• pages-from-100-haraam-karobaar-aur-tijarti-mamlaat
    ابراہیم بن عبد المقتدر

    ہرمسلمان کے لیے اپنے دنیوی واخروی تمام معاملات میں شرعی احکام اور دینی تعلیمات کی پابندی از بس ضروری ہے کیونکہ اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے :َیا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا ادْخُلُوا فِي السِّلْمِ كَافَّةً وَلَا تَتَّبِعُوا خُطُوَاتِ الشَّيْطَانِ إِنَّهُ لَكُمْ عَدُوٌّ مُبِينٌ(سورۃ البقرۃ:208)’’اے اہل ایمان اسلام میں پورے پورے داخل ہوجاؤ اور شیطان کے قدموں کے پیچھے مت چلو ،یقیناً وہ تمہارا کھلا دشمن ہے ‘‘ کسی مسلمان کے لیے یہ جائز نہیں کہ وہ عبادات میں تو کتاب وسنت پر عمل پیرا ہو او رمعاملات او رمعاشرتی مسائل میں اپنی من مانی کرے او راپنے آپ کوشرعی پابندیوں سے آزاد تصور کرے۔ ہمارے دین کی وسعت وجامعیت   ہےکہ اس میں ہر طرح کے تعبدی امور اور کاروباری معاملات ومسائل کا مکمل بیان موجود ہے او ہر مسلمان بہ آسانی انہیں سمجھ کر ان پر عمل پیرا ہوسکتاہے ۔ زیر نظر کتاب ’’ 100 حرام کاروبار اورتجارتی معاملات‘‘ شیخ ابراہیم بن عبد المقتدر﷾ کی عربی کتاب ’’تحذیر الکرام من مائۃ باب من ابواب الحرام‘‘ کا سلیس اردو ترجمہ ہے ۔اس کتاب میں تجارتی معاملات اور خرید وفروخت کے متعلق جدید مسائل کوبڑے احسن پیرائے میں درج کیا گیا ہے ۔ اور اس کتاب کی امیتازی خوبی یہ ہے کہ   اس میں تمام شرعی مسائل اور دینی تعلیمات کو ایک ایک کہانی اور مکالمے کی شکل میں پیش کیا گیا ہے جس سے پڑہنے والا متاثر ہوئے بغیر نہیں رہ سکتا اور کتاب کو شروع کرنے کےبعد ختم کیے بغیر چھوڑنے کودل نہیں چاہتا۔اللہ تعالیٰ اس کتاب کو مصنف،مترجم ،ناشر اور جملہ معاونین کے لیے ذخیرۂ آخرت اور بلندی درجات کا باعث بنائے۔ آمین( م۔ا)

  • title-page-1000-se-ziada-jannat-k-raste-copy
    محمد امین انصاری

    جنت اللہ کےمحبوب بندوں کا آخری مقام ہے اور اطاعت گزروں کےلیے اللہ تعالیٰ کا عظیم انعام ہے ۔ یہ ایسا حسین اور خوبصورت باغ ہے جس کی مثال کوئی نہیں ۔یہ مقام مرنے کے بعد قیامت کے دن ان لوگوں کو ملے گا جنہوں نے دنیا میں ایمان لا کر نیک اور اچھے کام کیے ہیں۔ قرآن مجید نے جنت کی یہ تعریف کی ہے کہ اس میں نہریں بہتی ہوں گی، عالیشان عمارتیں ہوں گی،خدمت کے لیے حور و غلمان ملیں گے، انسان کی تمام جائز خواہشیں پوری ہوں گی، اور لوگ امن اور چین سے ابدی زندگی بسر کریں گے۔نبی کریم ﷺنے فرمایا ہے کہ:’’جنت میں ایسی ایسی نعمتیں ہیں جنھیں کسی آنکھ نے دیکھا نہیں نہ کسی کان نے ان کی تعریف سنی ہے نہ ہی ان کا تصور کسی آدمی کے دل میں پیدا ہوا ہے۔‘‘(صحیح مسلم: 2825) اور ارشاد باری تعالیٰ ہے’’ ابدی جنتوں میں جتنی لوگ خود بھی داخل ہوں گے اور ان کے آباؤاجداد، ان کی بیویوں اور اولادوں میں سے جو نیک ہوں گے وہ بھی ان کے ساتھ جنت میں جائیں گے، جنت کے ہر دروازے سے فرشتے اہل جنت کے پاس آئیں گے اور کہیں گے تم پر سلامتی ہو یہ جنت تمہارے صبر کا نتیجہ ہے آخرت کا گھر تمہیں مبارک ہو‘‘۔(سورۂ الرعدآیت نمبر: 23،24) حصول جنت کےلیے انسان کو کوئی بھی قیمت ادا کرنی پڑے تو اسے ادا کرکے اس کامالک ضرور بنے۔جنت کاحصول بہت آسان ہے یہ ہر اس شخص کومل سکتی ہے جو صدق نیت سے اس کےحصول کے لیے کوشش کرے ۔ اللہ تعالیٰ نے اسے اپنے بندوں کے لیے ہی بنایا ہے اور یقیناً اس نے اپنے بندوں کوہی عطا کرنی ہے ۔لیکن ضرورت صرف اس امر کی ہے کہ ہمیں کماحقہ اس کا بندہ بننا پڑےگا اور جنت میں لے جانے والے نیک اعمال کرنا ہوں گے ۔ زیر تبصرہ کتاب’’1000 سے زیادہ جنت کی طرف جانےوالے راستے ‘‘ فضیلۃ الشیخ محمد امین انصاری ﷾ کی ایک عربی تصنیف کا اردو ترجمہ ہے ۔شیخ موصوف نے اس کتاب میں نہایت خوبصورت اسلوب اور دل نشیں ترتیب کے ساتھ ایسے ایک ہزار سے زیادہ اعمال قرآ ن وسنت کی روشنی میں جمع کردئیے ہیں جن پر عمل پیرا ہو کر ہر شخص جنت کی راہ پر گامزن ہو سکتا ہے ۔محترم جناب حافظ عبد اللہ سلیم ﷾ نے اس کتاب کی افادیت کے پیش نظر اسے اردو قالب میں ڈھالا ہے ۔(اللہ تعالیٰ مصنف ،مترجم اور ناشرین کی اس کاوش کو قبول فرمائے اور اسے عامۃ الناس کے لیے نفع بخش بنائے ۔(آمین) (م۔ا) 

  • title-pages-500-sawal-w-jawab-brae-khawateen-copy
    مختلف اہل علم

    روز مرہ زندگی میں خواتین کو بہت سارے خصوصی مسائل کاسامنا کرنا پڑتا ہے جن میں سے بیشتر کاتعلق نسوانیت کے تقاضوں،عبادات اور معاشرتی مسائل سے ہوتا ہے عموماً خواتین ان مسائل کوپوچھنے میں جھجک محسوس کرتی ہیں جبکہ ان مسائل کا جاننا پاکیزہ زندگی گزارنے کے لیے انتہائی ضروری ہے کیونکہ پاکیزگی او رطہارت کسی بھی قوم کا طرۂ امتیاز ہے معاشرے اور خاندان میں عورت کی اہمیت او رمقام مسلمہ ہے اگر آپ معاشرہ کو مہذب دیکھناچاہتے ہیں تو عورت کومہذب بنائیں۔رسول اللہ اکرمﷺ کی زندگی ہر مسلمان ، خواہ مردہو یا عورت ، کے لیے اسوۂ حسنہ ہے۔ یقیناً یہ اسلامی تعلیمات کا اعجازی پہلو ہے کہ نبی کریم ﷺ کی تعلیمات میں مردو زن ہرایک کےلیے یکساں طور پر احکا م ومسائل کابیان ملتا ہے ۔ کیونکہ دین اسلام کی نگاہ میں شرعی احکام کے پابند اور مکلف ہونے نیز اجروثواب کے اعتبار سےمرد وزن میں کوئی فرق نہیں ہے۔خواتین کے متعلقہ احکام ومسائل کوجس تفصیل ووضاحت اور جامعیت کےساتھ قرآن وحدیث میں بیان کیا گیا ہے یہ بھی ہمارے دین کی ایسی امتیازی خوبی ہے جس میں کوئی دوسرا مذہب اس کی ہمسری کا دعویٰ نہیں کرسکتا ہے ۔ اور یہ تعلیمات ایسی کامل واکمل ہیں کہ تا قیامت پیدا ہونے والے پچیدہ اور دشوار مسائل کا حل بھی انہیں تعلیمات میں موجود ہے ۔ زیر تبصرہ کتاب’’500سوال وجواب برائے خواتین‘‘ سعودی عرب کے کبار علماء ومفتیان عظام کےخواتین کے متعلق 500احکام ومسائل پر مشتمل عربی کتاب 500 جواب فی أحکام المرأۃ کا اردو ترجمہ ہے۔اس کتاب میں خواتین کے پیش آمدہ مسائل کا قرآن وسنت کی روشنی میں حل پیش کیا گیا ہے ۔اس کتاب کی خصوصیت یہ ہےکہ اس میں عالم اسلام کے نامور علماء کے فتاویٰ کو یکجا کیاگیا ہے جو کسی امتی کے اقوال پر مبنی نہیں بلکہ خالصتاً کتاب وسنت کی بنیاد پر تحریر کیے گئے ہیں۔اس مجموعے کی ایک امیتازی صفت یہ بھی ہے کہ اس میں صرف صحیح اور ثابت احادیث پر اعتماد کیاگیا ہے ۔اللہ تعالیٰ اس کتاب کو خواتین اسلام کے لیے نفع بخش بنائے ۔(آمین) (م۔ا)

