• pages-from-477-sawal-o-jawab-brae-nikah-o-tlaaq
    محمد بن صالح العثیمین

    اسلام ایک مکمل ضابطۂ حیات ہے   پور ی انسانیت کے لیے اسلامی تعلیمات کے مطابق زندگی بسر کرنے کی مکمل راہنمائی فراہم کرتاہے انسانی زندگی میں پیش   آنے والے تمام معاملات ، عقائد وعبادات ، اخلاق وعادات کے   لیے نبی ﷺ کی ذات مبارکہ اسوۂ حسنہ کی صورت میں موجود ہے ۔مسلمانانِ عالم کو اپنےمعاملات کو نبی کریم ﷺ کے بتائے ہوئے طریقے کے مطابق سرانجام دینے چاہیے ۔لیکن موجود دور میں مسلمان رسم ورواج اور خرافات میں   گھیرے ہوئے ہیں لوگوں کی اکثریت دیگر احکام ومسائل کی طرح فریضہ نکاح کے متعلقہ مسائل سے بھی اتنی غافل ہے کہ میاں   کو بیو ی کے حقوق علم نہیں ، بیوی   میاں کے حقوق سے ناواقف ہے ،ماں باپ تربیتِ اولاد سے نا آشنا اور اولاد مقامِ والدین سے نابلد ہے ۔ اس لیے ہر مسلمان کو چاہیے کہ ودینی مسائل کی معرفت وففاہت حاصل کرے تاکہ وہ اپنی عبادات ومعاملات کوشریعت کے مطابق انجام دے سکے   ۔لیکن اگر اسے کسی مسئلے کی بابت شرعی حکم سے واقفیت نہیں ہے تو ایسے علماء سےدینی مسائل پوچھے جو کتاب وسنت کی نصوص پر اعتماد کرتے ہوئے اس کی راہنمائی کر سکیں۔ زیر نظرکتاب ’’477 سوال وجواب برائے نکاح وطلاق‘‘ عالمِ اسلام کے نامور اور سربرآوردہ علماء کے   نکاح وطلاق کے حوالے سے جوابات پر مشتمل مجموعہ ہے ۔اس میں نکاح وطلاق کے موضوع پر فتاویٰ جات جمع کیے گئے ہیں ،جواس موضوع کی تمام جزئیات او ر نواحی کا احاطہ کیے ہوئے ہیں ۔اس مجموعے کو   محترم مولانا محمدیاسر﷾ نےاردو زبان ی میں منتقل کیا ہے۔ شہید ملت علامہ احسان الٰہی ظہیر﷫ کے برادرِخور محترم عابد الٰہی ﷾ نے اپنے ادارے (مکتبہ بیت السلام ) کی طرف سے طباعت کے اعلی معیار پر شائع کیا ہے ۔ اللہ تعالیٰ اس کتاب کو تیار کرنے والے اور ناشرین کے لیے ان کی دنیوی واخروی فوز وفلاح کاضامن اور جنت میں بلندیِ درجات کا باعث بنائے (آمین) (م۔ا)

  • title-pages-islam-ka-qanone-talaq
    ڈاکٹر حافظ محمد اسحاق زاہد
    اسلامی  خاندان کی ابتداء ’نکاح ‘ سے ہوتی ہے ۔ جس میں منسلک ہوجانے کے بعدایک مسلمان مرد اور عورت ایک دوسرے کے زندگی بھر کے ساتھی بن جاتےہیں ۔ ان کا باہمی تعلق اِس قدر لطیف ہوتا ہے کہ قرآن مجید نے دونوں کو ایک دوسرے کا لباس قرار دیا ہے ۔’نکاح ‘ کے ذریعے ان دونوں کے درمیان ایک مقدس رشتہ قائم ہو جاتا ہے ۔ ان کے مابین پاکیزہ محبت اور حقیقی الفت پر مبنی ایک عظیم رشتہ معرضِ وجود میں آجاتا ہے ۔ اور  وہ مفادات سے بالا تر ہوکر ایک دوسرے کے دکھ درد کے ساتھی بن جاتے ہیں۔ ان میں سے ایک کی خوشی دوسرے کی خوشی اور ایک کی تکلیف دوسرے کی تکلیف شمار  ہوتی ہے ۔ وہ ایک دوسرے کے ہمدرد وغم گساربن کر باہم مل کر زندگی کی گاڑی کو کھینچتے رہتے ہیں ۔ مرد اپنی جدوجہد کے ذریعے پیسہ کما کراپنی ، اپنی شریک حیات اور اپنے بچوں کی ضرورتوں کا کفیل ہوتا ہے ۔ اور بیوی گھریلو امور کی ذمہ دار ، اپنے خاوند کی خدمت گذار اور اسے سکون فراہم کرنے اور بچوں کی پرورش کرنے جیسے اہم فرائض ادا  کرتی ہے ۔تاہم بعض اوقات یہ عظیم رشتہ مکدر ہو جاتاہے ، اس میں دراڑیں پڑجاتی ہیں، اور الفت ومحبت کی جگہ نفرت وکدورت آجاتی ہے ۔اور معاملات اس قدر بگڑ جاتے ہیں کہ طلاق تک کی نوبت آجاتی ہے۔ اس کتاب میں ’طلاق ‘ کے بڑھتے ہوئے واقعات کے اسباب کو تلاش کرنے اور ان کا حل ڈھونڈنے کی کوشش کی گئی ہے ۔ اس کے علاوہ اسلام کے قانونِ طلاق کو قرآن وحدیث کی روشنی میں واضح کرنے کی سعی بھی کی گئی ہے تاکہ اس کا ناجائز استعمال روکا جا سکے اوراسے اس کی شرعی حدود میں ہی استعمال کیا جاسکے ۔اللہ تعالی سے دعا ہے کہ وہ ہمیں پاکیزہ اورخوشگوار ازدواجی زندگی نصیب کرے اور ہم سب کو دنیا وآخرت کی ہر بھلائی عطا کرے ۔ آمین(ک۔ح)

