اس کاوش کو قبو ل فرمائے۔ آمین(راسخ)

  • title-pages-islami-aur-gair-islami-tehzeeb-copy
    امام ابن تیمیہ

    اسلام ایک مکمل ضابطہ حیات اور دستور زندگی ہے۔اس کی اپنی تہذیب اور اپنی ثقافت ہے۔ نبی اکرم ﷺ کی سیرتِ مبارکہ نے ملتِ اسلامیہ کی زندگی کے ہر پہلو کے لئے راہنمائی فراہم کی ہے۔ ان میں سے ایک پہلو ثقافتی اور تہذیبی بھی ہے۔ دنیا کی تمام تہذیبوں اور ثقافتوں کے مقابلے میں اسلام کی تہذیب و ثقافت بالکل منفرد اور امتیازی خصوصیات کی حامل ہے۔ اس کی بنیادی وجہ وہ اُصول و ضوابط اور افکار و نظریات ہیں جو نبی اکرم ﷺ نے اپنے اُسوہ حسنہ کے ذریعے اُمتِ مسلمہ کو عطا فرمائے ہیں۔ ثقافت کی تمام ترجہات میں اُسوہ حسنہ سے ہمیں ایسی جامع راہنمائی میسر آتی ہے جس سے بیک وقت نظری، فکری اور عملی گوشوں کا احاطہ ہوتا ہے۔ ایسی جامعیت دنیا کی کسی دوسری تہذیب یا ثقافت میں موجود نہیں ہے۔ مغربی مفکرین اسلام اور پیغمبر اسلام کے بارے میں اپنے تمام تر تعصبات کے باوجود اسلام کی عظیم الشان تہذیب اور ثقافت کی نفی نہیں کر سکے۔ انہیں برملا اعتراف کرنا پڑا کہ مسلمانوں نے یورپ کو تہذیب کی شائستگی کی دولت ہی سے نہیں نوازا بلکہ شخصیت کی تعمیر و کردار کے لئے بنیادیں فراہم کیں ہیں ۔
    زیر تبصرہ کتاب’’اسلام اور غیر اسلامی تہذیب‘‘ شیخ الاسلام ابن تیمیہ ﷫ کی کتاب اقتضاء الصراط المستقیم میں سے اسلامی تہذیب وثقافت پر مشتمل حصہ کا اختصار وترجمہ ہے ۔اس میں امام ابن تیمیہ ﷫ نے اسلامی تہذیب کے اصول ومبادی اسلامی وغیراسلامی تہذیبوں کے حدود، غیر مسلم قوموں سے مشابہت اوربدعات پر کتاب وسنت کی روشنی میں حکیمانہ اور ایمان افروز انداز میں گفتگو کی ہے ۔ اقتضاء الصراط المستقیم کی اس بحث کی تلخیص وترجمہ مجلس تحقیقات ونشریات اسلام ،لکھنؤ کے رفیق جناب مولوی شمس تبریزخاں نےکیا ہے ۔(م۔ا)

  • title-pages-islami-tamadun-w-tareekh-copy
    پروفیسر نذیر احمد بھٹی

    نبی اکرم ﷺ کی سیرتِ مبارکہ نے ملتِ اسلامیہ کی زندگی کے ہر پہلو کے لئے راہنمائی فراہم کی ہے۔ ان میں سے ایک پہلو ثقافتی اور تہذیبی بھی ہے۔ دنیا کی تمام تہذیبوں اور ثقافتوں کے مقابلے میں اسلام کی تہذیب و ثقافت بالکل منفرد اور امتیازی خصوصیات کی حامل ہے۔ اس کی بنیادی وجہ وہ اُصول و ضوابط اور افکار و نظریات ہیں جو نبی اکرم ﷺ نے اپنے اُسوہ حسنہ کے ذریعے اُمتِ مسلمہ کو عطا فرمائے ہیں۔ ثقافت کی تمام ترجہات میں اُسوہ حسنہ سے ہمیں ایسی جامع راہنمائی میسر آتی ہے جس سے بیک وقت نظری، فکری اور عملی گوشوں کا احاطہ ہوتا ہے۔ ایسی جامعیت دنیا کی کسی دوسری تہذیب یا ثقافت میں موجود نہیں ہے۔ مغربی مفکرین اسلام اور پیغمبر اسلام کے بارے میں اپنے تمام تر تعصبات کے باوجود اسلام کی عظیم الشان تہذیب اور ثقافت کی نفی نہیں کر سکے۔ انہیں برملا اعتراف کرنا پڑا کہ مسلمانوں نے یورپ کو تہذیب کی شائستگی کی دولت ہی سے نہیں نوازا بلکہ شخصیت کی تعمیر و کردار کے لئے بنیادیں فراہم کیں، تاریکی میں ڈوبے ہوئے یورپ کو ثقافت کی روشنی سے ہمکنار کیا، جنگل کے قانون کی جگہ ابن آدم کو شرفِ انسانی کی توقر و احترام کا شعور عطا کیا اور یوں اس کرہ ارضی پر ان مہذب معاشروں کے قیام کی راہ ہموار کی جو آج بھی تاریخ کے ماتھے کا جھومر ہیں۔ زیر تبصرہ کتاب " اسلامی تمدن وتاریخ "محترم پروفیسر عثمان غنی اور محترم پروفیسر نذیر احمد بھٹی صاحبان کی مشترکہ کوشش ہے،جس میں انہوں نے  بڑی خوبصورتی کے ساتھ اسلامی تہذیب وثقافت  پر روشنی ڈالی ہے۔یہ کتاب انہوں نے انٹر میڈیٹ علوم اسلامیہ کے امتحان کے لئے تیار کی ہے۔ اللہ تعالی ان کی اس کاوش کو قبو ل فرمائے۔آمین(راسخ)

