• title-pages-anwar-al-masabih-shrah-mishkat-al-masabeeh-2-copy
    ولی الدین الخطیب التبریزی

    ادلہ شرعیہ اور مصادر شریعت کے تذکرے میں قرآن کریم کے بعد حدیث رسول صلی اللہ علیہ وسلم کا نمبر آتا ہے۔یعنی قرآن کریم کے بعد شریعت اسلامیہ کا یہ دوسرا ماخذ ہے۔حدیث کا اطلاق رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے اُمور،افعال اور تقریرات پر ہوتا ہے۔ چنانچہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے اس منصب کے مطابق (جو اللہ پاک نے عطا کیا) توضیح وتشریح کی اور اس کے اجمالات کی تفصیل بیان فرمائی ،جیسے نماز کی تعداد اور رکعات،اس کے اوقات اور نماز کی وضع وہیت،زکوۃ کا نصاب،اس کی شرح،اس کی ادائیگی کا وقت اور دیگر تفصیلات،قرآن کریم کے بیان کردہ اجمالات کی یہ تفسیر وتوضیح نبوی،امت مسلمہ میں حجت سمجھی گئی اور قرآن کریم ہی کی طرح اسے واجب الاطاعت تسلیم کیا گیا۔یہی وجہ ہے کہ نماز زکوۃ کی یہ شکلیں عہد نبوی صلی اللہ علیہ وسلم سے آج تک مسلم ومتواتر چلی آرہی ہیں۔اس میں کسی نے اختلاف نہیں کیا۔ زیرِ تبصرہ کتاب ’’ انوار المصابیح شرح مشکوٰۃ المصابیح‘‘ شیخ الحدیث مولانا عبد السلام بستوی کی ہے ۔مولانا صاحب اس کتاب کو الگ الگ پاروں میں شائع کر رہے تھےجیسے ہی ایک پارہ ہوتا شائع کر دیتے ۔ گیارہ پارے ہوئے تھے کہ اللہ رب العزت کا بلاوا آ گیا اور یہ نا مکمل رہ گیا تھا ۔ تاہم بعد میں کچھ حصے پر فصیلۃ الشیخ مبشر احمد ریانی صاحب نے تحریج و نظر ثانی کا کام کیا۔ اور فصلیۃ الشیخ محمد ناصر الدین البانی کی تین جلد میں شائع شدہ مشکوٰۃالمصابیح کی تحقیق کو بھی اس نسخہ پر اردو قالب میں نقل کر دیا گیا ہے ۔اور ساتھ ساتھ اس کتاب میں احادیث کے عنوانوں کو بھی درج کر دیا گیا ہے تا کہ احادیث کو سمجھنے میں آسانی ہو۔ اس کتاب پر جن جن لوگوں نے محنت کی ہے ان کی محنت قبول فرمائے اور ان کے صدقہ جاریہ بنائے۔ آمین
    طالب دعا: پ،ر،ر

  • title-pages-anwar-al-masabih-shrah-mishkat-al-masabeeh-3-copy
    ولی الدین الخطیب التبریزی

    ادلہ شرعیہ اور مصادر شریعت کے تذکرے میں قرآن کریم کے بعد حدیث رسول صلی اللہ علیہ وسلم کا نمبر آتا ہے۔یعنی قرآن کریم کے بعد شریعت اسلامیہ کا یہ دوسرا ماخذ ہے۔حدیث کا اطلاق رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے اُمور،افعال اور تقریرات پر ہوتا ہے۔ چنانچہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے اس منصب کے مطابق (جو اللہ پاک نے عطا کیا) توضیح وتشریح کی اور اس کے اجمالات کی تفصیل بیان فرمائی ،جیسے نماز کی تعداد اور رکعات،اس کے اوقات اور نماز کی وضع وہیت،زکوۃ کا نصاب،اس کی شرح،اس کی ادائیگی کا وقت اور دیگر تفصیلات،قرآن کریم کے بیان کردہ اجمالات کی یہ تفسیر وتوضیح نبوی،امت مسلمہ میں حجت سمجھی گئی اور قرآن کریم ہی کی طرح اسے واجب الاطاعت تسلیم کیا گیا۔یہی وجہ ہے کہ نماز زکوۃ کی یہ شکلیں عہد نبوی صلی اللہ علیہ وسلم سے آج تک مسلم ومتواتر چلی آرہی ہیں۔اس میں کسی نے اختلاف نہیں کیا۔ زیرِ تبصرہ کتاب ’’ انوار المصابیح شرح مشکوٰۃ المصابیح‘‘ شیخ الحدیث مولانا عبد السلام بستوی کی ہے ۔مولانا صاحب اس کتاب کو الگ الگ پاروں میں شائع کر رہے تھےجیسے ہی ایک پارہ ہوتا شائع کر دیتے ۔ گیارہ پارے ہوئے تھے کہ اللہ رب العزت کا بلاوا آ گیا اور یہ نا مکمل رہ گیا تھا ۔ تاہم بعد میں کچھ حصے پر فصیلۃ الشیخ مبشر احمد ریانی صاحب نے تحریج و نظر ثانی کا کام کیا۔ اور فصلیۃ الشیخ محمد ناصر الدین البانی کی تین جلد میں شائع شدہ مشکوٰۃالمصابیح کی تحقیق کو بھی اس نسخہ پر اردو قالب میں نقل کر دیا گیا ہے ۔اور ساتھ ساتھ اس کتاب میں احادیث کے عنوانوں کو بھی درج کر دیا گیا ہے تا کہ احادیث کو سمجھنے میں آسانی ہو۔ اس کتاب پر جن جن لوگوں نے محنت کی ہے ان کی محنت قبول فرمائے اور ان کے صدقہ جاریہ بنائے۔ آمین طالب دعا: پ،ر،ر

  • title-pages-anwar-al-masabih-shrah-mishkat-al-masabeeh-3-copy
    ولی الدین الخطیب التبریزی

    ادلہ شرعیہ اور مصادر شریعت کے تذکرے میں قرآن کریم کے بعد حدیث رسول صلی اللہ علیہ وسلم کا نمبر آتا ہے۔یعنی قرآن کریم کے بعد شریعت اسلامیہ کا یہ دوسرا ماخذ ہے۔حدیث کا اطلاق رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے اُمور،افعال اور تقریرات پر ہوتا ہے۔ چنانچہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے اس منصب کے مطابق (جو اللہ پاک نے عطا کیا) توضیح وتشریح کی اور اس کے اجمالات کی تفصیل بیان فرمائی ،جیسے نماز کی تعداد اور رکعات،اس کے اوقات اور نماز کی وضع وہیت،زکوۃ کا نصاب،اس کی شرح،اس کی ادائیگی کا وقت اور دیگر تفصیلات،قرآن کریم کے بیان کردہ اجمالات کی یہ تفسیر وتوضیح نبوی،امت مسلمہ میں حجت سمجھی گئی اور قرآن کریم ہی کی طرح اسے واجب الاطاعت تسلیم کیا گیا۔یہی وجہ ہے کہ نماز زکوۃ کی یہ شکلیں عہد نبوی صلی اللہ علیہ وسلم سے آج تک مسلم ومتواتر چلی آرہی ہیں۔اس میں کسی نے اختلاف نہیں کیا۔ زیرِ تبصرہ کتاب ’’ انوار المصابیح شرح مشکوٰۃ المصابیح‘‘ شیخ الحدیث مولانا عبد السلام بستوی کی ہے ۔مولانا صاحب اس کتاب کو الگ الگ پاروں میں شائع کر رہے تھےجیسے ہی ایک پارہ ہوتا شائع کر دیتے ۔ گیارہ پارے ہوئے تھے کہ اللہ رب العزت کا بلاوا آ گیا اور یہ نا مکمل رہ گیا تھا ۔ تاہم بعد میں کچھ حصے پر فصیلۃ الشیخ مبشر احمد ریانی صاحب نے تحریج و نظر ثانی کا کام کیا۔ اور فصلیۃ الشیخ محمد ناصر الدین البانی کی تین جلد میں شائع شدہ مشکوٰۃالمصابیح کی تحقیق کو بھی اس نسخہ پر اردو قالب میں نقل کر دیا گیا ہے ۔اور ساتھ ساتھ اس کتاب میں احادیث کے عنوانوں کو بھی درج کر دیا گیا ہے تا کہ احادیث کو سمجھنے میں آسانی ہو۔ اس کتاب پر جن جن لوگوں نے محنت کی ہے ان کی محنت قبول فرمائے اور ان کے صدقہ جاریہ بنائے۔ آمین طالب دعا: پ،ر،ر

  • title-pages-anwar-al-masabih-shrah-mishkat-al-masabeeh-3-copy
    ولی الدین الخطیب التبریزی

    ادلہ شرعیہ اور مصادر شریعت کے تذکرے میں قرآن کریم کے بعد حدیث رسول صلی اللہ علیہ وسلم کا نمبر آتا ہے۔یعنی قرآن کریم کے بعد شریعت اسلامیہ کا یہ دوسرا ماخذ ہے۔حدیث کا اطلاق رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے اُمور،افعال اور تقریرات پر ہوتا ہے۔ چنانچہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے اس منصب کے مطابق (جو اللہ پاک نے عطا کیا) توضیح وتشریح کی اور اس کے اجمالات کی تفصیل بیان فرمائی ،جیسے نماز کی تعداد اور رکعات،اس کے اوقات اور نماز کی وضع وہیت،زکوۃ کا نصاب،اس کی شرح،اس کی ادائیگی کا وقت اور دیگر تفصیلات،قرآن کریم کے بیان کردہ اجمالات کی یہ تفسیر وتوضیح نبوی،امت مسلمہ میں حجت سمجھی گئی اور قرآن کریم ہی کی طرح اسے واجب الاطاعت تسلیم کیا گیا۔یہی وجہ ہے کہ نماز زکوۃ کی یہ شکلیں عہد نبوی صلی اللہ علیہ وسلم سے آج تک مسلم ومتواتر چلی آرہی ہیں۔اس میں کسی نے اختلاف نہیں کیا۔ زیرِ تبصرہ کتاب ’’ انوار المصابیح شرح مشکوٰۃ المصابیح‘‘ شیخ الحدیث مولانا عبد السلام بستوی کی ہے ۔مولانا صاحب اس کتاب کو الگ الگ پاروں میں شائع کر رہے تھےجیسے ہی ایک پارہ ہوتا شائع کر دیتے ۔ گیارہ پارے ہوئے تھے کہ اللہ رب العزت کا بلاوا آ گیا اور یہ نا مکمل رہ گیا تھا ۔ تاہم بعد میں کچھ حصے پر فصیلۃ الشیخ مبشر احمد ریانی صاحب نے تحریج و نظر ثانی کا کام کیا۔ اور فصلیۃ الشیخ محمد ناصر الدین البانی کی تین جلد میں شائع شدہ مشکوٰۃالمصابیح کی تحقیق کو بھی اس نسخہ پر اردو قالب میں نقل کر دیا گیا ہے ۔اور ساتھ ساتھ اس کتاب میں احادیث کے عنوانوں کو بھی درج کر دیا گیا ہے تا کہ احادیث کو سمجھنے میں آسانی ہو۔ اس کتاب پر جن جن لوگوں نے محنت کی ہے ان کی محنت قبول فرمائے اور ان کے صدقہ جاریہ بنائے۔ آمین طالب دعا: پ،ر،ر

