• pages-from-300-sawal-o-jawab-brae-miyaan-bevi
    مختلف اہل علم

    اسلام دینِ فطرت اور ایک مکمل ضابطۂ حیات ہے جس طرح اس میں دیگر شعبہ ہائے حیات کی راہنمائی اور سعادت کے لیے واضح احکامات او رروشن تعلیمات موجود ہیں اسی طرح ازدواجی زندگی اور مرد وعورت کے باہمی تعلقات کےمتعلق بھی اس میں نہایت صریح اورمنصفانہ ہدایات بیان کی گئی ہیں۔ جن پر عمل پیرا ہوکر ایک شادی شدہ جوڑا خوش کن اورپُر لطف زندگی کا آغاز کر سکتاہے۔ کیونکہ یہ تعلیمات کسی انسانی فکر وارتقاء اورجدوجہد کانتیجہ نہیں بلکہ خالق کائنات کی طرف سے نازل کردہ ہیں۔ جس نے مرد وعورت کے پیدا کیا اور ان کی فلاح و کامرانی کے لیے یہ ہدایات بیان فرمائیں۔ اکثر لوگ ازدواجی راحت و سکون کے حریص او رخواہشمند ہوتے ہیں لیکن اپنے خود ساختہ غلط طرزِ عمل اور قوانینِ شرعیہ سے غفلت کی بنا پر طرح طرح کی مشکلات اور مصائب کاشکار ہو کر اپنا سکون واطمینان غارت کرلیتے ہیں جس سے نہ صرف بذات خود وہ بلکہ ان کےاہل عیال اور کئی ایک خاندان پریشانیوں کا شکار ہوتے جاتے ہیں۔ ان ازدواجی مصائب اور خانگی مشکلات کے کئی اسباب و وسائل ہیں۔ زیر نظر کتاب ’’300 سوال وجواب برائےمیاں بیوی‘‘ میں قرآن مجید اورصحیح احادیث کے پیش ِ نظر عالم ِ اسلام کے جید علماء اور نامور مفتیان کرام کے فتاویٰ کو جمع کیاگیا ہے۔ جس میں ازدواجی زندگی کے متعلقہ مسائل کاشافی حل اور ہرمشکل کا علاج موجود ہے۔ اس مجموعہ کی خصیوصیت یہ ہے کہ اس میں خالصتاً کتاب وسنت کی نصوص کو محل استدلال بنایا گیا ہے اور انہی کی روشنی میں پیش آمدہ مسائل کاجواب دیا گیا ہے۔ نیز اس مجموعے میں ازدواجی زندگی کےہر گوشے سے متعلقہ مختلف اور متنوع احکام ومسائل کو یکجا کردیا گیا ہے۔ لہٰذا ہر کوئی خواہ مرد ہو یا عورت اس سے استفادہ کرسکتاہے۔ ان اہم فتاویٰ جات کو عربی زبان سے اردو میں منتقل کافریضہ حافظ عبد اللہ سلیم ﷾ نے انجام دیا ہے۔ تاکہ اردو خواں حضرات بھی اس کتاب سے مستفید ہوسکیں۔ اللہ تعالیٰ اس کتاب کےناشر اورجملہ معاونین کی اس خدمت کو قبول فرمائے اوران کےلیے توشۂ آخرت بنائے۔ (آمین) (م۔ا)

  • pages-from-477-sawal-o-jawab-brae-nikah-o-tlaaq
    محمد بن صالح العثیمین

    اسلام ایک مکمل ضابطۂ حیات ہے   پور ی انسانیت کے لیے اسلامی تعلیمات کے مطابق زندگی بسر کرنے کی مکمل راہنمائی فراہم کرتاہے انسانی زندگی میں پیش   آنے والے تمام معاملات ، عقائد وعبادات ، اخلاق وعادات کے   لیے نبی ﷺ کی ذات مبارکہ اسوۂ حسنہ کی صورت میں موجود ہے ۔مسلمانانِ عالم کو اپنےمعاملات کو نبی کریم ﷺ کے بتائے ہوئے طریقے کے مطابق سرانجام دینے چاہیے ۔لیکن موجود دور میں مسلمان رسم ورواج اور خرافات میں   گھیرے ہوئے ہیں لوگوں کی اکثریت دیگر احکام ومسائل کی طرح فریضہ نکاح کے متعلقہ مسائل سے بھی اتنی غافل ہے کہ میاں   کو بیو ی کے حقوق علم نہیں ، بیوی   میاں کے حقوق سے ناواقف ہے ،ماں باپ تربیتِ اولاد سے نا آشنا اور اولاد مقامِ والدین سے نابلد ہے ۔ اس لیے ہر مسلمان کو چاہیے کہ ودینی مسائل کی معرفت وففاہت حاصل کرے تاکہ وہ اپنی عبادات ومعاملات کوشریعت کے مطابق انجام دے سکے   ۔لیکن اگر اسے کسی مسئلے کی بابت شرعی حکم سے واقفیت نہیں ہے تو ایسے علماء سےدینی مسائل پوچھے جو کتاب وسنت کی نصوص پر اعتماد کرتے ہوئے اس کی راہنمائی کر سکیں۔ زیر نظرکتاب ’’477 سوال وجواب برائے نکاح وطلاق‘‘ عالمِ اسلام کے نامور اور سربرآوردہ علماء کے   نکاح وطلاق کے حوالے سے جوابات پر مشتمل مجموعہ ہے ۔اس میں نکاح وطلاق کے موضوع پر فتاویٰ جات جمع کیے گئے ہیں ،جواس موضوع کی تمام جزئیات او ر نواحی کا احاطہ کیے ہوئے ہیں ۔اس مجموعے کو   محترم مولانا محمدیاسر﷾ نےاردو زبان ی میں منتقل کیا ہے۔ شہید ملت علامہ احسان الٰہی ظہیر﷫ کے برادرِخور محترم عابد الٰہی ﷾ نے اپنے ادارے (مکتبہ بیت السلام ) کی طرف سے طباعت کے اعلی معیار پر شائع کیا ہے ۔ اللہ تعالیٰ اس کتاب کو تیار کرنے والے اور ناشرین کے لیے ان کی دنیوی واخروی فوز وفلاح کاضامن اور جنت میں بلندیِ درجات کا باعث بنائے (آمین) (م۔ا)

  • untitled-1
    زیر تبصرہ کتاب زندگی کے اہم ترین گوشے شادی سے متعلق ترتیب دی گئی ہے۔ محترمہ ام منیب نے نہایت سادہ انداز میں منگنی ، نکاح و رخصتی کے تمام تر معاملات کا کتاب و سنت کی روشنی میں جائزہ پیش کیا ہے۔ انہوں نے نکاح کی شرائط کا تذکرہ کرتے ہوئے نکاح میں کی جانے والی بعض رسومات بد کا شدو مد کے ساتھ رد کیا ہے۔ کچھ صفحات مثالی گھرانے کی صفات کے لیے مختص ہیں۔ اس کے علاوہ طلاق کے بعض مسائل پر بھی روشنی ڈالی گئی ہے۔(ع۔م)

    نوٹ:
    محدث فورم میں اس کتاب پر تبصرہ کرنے کے لیے یہاں کلک کریں
  • title-pages-ahkam-e-nikah-copy
    محمد علی جانباز

    اسلام ایک مکمل ضابطۂ حیات ہے پور ی انسانیت کے لیے اسلامی تعلیمات کے مطابق زندگی بسر کرنے کی مکمل راہنمائی فراہم کرتاہے انسانی زندگی میں پیش آنے والے تمام معاملات ، عقائد وعبادات ، اخلاق وعادات کے لیے نبی ﷺ کی ذات مبارکہ اسوۂ حسنہ کی صورت میں موجود ہے ۔مسلمانانِ عالم کو اپنےمعاملات کو نبی کریم ﷺ کے بتائے ہوئے طریقے کے مطابق سرانجام دینے چاہیے ۔لیکن موجود دور میں مسلمان رسم ورواج اور خرافات میں گھیرے ہوئے ہیں بالخصوص برصغیر پاک وہند میں شادی بیاہ کے موقع پر بہت سے رسمیں اداکی جاتی ہیں جن کاشریعت کے ساتھ کوئی تعلق نہیں اور ان رسومات میں بہت زیادہ فضول خرچی اور اسراف سے کا م لیا جاتا ہے جوکہ صریحاً اسلامی تعلیمات کے خلاف ہے ۔ ان مواقع پر تمام رسوم تو ادا کی جاتی ہیں ۔لیکن لوگوں کی اکثریت فریضہ نکاح کے متعلقہ مسائل سے اتنی غافل ہے کہ میاں کو بیو ی کے حقوق علم نہیں ، بیوی میاں کے حقوق سے ناواقف ہے ،ماں باپ تربیتِ اولاد سے نا آشنا اور اولاد مقامِ والدین سے نابلد ہے ۔ زیر تبصرہ کتاب ’’ احکام نکاح ‘‘شارح سنن ابن ماجہ شیخ الحدیث مولانا محمد علی جانباز ﷫کی تصنیف ہے ۔اس کتاب میں انہوں نے نکاح کا معنی ٰ، نکاح کی اہمیت وضرورت ،نکاح کاحکم، نکاح کے ارکان وشرائط ،شادی وبیاح کی رسومات ،مسنون نکاح ، آداب زفاف ، مسئلہ تعدد زواج ، نکاح کی اقسام ، زوجین کےحقوق وغیرہ کو قرآن وسنت کےدلائل کی روشنی میں پیش کیا ہے ۔ اللہ تعالیٰ شیخ الحدیث مولانا محمد علی جانباز ﷫ کی دعوتی ، تدریسی، تحقیقی وتصنیفی خدمات کو شرف قبولیت سے نوازے ۔(آمین) (م۔ا)