  • title-pages-islami-tehzeeb-ki-tafheem-e-jadeed-copy
    ڈاکٹر محمد علی ضناوی

    اسلام ایک مکمل ضابطہ حیات اور دستور زندگی ہے ،جس میں زندگی کے ہر ہر گوشے سے متعلق  راہنمائی موجود ہے۔اس کی ایک اپنی ثقافت ،اپنی تہذیب اور اپنا کلچر ہے ،جو اسے دیگر مذاہب سے نمایاں اور ممتاز کرتا ہے۔یہی وجہ ہے کہ جب کوئی شخص اسلام لاتا ہے تواس میں متعدد تبدیلیاں پیدا ہوتی ہیں۔اس کی دوستی اور دشمنی کے معیارات بدل جاتے ہیں۔وہ دنیوی مفادات اور لالچ سے بالا تر ہو کر صرف اللہ کی رضا کے لئے دوستی رکھتا ہے اور اللہ کی رضا کے لئے ہی دشمنی کرتا ہے۔جس کے نتیجے میں کل تک جو اس کے دوست ہوتے ہیں ،وہ دشمن قرار پاتے ہیں اور جو دشمن ہوتے ہیں وہ دوست بن جاتے ہیں اور اس کی زندگی میں ایک انقلاب برپا ہو جاتا ہے۔اسلام کی اپنی تہذیب،  اپنی ثقافت،  اپنےرہنے سہنے کے  طور طریقے اور اپنے تہوار ہیں ،جو دیگر مذاہب سے یکسر مختلف ہیں۔تہوار یاجشن کسی بھی قوم کی پہچان  ہوتے ہیں،اور ان کے مخصوص افعال کسی قوم کو دوسری اقوام سے جدا کرتے ہیں۔جو چیز کسی قوم کی خاص علامت یا پہچان ہو ،اسلامی اصطلاح میں اسے شعیرہ کہا جاتا ہے،جس کی جمع شعائر ہے۔اسلام میں شعائر مقرر کرنے کا حق صرف اللہ تعالی کو ہے۔اسی لئے شعائر کو اللہ تعالی نے اپنی طرف منسوب کیا ہے۔لہذا مسلمانوں کے لئے صرف وہی تہوار منانا جائز ہے جو اسلام نے مقرر کر دئیے ہیں،ان کے علاوہ دیگر اقوام کے تہوار  میں حصہ لینا مسلمانوں کے لئے جائز نہیں ہے۔ زیر تبصرہ کتاب "شان اسلام"محترم ڈاکٹر  محمد علی ضناوی کی عربی تصنیف"مقدمات فی فہم الحضارۃ الاسلامیۃ" کا اردو ترجمہ ہے۔اردو ترجمہ  محترم محمد سعید عالم قاسمی صاحب نے کیا ہے۔یہ اصلا ایک مقالہ ہے جو آئی آئی ایف ایس او کی چوتھی کانفرنس منعقدہ ریاض میں پڑھا گیا۔اس مقالہ میں مولف موصوف نے اسلامی تہذیب پر گرانقدر اصولی بحث کی ہے۔اللہ تعالی سے دعا ہے کہ وہ مولف کی اس محنت کو اپنی بارگا میں قبول فرمائے اور ان کے میزان حسنات میں اضافہ فرمائے۔آمین(راسخ)

  • title-pages-islami-tehzeeb-k-chnd-darkhushan-pehlu-copy
    ڈاکٹر مصطفٰی سباعی

    نبی اکرم ﷺ کی سیرتِ مبارکہ نے ملتِ اسلامیہ کی زندگی کے ہر پہلو کے لئے راہنمائی فراہم کی ہے۔ ان میں سے ایک پہلو ثقافتی اور تہذیبی بھی ہے۔ دنیا کی تمام تہذیبوں اور ثقافتوں کے مقابلے میں اسلام کی تہذیب و ثقافت بالکل منفرد اور امتیازی خصوصیات کی حامل ہے۔ اس کی بنیادی وجہ وہ اُصول و ضوابط اور افکار و نظریات ہیں جو نبی اکرم ﷺ نے اپنے اُسوہ حسنہ کے ذریعے اُمتِ مسلمہ کو عطا فرمائے ہیں۔ ثقافت کی تمام ترجہات میں اُسوہ حسنہ سے ہمیں ایسی جامع راہنمائی میسر آتی ہے جس سے بیک وقت نظری، فکری اور عملی گوشوں کا احاطہ ہوتا ہے۔ ایسی جامعیت دنیا کی کسی دوسری تہذیب یا ثقافت میں موجود نہیں ہے۔ مغربی مفکرین اسلام اور پیغمبر اسلام کے بارے میں اپنے تمام تر تعصبات کے باوجود اسلام کی عظیم الشان تہذیب اور ثقافت کی نفی نہیں کر سکے۔ انہیں برملا اعتراف کرنا پڑا کہ مسلمانوں نے یورپ کو تہذیب کی شائستگی کی دولت ہی سے نہیں نوازا بلکہ شخصیت کی تعمیر و کردار کے لئے بنیادیں فراہم کیں، تاریکی میں ڈوبے ہوئے یورپ کو ثقافت کی روشنی سے ہمکنار کیا، جنگل کے قانون کی جگہ ابن آدم کو شرفِ انسانی کی توقر و احترام کا شعور عطا کیا اور یوں اس کرہ ارضی پر ان مہذب معاشروں کے قیام کی راہ ہموار کی جو آج بھی تاریخ کے ماتھے کا جھومر ہیں۔ زیر تبصرہ کتاب " اسلامی تہذیب کے چند درخشاں پہلو " شام کے معروف عالم دین اور نامور ادیب محترم ڈاکٹر مصطفی سباعی کی عربی تصنیف کا اردو ترجمہ ہے۔ اردو ترجمہ سید معروف شاہ شیرازی نے کیا ہے۔مولف موصوف نے اس کےاب  میں بڑی خوبصورتی کے ساتھ اسلامی تہذیب پر روشنی ڈالی ہے۔اللہ تعالی سے دعا ہے کہ وہ  مولف کی اس محنت کو اپنی بارگاہ میں قبول فرمائے اور ان کے میزان حسنات میں اضافہ فرمائے۔آمین (راسخ)

  • title-pages-khandani-mamlat-1
    حبیب الرحمن
    انیسویں اور بیسویں صدی میں غیر مسلم مستشرقین Goldzehar اور Guillau me وغیرہ نے دین اسلام کے دو بنیادی ماخذ میں سے ایک کو موضوع تحقیق بناتے ہوئے مغربی ذرائع علم اور اپنے زیر تربیت مسلم محققین کو بڑی حد تک یہ بات باور کرا دی کہ حدیث کی حیثیت ایک غیر معتبر تاریخی بلکہ قیاسی بیان کی سی ہے، اس میں مختلف محرکات کے سبب تعریفی و توصیفی بیانات کو شامل کر لیا گیا ہے اور بہت سی گردش کرنے والی افواہوں کو جگہ دے دی گئی ہے۔ اس سب کے پیچھے یہ مقصد کار فرما تھا کہ دینی علوم سے غیر متعارف ذہن اس نہج پر سوچنا شروع کر دے کہ ایک مسلمان کے لیے زیادہ محفوظ یہی ہے کہ وہ قرآن کریم پر اکتفا کر لے اور حدیث کے معاملہ میں پڑ کر بلاوجہ اپنے آپ کو پریشان نہ کرے۔ اس غلط فکر کی اصلاح الحمد للہ امت مسلمہ کے اہل علم نے بروقت کی اور اعلیٰ تحقیقی و علمی سطح پر ان شکوک و شبہات کا مدلل، تاریخی اور عقلی جواب فراہم کیا۔ دعوۃ اکیڈمی اسلام آباد کی جانب سے مطالعہ حدیث کورس ایک ایسی کوشش ہے جس میں مستند اور تحقیقی مواد کو سادہ اور مختصر انداز سے 24 دروس میں مرتب کیا گیا ہے۔ اس وقت آپ کے سامنے مطالعہ حدیث کورس کا سترہواں حصہ ہے۔ جس کا موضوع ’خاندانی معاملات‘ ہے۔ اس یونٹ کے مطالعہ سے آپ اس بات کا بھی اندازہ کر سکیں گے کہ اسلام صرف ذاتی نیکیوں ہی کے لیے تیار نہیں کرتا بلکہ وہ چاہتا ہے کہ مسلمانوں کی پوری جماعت نیکی کا نمونہ ہو، ان کےدل آپس میں جڑے ہوں۔(ع۔م)