  • pages-from-anwaar-e-hadees
    حافظ عبد الستار حماد

    اسلام کے دوبنیادی اور صافی سرچشمے قرآن وحدیث ہیں جن کی تعلیمات وہدایات پر عمل کرنا ہر مسلمان کے لیے ضروری ہے۔ قرآن مجید کی طرح حدیث بھی دینِ اسلام میں ایک قطعی حجت ہے۔ کیونکہ اس کی بنیاد بھی وحی الٰہی ہے۔ احادیث رسول ﷺ کو محفوظ کرنے کے لیے کئی پہلوؤں اور اعتبارات سے اہل علم نے خدمات انجام دیں۔ تدوینِ حدیث کا آغاز عہد نبوی سے ہوا او ر صحابہ وتابعین کے دور میں پروان چڑھا۔ ائمہ محدثین کےدور میں خوب پھلا پھولا ۔مختلف ائمہ محدثین نے احادیث کے کئی مجموعے مرتب کئے۔ان ضخیم مجموعہ جات سے استفتادہ عامۃ الناس کےلیے انتہائی دشوار ہے ۔عامۃ الناس کی ضرورت کے پیش نظر کئی اہل علم نے مختصر مجموعات حدیث تیار کیے ہیں ۔اربعین کے نام سے کئی علماء نے حدیث کے مجموعے مرتب کیے۔ اور اسی طرح 100 احادیث پر مشتمل ایک مجموعہ عارف با اللہ مولانا سید محمد داؤد غزنوی ﷫ نے ا نتہائی مختصراور جامع رسالہ ’’نخبۃ الاحادیث‘‘ کے نام سے مرتب کیا جس میں عبادات معاملات، اخلاق وآداب وغیرہ سے متعلق کامل رااہنمائی موجود ہے۔ موصوف کے کمال حسنِ انتخاب کی وجہ سے یہ کتاب اکثر دینی مدارس کے نصاب میں شامل ہے۔عصر حاضر میں بھی کئی مزید مجموعات ِحدیث منظر عام پر آئے ہیں۔ زیر تبصرہ کتاب ’’انوار حدیث ‘‘بھی اسی سلسلہ کی کڑی ہے۔ یہ کتاب پاکستان کے جید عالم دین مفتی جماعت شارح بخاری شیخ الحدیث ابو محمد حافظ عبد الستار حماد﷾(فاضل مدینہ یونیورسٹی )کی کاوش ہے۔ جسے انہوں نے   ہفت روزہ اہل حدیث،لاہور کے مدیر مولانا محمدبشیر انصاری﷾ کی کاوش پر بڑے عمدہ انداز سے مرتب کیا ہے ۔موصوف نے صحیح بخاری اور صحیح مسلم سے 100 احادیث کا انتخاب کرکے پانچ حصوں (عقائد وعبادات، حقوق ومعامالات، اخلاق وکردار، احکام ومسائل ، دعوات اذکار) میں تقسیم کیا ہے اور پھر اختصار کے ساتھ ان کی تشریح میں صحیح احادیث کو پیش کیا ہے۔ ابتدائی طلباء وطالبات کے لیے یہ کتاب بیش قیمت خزانہ ہے۔ اللہ تعالیٰ محترم حافظ کی اس کاوش کو شرفِ قبولیت سے نوازے اور قبول عام کا درجہ عطا فرمائے۔ آمین( م۔ا)

  • title-page-inkar-e-hadees-ka-niya-roop-1
    غازی عزیر مبارکپوری
    پاک و ہند میں علماء اہل حدیث کی خدمت حدیث اسلامی تاریخ کاروشن باب ہے اہل علم نے ہر دور میں اس کی تحسین کی پاک وہند سے کتب حدیث کے نہایت مستند متون شائع ہوئے اس خطہ زمین میں کتب حدیث کی نہایت جامع ومانع شروح وحواشی تحریر کیے گئے۔بر صغیر میں فتنہ انکار حدیث صدیوں سے زوروں پر ہےاس کی بعض صورتیں ایسے صریح انکار حدیث پر مبنی ہیں جس کے حامل کا مسلمان ہونا بھی ایک سوالیہ نشان ہے اس فتنہ کے بنیادی اسباب میں دین سے لاعلمی ،غیر مسلم تہذیب سے مرعوبیت اور سیاسی وفکری محکومی سرفہرست ہے یہ پڑھے لکھے تجدد پسند حضرات کافتنہ ہے جوعلوم اسلامیہ سے ناآشنا ہونے کی وجہ سے اسلام اور اس کے اوامر ونواہی سے جذباتی عقیدت رکھتے ہیں ۔فتنہ انکار حدیث  کو واضح کرنے اور عوام الناس کو اس سے متعارف کروانے کےلیے فدائیان کتاب وسنت نے دن رات محنت کی ان میں سے ایک غازی عزیر بھی ہیں جنہوں نے ’’انکار حدیث کا نیا روپ‘‘جیسی عظیم اور مفصل کتاب لکھ کر حدیث پر اٹھائے جانے والے تمام سوالات کاحل پیش کردیاہے ۔اس کتاب میں جہاں منکرین قرآن وسنت کے تمام اعتراضات کا تفصیلی جائزہ لیا گیا ہے وہاں حجیت حدیث ،حفاظت حدیث اور کتابت حدیث جیسے اہم مضامین پر غازی صاحب نے اپنی مجتہدانہ بصیرت سے خوب روشنی ڈالی ہے جس کو پڑھنے کے بعد کسی صائب العقل او رسلیم الفطرت شخص کو حدیث کےمتعلقہ شکوک وشبہات دور کرنے میں مجال انکار نہیں رہتی۔یہ کتاب چار جلدوں پر مشتمل ہے۔جس میں  حجیت حدیث ،حفاظت حدیث اور کتابت حدیث جیسی اہم مباحث کی تفصیلی گفتگو کے ساتھ منکر ین حدیث امین احسن اصلاحی ک افکار کا کتاب وسنت کی روشنی میں جائزہ لیا گیا ہے تاکہ وہ سادہ لوح افراد جوان کے پراپیگنڈے کاشکار ہوجاتے ہیں انہیں حقیقت حال کی خبر ہوسکے اورعامۃ الناس کو بھی اس فتنے سے آگاہی ہوسکے ۔
     


  • title-page-inkar-e-hadees-ka-niya-roop-jild-2
    غازی عزیر مبارکپوری
    پاک و ہند میں علماء اہل حدیث کی خدمت حدیث اسلامی تاریخ کاروشن باب ہے اہل علم نے ہر دور میں اس کی تحسین کی پاک وہند سے کتب حدیث کے نہایت مستند متون شائع ہوئے اس خطہ زمین میں کتب حدیث کی نہایت جامع ومانع شروح وحواشی تحریر کیے گئے۔بر صغیر میں فتنہ انکار حدیث صدیوں سے زوروں پر ہےاس کی بعض صورتیں ایسے صریح انکار حدیث پر مبنی ہیں جس کے حامل کا مسلمان ہونا بھی ایک سوالیہ نشان ہے اس فتنہ کے بنیادی اسباب میں دین سے لاعلمی ،غیر مسلم تہذیب سے مرعوبیت اور سیاسی وفکری محکومی سرفہرست ہے یہ پڑھے لکھے تجدد پسند حضرات کافتنہ ہے جوعلوم اسلامیہ سے ناآشنا ہونے کی وجہ سے اسلام اور اس کے اوامر ونواہی سے جذباتی عقیدت رکھتے ہیں ۔فتنہ انکار حدیث  کو واضح کرنے اور عوام الناس کو اس سے متعارف کروانے کےلیے فدائیان کتاب وسنت نے دن رات محنت کی ان میں سے ایک غازی عزیر بھی ہیں جنہوں نے ’’انکار حدیث کا نیا روپ‘‘جیسی عظیم اور مفصل کتاب لکھ کر حدیث پر اٹھائے جانے والے تمام سوالات کاحل پیش کردیاہے ۔اس کتاب میں جہاں منکرین قرآن وسنت کے تمام اعتراضات کا تفصیلی جائزہ لیا گیا ہے وہاں حجیت حدیث ،حفاظت حدیث اور کتابت حدیث جیسے اہم مضامین پر غازی صاحب نے اپنی مجتہدانہ بصیرت سے خوب روشنی ڈالی ہے جس کو پڑھنے کے بعد کسی صائب العقل او رسلیم الفطرت شخص کو حدیث کےمتعلقہ شکوک وشبہات دور کرنے میں مجال انکار نہیں رہتی۔یہ کتاب چار جلدوں پر مشتمل ہے۔جس میں  حجیت حدیث ،حفاظت حدیث اور کتابت حدیث جیسی اہم مباحث کی تفصیلی گفتگو کے ساتھ منکر ین حدیث امین احسن اصلاحی ک افکار کا کتاب وسنت کی روشنی میں جائزہ لیا گیا ہے تاکہ وہ سادہ لوح افراد جوان کے پراپیگنڈے کاشکار ہوجاتے ہیں انہیں حقیقت حال کی خبر ہوسکے اورعامۃ الناس کو بھی اس فتنے سے آگاہی ہوسکے ۔
     