  • pages-from-500-sawal-o-jawab-brae-khreed-o-frokhat
    محمد بن صالح العثیمین

    اسلامی معاشیات شرعی تجارت کی بنیاد پر قائم ہے جس میں اللہ تعالیٰ کےحلال کردہ کاموں میں ،معاملات کے شرعی قواعد وضوابط کے مطابق سرمایہ کاری اورتجارت کی جاتی ہے ۔ان قواعد کی بنیاد اس قانون پر قائم ہے کہ معاملات میں اباحت اور حلال ہونا اصل قانون ہے اور ہر قسم کی حرام کردہ اشیاء جیسے : سود وغیرہ سے اجتناب لازمی ہے۔ارشاد باری تعالیٰ ہے :وَأَحَلَّ اللَّهُ الْبَيْعَ وَحَرَّمَ الرِّبَا(سورۃ البقرۃ:257)’’ اللہ نے بیع کو حلا ل اور سودکوحرام کیا‘‘ لہذا ہرمسلمان کے لیے اپنے دنیوی واخروی تمام معاملات میں شرعی احکام اور دینی تعلیمات کی پابندی از بس ضروری ہے کیونکہ اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے :َا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا ادْخُلُوا فِي السِّلْمِ كَافَّةً وَلَا تَتَّبِعُوا خُطُوَاتِ الشَّيْطَانِ إِنَّهُ لَكُمْ عَدُوٌّ مُبِينٌ(سورۃ البقرۃ:208)’’اے اہل ایمان اسلام میں پورے پورے داخل ہوجاؤ اور شیطان کے قدموں کے پیچھے مت چلو ،یقیناً وہ تمہارا کھلا دشمن ہے ‘‘ کسی مسلمان کے لیے یہ جائز نہیں کہ وہ عبادات میں تو کتاب وسنت پر عمل پیرا ہو او رمعاملات او رمعاشرتی مسائل میں اپنی من مانی کرے او راپنے آپ کوشرعی پابندیوں سے آزاد تصور کرے۔ ہمارے دین کی وسعت وجامعیت   ہےکہ اس میں ہر طرح کے تعبدی امور اور کاروباری معاملات ومسائل کا مکمل بیان موجود ہے او ہر مسلمان بہ آسانی انہیں سمجھ کر ان پر عمل پیرا ہوسکتاہے۔ زیر نظر کتاب ’’500 سوال وجواب برائے خرید وفروخت ‘‘تجارتی معاملات اور خریدوفروخت کےمتعلق عالم اسلام کے کبار علمائے دین کے 500 فتاوی جات پر مشتمل ہے ۔تاکہ ہر مسلمان ان کی روشنی میں اپنے کاروباری معاملات سنوار سکے اورانہیں شریعت کے منشا ےمطابق انجام دے سکے ۔محترم پروفیسر عبدالجبار ﷾ نے نہایت جان فشانی سےعربی کتاب ’’500 جواب فی البیوع والمعاملات‘‘کو اردوداں قارئین کے لیے   اردو قالب میں ڈھالا ہے۔ شہید ملت علامہ احسان الٰہی ظہیر﷫ کے برادرخور محترم عابد الٰہی ﷾ نے اپنے ادارے (مکتبہ بیت السلام ) کی طرف سے طباعت کے اعلی معیار پر شائع کیا ہے ۔ اللہ تعالیٰ اس کتاب کو تیار کرنے والے اور ناشرین کے لیے ان کی دنیوی واخروی فوز وفلاح کاضامن اور جنت میں بلندیِ درجات کا باعث بنائے (آمین)   م۔ا)

  • pages-from-masaael-ki-kahani
    عبد القادر جیلانی رحمہ اللہ

    شیخ عبدالقادر جیلانی ؒ کی ذاتی تصنیفات کے حوالہ سے معلوم ہوتا ہےکہ وہ ایک عالم باعمل اور عقیدہ اہل السنۃ پر کاربند نظر آتے ہیں بلکہ آپ خود اپنے عقیدہ کے حوالہ سے لکھتے ہیں اعتقادنا اعتقاد السلف الصالح والصحابة   ہمار عقیدہ وہی ہے جوصحابہ کرام﷢ اور سلف صالحین کا ہے اور شیخ عبد القادر دورسرں کو بھی سلف صالحین کا عقیدہ مذہب اختیار کرنے کی تلقین کرتے تھے۔ مگر شیخ کے بعض عقیدت مندوں نے فرطِ عقیدت میں شیخ کی خدمات وتعلیمات کو پس پشت ڈال کر ایک ایسا متوازی دین وضع   کر رکھا ہے جو نہ صرف قرآن وسنت کے صریح خلاف ہے بلکہ شیخ کی مبنی برحق تعلیمات کے بھی منافی ہے۔ زیر نظر کتابچہ شیخ عبدالقادر جیلانی کی مشہور ومعروف کتاب غنیۃ الطالبین سے اخذکردہ ہے۔ عبادات ،عقائد او ربدعات خرافات کے حوالے سے شیخ عبدالقادر جیلانی کی تعلیمات کو حکیم عبد الرحمن خلیق نے سوال وجواب کی صورت اس مختصر کتابچہ میں جمع کردیا ہے جسے پڑھ کر شیخ کا عقیدہ ومسلک واضح ہوجاتاہے او ر ان کی طرف منسوب غلط قسم کے مسائل کی حققیت بھی آشکارہ ہوجاتی ہے۔ قارئین اس رسالہ کوپڑھ کر بآسانی فیصلہ کرسکتے ہیں کہ حضرت پیرانِ پیر محبوب سبحانی شیدالقادرجیلانی کی تحقیق کیاہے ۔قرآن مجید اور احادیث مبارکہ کے موافق ان کی شہادت کیا ہے ۔اللہ تعالی شیخ عبدالقادر جیلانی  کی مرقد پر   اپنی رحمتوں کانزول فرمائے اور اس مختصر رسالے کو لوگوں کی اصلاح کا ذریعہ بنائے (آمین)

  • title-pages-aao-la-ilaha-illallah-ki-tarf
    حافظ محمد علی فیصل
    عقیدہ توحید کی بنیاد لا الہ الا اللہ پر ہے۔ جس نے صدق دل سے اس کو پڑھا، سمجھا اور عمل کیا دنیا و عاقبت میں اس کی کامیابی پر شک کی گنجائش نہیں رہتی۔ زیر نظر مختصر سے رسالہ میں اس مبارک کلمہ کے ضمن میں عقیدہ توحید کی وضاحت کرتے ہوئے تمام مسلمانوں کو ایک جھنڈے تلے جمع ہونے کا درس دیا گیا ہے۔ توحید و شرک کے موضوع پر بہت سی ضخیم کتب لکھی جاچکی ہیں لیکن افادہ عام کے لیے یہ مختصر سی کتاب بے نظیر ہے۔












