دکھائیں کتب
  • 1 اصول دعوت (جمعرات 31 مارچ 2016ء)

    مشاہدات:2553

    رسول اللہ ﷺ دین حنیف کے داعی اور مبلغ بن کر مبعوث ہوئے۔ آپ ﷺ نے شرک و بدعات کا خاتمہ کرتے ہوئے ایک اللہ رب العزت کی عبادت اور اسلامی تعلیمات کا درس دیا۔ جب آپؐ نے دعوت کا آغاز کیا تو آپ کو بے شمار تکالیف کا سامنا کرنا پڑا، دیوانہ، پاگل، مجنون جیسے الفاظ کسے گئے، پتھرمارے گئے، گالیاں دی گئیں، اہل و عیال کو تنگ کیا گیا غرض یہ کہ ہر طرح سے آپ کی دعوت الیٰ اللہ کو روکنے کے لیے ہر طرح کا راستہ اختیار کیا گیا۔ رسول اللہ ﷺ نے اسلام کو احسن انداز میں مکمل طور پر پوری دنیا کے سامنے پیش کیا۔ آپؐ نبوت و رسالت سے سرفراز ہونے کے دن سے لے کر اپنے رب کی جوار رحمت میں منتقل ہونے تک اس دین کی دعوت دیتے رہے۔ اسی وجہ سے اللہ تعالیٰ نے آپ کی رسالت کا اعلان کیا۔ ارشاد باری تعالیٰ ہے: "یا ایھا النبی انا ارسلناک شاھدا و مبشرا و نذیرا"(القران)۔ رسول اللہ ﷺ نے اسلام کی دعوت دیتے ہوئے کچھ وسائل، اسالیب اور طریقے اختیار کیے جو اللہ تعالیٰ نے آپ کو وحی کیے تھے اور جو قرآن و سنت سے ثابت ہیں۔ زیر تبصرہ کتاب" اصول دعوت" جو کہ ڈاکٹر عبدالکریم زیدان کی کتاب" اصول الدعوۃ" کا ترجمہ ہے۔ مؤلف موصوف کا نام علمی حلقوں میں کسی تعارف کا محتاج نہیں۔ یہ کتاب اوّل تو بطور نصاب کے طور پر تصنیف کی گئی تھی، لیکن مؤلف کی علمی گہرائی اور محنت سے یہ ایک مبسوط مقالے کی صورت میں سامنے آئی اور اب اسے دعوت کا انسائیکلو پیڈیا کہا جائے تو بے جا نہ ہو گا۔ کتاب ہذا کااردو ترجمہ محترم گل شیرپاؤ نے نہایت آسان فہم انداز میں کیا ہے۔ اللہ تعالیٰ مصنف و مترجم کو اجر عظیم سے نوازے ا...

  • 2 اصول دعوت ( عبد الہادی عبد الخالق مدنی ) (جمعرات 14 فروری 2013ء)

    مشاہدات:57111

    کتاب و سنت کے نصوص سے ثابت ہے کہ دعوت دینا فرض ہے اور حسبِ استطاعت ہر مسلمان کی ذمہ داری ہے۔ عصر حاضر میں دین حق کی دعوت کی اہمیت اس وجہ سے بہت بڑھ جاتی ہے کہ تمام گمراہیوں کی دعوت ہر طرف زوروں پر ہے۔ نصرانیت اپنے طور پر اپنی دعوت میں لگی ہوئی ہے۔ منکرین رسالت و آخرت، ملحدین، کمیونزم و شوشلزم اور دیگر منحرف افکار و عقائد کے لوگ اپنی اپنی دعوت پھیلانے میں سرگرم عمل ہیں۔ ایسے حالات میں ضروری ہے کہ ہر مسلمان اپنی دعوت استطاعت بھر دعوت کے کام کو آگے بڑھائے۔ زیر نظر مختصر سا رسالہ اسی لیے ترتیب دیا گیا ہے کہ اہل اسلام کو دعوت کے اصول و مبادی سے آگاہ کیا جائے تاکہ ان کی دعوت میں وہ ہمہ گیریت پیدا ہو جو پورے جہان کو اپنی آغوش میں لے لے۔ مولانا عبدالہادی عبدالخالق اس رسالے کے مصنف ہیں جنھوں نے سب سے پہلے دعوت کا شرعی حکم بیان کرتے ہوئے دعوت کے فضائل پر روشنی ڈالی ہے اس کے علاوہ اسالیب دعوت اور داعی کے اخلاق و اوصاف جیسے مضامین پر عام فہم انداز میں بات کی ہے۔(ع۔م)
     