  • title-page-inkar-e-rajam-ek-fikri-gumrahi
    ڈاکٹر ابو عدنان سہیل
    انکار رجم ایک فکری گمراہی کے نام سے زیر تبصرہ کتاب ڈاکٹر ابو عدنان سہیل (اصل نام افتخار احمد ) نے مسئلہ رجم کے اثبات کے لیے منکرین رجم کے علمبردار عنایت اللہ سبحانی کے جواب میں تحریر کی –عنایت اللہ سبحانی نے حقیقت رجم نامی کتاب لکھ کر مسئلہ رجم جوکہ امت مسلمہ کا اجماعی مسئلہ ہے اس کوکمزور کرنے کی کوشش کی جس پر ڈاکٹرابو عدنان سہیل نے انکار رجم ایک فکری گمراہی کے نام سے اس کتاب کا جواب دیا ہے-مصنف نے عنایت اللہ سبحانی کے دلائل کو مد نظر رکھتے ہوئے اس کا سنجیدہ انداز میں علمی محاکمہ کرتے ہوئے قرآن وسنت کے دلائل اور صحابہ کرام کے عمل سے شادی شدہ زانی کی سزا رجم کوثابت کیا ہے-اور اسی طریقے سے رجم کی سزا کے منکرین جو کہ باطل تاویلات کا سہارا لیتے ہیں ان کی علمی خیانتوں کے بیان کے ساتھ ساتھ قرآن وسنت کی تعلیمات کے حقائق اور ان کی حکمتوں پر سیر حاصل بحث کی ہے-
  • title-page-ahle-hadees-aur-jannat-ka-rasta-zubair-ali-zai
    حافظ زبیر علی زئی

    علم حدیث  ایک عظمت ورفعت پر مبنی موضوع ہے کیونکہ اس  کا تعلق براہ راست رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی ذات بابرکات سے ہے۔جتنا یہ بلند عظمت ہے اتنا ہی اس کے عروج میں رکاوٹیں کھڑی کی گئیں اور اس کو مشکوک بنانے کی  سعی ناکام کی گئی۔علمائے حدیث نے دفاع حدیث کے لیے ہر موضوع پر گرانقدر تصنیفات لکھیں۔اسی سلسلے کی ایک کڑی عظمت حدیث کے نام سے عبدالرشید عراقی صاحب کی تصنیف ہے  جس میں انہوں نے عظمت حدیث کےساتھ ساتھ حجیت حدیث ،مقام حدیث،تدوین حدیث،اقسام کتب حدیث،اصطلاحات حدیث،مختلف محدثین ائمہ کرام جو کہ صحاح ستہ کے مصنفین ہیں ان کے حالات اور علمی خدمات،مختلف صحابہ کا تذکرہ  کرتے ہوئے مختلف شروحات حدیث کو اپنی اس کتاب میں موضوع بنایا ہے۔

     

     

     

  • pages-from-ahmiyyat-e-hadees
    سید محمد اسماعیل مشہدی

    نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے اقوال، افعال اور آپ کے سامنے پیش آنے والے واقعات کو حدیث کا نام دیا جاتا ہے، جو درحقیقت قرآن مجید کی توضیح وتشریح ہی ہے۔کتاب وسنت یعنی قرآن وحدیث ہمارے دین ومذہب کی اولین اساس وبنیاد ہیں۔ پھر ان میں کتاب الٰہی اصل اصول ہے اور احادیث رسول اس کی تبیین و تفسیر ہیں۔ خدائے علیم وخبیر کا ارشاد ہے ”وَاَنْزَلْنَا اِلَیْکَ الذِّکْرَ لِتُبَیّن لِلنَّاسِ مَا نُزِّلَ اِلَیْہِمْ“ (النحل:44) اور ہم نے اتارا آپ کی طرف قرآن تاکہ آپ لوگوں کے سامنے اسے خوب واضح کردیں۔اس فرمان الٰہی سے معلوم ہوتا ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی رسالت کا مقصد عظیم قرآن محکم کے معانی و مراد کا بیان اور وضاحت ہے۔ آپﷺنے اس فرض کو اپنے قول و فعل وغیرہ سے کس طور پر پورا فرمایا، سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا نے اسے ایک مختصر مگر انتہائی بلیغ جملہ میں یوں بیان کیا ہے ”کان خلقہ القرآن“(مسند احمد:24601)یعنی آپ کی برگزیدہ ہستی مجسم قرآن تھی، لہٰذا اگر قرآن حجت ہے (اور بلا ریب وشک حجت ہے) تو پھر اس میں بھی کوئی تردد و شبہ نہیں ہے کہ اس کا بیان بھی حجت ہوگا، آپ نے جو بھی کہا ہے،جو بھی کیا ہے، وہ حق ہے، دین ہے، ہدایت ہے،اور نیکی ہی نیکی ہے، اس لئے آپ کی زندگی جو مکمل تفسیر کلام ربانی ہے آنکھ بند کرکے قابل اتباع ہے ”لَقَدْ کَانَ لَکُمْ فِی رَسُولِ اللّٰہِ اُسْوَة حَسَنَةٌ“ (احزاب:21)خدا کا رسول تمہارے لئے بہترین نمونہٴ عمل ہے، علاوہ ازیں آپ ﷺکو خداے علی وعزیز کی بارگاہ بے نہایت سے رفعت وبلندی کا وہ مقام بلند نصیب ہے کہ ساری رفعتیں اس کے آگے سرنگوں ہیں حتی کہ آپ کے چشم وابرو کے اشارے پر بغیر کسی تردد وتوقف کے اپنی مرضی سے دستبردار ہوجانا معیار ایمان و اسلام ٹھہرایا گیا ہے۔ زیر تبصرہ کتاب ’’اہمیت حدیث‘‘سید محمداسماعیل مشہدی کے 1376ھ کو عام خاص باغ ،ملتان میں حدیث کی اہمیت کے موضوع پر سالانہ جلسہ میں کیےگیے خطاب کی کتابی صورت ہے۔ اس خطاب میں انہوں نے منکرین حدیث کے چند اعتراضات کے مدلل جواب دیے اور حدیث کی اہمیت وحجیت کو خو ب اجاگر کیا۔ تو بعد ازاں اسے افادۂ عام کےلیے کتابی صورت میں شائع کیا گیا ۔

  • title-pages-barre-sagheer-pak-w-hind-me-ilam-e-hadith-copy
    عبد الرشید عراقی

    برصغیر پاک وہند میں علم حدیث کا آغاز پہلی صدی ہجری سے ہوا اور دوسری صدی ہجری میں حضرت ربیع بن صبیح بصری(م160ھ) برصغیر میں وارد ہوئے اور اس کے بعد ہرصدی میں کوئی نہ کوئی محدث برصغیر میں تشریف لاتے رہے ۔برصغیر پاک و ہند میں علمائے اہل حدیث نے اسلام کی سربلندی ، اشاعت ، توحید و سنت نبوی ﷺ کےلیے جو کارہائے نمایاں سرانجام دیئے ہیں وہ تاریخ میں سنہری حروف سے لکھے جائیں گے او رعلمائے اہلحدیث نے مسلک صحیحہ کی اشاعت و ترویج میں جو فارمولا پیش کیا اس سے کسی بھی پڑھے لکھے انسان نے انکار نہیں کیاعلمائے اہلحدیث نے اشاعت توحید و سنت نبویﷺ اور اس کے ساتھ ہی ساتھ شرک و بدعت کی تردید میں جو کام کیاہے اور جو خدمات سرانجام دی ہیں وہ ایک سنگ میل کی حیثیت رکھتی ہیں۔
    زیر تبصرہ کتا ب’’برصغیر پاک وہند میں علم حدیث ‘‘ وطن عزیز کے معروف قلمکاروسوانح نگار مولانا عبد الرشید عراقی کی تصنیف ہے ۔ اس کتاب میں انہوں نے برصغیر پاک وہند کے علمائے اہل حدیث کی حدیثی خدمات کاتذکرہ کیا ہے ۔نیز علماء اہل حدیث نے خدمت حدیث کے سلسلے میں جو کتابیں تصنیف کیں کی ان کا اس کتاب میں ذکر کیا ہے بقول مصنف اس کتاب میں 436 کتابوں کا ذکر کیا گیا ہے ۔اور اس کے علاوہ چند مشہور علمائے کرام کے مختصر حالات بھی قلم بند کیے ہیں۔ علاوہ ازیں عراقی صاحب نےان کتابوں کا بھی ذکر کیا ہے جو حدیث کی حمایت وتائید اورنصرت ومدافعت میں لکھی گئی ہیں۔اللہ تعالیٰ عراقی صاحب کی تمام تصنیفی خدمات کو قبول فرمائے ۔(آمین) (م۔ا)

  • title-pages-bastan-al-arbaen-copy
    محمد صادق سیالکوٹی

    کتاب اللہ اور سنت رسول ﷺدینِ اسلامی کے بنیادی مآخذ ہیں۔ احادیث رسول ﷺ کو محفوظ کرنے کے لیے کئی پہلوؤں اور اعتبارات سے اہل علم نے خدمات انجام دیں۔ تدوینِ حدیث کا آغاز عہد نبوی ﷺ سے ہوا صحابہ وتابعین کے دور میں پروان چڑھا او ر ائمہ محدثین کےدور میں خوب پھلا پھولا ۔مختلف ائمہ محدثین نے احادیث کے کئی مجموعے مرتب کئے او رپھر بعدمیں اہل علم نے ان مجموعات کے اختصار اور شروح ،تحقیق وتخریج او رحواشی کا کام کیا۔مجموعاتِ حدیث میں اربعین نویسی، علوم حدیث کی علمی دلچسپیوں کا ایک مستقل باب ہے ۔عبداللہ بن مبارک﷫ وہ پہلے محدث ہیں جنہوں نے اس فن پر پہلی اربعین مرتب کرنے کی سعادت حاصل کی ۔بعد ازاں علم حدیث ،حفاظت حدیث، حفظ حدیث اورعمل بالحدیث کی علمی او رعملی ترغیبات نے اربعین نویسی کو ایک مستقل شعبۂ حدیث بنادیا۔ اس ضمن میں کی جانے والی کوششوں کے نتیجے میں اربعین کے سینکڑوں مجموعے اصول دین، عبادات، آداب زندگی، زہد وتقویٰ او رخطبات و جہاد جیسے موضوعات پر مرتب ہوتے رہے ۔ برضعیر پاک وہند کے علماء بھی مختلف موضوعات پر چالیس احادیث جمع کرنے میں پیش پیش رہے۔ زیر نظر کتاب ’’بستان الاربعین ‘‘پاکستان کے معروف عالم دین مصنف کتب کثیرہ مولانا محمد صادق سیالکوٹی ﷫ کی کاوش ہے جس میں انہوں نے مختلف موضوعا ت پر چالیس احادیث جمع کیں۔یہ احادیث دین اسلام کے متعدد تقاضے پورے کرنے والی ہیں ۔ان احادیث پر عمل کرنے سے مسلمانوں کی زندگی کے کئی تاریک پہلو نور کے سانچے میں ڈھل سکتے ہیں۔ان حادیث کو ہمیں اپنے بچوں اور مدارس وسکولوں کےطلبہ وطالبات کویاد کروانی چاہییں ۔ اللہ تعالیٰ مصنف موصوف کی تمام مساعی حسنہ کو قبول فرمائے اور اس کتابچہ کو عوام الناس کےلیے نفع بخش بنائے (آمین) (م۔ا)

