• pages-from-islam-aur-nasli-imtiaz
    ڈاکٹر خالد علوی

    نسلی و قومی امتیاز کے تصورات دنیا کی ہر قوم میں پائے جاتے ہیں۔ ہر کوئی اپنی قوم، اپنے رنگ، اپنی نسل اور اپنے نظریے کو دوسروں سے برتر سمجھتا ہے۔ وہ یہ خیال کرتا ہے کہ برتری صرف اس کے ہاں پائی جاتی ہے اور باقی سب کمتر ہیں۔ یہی تفاخر اور غرورآگے چل کر نفرتوں، چپقلشوں ، مقابلوں اور جنگوں کی صورت اختیار کر جاتا ہے جن کے نتیجے میں دنیا کا امن برباد ہوتا ہے۔ زیادہ دور کیوں جائیے، ابھی پچاس سال پہلے ہی اسی نسلی غرور کے نتیجے میں ہونے والی جنگ کو یاد کیجئے جس کے نتیجے میں کروڑوں انسان لقمہ اجل بن گئے تھے۔ صرف یہ خیال نہ کیجئے کہ یہ غرور صرف غیرمسلموں کے ہاں ہی پایا جاتا ہے، حقیقت یہ ہے کہ مسلمان بھی اس باطل تصور کا اتنا ہی شکار ہوئے ہیں جتنا کہ دوسری اقوام۔ ایسا کیوں ہے؟حالانکہ اسلام نے ان امتیازات کا خاتمہ کیا ہے اور تمام مسلمانوں کو مساوات کا درس دیا ہے۔ نبی کریمﷺ نے اپنے مشہور خطبہ حجۃ الوداع کے موقع پر ارشاد فرمایا: ’’تمام لوگ آدم کی اولاد ہیں اور اللہ تعالیٰ نے آدم کو مٹی سے پیدا کیا تھا۔ اے لوگو! سنو تمہارا رب ایک رب ہے، کسی عربی کو عجمی پر کوئی فوقیت نہیں اور نہ ہی کسی عجمی کو کسی عربی پر کوئی فضیلت ہے۔ نہ کوئی کالا کسی گورے سے بہتر ہے اور نہ گورا کالے سے۔ فضیلت صرف اور صرف تقویٰ کے سبب ہے۔‘‘ زیر تبصرہ کتاب "اسلام اور نسلی امتیاز" پروفیسر ڈاکٹر خالد علوی صاحب کی تصنیف ہے، جسے انٹر نیشنل اسلامک یونیورسٹی اسلام آباد کی دعوہ اکیڈمی نے شائع کیا ہے۔ اس کتاب میں انہوں نے نسلی امتیاز کو فروغ اسلام کی راہ میں ایک رکاوٹ قرار دیا ہے اور اسے خلاف اسلام ثابت کیا ہے۔ اللہ تعالی سے دعا ہے کہ وہ مولف کی اس عظیم خدمت کو اپنی بارگاہ میں قبول فرمائے اور ان کے میزان حسنات میں اضافہ فرمائے۔ آمین(راسخ)