  • 3 امر بالمعروف اور نہی عن المنکر (بدھ 18 مئی 2016ء)

    مشاہدات:2051

    امت مسلمہ صرف ’کلمہ گو‘ جماعت نہیں بلکہ داعی الی الخیر بھی ہے ۔ یہ اس کے دینی فرائض میں داخل ہے کہ بنی نوع انسان کی دنیا کی سرافرازی اور آخرت کی سرخروئی کے لیے جو بھی بھلے کام نظر آئیں ، بنی آدم کو اس کا درس اور اس کی مخالف سمت چلنے سے ان کو روکے ۔اس فریضہ سے کوئی مسلمان بھی مستثنیٰ نہیں۔ مسلم معاشرے کے ہرفرد کا فرض ہے کہ کلمہ حق کہے ،نیکی اور بھلائی کی حمایت کرے اور معاشرے یا مملکت میں جہاں بھی غلط اور ناروا کام ہوتے نظر آئیں ان کوروکنے میں اپنی ممکن حد تک پوری کوشش صرف کردے ۔ ایمان باللہ کے بعد دینی ذمہ داریوں میں امر بالمعروف اور نہی عن المنکر کا فریضہ انجام دیناسب سے بڑی ذمہ داری ہے ۔ امر بالمعروف کامطلب ہے نیکی کا حکم دینا اور نہی عن المنکر کا مطلب ہے برائی سے روکنا یہ بات تو ہر آدمی جانتا ہے کہ اللہ تعالیٰ نیکی اور نیک لوگوں کو پسند فرماتےہیں ۔ برائی اور برے لوگوں کو ناپسند فرماتے ہیں اس لیے اللہ تعالیٰ یہ بھی چاہتے ہیں کہ دنیا میں ہر جگہ نیک لوگ زیاد ہ ہوں او ر نیکی کا غلبہ رہے۔ برے لوگ کم ہوں اور برائی مغلوب رہے ۔ چنانچہ اللہ تعالیٰ نے اہل ایمان کو محض خود نیک بن کر رہنے اور برائی سے بچنے کا حکم ہی نہیں دیا بلکہ ساتھ ساتھ دوسروں کو بھی نیکی کا حکم دینے اور برائی سے روکنے کا حکم بھی دیا ہے ۔ اسی عظیم مقصد کی خاطر اللہ تعالیٰ نے انبیاء کرام ﷩ کو مبعوث فرمایا اورانبیاء کرام کاسلسلہ ختم ہونے کے بعد امت محمدیہ کے حکمرانوں ،علماء وفضلاء کو خصوصا اورامت کے دیگر افراد کوعموماً اس کا مکلف ٹھہرایا ہے ۔قرآن وحدیث میں اس فریضہ کواس قد ر اہم...

  • امر بالمعروف و النھی عن المنکر دین اسلام کا اہم فریضہ ہے ، امت مسلمہ کو اسی فریضہ کی انجام دہی پر دیگر امتوں پر فوقیت حاصل ہے ۔کتاب و سنت میں اس ذمہ دار ی کو بطریق احسن ادا کرنے کی پر زور تاکید ہے،کیونکہ اس فریضہ ہی دین کا استحکام ، امت کی دین سے وابستگی ممکن ہے اور اس کی بدولت ہی شیطانی سازشوں ،باطل نظریات اور شرک و بدعا ت کی راہیں مسدود ہوتی ہیں۔اس فریضہ سے کوتاہی اور انحراف کی وجہ سے امت مختلف فتنوں اور سازشوں کا شکار ہے اور اس فریضہ سے غفلت ہی کی وجہ سےامت میں باطل نظریات اور من مانی تاویلات کا منہ زور سیلاب در آیا ہے۔پھر اس فریضہ سے گلو خلاصی کےلیے مختلف اعتراضات واشکلات وارد کیے جاتے ہیں ،ان اعتراضات و اشکلات کا زیر نظر کتاب میں خوب محاسبہ کیا گیاہے۔(ف۔ر)
     

  • 5 انبیاء کا اسلوب دعوت (بدھ 29 جنوری 2014ء)