    نوٹ:
    محدث فورم میں اس کتاب پر تبصرہ کرنے کے لیے یہاں کلک کریں
  • pages-from-al-bayan-ul-muhkam-bajawaab-ek-majlis-ki-teen-tlaaq-shari-hukam
    حافظ عبد الغفور

    خاندان اسلامی معاشرے کی ایک بنیادی اکائی شمار ہوتا ہے۔ اگر خاندان کا ادارہ مضبوط ہو گا تو اس پر قائم اسلامی معاشرہ بھی قوی اورمستحکم ہو گا اور اگر خاندان کا ادارہ ہی کمزور ہو تو اس پر قائم معاشرہ بھی کمزور ہو گا۔نکاح وطلاق خاندان کے قیام و انتشار کے دو پہلو ہیں۔ شریعت اسلامیہ میں نکاح وطلاق کے مسائل کو تفصیل سے بیان کیا گیاہے۔ پاکستان میں فقہ حنفی اور اہل الحدیث کے نام سے دو مکاتب فکر پائے جاتے ہیں۔ یہ ایک امر واقعہ ہے کہ فقہ حنفی میں نکاح وطلاق کے اکثر مسائل شریعتِ اسلامیہ کی صریح نصوص کے خلاف تو ہیں ہی، علاوہ ازیں عقل ومنطق سے بھی بالاتر ہیں جیسا کہ بغیر ولی کے نکاح کو جائز قرار دینا، پہلے سے طے شدہ حلالہ کو جائز قرار دینا، مفقود الخبر کی بیوی کا تقریبا ایک صدی تک اپنے شوہر کا انتظار کرنا، عورت کا خاوند کے طلاق دیے بغیر خلع حاصل نہ کر سکنا اورایک مجلس کی تین طلاقوں کوتین شمار کرنا وغیرہ۔ ایک مجلس کی تین طلاقوں کا مسئلہ ایک معرکۃ الآراء مسئلہ ہے۔احناف کے نزدیک مجلس واحد میں تين مرتبہ کہا گیا لفظ طلاق موثر سمجھا جاتا ہے جس کے بعد زوجین کے درمیان مستقل علیحدگی کرا دی جاتی ہے اور پھر اس کے بعد ان کو اکٹھا ہونے کے لیے ایک حل دیا جاتا ہے جس کا نام حلالہ ہے۔ ایک شرعی چیز کو غیر شرعی چیز کے ذریعے حلال کرنے کا ایک غیر شرعی اور ناجائز طریقہ ہے جس کو اب احناف بھی تسلیم کرنے سے عاری ہیں اور ایسے مسائل کے لیے پھر ایسے لوگوں کی طرف رجو ع کیا جاتا ہے جو اس غیر شرعی امر کو حرام سمجھتے ہیں۔اب تو اسلامی نظریاتی کونسل ، اور دعوہ اکیڈمی اسلام آباد نےبھی ایک مجلس میں تین طلاقوں کو ایک طلاق قراردینے کا فتویٰ صادر کیا ہے ۔ زیر تبصرہ کتاب ’’ البیان المحکم بجواب ایک مجلس کی تین طلاق کی شرعی حیثیت‘‘ مولانا ابو معاویہ حافظ عبد الغفور کی کاوش ہے جو دراصل ایک حنفی عالم دین کی کتاب ’’ایک مجلس کی تین طلاق کا شرعی حکم کے جواب میں تحریر کی گئی ہے۔کتاب کا انداز عام فہم اور محققانہ ہے۔ طوالت وتفصیل کی بجائے اختصار وجامعیت کو ملحوظ رکھتے ہوئے زیر بحث مسئلے پر اساسی دلائل پیش کیے ہیں۔اللہ تعالیٰ مصنف کی اس کاو ش کو قبول فرمائے (آمین) (م۔ا)