  • pages-from-bahu-aur-damaad-par-susraal-key-haqooq
    ام عبد منیب

    اسلام کے معاشرتی نظام میں خاندان کواساسی حیثیت حاصل ہے ۔خاندان کااستحکام ہی تمدن کے کےاستحکام کی علامت ہے ۔ یہی وجہ ہےکہ اسلام کے نصابِ حیات قرآن وحدیث میں خاندان کی تشکیل وتعمیر کے لیے واضح احکام وہدایات ملتی ہیں۔ قرآنِ پاک میں سورۃ النساء اسی موضوع کی نمائندگی کرتی ہے ۔ نکاح وہ تقریب ِ باوقار ہے جس سےخاندان کےاساسی ارکان مرد وعورت کےسسرال کارشتہ ظہور میں آتاہے۔اسلام انسانی رشتوں میں باہمی محبت،احترام،وفا،خلوص،ہمدردی، ایثار ،عدل،احسان، اور باہمی تعاون کادرس دیتا ہے میکے ہوں یا سسرال دونوں اپنی جگہ محترم ہیں دونوں اانسان کی بنیادی ضرورت نکاح کےاظہار کا نام ہیں ۔دونوں ہر گھر کی تنظیمی عمارت کابنیادی ستون ہیں۔مرد وعورت پر سسرال کے حقوق کی ادائیگی اسی طرح یکساں فرض ہے جس طرح ان دونوں کی اپنی ذات کے حقوق ایک دوسرے پر یکساں فرض ہیں اگر دونوں میں سے کوئی ایک چاہتا ہے کہ اس کاشریکِ زندگی اس کے اقربا سے اچھا سلوک کرے تو اپنے زوج کے اقرباء سےاچھا سلوک کرنا اس کا اپنا بھی فرض ہے۔ زیر نظر کتابچہ’’بہو اور دماد پر سسرال کے حقوق‘‘محترمہ ام عبد منیب صاحبہ کی تحریر ہے۔اس میں انہوں نے قرآن وحدیث سےسسرال کے حقوق وفرائض کے بارے میں جو تفصیلات یا اشارات ملتے ہیں ان کو یک جا کرنے کی کوشش ہے۔ تاکہ وہ مربو شکل میں سامننے آجائیں ۔قرآن وحدیث وہ پیمانہ ہےجس پر ہم اپنی زندگی کی عمارت استوار کرنے کے پاپند ہیں۔اللہ تعالیٰ مصنفہ کی کاوش کو قبول فرمائے اور عوام الناس کے لیے فائدہ مند بنائے۔آمین (م۔ا)

  • pages-from-devar-aur-behnoi
    ام عبد منیب

    دیور اور بہنوئی یہ دونوں رشتے بھی بڑے عجیب ہیں۔ایک رشتہ بہن کا خاوند ہے تو دوسرا خاوند کا بھائی ہے۔خاوند اور بہن دونوں ہی انتہائی قریبی رشتے ہیں۔اس لئے دیور اور بہنوئی کی اہمیت بھی مسلم ہے۔موجودہ معاشرے میں ان سے تعلقات کی نوعیت جو بھی ہو دونوں میں ایک قدرِ مشترک ضرور ہے کہ سالی کا بہنوئی سے اور دیور کا بھابھی سے ہنسی ،مذاق اور بے تکلفی اور بعض اوقات تو یہ مذاق بے ہودگی اور بے حیائی تک جا پہنچتا ہے۔اسلامی معاشرت میں باہمی ادب واحترام اور شائستگی کو اولیت حاصل ہے،اس لئے بیہودہ گفتگو یا غیر شائستہ مذاق کی کسی رشتے کے ساتھ کوئی گنجائش نہیں ہے۔ زیر تبصرہ کتاب " دیور اور بہنوئی"معروف مبلغہ داعیہ،مصلحہ،مصنفہ کتب کثیرہ اور کالم نگار محترمہ ام عبد منیب صاحبہ کی تصنیف ہے ۔ جس میں انہوں نےدیور اور بہنوئی کے ساتھ تعلقات کی حدود وقیود اور ان سے شرعی پردے کی اہمیت وضرورت پر گفتگو کی ہے ۔کیونکہ وہ قریبی رشتہ دار ہونے کے باوجود اس عورت کے لئے نامحر م ہی رہتے ہیں ،جن سے پردہ کرنا از حد ضروری اور فرض ہے۔اللہ نے ان کو بڑا رواں قلم عطا کیا تھا،انہوں نے سو کے قریب چھوٹی بڑی اصلاحی کتب تصنیف فرمائی ہیں۔ محترمہ ام عبد منیب صاحبہ محمد مسعود عبدہ  کی اہلیہ ہیں۔ موصوف تقریبا 23 سال قبل جامعہ لاہور الاسلامیہ میں عصری علوم کی تدریس کرتے رہے اور 99۔جے ماڈل ٹاؤن میں بمع فیملی رہائش پذیر رہے ۔موصوف کے صاحبزادے محترم عبد منیب صاحب نے اپنے طباعتی ادارے ’’مشربہ علم وحکمت ‘‘ کی تقریبا تمام مطبوعا ت محدث لائبریری کے لیے ہدیۃً عنائت کی ہیں ۔اللہ تعالیٰ ان کی تمام مساعی جمیلہ کو قبول فرمائے۔ آمین(راسخ)