  • title-pages-bastan-al-muhaddiseen-copy
    شاہ عبد العزیز دہلوی

    اللہ تعالیٰ نے بنی نوع انسان کی رہنمائی کے لیے روز اول سے ہر دو میں اُ س دور کی ضرورت کے مطابق انبیاء﷩ کا سلسلہ قائم کیا اور ہر نبی کو کوئی کتاب یا صحیفہ عطا کیا ‘ اس نبوت کے سلسلے کی آخری کڑی جناب حضور کریمﷺ ہیں جنہیں قرآن وحدیث جیسی عظیم کتب سے نوازا گیا  اور پھر اس کی حفاظت کا ذمہ بھی لے لیا کیونکہ شریعت محمدیﷺ قیامت تک کے لیے تھی اس لیے اس کی حفاظت نہایت اہم اور ضروری تھی۔ اور اللہ عزوجل نے نبیﷺ کے بعد یہ کام امت محمدیہ کے علماء پر عائد کر دیا کہ وہ اس کی حفاظت اور اس کے پھیلاؤ کا باعث بنیں اور اس پر علمائے امت نے بہت سی تصانیف لکھیں۔ زیرِ تبصرہ کتاب  میں  ان کتب کا تذکرہ ہے جو خاص حدیث کے موضوع پر لکھیں گئی ہیں اور پھر ان کتب اور مصنفین  کا اجمالی تعارف بھی دیا گیا ہے تاکہ اس نام کی کتب سے عوام الناس بہر ور ہو سکیں۔ یہ کتاب اصلاً فارسی میں ہے جس کے کئی عربی اور اردو  تراجم بھی ہوئے ہیں ۔ اس کتاب میں جو کہ اردو ترجمہ ہے میں لفظی ترجمہ نہیں ہے بلکہ محاورہ اردو کے موافق  جس کی وجہ سے متن الفاظ کی تقدیم وتاخیر ہے۔ اور پہلے نسخوں میں موجود نقائص کو حد الامکان درست کرنے کی کوشش کی گئی ہے‘ مشکل الفاظ یا محدثین واہل فقہ کی اصطلاحوں کو حاشیہ میں بیان کیا گیا ہے ۔ یہ کتاب’’ بستان المحدثین ‘‘ شاہ عبد العزیز محدث دہلوی کی مرتب کردہ ہے۔آپ تصنیف وتالیف کا عمدہ شوق رکھتے ہیں‘ اس کتاب کے علاوہ آپ کی اور کتب بھی ہیں۔ دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ مؤلف وجملہ معاونین ومساعدین کو اجر جزیل سے نوازے اور اس کتاب کو ان کی میزان میں حسنات کا ذخیرہ بنا دے اور اس کا نفع عام فرما دے۔(آمین)( ح۔م۔ا )

  • untitled-1
    ابن حجر العسقلانی
    علم حدیث  ایک عظمت ورفعت پر مبنی موضوع ہے کیونکہ اس  کا تعلق براہ راست رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی ذات بابرکات سے ہے۔جتنا یہ بلند عظمت ہے اتنا ہی اس کے عروج میں رکاوٹیں کھڑی کی گئیں اور اس کو مشکوک بنانے کی  سعی ناکام کی گئی۔علمائے حدیث نے دفاع حدیث کے لیے ہر موضوع پر گرانقدر تصنیفات لکھیں۔اسی سلسلے کی ایک کڑی عظمت حدیث کے نام سے عبدالرشید عراقی صاحب کی تصنیف ہے  جس میں انہوں نے عظمت حدیث کےساتھ ساتھ حجیت حدیث ،مقام حدیث،تدوین حدیث،اقسام کتب حدیث،اصطلاحات حدیث،مختلف محدثین ائمہ کرام جو کہ صحاح ستہ کے مصنفین ہیں ان کے حالات اور علمی خدمات،مختلف صحابہ کا تذکرہ  کرتے ہوئے مختلف شروحات حدیث کو اپنی اس کتاب میں موضوع بنایا ہے۔

  • title-pages-blogh-ul-maraam-1-copy
    ابن حجر العسقلانی

    کتاب اللہ اور سنت رسول ﷺدینِ اسلامی کے بنیادی مآخذ ہیں۔ احادیث رسول ﷺ کو محفوظ کرنے کے لیے کئی پہلوؤں اور اعتبارات سے اہل علم نے خدمات انجام دیں۔ تدوینِ حدیث کا آغاز عہد نبوی سے ہوا صحابہ وتابعین کے دور میں پروان چڑھا او ر ائمہ محدثین کےدور میں خوب پھلا پھولا ۔مختلف ائمہ محدثین نے احادیث کے کئی مجموعے مرتب کئے او رپھر بعدمیں اہل علم نے ان مجموعات کے اختصار اور شروح ،تحقیق وتخریج او رحواشی کا کام کیا۔او ربعض محدثین نے احوال ظروف کے مطابق مختلف عناوین کےتحت احادیث کوجمع کیا۔انہی عناوین میں سے ایک موضوع ’’احادیثِ احکام‘‘ کوجمع کرنا ہے۔اس سلسلے میں امام عبد الحق اشبیلی کی کتاب ’’احکام الکبریٰ‘‘امام عبد الغنی المقدسی کی ’’عمدۃ الاحکام ‘‘علامہ ابن دقیق العید  کی ’’الالمام فی احادیث الاحکام ‘‘او رحافظ ابن احجر عسقلانی کی ’’بلوغ المرام من الاحادیث الاحکام ‘‘ قابل ذکر ہیں۔ آخر الذکر کتاب مختصر اور ایک جامع مجموعۂ احادیث ہے۔ جس میں طہارت، نماز، روزہ، حج، زکاۃ، خرید و فروخت، جہاد و قتال غرض تمام ضروری احکام و مسائل پر احادیث کو فقہی انداز پر جمع کر دیا گیا ہے۔ مسائل واحکام کا یہ نہایت اہم او ر گرانقدر مجموعہ علماء او رطلباء کےلیے یکساں مفید ہے ۔ اپنی اہمیت وافادیت اور جامعیت کے پیش نظر یہ کتاب دنیا بھر کےمدارسِ اسلامیہ میں داخل نصاب ہے ۔ اور کئی اہل علم نے اس کی شروحات لکھیں اور ترجمے بھی کیے ہیں ۔ شروحات میں بدر التمام،سبل السلام ،فتح العلام وغیرہ قابل ذکر ہیں۔ اردو زبان میں علامہ عبد التواب ملتانی  ،مولانا محمد سلیمان کیلانی کا ترجمہ وحاشیہ بھی اہل علم کے ہاں متعارف ہیں اور اسی طرح ماضی قریب کے معروف سیرت نگار اور نامور عالم دین مولانا صفی الرحمن مبارکپوری﷫ نے بھی نے اس کی عربی میں ا’تحاف الکرام ‘‘کے نام سے مختصر شرح لکھی اور پھر خود اس کا ترجمہ بھی کیا۔دارالسلام نےاسے طباعت کےعمدہ معیار پر شائع کیا ہے اور اسے بڑا قبول عام حاصل ہے ۔ اور شیخ الحدیث حافظ عبدالسلام بھٹوی ﷾ کی کتاب الجامع کی شرح بھی بڑی اہم ہے یہ تینوں کتب کتاب وسنت ویب سائٹ پر بھی موجود ہے۔ زیر تبصرہ بلوغ المرام کا ترجمہ ومختصر شرح ماضی قریب کے معروف سیرت نگار اور نامور عالم دین مولانا صفی الرحمن مبارکپوری﷫ کا ہے جوکہ نہایت خوبصورت ہے ۔ ہر حدیث کےنیچے پہلے لغوی تشریح اور پھر حاصل کلام کے عنوان سے شرح بھی لکھ دی گئی ہے تاکہ ہر حدیث کی وضاحت ہو جائے اور جو احکام اس حدیث سے مستنبط ہوتے ہیں ان کی تشریح وتفہیم آسان ہوجائے ۔زیر نظر جدید ایڈیشن میں احادیث کے فوائد میں مزید اضافے ، تخریج وتحقیق اور راویوں کے مختصر حالات زندگی بھی درج کیے گئے ہیں ۔جس سے اس کتاب کی افادیت واہمیت میں بے حد اضافہ ہوگیا ہے ۔اللہ تعالیٰ اس کتاب کو اس قدر عمدگی سے تیار کرنے والے اور ناشرین کی تمام مساعی جمیلہ کوقبول فرمائے(آمین) (م۔ا)