  • teentalaqmajmooamaqalatilmiaconference1-copy
    عطاء اللہ حنیف بھوجیانی
    یہ مجموعہ مولانا عطاء اللہ حنیف بھوجیانی نے تیار کیا ہے جو اصل میں ایک سیمینار کی روداد ہے جو کہ ہندوستان کے مشہور شہر احمد آباد میں نومبر1973میں طلاق ثلاثہ کے حوالے سے ہی منعقد کیا گیا تھا جس میں مختلف مکاتب فکر کے جید علمائے کرام نے شرکت کی اور اس حساس موضوع پر اپنے اپنے خیالات کا مقالہ جات کی روشنی میں اظہار کیا ہے-جس کو بعد میں کتابی شکل دے کر مزید اضافہ جات کے ساتھ پیش کیا گیا ہے-اس میں طلاق ثلاثہ کے حوالے سے مفصل بحث کی گئی ہے اورطلاق ثلاثہ سے متعلق بعد میں علماء کی ایک متفقہ رائے کو بھی پیش کیا گیا ہے-ایک سوالنامہ بنا کر علماء کی خدمت میں پیش کیا گیا جس پر انہوں نے اپنے اپنے مقالے تصنیف کیے-زیر بحث چیزیں طلاق کا طریقہ،مسنون طلاق،طلاق ثلاثہ کا طریقہ،اور غیر شرعی طلاق ثلاثہ کا طریقہ،غصے کی حالت میں دی گئی طلاق کا واقع ہونایا نہ ہونا اور اس کے علاوہ طلاق سے متعلقہ بے شمار مسائل کو بیان کیا گیا ہے-

  • aikmajliskiteentalaqkishareehaisiat2-copy
    عبد الرحمن کیلانی
    ایک مجلس کی تین طلاقوں کا مسئلہ ایک معرکۃ الآراء مسئلہ ہے –احناف  کے نزدیک مجلس واحد میں تين مرتبه کہا گیا  لفظ طلاق موثر سمجھا جاتا ہے جس کے بعد زوجین کے درمیان مستقل علیحدگی کرا دی جاتی ہے اور پھر اس کے بعد ان کو اکٹھا ہونے کے لیے ایک حل دیا جاتا ہے جس کا نام حلالہ ہے-ایک شرعی چیز کو غیر شرعی چیز کے ذریعے حلال کرنے کا ایک غیر شرعی اور ناجائز طریقہ ہے جس کو اب احناف بھی تسلیم کرنے سے عاری ہیں اور ایسے مسائل کے لیے پھر ایسے لوگوں کی طرف رجو ع کیا جاتا ہے جو اس غیر شرعی امر کو حرام سمجھتے ہیں-مصنف نے اس کتاب میں طلاق کے حوالے سے تمام مسائل کو بالدلائل واضح کر دیا ہے جس پر کوئی عالم بھی قدغن نہیں لگا سکتا-جس میں رسول اللہﷺکے دور میں طلاق کی صورت،مجلس واحد میںتین طلاقوں کا حکم، بعد میں صحابہ کرام کا عمل اور حضرت عمر کے بارے میں بیان کیے جانے والے مختلف واقعات کی اصلیت کی نشاندہی اور مجلس واحد کی تین طلاقوں کے موثر ہونے کے دلائل کی وضاحت کرتے ہوئے قرآن وسنت کی روشنی میں ان کا جواب تحریر کیا گیا ہے-تطلیق ثلاثہ کے بارے میں پائے جانے والے چار گروہوں کا تذکرہ،انکار اور تسلیم کرنے والے علماء کے دلائل کا تذکرہ،تطلیق ثلاثہ سے متعلق  ایک سوال کی وضاحت،مسائل میں باہمی اختلاف کی شدت کی وجہ تقلید کو بھی بڑی وضاحت سے بیان کیا گیا ہے-

  • pages-from-tanveer-ul-afaaq-fi-masala-al-talaaq-urdu
    محمد رئیس ندوی

    دین اسلام ہی وہ واحد فطری اور عالمگیر مذہب ہے جو انسان کی تمام ضروریات کو پورا کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے، خواہ ان کا تعلق معیشت سے ہو یا سیاست سے، معاشرے سے ہو یا خاندان سے، انفرادی ہو یا اجتماعی غرضیکہ دین اسلام ہر موڑ پر انسان کی راہنمائی کرنے کی کمال صلاحیت رکھتا ہے۔ جبکہ دور حاضر کے نام نہاد جدید مفکرین سکالر حضرات جو مغربی تہذیب سے متاثر ہو کر اسلامی تعلیمات و تاریخ کی ایسی تشریح و تعبیر بیان کرتے ہیں جس کے نتیجے میں یہ ثابت کرنے کی نا کام کوشش کی جاتی ہے کہ اسلام اور مغرب میں ہم آہنگی پیدا ہوجائے، اس کے ساتھ ساتھ حقوق نسواں کا نام لے کر عورت کو مارکیٹ کی زینت بنایا جارہا ہے۔ زیر نظر مضمون دو پہلوؤں پر مشتمل ہے پہلے حصے میں مغربی تہذیب کے افکار و نظریات کا تقابلی جائزہ لیا گیا ہے جبکہ دوسرے حصے میں طلاق ثلاثہ کا مسئلہ جو کہ اہل تقلید اور اہل حدیث کے مابین ایک معرکۃ الآراء مسئلہ کی حیثیت رکھتا ہے اس کو زیر بحث لایا گیا ہے۔ زیر تبصرہ کتاب" تنویر الآفاق فی مسئلۃ الطلاق" جس میں فاضل مؤلف مولانا محمد رئیس ندوی صاحب نے فرقہ واریت سے بالا تر ہو کر ٹھوس قرآن و سنت کی روشنی میں مسئلہ طلاق ثلاثہ کو واضح کرنے کی کوشش کی ہے۔ اللہ تعالیٰ سے دعا گو ہیں کہ اللہ رب العزت فاضل مؤلف کے میزان حسنات میں اضافہ فرمائے اور اہل اسلام کو خالص دین حنیف کی دولت سے مالا مال فرمائے۔ آمین(عمیر)