  • pages-from-aina-islami-tahzeeb-o-tamaddan
    پروفیسر مزمل احسن شیخ

    نبی اکرم ﷺ کی سیرتِ مبارکہ نے ملتِ اسلامیہ کی زندگی کے ہر پہلو کے لئے راہنمائی فراہم کی ہے۔ ان میں سے ایک پہلو ثقافتی اور تہذیبی بھی ہے۔ دنیا کی تمام تہذیبوں اور ثقافتوں کے مقابلے میں اسلام کی تہذیب و ثقافت بالکل منفرد اور امتیازی خصوصیات کی حامل ہے۔ اس کی بنیادی وجہ وہ اُصول و ضوابط اور افکار و نظریات ہیں جو نبی اکرم ﷺ نے اپنے اُسوہ حسنہ کے ذریعے اُمتِ مسلمہ کو عطا فرمائے ہیں۔ ثقافت کی تمام ترجہات میں اُسوہ حسنہ سے ہمیں ایسی جامع راہنمائی میسر آتی ہے جس سے بیک وقت نظری، فکری اور عملی گوشوں کا احاطہ ہوتا ہے۔ ایسی جامعیت دنیا کی کسی دوسری تہذیب یا ثقافت میں موجود نہیں ہے۔ مغربی مفکرین اسلام اور پیغمبر اسلام کے بارے میں اپنے تمام تر تعصبات کے با وجود اسلام کی عظیم الشان تہذیب اور ثقافت کی نفی نہیں کر سکے۔ انہیں برملا اعتراف کرنا پڑا کہ مسلمانوں نے یورپ کو تہذیب کی شائستگی کی دولت ہی سے نہیں نوازا بلکہ شخصیت کی تعمیر و کردار کے لئے بنیادیں فراہم کیں، تاریکی میں ڈوبے ہوئے یورپ کو ثقافت کی روشنی سے ہمکنار کیا، جنگل کے قانون کی جگہ ابن آدم کو شرفِ انسانی کی توقر و احترام کا شعور عطا کیا اور یوں اس کرہ ارضی پر ان مہذب معاشروں کے قیام کی راہ ہموار کی جو آج بھی تاریخ کے ماتھے کا جھومر ہیں۔ زیر تبصرہ کتاب "آئینہ اسلامی تہذیب وتمدن "محترم پروفیسر مزمل احسن شیخ صاحب، ابو طاہر صدیقی صاحب اور ابو خالد صدیقی صاحبان کی مشترکہ کوشش ہے،جس میں انہوں نے بڑی خوبصورتی کے ساتھ اسلامی تہذیب وثقافت پر روشنی ڈالی ہے۔ یہ کتاب انہوں نے انٹر میڈیٹ علوم اسلامیہ کے امتحان کے لئے تیار کی ہے۔ اللہ تعالی ان کی اس کاوش کو قبو ل فرمائے۔ آمین(راسخ)

  • title-pages-aina-e-kirdar-copy
    ڈاکٹر زاہد منیر عامر

    اخلاقیات کا علم اتنا ہی قدیم ہے جتنا کہ خود انسان  اس لیےاخلاقی تصورات کو  کاغذ پر  منتقل کرنے کا عمل نیا نہیں لیکن چونکہ  زندگی ہمیشہ آگے بڑھتی ہے اور ہر دور میں اخلاقی تصورات کواجاگرکرنے کی ضرورت ہوتی ہے  اس لیے ہر دور میں اس موضوع پر تصنیف وتالیف کی ضرورت رہتی ہے  خاص طور امت مسلمہ میں کہ جس کے پیغمبر نے اپنی بعثت  کا مقصد مکارمِ اخلاق کی تکمیل کو قرار دیا اورجن کے اخلاقِ کریمانہ کے باعث اہل ِ  عرب نے اسلام قبول کیا اورجہاں بان وجہاں آرا  گئے ۔ زیر نظر کتاب ’’آئنیہ کردار ‘ ٹیلی ویژن کے معروف میزبان  پنجاب یونیورسٹی کے ادبیات کے استاد ڈاکٹر زاہد منیر عامر کی تصنیف ہے جس میں انہوں نے دینی اور اخلاقی مباحث کو  نہایت خوب صورتی سے  پیش  کیا  ہے ۔ اللہ  تعالیٰ اس کتاب کو  قارئین کے لیے نفع بخش بنائے (آمین) (م۔ا)

    نوٹ:

    محدث فورم میں اس کتاب پر تبصرہ کرنے کے لیے یہاں کلک کریں

  • title-pages-aaye-munne-se-kuch-seikhain
    ابن رفیق
    حضور نبی کریمﷺ پر دین مکمل ہو چکا ہے اب اس میں کسی بھی اضافے یا کمی کی گنجائش نہیں ہے۔ کوئی بھی بطور دین کیا جانے والا ایسا کام جو حضور نبی کریمﷺ  اور صحابہ کرام نے نہ کیا ہو بدعت کے زمرے میں آتا ہے۔ ایسا کام ثواب کے بجائے عقاب کا باعث بن جاتا ہے۔ لیکن آج ہم دیکھتے ہیں کہ بہت سے عاقبت نا اندیش علمائے کرام نہ صرف بدعات و خرافات کی ترویج میں لگے ہیں بلکہ ان پر بے شمار انعامات کا لالچ دے کر عوام الناس کے ایمان کےساتھ کھیل رہے ہیں۔ زیر نظر کتابچہ ’آئیے منے سے کچھ سیکھیں‘ اسی سلسلہ میں عوام کو ایسے ملاؤں کے چنگل سے چھڑانے کے لیے ترتیب دیا گیا ہے۔ کتابچہ میں ایک فرضی منا تصور کیا گیا ہے جو ہمارے معاشرے میں مروج بہت سی مشہور بدعات سے متعلق سوالات پیدا کرتا ہے اور پھر شرعی نصوص کے ساتھ ان پر بحث کرتا ہے۔ کتابچے کا اسلوب عام کتب دینیہ سے قدرے مختلف اور ہلکا پھلکا ہے۔ بہت سے ایسے مسلمان بھائی جو بہت سے بھاری بھرکم دلائل کے باوجود بدعات و خرافات کو چھوڑنے پر آمادہ نہیں ہیں اور بہت سارے عام فہم اور اپنی سادگی کی وجہ سے بدعات میں جکڑے مسلمانوں کے لیے یہ کتابچہ ضرور مہیا کرنا چاہیے ۔ (ع۔م)

    نوٹ:
    محدث فورم میں اس کتاب پر تبصرہ کرنے کے لیے یہاں کلک کریں
  • title-pages-aabe-hayat-copy
    محمد یحیٰ خان

    کون ہے جو اپنی زندگی کامیاب اور خوش نہیں بنانا چاہتا؟لیکن کتنے ہیں جو اس گر سے واقف ہیں؟دنیا میں انسان مختلف طبیعتوں کے مالک ہیں، اور ان کے پیشے ، کاروبار اور مصروفیات مختلف ہیں۔ہر انسان چاہتا ہے کہ کامیاب ہو، خوب ترقی کرلے، آگے بڑھے، اس کی دشواریاں دور ہوں، بھرپور عزت واحترام ملے، اس کے ساتھ بہترین سلوک اور نمایاں رویّے سے پیش آیا جائے، اس کی صحت اچھی رہے، اس کی ترقی کی راہ میں کوئی رکاوٹ حائل نہ ہو، اور یہ کہ ساری چیزیں اپنے آپ ہوجائیں اور خود اسے کچھ کرنا نہ پڑے۔کیا ایسی کامیابی اور ترقی کو جس کے لیے خود انسان کو اپنے لیے کچھ کرنا نہ پڑے، خواب کے سوا اور کوئی نام دیا جاسکتا ہے؟کامیابی کا راستہ بہت مشکل اور کٹھن ہوتا ہے۔ کامیابی کے سفر میں آپ کو پریشانیاں، دقتیں اور مشکلات برداشت کرناپڑتی ہیں۔ لیکن آخر میں ہرے بھرے باغ انہیں کو ملتے ہیں جو سچی لگن سے محنت کرتے ہیں اور تمام تر مشکلات کے باوجود اپنا راستہ بناتے ہیں۔ہر انسان اپنے معیار کے مطابق کامیابی کو دیکھتا اور سمجھتا ہے۔ زیر تبصرہ کتاب" آب حیات"  کہنہ مشق صحافی محترم محمد یحیی  خان صاحب کی تصنیف ہے، جس میں انہوں نے اپنے مشاہدات، لوگوں سے ڈیلنگ اور اپنی زندگی کے تجربات کی روشنی میں نوجوان نسل کو کامیاب زندگی گزانے کے آفاقی  اصول اور گر سکھلائے ہیں۔اللہ تعالی سے دعا ہے کہ وہ تمام مسلمانوں کو تمام میدانوں میں کامیاب فرمائے اور ان کی دنیا وآخرت دونوں جہانوں کو بہترین بنا دے۔کیونکہ میں سمجھتا ہوں کہ انسان کے لئے سب سے بڑی کامیابی یہ ہے کہ اسے جہنم سے بچا لیا جائے اور اسے جنت میں داخل کر دیا جائے۔اللہ تعالی  ہمیں صراط مستقیم پر چلائے اور ہم سب کی مغفرت فرمائے۔(راسخ)