  • title-pages-khandani-mamlat-2
    حبیب الرحمن
    انیسویں اور بیسویں صدی میں غیر مسلم مستشرقین Goldzehar اور Guillau me وغیرہ نے دین اسلام کے دو بنیادی ماخذ میں سے ایک کو موضوع تحقیق بناتے ہوئے مغربی ذرائع علم اور اپنے زیر تربیت مسلم محققین کو بڑی حد تک یہ بات باور کرا دی کہ حدیث کی حیثیت ایک غیر معتبر تاریخی بلکہ قیاسی بیان کی سی ہے، اس میں مختلف محرکات کے سبب تعریفی و توصیفی بیانات کو شامل کر لیا گیا ہے اور بہت سی گردش کرنے والی افواہوں کو جگہ دے دی گئی ہے۔ اس سب کے پیچھے یہ مقصد کار فرما تھا کہ دینی علوم سے غیر متعارف ذہن اس نہج پر سوچنا شروع کر دے کہ ایک مسلمان کے لیے زیادہ محفوظ یہی ہے کہ وہ قرآن کریم پر اکتفا کر لے اور حدیث کے معاملہ میں پڑ کر بلاوجہ اپنے آپ کو پریشان نہ کرے۔ اس غلط فکر کی اصلاح الحمد للہ امت مسلمہ کے اہل علم نے بروقت کی اور اعلیٰ تحقیقی و علمی سطح پر ان شکوک و شبہات کا مدلل، تاریخی اور عقلی جواب فراہم کیا۔ دعوۃ اکیڈمی اسلام آباد کی جانب سے مطالعہ حدیث کورس ایک ایسی کوشش ہے جس میں مستند اور تحقیقی مواد کو سادہ اور مختصر انداز سے 24 دروس میں مرتب کیا گیا ہے۔ اس وقت آپ کے سامنے مطالعہ حدیث کورس کا اٹھارواں حصہ ہے۔ جس کا موضوع بھی’خاندانی معاملات‘ ہے۔ اس میں والدین کے حقوق و فرائض، صلہ رحمی، رشتہ داروں کے حقوق اور مہمانوں کے حقوق ذکر کیے ہیں۔(ع۔م)

  • title-pages-sanghar-khane-copy
    ام عبد منیب

    بیوٹی پالر سے مراد ایسے  مقامات ہیں جہاں عورتیں ،مرد اور بچے اپنے جسم کے فطری حسن اور فطری رنگ و روپ کی بجائے اضافی زیب وزینت اور من پسند رنگ وروپ حاصل کرنے کے لئے رجوع کرتے ہیں۔ایسے بیوٹی پالرز کا خیال سب سے پہلے رومی قوم میں پیدا ہوا جو لوگ روح کی بجائے جسم کے عیش، آرام ،اس کی لذتوں اور آرائش کو ترجیح دیتے تھے۔وہ اپنی نفسانی خواہش کو پورا کرنے کے لئے زر خرید لونڈیوں کی جسمانی نگہداشت کرتے ،انہیں طرح طرح کے فیش کروا کر سجاتے بناتے اور پھر ان کے اپنی  نفسانی خواہشات پوری کرتے تھے۔موجودہ زمانے کے بیوٹی پالر بھی انہی قباحتوں اور برائیوں کو اپنے اندار لئے ہوئے ہیں،اور ان کی آڑ میں ہونے والے بے حیائی کے واقعات دیکھ اور سن کر انسانی روح کانپ اٹھتی ہے۔ زیر تبصرہ کتاب  "سنگھار خانے "معروف  مبلغہ داعیہ،مصلحہ،مصنفہ کتب کثیرہ  اور کالم نگار  محترمہ ام عبد منیب  صاحبہ کی  تصنیف ہے ۔ جس  میں انہوں نے جسمانی زیب وزینت کے لئے شرعی تقاضوں کا لحاظ رکھنے ،اور برائی وبے حیائی کے ان اڈوں سے دور رہنے کی ترغیب دی ہے ۔ محترمہ ام عبد منیب صاحبہ  محمد مسعود عبدہ  کی  اہلیہ ہیں ۔ موصوف   تقریبا 23 سال قبل  جامعہ لاہور الاسلامیہ میں عصری  علوم کی تدریس کرتے رہے اور  99۔جے  ماڈل ٹاؤن میں  بمع فیملی رہائش پذیر رہے  ۔موصوف کے صاحبزادے  محترم عبد منیب صاحب نے  اپنے  طباعتی ادارے ’’مشربہ علم وحکمت ‘‘  کی تقریبا تمام مطبوعا ت محدث لائبریری کے لیے ہدیۃً عنائت کی  ہیں ۔اللہ تعالیٰ ان کی تمام مساعی جمیلہ کو  قبول فرمائے۔ آمین(راسخ)(م۔ا)

    نوٹ:

    محدث فورم میں اس کتاب پر تبصرہ کرنے کے لیے یہاں کلک کریں

  • title-pages-soteli-maan-aur-ulaad-copy
    ام عبد منیب

    ’’ ماں ‘‘ محض ایک لفظ نہیں  بلکہ محبتوں  کا مجموعہ ہے۔ ’’ ماں ‘‘کا لفظ سنتے ہی ایک ٹھنڈی چھاوں  اور ایک تحفظ کا احساس اجاگر ہوتا ہے ۔ ایک عظمت کی دیوی اور سب کچھ قربان کردینے والی ہستی کا تصور ذہن میں  آتا ہے۔ ’’ ماں ‘‘ کے لفظ میں  مٹھاس ہے۔ انسانی رشتوں  میں  سب سے زیادہ محبت کرنے والی ہستی ماں  کی ہے۔ ماں  خدا کی عطا کردہ نعمتوں  میں  افضل ترین نعمت ہے۔ تہذیبی روایات کا تقاضا یہ ہے کہ ہمارے ہر دن کو ہماری ماں  کی  دعاوں کے سائے میں  طلوع ہونا چاہیے۔ قرآن حکیم اور دوسرے تمام الہامی صحیفوں  میں  ’’ماں ‘‘ کا تقدس سب کی مشترکہ میراث ہے۔لیکن یہ ماں جب اللہ کے اٹل فیصلے کے مطابق اس دنیا سے رخصت ہوجاتی ہے تو بچے کی دنیا اجڑ جاتی ہے ۔انسان ایک دم لٹا پتا سا،بے سہارا ،بکھرا بکھرا سا اپنے آپ کو خالی خالی سا محسوس  کرتا ہے۔اللہ تعالی نے اس کا متبادل رشتہ سوتیلی ماں کا رکھا ہے۔سوتیلا یا سوتیلی کا لفظ ہی ایسا ہے کہ جسے سن کر کسی بھی ذہن میں کبھی اچھا تاثر قائم نہیں ہوتا۔مگر بعض سچائیاں ایسی ہیں کہ انہیں قبول کرنا ہی پڑتا ہے۔ زیر تبصرہ کتاب  " سوتیلی ماں اور اولاد "معروف  مبلغہ داعیہ،مصلحہ،مصنفہ کتب کثیرہ  اور کالم نگار  محترمہ ام عبد منیب  صاحبہ کی  تصنیف ہے ۔ جس  میں انہوں  سوتیلی ماں کے اپنی سوتیلی اولاد کے ساتھ اچھے رشتے کے حوالے سے گفتگو کی ہے،ان کا کہنا ہے کہ اگرچہ معاشرے میں یہ کوئی اچھا رشتہ نہیں سمجھا جاتا ہے لیکن اگر شریعت کے مطابق اس کو بسر کیا جائے تو اولاد کو حقیقی ماں کا پیار بھی مل سکتا ہے۔اللہ نے ان کو بڑا رواں قلم عطا کیا تھا،انہوں نے سو کے قریب چھوٹی بڑی اصلاحی کتب تصنیف فرمائی ہیں۔ محترمہ ام عبد منیب صاحبہ  محمد مسعود عبدہ  کی  اہلیہ ہیں ۔ موصوف   تقریبا 23 سال قبل  جامعہ لاہور الاسلامیہ میں عصری  علوم کی تدریس کرتے رہے اور  99۔جے  ماڈل ٹاؤن میں  بمع فیملی رہائش پذیر رہے  ۔موصوف کے صاحبزادے  محترم عبد منیب صاحب نے  اپنے  طباعتی ادارے ’’ مشربہ علم وحکمت ‘‘  کی تقریبا تمام مطبوعا ت محدث لائبریری کے لیے ہدیۃً عنائت کی  ہیں ۔اللہ تعالیٰ ان کی تمام مساعی جمیلہ کو  قبول فرمائے۔ آمین(راسخ)

  • title-pages-soogh-aur-taziyat-kitabo-sunnat-ki-roshni-main-copy
    ام عبد منیب

    اسلام ایک مکمل ضابطہ حیات اور دستور زندگی ہے ،جس میں زندگی کے ہر ہر گوشے سے متعلق  راہنمائی موجود ہے۔اس کی ایک اپنی ثقافت ،اپنی تہذیب اور اپنا کلچر ہے ،جو اسے دیگر مذاہب سے نمایاں اور ممتاز کرتا ہے۔لیکن افسوس کی بات یہ ہے کہ ہمارے پاکستانی اور ہندوستانی معاشرے میں ہندوانہ رسوم ورواجات کا چلن عام ہے۔جس کی بنیادی وجہ یہ ہے کہ بہت سارے لوگ ہندو مذہب سے مسلمان ہوئے ہیں اور ہمیشہ سے ہندووں کے ساتھ رہتے بستے چلے آ رہے ہیں۔وہ مسلمان تو  ہو گئے لیکن ان کے عام رسم ورواج ہندوانہ ہی رہے۔بعض ہندوانہ رسمیں اسلامی پیوندکاری کے ساتھ جاری وساری ہیں۔انہی ہندوانہ رسول ورواجات میں سے ایک میت کے تیسرے دن کھانے کا اہتمام کرنا ،مولوی صاحب سے ختم پڑھوانا اور تبرکا چنے اور پھل مکھانے تقسیم کرنے کا عمل ہے۔ زیر تبصرہ کتاب  " سوگ اور تعزیت "معروف  مبلغہ داعیہ،مصلحہ،مصنفہ کتب کثیرہ  اور کالم نگار  محترمہ ام عبد منیب  صاحبہ کی  تصنیف ہے ۔ جس  میں انہوں  سوگ اور تعزیت کرنے کے مسنون طریقے پر گفتگو فرمائی ہے۔اللہ نے ان کو بڑا رواں قلم عطا کیا تھا،انہوں نے سو کے قریب چھوٹی بڑی اصلاحی کتب تصنیف فرمائی ہیں۔ محترمہ ام عبد منیب صاحبہ  محمد مسعود عبدہ  کی  اہلیہ ہیں ۔ موصوف   تقریبا 23 سال قبل  جامعہ لاہور الاسلامیہ میں عصری  علوم کی تدریس کرتے رہے اور  99۔جے  ماڈل ٹاؤن میں  بمع فیملی رہائش پذیر رہے  ۔موصوف کے صاحبزادے  محترم عبد منیب صاحب نے  اپنے  طباعتی ادارے ’’مشربہ علم وحکمت ‘‘  کی تقریبا تمام مطبوعا ت محدث لائبریری کے لیے ہدیۃً عنائت کی  ہیں ۔اللہ تعالیٰ ان کی تمام مساعی جمیلہ کو  قبول فرمائے۔ آمین(راسخ)

     