  • pages-from-teen-talaqain
    خواجہ محمد قاسم

    خاندان اسلامی معاشرے کی ایک بنیادی اکائی شمار ہوتا ہے۔ اگر خاندان کا ادارہ مضبوط ہو گا تو اس پر قائم اسلامی معاشرہ بھی قوی اور مستحکم ہو گا اور اگر خاندان کا ادارہ ہی کمزور ہو تو اس پر قائم معاشرہ بھی کمزور ہو گا۔ نکاح وطلاق خاندان کے قیام و انتشار کے دو پہلو ہیں۔ شریعت اسلامیہ میں نکاح و طلاق کے مسائل کو تفصیل سے بیان کیا گیاہے۔ پاکستان میں فقہ حنفی اور اہل الحدیث کے نام سے دو مکاتب فکر پائے جاتے ہیں۔ یہ ایک امر واقعہ ہے کہ فقہ حنفی میں نکاح وطلاق کے اکثر مسائل شریعتِ اسلامیہ کی صریح نصوص کے خلاف تو ہیں ہی، علاوہ ازیں عقل و منطق سے بھی بالاتر ہیں جیسا کہ بغیر ولی کے نکاح کو جائز قرار دینا، پہلے سے طے شدہ حلالہ کو جائز قرار دینا، مفقود الخبر کی بیوی کا تقریبا ایک صدی تک اپنے شوہر کا انتظار کرنا، عورت کا خاوند کے طلاق دیے بغیر خلع حاصل نہ کر سکنا اورایک مجلس کی تین طلاقوں کوتین شمار کرنا وغیرہ۔ ایک مجلس کی تین طلاقوں کا مسئلہ ایک معرکۃ الآراء مسئلہ ہے۔احناف کے نزدیک مجلس واحد میں تين مرتبہ کہا گیا لفظ طلاق موثر سمجھا جاتا ہے جس کے بعد زوجین کے درمیان مستقل علیحدگی کرا دی جاتی ہے اور پھر اس کے بعد ان کو اکٹھا ہونے کے لیے ایک حل دیا جاتا ہے جس کا نام حلالہ ہے۔ ایک شرعی چیز کو غیر شرعی چیز کے ذریعے حلال کرنے کا ایک غیر شرعی اور ناجائز طریقہ ہے جس کو اب احناف بھی تسلیم کرنے سے عاری ہیں اور ایسے مسائل کے لیے پھر ایسے لوگوں کی طرف رجو ع کیا جاتا ہے جو اس غیر شرعی امر کو حرام سمجھتے ہیں۔ اب تو اسلامی نظریاتی کونسل، اور دعوہ اکیڈمی اسلام آباد نے بھی ایک مجلس میں تین طلاقوں کو ایک طلاق قرار دینے کا فتویٰ صادر کیا ہے۔ زیر تبصرہ کتاب ’’تین طلاقیں‘‘ خواجہ محمد قاسم کی کاوش ہے ۔جس میں قرآن وحدیث کے ٹھوس دلائل سے ثابت کیا کہ ایک وقت میں دی جانے والی تین طلاقیں ایک ہی طلاق شمار ہوتی ہے اور حلالہ کروانہ حرام و ناجائز اور صریحاً شریعت کی خلاف ورزی ہے۔ یہ پہلی مرتبہ 1964ء جب شائع ہوئی تو شیخ الحدیث مولانا محمد اسماعیل سلفی﷫ اس کا پیش لفظ لکھا اور کتاب کی اہمیت وافادیت کوخوب سراہا۔ (م۔ا)

  • title-pages-halte-nasha-ki-talaq-mojuda-halat-k-pase-manzar-main
    مختلف اہل علم