  • title-al-zawaaj
    رضیہ مدنی

    اسلام ایک مکمل ضابطۂ حیات ہے پور ی انسانیت کے لیے اسلامی تعلیمات کے مطابق زندگی بسر کرنے کی مکمل راہنمائی فراہم کرتاہے انسانی زندگی میں پیش آنے والے تمام معاملات، عقائد وعبادات ، اخلاق وعادات کے لیے نبی ﷺ کی ذات مبارکہ اسوۂ حسنہ کی صورت میں موجود ہے ۔مسلمانانِ عالم کو اپنےمعاملات کو نبی کریم ﷺ کے بتائے ہوئے طریقے کے مطابق سرانجام دینے چاہیے۔ لیکن موجود دور میں مسلمان رسم ورواج اور خرافات میں گھیرے ہوئے ہیں بالخصوص برصغیر پاک وہند میں شادی بیاہ کے موقع پر بہت سے رسمیں اداکی جاتی ہیں جن کاشریعت کے ساتھ کوئی تعلق نہیں اور ان رسومات میں بہت زیادہ فضول خرچی اور اسراف سے کا م لیا جاتا ہے جوکہ صریحاً اسلامی تعلیمات کے خلاف ہے۔ ان مواقع پر تمام رسوم تو ادا کی جاتی ہیں۔ لیکن لوگوں کی اکثریت فریضہ نکاح کے متعلقہ مسائل سے اتنی غافل ہے کہ میاں کو بیو ی کے حقوق کا علم نہیں، بیوی میاں کے حقوق سے ناواقف ہے ،ماں باپ تربیتِ اولاد سے نا آشنا اور اولاد مقامِ والدین سے نابلد ہے۔ اسلام نے شادی کو فریقین کے درمیان محبت اور رحمت قرار دیا ہے اور شادی بیاہ کے معاملات کو اس قدر آسان بنایا ہے کہ اگر ان پر عمل کیاجائے تو والدین کو اپنی جوان بچیوں اور بچوں کی شادی کے معاملے پریشانی ومسائل کا سامنانہ کرنا پڑے۔ لیکن موجو دہ رسم ورواج نے شادی کے آسان کام کو مشکل ترین بنادیا ہے۔ جس کی وجہ سے نہ جانے کتنے نوجوان لڑکے اور لڑکیاں غلط راستہ اختیار کرتے ہیں۔ زیر نظر کتاب ’’الزواج‘‘ محترمہ رضیہ مدنی صاحبہ کے شادی بیاہ اور حقوق الزوجین کے موضو ع پراسلامک انسٹی ٹیوٹ کے زیر اہتمام   طالبات وخواتین کو دئیے گئے لیکچرز کی کتابی صورت ہے۔ خواتین کے شدید مطالبہ پر محترمہ کے ان لیکچرز کو اسلامک انسٹی کی ایک استاد عفیفہ بٹ صاحبہ نے بڑی محنت سے مرتب کیا ہے ۔مصنفہ نے اس میں نکاح کی اہمیت، رشتے کا انتخاب، شروطِ نکاح، مسنون نکاح،نکاح کے موقع پر رسم ورواج کی حقیقت، زوجین کے حقوق وفرائض وغیرہ جیسے موضوعات کو آیات قرآنی اوراحادیث صحیحہ کی روشنی میں عام فہم انداز میں میں پیش کیا ہے۔ یہ کتاب خواتین کے لیے بیش قیمت تحفہ ہے اورشادی کے موقعہ پر دوست احباب کو دینے کے لیے بہترین گفٹ ہے۔ کتاب ہذا کی مصنفہ مفسر ِقرآن مولانا عبدالرحمن کیلانی ﷫ کی دختر اور معروف عالم دین مولانا حافظ عبدالرحمن مدنی﷾(مدیر اعلیٰ ماہنامہ محدث مدیر جامعہ لاہور الاسلامیہ ،لاہور ) کی زوجہ اور ڈاکٹر حافظ حسن مدنی ،ڈاکٹر حافظ حسین ازہر ،ڈاکٹر حافظ انس نضر، ڈاکٹر حافظ حمزہ مدنی حفظہم اللہ کی والدہ محترمہ ہیں۔موصوفہ طویل عرصہ سے ’’اسلامک انسٹی ٹیوٹ ‘‘ کی سرپرستی کےفرائض انجام دے رہی ہیں۔ اسلامک انسٹی ٹیوٹ محترمہ کی زیرنگرانی   لاہور میں تقرییا پچیس سال سے خواتین وطالبات کی تعلیم وتربیت کا اہتمام کر رہا ہے ۔لاہور اور اس کےگرد ونواح میں اس کی متعددشاخیں موجود ہیں۔ اب تک سیکڑوں خواتین وطالبات اس سے اسناد فراغت حاصل کرکے دعوت دین کے کاموں میں مصروف عمل ہیں۔ اللہ تعالیٰ محترمہ کےعمل وعمل میں اضافہ فرمائے اور ان کی دعوتی وتدریسی خدمات کو شرف ِقبولیت سے نوازے اور اس کتاب کو خواتینِ اسلام کے لیے نفع بخش بنائے (آمین)

  • pages-from-bahu-aur-damaad-par-susraal-key-haqooq
    ام عبد منیب

    اسلام کے معاشرتی نظام میں خاندان کواساسی حیثیت حاصل ہے ۔خاندان کااستحکام ہی تمدن کے کےاستحکام کی علامت ہے ۔ یہی وجہ ہےکہ اسلام کے نصابِ حیات قرآن وحدیث میں خاندان کی تشکیل وتعمیر کے لیے واضح احکام وہدایات ملتی ہیں۔ قرآنِ پاک میں سورۃ النساء اسی موضوع کی نمائندگی کرتی ہے ۔ نکاح وہ تقریب ِ باوقار ہے جس سےخاندان کےاساسی ارکان مرد وعورت کےسسرال کارشتہ ظہور میں آتاہے۔اسلام انسانی رشتوں میں باہمی محبت،احترام،وفا،خلوص،ہمدردی، ایثار ،عدل،احسان، اور باہمی تعاون کادرس دیتا ہے میکے ہوں یا سسرال دونوں اپنی جگہ محترم ہیں دونوں اانسان کی بنیادی ضرورت نکاح کےاظہار کا نام ہیں ۔دونوں ہر گھر کی تنظیمی عمارت کابنیادی ستون ہیں۔مرد وعورت پر سسرال کے حقوق کی ادائیگی اسی طرح یکساں فرض ہے جس طرح ان دونوں کی اپنی ذات کے حقوق ایک دوسرے پر یکساں فرض ہیں اگر دونوں میں سے کوئی ایک چاہتا ہے کہ اس کاشریکِ زندگی اس کے اقربا سے اچھا سلوک کرے تو اپنے زوج کے اقرباء سےاچھا سلوک کرنا اس کا اپنا بھی فرض ہے۔ زیر نظر کتابچہ’’بہو اور دماد پر سسرال کے حقوق‘‘محترمہ ام عبد منیب صاحبہ کی تحریر ہے۔اس میں انہوں نے قرآن وحدیث سےسسرال کے حقوق وفرائض کے بارے میں جو تفصیلات یا اشارات ملتے ہیں ان کو یک جا کرنے کی کوشش ہے۔ تاکہ وہ مربو شکل میں سامننے آجائیں ۔قرآن وحدیث وہ پیمانہ ہےجس پر ہم اپنی زندگی کی عمارت استوار کرنے کے پاپند ہیں۔اللہ تعالیٰ مصنفہ کی کاوش کو قبول فرمائے اور عوام الناس کے لیے فائدہ مند بنائے۔آمین (م۔ا)

  • title-pages-tuhfa-nikah-sawalan-jawaban-quran-w-hadith-ki-roshni-main-copy
    ابو عبیدہ ولید بن محمد

    اسلام  ایک مکمل  ضابطۂ حیات  ہے  پور ی انسانیت کے لیے  اسلامی تعلیمات کے  مطابق  زندگی  بسر کرنے کی  مکمل راہنمائی فراہم کرتاہے  انسانی  زندگی میں  پیش  آنے  والے تمام معاملات ، عقائد وعبادات ، اخلاق وعادات  کے  لیے  نبی ﷺ کی  ذات مبارکہ  اسوۂ حسنہ کی صورت میں موجود ہے  ۔مسلمانانِ عالم کو اپنےمعاملات کو  نبی کریم ﷺ کے بتائے  ہوئے طریقے  کے مطابق سرانجام  دینے چاہیے ۔لیکن موجود دور میں  مسلمان رسم ورواج اور خرافات میں  گھیرے  ہوئے  ہیں  بالخصوص  برصغیر پاک وہند میں  شادی  بیاہ کے  موقع پر  بہت سے رسمیں اداکی جاتی ہیں جن کاشریعت کے ساتھ کوئی تعلق نہیں  اور ان  رسومات میں بہت  زیادہ  فضول خرچی اور اسراف  سے  کا م لیا  جاتا ہے  جوکہ صریحاً اسلامی تعلیمات کے خلاف ہے ۔ ان  مواقع پر  تمام  رسوم تو ادا کی جاتی  ہیں  ۔لیکن  لوگوں کی اکثریت  فریضہ  نکاح کے  متعلقہ مسائل  سے  اتنی غافل ہے  کہ میاں  کو بیو ی کے حقوق  علم نہیں ،  بیوی  میاں  کے حقوق  سے ناواقف ہے ،ماں باپ تربیتِ اولاد سے نا آشنا اور اولاد مقامِ والدین سے  نابلد ہے ۔ زیر نظر کتابچہ ’’تحفہ نکاح سوالاً جواباً‘‘  فضیلۃ الشیخ  ابو عبیدہ  ولید بن  محمد  ﷾ عربی رسالہ هدية العروسين كا  اردو ترجمہ  ہے  ۔ یہ  رسالہ  مسائل نکاح پر مشتمل ہے س میں  منگنی سے لے کر شبِ زفاف کے آداب اور ولیمہ تک کے مسائل سوالاً جواباً  مختصر اور عام فہم انداز میں خوش اسلوبی سے  قرآن واحادیث کی  روشنی  بیان کیے گئے  ہیں ۔نکاح سے  قبل  اس کتاب کا مطالعہ  انتہائی مفید ہے  عزیزواقارب کے لیے شادی کے  تحائف میں  شامل کرنے  کےلائق  ہے ۔اللہ تعالی ٰ  اس کتاب کے  مولف،مترجم ،ناشر اور دیگر معاونین کو جزائے خیر عطا فرمائے  اور  عوام الناس  کے لیے نفع بخش بنائے (آمین) (م۔ا)