  • title-pages-aabe-zam-zam-ghaza-dua-aur-shifa-copy
    ڈاکٹر خالد جاد

    زمزم کا پانی حضرت ابراہیم اور حضرت ہاجرہ علیہا السلام کےشیر خوار بیٹے حضرت اسماعیل کی پیاس بجھانے کے بہانےاللہ تعالیٰ نےتقریباً 4 ہزار سال قبل ایک معجزےکی صورت میں مکہ مکرمہ کےبےآب و گیاہ ریگستان میں جاری کیا جو آج تک جاری ہے۔چاہ زمزم مسجد حرام میں خانہ کعبہ کےجنوب مشرق میں تقریباً 21 میٹر کےفاصلےپر تہہ خانے میں واقع ہے۔ یہ کنواں وقت کےساتھ سوکھ گیا تھا۔ نبی کریم ﷺ کےدادا عبدالمطلب نےاشارہ الٰہی سےدوبارہ کھدوایا جوآج تک جاری و ساری ہے۔ آب زمزم کا سب سےبڑا دہانہ حجر اسود کےپاس ہےجبکہ اذان کی جگہ کےعلاوہ صفا و مروہ کےمختلف مقامات سےبھی نکلتا ہے۔ 1953ءتک تمام کنووں سےپانی ڈول کےذریعےنکالاجاتا تھا مگر اب مسجد حرام کےاندر اور باہر مختلف مقامات پر آب زمزم کی سبیلیں لگادی گئی ہیں۔ آب زمزم کا پانی مسجد نبوی میں بھی عام ملتا ہےاور حجاج کرام یہ پانی دنیا بھر میں اپنےساتھ لےجاتےہیں۔ احادیث مبارکہ میں اس پانی کی فضیلت بھی بیان ہوئی ہے زم زم پینے کے آداب وفوائد کو بھی بیان کیا گیا ہے ۔ قصہ آب زم زم ، تاریخ ، فضیلت ، فوائد کے متعلق بیسیوں کتب عربی واردو زبان میں شائع ہو چکی ہیں۔ زیرتبصرہ کتاب ’’آب زم زم غذا، دوا اور شفا‘‘ دکتور خالد جاد کی عربی کتاب ’عالج نفسک بماء زم زم‘ کا سلیس وآسان ترجمہ ہے ترجمہ کی سعادت محترم ابو انیس محمد طیب طاہر ﷾ نے حاصل کی ہے ۔ فاضل مصنف نے اس کتاب میں آب زم زم کی تاریخ ، فوائد ، اس سے مختلف بیماریوں کا علاج اور فضیلت کو مستند حوالہ جات کی روشنی میں بیان کی ہے ۔محترم جناب پروفیسر عبد الجبار شاکر ﷫ کی اس کتاب پر نظر ثانی سے کتاب کی افادیت میں مزید اضافہ ہوگیا ہے ۔(م۔ا)

  • pages-from-aatish-bazi-aur-lighting-sirf-araaesh-aur-khail-ya
    ام عبد منیب

    آگ اللہ تعالیٰ کی پیدا کی ہوئی مخلوقات کی طرح ایک مخلوق ہے جس کے چلنے سے حرارت اور روشنی پیدا ہوتی ہے ۔آگ جب جل رہی ہواس کی زد میں جو چیز آئے وہ جل کر بھسم ہو جاتی ہے ۔آگ کی ایک چنگاری پورے شہر یا جنگل کوجلانے کے لیے کافی ہوتی ہے ۔ انسان کے ازلی دشمن شیطان کواللہ تعالیٰ نے آگ سے پیدا کیا ۔اور شیطان روزِ اول ہی سے آگ اور آگ سے منسوب چیزوں کو اپنے آلۂکار کے طور پر استعمال کر رہا ہے جہنم جو آگ کاسب سے بڑا مرکز ومنبع ہے اس کاسب سے بڑا جہنمی خود شیطان ہوگا۔اللہ تعالیٰ نے اپنی نافرمانی کرنے والوں کے لیے عذاب کا اصل گھر آگ ہی کو قرار دیا ہے ۔نیز ا س نے اس عذاب کے دینے میں کسی اورکو اپنا شریک بنانا گوارا نہیں کیا ۔آگ ہماری دشمن ہے اس آگ ہی سے ڈرانے   اور بچانے کے لیے اللہ تعالیٰ نے انبیاء اور رسول بھیجے ۔گو آگ ہماری ضرورت بھی ہے اور ضرورت کے وقت آگ سے کام لینا انسان کا حق ہے ۔ لیکن اسے بغیر ضرورت جلائے رکھنا اس سے پیا ر کرنا، کافروں کی طرح اپنی رسومات اور عادات کا حصہ بنانا کسی صورت بھی زیب نہیں دیتاہے۔ کیونکہ آگ بنیادی طور پرہماری دشمن ہے اور ہمارے دشمن شیطان کی پسندیدہ چیز ہے ۔نبی کریم ﷺ نے ہمیں دنیاوی آگ کی دشمنی کابھی احساس دلایا اور اس سے محتاط رہنے کی تاکید کی ہے ۔ زیر نظر کتابچہ ’’آتش بازی اور لائیٹنگ صرف آرائش اور کھیل یا؟‘‘ محترمہ ام عبد منیب صاحبہ کا مرتب شدہ ہے جس میں انہوں نے اختصار کے ساتھ آگ کی تاریخ اور مختلف مذاہب میں اس کی کیا حیثیت ہے؟کو پیش کرکے   اس کےجائز اور ناجائز استعمال کے سلسلے میں اسلامی تعلیمات کوبھی بڑے احسن انداز میں پیش کیا ہے۔ اللہ تعالیٰ کتابچہ کو عوام الناس کے لیے نفع بخش بنائے۔آمین ( م۔ا)

  • title-pages-akhri-dawat-copy
    اشتیاق احمد

    دینِ اسلام  ایک سیدھا اور مکمل دستورِ حیات ہے جس کو اختیار کرنے میں  دنیا وآخرت کی کامرانیاں پنہاں ہیں  ۔ یہ ایک  ایسی روشن شاہراہ ہے جہاں رات دن کا کوئی فرق  نہیں  اور نہ ہی اس میں کہیں پیچ خم ہے ۔ اللہ  تعالیٰ نے اس دین کو انسانیت کے لیے پسند فرمایا اوررسول پاکﷺ کی زندگی  ہی میں  اس کی  تکمیل فرمادی۔عقائد،عبادات ، معاملات، اخلاقیات ، غرضیکہ جملہ شبہائے زندگی میں کتاب وسنت ہی  دلیل ورہنما ہے ۔ہر میدان میں  کتاب   وسنت کی ہی پابندی ضروری ہے ۔صحابہ کرام    نے کتاب وسنت کو جان سے  لگائے رکھا ۔ا  ن کے معاشرے میں کتاب وسنت کو قیادی حیثیت حاصل رہی  اور وہ  اسی شاہراہ پر گامزن رہ کر دنیا وآخرت کی کامرانیوں سے ہمکنار ہوئے ۔ لیکن جو  ں جوں زمانہ گزرتا  گیا لوگ  کتاب وسنت  سے دور ہوتے گئے  اور بدعات وخرافات نے ہر شعبہ میں اپنے  پیر جمانے شروع کردیئے ۔ اور  اس  وقت بدعات وخرافات  اور علماء سوء نے پورے  دین کو  اپنی  لپیٹ میں لے رکھا ہے ۔وقت کے  راہبوں ،صوفیوں،  نفس پرستوں او رنام نہاد دعوتِ اسلامی کے دعوے داروں نے  قال اللہ وقال الرسول کے مقابلے میں اپنے خود ساختہ افکار وخیالات اور   طرح طرح کی بدعات وخرافات  نے اسلام کے صاف وشفاف چہرے کو داغدار بنا دیا ہے جس سے  اسلام کی اصل  شکل گم ہوتی جارہی ہے ۔اور مسلمانوں کی اکثریت ان بدعات کو عین اسلام سمجھتی  ہے۔دن کی بدعات  الگ  ہیں ، ہفتے کی بدعات الگ ،مہینے کی بدعات الگ،عبادات کی بدعات الگ ،ولادت اور فوتگی کے موقع پر بدعات الگ غرض کہ ہر ہر موقع کی بدعات الگ الگ ایجاد کررکھی ہیں۔تیجا ، ساتواں ، دسواں اور چالیسواں کی بدعات   کو اس انداز سےمنعقد کیا جاتا ہے کہ  وہ  شادی کی تقریبات محسوس ہوتی ہیں ۔جید اہل  علم نے   بدعات  اور اس  کے  نقصانات  سے  روشناس کروانے کے لیے   اردو  وعربی زبان میں متعدد چھوٹی  بڑی کتب   لکھیں  ہیں جن کے  مطالعہ سے اہل اسلام  اپنے  دامن کو   بدعات سے  خرافات سے بچا سکتے ہیں ۔ زیر تبصرہ کتابچہ ’’ آخری دعوت ‘‘ میں   جنا ب اشتیاق احمد  صاحب نے   برصغیر وپاک وہند میں رائج بدعات  میں سے  چالیسواں کی بدعت کو ایک کہانی کی  صورت میں  آسان فہم  انداز میں کتاب وسنت کی روشنی میں  پیش کیا ہے۔جسے ایک عام  آدمی پڑھ کر یہ   سمجھ سکتاہے کہ  ان  بدعات کا    اسلام میں کوئی ثبوت نہیں بلکہ  یہ  اپنی طرف سے  ایجاد کردہ خرافات ہیں کہ مسلمان  جس    میں گھیرے ہوئے  ہیں۔ اللہ تعالیٰ  مصنف اور ناشرین کی اس  کاوش کو قبول فرمائے اور اسے عامۃ الناس کےلیے نفع بنائے ۔(آمین)  (م۔ا)