    نکاح دراصل میاں بیوی کے درمیان وفاداری او رمحبت کے ساتھ زندگی گزرانے کا ایک عہدو پیمان ہوتا ہے ۔ نیز نسل نو کی تربیت کی ذمہ داری بھی نکاح کے ذریعہ میاں بیوی دونوں پر عائد ہوتی ہے لیکن اگر نکاح کے بعد میاں بیوی دونوں میں سے کوئی ایک یا دونوں ہی یہ محسوس کریں کہ ان کی ازدواجی زندگی سکون وا طمینان کے ساتھ بسر نہیں ہوسکتی او رایک دوسرے سے جدائی کے بغیر کوئی چارہ نہیں تو اسلام انہیں ایسی بے سکونی وبے ا طمینانی او رنفرت کی زندگی گزارنے پر مجبور نہیں کرتا بلکہ مرد کو طلاق او ر عورت کو خلع کاحق دے کرایک دوسرے سے جدائی اختیار کر لینے کی اجازت دیتا ہے ۔لیکن اس کے لیے بھی اسلام کی حدود قیود اور واضح تعلیمات موجود ہیں۔ طلاق کے مسائل میں سے ایک مسئلہ حالت نشہ کی طلاق ہے ۔طلاق چونکہ ایک نہایت اہم اور نازک معاملہ ہے اس لیے ضروری ہے کہ پوری طرح غور وفکر کے بعد اس کا فیصلہ کیا جائے ،اور غوروفکر کے لیے ضروری ہے کہ انسان کی شعور ی کیفیت بحال ہو اسی لیے جب انسان عقل وشعور کو استعمال کرنے کی صلاحیت سے محروم ہو تو اس حالت کی طلاق واقع نہیں ۔اسی بنا پر فقہاء کا اتفاق ہے کہ مجنون ،بے ہوش ،محوخواب ،نابالغ اور نشہ میں مبتلا ہونے والے شخص کی دی ہوئی طلاق واقع نہیں ہوتی ۔زیر نظر کتاب ''حالت نشہ کی طلاق موجود حالات کے پس منظر میں ''اسلامک فقہ اکیڈمی کے زیر اہتمام بارہویں فقہی سیمنیار منعقدہ فروری 2000ء میں پیش کئے گئے علمی،فقہی اور تحقیقی مقالات ومقاقشات کا مجموعہ ہے جس میں حالت نشہ میں طلاق کے حوالے سے تقریبا 68 علماء نے مقالات پیش کئے ان میں سے بعض اہل علم حالتِ نشہ میں دی جانے والی طلاق کے واقع ہونے کے قائل ہیں او ربعض قائل نہیں ہیں ۔ لیکن راجح موقف یہ ہے کہ شدید غصے او رسخت نشہ میں جب انسان کی عقل پر پردہ پڑ جائے تو ایسی صورت میں دی ہوئی طلاق واقع نہیں ہوتی۔ جیسے کہ صحیح بخاری شریف میں ہےکہ حضرت ابن عباس ﷜ فرماتے ہیں کہ حالت نشہ میں موجود انسان او ر مجبور شخص کی طلاق جائز نہیں ہے ایسی طلاق واقع نہیں ہوتی (فتاوی اصحاب الحدیث :2؍307) لیکن ایسی صورت حال میں نشہ کی کیفیت (کم یا زیادہ) کا بغور جائزہ لینا ہوگا ۔ اللہ تمام اہل اسلام کو کتاب وسنت کے مطابق زندگی بسر کرنے کی توفیق دے (آمین) (م۔ا)

     

    نوٹ:

    محدث فورم میں اس کتاب پر تبصرہ کرنے کے لیے یہاں کلک کریں

     

  • sharaeetalaaq1-copy
    سید بدیع الدین شاہ راشدی
    زوجین کے باہمی اختلاف کی وجہ سے آپس میں اکٹھے نہ رہنے کی صورت کے پیدا ہونے پر اسلام ان کو علیحدگی کے لیے بھی اصول وقانون دیتا ہے جس سے فریقین میں سے کسی پر زیادتی نہ ہو-مصنف نے اس کتاب میں طلاق کے حوالے سے مختلف پچیدہ مباحث کو انتہائی اچھے انداز سے بیان کرتے ہوئے طلاق کا شرعی حکم اور اس کی حیثیت کو بیان کرتے ہوئےطلاق دینے کا طریقہ اور شرعی طورپر کون سی طلاق واقع ہو گی اور کون سی نہیں ہو گی اس کو واضح کیا ہے-اس کی شاندار بحثوں میں سے  یہ بھی ہے کہ طلاق ثلاثہ کے بارے میں شرعی راہنمائی اور تین طلاقوں کا ایک واقع ہونا عین فطرت سلیمہ کے موافق ہے-اور حضرت عمر کے بارے میں پیدا کیے جانے والے شکوک وشبہات کا جائزہ لیا ہے-طلاق کی مختلف صورتیں،اور ان کی عدتوں کے بیان کے ساتھ ساتھ رجوع یا تجدید نکاح کا طریقہ واضح کیا ہے-اور تین طلاقوں کے وقوع کے جو حلالے کا غیر شرعی طریقہ اختیار کیا گیا ہے اس کو فریقین کے دلائل کے ساتھ قرآن وسنت کی روشنی میں واضح کی گیا ہے-اس کتاب کی سب سے بڑی خوبی یہ بھی ہے کہ اس میں  مفتی سعودیہ عربیہ علامہ عبدالعزیز بن باز کے فتاوی کے ساتھ ساتھ محدث کامل سلطان محمود جلال پوری کے فتاوی کو بھی شامل کیا گيا ہے-