    نوٹ:

    محدث فورم میں اس کتاب پر تبصرہ کرنے کے لیے یہاں کلک کریں

  • title-pages-jabri-shadi-ka-sharie-hukam-copy
    مختلف اہل علم

    اللہ تعالیٰ کی نعمتوں میں سے ایک نعمت نیک اولاد کا ہونا ہے ۔جسے اللہ تعالیٰ نے آنکھوں کی ٹھنڈک کہا ہے اس لئے اولاد کا ہونا خوش بختی تصور کیا جاتا ہے۔جنہیں یہ نعمت میسر آتی ہے ۔وہ بہت خوش و خرم رہتے ہیں ،اور جن کے ہاں اولاد نہیں ہوتی ،وہ ہمیشہ اولاد کی محرومیت کے صدمے میں پڑے رہتے ہیں ۔مگر جب انہیں اولاد مل جاتی ہے تو گویا وہ سمجھتے ہیں کہ دنیا کی ہر نعمت مل گئی  ۔اولاد کا فطری حق ہے کہ اس کی حفاظت کی جائے کیونکہ بچے کی پیدائش کا اللہ تعالیٰ نے انسان کو ایک ذریعہ بنا رکھا ہے اس لیے اس پر یہ فریضہ عائد کیا ہے کہ اپنی اولاد کی حفاظت کرے۔ اسلام سے پہلے اولاد کو جینے کا حق حاصل نہ تھا بلکہ اولاد کی زندگی کو مختلف صورتوں سے ختم کر دیا جاتا تھا ۔اسی طرح اولاد کا یہ بھی حق ہے کہ جب وہ بالغ ہو جائے تو والدین اس کے لئے مناسب رشتے کا بندوبست کریں، اور رشتے کے انتخاب میں ان پر جبر کرنے کی بجائے  ان کی رضامندی کا خیال رکھیں۔ زیر تبصرہ کتاب" جبری شادی کا شرعی حکم" اسلامک فقہ اکیڈمی کے تیرہویں سیمینار منعقدہ 13 تا 16 اپریل 2001ء جامعہ سید احمد شہید کٹولی   میں پیش کئے جانے والے مقالات پر مشتمل ہے۔جن میں  عورتوں کی شادی میں ان کی رضا اور پسند کے موضوع پر تفصیلی گفتگو کی گئی ہے۔۔اللہ تعالی سے دعا ہے کہ وہ ایفا پبلیکیشنز والوں کی اس خدمت کو اپنی بارگاہ میں قبول فرمائے اور ان کے میزان حسنات میں اضافہ فرمائے۔آمین(راسخ)

  • pages-from-jahez-ki-tabaah-kaariyaan
    حافظ مبشر حسین لاہوری

    جہیز بنیادی طور پر ایک معاشرتی رسم ہے جو ہندوؤں کے ہاں پیدا ہوئی اور ان سے مسلمانوں میں آئی۔ خود ان کے ہاں اس کے خلاف مزاحمت پائی جاتی ہے۔اسلام نے نہ تو جہیز کا حکم دیا اور نہ ہی اس سے منع فرمایا کیونکہ عرب میں اس کا رواج نہ تھا۔ جب ہندوستان میں مسلمانوں کا سابقہ اس رسم سے پڑا تو اس کے معاشرتی اثرات کو مدنظر رکھتے ہوئے علماء نے اس کے جواز یا عدم جواز کی بات کی۔ہمارے ہاں جہیز کا جو تصور موجود ہے، وہ واقعتاً ایک معاشرتی لعنت ہے کیونکہ اس کی وجہ سے بہت سی لڑکیوں اور ان کے اہل خانہ پر ظلم ہوتا ہے۔اگر کوئی باپ، شادی کے موقع پر اپنی بیٹی کو کچھ دینا چاہے، تو یہ اس کی مرضی ہے اور یہ امر جائز ہے۔ تاہم لڑکے والوں کو مطالبے کا کوئی حق حاصل نہیں ہے۔سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا کو جو جہیز دیا گیا، وہ اس وجہ سے تھا کہ سیدنا علی ﷜ نبی کریم ﷺ کے زیر پرورش تھے۔ یوں سمجھ لیجیے کہ آپ نے اپنے بیٹے اور بیٹی کو کچھ سامان دیا تھا کیونکہ یہ دونوں ہی آپ کے زیر کفالت تھے۔ یہی وجہ ہے کہ آپ نے اپنے دیگر دامادوں سیدنا ابو العاص اور عثمان رضی اللہ عنہما کے ساتھ شادیاں کرتے وقت اپنی بیٹیوں کو جہیز نہیں دیا تھا۔جہیز سے ہرگز وراثت کا حق ختم نہیں ہوتا ہے۔ وراثت کا قانون اللہ تعالی نے دیا ہے اور اس کی خلاف ورزی پر شدید وعید سنائی ہے۔ جہیز اگر لڑکی کا والد اپنی مرضی سے دے تو اس کی حیثیت اس تحفے کی سی ہے جو باپ اپنی اولاد کو دیتا ہے۔لیکن اس میں اسراف وتبذیر سےگریز کرنا چاہیے۔ زیرنظر کتاب ’’جہیز کی تباہ کاریاں‘‘ فاضل نوجوان مصنف کتب کثیرہ ڈاکٹر حافظ مبشرحسین لاہوری ﷾(ریسرچ سکالر ادارہ تحقیقات اسلامی ، اسلام آباد) کی تصنیف ہے ۔یہ کتاب چار ابواب پر مشتمل ہے ۔ پہلے باب میں چند سچے واقعات پر مشتمل بعض ایسی تحریریں شامل ہیں جن سے مروجہ رسم جہیز کی معاشرتی تباہ کاریوں پر براہ راست روشنی پڑتی ہے ۔ اس کےبعد دوسرے باب میں جہیز کی شر عی حیثیت پر سیر حاصل بحث کی گئی ہے اور اس کی حدود وقیود واضح کی گئی ہیں جب کہ تیسرے باب میں جہیز کے حوالے سے لوگوں میں پائے جانے والے مختلف شبہات کا ازالہ کیاگیا ہے ۔ بالخصوص ان لوگوں کے نظریات کی بھر پور تردید کی کی گئی ہے جو جہیز کو ’’سنت رسول ‘‘ قرار دینے پر بضد ہیں ۔ چو تھے باب میں جہیز کی شرعی حیثیت کے حوالے سے چند جید علماء کےفتاویٰ جات کوجمع کیاگیا ہے ۔مسئلہ جہیز کے حوالے سے اگرچہ یہ ایک چھوٹی سی کاوش ہے ۔ اگر اسے سنجیدگی سے پڑھا پڑھایا اور عوام میں پھیلایا جائے تو امید ہے کہ یہ لوگوں کی سوچ میں مثبت تبدیلی کا باعث ہوگی۔ بالخصوص اس کتاب کو معاشرے کے ان افراد تک ضرور پہنچایا جانا چاہیے جوجہیز کی تبا کاریوں سےبےخبر ہیں۔اللہ تعالیٰ اس کتاب کو ہمارے معاشرے سے رسم جہیز کے خاتمے کا باعث بنائے اور ہمیں غیر اسلامی رسم ورواج سے اجتناب کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین (م۔ا)

  • title-pages-hurmat-e-mutta-bajawab-jawaz-e-mutta-copy
    محمد علی جانباز

    اسلام عفت و عصمت اور پاکیزگی قلب و نگاہ کا دین ہے ۔ انسان کی عزت وعصمت کے تحفظ کی خاطر اسلام میں نکاح کا حکم دیا گیا ہے تاکہ حصول عفت کے ساتھ ساتھ نسل انسانی کی بقاء و تسلسل بھی جاری رہے۔ ایک گروہ کے ہاں نکاح کی ایک صورت متعہ کے نام پربھی رائج ہے جو اگرچہ صدراسلام میں جائزتھی ، تاہم حضورنبی کریم ﷺ نے اپنی حیات طیبہ ہی میں بڑی وضاحت و صراحت سے اسے ناجائز و ممنوع قراردے دیا ۔اور ابدی طور پر اس کوحرام قرار دے دیا۔اب شریعت اسلامیہ میں متعہ او ر زنا ایک ہی چیز کے دو نام ہیں ۔اب جو شخص متعہ کرتا ہے یا اس کی اجازت دیتا ہے تو وہ گویا ایسے ہے جیسے اس نے زنا کیا یا زنا کی اجازت دی۔مگر ایک گمراہ فرقہ جس کولوگ رافضیہ یا شیعہ کے نام سے جانتے ہیں۔ ان کاعقیدہ ہےکہ زنا متعہ کی صورت میں جائز ہی نہیں بلکہ بڑے درجے اور ثواب کا کام ہے ۔اور جو اس عمل سےمحروم رہا وہ رافضی یاشیعہ جماعت سے خارج ہے ۔ زیرنظرکتاب ’’حرمت متعہ بجواب جواز متعہ‘‘ شیخ الحدیث مولانا محمد علی جانباز﷫ کی تصنیف ہے۔جو انہوں نے ایک شیعہ عالم دین سید بشیرحسین کی کتاب جواز متعہ کےجواب میں تحریر کی ۔اس کتاب میں مولانا جانباز ﷫ نے دلائل کی روشنی میں جواز متعہ کےسلسلہ میں صحابہ اورائمہ اہل سنت کی طرف منسوب کی گئی غلط باتوں کی تردید کی ہے۔ اور کتاب وسنت کے ٹھوس دلائل سے ثابت کیا کہ متعہ قطعی حرام اور ممنوع ہے۔اوریہ واضح کیا ہے کہ متعہ ایک ایسا فعل ہے کہ جس کوکوئی باعزت اور دیندار انسان اپنی اولاد کے لیے جائز قرار نہیں دے سکتا۔ نیز ان تمام دلائل وبراہین کا رد کیاگیا ہے جو علمائے مخالفین جو از متعہ میں پیش کرتےہیں۔ کتاب ہذا کے مطالعہ سے اس مسئلہ کی اصل حقیقت بے نقاب ہوکر قارئین کے سامنے آجائے گی۔اللہ تعالیٰ مولانا جانباز ﷫ کی تمام تحقیقی وتصنیفی خدمات کو قبول فرمائے اور اس کتاب کو لوگوں کی اصلاح کا ذریعہ بنائے۔ (آمین) (م۔ا)