    مشاہدات:17590

    اللہ عزوجل نے امت مسلمہ کامقصدوجوددعوت کوقراردیاہے ۔اسی بناءپرانہیں ’خیرامت‘کامعززلقب دیاہے۔قرآن وحدیث میں دعوت الی اللہ کے اصول وضوابط متعین کردیے ہیں اوررسول پاک صلی اللہ علیہ وسلم نے عملا انہیں برت کردکھابھی دیاہے ۔نبوی اسلوب دعوت کوسامنے رکھتے ہوئے ہمارے اسلاف نے جس خوش  اسلوبی سے فریضہ دعوت کوسرانجام دیااس کانتیجہ یہ نکلاکہ اسلام اطراف واکناف عالم میں پھیل گیالیکن بعدازاں یہ طریقہ دعوت نظروں سے اوجھل ہوگیاتوفرقہ واریت اوراحتراق نشست امت کامقدربن گیاموجودہ ذلت  ورسوائی کی وجہ بھی یہی ہے کہ تنظیموں اورجماعتوں کی دعوت انبیاء کرام کے طریقے پرنہیں ہے ۔زیرنظرکتاب میں انتہائی مؤثراوردلنشیں انداز میں انبیاء کے اسلوب دعوت پرروشنی ڈالی گئی ہے جویقیناً قابل مطالعہ ہے ۔
     

  • 6 اچھائی کا حکم کرنا اور برائی سے منع کرنا (جمعرات 01 جون 2017ء)

    مشاہدات:1511

    امت مسلمہ صرف ’کلمہ گو‘ جماعت نہیں بلکہ داعی الی الخیر بھی ہے ۔ یہ اس کے دینی فرائض میں داخل ہے کہ بنی نوع انسان کی دنیا کی سرافرازی اور آخرت کی سرخروئی کے لیے جو بھی بھلے کام نظر آئیں ، بنی آدم کو اس کا درس اور اس کی مخالف سمت چلنے سے ان کو روکے ۔اس فریضہ سے کوئی مسلمان بھی مستثنیٰ نہیں۔ مسلم معاشرے کے ہرفرد کا فرض ہے کہ کلمہ حق کہے ،نیکی اور بھلائی کی حمایت کرے اور معاشرے یا مملکت میں جہاں بھی غلط اور ناروا کام ہوتے نظر آئیں ان کوروکنے میں اپنی ممکن حد تک پوری کوشش صرف کردے ۔ ایمان باللہ کے بعد دینی ذمہ داریوں میں امر بالمعروف اور نہی عن المنکر کا فریضہ انجام دیناسب سے بڑی ذمہ داری ہے ۔ امر بالمعروف کامطلب ہے نیکی کا حکم دینا اور نہی عن المنکر کا مطلب ہے برائی سے روکنا یہ بات تو ہر آدمی جانتا ہے کہ اللہ تعالیٰ نیکی اور نیک لوگوں کو پسند فرماتےہیں ۔ برائی اور برے لوگوں کو ناپسند فرماتے ہیں اس لیے اللہ تعالیٰ یہ بھی چاہتے ہیں کہ دنیا میں ہر جگہ نیک لوگ زیاد ہ ہوں او ر نیکی کا غلبہ رہے۔ برے لوگ کم ہوں اور برائی مغلوب رہے ۔ چنانچہ اللہ تعالیٰ نے اہل ایمان کو محض خود نیک بن کر رہنے اور برائی سے بچنے کا حکم ہی نہیں دیا بلکہ ساتھ ساتھ دوسروں کو بھی نیکی کا حکم دینے اور برائی سے روکنے کا حکم بھی دیا ہے ۔ اسی عظیم مقصد کی خاطر اللہ تعالیٰ نے انبیاء کرام ﷩ کو مبعوث فرمایا اورانبیاء کرام کاسلسلہ ختم ہونے کے بعد امت محمدیہ کے حکمرانوں ،علماء وفضلاء کو خصوصا اورامت کے دیگر افراد کوعموماً اس کا مکلف ٹھہرایا ہے ۔قرآن وحدیث میں اس فریضہ کواس قد ر اہم...

  • 7 تاريخ دعوت وعزیمت حصہ اول (پیر 03 فروری 2014ء)