  • pages-from-shadi-shohar-aur-singhaar
    ام عبد منیب

    بننا سنورنا عورت کی فطرت میں داخل ہے،اور اس کے لئے یہ کام ہر معاشرے میں جائز سمجھا گیا ہے۔لیکن مصیبت یہ ہے کہ بننے سنورنے کے ساتھ ہی عورت میں یہ خواہش شدت سے انگڑائیاں لینے لگتی ہے کہ کوئی دوسرا شخص اس کے بننے سنورنے کو دیکھے اور پھر اس کے سراپے حسن ،لباس اور زیور وغیرہ کی تعریف بھی کرے۔عورت کی اس فطری خواہش کو اللہ تعالی نے اس طرح لگام دی ہے کہ ہر شادی شدہ عورت کو حکم دیا ہے کہ وہ اپنے شوہر کے بن سنور کر رہے ،تاکہ شوہر اس کے حسن ونزاکت سے لطف اندوز ہو ،اس کو دیکھ کر مسرور ہو اور اس کے دل میں بیوی کی محبت دو چند ہو جائے۔ زیر تبصرہ کتاب " شادی ،شوہر اور سنگھار"معروف مبلغہ داعیہ،مصلحہ،مصنفہ کتب کثیرہ اور کالم نگار محترمہ ام عبد منیب صاحبہ کی تصنیف ہے ۔ جس میں انہوں نےعورت کے لئے بننے سنورنے کی حدود وقیود اور شرعی پردے کی اہمیت وضرورت پر گفتگو کی ہے ۔اللہ نے ان کو بڑا رواں قلم عطا کیا تھا،انہوں نے سو کے قریب چھوٹی بڑی اصلاحی کتب تصنیف فرمائی ہیں۔ محترمہ ام عبد منیب صاحبہ محمد مسعود عبدہ  کی اہلیہ ہیں ۔ موصوف   تقریبا 23 سال قبل جامعہ لاہور الاسلامیہ میں عصری علوم کی تدریس کرتے رہے اور 99۔جے ماڈل ٹاؤن میں بمع فیملی رہائش پذیر رہے ۔موصوف کے صاحبزادے محترم عبد منیب صاحب نے اپنے طباعتی ادارے ’’مشربہ علم وحکمت ‘‘ کی تقریبا تمام مطبوعا ت محدث لائبریری کے لیے ہدیۃً عنائت کی ہیں ۔اللہ تعالیٰ ان کی تمام مساعی جمیلہ کو قبول فرمائے۔ آمین(راسخ)