  • title-pages-hurmat-nikah-e-shighar-copy
    عبد القادر حصاروی

    اسلام دنیا کا واحد مذہب ہے جو انسان کی پر موڑپر راہنمائی کرتا ہےاسلام ہی کی بدولت ایک پرامن معاشرتی نظام قائم ہو سکتا ہے اسلامی نظام زندگی کی خصوصیات میں سے سب سے بڑی خصوصیت اس کا خاندانی نظام ہے ۔اسلام نے انسان کی خواہشات کو مدنظر رکھتے ہوئے تمام مفاسد،فواحش اور برائیوں کا استیصال ہی نہیں بلکہ اس کے ساتھ ساتھ ایک خاندانی نظام بھی متعارف کروایا ۔اور نکاح کی صورت میں ایمان کی حفاظت کا مؤثر ذریعہ امت محمدیہ کو بتایا۔قبل از اسلام زمانہ میں جاہلیت و کفراور دیگر رسومات قبیح رواج عام تھااسی طرح نکاح جاہلیت کی بھی چند قسمیں مروج تھیں جن میں نکاح شغار خاص طور پر قابل ذکر ہے جس کو ہمارے محاورےمیں بٹہ کا نکاح کہا جاتا ہے آپ ﷺنے خاندانی نظام کو ایک مثالی نظام سے ہمکنار کیا جس کی نظیر کسی اور مذہب و تمدن میں نہیں ملتی ۔ زیر نظرکتاب "حرمت نکاح شغار " " مولانا عبدالقادر حصاری﷫ "کی تصنیف ہے جس میں نکاح شغار )(نکاح بٹہ کی حرمت پر مستند دلائل اور عرب و عجم کے مفتیان کے فتاوجات کی روشنی میں نکاح شغار کے مفاسد کو اجاگر کیا گیا ہے۔ اللہ تعالی مصنف کی ا س کاوش کو قبول فرمائے اور امت محمدیہ کے لیے ذریعہ رہنمائی بنائے ۔آمین (عمیر)

  • title-pages-hayat-al-nisa-copy
    میاں مسعود احمد بھٹہ

    عورت اور مرد فطری طور پر ایک دوسرے کے  بہترین محل ہیں،اور ان کے درمیان قربت یا ملاپ کی خواہش فطری عمل ہے۔جسے شرعی نکاح کی حدود میں لا کر مرد وزن کو محصن اور محصنہ کا درجہ حاصل ہوتا ہے۔نکاح ایک شرعی اور انتظامی سلیقہ ہے،لیکن زوجیت کا اصل مقصد باہمی سکون کا حصول ہے۔اور اگر زوجین کے درمیان سکون حاصل کرنے یا سکون فراہم کرنے کی تگ ودو نہیں کی جاتی تو اللہ تعالی کو ایسی زوجیت ہر گز پسند نہیں ہے۔ زیر تبصرہ کتاب" حیات النساء،عورت کی زندگی " محترم میاں مسعود احمد بھٹہ ایڈوکیٹ کی تصنیف ہےجو تیرہ ابواب پر مشتمل ہے اور زوجیت ومناکحات کے اسلامی نظریات واہلیت زوجیت کے تقاضوں سے ہم آہنگ اہم موضوعات پر محیط ہے۔ان ابواب میں زوجیت کے مقاصد،اہلیت زوجیت،نکاح کی انتظامی حیثیت،اسلامی نکاح کے تقاضے اور طریقہ کار،متعہ کی حرمت ،تعدد ازواج،حق مہر کی شرعی حیثیت ،نان ونفقہ کا مرد پر لزوم،نکاح حلالہ کی لعنت اور عدت کے مسائل وغیرہ تفصیل سے بیان کئے گئے ہیں۔ اللہ تعالی سے دعا ہے کہ وہ مولف کی اس کاوش کو قبول فرمائے اوران کے میزان حسنات میں اضافہ فرمائے۔آمین(راسخ)

  • img-20141119-wa0011
    ضیاء الحسن محمد سلفی

    امت مسلمہ آج بے شمارسنتوں کو چھوڑ کر من گھڑت رسوم ورواجات اور بدعات میں پڑی ہوئی ہے۔اور اس امر کی بڑی شدید ضرورت ہے کہ ان مردہ ہوجانے والی سنتوں کو زندہ کیا جائے،اور لوگوں کی درست طریقے سے راہنمائی کی جائے۔انہی سنتوں میں سے ایک اہم ترین سنت خطبۃ الحاجۃ ہے،جسے زندہ کرنے کی ضرورت ہے۔آج صورتحال یہ ہے کہ خطبہ مسنونہ کو چھوڑ کر خانہ ساز اور طبع ساز خطبے پیش کئے جاتے ہیں ۔اور اکثر لوگ خطبہ حاجہ کی مشروعیت اور معنویت سے نا آشنا ہیں،اور اس میں موجود تین آیات مبارکہ کی حکمتوں اور معانی سے ناواقف ہیں۔اس موضوع پر پہلے محدث عصر علامہ ناصر الدین البانی ﷫نے" خطبۃ الحاجۃ" نامی کتاب لکھ کر اس اہم فریضہ کو انجام دیا ،اور پھر ان کی ہم نوائی کرتے ہوئے محترم ضیاء الحسن محمد سلفی ﷾استاذ حدیث وعقیدہ جامعہ عالیہ عربیہ مئو انڈیا نے یہ کتاب" خطبۃ الحاجۃ کی مشروعیت ومعنویت " لکھ کر تمام خطباء،واعظین ومقررین اور مدرسین ومصنفین کو دعوت دی ہے کہ وہ اپنے خطبوں ،وعظوں اور دعوتی تقاریب اور تصنیفات کا آغاز اس مسنون خطبہ سے کیا کریں تاکہ یہ متروک سنت زندہ ہو سکے۔اس کتاب میں فاضل مولف نے پہلے خطبہ مسنونہ کے الفاظ نقل کئے ہیں اور پھر جن جن احادیث میں یہ الفاظ موجود ہیں ،انہیں جمع کرتے ہوئے ان کی استنادی حیثیت اور ان کے معانی ومفاہیم پر روشنی ڈالی ہے۔اللہ تعالی مولف کی اس کاوش کو اپنی بارگاہ میں قبول فرمائے اور ان کے میزان حسنات میں اضافہ فرمائے۔آمین(راسخ)

  • pages-from-shadi-biyaah
    حافظ صلاح الدین یوسف

    شادی کی تقریبات میں ولیمہ ایک ایسا عمل ہے جو مسنون ہے۔یعنی نبی کریم ﷺ نے اس کاحکم دیا ہے ۔اور آپ نے خودبھی اپنی شادیوں کا ولیمہ کیا ہے ۔ اس کا سب سے بڑا مقصد اللہ کا شکر ادا کرنا ہے کہ اللہ نے زندگی کےایک نہایت اہم اور نئے موڑ پر مدد فرمائی اور اسے ایک ایسا رفیق حیات اور رفیق سفر دیا جو اس کے لیے تفریح طبع اور تسکین خاطر کاباعث بھی ہوگا او رزندگی کے نشیب وفراز میں اس کاہم دم اورہم درد اور مددگار بھی۔دعوت ولیمہ جب سنت ہے دنیاوی رسم نہیں تو اسے کرنا بھی اسی طرح چاہیے جس میں اسلامی ہدایات سے انحراف نہ ہو جب کہ ہمارے ہاں اس کےبرعکس ولیمہ بھی اس طرح کیا جاتا ہے کہ وہ بھی شادی بیاہ کی دیگر رسموں کی طرح بہت سی خرابیوں کامجموعہ بن کر رہ گیا۔ زیر تبصرہ کتابچہ ’’شادی بیاہ‘‘ نامور عالم دین مفسر قران مولانا حافظ صلاح الدین یوسف﷾ کی ایک اہم تحریری کاوش ہے جس میں انہوں نےولیمہ کامسنون طریقے کو بیان کر کے غیرمسنون طریقوں کی بھی نشاندہی کی ہے اور اسی طرح شادی کے سلسلے میں ہمارے معاشرے میں پائے جانے والے بعض غیر ضروری امور اور رسومات کو بیان کیا ہے۔ اللہ تعالیٰ کتابچہ کو عوام الناس کی اصلاح کاذریعہ بنائے۔ آمین (م۔ا)

