دکھائیں کتب
  • اس بات میں کوئی شک نہیں کہ رسول اکرمﷺ کی حیات طیبہ کے بلاشبہ بے شمار پہلو ہیں اور بنی نوع انسان کی ہدایت اورراہنمائی کے اعتبار سےہر پہلو اپنے اندر بحر بیکراں رکھتا ہے۔ دعوت اورتبلیغ کے اعتبار سے  آپ ﷺ کی سیرت طیبہ کا سب سے نمایاں اور امتیازی پہلو آپ ﷺ کا اپنی امت کےلیے  رحمت بن کر تشریف لانا ہے ۔ نبوت سے پہلے بھی آپ ﷺ یقینا لوگوں کے لیے سراپا رحمت تھے  مکہ میں صادق اور امین کے لقب سے مشہور ہونا اس بات کا واضح ثبوت ہے۔  منصب رسالت پر سرفراز ہونے کےبعد رسول اللہﷺ نےاپنی امت تک دین پہنچانے کےلیے جس صبر و تحمل، بردباری اور شفقت ورحمت کاطرزِ عمل اختیار فرمایا  وہ آپ ﷺ کی سیرت طیبہ کا ایک ایسا عظیم الشان پہلو ہے جس کی رفعتوں اور بلندیوں کا احاطہ کرنا کسی مؤرخ و سیرت نگار کے بس کی بات نہیں۔ نبی کریمﷺ نے اپنی امت تک دین پہنچانے کےلیے بہت سی تکالیف کا سامنا کیا مصائب و آلائشوں کو برداشت کیا۔ آپ ﷺ نے تو اپنا فرض اورتبلیغ دین کی ذمہ داری امت محمدیہ تک بڑے احسن اور کامل انداز سے نبھا دی تھی اب امت محمدیہ کا پر یہ فرض اور واجب ہے کہ وہ آپؐ کی اتباع کو لازم پکڑے اور آپؐ کی تعلیمات کو اپنا حرز جان بنائے۔ اس کے علاوہ اللہ رب العزت نے آپﷺ پر درود و سلام کی تلقین بھی فرمائی ہے اپنے کلام مجید میں ارشاد ربانی ہے"یاایھا الذین اٰمنوا صلوا علیہ وسلموا تسلیما"(الاحزاب)۔ زیر نظر کتاب"احسن الکلام فی الصلوۃ والسلام علی النبی خیر الانام" مولانا عبد الغفور اثری کے خطبات کو کتابی شکل دی گئی ہے۔ جس میں مولانا صاحب نے آپ ﷺ پر درود و سل...

  • 2 الصلوۃ والسلام علی رسول اللہ (منگل 20 اکتوبر 2009ء)

    مشاہدات:18608

    نبی کریمﷺپر درود وسلام، اللہ تعالی کا حکم ہے جس کا انکار یا استخفاف کفر ہے اور اس کا اہتمام رسول اللہ ﷺسے محبت اور والہانہ تعلق ووابستگی کا ذریعہ بھی ہے اور اس کی علامت اور دلیل بھی- لیکن وہ  درود وسلام کون سا اور اس کا طریقہ کیا ہے جس کا حکم مسلمانوں کو دیا گیا  ہے اور جو محبت رسول کا ذریعہ بھی ہے اور اس کی علامت بھی؟ '' الصلاۃ والسلام علی رسول اللہ'' دراصل امام ابن قیم کی تالیف جلاء الأفہام فی الصلوة والسلام علی خیر الأنام کا اردو ترجمہ ہے، اس میں درود وسلام کے حوالے سے تقریباً ہر موضوع پر تفصیلی، مدلل اور واضح گفتگو کی گئی ہے- امام صاحب نے درود وسلام کے متعلق حکم قرآنی کی نوعیت کیا ہے؟ درود وسلام کے صحیح ، مستند  اور مسنون الفاظ کیا ہیں؟ انہیں کہاں، کیسے اور کب پڑھنا ہے؟ درود وسلام کے فضائل وآداب کیا ہیں؟ اور آل نبی میں کون کون شامل ہیں؟ علاوہ ازیں درود وسلام سے متعلق موضوع اور ضعیف احادیث کی وضاحت وتحقیق اور اس قسم کے دیگر احکام ومسائل اور بے شمار فوائد پر اس کتاب میں بحث کی گئی ہے-