  • pages-from-almi-tehzeeb-o-saqafat-par-islam-key-tasraat
    محمود علی شرقاوی

    اسلام ایک مکمل ضابطہ حیات اور دستور زندگی ہے۔ اس کی اپنی تہذیب اور اپنی ثقافت ہے جو دنیا کی ساری تہذیبوں اور ثقافتوں سے منفرد اور ممتاز حیثیت کی حامل ہے۔ آج مسلمانان عالم کو کسی بھی احساس محرومی میں مبتلاہوئے بغیر اس سچائی ودیانت پر ڈٹ جاناچاہئے کہ درحقیقت اسلامی تہذیب اور قرآن و سنت کے اصولوں سے ہی دنیاکی دیگر اقوام کی تہذیبوں کے چشمے پھوٹے ہیں۔ جبکہ صورتحال یہ ہے کہ مغربی و مشرقی یورپی ممالک اس حقیقت اور سچائی کو تسلیم ہی نہیں کرتے ہیں اور الٹا وہ اس حقیقت سے کیوں منہ چراتے ہیں۔ تہذیب عربی زبان کا لفظ ہے جو اسم بھی ہے اور شائستگی اور خوش اخلاقی جیسے انتہائی خوبصورت لفظوں کے مکمل معنوں کے علاوہ بھی کسی درخت یا پودے کو کاٹنا چھاٹنا تراشنا تا کہ اس میں نئی شاخیں نکلیں اور نئی کونپلیں پھوٹیں جیسے معنوںمیں بھی لیاجاتاہے ا ور اسی طرح انگریزی زبان میں تہذیب کے لئے لفظ ”کلچر“ کی اصطلاح استعمال کی جاتی ہے۔ میرے خیال سے آج دنیا کو اس سے بھی انکار نہیں کرناچاہے کہ ”بیشک اسلامی تہذیب و تمدن سے ہی دنیا کی تہذیبوں کے چشمے پھوٹے ہیں جس نے دنیاکو ترقی و خوشحالی اور معیشت اور سیاست کے ان راستوں پر گامزن کیا ہے کہ جس پر قائم رہ کر انسانی فلاح کے تمام دروازے کھلتے چلے جاتے ہیں۔ مورخین نے یہ بھی تسلیم کیاہے کہ اکثر قدیم علوم و فنون بھی مسلمانوں اور اسلامی تہذیب سے ہی یورپ کے لوگوں تک پہنچے ہیں کیوں کہ مشرقی یورپ و مغربی یورپ کی تہذیبوں سمیت چینیوں اور ہندووں کی تہذیبیں بھی ایک دوسرے کی تہذیبوں کو اتنا متاثر نہیں کرپائیں۔ جتنا اسلامی تہذیب نے ان سب کو متاثرکیا ہے کیوں کہ اسلامی تہذیب نے ایک ایسے عالمگیر ضابطہ حیات قرآن کریم فرقان حمید کی روشی میں تشکیل پائی ہے جو رہتی دنیاتک بنی انسان کے لئے سرچشمہ ہدایت ہے۔ زیر تبصرہ کتاب "عالمی تہذیب وثقافت پر اسلام کے اثرات" محترم محمود علی شرقاوی صاحب کی عربی تصنیف ہے جس کا اردو ترجمہ محترم صہیب عالم اور محترم نجم السحر ثاقب نے کیا ہے۔ اللہ تعالی ان کی اس خدمت کو اپنی بارگاہ میں قبول فرمائے اور ان کے میزان حسنات میں اضافہ فرمائے۔ آمین (راسخ)

  • title-pages-ghair-muslim-tehwar-copy
    تفضیل احمد ضیغم ایم اے

    اسلام ایک مکمل ضابطہ حیات اوردستور زندگی ہے۔اس کی اپنی تہذیب،  اپنی ثقافت،  اپنےرہنے سہنے کے  طور طریقے اور اپنے تہوار ہیں ،جو دیگر مذاہب سے یکسر مختلف ہیں۔تہوار یاجشن کسی بھی قوم کی پہچان  ہوتے ہیں،اور ان کے مخصوص افعال کسی قوم کو دوسری اقوام سے جدا کرتے ہیں۔جو چیز کسی قوم کی خاص علامت یا پہچان ہو ،اسلامی اصطلاح میں اسے شعیرہ کہا جاتا ہے،جس کی جمع شعائر ہے۔اسلام میں شعائر مقرر کرنے کا حق صرف اللہ تعالی کو ہے۔اسی لئے شعائر کو اللہ تعالی نے اپنی طرف منسوب کیا ہے۔لہذا مسلمانوں کے لئے صرف وہی تہوار منانا جائز ہے جو اسلام نے مقرر کر دئیے ہیں،ان کے علاوہ دیگر اقوام کے تہوار  میں حصہ لینا مسلمانوں کے لئے جائز نہیں ہے۔ زیر تبصرہ کتاب ’’ غیر مسلم تہوار، اسلامی تہذیب کے سینے پر خنجر ‘‘ محترم تفضیل احمد ضیغم صاحب کی  تصنیف ہے ۔ جس  میں انہوں     نے  کافر اقوام کے بے شمار تہواروں کو جمع کر کے مسلمانوں کو ان بچنے اور ان میں شرکت نہ کرنے کی ترغیب دی ہے،کیونکہ غیر اسلامی تہوار منانا مسلمانوں کے لئے جائز نہیں ہے۔ اللہ تعالی سے دعا ہے کہ وہ مولف موصوف کی اس محنت کو اپنی بارگاہ میں قبول فرمائے اور ان کے میزان حسنات میں اضافہ فرمائے۔ آمین(راسخ)

  • title-pages-fahashi-ki-jamia-tareef-aur-iske-insidad-k-liye-amli-tajaweez-copy
    ملی مجلس شرعی اقبال ٹاؤن لاہور

    بد قسمتی سے پاکستان کا میڈیا اسلام اور نظریہ پاکستان اور ان کے اصول واقدار کی پیروی کرنے کی بجائے مغرب کی لادین فکر وتہذیب اور ان کے اصول واقدار کی پیروی کر رہا ہے اور فحاشی وعریانی پاکستانی میڈیا میں سکہ رائج الوقت بن چکی ہے۔ ناچنے ،گانے والے اور میراثی اب گلوکار، ادکار،موسیقار اور فنکار کہلاتے اورفلمی سٹار، فلمی ہیرو جیسے دل فریب مہذب ناموں سے یاد کئے جاتے ہیں۔مردوزَن کی مخلوط محفلوں کا انعقاد عروج پر ہے۔ بڑے بڑے شادی ہال، کلب،بازار، انٹرنیشنل ہوٹل اور دیگر اہم مقامات ا ن بیہودہ کاموں کے لئے بک کر دیئے جاتے ہیں جس کے لئے بھاری معاوضے ادا کئے جاتے اور شو کے لئے خصوصی ٹکٹ جاری ہوتے ہیں۔ چست اور باریک لباس، میک اَپ سے آراستہ لڑکیاں مجرے کرتی ہیں جسے ثقافت اور کلچر کا نام دیا جاتا ہے۔عاشقانہ اَشعار، ڈانس میں مہارت، جسم کی تھرتھراہٹ اور آوازکی گڑگڑاہٹ میں ڈھول باجوں اور موسیقی کی دھن میں کمال دکھانے والوں اور کمال دکھانے والیوں،جنسی جذبات کو اُبھارنے والوں کو خصوصی ایوارڈز سے نوازا جاتاہے۔اس دوران بعض سنجیدہ احباب نے جب اس معاملے کو سپریم کورٹ میں چیلنج کیا تو میڈیا کے وکلاء معصوم بن کر کہنے لگے کہ میڈیا تو فقط تفریحی اور ثقافتی سرگرمیاں دکھاتا ہے جو فحاشی کے زمرے میں نہیں آتیں۔ زیر تبصرہ کتاب "فحاشی کی جامع تعریف اور اس کے انسداد کے لئے عملی تجاویز" ملی مجلس شرعی کی طرف سے شائع کی گئی ہے  جس میں فحاشی کی ایک جامع تعریف کرتے ہوئے اس کے انسداد کی عملی تجاویز پیش کی ہیں۔اللہ تعالی سے دعا ہے کہ ملی مجلس شرعی   کی اس کاوش کو اپنی بارگاہ میں قبول فرمائے اور ہمارے معاشرے کو پاکیزہ اور فحاشی وعریانی سے صاف معاشرہ بنا دے۔آمین(راسخ)