  • pages-from-laiesa-azzakar-o-kal-unsaa
    ام عبد منیب

    آج سے تقریبا تین سو برس قبل پورپ میں جدید تحریک نسواں کا آغاز ہوا۔ جس میں یہ موقف اختیار کیا گیا کہ مرد اور عورت میں سماجی ذمہ داریوں اور تخلیقی صلاحیتوں کےلحاظ سے کوئی فرق نہیں ۔اگر مرد صدر یا وزیر اعظم بن سکتا ہے تو عورت بھی بن سکتی ہے ۔اگر مرد پر معاشی بوجھ ڈالا گیا ہے تو عورت بھی یہ بوجھ اٹھا سکتی ہے ۔اگر مرد جہاز اڑا سکتا ہے ،غوطہ زنی کر سکتا ہے ، مشینیں ٹھیک کر سکتا ہے ،کرکٹ ،اسکوائش ،پولو،ہاکی ،جوڈو کراٹے کھیل سکتاہے ،اگر مرد کار چلانے ،گھوڑے دوڑانے اور خود اپنی ٹانگوں کے بل دوڑنے کا مقابلہ کر سکتا ہے توپھر عورت پر ان تمام پیشوں اور مشغلوں کےدروازے بند کیوں؟اور جب عورت بھی مردکی طرح انسان ہے توپھر اس پر ایسی معاشرتی پابندیاں کیوں عائد کی گئی ہیں۔ لیکن حقیقت یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے گومرد اور عورت کو ایک ہی نوع قرار دیا ہے لیکن صنفی لحاظ سے دونوں میں فرق رکھا ہے۔ یہ فرق طبی،طبعی ،سماجی نفسیاتی ،جذباتی غرض ہر لحاظ سے ہے اور اس فرق کو دنیا کاکوئی انسا ن ختم نہیں کرسکتا۔ اللہ تعالیٰ کا یہ ارشاد:’’َلَيْسَ الذَّكَرُ كَالْأُنْثَى‘‘اس کی واضح دلیل ہے۔ زیر نظر کتاب محترمہ ام عبدمنیب صاحبہ نے اللہ تعالیٰ کے پیدا کردہ اس تخلیقی فرق ہی کی تائید میں مرتب کی ہے ۔کتاب کے پہلے حصے میں مغربی معاشرے کے دانشووروں ،فلسفیوں، ڈاکٹروں، سائنس دانوں اور ماہر نفسیات کی آراء پیش کی گئی ہیں۔ نیز عورت اور مرد میں جسمانی اور عادات کے لحاظ سے جس نوعیت کابھی فرق پایا جاتا ہے اسے بیان کیا گیا ہے ، اس کے بعد بتایا گیا ہے کہ قرآن وسنت میں تخلیقی فرق کہاں کہاں ہے او ر اس تخلیقی فرق کی وجہ سے دونوں کی ذمہ داریوں میں بھی فرق ہے اور ذمہ داریوں کے فرق کی وجہ سے دونوں کے لیے شرعی احکام میں بھی فرق رکھا گیا ہے۔اور یہ بھی بیان کیا گیا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے عام انسانی حقوق کے لحاظ سے دونوں کوبرابر کی سطح پررکھا ہے۔ نیز ایمان وعمل او رجزا وسزا کے لحاظ سےبھی دونوں کے لیے برابری رکھی ہے لیکن دونوں کی ذمہ داریاں ایک دوسرے سے قطعی مختلف ہیں۔اللہ تعالیٰ مصنفہ کی اس کاوش کو عوام الناس کے لیے نفع بخش بنائے ۔ اور ہمارا مسلمان معاشرہ اس حقیقت سے اگاہ ہو جائے کہ مرد اور عورت کی ذمہ داریاں مختلف ہیں، انہیں ایک جیسی ذمہ داریاں نہیں دی جاسکتیں۔(م۔ا)