  • pages-from-shadi-shohar-aur-singhaar
    ام عبد منیب

    بننا سنورنا عورت کی فطرت میں داخل ہے،اور اس کے لئے یہ کام ہر معاشرے میں جائز سمجھا گیا ہے۔لیکن مصیبت یہ ہے کہ بننے سنورنے کے ساتھ ہی عورت میں یہ خواہش شدت سے انگڑائیاں لینے لگتی ہے کہ کوئی دوسرا شخص اس کے بننے سنورنے کو دیکھے اور پھر اس کے سراپے حسن ،لباس اور زیور وغیرہ کی تعریف بھی کرے۔عورت کی اس فطری خواہش کو اللہ تعالی نے اس طرح لگام دی ہے کہ ہر شادی شدہ عورت کو حکم دیا ہے کہ وہ اپنے شوہر کے بن سنور کر رہے ،تاکہ شوہر اس کے حسن ونزاکت سے لطف اندوز ہو ،اس کو دیکھ کر مسرور ہو اور اس کے دل میں بیوی کی محبت دو چند ہو جائے۔ زیر تبصرہ کتاب " شادی ،شوہر اور سنگھار"معروف مبلغہ داعیہ،مصلحہ،مصنفہ کتب کثیرہ اور کالم نگار محترمہ ام عبد منیب صاحبہ کی تصنیف ہے ۔ جس میں انہوں نےعورت کے لئے بننے سنورنے کی حدود وقیود اور شرعی پردے کی اہمیت وضرورت پر گفتگو کی ہے ۔اللہ نے ان کو بڑا رواں قلم عطا کیا تھا،انہوں نے سو کے قریب چھوٹی بڑی اصلاحی کتب تصنیف فرمائی ہیں۔ محترمہ ام عبد منیب صاحبہ محمد مسعود عبدہ  کی اہلیہ ہیں ۔ موصوف   تقریبا 23 سال قبل جامعہ لاہور الاسلامیہ میں عصری علوم کی تدریس کرتے رہے اور 99۔جے ماڈل ٹاؤن میں بمع فیملی رہائش پذیر رہے ۔موصوف کے صاحبزادے محترم عبد منیب صاحب نے اپنے طباعتی ادارے ’’مشربہ علم وحکمت ‘‘ کی تقریبا تمام مطبوعا ت محدث لائبریری کے لیے ہدیۃً عنائت کی ہیں ۔اللہ تعالیٰ ان کی تمام مساعی جمیلہ کو قبول فرمائے۔ آمین(راسخ)

  • title-pages-shadi-ki-jahilana-rasmain-copy
    محمد ابو الخیر اسدی

    ہمارا معاشرہ اسلامی ہونے کے باوجود غیر اسلامی رسوم ورواج میں بری طرح جکڑچکا ہے،اور ہندو تہذیب کے ساتھ ایک طویل عرصہ تک رہنے کے سبب متعدد ہندوانہ رسوم ورواجات کو اپنا چکا ہے۔کہیں شادی بیاہ پر رسمیں تو کہیں بچے کی ولادت پر رسمیں،کہیں موسمیاتی رسمیں تو کہیں کفن ودفن کی رسمیں۔الغرض ہر طرف رسمیں ہی رسمیں نظر آتی ہیں۔اسلامی تہذیب وثقافت کا کہیں نام ونشان نہیں ملتا ہے۔ الا ما شاء اللہ۔انہیں رسوم ورواج میں سے شادی کے موقعوں پر ادا کی جانے والی رسوم ہیں،جس کا اسلامی تہذیب کے ساتھ کوئی دور کا بھی تعلق نہیں ہے۔ان رسوم ورواج میں اسلامی تعلیمات کا خوب دل کھول استخفاف کیا جاتا اور غیر شرعی افعال سر انجام دیئے جاتے ہیں۔ زیر تبصرہ کتاب " شادی کی جاہلانہ رسمیں"مولانا علامہ ابو الخیر اسدی صاحب کی تصنیف ہے۔ جس میں انہوں نے شادی بیاہ کے مواقع پر کی جانے والی رسوم ورواجات پر روشنی ڈ الی ہے کہ یہ کیسے اسلامی معاشرے کا حصہ بنیں اور مسلمانوں کو ان سے بچنے کی تلقین کی ہے۔ اللہ تعالی سے دعا ہے کہ مولف کی اس محنت کو قبول فرمائے اور ان کے میزان حسنات میں اضافہ فرمائے۔آمین(راسخ)

  • title-pages-shadi-k-masail-kitab-w-sunnat-ki-roshni-me-copy
    پروفیسر ڈاکٹر صالح بن غانم السدلان

    شادی ایک سماجی  تقریب ہے جو دنیا کے  ہر مذہب ہر خطے  اور ہر قوم میں جاری وساری ہے کیونکہ اس کا تعلق زندگی کی بقا اور تسلسل کے اس مخصوص عمل سے  ہے جسے چھوڑ دینے  سے  نسلِ انسانی  ہی منقطع ہوکررہ  جائے گی۔ دینِ اسلام میں بھی شادی  کوایک  اہم معاشرتی تقریب کی حیثیت  حاصل ہے  ۔تقریب نکاح کاطریقہ اس قدر آسان ہونے کے باوجود ہمارے  موجودہ معاشرے میں  اسے ایک مشکل  ترین تقریب بنادیاگیا ہے ۔بات طے کرنے  سےلے کر قدم قدم پر ایسی رسومات ادا کی جاتی  ہیں جن    میں مال خرچ بھی ہوتا ہے  اور متعلقین کوبھی  بار بار مال  اور وقت خرچ کر کے ان رسومات میں شریک کیا جاتا ہے ۔ ان رسومات پر ایک  طائرانہ  نظر رڈالنے سے یہ پتہ چلتا ہے کہ ان میں سے  اکثر  کاتعلق ہندو مذہب کی شادی کی رسومات سے ہے ۔اور  کچھ لوازمات مغربی معاشرے کے بھی  شامل  کر لیے  گیے ہیں۔ زیر تبصرہ کتابچہ  ’’ شادی کے مسائل کتاب و سنت کی روشنی میں ‘‘ العلامہ الشیخ صالح بن غانم السدلان  صاحب کی تحریر ہےجس کا اردو ترجمہ مختار احمد ندوی نے کیا ہے ۔انہوں نے اس  موضوع کو بڑے ہی مؤثر  ودلکش  اور دلنشیں انداز میں  پیش فرمایا ہے  اور اس کتابچہ  میں مسائل  وغیرہ کو کتاب وسنت کےحوالہ جات سے مزین کیا ہے اور نتیجہ خیز بات کو عیاں کیا ہے ۔اللہ تعالیٰ اس کتابچہ کو عوام الناس کی اصلاح کا  ذریعہ بنائے (آمین) (رفیق الرحمن)

  • pages-from-shabaab-e-shadi-aur-shara
    اعجاز حسن چوہدری

    اسلام ایک مکمل اور ضابطۂ حیات ہے۔ اسلام سے محبت کرنے والے ہر شخص کی یہ کوشش ہوتی ہے کہ وہ اپنے شب وروز قرآن وسنت اور اسلام کی دی گئی تعلیمات کے مطابق بسر کرے۔ دنیاوی زندگی کا کوئی بھی معاملہ ہو اسے قرآن وسنت کے سانچےمیں ڈھالنے کی کوشش کی جاتی ہے۔ دنیاوی معاملات میں ایک حساس معاملہ شادی کی تقریب کا ہے کہ شادی کی تقریب کو کیسے قرآن وسنت کی روشنی اور رہنمائی کے مطابق انجام دیا جائے۔زیرِ تبصرہ کتاب بھی خاص اسی موضوع پر ہے ۔ جس کی تالیف کا سبب بھی یہی تھا کہ شادی کی تقریب میں نامناسب رسوم اور دیگر غلطیوں کی نشاندہی کرنا اور قرآن وسنت کی رہنمائی کو لوگوں تک پہنچانا۔ اس کتاب کو آٹھ حصوں میں اور ہر حصے کو طوالت کی صورت میں مباحث میں تقسیم کیا گیا ہے اور عامۃ الناس کے لیے موضوعا ت کو مختصر ٹکڑوں کی صورت یا نکات کی صورت میں ترتیب سے بیان کیا گیا ہے۔ احادیث کے حوالے کو اختصار سے بیان کرتے ہوئے صرف مذکورہ مرجع کی متعلقہ’کتاب‘ کا ذکر کیا گیا ہے۔ سنن اربعہ کی احادیث ہونے کی صورت میں شیخ البانی کا حکم اجمالی بھی بیان کیا گیا ہے۔ مسائل قرآن وسنت سے بیان کیے گئے اور سلف کے قرآن وسنت سے استنباط شدہ مسائل سے رہنمائی لی گئی ہے۔ آخر میں مشکل الفاظ کے معانی فہرست کی صورت میں دیے گئے ہیں۔ آخر میں اس موضوع پر مزید استفادہ کے لیے فہرست کتب تحریر کی گئی ہے۔ یہ کتاب’’شاب‘ شادی اور شرع‘‘ اعجاز حسن چوھدری کی علمی کاوش ہے جو کہ جامعہ اسلامیہ کے فاضل ہیں۔ دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ مؤلف وجملہ معاونین و مساعدین کو اجر جزیل سے نوازے اور اس کتاب کو ان کی میزان میں حسنات کا ذخیرہ بنا دے اور اس کا نفع عام فرما دے۔ (آمین)( ح۔م۔ا )