  • title-pages-merathan-race-copy
    ام عبد منیب

    پاکستانی تاریخ کے ایک معروف ڈکٹیٹر اور آمر صدر پرویز مشرف کے دور میں  پاکستان کے دل شہر لاہور میں ایک  میرا تھن  ریس کا انعقاد کیا گیا ۔جس میں مردوں اور لڑکوں کے ساتھ ساتھ خواتین اور لڑکیوں نے بھی حصہ لیا۔شرم وحیا کا جامہ اتار  کر اس ریس میں شریک ہونے والی خواتین کو دیوث حکمرانوں نے سڑکوں پر ہزاروں ملکی وغیر ملکی تماشائیوں کے سامنے دوڑا کر اپنی بے غیرتی کا ثبوت دیا  اور یہ باور کروایا کہ وہ اسلام کے نظام ستر وحجاب  پر یورپ کے غلیظ،گندے ،ماں بہن کی تمیز سے عاری گلی سڑی تہذیب کو ترجیح دیتے ہیں۔حالانکہ اسلام خواتین اسلام  کو گھر میں ٹک کر بیٹھنے کی تلقین کرتا ہے اور انہیں اپنی زیب وزینت کو غیر محرم مردوں کے سامنے منکشف کرنے سے منع کرتا ہے۔غیر محرم مردوں کے سامنے اپنی زیب وزینت کا اظہار کرنے والی عورتوں کو زانیہ  قرار دیا گیا ہے اور جب تک وہ اپنےگھر واپس نہیں لوٹ آتی اللہ کی رحمت کے فرشتے اس پر لعنتیں بھیجتے رہتے ہیں۔ زیر تبصرہ کتاب ’’  میرا تھن ریس‘‘ معروف  مبلغہ داعیہ،مصلحہ،مصنفہ کتب کثیرہ  اور کالم نگار  محترمہ ام عبد منیب  صاحبہ کی  تصنیف ہے ۔ جس  میں انہوں نے جہاں بے غیرت حکمرانوں کی مذمت کی ہے وہیں مسلمان ماوں اور بہنوں سے شرم وحیا کے پیکر بننے کی بھی درخواست کی ہے۔اللہ نے ان کو بڑا رواں قلم عطا کیا تھا،انہوں نے سو کے قریب چھوٹی بڑی اصلاحی کتب تصنیف فرمائی ہیں۔ محترمہ ام عبد منیب صاحبہ  محمد مسعود عبدہ  کی  اہلیہ ہیں ۔ موصوف   تقریبا 23 سال قبل  جامعہ لاہور الاسلامیہ میں عصری  علوم کی تدریس کرتے رہے اور  99۔جے  ماڈل ٹاؤن میں  بمع فیملی رہائش پذیر رہے  ۔موصوف کے صاحبزادے  محترم عبد منیب صاحب نے  اپنے  طباعتی ادارے ’’مشربہ علم وحکمت ‘‘  کی تقریبا تمام مطبوعا ت محدث لائبریری کے لیے ہدیۃً عنائت کی  ہیں ۔اللہ تعالیٰ ان کی تمام مساعی جمیلہ کو  قبول فرمائے۔ آمین(راسخ)

     

  • title-pages-naswani-baal-aur-unki-araish-copy
    ام عبد منیب

    جب انسان پیدا ہوتا ہے تو اس کے سر ،بھنوؤں اور پلکوں کے بال موجود ہوتے ہیں۔پورے جسم پر ہلکے ہلکے نرم نرم روئیں نظر آتے ہیں۔سر کے بال ساتویں دن منڈوا دینے کا حکم ہے چاہے لڑکا ہو یا لڑکی ہو۔لیکن یہ کٹانے یا منڈوانے کے باوجود بڑھتے رہتے ہیں۔زیر ناف ،بغل،مونچھ اور داڑھی کے بال جوانی کے آمد پر نمودار ہوتے ہیں،اور ساری عمر صاف کرنے ،کاٹنے یا مونڈنے کے باوجود بڑھتے رہتے ہیں۔عورت کی فطرت میں آرائش،اس کے بعد نمائش اور نمائش کے بعد ستائش وصول کرنے کا جذبہ رکھ دیا گیا ہے۔چنانچہ زمانہ قدیم ہی سے خواتین بنتی سنورتی چلی آرہی ہیں۔شریعت اسلامیہ نے بھی خواتین کو ان کا یہ فطری حق عطا کیا ہے،لیکن چند حدود وقیود کے ساتھ،تاکہ بے جا  بننےسنورنے کا جذبہ معاشرے اور خود اس عورت کے لئے فتنہ کا باعث نہ بن سکے۔ زیر تبصرہ کتاب  " نسوانی بال اور ان کی آرائش "معروف  مبلغہ داعیہ،مصلحہ،مصنفہ کتب کثیرہ  اور کالم نگار  محترمہ ام عبد منیب  صاحبہ کی  تصنیف ہے ۔ جس  میں انہوں نے عورتوں کو اپنے بالوں کی آرائش وزیبائش کے لئے  شرعی تقاضوں کا لحاظ رکھنے کی ترغیب دی ہے اور انہیں سادگی اپنانے کا سبق دیا ہے۔ محترمہ ام عبد منیب صاحبہ  محمد مسعود عبدہ  کی  اہلیہ ہیں ۔ موصوف   تقریبا 23 سال قبل  جامعہ لاہور الاسلامیہ میں عصری  علوم کی تدریس کرتے رہے اور  99۔جے  ماڈل ٹاؤن میں  بمع فیملی رہائش پذیر رہے  ۔موصوف کے صاحبزادے  محترم عبد منیب صاحب نے  اپنے  طباعتی ادارے ’’مشربہ علم وحکمت ‘‘  کی تقریبا تمام مطبوعا ت محدث لائبریری کے لیے ہدیۃً عنائت کی  ہیں ۔اللہ تعالیٰ ان کی تمام مساعی جمیلہ کو  قبول فرمائے۔ آمین(راسخ)