  • pages-from-muhabbatain-aur-ulfatain
    سراج الدین ندوی

    دنیا میں بے شمار مصلحین پیدا ہوئے ۔ بہت سے اصلاحی اورانقلابی تحریکیں اٹھیں مگر ان میں سے ہر ایک نے انسان کے خارجی نظام کو تو بدلنے کی کوشش کی لیکن اس کے اندرون کو نظر انداز کردیا۔ مگر نبی کریم ﷺ کی تحریک میں شامل ہونے والا انسان باہر کے ساتھ ساتھ اندر سے بھی بدل گیا اور کلیۃً بدل گیا۔جو لوگ آپﷺ کی دعوت پر لبیک کہتے گئے وہ آپ کی تربیت پاکر کندن بنتے گئے۔ اسلام کی آغوش میں آنے والے ہر شخص کے اندر ایسا کردار نمودار ہوا جس کی نظیر تاریخِ انسانی پیش کرنے سے قاصر ہے۔ تمام مخلوقات میں سے انسان ہی وہ خوش نصیب مخلوق ہے جس کی ہدایت اور تربیت کےلیے ایک طرف وحی والہام کی تعلیمات فراہم کی گئیں ، تو دوسری طرف ان تعلیمات کا ایک نمونہ کامل او رجامع اسوہ انبیاء ورسل کی صورت میں پیش کیا گیا۔ اورانسان ایک ایسا حیوانِ ناطق ہے جو تربیت کے مراحل سے گزر کر اشرف المخلوقات اوراخلیفۃ اللہ فی الارض بن سکتا ہے ۔ بصورت دیگر وہ جانوروں سے بدتر خصائل ورزائل کاشکار ہو کر قرآنی الفاظ میں اسفل السافلین کے زمرے میں شمار ہوتا ہے۔ خاتم النبین محمد ﷺ انسانیت کی اصلاح وتربیت کے لیے دائمی نمونۂ عمل کےبطور مبعوث کیے گئے توقرآن مجید نے ان کےحق میں ’’لقد کان لکم فی رسول اللہ اسوۃ حسنۃ‘‘ کی حجت پیش کی۔ تزکیہ وتربیت فرائض نبوت میں سے ہے ۔ یہی بات ہے کہ سیرت پیغمبرﷺ میں کسی ریاست کےاجتماعی معاملات کی درستی سے لے کر انفرادی آداب کی تلقین اور آموزش شامل ہے۔ اسی تربیت کے نتیجے میں عقائد صحیحہ اور اعمال صالحہ کی وہ لازوال نعمت میسر آتی ہے جو دین ودنیا میں فوز وفلاح کاسب سے بڑا سامان ہے۔ زیر نظر کتاب ’’محبتیں الفتیں‘‘ جناب مولانا سراج الدین ندوی کی تصنیف ہے ۔جس میں نے انہو ں تاریخ وسیرت کی کتب کا گہرائی سے مطالعہ کر کے نبی کریم ﷺکی آغوش میں جو کردار پروان چڑھے او ران نکات واصولوں کوپیش کیا ہے جو رسول اللہﷺ کردادر سازی میں پیش نظر رکھتے تھے۔ اور جسے رسول اللہ ﷺ نے عملی اعتبار سے صحابہ کرام ﷢ کے تزکیہ وتربیت کے لیے استعمال کیا تو وہ خیر القرون کے مثالی انسان بن گئے۔ اس کتاب کا مطالعہ اسلامی معاشرے کے ہر فرد کےلیے ضروری ہے کہ تاکہ رسول اللہﷺ کے اصولِ تربیت کی روشنی میں نئی نسل کی اصلاح وتربیت کا عظیم کام انجام دیا جاسکے ۔اللہ تعالیٰ اس کتاب کو تمام اہل اسلام کےلیے نفع بخش بنائے او ر اللہ تعالیٰ جزائے خیر عطافرمائےمحترم   محمد طاہر نقاش ﷾ کو اور ان کے علم وعمل ،کاروبار میں برکت او ران کو صحت وتندرستی والی زندگی عطائے فرمائے کہ انہوں نے اپنے ادارے’’ دار الابلاغ‘‘ کی مطبوعات مجلس التحقیق الاسلامی کی لائبریری اور کتاب وسنت ویب سائٹ پر پبلش کرنے کے لیے   ہدیۃً عنائت کی ہیں۔ آمین(م۔ا)