  • title-2
    محمد یوسف اصلاحی

    زندگی سے بھرپور فائدہ اٹھانا،خاطر خواہ لطف اندوز ہونا اور فی الواقع کامیاب زندگی گزارنا یقینا آپ کا حق ہے،لیکن یہ اسی وقت ہی ممکن ہو سکتا ہے جب آپ زندگی گزارنے کا سلیقہ جانتے ہوں،کامیاب زندگی کے اصول وآداب سے واقف ہوں ،اور نہ صرف واقف ہوں بلکہ عملاً ان سے اپنی زندگی کو آراستہ و شائستہ بنانے کی کوشش میں پیہم سرگرم بھی ہوں۔ پیش نظر کتاب آداب زندگی فاضل مولف محمد یوسف اصلاحی کی کاوش ہے جس میں انہوں نے اسلامی تہذیب کے انہی اصول وآداب کو معروف تصنیفی ترتیب کے ساتھ پیش کرنے کی کوشش کی ہے ،اور کتاب اللہ اور سنت رسول اللہ کی لائی ہوئی شریعت کی روشنی میں زندگی گزارنے کا سلیقہ سکھانے والا ایک گرانقدر مجموعہ تیار ہو گیا ہے۔یہ کتاب اصول زندگی کے پانچ معروف ابواب پر مشتمل ہے۔جن میں زندگی گزارنے کے متعلق تمام اہم امور آجاتے ہیں۔بارگاہ الہی میں دعا ہے کہ وہ مولف کی اس کاوش کو قبول فرمائے اور تمام مسلمانوں کو اپنی زندگی شریعت کے عظیم اصولوں کے مطابق گزارنے کی توفیق دے۔آمین(راسخ)

  • title-page-aadaab-e-mubashirat
    ڈاکٹر آفتاب احمد
    اسلام كاايك نماياں وصف یہ ہے کہ اس میں انسانی زندگی کے ہرمسئلے کےبارے میں رہنمائی دی گئی ہے ۔حتی کہ مردوعورت کے جنسی تعلقات کےبارےمیں بھی اہم ہدایات عطاکی گئی ہیں ۔زیرنظرکتابچہ میں طبی وشرعی نقتہ نگاہ سے آداب مباشرت تحریرکیےگئےہیں ۔جن کامطالعہ ہرمسلمان کےلیے مفیدثابت ہوگا۔حقیقت یہ ہے کہ انسان لاعلمی کی بناء پرایسے بہت سے کام کربیٹھتاہے جوشریعت میں صریح حرام ہوتے ہیں اوران کےنتائج بھی انتہائی خطرناک نکلتے ہیں ۔اس رسالہ کے مطالعہ سے دانش وحکمت کی بہت سی باتیں معلوم ہوتی ہیں ۔عقل سلیم کاتقاضاہے کہ ان نادرتجربات ،سبق آموزمشاہدات اورآزمودہ کارافرادکی ہدایات سے بھرپورفائدہ اٹھایاجائے ۔زن وشوہرکے تعلقات کوصرف حیوانی جذبات کی تسکین کاآلہ کارنہ سمجھناچاہیے بلکہ زندگی کامتبرک وظیفہ خیال کرکے ہرسلیم الطبع کوان پرکاربندہونے کی کوشش کرنی چاہیے ۔ یہی اس کتاب کا پیغام  ہے



  • title-pages-adab-w-akhlaq-se-mutaliqa-sahih-ahadees-copy
    ابن حجر العسقلانی

    اللہ تبارک وتعالیٰ نے مسلمانوں کو ایک بڑی دولت اور نعمت سے نوازا ہے، جو پورے دین کو جامع اور اس کی تبلیغ کا بہترین ذریعہ ہے۔ وہ نعمت اور دولت اخلاق آداب ہے، ہمارے نبی حضرت محمد رسول اللہﷺ اخلاق کے اعلیٰ معیار پر تھے، چنانچہ آپﷺ کی راز دار زندگی اور آپﷺ کی زوجہ محترمہ حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا فرماتی ہیں، ”آپﷺ کے اخلاق کا نمونہ قرآن کریم ہے“۔ آپﷺ نے اپنے ہر قول وفعل سے ثابت کیا کہ آپﷺ دنیا میں اخلاقِ حسنہ کی تکمیل کے لیے تشریف لائے، چنانچہ ارشاد ہے: ”بعثت لاتتم مکارم الاخلاق“ یعنی ”میں (رسول اللہ ﷺ) اخلاق حسنہ کی تکمیل کے واسطے بھیجا گیا ہوں“۔ پس جس نے جس قدر آپﷺ کی تعلیمات سے فائدہ اٹھاکر اپنے اخلاق کو بہتر بنایا اسی قدر آپﷺ کے دربار میں اس کو بلند مرتبہ ملا، صحیح بخاری کتاب الادب میں ہے، ”ان خیارکم احسن منکم اخلاقا“ یعنی ”تم میں سب سے اچھا وہ ہے جس کے اخلاق سب سے اچھے ہوں۔ حضورﷺ کی ساری زندگی اخلاقِ حسنہ سے عبارت تھی، قرآن کریم نے خود گواہی دی ”انک لعلی خلق عظیم“ یعنی ”بلاشبہ آپﷺ اخلاق کے بڑے مرتبہ پر فائز ہیں“۔ آپ ﷺ لوگوں کوبھی ہمیشہ اچھے اخلاق کی تلقین کرتے آپ کے اس اندازِ تربیت کےبارے میں حضرت انس کہتے ہیں۔ رایتہ یامر بمکارم الاخلاق(صحیح مسلم :6362) میں نے آپ کو دیکھا کہ آپ لوگوں کو عمدہ اخلاق کی تعلیم دیتے ہیں۔ زیر تبصرہ کتاب ’’آداب واخلاق سے متعلقہ صحیح احادیث ‘‘شارح بخاری امام ابن حجر عسقلانی ﷫ کی حسنِ اخلاق اوراداب کے متعلق منتخب احادیث کا رواں اردو ترجمہ ہے ۔ عامۃ الناس کےاستفادے کے محترم جناب ڈاکٹر حافظ عمران ایوب لاہوری ﷾ نے ان احادیث کو اردو قالب میں ڈھالا ہے ۔اللہ تعالیٰ موصوف کے علم وعمل میں برکت ڈالے اور ان کی تحقیقی وتصنیفی خدمات کو قبول فرمائے ۔(آمین(م۔)

  • title-pages-aafat-e-nazar-aur-inka-ilaj
    ارشاد الحق اثری
    فی زمانہ ہم دیکھتے ہیں کہ ہر عمر کے افراد میں جنسی بے روی بڑھ رہی ہے۔ اور اس کا نقطہ آغاز ہے بد نظری۔ جب سوشل اور الیکٹرانک میڈیا پر فحش لٹریچر کی ترویج و اشاعت برسرعام ہوتی ہے تو لامحالہ اس کے اثرات معاشرے پر بھی نظر آتے ہیں۔ اور اسی وجہ سے ہمارے معاشروں میں روز بروز جنسی طور پر ہراساں کیے جانے اور زیادتی کے بعد قتل کی وارداتیں بڑھتی جا رہی ہیں۔ حد تو یہ ہے کہ چھ، چھ سال کی بچیاں اس درندگی کا نشانہ بن رہی ہیں۔ آنکھ خداتعالیٰ کی طرف سے عنایت کی جانے والی ایک نعمت غیر مترقبہ ہے۔ فلہٰذا ہر مسلمان کا فرض ہے کہ وہ اس کا استعمال اللہ تعالیٰ کے احکامات کے مطابق کرے۔ زیر نظر رسالہ میں ہم نے کتاب و سنت اور آثار سلف کی روشنی میں آنکھ سے پیدا ہونے والے فتنوں اور ان کے انجام سے خبردار کیا ہے اور ان کے انجام سے خبردار کیا ہے اور ان سے محفوظ رہنے اور بچنے کا طریقہ ذکر کیا ہے۔ اور اسی ضمن میں آنکھ کے متعلق بض دیگر مفید مباحث کا بھی تذکرہ آ گیا ہے جو یقیناً قارئین کے لیے دلچسپی کا باعث ہوگا۔(ع۔م)