  • pages-from-shabaab-shadi-aur-shara
    اعجاز حسن چوہدری

    اسلام ایک مکمل اور ضابطۂ حیات ہے۔ اسلام سے محبت کرنے والے ہر شخص کی یہ کوشش ہوتی ہے کہ وہ اپنے شب وروز قرآن وسنت اور اسلام کی دی گئی تعلیمات کے مطابق بسر کرے۔ دنیاوی زندگی کا کوئی بھی معاملہ ہو اسے قرآن وسنت کے سانچےمیں ڈھالنے کی کوشش کی جاتی ہے۔ دنیاوی معاملات میں ایک حساس معاملہ شادی کی تقریب کا ہے کہ شادی کی تقریب کو کیسے قرآن وسنت کی روشنی اور رہنمائی کے مطابق انجام دیا جائے۔ زیرِ تبصرہ کتاب بھی خاص اسی موضوع پر ہے ۔ جس کی تالیف کا سبب بھی یہی تھا کہ شادی کی تقریب میں نامناسب رسوم اور دیگر غلطیوں کی نشاندہی کرنا اور قرآن وسنت کی رہنمائی کو لوگوں تک پہنچانا۔ اس کتاب کو آٹھ حصوں میں اور ہر حصے کو طوالت کی صورت میں مباحث میں تقسیم کیا گیا ہے اور عامۃ الناس کے لیے موضوعا ت کو مختصر ٹکڑوں کی صورت یا نکات کی صورت میں ترتیب سے بیان کیا گیا ہے۔ احادیث کے حوالے کو اختصار سے بیان کرتے ہوئے صرف مذکورہ مرجع کی متعلقہ’کتاب‘ کا ذکر کیا گیا ہے۔ سنن اربعہ کی احادیث ہونے کی صورت میں شیخ البانی کا حکم اجمالی بھی بیان کیا گیا ہے۔ مسائل قرآن وسنت سے بیان کیے گئے اور سلف کے قرآن وسنت سے استنباط شدہ مسائل سے رہنمائی لی گئی ہے۔ آخر میں مشکل الفاظ کے معانی فہرست کی صورت میں دیے گئے ہیں۔ آخر میں اس موضوع پر مزید استفادہ کے لیے فہرست کتب تحریر کی گئی ہے۔یہ کتاب’’شاب‘ شادی اور شرع‘‘ اعجاز حسن چوھدری کی علمی کاوش ہے جو کہ جامعہ اسلامیہ کے فاضل ہیں۔ دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ مؤلف وجملہ معاونین ومساعدین کو اجر جزیل سے نوازے اور اس کتاب کو ان کی میزان میں حسنات کا ذخیرہ بنا دے اور اس کا نفع عام فرما دے۔ (آمین)( ح۔م۔ا )

  • title-pages-talakain-kiyon-hoti-hain-copy
    عبد المنان راسخ

    نکاح دراصل میاں بیوی کے درمیان وفاداری او رمحبت کے ساتھ زندگی گزرانے کا ایک عہدو پیمان ہوتا ہے ۔ نیز نسل نو کی تربیت کی ذمہ داری بھی نکاح کے ذریعہ میاں بیوی دونوں پر عائد ہوتی ہے لیکن اگر نکاح کے بعد میاں بیوی دونوں میں سے کوئی ایک یا دونوں ہی یہ محسوس کریں کہ ان کی ازدواجی زندگی سکون وا طمینان کے ساتھ بسر نہیں ہوسکتی او رایک دوسرے سے جدائی کے بغیر کوئی چارہ نہیں تو اسلام انہیں ایسی بے سکونی وبے ا طمینانی او رنفرت کی زندگی گزارنے پر مجبور نہیں کرتا بلکہ مرد کو طلاق او ر عورت کو خلع کاحق دے کرایک دوسرے سے جدائی اختیار کر لینے کی اجازت دیتا ہے ۔لیکن اس کے لیے بھی اسلام کی حدود قیود اور واضح تعلیمات موجود ہیں۔طلاق چونکہ ایک نہایت اہم اور نازک معاملہ ہے اس لیے ضروری ہے کہ پوری طرح غور وفکر کے بعد اس کا فیصلہ کیا جائے ۔ زیر تبصرہ کتابچہ’’طلاقیں کیوں ہوتی ہیں ‘‘محترم مولانا ابو الحسن عبدالمنان راسخ ﷾( مصنف کتب کثیرہ) کی تصنیف ہے۔اس میں انہوں نے بنیادی طور پر بیوی کی طرف سے ہونی والی کوتاہیوں کا تذکرہ کیا ہے ہرمسلمان عورت کو اس رسالے کی روشنی میں اپنی اصلاح کرنی چاہیے اور اللہ تعالیٰ سے خیر کی دعا کرنی چاہیے ۔رسالہ ہذا کے مصنف جامعہ اسلامیہ ،صادق آباد کے فیض یافتہ ہیں اور مولانا حافظ ثناء اللہ زاہدی﷾ کے مایۂ ناز قابل شاگردوں میں شمار ہوتے ہیں ۔تبلیغی واصلاحی موضوعات کے علاوہ علمی وتحقیقی موضوعات کو بیان کرنے اور تحریر کی کامل دسترس رکھتے ہیں۔ موصوف جامعہ اسلامیہ،صادق آبادسے فراغت کےبعد شروع شروع میں مجلس التحقیق الاسلامی ، لاہور میں حافظ عبد الرحمن مدنی﷾ کی زیر نگرانی بھی علمی وتحقیقی خدمات سرانجام دیتے رہے ۔ موصوف ایک اچھے مصنف ہونے کے ساتھ ساتھ بڑے اچھے خطیب اور واعظ بھی ہیں ۔ عرصہ دراز سے فیصل آباد میں خطابت کافریضہ انجام دینے کےساتھ ساتھ تصنیف وتالیف کا کام بھی کرتے ہیں ۔تقریبا دو درجن کتب کےمصنف ہے۔ جن میں سے چار کتابیں(خشبو ئے خطابت ،ترجمان الخطیب،منہاج الخطیب ، حصن الخطیب) خطابت کے موضوع پر ہیں ۔کتاب ہذا گھروں کو اجڑنے سےبچانے کے لیے حالات وواقعات اور مشاہدات کی روشنی میں مصنف کی ایک فکر انگیز تحریر ہے ۔اللہ تعالیٰ اس کتابچہ کو عوام الناس کےلیے نفع بخش بنائے ا ور ہم سب کو اسلام کےمطابق ازدواجی زندگی خوشگوار بنانے کی توفیق عطا فرمائے (آمین)(م۔ا)

  • title-pages-aqad-e-istasna-se-mutalik-baaz-masail-copy
    مختلف اہل علم

    عقد استصناع سے مراد یہ ہے کہ کسی سے آرڈر پر سامان تیار کروانا۔منجملہ مالی معاملات میں سے ایک اہم ترین صورت عقد استصناع کی ہے۔اس کے بارے میں اگرچہ نصوص میں بھی اشارات ملتے ہیں، لیکن فقہاء کے بیان کے مطابق اس کی اصل بنیاد عرف وعادت اور تعامل ہے۔یوں تو استصناع بھی عقد معاوضہ ہی کی ایک شکل ہے، لیکن اس عقد کا امتیازی پہلو یہ ہے کہ سلم کی طرح یہ بھی بیع معدوم کی ممانعت سے مستثنی ہےاور مزید ایک اہم بات یہ ہے کہ اس میں عوضین کو ادھار رکھا جا سکتا ہے۔اس لئے معاملات میں اس عقد کو خصوصی اہمیت حاصل ہے، موجودہ دور میں اسلامی مالیاتی ادارے اس کو تمویل و استثمار کی ایک شکل کے طور پر بھی استعمال کرتے ہیں۔ زیر تبصرہ کتاب " عقد استصناع سے متعلق بعض مسائل " ایفا پبلیکیشنز، نئی دہلی کی شائع کردہ ہے، جس میں اسلامک فقہ اکیڈمی کےتیئسویں فقہی سیمینار مؤرخہ1 تا 3 مارچ  2014ء بمطابق 28 ربیع الثانی تا یکم جمادی الاول  منعقدہ جامعہ علوم القرآن جمبوسر گجرات انڈیا میں عقداستصناع کے  بارے میں پیش کئے گئے علمی، فقہی اور تحقیقی مقالات ومناقشات کے مجموعے کو جمع کر دیا گیا ہے۔ اللہ تعالی سے دعا ہے کہ وہ ایفا پبلیکیشنز والوں کی اس خدمت کو اپنی بارگاہ میں قبول فرمائے اور ان کے میزان حسنات میں اضافہ فرمائے۔آمین(راسخ)

  • pages-from-love-marriage-aur-us-key-muzmaraat
    مریم خنساء

    1997ء میں جب صائمہ ارشد کیس منظر عام پر آیا اور عدالتوں نے شرعی تقاضوں کے منافی یہ فیصلہ دے دیا کہ بالغ لڑکی از خود اپنا نکاح کر سکتی ہے تو اسے اخبارات اور اسلام بیزار ذرائع ابلاغ نے خوب اچھالا۔کیونکہ اس کیس سے اسلام بیزار ،مغرب زدہ طبقے کو اپنے موقف کو مزید ابھارنے میں بہت بڑی کمک حاصل ہوئی تھی۔اس کیس نے دینی ،رفاہی اور معاشرتی حلقوں کے علاوہ قانونی ماہرین ،غیر ملکی این جی اوز اور عوام میں بھی ہلچل پیدا کر دی۔ معاملے کی نزاکت کو دیکھتے ہوئے محترمہ باجی مریم خنساء نے قلم اٹھایا اور اخباری بیانات کو سامنے رکھ کر اس کیس کے مختلف پہلووں پر لکھنا شروع کر دیا ۔ان کے یہ قابل فخر مضامین ماہنامہ بتول،طیبات اور الحسنات میں شائع ہوتے رہے۔ان مضامین میں لو میرج کے داخلی اسباب ،لو میرج کے خارجی اسباب،ولی اور فقہ حنفی،عورتوں کے حقوق کی بازیابی یا حق تلفی،کیا ہر گھر میں صائمہ موجود ہے؟اور پسند یا عشق جیسے مضامین قابل ذکر ہیں۔محترمہ مریم خنساء کے ان مضامین میں محترمہ ام عبد منیب نے بھی چند دیگر مفید اور موضوع سے متعلقہ مضامین کا اضافہ کیا ہے ۔اور پھر ان تمام مضامین کو ایک کتاب کی شکل میں شائع کر دیا ہے۔جو اس وقت آپ کے ہاتھوں میں موجود ہے۔اللہ تعالی سے دعا ہے کہ وہ ان دونوں بہنوں کے اس نیک عمل کو اپنی بارگاہ میں قبول فرمائے اور ان کے میزان حسنات میں اضافہ فرمائے۔آمین(راسخ)