  • pages-from-masooliat-key-taqaazey-2
    ام حماد

    مسئولت کوئی عہدہ ،کرسی یامفادات کا منصب نہیں ہے جیسا کہ دنیادار عام تنظیموں ،پارٹیوں،گروپوں،گرہوں کے صدر ناظم ،چیئر مین یا سربراہ ہوا کرتے ہیں۔ عرف عام میں دنیا کے مختلف کاموں کوسرانجام دینے کےلیے جوذمہ داریاں تفویض کی جاتی ہیں انہیں مسؤلیت کہا جاتا ہے۔ یعنی ایسے کام جن کے بارے سوال کیا جائے گا۔اور دنیا وآخرت دونوں میں اس کےبارے میں احتساب ہوگا۔ ان مسؤلیتوں کو نبھانے والے مسؤل کہلاتے ہیں۔ یعنی جن سے دنیا کی ذمہ داریوں کونبھانے کے حوالے سے پوچھ ہوگی۔ انہیں اس کے متعلق جواب دینا ہوگا۔جیسا کہ ارشاد نبوی ہے: ’’ کہ تم میں سے ہر ایک نگراں ہے اور اس کے ماتحتوں کے متعلق اس سے سوال ہو گا۔ امام نگران ہے اور اس سے سوال اس کی رعایا کے بارے میں ہو گا۔ انسان اپنے گھر کا نگراں ہے اور اس سے اس کی رعیت کے بارے میں سوال ہو گا۔ عورت اپنے شوہر کے گھر کی نگراں ہے اور اس سے اس کی رعیت کے بارے میں سوال ہو گا۔ خادم اپنے آقا کے مال کا نگراں ہے اور اس سے اس کی رعیت کے بارے میں سوال ہو گا۔ ابن عمر ر نے فرمایا کہ میرا خیال ہے کہ آپ ﷺ نے یہ بھی فرمایا کہ انسان اپنے باپ کے مال کا نگراں ہے اور اس کی رعیت کے بارے میں اس سے سوال ہو گا اور تم میں سے ہر شخص نگراں ہے اور سب سے اس کی رعیت کے بارے میں سوال ہو گا۔‘‘صحیح بخاری:893) اس حدیث میں مذکورہ ذمہ داری اپنے عموم میں زندگی کے تمام شعبہ جات پر مشتمل ہے۔جو مسؤل اپنی ذمہ داریاں صحیح معنوں میں نبھائیں گے دنیا وآخرت میں بہت زیادہ اجروثواب کے ساتھ سرخرو ہوجائیں گے اور جو اس سے ناجائز فائدہ اٹھانے کی کوشش کریں گے۔ ان ذمہ داریوں کو عہدے، کرسی، مناصب ، اور شہرت کا ذریعہ سمجھ لیں گے تو یہی مسؤلیت ان کے گلے کا پھندہ بن جائے گی ،وبال بن کر اسے برباد کردے گی اور نیکیوں کو تباہ کر دے گی۔ زیر نظر کتابچہ ’’ مسؤلیت کے تقاضے ‘‘ محترمہ ام حماد صاحبہ کی اصلاح وتربیت کے موضوع ان کی ایسی تحریر ہے کہ جس سے خواتین وحضرات بھر پور فائدہ اٹھا سکتے ہیں۔ موصوفہ نے اس کتابچے میں وہ ساری صفات بیان کردی ہیں جو ایک مومن،مسلمان داعی میں ہونی چاہیئں۔ اللہ تعالیٰ مصنفہ کی دعوتی وتبلیغی خدمات کو قبول فرمائے اور اس تحریر کو تمام مسؤلین کے لیے نفع بخش بنائے ۔آمین (م۔ا )