  • title-pages-blogh-ul-maraam-2-copy
    ابن حجر العسقلانی

    کتاب اللہ اور سنت رسول ﷺدینِ اسلامی کے بنیادی مآخذ ہیں۔ احادیث رسول ﷺ کو محفوظ کرنے کے لیے کئی پہلوؤں اور اعتبارات سے اہل علم نے خدمات انجام دیں۔ تدوینِ حدیث کا آغاز عہد نبوی سے ہوا صحابہ وتابعین کے دور میں پروان چڑھا او ر ائمہ محدثین کےدور میں خوب پھلا پھولا ۔مختلف ائمہ محدثین نے احادیث کے کئی مجموعے مرتب کئے او رپھر بعدمیں اہل علم نے ان مجموعات کے اختصار اور شروح ،تحقیق وتخریج او رحواشی کا کام کیا۔او ربعض محدثین نے احوال ظروف کے مطابق مختلف عناوین کےتحت احادیث کوجمع کیا۔انہی عناوین میں سے ایک موضوع ’’احادیثِ احکام‘‘ کوجمع کرنا ہے۔اس سلسلے میں امام عبد الحق اشبیلی کی کتاب ’’احکام الکبریٰ‘‘امام عبد الغنی المقدسی کی ’’عمدۃ الاحکام ‘‘علامہ ابن دقیق العید  کی ’’الالمام فی احادیث الاحکام ‘‘او رحافظ ابن احجر عسقلانی کی ’’بلوغ المرام من الاحادیث الاحکام ‘‘ قابل ذکر ہیں۔ آخر الذکر کتاب مختصر اور ایک جامع مجموعۂ احادیث ہے۔ جس میں طہارت، نماز، روزہ، حج، زکاۃ، خرید و فروخت، جہاد و قتال غرض تمام ضروری احکام و مسائل پر احادیث کو فقہی انداز پر جمع کر دیا گیا ہے۔ مسائل واحکام کا یہ نہایت اہم او ر گرانقدر مجموعہ علماء او رطلباء کےلیے یکساں مفید ہے ۔ اپنی اہمیت وافادیت اور جامعیت کے پیش نظر یہ کتاب دنیا بھر کےمدارسِ اسلامیہ میں داخل نصاب ہے ۔ اور کئی اہل علم نے اس کی شروحات لکھیں اور ترجمے بھی کیے ہیں ۔ شروحات میں بدر التمام،سبل السلام ،فتح العلام وغیرہ قابل ذکر ہیں۔ اردو زبان میں علامہ عبد التواب ملتانی  ،مولانا محمد سلیمان کیلانی کا ترجمہ وحاشیہ بھی اہل علم کے ہاں متعارف ہیں اور اسی طرح ماضی قریب کے معروف سیرت نگار اور نامور عالم دین مولانا صفی الرحمن مبارکپوری﷫ نے بھی نے اس کی عربی میں ا’تحاف الکرام ‘‘کے نام سے مختصر شرح لکھی اور پھر خود اس کا ترجمہ بھی کیا۔دارالسلام نےاسے طباعت کےعمدہ معیار پر شائع کیا ہے اور اسے بڑا قبول عام حاصل ہے ۔ اور شیخ الحدیث حافظ عبدالسلام بھٹوی ﷾ کی کتاب الجامع کی شرح بھی بڑی اہم ہے یہ تینوں کتب کتاب وسنت ویب سائٹ پر بھی موجود ہے۔ زیر تبصرہ بلوغ المرام کا ترجمہ ومختصر شرح ماضی قریب کے معروف سیرت نگار اور نامور عالم دین مولانا صفی الرحمن مبارکپوری﷫ کا ہے جوکہ نہایت خوبصورت ہے ۔ ہر حدیث کےنیچے پہلے لغوی تشریح اور پھر حاصل کلام کے عنوان سے شرح بھی لکھ دی گئی ہے تاکہ ہر حدیث کی وضاحت ہو جائے اور جو احکام اس حدیث سے مستنبط ہوتے ہیں ان کی تشریح وتفہیم آسان ہوجائے ۔ زیر نظر جدید ایڈیشن میں احادیث کے فوائد میں مزید اضافے ، تخریج وتحقیق اور راویوں کے مختصر حالات زندگی بھی درج کیے گئے ہیں ۔جس سے اس کتاب کی افادیت واہمیت میں بے حد اضافہ ہوگیا ہے ۔اللہ تعالیٰ اس کتاب کو اس قدر عمدگی سے تیار کرنے والے اور ناشرین کی تمام مساعی جمیلہ کوقبول فرمائے(آمین) (م۔ا)

  • title-page-bloghul-maraam-jild1
    ابن حجر العسقلانی
    احكام ومسائل پر مشتمل مختصر اور آسان ترین کتابوں میں سے سب سے جامع اگر ’بلوغ المرام‘ کو قرار دیا جائے تو بے جا نہ ہوگا جس کے مؤلف بلند پایہ امام حافظ ابن حجر عسقلانی ہیں۔ بلوغ المرام کو جہاں مدارس دینیہ کے ابتدائی طلباء کے لیے بطور نصاب مقرر کیا گیا وہیں عوام میں بھی اسے بہت پذیرائی سے نوازا گیا۔ کتاب کی افادیت کو دیکھتے ہوئے عالم اسلام کی ممتاز شخصیت مولانا صفی الرحمن مبارکپوری نے اس کی عربی میں مختصر سی شرح بھی کی۔ زیر نظر کتاب اسی کتاب کا اردو ترجمہ ہے جس کے مطالعے سے آپ کو نماز، روزہ، حج ، اور زکوۃ سے لے کر نکاح وجہاد تک رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی صورت میں قرآن کریم کی عملی تفسیر دیکھنے کو ملے گی۔
  • title-page-bachon-k-liye-hadith-copy
    ڈاکٹر عبد الرؤف

    بچے‘ جنت کے پہول‘تتلیاں‘ آنکھوں کی ٹھنڈک‘ دل کا سرور اور زندگی کا نور ہیں۔ اسی لیے والدین اپنے پیارے بچوں کی چھوٹی چھوٹی خواہشیں بھی دل وجان سے پورا کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ کسی بھی قوم کی بڑی ذمہ داریوں میں سے ایک ذمہ داری اپنی نئی نسل کی تربیت ہے۔ امت مسلمہ کے لیے یہ کام اور بھی زیادہ اہم ہے۔ جو غیر مسلم قومیں مادہ پرستانہ نقطۂ نظر رکھتی ہیں‘ ان کے لیے نئی نسلوں کی تربیت نسبتاً آسان ہے کیونکہ انہوں نے اسلامی تعلیمات کے مطابق نہیں چلنا ہوتا‘ اس کے برعکس امت مسلمہ کے لیے دنیا کو  ایک عارضی  مرحلہ سمجھ کر بچوں کی تربیت کرنا ہوتی ہیں اور زندگی کے ہر شعبے میں اسلامی تعلیمات کی بھی پیروی کرنا ہوتی ہیں اور بچوں کے اخلاق وکردار سنوارنے کے لیے ان میں دینی تعلیمات سے لگاؤ پیدا کرنا بہت ضروری ہے۔ زیرِ تبصرہ کتاب  میں   بچوں کی رہنمائی کے لیے نبیﷺ کے فرامین کو آسان اور مختصر انداز میں اس طرح پیش کیا گیا ہے کہ ان کی روشنی میں بچوں کو اپنی سیرت اور کردار سنوارنے میں سہولت ہو گی۔ اور یہ کتاب خاص طور پر بچوں کے لیے مرتب کی گئی ہے۔ اس میں نبیﷺ کی پیاری پیاری باتوں اور اچھے اچھے کاموں کو پیش کیا گیا ہے اور نبیﷺ کی سبق آموز باتوں سے ساری دنیا  کے انسانوں نے فائدہ اُٹھایا ہے۔ زندگی سنوارنے کے لیے اِن باتوں  سے بہتر اور کہیں کہنے سننے میں نہیں آئیں۔ یہ کتاب’’ بچوں کے لیے حدیث ‘‘ ڈاکٹر عبد الرؤف کی مرتب کردہ ہے۔آپ تصنیف وتالیف کا عمدہ شوق رکھتے ہیں‘ اس کتاب کے علاوہ آپ کی اور کتب بھی ہیں۔ دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ مؤلف وجملہ معاونین ومساعدین کو اجر جزیل سے نوازے اور اس کتاب کو ان کی میزان میں حسنات کا ذخیرہ بنا دے اور اس کا نفع عام فرما دے۔(آمین)( ح۔م۔ا )

  • title-pages-bahjat-al-nazireen-sharha-riaz-al-saliheen-1-copy
    یحیٰ بن شرف النووی

    "ریاض الصالحین" ساتویں صدی ہجری کے امام ابو زکریا یحییٰ بن شرف النووی﷫ کی ایسی عظیم الشان تالیف ہے کئی صدیوں سے یہ مجموعہ حدیث سے امت مسلمہ میں مقبول ہے ۔اس میں عام آدمی کودرپیش تمام مسائل کا حل قرآن کریم کی آیات اور منتخب صحیح احادیث کی روشنی میں پیش کیا گیا ہے عبادات سے لے کر معاملات تک اور معاشرت سے لے کر سیاسیات تک، زندگی کے تمام اہم شعبوں کے لیے قرآن و حدیث سے جس طرح رہنمائی مہیا فرمائی گئی ہے اس نے اسے اسلامی لٹریچر میں ایک نمایاں اور ممتاز مقام عطا کیا ہے اور اسی وجہ سے اسے ہر طبقے میں یکساں مقبولیت حاصل ہے۔ یہ ایک بہترین تبلیغی نصاب ہے جو قرآنی آیات اور صحیح احادیث سے مزین ہے۔ ضعیف و موضوع روایات اور من گھڑت قصے کہانیوں سے پاک جو اس لائق ہے کہ عوام اسے حرز جاں اور آویزۂ گوش بنائیں۔ یہ ایک ضابطہ حیات ہے جس کی روشنی میں ایک مسلمان اپنے شب و روز کے معمولات مرتب کر سکتا ہے اور ایک ایسا آئینہ ہے جس کو سامنے رکھ کر اپنے اخلاق و کردار کی کوتاہیوں کو دور کیا جا سکتا ہے۔اس کتاب کی اسی اہمیت کی وجہ سےعربی زبان میں اس کی متعدد شروح لکھی گئی ہیں اور اردو زبان میں بھی اس کے متعدد تراجم کئے گئے ہیں۔ زیر تبصرہ کتاب ’’بہجۃ الناظرین شرح ریاض الصالحین ‘‘ اردن کے نامور عالم دین فضیلۃ الشیخ ابو اسامہ سلیم بن عید الھلالی کی تصنیف ہے۔ موصوف محدث العصر علامہ ناصر الدین البانی ﷫ کے ارشد تلامذہ میں سے ہیں ۔ان کے قلم سے تحریر شدہ کئی ایک کتب شائع ہو کر عالم عرب میں شرف قبولیت حاصل چکی ہیں اور ان کی بعض تصانیف کےانگریزی تراجم بھی ہوچکے ہیں۔شیخ کی کتاب ہذا کے ترجمہ و تلخیص کا کام جناب ابوانس محمد سرورگوہر،حافظ مطیع اللہ اور محمد اشیتاق اصغر صاحب نے کیا ہے ۔مکتبہ قدوسیہ ،لاہور کے مدیر ابو بکر قدوسی ﷾ نے اس کتاب کو دو جلدوں میں شائع کیا ہے ۔ یہ کتاب احادیث نبویہ پرمشتمل بیش قیمت خوبصورت تحفہ ہے۔ علمائے کرام خطباء اور واعظوں کے ساتھ ساتھ طالبانِ حدیث نبوی اور عام قارئین اس سے مستفیدہوکر ہر قدم پر رہنمائی حاصل کرسکتے ہیں ۔اللہ تعالی ٰ اس کو اس قدر عمدگی سے تیار کرنے والوں او رناشرین کی اس کاوش کوقبول فرمائے (آمین) (م۔ا)