  • title-pages-talaak-ki-kitab
    حافظ عمران ایوب لاہوری
    انسانی معاشرے  کی بنیاد اور اکائی خاندان ہے اور یہ مرد و زن کے ملاپ یعنی نکاح کے ذریعے ہی وجود میں آتا ہے۔نسل انسانی کی بقاء ،بچوں کی تربیت اور قومی تحفظ کے لیے ضروری ہے کہ میاں بیوی کا تعلق مستحکم و پائیدار ہو۔اسی لیے اسلام نے زن و شوہر کے تعلق کو ٹوٹنے سے بچانے کی ہر ممکن  کوشش کی ہے اور حتی الامکان صلح صفائی،تحمل اور عفو و درگزر کا حکم دیا ہے۔لیکن بسا اوقات حالات ایسے کشیدہ ہو جاتے ہیں کہ دونوں میں مفارقت کرائے بغیر کوئی چارہ ہی نہیں رہتا تو ان حالات میں طلاق کا ضابطہ نہایت ضروری ہو جاتا ہے ۔اسی لیے اسلام نے ،جو دین فطرت ہے،مرد کے لیے طلاق کا حق رکھا ہے۔یہاں یہ بات لائق ذکر ہے کہ اس وقت دنیا میں عیسائیوں کے مذہبی مرکز ویٹی کن سٹی کے علاوہ مالٹا اور فلپائن دوہی ملک ایسے ہیں جہاں طلاق کا حق حاصل نہیں ہے لیکن اب ایک ریفرنڈم میں مالٹا کے 72فیصد عوام نے بھی طلاق کے حق میں رائے دی ہے ۔یہ اس امر کی دلیل ہے کہ اسلامی تعلیمات واقعتاً خدا وند کریم کی جانب سے ہیں۔زیر نظر کتاب میں طلاق سے متعلقہ جملہ مسائل و احکام کو جمع کرنے کی سعی کی گئی ہے۔بطور خاص اصلاح بین الزوجین ،طلاق کی شرائط،طلاق کا مسنون طریقہ،طلاق کی اقسام،رجوع،خلع،لعان اور ظہار وغیرہ پر تفصیلی بحث کی گئی ہے۔موجودہ دور میں جب کہ اکثر لوگ طلاق کے احکام سے بالکل بے خبر ہیں،یہ کتاب انتہائی مفید ہے۔
  • title-pages-talakain-kiyon-hoti-hain-copy
    عبد المنان راسخ

    نکاح دراصل میاں بیوی کے درمیان وفاداری او رمحبت کے ساتھ زندگی گزرانے کا ایک عہدو پیمان ہوتا ہے ۔ نیز نسل نو کی تربیت کی ذمہ داری بھی نکاح کے ذریعہ میاں بیوی دونوں پر عائد ہوتی ہے لیکن اگر نکاح کے بعد میاں بیوی دونوں میں سے کوئی ایک یا دونوں ہی یہ محسوس کریں کہ ان کی ازدواجی زندگی سکون وا طمینان کے ساتھ بسر نہیں ہوسکتی او رایک دوسرے سے جدائی کے بغیر کوئی چارہ نہیں تو اسلام انہیں ایسی بے سکونی وبے ا طمینانی او رنفرت کی زندگی گزارنے پر مجبور نہیں کرتا بلکہ مرد کو طلاق او ر عورت کو خلع کاحق دے کرایک دوسرے سے جدائی اختیار کر لینے کی اجازت دیتا ہے ۔لیکن اس کے لیے بھی اسلام کی حدود قیود اور واضح تعلیمات موجود ہیں۔طلاق چونکہ ایک نہایت اہم اور نازک معاملہ ہے اس لیے ضروری ہے کہ پوری طرح غور وفکر کے بعد اس کا فیصلہ کیا جائے ۔ زیر تبصرہ کتابچہ’’طلاقیں کیوں ہوتی ہیں ‘‘محترم مولانا ابو الحسن عبدالمنان راسخ ﷾( مصنف کتب کثیرہ) کی تصنیف ہے۔اس میں انہوں نے بنیادی طور پر بیوی کی طرف سے ہونی والی کوتاہیوں کا تذکرہ کیا ہے ہرمسلمان عورت کو اس رسالے کی روشنی میں اپنی اصلاح کرنی چاہیے اور اللہ تعالیٰ سے خیر کی دعا کرنی چاہیے ۔رسالہ ہذا کے مصنف جامعہ اسلامیہ ،صادق آباد کے فیض یافتہ ہیں اور مولانا حافظ ثناء اللہ زاہدی﷾ کے مایۂ ناز قابل شاگردوں میں شمار ہوتے ہیں ۔تبلیغی واصلاحی موضوعات کے علاوہ علمی وتحقیقی موضوعات کو بیان کرنے اور تحریر کی کامل دسترس رکھتے ہیں۔ موصوف جامعہ اسلامیہ،صادق آبادسے فراغت کےبعد شروع شروع میں مجلس التحقیق الاسلامی ، لاہور میں حافظ عبد الرحمن مدنی﷾ کی زیر نگرانی بھی علمی وتحقیقی خدمات سرانجام دیتے رہے ۔ موصوف ایک اچھے مصنف ہونے کے ساتھ ساتھ بڑے اچھے خطیب اور واعظ بھی ہیں ۔ عرصہ دراز سے فیصل آباد میں خطابت کافریضہ انجام دینے کےساتھ ساتھ تصنیف وتالیف کا کام بھی کرتے ہیں ۔تقریبا دو درجن کتب کےمصنف ہے۔ جن میں سے چار کتابیں(خشبو ئے خطابت ،ترجمان الخطیب،منہاج الخطیب ، حصن الخطیب) خطابت کے موضوع پر ہیں ۔کتاب ہذا گھروں کو اجڑنے سےبچانے کے لیے حالات وواقعات اور مشاہدات کی روشنی میں مصنف کی ایک فکر انگیز تحریر ہے ۔اللہ تعالیٰ اس کتابچہ کو عوام الناس کےلیے نفع بخش بنائے ا ور ہم سب کو اسلام کےمطابق ازدواجی زندگی خوشگوار بنانے کی توفیق عطا فرمائے (آمین)(م۔ا)