  • title-pages-masturat-k-masail-copy
    محمد یونس خلیق

    دین کے اکثر مسائل مردوں اور عورتوں کے درمیان مشترکہ ہیں اور بعض مسائل ایسے ہیں جو عورتوں کے ساتھ خاص ہیں۔جن کو جاننا خواتین کے لئےانتہائی ضروری ہے تاکہ وہ ان پر عمل پیرا ہو کراسلام کے مطابق اپنی زندگی گزار سکیں۔لیکن افسوس کی بات یہ ہے کہ عورتیں نہ تو خود مطالعہ کرتی ہیں اور نہ ہی کسی مستند عالم دین سے مسئلہ دریافت کرنے کی تکلیف گوارہ کرتی ہیں۔بعض باتیں بڑی شرم وحیا کی ہوتی ہیں جن کے دریافت کرنے میں حجاب محسوس ہوتا ہے لیکن ایسی باتیں جب دین اور شریعت سے متعلق ہوں تو ان کے دریافت کرنے میں شرم نہیں کرنی چاہئے۔اسی لئے کہا جاتا ہے کہ شرع میں شرم نہیں ہے۔ زیر تبصرہ کتاب "مستورات کے مسائل"محترم محمد یونس خلیق صاحب کی تصنیف ہے، جس میں انہوں نے انہی شرم وحیا والے عورتوں کے مخصوص مسائل کو بیان کیا ہے تاکہ مسلمان خواتین ان مخصوص مسائل کا مطالعہ کر کے ان پر عمل پیرا ہو سکیں۔اللہ تعالی سے دعا ہے کہ وہ مولف کی اس محنت کو اپنی بارگاہ میں قبول  ومنطورفرمائے اور ان کے میزان حسنات میں اضافہ فرمائے۔آمین(راسخ)

  • untitled-1
    حافظ ذوالفقارعلی
    بطور مسلمان ہمارا فرض ہے کہ ہم اس چیز کو اہمیت دیں کہ ہمارے پیٹ میں جانے والا لقمہ حلال ذرائع سے حاصل شدہ ہے یا حرام ذرائع سے۔ کتاب و سنت میں نہایت شد و مد کے ساتھ حلال رزق کمانے اور کھانے پر زور دیا گیا ہے۔ لیکن آج ہم دیکھتے ہیں کہ بہت سے لوگ معاش و تجارت میں حلال و حرام کی تمیز روا  نہیں رکھتے۔ حافظ ذوالفقار معیشت و تجارت اور بینکاری کے موضوع پر ید طولیٰ ٰرکھتے ہیں۔ زیر مطالعہ کتاب ان کی علمیت کا منہ بولتا ثبوت ہے۔ جس میں معیشت و تجارت سے متعلق نہایت سادگی کےساتھ بہت سے موضوعات آسان زبان میں ایک عام قاری کے لیے بیان کر دئیے گئے ہیں۔ اس کتاب کے مطالعہ سےعوام الناس اور کاروباری طبقہ دین قیم کی پاکیزہ اور روشن تعلیمات سے آگاہ ہوگا۔ اور یقیناً خرید و فروخت کے معاملات ان کے مطابق ادا کر سکے گا۔(ع۔ م)