  • title-page-biyaz-ul-arabaien
    محمد ابو الحسن سیالکوٹی
    قرآن وحدیث کی تعلیمات کو مدنظر رکھتے ہوئے امر بالمعروف اور نہی عن المنکر کا فريضہ بعض علماء کے نزدیک فرض عین او ربعض کےنزدیک فرض کفایہ قرار پایا  لیکن حقیقت یہ ہے کہ کسی بھی مسلمان کےلیے اس فريضہ سے مفر نہیں ہے اور نہیں تو کم ازکم اپنی اولاد کی تربیت کےلیے ہرمسلمان پر لازم ہے کہ وہ قرآ ن وحدیث سے اتنا علم ضرور حاصل کرے کہ اسلام کے بنیادی عقائد اور اسلامی معاشرہ سے متعلق احادیث کا ایک ذخیرہ ہرمسلمان کےدل ودماغ میں محفوظ ہو تاکہ کتاب وسنت کے احکامات پر عمل کرتے ہوئے ہم ایک اسلامی معاشرہ کی تشکیل دے سکیں اسی مقصد کے پیش نظر مولانا حکیم محمد صادق سیالکوٹی نے معاشرے میں روز مرہ زندگی سے تعلق رکھنے والی چالیس احادیث کا مجموعہ ’’بیاض اربعین‘‘ کے عنوان سے ترتیب دیاہے جسے قبول عام کا درجہ حاصل ہے ۔
  • copy-of-title-pages-tareekh-e-iraan-1
    پروفیسر مقبول بیگ بد خشانی
    تاریخ ایران   اردو دان طبقہ کے لیے ایک قیمتی دستاویز ہے جو اپنے اندربیش بہا معلومات کا خزینہ لیے ہوئے ہے ۔اس میں ایران کی تاریخ کے حوالے سے  قریبا تمام پہلووں سے بحث کی گئی ہے ۔ مثلا ایران کے حدود اربعہ ، تہذیب و ثقافت ، انداز سیاست ،فنون لطیفہ ،زبان کا ارتقاء اور مذہب کے حوالے سے سیر حاصل بحث کی گئی ہے ۔کتاب کو مختلف آٹھ ابواب میں تقسیم کیا گیا ہے ۔جن میں درج ذیل امور پر بحث کی گئی ہے ۔ ایران کے طبعی حالات، ہمسایہ اقوام، ایران کا دور قبل از تاریخ، قدیم ایران کے آریا او ر آل ماد، ہخامنشی دور، سیلوکی دور، اشکانی دوراور ساسانی دوروغیرہ۔
    مذکورہ تالیف دو ضخیم جلدوں میں ہے۔ اس کے مولف پروفیسر مقبول بیگ بدخشانی ہیں  جو ایرانی تاریخ کے ساتھ ساتھ فارسی زبان کے ادیب بھی ہیں ۔ موصوف متعدد کتب کے مصنف او رفارسی کے پروفیسر ہیں۔(ناصف)

    نوٹ:
    محدث فورم میں اس کتاب پر تبصرہ کرنے کے لیے یہاں کلک کریں
  • title-pages-tareekh-tahafuze-sunnat-aur-khidmate-muhaddaseen-copy
    ڈاکٹر اقبال احمد محمد اسحاق بسکوہری

    قرآن کریم تمام شرعی دلائل کا مآخذ ومنبع ہے۔اجماع وقیاس کی حجیت کے لیے بھی اسی سے استدلال کیا جاتا ہے ،اور اسی نے سنت نبویہ کو شریعت ِاسلامیہ کا مصدرِ ثانی مقرر کیا ہے مصدر شریعت اور متمم دین کی حیثیت سے قرآن مجید کے ساتھ سنت نبویہ کوقبول کرنےکی تاکید وتوثیق کے لیے قرآن مجید میں بے شمار قطعی دلائل موجود ہیں۔اہل سنت الجماعت کا روزِ اول سے یہ عقیدہ رہا ہے کہ رسول اللہ ﷺ کی سنت کی ایک مستقل شرعی حیثت ہے ۔اتباعِ سنت جزو ایمان ہے ۔حدیث سے انکا ر واعراض قرآن کریم سے انحراف وبُعد کازینہ اور سنت سے اغماض ولاپرواہی اور فہم قرآن سے دوری ہے ۔سنت رسول ﷺکے بغیر قرآنی احکام وتعلیمات کی تفہیم کا دعو یٰ نادانی ہے ۔ اطاعت رسول ﷺ کے بارے میں یہ بات پیش نظر رہنی چاہیے کہ رسو ل اکرم ﷺ کی اطاعت صرف آپﷺ کی زندگی تک محدود نہیں بلکہ آپﷺ کی وفات کے بعد بھی قیامت تک آنے والے تمام مسلمانوں کے لیے فرض قرار دی گئی ہے ۔گویا اطاعتِ رسول ﷺ اورایمان لازم وملزوم ہیں اطاعت ہے تو ایمان بھی ہے اطاعت نہیں تو ایمان بھی نہیں ۔ اطاعت ِ رسول ﷺ کے بارے میں قرآنی آیات واحادیث شریفہ کے مطالعہ کے بعد یہ فیصلہ کرنا مشکل نہیں کہ دین میں اتباعِ سنت کی حیثیت کسی فروعی مسئلہ کی سی نہیں بلکہ بنیادی تقاضوں میں سے ایک تقاضا ہے ۔اتباع سنت کی دعوت کو چند عبادات کے مسائل تک محدود نہیں رکھنا چاہیے بلکہ یہ دعوت ساری زندگی پر محیط ہونی چاہیے۔جس طر ح عبادات(نماز ،روزہ، حج وغیرہ) میں اتباع سنت مطلوب ہے اسی طرح اخلاق وکردار ،کاروبار، حقوق العباد اور دیگر معاملات میں بھی اتباع سنت مطلوب ہے۔اللہ تعالیٰ نے ’’ مَنْ يُطِعِ الرَّسُولَ فَقَدْ أَطَاعَ اللَّه (سورہ نساء:80) کا فرمان جاری فرماکر دونوں مصادر پر مہر حقانیت ثبت کردی ۔ لیکن پھر بھی بہت سارے لوگوں نے ان فرامین کو سمجھنے اور ان کی فرضیت کے بارے میں ابہام پیدا کرکے کو تاہ بینی کا ثبوت دیا ۔مستشرقین اور حدیث وسنت کے مخالفین نے سنت کی شرعی حیثیت کو مجروح کر کے دینِ اسلام میں جس طرح بگاڑ کی نامسعود کوشش کی گئی اسے دینِ حق کے خلاف ایک سازش ہی کہا جاسکتا ہے ۔ لیکن الحمد للہ ہر دو ر میں محدثین اور علماءکرام کی ایک جماعت اس سازش اور فتنہ کا سدباب کرنے میں کوشاں رہی اور اسلام کے مذکورہ ماخذوں کے دفاع میں ہمیشہ سینہ سپر رہی اور قرون ِ اولیٰ سے عصر حاضر تک صحابہ کرام ائمہ دین اور محدثین عظام نے تحفظ سنت کے لیے بے مثال خدمات پیش کیں۔ زیر تبصرہ کتاب ’’تاریخ تحفظ سنتِ اور خدمات محدثین‘‘ انڈیا کے اسلامی اسکالر ڈاکٹر اقبال احمد محمد اسحاق بسکوہری ﷾کی تصنیف ہےاس کتاب میں انہوں نے تحفظ سنت کے سلسلے میں صحابہ کرام ائمہ دین اور محدثین عظام کی بے مثال خدمات کی ایک جھلک پیش کرنے کی کو شش کی ہے ۔ فاضل مصنف نے کتاب کو مقدمہ کے علاوہ حسب ذیل چار ابواب میں تقسیم کیا ہے ۔تحفظِ سنت کی عملی خدمات،تحفظ سنت کی علمی خدمات ، تحفط سنت کی دفاعی خدمات،تحفظ سنت کی تشریحی خدمات ۔اللہ تعالیٰ مصنف کی اس کاوش کو قبول فرماکر اسے امت مسلمہ کے لیے مفید بنائے (آمین) (م۔ا)