  • نا معلوم

    اسلام ایک مکمل ضابطہ حیات اور دستور زندگی ہے۔اسلام نے ہمیں زندگی کے تمام شعبوں کے بارے میں راہنمائی فراہم کی ہے۔عبادات ہوں یا معاملات،تجارت ہو یا سیاست،عدالت ہو یا قیادت ،اسلام نے ان تمام امور کے بارے میں مکمل تعلیمات فراہم کی ہیں۔اسلام کی یہی عالمگیریت اور روشن تعلیمات ہیں کہ جن کے سبب اسلام دنیا میں اس تیزی سے پھیلا کہ دنیا کی دوسرا کوئی بھی مذہب اس کا مقابلہ نہیں کر سکتا ہے۔اسلامی تعلیمات نہ صرف آخرت کی میں چین وسکون کی راہیں کھولتی ہیں ،بلکہ اس دنیوی زندگی میں اطمینان ،سکون اور ترقی کی ضامن ہیں۔اسلام کی اس بے پناہ مقبولیت کا ایک سبب مساوات ہے ،جس سے صدیوں سے درماندہ لوگوں کو نئی زندگی ملی اور وہ مظلوم طبقہ جو ظالموں کے رحم وکرم پر تھا اسے اسلام کے دامن محبت میں پناہ ملی۔اسلام معاشرتی زندگی کے حوالے سے پاکیزہ تعلیمات اور روشن احکامات دیتا ہے۔اللہ تعالی نے جہاں نکاح  کرکےبندھن میں بندھنےکے احکام بیان کئے ہیں ، وہیں اگر یہ بندھن قائم رکھنا مشکل ہو جائے تو اسے طلاق کے ذریعے ختم کرنے کے احکام بھی تفصیل سے بیان کئے ہیں۔ زیر تبصرہ کتاب " غیر مسلم ممالک میں عدالتوں  کی طلاق " ایفا پبلیکیشنز، نئی دہلی کی شائع کردہ ہے، جس میں اس موضوع پر متعدد اہل علم کے مقالات جمع کر دئیے گئے ہیں۔اللہ تعالی سے دعا ہے کہ وہ ایفا پبلیکیشنز والوں کی اس خدمت کو اپنی بارگاہ میں قبول فرمائے اور ان کے میزان حسنات میں اضافہ فرمائے۔آمین(راسخ)

  • pages-from-ahl-e-hadees-aur-ulamaa-e-haramain
    ڈاکٹر حافظ محمد اسحاق زاہد

    دنیا جہان میں مختلف نقطہ نگاہ رکھنے والوں کی کسی طور پربھی کمی نہیں ہے ۔انسانوں کا باہمی اختلاف ایک فطری امر ہے لیکن اس اختلاف کو بنیاد بنا کر جھگڑے اور فساد کی راہ ہموار کرنا قابل نفرین عمل ہے۔دین اسلام مین تقلید کی کوئی گنجائش نہیں اسلام ایک کامل اور اکمل دین ہے۔اپنے ائمہ کی تقلید کرنا گویا کہ اپنے عمل سے ظاہر کرنا ہے کہ اسلام ناقص دین ہے۔ زیر نظر کتاب ''اہل حدیث اور علمائے حرمین کا اتفاق رائے''رنگونی صاحب کی کتاب'' غیر مقلدین سعودی عرب کے آئمہ ومشائخ کے مسلک سے شدید اختلاف ''کا نہایت ہی مدلل اور سنجیدہ جواب ہے۔رنگونی صاحب نے جن مسائل کوبنیاد بنا کر غیر مقلدین اور سعودی علماء ومشائخ اور علماء کے مابین شدید اختلاف دکھانے کی کوشش کی ہے مؤلف نے کتاب وسنت اور آئمہ سلف کے اقوال کی روشنی میں نہایت اختصار کے ساتھ ان موضوعات پر محققانہ بحث کی ہے۔اس کتاب کی خوبی یہ ہے کہ فاضل مؤلف نے خالص علمی اسلوب اختیار کیا ہے اور ز بان انتہائی آسان اور عام فہم استعمال کی ہے۔ اللہ تعالیٰ فاضل مؤلف کو اجر عظیم سے نوازے   اور ہم سب کو دین حنیف سمجھنے کی تو فیق عطا فرمائے۔آمین (عمیر)