  • title-pages-nara-bazi-copy
    ام عبد منیب

    دور حاضر میں نعرہ بازی کسی انجمن،جماعت یا ادارے کے نظریات ومقاصد کی تشہیر کا سب سے آسان ،پرکشش اور عمومی ذریعہ بن چکا ہے۔یہ ایک ایسا ذریعہ تشہیر ہے کہ جس پر زیادہ لاگت یا خاص محنت کی ضرورت نہیں ہوتی ہے۔گو یہ کام  اکیلا آدمی بھی کر سکتا ہے،لیکن دو چار ہم نوا مل جائیں تو پھر کیا ہی کہنے !نعرے بازی کے لئے کسی پڑھے لکھے اور سمجھدار انسان کی بھی ضرورت نہیں ہوتی ہے۔مطلوبہ نعرہ کسی بچے کو سکھلا کر اس سے بھی یہ کام لیا جاسکتا ہے۔نعروں کے الفاظ ترتیب دیتے وقت اس بات کا خصوصی خیال رکھا جاتا ہےکہ اس کے الفاظ کم سے  کم اور پر کشش ہوں،جو عوام کے دلوں میں تیر کی طرح اتر جائیں اور لوگ اس کی طرف کھنچے چلے آئیں۔لیکن اگر اسلامی تعلیمات کا مطالعہ کیا جائے تو معلوم ہوتا ہے کہ یہ عمل سراسر  طلب شہرت ، جھوٹ  اور انا خیر منہ جیسے متکبرانہ طرز عمل پر مبنی ہوتا ہے ،جس سے نبی کریم نے  سختی سے منع فرمایا ہے۔اور ایسا کرنے والوں کے سخت وعیدیں سنائی ہیں۔ زیر تبصرہ کتاب  " نعرہ بازی "معروف  مبلغہ داعیہ،مصلحہ،مصنفہ کتب کثیرہ  اور کالم نگار  محترمہ ام عبد منیب  صاحبہ کی  تصنیف ہے ۔ جس  میں انہوں نے نعرہ بازی کی حقیقت کو منکشف کرتے ہوئے اس سے بچنے کی ترغیب دی ہے،کیونکہ یہ کام سراسر شریعت کے منافی ہے۔اللہ نے ان کو بڑا رواں قلم عطا کیا تھا،انہوں نے سو کے قریب چھوٹی بڑی اصلاحی کتب تصنیف فرمائی ہیں۔ محترمہ ام عبد منیب صاحبہ  محمد مسعود عبدہ  کی  اہلیہ ہیں ۔ موصوف   تقریبا 23 سال قبل  جامعہ لاہور الاسلامیہ میں عصری  علوم کی تدریس کرتے رہے اور  99۔جے  ماڈل ٹاؤن میں  بمع فیملی رہائش پذیر رہے  ۔موصوف کے صاحبزادے  محترم عبد منیب صاحب نے  اپنے  طباعتی ادارے ’’مشربہ علم وحکمت ‘‘  کی تقریبا تمام مطبوعا ت محدث لائبریری کے لیے ہدیۃً عنائت کی  ہیں ۔اللہ تعالیٰ ان کی تمام مساعی جمیلہ کو  قبول فرمائے۔ آمین(راسخ)

  • title-pages-kasmatics-copy
    ام عبد منیب

    بننے سنورنے کا رجحان دور حاضر میں ایک وبا کی صورت اختیار کر چکا ہے۔اور کاسمیٹکس سے مراد وہ تمام چیزیں ہیں جو جسم کو فطری حسن کی بجائے اضافی حسن،دل کشی،رنگ ،جاذبیت  وغیرہ کے لئے یا من مانا انداز اور رنگ وروپ دینے کے لئے استعمال کی جاتی ہیں۔مثلا اسکن کئیر کریمیں ،لوشن،پاؤڈرز ،اسپرے پرفیوم ،لپ سٹک وغیرہ وغیرہ اور ان کے علاوہ  بے شمار چیزیں اس میں شامل ہیں۔لیکن ان میں سے متعدد چیزیں ایسی ہیں جو شرعی تقاضوں پر پورا نہیں اترتی ہیں ،مثلا نیل پالش لگا لینے سے ناخنوں تک پانی نہ پہنچنے کی وجہ سے وضو اور غسل مکمل نہیں ہوتا ہے اور طہارت حاصل نہیں ہوتی ہے۔لہذا ایک مسلمان کو چاہئے کہ وہ ان چیزوں کے استعمال میں شرعی تقاضوں کا بھی خیال رکھے اور فضول خرچی جیسے معاملات سے اجتناب کرے۔ زیر تبصرہ کتاب  ’’ کاسمیٹکس ‘‘ معروف  مبلغہ داعیہ،مصلحہ،مصنفہ کتب کثیرہ  اور کالم نگار  محترمہ ام عبد منیب  صاحبہ کی  تصنیف ہے ۔ جس  میں انہوں نے جسمانی زیب وزینت کے استعمال کی چیزوں کے حوالے سے شرعی تقاضوں کا لحاظ رکھنے کی ترغیب دی ہے۔ محترمہ ام عبد منیب صاحبہ  محمد مسعود عبدہ  کی  اہلیہ ہیں ۔ موصوف   تقریبا 23 سال قبل  جامعہ لاہور الاسلامیہ میں عصری  علوم کی تدریس کرتے رہے اور  99۔جے  ماڈل ٹاؤن میں  بمع فیملی رہائش پذیر رہے  ۔موصوف کے صاحبزادے  محترم عبد منیب صاحب نے  اپنے  طباعتی ادارے ’’مشربہ علم وحکمت ‘‘  کی تقریبا تمام مطبوعا ت محدث لائبریری کے لیے ہدیۃً عنائت کی  ہیں ۔اللہ تعالیٰ ان کی تمام مساعی جمیلہ کو  قبول فرمائے۔ آمین(راسخ)

     

  • title-pages-ghada-ghari-copy
    ام عبد منیب

    اللہ تعالی نے انسان کو خوب صورت اور احسن سیرت وعادات پر پید اکیا ہے۔اس کی فطرت میں حیا،خود داری ،غیرت ،تحفظ ذات،تحفظ مال، اور تحفظ ناموس کا جذبہ رکھ دیا ہے۔لیکن جب انسان شرف وامتیاز کی ان خوبیوں کا گلا اپنے ہاتھوں گھونٹ دیتا ہے تو وہ ذلت وحقارت کی ایسی پستی میں گر جاتا ہے کہ دنیا کی ہر چیز اس سے گھن کھا تی ہے اور اس کے نام پر نفرین بھیجتی ہے۔قرآن مجید اور احادیث نبویہ میں ایسی تمام بد عادات کا تذکرہ تفصیل کے ساتھ موجود ہے،انہی قبیح عادات میں سے ایک گدا گری بھی ہے۔ اسلام گدا گری کی مذمت کرتا ہے اور محنت کر کے کمائی کرنے کی حوصلہ افزائی کرتا ہے۔محنت میں عظمت ہےجو شخص اپنے ہاتھ سے کما کر اپنی ضروریات پوری کرتا ہے ،وہ دراصل ایک خود دار ،غیرت مند انسان ہے اور اسی کو صالح اعمال کی توفیق حاصل ہوتی ہے۔انبیاء کرام اپنے ہاتھ کی محنت سے کماتے تھے۔۔۔ زیر تبصرہ کتاب  " گدا گری"معروف  مبلغہ داعیہ،مصلحہ،مصنفہ کتب کثیرہ  اور کالم نگار  محترمہ ام عبد منیب  صاحبہ رحمھا اللہ  کی  تصنیف ہے ۔ جس  میں انہوں  نے گدا گری  کی مذمت ،اس کے انسانی معاشرے پر برے اثرات،غیرت وخودی کی موت اور دیگر نقصانات وغیرہ پر گفتگو فرمائی ہے۔اللہ نے ان کو بڑا رواں قلم عطا کیا تھا،انہوں نے سو کے قریب چھوٹی بڑی اصلاحی کتب تصنیف فرمائی ہیں۔ محترمہ ام عبد منیب صاحبہ  محمد مسعود عبدہ  کی  اہلیہ ہیں ۔ موصوف   تقریبا 23 سال قبل  جامعہ لاہور الاسلامیہ میں عصری  علوم کی تدریس کرتے رہے اور  99۔جے  ماڈل ٹاؤن میں  بمع فیملی رہائش پذیر رہے  ۔موصوف کے صاحبزادے  محترم عبد منیب صاحب نے  اپنے  طباعتی ادارے ’’مشربہ علم وحکمت ‘‘  کی تقریبا تمام مطبوعا ت محدث لائبریری کے لیے ہدیۃً عنائت کی  ہیں ۔اللہ تعالیٰ ان کی تمام مساعی جمیلہ کو  قبول فرمائے۔ آمین(راسخ)