    مشاہدات:22561

    حدیث رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے مطابق اس امت میں ایک ایسا گروہ ہمیشہ موجود  رہتا ہے جو حق کی صحیح ترجمانی کرتا ہے اور دین کی اصل شکل کو برقرار رکھتا ہے ۔ایسا کبھی نہیں ہوا کہ اہل حق بالکلیہ ضم ہو جائیں اور بدعت وضلالت کی حکمرانی قائم ہو جائے۔زیر نظر کتاب میں عالم اسلام کے عظیم مفکر مولانا ابو الحسن ندوی نے تاریخ کے صفحات سے دعوت وعزیمت کے تسلسل کو اجاگر کیا ہے اور اسلام کی تیرہ سو برس کی تاریخ میں اصلاح وانقلاب حال کی کوششوں کو بیان کیا ہے ۔انہوں نے ان ممتاز شخصیتوں اور تحریکوں کی نشاندہی کی ہے جنہوں نے اپنے اپنے وقت میں اپنی اپنی صلاحیتوں کے مطابق دین کے احیاء اور تجدید اور اسلام اور مسلمانوں کی حفاظت کے کام میں حصہ لیا اور جن کی مجموعی کوششوں سے اسلام زندہ اور محفوظ شکل میں اس وقت موجود ہے اوراس وقت ایک ممتاز امت کی حیثیت سے نظر آتے ہیں ۔اس کتاب کا مطالعہ ہر مسلمان کو لازماً کرنا چاہیے تاکہ مصلحین امت کے اصلاحی ودعوتی اور مجاہدانہ کارناموں سے واقفیت حاصل ہو سکے۔(ط۔ا)

  • 8 تبلیغ و تربیت دین کے پانچ اصول (ہفتہ 04 اپریل 2015ء)

    مشاہدات:2010

    اس بات میں کوئی شک نہیں کہ  انسانیت کی ہدایت وراہنمائی کے لیے  جس سلسلۂ نبوت کا آغاز  حضرت آدم   سےکیاگیا تھا اس کااختتام حضرت محمد ﷺ کی ذات ِستودہ صفات پر کردیا گیا ہے۔اور نبوت کے ختم ہوجانے کےبعددعوت وتبلیغ کاسلسلہ جاری وساری ہے  ۔ دعوت وتبلیع  کی ذمہ داری ہر امتی  پرعموماً اور عالم دین پر خصوصا  عائد ہوتی ہے ۔ لیکن اس کی کامل ترین اور مؤثر ترین شکل یہ ہےکہ تمام مسلمان اپنا ایک خلیفہ منتخب کر کے  خود کو نظامِ خلافت میں منسلک کرلیں۔اور پھر خلیفۃ المسلمین خاتم النبین ﷺ کی نیابت میں دنیا بھر  کی غیر مسلم  حکومتوں کو خط وکتابت او رجہاد وقتال کےذریعے  اللہ کے دین کی دعوت دیں۔اور ہر مسلمان کے لیے   ضروری ہے کہ  کہ وہ دعوت وتبلیع او راشاعتِ دین کا کام  اسی  طرح انتہائی محنت اور جان فشانی سے کرے جس  طرح خو د خاتم النبین ﷺ اور آپ کے خلفائے راشدین اور تمام صحابہ کرام  کرتے رہے  ہیں ۔ مگر آج مسلمانوں کی عام حالت یہ ہے کہ اسلام کی دعوت وتبلیغ تو بہت دور کی بات ہے وہ اسلامی احکام پرعمل  پیرا ہونے  بلکہ اسلامی احکام کا علم حاصل کرنے کے لیے  بھی تیار نہیں ہوتے ۔ اور یہ بات واضح ہی ہے کہ دعوت وتبلیغ سے پہلے  عمل کی  ضرورت ہوتی اور عمل  سے پہلے علم کی ۔ زیر نظر کتاب ’’ تبلیغ وتربیت دین  کے پانچ اصول ‘‘ولی  کامل  حافظ یحییٰ عزیز میرمحمدی ﷫ کی  کاوش  ہے  جسے انہوں نے اپنے ادارے&n...

  • 9 جھگڑے کیوں ہوتے ہیں (جمعرات 04 ستمبر 2014ء)