  • pages-from-larki-shadi-kiyon-karti-hai
    حافظ عبد اللہ محدث روپڑی

    اسلامی نظامِ زندگی کی خصوصیات میں سے سب بڑی خصوصیت اور امتیاز اس کا خاندانی نظام ہے جس کی برکات روزِ روشن کی طرح عیاں ہیں۔ اسلامی تمدن میں نکاح کا تصور ایمان کی حفاظت کا سب سےمؤثر ذریعہ ہے جس سےصالح تمدن کی بنا استوار ہوتی ہے۔ اور نکاح دراصل میاں بیوی کے درمیان وفاداری او رموددت کے ساتھ زندگی گزرانے کا ایک عہدو پیمان ہوتا ہے۔ نیز نسل نو کی تربیت کی ذمہ داری بھی نکاح کے ذریعہ میاں بیوی دونوں پر عائد ہوتی ہے ۔ کتاب وسنت میں حقوق الزوجین کے مسئلے کوبڑی جامعیت کے ساتھ پیش کیا گیا ہے، میاں بیوی کے درمیان تعلقات کے تمام ضروری اور نازک معاملات کوجس شرح وبسط کے ساتھ ادلیہ شرعیہ میں واضح کیا گیا ہے اس کا مقابلہ دنیاکی کوئی تہذیب یا مذہب نہیں کرسکتا۔ اسلام نے عورت کا جو دائرہ کار مقرر کیا ہے وہ نہ صرف عورت کے مقام کو متعین کرتا ہے بلکہ معاشرے میں عورت کو باعزت شخصیت کے روپ میں پیش کرتا ہے۔ زیر نظر کتاب "لڑکی شادی کیوں کرتی ہے؟ "محدث العصر حافظ عبداللہ محدث روپڑیؒ کا ایک جواب نامہ ہے جس کو کتابی قالب میں ڈھالا گیا ہے۔ موصوف حافظ ؒ کسی تعارف کی محتاج شخصیت نہیں عرب وعجم میں ان کی دینی خدمات کو کبھی نظر انداز نہیں کیا جاسکتا۔ موصوفؒ نے قرآن و حدیث کی روشنی میں مکمل شرح و بسط کے ساتھ وضاحت کی ہے۔ اللہ تعالیٰ ان کے درجات اور میزان حسنات میں اضافہ فرمائے اور ان کے لیے صدقہ جاریہ بنائے۔ آمین( عمیر)

  • pages-from-mohbbat-ki-kunjiyaan
    ڈاکٹر صلاح الدین سلطان

    اسلام نے جو معاشرتی نظام قائم کیا ہے اس کی بنیادآپسی بھائی چارہ میل جول اور باہمی محبت والفت پر ہے اور معاشرتی نظام میں بنیادی اہمیت زوجین یعنی میاں بیوی کے تعلقات پر ہے۔ میاں بیوی کے تعلقات کی درستگی ہی کے باعث کوئی بھی معاشرہ مضبوط ومستحکم رہ سکتا ہے۔ غرض مرد وعورت کے تعلقات کی بہتری کسی معاشرے کی صحت کی علامت اور اس کی ترقی کیلئے بنیادی اینٹ کی حیثیت رکھتی ہے اور جس معاشرہ میں ان دونوں کے تعلقات میں بگاڑ پیدا ہو جائے تو وہ معاشرہ کبھی پنپ نہیں سکتا بلکہ بہت جلد زوال وادبار کا شکار ہو کر بکھر جاتا ہے ۔اور اسلامی نقطہ نظر سے بھی اس کی تائید ہوتی ہے۔ چنانچہ بعض حدیثوں میں آتا ہے کہ میاں بیوی کے تعلقات میں اگر بگاڑ پیدا ہو جائے تو اس کی وجہ سے سب سے زیادہ خوشی شیطان کو ہوتی ہے جو اس تاک میں رہتا ہے۔ رسول اللہﷺ نے فرمایا کہ ابلیس اپنا تخت پانی پر بچھاتا ہے پھر اپنے کارندوں (چیلوں) کو بھیجتا ہے (تاکہ وہ لوگوں کو گمراہ کریں) تو ان میں سب سے زیادہ مقرب کارندہ وہ ہوگا جو سب سے زیادہ فتنہ گر ہو چنانچہ جب کو ئی کا رندہ (چیلہ) آکر اسے یہ رپوٹ دیتا ہے کہ اس نے فلاں فلاں کام کیا ہے تو کہتا ہے کہ تو نے کچھ نہیں کیا۔ پھر اُن میں سے کوئی ایک کارندہ آکر کہتا ہے کہ میں نے فلاں شخص اور اس کی بیوی کے درمیان جدائی پیدا کر دی ہے تو وہ اسے قریب کر لیتا ہے اور کہتا ہے کہ تو بہت اچھا ہے یعنی تو نے واقعی کچھ کام کیا ہے۔ زیر تبصرہ کتاب" محبت کی کنجیاں، مسلمان شوہر اور بیوی کے لئے ایک انمول تحفہ "محترم ڈاکٹر صلاح الدین سلطان صاحب کی تصنیف ہے، جس میں انہوں نے قرآن وحدیث کی روشنی میں ایسے اصول بیان فرمائے ہیں جن پر عمل کر کے میاں بیوی کے درمیان محبت پیدا ہو جاتی ہے۔ اللہ تعالی سے دعا ہے کہ وہ ان کی اس محنت کو اپنی بارگاہ میں قبول فرمائے اور ان کے میزان حسنات میں اضافہ فرمائے۔ آمین(راسخ)

  • pages-from-mehram-marad-aur-un-ki-zemma-dariyaan
    ام عبد منیب

    چونکہ عورت کمزور دل ، حساس طبیعت ،عجلت پسند اور سنی سنائی باتوں پر یقین کرلینے والی ہوتی ہے ۔ لہذا رب العالمین نے اس کی بھلائی کی خاطر اس کی زندگی کےتمام امور کو اس کے محرم مردوں کے حوالے کیا ہے تاکہ عیار وشاطر اور فتنہ پرور لوگوں کے داؤد پیچ سےمحفوظ ر ہے ۔ محرم مردوں کی حیثیت اپنے خاندان کی عورتوں کے لیے سر پرست ،کیفیل ،نگران ، ناظم المور اور بعض صورتوں میں مربی کی بھی ہے زیر نظر کتاب ’’ محرم مردوں کی ذمہ داریا ں ‘‘ معروف مبلغہ ،مصلحہ،مصنفہ اور کالم نگار محترمہ ام عبد منیب صاحبہ کی تحریر ہے ۔ جس میں انہوں نے محرم اور غیر محرم رشتوں کومختصراً بیان کرنے بعد کے   قرآن واحادیث کے دلائل کی روشنی میں محرم مردوں اور محرم خواتین کی ذمہ داریوں کو عام فہم انداز میں بیان کیا ہے ۔اللہ تعالی مصنفہ کی   اس کاوش کو اصلاح معاشرہ کا ذریعہ بنائے (آمین)محترمہ ام عبد منیب صاحبہ محمد مسعود عبدہ  کی اہلیہ ہیں ۔ موصوف   تقریبا 23 سال قبل جامعہ لاہور الاسلامیہ میں عصری علوم کی تدریس کرتے رہے اور99۔جے ماڈل ٹاؤن،لاہور میں بمع فیملی مقیم رہے ۔موصوف کے صاحبزادے محترم عبد منیب صاحب نے اپنے طباعتی ادارے ’’مشربہ علم وحکمت ‘‘ کی تقریبا تمام مطبوعا ت محدث لائبریری کے لیے ہدیۃً عنائت کی ہیں ۔اللہ تعالیٰ ان کی تمام مساعی جمیلہ کو قبول فرمائے۔(آمین) (م۔ا)

  • title-pages-masnoon-nikah-aur-shadi-biyah-ki-rasoomat
    حافظ صلاح الدین یوسف
    اسلامی معاشرت میں نکاح جس قدر سادہ تقریب تھی، امتدادِ زمانہ کے ساتھ یہ اسی قدر تکلفات سے بھرپور اور بد اخلاقی کا گہوارہ بنتی چلی جا رہی ہے۔ اسلام میں نکاح کے متعلق کیا ہی عمدہ احکامات اور تعلیمات ہیں لیکن ہم نے اپنی جہالت، جذبہ نمائش دولت اور رسوم و رواج کی پرستش کے باعث اس کی شکل بگاڑ دی ہے۔ اس موضوع پر معروف عالم دین اور محقق شہیر حافظ صلاح الدین یوسف نے مختلف اوقات میں جو مضامین لکھے یا استفسارات کے جواب تحریر کیے، انھیں اب ایک خاص علمی ترتیب سے اس کتاب میں جمع کر دیا گیا ہے۔ ان مضامین کا مطالعہ جہاں ایک طرف ہمیں سنت کے مطابق شادی اور نکاح کے مسائل سے آگاہ کرے گا وہاں ہمیں اس معاشرتی اور جاہلانہ رسوم سے چھٹکارے کا راستہ بھی دکھائے گا۔ اس اعتبار سے یہ کتاب معاشرے کے ہر فرد کی ضرورت اور اہل حکومت کی بے حسی پر ایک تازیانہ ہے۔ کتاب کے آخر میں گھریلو ماحول اور ازدواجی زندگی  پرمسرت اور خوش گوار بنانے کے لیے چند اصول اور نصیحتیں کی گئی ہیں اس کے علاوہ شادی سے متعلق چند ضروری اور مسنون دعائیں بھی کتاب کا حصہ ہیں۔ (ع۔م)

