• title-pages-tafreh-ka-islami-tasawar-copy
    نوید احمد شہزاد

    تفریح فارغ وقت میں دل چسپ سرگرمی اختیار کرنے  کو کہتے ہیں  ۔ یہ  لفظ اردو عربی  اور فارسی تینوں زبانوں میں مستعمل ہے  ۔ دور جدید میں تفریح انسانی  زندگی کے  معمولات کا لازمی حصہ بن چکی ہے ۔تیز مشینی دو راور  مقابلے کی فضا میں کام کرنے سے انسان تھک کر چور  ہو جاتا ہے  اس کا حل اس نے  تفریح میں ڈھونڈا ہے ۔مگر بہت سی  تفریحی سرگرمیاں انسان کو  دوبارہ کام کے قابل بنانے  کے ساتھ ساتھ اس سے  دین بھی چھین لیتی  ہیں۔زیر نظر کتاب ’’تفریح  کااسلامی تصور ‘‘محترم نوید احمد شہزاد  کی  تصنیف ہے ۔ جس میں انہوں  نےتفریح  اسلامی  تصور  اور اس کی حدود،معاصر معاملات پر تحقیقی انداز سے  اسلامی نقظہ نظر واضح کرنے  کی  کوشش  کی ہے ۔ مصنف نے بنیادی اسلامی مصادر سے استفادہ کرتے ہوئے  موجودہ حالات میں موجود مختلف تفریحی سرگرمیوں کی نشاندہی  کی ہے ۔امید ہےکہ  یہ تحقیقی کام نہ  صرف محققین کے لیے بلکہ عام قارئین کے لیے  بھی بڑا مفید ہوگا ۔(م۔ا )

  • title-pages-rasme-mehndi-aur-mayon-copy
    ام عبد منیب

    اسلام  ایک مکمل  ضابطۂ حیات  ہے   پور ی انسانیت کے لیے  اسلامی تعلیمات کے  مطابق  زندگی  بسر کرنے کی  مکمل راہنمائی فراہم کرتاہے  انسانی  زندگی میں  پیش   آنے  والے تمام معاملات ، عقائد وعبادات ، اخلاق وعادات  کے   لیے  نبی ﷺ کی  ذات مبارکہ  اسوۂ حسنہ کی صورت میں موجود ہے  ۔مسلمانانِ عالم کو اپنےمعاملات کو  نبی کریم ﷺ کے بتائے  ہوئے طریقے  کے مطابق سرانجام  دینے چاہیے ۔لیکن موجود دور میں  مسلمان رسم ورواج اور خرافات میں   گھیرے  ہوئے  ہیں  بالخصوص   برصغیر پاک وہند میں  شادی  بیاہ کے  موقع پر  بہت سے رسمیں اداکی جاتی ہیں جن کاشریعت کے ساتھ کوئی تعلق نہیں    اور ان  رسومات میں بہت   زیادہ   فضول خرچی اور اسراف  سے  کا م لیا  جاتا ہے   جوکہ صریحا اسلامی تعلیمات کے خلاف ہے ۔شادی بیاہ کے  موقعہ پر  اداکی جانے والی رسومات میں سے   مائیوں اور مہندی دو جڑواں رسمیں ہیں ۔جنہیں  بیاہ کے موقع پر ہندو لوگ کرتے ہیں ۔ یہ دونوں رسمیں ہمارے  معاشرے میں عام ہیں حالانکہ ہم مسلمان ہیں اور ہند کافر ہیں ۔ مسلمان اور کافر کی رسمیں ایک جیسی کبھی نہیں ہو سکتیں ۔ لیکن کتنے افسوس کی بات ہے کہ موجودہ مسلمان صرف مائیوں اور مہند ی ہی نہیں   اور بھی بہت سے ہندوانانہ رسومات ادا کرتے ہیں ۔زیر نظر کتابچہ ’’ رسم مہندی اورمایوں‘‘ اصلاح معاشرہ  کے  سلسلے میں  محترمہ ام عبد منیب  صاحبہ کی  کاوش  ہے جس میں انہوں نے   مہندی اورمایوں کے علاوہ دیگر رسومات کا تعارف کروانے کےبعد  ان رسومات کا   شرعی جائزہ  پیش کیا ہے ۔اللہ تعالیٰ مصنفہ کی  اس کاوش کو مسلمانوں میں  رائج ہندوانہ رسومات  کے خاتمے کا ذریعہ بنائے  ( آمین) (م۔ا)

    نوٹ:

    محدث فورم میں اس کتاب پر تبصرہ کرنے کے لیے یہاں کلک کریں

  • title-page-khail-aur-fafreeh
    محمود اشرف عثمانی
    افراط و تفریط کے اس دور میں اگر ایک طرف مغربی تہذیب نے پوری زندگی کو کھیل کود بنا دیا ہے تو دوسری طرف بعض دین دار حلقوں نے اپنے طرز عمل سے اس تصوّر کو فروغ دیا ہے کہ اسلام صرف عبادات اور خوف و خشیت کا نام ہے جس میں کھیل، تفریح ، خوشدلی اور زندہ دلی کا کوئی گزر نہیں۔ زیر تبصرہ کتاب دراصل مصنف کی چند تقاریر اور موضوع سے متعلق ایک تفصیلی فتوٰی کا مجموعہ ہے۔جس میں تفریح اور کھیل کود کی شرعی حدود کو نہایت مدلل انداز میں بیان کیا گیا ہے۔ نیز لہو و لعب کو تفریح کا نام دینے والوں کا بھرپور رد بھی ہے اور جائز و مثبت تفریح کی اسلام میں پائی جانے والی حوصلہ افزائی کا بھی زبردست بیان ہے۔

ای میل سبسکرپشن

محدث لائبریری کی اپ ڈیٹس بذریعہ ای میل وصول کرنے کے لئے ای میل درج کر کے سبسکرائب کے بٹن پر کلک کیجئے۔

 

ایڈوانس سرچ

موضوعاتی فہرست

رجسٹرڈ اراکین

آن لائن مہمان

محدث لائبریری پر اس وقت الحمدللہ 387 مہمان آن لائن ہیں ، لیکن کوئی رکن آن لائن نہیں ہے۔

ایڈریس

       99--جے ماڈل ٹاؤن،
     نزد کلمہ چوک،
     لاہور، 54700 پاکستان

       0092-42-35866396، 35866476، 35839404

       0092-423-5836016، 5837311

      KitaboSunnat@gmail.com

      بنک تفصیلات کے لیے یہاں کلک کریں

 :