    نوٹ:
    محدث فورم میں اس کتاب پر تبصرہ کرنے کے لیے یہاں کلک کریں

  • title-pages-afaqi-hadood-me-qaid-o-band-ka-adme-jawaz-copy
    محمود خالد مسلم

    پاکستان اس وقت جن بڑے بڑے مسائل سے دوچار ہےان پر ہر پاکستانی پریشان اور خوف وہراس کا شکار ہے۔آئے روز ڈکیتیوں، شاہراہوں پر لوٹ مار، قتل وغارت اور بم دھماکوں کی بھر مار ہے۔حتی کہ اندرون خانہ بھی کوئی شہری محفوظ نہیں ہے۔کیا ان جرائم کو روکنے والا کوئی نہیں ؟پولیس اور دوسرے ادارے کیوں ناکام ہو گئے ہیں۔ان جرائم اور لاقانونیت کے پس پردہ وہ کون سے عوامل اور اسباب ہیں جن کے باعث ان پر قابو پانا مشکل ہو رہا ہے؟ان عوامل میں جہاں معاشرتی اور معاشی اسباب ہیں وہاں جزا وسزا کے تصور کا بھی فقدان ہے اور سب سے بڑا سبب ایک اسلامی ملک پاکستا ن میں اللہ کی مقرر کردہ سزاؤں سے رو گردانی اور ملکی قانون کی گرفت کا کمزور ہونا ہے۔ زیر تبصرہ کتاب" آفاقی حدود میں قید وبند کا عدم جواز " محترم خالد محمود مسلم صاحب کی تصنیف ہے۔جس میں انہوں نے پاکستان کے موجودہ عدالتی نظام میں مقدمات کو نمٹانے کی رفتار  کا جائزہ لیتے ہوئے اسے انصاف مہیا کرنے کی راہ میں ایک بہت بڑا عیب قرار دیا ہے۔ مولف کے نزدیک عدالتی طریق کار میں تاخیری حربوں نے انصاف کی روح کو مجروح کر رکھا ہے اور یہ نظام مجرموں کے لئے بجائے عبرت کے ایک ترغیب اور تشویق کا پہلو رکھتا ہے۔ مولف ایک متحرک، فعال اور درد مند مسلمان ہیں جو امت مسلمہ کی اصلاح کے لئے مختلف اور متنوع قسم کے پروگرام تشکیل دیتے رہتے ہیں۔اور یہ کتاب بھی ان کی انہی کاوشوں کا ایک حصہ ہے۔اس کتاب میں انہوں نے قید وبند کی سزا کو شریعت کے منافی قرار دیا ہے ، کیونکہ شرعی طور پر ہر مجرم کو فوری سزا دے دی جاتی ہے۔ اللہ تعالی سے دعا ہے کہ وہ مولف کی اس کوشش کو اپنی بارگاہ میں قبول فرمائےاور ان کے میزان حسنات میں اضافہ فرمائے۔آمین(راسخ)

  • title-pages-anhazrat--saww-k-sawalat-sahaba--ra-k-jawabat-copy
    سلمان نصیف الدحدوح

    نبی اکرم کی حیات مبارکہ قیامت تک انسانیت کے لئے پیشوائی و رہنمائی کا نمونہ ہے۔ ارشاد باری تعالیٰ ہے۔ ترجمہ ”تحقیق تمہارے لئے رسول اللہ کی زندگی میں بہترین نمونہ ہے“ زندگی کے جملہ پہلوؤں کی طرح معلم کی حیثیت سے بھی نبی اکرم کی ذاتِ اقدس ایک منفرد اور بے مثل مقام رکھتی ہے۔ نبوت اور تعلیم و تربیت آپس میں لازم و ملزوم کی حیثیت رکھتے ہیں۔ اسی لئے آپ نے اپنے منصب سے متعلق ارشاد فرمایا:۔’’بے شک میں معلم بنا کر بھیجا گیا ہوں“ یہ وہ معلم تھے جن کی تعلیم و تدریس نے صحرا کے بدوؤں کو پورے عالم کی قیادت کے لئے ایسے شاندار اوصاف اور اعلیٰ اخلاق سے مزین کیا جس کی مثال تاریخ انسانیت میں کہیں نہیں ملتی۔تمام بھلائیاں بھی اس میں پوشیدہ ہیں آپ ایک مثالی معلم تھے۔ نبی کریم ﷺ بعض اوقات صحابہ کرام  کو دین  کی تعلیم سوالات کی صورت میں دیا کرتے تھے ۔آپ  ﷺ صحابہ    سے سوال کرتے  اگر  ان کو ان کےمتعلق معلوم ہوتا تو وہ جواب دے دیتے اور جواب نہ دینے کی صورت میں  نبی کریم ﷺ اس سوال کا جواب دیتے ۔نبی کریم  ﷺکے صحابہ کرام سےکیے گئےیہ سوالات  حدیث  کی مختلف میں  موجودد ہیں  ۔ زیر تبصرہ کتاب ’’ آنحضرت ﷺ کےسوالات  صحابہ  کے جوابات‘‘ شیخ 8سلمان نصیف الدحدوح کی عربی کتاب ’’ الرسول یسال والصحابی یجیب‘‘ کا  اردود ترجمہ ہے  اس کتاب میں   مصنف نے   نبی اکرم  کے  صحابہ  کرام   سے کیے گئے  سوالات   اور ان کے جوابات کو کتب  احادیث سے تلاش کر کے ایک جگہ جمع کردیا ۔اللہ تعالیٰ مصنف کی  اس کاوش کو قبول فرمائے اور اسے  عامۃ الناس کےلیے نفع بخش  بنائے (آمین) (م۔ا)

  • title-pages-aappbuhka-tahzeeb-wa-tamaddon
    میاں محمد جمیل ایم ۔اے
    افراد اور اقوام کے رہن سہن، عادات وخصائل حتی کہ کھانے پینےکےآداب کوبھی تہذیب وتمدن اور ثقافت وکلچرمیں شمارکیاگیاہے۔ ہرمعاشرے اوراقوام کی عادات واطوار، بودوباش او رکھانے پینے کے انداز ایک دوسرے سے الگ ہوتے ہیں۔ تہذیب وتمدن انسانوں کی عزت وعظمت کامعیار ہی نہیں بلکہ افراد کو یکجا اورمتحدرکھنے میں اس کا بڑا دخل بھی ہے۔ جس طرح نظریا ت آدمی کو ایک دوسر ےکےقریب اور دور کرتے ہیں یہی قوت تہذیب وتمدن میں کارفرماہے۔ چنانچہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جس نے اپنی تہذیب کو چھوڑ کر کسی دوسرے کی تہذیب کو اپنایا وہ انہی میں سے ہوگا۔ لہذا ضروری تھا کہ امت کےتہذیب وتمدن کو نمایاں اورمسلم امہ کو ممتاز رکھنےکے لیے اس کو ایک ایسی فکریکسوئی اورحسن عمل سے آراستہ کیا جاتا جس کی کوئی نظیر پیش نہ کرسکے۔ اورپھر امت اس قوت کےساتھ اقوام عالم کی رہنمائی کا فریضہ سرانجام دے۔ زیرنظرکتاب اسی سلسلے کی ایک کڑی ہے جس میں میاں جمیل صاحب جوکہ ایک مشہور عالم دین ہیں انہوں نےآپ صلی اللہ علیہ وسلم کی سیرت اور تاریخ کے دیگراسلامی واقعات کی روشنی میں تہذیب اسلامی کے جملہ پہلووں کو اجاگرکرنےکوشش کی ہے۔ (ع۔ح)

    نوٹ:
    محدث فورم میں اس کتاب پر تبصرہ کرنے کے لیے یہاں کلک کریں
  • title-pages-aappbuhpr-mere-maan-baap-qurban
    حافظ طلحہ سعید