    مشاہدات:1757

    لڑائی جھگڑوں کے اسباب میں سے  ایک بہت  بڑا سبب غلط فہمی  ہے۔ یو ں سمجھ لیجئے کہ دنیا میں  تقریبا پچاس فیصد بداعمالیاں غلط فہمی کی وجہ سے رونما ہوتی ہیں ۔غلط فہمی سے انسان کہاں سے کہاں تک پہنچ جاتا ہے بستے گھر برباد ہوجاتے ہیں دوست دشمن بن جاتے ہیں اور غیر تو غیر سہی اپنے بھی پرائے بن جاتے ہیں۔’’جھگڑا  ‘‘دیکھنے میں  ایک چھوٹا سے لفظ ہے  لیکن اس میں  خاندانوں کی بربادی نسلوں  کی تباہی،خونی رشتوں کا انقطاع اوراخلاق وتہذیب کاخون شامل ہے ۔اس کے ساتھ ساتھ جھگڑوں میں  ذہنی پریشانی،اعصابی دباؤ اور دن رات کی بے  چینی بھی شامل ہے ۔ معمولی سے بات بھی  جھگڑے  کا پیش خیمہ بن سکتی ہے اور معمولی سے دانشمندی بھی بہت جھگڑوں سے بچا سکتی ہے ’’ایسی دانشمندی یا  میٹھا بول جوکہ گریبان پکڑنے والوں کوآپس میں شیروشکر کردے ایک  مومن کے اوصاف میں سے   بلند وصف ہے ۔زیر نظر کتاب ’’جھگڑے کیو ں ہوتے ہیں ‘‘ محترم  تفضیل احمد ضیغم﷾ کی تصنیف ہے ۔ جس میں ایسے تمام  اسباب کو مختصراً بیان کیا گیا ہے جوجھگڑوں  کی بنیاد بنتے ہیں اوران جھگڑوں سے کس طرح بچا جا سکتا ہے  اس ضمن میں کائنات کے سب سے   عظیم انسان  جناب محمد  الرسول اللہ ﷺ کے فرامین کو اس کتاب کی زینت بنایا گیا ہے۔یہ کتاب دراصل  مصنف کے  مختلف اوقات میں  دئیے گئے  خطابات ولیکچرز کا  مجموعہ  ہے  جسے  مختلف ا...

  • سیدنا حضرت ابراہیم اللہ تعالیٰ کے جلیل القدر پیغمبر تھے ۔قرآن مجید میں وضاحت سے حضرت ابراہیم کا تذکرہ موجود ہے ۔قرآن مجید کی 25 سورتوں میں 69 دفعہ حضرت ابراہیم کا اسم گرامی آیا ہے ۔اور ایک سورۃ کا نام بھی ابراہیم ہے ۔حضرت ابراہیم نے یک ایسے ماحول میں آنکھ کھولی جو شرک خرافات میں غرق اور جس گھر میں جنم لیا وہ بھی شرک وخرافات کا مرکز تھا بلکہ ان ساری خرافات کو حکومتِ وقت اورآپ کے والد کی معاونت اور سرپرستی حاصل تھی ۔جب حضرت ابراہیم پربتوں کا باطل ہونا اور اللہ کی واحدانیت آشکار ہوگی تو انہوں نے سب سے پہلے اپنے والد آزر کو اسلام کی تلقین کی اس کے بعد عوام کے سامنے اس دعوت کو عام کیا اور پھر بادشاہ وقت نمرود سےمناظرہ کیا اور وہ لاجواب ہوگیا ۔ اس کے باجود قوم قبولِ حق سے منحرف رہی حتیٰ کہ بادشاہ نے انہیں آگ میں جلانے کا حکم صادر کیا مگر اللہ نے آگ کوابراہیم کے لیے ٹھنڈی اور سلامتی والی بنا دیا اور دشمن ذلیل ورسوار ہوئے اور اللہ نے حضرت ابراہیم کو کامیاب کیا۔اللہ تعالی نے قرآن مجید میں انبیائے کرام﷩کے واقعات بیان کرنے کامقصد خودان الفاظ میں واضح اور نمایا ں فرمایا ’’اے نبیﷺ جونبیوں کے واقعات ہم آپ کے سامنے بیان کرتے ہیں ان سے ہمارا مقصد آپ کے دل کو ڈھارس دینا ہے اور آپ کے پاس حق پہنچ چکا ہے اس میں مومنوں کے لیے بھی نصیحت وعبرت ہے ۔‘‘ زیر تبصرہ کتاب’’حضرت ابرااہیم حیات ، دعوت اور عالمی اثرات ‘‘جناب محمد رضی الاسلام ندوی کی تصنیف ہے ۔اس کتاب میں انہوں نے ملت ابراہیمی پر تفصیل سے اظہار خیال کیا ہے ۔قرآنی...

ایڈوانس سرچ

اعدادو شمار

  • آج کے قارئین: 944
  • اس ہفتے کے قارئین: 2662
  • اس ماہ کے قارئین: 39727
  • کل مشاہدات: 42984226

موضوعاتی فہرست

ای میل سبسکرپشن

محدث لائبریری کی اپ ڈیٹس بذریعہ ای میل وصول کرنے کے لئے ای میل درج کر کے سبسکرائب کے بٹن پر کلک کیجئے۔

رجسٹرڈ اراکین

ایڈریس

        99--جے ماڈل ٹاؤن،
        نزد کلمہ چوک،
        لاہور، 54700 پاکستان

       0092-42-35866396، 35866476، 35839404

       0092-423-5836016، 5837311

       library@mohaddis.com

       بنک تفصیلات کے لیے یہاں کلک کریں