    نوٹ:
    محدث فورم میں اس کتاب پر تبصرہ کرنے کے لیے یہاں کلک کریں

  • pages-from-mangani-aur-mangaitar
    ام عبد منیب

    منگیتر منگنی سے ماخوذ ہے ۔ یہ لفظ مذکر اور مؤنث دونوں کے لیے استعمال ہوتا ہے ۔نکاح سے قبل لڑکے اور لڑکی کے والدین باہم یہ عہد کرتے ہیں کہ وہ ان دونوں کو رشتہ ازدواج میں منسلک کردیں گے ۔ اس عہد کا نام   ہمارے معاشرے میں منگنی ہے او رایسے لڑکے یا لڑکی کو ایک دوسرے کا منگیتر کہا جاتاہے ۔منگنی کابظاہر مقصد تو صرف اتنا ہے کہ لوگوں پریہ عیاں ہو جائے کہ فلاں کے بیٹے کی فلاں کی بیٹی سے   نکاح کی بات ٹھر گئی ہے ۔لہذا کوئی دوسرا پیغام بھیجنے یاایسا وعدہ لینے کی غلطی نہ کرے ۔لیکن دور حاضر میں اتنی پر تکلف ،مہنگی اور مشکل رسومات کا کوئی مقصد سمجھ میں نہیں آتا سوائے   ریا کاری یا نمود ونمائش کے۔ زیرنظر کتابچہ ’’ منگنی اور منگیتر ‘‘محترمہ ام عبد منیب صاحبہ کا مرتب شد ہ ہے۔جس میں انہوں نے منگنی کےسلسلے میں   ہمارے معاشرے میں   پائی جانے والی ہندوانہ رسومات کا ذکر تے ہو ئے   اس کے متعلق شرعی احکام ومسائل کودلائل کی روشنی میں   پیش کیا ہے۔ جس کے مطالعہ سے   مروجہ رسوم ورواج سے   بچا جاسکتا ہے۔۔ محترمہ ام عبد منیب صاحبہ نے اصلاحی موضوعا ت پر بیسیوں کتابچہ جات تحریر کیے ہیں جن میں سے بعض تو کتاب وسنت ویب سائٹ پر موجود ہیں باقی بھی عنقریب   اپلوڈ کردئیے جائیں گے۔ محترم عبد منیب صاحب (مدیر مشربہ علم وحکمت،لاہور) نے اپنے ادارے کی تقریبا تمام مطبوعات ویب سائٹ کے لیے ہدیۃً عنایت کی ہیں اللہ تعالی اصلاح معاشرہ کے لیے ان کی تمام مساعی کو قبول فرمائے ۔آمین( م ۔ا)

  • pages-from-mehar-bivi-ka-awwuleen-haq
    ام عبد منیب

    کارِ را زِ حیات میں مرد کے لیے عورت او رعورت کے لیے مرد کی احتیاج ایک جانی پہچانی حقیقت ہے ۔ اس احتیاج کو ہر معاشرے اور ہر قوم میں ایک اہم مقام حاصل ہے البتہ اس کے طریقے ہرایک کے ہاں اپنے اپنے ہیں ۔ اسلام میں نکاح مردوعورت کے درمیان عمر بھر کی رفاقت ،محبت اور مودت کے مضبوط عہد وپیمان کا نام ہے ، جسے نباہنے کےلیے مرد اور عورت کی نیت ،قول اور عمل تمام عمر مسلسل اور بھر پورکر دار کرتے ہیں۔ نکاح کے اس اہم مرحلے پر اسلام مرد پر عورت کا یہ حق عائد کرتا ہے کہ وہ اپنی معاشی حیثیت کے مطابق عورت کے سماجی مرتبہ کو ملحوظ رکھتے ہوئے ا س کے لیے احترام محبت اور مسرت کامظہر کوئی   نہ   کوئی ہدیہ پیش کرے اسی ہدیے کا نام مہر ہے۔ زیر نظر کتابچہ ’’ مہر بیو ی کا اولین حق ‘‘معروف کالم نگار اور مصنفہ کتب کثیرہ محترمہ ام عبد منیب صاحبہ کی تحریر ہے ۔ جس میں انہوں نے مہر کی شرعی حیثیت ، مہر کی مقدار ، مہر کی مختلف صورتیں ،مہر کس کی ملکیت،مہرکی اقسام وغیرہ کو عام فہم انداز میں بیان کیا ہے ۔اللہ تعالیٰ ان کی اس کاوش کو   قبول فرمائے اور عوام الناس کے لیے نفع بخش بنائے (آمین)۔ محترمہ ام عبد منیب صاحبہ محمد مسعود عبدہ  کی اہلیہ ہیں ۔ موصوف   تقریبا 23 سال قبل جامعہ لاہور الاسلامیہ میں عصری علوم کی تدریس کرتے رہے اور 99۔جے ماڈل ٹاؤن،لاہور میں بمع فیملی مقیم رہے ۔موصوف کے صاحبزادے محترم عبد منیب صاحب نے اپنے طباعتی ادارے ’’مشربہ علم وحکمت ‘‘ کی تقریبا تمام مطبوعا ت محدث لائبریری کے لیے ہدیۃً عنائت کی ہیں ۔اللہ تعالیٰ ان کی تمام مساعی جمیلہ کو قبول فرمائے۔(آمین) (م۔ا )

  • قاضی مجاہد الاسلام قاسمی

    اسلام ایک مکمل ضابطہ حیات اور دستور زندگی ہے۔اسلام نے ہمیں زندگی کے تمام شعبوں کے بارے میں راہنمائی فراہم کی ہے۔عبادات ہوں یا معاملات،تجارت ہو یا سیاست،عدالت ہو یا قیادت ،اسلام نے ان تمام امور کے بارے میں مکمل تعلیمات فراہم کی ہیں۔اسلام کی یہی عالمگیریت اور روشن تعلیمات ہیں کہ جن کے سبب اسلام دنیا میں اس تیزی سے پھیلا کہ دنیا کی دوسرا کوئی بھی مذہب اس کا مقابلہ نہیں کر سکتا ہے۔اسلامی تعلیمات نہ صرف آخرت کی میں چین وسکون کی راہیں کھولتی ہیں ،بلکہ اس دنیوی زندگی میں اطمینان ،سکون اور ترقی کی ضامن ہیں۔اسلام کی اس بے پناہ مقبولیت کا ایک سبب مساوات ہے ،جس سے صدیوں سے درماندہ لوگوں کو نئی زندگی ملی اور وہ مظلوم طبقہ جو ظالموں کے رحم وکرم پر تھا اسے اسلام کے دامن محبت میں پناہ ملی۔اسلام معاشرتی زندگی کے حوالے سے پاکیزہ تعلیمات اور روشن احکامات دیتا ہے، اور نکاح پر مبنی پاکیزہ زندگی گزارنے کی ترغیب دیتا ہے۔ زیر تبصرہ کتاب " نکاح میں شرط اور مشروط مہر،فقہ اسلامی کی روشنی میں " ایفا پبلیکیشنز، نئی دہلی کی شائع کردہ ہے، جس میں اسلامک فقہ اکیڈمی کے آٹھویں فقہی سیمینار مؤرخہ 22 تا 24 اکتوبر 1995ء  منعقدہ علی گڑھ مسلم یونیورسٹی  انڈیا میں پیش کئے گئے علمی، فقہی اور تحقیقی مقالات ومناقشات کے مجموعے کو جمع کر دیا گیا ہے۔ اللہ تعالی سے دعا ہے کہ وہ ایفا پبلیکیشنز والوں کی اس خدمت کو اپنی بارگاہ میں قبول فرمائے اور ان کے میزان حسنات میں اضافہ فرمائے۔آمین(راسخ)

  • title-pages-nikah-quiz-copy
    مریم خنساء

    عورت اور مرد فطری طور پر ایک دوسرے کے  بہترین محل ہیں،اور ان کے درمیان قربت یا ملاپ کی خواہش فطری عمل ہے۔جسے شرعی نکاح کی حدود میں لا کر مرد وزن کو محصن اور محصنہ کا درجہ حاصل ہوتا ہے۔نکاح ایک شرعی اور انتظامی سلیقہ ہے،لیکن زوجیت کا اصل مقصد باہمی سکون کا حصول ہے۔اور اگر زوجین کے درمیان سکون حاصل کرنے یا سکون فراہم کرنے کی تگ ودو نہیں کی جاتی تو اللہ تعالی کو ایسی زوجیت ہر گز پسند نہیں ہے۔ اسلام معاشرتی زندگی کے حوالے سے پاکیزہ تعلیمات اور روشن احکامات دیتا ہے، اور نکاح پر مبنی پاکیزہ زندگی گزارنے کی ترغیب دیتا ہے۔ زیر تبصرہ کتاب" نکاح کوئیز " محترمہ مریم خنساء صاحبہ کی تصنیف ہے جس میں انہوں نکاح کے مسائل کو سوالا جوابا مرتب کر کے ایک خوبصورت مجموعہ تیار کر دیا ہے۔اس کتاب میں انہوں نے اہمیت نکاح، پیغام نکاح، صحت نکاح کے لئے ضروری امور، حرام اقسام نکاح، عورت کی شرائط کا جواز، مسنون رسومات نکاح، غیر مسنون رسومات نکاح، نکاح میں شامل افراد کے فرائض، دلہا کے فرائض، دلہن کے فرائض اور حقوق الزوجین جیسے  مسائل تفصیل سے بیان کئے  ہیں۔ اللہ تعالی سے دعا ہے کہ وہ مولف کی اس کاوش کو قبول فرمائے اوران کے میزان حسنات میں اضافہ فرمائے۔آمین(راسخ)

ای میل سبسکرپشن

محدث لائبریری کی اپ ڈیٹس بذریعہ ای میل وصول کرنے کے لئے ای میل درج کر کے سبسکرائب کے بٹن پر کلک کیجئے۔

 

ایڈوانس سرچ

موضوعاتی فہرست

رجسٹرڈ اراکین

آن لائن مہمان

محدث لائبریری پر اس وقت الحمدللہ 198 مہمان آن لائن ہیں ، لیکن کوئی رکن آن لائن نہیں ہے۔

ایڈریس

       99-جے ماڈل ٹاؤن،
     نزد کلمہ چوک،
     لاہور، 54700 پاکستان

       0092-42-35866396، 35866476، 35839404

       0092-423-5836016، 5837311

      KitaboSunnat@gmail.com

      بنک تفصیلات کے لیے یہاں کلک کریں