  • title-page-tarikh-e-hadith--jadeed-audition--copy
    ڈاکٹر غلام جیلانی برق

    حدیث شریعتِ اسلامیہ کا دوسرا اور آخری الہامی ذخیرہ وماخذ ہے جسے قرآن کریم کی طرح بذریعہ وحی زبان رسالت نے پیش کیا ہے ۔ یہ اس ہستی کا عطا کردہ خزانہ ہے جس کا ہر قول وعمل ،لغرش وخطاء سے پاک اور محفوظ ہے اسی لیے اس منصب عالی کے نتائج بھی ہر خطا سےمحفوظ ہیں ۔جب کہ دوسرے مناصب کی شخصیت کو یہ مقام حاصل نہیں۔یہ وہ دین ہے جس کے بغیر قرآن وفہمی ناممکن اور فقہی استدلال فضول نظرآتے ہیں۔اس میں کسی کی پیونکاری کی ضرورت نہیں۔ یہ اس شخصیت کے کلمات ہیں جنہیں مان کر ابو بکروعمر ،عثمان وعلی یا ایک عام شخص صحابی رسول بنا اور اللہ تعالیٰ کے ہاں کا رتبہ پایا ۔ جس نے اسے نہ مانا وہ ابو لہب اور ابو جہل ٹھہرا۔ یہ وہ منزل من اللہ وحی ہے حسے نظر انداز کر کے کوئی شخص اپنے ایمان کو نہیں بچا سکتا ہے ۔ اللہ تعالیٰ نے ہر رسول کی بعثت کا مقصد صرف اس کی اطاعت قراردیا ہے ۔جو بندہ بھی نبی اکرم ﷺ کی اطاعت کرے گا تو اس نے اللہ تعالیٰ کی اطاعت کی اور جو انسان آپ کی مخالفت کرے گا ،اس نے اللہ تعالی کے حکم سے روگردانی کی ۔ زیر تبصرہ کتاب’’تاریخ حدیث ‘‘ ڈاکٹر غلام جیلانی برق کی ہے ۔فاضل مصنف نے ا س کتاب میں حدیث پر قیمتی مباحث،مقام حدیث، حدیث بحیثیت تفسیر قرآن ، تاریخ تدوین حدیث ، منکرین سنت کےشبہات کا ازالہ اور محدثین کرام کی خدمات کا جلیلہ کا جامع انداز میں تذکرہ کیاہے۔فاضل مصنف نے حدیث نبوی ﷺ کی تائید وحمایت کاحق ادا کردیا ہے۔ آپ نے تاریخی ادوار کےاعتبار سے تدوین حدیث کی جو مفصل تاریخ بیان کی ہے اس سے مستشرقین کے تمام شکوک وشبہات کا ازالہ ہوجاتاہے۔اللہ تعالیٰ خدمت حدیث کےسلسلے میں مصنف کی اس کاوش کو قبول فرمائے ۔ (آمین)( رفیق الرحمن)

  • title-pages-tareekhe-hadees
    ڈاکٹر غلام جیلانی برق
    منکرین حدیث کی جانب سے احادیث رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے مجموعوں پر عموماً جو نقطہ اعتراض بلند کیا جاتا ہے وہ یہ ہے کہ تدوین حدیث حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی رحلت سے سو سال بعد ہوئی ہے اور لوگوں نے بہت سے ربط و یابس کو ملا کر احادیث کا نام دے دیا ہے۔ ’تاریخ حدیث‘ کے مطالعے سےآپ متعدد شہادتوں کی روشنی میں یہ جان پائیں گے کہ احادیث کا  معتد بہ حصہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اور صحابہ کرام ہی کے عہد میں مدون کیا جا چکا تھا۔ کتاب کے لائق مصنف غلام جیلانی برق نے کتاب کی تقسیم دو ابواب میں کی ہے پہلے میں تاریخ حدیث کے ضمن میں ہجرت رسول سے پہلے اور بعد کی دستاویزات کی وضاحت کرتے ہوئے صحابہ کے مجموعوں اور پھر پہلی اور دوسری صدی کے نوشتوں کا تعارف کروایا ہے۔ دوسرے باب میں امام عبدالرؤف المناوی کے مجموعہ احادیث سے استفادہ کرتے ہوئے بیاسی عنوانات کے تحت سات سو احادیث کا خوبصورت مجموعہ آپ کا منتظر ہے۔

  • title-page-tarikh-e-hadith-w-uslool-e-hadith-copy
    ڈاکٹر محمد طاہر مصطفٰے

    علم حدیث سے مراد ایسے معلوم قاعدوں اور ضابطوں کا علم ہے جن کے ذریعے سے کسی بھی حدیث کے راوی یا متن کے حالات کی اتنی معرفت حاصل ہوجائے کہ آیا راوی یا اس کی حدیث قبول کی جاسکتی ہے یا نہیں۔اور علم اصولِ حدیث ایک ضروری علم ہے ۔جس کے بغیر حدیث کی معرفت ممکن نہیں احادیث نبویہ کا مبارک علم پڑہنے پڑھانے میں بہت سی اصطلاحات استعمال ہوتی ہیں جن سے طالب علم کواگاہ ہونا از حدضرورری ہے تاکہ وہ اس علم میں کما حقہ درک حاصل کر سکے ، ورنہ اس کے فہم وتفہیم میں بہت سے الجھنیں پید اہوتی ہیں اس موضوع پر ائمہ فن وعلماء حدیث نے مختصر ومطول بہت سے کتابیں تصنیف فرمائی ہیں۔ زیر تبصرہ کتاب ’’ تاریخ حدیث و اصول حدیث‘‘ ڈاکٹر محمد طاہر مصطفیٰ کی ہے۔جس میں تاریخ حدیث ، اہمیت حدیث، ادوار حدیث، اصول حدیث اور صحاح ستہ کے بارے میں بہت ساری معلومات کو بیان کیا گیا ہے۔ فاضل مصنف نے اس کتاب میں فن مصطلح الحدیث کو ذہن نشین کروانے کی بھرپور کوشش کی ہے ۔مبتدی ومنتہی طالبان علوم نبوت کے لیے یہ کتاب یکساں مفید ہے ۔(رفیق الرحمن)

  • title-pages-tareekh-hadith-w-muhaddiseen--jadeed-audition--copy
    محمد ابو زہرہ مصری

    حدیث شریعتِ اسلامیہ کا دوسرا اور آخری الہامی ذخیرہ وماخذ ہے جسے قرآن کریم کی طرح بذریعہ وحی زبان رسالت نے پیش کیا ہے ۔ یہ اس ہستی کا عطا کردہ خزانہ ہے جس کا ہر قول وعمل ،لغرش وخطاء سے پاک اور محفوظ ہے اسی لیے اس منصب عالی کے نتائج بھی ہر خطا سےمحفوظ ہیں ۔جب کہ دوسرے مناصب کی شخصیت کو یہ مقام حاصل نہیں۔یہ وہ دین ہے جس کے بغیر قرآن وفہمی ناممکن اور فقہی استدلال فضول نظرآتے ہیں۔اس میں کسی کی پیونکاری کی ضرورت نہیں۔ یہ اس شخصیت کے کلمات ہیں جنہیں مان کر ابو بکروعمر ،عثمان وعلی یا ایک عام شخص صحابی رسول بنا اور اللہ تعالیٰ کے ہاں کا رتبہ پایا ۔ جس نے اسے نہ مانا وہ ابو لہب اور ابو جہل ٹھہرا۔ یہ وہ منزل من اللہ وحی ہے حسے نظر انداز کر کے کوئی شخص اپنے ایمان کو نہیں بچا سکتا ہے ۔ اللہ تعالیٰ نے ہر رسول کی بعثت کا مقصد صرف اس کی اطاعت قراردیا ہے ۔جو بندہ بھی نبی اکرم ﷺ کی اطاعت کرے گا تو اس نے اللہ تعالیٰ کی اطاعت کی اور جو انسان آپ کی مخالفت کرے گا ،اس نے اللہ تعالی کے حکم سے روگردانی کی ۔ اللہ تعالیٰ نے رسول اللہ ﷺ کی اطاعت کی تاکید کرتے ہوئے ارشاد فرمایا: وَمَا آتَاكُمُ الرَّسُولُ فَخُذُوهُ وَمَا نَهَاكُمْ عَنْهُ فَانْتَهُوا(الحشر:7) اللہ تعالیٰ کے اس فرمان ِعالی شان کی بدولت صحابہ کرام ،تابعین عظام اور ائمہ دین رسول اللہ ﷺ کے ہر حکم کو قرآنی حکم سمجھا کرتے تھے اور قرآن وحدیث دونوں کی اطاعت کویکساں اہمیت وحیثیت دیا کرتے تھے ،کیونکہ دونوں کا منبع ومرکز وحی الٰہی ہے ۔عمل بالحدیث کی تاکید اورتلقین کے باوجود کچھ گمراہ لوگوں نےعہد صحابہ ہی میں احادیث نبویہ سےمتعلق اپنےشکوک وشبہات کااظہارکرناشروع کردیا تھا ،جن کوپروان چڑہانےمیں خوارج ، رافضہ،جہمیہ،معتزلہ، اہل الرائے اور اس دور کے دیگر فرق ضالہ نےبھر پور کردار ادا کیا۔ حدیث نبویﷺ میں مہارت حاصل کرنےکے لیے اصول حدیث میں دسترس اور اس پر عبور حاصل کرناضروری ہے اس علم کی اہمیت کے پیش نظر ائمہ محدثین اور اصول حدیث کی مہارت رکھنےوالوں نے اس موضوع پر کئی کتب تصنیف کی ہیں۔ زیر تبصرہ کتاب’’تاریخ حدیث ومحدثین‘‘ مصرکے عالم دین استاذ محمد ابو زھو کی عربی کتاب ’’ الحدیث والمحدثون‘‘ کا اردو ترجمہ ہے۔فاضل مصنف نے ا س کتاب میں حدیث پر قیمتی مباحث ،مقام حدیث، حدیث بحیثیت تفسیر قرآن ، تاریخ تدوین حدیث ، منکرین سنت کےشبہات کا ازالہ اور محدثین کرام کی خدمات کا جلیلہ کا جامع انداز میں تذکرہ کیاہے۔فاضل مصنف نے حدیث نبوی ﷺ کی تائید وحمایت کاحق ادا کردیا ہے۔ آپ نے تاریخی ادوار کےاعتبار سے تدوین حدیث کی جو مفصل تاریخ بیان کی ہے اس سے مستشرقین کے تمام شکوک وشبہات کا ازالہ ہوجاتاہے۔اس کتاب کی اہمیت وافادیت کے پیش نظر محترم جناب پروفیسر غلام احمد حریری ﷫ (مترجم کتب کثیرہ )نے اسے اردو قالب میں ڈھالا ہے۔ زیر تبصرہ ایڈیشن اس کتاب کا جدید ایڈیشن ہے اس لیے اسے بھی سائٹ پر پبلش کردیاگیا ہے۔اللہ تعالیٰ خدمت حدیث کےسلسلے میں مصنف ومترجم کی اس کاوش کو قبول فرمائے ۔ (آمین)( م۔ا)