    سید الانبیاء حضرت محمد مصطفی ﷺ سے محبت وعقیدت مسلمان کے ایمان کا بنیادی حزو ہے ۔ اور اللہ رب العزت کی نعمتوں میں ایک بہت بڑی نعمت او ر دولت ہے۔ حب ِنبوی دنیا کی تمام محبتوں میں بالکل منفرد اور ان میں سب سے ممتاز ہے ۔یہ کوئی حادثاتی اور اتفاقی محبت نہیں کہ اچانک قائم کر لی جائے او راچانک سے ختم کردی جائے یا پھر کبھی کرلی جائے اور کبھی نہ بھی کی جائے تو کو ئی حرج نہ ہو۔ بلکہ رسول اللہ ﷺ سے محبت ہی صرف وہ چیز ہے جو دنیااور آخرت میں کامیابی کی ضمانت اور اللہ رب العزت کی محبت پانے کاذریعہ ہے ۔اور اسی طرح کسی بھی شخص کاایمان اس وقت تک مکمل قرار نہیں دیا جاسکتا جب تک رسول اللہ ﷺ کو تمام رشتوں سے بڑھ کر محبوب ومقرب نہ جانا جائے۔فرمانِ نبویﷺ ہے تم میں سے کوئی شخص مومن نہیں ہوسکتا جب تک اسے رسول اللہﷺ کے ساتھ ماں،باپ ،اولاد اور باقی سب اشخاص سے بڑھ کر محبت نہ ہو۔چنانچہ رسول اللہ ﷺ کی تعلیمات کے مطابق اسلام میں حرمت اور ناموس کے اعتبار سے کسی نبی میں کوئی فرق نہیں ۔ تمام انبیاء میں سی کسی بھی نبی پر کوئی دشنام طرازی کی جاتی ہے تو اس کی سزا قتل کے علاوہ کوئی نہیں ہے یہی وجہ ہے کہ امت مسلمہ کاشروع دن سے ہی یہ عقیدہ ہےکہ نبی کریم ﷺ کی ذات گرامی سے محبت وتعلق کےبغیر ایمان کا دعویٰ باطل اور غلط ہے۔ہر دو ر میں اہل ایمان نے آپ ﷺ کی شخصیت کے ساتھ تعلق ومحبت کی لازوال داستانیں رقم کیں۔اور اگر تاریخ کے کسی موڑ پرکسی بد بخت نے آپﷺ کی شان میں کسی بھی قسم کی گستاخی کرنے کی کوشش کی تو مسلمانوں کے اجتماعی ضمیر نے شتم رسولﷺ کے مرتکبین کو کیفر کردار تک پہنچایا۔ چند سال قبل ڈنمارک ناروے وغیرہ کے بعض آرٹسٹوں نے جوآپ ﷺ کی ذات گرامی کے بارے میں خاکے بنا کر آپﷺ کامذاق اڑایا۔جس سے پورا عالم اسلام مضطرب اور دل گرفتہ ہواتونبی کریم ﷺ سے عقیدت ومحبت کے تقاضا کو سامنے رکھتے ہوئےاہل ایما ن سراپا احتجاج بن گئے اور سعودی عرب نے جن ملکوں میں یہ نازیبا حرکت ہوئی ان کی مصنوعات کا بائیکاٹ کیا ۔ زیرتبصرہ کتاب'' فداہ ﷺ ابی وامی '' اس سلسلے کی کڑی ہے جو کہ امیر جماعۃ الدعوۃ حافظ محمد سعید ﷾ کے صاحبزادہ حافظ طلحہ سعید ﷾ کی کاوش ہے ۔ جس میں انہوں نے موجودہ دو ر میں اسلام کے خلاف ہونے والی سازشوں کےپس پردہ محرکات کو بیان کرنے کے بعد تحفظ حرمت رسولﷺ کے علمی اور تحقیقی پہلو اور نبی کریم ﷺ سے محبت اور صحابہ کرام کے طرز ِ عمل کو بڑے احسن انداز میں سپرد قلم کیا ہے ۔ اللہ تعالی ان کی اس کاوش کو شرف قبولیت سے نوازے (آمین) (م۔ا)

     

    نوٹ:

    محدث فورم میں اس کتاب پر تبصرہ کرنے کے لیے یہاں کلک کریں

  • untitled-1
    زیر تبصرہ کتاب زندگی کے اہم ترین گوشے شادی سے متعلق ترتیب دی گئی ہے۔ محترمہ ام منیب نے نہایت سادہ انداز میں منگنی ، نکاح و رخصتی کے تمام تر معاملات کا کتاب و سنت کی روشنی میں جائزہ پیش کیا ہے۔ انہوں نے نکاح کی شرائط کا تذکرہ کرتے ہوئے نکاح میں کی جانے والی بعض رسومات بد کا شدو مد کے ساتھ رد کیا ہے۔ کچھ صفحات مثالی گھرانے کی صفات کے لیے مختص ہیں۔ اس کے علاوہ طلاق کے بعض مسائل پر بھی روشنی ڈالی گئی ہے۔(ع۔م)

    نوٹ:
    محدث فورم میں اس کتاب پر تبصرہ کرنے کے لیے یہاں کلک کریں
  • title-pages-saleeqa-ikhtilaf
    ڈاکٹر صالح بن عبد اللہ بن حمید
    اختلاف رائے انسانی سرشت میں داخل ہے اور کسی بھی شخصی رائے کو من وعن قبول کر لینا ناممکن ہے ۔حتی کہ شرعی مسائل میں بھی اختلاف رائے کی گنجائش باقی ہے ۔اور مختلف مسائل میں مختلف علما کی مختلف آراء پائی جاتی ہیں۔جائز اختلاف حق ہے اور دلائل کی رو سے اختلاف کا وقوع پذیر ہونا بعید از قیاس نہیں۔نیز کتاب وسنت کے دلائل بھی بے طریق احسن وجادلہ ومباحثہ کی اجازت دیتے ہیں۔لیکن اختلاف رائے کی صورت میں فریق مخالف کو ہدف تنقید بنانا ،دشنام طرازی کا لامتناہی سلسلہ شروع کرنا اور فریق مخالف کی عزت اور خون تک کو حلال سمجھ لینا قطعاً ناجائز ہے ۔اور انتہائی سفلت اور کمینگی ہے ۔اخلاق کے دائرہ میں رہتے ہوئے ناقد کی بات سننا اپنے دفاع میں دلائل دینا،مباحثے کو خوبصورت پیرائے میں ڈھالنا اور فریق مخالف کی عزت ووقار کو ملحوظ رکھنا مباحثہ کی بہترین صورت ہے ۔زیر تبصرہ کتاب اختلاف رائے کے آداب واحکام پر مشتمل ہے ۔جس کا مطالعہ قارئین کے لیے بہترین ثابت ہو گا۔(ف۔ر)

    نوٹ:
    محدث فورم میں اس کتاب پر تبصرہ کرنے  کے لیے یہاں کلک کریں
  • title-pages-aima-talbees-copy
    مولانا ابو القاسم محمد رفیق دلاوری

    یہ بات روز روشن کی طر ح عیاں ہے کہ اللہ تعالی نے نبی کریم ﷺ کو آخری نبی اور رسول بنا کر بھیجا ہے۔آپ خاتم النبیین اور سلسلہ نبوت کی بلند مقام عمارت کی سب سے آخری اینٹ ہیں ،جن کی آمد سے سلسلہ نبوی کی عمارت مکمل ہو گئی ہے۔آپ کے بعد کوئی برحق نبی اور رسول نہیں آسکتا ہے ۔لیکن آپ نے فرمایا کہ میرے بعد متعدد جھوٹے اور کذاب آئیں گے جو اپنے آپ کو نبی کہلوائیں گے۔کتب تاریخ میں اسو د عنسی ، مسیلمہ کذاب ، مختار ابن ابو عبید ثقفی اور ماضی قریب کے مرزا قادیانی سمیت کئی جھوٹے مدعیان نبوت کا ذکر موجودہے ۔زیر نظر کتاب ''آئمہ تلبیس '' مولانا ابو القاسم رفیق دلاوری کی تصنیف ہے جوکہ خیر القرون کے زمانہ سے مرزاقادیانی تک کے تمام ان جھوٹے مدعیا ن نبوت کے سچے حالات و اقعات پر مشتمل ہے کہ جنہوں نے الوہیت،نبوت، مسیحیت ، مہدویت اور اس قسم کے دوسرے جھوٹے دعوے کر کےاسلام میں رخنہ اندازیاں کیں اور اسلام کے بارے میں مارہائے آستین ثابت ہوئے ۔(م ۔ا )

     نوٹ:

    محدث فورم میں اس کتاب پر تبصرہ کرنے کے لیے یہاں کلک کریں

  • title-pages-aima-salaf-aur-itibai-sunnat
    امام ابن تیمیہ
    قرآن اور سنت دین اسلام کے بنیادی ماخذ ہیں۔ حدیث اور قرآن کے وحی ہونے میں صرف اس حد تک فرق ہے کہ قرآن وحی متلو اور حدیث وحی غیر متلو ہے۔ لیکن فی زمانہ ہم دیکھتے ہیں کہ کبھی حدیث قرآن کے خلاف ہونے کا نعرہ مستانہ بلند کر کے اور کبھی ائمہ کرام کی تقلید کے باوصف احادیث رسولﷺ سے انحراف کا رجحان پایا جاتا ہے۔ جبکہ ائمہ کرام کے مختلف موقعوں پر کہے گئے اقوال اس بات کی ضمانت ہیں کہ دین میں حجت صرف اور صرف کتاب اللہ اور سنت رسولﷺ ہیں۔ شیخ الاسلام امام ابن تیمیہ کی اس کتاب میں ائمہ سلف اور سنت کے حوالے سے نگارشات پیش کی گئی ہیں۔ جس میں ائمہ اربعہ کا عمل بالحدیث اور ترک حدیث پر گتفتگو کرتے ہوئے ترک حدیث کے اسباب پر تفصیلی روشنی ڈالی گئی ہے۔ اردو ترجمہ پروفیسر غلام احمد حریری نے کیا ہے۔ (ع۔م)
  • title-ab-akhlaq-badalna-hai
    نگہت ہاشمی