     نوٹ:

    محدث فورم میں اس کتاب پر تبصرہ کرنے کے لیے یہاں کلک کریں

  • pages-from-guftagoo-ka-saleeka
    پروفیسر امیر الدین مہر

    گفتگو ایک ایسا عمل ہے جس کی وجہ سے انسان لوگوں کے دل میں اتر جاتا ہے یا لوگوں کے دل سے اتر جاتاہے۔ دل اور زبان انسانی جسم کے سب سے اہم دو حصے ہیں۔ زبان دل کی ترجمان ہے اس لیے اس کی اہمیت اور بھی زیادہ ہے۔ آدمی کی گفتگو ہی اس کاعیب و ہنر ظاہرکرتی ہے۔ گفتگو کرتے وقت زبان سے وہی گفتگو کریں جس کا مقصد خیر ہو، کسی کی غلطی کی اصلاح کرتے وقت حکمت کومد نظر رکھیں، اگر مخاطب کو کوئی بات سمجھ میں نہ آئے تو ضرورت کے تحت دہرائیں۔ ناحق اور بے جا بحث کرنے سے، حق پر ہونے کے با وجود لڑائی جھگڑے، درمیان میں بات کاٹنے سے، غیبت و چغلخوری اور لگائی بجھائی، جھوٹ او ر خلاف حقیقت کوئی بات کہنے سے اجتناب کرنا چاہیے۔ نیز آداب گفتگو میں سے یہ بھی ہےکہ   مخاطب کی بات کو غور سے سنیں اسے بولنے کاموقعہ دیں، درمیان میں اس کی بات نہ کاٹیں اور ادھر ادھر توجہ کرنے کی بجائے اس کی طرف پوری توجہ رکھیں۔ نبی کریم ﷺ نے گفتگو کے آداب کو بیان کرتے ہوئے ارشاد فرمایا کہ جب تین لوگ ایک جگہ اکٹھے بیٹھے ہوں تو ان میں سے دو آپس میں کھسر پھسر نہ کریں اس سے تیسرے کی دل شکنی ہوگی۔ زیر تبصرہ کتاب ’’گفتگو کا سلیقہ‘‘ پروفیسر امیرالدین مہر کی تصنیف ہے۔ فاضل مصنف نے گفتگو کو شیریں، دلپسند اور دلنواز بنانے کے لیے قرآن و حدیث، حکماء علماء کے کلام سے منتخب کردہ شہ پاروں، جامع کلمات کی عبارتوں، حکمتوں، لطیفوں، جملوں فقروں کی روشنی میں اس کتاب کو مرتب کیا ہے۔ یہ کتاب ہرطبقے کے افراد کے باہم گفتگو کرنے، دوسرے کو اپنی بات پر قائل کرنے اور اپنی طرف متوجہ کرنے کےلیے ایک بہترین ذریعہ ہے۔ اور اداروں کے سربراہوں، دینی وتبلیغی جماعتوں و تنظیموں کے ذمہ داروں، این جی اوز کے منتظمین، مساجد کے ائمہ، خطباء اور واعظین حضرات، مجالس میں گفتگو کرنے والے اصحاب کے لیے بہترین کتاب اور خیر جلیس ہے۔

  • title-pages-university-cainteen-mein
    ڈاکٹر محمد بن عبد الرحمٰن العریفی
    یہ کتاب عالم عرب کے ممتاز عالم دین، بہت سی کتب کے مصنف اور عظیم دانشور ڈاکٹر عبدالرحمٰن العریفی کا علمی شاہکار ہے۔ ان کی اچھوتی اور منفرد تحریریں عرب دنیا میں بے حد مقبول ہیں۔ زیر نظر کتاب عربی زمیں ’صرخة في مطعم الجامعة‘ کے نام سے لاکھوں کی تعداد میں شائع ہو کر لوگوں کے ہاتھوں میں پہنچ چکی ہے۔ اسی کتاب کا اردو ترجمہ ’یونیورسٹی کینٹین میں‘ اس وقت آپ کے سامنے ہے۔ کتاب کا موضوع اسلام کی عزت مآب بیٹیوں کے چہرے کے پردہ کی افادیت اور ان کے گوہر عصمت کی حفاظت ہے۔ کتاب قرآنی آیات، شرعی دلائل، عبرت انگیز اور نصیحت آموز واقعات سے مزین ہے۔ عصر حاضر کی نوجوان نسل کے لیے یہ ایک شاندار تحفہ ہے۔ اس کتاب کے مطالعے سے مسلم بیٹیاں اور بیٹے صراط مستقیم پر گامزن ہونے میں سہولت محسوس کریں گے۔ اسی راہ پر چلنے میں ہی امت کی عظمت گم گشتہ کی بازیابی ہو سکتی ہے۔ کتاب کا اردو ترجمہ حافظ قمر حسن نے کیا ہے جو بہت رواں اور سلیس ہے۔اور دارالسلام کے معیار کے عین مطابق ہے۔ (ع۔م)

ای میل سبسکرپشن

محدث لائبریری کی اپ ڈیٹس بذریعہ ای میل وصول کرنے کے لئے ای میل درج کر کے سبسکرائب کے بٹن پر کلک کیجئے۔

 

ایڈوانس سرچ

موضوعاتی فہرست

رجسٹرڈ اراکین

آن لائن مہمان

محدث لائبریری پر اس وقت الحمدللہ 426 مہمان آن لائن ہیں ، لیکن کوئی رکن آن لائن نہیں ہے۔

ایڈریس

       99-جے ماڈل ٹاؤن،
     نزد کلمہ چوک،
     لاہور، 54700 پاکستان

       0092-42-35866396، 35866476، 35839404

       0092-423-5836016، 5837311

      KitaboSunnat@gmail.com

      بنک تفصیلات کے لیے یہاں کلک کریں