  • copy-of-title-pages-tareekh-w-tadween-e-sunnat
    ڈاکٹر محمد عجاج الخطیب
    رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی حدیث وسنت قرآن مقدس کا بیانی،اسلامی شریعت کا بنیادی ماخذ اور وحی الہیٰ ہے۔امت کے ہاں متفقہ طور  پر اس کا یہی مقام ہے لیکن بعض نام نہادج مسلم اور غیر مسلم گروہ اس کوشش میں مصروف رہتے ہیں کہ سنت کی پوزیشن کو مشکوک بنایا جائے چنانچہ اس کے لیے وہ مختلق قسم کے بے سروپا اعتراضات کرتے رہتے ہیں تاکہ ریب وشک کے دواعی کو ابھارا جاسکے۔اس ضمن میں ان کا ایک  اعتراض ،جسے یہ بہت زیادہ اچھالتے ہیں کہ حدیث تو دو صدیوں کے بعد لکھی گئی لہذا اس کا کیا اعتبار؟بہت سے حضرات جو اسلامی تاریخ وثقافت سے بے خبر اور ’جدید علوم‘کے پروردہ ہوتے ہیں ،اس اعتراض سے متاثر ہو جاتے ہیں ۔زیر نظر کتاب میں اسی اعتراض کا مدلل اور مصکت جواب دیا گیاہے۔اس کے مصنف ڈاکٹر عجاج الخطیب ہیں اور یہ کتاب ان کا پی ایچ ڈی کا مقالہ ہے جو کلیۃ العلوم الشرعیۃ قاہرہ میں پیش کیا گیا۔فاضل مصنف نے ثابت کیا ہے کہ تدوین حدیث کا آغاز عہد رسالت ہی سے شروع ہو گیا تھا۔مولانا عزیزالرحمن نے اس کارواں اردو ترجمہ کیا ہے ،جس سے اردو خواں طبقہ بھی اس سے مستفید ہو سکتا ہے ۔اس کتاب کے مطالعہ سے تدوین حدیث کے بارے میں پھیلائی گئی غلط فہمیوں کا ازالہ ہو گا اور حدیث وسنت پر ایمان وایقان میں اضافہ ہو گا۔(ط۔ا)

  • title-pages-tareekh-e-wahabiyat-haqaiq-k-aine-me
    ڈاکٹر محمد بن سعد الشویعر
    سلفی تحریک کو ابتداء سے لے کر موجودہ دور تک مختلف قسم کے الزامات و اتہامات اور دشنام طرازیوں کا سامنا ہے ۔ علماء سوء کی تمام تر توانائیاں اس نکتے پر کھپ رہی ہیں کہ اس تحریک کا راستہ کیسے روکا جائے ۔اس لیے کہ اس تحریک کی کامیابی اصل میں ان سیم و زر کے پجاریوں کی ناکامی ہے جنہوں نے دین کو بطور پیشہ کے اپنایا ہوا ہے ۔چنانچہ ان جضرات نے اللہ کے خوف کو بالائے طاق رکھتے ہوئے    تحریک اور بانیان تحریک کے لیے ہر طرح کی گالی کو  جائز قرار دے لیا بلکہ لوگوں کو اس سے متنفر کر نے کے لیے  تحریک کے نام کو ہی گالی  بنادیا اور اس مقدس تحریک کے ڈانڈے  دوسری صدی ہجری کی  ،رستمی وہابیت ،سے جاملائے پھر زور و شور سے یہ پروپیگنڈہ شروع کر دیا کہ  شیخ محمد کی یہ تحریک در اصل خارجیوں کی اباضی تحریک وہابیت کی صدائے بازگشت ہے ،تاکہ علماء سلف کے فتاوی اور عوام الناس  کی نفرت کا رخ اباضی تحریک سے سلفی تحریک کی جانب موڑ دیا جائے۔اس تاریخی غلطی کی اصلاح اور الزامات و اتہامات کے مسکت جواب کے لیے  ڈاکٹر محمدبن  سعد  الشویعر کی یہ تالیف  نہایت ہی عمدہ کاوش ہے ۔موصوف مفتی اعظم سعودی عرب کے مشیر  اور مستند عالم دین ہیں ۔سلفی تحریک    سے آگاہی اوراس پر اعتراضات کے مسکت  اور شافی جوابات کے لیے شاید اس سے بہتر  کتاب دستیاب نہیں ہے۔  (ناصف)

    نوٹ:
    محدث فورم میں اس کتاب پر تبصرہ کرنے کے لیے یہاں کلک کریں
  • title-pages-tehreek-ahle-hadees-tareekh-k-aine-me
    قاضی محمد اسلم سیف
    مسلک اہل حدیث پر عموماً یہ اعتراض وارد کیا جاتا ہے کہ یہ ایک نو ایجاد مذہب ہے اور اس کے ڈانڈے اسلام دشمن قوتوں سے ملتے ہیں حالانکہ حقیقت میں ’اہل حدیث‘ اس طرز فکر کا نام ہے جس کا سرچشمہ صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین جیسی مقدس شخصیات ہیں۔ مسلک ’اہل حدیث‘ کے بارے میں وارد کیے جانے والے تمام اعتراضات و شبہات کے ازالے کے لیے قاضی محمد اسلم سیف صاحب فیروز پوری تاریخی حقائق سے لیس ہو کر سامنے آئے ہیں۔ انھوں نے براہین قاطعہ کی روشنی میں ثابت کیا ہے کہ اہل حدیث کسی خاص فرقہ یا گروہ کا نام نہیں ہے اور نہ ہی اصحاب الحدیث کی کوئی فنی اصطلاح ہے بلکہ یہ وہ نظریاتی اور اصلاحی تحریک ہے جس کا نصب العین کتاب و سنت کے ساتھ تمسک ہے۔ مولانا نے بہت سے حقائق کو مسلسل پیرایہ میں نظم کرتے ہوئے ہر دور میں اہل حدیث کے زاویہ نگاہ کو واضح صورت میں پیش کر دیا ہے۔ پھر اسی پر بس نہیں کی بلکہ ہر دور کے اہل حدیث زعماء کے تجدیدی اور اصلاحی کارناموں کو صفحہ قرطاس پر بکھیر دیا ہے۔ کتاب کی خوبی یہی ہے کہ اہل الحدیث کےبارے میں تمام جزئیات و کلیات کے ذکر میں کوئی دقیقہ فروگزاشت نہیں ہونے دیا گیا۔(ع-م)
  • title-pages-tuhfa-e-hadith-copy
    محمد امین اثری

    اسلام کے دوبنیادی اور صافی سرچشمے قرآن وحدیث  ہیں جن کی تعلیمات وہدایات  پر  عمل کرنا ہر مسلمان کے لیے  ضروری ہے ۔ قرآن مجید کی طرح  حدیث بھی دینِ اسلام  میں ایک  قطعی حجت ہے ۔ کیونکہ اس کی بنیاد بھی وحی الٰہی  ہے ۔احادیث رسول ﷺ کو محفوظ کرنے کے لیے کئی پہلوؤں اور اعتبارات سے اہل علم  نے خدمات  انجام دیں۔ تدوینِ  حدیث  کا آغاز  عہد نبوی  سے  ہوا  او ر صحابہ وتابعین  کے  دور میں  پروان چڑھا ۔ ائمہ محدثین کےدور  میں  خوب پھلا پھولا ۔مختلف  ائمہ  محدثین نے  احادیث  کے کئی مجموعے مرتب کئے۔ان ضخیم مجموعہ جات سے     استفتادہ  عامۃ الناس  کےلیے  انتہائی دشوار  ہے ۔عامۃ الناس  کی ضرورت کے پیش  نظر کئی اہل علم  نے  مختصر مجموعات حدیث تیار کیے ہیں ۔اربعین کے نام سے  کئی علماء نے   حدیث کے  مجموعے مرتب کیے ۔اور اسی طرح  100 احادیث پر مشتمل  ایک  مجموعہ  عارف با اللہ  مولانا سید محمد داؤد غزنوی  ﷫ نے  ا نتہائی مختصراور جامع رسالہ ’’نخبۃ الاحادیث‘‘  کے  نام سے مرتب کیا جس میں  عبادات معاملات ،اخلاق وآداب وغیرہ سے متعلق کامل  راہنمائی موجود ہے۔ موصوف کے کمال حسنِ انتخاب کی وجہ سے یہ کتاب اکثر دینی مدارس کے نصاب  میں شامل  ہے۔عصر  حاضر میں  بھی کئی مزید مجموعات ِحدیث منظر عام پر آئے ہیں ۔ زیر تبصرہ کتاب ’’تحفۂ حدیث‘‘بھی اسی سلسلہ کی کڑی ہے۔یہ مجموعہ  حدیث  مولانا محمد اثری  کامرتب شدہ ہے  اس میں انہو ں  نے ان احادیث مبارکہ کو جمع کیا ہے جو انسان کی عملی زندگی سے تعلق  رکھتی ہیں ۔اور  اردو زبان میں  ان احادیث کی  وضاحت اورتفصیل سے ان کی تشریح بھی کردی ہے ۔اسلامی زندگی کی بابت احادیث صحیحہ کا یہ مستند تشریحی  مجموعہ  تقریباً  ساٹھ احادیث پر مشتمل ہے۔ (م۔ا)

ای میل سبسکرپشن

محدث لائبریری کی اپ ڈیٹس بذریعہ ای میل وصول کرنے کے لئے ای میل درج کر کے سبسکرائب کے بٹن پر کلک کیجئے۔

 

ایڈوانس سرچ

رجسٹرڈ اراکین

آن لائن مہمان

محدث لائبریری پر اس وقت الحمدللہ 393 مہمان آن لائن ہیں ، لیکن کوئی رکن آن لائن نہیں ہے۔

ایڈریس

       99--جے ماڈل ٹاؤن،
     نزد کلمہ چوک،
     لاہور، 54700 پاکستان

       0092-42-35866396، 35866476، 35839404

       0092-423-5836016، 5837311

      KitaboSunnat@gmail.com

      بنک تفصیلات کے لیے یہاں کلک کریں

 :