    شخصیت انسان کی پہچان ہوتی ہے۔انسان جیسے اوصاف اپنے اندر پیدا کر لے وہی اس کی شخصیت ہے ۔اور مومن کا تشخص اس کے اوصاف ،اس کے اعلی اخلاق ہوتے ہیں۔اور انہی اوصاف کی وجہ سے مومن کو شخصیت ملے گی اور جنت میں اس کا چہرہ پہچانا جائے گا۔اعلی اخلاق کو اپنانا شریعت کا بنیادی مقصد ہے،اور اسلام نے اس کی بہت زیادہ ترغیب دی ہے ۔نبی کریم نے فرمایا کہ مجھے اچھے اخلاق کی تعلیم دینے کے لئے بھیجا گیا ہے۔ زیر تبصرہ کتاب النور انٹر نیشنل کی مدیرہ محترمہ ڈاکٹر نگہت ہاشمی کی کتاب ہے جو انہوں نے اپنے ادارے کے تحت خواتین کو کروائے جانے والے مختلف کورسز کے لئے سوال وجواب کی شکل میں تیار کی ہے۔یہ کتاب اپنے اخلاق کو سنوارنے کے حوالے سے ایک مفید کوشش ہے ،جسے پڑھ کر انسان میں تحمل ،برداشت اور بردباری کی صفات پید اہوتی ہیں۔اللہ تعالی سے دعا ہے کہ وہ مولفہ کو جزائے خیر دے، ۔آمین(راسخ)

     

    نوٹ:

    محدث فورم میں اس کتاب پر تبصرہ کرنے کے لیے یہاں کلک کریں

  • title-pages-ittabai-sunnat-ki-ahmiyat-aur-fazelat-copy
    قاری محمد موسیٰ

    دین اسلام  میں رسول اللہ ﷺ کی اطاعت اسی طرح فرض ہے  جس طرح اللہ تعالیٰ کی اطاعت فرض ہے  ۔ارشاد باری تعالیٰ ہے : مَنْ يُطِعِ الرَّسُولَ فَقَدْ أَطَاعَ اللَّه  (سورہ نساء:80) جس نے  رسول  اللہﷺ کی اطاعت  کی اس  نے اللہ  کی اطاعت  کی ۔ اور  سورۂ محمد میں  اللہ تعالیٰ کا ارشادِ مبارک ہے : يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا أَطِيعُوا اللَّهَ وَأَطِيعُوا الرَّسُولَ وَلَا تُبْطِلُوا أَعْمَالَكُمْ(سورہ محمد:33)اے لوگو! جو ایمان لائے ہو اللہ  اور رسول ﷺ کی اطاعت کرو (اور اطاعت سے انحراف کر کے ) اپنے  اعمال ضائع نہ کرو۔اطاعت رسول ﷺ کے بارے میں یہ بات  پیش  نظر رہنی چاہیے  کہ رسو ل اکرم ﷺ کی اطاعت  صرف آپﷺ کی زندگی  تک محدود نہیں بلکہ آپﷺ کی وفات کے بعد بھی قیامت تک آنے  والے تمام مسلمانوں کے لیے  فرض قرار دی گئی ہے ۔ اطاعت رسول ﷺ کے بارے  میں صحیح بخاری شریف کی یہ حدیث بڑی اہم ہے ۔ کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا’’میر ی امت کے  سب لوگ جنت میں جائیں گے  سوائے  اس  شخص کے جس نے انکار کیا  تو صحابہ  کرام﷢ نے عرض کیا  انکار کس نے کیا؟ تو آپ ﷺ نے فرمایا جس نے  میری اطاعت کی وہ جنت میں داخل ہوگا او رجس نے میر ی نافرمانی کی اس  نے انکار کیا ۔(صحیح بخاری :7280)گویا اطاعتِ رسول ﷺ اورایمان لازم  وملزوم ہیں اطاعت ہے تو ایمان بھی ہے  اطاعت نہیں تو ایمان  بھی  نہیں ۔ اطاعت ِ رسول ﷺ کے بارے میں  قرآنی  آیات واحادیث شریفہ کے مطالعہ کے بعد یہ فیصلہ کرنا مشکل نہیں کہ دین میں اتباع سنت کی حیثیت کسی فروعی مسئلہ کی سی نہیں بلکہ بنیادی تقاضوں میں  سے  ایک تقاضا ہے ۔اتباع سنت کی دعوت کو چند عبادات کے مسائل تک محدود نہیں رکھنا چاہیے  بلکہ یہ  دعوت ساری زندگی پر محیط ہونی  چاہیے۔جس طر ح عبادات(نماز ،روزہ، حج وغیرہ) میں اتباع سنت مطلوب ہے  اسی طرح اخلاق وکردار ،کاروبار، حقوق العباد اور دیگر معاملات میں بھی اتباع سنت مطلوب ہے۔گویا اپنی پوری زندگی  میں خواہ انفرادی ہویا اجتماعی ،مسجد کے اندر ہویا مسجدکے باہر، بیوی بچوں کےساتھ ہو یا دوست احباب کے ساتھ  ،ہر وقت ،ہرجگہ سنت کی پیروی مطلوب ہے ۔محض عبادات کے چند مسائل  پرتوجہ دینا اور زندگی کے باقی معاملات میں سنت کی پیروی کو نظر انداز کردینا کسی طرح بھی پسندیدہ نہیں کہلا سکتا۔زیر نظر کتاب ’’اتباع سنت کی اہمیت اورفضیلت‘‘ محترم  قاری محمد موسیٰ  کی  تصنیف ہے  ۔ جس میں انہوں نے  قرآنی آیا ت او ر احادیث کی روشنی میں سنت کی اہمیت کواجاگر کیا ہے ۔ اللہ تعالی  ان کی اس کاوش  کو قبول فرمائے ۔اور اہل اسلام کے لیے  اتباع رسولﷺکا ذریعہ بنائے (آمین )(م۔ا)

  • tiitle-page-itthad-ummat-nazam-jamat
    میاں محمد جمیل ایم ۔اے
    فی  زمانہ مسلمانوں کے زوال وادبار کا ایک اہم سبب اتحادو اتفاق اور نظم وتنظیم کا فقدان ہے معروف عالم دین میاں محمد جمیل صاحب نے زیر نظر کتاب ''اتحادامت نظم جماعت''میں اسی موضوع پربحث کی ہے انہوں نے ثابت کیا ہے کہ قرآن وسنت سے تنظیمی امور سے متعلق ہدایت ورہنمائی موجود ہے کسی تنظیم یا جمعیت کے سربراہ اور کارکنان کے اوصاف کیا ہونے چاہئیں اور ان میں باہمی تعلق کی نوعیت کیا ہو اس کو بھی بحث وفکر کا ہدف بنایا ہے کتاب وسنت کو نصوص سے ان امور کی وضاحت کی ہے ہرمسلمان کو اس کتاب کا مطالعہ کرنا جاہیے اور ایک منظم جماعتی زندگی گزارنے کی کوشش کرنی چاہیے یہی اس کتاب کا پیغام ہے -


  • title-pages-ijazat-lene-k-ahkam
    احمد بن سلیمان العرینی
    دین اسلام نے انسانوں کی اجتماعی اور انفرادی بھلائی کا بہت زیادہ اہتمام کیا ہے۔ تمام معاشروں میں عزیز و اقربا اور رشتہ داروں کے ہاں آنا جانا پڑتا ہے۔ اسلام نے اس سلسلہ میں بھی بعض اخلاقیات کو ملحوظ رکھنے کی تلقین کی ہے۔ تاکہ کسی بھی ممکنہ خرابی سے بچا جا سکے۔ اللہ تعالیٰ نے گھر میں داخل ہونے سے پہلے اجازت لینے کا حکم فرمایا ہے۔ اس لحاظ سے گھروں میں داخل ہونے سے قبل اجازت طلب کرنا نہایت ضروری امر ہے۔ پیش نظر کتاب میں اسی بات کو بڑے واضح اور آسان انداز میں پیش کیا گیا ہے۔ یہ کتاب اس حوالے سے نہایت فائدہ مند ہے کہ اس موضوع کو الگ کتابی شکل میں کسی اور جگہ پیش نہیں کیا گیا۔(ع۔م)

    نوٹ:
    محدث فورم میں اس کتاب پر تبصرہ کرنے کے لیے یہاں کلک کریں

ای میل سبسکرپشن

محدث لائبریری کی اپ ڈیٹس بذریعہ ای میل وصول کرنے کے لئے ای میل درج کر کے سبسکرائب کے بٹن پر کلک کیجئے۔

 

ایڈوانس سرچ

موضوعاتی فہرست

رجسٹرڈ اراکین

آن لائن مہمان

محدث لائبریری پر اس وقت الحمدللہ 2827 مہمان آن لائن ہیں ، لیکن کوئی رکن آن لائن نہیں ہے۔

ایڈریس

       99-جے ماڈل ٹاؤن،
     نزد کلمہ چوک،
     لاہور، 54700 پاکستان

       0092-42-35866396، 35866476، 35839404

       0092-423-5836016، 5837311

      KitaboSunnat@gmail.com

      بنک تفصیلات کے لیے یہاں کلک کریں