  • نبی کریم ﷺ پر درود وسلام بھیجنا ایک مقبول ترین عمل ہے۔ یہ سنت الٰہیہ ہے، اس نسبت سے یہ جہاں شان مصطفوی ﷺ کے بے مثل ہونے کی دلیل ہے، وہاں اس عمل خاص کی فضیلت بھی حسین پیرائے میں اجاگر ہوتی ہے کہ یہ وہ مقدس عمل ہے جو ہمیشہ کے لئے لازوال، لافانی اور تغیر کے اثرات سے محفوظ ہے۔کیونکہ نہ خدا کی ذات کے لئے فنا ہے نہ آپﷺ پر درود و سلام کی انتہا۔ اللہ تعالی نہ صرف خود اپنے حبیب مکرم ﷺ پردرود و سلام بھیجتا ہے بلکہ اس نے فرشتوں اور اہل ایمان کو بھی پابند فرما دیا ہے کہ سب میرے محبوب پر درود و سلام بھیجیں۔ ارشاد باری تعالیٰ ہے: "بیشک اللہ اور ا س کے فرشتے نبی کریم ﷺ پر درود بھیجتے رہتے ہیں،اے ایمان والو! تم (بھی) ان پر درود بھیجا کرو اور خوب سلام بھیجا کرو۔اسی طرح مستند احادیث سے درود و سلام کے فضائل ثابت ہیں۔ لیکن درود وہ پڑھنا چاہئے جو خود نبی کریم ﷺ نے سکھلایا ہے۔آج کل لوگوں نے بے شمار نام نہاد درود بنا لئے ہیں ، جن کا شریعت کے ساتھ کوئی تعلق نہیں ہے۔ زیر تبصرہ کتابچہ " رسول اللہ ﷺ پر صلاۃ وسلام ، معنی ومفہوم، صحیح اور ضعیف فضائل، عقائد، اعمال اور مسائل" محترم عادل سہیل ظفر صاحب کی کاوش ہے، جس میں انہوں نے صلاۃ وسلام کے معنی ومفہوم اور اس کے بارے میں صحیح اور ضعیف فضائل، عقائد اور اعمال کو ایک جگہ فرما دیا ہے۔ اللہ تعالی سے دعا ہے کہ وہ ان کی اس کاوش کو قبول فرمائے اور ان کے میزان حسنات میں اضافہ فرمائے۔آمین(راسخ)

  • 4 فضائل درود و سلام (ہفتہ 19 جولائی 2014ء)

    مشاہدات:3433

    نبی کریم ﷺپر درود پڑھنا آپ ﷺ سے محبت کا اظہار اور ایمان کی نشانی ہے۔درود پڑھنے کے متعدد فضائل صحیح احادیث سے ثابت ہیں۔سیدنا ابو ہریرہ ﷜فرماتے ہیں کہ ﷺنے فرمایا :’’ جو شخص مجھ پر ایک مرتبہ درود بھیجتا ہے ، اللہ تعالیٰ اس پر دس رحمتیں نازل فرماتا ہے۔‘‘ ( مسلم : ۴۰۸)ایک دوسری روایت میں نبی کریم ﷺنے فرمایا:’’ جو شخص مجھ پر ایک مرتبہ درود بھیجتا ہے ، اللہ تعالیٰ اس پر دس رحمتیں نازل فرماتا ہے ، اس کے دس گناہ مٹا دیتا ہے اور اس کے دس درجات بلند کردیتا ہے۔‘‘ (صحیح الجامع : ۶۳۵۹)سیدنا ابی بن کعب﷜فرماتے ہیں کہ انہوں نے نبی کریم ﷺسے کہا:’’اے اللہ کے رسول ﷺ! میں آپ پر زیادہ درود پڑھتا ہوں ،تو آپ کا کیا خیال ہے کہ میں آپ پر کتنا درود پڑھوں ؟ آپ ﷺنے فرمایا :جتنا چاہو۔ میں نے کہا : چوتھا حصہ؟ آپ ﷺنے فرمایا :جتنا چاہواور اگر اس سے زیادہ پڑھو گے تو وہ تمہارے لئے بہتر ہے۔ میں نے کہا : آدھا حصہ ؟ آپ ﷺنے فرمایا:جتنا چاہو اور اگر اس سے زیادہ پڑھو گے تو وہ تمہارے لئے بہتر ہے۔ میں نے کہا : دو تہائی ؟ آپ ﷺنے فرمایا : چاہو اور اگر اس سے زیادہ پڑھو گے تو وہ تمہارے لئے بہتر ہے۔میں نے کہا : میں آپ پر درود ہی پڑھتا رہوں تو ؟ آپ ﷺ نے فرمایا : تب تمھیں تمھاری پریشانی سے بچا لیا جائے گا اور تمھارے گناہ معاف کر دئیے جائیں گے۔ایک روایت ہے میں ہے: تب تمھیں اللہ تعالیٰ دنیا وآخرت کی پریشانیوں سے بچا لے گا۔‘‘ (ترمذی : ۲۴۵۷ ، وصححہ الالبانی)لیکن درود وہ قابل قبول ہے جو نبی کریم ﷺ سے ثابت ہو اور آپ ﷺ نے وہ صحابہ کرام ﷢کو سکھلایا ہ...

ایڈوانس سرچ

اعدادو شمار

  • آج کے قارئین: 1538
  • اس ہفتے کے قارئین: 11141
  • اس ماہ کے قارئین: 43660
  • کل مشاہدات: 44148326

موضوعاتی فہرست

ای میل سبسکرپشن

محدث لائبریری کی اپ ڈیٹس بذریعہ ای میل وصول کرنے کے لئے ای میل درج کر کے سبسکرائب کے بٹن پر کلک کیجئے۔

رجسٹرڈ اراکین

ایڈریس

        99--جے ماڈل ٹاؤن،
        نزد کلمہ چوک،
        لاہور، 54700 پاکستان

       0092-42-35866396، 35866476، 35839404

       0092-423-5836016، 5837311

       library@mohaddis.com

       بنک تفصیلات کے لیے یہاں کلک کریں

777