    نوٹ:
    محدث فورم میں اس کتاب پر تبصرہ کرنے کے لیے یہاں کلک کریں

  • pages-from-mangani-aur-mangaitar
    ام عبد منیب

    منگیتر منگنی سے ماخوذ ہے ۔ یہ لفظ مذکر اور مؤنث دونوں کے لیے استعمال ہوتا ہے ۔نکاح سے قبل لڑکے اور لڑکی کے والدین باہم یہ عہد کرتے ہیں کہ وہ ان دونوں کو رشتہ ازدواج میں منسلک کردیں گے ۔ اس عہد کا نام   ہمارے معاشرے میں منگنی ہے او رایسے لڑکے یا لڑکی کو ایک دوسرے کا منگیتر کہا جاتاہے ۔منگنی کابظاہر مقصد تو صرف اتنا ہے کہ لوگوں پریہ عیاں ہو جائے کہ فلاں کے بیٹے کی فلاں کی بیٹی سے   نکاح کی بات ٹھر گئی ہے ۔لہذا کوئی دوسرا پیغام بھیجنے یاایسا وعدہ لینے کی غلطی نہ کرے ۔لیکن دور حاضر میں اتنی پر تکلف ،مہنگی اور مشکل رسومات کا کوئی مقصد سمجھ میں نہیں آتا سوائے   ریا کاری یا نمود ونمائش کے۔ زیرنظر کتابچہ ’’ منگنی اور منگیتر ‘‘محترمہ ام عبد منیب صاحبہ کا مرتب شد ہ ہے۔جس میں انہوں نے منگنی کےسلسلے میں   ہمارے معاشرے میں   پائی جانے والی ہندوانہ رسومات کا ذکر تے ہو ئے   اس کے متعلق شرعی احکام ومسائل کودلائل کی روشنی میں   پیش کیا ہے۔ جس کے مطالعہ سے   مروجہ رسوم ورواج سے   بچا جاسکتا ہے۔۔ محترمہ ام عبد منیب صاحبہ نے اصلاحی موضوعا ت پر بیسیوں کتابچہ جات تحریر کیے ہیں جن میں سے بعض تو کتاب وسنت ویب سائٹ پر موجود ہیں باقی بھی عنقریب   اپلوڈ کردئیے جائیں گے۔ محترم عبد منیب صاحب (مدیر مشربہ علم وحکمت،لاہور) نے اپنے ادارے کی تقریبا تمام مطبوعات ویب سائٹ کے لیے ہدیۃً عنایت کی ہیں اللہ تعالی اصلاح معاشرہ کے لیے ان کی تمام مساعی کو قبول فرمائے ۔آمین( م ۔ا)

  • title-page-waldain-hamti-jannat
    ڈاکٹر فرحت ہاشمی
    کائنات میں امن وسکون اوراطمینان وچین اسی صورت میں ہوسکتاہے جب ہرانسان اپنی ذمہ داری پوری کرے اوردوسروں کے حقوق اداکرے۔اسلام نے حقوق العبادپربہت زوردیاہے ۔حقوق العبادمیں سرفہرست والدین کےحقوق ہیں ۔حقوق والدین کی اہمیت کااندازہ اس بات سے لگایاجاسکتاہے کہ قرآن مجیدمیں اللہ سبحانہ وتعالی نے اپنی عبادت کے بعدجن ہستیوں کی اطاعت اورفکرگزاری کاحکم دیاہے وہ ہمارے والدین ہیں۔لیکن عام طورپردیکھاگیاہے کہ والدین شکوہ کرتے نظرآتے ہیں کہ بچے بات نہیں سنتے ،بچے بات نہیں مانتے ،گویاوہ والدین کے حقوق ادانہیں کررہے۔زیرنظرکتاب میں قرآن وحدیث کی روشنی میں والدین کے حقوق اوران کےمقام ومرتبہ کےبارےمیں انتہائی مؤثراسلوب میں بحث کی گئی ہے ،جوکہ لائق مطالعہ ہے۔دعاہے کہ اللہ تعالی ہمیں والدین کاادب اوران کی صحیح معنوں میں خدمت کرنے کی توفیق عطافرمائے ۔آمین



ای میل سبسکرپشن

محدث لائبریری کی اپ ڈیٹس بذریعہ ای میل وصول کرنے کے لئے ای میل درج کر کے سبسکرائب کے بٹن پر کلک کیجئے۔

 

ایڈوانس سرچ

موضوعاتی فہرست

رجسٹرڈ اراکین

آن لائن مہمان

محدث لائبریری پر اس وقت الحمدللہ 408 مہمان آن لائن ہیں ، لیکن کوئی رکن آن لائن نہیں ہے۔

ایڈریس

       99-جے ماڈل ٹاؤن،
     نزد کلمہ چوک،
     لاہور، 54700 پاکستان

       0092-42-35866396، 35866476، 35839404

       0092-423-5836016، 5837311

      KitaboSunnat@gmail.com

      بنک تفصیلات کے لیے یہاں کلک کریں