  • title-pages-mutalika-khawateen-aur-inke-masail-copy
    ام عبد منیب

    انسانی زندگی  میں  ظروف ،حالات اورمزاج کے لحاظ سے کبھی یو ں  بھی ہوتا ہے  کہ  میاں بیوی کا باہم نباہ ناممکن ہو جاتا ہے  او ردونوں کے لیے  باہم مل کر زندگی  کی گاڑی   چلانا ایک ناگوار اورانتہائی دہ  صورت اختیار کر جاتا ہے ۔ ایسے  مرحلے   میں  اسلام یہ اجازت دیتا ہے کہ برے دل  بے تعلق اور کھوٹی نیت کے ساتھ باہم جڑے رہنے اور زندگی کے جائز وحقیقی لطف کےحاصل کرنے  اور حقوق وفرائض کودل جمعی سےادا کرنے کے اجروثواب سےمحرومی  کی بجائے  علیحدگی  اختیار کرلیں۔لیکن جس طر ح گھر کے معاملات  کا سربراہ مرد کو بنایا گیا ہے اسی طرح طلاق کی گرہ بھی  مرد کے ہاتھ رکھی گئی ہے  ۔ طلاق کے  بعد عورت نے واپس اسی گھر آنا ہوتا ہے  جہاں سےوہ نکاح کےوقت رخصت کی گئی تھی تو اس کو مختلف مسائل کاسامنا کرنا  پڑتا ہے ۔مطلقہ کا بہترین حل تواس کا نکاح  ہی ہے  لہٰذا اس کے  رشتہ داروں اور سہیلیوں  کےذریعے اسے  کسی مناسب جگہ پر نکاح کےلیے آمادہ کرلینا ہی بہتر ہے ۔ اگر  ایسانہ ہوسکے تو عورت  کے اولیا کوچاہیے کہ اس خاتون  کےلیے ایسی رہائش کا  انتظام کریں جو  اس کے لیے  الگ گھر کے تصور کو پورا کرتی ہو۔کیونکہ الگ گھر  ہر عورت  کی فطری خواہش ہوتی ہے ۔اگر بے  سہارا  یا مطلقہ خواتین دوسرا نکاح نہ کریں یا اولاد نہ  ہو تو اس  صورت میں انہیں چاہئے کہ اپنے لیے کوئی تبلیغی ،تعلیمی یا اسلام  کی حدود میں   رہتے ہوئے رفاہی  کام شروع کردیں ۔اور اسی   طرح  ایسی خواتین اپنے  خاندان کےبچوں کو اپنے  زیر تربیت رکھ  کر اجر بھی کما سکتی ہیں  اور یہ بہترین مصروفیت  ہے جس میں  دنیا اور آخرت دونوں کی بھلائی مضمر ہے ۔یادر ہے بچےکو گود لے کر   اس کا نسب بدل دینا گناہ ہے   لیکن گھر میں رکھ  کر اس کی  تربیت کرنا اسلامی  معاشرے کی جانی پہچانی  نیکی ہے ۔ زیر  نظر کتاب ’’ مطلقہ خواتین اوران کے مسائل‘‘محترمہ  ام عبد منیب صاحبہ  کی  کاوش ہے۔جس میں  انہوں  نے طلاق کی شرعی حیثیت اور اس کے احکام ومسائل قرآن واحادیث میں  بیان کرنے کےساتھ  مطلقہ  اور بے سہارا خواتین کواچھی زندگی بسر کرنے کےلیے   مفید   تجاویز اور ہدایات    پیش کی  ہیں ۔ اللہ تعالی ٰ ان  کی  تمام دینی واصلاحی خدمات کو  قبول فرمائے ۔( آمین)۔ محترمہ ام عبد منیب صاحبہ نے اصلاحی موضوعا ت  پر بیسیوں کتابچہ جات تحریر کیے  ہیں  جن میں سے بعض تو کتاب وسنت ویب سائٹ پر موجود ہیں  باقی بھی  عنقریب   اپلوڈ کردئیے جائیں گے۔ محترم عبد منیب صاحب (مدیر مشربہ علم  وحکمت،لاہور) نے اپنے  ادارے کی تقریبا  تمام مطبوعات  ویب سائٹ کے  لیے  ہدیۃً عنایت کی  ہیں  اللہ تعالی  اصلاح معاشرہ کے لیے  ان کی تمام مساعی  کو  قبول فرمائے  (آمین) (م۔ا)

     

ای میل سبسکرپشن

محدث لائبریری کی اپ ڈیٹس بذریعہ ای میل وصول کرنے کے لئے ای میل درج کر کے سبسکرائب کے بٹن پر کلک کیجئے۔

 

ایڈوانس سرچ

موضوعاتی فہرست

رجسٹرڈ اراکین

آن لائن مہمان

محدث لائبریری پر اس وقت الحمدللہ 469 مہمان آن لائن ہیں ، لیکن کوئی رکن آن لائن نہیں ہے۔

ایڈریس

       99--جے ماڈل ٹاؤن،
     نزد کلمہ چوک،
     لاہور، 54700 پاکستان

       0092-42-35866396، 35866476، 35839404

       0092-423-5836016، 5837311

      KitaboSunnat@gmail.com

      بنک تفصیلات کے لیے یہاں کلک کریں

 :